50%

آبروئے مومن سے دفاع

ابو درداء کہتا ہے: ایک آدمی نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی خدمت میں کسی کے بارے میں برا بھلا کہا، کسی ایک نے اس سے دفاع کیا ۔ اس وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا: جو کوئی اپنے مومن بھائی کی آبرو کا دفاع کرے یہ آتش جہنم کے لیے ڈھال اور سپر بنے گا۔(55)

دنیا داری

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا:قیامت کے دن ایک گروہ کو حساب کتاب کے لیے لایا جائے گاجن کے اعمال تہامہ کے پہاڑ کی مانند ایک دوسرے پر سجا کر رکھے ہوئے ہیں! لیکن خدا کی طرف سے حکم آئے گا کہ انہیں جہنم لے جائیں ۔ اصحاب نے سوال کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)! کیا یہ لوگ نماز پڑھتے تھے؟ آپ ( ص ) نے فرمایا:

ہاں، یہ لوگ نماز پڑھتے تھے روزہ رکھتے تھے رات کا کچھ حصہ عبادت میں گزارتےتھے ، لیکن جونہی دنیا داری کا کوئی موقع ملتا تھا جلدی سے اس پر جھپٹ پڑتے تھے۔(56)

جنگ و جدال سے دوری

ایک دن رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اپنے اصحاب کے پاس آئے تو دیکھا وہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ و جدال کر رہے ہیں ۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)سخت ناراض ہوئے اورچہرہ مبارک سرخ ہوگیا جیسے انار کا کوئی دانہ رخسار پر پھٹ گیا ہو ، اور فرمایا:کیا تم لوگ اسی کام کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور اسی کام پر مامور ہو کہ قرآن کے بعض کو دوسرے بعض سے مخلوط کرتے ہو؟ سوچو تم کن کاموں پر مامور ہو کہ انہیں بجا لاو! کن کاموں سے نہی کی گئی ہے کہ ان سے اجتناب کرو!(57)

-----------------

(55)-وسائل الشیعہ ، ج 7، ص 607.

(56)-امالی الاخبار، ص /465.

(57)-محجة البیضاء، ج 6، ص 321.