اصول دین

اصول دین12%

اصول دین مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اصول دین
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 28 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 27992 / ڈاؤنلوڈ: 4374
سائز سائز سائز
اصول دین

اصول دین

مؤلف:
اردو

1

پہلا معجزہ: قرآن مجید ۔

دوسرے معجزات: جن کا اس وقت کے مسلمانوں نے مشاہدہ کیا ہے اور ان کی تعدا دبھی بہت زیادہ ہے، اوروہ متواتر طریقوں سے نقل بھی ہوئے ہیںنیز ان کے بارے میںبہت سی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں،اور علماء حدیث نے بھی ان کو جمع کیا ہے او ریہ نقل وروایت کا سلسلہ آج تک جاری ہے اور ہر زمانہ میں جاری رھے گا۔ (انشاء اللہ)

اگرچہ بعض جاھل اور متعصب مولفین نے ان معجزات میں شک وتردید کی ہے اور بعض نے تو یہ بھی کہہ ڈالا کہ خود قرآن مجید میں ایسی آیات موجود ہیں جو قرآن کے علاوہ دوسرے تمام معجزات کی نفی کرتی ہیں اور یہ کہ صرف قرآن مجید ہی آپ کا واحد معجزہ ہے اور یہ وہ معجزہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے پیش کیا تاکہ اپنے دعوے کا ثبوت پیش کرسکیں۔

چنانچہ ان لوگوں نے اپنی دلیل کے طور پر درج ذیل آیت پیش کی جس میں ارشاد قدرت ہوتا ہے:

( وَمَامَنَعْنَا اَنْ نُرْسِلَ باِلْاٰیٰاتِ اِلاّٰ اَنْ کَذَّبَ بِهَا الاٴوَّلُوْنَ ) ( ۴۳ )

”اور ہمیں معجزات بھیجنے سے تو اس کے علاوہ اور کوئی وجہ مانع نہیں ہوئی کہ اگلوں نے انھیں جھٹلایا“

کیونکہ انھوں نے گمان کیا کہ اس آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمقرآن کریم کے علاوہ کوئی دوسری نشانی (معجزہ) لے کر نہیں آئے کیونکہ وہ نشانیاں جو گذشتہ امتوں پر نازل کی گئیںان لوگوں نے ان کو جھٹلایا (لہٰذا ہمارے پیغمبر کو وہ نشانیاں دے کر نہیں بھیجا گیا)

اس اعتراض کے جواب میں ہمارے استاد آیت اللہ العظمیٰ امام خوئی نے تفصیل کے ساتھ دندان شکن جواب دیا جس کا خلاصہ یہ ہے۔( ۴۴ )

”مذکورہ آیہ کریمہ میں جن آیات (نشانیوں) کا ذکر ہے او رجن کی نفی کی گئی ہے اور جن کو گذشتہ امتوں نے جھٹلایا ان سے مراد وہ نشانیاں ہیں جن کوگذشتہ انبیاء (ع) کے امتی اپنے نبی کے لئے

پیش کرتے تھے ، پس مذکورہ آیہ شریفہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اے نبی تم پر واجب نہیں ہے کہ مشرکین کی تراشیدہ شدہ نشانیوں کا جواب دو، اور یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے مطلق طور پر دوسرے معجزات کی نفی نہیں کرتی، اور اگر یہ طے ہو کہ کسی آیت (نشانی) کو جھٹلانے کی وجہ سے نشانیاں نہ بھیجی جائےں تو پھر تو قرآن کو بھی نہیں بھیجنا چاہئے تھا، کیونکہ بعض لوگوں نے تو اس کو بھی جھٹلایا اور یہ وجہ دوسری نشانیوں سے مخصوص کرنا صحیح نہیں ہے بالخصوص جبکہ قرآن مجید آنحضرت کے معجزات میں سے سب سے بڑا معجزہ ہے، لہٰذا ماننا پڑے گا کہ جن نشانیوں کی نفی کی ہے وہ ایک خاص قسم کی نشانیاں ہیں مطلق نشانیاں نہیں ہیں۔

اگر گذشتہ امتوں کا جھٹلانا اس بات کی صلاحیت رکھتا ہو کہ حکمتِ الٰھی اور نشانیاں نہ بھیجنے میں اثرانداز ہوتا تو پھر اس بات کی بھی صلاحیت رکھتا ہوگا کہ خدا ،رسولوں کونہ بھیجے (کیونکہ دنیا والوں نے نہ معلوم کن کن انبیاء کو جھٹلایا) اور جب یہ بات باطل او رمردود ہے توگذشتہ بات بھی باطل ہے۔

لہٰذا طے یہ ہوا کہ خداوندعالم نے جو اپنی نشانیاں نازل فرمائیں وہ طلب کرنے والوں کی طلب کے مطابق تھیں، اور یہ بات واضح ہے کہ وہ لوگ اتمام حجت کرنے والی نشانیوں کے علاوہ بھی دوسری نشانیاں طلب کرتے تھے،(گویا ان کا مقصد ایمان لانانھیں تھا بلکہ اس طرح کی نشانیوں کے مطالبہ کے بعد نبی کو عاجز کرنا ہوتا تھایھی وجہ تھی کہ طلب شدہ نشانیوں کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے تھے) اور جب یہ بات طے ہوگئی کہ معجزات دیکھنے کے باوجود بھی وہ ایمان نہیں لاتے تھے تو اب خدا پر لازم نہیں ہوتا کہ ان لوگوں کے معجزات طلب کرنے پر معجزات ظاہر کردےتا، اور اگر خداوندعالم ان میں مصلحت دیکھتا کہ یہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر ایمان لے آئیں گے تو حتماً ان کی طلب شدہ نشانیوں کو بھی نازل کردیتا۔

لہٰذا معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے مطالبات اتمام حجت کے بعد تھے اور سابقہ امتو ں کا جھٹلانا ہی سبب تھا کہ خداوندعالم اپنی نشانیوں کو نہ بھیجے کیونکہ ان نشانیوں کا جھٹلانا ان پر عذاب نازل ہونے کا سبب تھا لیکن امت محمدی پر خداوندعالم نے اپنے نبی کی خاطر لطف وکرم رکھا کہ اس امت سے اس طرح کی نشانیوں کا انکار کرنے والوں سے عذاب کو دور کیا، جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ہے:

( وَمَاکَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَاٴَنْتَ فِیْهِمْ ) ( ۴۵ )

”حالانکہ جب تک تم ان کے درمیان موجود ہو تو خدا ان پر عذاب نہیں کرےگا“

لیکن ان نشانیوں کو جھٹلانے والوں پر عذاب اخروی کیا جائے گا کیونکہ اگر خدا کی کوئی نشانی صرف کسی نبی کی نبوت کے صرف اثبات کے لئے تواس کی تکذیب پر کوئی اخروی عذاب نہیں ہوگا اور اگر عذاب ہوگا تو اس نبی کے جھٹلانے پر عذاب ہوگا۔

لیکن وہ آیات ونشانیاں جن پر لوگوں نے اصرار کیا اور ہٹ دھرمی کی اور ان کا مطالبہ کیا تو اگر وہ اس وجہ سے ہو کہ خدا کی پہلی نشانی کی تصدیق ہوسکے تاکہ اس نشانی کو دیکھ کر حق واضح ہوجائے اور جب ان کی طلب شدہ چیز کو نبی انجام کرکے دکھادے تو پھر ان پر اس نبی کی تصدیق کرنا ضروری ہوجاتا ہے او راگر اپنی طلب شدہ چیز کو دیکھ کر بھی اس نبی پر ایمان نہ لائے تویہ نبی اور حق کا مذاق اڑانا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید میں ایسی کوئی آیت نہیں ہے جو قرآن کے علاوہ دوسرے معجزات کی نفی کرتی ہو اگرچہ یہ بھی طے ہے کہ قرآن مجید ہمارے لئے عظیم دائمی اعجازھے، لیکن

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے دوسرے بھی بہت سے معجزات ہیں۔

قارئین کرام ! معجزہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے اصلی اور نقلی ہونے کو کوئی آسانی سے نہیں سمجھ سکتا جیسا کہ گذشتہ اعتراض سے ظاہر ہوتا ہے، بلکہ اس سلسلہ میں معلومات رکھنے والے علماء ہی سمجھ سکتے ہیں اور اس کی خصوصیات سے یھی افراد آگاہ ہوتے ہیں اور یھی لوگ تشخیص دے سکتے ہیں کہ نوع انسانی اس طریقہ کا کام انجام دینے سے قاصر ہے یا وہ اس طرح کا کام انجام دے سکتے ہیں اسی وجہ سے علماء ہی سب سے پہلے معجزات پر ایمان لاتے ہیں:

( اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰهَ مِنْ عِبَادِه الْعُلَمَاءُ ) ( ۴۶ )

”اس کے بندوں میں خدا کا خوف کرنے والے تو بس علماء (ھی) ہیں“

کیونکہ جاھل انسان صدق وکذب میں امتیاز نہیں کرسکتا او رجو لوگ جاھل ہیں اور جب تک اس علم کے مقدمات سے جاھل ہیںان پر باب شک کھلا رہتا ہے کیونکہ یہ لوگ احتمال دیتے رھیں گے کہ اس کام کے کرنے والے نے اس علم کے مقدمات کے ذریعہ یہ کام کردکھایا ہے اور یہ صاحبان علم کے لئے ایسا کام کرنا کوئی مشکل نہیں ہے، چنانچہ ان تمام احتمالات کی بنا پر اس معجزہ کی جلدی تصدیق نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے حکمت الٰھی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر نبی کا معجزہ اس کے زمانہ میں شایع شدہ علم کے مشابہ ہو، جس پر اس زمانہ کے علماء نے ممارست اور تمرین کی ہو اور اس جیسا عمل انجام دینے کی کوشش کی ہو تاکہ جلد ہی تصدیق کرسکےں اور حجت تمام ہوجائے۔

اسی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کرنے میں جلدی کی کیونکہ جناب موسیٰ (ع) کے معجزہ کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگالیا کہ جو کچھ حضرت موسیٰ (ع) نے انجام دیا وہ جادو گری نہیں ہے۔

اسی طرح نزول قرآن کے وقت چونکہ عربوں کی فصاحت وبلاغت اپنے عروج پر تھی، تواس وقت کے لحاظ سے حکمت الٰھی کا تقاضا یہ تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا معجزہ فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے ممتاز ہو، چنانچہ پیغمبر اسلام نے قرآن کو معجزہ کے طور پر پیش کیا جو فصیح وبلیغ تھا تاکہ عرب کے زبان داں اور ممتاز ادیبوں پر یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ کلام الٰھی ہے جو انسانی فصاحت وبلاغت اور ان کی فکر سے اوپر ہے۔

قارئین کرام ! جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمقرآن مجید کے علاوہ بھی دوسرے معجزات رکھتے تھے جن کو اس کتاب میں بیان نہیں کیا جاسکتا، لیکن ان تمام معجزات میں قرآن کریم وہ عظیم معجزہ ہے جس کی شان نرالی ہے اور جس کی حجت بھی کامل ترین ہے کیونکہ ایک جاھل عرب جو علوم طبیعت سے واقف نہیں ہے وہ ان معجزات میں شک کرسکتا ہے اور وہ ان اسباب کی طرف نسبت دے سکتا ہے جن سے وہ جاھل ہے او راپنے ذہن میں یہ سوچ سکتا ہے کہ شاید یہ سب سحر اور جادو ہو، جیسا کہ سب سے پہلا گمان بھی یھی تھا لیکن جب فنون بلاغت اور کلام فصیح کے اسرار ان پر کشف ہوجائیں گے تو ان کو قرآن کے معجزہ ہونے میں کوئی شک نہیں رھے گا، ان پر یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ اس طرح کا کلام کوئی بشرپیش نہیں کرسکتا، جبکہ دوسرے معجزات کم مدت والے ہوتے ہیں اورجب وہ ختم ہوجاتے ہیں تو راوی اس کو نقل کرتے ہیں یا اس بات کے چرچے عوام الناس کی زبان پر ہوتے ہیں اس صورت میں باب شک کھل جاتا ہے جس میں بعض لوگ تصدیق کرتے ہیں اور بعض لوگ جھٹلاتے ہیں، لیکن قرآن کریم ایسا معجزہ ہے جو زمین وآسمان کے باقی رہنے تک باقی رھے گا، اور اس کا اعجاز بھی ہر زمانے کے تمام لوگوں کے سامنے باقی رھے گا۔

بتحقیق ہر وہ شخص جس تک اسلام کی دعوت پهونچی ہے یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے تمام لوگوں اور تمام امتوں کو اسلام کی دعوت دی ہے اور قرآن کریم کے ذریعہ ان لوگوںپر حجت تمام کی ہے اور وہ قرآن کا جواب دینے سے قاصر ہیں کیونکہ ان سب سے قرآن کا مثل لانے کا مطالبہ کیا ہے لیکن کوئی بھی جواب پیش نہیں کرسکتا ، چاھے وہ اپنے وقت کا کتناھی بڑا سورماکیوں نہ ہو۔

اس کے بعد تنزل کرتے ہوئے اس جیسے دس سوروں کا مطالبہ کیا اس کے بعد ایک ہی سورے کا جواب طلب کیاگیا اور اگر عرب کے فصیح وبلیغ افراد میں کوئی بھی اس کا جواب لانے کی قدرت رکھتا تو قرآن کے اس چیلنج کا جواب دیتا اور قرآن کے چیلنج کوختم کردیتا ہے لیکن جب قرآن سنا تو حقیقت امر کا اقرار کیااور قرآن کے اعجاز کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے، اور یہ یقین کرلیا کہ ہم قرآن سے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے،چنانچہ ان میں سے بعض نے قرآن کی تصدیق کی اور اسلام قبول کرلیا، لیکن بعض لوگ اپنے بغض وعناد پر قائم رھے اور جنگ وجدل کرنا شروع کردیا۔

چنانچہ بعض مورخین نے اس بات کو نقل کیا ہے کہ ولیدبن مغیرہ مخزومی کا ایک روز خانہ کعبہ سے گذر ہوا او رنبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی زبان سے تلاوت کلام پاک کو دور ہی سے کان لگاکر سنا، اس کے بعد اپنی قوم کے مشرکین سے جاکر کھا:

”میں نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے کلام کو سنا، جو نہ کسی انسان کاکلام ہے اور نہ ہی کسی جن کا، یہ وہ کلام ہے جس میں حلاوت اور خوبصورتی ہے اس کے اوپر کا( حصہ )ثمر دینے والے درخت کی مانند اور نیچے کاحصہ گورا ہے، یہ قرآن کی ترقی کی حالت میں ہے اور ہمیشہ سربلند رھے گا۔( ۴۷ )

اسی طرح ہشام بن حکم راوی ہیں کہ ایک سال خانہ کعبہ میں اپنے زمانہ کے چار بڑے بڑے مفکر اور ادیب جمع ہوئے جن کے نام اسی طرح ہیں:

۱ ۔ ابن ابی العوجاء۔

۲ ۔ ابو شاکر دیصانی۔

۳ ۔عبد الملک البصری۔

۴ ۔ ابن مقفع۔

اور یہ چاروں خدا کا انکارکرنے والے دھریے تھے ، جو آپس میں نبی اسلام اور حج کے بارے میں گفتگو کررھے تھے، چنانچہ گفتگو کے دوران طے یہ پایا کہ اس قرآن کا مقابلہ کیا جائے جو اس دین کی بنیاد ہے تاکہ اس کے مقابلہ اور تعارض سے قرآن کے اعجاز کو ختم کردیا جائے چنانچہ آپس میں یہ طے کیا کہ ان میں سے ہر شخص ایک چھارم ( on quarter )قرآن کا جواب لائے، چنانچہ اس پروگرام کے تحت آئندہ سال کا موسمِ حج طے کیا گیا۔

اور جب سال گذرنے کے بعد یہ لوگ تاریخ معینہ پر خانہ کعبہ میں جائے معین پر جمع ہوئے اور ایک دوسرے سے محوِ گفتگو ہوئے کہ تم نے کیا کیا او رتم نے کیاکام انجام دیا، چنانچہ ابن ابی العوجاء کہتا ہے کہ میرا پورا سال پریشانی واضطراب کی حالت میں گذر گیا اور قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں سوچتا رھا:

( فَلَمَّا اسْتَیْئَاٴسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیاً ) ( ۴۸ )

”پھر جب یوسف کی طرف سے مایوس ہوگئے تو باہم مشورہ کرنے کے لئے کھڑے ہوئے“

اور میں اس جیسی کوئی آیت نہیں بنا سکا۔

اس کے بعد عبد الملک نے بھی اسی طرح کھا کہ میں پورے سال قرآن مجید کی اس آیت سے مقابلہ کے بارے میں سوچتا رھا:

( یَاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهُ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنٍ اللّٰهِ لَنْ یَخْلُقُوْا ذُبَاباً وَلَوِ اجْتَمَعُوْا لَهُ وَاِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لاٰ یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ ) ( ۴۹ )

”اے لوگو ! ایک مثل بیان کی جاتی ہے تم اسے کان لگاکر سنو کہ خدا کو چھوڑ کرتم جن کو پکارتے ہو اور وہ لوگ اگرچہ سب کے سب اس کا م کے لئے اکٹھے ہوجائیں تو بھی ایک مکھی تک پیدا نہیں کرسکتے، اور اگر کھیں مکھی کچھ ان سے چھین لے جائے تو اس سے اس کو چھڑا نہیں سکتے، (عجب لطف ہے) کہ مانگنے والا اور جس سے مانگا گیا ہے دونوں ضعیف ہیں۔“

لیکن میں اس جیسی آیت بنانے سے قاصر رھا۔

اسی طرح ابی شاکر کا بھی خیال تھا کہ میں درج ذیل آیت کی طرح سوچنے سے قاصر رھا۔

( لَوْکَانَ فِیْهِمَا آلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ) ( ۵۰ )

”بفرض محال زمین وآسمان میں خدا کے سوا چند معبود ہوتے تو دونوں کب کے برباد ہوگئے ہوتے۔“

اور یھی حال ابن مقفع کا بھی تھا کہ پورا سال گذر گیا اور میں اس آیت سے مقابلہ نہ کرسکا:

( وَقِیْلَ یَا اَرْضُ ابْلَعِیْ مَاءَ کَ وَیَا سَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَغِیْضَ الْمَآءُ وَقُضِیَ الاٴَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ وَقِیْلَ بُعْداً لِلْقَوْمِ الظَّاْلِمِیْنَ ) ( ۵۱ )

”اور جب خدا کی طرف سے حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی جذب کرلے، اور اے آسمان (برسنے سے) تہم جا اور پانی گھٹ گیا اور (لوگوں کا) کام تمام کردیا گیا اور کشتی جودی (نامی پھاڑ) پر جا ٹھھری اور (ھر چھار طرف) پکار دیا کہ ظالم لوگوں کو خدا (کی رحمت سے) دوری ہو۔“

ہشام کہتے ہیں کہ اسی موقع پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام وھاں سے گذرے، ان لوگوں کو دیکھا تو آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:

( قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلیٰ اَنْ یَّاتُوْا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لاٰیَاتُوْنَ بِمِثْلِهِ وَلَوْکَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْراً ) ( ۵۲ )

”(اے رسول) تم کہہ دو کہ اگر ساری دنیا کے آدمی اور جن اس بات پر اکھٹا ہوں کہ اس قرآن کا مثل لے آئیں تو (غیرممکن)، اس کے برابر نہیں لاسکتے اگرچہ اس کوشش میں ایک ایک کا مددگار بھی بنے۔“

قارئین کرام ! ہمیشہ دشمنان دین چاھے وہ کسی بھی عقیدہ، نظریات اور فلسفہ کے ماننے والے ہوں ؛ ان کا یہ وطیرہ رھا ہے کہ اس معجزہ (قرآن کریم) کے اعجاز میں شک وتردید ایجاد کریں اور ہمیشہ اسلام دشمن طاقتوں نے سازش کرکے حملہ کئے ہیں اور اپنی پوری طاقت صرف کردی تاکہ اپنے شوم اہداف میں کامیاب ہوجائیں، جیسا کہ تاریخ کے اوراق پر ان حملوں کی تعدادبے شمار ملتی ہے۔

اس سلسلہ میں ایک اور اعتراض کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید کی آیات میں تناقض اور تضاد پایا جاتا ہے جو اعجاز قرآن کے منافی ہے اور ان کے گمان کے مطابق یہ قرآن انسان کی صفت ہے اور کلام الٰھی نہیں ہے، چنانچہ اپنے اعتراض کی دلیل میں قرآن مجید کی درج ذیل آیت پیش کی ہے کہ خداوندعالم نے ارشاد فرمایا:

( آیَتُکَ اَلَّا تَکُلِّمَ النَّاسَ ثَلاثَةَ اَیَّامٍ اِلّٰا رَمْزاً ) ( ۵۳ )

”تمھاری نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے بات نہ کرسکو گے مگر اشارہ سے۔“

کہ یہ آیہ کریمہ دوسری آیت کے مخالف ہے جس میں خداوندعالم نے ارشاد فرمایا:

( آیَتُکَ اَلَّا تَکُلِّمَ النَّاسَ ثَلاثَ لَیَالٍ سَوِیًّا ) ( ۵۴ )

”تمھاری پہچان یہ ہے کہ تم تین رات برابر لوگوں سے بات نہیں کرسکوگے۔“

پس پہلی آیت میں تین دن کا ذکرھے جبکہ دوسری آیت میں یہ مدت تین رات بیان کی گئی ہے۔

اس اعتراض کے جواب میں کافی ہے کہ ہم اشارہ کریں کہ لغت عرب میں ”یوم“ کے معنی کیا ہیں چنانچہ عربی زبان میں ”یوم“ کہہ کر دن مراد لیا جاتا ہے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:

( سَخَرَّهَاْ عَلَیْهِمْ سَبْعَ لِیَالٍ وَثَمَانِیَةَ اَیَّامٍ ) ( ۵۵ )

”خدا نے اسے (تیز آندھی کو )سات رات اور آٹھ دن لگاتا ران پر چلایا“

اور کبھی یوم کہہ کرشب وروز ( ۲۴ گھنٹے) مراد لئے جاتے ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِی دَارِکُمْ ثَلاٰثَةَ اَیَّامٍ ) ( ۵۶ )

”تب جناب صالح نے کھا اچھا تین دن تک (اور)اپنے گھر میںچین سے بیٹھ جاؤ“

جبکہ ”لیل“ سے مراد رات لی جاتی ہے:مثلاً:

( وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشیٰ ) ( ۵۷ )

”رات کی قسم جب (سورج) کو چھپالے“

ایضاً:

( سَبْعِ لِیَالٍ وَثَمَانِیَةَ اَیَّامِ ) ( ۵۸ )

اور کبھی کبھی ”لیل“ سے مراد شب و روز ہوتے ہیں:

( وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسیٰ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ) ( ۵۹ )

”اور وہ وقت بھی یاد کرو کہ جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا“

قارئین کرام ! جب لغت میں لیل ونھار کا استعمال ان دونوں معنی میں جائز اور صحیح ہے تو مذکورہ دونوںآیات میں کسی طرح کا کوئی تناقض نہیں ہے کیونکہ یوم اور لیل کبھی دن اور رات کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی یوم اور لیل کا اطلاق ۲۴ گھنٹے پر ہوتا ہے، اور اس میں ذرہ برابر بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے اگر خود غرضی نہ ہو:

( اَفَلاٰ یتَدَبِّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اِخْتَلاٰفاً کَثِیْراً ) ( ۶۰ )

” تو کیا یہ لوگ قرآن میںغور نہیں کرتے اور (یہ خیال نہیں کرتے) اگر خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے آیا ہوتا تو (ضرور) بڑا اختلاف پاتے“

اب جبکہ یہ طے ہوگیا کہ قرآن کریم اپنی تمام روش میں بے انتھا فصیح وبلیغ معجزہ ہے اور اس کی فصاحت وبلاغت کا حال یہ ہے کہ نوع بشر اس کی مثال نہیں لاسکتی، اور ایسی منظم کتاب ہے جس میں ذرہ برابر بھی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا،پس قرآن کریم کے اعجاز کے دوسرے بھی پہلو ہیں جن کی تعداد بہت ہے اور قرآن میں غور وفکر کرنے والے پر بہت سی چیزیں کشف ہوتی ہیں کیونکہ خداوندعالم نے قرآن مجید میں بہت سے معارف، اسرارِ علوم اور عالم کائنات کے حقائق بیان کئے ہیں جن کے بارے میں کوئی شخص یہ احتمال نہیں دے سکتا کہ یہ اس زمانہ میں زندگی بسر کرنے والے انسان کے بیان شدہ ہیں کیونکہ اس زمانے میں زندگی بسر کرنے والا شخص ان چیزوں کو درک نہیں کرتا تھا۔

اور جیسا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم دین، عقیدہ اور تشریع کی کتاب ہے علم فلکیات، علم کیمیا اور علم فیزیک کی کتاب نہیں ہے ، لیکن پھر بھی ہم اس قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر کائنات اور طبیعت کے بارے میں بہت دقیق باتیں دیکھتے ہیں کیونکہ اس زمانہ میں ایسی چیزوں کا علم ہونا ناممکن ہے مگر یہ کہ خداوندعالم ان چیزوں کے بارے میں وحی کرے اور اپنے رسول کو بتائے۔

بتحقیق قرآن کریم نے ان اسرار کو بیان کرنے میں بہترین انداز اپنایا ہے بعض چیزوں کے بارے میں صاف صاف وضاحت کی ہے جبکہ بعض چیزوں کی طرف صرف ایک اشارہ کیا ہے کیونکہ اس زمانہ میں بعض حقائق کو قبول کرنا بہت مشکل تھا۔

چنانچہ اس وقت کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ ان چیزوں کی طرف ایک اشارہ کیا جائے تاکہ بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے جس وقت علم کی پیشرفت ہو اور حقائق ظاہر ہوں ؛یہ چیزیں واضح اور کشف ہوجائیں، جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ہے:

( اَلَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مِهٰداً ) ( ۶۱ )

”جس نے زمین کو تمھارے لئے فرش بنایا“

یہ آیہ کریمہ اشارہ کرتی ہے کہ زمین گھومتی ہے لیکن اس چیز کو چند صدی گذرنے کے بعد سمجھا گیا کیونکہ لفظ ”المہد“ زمین کی حرکت کی طرف اشارہ کررھا ہے لیکن قرآن مجید کا یہ ایک ھلکا سا اشارہ تھا اور اس کو وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا، کیونکہ اس وقت زمین کو حالت سکون میں سمجھنا ایک عام بات تھی اور اس کے بارے میں گفت وشنید بے کار تھی، اور اگر اس وقت زمین کی حرکت کی باتیں کی جاتیں تو ان کو خرافات اور محال کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ۔

قارئین کرام ! ہم یھاں پر قرآن کریم کے ذکر شدہ چند حقائق کو بیان کرتے ہیں چاھے ان کو قرآن مجید نے واضح طور پر بیان کیا ہو یا ان کی طرف صرف اشارہ کیا ہو اگرچہ اس سلسلہ میں تفصیلی طور پر معلومات حاصل کرنے کے لئے الگ کتابوں کا مطالعہ کرنا ضروری ہے کیونکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہیں اور ان تمام کو اس کتاب میں بیان نہیں کیا جاسکتا لیکن ہمارا مقصد صرف چند مثالوں کو پیش کرنا ہے تاکہ بحث مکمل ہوجائے۔

قرآن مجید کے ان علمی اور دقیق اشاروں میں سے ایک یہ ہے جس کا ذکر قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں موجود ہے:

( یَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَیِّقاً حَرَجاً کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَاءِ ) ( ۶۲ )

”اس کے سینہ کو تنگ دشوارگزار کردیتا ہے گویا(قبول ایمان) اس کے لئے آسمان پر چڑھنا ہے“

جیسا کہ سائنس نے یہ بات ثابت کی ہے کہ جب انسان بلندی کی طرف آسمانوں میں پرواز کرتا ہے او راوپر کی طرف بڑھتا ہے تو اس کے سینہ میں دباؤ پیدا ہوتا ہے یھاں تک کہ اس کا دم گھٹنے لگتا ہے کیونکہ اس وقت اس کو ”آکسیجن“ " Oxygen "نھیں ملتا۔( ۶۳ )

اسی طرح قرآن مجید کا علمی مسائل کی طرف ایک اشارہ درج ذیل آیت میں ہوتا ہے:

( وَاٴَرْسَلْنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِحَ ) ( ۶۴ )

”اور ہم ہی نے وہ ہوا بھیجیں جو بادلوں کو پانی سے بھرے ہوئے ہیں“

آج کا سائنس یہ کہتا ہے کہ تلقیح( ۶۵ ) دوقسم کی ہیں:

۱ ۔ذاتی؛ جیسے درخت اور گھاس بطور مستقیم تلقیح کرتے ہیں۔

۲ ۔خلطی؛ جس میں تلقیح کے لئے تخم ایک پودے سے دوسرے پودے میں منتقل ہوجاتا ہے۔ اسی صورت میں ایسے وسائل موجود ہونا ضروری ہیں جن کے ذریعہ سے تخم تلقیح ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکے اگر چہ ان کے درمیان کافی دوری ہی کیوں نہ ہو، تو ان منتقل کرنے والے وسائل میں سے ہوا ایک اہم وسیلہ ہے کیونکہ اس زمین پر ایسے بہت سے درخت وغیرہ ہیں جن کی تلقیح ہوا کے علاوہ ممکن ہی نہیں ہے۔( ۶۶ )

انھیں اشاروں میں سے قرآن مجید کا ایک اشارہ یہ بھی ہے جس کو ماھرین فلکیات نے بھی قبول کیا کہ سورج بھی دوسرے ستاروں کی طرح اپنی حرارت کی زیادتی اور اپنی شعاعوں کو کم کرے کیونکہ اس میں اتنی شدت پائی جاتی ہے جس کو عقلِ انسانی قبول نہیں کرسکتی۔یھاں تک کہ اگر زمین سے اس کی دوری کو ختم کردیا جائے تو زمین سے شعلہ نکلنے لگےں، اور چاروں طرف سے دھواں اٹھنے لگے، اور یہ دھواں چاند تک پہنچ جائے گا او رپھر تمام نظام شمسی درہم وبرہم ہوجائےگا۔

اورآسمان پر موجود تمام ستاروں کا اسی اپنی حالت پر گامزن رہنا ضروری ہے قبل اس کے کہ اپنی دائمی محور کو حاصل کرے، چنانچہ ہمارا یہ سورج کبھی دائرہ سے خارج نہیں ہوتا۔

اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے خداوندعالم کے فرمان کے معنی سمجھ میں آتے ہیں کہ خداوندعالم نے روز قیامت سے کس طرح ہم لوگوں کو ڈرایا ہے اور دنیاکی نابودی کی کس طرح تصویر کشی کی ہے:

( فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَو مَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ ) ( ۶۷ )

(جب آنکھیں چکاچوند ہوجائیں گی اور چاند میں گہن لگ جائے گا اور سورج اور چاند اکھٹا کردئے جائیں گے تو انسان کھے گا: آج کھاں بھاگ کر جاؤں)

قرآن مجید کے انھی علمی اشاروں میں سے ایک یہ ہے جس کو قرآن مجیدنے بیان کیا ہے:

( وَاٴَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ اَنٍ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتاً وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّاْ یَعْرِشُوْنَ ) ( ۶۸ )

”اور (اے رسول) تمھارے پروردگار نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ تو پھاڑ وںاور درختوں اوروہ لوگ جو اونچے اونچے مکان بناتے ہیں ان میں اپنے چھتے بنا۔“

جیسا کہ ماھرین علم کاکہنا ہے کہ شہد کی مکھی نے سب سے پہلے پھاڑوںمیں اپنا گھر بنانا شروع کیا اور یہ زیادہ تر وھیں پر اپنا گھر بنا کر زندگی کرتی ہیں اور اسی میں زاد ولد کرتی ہیںلیکن وھاں پر موجود بعض پریشانیوں کی بنا پر وھاں سے منتقل ہوکر درختوں میں اپنا گھر بنایا درختوں کو اس وجہ سے انتخاب کیا کیونکہ اس میں سوراخ اور کھوکھلی جگہ ہوتی ہیں تاکہ ان میں آرام سے زندگی گذار سکیں۔

اور جب انسان نے (دوسرے جانوروں کے گھروں کو دیکھ کر ) اپنے لئے گھر بنانا چاھا تو پہلے گھر بالکل اسی طرح ہوتے تھے جیسے جانوروں کے، شروع میں تو یہ گھر مٹی کے بنائے گئے اور

پھر ان کو خوبصورت بنانا چاھا تو لکڑی سے بنائے جانے لگے اسی طریقہ سے ان میں ترقی ہونے لگی اور آج یھاں تک پهونچ گئے ہیں (کہ بڑے بڑے شھروںمیں بڑی بڑی عمارتوں کی بھر مار ہے)۔

پس شہد کی مکھیوں کا پھاڑ میں گھر بنانااور پھر ان کا درختوں کا انتخاب کرنا اور ان کو دیکھ کر انسانوں کا گھر بنانا ان تمام چیزوں کے بارے میں قرآن کریم نے گفتگو کی ہے( ۶۹ )

ان ہی علمی حقائق میں سے جن کے بارے میں قرآن مجید نے خبر دی ہے زمین سے متعلق ہے جو ماضی قریب کی صدیوں تک مجهول رھا ۔اور وہ یہ ہے کہ زمین میں سوراخوں کے ذریعہ ہوا داخل ہوتی ان ہی علمی حقائق میں سے جن کے بارے میں قرآن مجید نے خبر دی ہے زمین سے متعلق ہے جو ماضی قریب کی صدیوں تک مجهول رھا ۔اور وہ یہ ہے کہ زمین میں سوراخوں کے ذریعہ ہوا داخل ہوتی بلکہ زمین کے یھی سوراخ اور ان کا اندازہ بھی سب سے اہم سبب ہے جس کی وجہ سے زمین مختلف ہوتی ہیں کہ بعض زمین سخت ہوتی ہیں اور بعض بھوڑ (ریتیلی زمین )، اور یہ بات ابھی کچھ دن پہلے ہی کشف ہوئی ہے کہ زمین میں سوراخ ہوتے ہیں اور ان میں ہوا ہوتی ہے اور جب زمین پر بارش ہوتی ہے تو اس ہوا کی جگہ وہ پانی بھر جاتا ہے اور جیسا کہ علم کیمیا نے کشف کیا ہے کہ مٹی پانی کے ذریعہ پھیل جاتی ہے اور خشک ہونے سے سمٹ جاتی ہے اور جب زمین کے سوراخ میں پانی بھر جاتا ہے تو مٹی کے اجزا ء پانی بھرنے سے متحرک ہوجاتے ہیں چنانچہ جب زمین پر بارش ہوتی ہے تو زمین حرکت میں آجاتی ہے اور اپنے اندازہ سے زیادہ ہوجاتی ہے زمین کی اس حرکت کو اس وقت دیکھا جاسکتا ہے جب اس میں پانی بھر جائے اسی طرح اس کے اندازہ کو بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔

قارئین کرام ! یہ وہ حقائق ہیں جن کو آج کا سائنس کشف کررھا ہے لیکن قرآن کریم نے اس کے بارے میں چودہ سو سال پہلے ہی خبر دی ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَتَرَی الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَا اٴَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَاَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَهِیْجٍ ) ( ۷۰ )

”اورزمین کو مردہ دیکھ رھا ہے پھر جب اس پرپانی برسادیتے ہیں تو لھلھانے اور ابھرنے لگتی ہے اور ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگاتی ہے “

یھاں پر” اہتزاز“ کے معنی حرکت کے ہیں اور ربت کے معنی جسم میں زیادتی کے ہیں، چنانچہ ان حقائق سے اس وقت پردہ برداری ہوئی جب آج کا علم کہتا ہوا نظر آرھا ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو زمین میں شگاف پیدا ہوتے ہیں یا پانی کے ذریعہ اس میں سوراخ کھل جاتے ہیں۔( ۷۱ )

قرآن کریم کے بتائے ہوے انھیں حقائق میں سے ایک یہ بھی ہے جس کو آج کا سائنس بھی قبول کرتا ہے کہ بدن سے خارج ہونے والی چیزوں کی دو قسمیں ہیں :

۱ ۔جن سے جسم کا فائدہ ہوتا ہے جیسے افرازات (خارج شدہ ) چیزیں ہضم ہونے والی چیزیں و مادہ تناسل یا بعض وہ چیزیں جو جسم کے اندر ہوتی ہیں اور جسم کے لئے ضروری ہموتے ہیں اور یہ قسم انسان کے بدن کے لئے ضروری ہے اور ان میں کوئی ضررو نقصان بھی نہیں ہے

۲ ۔ دوسری قسم وہ ہے جن میںجسم کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ جسم سے ان کا نکلنا ضروری ہے کیونکہ ان میں ایک قسم کا زھر پایا جاتا ہے کہ اگر وہ جسم میں باقی رھیں تو جسم کے لئے خطرہ لاحق ہوجائےگا جیسے پیشاب پاخانہ ۔پسینہ اور خون حیض۔

چنانچہ خدا وند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

( یَسْاٴ لُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ هو اٴَذًی فَاعْتَزِلُوْا النِّسَاءَ فِی الْمَحِیْضِ ) ( ۷۲ )

”اے رسول تم سے لوگ حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تم ان سے کہدو کہ یہ گندگی اور گھن کی بیماری ہے لہٰذا تم ایام حیض میںعورتوں سے الگ رهو “

خداوند عالم نے آج کے علم کواس نتیجہ پر پہنچے سے پہلے ہمیں بتا دیا کہ خون حیض اذیت کنندہ ہے اور اس کا بدن میں باقی رہنا جسم کے لئے خطرناک ہے اور اس چیز کے پیش نظر مخصوص ایام میں عورت سے مباشرت کرنے سے منع فرمایا کیونکہ اس دوران عورت کا رحم شدید درد کی حالت میں ہوتا ہے اور اس کا بدن اضطراب و پریشانی کے عالم میں ہوتا ہے ۔

کیونکہ اس کے اندرونی غددوں سے یہ خون باھر نکلتا رہتا ہے اور اس حالت میں جنسی تعلقات، نقصان دہ ہوتے ہیں بلکہ کبھی کبھی تو حیض آنا بند ہوجاتا ہے نیز دوسرے غلط اثراث مترتب ہوتے ہیں اور کبھی کبھی اعضاء وتناسل میں سوزش ہونے لگتی ہے۔( ۷۳ )

انھی حقائق میں سے ایک یہ بھی ہے جس کے متعلق خداوندعالم نے ارشاد فرمایا:

( افَلَا اُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النَّجُوْمِ وَاِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ ) ( ۷۴ )

”تو میں تاروں کی بنائی کی قسم کھاتا ہوں اور اگر تم سمجھ لو تو یہ بڑی قسم ہے“

ماھرین فلکیات کا کہنا ہے کہ ستاروں کے درمیان تاحد خیال فاصلہ ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں خداوندعالم نے قسم کھائی ہے کیونکہ تمام ستارو ں کی دوری ۷۰۰ / نوری سال کے برابر ہے اور ایک نوری سال میں کروڑوں کلومیٹر کا فاصلہ ہوتا ہے۔( ۷۵ )

انھی حقائق میں سے ایک یہ ہے کہ جس کی طرف خداوندعالم نے اشارہ فرمایا ہے:

( وَاٴَنْبَتْنَا فِیْهَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَوْزُوْنٍ ) ( ۷۶ )

”اور ہم نے اس میں ہر قسم کی مناسب چیز اگائی۔“

کیونکہ یہ آیہ کریمہ دلالت کرتی ہے کہ تمام نباتات میں ایک خاص وزن ہوتا ہے جیسا کہ سائنس نے بھی اس بات کو ثابت کیا ہے کہ نباتات خاص اجزاء سے مرکب ہوتی ہیں اور ان کا ایک خاص وزن ہوتا ہے اس حیثیت سے کہ اگر کسی جز میں اس کی مقدار معین میں کمی یا زیادتی آجائے تو اس کی حقیقت بدل جاتی ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ ان اجزاء میں سے بعض اجزاء کا بہت دقیق وزن ہوتا ہے مثلاً میلی گرام یا اس سے بھی دقیق جس طرح سے آج کل سونا تولا جاتا ہے۔( ۷۷ )

قرآن مجید کتاب خداھے اس میں ذرہ برابر بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے اور قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ ہے:

( اِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَیُبَشِّرُ الْمَو مِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصَّالِحَاتِ اٴَنَّ لَهُمْ اَجْراً کَبِیْراً ) ( ۷۸ )

”اس میں شک نہیں کہ یہ قرآن اس راہ کی ہدایت کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھی ہے او رجو ایماندار اچھے اچھے کام کرتے ہیں ان کو یہ خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر (وثواب موجود) ہے۔“

( صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْ اَتْقَنَ کُلَّ شَیْءٍ اِنَّهُ خَبِیْرٌ بَمَا تَفْعَلُوْنَ ) ( ۷۹ )

”(یہ بھی) خدا کی کاریگری ہے کہ جس نے ہر چیز کو خوب مضبوط بنایا اور بے شک جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس سے خوب واقف ہے۔“

شبھات واعتراضات

ہم نے شروع ہی میں اس بات کی طرف اشارہ کیا تھاکہ کتاب کے ان صفحات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی سیرت طیبہ اور تاریخ منور کو بیان نہیں کریں گے اور حوالہ دیا تھا کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی سیرت طیبہ کو ”فی رحاب رسول (ص) “ نامی کتاب میں تحریر کریں گے۔

لیکن اس کے باوجود بھی نبوت عامہ، مخصوصاً ہمارے نبی اعظم کی نبوت کی گفتگو کے دوران دو اہم نکات کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے او راس سلسلہ میں تحقیق کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان نکات سے چشم پوشی نہ کرے، کیونکہ وہ بہت عمیق ہیں اور ان میں خطا وغلطی کا امکان ہے، خصوصاً چونکہ یہ دونوں مسائل مقام نبوت سے بہت زیادہ ارتباط رکھتے ہیں کیونکہ مقام نبوت ایک الٰھی منصب ہے جو شهوات اور لذاتِ دنیا نیز گناهوں اور خطاؤں سے پاک وپاکیزہ ہوتا ہے۔

اور وہ دو مسئلے در ج ذیل ہیں:

۱ ۔ کثرتِ ازواج۔

۲ ۔ عصمت۔

اور ہمارے خیال کے مطابق اس بات میں ہمارے قارئین کرام بھی متفق ہوں گے کہ یہ دونوں مسئلے مقامِ رسالت سے بہت زیادہ ارتباط رکھتے ہیں لہٰذا یہ دونوں سیرت رسول بیان کرنے سے زیادہ اہم ہیں۔

قارئین کرام ! ہم آئندہ صفحات میں ان دونوں مسئلوں پر گفتگو کریں گے البتہ کتاب کی ضخامت کے پیش نظر مختصر طور پر بیان کریں گے، خداوندمنان ہمیں توفیق عنایت کرے۔ (آمین)

کثرتِ ازواج

حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی حیات طبیہ میں کثرتِ ازواج کا مسئلہ بہت اہم ہے یھاں تک کہ دشمنان دین اور انگریز رائٹروں نے اس پر بہت سے اعتراضات کئے ہیں اور اپنے گمان کے مطابق اس مسئلہ میں دین اسلام او رپیغمبر اسلام پر لعن وطعن قرار دیا ہے۔

اصل موضوع کو بیان کرنے سے پہلے یہ عرض کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی عظیم ہستی اپنی بیوی سے محبت کرے یا وہ اس کے ساتھ اپنی مشترکہ زندگی گذارے تو یہ کوئی عیب نہیں ہے بلکہ یہ تو فطری تقاضا ہے اور بقاء انسانیت کا وسیلہ ہے، اور چونکہ نبی بھی بشروانسان ہیںلہٰذا ان میں ایک انسان کے تمام صفات کا پایا جانا ضروری ہے، ارشاد قدرت ہوتا ہے :

( وَقَالُوْا مَالِ هَذَا الرَّسُوْلِ یَاکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ) ( ۸۰ )

”اور ان لوگوں نے (یہ بھی)کھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے“

( قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ کُنْتُ اِلاّٰ بَشَراً رَسُوْلاً ) ( ۸۱ )

”اے رسول تم کہہ دو کہ سبحان اللہ میں ایک آدمی ہوں خدا کے رسول کے سوا آخر اور کیا ہوں“

چنانچہ یہ عیب نہیں ہے بلکہ عیب یہ ہے کہ انسان اس محبت میں اس قدر آگے بڑھ جائے کہ اپنے واجبات کو ترک کرنے پر مجبور ہوجائے اور اپنے حدود سے باھر نکل جائے اور اس کی تمام طاقت وتوانائی اسی میں صرف ہوجائے۔

تو کیا کوئی دشمن حضرت محمد (انگریز ہو یا غیر انگریز) یہ بات کہہ سکتا ہے کہ آپ نے کسی زوجہ کی وجہ سے کسی بھی واجب کو ترک کیا ہے، بلکہ اس سلسلہ میں تحقیق کرنے والوں کا نظریہ یہ ہے کہ حضرت محمد کی ذات گرامی ایسی ذات تھی جس نے نبوت کا بھی مکمل حق ادا کیا اور ازواج کو بھی ان کا کامل حق دیا، اور یہ چیز ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی عظمت پر بہترین دلیل ہے۔

اگر قلب نبی میں ذرہ برابر بھی شهوت پرستی اور ہواپرستی پائی جاتی تو پھر آپ کی ذات سر زمین مکہ پر عفت وحیا سے مشهور نہ ہوتی ، اور اگر شهوت پرستی کا ذرا بھی وجود پایا جاتا تو آپ اپنے شباب کے عالم میں اپنی قوم وقبیلہ کی باکرہ اور خوبصورت لڑکیوں سے شادی کرتے، اوران بیوہ اور طلاق شدہ عورتوں سے شادی نہ کرتے، جن میں اکثر بوڑھی یا سن رسیدہ تھیں۔

بلکہ آنخضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی شادیوں کا مقصد بعض حالات میں یہ ہوتا تھا کہ سسرالی رشتہ کی تعداد زیادہ ہو، تاکہ اسلام کی شان وشوکت میں اضافہ ہو جبکہ بعض حالات میں آپ کامقصد یہ ہوتا تھا کہ جو عورتیں اسلامی جنگوں میں یا اسلام کی خاطر مصیبت زدہ ہوتی تھیں یا ان کے شوھر شھید ہوجاتے تھے ان پر لطف ومھربانی کریں، چنانچہ یھی وجہ تھی کہ آپ کی بیویوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رھا لیکن اس کو اسلام دشمن عناصر نے دلیل کے طور پر پیش کیا کہ (حضرت) محمد (ص) نے شهوت پرستی کی خاطر اتنی شادیاں کی ہیں۔!

لہٰذا ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی بیویوں کے اسماء گرامی او رمختصر حالات بیان کرتے ہیں تاکہ اس سلسلہ میں ہوئے اعتراضات کا خاتمہ ہوجائے۔

۱ ۔ خدیجہ بنت خویلد:

چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمان کے ساتھ مل کر تجارت کاکام کیا کرتے تھے اسی اثنا میں آپ سے آشنائی اور واقفیت ہوگئی، جناب خدیجہ (ع) کی اس سے پہلے دو مرتبہ شادی ہوچکی تھی اور اس وقت ان کی عمر چالیس سال تھی او ر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی عمر ۲۵/ سال تھی، اس وقت آپ نے جناب خدیجہ سے شادی کی، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی اس زوجہ کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے آنحضرت کے ساتھ اس وقت زندگی گذاری جب آپ نے ظاہری طور پر اعلان رسالت نہیں کیا تھا اور آپ ہی کو یہ فخر حاصل ہے کہ آپ سب سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی رسالت پر ایمان لائیں، اور راہِ اسلام میں اپنا سارا مال ودولت خرچ کردیا۔

اسی طرح دشمنان اسلام نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکویہ بھی طعنہ دیا کہ جناب خدیجہ کی عمر چونکہ حضرت محمد (ص) سے ۱۵/ سال زیادہ تھی لیکن ان کے پاس چونکہ بہت زیادہ مال ودولت تھی اورآنحضرت کے پاس کچھ نہیں تھا لہٰذا آپ نے مال کے لالچ میں جناب خدیجہ سے شادی کی ۔

لیکن یہ اعتراض خود بخود ختم ہوجاتا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمخود جناب خدیجہ کی ذات کو اس قدر چاہتے تھے کہ آپ ان کی زندگی میں بھی ان کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے او ران کی وفات کے بعد بھی ان کا بہت زیادہ احترام اور محبت کا اظھار کیا کرتے تھے اور اس بات کا مشاہدہ دوسری ازواج نے بھی کیا ہے۔( ۸۲ )

کیا کسی انسان کو اتنی محبت واحترام بیوی کے مال کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔!

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی ازواج میں صرف یھی پہلی مومنہ کا امتیاز ہے کہ خداوندعالم نے اسی بیوی کے ذریعہ نسلِ نبوت کوباقی رکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی اکلوتی بیٹی( ۸۳ ) جناب فاطمہ زھرا = کے ذریعہ آپ کی نسل کو بڑھایا۔

۲ ۔ سودة بنت زمعة:

یہ بی بی جوانی کے آخری حصے میں بیوہ ہوگئیںتھیں کیونکہ ان کا مسلمان شوھر ہجرت سے قبل مکہ میں ہی وفات پاگیاتھا اور جب ان کی زندگی بیوہ ہونے کی وجہ سے تنھائی میں بسر ہونے لگی تو اس وقت رسول اسلام نے ان پر لطف وکرم کرتے ہوئے اور ان کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ان سے نکاح کیا تاکہ ان کی مشکلات دور ہوجائیں، اور ان کے پڑھاپہ کا سھارا بن جائیں، لہٰذا ان کے شوھر محمد رسول اللہ ہیں نہ صرف ”محمد“ (ص)جن کے بارے میں شهوت پرستی کا ڈھول بجایا جار ھا ہے۔

۳ ۔عائشہ بنت ابی بکر:

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی یہ بیوی سب سے کم عمر تھی اور ازواج نبی میں صرف یھی باکرہ تھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ہجرت کے بعد ان سے شادی کی ہے۔

۴ ۔ حفصہ بنت عمر بن الخطاب:

ان کے پہلے شوھر جنگ بدر میں زخمی ہوئے او رانتقال کرگئے، جس وقت حفصہ بیوہ ہوئیں تو حضرت عمر نے جناب عثمان سے ملاقات کی اور رودادِ غم سنائی تب جناب عثمان نے کھا: مجھے عورتوں کے مسئلہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، اس کے بعد ابوبکر سے ملاقات ہوئی اور ان سے بھی کچھ کھا تو وہ بھی چُپ رھے تو یہ دیکھ کر حضرت عمر جناب ابوبکر پر غصہ ہوئے (لیکن جب کسی سے کوئی بات نہ بنی تو) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ان سے نکاح کرلیا۔( ۸۴ ) گویا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماسلامی جنگ میں شھیدهونے والے اُن کے شوھر کی جگہ لے لینا چاہتے تھے اور ان کی مشکلات کو دور کرنا چاہتے تھے، جیسا کہ ان کے پدر بزرگوار (جناب عمر) بھی یھی چاہتے تھے۔

۵ ۔زینب بنت خزیمہ:

انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے قبل دو دفعہ شادی کی تھی ان کا دوسرا شوھر جنگ بدر میں شھید ہوگیا تھا، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ان کے اور ان کے شوھر کے اکرام میں ان سے نکاح کیا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی یہ بیوی صرف آٹھ ماہ زندہ رھیں اور اس کے بعد اس دنیا سے چل بسیں۔

۶ ۔ ام سلمہ:

آپ کے پہلے شوھر جنگ احد میں زخمی ہوئے اور جب زخم کچھ مندمل ہوگئے تو آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے سرائے (مہمان خانہ) میں رکھا گیا لیکن وھاں بھی ان کے زخم ٹھیک نہ ہوئے اور جب زخم بڑھتے گئے تو ان کی حالت خراب ہوگئی اور اسی عالم میں دار فانی سے رخصت ہوگئے، چنانچہ انھوں نے ام سلمہ اور چند اولاد چھوڑیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ان کی اور ان کے بچوں کی حالت پر رحم کرتے ہوئے ان سے نکاح کرلیا، اور ،چونکہ جناب ام سلمہ کے شوھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے چچا زاد بھائی بھی تھے، چنانچہ جب رسول اللہ نے جناب ام سلمہ سے اپنا پیغام بھجوایا تو انھوں نے اپنے بڑھاپے اور بچوں کی وجہ سے معذرت چاھی لیکن حضرت رسول خدا نے ان کے عذر پر توجہ نہ دی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا مقصد ان پراور ان کی اولاد کی حالت پر رحم کرنا مقصودتھا۔

۷ ۔ زینب بنت جحش:

یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے چچا کی لڑکی تھی چنانچہ انھوں نے پہلی مرتبہ زید بن حارثہ سے شادی کی اور یہ زید جناب خدیجہ بنت خویلد کے غلام تھے لیکن جناب خدیجہ نے ان کو رسول اللہ کو ھبہ کردیا تھا، رسول اللہ نے ان کو آزاد کردیا او راپنا بیٹا بنالیا او ران کو ”زید بن محمد “ کے نام سے مشهور کردیا گیا، اور یہ اس شھرت پر باقی رھے یھاں تک کہ خداوندعالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

( اُدْعُوْهُمْ لِآبَائِهِمْ ) ( ۸۵ )

”گود لئے بچوں کو ان کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارا کرو“

چنانچہ اس کے بعد ان کو اپنے حقیقی باپ حارثہ کی طرف نسبت دینے لگے اور ان کو زید بن حارثہ کھا جانے لگا۔

جناب زید نے رسول اللہ کی محبت اور رغبت میں زینب سے شادی کی تھی، اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے اس شادی میں حصہ لیا ، گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمعملی طور پر ذات پات اور آقا وغلام کے فرق کو ختم کرنا چاہتے تھے تاکہ اسلام میں مساوات کو فروغ ملے، آپ نے زینب کو اس شادی کے لئے راضی کیا اور وہ راضی بھی ہوگئیں ، اس وقت قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی:

( وَمَاکَانَ لِمُو مِنٍ وَلاٰ مُوْمِنَةٍ اَذَا قُضَی اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ اٴَمْراً اٴَنْ یَّکُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اٴَمْرِهِمْ ) ( ۸۶ )

”اور نہ کسی ایماندار مرد کو یہ مناسب ہے اور نہ کسی ایماندار عورت کو کہ جب خدا اور اس کے رسول کسی کام کا حکم دیں تو ان کو اپنے اس کام (کے کرنے یا نہ کرنے) کا اختیار ہو۔)

چنانچہ جناب زینب نے اس شادی کو قبول تو کرلیا لیکن مکمل طورپر دل سے راضی نہ تھیں، اور یہ شادی ہوگئی لیکن چونکہ جناب زینب مکمل طریقہ سے راضی نہ تھیںلہٰذا یہ شادی زیادہ دن پابرجا نہ رہ سکی، کیونکہ جناب زینب اس شادی سے خوش نہ تھی اور زید بھی جناب زینب کی عظمت اور بزرگی کی گفتگو کیا کرتے تھے، چنانچہ ان تمام باتوں کے پیش نظر جناب زید اس مشترکہ زندگی کو

چلانہ سکے اور طلاق کا ارادہ کرلیا تاکہ ان مشکلات سے نجات مل جائے لیکن جناب زید آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے مشورے کے بغیر طلاق بھی نہیں دے سکتے تھے، چنانچہ انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے مشورہ کیا تو رسول اسلام نے ان کو اس کام سے منع کیا اور فرمایا جیسا کہ قرآن مجید بھی اس چیز کی حکایت کررھا ہے:

( اٴَمْسِکْ عَلَیْکَ زُوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰهَ ) ( ۸۷ )

”(جناب زید کو حکم ہوتا ہے کہ)تم اپنی زوجہ (زینب) کو اپنی زوجیت میں رہنے دو اور خدا سے ڈرو“

لیکن رسول اسلام جانتے تھے کہ یہ شادی آخر تک قائم نہیں رہ پائے گی اگرچہ آپ نے طلاق کو وقتی طور پر رکوادیا ،اس کے بعد آپ نے ارادہ کرلیا کہ اگر زید ان کو طلاق دے بھی دیں تو میں ان سے نکاح کرلوں گا، کیونکہ زید اس شادی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے ادھر رسول اسلام بھی لوگوں کی قیل وقال سے خائف تھے کیونکہ عرب کے دستور کے مطابق اگر کسی شخص نے کسی کو اپنا لڑکا بنا رکھا ہو تو اس کی بیوی سے(طلاق کی صورت میں) نکاح کرنا بُرا سمجھا جاتا ہے۔

ادھر ایک مدت کے بعد جناب زید نے جناب زینب کو طلاق دیدی، اور جب طلاق ہوگئی تو خداوندعالم نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ جناب زینب سے نکاح کرلیں، تاکہ عرب میں مشهور غلط رواج کو ختم کردیا جائے کہ منھ بولے بیٹے کی بیوی سے شادی کرنا حرام یا بُرا ہے۔

چنانچہ خداوندعالم نے اس بات کی حکایت کی ہے:

( فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِنْهَا وَطْراً زَوَّجْنَاکَهٰا لِکَیْ لٰایَکُوْنَ عَلَی الْمُو مِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْ اَزْوَاجِ اَدْعِیَائِهِمْ ) ( ۸۸ )

”غرض جب زید اپنی حاجت پوری کرچکا (اورزینب کوطلاق دیدی) تو ہم نے (حکم دے کر) اس عورت (زینب) کا نکاح تم سے کردیا تاکہ عام مومنین کو اپنے منھ بولے لڑکوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں کسی طرح کی تنگی نہ رھے“

اس آیت مبارکہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ نکاح خداوندعالم کے حکم سے تھا تاکہ حکمِ شریعت واضح ہوجائے اور عملی طور پر مساوات کا بہترین ثبوت پیش کیا جاسکے۔

بعض دشمنان دین (خصوصا انگریزوں) نے اس سلسلہ میں بہت سے قصے اور افسانہ گڑھ ڈالے او ریہ کھا کہ جب حضرت محمد زید کے گھر جاتے تھے تو ان کی بیوی کو تعجب سے دیکھتے تھے چنانچہ انھوں نے زید کو طلاق کے لئے ابھارا تاکہ خود زینب سے شادی کرلیں۔

لیکن ان کا یہ گمانِ ناقص، صاحبان غور وفکر کے نزدیک بالکل باطل ومردود ہے کیونکہ جناب زینب آپ کے چچا کی لڑکی تھیں اور آپ نے شادی سے پہلے بھی ان کو دیکھا تھا او ران کوپہچانتے تھے او راگر آپ کے دل میں ان سے شادی کرنے کی ذرا بھی رغبت ہوتی تو پہلے ہی ان سے شادی کرسکتے تھے اور زید کو ان سے شادی کرنے کے لئے نہ کہتے۔

۸ ۔ جویریة بنت الحارث:

یہ قبیلہ بنی مصطلق سے تعلق رکھتیں تھیں اور اپنے قبیلہ والے سے ہی شادی کی، لیکن جب وہ اسیر کرکے مدینہ لائی گئیں اور وہ مسلمانوں کے حصے میںآ گئیں ، چنانچہ انھوں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اپنے کو ایک مبلغ معین میں خرید لیں اور نبی اکرم کے پاس آئیں او راپنا حسب ونسب اور حالِ حاضر کی حالت بتائی اور درخواست کی کہ آپ اس مبلغ کی ادائیگی میں مدد کریں، چنانچہ رسول اسلام نے ان پر لطف وکرم اور مھربانی واکرام کرنے کا ارادہ کیا گویا ان کی قوم والوں کو اس کام سے اسلام کی طرف رغبت دلائی اور آپ نے ان کو وہ مبلغ دیدیا تاکہ وہ مبلغ دیدیں او رآنحضرت سے نکاح کرلیں، چنانچہ اس واقعہ سے سب لوگوں کو خوشی ہوئی۔

چنانچہ اس شادی کا سب سے پہلا اثر یہ ہوا کہ اس قبیلہ کے جو اسیر مسلمانوں کے پاس تھے وہ سب نے آزاد کردئے کیونکہ یہ سب رسول اسلام کے سسرالی رشتہ دار ہوگئے تھے۔

۹ ۔ صفیہ بنت حي:

یہ قوم یهود سے تعلق رکھتی تھیں اور انھوں نے اپنے ہی قبیلہ والوں سے دو مرتبہ شادی کی تھی، لیکن جب جنگ خیبر ہوئی تو ان کو اسیر کرلیا گیا تب رسول اسلام نے ان سے نکاح کرلیا تاکہ اسیروں کے حال پر رحم وکرم کامکمل ثبوت دیا جاسکے۔

۱۰ ۔ ام حبیبة بنت ابی سفیان:

ان کی بھی پہلے شادی ہوچکی تھی اور انھوں نے اپنے شوھر اور مسلمان مھاجرین کے ساتھ حبشہ ہجرت کی، لیکن وھاں جاکر ان کا شوھر مرتد ہوگیا لیکن یہ اپنے اسلام پر باقی رھیں،عالمِ غربت میں اپنے دین وایمان کی حفاظت کرتی رھیںاور ایک مدت تک حبشہ میں مشکلات کی زندگی گذارتی رھیں کیونکہ ان کی دیکھ بھال کرنے والا شوھر بھی نہیں تھا او رنہ ہی مکہ واپس پلٹ سکتی تھیں چونکہ ان کے باپ اور ان کے بھائی او ردیگر قبیلہ والے دشمنان اسلام کی اسیری میں تھے۔

چنانچہ جب رسول اسلام نے اس واقعہ کی تفصیل سنی تو ایک شخص کو حبشہ بھیجا تاکہ ان سے جاکر نکاح کی بات کرے، چنانچہ انھوں نے بھی موافقت کی، اور جعفر بن ابی طالب کے ساتھ مدینہ واپس آگئیں اور رسول اسلام نے ان سے نکاح کرلیا اور یہ ام المومنین کے دائرے میں شامل ہوگئیں، گویا رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ان کی حبشہ کی مشکلوں پر صبر وتحمل کرنے اور راہ اسلام میں استقامت کرنے کی وجہ سے ان سے نکاح کیا۔

۱۱ ۔ میمونہ بنت الحارث:

یہ بھی بیوہ تھیں اور ان کی عمر ۴۹ سال تھی انھوں نے اپنے نفس کو رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو ھبہ کردیا تاکہ آپ بھی ازواج نبی میں شامل ہوجائیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَاْمْرَاٴةً مَوْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيْ ) ( ۸۹ )

” ایماندار عورت اگر وہ اپنے کو (پیغمبر )بنی کو دیدے اور نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہتے ہوں۔“

چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ان پر لطف وکرم کیا او ران کو بھی امھات المومنین میں شامل کرلیا۔

قارئین کرام ! کیا کوئی شخص ازواج نبی کی مذکورہ تفصیل پڑھنے کے بعد بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمایک شهوت پرست تھے؟! کیا ایسے شخص کو جس نے بیواو ں اور بوڑھی عورتوں سے نکاح کیا ہو اس کے بارے میں یہ کھا جاسکتا ہے کہ غرائز جنسی اور شهوت پرستی کے جال میں پھنسے ہوئے تھے، نہیں ھرگز نھیں۔

بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمایک معمولی انسان نہ تھے بلکہ خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول تھے او رایسے انسان تھے جو ہر قسم کی شهوت پرستی سے پاک وپاکیزہ تھے اور شعور کے اس بلند درجہ پر فائز تھے کہ جھاں پر انسانیت سے بے پناہ محبت والفت اور ذمہ داری کا احساس پایا جاتا ہے۔

عصمت

ھر صاحب عقل پر یہ بات واضح ہے کہ نبی چونکہ پیغامات الٰھی کولوگوں تک پهونچاتا ہے اور ان کے سامنے دینی احکامات پیش کرتا ہے لہٰذا اس کی باتوں پراس وقت یقین کیا جاسکتا ہے جب وہ صادق ہو اور بھول چوک اور خطا وغلطی سے پاک ہو، اور ہر طرح کی معصیت وگناہ سے دور ہو ،نیز خدا کی مکمل طریقہ سے اطاعت کرتا ہو،تاکہ (یقینی اور قطعی طور پر ) ان تمام چیزوں سے پاک ومنزہ ہو جو اس کے اقوال، اعمال اور دیگر امور میں باعثِ شک بنتے ہوں۔

چنانچہ اسی چیز کو علماء علم کلام”عصمت “ کہتے ہیں۔

اس بنا پر عصمت کے معنی ایک ایسی داخلی طاقت ہے جو نبی کو ترکِ طاعت، فعل معصیت اور بری باتوں سے روکتی ہے۔

انبیاء (ع) کی عمومی زندگی کی معرفت کے بعد انسان اس نتیجہ پر پهونچ جاتا ہے کہ نبی کے لئے صاحب عصمت ہونا ضروری ہے اور ہمارے لئے انبیاء کی عصمت پر یقین رکھنا واجب ہے، چنانچہ شیعہ حضرات انبیاء (ع) کی عصمت کی ضرورت پر زیادہ اصرار کرتے ہیں اور اسلامی فرقوں میں صرف ہمارا واحد مذھب ہے جو انبیاء (ع) کی عصمت کا قائل ہے چونکہ دوسرے اسلامی فرقے انبیاء (ع) کی عصمت مطلقہ کو ضروری نہیں سمجھتے، جبکہ فرقہ معتزلہ اگرچہ انبیاء (ع) کو گناہِ کبیرہ سے معصوم مانتاھے لیکن ان کے لئے گناہ صغیرہ کو جائز جانتا ہے البتہ ایسے گناہِ صغیرہ جو فقط ثواب کو کم کرتے ہیں لیکن باعث عذاب نہیں ہوتے۔( ۹۰ )

اور چونکہ مسئلہ واضح ہے لہٰذا اس میں زیادہ گفتگو اور دلیل کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ خود انسان کا وجدان اور دل اس بات کی گواھی دیتا ہے کہ وہ نبی جو خطا وغلطی کرتا ہو اور معصیت وگناہ کا مرتکب ہوتا ہو اس صورت میں کوئی بھی انسان اس کی اطاعت وپیروی نھیںکرے گا اور نہ ہی اس کے قول وفعل او رامر ونھی کو قبول کرے گا۔

قارئین کرام ! اس سلسلہ میں بہت سی کلامی کتابوں میں بغیر سوچے سمجھے لکھ دیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں ان لوگوںکے وہم کی وجہ سے قرآن مجید کی وہ آیات ہیں جن کے ظاہر سے اس بات کااشارہ ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمگناہ اور معصیت کے مرتکب ہوئے۔

لیکن جب ہم بحثِ نبوت اور نبی کی عظمت کا صحیح طریقہ سے جائزہ لینا چاھیں تو ہمیں اس طرح کی آیات کے ظاہر سے پرھیز کرتے ہوئے ان کے اصل مقصد تک پهونچنا چاہئے یھاں تک کہ ہم پر حقیقت امر واضح ہوجائے اور ہم شکوک وشبھات کا سدّ باب، مستحکم دلیل وبرھان اور فہم صحیح سے کردیں۔ (لہٰذا مناسب ہے کہ پہلے ہم ان آیات کو بیان کریں جن کے ذریعہ سے مخالفین عصمت نے استدلال کیا ہے اور پھر ان کا مکمل جواب پیش کریں۔)

پہلی آیت:

ارشاد خداوندعالم ہوتا ہے:

( لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاٴَخَّرَ ) ( ۹۱ )

جیسا کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے گناہ کرنے پر واضح طور پر دلالت کرتی ہے (اگرچہ ان کی بخشش کا وعدہ کیا گیا ہے)

جواب :

قارئین کرام ! اس سلسلہ میں لفظ ”ذنب“ کے بارے میں بعض مفسرین نے بہت سی وجوھات بیان کی ہیں ان میں سب سے بہتر وجہ وہ ہے جس کو سید مرتضیٰ نے اختیار کیا ہے ، (سید مرتضیٰ کا علم وادب اور لغت میں منفرد مقام ہے) چنانچہ موصوف فرماتے ہیں:

”آیہ کریمہ میں لفظ ”ذنبک“ سے مراد امت محمدی کے گناہ ہیں کیونکہ ذنب مصدر ہے اور مصدر کبھی کبھی فاعل کی طرف مضاف ہوتا ہے مثلاً ”اعجبنی شعرک اٴو ادبک او نثرک “ (مجھے تمھارے اشعار یا نثر اور ادب پر تعجب ہے) کیونکہ اس مثال میں مصدر اپنے فاعل کی طرف مضاف ہوا ہے، لیکن کبھی کبھی مصدر اپنے مفعول کی طرف بھی مضاف ہوتا ہے مثلاً: ”ساء نی سجنک ا و مرضک “ ( میں آپ کے قید ہونے یا مرض میں مبتلاهونے کی وجہ سے پریشان ہوا) کیونکہ اس مثال میں مصدر اپنے مفعول کی طرف مضاف ہوا ہے اور جس کو قید ہوئی یا بیمارهو وہ مفعول ہے۔

اب آئےے قرآن مجید کی اس آیت میں دیکھتے ہیں کہ لفظ ”ذنب“ مفعول کی طرف اضافہ ہوا ہے اور ذنب سے مراد امت کے ذریعہ نبی کے اوپر واقع ہونے والے سبّ و شتم ا ورمذاق اڑانے کے گناہ ہیں نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی تکذیب اور جنگ میں آپ کو اذیت دینے والے کے گناہ مراد ہیں۔

اور اگر قرآن کی آیت کے اس طرح معنی نہ کریں تو آیت کی تفسیر نہیں ہوسکتی، آیت کو ملاحظہ فرمائیں ارشاد ہوتا ہے:

( اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحاً مُّبِیْناً لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاٴَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَیْکَ ) ( ۹۲ )

”اے رسول یہ حدیبیہ کی صلح نہیں (بلکہ) ہم نے حقیقتاً تم کو کھلم کھلا فتح عطا کی ہے تاکہ خدا تمھاری امت کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردے اور تم پر اپنی نعمتیں تمام کردے۔“

کیونکہ اس آیہ کریمہ میں فتح کے بعد غفران وبخشش کا ذکر ہے اور جس روز فتح حاصل ہوئی اس روز غفران نہیں تھی کیونکہ یہ آیت صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی، خداوندعالم نے اس صلح کانام فتح رکھا، اور اسی صلح کے ذریعہ سے فتح مکہ کے اسباب فراہم ہوئے، چنانچہ اس طرح سے آیت کے معنی واضح ہوجاتے ہیں :

اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحاً مُبِیْناً لِیَغْفِرَلِاَجَلِکَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِ قومکَ نَحْوِکَ وَمَا تَاٴَخَّرَمنه بعد هذا الصلح والی ان َیُتِمَّ الفتح ولیتم نِعْمَتَهُ عَلَیْکَ بالفتح الکبیر والنصر العظیم

یعنی اے میرے حبیب ہم نے تم کو واضح طور پر فتح وکامیابی عنایت کی اور اس صلح کے بعد سے مکمل کامیابی تک آپ کی وجہ سے آپ کی قوم کے گذشتہ وآئندہ کے گناہ بخش دئے تاکہ خدا اس عظیم فتح کے ذریعہ تم پر اپنی نعمتیں نازل کرے۔

قارئین کرام ! اگر مذکورہ آیہ مبارکہ کے معنی بعض کج فکر لوگوں کی طرح کریں کہ ذنب سے مراد بذات خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے گناہ ہیں تو پھر اس فتح کے بعد غفران وبخشش کوئی معنی نہیں رکھتے، کیونکہ اس بخشش کے سوا اس کے اور کوئی معنی نہیں ہوتے کہ فتح کے بعد ان لوگوں کے گناہ بخش دئے جائیں جنھوں نے رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی شان میں بے ادبی کی، ان لوگوں کے وطن کو لشکر نبوی کے ذریعہ فتح کرائے او ران کے جاھلیت کے زمانہ کو ختم کردے۔

دوسری آیت:

( وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِی اٴَنْعَمَ اللهُ عَلَیْهِ وَاٴَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اٴَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللهَ وَتُخْفِی فِی نَفْسِکَ مَا اللهُ مُبْدِیهِ وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللهُ اٴَحَقُّ اٴَنْ تَخْشَاهُ فَلَمَّا قَضَی زَیْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاکَهَا ) ( ۹۳ )

”اے رسول اس وقت کو یاد کرو جب اس شخص (زید) سے کہہ رھے تھے جس پر خدا نے احسان (الگ)کیا اور تم نے اس پر (الگ)احسان کیا ،(جناب زید کو حکم ہوتا ہے کہ)تم اپنی زوجہ (زینب) کو اپنی زوجیت میں رہنے دو اور خدا سے ڈرو، غرض جب زید اپنی حاجت پوری کرچکا (طلاق دیدی) تو ہم نے (حکم دے کر) اس عورت (زینب) کا نکاح تم سے کردیا“

جیسا کہ بعض لوگوںنے دعویٰ کیا ہے کہ اس آیہ کریمہ میں رسول اسلام کی سرزنش اور ملامت کی گئی ہے کیونکہ وہ لوگوں کی قیل وقال سے خوف زدہ تھے۔

جواب:

جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیںکہ یہ آیہ کریمہ زید بن حارثہ اور ان کی زوجہ جناب زینب بنت جحش کے بارے میں ہے او رہم نے چند صفحے قبل اس بارے میں تفصیل بیان کی ہے جس کے مطالعہ کے بعد قارئین کرام آیت کے سیاق وسباق سے اچھی طرح آگاہ ہیں چنانچہ آپ حضرات اس آیت کے ذیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی کوئی سرزنش اور ملامت نہیں پاتے۔

تیسری آیت:

( عَفَا اللّٰهُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وتَعْلَمَ الْکَاذِبِیْنَ ) ( ۹۴ )

بعض لوگوں کا گمان یہ ہے کہ کلمہ ”عفا الله عنک“ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے گناہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ بخشش اور معاف کرنا گناہ او رخطا کے بعد ہی تصور کیا جاسکتا ہے۔

جواب:

حقیقت یہ ہے کہ اس آیہ کریمہ کے معنی اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتے جب تک اس کے سیاق وسباق کو مد نظر نہ رکھیں کیونکہ ماقبل ومابعد کو سامنے رکھ کر ہی آیت کے اصلی معنی سمجھے جاسکتے ہیں۔

ارشاد خداوندی ہوتا ہے:

( لَوْ کَانَ عَرَضًا قَرِیبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لَاتَّبَعُوکَ وَلَکِنْ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ وَسَیَحْلِفُونَ بِاللهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَکُمْ یُهْلِکُونَ اٴَنفُسَهُمْ وَاللهُ یَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَکَاذِبُونَ عَفَا اللهُ عَنْکَ لِمَ اٴَذِنتَ لَهُمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْکَاذِبِینَ لاَیَسْتَاٴْذِنُکَ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اٴَنْ یُجَاهِدُوا بِاٴَمْوَالِهِمْ وَاٴَنفُسِهِمْ وَاللهُ عَلِیمٌ بِالْمُتَّقِینَ إِنَّمَا یَسْتَاٴْذِنُکَ الَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِی رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُونَ وَلَوْ اٴَرَادُوا الْخُرُوجَ لَاٴَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً وَلَکِنْ کَرِهَ اللهُ انْبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِیلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقَاعِدِینَ ) ( ۹۵ )

”(اے رسول ) اگر سردست فائدہ اور سفر آسان ہوتا تو یقیناً یہ لوگ تمھارا ساتھ دیتے مگر ان پر مسافت کی مشقت طولانی ہوگئی، اور (اگر پیچھے رہ جانے کی پوچھو گے تو )یہ لوگ فوراً خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں سکت ہوتی تو ہم بھی ضرور تم لوگوں کے ساتھ ہی چل کھڑے ہوتے (یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھاکر ) اپنی جان آپ ھلاک کئے ڈالتے ہیں او رخدا تو جانتا ہے کہ یہ لوگ بیشک جھوٹے ہیں ۔(اے رسول ) خدا تم سے درگزر فرمائے تم نے انھیں (پیچھے رہ جانے کی)اجازت ہی کیوں دی تاکہ (تم ایسا نہ کرتے تو) سچ بولنے والے (الگ )ظاہر ہوجاتے اور تم جھوٹوں کو (الگ) معلوم کرلیتے۔ (اے رسول ) جو لوگ (دل سے) خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو اپنے مال سے اور اپنی جانوں سے جھاد (نہ) کرنے کی اجازت مانگنے کے نہیں (بلکہ وہ خود جائیں گے)

اور خدا پرھیزگاروں سے خوب واقف ہے (پیچھے رہ جانے کی) اجازت تو بس وھی لوگ مانگیں گے جو خدا او رروز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل (طرح طرح کے) شک کررھے ہیں تو وہ اپنے شک میں ڈانواںڈول ہورھے ہیں (کہ کیاکریں او رکیا نہ کریں)اور اگر یہ لوگ (گھر سے) نکلنے کی ٹھان لیتے تو (کچھ نہ کچھ) سامان تو کرتے مگر (بات یہ ہے ) خد ا نے ان کے ساتھ بھیجنے کو ناپسند کیا تو ان کو کاھل بنادیا اور (گویا) ان سے کہہ دیا کہ تم بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے (مکھی) مارتے) رهو۔“

جواب:

قارئین کرام ! ان آیات میں غور وفکر کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کلمہ ”عفا الله عنک“ میں گناہ شرعی نہیں ہے یعنی حکم خدا کی مخالفت نہیں کی بلکہ ان آیات میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو اس بات کی ہدایت کی گئی ہے کہ آپ جنگ میں شرکت نہ کرنے والوں کے جھوٹ وسچ کو کن طریقوں سے پہچانےں تاکہ آپ کو اپنے اصحاب میں صادقین وکاذبین کی شناخت ہوجائے، کیونکہ اگر آپ ان لوگوں کی تاخیر میں اجازت نہ دیتے تو جھوٹے اور سچوں کی پہچان ہوجاتی، لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ان لوگوں کو جنگ میں شرکت نہ کرنے کی اجازت دیدی جو یہ کہہ رھے تھے کہ ہم جنگ میں جانے سے معذور ہیں لہٰذا ان کی سچائی کا ثبوت نہ مل سکا کیونکہ ان میں سے بعض لوگ سچے تھے اور بعض لوگ صرف بھانہ کررھے تھے لیکن ان کے درمیان کوئی پہچان نہ ہوسکی۔

چوتھی آیت:

( وَوَجَدَکَ ضَالاًّ فَهَدیٰ ) ( ۹۶ )

اور چونکہ ضلال عصمت کے مخالف ہے اور گمان کرنے والوں نے یہ گمان کرلیا کہ جس میں ضلالت وگمراھی پائی جائے گی وہ ذات معصوم نہیں ہوسکتی۔

جواب:

حقیقت یہ ہے کہ ضلال کے معنی ذھاب اور انصراف کے ہیں جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمپھلے یہ نہیں جانتے تھے کہ کس طرح خدا کی عبادت کی جائے اور اپنے واجبات کی ادائیگی کرکے کس طرح تقرب الٰھی حاصل کیا جائے تو اس وقت تک خاص معنی میں عبادت نہیں کرتے تھے یھاں تک کہ خداوندعالم نے آپ کی ہدایت کی اور رسالت اسلام سے سرفراز کیا اور مذکورہ آیت انھیں آیات میں سے ہے جن میں خداوندعالم نے اپنے نبی پر نازل کردہ نعمتوں کو شمار کیا اور اپنی خاص عنایات آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے شامل حال رکھیں۔

ارشاد ہوتا ہے:

( اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْماً فَآویٰ وَوَجَدَکَ ضَالاًّ فَهَدیٰ وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَاَغْنٰی ) ( ۹۷ )

”کیا اس نے تم کو یتیم پاکر (ابوطالب) کی پناہ نہیں دی (ضرور دی) او رتم کواحکام سے ناواقف پایا تو تمھیں منزل مقصود تک پهونچادیا او رتم کو تنگدست پاکر غنی کردیا“

چنانچہ یہ آیات واضح طور پر ہمارے مطلوب ومقصور پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ خداوندعالم نے جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو یتیم پایا تو آپ کو پناہ دی اور پرورش کی اور جب آپ کو تنگدست پایا تو آپ کو غنی کردیا اس کے بعد جب خاص معنی میں عبادت کا طریقہ نہیں آتا تھاتو خداوندعالم نے عبادت خاص کی طرف ہدایت کی۔

پانچویں آیت:

( وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ ) ( ۹۸ )

”اور تم سے وہ بوجھ اتاردیا“

جبکہ عرف عام میں”وزر“ کے معنی گناہ کے ہیں۔

جواب:

حقیقت یہ ہے کہ لغت میں ”وزر“ کے معنی ثقل (بوجھ) کے ہیں اور گناهوں کو اسی وجہ سے ”وزر“ کھا جاتا ہے کیونکہ گناهوں کا انجام دینے والا سنگین ہوجاتا ہے، چنانچہ اس بناپر ہر وہ چیز جو انسان کو بوجھل کردے تو اس کو ”وزر“ کھا جاتا ہے حقیقی ثقل سے شباہت کی وجہ ہے جیسا کہ یہ ذنب سے بھی مشابہ ہے اور ذنب کو بھی ”وزر“کھا جاتا ہے۔

لیکن وہ چیز جو رسول اسلام کو سنگین اور بوجھل کرتی تھی،وہ آپ کی قوم کا شرک وکفر اور آپ کی رسالت کا انکار نیز آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنا تھا لیکن جس دین کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلملے کر نازل ہوئے آپ اس کی مسلسل دعوت دیتے رھے جبکہ آپ دشمنوں کے مقابلہ میں کمزور اور ضعیف تھے او رنہ ہی آپ کے ساتھ بہت زیادہ افراد تھے جو اذیت اور شرارت کے وقت ان کا مقابلہ کرتے۔

اور یھی معنی ہیں ”وزر“ کے یعنی ایسی سنگینی جس کے غم والم کی وجہ سے آپ کی کمر ٹوٹی ہوئی تھی،اور شاید اسی معنی میں آیات کاا دامہ بہترین شاہد ہو کہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً ) ( ۹۹ )

کیونکہ رفع ذکر اور مشکلات کے بعد آسانیوں کا تذکرہ اس صورت میں صحیح ہے جب وزرسے مراد رسول اسلام کی وہ سنگینی مراد لی جائے جو آپ کی قوم میں ہدایت اور اسلام سے بے توجھی کی وجہ سے آپ کے دل میں موجود تھی۔

قارئین کرام ! یہ تھی نبوت بمعنی عام کی گفتگو جو ہدایت بشر اور بہترین نظام زندگی کو سازوسامان بخشنے والی ہے اور یہ تھی بحث ”خاتم النبین“ (ص) کی جو تمام لوگوں کے رسول بناکر بھیجے گئے جو ”شاہد بھی ہیں اور مبشر ونذیر بھی جو خدا کے حکم سے خدا کی طرف دعوت دینے والے سراج منیر بھی ہیں۔ آپ کی ذات گرامی، وہ ہے جن کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهویٰ اِنْ هو الِاَّ وَحْیٌ یُوْحٰی ) ( ۱۰۰ )

” وہ تو اپنی خواہش سے کچھ بولتے ہی نہیں یہ تو بس وحی ہے جو بولی جاتی ہے“

آخر کلام میں اس گفتگو کا اختتام اس طرح کرتے ہیں:

( رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِیْنَ ) ( ۱۰۱ ) و( اَلْحَمُدْ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدَانَا لِهٰذَا وَمَاکُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَو لَا اَنْ هَدَانَا اللّٰهُ ) ( ۱۰۲ )

”اے ہمارے پالنے والے جو کچھ تو نے نازل کیا ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے تیرے رسول (عیسیٰ (ع)) کی پیروی اختیار کی“ ”شکر ہے اس خدا کا حس نے ہمیں اس (منزل مقصود) تک پهونچایا اور اگر خدا ہمیں یھاں تک نہ پهونچاتا تو ہم کسی طرح یھاں تک نہیں پهونچ سکتے تھے“۔

____________________

[۱] سورہ انعام آیت ۴۸۔

[۲] سورہ نساء آیت ۱۳۶۔

[۳] سورہ حشر آیت ۲۳

[۴] سورہ حشر آیت ۲۴۔

[۵] سورہ حشر آیت ۲۲)

[۶] سورہ آل عمران آیت ۱۹۳،۱۹۴۔

[۷] سورہ مائدہ آیت ۱۲۰۔

[۸] سورہ ہود آیت ۱۰۷۔

[۹] سورہ یٰس آیت ۸۳۔

[۱۰] سورہ انبیاء آیت ۲۳ ۔

[۱۱] رجوع فرمائیں باب” عدل الٰھی بین جبر واختیار “ پر۔

[۱۲] سورہ بقرہ آیت ۱۲۰۔

[۱۳] سورہ نحل آیت ۶۴۔

[۱۴] براہمہ کے سلسلہ میں امام غزالی نے اپنی کتاب ”المنخول“ ص ۱۳ میں وضاحت کی ہے اس سلسلہ میں ڈاکٹر عبد الرحمن بدوی کی کتاب ”مذاھب الاسلامیین“ جلد اول ص ۷۴۶ پر بھی توجہ کرسکتے ہیں۔

[۱۵] سورہ آل عمران آیت ۱۶۴۔

[۱۶] سورہ نحل آیت ۸۹۔

[۱۷] سوره بقره آیت ۱۲۴

[۱۸] سورہ ص آیت۲۶۔

[۱۹] سورہ صافات آیت۱۸۱۔

[۲۰] سورہ احزاب آیت۳۹۔

[۲۱] سورہ بقرہ آیت ۲۱۳۔

[۲۲] سورہ مائدہ آیت ۶۷۔

[۲۳] سورہ انفال آیت ۶۴۔

[۲۴] مجمع البحرین ، علامہ طریحی جلد اول ص ۴۰۵ ،مطبوعہ نجف اشرف ۱۳۷۸ھ۔

[۲۵] مجمع البحرین ، علامہ طریحی جلد اول ص ۴۰۵ ،مطبوعہ نجف اشرف ۱۳۷۸ھ۔

[۲۶] یعنی اگر مریض کو شفا دینے کا دعویٰ کرے تو مریض شفایاب ہوجائے ایسا نہ ہو کہ شفا دینے کا دعویٰ کرے اور وہ مرض زیادہ ہوجائے یا مریض کا جنازہ نکل جائے، مترجم)

