امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

متفرق مقالات

شاعری، اسلام کی نظر میں

شاعری، اسلام کی نظر میں

مقدمہ زندگی میں انسان مختلف اسباب کے ذریعہ سے اپنے پیغام کو منتقل کرتا ہے، کبھی کس ہنر کے ذریعہ سے اور کبھی اپنا ما فی الضمیر سیدہے سادے جملوں سے مخاطب کی طرف منتقل کرتا ہے ، اور کبھی اسے منظم اور مرتب کر کے شاعری کی صور ت میں پیش کرتا ہے، کبھی اسے داستان کے عنوان سے پیش کرتا ہے اور کبھی آرٹ کے ذریعہ۔ آج کی دنیا میں ہنر کی بہت ہی زیادہ ہے ۔

مزید

دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت (حصّہ چہارم )

دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت (حصّہ چہارم ) اب آصف شاہی حکومت قائم ہوئی اس کی بنیاد رکھنے والا نواب قمرالدین خان‘ نظام الملک تھا جو سادات بارہہ سے دشمنی میں خصوصاً بدنام تھا

مزید

دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت (حصّہ سوّم )

دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت (حصّہ سوّم ) خواص و عوام کے لئے دکنی مراثی خون جگر کی تحریر سمجھے سمجھائے جاتے تھے مگر دکنی مراثی خالص فکروفن کے حوالے سے نہیں مصائب اہل بیت-ع- و اصحاب و امام-ع- کے پیش نظر انشاء کئے جاتے تھے شعری محاسن‘ نمود فن استادانہ کمال کا جسے بعدازاں لکھنو میں عرض ہنر کہا جاتا تھا دکھنی مرثیہ گو خیال نہیں کرتے تھے۔

مزید

دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت (حصّہ دوّم )

دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت (حصّہ دوّم ) دو نہروں کے درمیان پر فضا مقام پر مسجد تعمیر کی گئی اسد اللہ الغالب ‘ علی ابن ابی طالب (ع) کے لقب غالب کی رعایت سے نام مسجد غالب تجویز ہوا جس کے عدد بحساب ابجد ۱۰۳۳ ہوتے ہیں مسجد غالب میں اتنی ہی تعداد میں چراغ دان بنوائے گئے تھے۔

مزید

دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت

دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت اردو ادب کی تاریخ میں دکنی مرثیہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اردو زبان جو صرف رابطہ کی زبان تھی دکھنی غزل اور دکھنی مرثیہ کے حوالے سے عوامی زبان ہو کر دکھنی تہذیب و تمدن کی ترجمان بنی‘یہ اعزاز کسی مقامی بولی یا فارسی زبان کو نہیں مل سکتا تھا کہ دکن کی گنگا مبنی تہذیب و تمدن کی ترجمان بن سکے

مزید

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک