امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

وہ مقامات جو خمس دینے سے استثنا ہیں اور ان سے متعلق احکام

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

وہ مقامات جو خمس دینے سے استثنا ہیں اور ان سے متعلق احکام
مسئلہ 2308: مہرجو عورت کو ملتا ہے اور وہ مال جو مرد طلاق خلع کے بدلے میں وصول کرتا ہے اور اسی طرح دیت شرعی جو دریافت کیا ہے خواہ عضو کی دیت ہو جیسے ہاتھ پیر ٹوٹنے کی دیت خواہ نفس کی دیت یعنی قتل کی دیت ہو تو گرچہ اس پر سال گزر جائے پھر بھی خمس واجب نہیں ہے۔

مسئلہ 2309: جو چیز انسان کو ارث میں ملی ہے اگر اس پر سال گزر بھی جائے تو مندرجہ ذیل شرائط کی رعایت کرتے ہوئے اس پر خمس واجب نہیں ہے:

الف: ارث شرعی ہو اور ارث کی بحث میں بیان کئے گئے معتبر قواعد کے تحت انسان کو ملے۔

ب: انسان کو یہ توقع ہو کہ اسے ارث ملے گی ۔[243]

ج: وہ مال جو ارث میں ملا ہے اس انسان کے زندہ ہونے کے زمانے میں اس پر خمس واجب نہ رہا ہو ۔[244]

د: میت خمس کا مقروض نہ ہو ۔[245]

مسئلہ 2310: اگر انسان کو کوئی مال ارث میں ملے اور معلوم ہو کہ اس پر خمس واجب تھا اور جس سے اسے ارث ملا ہے اس نے خمس ادا نہیں کیا ہے تو وارث پر لازم ہے کہ اس کا خمس ادا کرے اور اسی طرح اگر خود اس مال پر خمس واجب نہ ہو لیکن وارث کو معلوم ہے کہ جس شخص سے اسے وہ مال ارث میں ملا وہ خمس کا مقروض ہے تو لازم ہے کہ اس کے مال سے اس کا خمس ادا کرے، لیکن ہر صورت میں اگر وہ شخص جس سے انسان کو میراث ملی ہے خمس پر عقیدہ نہیں رکھتا تھا یا عقیدہ رکھتا تھا لیکن جان بوجھ کر کوتاہی اور لاپرواہی کی وجہ سے خمس نہ دیا ہو، تو وارث پر لازم نہیں ہے کہ ا س کا خمس ادا کرے، لیکن اگر میت نے وصیت کی ہو کہ اس پر جو خمس واجب ہے دیا جائے تو اس کی وصیت پر عمل کرنا واجب ہے اور اس صورت میں اصل مال سے تمام خمس کو جسے وصیت کیا ہے ادا کریں گے گرچہ خمس کی مقدار جو ادا کی جا رہی ہے ایك تہائی مال سے زیادہ ہو۔

مسئلہ 2311: اگر کوئی مال کسی شخص کو ارث میں ملے اور معلوم ہو کہ اس مال پر خمس واجب ہو گیا ہے لیکن اسے شک ہو اس مال کا جو اسے ارث ملا ہے میت نے خمس ادا کیا ہے یا نہیں تو احتیاط واجب کی بنا پر لازم ہے کہ اس کا خمس ادا کرے مگر ان استثنا شدہ مقامات میں جو گذشتہ مسئلہ میں بیان کئے گئے اور اگر معلوم نہ ہوکہ وہ چیز جو اسے ارث میں ملی ہے ان مقامات میں سے ہے جس پر خمس واجب نہیں ہے جیسے مہریا یہ کہ نہ جانتا ہو وہ مال جو میت نے اپنی حیات میں اپنے ذاتی امور اور اہل و عیال پر خرچ کیا ہے اس پر خمس واجب ہوا تھا یا نہیں مثلاً نہ جانتا ہو اس مال کو عین اس پیسے سے جس پر سال گزر گیا ہے ( ایسی در آمد جس پر خمس واجب ہوا ہے لیکن اس کا خمس ادا نہیں کیا ہے) خریدا ہے یا مخمّس (خمس دئے ہوئے) مال سے خریدا ہے تو ان صورتوں میں وارث پر خمس ادا کرنالازم نہیں ہے۔

مسئلہ 2312: اگر کوئی شخص کسی مِلکیت (پراپرٹی) کو سال کی درآمد سے خریدے اور سال گزرنے سے پہلے وقف کے تمام شرائط کے ہوتے ہوئے اسے وقف کرے تو اصل وقف شدہ ملکیت کا خمس واقف اور وہ افراد جن پر وقف ہو اہے واجب نہیں ہے البتہ اگر مذکورہ وقف اس کے مالک کے لیے غیر معمولی اور اس کی شان سے زیادہ ہو تو احتیاط واجب ہے کہ واقف اپنی شان سے زیادہ مقدار کا خمس ادا کرے۔

مسئلہ 2313: اگر کوئی شخص کسی ملکیت(پراپرٹی) کو معین افراد جیسے اپنی اولاد پر وقف کرے اور واقف نے وقف نامہ میں ذکر کیا ہو کہ اولاد اپنی صلاح دید کے مطابق اس مِلکیت میں زراعت یا درخت لگا سکتے ہیں چنانچہ اس مِلکیت میں زراعت اور درخت کاری کریں اور اس سے جو منفعت حاصل ہو وہ ان کے سال کے اخراجات سے زیادہ ہو تو لازم ہے کہ اس کا خمس ادا کریں، اور اسی طرح اگر کسی دوسرے طریقے سے بھی اس مِلکیت سے فائدہ اٹھائیں مثلاً اس کا کرایہ لیں تو لازم ہے کہ اس مقدار کا خمس جو ان کے سال کے اخراجات سے اضافہ ہو ادا کریں۔

مسئلہ 2314: وہ مال جو غریب کو خمس و زکوٰۃ کے مستحق ہونے پر دیا جاتا ہے اس پر خمس نہیں ہے لیکن لازم ہے کہ ا س مال سے حاصل شدہ منفعت کا خمس اگر سال کے اخراجات سے اضافہ ہو ادا کرے۔

مسئلہ 2315: وہ مال جو غریب کو واجب صدقے کے عنوان سے دیا جاتا ہے جیسے کفارہ، ردّ مظالم، یا مستحب صدقہ جو اس نے لیا ہے اگر اس کے سال کے اخراجات سے زیادہ ہو جائے تو احتیاط واجب کی بنا پر اس کا خمس ادا کرے۔[246]

[243] اگر اسے کوئی ایسی چیز ارث میں ملے جس کی اسے توقع نہ رہی ہو اور باپ اور بیٹے سے نہ ہو تواحتیاط واجب ہے کہ اگر اس کے سال کے اخراجات سے اضافہ ہو تو اس کا خمس ادا کرے۔

[244] مگر استثنا شدہ مقام جو بعد کے مسئلے میں ذکر کیا جائے گا۔

[245] مگر استثنا شدہ مقام جو بعد کے مسئلے میں ذکر كیا جائے گا۔

[246] اگر ایسے مال سے جو اسے صدقے کے عنوان سے دیا ہے کوئی نفع حاصل کرے مثلاً جو درخت اسے دیا ہے وہ پھل دے تو اگر وہ نفع اس کے سال کے اخراجات سے زیادہ ہو تو فتویٰ کی بنا پر لازم ہے کہ اس کا خمس ادا كرے۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک