25%

اس کے بعد سورہ مبارکہ کہف کی اس آیت کی تلاوت کی:

﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحاً وَ لاَ يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَداً ﴾ (72)

جو اللہ کے حضور جانے کا امید وار ہے اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ ٹھہرائے۔

گناہوں کا مٹ جانا

سلمان کہتے ہیں: ہم رسول للہ( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کے ساتھ کسی درخت کے سایے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس درخت کی کسی شاخ کو ہلانا شروع کیا ، اس کے پتے زمین پر گرے۔ آپ ( ص ) نے وہاں موجود لوگوں سے فرمایا: کیا نہیں پوچھو گے کہ میں نے کیا کیا؟میں نے عرض کیا اس کی وجہ آپ ( ص ) ہی بتائیں۔ آپ ( ص ) نے فرمایا:

ان العبد المسلم اذا قام الى الصلاة تحتاتت عنه خطاياه كما تحتاتت ورق هذه الشجرة

جب کوئی بندہ مسلمان نما ز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح گر جاتے ہیں جس طرح سے اس درخت کے پتے گرگئے۔(73)

-----------------

(72)-سورہ کہف : 110 ۔

(73)-امالی شیخ طوسی ، چاپ سنگی ، جزء 6، ص 105.