ایمان ابوطالبعليهالسلام
آخر میں ایک ایسے موضوع پر اختصار کے ساتھ گفتگو کرنا ضروری خیال کرتا ہوں جس پر مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ اختلاف رہا ہے_
اہلبیت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے شیعہ حضرت ابوطالبعليهالسلام کے مومن ہونے پر متفق الخیال ہیں_(۱) یہ بھی مروی ہے کہ وہ اوصیاء میں سے تھے(۲) اور ان کا نور قیامت کے دن پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم آئمہعليهالسلام اور حضرت فاطمہعليهالسلام زہرا کے نورکے سوا ہر نور پر غالب ہوگا(۳) _
اگرچہ ہمیں ان احادیث کی صحت پر اطمینان حاصل نہیں لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی رسالت پر حضرت ابوطالبعليهالسلام کا ایمان نیز خدا کے اوامر ونواہی کے آگے ان کا سر تسلیم خم رہنا روز روشن کی طرح واضح ہے_
اہلبیت معصومینعليهالسلام سے منقول بہت ساری احادیث آپ کے ایمان پر دلالت کرتی ہیں_ علماء نے ان احادیث کو الگ کتابوں کی شکل میں جمع کیا ہے_ تازہ ترین کتابوں میں سے ایک جناب شیخ طبسی کی کتاب ''منیة الراغب فی ایمان ابیطالب'' ہے_ واضح ہے گھر والے دوسروں کے مقابلے میں گھر کے اسرار کو زیادہ جانتے ہیںاورابن اثیر کہتے ہیں کہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچاؤں میں حضرت حمزہ، حضرت عباس اور (اہل بیتعليهالسلام کے بقول)حضر ت ابوطالبعليهالسلام کے سوا کسی نے اسلام قبول نہ کیا تھا_(۴)
___________________
۱_ روضة الواعظین ص ۱۳۸، اوائل المقالات ص ۱۳، الطرائف از ابن طاؤس ص ۲۹۸، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ص ۱۶۵، بحارالانوار ج ۳۵ص ۱۳۸، الغدیر ج ۷ص ۳۸۴کتب مذکورہ سے، التبیان ج ۲ص ۳۹۸، الحجة از ابن معد ص ۱۳اور مجمع البیان ج ۲ص ۲۸۷ _
۲_ الغدیر ج ۷ ص ۳۸۹_
۳_ الغدیر ج۷ ص ۳۸۷ کئی ایک منابع سے_
۴_ بحارالانوار ج ۳ص ۱۳۹اور الغدیر ج ۷ ص ۳۶۹_