9%

منقول ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی دوانگلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:'' میری بعثت اور قیامت کی مثال یوں ہے''_(۱) ظاہر ہے کہ یہ بات مجموعی دنیاوی زندگی کو مدنظر رکھ کر کہی گئی ہے جو بہت طولانی ہے_ جسے مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہاجا سکتا ہے کہ بعثت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور قیامت کا درمیانی عرصہ کچھ بھی نہیں _بنابریں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ قیامت نزدیک آگئی ہے اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعے یہ معجزہ ظاہر ہوا لیکن یہ خودسرمشرکین ایمان نہیں لاتے اور اس کی تصدیق کرنے کی بجائے کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے_(۲)

لیکن ایک محقق کا کہنا ہے( ان یروا آیة ) والی آیت جملہ شرطیہ ہے، اس میں مذکورہ امر کے واقع ہوجانے کا تذکرہ نہیں _نیز جملہ( انشق القمر ) کی مثال اس آیت کی طرح ہے( آتی امر الله فلا تستعجلوه ) حکم الہی آیاہی چاہتا ہے لہذا جلد بازی نہ کرو _ یہاں ماضی کا جملہ ہے حالانکہ ابھی امر الہی واقع نہیں ہوا اسی لئے اس کے فوراً بعد فرمایا ہے کہ جلد بازی نہ کرو _یہی حال ہے قول الہی( وانشق القمر ) کا کیونکہ اس کے بعد کہا گیا ہے( وان یروا ) _ یہاں یہ کہنا مقصودہے کہ اگر ایسا امر واقع ہوا تو ان کی کیا حالت ہوگی_ رہا اجماع جس کا طبرسی نے وعوی کیا ہے تو وہ حجت نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ یہ اجماع اس آیت سے غلط استنباط کی بناء پر وجود میں آیا ہو_

یہاں ہم یہ عرض کریں گے کہ اگر شق القمر کے واقع ہونے پر معتبر احادیث گواہی نہ دے چکی ہوتیں تو پھر مذکورہ احتمال کی کسی حدتک گنجائشے تھی_

افسانے

لوگوں نے شق القمر کے واقعے سے بہت سارے افسانے اور بے بنیاد قصے گھڑ لئے، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان مشہور ہوگیا کہ چاند کا ایک ٹکڑا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی آستین سے ہوکر گزرگیا_

___________________

۱_ مفتاح کنوز السنة ص ۲۲۷کہ بخاری، مسلم، ابن ماجہ، طیاسی، احمد، ترمذی اور دارمی سے نقل کیا ہے_

۲_ آیت کی دلالت سے متعلق ہماری مذکورہ معروضات کے سلسلے میں آپ رجوع کریں فارسی کتاب ''ہمہ باید بدانند'' ص ۷۶_۸۰_