[۲۷] سورہ رعد آیت ۳۸، وسورہ غافر آیت ۷۸ ۔

[۲۸] سورہ یوسف آیت ۱۱۱۔

[۲۹] سورہ حاقہ آیت ۴۴ تا ۴۶۔

[۳۰] سورہ یونس آیات ۳۷ تا ۳۸۔

[۳۱] سورہ سباء آیت ۲۸۔

[۳۲] سورہ انبیاء آیت ۱۰۷۔

[۳۳] سورہ اعراف آیت ۱۵۸۔

[۳۴] سورہ انعام آیت ۱۹۔

[۳۵] سورہ حج آیت ۴۹۔

[۳۶] سورہ اعراف آیت ۵۹۔

[۳۷] سورہ اعراف آیت ۷۳۔

[۳۸] سورہ زخرف آیت ۴۶۔

[۳۹] سورہ صف آیت ۶۔

[۴۰] المنخول غزالی ص ۲۸۸۔

[۴۱] سورہ بقرہ آیت ۱۲۰۔

[۴۲] سورہ آل عمران آیت ۸۵۔

[۴۳] سورہ اسراء آیت۵۹۔

[۴۴] البیان فی تفسیر القرآن جلد اول ص ۷۶تا۷۹۔

[۴۵] سورہ انفال آیت ۳۳۔

[۴۶] سورہ فاطر آیت ۲۸۔

[۴۷] المعجزة الخالدة ص ۲۱۔

[۴۸] سورہ یوسف آیت۸۰۔

[۴۹] سورہ حج آیت ۷۳۔

[۵۰] سورہ انبیاء آیت ۲۲۔

[۵۱] سورہ ہود آیت۴۴۔

[۵۲] سورہ اسراء آیت۸۸۔

[۵۳] سورہ آل عمران آیت ۴۱۔

[۵۴] سورہ مریم آیت ۱۰۔

[۵۵] سورہ حاقہ آیت ۷۔

[۵۶] سورہ ہود آیت۶۵۔

[۵۷] سورہ لیل آیت۱۔

[۵۸] سورہ حاقہ آیت ۷۔

[۵۹] سورہ بقرہ آیت ۵۱۔

[۶۰] سورہ نساء آیت ۸۲۔

[۶۱] سورہ طٰہ آیت ۵۳۔

[۶۲] سورہ انعام آیت ۱۲۵۔

[۶۳] اللہ یتجلی فی عصر العلم ص ۱۶۶۔

[۶۴] سورہ حجر آیت ۲۲۔

[۶۵] طریقہ زاد ولد درخت۔

[۶۶] القرآن الکریم والعلوم الحدیثہ ۸۱۔۸۵۔

[۶۷] سورہ قیامت آیت ۷تا ۱۰۔

[۶۸] سورہ نحل آیت ۶۸۔

[۶۹] القرآن الکریم والعلوم الحدیثہ ص ۱۹تا ۲۱۔

[۷۰] سورہ حج آیت ۵۔

[۷۱] القرآن الکریم والعلوم الحدیثہ ص ۸۲تا ۸۳۔

[۷۲] سورہ بقرہ آیت ۲۲۲۔

[۷۳] الاسلام والطب والحدیث ص ۴۰۔

[۷۴] سورہ واقعہ آیت ۷۵تا ۷۶۔

[۷۵] اللہ یتجلی فی عصر العلم ص ۱۶۶۔

[۷۶] سورہ حجر آیت ۱۹۔

[۷۷] البیان جلد اول ص ۵۴۔

[۷۸] سورہ اسراء آیت ۹۔

[۷۹] سورہ نمل آیت ۸۸۔

[۸۰] سورہ فرقان آیت ۷۔

[۸۱] سورہ اسراء آیت ۹۳۔

[۸۲] ام المومنین جناب عائشہ راوی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جناب خدیجہ سے جس قدر محبت کیا کرتے تھے کسی بھی بیوی سے اس قدر محبت نہیں کرتے تھے اگرچہ میں نے ان کو نہیں دیکھا، لیکن اس بات کا اندازہ میں نے اس بات سے کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمجناب خدیجہ کا کثرت سے ذکرکیا کرتے تھے، اور جب کبھی آپ گوسفند ذبح کرتے تھے توجناب خدیجہ کی چاہنے والیوں کو بھیج دیتے تھے۔ اسی طرح جناب عائشہ کا بیان ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمگھر سے باھر نکلتے تھے تو جناب خدیجہ کا تذکرہ اور ان کی مدح وثنا کیا کرتے تھے ، جب ایک روز آپ نے اسی طرح جناب خدیجہ کا ذکر کیا تو میں نے آنحضرت سے عرض کیا: ”آپ کیوں اس قدر خدیجہ کا ذکر کرتے ہیں درحالیکہ وہ تو ایک بوڑھی عورت تھی، جبکہ خداوندعالم نے آپ کو ان سے اچھی بیوی عطا کردی ہے“ یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمبہت غضبناک ہوئے، غضب کی وجہ سے آپ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے ،اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا: ”خدا کی قسم اللہ نے مجھے ان سے اچھی زوجہ نہیں دی !!کیونکہ وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائیںجب لوگوں نے میرا انکار کیا اور انھوں نے میری اس وقت تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا، انھوں نے اپنے مال میں مجھ سے اس وقت مساوات کی جب لوگوں نے میری ناکہ بندی کررکھی تھی، خداوندعالم نے ان سے مجھے اولاد عطا کی جب مجھے ”لاولد“کہہ کر طعنہ دیا جاتا تھا“ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ باتیں سن کر میں نے اپنے دل میں یہ فیصلہ کرلیا کہ اب کبھی جناب خدیجہ کو اس طرح برا نہ کهوں گی۔ (مزید تفصیلات کے لئے رجوع فرمائیں: نھایة الارب ج۱۸ ص۱۷۲)

[۸۳] مورخین کے درمیان مشهور یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی چار بیٹی تھیں: ۱۔زینب۔ ۲۔ رقیہ۔ ۳۔ام کلثوم۔ ۴۔ فاطمہ زھرا (سلام اللہ علیھا)

لیکن اگر کوئی تاریخ کے اوراق کو الٹ کر دیکھے تو اپنے کو اس شھر ت کا مخالف پائے گا، اور اس بات کا یقین کرے گا کہ جناب فاطمہ زھرا = کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی کوئی بیٹی نہ تھی، چنانچہ ہم یھاں پر مختصر طور پر ایک اشارہ کرتے ہیں:

الف: جناب زینب:

بعض مورخین کا بیان ہے کہ جب جناب زینب کی ولادت ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی عمر ۳۰/ سال تھی (استیعاب ج۴ص ۲۹۲، اسد الغابہ ج۵ص۴۶۷، نھایة الارب ج۸ص ۲۱۱)

زینب کی شادی ابو العاص بن ربیع بن عبد العزی بن عبد شمس سے ہوئی، اور یہ اس کی خالہ کا لڑکا تھا چنانچہ زینب کے دو بچے تھے ایک علی جو بچپن میں مرگیا دوسرے امامة۔

زینب نے اپنی ماں کے ساتھ اسلام قبول کیا لیکن چونکہ ان کے شوھر نے اسلام قبول نہ کیا لہٰذا ان دونوں میں جدائی ہوگئی، (کیونکہ میاں بیوی میں سے اگر کوئی ایک کافر ہو تو اسلام ان دونوں میں جدائی کا حکم صادر کردیتا ہے) لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمدونوں کی جدائی کو عملی نہیں بناسکے، لہٰذا وہ رسول اسلام کے گھر میں اسلام پر باقی رھی اور ان کا شوھر اپنے شرک پر باقی رھا (ملاحظہ فرمائیں گذشتہ حوالے نیز تاریخ طبری ج ۲ ص۶۶۷، طبقات ابن سعد ج۸ص ۲۴، اسد الغابہ ج ۵ ص ۴۶۷، نھایة الارب ج۱۸ص ۲۱۱)

ہمارا نظریہ یہ ہے جیسا کہ روایات بھی اس بات کی طرف اشارہ کررھی ہے کہ جناب زینب کی عمر بعثت پیغمبر کے وقت دس سال تھی تو کیا یہ ممکن ہے کہ دس سال کی عمر میں شادی بھی ہوجائے اور دوبچوں کی ولادت بھی؟! اور اگر یہ مان لیں کہ شادی سات یا آٹھ سال کی عمر میں ہوئی تو پھر زینب جناب خدیجہ کے پہلے شوھر ابوھالہ کی لڑکی تھی (نہ کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی) (رجوع کریں نھایة الارب ج۱۸ ص۱۷۱)

ب: رقیہ:

ج: ام کلثوم:

جیسا کہ بعض مورخین نے نقل کیا ہے کہ رقیہ کی جب ولادت ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی عمر شریف ۳۳سال تھی اور ام کلثوم اس سے چھوٹی تھی۔ (الاستیعاب ج۴ ص ۲۹۲، نھایة الارب ج۱۸ص ۲۱۲) اور اس بات پر مورخین کا اتفاق ہے کہ ان دونوں کی شادی بعثت سے قبل عتبہ اور عتیبہ (فرزندان ابی لھب بن عبد المطلب) سے ہوئی، اور یہ دونوں اپنے ماں کے ساتھ اول بعثت میں اسلام لائیں(طبقات ابن سعد ج۸ ص ۲۴،۲۵)

اور جب رسول اسلام نے اعلان رسالت کیا تو ابولھب نے اپنے دونوں لڑکوں کو طلاق کا حکم دیدیا، چنانچہ انھوں نے دونوں کو طلاق دیدی، اس کے بعد جناب رقیہ سے جناب عثمان نے شادی کی اور جب کفار ومشرکین نے مسلمانو ںکو پریشان کرنا شروع کیا تو جناب رقیہ نے دیگر مھاجرین کے ساتھ ہجرت کی۔

(تاریخ طبری ج۲ ص ۳۳۰، ۳۳۱، وص ۳۴۰، نھایة الارب ج۱۸ ص ۲۱۲، الاصابہ ج۴ص۲۹۷)

ہم کہتے ہیں کہ جناب رقیہ کے لئے کیسے ممکن ہے کہ سات سال ہونے سے پہلے ہی شادی کرلیں اور طلاق بھی ہوجائے اور ان کی بہن ام کلثوم بھی جو اُن سے ایک سال چھوٹی تھی شادی بھی کرلیں اور طلاق بھی ہوجائے۔

[۸۴] طبقات ابن سعد ج۸ ص ۵۶تا ۵۷۔

[۸۵] سورہ احزاب آیت ۵۶۔

[۸۶] سورہ احزاب آیت ۳۶۔

[۸۷] سورہ احزاب آیت ۳۷۔

[۸۸] سورہ احزاب آیت۳۷۔

[۸۹] سورہ احزاب آیت ۵۰۔

[۹۰] ”مذاھب الاسلامین “ تالیف ڈاکٹر عبد الرحمن بدوی جلد اول ص ۴۷۸، اسی طرح امام غزالی کی کتاب ”المنخول“ پر رجوع فرمائیں، جیسا کہ مولف کہتے ہیں: ”انبیاء (ع) کے لئے عصمت کا قائل ہونا ضروری نہیں ہے“ اس کے بعد اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ہم تو یہ بات بھی جائز جانتے ہیں کہ خدا کسی کافر کو نبی بنائے اور اس کو معجزہ عطا کرے“ اسی طرح مذکورہ کتاب کے محقق نے اس بات پر حاشیہ لگایا اور کھا: اس سلسلہ میں رافضی مخالف ہیں کیونکہ وہ انبیاء (ع) کو معصیت اور گناہ سے پاک وپاکیزہ مانتے ہیں اسی طرح معتزلہ کا بھی عقیدہ ہے مگر یہ لوگ انبیاء (ع) کے لئے گناہ صغیرہ کو جائز مانتے ہیں۔“

[۹۱] سورہ فتح آیت۲۔

[۹۲] سورہ فتح آیت۱،۲۔

[۹۳] سورہ احزاب آیت ۳۷۔

[۹۴] سورہ توبہ آیت ۴۳۔

[۹۵] سورہ توبہ آیات ۴۲ تا ۴۶۔

[۹۶] سورہ والضحیٰ آیت ۷۔

[۹۷] سورہ والضحیٰ آیت ۶ تا ۸۔

[۹۸] سورہ شرح آیت۲۔

[۹۹] سورہ انشراح آیت ۵،۶۔

[۱۰۰] سورہ نجم آیت ۳تا ۴۔

[۱۰۱] سورہ آل عمران آیت۵۳۔

[۱۰۲] سورہ اعراف آیت ۴۳۔

وجود خدا پر قرآنی آیات

قارئین کرام ! آئےے قرآن مجید کی ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں جن میں خداوندعالم کے وجود کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ درج ذیل آیات میں حیوانات کی خلقت اور دوسرے دقیق نظام کو بیان کیا گیا ہے جن کے مطالعہ کے بعد انسان کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ حساب شدہ نظام یونھی اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوا۔

ارشاد خداوندی ہوتا ہے:

( وَاللّٰهُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّاءٍ فَمِنْهُمْ مَنْ یَمْشِیْ عَلٰی بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی اٴَرْبَعٍ یَخْلُقُ اللّٰهَ مَایَشَآءُ ) ( ۱۴ )

”اور خدا ہی نے تمام زمین پر چلنے والے (جانوروں) کو پانی سے پیدا کیا اوران میں سے بعض تو ایسے ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو دو پاؤں سے چلتے ہیں اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں ، خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔“

( وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالاٴنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهُ ) ( ۱۵ )

”اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چار پایوں کی بھی رنگتیں طرح طرح کی ہیں“

( وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الاٴرْضِ وَلَا طٰٓٓائِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلاّٰ اُمَمٌ اٴَمْثَالُکُمْ ) ( ۱۶ )

”زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا اپنے دونوں پروں سے اڑنے والا پرندہ ہے ان کی بھی تمھاری طرح جماعتیں ہیں“

( اَوَلَمْ یَرَوا اِلٰی الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰفٰتٍ وَیَقْبِضْنَ مَا یُمْسِکُهُنَّ اِلاَّ الرَّحْمٰنُ ) ( ۱۷ )

”کیا ان لوگوں نے اپنے سروں پر پرندوں کو اڑتے نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ہیں اور سمیٹ لیتے ہیں کہ خدا کے سوا انھیں کوئی روکے نہیں رہ سکتا“

( وَالْاَنْعَامِ خَلَقَهَا لَکُمْ فِیْهَا دَفْ ء ٌوَّمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَاْکُلُوْنَ o وَلَکُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تَرِیْحُوْنَ وَحِیْنَ تَسْرِحُوْنَ o وَتَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ اِلٰی بَلَدٍ لَمْ تَکُوْنُوْا بَالِغَیْهِ اِلَّا بِشَقِّ الْاَنْفُسْ اِنَّ رَبَّکُمْ لَرَو فٌ رَحِیْمْ o وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْهَا وَزِیْنَةً وَیَخْلُقُ مَا لٰا تَعْلَمُوْنَ ) ( ۱۸ )

”اسی نے چار پایوں کو بھی پیداکیا کہ تمھارے لئے ان (کی کھال اور اُون ) سے جاڑوں (کاسامان) ہے اس کے علاوہ اور بھی فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو اور جب تم انھیں سرِشام چرائی پر سے لاتے ہو جب سویرے ہی چرائی پر لے جاتے ہو تو ان کی وجہ سے تمھاری رونق بھی ہے اور جن شھروں تک بغیر بڑی جان کپھی کے پہنچ نہ سکتے تھے وھاں تک یہ چوپائے تمھارے بوجھ اٹھائے لئے پھرتے ہیں، اس میں شک نہیں کہ تمھاراپروردگار بڑا شفیق مھربان ہے اور (اسی نے) گھوڑوں ،خچروں اور گدھوں کو( پیدا کیا)تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (اس میں) زینت (بھی) ہے (اس کے علاوہ) اور چیزیں بھی پیدا کرے گا جن کو تم نہیں جانتے“

اقسام حیوانات

ماھرین علم نے حیوانوں کی بہت سی قسمیں بیان کی ہیں، اور ان حیوانوں کے رہنے کی جگہ بھی مختلف ہے مثلاً: خشکی، دریا جن میں مختلف حیوانات رہتے ہیں اور ان حیوانات کے مختلف طریقوں کے ساتھ ایک بہت بڑا اختلاف نظر آتا ہے کیونکہ ہر حیوان اپنی زندگی کے لئے ایک مخصوص گھر بناتا ہے او ران کی غذا بھی مختلف ہوتی ہے۔

یہ منھ ھاضمہ کے لئے سب سے پہلا مرحلہ ہے اور اس کے لئے ایک عظیم فکر کی گئی ہے جو فکر وتصمیم گیری کرنے والے اور ان چیزوں کے خلق کرنے والے کی عظمت پر دلالت کرتی ہے۔

ان حیوانات میں کچھ ایسے ہیں جو صحرائی اور جنگلی ہوتے ہیں جیسے شیر اور بھیڑئے ، ان کے لئے وھاں کوئی غذا نہیں ہوتی مگر جس کا وہ شکار کرلیں چنانچہ ان کے لئے تیز اور سخت دانت اور بہت طاقتور ھاتھ اورپیروں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ یہ شکار کرسکیں ،اسی طرح ان کے لئے پنجوںمیں طاقتور ناخن اور قوی ھاضمہ کا ہونا ضروری ہے تاکہ گوشت اور اپنے سخت کھانے کو ہضم کرسکےں۔

اور کچھ حیوانات ایسے ہیں جو چراگاہ میں زندگی گذارتے ہیں جن سے انسان خدمت لیتا ہے انسان ان کے قوام کے لئے نباتات اور چھوٹے چھوٹے درختوں اور گھاس وغیرہ کے ذریعہ غذا فراہم کرتا ہے، چنانچہ ان کے ھاضمہ کاسسٹم ان کے جسم کے لحاظ سے بنایا گیا ہے ،اسی وجہ سے ان کے منھ نسبتاً بڑے ہوتے ہیں، لیکن ان کا منھ کچھ مخصوص دانتوں سے خالی ہوتا ہے، جن کے بدلے ان کو اللہ نے ایسے دانت دئے ہیں جن کے ذریعہ مختلف درختوں اور گھاس وغیرہ کو بہت جلد کھا جاتے ہیں، اور اس کو ایک دفعہ میں نگل جاتے ہیں لیکن اس کے ہضم کے لئے عجیب مشین موجود ہے ،وہ جو کچھ بھی کھاتے ہیں وہ معدہ میں جاتا ہے جو کھانے کا مخزن ہے اور جب حیوان کھانا کھالیتا ہے اور آرام کے لئے بیٹھتا ہے تو پھر یہ کھانا معدہ سے ایک دوسرے” تجویف“نامی جگہ کی طرف چلا جاتا ہے اور پھراس معدہ کے منھ تک آتا ہے تاکہ ا سکو اچھی طرح کوٹ لے اس کے بعد پھر ایک دوسری تجویف میں چلا جاتا ہے اور پھر چوتھی بار بھی اسی طرح ہوتا ہے کیونکہ یہ تمام فعالیت حیوان کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے۔

چنانچہ آج کے سائنس کا کہنا ہے کہ حیوان کے جسم کے لئے جگالی کرنا نھایت ضروری اور حیاتی ہے کیونکہ گھاس کا ہضم ہونا ایک مشکل کام ہے کیونکہ اس میں ایسے اجزاء اور سلیلوز ہوتے ہیں جن پر سبزی کے خلیے کے غلاف ہوتے ہیںجن کو ہضم کرنے کے لئے حیوان کو کافی وقت کی ضرورت ہوتی ہے اور اب اگر یہ حیوان جگالی نہ کرے اور اس کے لئے حیوان کے پاس مخزن نہ ہو تو اس صورت میں حیوان کا چارہ چرنے میں کافی وقت ضایع ہوگا یھاں تک وہ صبح سے شام تک بھی چرتا رھے گا تب بھی پیٹ نہ بھرے گالہٰذا حیوان کی غذا ہضم ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے پاس ایک ایسا مخزن ہو جس میں وہ اپنی غذا کو جگالی کے ذریعہ تحلیل کرے تاکہ بدہضمی کا شکار نہ ہو اور یہ غذا اس کے لئے سود مند ثابت رھے۔

لیکن پرندوں کے ھاضمہ کا سسٹم مذکورہ حیوانوں سے بالکل الگ ہوتاھے کیونکہ ہر پرندہ کی صرف ایک چونچ ہوتی ہے جس میں ہڈی نما دانت بھی ہوتے اوران کے نہ منھ ہوتا ہے اورنہ ہونٹ ہوتے ہیں چنانچہ پرندہ غذا کو بغیر چبائے کھاتا ہے۔

ان پرندوں کی غذا کی طرح ان کی چونچ بھی الگ الگ طرح کی ہوتی ہیں ان میں جو شکاری پرندے ہوتے ہیں ان کی چونچ قوی اور لمبی ہوتی ہے تاکہ گوشت کو خوب کوٹ لیں اور ”بطخ“ اور” ہنس“ کی چوڑی چونچ ہوتی ہیں تاکہ وہ اپنی غذا مٹی اور پانی دونوں سے تلاش کرسکیں اور چونچ کے اطراف میں چھوٹی چھوٹی کچھ اضافی چیز بھی ہوتی ہے (جس طرح چھوٹے چھوٹے دانت) جو ان کی غذا کے کاٹنے میں مدد کرتی ہیں لیکن چڑیا ،کبوتر اور دوسرے پرندوں کی چونچ چھوٹی ہوتی ہیں تاکہ وہ اپنے ہدف تک پهونچ سکیں۔

ان کے علاوہ بھی ہم اس مخلوقات کی عظیم او رمنظم چیزوں کا مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً حیوانات کے پیر، جن کی وجہ سے حیوان چلتا پھرتا، دوڑتااور بوجھ اٹھاتا ہے، کیونکہ یھی پیر حیوان کو تیز دوڑنے کی صلاحیت عطا کرتے ہیں اورحیوان کے ہر پیر میںکُھر ہوتے ہیں جو دوڑتے وقت احتمالی ضرر سے محفوظ رکھتے ہیں۔

لیکن گائے اور بھینس کے پیر چھوٹے اور مضبوط ہوتے ہیںجن میں کھُر ہوتے ہیں جو زراعتی اور نرم زمین پر چلنے میں مدد کرتے ہیں، اسی طرح اونٹ کے پیر اس قسم کے ہوتے ہیں جو اس کو ریت پر چلنے میں مدد کرتے ہیں اسی طرح اس کے پیروں پر موٹی اورسخت کھال ہوتی ہے جو اس کو کنکریوں اور ریت پر بیٹھنے میں مدد کرتی ہے۔

اسی طرح پرندوں کے پیر بھی ان کی طبیعت کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں چنانچہ ان میں سے بعض گوشت خوار ہوتے ہیں اور ان کے پنچے سخت او رمضبوط ہوتے ہیں تاکہ وہ شکار کرنے میں ان کی مدد کریں جیسے باز اور گدھ،لیکن وہ پرندے جو اناج اور دیگر دانے وغیرہ کھاتے ہیں جیسے مرغ اور کبوتر ان کے پنچوں میں ا یسے ناخن ہوتے ہیں جن سے صرف زمین کھود سکتے ہیں (تاکہ اس میں چھپے دانوں کو نکال سکےں)، لیکن وہ حیوانات جو اپنی غذا پانی میں تلاش کرنے پر مجبور ہیں ان کی انگلیوں کے درمیان ایک پردہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ پانی میں تیر کر اپنی غذا تلاش کرتے ہیں۔

اسی طرح انھی عجیب وغریب خلقت میں سے مینڈھک کی خلقت بھی ہے ، کیونکہ اس کی زبان دوسرے زندہ موجودات سے لمبی ہوتی ہے اور اس کی لمبائی اس کے قدکے نصف ہوتی ہے اور اس میں چپک ہوتی ہے جس سے وہ مکھیوں کا آسانی سے شکار کرتا ہے، کیونکہ مینڈھک بالکل کوئی حرکت نہیں کرتا مگر یہ کہ مکھی اس کے قریب ہوجائے اور جب زبان باھر نکالتا ہے تو اپنے سامنے موجود مکھیوں کا شکار کرلیتا ہے۔

اور واقعاً مینڈھک میں یہ بات کتنی عجیب ہے کہ اگر اس میں وہ گردن نہ ہوتی جس سے وہ اپنے سر کو حرکت دے کر اپنے اطراف میں دیکھتا ہے تو پھر اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتیں جو چاروں جانب (گردن کے حرکت کرنے کی بنا پر) حرکت کرتی ہیں۔

قارئین کرام ! آج کے سائنس نے یہ بات کشف کی ہے کہ اکثر پستاندار " Mammals "حیوانات میں” قوہ شامہ“ (سونگھنے کی قوت)قوی ہوتی ہے برخلاف قوت باصرہ کے، جبکہ پرندوں میں دیکھنے کی قوت زیادہ تیز اور قوی ہوتی ہے اور اس کا راز یہ ہے کہ حیوانات کی غذا معمولاً زمین پر ہوتی ہے اور وہ اس کو سونگھ کر حاصل کرسکتے ہیں لیکن پرندے معمولاً آسمان میں پرواز کرتے ہیں لہٰذا ان کو اپنی غذا کی تلاش میں تیز آنکھوں کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ وہ دور سے اپنی غذا کو دیکھ سکیں۔

لیکن ”مُحّار“(ایک دریائی حیوان) جس کی آنکھیں ہماری طرح ہوتی ہیں البتہ ہماری صرف دو آنکھیں ہوتی ہیں لیکن اس کی کئی عدد ہوتی ہیں اور ان میں لاتعداد چھوٹی چھوتی پتلیاں ہوتی ہیں جن کا احصاء ممکن نہیں ، اور کھا یہ جاتا ہے کہ ان کی مدد سے داہنے سے اوپر کی طر ف دیکھ سکتی ہیں، اور چھوٹی چھوٹی پتلیاں انسانی آنکھوں میں نہیں پائی جاتیں، تو کیا یہ پتلیاں اس محار میں اس وجہ سے ہوتی ہیں کہ اس میں انسان کی طرح سوچنے کی صلاحیت نہیں ہوتی؟ اسی طرح کھا یہ جاتا ہے کہ بعض حیوانوں میں دو آنکھیں اور بعض میں ہزار آنکھیں ہوتی ہیں جو سب کی سب الگ ہوتی ہیں تو کیا طبیعت علم مرئیات میں اتنے عظیم مرتبہ پر فائز ہے۔؟! یعنی کیا یہ تمام کی تمام دقیق اور حساب شدہ چیزیں بغیر کسی خالق کے وجود میں آسکتی ہیں؟!!

اسی طرح مچھلی میں عجیب وغریب حس پائی جاتی ہے جس کی بنا پر دریاؤں کے پتھروں اور دوسری چیزوں سے نہیں ٹکراتی ، چنانچہ بعض ماھرین نے اس سلسلہ میں غور وخوض کرکے یہ نتیجہ پیش کیا ہے کہ مچھلی کے دونوں طرف ایک طولانی خط (لکیر) ہوتا ہے ، جبکہ یہ خط اتنا باریک ہوتا ہے کہ صرف دوربین ہی کے ذریعہ دیکھا جاسکتا ہے اور اس میں قوت حس کے بہت سے اعضاء ہوتے ہیں چنانچہ مچھلی انھیں کے ذریعہ پتھر یا کسی دوسری چیز کا احساس کرلیتی ہے جب پانی پتھروں اور دوسری چیزوں سے ٹکراتا ہے اور یہ پتھر وغیرہ کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل دیتی ہے۔

اسی طرح چمگادڑکی خلقت بھی کتنی عجیب وغریب ہے جیسا کہ ماھرین نے اس پر توجہ دلائی ہے، یہ چمگادڑ رات میں اڑتا ہے لیکن اپنے راستہ میں کسی مکان ، درخت یا کسی دوسری چیز سے نہیں ٹکراتا،چنانچہ اٹلی کے ایک ماھراور سائنسداں نے اس کی قدرت کے سلسلہ میں تحقیق کی، اس نے ایک کمرے میں کچھ رسیاں باندھیں، ہر رسی میں ایک چھوٹی گھنٹی باندھی کہ اگر رسی سے کوئی بھی چیز ٹکرائے تو وہ گھنٹی بجنے لگے ، اس کے بعد اس نے کمرے کو بالکل بند کردیا اور اس میں چمگادڑ کو چھوڑ دیا چنانچہ چمگادڑ اس کمرے میں اڑنے لگا لیکن کسی بھی گھنٹی کی کوئی آواز سنائی نہ دی، یعنی وہ کسی بھی رسی سے نہیں ٹکرایا ، اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ چمگادڑ میں ایسی طاقت ہوتی ہے کہ جب وہ اڑتاھے تو اس کے اندر سے ایک ایسی آواز نکلتی ہے جو کسی بھی چیز سے ٹکراکر واپس آتی ہے اور اسی واپس آئی آواز کے ذریعہ وہ اس چیز کا احساس کرلیتا ہے ، پس ثابت یہ ہوا کہ اس کے احساس کا طریقہ بالکل ”راڈار“ کی طرح ہے۔

اسی طرح اونٹ کی خلقت بھی بڑی عجیب ہے،چنانچہ اس کو خدا کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے جیسا کہ خداوندعالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

( اٴفَلاٰ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ ) ( ۱۹ )

”تو کیا یہ لوگ اونٹ کی طرف غور نہیں کرتے کہ کیسا (عجیب) پیدا کیا گیا ہے“

چونکہ اونٹ کی زندگی زیادہ تر جنگل اور ریگستان میں بسر ہوتی ہے چنانچہ خداوندعالم نے اس کو ایسا خلق کیا ہے جس سے وہ ایک طولانی مدت تک بغیر کچھ کھائے پئے رہ سکے، اور اپنی بھوک وپیاس پر کافی کنٹرول رکھ سکے۔

اسی طرح اونٹ کی لمبی اور گھنی پلکیں ہوتی ہیں جن کی بنا پر شدید طوفان او رآندھی میں بھی اپنی آنکھیں کھولے رکھتا ہے اور اس کی آنکھیں محفوظ رہتی ہیں ، اور جس طرح ہم آندھی کے وقت اپنی آنکھوں کے بند کرنے پر مجبور ہوتے ہیں وہ اپنی آنکھوں کو بند کرنے پر مجبور نہیں ہوتا۔

اسی طرح اس کے پاؤں اس طرح نرم ہوتے ہیں جن سے وہ ریت پر آسانی سے چل سکتا ہے اور اس کے پیر ریت اور ریگستان میں نہیں دھنستے، اور اس کی ناک بھی آندھی کے وقت کھلی رہتی ہے لیکن پھر بھی اس میں کوئی گرد وغبار نہیں جاتا، اور اس کا اوپر والا ہونٹ نکلا ہوا ہوتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ کانٹوں والی گھاس وغیرہ کا آسانی سے پتہ لگاسکے۔

اسی طرح چیونٹی کی خلقت بھی کتنی عجیب ہے چنانچہ چیونٹی میں بہت سی خدا کی نشانیاں بتائی جاتی ہیں، کیونکہ اس میں فہم وادراک، صبراور احساس اس قدر ہوتا ہے کہ کوئی شخص اس کے چھوٹے سے جسم اور حجم کو دیکھنے کے بعد نہیں سمجھ سکتا، اور شاید آج کی بہت سی جدید چیزیں اسی میں غور وفکر کرنے سے وجود میں آئی ہیں کیونکہ اس کی خلقت میں بہت ہی دقت اور نظم وترتیب کا لحاظ رکھاگیا ہے۔

چنانچہ بعض چیونٹی سردی کے زمانہ میں دوسری ان چیونٹیوں کے لئے کھانے دانے کا انتظام کرتی ہیں جو باھر نہیں نکل سکتیں، اسی طرح ان میں سے بعض وہ ہوتی ہیں جو دانوں کاآٹا بناتی ہیںاور وہ ہمہ وقت اسی کام میں مشغول رہتی ہیں۔

اور بعض چیونٹیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی فطرت میں کھانا کھانے کا مخصوص گھر بنانے کا میلان ہوتا ہے ، جن کو کھانے کا باغیچہ کھا جاسکتا ہے اور وھاں پر مختلف کیڑے مکوڑوں کا شکار کرکے لاتی ہیںاور وھاں پر آرام سے بیٹھ کر کھاتی ہیںان میں سے بعض ان شکار شدہ کیڑے مکوڑوں کے اندر سے ایک طریقہ کا رس نکالتی ہیں جو شہد کے مشابہ ہوتا ہے تاکہ اس کا کھاتے وقت مزہ لیں۔

اسی طرح ان میں سے بعض وہ بھی ہوتی ہیں جو اپنے گروہ کوایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں اور ان میں محافظ کا کام کرتی ہیں ، نیز بعض چیونٹیاں اپنے لئے گھر بنانے کی ذمہ داری نبھاتی ہیں جبکہ دوسری چیونٹیاں اس طرح کے پتّے کاٹتی ہیں جو ان کے اندازہ کے مطابق ہوتے ہیں،اور ان میں سے بعض اپنے گھر کے اردگرد پھرہ داری کرتی ہیں۔

قارئین کرام ! ان تمام تفصیلات کے پیش نظر کیا مادہ کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ اتنی دقیق چیزوں کو پیدا کرے جن میں ایک چیونٹی بھی ہے جو اتنے دقیق حساب وکتاب سے رہتی ہے؟

پس ان تمام چیزوں کے پیش نظر حیوانات قابل توجہ ہیں چنانچہ قرآن مجید نے اس بارے میں پہلے ہی بیان کردیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:

( حَتَّی إِذَا اٴَتَوْا عَلَی وَادِی النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ یَااٴَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاکِنَکُمْ لاَیَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لاَیَشْعُرُونَ ) ( ۲۰ )

”یھاں تک کہ جب (ایک دن) چیونٹیوںکے میدان میں آنکلے توایک چیونٹی بولی اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمھیں روند ڈالے اور انھیں خبر بھی نہ ہو۔“

اس کے صدیوں بعد کھیں علم نے ان حقائق اور معلومات کو ثابت کیا ہے۔

قارئین کرام ! مذکورہ حیوانات کے علاوہ اور بھی بہت سی مختلف قسم کے حیوانات اور جانور ہوتے ہیں،مثلاً یھی مرغ جس سے ہم زیادہ سروکار رکھتے ہیں ان کی آواز بھی مختلف ہوتی ہے چنانچہ جب مرغی چھوٹے بچوں کو دانے ملنے کی بعد آواز لگاتی ہے تو اس کی آواز اور ہوتی ہے اسی طرح جب ان کو اپنے گھر کی طرف بلاتی ہے تو اس کی آواز کچھ اور ہوتی ہے۔

اسی طرح شہد کی مکھی جب کھیں پھولوں والی زمین میں جاتی ہے تو اپنے ایک خاص انداز میں گھومتی ہے جیسے انگریزی میں "۸"کا ہوتا ہے اور پھول میں شہد ہوتا ہے تو اس کو حاصل کرلیتی ہے۔

چنانچہ ایک ماھر دانشور جس نے چیونٹی کے متعلق تحقیق کی ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے ایک چیونٹی کو اپنے بل سے دور دیکھا جس نے اپنے ڈنک سے ایک مکھی کاشکار کیا اور اس کو تھوڑی دیر کے لئے وھیں پر ڈال دیا تقریباً بیس منٹ بعد جب اس کومکھی کے مرنے کا یقین ہوگیا تو اس کو اٹھاکر اپنے بل کی طرف چلنا شروع کیا ، لیکن جب اس میں لے جانے کی طاقت نہ رھی تو اس نے تنھا جاکراپنے ساتھیوں کو باخبر کیا تو ان چیونٹیوں کا ایک گروہ اس کے ساتھ نکلا یھاں تک کہ سب نے مل کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے اور پھر سبھوں نے اس کے مختلف اجزاء کو اٹھایا،اور اپنے بل میں لے گئیں، اب یھاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ پہلی چیونٹی ،تنھا بغیر کچھ لئے اپنے بل میں گئی تو اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کو دیکھ کر دوسری چیونٹیوں کو اس شکار کے بارے میںمعلوم ہوتا تو پھر اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو کس زبان میں باخبر کیا کہ میںنے ایک بہترین شکار کیا ہے آؤ مدد کرو تاکہ اس کو اپنے بل میں لے آئیں۔(پس معلوم ہوا کہ ان کی بھی ایک خاص زبان ہے جس سے وہ سمجھتی اور سمجھاتی ہیں)۔

اسی طرح آپ ھاتھی کی خلقت پر غور کریں تو اس میں بھی عجیب وغریب قدرت کے آثار ملاحظہ کریں گے مثلاًھاتھیوں کا جھنڈ جب ایک ساتھ چلتا ہے تو ان کے درمیان سے مسلسل ہمہمہ کی آواز آتی رہتی ہے لیکن جب یھی ھاتھی اپنے گروہ سے جدا ہوکر الگ الگ چلتے ہیں توان کی وہ آواز ختم ہوجاتی ہے، آخر ایسا کیوں ہے؟!۔

اسی طرح جناب کوے کی آواز کس قدر مختلف اور بامفهوم ہوتی ہے چنانچہ وہ خطرہ کے وقت رونے جیسی آواز نکالتا ہے تاکہ اس کے دوسرے ساتھی خطر ہ سے مطلع ہوجائیں ، اور یھی کوا جب کوئی خوشی کامقام دیکھتا ہے تو ایسی آواز نکالتا ہے جو قہقہہ اور ہنسی سے مشابہت رکھتی ہے۔

قارئین کرام ! حیوانات میں کوئی ایسی زبان نہیں ہے جس کو سب سمجھتے ہوں ، بلکہ ان میں سے ہر صنف کی الگ الگ زبان ہوتی ہے، مثلاً آپ مکڑی کو دیکھیں ، یہ جب جالا بناتی ہے تو اس جالے کے تار ان کے درمیان گفتگو کاوسیلہ بنتے ہیں، چنانچہ کھا جاتا ہے کہ جب جالے کے ایک طرف مذکر اور دوسری طرف مونث ہو تو اسی جالے کے تارکے ذریعہ ان کے درمیان تبادلہ خیالات ہوتا ہے،اور اس کی مادہ اپنے شوھر کے استقبال کے لئے اسی جالے کے تار کے ذریعہ رابطہ قائم کرتی ہے، جس طرح آج کل فون کے ذریعہ گفتگو کی جاتی ہے۔

اور جب ہم مرغی کو دیکھتے ہیں تو اس کے اندر الٰھی شاہکار کی بہت سی عحیب وغریب نشانیاں پاتے ہیں، چنانچہ ہمارے لئے درج ذیل حقائق پر نظرکرکے خالق خائنات کی معرفت حاصل کرنا ہی کافی ہے:

ایک امریکی ماھر نے مرغی کے انڈے سے بغیر مرغی کے بچہ نکالنا چاھا ،چنانچہ اس نے انڈے کو ایک مناسب حرارت (گرمی) میں رکھا ، جس مقدار میں مرغی انڈے کو حرارت پهونچاتی ہے ، لہٰذا اس نے چند عدد انڈوں کو جمع کرکے ایک مشین میں رکھا ،وھاں موجود ایک کاشتکار نے اس کو بتایا کہ انڈوں کو الٹتا پلٹتا رھے، کیونکہ اس نے مرغی کو دیکھا ہے کہ وہ انڈوں کو الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لیکن اس ماھر نے اس کاشتکار کا مذاق اڑاتے ہوئے کھا کہ مرغی اس لئے انڈے کو بدلتی ہے تاکہ اپنے جسم کی گرمی انڈے تک پهونچاتی رھے،الغرض اس نے انڈوں کو چاروں طرف سے حرارت پهونچانے والی مشین میں رکھا لیکن جب انڈوں سے بچے نکلنے کا وقت آیا تو کوئی بھی انڈا نہ پھٹا تاکہ اس سے بچہ نکلتا، (وہ حیران ہوگیا) اور دوبارہ اس نے کاشتکار کے کہنے کے مطابق انڈوں کو مشین میں رکھ کر بچے نکلنے کی مدت تک ان کو الٹتا پلٹتا رھا، چنانچہ جب ان کا وقت آیا تو انڈے پھٹ گئے اور ان سے بچے نکل آئے۔

مرغی کے انڈوں سے بچے نکلنے میں الٹ پلٹ کرنے کی ایک دوسری علمی وجہ یہ ہے کہ جب انڈے کے اندربچہ بن جاتا ہے تو اس کی غذائی موادنیچے کے حصہ میں چلی جاتی ہے اب اگر اس کو مرغی نہ گہمائے تو وہ انڈا پھٹ جائے ، یھی وجہ ہے کہ مرغی پہلے اور آخری دن انڈوں کو نہیں پلٹتی کیونکہ اس وقت پلٹنے کی ضرورت نہیں ہوتی ، پس کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ ان اسرار کو وہ بغیر کسی الٰھی الھام کے سمجھتی ہے، جس کے سمجھنے سے انسان بھی قاصر ہے؟

چنانچہ یھی الٰھی الھام ہے جس کی بنا پر پانی میں رہنے والے جانور بالخصوص سانپ اپنی جگہ سے ہجرت کرکے دور درازگھرے سمندروں میں جیسے ”جنوبی برمودا “ چلے جاتے ہیں ، پس یہ کتنی عجیب مخلوق ہے کہ جب ان کا رشد ونمو مکمل ہوجاتا ہے تو دریاؤں سے ہجرت کرکے مذکورہ سمندروں میں چلے جاتے ہیں ،وھیں انڈے دیتے ہیں اور کچھ مدت کے بعد مرجاتے ہیں لیکن ان کے بچے جو اس جگہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ کو نہیں پہنچانتے یہ لوگ اس راستہ کی تلاش میں رہتے ہیںکہ جدھر سے ان کے والدین آئے تھے، اس کے بعد سمندری طوفان اور تھپیڑوں سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آبائی وطن پهونچ جاتے ہیں اور جب ان کا رشد ونمومکمل ہوجاتا ہے تو ان کو ایک مخفی الھام ہوتا ہے کہ وہ جھاں پیدا ہوئے تھے وھی جائیں ، لہٰذا ان چیزوں کو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کون سی طاقت ہے جو ان کو اس طرح کا الھام عطا کرتی ہے؟!، چنانچہ یہ کھیں نہیں سنا گیا ہے کہ امریکی سمندروں کے سانپ یورپی سمندر میں شکار کئے گئے ہوں، یا اس کے برعکس، اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ یورپی سانپوں کا رشد دیگر سانپوںکی بنسبت ایک سال یا اس سے زیادہ کم ہوتا ہے، کیونکہ یہ لوگ طولانی مسافت طے کرتے ہیں۔

بھرحال ان تمام چیزوں پر غور کرنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سانپوں کے اندر یہ طاقت اور فکرکھاںسے آئی جس کی بناپر یہ سب اپنی سمت، سمندر کی گھرائی وغیرہ کو معین کرتے ہیں،لہٰذا کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ یہ سب ”بے جان مادہ“کی مخلوق ہیں؟!!

اسی طرح الٰھی الھام کی وجہ سے مختلف پرندے جب بڑے ہوجاتے ہیں تو اپنے والدین کی طرح اپنے لئے الگ آشیانہ بناتے ہیں اور وہ بھی بالکل اسی طرح جس میں وہ رہتے چلے آئے ہیں، یعنی ان کے گھونسلوں میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔

یھی الٰھی الھام ہے کہ جس کی بنا پر بعض حیوانات کے اجزاء کٹنے یا جلنے کے بعد دوبارہ اسی طرح سے بن جاتے ہیں، مثلاًجب سمندری سرطان (کیکڑا) اپنے جسم کے پنجوں کو ضائع کربیٹھتا ہے تو جلد ہی ان خلیوں کی تلاش میں لگ جاتا ہے جو اس کے پنجوں کی جگہ کام کریں اور جب خلیے بھی ناکارہ ہوجاتے ہیں تووہ سمجھ جاتا ہے کہ اب ہمارے آرام کرنے کا وقت آپہنچاھے، اور یھی حال پانی میں رہنے والے دیگر جانوروں کا بھی ہے۔

اسی طرح ایک دریائی حیوان جس کو ”کثیر الارجل“(بہت سے پیر والا)کہتے ہیں اگر اس کے دوحصہ بھی کردئے جائیں تو اس میں اتنی صلاحیت ہوتی ہے کہ اپنے باقی آدھے حصے سے دوسرا حصہ بھی مکمل کرلے۔

اسی طرح ”دودة الطعم“نامی کیڑے کی اگر گردن کاٹ دی جائے تووہ اس سر کے بدلے میں ایک دوسرا سر بنا لیتا ہے، جس طرح جب ہمارے جسم پر کوئی زخم ہوجاتا ہے یا گوشت کا ٹکڑا الگ ہوجاتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ صحیح ہوجاتا ہے اور جب یہ زخم بھرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ خلیے کس طریقہ سے حرکت کرتے ہیں جن کے نتیجہ میں نیا گوشت، نئی ہڈی اور نئے ناخن یا کوئی دوسرا جز بن جاتا ہے۔

قارئین کرام ! حشرات کی دنیا بھی کیا چیز ہے چنانچہ اس میں غور وفکر کرنے کے بعد انسان کو تعجب ہوتاھے، اور شاید ان کی ”شناخت غرائز“ کے بعد ان کی تفصیل ہمارے سامنے مجسم ہوجائے۔

کیونکہ ”ابو دقیق “ حشرہ جو کرم کلے (بندگوبھی) میں پایا جاتا ہے اور اس میں انڈے دیتا ہے جبکہ وہ بند گوبھی کو نہیں کھاتا لیکن اس کے اندر ایک ایسا غریزہ ہوتا ہے جس کی بناپر اس کا انتخاب کرتا ہے ، چنانچہ جب اس کے انڈوں سے بچے نکلتے ہیں وہ بند گوبھی کو کھاجاتے ہیں ، پس معلوم یہ ہوا کہ یہ کیڑاانڈے دینے کے لئے بند گوبھی کا اس لئے انتخاب کرتا ہے تاکہ اس کے بچوں کو مخصوص غذا مل سکے۔

تو کیا یہ ابو دقیق نامی کیڑا اس مسئلہ کو عقلی طور پر سمجھتا ہے؟!

اسی طرح ”زنبور الطین“ (انجن ھاری،جس کو کمھاری بھی کہتے ہیں) جو کیڑے مکوڑوں کا شکار کرتی ہے اور اپنے مٹی کے چھتے میں لے جاتی ہے تاکہ کھانے کے لئے گوشت جمع رھے، اوراس کے بعداس پر ایک انڈا دیتی ہے، اس کو اپنے گھر میں رکھ دیتی ہے ، پھر گارے مٹی کی تلاش میں نکلتی ہے جب اس کو مل جاتی ہے تو اس سے اپنے گھر کا دروازہ بند کردیتی ہے تاکہ جب انڈے پھٹنے کا وقت آئے اور بچے باھر نکلےں تو ان کا کھانے پہلے سے موجود رھے۔

اسی طرح وہ مچھر جو پانی پر اپنے انڈے دیتے ہیںلیکن کبھی بھی اس کے انڈے بچے پانی میں ضایع نہیں ہوتے تو کیا یہ مچھر قوانین ”ارشمیڈس“کو جانتا ہے۔

اسی طرح وہ حشرہ جس کو علم حشرات میں ”قاذفة القنابل“ کہتے ہیں جو پھاڑ کھانے والے حیوانات کے آگے آگے بغیر کسی خوف وھراس کے چلتا ہے اور اگرکسی جانور نے اس کو کھانے کے لئے منھ کھولا تو اپنے پیٹ پر موجود ایک تھیلی کو فشار دیتا ہے تاکہ اس سے تین قسم کے غدے نکلےں جس میں ”ھیڈروکینون“ ، ”فوق اکسیڈھیڈ روجین“ اور ”ازیم خاص“ اور جب یہ تینوں چیزیں مخلوط ہوتی ہیں تو ان میں سے ایک قسم کا گیس نکلتا ہے جس کی وجہ سے وہ درندہ حیوان بھی ڈر کی وجہ سے بھاگنے لگتا ہے ، تو کیا اس حشرہ اور کیڑے نے علم کیمسٹری میں کامبرج یونیورسٹی سے ڈیپلم" Diploma " کیا ہے؟!!

اسی طرح ابریشم کے کیڑے ، جو نھایت ہی باریک جال بناتے ہیں۔اور اسی طرح وہ جگنو جو رات میں روشنی پھیلاتا پھرتا ہے تاکہ روشنی پر آنے والے چھوٹے چھوٹے کیڑوں کا شکار کرسکے۔

نیز اسی طرح پانی کے کچھ خاص کیڑے جو چند میٹر پانی میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر آسمان میں بھی کافی اوپر اڑلیتے ہیں۔

اسی طرح وہ تتلی جس کے پر بہت ہی نازک اور شفاف ہوتے ہیں جب ان پر روشنی پڑتی ہے تو وہ نیلے رنگ کے دکھائی پڑتے ہیں، اور اگر اس میں دسیوں ہزار میں سے ایک جز بھی متغیر ہوجائے تو پھر اس کی روشنی میں بھی فرق آجائے گا یا بالکل ختم ہوجائے گی۔

قارئین کرام ! یھاں تک ہماری گفتگو کا خلاصہ یہ ہوا کہ حیوانات کی دنیا واقعاً عجیب وغریب ہے جن کی خلقت اور نوآوری وغیرہ کو دیکھنے کے بعد(اگرچہ حیوانات کے صفات اس مختصر کتاب میں کماحقہ بیان نہیں کئے جاسکتے) انسان اس نتیجہ پر پهونچتا ہے :

) ِ صُنْعَ اللهِ الَّذِی اٴَتْقَنَ کُلَّ شَیْءٍ إِنَّهُ خَبِیرٌ بِمَا تَفْعَلُون ) ( ۲۱ )

”(یہ بھی ) خدا کی کاریگری ہے کہ جس نے ہر چیز کو خوب مضبوط بنایا ہے بے شک جو کچھ تم کرتے ہو اس سے وہ خوب واقف ہے۔“

تعالیٰ الله یقول المنکرون الجاحدون علوا کبیرا

قارئین کرام ! ہم یھاں پر ان آیات کریمہ کو بیان کرتے ہیں جو خداوند عالم کے وجود پربہترین دلیل ہیں ،جن میں انسان کونباتات،آسمان سے بارش ہونے اور زمین وآسمان کے درمیان موجودعجائبات میں غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے، کیونکہ ان تمام چیزوں کا اس قدر دقیق اور خصوصیات کے ساتھ پایا جانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ صفات ان میں خود بخود نہیں پائے جاتے بلکہ ان سب کو مذکورہ صفات عطا کرنے والا خدوندعالم ہے۔

ارشاد خداوندعالم ہوتا ہے:

( اٴَفَرَاٴَیْتُمْ مَا تَحْرُثُون اٴَاٴَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ اٴَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا ) ( ۲۲ )

”بھلا دیکھو تو کہ جو کچھ تم لوگ بوتے ہو کیا تم لوگ اسے اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں، اگر ہم چاہتے تو اسے چور چور کردیتے ۔۔۔۔“

( اٴَفَرَاٴَیْتُمْ النَّارَ الَّتِی تُورُونَ اٴَ اٴَنْتُمْ اٴَنشَاٴْتُمْ شَجَرَتَهَا اٴَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ ) ( ۲۳ )

”توکیا تم نے آگ پر بھی غور کیا جسے تم لوگ لکڑی سے نکالتے ہو کیا اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں۔“

( وَهو الَّذِی اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ فَاٴَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُتَرَاکِبًا وَمِنْ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَجَنَّاتٍ مِنْ اٴَعْنَابٍ وَالزَّیْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَیْرَ مُتَشَابِهٍ اُنْظُرُوا إِلَی ثَمَرِهِ إِذَا اٴَثْمَرَ وَیَنْعِهِ إِنَّ فِی ذَلِکُمْ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُون ) ( ۲۴ )

”اور وہ وھی (قادر وتوانا) ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر چیز کے کوئے نکالے پھر ہم ہی نے اس سے ھری بھری ٹہنیاں نکالیں کہ اس سے ہم باہم گتھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور چوھارے کے درخت سے لٹکے ہوئے گچھے (پیدا کئے) اور انگور اور زیتون اور انار کے باغات جو باہم صورت میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور (مزے میں) جداجدا ،جب یہ پہلے او رپکے تو اس کے پھل کی طرف غور تو کرو بے شک اس میں ایماندارلوگوں کے لئے بہت سی (خداکی ) نشانیاں پائی جاتی ہیں۔“

( الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ الْاٴَرْضَ مَهْدًا وَسَلَکَ لَکُمْ فِیهَا سُبُلاً وَاٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجْنَا بِهِ اٴَزْوَاجًا مِنْ نَبَاتٍ شَتَّی ) ( ۲۵ )

”وہ وھی ہے جس نے تمھارے( فائدہ کے واسطے)زمین کو بچھونا بنایا اور تمھارے لئے اس میں راھیںنکالیں اور اس نے آسمان سے پانی برسایا پھر (خدا فرماتا ہے کہ )ہم ہی نے اس پانی کے ذریعہ مختلف قسموں کی گھاسیں نکالیں۔“

( اٴَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَاٴَنزَلَ لَکُمْ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا کَانَ لَکُمْ اٴَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا اٴَ ء ِلَهٌ مَعَ اللهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَعْدِلُونَ ) ( ۲۶ )

”بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمھارے واسطے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم ہی نے پانی سے دلچسپ اور خوشنما باغ اگائے، تمھارے تو یہ بس کی بات نہ تھی کہ تم ان سے درختوں کو اگاسکتے تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے ؟ (ھر گز نھیں) بلکہ یہ لوگ خود( اپنے جی سے گڑھ کے بتوں کو)اس کے برابربناتے ہیں۔“

قارئین کرام ! نباتات کی دنیا بھی کس قدر عجیب ہے چنانچہ زمین شناسی (جیولوجی) " Geological "کے ماھرین اس بارے میں ہمیشہ بررسی وتحقیق میںمشغول ہیں کیونکہ وہ ہر روز ایک نہ ایک نئی چیز کشف کرتے ہیں۔

اورجیسا کہ ماھرین نے بیان کیا ہے کہ نباتات کی تقریباً پانچ لاکھ قسمیں ہیں اور وہ ترکیب اورتزویج اور عمر کے لحاظ سے مختلف ہیں کیونکہ انھیں نباتات میں سے وہ بھی ہیں جن کی عمر کچھ دن کی ہوتی ہے اور ان میں سے بعض وہ ہیں جن کی عمر کچھ سال ہوتی ہے اور ان میں سے بعض کی عمر انسان کے کئی برابر ہوتی ہے۔

معمولاً نباتات وھاں پیدا ہوتی ہیں جھاں پر ان کے لئے مناسب اسباب موجود ہوں ، ان کے بیج طولانی مدت تک باقی رہتے ہیں کیونکہ جب تک ان کے لئے مناسب پانی اور مناسب گرمی موجود نہ ہوں تب تک پیدا نہیں ہوتیں، (جیسا کہ معلوم ہے کہ نباتات میں سے ہر ایک معین گرمی میں پیدا ہوتی ہیں) اسی طریقہ سے ان کے لئے ہوا کا بھی ہونا ضروری ہے کیونکہ وہ اسی کی بدولت زندہ رہتی ہے اور اسی سے سانس لیتی ہے۔

اور جب دانہ اگنا شروع ہوتا ہے، تو پہلے چھوٹی چھوٹی جڑیں پیدا ہوتی ہیں اس وقت وہ اپنی غذا کو خود دانہ سے حاصل کرتا ہے یھاں تک کہ اس کی جڑیں زمین میں پھیلنا شروع ہوتی ہیں اس وقت وہ اپنی غذا زمین سے حاصل کرتا ہے گویا وہ انسان اور حیوان کے بچوں کی طرح ہے کہ جب تک وہ شکم مادر میں رہتا ہے تو اس کی غذا اس کی مادر کے ذریعہ پهونچتی ہے ، اس کے بعد اس کے دودھ سے غذا پهونچتی ہے اور جب بچہ بڑا ہوجاتا ہے تو پھر وہ اپنی غذا میں خود مختار ہوجاتا ہے۔

قارئین کرام ! کیا ان تمام چیزوں کے ملاحظہ کرنے کے بعد کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ان تمام چیزوں کو خدا کے علاوہ کسی اور نے پیدا کیا ہے؟

اور نباتات کا غذائی سسٹم،جڑوںپر منحصر ہوتا ہے کیونکہ یہ جڑیں ہی غذائی سسٹم کا پہلا جز ہیں، اور جڑیں نباتات کی احتیاجات کی بنا پر مختلف ہوتی ہیں، پس ان میں سے کچھ گاجر جیسی اور بعض آلو جیسی اور بعض جالی نما ہوتی ہیں، جبکہ ان تمام ا ختلاف کے باوجود ایک ہی مقصد کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔اور یہ مقصد نباتات کا اپنے لئے غذا حاصل کرنا ہے۔

اورجب یہ جڑیں رشد کرتی ہیں تو اس پر موجود چھلکا زمین سے رطوبت حاصل کرکے اس کو جڑوں کے اوپرپهونچاتا ہے، اور یھاں سے نباتات تک غذا پهونچتی ہے جس کے ذریعہ وہ رشد کرتی ہیں اور یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ نباتات کے لئے روشنی، پانی اور دیگر ضروری عنصر کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے جیسے کاربن، " Carbon " آکسیجن، " Oxygen " فسفور " Phosphore "، ”کاربرائڈ“" Carbide " وغیرہ۔

یہ بات بھی ذہن نشین رھے کہ نباتات اپنے پتوں کے ذریعہ سانس لیتی ہیں جو ان کے پھیپھڑوں کا کام کرتے ہیں چنانچہ نباتات حیوانوں اور انسانوں کی طرح انھیں پتوں کے ذریعہ آکسیجن،" Oxygen " کو حاصل کرتی ہیں اور کاربن اکسیڈ دوم " Carbon oxide "کو نکالتی ہے،اور نباتات کے سانس لینے سے گرمی میں کمی پیدا ہوتی ہے اور نباتات کا عملِ تنفس شب وروز جاری وساری رہتا ہے، مگر اس کا نتیجہ دن میں عمل کاربن کے مقابلہ میں ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ عمل کاربن کو نباتات عمل تنفس سے زیادہ جلدی انجام دیتی ہیں پس آکسیجن نکلتا رہتا ہے اور کاربن ڈائی اکسیڈ دوم" Carbon Dioxide " کو حاصل کرتا ہے۔

چنانچہ آج کے سائنس کا کہنا ہے کہ کاربن " Carbon " کا پیدا ہونا ہی ،ڈائی اکسیڈ کاربن " Carbon Dioxide " کی نابودی کے لئے کافی ہے ، اگر صرف اسی چیز پر اکتفا کی گئی ہوتی تو کافی تھا، لیکن خداوندعالم نے جو خالق عظیم ہے ایسی دوسری زندہ موجوات کوبھی خلق کیا جو اپنے سانس لینے میں کاربن اکسیڈ " Carbon oxide " نکالتی ہیں ، جیسا کہ مردہ جسم بھی کاربن اکسیڈ نکالتے ہیں نیز دیگر امور کی وجہ سے بھی یہ مادہ نکلتا ہے۔

چنانچہ اس کاربن اکسیڈ " Carbon oxide " کی نابودی میں کبھی کوئی کمی یا زیادتی نہیں ہوتی، بلکہ قدرت اور حکمت خدا کا تقاضا یہ ہے کہ فضا میں کاربن آکسائیڈ کی نسبت دس ہزار اجزا میں سے تین یا چار ہوتی ہے، اور اس نسبت کا اس مقدار میں موجود ہونا کائنات کی حیات کا سبب ہے ، اور (کاربن " Carbon " اور کاربن اکسیڈ" Carbon oxide " کی عملیات) میں ابھی تک کوئی ایسا موقع نہیں آیا جب اس نسبت میں کوئی اختلاف ہوا ہو۔

چنانچہ بعض ماھرین کا کہنا ہے کہ اگرهوا میں آکسیجن،" Oxygen" % ۲۱ کے بجائے % ۵۰ ہوجائے تو اس کائنات میںجو چیزیں جلنے کے قابل ہیں ان سب میں آگ لگ جائے اور بجلی کی کوئی چنگاری اگر درخت تک پهونچ جائے تو وہ تمام آگ کی نذر ہوجائےں، اسی طرح اگر ہوا میں آکسیجن،" Oxygen" % ۱۰ یا اس بھی کم ہوجائے تو پھر تمام چیزوں کی زندگی خطرہ میں پڑجائے۔

تو کیا ان تمام تحقیقات کے بعد بھی کوئی انسان بے جان مادہ کوان تمام عجیب وغریب موجوات کا خالق کہہ سکتا ہے؟!!!

پانی کی خلقت

پانی ایک حیاتی اور ضروری مادہ ہے جو تمام ہی زندہ چیزوں کے لئے نھایت ضروری ہے:

( وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شیءٍ حَيٍّ ) ( ۲۷ )

”اور ہم ہی نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا “

لہٰذا پانی ضروریات زندگی میں سب سے اہم کردار رکھتاھے، اسی وجہ سے قرآن مجید نے اس عظیم نعمت پر غور وفکر کرنے کی دعوت ہے بلکہ کرہ زمین پر موجود پانی کو دیکھ کر تمام لوگوں کواس خالق کے وجود پر دلیل کو درک کرنے کی دعوت دی گئی ہے:

( اٴَفَرَاٴَیْتُمْ الْمَاءَ الَّذِی تَشْرَبُون اٴَاٴَنْتُمْ اٴَنزَلْتُمُوهُ مِنْ الْمُزْنِ اٴَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ اٴُجَاجًا فَلَوْلاَتَشْکُرُونَ ) ( ۲۸ )

”کیا تم نے پانی پر بھی نظر ڈالی جو (دن رات) پیتے ہو،کیا اس کو بادل سے تم نے برسایا یا ہم برساتے ہیں؟اگر ہم چاھیں تو اسے کھاری بنادیں تو تم لوگ شکر کیوں نہیں کرتے؟!

( وَمِنْ آیَاتِهِ یُرِیکُمْ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَیُنَزِّلُ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَیُحْیِ بِهِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ) ( ۲۹ )

”اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے واسطے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے اور اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کوآباد کرتا ہے “

چنانچہ پانی کے ماھرین کا کہنا ہے کہ سمندر ہی آب شیرین(پینے کامیٹھا پانی) کی بنیاد اور اساس ہے اگرچہ سمندر کا پانی بہت زیادہ نمکین ہوتا ہے جس کو زمین پر زندہ موجودات استعمال نہیں کرسکتی، لیکن خدا وندعالم نے اپنی موجودات کے لئے پانی کو بارش کے ذریعہ صاف وخوشگوار بنایا ہے کیونکہ بارش کے ذریعہ ہی یہ نمکین پانی صاف اورگورا بنتا ہے۔

خدا وندعالم آسمان سے بارش برساتا ہے:

( وَمَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَاٴَحْیَا بِهِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ) ( ۳۰ )

”اور وہ پانی جو خدا نے آسمان سے برسایا پھر اس سے زمین کو مردہ (بیکار) ہونے کے بعد جلا دیا(شاداب کردیا)

اور اگرخدا چاہتا تو یہ کھارا اور نمکین پانی اپنی پہلی والی حالت پر باقی رہتاجیسا کہ خداوندعالم نے ارشاد فرمایا ۔

جبکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سمندر کے پانی کا نمکین ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ سمندر بہت وسیع اور گھرے ہوتے ہیں لیکن محدود اور بند ہوتے ہیں اور ان میں پانی بھرا رہتا ہے اور اگر یہ پانی نمکین نہ ہوتا تو ایک مدت کے بعد یہ پانی خراب اور بدبودار ہوجاتا۔

قارئین کرام ! ان کے علاوہ بھی پانی کی اہم خصوصیات ہوتی ہیں، مثلاً جب انسان سمندر کے پانی کو دیکھتا ہے تو اسے خدا کی قدرت اور اس کی تدبیر کا احساس ہوتا ہے، کیونکہ زمین کے تین حصے پانی ہیں تو اس سے ہوا او رگرمی پر بہت اثر پڑتا ہے، اور اگر پانی کے بعض خواص ظاہر نہ ہوں تو پھر زمین پر بہت سے حادثات رونما ہوجائیں، اور چونکہ پانی پانی ہے اور سالوں باقی رہ سکتا ہے اور پانی کی گرمی بھی زیادہ ہوتی ہے جو اوپر رہتی ہے جس کی بنا پر درجہ حرارت سطح زمین سے اوپر ہی رہتا ہے اور زمین میں سخت گرمی ہونے سے روکتاھے، اور یہ چیز زمین کو طولانی حیات کرنے میں مدد کرتی ہے جس کی وجہ سے سطح زمین پر موجود انسانوں (اور حیوانوں) کو فرحت ونشاط ملتی ہے۔

اسی طرح مذکورہ خواص کے علاوہ بھی پانی کی کچھ منفرد خاصیتیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس کے خالق نے اس کو اس طرح اس لئے خلق کیا ہے تاکہ اس کی مخلوقات مکمل طریقہ سے فائدہ اٹھاسکے۔ پس پانی ہی وہ مشهورومعروف اورواحدمادہ ہے جسکی کثافت " Density " پانی کے جماد کے وقت سب سے کم ہوتی ہے اور اس کی یہ خاصیت زندگی کے لئے بہت اہم ہے، کیونکہ اسی کی وجہ سے جب سخت سردی کے موسم میں پالا پڑتا ہے تو وہ اس کو ختم کردیتا ہے بجائے اس کے کہ وہ پانی کے اندر جائے اور غرق ہوجائے اور وہ آہستہ آہستہ جم جاتا ہے لیکن یہ پالا پڑنا اس پانی کو برف بننے سے روک دیتا ہے اگرچہ ٹھنڈک کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو ، اسی وجہ سے پانی میں موجود مچھلی او ردیگر حیوانات زندہ رہتے ہیں اور جب گرمی آتی ہے تو یہ پالا بہت جلد ختم ہوجاتا ہے۔

ان کے علاوہ بھی ہم پانی کے دوسرے عجیب فوائد کا ذکر کرسکتے ہیں، مثلاً نباتات کے لئے زمین کی سطح کو نرم کردیتا ہے، جس کی بنا پر نبات میں زمین کے اندر سے غذائی موادحاصل کرنے کے بعد رشد کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، چنانچہ یھی پانی ہے جو دیگر چیزوں کے اجسام کو نرم کرتا ہے ، اسی طرح پانی ہی وہ شے ہے جو انسان کے بدن میں داخل ہوکراس کے حیاتی مختلف عملیات میں مددگار ثابت ہوتا ہے، مثلاً خون یا خون کے مرکبات، اسی طرح پانی کا ایک بخار ہوتا ہے جس کی وجہ سے درجہ حرارت کم ہوجاتا ہے اور اسی وجہ سے پانی ایک طولانی مدت تک پانی کی شکل میں بہنے والا باقی رہتا ہے ورنہ تو گرمی کی وجہ سے خشک ہوکر ختم ہوجائے۔

قارئین کرام ! سمندر اور دریا خدا کی عظیم نشانیاں ہیں، چنانچہ ان میں خشکی سے زیادہ متعدد قسم کے حیوانات پائے جاتے ہیںاور اس کائنات میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے، مثلاً ایک مربع میٹر میں لاکھوں چھوٹے چھوٹے حیوانات پائے جاتے ہیں، جبکہ انھیں سمندروں میں بڑی بڑی مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں ، واقعاً خداوندعالم کا قول صادق اور سچا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَهو الَّذِی سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاٴْکُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَی الْفُلْکَ مَوَاخِرَ فِیهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون ) ( ۳۱ )

”اور وھی وہ خدا ہے جس نے دریا کو (بھی تمھارے) قبضہ میں کردیا تاکہ تم اس میں سے (مچھلیوں کا) تازہ تازہ گوشت کھاؤ اور اس میں سے زیور (کی چیزیں موتی وغیرہ)نکالو جن کو تم پہنا کرتے ہو اور تو کشتیوں کو دیکھتا رھے کہ (آمد ورفت میں) دریا میں (پانی کو) چیرتی پھاڑتی آتی جاتی ہے اور (دریا کو تمھارے تابع) اس لئے کردیا کہ تم لوگ اس کے فضل (نفع وتجارت) کی تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔“

قارئین کرام ! یہ تو تھیں سمندر کی گھرائیوں کی باتیں اور اگر ہم اپنے اوپر وسیع وعریض نیلے آسمان پر دقت کے ساتھ غور وفکر کریں تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ آسمان میں کس قدر چاند، سورج اور ستارے موجود ہیں ، اور اگر کوئی واقعاً ان میں غوروفکر کرے تو وہ بالکل دنگ رہ جائے گا اسی وجہ سے قرآن مجید نے اس طرف توجہ دلائی ہے تاکہ ہم ایک عظیم اور ہمیشگی نتیجہ پر پهونچ جائیں، اور وہ یہ کہ یہ تمام عجیب وغریب چیزیں اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوئیں اور نہ ہی ان کا پیدا کرنا والا ”مادہ“ ہے:

( اٴَوَلَمْ یَنظُرُوا فِی مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللهُ مِنْ شَیْءٍ ) ( ۳۲ )

”کیا ان لوگوں نے آسمان وزمین کی حکومت اور خدا کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں غور نہیں کیا ؟!!“

( قُلِ انْظُرُوا مَاذَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْض ) ( ۳۳ )

”(اے رسول ) تم کہہ دو کہ ذرا دیکھو تو سھی کہ آسمانوں اور زمین میں (خدا کی نشانیاں) کیا کچھ ہیں۔۔۔“

( اٴَفَلَمْ یَنْظُرُوا إِلَی السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ کَیْفَ بَنَیْنَاهَا وَزَیَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوج ) ( ۳۴ )

”تو کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نظر نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا ہے اور اس کو (کیسی) زینت دی اور اس میں کھیں شگاف تک نھیں“

( اللهُ الَّذِی رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ) ( ۳۵ )

”خدا وھی تو ہے جس نے آسمانوں کو جنھیں تم دیکھتے ہو بغیر ستون کے اٹھاکھڑا کردیا۔۔۔“

( وَالسَّمَاءَ بَنَیْنَاهَا بِاٴَیدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ) ( ۳۶ )

”اور ہم نے آسمانوں کو اپنے بل بوتے سے بنایا اور بے شک ہم میں سب قدرت ہے“

( ِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ یَجْرِی لِاٴَجَلٍ مُسَمًّی ) ( ۳۷ )

”اسی نے چاند اور سورج کو اپنی مطیع بنارکھا ہے کہ ہر ایک اپنے (اپنے) معین وقت پر چلاکرتا ہے“

ستاروں کی یہ کائنات کروڑوں ستاروں پر مشتمل ہے جن میں سے بعض ایسے ہیں جن کو آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے لیکن بعض کو دوربین وغیرہ ہی کے ذریعہ دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کے وجود کا محققین وماھرین احساس کرتے ہیں لیکن ان کو دیکھا نہیں جا سکتا، لہٰذا ان تمام چیزوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد انسان دنگ رہ جاتا ہے، کیونکہ کوئی ایسا مقناطیسی سسٹم نہیں ہے جس کی بناپر ان کو ایک دوسرے سے قریب یا ایک دوسرے سے دور کردے،جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ کسی سمندر میں دو اسٹمیر " Steamer " ایک راستہ پر ایک ہی سرعت کے ساتھ چلتے ہیں اوران کا آپس میں ٹکرانے کا احتمال ہوتا ہے۔

چنانچہ آج کا سائنس کہتا ہے کہ روشنی کی رفتارفی سیکنڈ ۱۸۶۰۰۰ میل ہے، ان میں سے بعض ستاروںکی روشنی فوراً ہی ہم تک پہنچ جاتی ہے اور بعض کی روشنی مھینوں اور بعض کی سالوں میں پهونچتی ہے تو آپ اندازہ لگائیں یہ آسمان کتنا وسیع وعریض اور عجیب وغریب ہے۔؟!

تو کیا یہ تمام چیزیں یونھی اتفاقی طورپر اور بغیر کسی قصد وارادہ کے پیدا ہوگئیں؟! اور کیا یہ تمام چیزیں بغیر کسی بنانے والے کے بن گئیں؟! اور کیا ”مادہ“ ان تمام چیزوں کو اتنا منظم خلق کرسکتا ہے؟!!

( هَذَا خَلْقُ اللهِ فَاٴَرُونِی مَاذَا خَلَقَ الَّذِینَ مِنْ دُونِهِ بَلِ الظَّالِمُونَ فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ ) ( ۳۸ )

”(اے رسول ان سے کہہ دو کہ ) یہ تو خدا کی خلقت ہے پھر (بھلا) تم لوگ مجھے دکھاؤ تو کہ جو (معبود) خدا کے سوا تم نے بنارکھے ہیں انھوں نے کیا پیدا کیا بلکہ سرکش لوگ (کفار) صریحی گمراھی میں (پڑے) ہیں۔“

قارئین کرام ! اس زمین کو خداوندعالم نے اس طرح خلق کیا ہے تاکہ اس پر مختلف چیزیں زندگی کرسکیںاور یہ زمین گھومتی ہے تاکہ اس کے ذریعہ شب وروز وجود میں آئیں۔

اور یہ زمین سورج کے گرد بھی گھومتی ہے جس کی وجہ سے سال اور فصل بنتی ہیں ، جس کی بنا پر کرہ زمین پر موجودہ مختلف مقامات پر ساکنین کے لئے مساحت زیادہ ہوجائے، اور زمین پر نباتات کی فراوانی ہوسکے۔

زمین کا یہ گھومنا بہت ہی حساب شدہ ہے، چنانچہ نہ اس میں کمی ہوتی ہے اور نہ ہی اس میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ اگر اس زمین کی موجودہ حالت میں کمی یا اضافہ ہوجائے توزندگی کا خاتمہ ہوجائے۔

اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس زمین پر گیس کا غلاف ہوتا ہے جو گیس زندگی کے لئے ضروری ہے، چنانچہ یہ گیس زمین سے / ۵۰۰ میل کے فاصلہ پر رہتی ہے اوریہ غلاف اتنا ضخیم ہوتا ہے ،جو آج کے دور میں ایک سیکنڈ میں تیس میل کی دوری کو تیزی کے ساتھ طے کرتا ہے۔

جس کی بناپر ان ستاروں کی گرمی کو کم کردیتا ہے کہ اگر یہ غلاف نہ ہو تو پھر زمین پر کوئی زندہ باقی نہ بچے، اور اسی غلاف کی وجہ سے مناسب گرمی ہم تک پهونچتی ہے اسی طرح اس زمین سے پانی کا بخار بھی بہت دور رہتا ہے تاکہ خوب بارش ہوسکے، اور مردہ زمین سبزہ زار بن جائے کیونکہ بارش ہی کی وجہ سے پانی اتنا صاف ہوتا ہے اور اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو پھر زمین چٹیل میدان نظر آئے اور اس میں زندگی بسرکرناغیر ممکن ہوجائے۔

اسی طرح پانی کا ایک اہم خاص امتیاز یہ ہے کہ وہ سمندر اور خشکی میں موجود تمام چیزوں کی حیات کی حفاظت کرتا ہے خصوصاً وہ برفیلے علاقے جھاں پر کڑاکے کی سردی ہوتی ہے کیونکہ پانی آکسیجن کی کافی مقدار کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے جب کہ آکسیجن کا درجہ حرارت کم ہو اور جو سمندر اور نھروں میں پانی کی سطح پر پالا ہوجاتا ہے اس کو یہ پانی ختم کردیتا ہے، کیونکہ نسبی طور پر خفیف ہوتا ہے پس اس بنا پر ٹھنڈے علاقے میں تمام پانی میں رہنے والے موجودات کازندگی گذار نا آسان ہوجاتا ہے، اور جب پانی جم جاتا ہے تو اس کے اندر سے کچھ حرارت نکلتی ہے جو سمندری حیوانات کی زندگی کی محافظت کرتی ہے۔

اب رھی خشک زمین تو یہ بھی بہت سی چیزوں کی حیات کے لئے بنائی گئی ہے ، چنانچہ اس میں ایسے بہت سے عناصر ہیں جو نباتات اور دوسری چیزوں کی حیات کی اہم ضرورت ہیں، جن سے انسان اور حیوانات کی غذا فراہم ہوتی ہے، چنانچہ بہت سے معادن زمین پر یا اس کے اندر پائے جاتے ہیں، اور اس سلسلہ میں بڑی بڑی کتابیںبھی لکھی گئی ہیں۔

اور اگراس زمین کا قُطر موجودہ قطر کے بجائے ایک چھارم ہوتا تو پھر اس کے اطراف میں موجود پانی اور فضائی دونوں غلاف کو یہ زمین اپنے اوپرروک نہ پاتی اور اس زمین پر اتنی گرمی ہوتی کہ کوئی بھی چیز زندہ نہیں رہ پاتی۔

اور اگر اس زمین کا اندازہ موجودہ صورت کے بجائے دوبرابر ہوتا اور اس زمین کی مساحت دوبرابر ہوتی ، اور اس وقت موجودہ زمینی جاذبہ دوبرابر ہوجاتا، جس کی بنا پر ہوائی غلاف کا نظام خفیف ہوجاتا، اور فضائی تنگی ایک کیلو گرام سے دو کیلوگرام فی مربع سینٹی میٹر ہوجاتی، اور یہ تمام چیزیں سطح زمین پر موجودہ تمام اشیاء کے لئے مو ثر ثابت ہوتیں، تو ٹھنڈے علاقے کی مساحت اور وسیع ہوجاتی، اور وہ زمین جو قابل سکونت ہے اس کی مساحت کافی مقدار میں کم ہوجاتی، چنانچہ ان وجوھات کی بناپر انسانی زندگی درہم وبرہم ہوجاتی۔

اسی طرح ا گرسطح زمین موجودہ مقدار سے زیادہ بلند ہو تو اس صورت میں یہ آکسیجن اور ڈائی اکسیڈ کاربن دوم " Carbon Dioxide "زیادہ جذب کرتی جس کی بنا پر نباتات کی زندگی تنگ ہوجاتی۔

اسی طریقہ سے اگر زمین کی سورج سے موجودہ دوری کو دوبرابر بڑھا دیا جائے تو اس کی سورج سے لی جانے والی موجودہ حرارت سے ایک چوتھائی کم ہوجائے گی اور اس صورت میں زمین کا سورج کے اردگرد چکر لگانا طولانی مدت طے پائے گا جس کی بنا پر سردی کا موسم بڑھ جائے گا اور سطح زمین پر رہنے والے موجودات کی زندگی مفلوج ہوکر رہ جائے گی۔

اسی طرح سے اگرزمین اور سورج کے درمیان موجودہ مسافت کو کم کرکے نصف کردیا جائے تو موجودہ حرارت میںچار گنا اضافہ ہوجائے گا، اور گردش زمین سورج کے اطراف میں تیز ہوجائے گی، جس کی بنا پر زمین پر کسی بھی موجود کا زندہ رہنا ناممکن ہوجائے گا۔

یھاں تک کہ کرہ ارض کا میلان کہ جس کی مقدار ۲۳ زاویہ فرض کی گئی ہے یہ بھی بغیر مصلحت نہیں ہے کیونکہ اگر اس میں یہ میلان نہ ہوتا تو زمین کے دونوں قطب مسلسل اندھیرے میں ڈوبے رہتے اور پانی کے بخارات شمال وجنوب میں منڈلاتے رہتے، اور ایک دوسرے پر پالا یا برف بن کر منجمد ہوجاتے۔

المختصر زمین کا موجودہ دقیق نظام مختل ہوجائے تو تمام جاندار اشیاء کی زندگی نیست ونابود ہوکر رہ جائے گی، کیونکہ زمین کے اندر پائے جانے والے نظام جاندار اشیاء کے لئے اسباب حیات فراہم کرتے ہیں، تو کیا یہ سارا نظام اتفاقی اور تصادفی ہے؟!!

قارئین کرام ! زمین کی مٹی بھی عجیب کائنات ہے اور اسی سے بہت سی چیزیں مربوط ہوتی ہیں، جو تمام اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس زمین اور مٹی کا بنانے والا کوئی نہ کوئی ہے ، کیونکہ جب ہم مٹی کو دیکھتے ہیں کہ یہ کس طرح کی فعالیت انجام دیتی ہے اور کس طرح بہت سے نتائج پیش کرتی ہے چنانچہ ماھرین نے اس کے نتائج کی درج ذیل قسمیں بیان کی ہیں: کہ اس کا نچلا حصہ گول ہوتا ہے اس پر مٹی کا ایک طبقہ ہوتا ہے، جب وہ ہٹ جاتا ہے تو دوسرا طبقہ اس کی چگہ پر آجاتا ہے۔

اور یہ بھی مسلم ہے کہ ہمارے لئے مٹی بہت ہی مفید ہے کیونکہ اکثرکھانے کی چیزیں اسی سے دستیاب ہوتی ہیں، کیونکہ تمام نباتات مٹی کی وجہ سے ہی رشد ونمو کرتی ہیں اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ بغیر زمین کے نباتات کا کوئی وجودهو ہی نہیں ہوسکتا،اور جب ان نباتات کی جڑیں کسی بھی موٹے پتھر سے ٹکراتی ہیں تو وہ آہستہ آہستہ ان سے ہٹتے جاتے ہیں البتہ پتھروں کا ہٹ جانا ان قواعد کے تحت ہوتا ہے جن سے پتھر پانی میںپگھل جاتے ہیں مثلاً ان میں کیلسم " Calcium "، میگنیسم" Magnesium " ، اورپوٹاشم" Potassium " ہوتے ہیں اسی طرح ان میں سلکون اسیڈس " Silicon Acids "باقی رہتے ہیں اور المینیم اور لوھے کا مٹی میں زیادہ غلبہ ہے ۔

جبکہ سلکون کے عناصر کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ بڑے سے بڑے پتھر کو پانی بناسکتے ہیںلہٰذا پتھر کو پانی بنانے والے اجزاء بھی اسی نبات میں ہوتے ہیں اور اسی طرح ان نبات میں وہ اجزاء بھی ہوتے ہیں جو ان کو رشد ونمودیتے ہیں تو یہ دونوں ایسی چیزیںھیں جو ایک دوسرے کے سوفی صد مخالف ہیںتوکیا ایک ساتھ رہ کر کام کرسکتی ہیں او ردرختوں اور نباتات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔

لیکن یھی نیٹروجن" Nytrogen "جس کے ذریعہ بجلی بنتی ہے اور اس بجلی کو بہت سے لوگ موت کا فرشتہ بھی کہتے ہیں، چنانچہ اسی نیٹروجن" Nytrogen "کے " OXidS "سے بجلی کی طاقت پیدا ہوتی ہے ،لیکن جب یھی نیٹروجن کے اکسیڈس بارش یا برف کے ذریعہ مٹی میں جذب ہوتے ہیں تو اس کو یا اس پر موجود درختوں کو جلانے کے بجائے ان کو رشد ونمو عطا کرتے ہیں، چنانچہ مٹی میں موجود نیٹروجن کی مقدار کو سالانہ سوڈیم کی تیس بالٹی حاصل کرتی ہے اور یہ مقدار درختوں او ردیگر نباتات کے رشد ونمو کے لئے کافی ہوتی ہے۔!!

اور یہ بات معلوم ہونا چاہئے کہ یہ نیٹروجن جس سے بجلی بنتی ہے تو یہ مستوی علاقوں میں بنسبت مرطوب اور معتدل علاقوں کے زیادہ ہوتا ہے پس خشک اور جنگلی علاقوں میں اس کی مقدار میں اضافہ ہوتا رہتاھے، خلاصہ یہ کہ یہ نیٹروجن علاقے کی ضرورت کے تحت مختلف چیزوں میں کارگر ہوتا رہتاھے کیونکہ ہر علاقہ میں اس کی ایک خاص ضرورت ہوتی ہے تو کیا اس کی تدبیر کے لئے کوئی نہیں ہونا چاہئے؟!!

الغرض اس دنیا کے عجائبات میں سے کس کس چیز کا ذکر کیا جائے مثلاً پانی کا دورہ، اکسیڈ کاربن دوم کا دورہ، عجیب انداز میں زاد ولد ہونا اسی طرح روشنی اور نور کی عملیات ان سب کی قوت شمس کے خزانہ میں بہت زیادہ اہمیت ہے ، اسی طرح اس موجودہ کائنات کی زندگی میں اہم کردار رکھتے ہیں ، چنانچہ اس کائنات کی ظاہری چیزیں اور سبب واقع ہونے والی چیزیں اسی طرح تکامل وتوافق او رتوازن جن کے ذریعہ سے بہت سی چیزیں منظم ہوتی ہیں، توکیا یہ اتنی عجیب وغریب چیزیں اتفاقی اور اچانک پیدا ہوگئیں،(انسان کی عقل کو کیا ہوگیا اور ان تمام مخلوقات میں غور نہیں کرتا)

چنانچہ یہ بسیط جزئیات جن کی کوئی صورت معین نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کے درمیان خالی جگہ ہوتی ہے ، لیکن ان سے کروڑوں کواکب اور ستارے نیز مختلف عالم وجود میں آئے جن کی معین صورت بھی ہوتی ہے اورطولانی عمر بھی اور اپنے خاص قوانین کے تحت کام کرتے ہیں، تو کیا یہ بھی سب کچھ اتفاقی طور پر اچانک پیدا ہوگیا؟!!

اور یہ کیمیاوی مشهور عناصر جن کی تعداد سو سے بھی زیادہ ہے تو کیا انسان ان میں تشابہ اور اختلاف کی صورتوں کو ملاحظہ نہیں کرتا؟کیونکہ ان میں بعض رنگین ہیں اور بعض رنگین نہیں ہیں، ان میں سے بعض ایسے گیس ہیں جن کو سائل (بہنے والی)یا جامد بنانا مشکل ہے اور بعض سائل ہیں، اور بعض ایسے سخت ہیں جن کو سائل یا گیس بنانا مشکل ہے ، ان میں سے بعض کمزور ہیں اور بعض سخت، ان میں سے بعض ھلکے اور بعض بھاری، بعض مقناطیسی ہیں اور بعض مقناطیسی نہیں ہیں، ان میں سے بعض نشاط آورھیں اور بعض بے قدرے، بعض احماض (کڑوے) ہیں اور بعض کڑوے نہیں ہیں ان میں بعض کافی عمر کرتے ہیں اور بعض کچھ دن ہی عمر کرتے ہیں ، لیکن یہ تمام ایک ہی قانون کے تحت ہوتے ہیں اور وہ قانون ”قانون دوری“ " Periodic Law "ھے۔

کیونکہ ان معین عنصر اور غیر معین عنصر کے ذرات کے درمیان فرق صرف پروٹونات اور نیوٹرونات کی تعداد میں ہوتا ہے جو گٹھلی کی طرح ہوتے ہیںاور دوسرا فرق یہ ہے کہ عدد اور الکٹرونات جو گٹھلی سے باھر ہوتے ہیں اور ان کا طریقہ تنظیم بھی جدا ہوتا ہے، لہٰذا اس بنا پر مواد مختلفہ کی کروڑوں قسمیں چاھے وہ عناصر ہوں یا مرکب چیزیں” کھربائی“" Electricity " جزئیات سے مل کر بنتی ہیں اور ان میں یا تو فقط صورت ہوتی ہے یا طاقت ، او رچونکہ مادہ بھی جزئیات او رذرات سے تشکیل پاتا ہے ، اور جزئیات وذرات ”الکٹرونات“ و”نیوٹرونات“سے ذرات تشکیل پاتے ہیں اسی طرح طاقت او رکھرباء" Electricity " یہ تمام کے تمام معین قوانین کے تحت ہوتے ہیں اس حیثیت سے کہ ان ذرات کی ایک مقدار بھی ان کی معرفت اور خصوصیات کو کشف کرنے کے لئے کافی ہے۔

کیا یہ تمام چیزیں اتفاقی ہوسکتی ہیں؟ اسی طرح کیا یہ تمام قوانین اور نظام کائنات صدفةً اور اچانک ہوسکتے ہیں؟!!

آج کا سائنس مادہ کے ازلی ہونے کو ردّ کرتا ہے

ہمیں اس بات کا یقین ہے اور اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ یہ تمام جھان اور جو کچھ بھی اس میں موجود ہے جسے ہم ملاحظہ کررھے ہیں یہ سب قدیم زمانہ سے موجود ہیں اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ ” عدم“ کے ذریعہ کوئی چیز وجود نہیں پاتی؟! بلکہ ہر چیز کے لئے ایک بنانے والے کا ہونا ضروری ہے ، یعنی یہ تمام چیزیں پہلے نہیں تھیں اور بعد میں وجود میں آئیں، تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کا پیدا کرنے والا کون ہے؟


4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16