9%

ج_ فقط رشتہ داروں کی دعوت کیوں؟

واضح سی بات ہے کہ نزدیکی رشتہ داروں کی دعوت آپ کے مشن کی بنیادوں کو مضبوط کرنے اور آپ کے پیغام کو پھیلانے کا بہترین ذریعہ تھی_ کیونکہ اصلاح کی ابتدا ہمیشہ اندر سے ہونی چاہیئے تاکہ اپنے اہل خاندان اور قبیلہ کی حمایت حاصل کرنے کے بعد دوسروں کی جانب اطمینان، ثابت قدمی اور عزم راسخ کے ساتھ رخ کیا جا ئے_

علاوہ ازیں ان کو دعوت دیکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم باہمی روابط اور جذبوںکے حوالے سے قوت و ضعف کے اندرونی عوامل کو پرکھ سکتے تھے اور مستقبل میں حاصل ہونے والی حمایت کا اندازہ لگا کر اس کی روشنی میں اپنے اقدامات اور پالیسیوں کی حدود کو معین فرما سکتے تھے_

یہ بھی بتاتے چلیں کہ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قریبی رشتہ داروں سے دعوت اسلام کا آغاز کیا اور اس مرحلہ میں بھی کسی کو کوئی امتیاز اور خصوصیت دینے پر تیار نہیں تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کو بھی جان لینا چاہئے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اعتماد بہ نفس رکھتے ہیں اور اپنے دعوے کے صحیح ہونے پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پورا یقین ہے _ کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے سب سے پیارے افراد کے لئے یہ بھلائی چاہتے ہیں کہ وہ ان مؤمنین کی صف میں شامل ہوجائیں جو اس دین کی راہ میں سب سے بڑی قربانی دینے پر بھی تیار ہیں_ اور ہم نے دیکھا کہ واقعہ مباہلہ میں نصاری اس بات کا ادراک کرتے ہوئے مباہلہ کئے بنا واپس لوٹ گئےیہ بھی پیش نظر رہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہے تھے جس میں باہمی تعلقات کی بنیاد ''قبیلہ'' تھی_ بنابریں چونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنیادی اور تقدیرساز اقدامات کرنا چاہتے تھے اور اس بات پر بھی ذاتی طور پر راضی نہ تھے کہ اپنے موقف کی حمایت یا اپنے اہداف کے حصول میں قبیلہ پرستی شامل ہو جائے، لہذا اس بات کی ضرورت تھی کہ آپ رشتہ داروں کے معاملے میں ایک واضح موقف اپناتے اور انہیں مکمل آزادی اور صدق دل کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو واضح طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرتے_ تاکہ اس سلسلے میں معاشرے میں رائج کسی بھی قسم کے خاندانی و قبائلی تعلقات کے دباؤ سے کام نہ لیا جائے کیونکہ یہ اسلام کی نظر میں صحیح نہیں تھا_