آئین تربیت

آئین تربیت10%

آئین تربیت مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 361

آئین تربیت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 361 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 125219 / ڈاؤنلوڈ: 7159
سائز سائز سائز
آئین تربیت

آئین تربیت

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

... بچپن کی یہ یادتو بہت ہی تلخ ہے کہ جسے میں فراموش نہیں کرسکتا _ ابو میرے اور بھائی کے درمیان فرق روار کھتے تھے اس کی پوری خواہشوں پر عمل کرتے اور میری طرف اعتنا نہ کرتے _ اس کا احترام کرتے اور میری توہین کرتے _ اسے مجھ سے زیادہ پیار کرتے اور اس پر نواز شیں کرتے _ نتیجہ یہ ہوا کہ ابو اور بھائی مجھے بہت برے لگنے لگے _ میرا دل چاہتا کہ اس غیر انسانی سلوک پر ابوسے بدلہ لوں لیکن یہ کام میرے بس میں نہ تھا _ پریشانی کے مارے ہر وقت میں تنہا تنہا رہتا _ مہمان خانے میں چلا جاتا _ دیواروں میں کہیں تھوکتا اور انہیں خراب کرکے رہتا _ شیشے توڑدیتا _ اورکیا کرتا؟ کچھ اورکر نہیں سکتا تھا _ لیکن ابو کو اس بات کا خیال بھی نہ تھا اور انہیں ہرگز پتہ نہ تھا کہ میں یہ نقصان ان کو پہنچا رہا ہوں _

ایک خاتون اپنی ڈائری میں لکھتی ہیں:

... ہمارے قریبی عزیزوں میں سے ایک خاتون کو دو بیٹیاں تھیں _ ایک زیادہ لائق تھی اور دوسری کچھ کم _ دونوں سکول جاتیں _ بڑی بیٹی جو زیادہ لائق تھی اور دوسری کچھ کم _ دونوں سکول جاتیں _ بڑی بیٹی جو زیادہ با صلاحیت نہ تھی کم نمبر لاتی اور چھوٹی زیادہ نمبر لاتی _ ماں جس کے پاس بھی بیٹھتی چھوٹی کی تعریف کرتی رہتی اور بڑی کو برا کھلا کہتی _ چھوٹی کو زیادہ نوازتی ، شاباش کہتی اور بڑی سے کہتی تمہارے سر میں خاک کیا فضول بچی ہو _ پیسے حرام کرتی ہو اور سبق یاد نہیں کرتی ہو _ کھانا کھانے اور لباس بدلنے کا تمہیں کیا فائدہ _ بدبخت ، سست آخر کیا بنوگی ،

وہی بڑی بیٹی اب شادی شدہ ہے _ اس کے چند بچے ہیں _ وہ ایک معمول کی خاتون نہیں ہے _ بیماری لگتی ہے _ احساس کمتری کا شکار ہے چپ چپ او رڈری ڈری رہتی ہے _ کسی دعوت میں ہو تو کونے میں جا بیٹھتی ہے اور بات نہیں کرتی _ جب میں اس سے کہتی ہوں کو تم بھی کچھ کہو _ تو آہ بھرتی ہے _ کہتی ہے کیا کہوں اس کی شادی سے پہلے کی بات ہے کہ میں ایک مرتبہ اسے اعصاب کے ڈاکٹر کے پاس لے گئی _

۲۴۱

۲۴۲

ڈاکٹر نے معانہ اور اس سے گفتگو کے بعد کہا یہ صاحبہ مریض نہیں ہے بلکہ اس کے ماں باپ مریض ہیں جنہوں نے اس بے گناہ بیٹی کو ان دنوں تک پہنچایا ہے _

ایک دن ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ کھانا پکالیتی ہو وہ رونے لگی اور اس نے کہا پکالیتی ہوں لیکن جب بھی کھانا پکاتی ہو ں تو امّی ابو پرواہ نہیں کرتے کہتے ہیں ماشاء اللہ اس کی بہن خوب کھانا پکاتی ہے _

۲۴۲

بچّون کا احترام

بچہ بھی ایک انسان ہوتا ہے اور ہر انسان کو اپنے آپ سے محبت ہوتی ہے _ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے اس کی قدر جانین اور اس کا احترام کریں _ دوسرے جب اس کا احترام کرتے ہیں تو وہ اسے اپنی بڑائی سمجھتا ہے اور اسے ایک طرح کی قدردانی سمجھتا ہے _ جن ماں باپ کو اپنی اولاد سے محبت سے انہیں چاہیے کہ ہمیشہ ان کا احترام ملحوظ رکھیں اور ان کے وجود کو اہمیت دیں _ بچے کی تربیت میں اس کا احترام اہم عوامل میں سے شمار کیا جاتا ہے _ جس بچے کو عزت و احترام میسّر ہو وہ بزرگوار، شریف اور باوقار بنتا ہے _ اور اپنے مقام کی حفاظت کے لیے برے کاموں سے بچتا ہے _ وہ کوشش کرتا ہے کہ اچھے اچھے کام کرکے دوسروں کی نظر میں اپنے مقام کو اور بھی بڑھائے تا کہ اس کی زیادہ سے زیادہ عزت کی جائے _ جس بچے کا ماں باپ احترام کرتے ہوں وہ اپنے عمل میں ان کی تقلید کرتا ہے اور ماں باپ کا اور دوسرے لوگوں کا احترام کرتا ہے _ بچہ ایک چھوٹا سا انسان ہے اسے اپنی شخصیت سے پوری محبّت ہے _ توہین اور تحقیر سے آزردہ خاطر ہوجاتا ہے _ ماں باپ جس بچے کی توہین و تحقیر کرتے ہوں اس کے دل میں ان کے بارے میں کینہ پیداہوجاتا ہے اور جلد یا بدیر و ہ سرکش اور نافرمان بن جاتا ہے اور ان سے انتقام لیتا ہے _ نادان ماں باپ کہ بدقسمتی سے جن کی تعداد کم نہیں سمجھتے ہیں کہ بچون کا احترام ان کی تربیت کے منافی ہے _ ماں باپ کے شایان شان نہیں ہے _ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے بچے کا احترام کیا تو وہ بگڑجائے گا _ اور پھر ہمارا احترام نہیں کرے گا _ وہ بچوں سے بے اعتنائی

۲۴۳

اور ان کی بی احترامی کو ان کی تربیت کا ذریعہ شمار کرتے ہیں اس طرح وہ ان کی شخصیت کو کچل دیتے ہیں اور ان کے دل میں احساس کرمتری پیدا کردیتے ہیں _ جب کہ یہ روش تربیت کے حوالے سے بہت بڑا اشتباہ ہے اگر ماں باپ بچے کا احترام کریں تو اس سے نہ صرف یہ کہ ان کا مقام بچے کی نظر میں کم نہ ہوگا بلکہ اس طرح سے اس کے اندر بھی بزرگواری اور وقار کی روح پر وان چڑھے گی _ بچہ اسی بچپن سے سمجھنے لگتا ہے کہ ماں با پ اسے ایک انسان سمجھتے ہیں اور اس کی اہمیت کے قائل ہیں _ اس طرح سے جو کام معاشرے میں اچھے نہیں سمجھتے جاتے وہ ان سے بچتا ہے _ وہ اچھے کام کرتا ہے تا کہ اپنے مقام کو محفوظ رکھے _ یہ بات باعث افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کا جس طرح سے احترام ہونا چاہیے نہیں کیا جاتا اور انہیں خاندان کا ایک باقاعدہ جزوشمار نہیں کیا جاتا _ یہاں تک کہ دعوتوں میں بچے ماں باپ کے طفلی ہوتے ہیں انہیں باقاعدہ دعوت نہیں دی جاتی _ اور انہیں کسی نچلی جگہ پر یا کمرے کے دروازے کے ساتھ جگہ ملتی ہے اور ان کے لیے باقاعدہ پلیٹ، چمچہ و غیرہ پیش نہیں کیا جاتا _ آتے وقت اور جاتے وقت کوئی ان کا احترام نہیں کرتا _ گاڑی میں ان کے لیے مخصوص نشست نہیں ہوتی _ یا تووہ کھڑے ہوں یا ماں باپ کی گود میں بیٹھے ہوں _ محفل میں انہیں بات کرنے کاحق نہیں ہوتا اگر وہ بات کریں بھی تو کوئی ان کی سنتا نہیں بے احترامی سے بلایا جاتا ہے ، میل ملاقات اور بات چیت میں ان سے مؤدبانہ سلوک نہیں کیا جاتا _ ان کے لیے سلام خوش آمدید ، خداحافظ اور شکریہ نہیں ہوتا_ ان کی خواہش کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا _ گھریلو امو رمیں ان سے مشورہ نہیں لیا جاتا _ گھٹیا اور توہین آمیز کام کرنے کے لیے ان سے کہا جاتا ہے _

دین مقدس اسلام نے بچوں کی طرف پوری توجہ دی ہے اس نے بچوں کا احترام کرنے کا حکم دیا ہے _

رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

اپنی اولاد کی عزّت کرو اور ان کی اچھی تربیت کرو تا کہ اللہ تمہیں بخش دے _

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

۲۴۴

سب سے گھٹیا انسان وہ ہے جو دوسروں کی توہین کرے _ (۱)

رسول اللہ ہمیشہ اور ہر جگہ بچوں سے محبت اور شفقت سے پیش آتے _ جب وہ سفر سے واپس آتے تو بچے ان کے استقبال کے لیے دوڑتے _ رسول اللہ ان سے پیار کرتے ، محبت کرتے اور ان میں سے بعض کو اپنے ساتھ سوار کرلیتے اور اپنے اصحاب سے بھی وہ کہتے کہ دوسروں کو وہ سوار کرلیں _ اور اس حال میں شہر کے اندر لوٹتے _

بچوں سے یہاں تک شیرخوار بچوں کی توہین سے بھی سختی سے پرہیز کرنا چاہیے _ ام الفضل کہتی ہیں _ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حسین علیہ السلام کو جب کہ وہ شیرخوار تھے مجھ سے لے لیا _ اور سینہ سے لگایا _ حسین علیہ السلام نے رسول (ع) کے کپڑوں پر پیشاب کردیا میں نے حسین (ع) کو رسول اللہ (ص) سے زبردستی لے لیا _ اس طرح سے کہ وہ رونے لگے رسول اللہ (ص) نے مجھ سے فرمایا _ ام الفضل آرام سے اس پیشاب کو پانی پاک کردے گا لیکن حسین علیہ السلام کے دل سے ناراضی اور ناراحتی کون دور کرے گا ؟ (۳) ایک صاحب لکھتے ہیں :ماں باپ کی نظر میں میری کوئی اہمیت نہ تھی _ نہ صرف وہ میرا احترام نہ کرتے تھے بلکہ اکثر میری توہین اور سرزنش کرتے رہتے کاموں میں مجھے شریک نہ کرتے اور اگر میں کوئی کام انجام دیتا تو اس میں سے کپڑے نکالتے _ دوستوں کے سامنے یہاں تک کہ میرے دوستوں کے سامنے میری بے عزتی کر دیتے _ مجھے دوسروں کے سامنے بولنے کی اجازت نہ دیتے _ اس وجہ سے ہمیشہ میرے دل میں اپنے بارے میں احساس ذلت و حقارت رہتا _میں اپنے تئیں ایک فضول اور اضافی چیز سمجھتا _ اب جب کہ میں بڑا ہوگیا ہوں

------------

۱_ بحار ، ج ۱۰۴، ص ۲۵

۲_ غرر الحکم ، ص ۱۸۹

۳_ ہدیة الاحباب ، ص ۱۷۶

۲۴۵

اب بھی میری وہی کیفیت باقی ہے _ بڑے کام سامنے آجائیں تو میں اپنے آپ کو کمزور سمجھنے لگتا ہوں _ کاموں کی انجام وہی میں فیصلہ نہیں کرپاتا _ میں اپنے تئیں کہتا ہوں میری رائے چونکہ درست نہیں ہے اس لیے دوسروں کو میرے بارے میں اظہار رائے کرنا چاہیے _ اپنے تئیں حقیر و ناچیز سمجھتا ہوں سمجھے اپنے آپ پر اعتماد نہیں ہے یہاں تک کہ دوستوں کی موجودگی میں مجھ میں بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی اور اگر کچھ کہہ بیٹھیوں تو کئی گھنٹے سوچتا رہتا ہوں کہ کیا میری بات درست تھی اور صحیح موقع پر تھی _

۲۴۶

خودشناسی اور بامقصد زندگی

حیوان کی ساری زندگی کھانے ، سونے ، خواہشات نفس کی تکمیل اور اولاد پیداکرنے سے عبارت ہے _ حیوان کی عقل اور آگاہی کامل نہیں ہوتی وہ اچھائی اور برائی میں تمیز نہیں کرسکتا _ اس لیے اس پر کوئی فرض اورذمہ داری نہیں ہے اس کے لیے کوئی حساب و کتاب اور ثواب و عذاب نہیں ہے _ اس کی زندگی میں کوئی عاقلانہ پروگرام اور مقصد نہیں ہوتا _ لیکن انسان کہ جو اشرف المخلوقات ہے وہ حیوان کی طرح نہیں ہے _ انسان عقل ، شعور اور آگاہی رکھتا ہے _ اچھے ، برے ، خوبصورت اور بد صورت میں تمیز کر سکتا ہے _ انسان کو ایک دائمی اور جاوید زندگی کے لیے پیدا کیا گیا ہے نہ کہ نابودی اور فنا کے لیے _ اس اعتبار سے اس کے سر پہ ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی _ انسان خلیفة اللہ ہے اور امین الہی ہے _ انسان کی زندگی کا حاصل فقط کھانا ، سونا ، خواہشات کی تکمیل اور نسل بڑھانا ہی نہیں ہوسکتا انسان کو ایسے راستے پر چلنا چاہیے کہ وہ فرشتوں سے بالاتر ہوجائے _ وہ انسان ہے اسے چاہیے کہ اپنی انسانیت کو پروان چڑھائے او راس کی تکمیل کرے انسان کی زندگی کا کوئی مقصد ہے البتہ ایک بلند ہدف نہ کر پست حیوانی ہدف _ انسان رضائے خدا کے لیے اورمخلوق خدا کی خدمت کے لیے کوشش اور جد و جہد کرتا ہے نہ کہ زود گزر دنیاوی مفادات کے حصول کے لیے _ انسان متلاشی حق اور پیروحق ہے _

ہاں انسانی وجود ایسا گوہر گران بہا ہے کہ جو حیوانات سے بہت ممتاز ہے یہ امر بہت افسوس نا ک ہے کہ بہت سے انسانون نے اپنی اس انمول انسانی قیمت کو گنوادیا ہے _

۲۴۷

اور اپنی قیمتی زندگی کو ایک حیوان کی طرح سے گزار رہے ہیں اور ان کی نظر میں حیوانوں کی طرح سے کھانے ، پینے ، سونے اور خواہشات نفسانی کی تکمیل کے علاوہ کوئی ہدف نہیں ہے _ ہو سکتا ہے کہ ایک انسان سو سال زندہ رہے لیکن اپنی انسانی قیمت کو نہ پہچان سکے اور اپنے بارے میں جاہل ہی مرجائے _ دنیا میں ایک حیوان کی صورت آئے اور ایک حیوان کی صورت چل بسے بے مقصد اور سرگردان رہے اور اس کی ساری جد و جہد کا نتیجہ بدبختی کے علاوہ کچھ نہ نکلے _

انسان کو جاننا چاہیے کہ وہ کون ہے ؟ کہاں سے آیا ہے ؟ اور کہاں جانا ہے ؟ اس کے آنے کا مقصد کیا ہے ؟ اور اس کو کس راستے پر چلنا چاہیے _ اور اس کے لیے حقیقی کمال اور سعادت کیا ہے _

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :بہترین معرفت یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو پہچان نے اور سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ اپنے آپ کو نہ پہچانے _ (۱) امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:جس نے اپنے آپ کو نہ پہچانا وہ راہ نجات سے دور اور جہالت و گمراہی کے راستے پر رہا _ (۲) حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

خدا کے نزدیک انسانوں میں سے ناپسندیدہ ترین شخص وہ ہے کہ جس کا زندگی میں مقصد شکم سیری اور خواہشات نفسانی کی تکمیل کے علاوہ کچھ نہ ہو _ (۳) حضر ت علی علیہ اسلام فرماتے ہیں:

----------

۱_ غررالحکم ، ص ۱۷۹

۲_ غررالحکم ، ص ۷۰۷

۳_ غررالحکم ، ص ۲۰۵

۲۴۸

''جس نے اخروی سادت کو اپنا مقصد بنالیا وہ بلندترین خوبیوں کو پالے گا '' (۱)

ماں باپ کو چاہیے خودشناسی اور بامقصدیت کا درس بچے کو دیں ، وہ تدریجاً اپنی اولاد کی تعمیر کرسکتے ہیں اور انہیں بامقصد اور خودشناس بناسکتے ہیں _ وہ آہستہ آہستہ اپنی اولاد کو انسانیت کا بلند مقصد سمجھا سکتے ہیں اور ان کے سامنے زندگی کا مقصد واضح کرسکتے ہیں _ بچے کو ماں باپ کے ذریعے رفتہ رفتہ سمجھنا چاہیے وہ کون ہے ؟ کیا تھا؟ کہاں سے آیا ہے _

اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے _ آخر کار اسے کہاں جانا ہے _ اس دنیا میں اس کی ذمہ داری اور فریضہ کیا ہے _ اور اسے کس پروگرام اور ہدف کے تحت زندگی گزارنا چاہیے اس کی خواہش نصیبی اور بد نصیبی کس میں ہے _ اگر ماں باپ خودشناس ہوں اور ان کی اپنی زندگی با مقصد ہو اور وہ اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں تو وہ خودشناس اور بامقصد انسان پروان چڑھا سکتے ہیں _

----------

۱_ غرر الحکم ، ص ۶۹۳

۲۴۹

گھر کی آمدنی اور خرچ

کسی گھر کے انتظامی امور میں سے اہم ترین اس کا معاشی پہلو ہے اور گھر کی آمدن اور خرچ کا حساب ہے اور با سمجھ خاندان آمد و خرچ کے حساب کو پیش نظر رکھتے ہیں _ اور آمدنی کے مطابق خرچ کرتے ہیں _ ہر خاندان کو جاننا چاہیے کہ پیسہ کس راستے پر خرچ کرے سمجھدار خاندان قرض سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کرتے ہیں _ اور پریشانیوں میں گرفتار نہیں ہوتے اور زندگی آرام سے اور دردرسر کے بغیر گزارتے ہیں _ ان کے اقتصادی حالات خراب بھی ہوں تو تدریجاً انہیں بہتر بناتے ہیں _ اور زندگی کو فقر و بے سروسامانی سے نکال لیتے ہیں _

اس کے برعکس جس خاندان کا معاشی اعتبار سے ، اور آمدن و خرچ کے اعتبار سے نظام درست نہ ہو اور اس کے افراد بغیر کسی حساب کے خرچ کرتے ہوں تو ایسا خاندان عموماً دوسروں کا مقروض اور مرہون رہتا ہے _ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایسا خاندان ناچار سودی قرض لیتا ہے_ یا قرض پر مہنگی چیزیں خریدتا ہے _یعنی دوسروں کے لیے زخمت اٹھاتا ہے _ ایسے خاندان کی زندگی زیادہ تر خوش نہیں گزرتی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زندگی کی ابتدائی ضروریات سے محروم رہے اور ان کی زندگی کی حالت مناسب نہ ہو، اگر چہ اس کی آمدنی اچھی ہی کیوں نہ ہو لیکن چونکہ ان کے گھر میں کوئی عقل و تدبیر نہیں ہوتی اورایسے گھر کے لوگ ہوس اور بلند پروازی کا شکار ہوتے ہیں لہذا زیادہ تر گرفتار بلاہی رہتے ہیں _ کسی خاندان کی خوش حالی اور آسائشے صرف کمال کرلانے پر منحصر نہیں ہے بلکہ اس سے بھی اہم عقل و تدبیر اور کسی منظم معاشی پروگرام کے مطابق اس کو خرچ کرنا ہے _

۲۵۰

امام صدق علیہ السلام فرماتے ہی:

''جب اللہ کسی خاندان کے لیے بھلائی اور سعادت چاہتا ہے تو انہیں زندگی میں تدبیر اور سلیقہ عطا کردیتا ہے '' _ (۱)

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:''تمام کمالات تین چیزوں میں جمع ہیں ان میں سے ایک زندگی میں فہم و تدبیر (سے) اور معاشی امور میں عقل (سے کام لینا)ہے _ (۲)

حضرت صادق علیہ السلام ہی فرماتے ہیں:''فضول خرچی غربت و ناداری کا باعث بنتی ہے اور زندگی میں اعتدال اور میانہ روی بے نیازی اور استغناء کا باعث بنتے ہیں'' _ (۳)

حضرت علی علیہ اسلام فرمایا:اعتدال سے آدھی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں _ (۴)

امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:فضول خرچ کی تین نشانیاں ہیں:

۱_ جو چیز اس کے پاس نہیں ہوتی وہ کھاتا ہے

۲_ جس چیز کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے وہ خرید تاہے اور

۳_ جس لباس کی قیمت ادا نہیں کرسکتا اسے پہنتا ہے _ (۵)

---------

۱_ کافی ، ج ۵، ص ۸۸

۲_ کافی ، ج ۵، ص ۸۷

۳_ وسائل ، ج ۱۲ ، ص ۴۱

۴_ مستدرک ، ج ۲ ، ص ۴۲۴

۵_ وسائل، ج ۲۱، ص ۴۱

۲۵۱

گھر کے مالی امور کو منظم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے میاں بیوی کے درمیان ہم آہنگی پائی جائے اگر میاں یا بیوی گھر کی آمدنی کو مد نظر نہ رکھیں اور بغیر کسی حساب کتاب کے خرچ کریں تو ان کے گھر کاکام نہیں چل سکتا _

دوسرے درجے پربچوں میں بھی باہمی تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے _ گھر کے بچے بھی اگر آمدنی کو پیش نظر نہ رکھیں اور بغیر کسی حساب کتاب کے خرچ کریں تو بھی خاندان مشکلات اور مصائب کا شکار ہوجائے گا _

ماں باپ کو چاہیے کہ مالی امور میں اپنے بچوں کے ساتھ ہم فکری پیدا کریں اور انہیں گھر کی آمدنی اور خرچ سے آگاہ کریں _ بچوں کو تدریجاً یہ بات سمجھنا چاہیے کہ پیسے آسانی او رایسے ہی ہاتھ نہیں آجاتے بلکہ اس کے لیے محنت صرف ہوتی ہے _ انہیں جاننا چاہیے کہ باپ زحمت اٹھاتا ہے اور ہرروز کام پر جاتا ہے تا کہ پیسے کماکرلائے اور گھر کے اخراجات پورے کرے _ اور اگر ماں بھی کہیں کام یا ملازمت کرتی ہو تو یہ بات بھی بچوں کو سمجھنا چاہیے اور اگر ماں خانہ دار ہو تو بچوں کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ گھر کا نظام آسانی سے نہیں چلتا بلکہ اس کی ماں شب و روز محنت کرتی ہے _

چاہیے کہ بچے آہستہ آہستہ ماں باپ کے کام اور گھر کی آمدنی کی مقدار کو جانیں انہیں یہ سمجھنا چہیے کہ ماں باپ کی آمدنی ہی سے گھر کسے سارے اخراجات پور ے ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نہیں اور انہیں سمجھناچاہیے کہ گھر کے تمام اخراجات کو ان پیسوں کے اندر پورا ہونا چاہیے اور سارے اخراجات ایک ہی سطح کے نہیں ہوتے بلکہ بعض اخراجات کو ترجیح دینا پڑتی ہے مثلاً مکان کا خرچ یا مکان کا کرایہ ، پانی اور بجلی کابل، روٹی اور کپڑے کے پیسے ، گھر میں روزمرّہ کی ضروریات کاسامان اور ڈاکٹر کی فیس دیگر ضروریات پر مقدم ہیں _ پہلے مرحلے میں زندگی کی ضروریات پوری کرناچاہئیں باقی چیزیں بعد میں آتی ہیں _ باقی چیزیں بھی ایک سطح کی نہیں ةوتیں بچوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے اور ماں باپ کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے _

بچوں کو ابتدائی زندگی ہی سے اس امر کا عادی بنایا جانا چاہیے کہ ان کی خواہشات

۲۵۲

اور توقعات کو گھر کی آمدنی سے ہم آہنگ ہونا چاہیے_ انہیں بے جا خواہشات اور بڑھ چڑھ کر خرچ کرنے سے بچنا چاہیے _ انہیں چاہیے کہ اپنے آپ کو گھر کا ایک باقاعدہ فرد سمجھیں اور گھر کا خرچ چلانے میں اپنے آپ کو شریک سمجھیں _ وہ یہ نہ سمجھنے لگ جائیں کہ ہم کوئی بلند مرتبہ لوگ ہیں اور ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ ہمارے خرچے پورے کریں _ بچوں کو صرف اپنی خواہشات کو پیش نظر رکھ کر گھر کی باقی ضروریات کو نظر انداز نہیں کردینا چاہیے _ بچے کو اوائل عمر ہی سے اپنی خواہشات سے چشم پوشی کرکے گھر کی ضروریات کو ترجیح دینے کی عادت پڑنی چاہیے _

انہیں بچوں نے آئندہ بڑے ہو کر نظام چلانا ہے _ لہذاانہیں ابھی سے فضول خرچ نہیں ہونا چاہیے گھر کی مالی حالت خوب اچھی ہی کیوں نہ ہو پھر بھی ماں باپ کو نہیں چاہیے کہ وہ بچوں کو اجازت دیں کہ وہ بے حدو حساب خرچ کرتے ہیں _ انہیں چاہیے کہ بچوں کو سمجھائیں کہ سب لوگ ایک خاندان کے فروہیں اور امیر وں کو چاہیے کہ غریبوں کی مدد کریں اور اگر کوئی کم آمدنی والا خاندان ہے اور مشکل سے روزانہ کے اخراجات پورے ہوتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ اپنی روزانہ کی آمدن کے مطابق اخراجات کریں البتہ انہیں نہیں چاہیے کہ اپنی مشکلات کی شکایت اپنے بچوں سے کریں بلکہ انہیں صبر و استقامت کا درس دیں اور انہیں آئندہ زندگی کو بہتر کرنے کے لیے آمادہ کریں_ جب بچے میں کام کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے تو اسے کام کرنے پر ابھاریں بچے سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر تم بھی کام کروگے تو اس سے آمدنی ہوگی اور پھر ہمارے گھر کے حالات بھی بہتر ہوجائیں گے _ بچے کو یہ عادت ڈالیں کہ وہ اپنی آمدنی کاکچھ حصّہ گھر میں دے دے کیونکہ وہ اسی خاندان کے ساتھ کررہتا ہے بچے میں مفت خوری کی عادت نہیں پیدا ہونی چاہیے _ بچوں کا جیب خرچ بھی گھر کی آمدنی کے مطابق ہونا چاہیے _

۲۵۳

قانون کااحترام

لوگ قانون کے بغیر زندگی نہیں گزارسکتے _ معاشرے کے نظام کو چلانے کے لیے برائیوں کو روکنے کے لیے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے اور عوام کے آرام و آسائشے کے لیے قانون ضروری ہے جن ملکوں میں قانون بنانے والے افراد اور عوامل کے اچھے باہمی ربط ہوتے ہیں اور جہاں لوگوں کے لیے قانون بنائے گئے ہیں وہاں لوگ قانون کا احترام بھی کرتے ہیں اور قانون کے احترام سے ہی ملک میں امن و امان اور عوام کی زندگی کے لیے آرام و راحت وجود میں آتا ہے _

لیکن جن ملکوں میں قانون بنانے والے لوگ حکومتوں کے مفادات کے لیے قانون بناتے ہوں اور عوام کے حقیقی مفادات ان کی نظر میں نہیں ہوتے وہاں عوام کی نظر میں قانون کا کوئی احترام بھی نہیں ہوتا اور مل بھی امن او رچین سے محروم رہتا ہے _ بدقسمتی سے پہلے ہمارے ملک کی بھی یہی حالت تھی _ بیشتر قوانین اسلامی اور عوامی نہ تھے بلکہ حکومتوں کی خواہش پر او رمغرب و مشرق کی سامراجی طاقتوں اور ان کے چیلوں کے فائدے میں قانون بنتے تھے _ مزدور ، محنت کس اور محروم افراد کے حقیقی مفادات کی طرف کوئی توجہ نہ تھی _ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ رعب و دبدبہ سے اور مکر و فریب سے عوامل دشمن قوانین ہی کہ عوام پر نافذ کریں_ لیکن ایران کے مسلمان عوام چونکہ ان قوانین ک و اسلامی اور اپنے مفادات کا محافظ نہیں سمجھتے تھے _ لہذا ان کی نظر میں ان کی کوئی حیثیت نہ تھی _ البتہ ان قوانین میں کچھ عوامی فائدے کے قوانین بھی موجود تھے لیکن چونکہ عوام کا ان پر اعتماد نہیں تھا لہذا ان کا احترام بھی نہیں کرتے تھے _ البتہ جائز

۲۵۴

صحیح اور سودمند قانون کا احترام ضروری ہے اور ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ یہ بات اپنی اولاد کو سمجھائیں _ جب بچے اپنے ماں باپ کو دیکھتا ہے کہ وہ سڑ ک پار کرتے ہوئے سڑک پار کرنے کی معینہ جگہ (زیبرا کراسنگ) ہی سے سڑک پارکرتے ہیں تو اس میں بھی اس کی عادت پڑ جاتی ہے اور پھر وہ اس کی خلاف ورزی کو اچھا نہیں سمجھتا _

خصوصاً ماں باپ کو چاہیے کہ بچوں کو سمجھائیں سڑک کو استعمال کرنا ڈرائیوروں کا حق ہے اور زیبرا کراسنگ پیدال چلنے والوں کا حق ہے اور دوسرے کے حق پہ تجاوز درست نہیں ہے _ جب بچہ یہ سمجھ جاتا ہے کہ قانون پر عمل در آمد خود اس کے اور معاشرے کے فائدے میں ہے تو پھر تدریجاً ماں باپ کے عمل کو دیکھتے ہوئے اس کے اندر بھی اس بات کی عادت پڑ جاتی ہے

حضرت علی علیہ السام فرماتے ہیں:

''عادت فطرت ثانیہ ہے '' _ (۱)

--------

۱_ غرر الحکم ، ص ۲۶

۲۵۵

ادب

ہر ماں باپ کی یہ حتمی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے مہذب ہوں، اچھے اور باادب بچے ہر ماں باپ کی سربلندی کا ذریعہ ہوتے ہیں اور وہ ان پر فخر کرتے ہیں _ جو بچے دوسروں سے ملاقات کے موقع پر سلام کرتے ہیں اور جدا ہونے پر خداحافظ کرتے ہیں _ مصافحہ کرتے ہیں _ حال پوچھتے ہیں ،پیار سے انداز سے بات کرتے ہیں، بزرگوں کا احترام کرتے ہیں ، ان کے آنے پر احتراماً کھڑے ہوجاتے ہیں _ صاحبان علم ، باتقوی اور نیک افراد کا احترام کرتے ہیں _ محفل میں مؤدب رہتے ہیں شور نہیں کرتے اور اگر کوئی کچھ دے تو اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں _ کسی کو گالی نہیں دیتے ، دوسروں کو تکلیف نہیں پہنچاتے ، دوسروں کی بات نہیں کاٹتے، کھانے کے آداب ملحوظ رکھتے ہیں _ بسم اللہ کہتے ہیں _ چھوتے نوالے لیتے ہیں ، آہستہ آہستہ چباتے ہیں، اپنے سامنے سے کھاتے ہیں ، زیادہ نہیں کھاتے ، کھانا زمین پر نہیں پھینکتے ، اپنے ہاتھوں اور لباس کو خراب نہیں کرتے ، صاف ستھرے اور پاکیزہ رہتے ہیں _ کسی کی توہین نہیں کرتے _ دوسروں کا لحاظ کرتے ہیں اور صحیح طریقے سے بیٹھتے اور اٹھتے ہیں، صحیح انداز سے چلتے ہیں _ اطاعت شعار اور فرمان بردار ہوتے ہیں _ کسی کا تمسخر نہیں اڑاتے _ اور دوسروں کی بات کان لگاکر سنتے ہیں ایسے بچے باادب ہوتے ہیں _

نہ صرف والدین بلکہ سب لوگ با ادب بچوں سے پیار کرتے ہیں اور گستاخ اور بے ادب بچوں سے نفرت_

۲۵۶

امیر المؤمین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''ادب انسان کا کما ل ہے'' _ (۱)

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''ادب انسان کے لیے خوبصورت لباس کے مانند ہے '' _ (۲)

''لوگوں کو اچھے آداب کی سونے اور چاندی سے زیادہ ضرورت ہے '' _ (۳)

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''ادب سے بڑھ کے کوئی زینت نہیں '' _ (۴) امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''باپ کی بہترین وراثت اپنے بچے کے لیے یہ ہے کہ اسے اچھے آداب کی تربیت دے '' _ (۵)

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''بے ادب شخص میں برائیاں زیادہ ہوں گی'' _ (۶) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:''سات سال تک اپنے بچے کو کھیلنے کی اجازت دو اور سات سال سے آدا ب زندگی سکھاؤ'' _ (۷)

---------

۱_ غرر الحکم ، ص۳۴

۲_ غرر الحکم ، ص ۲۱

۳_ غرر الحکم ، ص ۲۴۲

۴_ غرر الحکم ، ص ۸۳۰

۵_ غرر الحکم ، ص ۳۹۳

۶_ غرر الحکم ، ص ۶۳۴

۷_ بحار، ج ۱۰۴، ص ۹۵

۲۵۷

رسول اکر م صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:''بچے کے والدین پر تین حق ہیں ،

۱_ اس کے لیے اچھا نام منتخب کریں

۲_ اسے با ادب بنائیں اور

۳_ اس کے لیے اچھا شریک حیات انتخاب کریں '' _ (۱)

ہر ماں باپ کی انتہائی آرزو یہ ہوتی ہے کہ ان کی اولادبا ادب ہو لیکن یہ آرزو خود بخود اور بغیر کوشش کے پوری نہیں ہو سکتی اور نہ ہی زیادہ و عظ و نصیحت سے بچوں کو مؤدب بنایا جا سکتا ہے _ اس مقصد تک پہنچنے کے لیے بہترین راستہ ان کے لیے اچھا نمونہ عمل مہیا کرنا ہے _ ماں باپ کو خود مؤدب ہونا چاہیے _ تا کہ وہ اپنی اولاد کو عملی سبق دے سکیں _

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''بہترین ادب یہ ہے کہ اپنے آپ سے آغاز کرو'' (۲) امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''اپنے کردار کو مؤدب بنائیں پھر دوسروں کو وعظ و نصیحت کریں'' _ (۳)

بچہ تو نرا مقلّد ہوتا ہے تقلید کی فطرت اس کے اندر بہت اہم اور طاقتور ہوتی ہے _ بچہ ماں باپ اور دوسرے لوگوں کے گفتار و کردار کی پیروی کرتا ہے _ یہ صحیح ہے کہ تلقین بھی تربیتی عوامل میں سے ایک ہے _ لیکن تقلید انسانی جبلّت میں زیادہ قوی اور طاقت ور ہوتی ہے خصوصاً بچپن میں جن ماں باپ کی خواہش ہے کہ ان کے بچے مؤدب ہوں انہیں چاہیے کہ پہلے اپنے طرز عمل کی اصلاح کریں وہ با ادب ماں باپ بنیں _ انہیں چاہیے کہ

---------

۱_ وسائل ، ج ۱۵ ص ۱۲۳

۲_ غرر الحکم ، ص ۱۹۱

۳_ نہج البلاغہ ، ج ۳ ، ص ۱۶۶

۲۵۸

ایک دوسرے سے ، اپنے بچوں سے اور تمام لوگوں سے مؤدبانہ طرز عمل اختیار کریں _ اور آداب زندگی کی پابندی کریں تا کہ بچے ان سے سبق حاصل کریں ان سے درس حیات حاصل کریں _ اگر ماں باپ آپس میں ایک دوسرے سے بااب ہوں ، گھر میں آداب واقدار کو ملحوظ رکھتے ہوں بچوں سے بھی با ادب رہتے ہوں لوگوں سے مؤدبانہ طریقہ سے میل ملاقات کرتے ہوں ایسے گھر کے بچے فطری طور پر مؤدب ہوں گے _ وہ ماں باپ کا طرز عمل دیکھیں گے اور اسے اپنے لیے نمونہ عمل بنائیں گے اور اس کے لیے ان کو وعظ و نصیحت کی ضرورت نہیں ہوگی _

جو ماں باپ خود آداب کو محلوظ نہیں رکھتے _ انہیں بچوں سے بھی ادب کی توقع نہیں کرنی چاہیے اگر چہ سینکڑوں مرتبہ انہیں نصیحت کریں _ جو ماں باپ ایک دوسرے کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتے ہیں اور خود اپنے بچوں کے ساتھ غیر مودبانہ سلوک کرتے ہیں وہ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ان کے بچے با ادب ہوں _

ایسے گھر کے بچے زیادہ تر ماں باپ کی طرح یا ان سے بھی زیادہ بے ادب ہوں گے اور انہیں اچھی تلقین اور وعظ و نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا _ بچے بھی سوچتے ہیں کہ اگر ماں باپ کی بات صحیح ہوتی تو وہ خود عمل نہ کرتے لہذا یہ ہمیں دھوکا دے رہے ہیں _

البتہ تلقیں بالکل بے اثر نہیں ہوتی لیکن اس کا پورا اثر اس وقت ہوتا ہے کہ جب بچے اس کا نمونہ عمل دیکھیں _ با ادب ماں باپ بچوں کو اچھے آداب کی نصیحت بھی کر سکتے ہیں _ لیکن اچھے انداز سے _ ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے ، تندی ، بدتمیزی اور بے ادبی سے نہیں _ بعض ماں باپ کی عادت ہوتی ہے کہ جب وہ بچوں کا کوئی خلاف ادب کام دیکھتے ہیں تو دوسروں کی موجودگی میں ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں اور برا بھلا کہتے ہیں _ مثلاً کہتے ہیں اوبے ادب تو نے سلام کیوں نہیں کیا خداحافظ کیوں نہیں کیا ؟ گونگے ہو احمق اور بے شعو ربچے تو نے دوسروں کے سامنے پاؤں کیوں پھیلائے ؟ کسی کے ہاں آکر شور کیوں مچا رہے ہو حیوان کہیں کے دوسروں کی باتوں میں بولتے کیوں ہوں _یہ نادان ماں باپ اپنے تئیں اس طرح سے اپنے بچوں کی تربیت کررہے

۲۵۹

ہوتے ہیں جب کہ بے ادبی سے ادب نہیں سکھایا جا سکتا_ اگر بچے سے کوئی بے ادبی سرزد ہوجائے تو اسے نصیحت کرنی چاہیے _ لیکن بے ادبی سے نہیں _ نہ دوسروں کے سامنے بلکہ تنہائی میں اور بھلے انداز سے _

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ بچوں کو سلام کرتے تھے اور فرماتے تھے ''میں بچوں کو سلام کرتا ہوں کہ سلام کرنا ان کا معمول بن جائے ''

۲۶۰

چوری چکاری

کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے بچہ دوسروں کے ماں کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے کھانا ، پھل یا کسی اور بچے کے کھلونے زبردستی لے لیتا ہے _ باپ کی جیب سے یا ماں کے پرس سے چوری چھپے پیسے نکال لیتا ہے _ ماں نے کھانے کے لیے چیزیں چھپا کے رکھی ہوتی ہیں اس میں ہاتھ مارتا ہے _ دکان سے چپکے سے چیزا اٹھا لیتا ہے _ بہن یا بھائی یا ہم جماعت کی پنسل ، پین ، رہبڑیا کا پی اٹھالیتا ہے _ اکثر بچے بچپن میں اس طرح کے کم زیادہ کام کرتے ہیں _ شاید ایسا شخص کوئی کم ہی ملے کہ جسے بچپن کے دنوں میں اس طرح کے واقعات ہر گز پیش نہ آئے ہوں ، بعض ماں باپ اس طرح کے واقعات دیکھ کر بہت ناراحت ہوتے ہیں اور بچے کے تاریک مستقبل کے بارے میں اظہار افسوس کرتے ہیں ، وہ پریشان ہوجاتے ہیں کہ ان کا بچہ آئندہ ایک قاتل یا چور بن جائے گا اس وجہ سے وہ اپنے آپ میں کڑھتے رہتے ہیں _

سب سے پہلے ان ماں باپ کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہیے کہ زیادہ ناراحت نہ ہوں اور اس پہ اظہار افسوس نہ کریں _ کیونکہ یہ چھوٹی چھوتی چیزیں اٹھالینا یا چرا لینا اس امر کی دلیل نہیں کہ آپ کا بچہ آئندہ شریر ، غاصب اور چور ہوگا ، کیونکہ بچہ ابھی رشد و تمیز کے اس مرحلہ پر نہیں پہنچا کہ کسی کی ملکیت کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھ سکے اور اپنے اور د وسرے کی ملکیت میں فرق کرسکے _ بچے کے احساست اس کی عقل سے زیادہ قوی ہوتے ہیں اس لیے جو چیز بھی اسے اچھی لگتی ہے انجام سوچے بغیر اس کی طرف لپکتا ہے _ بچہ فطری طور پر شریر نہیں ہوتا اور بچے کی یہ غلطیاں اس کے باطن سے پیدا نہیں ہوتی _ یہ تو عارضی سی چیزیں ہیں _ جب بڑا

۲۶۱

ہوگا تو پھر ان کا مرتکب نہیں ہوگا _ ایسے کتنے ہی پرہیزگار ، امین اور راست باز انسان ہیں کہ جو بچپن میں اس طرح کی ننّھی منی خطائیں کرتے رہے ہیں _ البتہ میرے کہنے کا یہ مقصد نہیں کہ آپ ایسی خطاؤں کو دیکھ کر کوئی رد عمل ظاہر نہ کریں اور اس سے بالکل لا تعلق رہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کو دیکھ کر بچے کو شریر اور ناقابل اصلاح نہ سمجھ لیں _ ایسے ہی داد و فریاد نہ کرنے لگین بلکہ صبر اور بردباری سے ان کا علاج کریں _

