9%

ابوطالبعليه‌السلام کی قربانیاں

مذکورہ بالا معروضات سے معلوم ہوا کہ شیخ الابطح حضرت ابوطالبعليه‌السلام آمادہ تھے کہ:

۱) اپنی قوم کے درمیان حاصل مقام و مرتبے کو خیرباد کہہ کر اہل مکہ بلکہ پوری دنیا کی دشمنی مول لیں، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے حامیوں کے ہمراہ معاشرتی بائیکاٹ کو برداشت کیا لیکن کسی قسم کے دباؤ میں نہ آئے_

۲) نہ صرف فقر وفاقے اور معاشی بائیکاٹ برداشت کرنے پر راضی ہوں بلکہ اپنے پاس موجود دولت اور ہر چیز راہ خدا میں پیش کردیں_

۳)بوقت ضرورت ایک تباہ کن جنگ میں کود پڑیں جو بنی ہاشم اور ان کے دشمنوں کی بربادی پر منتج ہوسکتی تھی

۴) انہوں نے سب سے چھوٹے نور چشم حضرت علیعليه‌السلام کو راہ خدا میں قربانی کیلئے پیش کیا، اور دوسرے بیٹے حضرت جعفرعليه‌السلام جنہوں نے حبشہ کو ہجرت کی تھی کی جدائی کا صدمہ برداشت کرلیا_

۵) حضرت ابوطالبعليه‌السلام اپنی زبان اور ہاتھ دونوں سے مصروف جہاد رہے اور ہر قسم کے مادی ومعنوی وسائل کو استعمال کرنے سے دریغ نہ کیا _ہر قسم کی تکالیف و مشکلات سے بے پروا ہوکر حتی المقدور دین محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت و حمایت میں مصروف رہے_ یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوطالب نے جو کچھ کیا وہ ممکن ہے جذبات یا نسلی و خاندانی تعصب کا نتیجہ ہو یا بالفاظ دیگر آپ کی فطری محبت کا تقاضا ہو؟_(۱)

لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ ایک طرف حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے ایمان پر قطعی دلائل خاص کر ان کے اشعار و غیرہ اور حضرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم اور دیگر ائمہ کی ان کے متعلق احادیث موجود ہیں اور دوسری طرف جس طرح حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے بھتیجے تھے اس طرح حضرت علیعليه‌السلام ان کے بیٹے تھے اگر رشتہ داری کا جذبہ کارفرما ہوتا تو وہ کیونکر بیٹے کو بھتیجے پر قربان کرتے؟ وہ بھی اپنی مرضی سے نیز اس کے انجام کے بارے میں غوروفکر اور تا مل و تدبر کے بعد؟ انہیں بھتیجے کی بجائے بیٹے کا قتل ہوجانا کیونکر منظور ہوا؟ کیا یہ معقول ہے

___________________

۱_ تفسیر ابن کثیر ج ۳ص ۳۹۴ _