پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جب مرکب پر سوار ہو کر کہیں تشریف لے جاتے تھے تو اجازت نہیں دیتے تھے کہ کوئی ان کے ساتھ پیدل چلے۔چلتے وقت تواضع، وقار اور تیزی کے ساتھ چلتے تھے، اور خود کو ناتوان، کمزور اور سست نہیں دکھاتے تھے۔(62)
عبد الرحمن بن عبد اللہ کہتا ہے: کسی سفر میں ہم آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے ساتھ تھےآپ ( ص ) کی نگاہیں کسی حمرہ (چڑیا جیسا کوئی پرندہ) پر پڑیں کہ اس کے ساتھ دو چوزے بھی تھے، ہم نے چوزوں کو اٹھا لیا وہ پرندہ آکر ہماے ادر گرد پر مارنے لگا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے یہ منظر دیکھا تو فرمایا: تم میں سے کون اس کے بچوں کی نسبت خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے؟اس کے بچوں کو اسے لوٹا دیں۔(63)
معاذ بن جبل سے روایت ہوئی ہے، وہ کہتا ہے کہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے مجھے یمن بھیجا اور مجھ سے فرمایا: معاذ! جب بھی سردیوں کا موسم آجائے تو صبح کی نماز صبح طلوع ہونے کی شروع میں بجا لاؤ حمد اور سورہ کو لوگوں کی توانائی اور ان کے حوصلے کے مطابق پڑھو، حمد و سورہ کو لمبا کرکے انہیں نہ تھکاؤ۔اور گرمیوں میں صبح کی نماز کو روشنی پھیل جانے کے بعد پڑھو، کیونکہ رات مختصر ہے اور لوگوں کو آرام کرنے کی ضرورت ہے انہیں چھوڑ دیں کہ اپنی ضرورت کو پورا کریں ۔(64) (یعنی ان کی تھکاوٹ دور ہونے تک صبر کریں )
---------------------
(62)-بحارالانوار، ج 16، ص 236.
(63)-الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ ، ج 1، ص 144
(64)-اخلاق النبی صلی اللہ علیہ و آلہ ، ص 75.