خاص طور پر دو تین سالہ بچہ اپنے اور غیر کے مال میں فرق نہیں کرسکتا اور ملکیت کی حدود کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا _ جس چیز تک اس کا ہاتھ پہنچ جائے اس اپنا بنالیتا چاہتا ہے _ جو چیز بھی اسے اچھی لگے اٹھالینا چاہتا ہے اس مرحلے پر ڈانٹ ڈپٹ اور مارپیٹ کا کوئی فائدہ نہیں _ اس مرحلہ پر ماں باپ جو بہترین روش اپنا سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ بچے کو عملاً اس کام سے روک دیں _ اگر وہ زبردستی کوئی چیز دوسرے بچے سے لینا چاہے تو اسے اجازت نہ دیں اور اگر وہ لے لے تو اس سے لے کر واپس کردیں _جو چیز وہ چاہتے ہیں کہ بچہ نہ اٹھائے اسے اس کی دسترس سے دور رکھیں _ زیادہ تر بچے جب رشد و تمیز کی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور ملکیت کی حدود کو اچھی طرح جان لیتے ہیں تو پھر دوسروں کے مال کی طرف وہ ہاتھ نہیں بڑھاتے اور چوری نہیں کرتے البتہ بعض بچے اس عمر میں بھی اس غلط کا م کے مرتکب ہوجاتے ہیں _ اس موقع پر ماں باپ کو خاموش اور لاتعلق نہیں رہنا چاہیے یہ درست نہیں ہے کہ ماں باپ اپنے بچے کی چوری چکاری کو دیکھیں اور اس کی اصلاح نہ کریں اور یہ کہتے رہیں کہ ابھی بچہ ہے _ اس کی عقل ہی اتنی ہے جب بڑا ہوگا تو پھر چوری چکا ری نہیں کرے گا _ البتہ یہ احتمال ہے کہ جب وہ بڑاہو تو چوری نہ کرے لیکن یہ احتما ل بہت ہے کہ ان چھوٹی چھوٹی چوریوں سے اسے چوری کی مستقل عادت پڑجائے اور وہ ایک چورا اور غاصب بن کر ابھر سے _ علاوہ ازیں یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ بچہ کسی کا یاماں باپ کا مال اٹھا لے اور کوئی اس سے کچھ نہ کہے _ او راس سے بھی بدتر یہ ہے کہ ماں باپ اپنے بچے کے غلط کام پر اسے منع کرنے کی بجائے اس کا دفاع اور اس کی حمایت کرنے لگیں _ اگر کوئی ان سے شکایت کرے کہ ان کے بچے نے اس کا مال چرایا ہے تو یہ شور و غل کرنے لگیں کہ ہمارے

۲۶۲

بچے پر یہ الزام لگا یا کیوں گیا ؟

اس طرح کے نادن ماں باپ اپنے طرز عمل سے اپنی اولاد کو چوری چکاری کی تشویق کرتے ہیں اور عملاً انھیں سبق دیتے ہیں کہ وہ چوری کریں اور مکر جائیں اور اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کے لیے شور مچائیں _

اس بناپر ماں باپ کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنے اولاد کے غلط کاموں سے لاتعلق رہیں بلکہ انہیں کوشش کرنا چاہیے کہ وہ انہیں ایسے کام سے روکیں _ کہیں ایسا نہ ہو کہ برائی ان کے اندر جڑ پکڑے اور عادت بن جائے اور عادت کو ترک کرنا بہت مشکل ہے _

حضرت علی علیہ اسلام فرماتے ہیں:''عادت کو ترک کرنا انتہائی کٹھن کام ہے '' _ (1)

ماں باپ کو پہلے مرحلے پر کوشش کرنا چاہیے کہ ان عوامل کو دور کریں کو جو بچے کی چوری کا سبب بنے ہیں تتا کہ یہ عمل اصلاً پیش ہی نہ آئے _ اگر بچے کو پنسل ، ربٹر، کاپی یا قلم کی ضرورت ہے ت وماں باپ کو چاہیے کہ اس کی ضرورت کو پورا کریں _ کیونکہ اگر انہوں نے اس کی ضروریات کو پورا نہ کیا تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ہم درس کی چیز اٹھالے یا ماں باپ کی جیب سے پیسے چوری کرے _ اگر اسے کھیل کے لیے گیندکی ضرورت ہے اور ماں باپ نہ لے کردیں تو ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے بچے کا گیندزبردستی لے لے _ یا محلّے کی دوکان سے چوری کرے _ ماں باپ کو چاہیے کہ حتی المقدور بچے کی حقیقی ضروریات کو پورا کریں _ اور اگر ممکن نہ ہو توبچے کو پیار سے سمجھائیں اور اس کاحل خود اس پہ چھوڑدیں _ مثلاً اسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں کہ تمہارے لیے رنگوں والی پینسلیں خرید سکیں _ تم فلاں دوکان سے ادھار لے لو _ بعد میں اسے پیسے دے دیں گے _ یا آج اپنے دوست سے عاریتاً لے لو بچے پر زیادہ سختیاں اور کنٹرول اور سخت پا بندیاں اس کے ذہن میں چوری کاراستہ پیدا کرسکتی ہیں _ اگر ماں باپ کھانے پینے کی چیزیں کسی الماری میں یا کسی اور ڈبے میں رکھ

---------

1_ غرر الحکم ، ص 181

۲۶۳

کر اس کوتا لگادیں اور اس کی چابی چھپالیں تو بچہ اس سوچ میں پڑجائے گا کہ کسی طرح سے چابی ڈھونڈے اور مناسب موقع پاکر اس چیز کو نکالے_ یہ بات خاص طور پر اس وقت ہوتی ہے جب ماں باپ خود کھائیں اور بچے کہ نہ دیں _

جب ماں باپ اپنے پیسے سات تہوں میں کسی جگہ چھپادیں تو ممکن ہے بچے میں تحریک پیدا ہو اور وہ اتنا انہیں تلاش کرے کہ آخر پالے _ ممکن ہو تو ماں باپ کو پیسے زیادہ بھی باندھ باندھ کر نہیں رکھنے چاہئیں _ انہیں بچوں سے مل جل کر اور ہم رنگ ہوکر رہنا چاہیے اور ان کے ساتھ افہام و تفہیم پیدا کرنا چاہیے _ انہیں سمجھائیں کہ زندگی کس حساب کے تحت ہی بسر ہوسکتی ہے کھانے پینے کی چیزوں کی معین وقت پر ہی استعمال کرنا چاہیے اور پیسے ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے ہیں انہیں کسی حساب کے مطابق ہی خرچ کرنا چاہیے _

بچوں کہ چوری ، ڈاکے اور قتل کی فلمیں نہیں دکھانا چاہئیں _ ریڈیوا اور کتابوں کی ایسی کہانیوں سے بھی بچوں کو دور رکھنا چاہیے _کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ چوری کرنے کے جرم میں عدالت میں پیش ہونے والے بچوں نے یہ بیان دیا ہے کہ یہ کام انہوں نے سینما یا ٹیلی وین میں ہوتے دیکھا ہے _

سب سے اہم یہ ہے کہ ماں باپ اور گھر کے سارے افراد کوشش کریں کہ ان کے گھر کا ماحول امانت داری اور سچائی پر مبنی ہو _ دوسروں کی ملکیت کا احترام کیا جائے اور اس پر تجاوز نہ کیا جائے _ ماں باپ کی اجازت کے بغیر ان کی جیب سے پیسے نہ نکالے اور اسے بتائے بغیر اس کے اموال میں بے جا تصرّف نہ کرے _ شوہر بھی بتائے بغیر زوجہ کی الماری اور سوٹ کیس کو ن چھپیڑے اور اس کے لیے مخصوص چیزوں میں تصرف نہ کرے _ ماں باپ کو بھی بچوں کی ملکیت کا احترام کرنا چاہیے اور بچوں کی اجازت کے بغیر ان سے مخصوص الماری طور اٹیچی کیس کو ہاتھ نہ لگائیں اور ان کے کھیلوں کے سامان میں تصرّف نہ کریں _

بچے کے چھوٹے سے تجاوز پر اس کی عزّت و آبرو کو نابود کرکے اسے ذلیل و خوار نہ کریں اسے یہ نہ کہیں اسے چور اسے خیانت کرے تم چور بن جاؤ گے اور جیل خانے میں جاؤگے ان توہین خطابات کے ساتھ آپ بچے کو چوری سے نہیں روک سکتے بلکہ

۲۶۴

اسے سے وہ ڈھیٹ بن جائے گا اور ممکن ہے کہ ان سب باتوں کا انتقام لینے کے لیے وہ بڑی بڑی چوریاں شروع کردے _

وہ بہترین طریقہ کہ ماں باپ کو جس کا انتخاب کرنا چاہیے یہ ہے کہ محبت اور نرمی کے ساتھ بچے کو سمجھائیں چوری کی برائی کو بیان کریں اور ملکیت کی وضاحت کریں _ مثلاً اسے کہیں تم نے جو فلان چیزا ٹھائی ہے وہ کسی اور شخص کی ہے اسے فوراً واپس لوٹادیں _ اور آئندہ ایسا عمل نہ دہرائیں _

لیکن اگر اس طرز عمل سے بھی کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہ کیا جا سکے تو مجبوراً بچے کو سختی اور ڈانٹ ڈپٹ سے روکا جائے اور اگر ناگزیر ہو توبعض مواقع پر مارپیٹ سے بھی بچے کو چوری سے روکا جا سکتا ہے _

۲۶۵

حسد

حسد ایک بری صفت ہے حاسد شخص ہمیشہ دوسروں کی خوشی اور آرام و سکون کو دیکھ کررنج اور دکھ میں مبتلا رہتا ہے کسی اور شخص کے پاس کوئی نعمت دیکھنے کے بعد غمگین ہو جاتا ہے اور اس سے نعمت کے چھن جانے کی آرزو کرتا ہے _ چونکہ عموماً یہ کسی کو کسی قم کا نقصان نہیں پہنچا سکتا اور اس سے وہ نعمت بھی نہیں چھین سکتا لہذا غمگین رہتا ہے اور حسد کی آگ میں دن رات جلتا رہتا ہے _ حاسد شخص دنیا کی لذت اور آسائشے سے محروم رہتا ہے حسد اور کینہ پروری انسان پروری انسان پر عرصہ حیات تنگ کردیتے ہیں _ اور انسان سے راحت و آرام چھین لیتے ہیں _

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:''حاسد انسان کو سب لوگوں سے کم لذت اورخوشی محسوس ہوتی ہے '' _ (1)

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''حسد حاسد کی زندگی کو تاریک کردیتا ہے '' _ (2)

امیر المومنین علی علیہ السلام ہی فرماتے ہیں:''حاسد شخص کو ہرگز راحت اور مسرت نصیب نہیں ہوتی '' _ (3)

-----------

1_ مستدرک ، ج 2، ص 327

2_مستدرک ، ج 2، ص 328

3_مستدرک ، ج 2، ص 327

۲۶۶

حسد انسان کے دل اور اعصاب پر بے اثر مرتب کرتا ہے اور انسان کو بیمار اور علیل کردیتا ہے _

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''حاسد شخص ہمیشہ بیمار اور علیل رہتا ہے '' _ (1)

حسد ایمان کی بنیادوں کو تباہ کردیتا ہے اور انسان کو گناہ اور نافرمانی پہ ابھارتا ہے بہت سے قتل ، جرم ،جھگڑے، لڑائیاں اور حق تلفیاں حسد ہی کی بنیاد پر ہوتی ہیں _ حاسد کبھی محسود کی غیبت اور بدگوئی کرتا ہے اور اس پہ تہمت بھی لگاتا ہے اس کے خلاف باتیں بناتا ہے _ اس کا مال ضائع کرتا ہے _

اما م باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

''حسد ایمان کو یوں تباہ کردیتا ہے جیسے آگ ایندھن کو جلادیتی ہے '' _ (2)

حسد انسان کی طبیعت کا حصہ ہے _ ایسا شخص کوئی کم ہی ہوگا کہ جو اس سے خالی ہو _ پیغمبر اکرم اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:''تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے کوئی شخص نہ ہوگا _

_ گمان بد،_ فال بد_ او رحسد (3)

لہذا اس بری صفت کا پوری قوت سے مقابلہ کیا جانا چاہیے اور اسے بڑھنے اور پھلنے پھولنے سے روکنا چاہیے _ اگر اس بری عادت کو نظر انداز کردیا جائے تو چوں کہ اس کاریشہ انسان کی طبیعت کے اندر ہوتا ہے لہذا یہ پھلنے پھولنے لگتی ہے اور اس حد تک

--------

1_ مستدرک، ج 2، ص 328

2_ شافی ، ج 1 ، ص 173

3_ مہجة البیضاء ، ج 3 ، ص 189

۲۶۷

جا پہنچتی ہے کہ اس کا مقابلہ کرنا اور اس کا قلع قمع کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے _ بہترین موقع کہ جب اچھے اخلاق کی پرورش کی جاسکتی ہے اور برے اخلاق کو پھلنے پھولنے سے روکا جاسکتا ہے بچپن کا زمانہ ہے _ اگر چہ یہ چھوٹی عمر میں ہی بچوں کی طبیعت میں موجود ہوتا ہے لیکن ماں باپ اپنے اعمال اور طرز عمل سے اس بری عادت کو تحریک بھی کرسکتے ہیں اور اس کا قلمع قمع بھی_ اگر ماں باپ1پنی ساری اولاد سے عادلانہ سلوک کریں اور کسی کو دوسرے پہ ترجیح نہ دیں _ لباس ،خوراک کے معاملے میں ، گھر کے کاموں کے معاملے میں _ جیب خرچ اور اظہار محبت کے معاملے میں میل جول کے معاملے میں عدالت و مساوات کو ملحوظ نظر رکھیں چھوٹے بڑے میں _ خوبصورت اور بدصورت میں _ بیٹے بیٹی میں _ با صلاحیت اور بے صلاحیت میں کوئی فرق نہ کریں تو بچوں میں حسد پروان نہیں چڑھے گا اور ممکن ہے تدریجاً ختم ہی ہوجائے _ بچوں کی موجودگی میں کبھی کسی ایک کی تعریف و ستائشے نہ کریں اور ان کا آپس میں موازنہ نہ کریں _ بعض ماں باپ تعلیم و تربیت کے لیے اور بچوں کی تشویق کے لیے ان کا آپس میں موزانہ کرتے ہیں مثلاً ہتے ہیں احمد بیٹا دیکھ تماری بہن نے کتنا اچھا سبق پڑھا ہے کتنے اچھے نمبر لاتی ہے _ گھر کے کاموں میں ماں کی مدد کرتی ہے ، کتنی با ادب اور ہوش مند ہے _ تم بھی بہن کی طرح ہو جاؤ تا کہ امّی ابو تم سے بھی پیار کریں _ یہ نادان ماں باپ اس طرح چاہتے ہیں کہ اپنے بچے کی تربیت کریں جب کہ ایسا بہت کم ہوتاہے کہ اس طریقے سے مقصد حاصلہ ہو _ جب کہ اس کے برعکس معصوم بچے کے دل میں حسد اور کینہ پیدا ہوجاتا ہے اور اسے حسد اور دشمنی پر آمادہ کردیتا ہے _ ہوسکتا ہے اس طرح سے بچہ کے دل میں اپنی بہن یا بھائی کے لیے کینہ پیدا ہوجائے اور وہ اسے نقصان پہنچانے پر تل جائے اور ساری عمران کے دل میں حسد اور دشمنی باقی رہے _کبھی اپنے بچوں کا دوسرے بچوں سے موازنہ نہ کریں اور اپنی اولاد کے سامنے دوسروں کی تعریف نہ کریں _ یہ درست نہیں ہے کہ ماں باپ اپنی اولاد سے کہیں فلاں کے بیٹے کو دیکھو کتنا اچھا ہے کتنا با ادب ہے _ کتنا اچھا سبق پڑھتاہے _ کتنا فرمانبردار ہے گھر کے کاموں میںامّی ابّو کا کتنا ہاتھ بٹاتا ہے _ اس کے ماں باپ کس قدر خوش قسمت ہیں _ ان کے حال پہ رشک آتاہے _ ایسے ماں باپ کو سمجھنا چاہیے کہ اس طرح کاموازنہ اور

۲۶۸

اس طرح کی سرزنش کا نتیجہ حسد کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا _ زیادہ تر ان کا نتیجہ الٹ ہی نکلتا ہے اور انہیں ڈھٹاتی اور انتقام پر ابھارتا ہے _ماں باپ کو ایسے طرز عمل سے سختی ہے پرہیز کرنا چاہیے _ البتہ سارے بچے ایک سے نہیں ہوتے کوئی بیٹا ہے کوئی بیٹی ہے _ کوئی باصلاحیت ہے کوئی نہیں ہے کوئی خوش اخلاق ہے کوئی بد اخلاق ہے کوئی خوبصورت ہے کوئی نہیں ہے _ کوئی فرمانبردار ہے کوئی نہیں ہے _ کوئی تیز کوئی سست ہے _ ہوسکتا ہے ماں باپ ان میں سے کسی ایک سے دوسروں کی نسبت زایدہ محبت کرتے ہوں اس میں کوئی حرج نہیںہے _ دل کی محبت اور پسند انسان کے اختیار میں نہیں ہے _ اور جب تک اس فرق کا عملاً اظہار نہ ہو تو یہ نقصان دہ نہیں ہے _ لیکن ماں باپ کو عمل اور زبان سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دینے سے سختی سے بچنا چاہیے _ عمل ، گفتار ،اور اظہار محبت کرتے ہوئے مساوات اور برابری کو پوری طرح سے ملحوظ رکھنا چاہیے اس طرح سے کہ بچہ محسوس نہ کرے کہ دوسرے کو مجھ پر ترجیح دی جا رہی ہے _ اگر آپ کسی بچے کو اس کے کام پر تشویق کرنا چاہیے ہیں تو مخفی طور پر کریں _ دوسرے بہن بھائیوں کی موجودگی میں نہ کریں _ البتہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ماں باپ عادلانہ طرز عمل اور مساوات بہن بھائیں کی موجودگی میں نہ کریں _ البتہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ماں باپ عادلانہ طرز عمل اور مساوات سے بہن بھائیوں کے درمیان محبّت سے حسد بالکل ختم کردیں _ کیونکہ حسد انسان کے باطنی مزاج میں موجود ہوتا ہے _ ہر بچے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہی ماں باپ کو زیادہ لاؤ لاہو اور اس لے علاوہ دوسرا ان کے دل میں نہ سمائے _ جب وہ دیکھتا ہے کہ ماں باپ دوسرے سے اظہار محبت کررہے ہیں تو اسے اچھا نہیں لگتا اور اس کے دل میں حسد پیدا ہوتا ہے لیکن اس کا کوئی چارہ نہیں _ بچے کو آہستہ آہستہ یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ وہ تنہا ماں باپ کا محبوب نہیں بن سکتا _ دوسروں کا بھی اس میں حق ہے_ ماں باپ اپنے عاقلانہ اور عادلانہ طرز عمل سے بچے کو دوسرے بہن بھائیوں کو قبول کرنے کے لیے آمادہ کرسکتے ہیں اور جہاں تک ممکن ہوسکے اس ک حسد سے بچا سکتے ہیں _

اگر آپ دیکھیں کہ آپ کا بیٹا دوسرے بھائی یا بہن سے حسد کرتا ہے _ اسے اذیت کرتا ہے _ مارتا ہے ، چٹکیاں لیتا ہے _گالی دیتا ہے اس کے کھلونے توڑتا ہے ،ان

۲۶۹

کے حصے کے پھل اور کھانا چھین لیتا ہے _ اس صورت میں ماں باپ خاموش نہیں رہ سکتے کیوں کہ ہوسکتا ہے ان کی خاموشی کے اچھے نتائج نہ نکلیں _ ناچار زیادتی کرنے والے بچے کو انہیں روکنا چاہیے لیکن مارپیٹ سے اصلاح نہیں ہوگی _ کیونکہ اس طریقے سے ممکن ہے صورت حال اور بھی بگڑجائے اور اس کے حسد میں اضافہ ہوجائے _ بہتر ہے کہ اسے سختی سے روکیں اور کہیں میں اجازت نہیں دے سکتا کہ اپنی بہن یا بھائی کو تنگ کرو _ آخر یہ تمہاری بہن ہے اگر تم اسے پیار نہ کروگے تو کون کرے گا او ر یہ تمہارا بھائی ہے تمہیں تو چاہیے کہ دوسرے ان پہ زیادتی کریں تو تم ان کی حفاظت کرو _ یہ تم سے کتنا پیار کرتے ہیں _ اللہ نہ تمہیں کتنے پیارے بہن بھائی دیے ہیں اور ہمیں تم سب سے پیار ہے _ تمہیں نہیں چاہیے کہ ایک دوسرے کو ستاؤ اور تنگ کرو_

آخر میں ضرور ی ہے کہ اس با ت کا ذکر کیا جائے کہ بچوں کے درمیان کامل مساوات کو ملحوظ رکھنا شاید ممکن نہ ہو _ ماں باپ چھوٹے بڑے ،بیٹی اور بیٹے کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیسے کرسکتے ہیں _ بڑے بچوں کو نسبتاً زیادہ آزادی دی جا سکتی ہے _ لیکن چھوٹوں کو آزادی نہیں دی جا سکتی _ بڑے بچوں کو زیادہ جیب خر چ کی ضرورت ہوتی ہے اور چھوٹوں کو نہیں چھوٹے بچوں کو زیادہ ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی رکھوالی کی جائے اور ماں باپ انی کی طرف زیادہ توجہ دیں _ کہیں آتے جاتے ہوئے بیٹیوں کی نسبت بیٹوں کو زیادہ آزادی دی جا سکتی ہے اور مناسب بھی نہیں کہ بیٹیوں کو زیادہ آزادی دی جائے _ لہذا مساوات اور عدالت کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ عمر اور جنس کے اختلاف کے تقاضوں کو بھی ماں باپ کو ملحوظ رکھنا ہوتا ہے اور ان کی ضروریات کے فرق کا بھی لحاظ رکھنا پڑتا ہے _ اس وجہ سے خواہ مخواہ فرق پیدا ہوتا ہے لیکن سمجھدار ماں باپ اس طرح کے فرق کو اپنی اولاد کے سامنے بیان کرسکتے ہیں اور انہیں سمجھا سکتے ہیں کہ یہ اس لیے نہیں ہے کہ ہم ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتے ہیں بلکہ عمر اور جنس کے فرق کی وجہ سے ایسا ہے مثلاً بڑے بیٹیوں سے کہا جا سکتا ہے _ تمہارا یہ بھائی چھوٹا اور کمزور ہے _ خود سے کام نہیں

۲۷۰

کرسکتا _ اپنے آپ کو گندا کرلیتا ہے _ خود سے کھانا نہیں کھاسکتا _ اسے امی اور ابو کی زیادہ ضرورت ہے لیکن تم ماشاء اللہ بڑے ہوگئے ہو _ تم میں توانائی زیادہ ہے اور تھے کی طرح سے تمہاری دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہے _ اگر ہم اس پر زیادہ وقت لگاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہمیں اس سے زیادہ محبت ہے _ بلکہ چارہ ہی نہیں ہے _ مطمئن رہو کہ ہماری تم سے محبت کم نہیں ہوگی _ جب تم چھوٹے سے تھے تو اسی طرح سے تمہارا بھی خیال رکھنا پڑتا تھا _

آخر میں اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ اسلام کی نظر میں حسد اگر چہ تقبیح اور برا ہے اور اسے گناہوں میں سے شمار کیا گیا ہے لیکن رشک نہ صرف یہ کہ برا نہیں ہے بلکہ جد و جہد ، کوشش اور انسانی ترقی کے عوامل میں سے ہے _ رشک اور حسد میں فرق یہ ہے کہ دوسروں کے پاس کسی نعمت کو دیکھ کر اگر انسان ناراحت ہوجائے اور یہ آرزو کرے کہ یہ ان کے پاس نہ رہے تو یہ حسد ہے _ جب کہ رشک یہ ہے کہ انسان دوسروں سے اس نعمت کے چھن جانے کی آرزو نہ کرے _ بلکہ یہ آرزو کرے کہ یہ نعمت اس کو بھی میسر آئے _ اور یہ آرزو بری نہیں ہے _

ایک صاحب لکھتے ہیں:

میری ایک بہن تھی مجھ سے دوسال بڑی تھی امی ابو بہن کی نسبت مجھ سے زیادہ پیار کرتے تھے _ جو بھی میں آرزو کرتا فوراً اسے پورا کردیتے _ ہر جگہ مییرے تعریف کرتے لیکن میری بہن کی طرف کوئی توجہ نہ دیتے _ جب کہ بہن مجھے تنگ کرتی ادھر ادھر جب بھی اسے موقع ملتا مجھے مارتی ہمیشہ مجھے تنگ کرتی رہتی _ برا بھلا کہتی _ مذاق اڑاتی _ میرے کھلونے خراب کردیتی _ اسے اچھ ا نہ لگتا کہ میں ایک منٹ بھی خوش رہوں میں ہمیشہ سوچتا رہتا کہ بہن مجھے آخر تنگ کیوں کرتی ہے آخر میں نے کیاکیا ہے وہ مجھ سے بہت

۲۷۱

حسد کرتی تھی اور شاید اس کی وجہ وہی ماں باپ کا مجھ سے ترجیحی سلوک تھا _ وہ اپنے تئیں مجھ سے بھلائی کرنا چاہتے تھے لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ بہن مجھ سے انتقام لے گی اور صبح و شام مجھے ستائے گی _ اب جب کہ میرے والدین دینا سے جا چکے ہیں میری بہن مجھ پر انتہائی مہربان ہے_ وہ تیار نہیں ہے کہ مجھ ذرّہ بھر بھی تکلیف پہنچے _

۲۷۲

غصّہ

غصّہ انسانی طبیعت کا حصّہ ہے اس کی بنیاد انسانی جہلت میں موجود ہے اس غیر معمولی نفسیاتی کیفیت کا آغاز انسان کے دل و دماغ سے ہوتا ہے ، پھر یہ کیفیت شعلہ آگ کے مانند پورے جسم پرچھا جاتی ہے _ آنکھیں اور چہرہ سرخ ہوجاتا ہے _ ہاتھ پاؤں کا نپنے لگتے ہیں _ منہ سے جھاگ لگتی ہے _ انسان کے اعصاب اس کے کنٹرول سے نکل جاتے ہیں _ غصیلے شخص کی عقل کام نہیں کرتی اوراس حالت میں اس میں اور کسی پاگل میں کوئی فرق نہیں ہوتا _ ایسے عالم میں ممکن ہے اس سے ایسی غلطیاں سرزد ہوں جن کی سزا اسے پوری عمر بھگتنا پڑے _

حضرت علیہ علیہ السلام فرماتے ہیں:

غصّے سے بچو کیونکہ اس کی ابتداء جنون سے ہوتی ہے اور انتہاء پشیمانی پر _ (1)

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

غصّہ تمام برائیوں اور جرائم کی کنجی ہے _ (2)

غصّہ انسان کے دین اور ایمان کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور اس کے نیک اعمال کو بھی غارت کردیتا ہے _

---------

1_ مستدرک ، ج 2 ، ص 326

2_ اصول کافی ، ج 2 ، ص 303

۲۷۳

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:

غصّہ ایمان کو یوں ختم کردیتا ہے جیسے سر کہ شہد کو تباہ کردیتا ے ( 1)

غصّہ ایمان کے عالم میں انسان احمقانہ باتیں کرتا ہے اور اس سے ایسا غلط کام صادر ہوتے ہیں جو اس کے باطن کو آشکار کردیتے ہیں اور اسے دوسروں کی نظر میں رسوا کردیتے ہیں _ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

غصہ ایک برا ساتھی ہے کہ جو انسان کی خامیوں کو آشکار کردیتاہے _ انسان کو برائی سے قریب اور نیکی سے دور کردیتاہے _ (2)

دائمی غصّہ انسان کے دل اور اعصاب پر برے اثرات مرتب کرتا ہے اور انہیں کمزور مضمحل کردیتا ہے _ لہذا جو شخص اپنی حیثیت ، صحت اور دین کا خیرخواہ ہے اسے چاہے کہ اس بری صفت کا سختی سے مقابلہ کرے اور اس امر کے لیے خبردار ہے کہ کہیں غصّہ اس کے اعصابی کنٹرول کو چھین لے اور اس کا دین و دنیا اور عزت و آبرو برباد کردے _ اس نکتے کی یاددھانی بھی ضروری ہے کہ غصّہ ہر جگہ اور ہر حال میں برا، ناپسندیدہ اور نقصان وہ نہیں ہے بلکہ اگر اس سے صحیح موقع پر صحیح طریقے سے استفادہ کیا جائے تو یہ انسانی زندگی کے لیے بہت فائدہ مند ہے _ اسی جہلت سے انسان اپنی جان ، مال، اولاد ، دین ، وطن اور دیگر انسانوں کا دفاع کرتا ہے _ اس جہلت کی موجودگی کے بغیر انسان آبرو مندانہ زندگی نہیں گزارسکتا _ یہ جہلّت اگر عقل کے اختیار میں رہے تو نہ فقط نقصان وہ نیں ہے بلکہ مفید ہے _

راہ خدا میں جہاد، دین ووطن کا دفاع، امر بالمعروف و نہی عن المنکر عزت و ناموس کی حفاظت ، ظلم کے خلاف قیام ، مظلوموں کی حمایت ، کفر اور بے دینی سے مقابلہ اور ستم رسیدہ انسانوں کی حمایت _ یہ سب کام اسی قوّت کی برکت سے انجام پاتے ہیں _

-------------

1_ اصول کافی ، ج 2 ، ص 302

2_ مستدرک، ج 2 ، ص 326

۲۷۴

ایک متدین اور ذمہ دار مسلمان زندگی کے تلخ و ناگوار حوادث کے سامنے ، ظلم اور حق کشی کے سامنے ، استبداد اور آمریت کے سامنے ، برائی اور گناہ کے سامنے ، لوگوں کے اموال پر تجاوز کے مقابلے میں ، سامرا حج اور استعمار کے مقابلے میں ، ملّتون کو غلامی کے طوق پہنانے کے مقابلے میں ، بے دینی اور مادہ پرستی کے مقابلہ میں خاموش اور لا تعلق رہے ، اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا _ لیکن اس کے غصّے کو اس کی عقل پر بالادستی حاصل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

اگر تونے غصّے کی پیروی کی تو یہ تجھے ہلاکت تک جا پہنچائے گا _ (1)

یہ درست نہیں ہے کہ اس قوت کو بالکل ختم کردیا جائے اور انسان لا تعلق ، بے حسّ اور بے غیرت ہوجائے _ بلکہ افراط و تفریط سے اجتناب کرنا چاہیے اور اس قوت کو صحیح طریقے سے پران چڑھانا چاہیے _ تا کہ ضروری مواقع پر اس سے استفادہ کیا جاسکے _ غصّہ دیگر صفات کی طرح بچپن ہی سے انسان میں نشوو نما حاصل کرتا ہے _ یہ تما م انسانوں کی سرشت کا حصّہ ہے لیکن ، اس کی کمی یا زیادتی کا تعلق تربیت ، ماحول اور ماں باپ سے ہے ماں باپ اپنے طرز عمل سے اس قوت کو حالت اعتدال میں بھی رکھ سکتے ہیں اور افراط یا تفریط کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں _ اس امر کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ سب انسانوں کا مزاج ایک سا نہیں ہوتا کسی میں غصّہ زیادہ ہوتا ہے اور کسی میں پیدائشےی طور پر کم _ عقلمند اور باتدبیر ماں باپ بچے کے خاص مزاج کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اس کی تربیت کرتے ہیں اور اس کی جبلّی قوتوں کو اعتدال پر لاتے ہں اور اسے افراط و تفریط کے عوامل سے بچاتے ہیں _

بچہ غصّے میں چیختا چلاّنا ہے ، اس کا بدن کا پنتا ہے ، چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا ہے زمین پر پاؤں مارتا ہے اور لوٹتا ہے ایسے عالم میں وہ سخت سست جملے بولتا ہے کونسے میں جالگتا ہے لیکن اس کا مقصد شرارت نہیں ہوتا _ ضروری ہے کہ بچے کے غصّے کی وجہ دریافت کی جائے اور اسے دور کیا جائے _

---------

1_ مستدرک، ج 2، ص 326

۲۷۵

غصہ کلی طور پر کسی پریشانی اور ناراحتی سے پیدا ہوتا ہے _ شدید درد تھکاوٹ زیادہ بے خوابی ، بھوک ، شدید پیاس اور گرمی اور سردی کا غیر معمولی احساس نو مولود اور چھوٹی عمر کے بچوں کو بے آرام کردیتا ہے اور اس کے غصّے کو بڑھاتا ہے بچے کی توہین کرنا اور اسے اذیت دینا _ اس کی خواہشوں کے خلاف قیام کرنا، اس کی آزادی کو سب کرنا ، خواہ مخواہ اس پر پابندیاں عائد کرنا ، دوسرے کو ترجیح دیے جانے کا احساس اور ناانصافیاں ، اس امر کا احساس کہ مجھ سے پیار نہیں کیا جاتا ، اس پر زبردستی بات ٹھونسنا ، بچے کی خود اعتمادی کو نقصان پہنچانا ، ناتوانی کا احساس اور کامیاب نہ ہونے کا احساس ، مشکل اور طاقت فرسا احکامات ، سخت ڈانٹ ڈپٹ ان میں سے ہر امر بچے کا چین چھین لیتا ہے اور اس کے غصے کو بڑھاتا ہے اور اگر ایسی چیزوں کا تکرار ہوتا رہے تو بچے کے اندر غصّے کی سرشت کو تقویت ملتی ہے اور وہ ایک غصیلہ اور چر چڑا شخص بن جاتا ہے _ بعض ماں باپ عملاً بچوں کو غصّے کا سبق دیتے ہیں _ ان پر چیختے ہیں اور سختی کرتے ہیں _ ان کے غصّے کے مقابلے میں غصّے ہو جاتے ہیں _ اس طرح سے انہیں زیادہ غصیلہ بناتے ہیں _

اگر آپ کا بچہ غصّے میں آیا ہو تو آپ اس کے مقابلے میں غصّہ نہ کریں _ اس بات کا اطمینان رکھیں وہ کسی برائی کا ارادہ نہیں کرتا _ آپ اس امر کی کوشش کریں کہ اس کی ناراضگی کی وجہ معلوم کریں _ اگر اس در د ہے تو اس کا علاج کریں _

اگر بھوکا اور پیاسا ہے تو اسے کوئی چیز کھانے پینے کے لیے دیں _ اگر تھکا ہوا ہے تو اسے تو اسے سلادیں _ اگر آپ کے کاموں یا طرز عمل کی وجہ سے وہ غصّے میں ہے تو آپ تلافی اور اصلاح کریں _ اگر اس کا غصّہ خیال ادھر ادھر بھٹکنے کی وجہ سے پیدا ہوگیا ہے تو اس کے اشتباہ کو دور کریں _ اگر اسے روحانی طور پر تقویت کی ضرورت ہے تو آپ وہ مہیا کریں _ اگر اس کی کوئی جائز خواہش ہے اور آپ اسے پورا کرسکتے ہیں تو پورا کریں لیکن جب وہ معمول کی حالت پر آجائے تو کہیں کہ انسان کو جو چیز چاہیے تو اسے زبان سے مانگنا چاہیے نہ کے غصّے اور زور سے اس دفعہ تو میں نے تمہاری خواہش پوری کردی ہے لیکن آئندہ اگر تم نے غصّے اور زور سے کوئی بات منوانے کی کوشش کی تو پوری نہیں کی جائے گی _

۲۷۶

حضرت علیہ علیہ اسلام فرماتے ہیں:

''غصّے سے بچو کہیں یہ تم پر مسلط ہی نہ ہوجائے اور ایک عادت ہی نہ بن جائے '' _ (1)

چڑچڑ ے بچے زود رنج ہوتے ہیں اور چھوٹی سی بات پر غصّے میں آجاتے ہیں _ کیونکہ ان کی روح قوی نہیں ہوتی _ لہذا و ہ کوئی بھی ناپسندیدہ بات برداشت نہیں کرسکتے اور معمولی سی چیز پر بھی متاثر ہوجاتے ہیں اور غصّے میں آجاتے ہیں _

-------

1_ غررالحکم ص 809

۲۷۷

بدزبانی

بدگوئی ایک بری عادت ہے _ بدزبان اپنی بات کا پابند نہیں ہوتا _ جو کچھ اس کے منہ میں آتا ہے کہے جاتا ہے ، گالی بکتا ہے ، ناسزا کہتا رہتا ہے ، شور مچاتا ہے ، برا بھلا کہتا رہتا ہے _ طعن زنی کرتا ہے ، زبان کے چرکے لگاتا ہے _

بدزبانی حرام ہے اور گناہان کبیرہ میں سے ہے _

رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

بد زبانی کرنے والے پر اللہ نے بہشت کو حرام قرار دیا ہے اور گالی دینے والے ، بے حیا اور بدتمیز پر بھی جنت حرام ہے _ بدگو شخص جو کچھ دوسروں کے بارے میں کہتا ہے نہ اس کا خیال رکھتا ے اور جو کچھ دوسرے اس کے بارے میں کہتے ہیں ن اس پر دھیان دیتا ہے _ (1) امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

دشنام طرازی ، بدگوئی اور زبان درازی نفاق اور بے ایمانی کی نشانیوں میں سے ہے _ (2)

اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے :

---------

1_ اصول کافی ، ج 2 ، ص 323

2_ اصول کافی ، ج 2 ، ص 235

۲۷۸

ویلٌ لکلّ همزة لمزة _

افسوس ہے ایسے سب افراد پر کہ جو لوگوں کی عیب جوئی اور طعن و تمسخر کرتے ہیں _ (ہمزہ _1)

بدزبانی افراد گھٹیا اور کم ظرف ہوتے ہیں اس بری عادت کی وجہ سے لوگوں کو اپنا دشمن بنالیتے ہیں _ لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں _ لوگ ان کی زبان سے ڈرتے ہیں اور ان سے میل ملاقات سے دور بھاگتے ہیں _

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:لوگوں میں سے بدترین وہ ہے کہ لوگ جس کی زبان سے ڈریں اور اس کے ساتھ ہم نشینی کو پسند نہ کریں _ (1) حضرت صادق علیہ اسلام نے فرمایا:لوگوں میں سے بدترین وہ ہے کہ لوگ جس کی زبان سے ڈریں اور اس کے ساتھ ہم نشینی کو پسند نہ کریں _ (1) حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا:لوگ جس کی زبان سے بھی دڑیں وہ جہنم میں جائے گا _ (2) رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:مومن طعن زنی نہیں کرتا ، برا بھلا نہیں کہتا رہتا ، دشنام طرازی نہیں کرتا اور بدزبانی نہیں کرتا _ (3) بچہ فطری طور پر بدزبان نہیںہوتا _ یہ بری صفت وہ اپنے ماں باپ ، بہن بھائی یا ، دوستوں ، ہم جولیوں اور ہم جماعت بچوں سے سیکھتا ہے _ لیکن اس سلسلے میں ماں باپ کا اثر سب سے زیادہ ہوتا ہے _ ماں باپ اپنے بچے کے لیے مؤثر ترین نمونہ عمل ہوتے ہیں _ لہذا ماں باپ نہ فقط اپنے قول و عمل کے ذمہ دار ہیں بلکہ بچوں کی تربیت کے بھی ذمہ دار ہیں _ یہ ماں باپ ہی ہیں جو بچے کو خوش کلام یا بدزبان بنادیتے ہیں ب_ بعض ماں باپ مذاق

----------

1_ اصول کافی ، ج 2 ، ص 325

2_ اصول کافی ، ج 2، ص 327

3_ مہجة البیضائ، ج 3 ، ص 127

۲۷۹

کے طور پر یا غصّے میں اپنے بچوں کو بدزبانی کا عملی درس دیتے ہیں _ بعض گھروں میں اس طرح کے کلمات روز مرّہ کا معمول ہیں:

کتے کا بچہ ، کتے کی ماں ،کیتا کی بیٹی، احمق ، بے وقوف ، بے شعر ، گدھا ، حیوان ، حرام زادہ ، پاگل ، سست ، بے ادب ، بے غیرت ،خدا تمہیں موت دے ، گاڑی کے نیچے آؤوغیرہ _ کبھی ماں باپ ایک دوسرے کی عیب جوئی کرتے ہیں ، ایک دوسرے کامذاق اڑاتے ہیں یا ایک دوسرے کو گالی دیتے ہیں _

ماں باپ جن کا فرض یہ ہے کہ بچوں کی کمزوریوں کو چھپائیں وہ کبھی خود بچوں کی عیب جوئی کرنے لگتے ہیں ، انہیں طعنے دیتے ہیں ، ان پر طنز کرتے ہیں اور انہیں سخت سست کلمات کہتے ہیں _ کیا ایسے ماں باپ کو توقع ہے کہ ایسے خاندان کا بچہ خوش زبان ہوگا _ ایسی توقع عموماً پوری نہیں ہوتی _ ایسے ماں باپ کو توقع رکھنا چاہیے کہ ان کے بچے انہی کی طرح بلکہ ا سے بڑھ کر بدزبان ہوں گے _ انہیں امید رکھنا چاہیے کہ وہ بعینہ یہی الفاظ بچوں کے منہ سے سنیں گے _ وعظ و نصیحت اور مارپیٹ سے بچے کو اس بری عادت سے نہیں روکا جا سکتا _ بہترین طریقہ یہ ہے کہ ماں باپ اپنی اصلاح کریں اور پھر بچے کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں _

کبھی بچے یہ بری عادت اپنے ہمجولیوں سے سیکھتے ہیں لہذا ماں باپ کو اس امر کی طرف توجہ رکھنا چاہیے کہ ان کے بچوں کے دوست کس طرح کے ہیں _ انہیں اس بات کی اجازت نہ دیں کہ بدزبان بچوں سے میل جول رکھیں _

اگر آپ کبھی اپنے بچے سے کوئی فحش یا بری بات سنیں تو ہنس کر یا مسکر اکر اس کی تائید نہ کریں _ گالی اور غصّے کے ذریعے سے بھی بچے کو ایسی بات سے نہ روکیں کیونکہ اس طریقے کا نتیجہ زیادہ تر الٹ ہی نکلتا ہے بلکہ اسے اچھے انداز سے اور پیارسے سمجھائیں _

اس سے کہیں گالی دینا بری عادت ہے اچھے بچے کبھی گالی نہیں دیتے _

۲۸۰

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361