اس کے بعد سورہ مبارکہ کہف کی اس آیت کی تلاوت کی:
﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحاً وَ لاَ يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَداً ﴾ (72)
جو اللہ کے حضور جانے کا امید وار ہے اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ ٹھہرائے۔
سلمان کہتے ہیں: ہم رسول للہ( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کے ساتھ کسی درخت کے سایے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس درخت کی کسی شاخ کو ہلانا شروع کیا ، اس کے پتے زمین پر گرے۔ آپ ( ص ) نے وہاں موجود لوگوں سے فرمایا: کیا نہیں پوچھو گے کہ میں نے کیا کیا؟میں نے عرض کیا اس کی وجہ آپ ( ص ) ہی بتائیں۔ آپ ( ص ) نے فرمایا:
ان العبد المسلم اذا قام الى الصلاة تحتاتت عنه خطاياه كما تحتاتت ورق هذه الشجرة
جب کوئی بندہ مسلمان نما ز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح گر جاتے ہیں جس طرح سے اس درخت کے پتے گرگئے۔(73)
-----------------
(72)-سورہ کہف : 110 ۔
(73)-امالی شیخ طوسی ، چاپ سنگی ، جزء 6، ص 105.