میں روایات کا دعوی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کیلئے شعب ابوطالب میں کھانے کاسامان بھیجا کرتے تھے _ اس کے علاوہ ابوالعاص بن ربیع اموی کا بھی کوئی کردار دیکھنے میں نہیں آیا جس کے بارے میں وہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کے ساتھ قرابت کو سراہا (انشاء اللہ ابوجہل کی بیٹی کے ساتھ حضرت علیعليهالسلام کی شادی والے افسانے میں اس کا مزید ذکر ہوگا)_ ان کوششوں کی وجہ بالواسطہ طریقے سے حضرت علیعليهالسلام کے مقام کو گھٹانا ہے جو ان کے نزدیک فقط ملامت اور سرزنش کے حقدار ہیں_ وہ علیعليهالسلام جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر شعب ابوطالب میں شہر مکہ سے کھانے کا سامان پہنچاتے تھے اور اگر وہ کفار کے ہاتھ لگ جاتے تو وہ انہیں قتل کردیتے_ (جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا)_
عہد نامے کی منسوخی کے بعد
رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے دین کی ترویج میں بدستور مصروف رہے_ قریش بھی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی راہ میں روڑے اٹکاتے رہے_ نیز وہ ہر ممکنہ ذریعے سے کوشش کرتے تھے کہ لوگ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس نہ آئیں اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی باتیں نہ سنیں، لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے صبروتحمل کا راستہ اپناتے ہوئے ہر قسم کی سستی یا کندی سے احتراز کیا، یوں قریش کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے_
اس سلسلے میں بہت سے حادثات و واقعات پیش آئے، ان سب کو بیان کرنے کیلئے کافی وقت درکا رہے لہذا اس موضوع کو چھوڑکر دوسرے موضوعات کا رخ کئے بغیر چارہ نہیں اگرچہ اس موضوع کو ناتمام چھوڑنا ہمارے اوپر گران ہے_
حبشہ سے ایک وفد کی آمد
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مکہ کے باہر سے پہنچنے والا پہلا وفد حبشہ کے عیسائیوں کا تھا_ بقولے ان کا تعلق نجران سے تھا ابن اسحاق وغیرہ کے بقول یہ وفد بیس افراد پر مشتمل تھا _ان کی تعداد کے