امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

وہ درآمد جس پر خمس واجب ہے

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

وہ درآمد جس پر خمس واجب ہے
مسئلہ 2306:جیسا کہ گذشتہ مسائل سے واضح ہوا کہ انسان کی وہ درآمد جس کا خمس ادا کرنا لازم ہے دو طرح کی ہے:

الف: کام کی درآمد: اور اس سے مراد وہ تمام مال ہے جسے انسان نے تجارت، صنعت، کھیتی، نوکری اور تنخواہ لینے ، مزدوری یا گھر دکان یا کسی اور چیز کو کرایہ پر دینے کے ذریعے یا دریائی خشکی کے جانوروں کا شکار کرنے، یا بیابان سے مباح چیزوں کا جمع کرنے، جیسے دوا کی جڑی بوٹیوں کو جنگل بیابان سے اکٹھا کرنا یا کوئی اور کام کے ذریعے حاصل کیا ہو گرچہ مثلاً کسی میت کی قضا نماز اور روزے کے لیے اجیر بنا ہو اور کچھ اجرت حاصل کی ہو۔

ب: کام کے علاوہ در آمد: اور اس سے مراد وہ تمام اموال ہیں جسے انسان نے کام کے علاوہ حاصل کیا ہو مثلاً وہ مال جو اسے ہدیہ دیا گیا ہو، یا انعام کے طور پر ملا ہو یا وہ مال جو وصیت کرنے کے ذریعے اس تک پہونچا ہو ۔ [239]

الف کے تمام مقامات چنانچہ اگر خمس کی تاریخ تک زندگی کے اخراجات میں خرچ نہ ہو اور بچا رہ جائے [240] تو لازم ہے اس کا خمس ادا کرے۔

مسئلہ 2307: اگر کوئی شخص ایسی چیز کو جس کا خمس ادا کر دیا گیا ہے جسے مخمّس کہتے ہیں یا ایسی چیز جو مخمّس[241] کے حکم میں ہے جیسے وہ مال جو ارث میں ملا ہے کسی دوسرے کو ہدیہ کرے تو وہ چیز لینے کے بعد لینے والے شخص کی سال کی در آمد میں سے شمار ہوگی چنانچہ خمس کی تاریخ تک باقی رہ جائے اور اخراجات[242]میں خرچ نہ ہو تو ہدیہ لینے والے پر واجب ہے کہ اس کا خمس ادا کرے۔
[239] ان مقامات کے علاوہ جو آئندہ مسائل میں استثنا کئے جائیں گے۔

[240] اخراجات میں خرچ ہونے کے احکام اور اس کی مزید وضاحت آئندہ مسائل میں ذکر کی جائے گی۔

[241] مخمّس کے حکم میں اس مال کو کہتے ہیں جن کا خمس دینا واجب نہیں ہے۔

[242] مؤنہ (اخراجات) سے مراد جو خمس کے مسائل میں زیادہ ذکر ہوتا ہے وہ اخراجات ہیں جن کی وضاحت مسئلہ نمبر 2316 اور اس کے آئندہ مسائل میں ذکر کی جائے گی۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک