القول المعتبر فی الامام المنتظر

القول المعتبر فی الامام المنتظر75%

القول المعتبر فی الامام المنتظر مؤلف:
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)

القول المعتبر فی الامام المنتظر
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 19 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6652 / ڈاؤنلوڈ: 3618
سائز سائز سائز

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

القول المعتبر فی الامام المنتظر

مؤلف: ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

مقدمہ

آج ۱۸ ذی الحج ہے، جس دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع سے مدینہ طیّبہ واپسی کے دوران غدیرِ خُم کے مقام پر قیام فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہجوم میں سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجھہ الکریم کا ہاتھ اُٹھا کر اعلان فرمایا :

مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ.

’’جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے۔‘‘

یہ اعلانِ ولایتِ علی رضی اللہ عنہ تھا، جس کا اطلاق قیامت تک جملہ اہلِ ایمان پر ہوتا ہے اور جس سے یہ امر قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جو ولایتِ علی رضی اللہ عنہ کا منکر ہے وہ ولایتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہے۔ اِس عاجز نے محسوس کیا کہ اس مسئلہ پر بعض لوگ بوجہِ جہالت متردّد رہتے ہیں اور بعض لوگ بوجہِ عناد و تعصّب۔ سو یہ تردّد اور انکار اُمّت میں تفرقہ و انتشار میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔ اندریں حالات میں نے ضروری سمجھا کہ مسئلۂ وِلایت و اِمامت پر دو رِسالے تالیف کروں : ایک بعنوان ’السَّیفُ الجَلِی عَلٰی مُنکِرِ وِلایةِ عَلیّ رضی الله عنه ‘ اور دوسرا بعنوان ’القولُ المُعتَبَر فِی الامام المُنتَظَر ‘۔ پہلے رسالہ کے ذریعے فاتحِ ولایت حضرت امام علی علیہ السلام کے مقام کو واضح کروں اور دوسرے کے ذریعے خاتمِ ولایت حضرت امام مہدی علیہ السلام کا بیان کروں تاکہ جملہ شبہات کا اِزالہ ہو اور یہ حقیقت خواص و عوام سب تک پہنچ سکے کہ ولایتِ علی علیہ السلام اور ولایتِ مہدی علیہ السلام اہلِ سنت و جماعت کی معتبر کتبِ حدیث میں روایاتِ متواترہ سے ثابت ہے۔ میں نے پہلے رسالہ میں حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اکیاون (۵۱) روایات پوری تحقیق و تخریج کے ساتھ درج کی ہیں۔ اِس عدد کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اِمسال اپنی عمر کے ۵۱ برس مکمل کئے ہیں، اس لئے حصولِ برکت اور اِکتساب خیر کے لئے عاجزانہ طور پر عددی نسبت کا وسیلہ اختیار کیا ہے تاکہ بارگاہِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ میں اِس حقیر کا نذرانہ شرفِ قبولیت پاسکے۔ (آمین)

اَب اِس مقدّمہ میں یہ نکتہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مقدّسہ سے تین طرح کی وراثتیں جاری ہوئیں :

- خلافتِ باطنی کی روحانی وراثت

- خلافتِ ظاہری کی سیاسی وراثت

- خلافتِ دینی کی عمومی وراثت

- خلافتِ باطنی کی روحانی وراثت اہلِ بیتِ اطہار کے نفوس طیّبہ کو عطا ہوئی۔

- خلافتِ ظاہری کی سیاسی وراثت خلفاء راشدین کی ذوات مقدّسہ کو عطا ہوئی۔

- خلافتِ دینی کی عمومی وراثت بقیہ صحابہ و تابعین کو عطا ہوئی۔

خلافتِ باطنی نیابتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ سرچشمہ ہے جس سے نہ صرف دینِ اسلام کے روحانی کمالات اور باطنی فیوضات کی حفاظت ہوئی بلکہ اس سے اُمّت میں ولایت و قطبیت اور مُصلحیت و مجدّدیت کے چشمے پھوٹے اور اُمّت اِسی واسطے سے روحانیتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فیضاب ہوئی۔ خلافتِ ظاہری نیابتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ سرچشمہ ہے جس سے غلبۂ دین حق اور نفاذِ اسلام کی عملی صورت وجود میں آئی اور دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمکّن اور زمینی اقتدار کا سلسلہ قائم ہوا۔ اِسی واسطے سے تاریخِ اِسلام میں مختلف ریاستیں اور سلطنتیں قائم ہوئیں اور شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نظامِ عالم کے طور پر دُنیا میں عملاً متعارف ہوئی۔

خلافتِ عمومی نیابتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ سرچشمہ ہے جس سے اُمّت میں تعلیماتِ اسلام کا فروغ اور اعمالِ صالحہ کا تحقّق وجود میں آیا۔ اِس واسطے سے افرادِ اُمّت میں نہ صرف علم و تقویٰ کی حفاظت ہوئی بلکہ اخلاقِ اِسلامی کی عمومی ترویج و اشاعت جاری رہی، گویا :

پہلی قسم : خلافتِ ولایت قرارپائی

دوسری قسم : خلافتِ سلطنت قرار پائی

تیسری قسم : خلافتِ ہدایت قرار پائی

اس تقسیمِ وراثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مضمون کو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اِن الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا ہے :

پس وراث آنحضرت هم بسه قسم منقسم اندفوراثه الذين أخذوا الحکمة والعصمة والقطبية الباطينة، هم أهل بيته و خاصته و وراثه الذين أخذوا الحفظ و التلقين و القطبية الظاهرة الإرشادية، هم أصحابه الکبار کالخلفاء الأربعة و سائر العشرة، و وراثه الذين أخذوا العنايات الجزئية و التقوي و العلم، هم أصحابه الذين لحقوا بإحسان کأنس و أبي هريرة و غيرهم من المتأخرين، فهذه ثلاثة مراتب متفرعة من کمال خاتم الرسل صلی الله عليه وآله وسلم.

(شاه ولي الله محدث دهلوي، التفهيمات الالهٰيه، ۲ : ۸)

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت کے حاملین تین طرح کے ہیں : ایک وہ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حکمت و عصمت اور قطبیتِ باطنی کا فیض حاصل کیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت اور خواص ہیں۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حفظ و تلقین اور رشد و ہدایت سے متصف قطبیت ظاہری کا فیض حاصل کیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کبار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم جیسے خلفائے اربعہ اور عشرہ مبشرہ ہیں۔ تیسرا طبقہ وہ ہے جنہوں نے انفرادی عنایات اور علم و تقویٰ کا فیض حاصل کیا، یہ وہ اصحاب ہیں جو احسان کے وصف سے متصف ہوئے، جیسے حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر متاخرین۔ یہ تینوں مدارج حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال ختمِ رسالت سے جاری ہوئے۔‘‘

واضح رہے کہ یہ تقسیم غلبۂ حال اور خصوصی امتیاز کی نشاندہی کے لئے ہے، ورنہ ہر سہ اقسام میں سے کوئی بھی دوسری قسم کے خواص و کمالات سے کلیتاً خالی نہیں ہے، اُن میں سے ہر ایک کو دوسری قسم کے ساتھ کوئی نہ کوئی نسبت یا اشتراک حاصل ہے :

- سلطنت میں سیدنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ بلا فصل یعنی براہِ راست نائب ہوئے۔

-ولایت میں سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ بلا فصل یعنی براہِ راست نائب ہوئے۔

- ہدایت میں جملہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفاء بلا فصل یعنی براہِ راست نائب ہوئے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ختمِ نبوت کے بعد فیضانِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائمی تسلسل کے لئے تین مستقل مطالع قائم ہو گئے :

- ایک مطلع سیاسی وراثت کے لئے

-دوسرا مطلع روحانی وراثت کے لئے

-تیسرا مطلع علمی و عملی وراثت کے لئے

- حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیاسی وراثت، خلافتِ راشدہ کے نام سے موسوم ہوئی۔

- حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روحانی وراثت، ولایت و امامت کے نام سے موسوم ہوئی۔

- حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علمی و عملی وراثت، ہدایت و دیانت کے نام سے موسوم ہوئی۔

لہٰذا سیاسی وراثت کے فردِ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہوئے، روحانی وراثت کے فردِ اوّل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہوئے اور علمی و عملی وراثت کے اوّلیں حاملین جملہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہوئے۔ سو یہ سب وارثین و حاملین اپنے اپنے دائرہ میں بلا فصل خلفاء ہوئے، ایک کا دوسرے کے ساتھ کوئی تضاد یا تعارض نہیں ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان مناصب کی حقیقت بھی ایک دوسرے سے کئی اُمور میں مختلف ہے:

۱۔ خلافتِ ظاہری دین اسلام کا سیاسی منصب ہے۔

خلافتِ باطنی خالصتاً روحانی منصب ہے۔

۲۔ خلافتِ ظاہری انتخابی و شورائی امر ہے۔

خلافتِ باطنی محض وہبی و اجتبائی امر ہے۔

۳۔ خلیفۂ ظاہری کا تقرّر عوام کے چناؤ سے عمل میں آتا ہے۔

خلیفۂ باطنی کا تقرّر خدا کے چناؤ سے عمل میں آتا ہے۔

۴۔ خلیفۂ ظاہری منتخب ہوتا ہے۔

خلیفۂ باطنی منتجب ہوتا ہے۔

۵۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے خلیفۂ راشد سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا انتخاب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تجویز اور رائے عامہ کی اکثریتی تائید سے عمل میں آیا، مگر پہلے امامِ ولایت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے انتخاب میں کسی کی تجویز مطلوب ہوئی نہ کسی کی تائید۔

۶۔ خلافت میں ’جمہوریت‘ مطلوب تھی، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا اعلان نہیں فرمایا۔ ولایت میں ’ماموریت‘ مقصود تھی، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وادی غدیر خُم کے مقام پر اس کا اعلان فرما دیا۔

۷۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُمّت کے لئے خلیفہ کا انتخاب عوام کی مرضی پر چھوڑ دیا، مگر ولی کا انتخاب اللہ کی مرضی سے خود فرما دیا۔

۸۔ خلافت زمینی نظام کے سنوارنے کیلئے قائم ہوتی ہے۔

ولایت اُسے آسمانی نظام کے حسن سے نکھارنے کیلئے قائم ہوتی ہے۔

۹۔ خلافت افراد کو عادل بناتی ہے۔

ولایت افراد کو کامل بناتی ہے۔

۱۰۔ خلافت کا دائرہ فرش تک ہے۔

ولایت کا دائرہ عرش تک ہے۔

۱۱۔ خلافت تخت نشینی کے بغیر مؤثر نہیں ہوتی۔

ولایت تخت و سلطنت کے بغیر بھی مؤثر ہے۔

۱۲۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ خلافت اُمّت کے سپرد ہوئی۔

ولایت عترت کے سپرد ہوئی۔

لہٰذا اب خلافت سے مَفرّ ہے نہ وِلایت سے، کیونکہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافتِ بلافصل اِجماعِ صحابہ سے منعقد ہوئی اور تاریخ کی شہادتِ قطعی سے ثابت ہوئی اور حضرت مولا علی المرتضیٰص کی وِلایتِ بلافصل خود فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منعقد ہوئی اور احادیثِ متواترہ کی شہادتِ قطعی سے ثابت ہوئی۔ خلافت کا ثبوت اِجماعِ صحابہ ہے اور وِلایت کا ثبوت فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ جو خلافت کا اِنکار کرتا ہے وہ تاریخ اور اِجماع کا اِنکار کرتا ہے اور جو اِمامت و وِلایت کا اِنکار کرتا ہے وہ اِعلانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں instituti ٭ ns کی حقیقت کو سمجھ کر اُن میں تطبیق پیدا کی جائے نہ کہ تفریق۔

جان لینا چاہئے کہ جس طرح خلافتِ ظاہری، خلفاء راشدین سے شروع ہوئی اور اِس کا فیض حسبِ حال اُمت کے صالح حکام اور عادل امراء کو منتقل ہوتا چلا گیا، اُسی طرح خلافتِ باطنی بھی سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے شروع ہوئی اور اس کا فیض حسبِ حال اَئمہ اَطہارِ اہل بیت اور اُمت کے اولیاء کاملین کو منتقل ہوتا چلاگیا۔ حضور فاتح و خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے۔ ۔ ۔ مَن کنتُ مولاہُ فہٰذا علیٌّ مولاہُ (جس کا میں مولا ہوں اس کا یہ علی مولا ہے)۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ علیٌّ ولیّکم مِن بَعدِی (میرے بعد تمہارا ولی علی ہے)۔ ۔ ۔ کے اعلانِ عام کے ذریعے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اُمت میں ولایت کا فاتحِ اَوّل قرار دے دیا۔

بابِ وِلایت میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ ملاحظہ ہوں :

۱۔ و فاتحِ اوّل ازین اُمت مرحومہ حضرت علی مرتضی است کرم اﷲ تعالیٰ وجھہ۔

(شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، التفہیمات الالہٰیہ، ۱ : ۱۰۳)

’’اس اُمتِ مرحومہ میں (فاتح اَوّل) ولایت کا دروازہ سب سے پہلے کھولنے والے فرد حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں۔

۲۔ و سرِ حضرت امیر کرم اﷲ وجھہ در اولادِ کرام ایشان رضی اللہ عنہم سرایت کرد۔

(شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، التفہیمات الالہٰیہ، ۱ : ۱۰۳)

’’حضرت امیر رضی اللہ عنہ کا رازِ ولایت آپ کی اولاد کرام رضی اللہ عنہم میں سرایت کرگیا۔‘‘

۳۔ چنانکہ کسی از اولیاء امت نیست الا بخاندانِ حضرت مرتضیٰ رضی اللہ عنہ مرتبط است بوجہی از وجوہ۔

( شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، التفہیمات الالہٰیہ، ۱ : ۱۰۴)

’’چنانچہَ اولیائے اُمت میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جو کسی نہ کسی طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاندانِ اِمامت سے (اکستابِ ولایت کے لئے) وابستہ نہ ہو۔‘‘

۴۔ و از اُمتِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوّل کسیکہ فاتحِ بابِ جذب شدہ است، و دراں جا قدم نہادہ است حضرت امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجھہ، و لہٰذا سلاسلِ طُرُق بداں جانب راجع میشوند۔

(شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، ہمعات : ۶۰)

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں پہلا فرد جو ولایت کے (سب سے اعلیٰ و اقویٰ طریق) بابِ جذب کا فاتح بنا اور جس نے اِس مقامِ بلند پر (پہلا ) قدم رکھا وہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی ہے، اِسی وجہ سے روحانیت و ولایت کے مختلف طریقوں کے سلاسِل آپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔‘‘

۵۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :

’’اب اُمت میں جسے بھی بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فیضِ وِلایت نصیب ہوتا ہے وہ یا تو نسبتِ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے نصیب ہوتا ہے یا نسبتِ غوث الاعظم جیلانی رضی اللہ عنہ سے، اس کے بغیر کوئی شخص مرتبۂ ولایت پر فائز نہیں ہوسکتا۔‘‘

(شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، ہمعات : ۶۲)

واضح رہے کہ نسبتِ غوث الاعظم جیلانی رضی اللہ عنہ بھی نسبتِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہی کا ایک باب اور اِسی شمع کی ایک کرن ہے۔

۶۔ اِس نکتہ کو شاہ اسماعیل دہلوی نے بھی بصراحت یوں لکھا ہے :

’’حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے لئے شیخین رضی اﷲ عنہما پر بھی ایک گو نہ فضیلت ثابت ہے اور وہ فضیلت آپ کے فرمانبرداروں کا زیادہ ہونا اور مقاماتِ وِلایت بلکہ قطبیت اور غوثیت اور ابدالیت اور انہی جیسے باقی خدمات ’’آپ کے زمانہ سے لیکر دُنیا کے ختم ہونے تک‘‘ آپ ہی کی وساطت سے ہونا ہے اور بادشاہوں کی بادشاہت اور امیروں کی امارت میں آپ کو وہ دخل ہے جو عالمِ ملکوت کی سیر کرنے والوں پر مخفی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ اہلِ وِلایت کے اکثر سلسلے بھی جنابِ مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہی کی طرف منسوب ہیں، پس قیامت کے دن بہت فرمانبرداروں کی وجہ سے جن میں اکثر بڑی بڑی شانوں والے اور عمدہ مرتبے والے ہونگے، حضرتِ مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا لشکر اِس رونق اور بزرگی سے دکھائی دے گا کہ اس مقام کا تماشہ دیکھنے والوں کے لئے یہ امر نہایت ہی تعجب کا باعث ہو گا۔‘‘

(شاہ اسماعیل دہلوی، صراطِ مستقیم : ۶۷)

یہ فیضِ وِلایت کہ اُمتِ محمدی میں جس کے منبع و سرچشمہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مقرر ہوئے اس میں سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنھا اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنھما بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک کئے گئے ہیں، اور پھر اُن کی وساطت سے یہ سلسلۂ وِلایتِ کبریٰ اور غوثیتِ عظمیٰ اُن بارہ اَ ئمۂ اہلِ بیت میں ترتیب سے چلایا گیا جن کے آخری فرد سیدنا امام محمد مہدی علیہ السلام ہیں۔ جس طرح سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ اُمتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فاتحِ ولایت کے درجہ پر فائز ہوئے، اُسی طرح سیدنا امام مہدی علیہ السلام اُمتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خاتمِ ولایت کے درجہ پر فائز ہونگے۔

۷۔ اس موضوع پر حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق ملاحظہ فرمائیں :

