اصول دین

اصول دین12%

اصول دین مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اصول دین
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 28 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 27993 / ڈاؤنلوڈ: 4374
سائز سائز سائز
اصول دین

اصول دین

مؤلف:
اردو

قضاء وقدر

مسئلہ” قضاء وقدر“ کی بحث (اگر چہ علماء کلام نے اس کو خاص عنوان کے تحت بیان کیا ہے) ”جبر واختیار“ کا اہم حصہ ہے جس کو جبر واختیار کی بحث سے جدا نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ مسئلہ بھی مذکورہ بحث کا بنیادی نظریہ ہے۔

ہم اس باب میں اختصار کی خاطر مکمل طریقہ سے تمام پہلو وں کوبیان نہیں کریں گے، کیونکہ بہت سی چیزیں اس کتاب کی وسعت سے باھر ہیں، ہم یھاں صرف اس کے اسلامی معنی کو واضح کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ قرآن وسنت نے اس بارے میں وضاحت کی ہے، تاکہ ہمارے عزیز قارئین اصول دین کے اس اہم مسئلہ کو پہچان لیں اور اس پر عقیدہ رکھیں، خصوصاً جیسا کہ ہم آج کل دیکھتے ہیں کہ انسان صبح سے لے کر شام تک کے واقعات،مصیبت و بلا اور خیر وشر کی باتوں کو قضا وقدر کہہ دیتاھے، تو کیایہ تمام کے تمام اسلامی عقیدہ کے تحت ہیں؟!یا نھیں؟

ہم ان دونوں الفاظ کے معنی اسلامی صحیح نقطہ نظر سے بیان کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ لغت اور قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں تاکہ ہم اس طریقہ سے ان دونوں الفاظ کے معنی میں شریعت کے ہدف ومقصد کو سمجھ سکیں، اوریہ دیکھ سکیں کہ اسلامی نصوص میں ان کا استعمال کس طرح ہوا ہے:

۱ ۔ لغوی معنی:

”قضا کے معنی عمل کے ہیں، پس اس کے معنی صنعت اور اندازہ کے ہیں مثلاً : ”قضی الشیٴ قضاء ا صنعه وقدره “ (یعنی کسی چیز کو بنانے کے لئے اس کی مقدار معین کی) یا ہر وہ کام جس کو کرنے کے لئے تیاری کی، اس کو تمام کیا، یا کسی چیز کو ادا کیا ، یا کسی چیز کو واجب کیا یا کسی چیز کا علم پیدا کیا، یا کسی چیز کو نافذ کیا۔ تو گویا اس نے ان کاموں کا اندازہ معین کیا۔

”وقضیٰ ای حکم“ (یعنی اس نے قضا کی یعنی اس پر حکم لگایا) جس طرح کوئی شخص فیصلہ میں قضاوت کرتے ہوئے حکم لگاتا ہے۔

قضا کے ایک معنی اعلان کے بھی ہیں جیسا کہ کہتے ہیں:

قضینا الیه ذالک الامر ای هیناه الیه وابلغناه ذالک( ۷۳ )

(یعنی ہم نے فلاں شخص کے لئے یہ اعلان کیا یعنی اس کو منع کیا اور اس تک خبر پهونچائی)

معنی قدر: قدر کے معنی قضا اور حکم کے ہیں۔( ۷۴ )

۲ ۔ قرآنی معنی:

قرآن مجید میں قضا کے درج ذیل چند معنی بیان ہوئے ہیں:

الف: خلق وایجاد، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :

( فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ) ( ۷۵ )

یعنی ہم نے سات آسمان کو خلق کیا۔

ب: وجوب وحکم، جیسا کہ ارشاد ربّ العزت ہے:

( وَقَضَی رَبُّکَ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاهُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا ) ( ۷۶ )

یعنی ہم نے انسان پر واجب اور حکم کیا کہ خدا کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت نہ کرے۔

ج: اعلان کرنا ، خبر دینا، جیسا کہ ارشاد ہے:

( وَقَضَیْنَا إِلَی بَنِی إسْرائِیلَ فِی الْکِتَابِ ) ( ۷۷ )

یعنی ہم نے بنی اسرائیل تک یہ خبر پہنچائی یا ان کے لئے یہ اعلان کیا۔

اسی طرح قرآن مجید میں لفظِ ”قدر“ دومعنی میں استعمال ہوا ہے:

الف: خلق وتنظیم اور تدبیر وترتیب، ارشاد ہوتا ہے:

( وَقدَّرَ ِفیْهَا اٴَقْوَاتَهَا ) ( ۷۸ )

”اور اس نے ایک مناسب انداز پر اس میں سامان معیشت کا بندوبست کیا“

( وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ ) ( ۷۹ )

”اور ہم نے چاند کے لئے منزلیں مقرر کردیں“

( وَاللّٰهُ یُقَدِّرُ اللَّیْلَ وَالنَّهَارَ ) ( ۸۰ )

”اور خدا ہی رات اور دن کا اچھی طرح اندازہ کرسکتا ہے“

( وَخَلَقَ کُلَّ شَیءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِیْراً ) ( ۸۱ )

”اور ہر چیز کو اسی نے پیدا کیا پھر اسے اندازے سے درست کیا“

ب: بیان کرنا اور خبر دینا، جیسا کہ ارشاد ہے:

( اِلاّٰ امْرَاٴتَهُ قَدَّرْنَاهَا مِنَ الْغَابِرِیْنَ ) ( ۸۲ )

”یعنی ہم نے (جناب نوح (ع)) کو خبر دی ان کے لئے بیان کیا کہ ان کی بیوی غابرین (تقدیر میں پیچھے رہنے والوں) میں سے ہیں۔“

اب جبکہ ہمارے لئے ان دونوں الفاظ کے لغوی اور قرآنی معنی واضح ہوگئے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم قضاء وقدر کی طرف اپنے افعال کو منسوب کرتے ہوئے ان معنی کا لحاظ کریں اور جب ہم یہ کھیں کہ ہمارا یہ کام خداوندعالم کی قضاء وقدر سے ہے تو ہمیں اس کے معنی معلوم ہونے چاہئےں۔

کیونکہ ہمیں قضا وقدر سے معنی خلق مراد لینے کا حق نہیں ہے، (جو قضا وقدر کے ایک معنی ہیں)چونکہ گذشتہ بحث میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ہمارے افعال ہمارے اختیار ، ہمارے ارادہ اور ہماری ایجاد سے ہوتے ہیں اور خداوندعالم کی ایجاد اور اس کے خلق کردہ نہیں ہوتے۔

پس جب ہم دلیل کے ذریعہ اس معنی (خلق) کو مراد نہیں لے سکتے تو پھر ان دونوں الفاظ کے معنی محصور ہوجاتے ہیں اس وقت خدا کی قضا کے معنی ”وجوب اور حکم“ کے ہوں گے، اور قدر کے معنی ”بیان اور علم“ کے ہوں گے۔

اس وقت کسی معنی فعل کے بارے میں ہمارا خبر دینے کا مطلب قضاء اللہ ہوگی اس کی قدر یعنی کسی چیز کے بارے میں وجوب یا اس کو بیان کرنا یا اس کا علم پیدا کرنا۔

لہٰذا ہم اس بنیاد پر کہتے ہیں کہ اللہ کی قضا پر راضی رہنا ، اور اس کی قدر کو قبول کرنا ضروری اور جس چیز کو خداوندعالم نے ہمارے لئے بیان کیا یا کسی چیز کے بارے میں حکم کیا ان پر ایمان ویقین رکھنا ضروری ہے، اور قضاوقدر کا یھی مطلب ہے، اس کے علاوہ اور کوئی مطلب ومقصد نہیں ہے۔

اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل میں ہمارے لئے حضرت علی علیہ السلام کے اس جواب پر توجہ کرنا کافی ہے جوآپ نے صفین کے راستہ میں ایک شامی شخص کے سوال( کہ کیا جنگ صفین خداوندعالم کی قضاو قدر سے ہے؟ )کے جواب میں فرمایا:

”نعم یا شیخ، ما علوتم تلعة ولاهیطتم وادیاً الا بقضاء اللّٰه

فقال الشامی: عند اللّٰه احستب عنائي یا امیر المومنین

فقال علیه السلام: مه یا شیخ ، فان اللّٰه قد عظم اجرکم فی مسیرکم وانتم سائرون وفی مقامکم و انتم مقیمون، وفی انصرافکم وانتم منصرفون ولم تکونوا فی شیٴ من امورکم مکرهین“[۸۳]

ھاں اے شیخ، تم کسی پھاڑی پر نہیں چڑھتے اور نہ کسی وادی میں اترتے مگر یہ سب کام خدا کی قضاء قدر سے ہوتے ہیں، اس وقت اس شامی نے کھا یا امیر المومنین (ع)کیا یہ کام اللہ کے نزدیک عنایت شمار ہوگا یعنی کیا جنگوں کی تمام پریشانیوں کا ثواب ملے گا؟!

تب حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: اے شیخ !(صبر کرو تاکہ واضح ہوجائے) خداوندعالم انھیں امور کا تمھیں بہت زیادہ اجر دیتا ہے اور تمھارے اٹھنے بیٹھنے اور چلنے میں ثواب ہے اور تم کسی کام میں مضطر ومجبور نہیں ہو ۔

اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا:

لعلک ظننت قضاء اً لازماً وقدراً حاتماً ولوکان ذلک کذلک لبطل الثواب والعقاب وسقط الوعد والوعید، ان اللّٰه سبحانه امر عباده تخییرا ونهاهم تحذیراً وکلف یسیرا ولم یکلف عسیراً واٴعطی علی القلیل کیثراً( ۸۴ )

کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ قضا وقدر حتمی اور ضروری ہیں کیونکہ اگر ضروری اور حتمی ہوں تو پھر ثواب وعذاب باطل ہوجائیں، وعدہ ووعید ختم ہوجائیں، بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اختیار کے ساتھ حکم دیا ہے اور ڈرانے کی وجہ سے نھی کی ہے، کم تکلیف کی ہے اور مشکل کاموں پر مکلف نہیں کیا اور وہ تو تھوڑے (اعمال) پر کثیر (جزا) دیتا ہے۔

قارئین کرام ! آپ نے توجہ فرمائی کہ حضرت علی علیہ السلام کے یہ فصیح وبلیغ کلمات ہماری بات پر واضح دلیل ہیں اور اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ شام کی طرف حرکت کرنا خدا کے حکم سے تھا (یعنی خداوندعالم کا حکم تھا کہ باغیوں سے جنگ کرنا واجب ہے) اور خداوندعالم نے ان لڑنے والوں کے لئے اجر کو عظیم قرار دیا ہے کیونکہ انھوں نے خدا کے حکم کی خاطر اس جنگ میں حصہ لیا ہے۔

اسی طرح حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ملائکہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ومنهم امناء علی وحیه والسنة والیٰ رسله ومختلفون بقضائه وامره( ۸۵ )

(اور ان میں سے بعض خدا کی وحی پر امین بنائے گئے اور بعض مرسلین کے لئے خدا کی زبان ہیں اور خدا کی قضا اور اس کے حکم کے پهونچانے والے ہیں)

ہم قضاء الٰھی اور امر ربی کو نہیں سمجھتے مگر وہ واجبات اور احکام جو ملائکہ، انبیاء ومرسلین کے لئے لے کر نازل ہوتے ہیں تاکہ انبیاء اپنی امتوں تک پهونچادیں۔

قدر پر ایمان کے سلسلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

الناس فی القدر علی ثلاثة اٴوجه:رجل یزعم ان الامر مفوض الیه فقد وهن اللّٰه فی سلطانه، فهو هالک ورجل یزعم ان اللّٰه جل وعز اجبر العباد علی المعاصی وکلفهم ما لا یطیقون فقدظلم اللّٰه فی حکمه فهو هالک ورجل یزعم ان اللّٰه کلف العباد ما یطیقون ولم یکلفهم ما لا یطیقون فاذا اٴحسن حمد لله واذا اٴساء استغفر اللّٰه فهذا مسلم ۔“( ۸۶ )

قدر کے سلسلہ میں لوگوں کے تین گروہ ہیں:

۱ ۔ وہ شخص جو گمان کرتا ہے کہ تمام کام اس پر چھوڑدئے گئے ہیں تو اس نے خدا کی سلطنت میں اس کی توھین کی اور وہ ھلاک ہونے والا ہے۔

۲ ۔ وہ شخص جو گمان کرتا ہے کہ خداوندعالم بندوں کی معصیت کرنے میں ان کا اجیر ہے، اور اس نے بندوں کو ان چیزوں پر مکلف بنایا جو ان کی قدرت سے باھر ہیں، تو اس نے خدا کے حکم کے سامنے خدا پر ظلم کیا اور وہ بھی ھلاک ہونے والا ہے۔

