امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

سرمایہ، کام کے آلات اور کام کرنے والوں سے مربوط بعض احکام

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

سرمایہ، کام کے آلات اور کام کرنے والوں سے مربوط بعض احکام
مسئلہ 2331: کام اور تجارت کا سرمایہ جسے بازاریوں کے عرف میں متغیر سرمایہ کہا جاتا ہے دو طرح کا ہے:

الف: بنیادی سرمایہ جو كم از كم سرمایہ ہے کہ جس کی ضرورت انسان اپنی زندگی کو چلانے کےلیے جو اس کی اور اس کے اہل و عیال کی شان کے مناسب ہو ، رکھتا ہے کہ اگر اس سے کم ہو تو اس کےلیے اپنے اور اپنے اہل و عیال كی شان کے مناسب زندگی گزارنا نا ممکن یا حد سے زیادہ سختی کا باعث ہو جومعمولاً قابلِ تحمل نہیں ہے اور مجبور ہو جائے گا ایسا کام کرے جو اس کی شان کے مناسب نہیں ہے۔

تو یہ بنیادی سرمایہ اگر سال کی در آمد سے مہیا کیا ہو نہ مخمّس مال سے یا اس مال سے جو حکم مخمّس میں ہے تو لازم ہے کہ اس کا خمس ادا کرے مگر ایک صورت میں کہ اگر انسان اس مال کا خمس حال یا آئندہٴ نزدیک میں گر چہ مصالحہ کرکے قسطی طور پر بھی ادا کرے تو اس کے لیے اپنی شان کے مطابق بہ طور معمول زندگی گزارنا غیر ممکن ہو یا اتنی سختی کا باعث ہو کہ انسان مجبور ہو جائے گا ایسا کام کرے جو اس کی شان کے مناسب نہ ہو تو اس صورت میں سرمایہ کاخمس دینا لازم نہیں ہے البتہ اگر سرمایہ کے کچھ حصے کاخمس نقد یا قسط وار طور پر دے سکتا ہو تو اسی مقدار کا ادا کرنا لازم ہے۔

ب: مال میں وسعت دینے کا سرمایہ جو بنیادی سرمائے سے زیادہ ہے اور اپنی تجارت کو مزید بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مال میں وسعت دینے کے لیے جو سرمایہ ہے اگر اسے سال کی در آمد سے جمع کیا ہے تو اس کا خمس واجب ہے۔

مسئلہ 2332: کام کے آلات اور وسائل جیسے دوکان، تجارت کی جگہ، نجار (بڑھیٔ) لوہار، کپڑا بیچنا اور بننا، معماری، کھیتی کے آلات، سامان یا مسافر كے حمل و نقل کے لیے گاڑی اور اس کے مانند چیزیں سرمایہ کسب (کام) کا حکم رکھتی ہیں جو کہ گذشتہ مسئلہ میں بیان ہوا۔

مسئلہ 2333: جانور اور مرغی فارم رکھنے والے افراد جو گائے بھیڑ مرغ اور اس طرح کی چیزیں پالتے ہیں اگر ان کا مقصد ان حیوانات کے پالنے سے ان کے گوشت کا بیچنا ہو تو مذکورہ حیوانات سرمایہ کسب (کام) کا حکم رکھتے ہیں لیکن اگر ان حیوانات کو ان سے حاصل ہونے والی چیزوں سے استفادہ اور در آمد حاصل کرنے کے لیے جیسے دودھ، اون، انڈا وغیرہ پر ورش دے رہا ہو تو یہ چیزیں کام کے آلات اور در آمد کے حکم میں شمار کی جائیں گی۔

مسئلہ 2334: وہ رقم جسے کرایہ دار دوکانوں اور تجارت کی جگہ کی سر قفلی (پگڑی) کے عنوان سے مالک یا غیر مالک کو دیتا ہے اور اس مال کے مقابل میں اس مکان میں ایک حق اسے حاصل ہوتا ہے کہ وہ حق مالی قیمت رکھتا ہے تو وہ مال کرایہ دار کے لیے سرمایہ اور آلات کسب (کام) کے حکم میں ہے کہ جس کا حکم گذشتہ مسائل میں بیان کیا گیا ہے۔

مسئلہ 2335: اگر انسان کے خمس کی تاریخ آجائے اور کھیتی کی کچھ فصل آمادہ ہو اور کچھ آمادہ نہ ہو جو کھیتی آمادہ ہو وہ اس سال کی در آمد میں سے شمار ہوگی ، چنانچہ سال کے آخر تک اخراجات زندگی میں خرچ نہ ہو تو اس پر خمس واجب ہے، اور جو بعد کے سال میں آمادہ ہوگی وہ اگلے سال کی در آمد میں شمار ہوگی البتہ وہ فصل جو آئندہ سال میں کاٹی جائے جب کہ خمس کی تاریخ پر آمادہ ہو اور موجود ہو اور مالی قیمت رکھتی ہو گرچہ ابھی کچی ہو تو ان کی حال کی قیمت اس سال کے در آمد میں شمار ہوگی اور اس پر خمس واجب ہے۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک