صفوان بن عسال کہتا ہے:میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی خدمت میں پہنچا۔ آپ (ص) مسجد میں اپنے لال رنگ کے تکیہ پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ میں نے عر ض کیا :یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)! میں علم حاصل کرنے آیا ہوں۔ آپ (ص) نے فرمایا: اے طالب علم خوش آمدید! بتحقیق فرشتے اپنے پروں سے طالب علم کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں اور اتنے فرشتے جمع ہو جاتے ہیں کہ ایک کے اوپر دوسرے یہاں تک کہ دنیا کے آسمان سے جا لگتے ہیں؛ اس الفت و محبت کی وجہ سے جو انہیں طالب علم کے ساتھ ہے۔(113)
ایک دن رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اپنے اصحاب کے ساتھ کسی راستے سے گزر رہےتھے اس راستے میں بچے کھیل کود میں مصروف تھے۔ آپ (ص) ایک بچے کے پاس تشریف لےگئے اور اس کا ماتھا چوما، اس کے ساتھ مہربانی کی، آپ (ص) سے اس کی علت پوچھی گئی تو آپ (ص) نےفرمایا:میں نے ایک دن اس بچے کو دیکھا کہ میرے بیٹے حسین علیہ السلام کے ساتھ کھیل رہا تھا ، اور وہ حسین علیہ السلام کے قدموں تلے سے مٹی اٹھا کر اپنے چہرے پر ملتا تھا؛ پس یہ حسین علیہ السلام کے دوستوں میں سے ہے میں بھی اسے دوست رکھتا ہوں۔ جبریل نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ بچہ میرے حسین کے ساتھ کربلا میں شہید ہو جائے گا۔(114)
----------------
(113)-منیة المرید، ص 107
(114)-بحارالانوار، 44 / 242 ح 36