50%

حمد

جب بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کو کوئی خوشخبری دی جاتی تھی اور آپ ( ص ) خوشحال ہو جاتے تھے تو خدا کا شکر بجا لاتے تھے اور فرماتے تھے :الحمد لله على كل نعمة ۔ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ۔ اور جب کوئی مصیبت یا آفت پڑتی تھی اور آپ ( ص ) غمگین ہو جاتے تھے تو فرماتے تھے:الحمد لله على كل حال ۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔

خلاصہ یہ ہے کہ کبھی بھی حمد اور شکر آپ کی زبان سے نہیں چھوٹتے تھے۔(46)

غصہ

ایک آدمی حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)! کوئی ایسی چیز مجھے سکھائیں کہ خدا اس سے مجھے فائدہ پہنچائے ، اور کوئی مختصر بات کہہ دیں کہ میں اسے آسانی سے یاد رکھ سکوں۔

آپ ( ص ) نے فرمایا: غصہ نہ کرو۔ اس نے پھر عرض کیا : کوئی ایسی چیز مجھے سکھائیں کو میرے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ اور وہ شخص اپنی بات کو بار بار دہراتا تھا آپ (ص) ہر بار اسے فرماتے تھے : غصہ نہ کرو۔(47)

نیند

حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نیند سے جاگنے کے بعد سجدے میں چلے جاتے تھے اور اس دعا کو پڑھتے تھے:

الحمدلله بعثى مرقدى هذا و لوشاء لجعله الى يوم القيمة

تمام تعریفیں اس خدا کے لیے جس نے مجھے نیند سے جگایا اگر وہ چاہتا تھا تو مجھے اسی حالت میں روز قیامت تک باقی رکھتا تھا۔

اور نقل ہوا ہے کہ آپ (ص) سوتے وقت اور نیند سے جاگنے کے بعد مسواک( دانتوں کو برش) کرتے تھے۔(48)

--------------

(46)-اصول کافی ، ج 1، صص 503 - 490.

(47)-سنن بیہقی ، ج 10، ص 105.

(48)-بحارالانوار، ج 73، ص 202.