۳ ۔ وہ شخص جس کا یہ عقیدہ ہے کہ خداوندعالم اپنے بندوں کو انھی کاموں پر مکلف کرتا ہے جن کی وہ طاقت رکھتے ہیں اور جس چیز کی طاقت نہیں رکھتے ان پر مکلف نہیں کرتا، اور وہ جب کوئی نیک کام کرتا ہے تو خدا کی حمد کرتا ہے اور جب کوئی برا کام ہوجاتا ہے تو خدا سے استغفار کرتا ہے پس یھی شخص مسلمان ہے۔) اور یہ خداوندعالم کی قضاوقدر کے ایک دوسرے معنی ہیں جس میں اس کے امر( حکم) اور بندوں پر تکالیف کو بیان کیا گیا ہے،لہٰذا ہمارا اسلام پر راضی رہنا اور شریعت مقدسہ کا اقرار کرنا قضاء الٰھی پر راضی ہونا اور قدر الٰھی کا اقرار کرنا ہے۔

ہدایت وگمراھی

آخر بحث میں صرف ”ہدایت وگمراھی“کا مسئلہ باقی رہ گیا ہے جس کو علماء کرام نے جبر واختیار اور قضا وقدر کا ضمیمہ قراردیا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں بہت سی آیات ذکر ہوئی ہیں جن میں سے ایک اشارہ ملتا ہے کہ خداوندعالم ہی انسان کو ہدایت یا گمراھی دیتا ہے اور اس میں انسان کو کوئی اختیار بھی نہیں ہے، ارشاد ہوتا ہے:

( فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَاءُ وَیَهْدِیْ مَنْ یَّشَاءُ ) ( ۸۷ )

”تو یھی خدا جسے چاہتا ہے گمراھی میں چھوڑدیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے“

( وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ) ( ۸۸ )

”اور جس کو خدا گمراھی میں چھوڑدے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نھیں“

قارئین کرام ! یھاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہدایت وگمراھی خدا کی طرف سے

ھے تو پھر گمراهوں کو ان کی گمراھی کی بناپر کیوں عذاب دے گا؟!! اور مومنین کو ان کی ہدایت پر ثواب کیوں دے گا؟!! جبکہ دونوں خداوندعالم کے افعال اور اس کے ارادہ سے ہیں۔

اس اعتراض کے جواب سے پہلے ہم ہدایت وگمراھی کے معنی بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ لغت کی کتابوں اور قرآن مجید کے استعمالات میں ان دونوں کے کیا معنی ہیں تاکہ واضح طور پر ان دونوں کے مفهوم کو سمجھ سکیں۔

لغت میں ہدایت کے معنی:

الدلالة علی الطریق الرشد( ۸۹ )

(ترقی کے راستہ پر دلالت کرنا)

لسان العرب میں ہدایت کے اس طرح معنی کئے ہیں:

هداه للطریق والی الطریق، اذا دلّه علی الطریق، وهدیته الطریق والبیت هدایة ای عرفته ۔( ۹۰ )

اس کی راستہ کی طرف ہدایت کی جبکہ وہ راستہ کو جانتا تھا، یا میں نے اس کی راستہ کی ہدایت کی یعنی اس کو جانتا تھا )

ہدایت گمراھی کی ضد ہے ،ہدایت کے معنی راہ دکھانا اور دلالت کے ہیں۔( ۹۱ )

یا جیسا کہ کھا جاتا ہے : ”ہد یت لک فی معنی بینت لک “۔( ۹۲ )

(میں نے تمھارے اس معنی میں ہدایت کی جس کو میں نے بیان کیا )

اسی طرح سے خدا وند عالم کایہ فرما ن بھی ہے ۔( اَوَلمْ یَهْدِ لَهُمْ ) ( ۹۳ )

”کیا ان لوگوں کو یہ نہیں معلوم۔ “

لیکن خداوند عالم کا یہ فرمان :

( قَالَ رَبَّنَا الَّذِیْ اٴَعْطٰی کُلَّ شَیٴٍ خَلَقَهُ ثُمَّ هَدیٰ ) ( ۹۴ )

”(جناب موسی علیہ السلام نے کھا ) ہمارا پروردگار جس نے ھرچیز کو اسی کے (مناسب ) صورت عطافرمائی اور پھراس نے ہدایت کی“

اس کے معنی یہ ہیں کہ خداوند عالم نے ہر چیز کو اس طریقہ سے پیدا کیا ہے تا کہ اس سے استفادہ کیا جاسکے ۔اس کے بعد اس کی زندگی کی طرف ہدایت کی ہے۔( ۹۵ )

کلام عرب میں ہدایت کے معنی توفیق کے بھی ہیں جیسا کہ شاعر کہتا ہے :

ولاتحر فنی هداک اللّٰه مساٴلتی

ولاآکونن کمن اودی به السفر [۹۶]

(یعنی خداوندعالم آپ کو توفیق دے کہ آپ ہماری حاجت پوری کریں ۔)

جیسا کہ خداوند عالم کا فرمان بھی ہے:

( فَاهْدُوْهُمْ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ ) ( ۹۷ )

یعنی ان کو جہنم میں داخل کردو۔

” کما تهدی المراٴة الی زوجها یعنی بذلک انها تدخل الیه( ۹۸ )

(جیسا کہ بیوی کو اس کے شوھر کے گھر بھیجا جاتا ہے، اور (اسی نکاح کے ذریعہ) ان میں میاں بیوی کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے)

اسی وجہ سے جو شخص قوم کے آگے آگے چلتا ہے یا ان کی ہدایت کرتا ہے اس کو ”ھادی“ کھا جاتا ہے ۔( ۹۹ )

او رہدایت کے معنی ثواب کے بھی ہیں( ۱۰۰ )

جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ ) ( ۱۰۱ )

”یعنی خدا نے ان کو ایمان کا ثواب عنایت فرمایا۔“

( وَاللّٰهُ لاٰ یَهْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ ) ( ۱۰۲ )

( وَاللّٰهُ لاٰ یَهْدِیْ الْقَوْمَ الْکَافِرِیْنَ ) ( ۱۰۳ )

( وَاللّٰهُ لاٰ یَهْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ ) ( ۱۰۴ )

( اِنَّ اللّٰهُ لاٰ یَهْدِیْ کَیْدَ الْخَائِنِیْنَ ) ( ۱۰۵ )

یعنی ان ظالمین، کافرین، فاسقین اور خائنین کو ثواب نہیں دیا جائے گا۔

نیز ارشاد قدرت ہوتا ہے:

( لَیْسَ عَلَیْکَ هُدَاهُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَاءُ ) ( ۱۰۶ )

”یعنی ان کو ثواب نہیں دیا جائے گا او رخدا جس کو چاھے ثواب عطا کرے“

قارئین کرام ! ضلال وگمراھی کے معنی ھلاکت کے ہیں ، جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:

( وَاِذَا ضَلَلْنَا فیْ الاٴرْضِ ) ( ۱۰۷ )

”یعنی ہم نے ان کو ھلاک کردیا۔“

اور دین سے گمراھی کا مطلب حق سے دور ہوجانا اور اضلال کے معنی گمراھی کی دعوت دینا، یا گمراھی کو کسی کے سر پر لاد دینا، جیسا کہ خداوندعالم کا فرمان ہے:

( وَاَضَلَّهُمُ السَّاٴمِرِیُّ ) ( ۱۰۸ )

”یعنی سامری نے ان کو گمراہ کر چھوڑا“

اور اضلال کے معنی گناہگاروں کو جہنم میں ڈالنے کے بھی ہیں۔( ۱۰۹ )

قارئین کرام ! ہدایت وضلال کے ان تمام مذکورہ معنی کے پیش نظر درج ذیل چیزیں روشن ہوجاتی ہیں:

۱ ۔ اضلال کے معنی مخالف حق، اور گمراھی کی دعوت دینا یا کسی کے سر پر گمراھی کو لاد دینا بھی ہیں، اور ان معنی کے لحاظ سے خدا کی طرف اس کی نسبت نہیں دے سکتے، ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَاکَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ اِذْ هَدَاهُمْ ) ( ۱۱۰ )

”خدا کی شان یہ نہیں کہ کسی قوم کو جب ان کی ہدایت کرچکا ہو اس کے بعد انھیں گمراہ کردے“

بلکہ ضلالت وگمراھی (جیسا کہ قرآن مجید میں وضاحت کی گئی ہے) صرف انسان کے ارادہ واختیار سے ہوتی ہے، ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَنْ یُشْرِکْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاٰلاً بَعِیْداً ) ( ۱۱۱ )

”جس نے کسی کو خدا کا شریک بنالیا وہ تو بس بھٹک کر بہت دور جاپڑا“

( قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰی نَفْسِيْ ) ( ۱۱۲ )

”(اے رسول ) تم (یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں تو اپنی ہی جان پر میری گمراھی (کا وبال) ہے“

( مَنِ اهْتَدیٰ فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا ) ( ۱۱۳ )

”جو شخص روبراہ ہوتا ہے تو بس اپنے فائدہ کے لئے راہ پر آتا ہے او رجو شخص گمراہ ہوتا ہے تو اس نے بھٹک کر اپنا آپ بگاڑا“

( اِنَّ رَبَّکَ هو اٴَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهِ ) ( ۱۱۴ )

”بے شک تمھارا پروردگار ان سے خوب واقف ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں“

اسی طرح اضلال ، ابطال وھلاکت کے معنی میں استعمال ہوا ہے:

ارشاد قدرت ہے:

( کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْکَافِرِیْنَ ) ( ۱۱۵ )

”یعنی کافرین کو ھلاک کردیا گیا“

( وَمَنْ یُضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ) ( ۱۱۶ )

”یعنی کافرین وظالمین میں سے خدا جس کو بھی ھلاک کرنا چاہتا ہے اس کو ثواب عطا نہیں کرتا“

نیز خداوندعالم کا قول ہے:

( وَالَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ فَلَنْ یُضِلَّ اٴَعْمَالَهُمْ ) ( ۱۱۷ )

”یعنی جو لوگ راہ خدا میں جھاد کرتے ہیں خدا ان کے اعمال کو باطل نہیں کرتا“

۲ ۔ ہدایت، حق کی طرف دلالت کو کہتے ہیں۔

جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ہے:

( اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدَانَا لِهٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْلَا اَنْ هَدَانَا اللّٰهُ ) ( ۱۱۸ )

”شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں اس (منزل مقصود) تک پهونچایا اور اگر خدا ہمیں یھاں تک نہ پهونچاتا تو ہم کسی طرح یھاں تک نہیں پهونچ سکتے تھے“

( بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ هَدَاکُمْ لِلْاِیْمَاْنِ ) ( ۱۱۹ )

”بلکہ اگر تم (دعوی ایمان میں) سچے ہو تو (سمجھو کہ) خدا نے تم پر احسان کیا کہ اس نے تم کو ایمان کا راستہ دکھایا“

( وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوْا الْعَمٰی عَلَی الْهُدیٰ ) ( ۱۲۰ )

”اور رھے ثمود تو ہم نے ان کو سیدھا رستہ دکھا دیا مگر ان لوگوں نے ہدایت کے مقابلہ میں گمراھی کو پسند کیا۔“

اسی طرح ہدایت کاثواب پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔

جیسا کہ ارشاد خداوندعالم ہے:

( وَسَیَهْدِیْهِِمْ وَیُصْلِحُ بَالَهُمْ ) ( ۱۲۱ )

”یعنی ان کو ثواب دیا جائے گا“

قارئین کرام ! ہدایت وضلالت کے معنی کی بحث سے درج ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں:

اگر اضلال کے ” خلاف حق اشارہ کرنے“ کے معنی مرادلئے جائیں تو یہ معنی خداوندعالم کے لئے محال ہیں کےونکہ خدا تو حق کا حکم دیتا ہے، جبکہ عقلِ انسان بھی حکم کرتی ہے کہ خداوندعالم کبھی بھی خلاف حق حکم نہیں دے سکتا۔

ہدی وہدایت کے معنی ، حق کی طرف دلالت کرنا ہے اور یہ کام خداوندعالم نے کیا بھی ہے اور ہر زمانہ میں ارسال رسل اور انزال کتب کے ذریعہ حق کی طرف ہدایت کی بھی ہے۔

لہٰذا ان تمام باتوں کے پیش نظر ہدایت وگمراھی کے صرف یھی بہترین معنی ہیں کہ اضلال کے معنی ھلاکت اور عقاب کے ہیں او رہدی وہدایت کے معنی ثواب کے ہیں، اور قرآن مجید میں

یھی دونوں معنی مراد بھی ہیں، جن کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے، ارشاد ہوتا ہے:

( اٴَ ُترِیدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضلَّ اللّٰهُ ) ( ۱۲۲ )

”یعنی جن کو خدا کے عذاب میں مبتلا کیا ہے کیا وہ چاہتے ہیں کہ ان کو ثواب دیا جائے“

( یُضِلُّ بِهِ کَثِیْراً وَیَهْدِی بِهِ کَثِیْراً ) ( ۱۲۳ )

”یعنی قرآن کے ذریعہ، خداوندعالم نے بہت سے لوگوں کو ھلاک کردیا ، کیونکہ ان لوگوں نے قرآن کے مقابلہ میں سرکشی کی اور اس کے اوامر ونواھی پر عمل نہیں کیا جبکہ ان پر اس پر عمل کرنا واحب ہے۔“

