امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

قرض۔ قاعدہٴ جبران (تلافی)

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

قرض۔ قاعدہٴ جبران (تلافی)
مسئلہ 2360:قرض کا ادا کرنا اخراجات میں سے شمار کیا جائے گا یعنی وہ مال جو انسان نے سال کی درآمد سے خمس کی تاریخ آنے سے پہلے قرض ادا کرنے کے لیے دیا ہے اس پر خمس نہیں ہے مگر ان مقامات میں جو آئندہ ذكر كیے جائیں گے ۔[265]

مسئلہ 2361: اگر انسان خمس کی تاریخ آنے کے بعد اپنے قرض کو گزرے ہوئے سال کی درآمد سے ادا کرے تو اگر اس کا قرض اسی سال کی تجارت اور درآمد کے اخراجات کے لیے یا زندگی کے اخراجات کے لیے ہو جس سال میں قرض کو ادا کرنا چاہتا ہے[266] تو اس کا خمس اس تفصیل کے ساتھ جو آنے والے مسئلے میں بیان کی جائے گی لازم نہیں ہے اور اس صورت کے علاوہ لازم ہے کہ پہلے اس سال کی درآمد کا خمس ادا کرے پھر مخمّس مال سے اپنا قرض ادا کرے۔

مسئلہ 2362: اگر کام کرنے والا شخص خمس کی تاریخ تک اپنا قرض ادا نہ کرے تو لازم ہے کہ خمس کی تاریخ پر تمام درآمد کا خمس خواہ نقد پیسہ ہو یا سامان یا اضافی آذوقہ وغیرہ ادا کرے اور مقروض ہونے کی وجہ سے اس کا خمس معاف نہیں ہے مگر یہ مندرجہ ذیل شرائط پائے جاتے ہوں تو اس صورت میں گزرے ہوئے سال کی درآمد سے قرض کی مقدار خمس دینے سے معاف ہے:

الف: قرض زندگی یا کام اور درآمد کے اخراجات کےلیے لیا ہو۔

ب: اگر وہ اخراجات جس میں قرض کو خرچ کیا ہے موجودہ سال کا ہو تو درآمد بھی موجودہ سال کی ہونی چاہیے اور اگر اخراجات جس میں قرض کو خرچ کیا ہے گذشتہ سال کے ہوں تو درآمد بھی اسی سال کی ہونی چاہیے۔

ج: اخراجات کام شروع کرنے کے بعد ہوئے ہوں۔ کام نہ کرنے والا شخص جو مقروض بھی ہے لازم ہے کہ اپنی درآمد کاخمس فائدہ حاصل ہونے کے ایک سال گزرنے کے بعد اگر تلف نہیں ہوا یا اخراجات میں خرچ نہیں ہوا ہے تو ادا کرے خواہ نقد پیسہ ہو یا سامان یا اضافی آذوقہ وغیرہ اور مقروض ہونے کی وجہ سے خمس دینے سے معاف نہیں ہے مگر یہ کہ مندرجہ ذیل شرائط پائے جاتے ہوں تو اس صورت میں قرض کی مقدار خمس دینے سے معاف ہو جائے گا:

الف: قرض اخراجات کے لیے لیا ہو۔

ب: وہ درآمد قرض کو اخراجات میں خرچ کرتے وقت موجود ہو ۔

ج: اس درآمد کے حاصل ہونے اور قرض کے اخراجات میں خرچ ہونے تک ایک سال یا اس سے زیادہ گزر نہ گیا ہو۔

اس بنا پر مذکورہ تین شرائط کے ہوتے ہوئے کام کرنے والے یا کام نہ کرنے والے افراد کا مذکورہ قرض ان کی سال کی درآمد سے استثنا ہو جائے گا۔ اس قاعدہ کو قاعدہٴ استثنا یا کسر کہتے ہیں۔

مسئلہ 2363: قاعدہٴ کسر کے بارے میں چند نکتہ کی طرف توجہ لازم ہے:

الف: وہ قرض جس کے بارے میں قاعدہٴ کسر جاری ہے فرق نہیں ہے کہ مدت دار ہو یا بغیر مدت کے ہو یا ایک ساتھ دینا ہو یا قسط وار ادا کرنا ہو۔

ب: قاعدہٴ کسر کے جاری کرنے میں فرق نہیں ہے کہ انسان اپنی درآمد سے جس میں قاعدہٴ کسر جاری ہے قرض ادا کرنا چاہتا ہو یا اس مال سے قرض ادا نہ کرے بلکہ کسی دوسرے مال سے ادا کرے یا بالكل ابھی اپنا قرض ادا نہ کرنا چاہتا ہو۔

ج: قاعدہٴ کسر خود بخود جاری ہوتا ہے اس بنا پر چنانچہ شخص متوجہ نہ ہو اور اپنے قرض کو درآمد سے کم نہ کیا ہو اور اضافی خمس دیا ہو تو اتنی مقدار خمس شمار نہیں ہوگا مگر یہ کہ حاکم شرع یا اس کے نمائندے کی اجازت سے آئندہ سال کے لیے خمس حساب کرے۔

مسئلہ 2364: اگر انسان مقروض ہو اور قاعدہٴ کسر کے مطابق کچھ مقدار یا پوری درآمد کا خمس دینے سے معاف ہو تو آئندہ سال یا بعد کے برسوں میں قرض ادا کرنے کا حکم مندرجہ ذیل ہے:

الف: اگر قرض کو اسی پیسے سے جس کا خمس قرض کی وجہ سے ادا کرنے سے معاف تھا ادا کرے تو اس کا خمس كی نسبت کوئی وظیفہ نہیں ہے۔

ب: اگر کام کرنے والا شخص قرض کو نئے سال کی درآمد سے اور کام نہ کرنے والا شخص اس درآمد سے جو قرض کو اخراجات میں خرچ کرنے کے بعد حاصل ہوئی ہے ادا کرے چنانچہ معاف شدہ رقم یا اس کا بدل موجود ہو (یعنی وہ رقم خود موجود ہو یا اس سے کوئی سامان خریدا ہے اور وہ سامان موجود ہو[267] ) یہ معاف شدہ رقم یا اس کا بدل نئے سال کی درآمد ہے کہ اگر سال[268] کے آخر تک باقی رہ جائے اور اخراجات میں خرچ نہ ہو[269] تو اس پر خمس ہے ، چنانچہ معاف شدہ رقم تلف ہو جائے یا اخراجات میں خرچ ہو جائے تو اس کا خمس لازم نہیں ہے۔

ج: اگر قرض مخمّس یا حکم مخمّس مال سے ادا کرے تو معاف شدہ رقم یا اس کا بدل مخمّس مال کے حکم میں ہے کہ اگر موجود ہو تو مخمّس مال کی طرح ہے اور اگر تلف ہو جائے یا اخراجات میں خرچ ہو جائے تو اس طرح ہے گویا مخمّس مال تلف ہو جائے یا اخراجات میں خرچ ہوجائے کہ جس کے احکام پہلے بیان کئے گئے۔

د: اگر قرض کو نئے قرض سے ادا کرے تو گویا اس طرح ہے کہ قرض ادا نہیں کیا ہے۔

مسئلہ 2365: گذشتہ مسائل سے یہ واضح ہو گیا کہ اگر انسان ایسا گھر رہائش کے لیے ادھار خریدے جو اس کی شان کے مطابق ہے اور اس گھر میں خمس کی تاریخ آنے سے پہلے رہنے لگے تو کیونکہ ایسا گھر ضروریاتِ زندگی میں شمار ہوگا اس پر خمس نہیں ہے[270] اور اس کے قرض کو سال کے دوران آئندہ برسوں کی درآمد سے ادا کرنا بھی اخراجاتِ زندگی میں سے شمار کیا جائے گا اس پر بھی خمس نہیں ہے اور اسی طرح اگر آئندہ سال گھر کے قرض میں سے کچھ ادا کرے تو یہ قرض کا ادا کرنا اخراجاتِ زندگی میں سے شمار ہوگا اس پر خمس نہیں ہے اور دوسری ضروریاتِ زندگی بھی جو ادھار یا قرض لے کر خریدی ہیں رہائشی گھر کی طرح ہیں۔

[265] فرق نہیں ہے کہ اسی سال مقروض ہوا ہو یا گذشتہ برسوں میں مقروض ہو اہو اور یہ بھی فرق نہیں ہے کہ گذشتہ برسوں میں قرض کو ادا کرنے پر قادر تھا یا نہیں تھا۔

[266] اگر قرض چند سال پہلے کا ہو اور وہ قرض اسی سال کے اخراجات میں خرچ ہو گیا ہو اور وہ درآمد جس سے قرض ادا کرنا چاہتا ہے وہ بھی اسی سال کی ہو تو پھر بھی اس کا خمس ادا کرنا واجب نہیں ہے۔

[267] اور یہی حکم ہے اگر وہ چیز جس کے خمس سے معاف ہو پیسہ نہ ہو بلکہ سامان ہو۔

[268] جیسا کہ پہلے گزر گیا کام نہ کرنے والے شخص کےلیے سال کے آخر بارہ مہینے گزرنے کے بعد ہے۔

[269] مثلاً وہ سامان ضروریاتِ زندگی میں استعمال نہ ہو۔

[270] البتہ اس سال کی دوسری درآمد کے خمس سے بھی مسئلہ (2362) کے شرائط کے ہوتے ہوئے معاف ہے۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک