50%

حرام غذا

حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)سات سال کے تھے کہ یہودیوں نے کہا کہ ہم نے اپنی کتابوں میں پڑھا ہے کہ پیغمبر اسلام حرام اور مشکوک کھانوں سے پر ہیز کرتے ہیں۔ اب ہم اس کا امتحان لیں گے۔ یہ کہہ کر ایک مرغی کو کہیں سے چرا کر لے آئے اور ابو طالب کو بھیجی۔ سب نے اس سے کھایا؛ چونکہ انہیں معلوم نہیں تھالیکن حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اسے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ جب آپ ( ص ) سے اس کی وجہ پوچھی تو آپ (ص) نے جواب دیا: چونکہ یہ حرام تھی اور خدا نے مجھے حرام سے محفوظ رکھا ہے ۔

اس کے بعد ہمسایے کی مرغی کو پکڑ کر ابو طالب کو بھیج دی اس نیت سے کہ بعد میں اس کی قیمت دی جائے گی، آنحضرت نے اسے بھی تناول نہیں فرمایا۔اور فرمایا:و ما اراها من شبهة يصوننى ربى عنها عليه السلام ان لوگوں کو پتہ نہیں ہے کہ یہ کھانا مشکوک تھا ؛ لیکن میرے پروردگار نے مجھے اس سے بچا لیا۔ اس وقت یہودیوں نے کہا :لهذا شان عظيم یہ بچہ عظیم المرتبت اور بلند رتبہ والا ہے۔(88)

-------------------

(88)-بحارالانوار، ج 15، ص 336.