امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

مخمّس مال کا اخراجات زندگی میں خرچ کرنا

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

مخمّس مال کا اخراجات زندگی میں خرچ کرنا
مسئلہ 2354: اگر کام کرنے والا شخص مخمّس یا حکم مخمّس مال کو اخراجات زندگی یا کام اور درآمد حاصل کرنے کے اخراجات میں خرچ کرے تو خمس کی تاریخ پر اسی مقدار میں اس سال کی درآمد سے کم کر سکتا ہے خواہ درآمد مال کو مؤنہ (اخراجات) میں خرچ کرنے کے پہلے حاصل ہوا ہو یا بعد میں حاصل ہوئی ہو مثال کے طور پر وہ کام کرنے والا شخص جس کے پاس ایک لاکھ تومان پیسہ یا اسی مقدار میں آذوقہ ہے جس پر خمس واجب ہوا ہو اور اسے ادا کر دیا ہے اس پیسے یا آذوقے کو ضروریاتِ زندگی میں خرچ کر لیا ہو تو اگر اس شخص کے پاس خمس کی تاریخ پر دو لاکھ تومان کی مقدار درآمد بچی ہو تو اس ایک لاکھ تومان کی مقدار کا خمس واجب نہیں ہے ۔ [262]قابلِ ذکر ہے کہ یہ حکم گھر کے ان سامان کو شامل نہیں کرے گا جس میں اصل چیز باقی رہتی ہے اور اس سے نفع اٹھایا جاتا ہے جیسے گھر کے سامان مثلاً اگر مخمّس قالین کو اگلے سال اپنے لیے استعمال کرے تو اس کی قیمت اس سال کی در آمد سے کم نہیں کر سکتا۔

مسئلہ 2355: وہ افراد جو کوئی پیشہ یا ہنر رکھتے ہیں اگر مخمّس یا حکم مخمّس مال کو تجارت اور درآمد حاصل کرنے کے اخراجات میں خرچ کریں تو اسی سال کی درآمد سے اسے کم کر سکتے ہیں، اور فرق نہیں ہے کہ فائدہ اس مال کو خرچ کرنے سے پہلے حاصل ہوا ہو یا بعد میں حاصل ہوا ہو۔

مسئلہ 2356:ایسا شخص جو کام نہیں کرتا اپنے مخمّس یا حکم مخمّس مال کو اپنی زندگی کے اخراجات میں خرچ کرے تو اسے صرف اس درآمد سے کم کر سکتا ہے جو اس مال کے خرچ کرتے وقت موجود ہو اور ایسی درآمد سے جو مخمّس یا حکم مخمّس مال کوخرچ کرتے وقت موجود نہیں تھی کم نہیں کر سکتا مثال کے طور پر ایسا شخص جو کام نہیں کرتا اور اس کے گھر آذوقہ جس کی قیمت ایک لاکھ تومان ہو خمس کی تاریخ پر بچا ہو اور اس کا خمس ادا کر دیا ہے اور آئندہ سال میں اس آذوقے کو اپنے اخراجات زندگی میں خرچ کرے، پھر نئے سال میں حاصل ہونے والی درآمد سے آذوقہ یا کوئی اورخرچ ہونے والا سامان خریدے یا کوئی نقد رقم ملے جو تمام یا کچھ مقدار ایک لاکھ پچاس ہزار تومان کے برابر ہو اور خمس کی تاریخ تک باقی رہے تو ایک لاکھ تومان کے خمس سے اس وقت معاف ہوگا جب آذوقہ یا خرچ ہونے والا سامان یا نقد پیسہ پہلے والے مخمّس آذوقے کے خرچ کرتے وقت موجود رہا ہو [263]{ FR 4710 }لیکن اگر پہلے پُرانے مخمّس آذوقے کو خرچ کرے پھر ایسی درآمد سے جو پرانے آذوقے کے خرچ کے بعد حاصل ہوئی ہے نئے آذوقے یا خرچ ہونے والا سامان خریدے یا نقد پیسہ اسے ملے تو خمس کی تاریخ پر پورے آذوقے یا خرچ ہونے والے سامان یا نقد پیسے کا خمس ادا کرے۔

مسئلہ 2357: اگر کام کرنے والے یا کام نہ کرنے والے شخص کے لیے ایک سال میں کوئی درآمد اور فائدہ حاصل نہ ہوا اور مخمّس یا حکم مخمّس مال کو اپنے اخراجات زندگی (یا کام کرنے والا شخص اخراجات زندگی یا کام کے اخراجات میں ) خرچ کرے تو اس سال کے اخراجات کو آئندہ سال میں جو درآمد یا فائدہ حاصل ہو اہے اس سے کم نہیں کر سکتا۔ [264]

مسئلہ 2358: جس شخص کے پاس خمس کی تاریخ پر کچھ بچت ہو اور اپنے اخراجات کے لیے وہ مقروض بھی ہو لیکن قرض کو کم کرنے کے ضابطہ کے شرائط جو مسئلہ نمبر 2362 میں بیان ہوں گے پائے نہ جاتے ہوں اس لیے اس نے اپنی بچت کا خمس ادا کر دیا ہو چنانچہ آئندہ سال یا بعدکے برسوں میں اپنے پورے یا کچھ مقدار قرض کو اسی مخمّس مال سے ادا کرے تو جس سال میں قرض ادا کیا ہے اسی سال کے آخر میں اتنی مقدار سال کی درآمد سے کم ہو جائے گا اور باقی درآمد کا خمس ادا کرے گا۔

قابلِ ذکر ہے کہ یہ حکم کام کرنے والوں کے بارے میں ہے لیکن جو شخص کام نہیں کرتا اگر قرض کو مخمّس مال سے ادا کرتے وقت موجودہ درآمد (گرچہ کسی سے مطالبہ کی شکل میں ) رکھتا ہو مثلاً دس ملین ریال قرض مخمّس مال سے ادا کیا جب کہ تین ملین ریال درآمد بھی اس کے پاس موجود تھی تو وہ تین ملین درآمد مخمّس مال کی جگہ شمار ہو جائے گی اور اس پر خمس نہیں ہے لیکن اگر مخمّس مال سے قرض ادا کرنے کے بعد کوئی در آمد حاصل ہو تو یہ درآمد مخمّس مال کی جگہ پر شمار نہیں ہوگی اور اس درآمد سے اپنے مخمّس مال کی تلافی نہیں کر سکتا۔

مسئلہ 2359: جو شخص کئی طرح تجارت کرتا ہے مثلاً اس نے اپنے سرمایہ سے کچھ مقدار چاول اور کچھ مقدار شکر خریدا ہے چنانچہ یہ کئی طرح کی تجارت حساب و کتاب لین دین کے لحاظ سے ایک ہوں تو خمس کے لیے ان کا فائدہ نقصان سب ایک ساتھ حساب کیا جائے گا۔

لیکن دو مختلف طرح کا کام ہو مثلاً تجارت کرتا ہو اور کھیتی بھی کرتا ہو اور دونوں کا حساب کتاب لین دین الگ الگ ہو یا ایک ہی طرح کا کام ہو لیکن حساب کتا ب لین دین الگ ہو تو ان دونوں صورتوں میں احتیاط واجب کی بنا پر ایک کام کے ضرر کو دوسرے کام کے فائدے سے تلافی نہیں کر سکتا۔
[262] البتہ اگر اس آذوقہ کی قیمت جِسے مخمّس یا حکم مخمّس مال سے خریدا تھا ضروریاتِ زندگی میں خرچ کرتے وقت بڑھ گئی ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر صرف خریدے جانے والی قیمت کو کم کر سکتا ہے۔

[263] یا وہ پیسہ کہ جس سے نیا آذوقہ یا خرچ ہونے والا سامان خریدا ہے پرانے مخمس آذوقے کے خرچ کرتے وقت موجود ہو۔

[264] قابلِ ذکر ہے کہ یہ حکم کام میں ہونے والے اخراجات کے لیے ایک استثنا رکھتا ہے جو مسئلہ نمبر 2351 میں ذکر کیا گیاہے۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک