4%

دشمنان دین کا اس مسئلے سے سوء استفادہ

یہاں اس بات کی طرف اشارہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعض متعصب عیسائیوں نے عبس وتولی والے قصے کی آڑمیں ہمارے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں گستاخی کرنے کی کوشش کی ہے_(۱) لیکن اللہ اپنے نور کو کامل کرتا ہے اگرچہ ان کافروں کو ناگوار گزرے ہم بھی یہاں یہ کہتے ہیں کہ یہ جعلی اور باطل چیزیں ہیں جن کے لئے خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری ہے _

مزید دروغ گوئیاں

انہی لوگوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ اقرع بن حابس اور عینیہ بن حصن، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس آئے اورآپ کو عمار، صہیب، بلال اور خباب جیسے غریب مسلمانوں کے پاس تشریف فرما دیکھا_ تو ان کو حقیر سمجھا اور خلوت میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا:'' عرب کے وفود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آتے رہتے ہیں اور ہمیں اس بات سے شرم آتی ہے کہ وہ ہمیں ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھیں _ پس جب وہ آجائیں تو ان کو یہاں سے اٹھادیں'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے_

انہوں نے کہا اس بات کا تحریری طور پر وعدہ کریں، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کاغذ مانگا اور حضرت علیعليه‌السلام سے لکھنے کیلئے کہا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی( و لاتطرد الذین یدعون ربهم بالغداة و العشی یریدون وجهه ما علیک من حسابهم من ...) (۲) یعنی جولوگ اپنے رب کو صبح وشام پکارتے ہیں اور اسی کو مقصود بنائے ہوئے ہیں انہیں اپنی بزم سے دور نہ کیجئے گا_ پس آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہ کاغذ دور پھینک دیا انہیں بلایا اور انہی کے ساتھ بیٹھ گئے_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عادت ہی یہ ہوگئی کہ ان کے ساتھ بیٹھتے تھے جب بھی اٹھنا چاہتے تو خود اٹھ جاتے اور انہیں وہیں بیٹھا ہوا چھوڑ دیتے_ اس سلسلے میں خدا نے یہ آیت نازل کی( واصبر

___________________

۱_ رجوع کریں: الھدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۵۸ _

۲_ سورہ الانعام، آیت ۵۲ _