اور اگر ہدایت کے معنی ثواب نہ ہوں تو پھر ہم قرآن مجید میں موجود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں ہدایت کے معنی نہیں سمجھ پاتے، کیونکہ ارشاد ہوتا ہے:

( لَیْسَ عَلَیْکَ هُدَاهُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَشَاءُ ) ( ۱۲۴ )

”(اے رسول) ان کا منزل مقصود تک پہچانا تمھارا فرض نہیں ہے (تمھارا کام ) راستہ دکھانا ہے مگر ھاں خدا جس کو چاھے منزل مقصود تک پهونچادے“

( اِنَّکَ لاٰ تَهْتَدِیْ مَنْ اٴحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَشَاءُ ) ( ۱۲۵ )

”(اے رسول ) تم جسے چاهو منزل مقصود تک نہیں پهونچاسکتے مگر ھاں جسے خدا چاھے منزل مقصود تک پہنچائے“

کیونکہ اگر ہدیٰ کے معنی ارشاد اور دلالت کے ہوں تو پھر یہ دونوں آیات نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی رسالت کو ناکام کردیتی ہیں کیونکہ پھر نبی پر ارشاد اور توجیہ کرنا واجب ہے۔

لہٰذا اسی طریقہ پر ہم قرآن مجید کی دوسری آیات میں موجود لفظ ہدیٰ واضلال کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ہمارے لئے واضح ہے کہ یہ تمام نصوص اختیار کامل اور ارادہ وآزادی کے خلاف معنی سے سالم ومحفوظ ہیں۔

اسی بنا پر ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے فرمان کو بہترین طریقہ سے سمجھتے ہیں کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا:

الشقی من شقی فی بطن امه والسعید من سعد فی بطن اُمّه

(شقی اپنے ماں کے شکم سے شقی ہوتا ہے او رسعید اپنی ماں کے شکم سے سعید ہوتا ہے)

اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ خداوندعالم نے انسان کو مجبور خلق کیا تاکہ وہ ضلالت وگمراھی کے ذریعہ شقی ہوجائے یا اطاعت وہدایت کے ذریعہ سعید ہوجائے بلکہ مقصد یہ ہے جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

”الشقی من علم اللّٰہ وهو فی بطن امہ انہ سیعمل عمل الاشقیاء، والسعید من علم اللّٰہ وهو فی بطن امہ انہ سیعمل عمل السعداء“

(شقی وہ ہے جس کے بارے میں خدا جانتا ہے (درحالیکہ وہ شکم مادر میں ہوتا ہے) کہ وہ اشقیاء والے کام انجام دے گا، اور سعید وہ ہے جس کے بارے میں خدا جانتا ہے کہ نیک کاموں کو انجام دے گا)

پس ثابت یہ ہوا کہ خداوندعالم پر حقیقت واضح ہوتی ہے، جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں اور اس میں ذرہ برابر بھی معنی جبر واکراہ نہیں ہیں۔

( قُلْ هَذِهِ سَبِیلِی اٴَدْعُو إِلَی اللهِ عَلَی بَصِیرَةٍ اٴَنَا وَمَنْ اتَّبَعَنِی وَسُبْحَانَ اللهِ وَمَا اٴَنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ)

وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین ۔

____________________

[۱] سورہ نحل آیت ۹۰۔

[۲] سورہ فصلت (حم سجدہ) آیت ۴۶۔

[۳] سورہ انبیاء آیت ۲۳۔

[۴] سورہ مومنون آیت ۸۸۔

[۵] سورہ یوسف آیت ۴۰۔

[۶] سورہ مائدہ آیت ۴۴۔

[۷] سورہ نحل آیت ۹۰۔

[۸] سورہ مائدہ /۸۔

[۹] سورہ نساء/ ۵۸۔

[۱۰] سورہ شوریٰ آیت۱۵۔

[۱۱] سورہ نحل آیت ۷۶۔

[۱۲] سورہ انعام/ ۱۱۵۔

[۱۳] سورہ کہف/۸۷۔

[۱۴] سورہ آل عمران/۵۷۔

[۱۵] سورہ اعراف/۴۴۔

[۱۶] سورہ شعرا/ ۲۲۷۔

[۱۷] سورہ زخرف/۶۵۔

[۱۸] سورہ نحل/ ۱۱۸۔

[۱۹] سورہ ہود /۱۰۱۔

[۲۰] سورہ ص/۲۷۔

[۲۱] سورہ مومنون /۱۱۵و

[۲۲] سورہ انفال آیت۷۔

[۲۳] سورہ نساء آیت ۲۶۔

[۲۴] سورہ زمرآیت۷۔

[۲۵] سورہ توبہ آیت ۹۶۔

[۲۶] سورہ مائدہ آیت ۶۔

[۲۷] سورہ نجم آیت ،۳۹۔

[۲۸] سورہ روم آیت ۴۴۔

[۲۹] سورہ توبہ آیت ۵۱۔

[۳۰] سورہ نساء آیت ۷۸۔

[۳۱] عیون اخبار الرضا(ع) تالیف شیخ صدوق ، ج ۲ ص ۱۱۴، روضة الواعظین تالیف فتال نیشاپوری، ص۳۸، احجاج طبرسی، ص ۱۹۸، بحار ا لانوار ج ۷۵ ۳۵۴، (تحقیق مترجم)

[۳۲] سورہ طور آیت ۲۱۔

[۳۳] سورہ نساء آیت ۱۲۳۔

[۳۴] سورہ نساء آیت ۱۲۳۔

[۳۵] سورہ کہف آیت ۲۹۔

[۳۶] سورہ زلزلة آیت ۷،۸۔

[۳۷] سورہ فصلت( حم سجدہ)آیت ۱۷۔ (۶)سورہ تحریم آیت ۷۔

[۳۸] سورہ آل عمران آیت ۱۹۵۔

[۳۹] سورہ زمر آیت ۲۶۔

[۴۰] سورہ مائدہ آیت ۱۱۰۔

[۴۱] سورہ آل عمران آیت ۴۹۔

[۴۲] سورہ عنکبوت آیت ۱۷۔

[۴۳] سورہ مومنون آیت ۱۴۔

[۴۴] سوره مومنون، آیت ۱۴.

[۴۵] سورہ صافات آیت ۱۲۵۔

[۴۶] سورہ صافات آیت ۹۶۔

[۴۷] ترجمہ معترض کے لحا ظ سے ہے۔ مترجم)

[۴۸] سورہ صافات آیت ۹۵۔

[۴۹] سورہ صافات آیت ۹۶۔

[۵۰] سورہ زمر آیت ۶۵۔

[۵۱] سورہ قصص آیت ۸۴۔

[۵۲] سورہ نور آیت ۲۴۔

[۵۳] سورہ سجدہ آیت ۱۴۔

[۵۴] سورہ زمر آیت ۲۴۔

[۵۵] سورہ نور آیت۶۳۔

[۵۶] سورہ سبا آیت ۱۲۔

[۵۷] سورہ حم سجدہ آیت ۴۶۔

[۵۸] سورہ آل عمران آیت ۱۸۲۔

[۵۹] سورہ ق آیت ۲۹۔

[۶۰] سورہ آل عمران آیت ۱۰۸۔

[۶۱] سورہ غافر آیت ۳۱۔

[۶۲] سورہ نساء آیت ۴۰۔

[۶۳] سورہ یونس آیت ۴۴۔

[۶۴] سورہ کہف آیت ۴۹۔

[۶۵] سوره انبیاء، آیت ۲۳ ۔

[۶۶] سورہ آل عمران آیت ۹۔

[۶۷] سورہ نساء آیت ۱۱۱۔

[۶۸] سورہ بقرہ آیت ۲۸۶۔

[۶۹] سورہ مائدہ آیت ۳۸۔

[۷۰] سورہ یونس آیت ۲۷۔

[۷۱] سورہ انعام آیت ۱۲۰۔

[۷۲] سورہ شمس آیت ۷ تا ۱۰۔

[۷۳] لسان العرب ج۱۵ص ۱۸۶۔۱۸۷۔

[۷۴] لسان العرب ج۱۵ص۷۴۔

[۷۵] سورہ فصلت آیت ۱۲۔

[۷۶] سورہ اسراء آیت ۲۳۔

[۷۷] سورہ اسراء آیت ۴۔

[۷۸] سورہ فصلت (حم سجد) آیت ۱۰۔

[۷۹] سورہ یٰس آیت ۳۹۔

[۸۰] سورہ مزمل آیت ۲۰۔

[۸۱] سورہ فرقان آیت ۲۔

[۸۲] سورہ نحل آیت ۵۷۔

[۸۳] تحف العقول ص ۳۴۹تا ۳۵۰۔(اصول کافی جلد اول ص ۱۵۵، بحار الانوار ج۵ ص ۷۵ ، مترجم)

[۸۴] نہج البلاغہ ج۳ ص ۱۶۷۔

[۸۵] نہج البلاغہ ج۳ ص ۱۶۷۔

[۸۶] تحف العقول ص ۳۴۴۔

[۸۷] سورہ ابراھیم آیت ۴۔

[۸۸] سورہ رعد آیت ۳۳۔

[۸۹] التبیان جلد اول ص ۴۱۔

[۹۰] لسان العرب ،ج۱۵ ص۳۵۵۔

[۹۱] لسان العرب ،ج۱۵ ص۳۵۳ تا ص۳۵۴۔

[۹۲] لسان العرب ،ج۱۵ ص۳۵۳ تا ص۳۵۴۔

[۹۳] سورہ سجدہ آیت ۲۶۔

[۹۴] سورہ طٰہ آیت ۵۰۔

[۹۵] لسان العرب ،ج۱۵ ص۳۵۳ تا ص۳۵۴۔

[۹۶] تفسیر طبری جلد اول ص۷۲تا ص۷۳۔

[۹۷] سورہ صافات ص۲۳۔

[۹۸] تفسیر طبری جلد اول ص۷۳۔

[۹۹] مجمع البیان جلد اول ص ۲۷،۲۸۔

[۱۰۰] مجمع البیان جلد اول ص ۲۷،۲۸۔

[۱۰۱] سورہ یونس آیت ۹۔

[۱۰۲] سورہ بقرہ آیت ۲۵۸۔

[۱۰۳] سورہ بقرہ آیت ۲۶۴۔

[۱۰۴] سورہ مائدہ آیت ۱۰۸۔

[۱۰۵] سورہ سوسف آیت ۵۲۔

[۱۰۶] سورہ بقرہ آیت ۲۷۳۔

[۱۰۷] سورہ سجدہ آیت ۱۰۔

[۱۰۸] سورہ طٰہٰ آیت ۸۵۔

[۱۰۹] التبیان جلد اول ص ۴۶۔

[۱۱۰] سورہ توبہ آیت ۱۱۵۔

[۱۱۱] سورہ نساء آیت ۱۱۶۔

[۱۱۲] سورہ سباء آیت ۵۰۔

[۱۱۳] سورہ اسراء آیت ۱۵۔

[۱۱۴] سورہ قلم آیت۷۔

[۱۱۵] سورہ غافر آیت ۷۴۔

[۱۱۶] سورہ رعد آیت ۳۳۔

[۱۱۷] سورہ محمد آیت ۴۔

[۱۱۸] سورہ اعراف آیت ۴۳۔

[۱۱۹] سورہ حجرات آیت ۱۷۔

[۱۲۰] سورہ فصلت( حم سجدہ)آیت ۱۷۔

[۱۲۱] سورہ محمد آیت ۵۔

[۱۲۲] سورہ نساء آیت ۸۸۔

[۱۲۳] سورہ بقرہ آیت ۲۶۔

[۱۲۴] سورہ بقرہ آیت ۲۷۲۔

[۱۲۵] سورہ قصص آیت ۵۶۔

خالق ازلی کے وجود کی ضرورت

وجودخالق کائنات کے دلائل کی بحث ایک قدیم زمانہ سے چلی آرھی ہے اور مختلف زمانہ میں مختلف طریقوں سے بحث ہوتی رھی ہے نیز دلائل وبرھان بھی بدلتے رھے ہیں۔

اور جب سے انسان نے شعور اور ترقی کی طرف قدم اٹھانا شروع کیا ہے اسی وقت سے اس کی دلی خواہش یہ رھی ہے کہ وہ ”ماوراء الغیب“ کی باتوں کا پتہ لگائے، کیونکہ اس کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ مختلف اشیاء کے حقائق اور انتھا کا پتہ لگانے کے لئے بے چین ر ہے ، اوراس کے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال اٹھتا رہتا ہے کہ وہ کھاں سے آیا؟ اور اس کی کیسے خلقت ہوئی؟ اوراسے آخر کھاں جانا ہے۔؟

چنانچہ اسی فطرت کے تحت اس نے کائنات کے بارے میں معلومات کرنا شروع کی اور اس سلسلہ میں غور وفکر سے نہیں گھبرایا اپنی استعداد کے مطابق اس نے ہر زمانہ میں اپنی کوشش جاری رکھی اور مبداء اول (وہ خداجو تمام چیزوں کو وجود بخشنے والا ہے )کے وجود کی بحث اوراس کائنات کے اسرار کی معلومات ایک مقدمہ رھی ہے جس کا سمجھنا مشکل کام رھا ہے اگرچہ انسان نے اپنی بھر پور کوشش صرف کردی ہے۔

اور جب انسان نے اشیاء کے حقائق سمجھ لئے تو اس نے سب سے پہلے وجود کو محدود اور بسیط پایا اس کے بعد اس نے مرور زمان کے ساتھ اپنی معرفت کے لحاظ سے اس دائرہ معرفت کو وسیع کیا چنانچہ اس نے اپنی عقل کے معیار کے مطابق اس کائنات کے خالق کے وجود کے بارے میں اعتقاد پر دلیل قائم کی۔

اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ اس قدیم زمانہ میں انسان نے حیوانات، ستاروں اور دوسرے جمادات کی عبادت کی اور ان کو اپنا خدا تصور کیا، ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یھی موت وحیات دیتے ہیں یھی خلق کرتے ہیں یھی رزق دیتے ہیں یھی عطا کرتے ہیں اور کسی چیز میں مانع ہوتے ہیں اور صرف ان کی عبادت یا ان کی تصدیق پر ہی اکتفاء نہ کی بلکہ یہ ان کے لئے قربانی کیا کرتے تھے اور ان سے قریب کرنے والے کاموں کو کیا کرتے تھے تاکہ ان تک خیر وبرکت پهونچے اور ان سے بلاء وشر دور رھے۔

چنا نچہ انسانوں کے ایک گروہ نے جب سورج کو دیکھا کہ وہ سب چیزوں کو حیات ورُشد عطا کرتا ہے اور اس کے بغیر کو ئی بھی چیز زندہ نہیں رہ سکتی لہٰذا اسی کو خدا مان بیٹھے۔

جب انھوں نے چاند کو رات کے اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے لوگوں کو نور دیتے ہوئے دیکھا تو اسی کو خدا مان لیا۔

جب انھوں نے ان ستاروں کود یکھا جو اپنی شعاعوںکی چمک دمک کو ایک دور درازمقام سے زمین کی طرف بھیجتے ہیں جو انسان کو سرگرداں اور حیران کردینے والی ہیں جو فکر انسان کو متحر ک کرکے مسدود کردیتی ہیں تو انسان یہ سمجھا کہ یھی نجوم خدا ہیں جن کی چمک دمک کائنات کو حیران وپریشان کئے ہوئے ہے۔

اورآخر میں جب انھوں نے بعض ان حیوانات کو دیکھا جن کے ذریعہ سے ان کے کھانے پینے یا پہننے کی چیزیں حاصل ہوتی ہیں یا ان میں عجیب وغریب چیزیں پائی جاتی ہیں یا ان کی قوت اور بھاری جسم کو دیکھا تو اس اعتقاد کے ساتھ کہ یھی خدا ہیں ان کی ہی عبادت شروع کردی۔!!

یہ باتیں صرف اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انسان اپنی فکر وعقل میں کمزور تھا جس طرح سے یہ بات بھی واضح ہے کہ انسان کی صحیح وسالم فطرت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کوئی خدا ہے جس نے اس کائنات کو خلق کیا ہے۔

لیکن جب خداوندعالم نے آسمانی کتابیں اور انبیاء ومرسلین بھیجے تو انسان کو یہ معلوم ہوا کہ ان تمام چیزوں کا خالق ہی ہمارا ربّ ہے۔

( الَّذِی خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَی فِی خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعْ الْبَصَرَ هَلْ تَرَی مِنْ فُطُورٍ ثُمَّ ارْجِعْ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنقَلِبْ إِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهو حَسِیرٌ ) ( ۴ )

”جس نے سات آسمان تلے اوپر بنا ڈالے ،کیاتجھے خدا کی آفرینش میں کوئی کسر نظر آتی ہے؟ تو پھر آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھے کوئی شگاف نظر آتا ہے پھر دوبارہ آنکھ اٹھاکر دیکھ تو (ھر بار تیری) نظر ناکام او رتھک کر تیری طرف پلٹ آئے گی“

بے شک انسان اپنی فطرت کے ذریعہ ہی اپنے رب کو پہچان کر اس پر ایمان لاسکتا ہے، چنانچہ یھی فطرت انسانی (جس کو لا شعو رکہتے ہیں) انسان کو اس کائنات کے خالق کے وجود تک پهونچاتی ہے جس نے ان تمام موجودات کو خلق کیا اوران کو عدم سے وجود بخشا ، ہر چیز کے لئے ایک مخصوص نظام وقوانین وضع فرمائے تاکہ ان کے تحت وہ سب اپنے فرض کو پورا کرتی ہوئی اپنے اغراض ومقاصد تک پهونچ جائیں اور وہ نظام بھی ایسا ہو جو دقیق اور مرتب ہو جس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ ہو۔

اور جیسا کہ فرانس کے بعض ماھرین نے وسطی افریقا، انڈومان نیکوبار جزائر نیز جزیرہ مابقہ اور فلپین کے بعض علاقوں میں پائی جانے والی قوم”اقزام“( ایک پستہ قد قوم جو بڑی بھادر ہوتی ہے) کی حیات کے بارے میںتحقیق کی تو اس نتیجہ تک پهونچے کہ یہ قوم ایک قدیم ترین طور وطریقہ اور ثقافت کی نشاندھی کرتی ہے جس کی بنا پر ہمیں بشر کے جنسی طور وطریقہ اور ثقافت کے بارے میں معلومات فراہم ہوتی ہیں اور ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ قوم ابتداء میں مشرقی ایشیاء کے جنوبی ممالک کے تمام قوم وقبیلہ پر حاکم تھی۔

چنانچہ اس جماعت کے عقائد کے بارے میں تحقیق کرنے والے ماھر ”ینشمٹ“ وغیرہ نے کوئی ایسا اثر ونشانی نہیں پائی جس کی بنا پر یہ سمجھا جاسکے کہ یہ لوگ مادیات اور ارواح کی عبادت کرتے تھے لیکن ان کا سحر وجادو پر اعتقاد رکھنا یہ ناقص اور کم سے کم عقیدہ تھا،بلکہ مزید تحقیقات سے پتہ چلا کہ وہ ایک موجود اسمی کی عبادت کرتے تھے جس کے بارے میں یہ کھا جاسکتا ہے کہ وہ سید عالم (خدا ) ہے۔

ہمارے لئے کافی ہے کہ ہم ان قدیم قبیلوں اور ان کے عقائد کو دیکھیں لیکن یہ تاریخ ادیان خطرناک کشف ہے کیونکہ وہ (مستحکم اور قطعی دلائل کی بنیاد پر) فطرت انسان اور توحید (خدا) کے بارے میں ایک خاص رابطہ کا اقرار کرتے تھے۔( ۵ )

چنانچہ اسکاٹ لینڈ کے ایک دانشمند ”لانج“ کہتے ہیں:

”ھر انسان اپنے اندر ”علت“ کا نظریہ لئے ہوئے ہے اور اس کا اس کائنات کے بنانے والے خالق کا عقیدہ رکھنے کا نظریہ کافی ہے۔“( ۶ )

لہٰذا انسان نے اسی فطرت کے ذریعہ اس حقیقت کو سمجھا اورجب انسان کی یھی فطرت بسیط (غیر واضح) تھی تو اس کی دلیل بھی غیر واضح رھی اور جب فطرت انسانی واضح اور مکمل ہوگئی تو انسان کی دلیل بھی واضح اور مکمل ہوگئی، اس حیثیت سے کہ انسان اسی فطرت کے تحت اس بات کو مانتا رھا ہے کہ ہر اثر اپنے مو ثر پر دلالت کرتا ہے اور ہر موجود اپنے موجد (بنانے والے) پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اونٹ کے پیر کے نشان اونٹ کے وجود پر دلالت کرتے ہیں اسی طرح پیروں کے نشانات گذرنے والوں پر دلالت کرتے ہیں توپھر یہ زمین وآسمان کس طرح لطیف وخبیر (خدا) پر دلالت نہیں کرتے۔؟!!

قارئین کرام ! انسانی فطرت اور اس کی وجہ سے خدا پر ایمان رکھنے والی مثال کی طرح درج ذیل واقعہ بھی ہے:

”ہم ایک روز بغداد میں دینی مسائل کے بارے میں تقریرکررھے تھے کہ اچانک ایک دھریہ اس تقریر کے دوران آگیا اور اس نے خدا کے وجود کے لئے دلیل مانگی، چنانچہ صاحب مجلس نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے متکلمین کے پاس ایک شخص کو بھیجا لہٰذا وہ شخص ایک متکلم کے پاس گیا اور واقعہ کی تفصیل بیان کی چنانچہ اس متکلم نے اس شخص سے کھا کہ تم چلو میں آتا ہوں۔

ادھر سب لوگ اس کے منتظر تھے لیکن جب بہت دیر ہوگئی اور لوگ اٹھنا ہی چاہتے تھے تو وہ متکلم بڑبڑاتے ہوئے مجلس میں وارد ہوا، اور صاحب مجلس سے اپنی تاخیر کی عذر خواھی کی اور کھا کہ میں نے خواہ مخواہ دیر نہیں کی بلکہ میں راستے میں ایک عجیب وغریب واقعہ دیکھ کر مبهوت رہ گیا اور مجھے وقت کا احساس نہ ہوا اور جب کافی دیر کے بعد مجھے احساس ہوا تو میں دوڑتا ہوا چلا آیا۔

اور جب اس سے اس تعجب خیز واقعہ کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کھا:

”جب میں آتے وقت دجلہ کے ساحل پر پهونچا تو میں نے ایک بہت بڑے درخت کو دیکھا کہ وہ دجلہ کی طرف جھکا اور خود بخود اس کے برابر تختے کٹتے چلے گئے او رپھروہ تختے آپس میں مل گئے یھاں تک وہ ایک بہترین کشتی بن گئی اور ساحل پر آکر رگ گئی اور میں اس کشتی میں سوار ہوگیا اور وہ بغیر چلانے والے کے چل پڑی یھاں تک کہ اس نے مجھے دریا کے اس طرف چھوڑدیا او رپھر دوسرے لوگ اس میں سوار ہوئے تو ان کو اُس طرف لے جاکر چھوڑ دیا اور وہ اسی طرح چلتی رھی، میں کھڑا اس منظر کو دیکھتا رھا، اوریھی میری تاخیر کا سبب ہے“

ابھی ان صاحب کی گفتگو تمام ہی ہوئی تھی کہ اس دھریہ نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور اس کا مذاق بناتے ہوئے کھا:

”واقعاً مجھے اپنے اوپر افسوس ہورھا ہے کہ میں نے اس شخص کے انتظار میں اپنا اتنا وقت برباد کیا! میں نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ بے وقوف اور احمق شخص نہیں دیکھا ! کیا کسی انسان کی عقل اس بات کو قبول کرسکتی ہے کہ کوئی درخت خود بخود کٹے،اس کے تختے بنیں اور وہ آپس میں جڑےں اور کشتی بن جائے او ر پھر وہ کشتی خود بخود چل پڑے اور مسافروں کو ادھر سے ادھر پهونچائے؟!!

یہ سن کر وہ متکلم بول اٹھے:

”جب اس چھوٹی سی کشتی کا بغیر بنانے والے کے بن جانا عقلی طور پر ناممکن ہے اور بہت ہی تعجب او ربے وقوفی کی بات ہے، تو پھر یہ زمین وآسمان، چاند وسورج او راس کائنات کی دوسری چیزیں خود بخود کس طرح بن سکتی ہیں؟!! او راب بتا کہ میری باتیں تعجب خیز ہیں یا تیری؟۔

یہ سن کر وہ دھریہ خاموش ہوگیا ، اس کا سر جھک گیا اور اس کے سامنے اپنے غافل ہونے کے اقرار کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہ پڑا۔

اس طرح فطرت انسان دلیلِ اعتقاد بن سکتی ہے اور یہ وہ راستہ ہے جس کے ذریعہ انسان آسان طریقہ سے فلسفی دلیل وبرھان اور اس کی اصطلاحات کے دلدل میں پھنسے بغیر وجود خالق پر دلیل قائم کرسکتا ہے ۔

وجود خدا پر عقلی اور فلسفی دلائل

قارئین کرام ! فلسفہ کی دلیل وبرھان کے مختلف طریقے ہیں چنانچہ فلاسفہ حضرات نے وجود خدا کے بارے میں منطقی اور عقلی برھان قائم کئے ہیں جو خداوندعالم کے وجود پر ایمان کو پختہ اور شبھات واعتراضات کا خاتمہ کردیتے ہیں۔

چنانچہ فلاسفہ حضرات کی سب سے واضح دلیل یہ ہے:

”اگر کوئی موجود ”واجب الوجود“ ہو تو ہمارا مقصود ثابت ہوجاتا ہے اور اگر وہ وجود واجب الوجود نہ ہوتو پھر” دور“ " Viciouscircle " یا” تسلسل“" Infinitc Regress " لازم آئے گا جو عقلی طور پر محال ہے۔

توضیح :

جو چیز ہمارے سامنے موجود ہے اگر وہ ”واجب الوجود“ ہے توہمارا مقصود ثابت ہے اور اگر ممکن الوجود ہو تو اس کے لئے کوئی ایسی مو ثر شئے کا ہونا ضروری ہے جو اس کو وجود عطا کرے اور اگروہ مو ثر شے واجب الوجود ہو تو ہمارا مقصود ثابت ہے اور اگر وہ مو ثر شے ممکن الوجود ہو تو وہ بھی ایک ایسے مو ثر کی محتاج ہوگی جو اس کو وجود عطا کرے، اور اگر وہ مو ثر شے واجب الوجود ہوگی تو ہمارا مقصود ثابت، اور اگر وہ بھی ممکن الوجود ہو تو پھر اس طرح تسلسل لازم آتا ہے جو عقلی طور پر باطل ہے۔

مزید وضاحت :

جو چیز ہمارے سامنے موجود ہے اس کے وجود میں کسی کو بھی شک نہیں ہوتا او راگر یہ وجود اپنی ذات کے لئے واجب ہو (یعنی اس کا وجود ذاتی ہو جس طرح آگ کے لئے حرارت) توہمارا مقصود ثابت ہے (یعنی وھی خدا ہے) اور اگرو ہ چیز اپنی ذات میں ممکن ہو، تو پھر یہ چیز اپنے وجود میں کسی مو ثر کی محتاج ہے اور اگر وہ مو ثر اپنی ذات میں واجب ہے تو بھی ہمارا مقصود ثابت ہے او راگر وہ بھی اپنے وجود میں کسی مو ثر کی محتاج ہو او روہ غیر خود اپنے نفس کے لئے مو ثر ہو تو اس صورت میں ”دور“ لازم آتا ہے جو محال ہے کیونکہ اس وقت ہر ایک بذات خود دوسرے پر موقوف ہوگی ،جبکہ مو ثر کا اثر پر مقدم ہونا لازم ہے۔

اور اگر وہ مو ثر کوئی دوسری چیز ہو تو پھر درج ذیل حالات سے خالی نھیں:

۱ ۔ وہ چیز ایسے وجود پر جاکر رکے جو اپنی ذات میں واجب ہو۔

۲ ۔ اس سلسلہ کی کوئی انتھا نہ ہو۔

اگر پہلی صورت ہو تو ہمارا مقصود ثابت ہے جبکہ دوسری صورت باطل ہے کیونکہ ہر ممکن شے کے لئے ایک مو ثر کا ہونا ضروری ہے اور یہ مو ثر تین حال سے خالی نہیں ہے:

۱ ۔ کوئی چیز بذات خود اپنے لئے مو ثر ہو۔

۲ ۔اس میںکوئی اندرونی شے مو ثر ہو۔

۳ ۔ کوئی بیرونی شے اس میں مو ثر ہو۔

پہلی صورت ناممکن او رمحال ہے کیونکہ مو ثر کا اثر سے پہلے ہونا ضروری ہے کیونکہ کسی چیز کا اپنے نفس پر مقدم ہونا عقلی لحاظ سے ممنوع ہے۔

دوسری صورت بھی محال ہے کیونکہ کسی چیز کا مو ثر ہونا اس کے ہر جز میں مو ثر ہونا چاہئے اور اگر اس کا کوئی جز مو ثر ہو تو پھر خود اپنے نفس میں مو ثر ہونا لازم آتا ہے او راپنے اثر میں بھی مو ثر کا ہونا لازم آتا ہے اور یہ دونوں محال ہیں پہلی صورت اس لئے محال ہے کہ ”تقدم الشی علی نفسہ“ (کسی چیز کا اپنے اوپر مقدم ہونا) لازم آتا ہے اور دوسری صورت اس لئے محال ہے کہ ”دور“ لازم آتا ہے اور دور بھی محال وباطل ہے۔

اور جب پہلی دوصورت باطل ہیں تو پھر تیسری صورت صحیح ہے یعنی ہر چیز میں کسی بیرونی شے کا مو ثر ہونا، او راگر وہ بیرونی شے ممکنات میں سے ہے ،تو وہ اپنی ذات کے لئے ممکن نہیں بن سکتی ،کیونکہ اگر ایسا ہو(یعنی اپنی ذات کے لئے ممکن ہو) تو پھر وہ شی اس میں داخل ہے، بلکہ اس چیز کا بیرونی ہونا ضروری ہے اور یھی ہماری بات کو ثابت کردتیا ہے۔

مذکورہ دلیل کا خلاصہ :

”بے شک اس کائنات کا پیدا کرنے والا کوئی نہ کوئی ہے کیونکہ کسی چیز کا خود بخود عدم سے وجود میں آنا ممکن نہیں ہے تو پھر اس پیدا کرنے والے کا وجود بھی ضروری ہے کیونکہ یہ بات بھی مسلم ہے کہ کسی امر عدمی کے ذریعہ کوئی چیز وجود میں نہیں آسکتی، تو پھر یہ پیدا کرنے والا یا تو واجب الوجود ہے یا واجب الوجود نہیں ہے۔

اور اگر واجب الوجود ہو تو ہمارا مقصد ثابت ہوجاتا ہے (کہ یھی واجب الوجود ذات خدا ہے)

اور اگر واجب الوجود نہیں ہے تو اس کے لئے ایک مو ثر کی ضرورت ہے جو اس کو وجود عطا کرے اور اگر یہ مو ثر اور سبب واجب الوجود ہو تو بھی ہمارا مقصود ثابت ہے اور اگر واجب الوجود نہ ہو پھر اس کے لئے بھی ایک مو ثر کی ضرورت ہے ، اسی طرح ہم آگے بڑھتے رھیں گے یھاں تک کہ وجود خالق اور واجب الوجود جو اس کائنات کا خالق ہے اس تک پهونچ جائیں ورنہ تو درج ذیل دو چیزوں میں سے ایک چیز لازم آئے گی (جو محال ہے):

۱ ۔ ”تسلسل“ تسلسل کے معنی یہ ہیں کہ ہر موجود اپنے موجد (بنانے والے) پر موقوف ہو او رپھر یہ موجود دوسرے مو جود پر موقوف ہوگا او رپھر وہ دوسرے پر ، اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رھے اور عقلِ انسانی نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ جس سلسلہ کی کوئی انتھا نہ ہو وہ باطل ہے کیونکہ انسان اس سے کسی نتیجہ پرنھیں پہنچ سکتا۔

۲ ۔ ”دَور“ دور کے معنی یہ ہیں کہ موجدِ مو ثر نے ایسی چیز کو خلق کیا جس کو اثر کھا جاتا ہے او رخود اس اثرنے اس موجدِ مو ثر کو خلق کیا اور یہ واضح البطلان ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے پر موقوف ہیں۔

جیسا کہ ہم نے بیان کیا جب تسلسل او ردور دونوں باطل ہیں تو پھر ضروری ہے کہ ہم ایسے پیدا کرنے والے موجد کا اقرار کریں جس کا وجود اپنی ذات کے لئے واجب ہے (یعنی جو واجب الوجود ہے) اور وھی خدا کی ذات ہے۔

متکلمین کا استدلال

قارئین کرام ! خداوندعالم کے وجود کے سلسلے میں متکلمین حضرات نے ایک دوسرا طریقہ اختیار کیا ہے جس میں صرف عقلی طریقہ پر اعتماد کیا گیا ہے جس میں کسی طرح کی آیات وروایات اور تقلید سے کام نہیں لیا گیا چنانچہ ان کے دلائل میں سے بعض دلائل اس طرح ہیں، ان کا کہنا ہے:

”تمام اجسام (بدن) حادث ہیں اور ان کے حدوث کی دلیل یہ ہے کہ ان میں تجدّد (تبدیلی اور نیا پن) ہوتارہتا ہے (یعنی تمام چیزیں ہمیشہ ایک سی نہیں رہتیں بلکہ بدلتی رہتی ہیں) اور جب یہ چیزیں تجدد سے خالی نہیں ہیں تو پھر ان کا محدث ہونا ضروری ہے اور جب ان کا حادث ہونا ثابت ہوگیا ہے تو پھر اپنے افعال کے بارے میں قیاس کرسکتے ہیں کہ ان کا بھی حادث کرنے والا ہے، مثلاً:

”یہ جھان محدث ہے، پہلے نہیں تھا بعد میں وجود میں آیا، کیونکہ کائنات کی ان تمام چیزوں میں خلقت کے آثار پائے جاتے ہیں بعض چیزیں چھوٹی ہیں بعض بڑی، کسی میں زیادتی ہے کسی میں کمی، اور ان سب کی حالتیں بدلتی رہتی ہیں جیسا کہ رات دن سے بدل جاتی ہے، لہٰذا خداوندعالم ہی ان تمام چیزوں کا خالق ہے کیونکہ ہر چیز کے لئے ایک بنانے والے کا ہونا ضروری ہے اور ہر کتاب کے لئے لکھنے والے کا نیز مکان بنانے کے لئے ایک معمار کا ہونا ضروری ہے“

مذکورہ استدلال کا خلاصہ :

یہ عالم؛ جس میں جمادات، نباتات اور دیگر موجودات شامل ہیں، یہ حادث ہے یعنی پہلے نہیں تھا بعد میں موجود ہوا جیسا کہ ان تمام میں واضح طور پر آثار وجود پائے جاتے ہیں کہ ان چیزوں میں کمی وزیادتی طول وقصر موجود ہے اور ایک حال سے دوسرے حال میں بدلتے رہتے ہیں یا اسی طرح کے دوسرے آثار جن سے ان کے حادث ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ یہ چیزیں عدم سے وجود میں آئی ہیں۔

اور جب اس کائنات کی تمام چیزوں میں تغییر وتبدیلی پائی جاتی ہے اور ہمارے افعال وحرکات کے ذریعہ ان چیزوں میں تبدیلی آتی رہتی ہے اس طرح ہمارے افعال بھی خود بخود نہیں ہوتے بلکہ ہم ہیں جو ان کو انجام دیتے ہیں جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کھانا پینا، حرکت کرنا، لکھنا، پڑھنا اور ہمارے روز مرّہ کے امور انجام دینے والے کا ہونا ضروری ہے تو اس کائنات کا خلق کرنے والے کا بھی ہونا ضروری ہے اور وہ خداوندعالم کی ذات اقدس ہے جس طرح ہر چیز کے لئے بنانے والے ،کتاب کے لکھنے کے لئے کاتب اور مکان کے بنانے کے لئے معمار کا ہونا ضروری ہے۔

قرآن کریم سے استدلال

ہم اس وقت قرآن کریم کی ان آیات کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ اس حقیقت کی واضح طور پر برھان ودلیل قائم کی گئی ہیں۔

قارئین کرام ! قرآن کریم وجود خالق پر مختلف طریقوں سے بہت سی دلیلیں اور برھان بیان کرتا ہے اور اس سلسلہ میں بہت زیادہ اہتمام کیا ہے جبکہ دوسری آسمانی کتابوں میں اس قدر اہتمام نھیںکیا گیا ہے بلکہ جس قدر قرآن کریم نے وجود خدا پر دلائل وشواہد پیش کئے ہیں کسی بھی(آسمانی) کتاب میں نہیں ہیں، قرآن کریم میں سوئی ہوئی عقلوں کو مکمل طور پر بیدار کردیا گیا ہے۔

شاید یھی سبب ہو کہ توریت میں ملحدین اور خدا کے بارے میں شک کرنے والوں کو قانع کرنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا کیونکہ توریت میں ان لوگوںکو مخاطب کیا گیا ہے جو اسرائیل کے خدا پر ایمان رکھتے تھے، اور اس کے وجود میں ذرا بھی شک نہیں کرتے تھے بلکہ توریت میں خدا کے غضب سے ڈرایا ہے او رغیر خدا پر ایمان لانے والوں کی عاقبت سے باخبرکیا گیا ہے اور اگر ان کو اپنے واجبات میں غفلت کرتے دیکھا گیا تو ان کو خدا کے وعدہ اوروعید کی یاد دھانی کرائی گئی ہے۔

اسی طرح انجیل (جبکہ بعض تواریخ میں کئی انجیل بتائی گئی ہیں) اور مذھب اسرائیل میں وجود خدا کے سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں تھا بلکہ سب سے بڑا اختلاف یہ تھا کہ اس قوم کے سردار نفاق کے شکار ہوگئے تھے اور انھوں نے دین کا مذاق بنا رکھا تھا اور مال ودولت ا ورجاہ وحشم کے پیچھے پڑے ہوئے تھے (چنانچہ انجیل میں ان سب چیزوں کے بارے میں توجہ دلائی گئی ہے)

اور جب اسلام کا ظهور ہوا، او رقرآن کریم نازل ہوا تو اس وقت لوگوں میں وجود خدا کے بار ے میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا تھا اس دور میں ملحد( دھریہ)مشرک اور توریت وانجیل کے ماننے والے پائے جاتے تھے او ران سب کا خدا اور اس کے طریقہ عبادت میں اپنا الگ الگ نظریہ تھا لہٰذا قرآن کریم کے لئے اس سلسلے میں خاص اہتمام کرناضروری تھا کیونکہ اس دور میں سبھی لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا تھی اور ان کو قانع کرنا اور راہ راست کی طرف ہدایت کرنامنظور تھا۔

