انس بن مالک کہتا ہے:رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)جب جنگ تبوک سے واپس آگئے تو سعد انصاری آپ کے استقبال کو آیا، اور آپ (ص) سے ہاتھ ملایا۔ آپ (ص) نے اس سے فرمایا: کیا تمہارے ہاتھوں کو کوئی چوٹ لگ گئی ہے کہ اس میں کھر دری ہے ؟ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ! میں رسی اور بیلچہ کے ساتھ کام کرتا ہوںتاکہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے کچھ کما سکوں؛ اسی لیے میرے ہاتھوں میں کھردری ہے۔
فقبل يده رسول الله قال : هذا يد لا تمسها النار
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے سعد کے ہاتھوں کو چوما اور کہا : یہ وہ ہاتھ ہے جسے دوزخ کی آگ نہیں چھویے گی۔(101)
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا رونا
اپنے بیٹے ابراہیم کو دفن کرنے کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں ، آپ ( ص ) نے فرمایا:آنکھیں آنسو بہاتی ہیں، دل غمگین ہے لیکن کوئی ایسی بات نہیں کہوں گاجس سے خدا ناراض ہو جائے
اس کے بعد آپ ( ص ) نے قبر کی طرف دیکھا جو ابھی مکمل تیار نہیں ہوئی تھی اپنے دست مبارک سے قبر کو برابر اور ہم سطح کر دیا اور فرمایا:
اذا عمل احدكم عملا فليتقن :
جب بھی تم میں سے کوئی ایک کسی کام کو انجاد دینا چاہے تو اسے مضبوطی سے انجا دے۔(102)
----------------
(101)-اسدالغابہ ، ج 2، ص 269
(102)-فروع کافی ، مطابق نقل بحار، ج 22، ص 157