امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

مال پر وارد ہونے والے خسارہ كی تلافی

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

مال پر وارد ہونے والے خسارہ كی تلافی
مسئلہ 2349:اگر کام کرنے والا فرد کوئی ایسا سرمایہ (تجارت كے مال) رکھتا ہے کہ جس سے تجارت کرے اور بعض معاملات میں فائدہ اور بعض معاملات میں نقصان ہو تو خمس کا حساب کرتے وقت نقصان کو اسی سال کے فائدہ سے تلافی کر سکتا ہے خواہ فائدہ نقصان کے بعد حاصل ہوا ہو یا نقصان سے پہلے اور اصل سرمایہ کے خمس کے احکام پہلے بیان کئے جا چکے ۔

مسئلہ 2350: اگر کام کرنے والے شخص کا سرمایہ سال کے دوران تلف ہو جائے یا اس کی قیمت گھٹ جائے تو اس کو سال کی در آمد سے مندرجہ ذیل طریقے سے کم کریں گے:

الف: مخمّس یا حکم مخمّس رکھنے والا سرمایہ حوادث میں تلف ہوجائے جیسے چوری، آتش سوزی، زلزلہ وغیرہ تووہ معاملہ میں ضرر کرنے کا حکم رکھتا ہے جو گذشتہ مسئلہ میں بیان کیا گیا کہ انسان اس ضرر کو اسی سال کی در آمد سے کم کر سکتا ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ اگر انسان اپنے مخمّس یا حکم مخمّس سرمایہ کو زندگی کی روزانہ کی ضروریات اور گھر کے اخراجات میں خرچ کرے تو معاملے میں ضرر کرنے کا حکم اس میں بھی جاری ہے مثلاً جس کا کام جانوروں کی پرورش اور ان کا بیچنا ہے اگر بعض مخمّس یا حکم مخمّس جانور کو اپنے لیے ذبح کرے اور استعمال کرے یا کسی کو ہدیہ کر دے یا بیچ کر اس کا پیسہ اخراجات زندگی میں لگا دے تو خمس کی تاریخ پر اسی مقدار درا ٓمد کا خمس ادا کرنے سے معاف ہے۔

ب: کام کرنے كے سامان جو مخمّس یا حکم مخمّس میں تھے تلف ہو جائیں یا ان کی قیمت گھٹ جائے چنانچہ کام کرنے اور درآمد حاصل کرنے میں استعمال کرنے سے ایسا ہوا ہے تو معاملہ میں ضرر کا حکم رکھتا ہے اور اسی سال کی در آمد سے کم کر سکتے ہیں۔

ج: سرمایہ اور کام کے آلات کے علاوہ دوسرے مخمّس یا حکم مخمّس مال کا تلف ہونا یا اس کی قیمت کا گھٹ جانا جیسے گھر جس میں رہ رہا ہے یا گاڑی جو استعمال کر رہا ہے اسے سال کی در آمد سے کم نہیں کیا جا سکتا۔

مسئلہ 2351: بعض افراد کا کام کچھ ایسا ہوتا ہے کہ جس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان پہلے اپنے مال کو اس کام کے لیے خرچ کرے جب اس کی در آمد آئندہ خمس کے سال یا بعد کے برسوں میں حاصل ہوگی، جیسے معدن نکالنا یا کھیتی کرنا یہ افراد کام کے سامان جو مخمّس یا حکم مخمّس میں ہے اس پر جو نقص وارد ہوا ہے اور یہ نقص اور کمی اسی درآمد کو حاصل کرنے میں وارد ہوئی ہے اسے نئے سال کی درآمد سے کم کر سکتا ہے اور پھر باقی کا خمس ادا کرے مثلاً وہ كسان جو اپنی زمین کو مخمّس پیسے سےکاشت کرنے کے لیے تیا رکر رہا ہے اور آئندہ سال میں بیج ڈال کر فصل حاصل کرے گا تو گذشتہ سال میں جو مقدار مخمّس پیسہ لگایا تھا اسے کم کر سکتا ہے اور باقی بچے ہوئے کا خمس ادا کرے۔

لیکن اگر یہ افراد اپنے مخمّس مال کو اپنے اخراجاتِ زندگی میں خرچ کریں تو اسے آئندہ سال کی در آمد سے کم نہیں کر سکتے ۔[261]

مسئلہ 2352: اگر کام کرنے والے شخص کو ایک سال کی در آمد میں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو اور مخمّس مال یا ایسا مال جو حکم مخمّس میں ہے کی کچھ مقدار تلف ہو جائے یا اپنے معاملوں میں ضرر کرے یا اس مال کو کام اور کسب میں خرچ کرے یا اس کے سامان میں نقص اور قیمت میں کمی واقع ہو چنانچہ یہ نقص آئندہ سال یا بعد کے برسوں میں درآمد حاصل کرنے کے لیے واقع نہ ہوا ہو جیسا کہ مسئلہ نمبر 2351 میں بیان کیا گیا تو اس سال کے تلف یا ضرر کو بعد کے سال میں حاصل ہونے والے فائدہ سے تلافی نہیں کر سکتا اس بنا پر اس کامخمّس یا حکم مخمّس والا مال کم ہو جائے گا اور نتیجتاً اس سال اس کے خمس دیے ہوئے مال کی مقدار کم ہو جائے گی۔

مسئلہ 2353: اگر سال کی درا ٓمد میں حاصل ہوئے فائدہ کی کچھ مقدار تلف ہو جائے (کام کرنے والا شخص ہو یا کام نہ کرنے ولا شخص ہو) مثلاً چوری ہو جائے تو اس کا خمس ادا کرنا لازم نہیں ہے۔

[261] چنانچہ یہ افراد خمس کی تاریخ آنے سے پہلے درآمد کے لیے کیے جانے والے اخراجات کی وجہ سے مقروض ہو جائیں ( جب کہ یہ اخراجات آئندہ سال یا بعد کے برسوں میں درآمد حاصل کرنے کےلیے ہوں ) یہ قرض آئندہ سال یا بعد والے برسوں کی درآمد سے کم کر سکتے ہیں ، لیکن اگر قرض اخراجاتِ زندگی کے لیے ہوں تو آئندہ سال یا بعد والے برسوں کی درآمد سے کم نہیں کر سکتے۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک