امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

آباد کرنا، باغ یا باغیچہ بنانا اور اس کے خمس کے احکام

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

آباد کرنا، باغ یا باغیچہ بنانا اور اس کے خمس کے احکام
مسئلہ 2341: اگر کوئی شخص باغ لگائے اور اس کا مقصد باغ کے پھلوں اور فصل سے تجارت کرنا ہو نہ خود باغ کے ذریعے تجارت کرنا تو تین صورتیں ہیں:

الف: باغ کو مخمّس یا اس مال سے جو مخمّس کے حکم میں ہے آباد کیا ہو تو اس صورت میں باغ پر خمس نہیں ہے۔

ب: باغ کو ایسے مال سے جس پر خمس واجب ہے اور ادا نہیں کیا ہے (جس پر سال گزر گیا ہے)آباد کیا ہو تو اس صورت میں چنانچہ زمین کی قیمت[254] جب اسے خریدا ہو اور اسی طرح جو درخت كاری کی ہے اور بقیہ چیزوں کی قیمت کلی فی الذمہ کی[255]شکل میں ہو تو خریدی ہوئی قیمت کا خمس ادا کرنا کافی ہے۔ [256]

ج: باغ کو سال کے درمیان کی در آمد سے لگایا ہو تو اس صورت میں لازم ہے کہ خمس کی تاریخ پر زمین اور جو چیز اس میں لگائی ہے اس کا خمس اخراجات کے کم کرنے کے بعدموجودہ قیمت سے دے۔

اور تینوں صورتوں میں خمس کی تاریخ پر فصل کا خمس جو کہ پیڑ پودوں سے حاصل ہو رہا ہے جیسے پھل یا حاصل ہونے کے قریب ہے جیسے سوکھی ہوئی شاخیں جو کاٹنے کے لائق ہیں اور جو اس کا رشد متصل ہے اگرمال میں اضافہ شمار ہو، ادا کرے اور جو کچھ بھی بعد میں باغ میں اضافہ کررہا ہے جیسے وہ درخت جو دوسرے سال میں لگارہا ہے گرچہ اس درخت کی اصل مخمّس درخت سے ہو، اور خود سے اگنے والے پیڑ پودے اگر مالی قیمت رکھتے ہوں اخراجات کے کم کرنے کے بعد اس کا خمس ادا کرے۔

اور اگر اس باغ کا خمس جسے سال کی درآمد سے خریدا ہے ادا کرے اور اس کے بعد باغ کی قیمت میں اضافہ ہو جائے تو اس کی اضافہ شدہ قیمت کا خمس واجب نہیں ہے مگر یہ کہ باغ کو اس کی مخمّس قیمت (جو زمین کے خریدنے کی قیمت ، پودے یا باغ بانوں کی مزدوری اور دوسرے جو اخراجات کئے ہیں شامل ہے) سے زیادہ میں بیچے تو اس صورت میں مخمّس اور بیچی جانے والی قیمت میں جو اختلاف ہے وہ بیچے جانے والے سال کی در آمد میں سے شمار ہوگا پس اگر خمس کی تاریخ تک اخراجات زندگی میں خرچ نہ ہو تو اس کا خمس واجب ہے۔

مسئلہ 2342: اگر اس قصد سے باغ لگائے کہ اس کی قیمت میں اضافہ ہونے کے بعد بیچ دے اور اس کا مقصد خود باغ سے تجارت کرنا ہو تو اس صورت میں ایسا باغ مال التجارۃ (تجارت کا مال) شمار ہوگی اس لیے خمس کی تاریخ پر متصل اور منفصل رشد کے خمس کے علاوہ باغ کی قیمت میں جو اضافہ ہوا ہے اس کا خمس ادا کرے گرچہ اسے فروخت نہ کیا ہو۔

[254] ثمن اور قیمت سے مراد معاملے میں قیمت اور اس کا عوض ہے جو اکثر مقامات میں پیسہ ہوا کرتا ہے۔

[255] کلی فی الذمہ معاملہ کا معنی مسئلہ نمبر 2379 کی وضاحت كے دوران کیا گیا ہے۔

[256] یہ حکم اس صورت میں ہے جب قیمت پیسہ قرار پائے اور اس صورت کے علاوہ مسئلے کی مختلف حالتیں ہیں۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک