کتنے ہی لوگ ایسے تھے جنہیں مزید روحانی تربیت کی ضرورت تھی تاکہ وہ مشرکین کے مقابلے میں ان مشکل حالات سے عہدہ بر آہوسکتے_
ابوجہل نے بزدلی کیوں دکھائی؟
یہاں اس بات کی یاد دہانی ضروری ہے کہ مشرکین کاسرغنہ ابوجہل اس دن اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ موجود تھا اور انہوں نے اس کی حمایت کیلئے آمادگی بھی ظاہرکی تھی لیکن اس کے باوجود ابوجہل نے خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے شیر کا سامنا کرنے میں عاجزی اوربزدلی دکھائی_ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ حضرت حمزہ کی مردانگی، قوت، غیرت اور شجاعت سے آگاہ تھا_وہ حضرت حمزہ کے عزم وارادے اور عقیدے کی راہ میں جذبہ قربانی کا مشاہدہ کررہا تھا_
دوسری طرف سے اسے تو فقط رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے دشمنی تھی اوراس کی وجہ حب دنیا اور اپنے مفادات کی حفاظت تھی اور وہ موت کا طلبکار نہ تھا ،بلکہ موت سے بچنا چاہتا تھا _وہ موت کو اپنے لئے سب سے بڑا خسارہ سمجھتا تھا لیکن حضرت حمزہ دین کی راہ میں موت کو کامیابی گردانتے تھے ،پس ان کیلئے کوئی وجہ نہ تھی کہ موت سے ڈرتے یا اسے شہد کی طرح شیرین نہ سمجھتے_
تیسری وجہ یہ تھی کہ ابوجہل، بنی ہاشم کامقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا کیونکہ بنی ھاشم کے درمیان اس کے بہت سے حامی موجود تھے_ اگر وہ ان کے ساتھ لڑتا توخاندان اور قبائلی تعصب کے نتیجے میں ان لوگوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا جو اس کے ہم خیال اور ہم عقیدہ تھے_ بنی ہاشم قبائلی طرزفکر کی بنا پر حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ساتھ نہیں چھوڑسکتے تھے اگرچہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے دین پر نہ تھے، عربوں کی سماجی ومعاشرتی پالیسیاں بھی اسی طرزفکر کی تابع ہوتی تھیں _چنانچہ ابولہب کے علاوہ باقی بنی ہاشم نے حضرت ابوطالب سے وعدہ کیا تھا کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں کے مقابلے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت اور حفاظت کریں گے_بلکہ ان حالات میں اگر ابوجہل حضرت حمزہ کے خلاف کوئی اقدام کرتا تو اس سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم - کو تقویت ملتی اور