اور چونکہ اسلام خاتم الادیان اور قرآن کریم خاتم الکتب ہے، اور اس دین اور اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قیامت تک کے لوگوں کے لئے اعتقادی اور دنیاوی پھلوؤں کو بیان کیا گیا ہے لہٰذا قرآن کریم میں ان تمام پھلوو ں پر توجہ بہت ضروری تھی، لہٰذا قرآن کریم میں وجودِ خداوندعالم پر دلائل بیان کئے ہیں اور ملحدین ومشککین اور جاھلوں کو اس کائنات کے خالق اور ان عظیم آثار کی طرف توجہ دلائی جو خداوندعالم کے وجود او رکمال پر دلالت کرتے تھے ،لہٰذا اس سلسلہ میں موجود ہر طرح کے شبھات واعتراضات کا سدّ باب کردیاگیا۔

چنانچہ قرآن مجید کی درج ذیل آیات نے ان موضوعات کی طرف عقل انسانی کو بہت ہی نرم انداز میں متوجہ کیا او راس کو اصلی ہدف ومقصد کی راہنمائی کی اورنرم لہجہ میں راہ مستقیم کی ہدایت کی اور انسان کے سامنے خلقت کے آثار وشواہد کو مکمل طور پر واضح کردیا اور کائنات کے دقیق حقائق پر حکمت کے ذریعہ متوجہ کیا اور انسان میں اٹھتے ہوئے طوفان کویقین وقناعت کے ساحل پر لگادیا۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:( إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِی تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنفَعُ النَّاسَ وَمَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَاٴَحْیَا بِهِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِیهَا مِنْ کُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِیفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونْ ) ( ۷ )

”بے شک آسمان وزمین کی پیدائش اور رات دن کے ردّ وبدل میں اور کشتیوں (جھازوں) میں جو لوگوں کے نفع کی چیزیں (مال تجارت وغیرہ) دریا میں لے کر چلتے ہیں اور پانی میں جو خدا نے آسمان سے برسایا ہے پھر اس سے زمین کو مردہ (بے کار) ہونے کے بعد جلا دیا (شاداب کردیا) اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دئے اور ہواؤں کے چلانے میں اور ابر میں جو آسمان وزمین کے درمیان (خدا کے حکم سے) گھرا رہتا ہے (ان سب باتو ں میں) عقل والو ں کے لئے (بڑی بڑی) نشانیاں ہیں۔“

( إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّهَارِ لَآیَاتٍ لِاٴُولِی الْاٴَلْبَابِ ) ( ۸ )

”اس میں تو شک ہی نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے پھیر بدل میں عقلمندوں کے لئے (قدرت خدا کی) بہت سی نشانیاں ہیں“

قارئین کرام ! درج ذیل تمام قرآنی آیات خداوندعالم کے وجود پر دلالت کرتی ہیں بشرطیکہ خلقت انسان او ردیگر مخلوقات کی پیچیدگیوں اور دوسرے امور میں توجہ کی جائے کیونکہ یہ تمام مخلوق بغیر کسی قادر کی قدرت اور بغیر کسی خالق کے ارادہ کے وجود میں نہیں آسکتی۔

ارشاد خداوندعالم ہوتا ہے:

( اٴَفَرَاٴیْتُمْ مَا تُمْنُوْنَ اٴَ اٴَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهُ اٴَمْ نَحْنُ الْخَالِقُوْنَ ) ( ۹ )

”جس نطفہ کو تم (عورتوں کے ) رحم میں ڈالتے ہو کیا تم نے دیکھ بھال لیا ہے؟ کیا تم اس سے آدمی بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں؟“

( فَلْیَنْظُرِ الاٴنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِنْ مَّاءٍ دَافِقٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ ) ( ۱۰ )

”تو انسان کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے پیدا ہوا ہے؟ اچھلتے ہوئے پانی (منی) سے پیدا ہوا جو پشت اور سینے کی ہڈیوں کے بیچ سے نکلتا ہے۔“

( اٴَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اٴَمْ هُمُ الْخَالِقُوْنَ ) ( ۱۱ )

”کیا یہ لوگ کسی کے (پیدا کئے ) بغیر پیدا ہوگئے ہیں یا یھی لوگ (مخلوقات کے) پیدا کرنے والے ہیں؟“

( وَمِنْ آیَاتِه اَنْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اٴَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ ) ( ۱۲ )

”اور اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ،پھر یکایک تم آدمی بن کر (زمین پر) چلنے پھرنے لگے“

( وَاللّٰهُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمِّهَاتِکُمْ لاٰ تَعْلَمُوْنَ شَیئًا وَجَعَلَ لَکُمْ السَّمْعَ وَالاٴبْصَارَ وَالاٴَفْئِدَةَ ) ( ۱۳ )

”اور خدا ہی نے تمھیں تمھاری ماو ں کے پیٹ سے نکالا (جب) تم بالکل نا سمجھ تھے او رتم کو کان دئے آنکھیں (عطا کیں) اور دل عنایت کئے“

تو کیا انسان کی یہ عجیب وغریب خلقت اور دوسرے شواہد خداوندعالم کے وجود پر دلالت نہیں کرتے ؟!!

سائنس کے نظریات

جیسا کہ آج کا سائنس کہتا ہے :

”انسان کا اصل وجود ایک خَلیہ " Cell "(جسم کا مختصر ترین حصہ)سے ہوا ہے او ریھی ایک خلیہ" Cell " ہر مخلوق کی بنیاد ہے اورھر خلیہ ایک باریک پردہ میںلپٹا ہوا ہوتا ہے (جو غیر جاندار ہوتا ہے) اور یھی پردہ، خلیہ کی شکل وصورت کو محدود کرتا ہے، پھر اس پردہ کے اندر سے خلیہ کا احاطہ کرلیتا ہے ایک اور جاندار پردہ، جو نھایت صاف و شفاف اور رقیق ہوتا ہے اور یھی وہ پردہ ہے جو خلیہ میں دوسرے جزئیات کو داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے اور بعض جزئیات کو اس سے خارج ہونے کا حکم دیتا ہے۔

اس کے بعد اس میں مختلف قسم کے لاکھوں کیمیاوی " Chemistry " (کیمسٹری) اجزاء پائے جاتے ہیں لیکن یہ اجزاء بہت ہی محدود ہوتے ہیں ، چنانچہ ان میں سے بعض تو اتنے نازک ہوتے ہیں کہ صرف دوذرّوں والے ہوتے ہیں (جیسے کھانے کا نمک) اور بعض تین ذرووں والے ہوتے ہیں (جیسے پانی کے اجزاء) اور بعض چار، پانچ، دس، سو اور ہزار اجزاء والے ہوتے ہیں جبکہ بعض لاکھوں ذرات سے تشکیل پاتے ہیں (جیسے پروٹن " Proten " اور وراثتی " Geneticcs "اجزاء)

اسی طرح ہزاروں قسم کے اجزاء کا سلسلہ جاری رہتا ہے جن میں سے انسانی حیات کے لئے بعض قسم کے اجزاء پیدا ہوتے ہیں اور بعض ختم ہوجاتے ہیں اور یہ سب ایک دقیق کیمیاوی مشین کے ذریعہ فعالیت جاری رکھتے ہیں جن کے سامنے انسانی فکردنگ رہ جاتی ہے۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہم اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ پروٹن کا ایک چھوٹا سا جز بھی بنالیں،جبکہ خود خلیہ کے اندر چندسیکنڈ کے اندر بن جاتا ہے۔

اور صرف پروٹن ہی نہیں ہیں بلکہ کیمیاوی مختلف عملیات ہیں جو بہت زیادہ دقیق ، نظام دقیق خلیہ اور اس کی ہیئت کے قانون کے زیر نظر جاری ہوتی ہے ، اور اسی کو خلیہ کا کیمیاوی ادارہ کھا جاتا ہے۔

اسی خلیہ اوراس پر حاکم ادارہ کے اندر بہت سے اہم امور تشکیل پاتے ہیں۔ چنانچہ اس خلیہ میں دو جزء پائے جاتے ہیںجو دونوں اس کی زندگی میں بہت قیمتی جزء ہوتے ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں:

پہلا : حامض ہے، جس کو ”حامض ڈی اوکسی ریبو نیوکلیک“ " Deoxy Ribonuclec acid "کھا جاتا ہے جس کا مخفف " h.d,n "هوتا ہے۔

دوسرا: حامض اس کو ”حامض ریبو نیو کلیک “ " Ribonuclec Acid "کھا جاتا ہے اوراس کا مخفف ”ح۔ر۔ن“ " h.r.n "هوتا ہے۔

لیکن ”ح۔ ڈ ۔ ن“ ، ” ح۔ر۔ن“سے بہت زیادہ شباہت رکھتا ہے صرف تھوڑا سا فرق ہے لیکن یہ کیمیاوی فرق ہی عالم خلیہ " Cells "میں اصل ہے مثلاً وراثتی " Geneticcs " اجزاء میں ”ح۔ ڈ ۔ ن“ھی اصل ہے اور ”ح۔ر۔ن“کا درجہ اس سے کم ہے۔

لہٰذا خلیہ کی زندگی اسی طریقہ ”ح۔ ڈ ۔ ن“ھی کی وجہ سے یہ اجزاء بڑھتے ہیں اور ان ہی کی وجہ سے اصل کے مطابق شکل وصورت بنتی ہے چنانچہ اس کے تحت کروڑوں سال سے انسان کی شکل وصورت اسی طریقہ پر ہوتی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، اسی طریقہ سے گدھا اور مینڈھک میں بھی ہیں کہ وہ اسی طرح کی شکل وصورت رکھتے ہیں اورا نہیں اپنے اپنے خلیوں کی بنا پر انسان بنتا ہے ، گدھا اور مینڈھک بنتا ہے او رھر مخلوق کی تمام صفات انھیں ”ح۔ ڈ ۔ ن“کی بنا پر بنتی ہیں۔

اور یھی ”ح۔ ڈ ۔ ن“ ”ح۔ ر۔ ن“کو دوسرے اجزاء کے بنانے کے لئے معین کرتے ہیں تاکہ چھوٹے چھوٹے وہ اجزاء جن پر فعالیت کرنا اس ”ح۔ ڈ ۔ ن“کی شایان شان نہیں ہے ان ”ح۔ر۔ن“ فعالیت انجام دیں اور یہ ”ح۔ ر ۔ ن“چھوٹے چھوٹے اجزاء پر حکومت کرتے ہیں یھاں تک کہ ان اجزاء کی تعداد اس قدر زیادہ ہوجاتی ہیں جو معمہ کی شکل بن جاتی ہے۔

چنانچہ اس ایک خلیہ" Cell " کی ترکیب وترتیب سے انسان بنتا ہے اور انھیں سے انسان کے تمام اعضاء وجوارح بنتے ہیں اس کی وجہ سے بعض انسان پستہ قد اور بعض دیگر لوگ بلند قد ہوتے ہیں بعض کالے اور بعض گورے ہوتے ہیں، در حقیقت انسان کی حیات اسی خلیہ کی بنا پر ہوتی ہے،جبکہ آج کا سائنس اس ترکیب کو کشف کرسکتا ہے اس کی حرکت کا مقایسہ کرسکتا ہے اور اس کے مادہ کی تحلیل اور طریقہ تقسیم کو معلوم کرسکتا ہے لیکن اس میں چھپے حیاتی اسرار کو جاننے والے ماھرین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ کام صرف اور صرف خداوندعالم کی ذات کا ہے۔

چنانچہ شکم مادر میں جو بچہ ہوتا ہے کس طرح اپنی غذا حاصل کرتا ہے، کس طرح سانس لیتا ہے اور کس طرح اپنی حاجت کو پورا کرتا ہے ،کس طرح اپنے اندر موجود اضافی چیزوں کو باھر نکالتا ہے اور کس طرح اپنی ماں کے شکم سے جڑا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ غذا حاصل کرکے اپنی آخری منزل تک پهونچتا ہے، کیونکہ بچہ کی غذا اس تک پهونچنے سے پہلے کس طرح تیار ہوتی ہے اور اس تک پهونچتی ہے یا جو غذا اس کے لئے باعث اذیت ہوتی ہے کون سی چیز اس تک پهونچنے میں مانع ہوتی ہے؟!

