4%

بہترین مثال مذکورہ بالا واقعہ ہے_ ہم نے مشاہدہ کیاکہ حضرت ابوطالب نے کفار سے عہدنامہ لانے کا مطالبہ کیا اورساتھ ہی یہ اشارہ بھی کیا کہ شاید اس میں صلح کیلئے کوئی راہ نکل آئے_

ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ عہدنامہ سب لوگوں کے سامنے کھولاجائے تاکہ سب اسے دیکھ لیں اور آئندہ پیش آنے والے عظیم واقعے کیلئے آمادہ ہوسکیں _نیز ایک منطقی حل پیش کرنے کیلئے فضا ہموار ہوجائے تاکہ بعد میں قریش کیلئے اس کو قبول کرنا اور اس پر قائم رہنا شاق نہ ہو، بالخصوص اس صورت میں جب وہ ان سے کوئی وعدہ لینے یا ان کو عرب معاشرے میں رائج اخلاقی اقدار کے مطابق قول و قرار، شرافت و نجابت اور احترام ذات وغیرہ کے پابند بنانے میں کامیاب ہوتے_ انہیں اس میں بڑی حدتک کامیابی ہوئی یہاں تک کہ لوگ پکار اٹھے ''اے ابوطالب تو نے ہمارے ساتھ منصفانہ بات کی ہے_''

مذکورہ عبارات سے ایک اور حقیقت کی نشاندہی بھی ہوتی ہے جو بجائے خود اہمیت اور نتائج کی حامل ہے اور جو یہ بتاتی ہے کہ حضرت ابوطالب کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی سچائی، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشن کی درستی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیغام کی حقانیت پرکس قدر اعتماد تھا اور یہ کہ جب دوسرے لوگ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ساحر اور کاہن کہہ کر پکارتے تھے تو انہیں دکھ ہوتا تھا_ ان کی نظر میں یہ ایک کھلم کھلا بہتان تھا_ اسی لئے انہوں نے اس فرصت کو غنیمت سمجھا تاکہ اس سے فائدہ اٹھاکر کفار کے خیالات و نظریات کو باطل قرار دیں چنانچہ انہوں نے کہا :'' کیا تم دیکھتے نہیں ہوکہ ہم میں سے کون ساحر یا کاہن کہلانے کا زیادہ حقدار ہے؟ ''اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عہد نامے والا معجزہ دیکھنے کے بعد مکہ کے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا_

قبیلہ پرستی اور اس کے اثرات

گذشتہ صفحات میں ہم نے ملاحظہ کیاکہ قبیلہ پرستی نے ایک حدتک ان حادثات کی روک تھام میں مدد کی جن سے دعوت اسلامی کے مستقبل اور اس کی کامیابی پر برا اثر پڑ سکتا تھا_ مثال کے طور پر عہدنامے کو منسوخ کرنے والے افراد کی کوشش میں بھی یہی جذبہ کارفرما تھا، لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس جدوجہد میں ابولہب کہیں دکھائی نہیں دیتا نیز حضرت خدیجہ کے چچازاد حکیم بن حزام بھی نظر نہیں آتے جس کے بارے