25%

عزت اور وقار

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اپنے کسی گھر میں تشریف لے گئے اور اصحاب بھی آپ ( ص ) کی خدمت میں آگئے ، اصحاب کی تعداد بہت زیادہ تھی اور کمرہ بھر چکا تھا۔

جریر بن عبداللہ بھی اسی لمحہ وہاں آگئےلیکن جریر کو بیٹھنے کے لیے جگہ نہیں ملی اور وہ دروازے کے پاس کہیں بیٹھ گئے۔

آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اپنی عبا کو اٹھایا اور اسے دےدیا اور فرمایا: اس کو بچھاؤ اور اس پر بیٹھ جاؤ۔ جریر نے عبا کو ہاتھ میں لیا اپنے چہرے اور آنکھوں پر ملا اس کو بار بار چوما اور روتے ہوئے اسے دوبارہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کو دے دیا اور کہنے لگا: میں کبھی بھی آپ کی عبا پر نہیں بیٹھوں گاجس طرح آپ نے مجھے عزت اور وقار دیا ہے اور میرا احترام کیا ہے ، خدا بھی آپ کی عزت میں اضافہ کرے۔

آپ ( ص ) نے دائیں بائیں نگاہ کی اور فرمایا:جب بھی کوئی محترم آدمی تمہارے پاس آتا ہے تو اس کا احترام کرو اور جس کسی کا بھی گذشتہ زمانے میں تم پر کوئی حق ہو اس کا بھی احترام کرو۔(100)

----------------

(100)-محجة البیضاء، ج 3 تص 373