اور جب حمل (بچہ) اپنی آخری منزل پر پهونچ جاتا ہے تو پھر وہ کثیر غدد (رحم مادر)سے جدا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ غدد مختلف اغراض کے لئے ہوتے ہیں ان میں سے بعض تو وہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے رحم کھلتا او ربند ہوتا ہے ان میں ہی سے بعض وہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بچہ پیر پھیلاسکتا ہے اور انھیں میں سے بعض وہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بچہ کی پیدائش طبیعی طور پر ہونے میں مدد ملتی ہے۔

اور چونکہ پستان بھی ایک غدہ ہے اور جب حمل پورا ہوجاتا ہے تو پھر اس میں دودھ پیدا ہوجاتا ہے جو ھلکے زرد رنگ کا ہوتا ہے اور واقعاً یہ عجیب چیز ہے کہ یہ دودھ ایسے کیمیاوی اجزا سے بنتا ہے جو بچے کو بہت سی بیماریوں سے بچاتا ہے لیکن یہ ولادت کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے اور واقعاً نظام قدرت کس قدر عظیم ہے کہ پستان مادر میں ہر روز اس دودھ میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اس دودھ کے اجزاء میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے کیونکہ شروع میں یہ پانی کی طرح ہوتا ہے جس میں اجزاء رشد اور شکر کم ہوتی ہے لیکن (بچہ کی ضرورت کے تحت) اس میں اجزاء رشد ونمو ، شکر اور چربی بڑھتی رہتی ہے۔

اور جب بچہ بڑا ہوجاتا ہے تواس کے منھ میں دانت نکلنا شروع ہوتے ہیں کیونکہ اس وقت بچہ کچھ کھانا کھاسکتا ہے چنانچہ انھیں دانتوں کو خدا کی نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ بھی مختلف طریقہ کے ہوتے ہیں کچھ کھانا کاٹنے کے لئے ہوتے ہیں تو کچھ چبانے کے لئے اور ان میں چھوٹے بڑے بھی ہوتے ہیں تاکہ کھانے کو اچھی طرح چبایا جاسکے، اگرچہ بعض ماھرین نے انسان کے مصنوعی دانت بنالئے ہیں یا دانتوں میں تبدیلی کے طریقے بنالئے ہیں لیکن وہ بھی خدا کی قدرت کا اقرار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسان کے اصلی دانت ہی طبیعی نظام کو مکمل کرسکتے ہیں اگرچہ انھوں نے طبیعی دانتوں کی طرح مصنوعی دانت بنالئے ہیں ۔

اسی طرح جب بچہ کا دودھ چھڑایا جاتا ہے اور وہ کھانا کھانا شروع کردیتا ہے تو خداوندعالم کی بہت سی نشانیاں ظاہر ہونے لگتی ہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کے اندر کتنی عجیب خلقت ہے جو انسان کی زندگی کو محفوظ کرتی ہے، مثلاً انسان کے منھ میں تین راستہ ہوتے ہیں ایک ناک والا، ایک سانس والا اور ایک حلق والا راستہ ہوتا ہے۔

چنانچہ آج کا علم طب کہتا ہے کہ اگرکچھ گرد وغبار سانس والے راستہ سے جانا چاھے تو وہ خود بخود رک جاتا ہے اس طرح سانس والے راستہ سے غذا بھی نہیں جاسکتی جبکہ یہ سب راستے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوتے ہیں اور اگر غبار کا ایک ذرہ بھی (کھانے پینے کی چیزیں تو دور کی بات ہے) سانس والی نالی میں پهونچ جائے تو انسان فوراً مر جائے گا اور اس کام کے لئے ”چھوٹی زبان“ کا کردار عجیب وغریب ہے جو کھانے کے راستہ سے صرف غذائی چیزوں ہی کو جانے دیتی ہے اور اس زبان کی خلقت کتنی عجیب ہے کہ دن میں سیکڑوں مرتبہ انسان کھاتاپیتا ہے لیکن کبھی بھی یہ زبان غلطی نہیں کرتی بلکہ غذا کو اپنے مخصوص راستہ ہی سے اندرجانے دیتی ہے۔

اس کے بعد اس غذا کے ھاضمہ کی بات آتی ہے تو واقعاً کتنے منظم اور دقیق لحاظ سے یہ کھانا ہضم ہوتا ہے کیونکہ ایک خاص مشین کی دقیق فعالیت کے ذریعہ کھانا ہضم ہوتا ہے جو اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ اس بہترین نظام کو خلق کرنے والی اللہ کی ذات ہے۔

کیونکہ انسان دن بھر مختلف چیزیں کھاتا ہے چاھے وہ بہنے والی ہوں یا منجمد (جمی ہوئی)، سخت ہوں یا نرم، ھلکی ہو ں یا بھاری، کڑوی وتیز ہوں یا میٹھی، ٹھنڈی ہوں یا گرم یہ سب کی سب صرف ایک ہی چیز اور ایک ہی طریقہ سے ہضم ہوتی ہیں کیونکہ اس غذا پر ایک ترش (کڑوے) قسم کے غدہ سے کچھ رس نکلتا ہے جو اس غذا کو ہضم کرتا ہے او راگر یہ رس ذرا بھی کم ہوجائے تو غذا ہضم نہیں ہوگی اور اگر تھوڑا بھی زیادہ ہوجائے تو انسان کا جسم جلنے لگے او رپورے بدن میں سوزش ہونے لگے۔

اور جس وقت غذا منھ میں رکھی جاتی ہے تو ھاضمہ سسٹم کا پہلا کام شروع ہوجاتا ہے کیونکہ یہ غذا لعاب دہن سے مخلوط ہوتی ہے اور لعاب لعابی غدود سے نکلتا ہے جو کھانے کوہضم کرنے کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ جس طرح یہ لعاب کڑوی ، تیز اور تکلیف دہ چیزوں کے اثر کو ختم کرنے میں اصلی عامل ہے، اور اسی کی وجہ سے کھانے کے درجہ حرارت کو کم کیا جاتا ہے اور ٹھنڈی چیزوں کی ٹھنڈک کو کم کیا جاتا ہے چاھے وہ برف ہی کیوں نہ ہو،بھرحال جب یہ غذا دہن میں اپنے لعاب کے ذریعہ خوب چباکر مھین کرلی جاتی ہے تووہ پھر وہ آہستہ آہستہ حلق تک پهونچتی ہے اس کے بعد آنتوں کے ذریعہ معدہ تک پهونچتی ہے، اور یہ معدہ ”کلور وڈریک حامض“ جدا کرتا ہے، کیونکہ یہ کلور معدہ سے خاص نسبت رکھتا ہے اور اس کی نسبت ہزار میں چار یا پانچ ہوتی ہے، اور اگر اس حامض کلورکی نسبت زیادہ ہوجائے تو پھر پورا نظام معدہ جل اٹھے گا،چنانچہ یھی کلور حامض مختلف اجزا میں جدا ہونے کے بعد کھانے کو اچھے طریقہ سے ہضم کردیتا ہے، لہٰذا یہ آنتوں کا عصارہ اور عصارہ زردنیز ”بنکریاس“ وغیرہ یہ تمام عصارات اس غذا سے ملائمت رکھتے ہیں۔

اسی طرح آج کاسائنس یہ بھی کہتا ہے کہ وہ پانی جو معدہ او رآنتوں سے نکلتا ہے اس طرح وہ پانی جو ان کے پردوں میں ہوتا ہے یہ دونوں ان اہم عاملوں میں سے ہیں جو مختلف قسم کے مکروب" Microbe سے لڑتے ہیں کیونکہ جب یہ عصارات (پانی) نکلتے ہیں تو دوسرے قسم کے پانی ان دونوں کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملنے نہیں دیتے یھاں تک وہ فضلہ کے ساتھ انسان سے خارج ہوجاتے ہیں۔

چنانچہ ابھی چند سال پہلے تک یہ بات معلوم نہیں تھی کہ ان ”صمّاء غدوں“ (بھرے غدوں) کاکیا کام ہے۔

او رکیمیاوی چھوٹے عامل جسم کی ضروری ترکیبات کو پورا کرتے اور ان کے کروڑوں اجزاء ہوتے ہیں، اور اگر ان میںسے کوئی ایک جزء بھی ناکارہ ہوجائے تو انسان کا پورا جسم متاثر ہوجاتا ہے کیونکہ ان غدوں سے نکلنے والا پانی جو ایک دوسرے کی تکمیل کا باعث ہوتا ہے ،چنانچہ ان میں ذرا سا بھی اختلال، انسان کے لئے خطرہ جان بن جاتا ہے۔

اور واقعاً یہ بھی عجیب بات ہے کہ آج کا سائنس اس نتیجہ پر پهونچ چکا ہے کہ انسان کے جسم میں موجود انتڑیاں ساڑھے چھ میٹر کی ہوتی ہیں او ران کے اندر دو طرح کی حرکت ہوتی ہے:

۱ ۔ ”حرکت خلط“ جس کے ذریعہ کھانے کو اچھی طرح باریک کیا جاتا ہے اور آنتوں میں موجود مختلف قسم کے عصارات سے وہ کھانا بالکل ہضم ہوجاتا ہے۔

۲ ۔ ہضم شدہ کھانے کو جسم کے مختلف اعضاء تک پهونچانا اور آنتوں میں جس وقت کھانا ہضم ہوتا ہے تویہ کھانا دوحصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے ہضم شدہ کھانا (غذائیت) اور غلاظت، لہٰذا اس حرکت کی بنا پر انسان کے جسم سے صرف غلاظت باھر نکلتی ہے جس کے باقی رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا (بلکہ نقصان ہوجاتا ہے)

اسی انسان کے جسم میں ان پیچیدہ مختلف کیمیاوی مادوں کے علاوہ دوسرے” میکروب “ " Microbe "، جراثیم" Virus " اور باکٹریا " Bacteria " بھی ہوتے ہیں جیسا کہ ماھرین علم کا کہنا ہے کہ اگر میکروب اور جراثیم میں کسی قسم کا کوئی اضافہ ہوجائے یا ان میں سے کوئی اپنا کام کم کرنے لگے یا ان کا تناسب کم وزیاد ہوجائے تو انسان ھلاک ہوجاتا ہے۔

اور یھی غدّے اور ان سے نکلنے والا مختلف قسم کا پانی ہی آٹومیٹک طریقہ سے کھانے کو مشکل سے آسان ، سخت سے نرم اور نقصان دہ سے فائدہ مند بنادیتے ہیں چنانچہ ماھرین علم نے معدہ کے اندر ان میکروب اور جراثیم کی تعداد ایک مربع سینٹی میٹر( C.M ) میں ایک لاکھ بتائی ہے ۔

اسی طرح ہمارے پورے جسم پرجو کھال ہوتی ہے اس کے اندرایسے سوراخ ہوتے ہیں جن کے ذریعہ بدن سے فاضل پانی (پسینہ) نکلتا ہے لیکن قدرت کانظام دیکھئے کہ اس کھال کے سوراخوں سے باھر کا پانی اندر نہیں جاتا اور چونکہ فضا میں موجود جراثیم جب اس کھال کے اوپر حملہ آور ہوتے ہیں تو یھی کھال ان کو مار ڈالتی ہے اور جب بیرونی جراثیم اس کھال پر غلبہ پانا چاہتے ہیں اور منطقہ جلدکو اکھاڑپھینکنا چاہتے ہیں تو یھاں پر ایک جنگ کا دور شروع ہوجاتا ہے اور اس جگہ نگھبان جراثیم جو جلد کی حفاظت کی خاطر پائے جاتے ہیں وہ جلدی سے اس جنگ کے موقع پر حاضر ہوجاتے ہیں اور اپنے دشمن کے اردگرد ایک مضبوط حصار بنادیتے ہیں اس کے بعد یاتویہ ان باھری جراثیم کو جسم سے دور کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں یا پھر ہمارے جسم کا نگھبان جراثیمی گروہ حملات کی تاب نہ لاکر موت کے گھاٹ اترجاتا ہے لیکن فوراً اس کے بعد جسم کا نگھبان دوسراگروہ حاضر ہوجاتا ہے اور وہ بھی بیرونی جراثیم سے مقابلہ کرنا شروع کردیتا ہے اور جب یہ گروہ بھی تاب مقاومت کھوبیٹھتا ہے تو پھر تیسرا گروہ آتا ہے اسی طریقہ سے یکے بعد دیگرے بیرونی جراثیم سے مقابلہ کرنے کے لئے جسم کے نگھبان گروہ آتے رہتے ہیں یھاں تک کہ یہ نگھبان گروہ بیرونی جراثیم کوشکست دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، اور یہ جسم کے نگھبان گروہ خون کے ذرات ہوتے ہیں ، جن کی تعداد تقریباً تیس ہزار بلین" Billion" (۳۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰ ,) ہوتی ہے جس میں کچھ ذرے سفید ہوتے ہیں اور کچھ سرخ۔

چنانچہ جب آپ کھال کے اوپر کسی سرخ پھنسی کو دیکھیں کہ جس کے اندر پیپ پیدا ہوچکا ہے تو سمجھ لیں کہ وہ گروہ جوجسم کی حفاظت کے لئے مامور تھا وہ اپنے دشمن سے مقابلہ کرنے میں مرجاتا ہے کیونکہ یہ اپنے وظیفہ کی ادائیگی میں مارا گیا ہے اور یہ پھنسی کے اندر جو سرخی ہے یہ خون کے وھی ذرات ہیں جو اپنے خارجی دشمن کے سامنے ناکام ہونے کی صورت میںپھنسی کی شکل میں پیدا ہوگئے ہیں۔

اسی طرح اگر ہم کھال پر تھوڑی سی دقت کریں تب ہمیں اس کی عجیب خلقت کا احساس ہوگا کیونکہ جب انسان اس خلقت پر توجہ کرتا ہے تو یھی انسان کا سب سے بڑا عضو دکھائی دیتا ہے چنانچہ ایک متوسط قامت انسان کی کھال تقریبا تین ہزار بوصہ (دو میٹر) ہوتی ہے اور ایک مربع بوصہ میں دسیوں چربی کے غدے اور سیکڑوں عرق کے غدے اور سیکڑوں عصبی خلیے " Cells " ہوتے ہیں جن میں چند ہوائی دانہ ہوتے ہیں اور ملیونوں خلیے ہوتے ہیں۔

اور اس کھال کی ملائمت اور لطافت کے بارے میں اگر ہم بات کریں تو اس کو ہماری آنکھیں جس طریقہ سے دیکھ رھی ہیں در حقیقت یہ کھال ویسی نہیں ہے بلکہ اگر اس کو میکرواسکوپ" Maicroscope " کے ذریعہ دیکھیں تو یہ کھال اس سے کھیں زیادہ فرق رکھتی ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، چنانچہ جب ہم اس میکرواسکوپ کے ذریعہ دیکھیں گے تو اس کے اندربہت سے ابھاراور بہت سے گڑھے نظر آئیں گے جیسے بال کی جڑوں کے سوراخ، جن کے اندر سے روغن نکلتا ہے تاکہ ہماری کھال کی سطح کو چربی مل سکے، اور انھیں جڑوں کے ذریعہ پسینہ نکلتا ہے اور یہ پسینہ وہ سسٹم ہے کہ جب درجہ حرارت شدید ہوتا ہے تو جلد کو شدت گرمی سے محفوظ رکھتا ہے۔

اسی طرح اگر آپ کھال کے باھری حصہ کو میکرواسکوپ کے ذریعہ مشاہدہ کریں تو اس میں واضح طور پر ان اسباب کو دیکھیں گے جن کی وجہ سے کوئی چیز باھر نکلتی ہے، جس طرح پھاڑوں، پتھروں وغیرہ میں ہوتے ہیں۔

اسی طرح ہمارے جسم کی کھال کجھلانے یا دھونے سے بعض چیزیں خارج ہوتی ہیں، اور اس کھال سے بعض مواد کے خارج ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کھال پر ایک باریک پردہ پیدا ہوتا ہے جس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن اگر اس کو میکرواسکوپ کے ذریعہ دیکھیں تو گویا بہت سے مردہ خلیے ہیں جو اپنی اصلی حالت کو کھوبیٹھے ہیں، چنانچہ ہر روز اسی طرح ہماری کھال پر ہزاروں باریک باریک پردہ بدلتے رہتے ہیں ،لیکن اگر یھی مردہ کھال تبدیل نہ ہو تو انسان کی صورت مسخ شدہ حیوان کی طرح دکھائی دے، لہٰذا ان مردہ خلیوں او رمردہ کھال کے لئے ضروری ہے کہ یہ تبدیل اور تعویض ہوتی رھے، تاکہ ان مردہ کھال کی جگہ نئی کھال آجائے، اور یہ سلسلہ اس زندگی میں چلتا رہتا ہے ، بھر کیف ہر جسم کے لئے اسی طرح کی کھال کا بدلتے رہنا ضروری ہے گویا یہ خلیوں کا ایک طبقہ ہوتا ہے، جبکہ کھال کے اندر سے ان کی غذا ان تک پهونچتی رہتی ہے تاکہ دن میں لاکھوں خلیے بنتے رھیں اور مردہ ہوکر باھر نکلتے رھیں۔

اسی طرح ہمیں انسان کے جسم کے بارے میں بھی توجہ کرنی چاہئے !کیونکہ اسی انسان کے کان کے ایک جز میں ایسا سلسلہ ہوتا ہے جو چار ہزارباریک اور ایک دوسرے سے بندھے ہوئے قوس(کمان) سے بنتا ہے، جو حجم اور شکل وصورت کے لحاظ سے ایک عظیم نظام کی نشاندھی کرتا ہے۔

چنانچہ ان کو دیکھ کر یہ کھا جاسکتا ہے کہ گویا یہ ایک آلہ موزیک ہے کیونکہ ان ہی کے ذریعہ انسان کی سنی ہوئی باتیں عقل تک پهونچتی ہیں ، چاھے وہ معمولی آواز ہو یا بجلی کی آواز سبھی کوعقل انسانی سمجھ لیتی ہے کہ یہ کس چیز کی آواز ہے۔

اسی طرح انسان میں عجیب وغریب گذشتہ چیزوں کے علاوہ دوسری چیزیں بھی موجود ہیں جیسے قوت سامعہ (کان)، قوت باصرہ، (آنکھ) قوت شامہ (ناک) اور انسانی ذوق، انسان کی ہڈیاں، رگیں، غدے، عضلات ونظام حرارت وغیرہ۔

المختصر یہ کہ طرح انسانی وجود میں ہزاروں دلیلیں موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انسانی جسم کا یہ نظام ایک اتفاق نہیں ہے اور نہ ہی اتفاقی طور پر پیدا ہوگیا ہے اور نہ ہی ”بے جان مادہ“ کی حرکت کا نتیجہ ہے (جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں)۔

ہم اس سلسلے کی اپنی بحث کے اختتام پر سائنس کے کشف شدہ نتیجہ پر ختم کرتے ہیں جو کہتا ہے کہ انسان کے جسم میں ایک عجیب وغریب سسٹم ہے جس کو ”کروموسوماٹ“ " Chromosomic " کھا جاتا ہے۔

کیونکہ ”کروموسوماٹ“ بہت ہی دقیق اور باریک ریشہ ہوتا ہے جس کی تشکیل ایسے ذرات کرتے ہیں جن پر ایک باریک پردہ ہوتا ہے اور وہ اپنے اطراف کی تمام چیزوں سے جدا ومحفوظ رہتا ہے، گویا یہ باریک ریشہ اپنے اس مقصد کے تحت اپنا پورا کام بغیر کسی رکاوٹ کے انجام دیتا رہتا ہے، لیکن یہ باریک پردہ دوسرے کیمیاوی مرکبات سے مل کر بغیر کسی رکاوٹ کے رشد ونموکرتے ہیں،جو”سیٹوپلازم“ " Cytoplasm "سے اس باریک پردہ کی طرف مندفع ہوتے ہیں، تاکہ ان کیمیاوی مرکبات کے ذریعہ ”کروموسوماٹ“ سے اجزاء تشکیل پائیں، اور زندگی کے مورد نیاز عناصر کی تخلیق ہوسکے۔

کیونکہ کروموسوماٹ کی ترکیب " D.N.A "کے اجزاء سے ہوتی ہے جس کو ” وراثتی " Geneticcs "“ اجزاء بھی کھا جاتا ہے،اس کی وجہ سے انسان لمبا اور ناٹا ہوتا ہے اور اسی کی بنا پر انسان کے جسم، آنکھ اور بالوں کا رنگ تشکیل پاتا ہے اور ان تمام سے بالا تر انسان کی آدمیت تشکیل پاتی ہے اور انھیں وراثتی اجزاء کی بناپر گھوڑے سے گھوڑا ہی پیدا ہوتا ہے او ربندر سے بندر، چنانچہ اسی کے باعث ہر مخلوق اپنی خاص شکل وصورت پر پیدا ہوتی ہے اور کروڑوں سالوں سے ہر مخلوق اپنی گذشتہ صنف کے مشابہ پیدا ہوتی ہے، چنانچہ کبھی آپ نے یہ نہ دیکھا ہوگا کہ کسی انسان سے گدھا متولد ہوا ہو، یا کسی گدھے سے بندر پیدا ہوا ہو؟! اور کسی درخت سے پھولوں کی جگہ پرندے پیدا ہوئے ہوں؟!!۔

کیونکہ یہ تمام صفات " D.N.A "کی بناپر ہوتے ہیں۔

اوران ”جزی “(اجزاء)کی تشکیل کا طریقہ کار بہت ہی عمدہ اور بہترین ہے ،اور یہ گول قسم کے ہوتے ہیں اور باہم ملے ذرات سے مل کر کبھی تو ”ریبوز“ نامی سوگر " Sugar "پیدا ہوتی ہے ، جس کا پتہ ماھرین آج تک نہیں لگاپائے کہ کھاں سے آتی ہے او رکیسے پیدا ہوتی ہے، اور ریبوز”فاسفیٹ“" Phoohate " کے ذرات سے مرتبط ہے،اور یہ عمل کروڑوں مرتبہ تکرار ہوتا ہے فاسفیٹ اور شوگر کے درمیان،اور اس کا ہمیشہ ایسے عمل کرتے رہنا ضروری ہے۔

چنانچہ اس شکل کے درجات کیمیاوی ماھرین کے تعریف سے کھیں زیادہ قیمتی ہیں، جو چار قوانین کے تحت تشکیل پاتے ہیں:

۱ ۔”آڈنین“۔

۲ ۔”ثمین“۔

۳ ۔”غوانین“

۴ ۔”سیٹوسین“

یھاں پرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان میں کا پہلا تیسرے سے یاچوتھے سے کیوں نہیں بدلتا؟ اور کون ہے جو اس میں مانع ہے؟

لہٰذا اس کے منع میں دوران ہندسہ ، دوری اور زاویہ مانع ہوتے ہیں کیونکہ ان میں سے ھرایک کے لئے محدودیت ہے جو ان میں سے دوسرے کے علاوہ صرف ایک میں حلول کرتا ہے۔

اور شاید یہ عظمت اور خوبصورتی کے بہترین عکاس ہیںجو ان عملیات میں جو ایک نئے جز کے بنانے کے وقت آپ مشاہدہ کریں، چنانچہ یہ دائرہ نما شکل اپنے اطراف میں ملیونوںالٹے چکر لگاتی رہتی ہے جو آخر میں ایک بغیر بنی رسی نما بن جاتی ہے ، چنانچہ آج کا سائنس ابھی تک اس بات کو کشف کرنے سے عاجز ہے کہ اس میں ایسی طاقت کھاں سے آئی ؟!

اسی طرح کسی قادر کی قدرت کے ذریعہ اس چیز میں دو شگاف ہوجاتے ہیں وہ بھی اس طرح جیسے کسی آری سے دوٹکڑے کردئے گئے ہوں، اور ملیونوں مرتبہ یہ شگاف پیدا ہوتا ہے تب جاکے کھیں اس ذرہ کی پیدائش ہوتی ہے، اور پھر اس پردہ کی طرف سے جزئیات کے اندر یا شوگر، فوسفات، آڈینین، ثیمین، غوانین اور سیٹوسین کے اندر داخل ہوتا ہے ، اور یہ تمام سوائے فوسفات کے علاوہ جادوئی طریقہ سے بن جاتے ہیںاس کے بعد اپنی شکل کے اطراف میں گھومنے لگتے ہیں، جبکہ ان میں سے بعض تو اس شکل کے دوسری (بیرونی) طرف گھومتے ہیں جن کی وجہ سے شوگر اور فوسفات بنتے ہیں اور ان سب سے مل کر اس کے دوبڑے جزء بنتے ہیں ، اور اس کے بعد ان عملیات کی دس کروڑبار تکرار ہوتی ہے تب جاکے ایک شکل بنتی ہے اور پھر دسیوں کروڑ بار یہ عملیات جاری ہوتے ہیں اسی طریقہ سے اس کی شکلیں بنتی جاتی ہیں تاکہ پروٹن کے ذرات تشکیل پائیں۔

جبکہ D.N.A کے اجزاء انسان سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ یہ تمام زندہ چیزوںکے مکروب سے لے کر حشرات او رھاتھی وغیرہ میں بھی پائے جاتے ہیں اور یھی اساسی او ربنیادی اجزاء ہیں جن کی بنا پرحیات مکمل ہوتی ہے۔

حالانکہ علم کیمیاء نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ وہ قواعد جن کی بنا پر تمام چیزوں میںجو لازمی اجزاء ہوتے ہیں تو وہ تمام کائنات میں ان کی ترکیب میں اختلاف نہیں ہوتا، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تمام کائنات کی چیزیں ایک دوسرے سے الگ کیوں ہیں؟!!

چنانچہ بعض ماھرین نے اس اختلاف کی وجہ یہ بتائی ہے کہ D.N.A .کے اجزاء کی مقدار اور گذشتہ چار قواعد کی بنا پر ان تمام چیزوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

لیکن کسی بھی ماھر نے کوئی ایسی مطمئن بات نہیں بتائی جس کوانسان قبول کرسکے۔

کیونکہ جن ماھرین نے حیات کے اسرار کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھیں ہیں ان سب میں ”شاید“ ، ”بالفرض“ ،”بسااوقات“ جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں مثلاً شاید اس کی وجہ یہ ہے ،بالفرض اس کی وجہ یہ ہو، جو اس بات پر بہترین دلیل ہے کہ وہ ابھی تک حیاتی اسرار سے پردہ نہیں اٹھاپائے ہیں۔

کیونکہ اس شکل میں کروموساٹ ہوتے ہیںاور کروموساٹ ژین اور وراثتی اجزاء بنتے ہیں ، اور یہ وراثتی اجزاء D.N.A .کے اجزاء سے بنتے ہیں اور یہ D.N.A .جزئیات سے بنتے ہیں اور یہ جزئیات چھوٹے چھوٹے ذرات سے بنتے ہیں، گویا یہ ایک ایسی عمارت ہے جس کے اندر ایک کمرہ اس کمرہ میں ایک اور کمرہ اور اس کمرہ میں ایک اور کمرہ۔۔۔۔۔۔


3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16