اسی طرح اگر بات قبائلی تعصب کی ہوتی تو اس تعصب کا اثر قبیلے کے مفادات کے دائرے میں ہوتا_ لیکن اگر یہی تعصب اس قبیلے کی بربادی نیز اس کے مفادات یا مستقبل کو خطرات میں جھونکنے اور تباہ کرنے کا باعث بنتا تو پھر اس تعصب کی کوئی گنجائشے نہ ہوتی اور نہ عقلاء کے نزدیک اس کا کوئی نتیجہ ہوتا_
مختصر یہ کہ ہم حضرت ابوطالبعليهالسلام کی مذکورہ پالیسیوں اور حکمت عملی کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ پالیسیاں عقیدے اور ایمان راسخ کی بنیادوں پر استوار تھیں جن کے باعث انسان کے اندر قربانی اور فداکاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے_
خدا کا سلام ہو آپپر اے ابوطالبعليهالسلام اے عظیم انسانوں کے باپ اے حق اور دین کی راہ میں قربانی پیش کرنے والے کاروان کے سالار خدا کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر نازل ہوں_
عام الحزن
بعثت کے دسویں سال بطل جلیل حضرت ابوطالب علیہ الصلاة والسلام کی رحلت ہوئی_ آپ کی وفات سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اپنے اس مضبوط، وفادار اور باعظمت حامی سے محروم ہوگئے جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دین کا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مشن کا ناصر و محافظ تھا (جیساکہ پہلے عرض کرچکے ہیں)_
اس حادثے کے مختصر عرصے بعد بقولے تین دن بعد اور ایک قول کے مطابق ایک ماہ(۱) بعدام المؤمنین حضرت خدیجہ (صلوات اللہ وسلامہ علیہا) نے بھی جنت کی راہ لی_ وہ مرتبے کے لحاظ سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی ازواج میں سب سے افضل ہیں_
نیز آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ اخلاقی برتاؤ اور سیرت کے حوالے سے سب سے زیادہ باکمال تھیں_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی ایک بیوی( حضرت عائشےہ) ان سے بہت حسد کرتی تھیں حالانکہ اس نے حضرت خدیجہعليهالسلام کے ساتھ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھر میں زندگی نہیں گزاری تھی کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت خدیجہ کی رحلت کے بہت عرصہ بعد
___________________
۱_ السیرة الحلبیہ ج۱ ص ۳۴۶ ، السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ج ۲ ص ۱۳۲ ، البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۱۲۷ اورا لتنبیہ و الاشراف ص ۲۰۰_