و راہی است کہ بقربِ ولایت تعلق دارد : اقطاب و اوتاد و بدلا و نجباء و عامۂ اولیاء اﷲ، بہمین راہ واصل اندراہ سلوک عبارت ازین راہ است بلکہ جذبۂ متعارفہ، نیز داخل ہمین است و توسط و حیلولت درین راہ کائن است و پیشوای، و اصلان این راہ و سرگروہ اینھا و منبع فیض این بزرگواران : حضرت علی مرتضی است کرم اﷲ تعالے وجھہ الکریم، و این منصب عظیم الشان بایشان تعلق دارد درینمقام گوئیا ہر دو قدم مبارک آنسرور علیہ و علی آلہ الصلوۃ و السلام برفرق مبارک اوست کرم اﷲ تعالی وجھہ حضرت فاطمہ و حضرات حسنین رضی اللہ عنہم درینمقام با ایشان شریکند، انکارم کہ حضرت امیر قبل از نشاء ہ عنصرے نیز ملاذ این مقام بودہ اند، چنانچہ بعد از نشاءہ عنصرے و ہرکرا فیض و ہدایت ازین راہ میر سید بتوسط ایشان میر سید چہ ایشان نزد ن۔ قطہ منتھائے این راہ و مرکز این مقام بایشان تعلق دارد، و چون دورہ حضرت امیر تمام شُد این منصب عظیم القدر بحضرات حسنین ترتیبا مفوض و مسلم گشت، و بعد از ایشان بہریکے از ائمہ اثنا عشر علے الترتیب و التفصیل قرار گرفت و در اعصاراین بزرگواران و ہمچنیں بعد از ارتحال ایشان ہر کرا فیض و ہدایت میرسید بتوسط این بزرگواران بودہ و بحیلولۃ ایشانان ہرچند اقطاب و نجبای وقت بودہ باشند و ملاذ وملجاء ہمہ ایشان بودہ اند چہ اطراف را غیر از لحوق بمرکز چارہ نیست۔

(امام ربانی مجدّد الف ثانی، مکتوبات، ۳ : ۲۵۱، ۲۵۲، مکتوب نمبر : ۱۲۳)

’’اور ایک راہ وہ ہے جو قربِ وِلایت سے تعلق رکھتی ہے : اقطاب و اوتاد اور بدلا اور نجباء اور عام اولیاء اﷲ اِسی راہ سے واصل ہیں، اور راہِ سلوک اِسی راہ سے عبارت ہے، بلکہ متعارف جذبہ بھی اسی میں داخل ہے، اور اس راہ میں توسط ثابت ہے اور اس راہ کے واصلین کے پیشوا اور اُن کے سردار اور اُن کے بزرگوں کے منبعِ فیض حضرت علی المرتضیٰ کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم ہیں، اور یہ عظیم الشان منصب اُن سے تعلق رکھتا ہے۔ اس راہ میں گویا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوںقدم مبارک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مبارک سر پر ہیں اور حضرت فاطمہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم اِس مقام میں اُن کے ساتھ شریک ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ حضرت امیر رضی اللہ عنہ اپنی جسدی پیدائش سے پہلے بھی اس مقام کے ملجا و ماویٰ تھے، جیسا کہ آپ رضی اللہ عنہ جسدی پیدائش کے بعد ہیں اور جسے بھی فیض و ہدایت اس راہ سے پہنچی ان کے ذریعے سے پہنچی، کیونکہ وہ اس راہ کے آخری نقطہ کے نزدیک ہیں اور اس مقام کا مرکز ان سے تعلق رکھتا ہے، اور جب حضرت امیر رضی اللہ عنہ کا دور ختم ہوا تو یہ عظیم القدر منصب ترتیب وار حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کو سپرد ہوا اور ان کے بعد وہی منصب ائمہ اثنا عشرہ میں سے ہر ایک کو ترتیب وار اور تفصیل سے تفویض ہوا، اور ان بزرگوں کے زمانہ میں اور اِسی طرح ان کے انتقال کے بعد جس کسی کو بھی فیض اور ہدایت پہنچی ہے انہی بزرگوں کے ذریعہ پہنچی ہے، اگرچہ اقطاب و نجبائے وقت ہی کیوں نہ ہوں اور سب کے ملجا و ماویٰ یہی بزرگ ہیں کیونکہ اطراف کو اپنے مرکز کے ساتھ الحاق کئے بغیرچارہ نہیں ہے۔‘‘

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام بھی کارِ ولایت میں حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوں گے۔

(امام ربانی مجدّد الف ثانی، مکتوبات، ۳ : ۲۵۱، ۲۵۲، مکتوب نمبر : ۱۲۳)

خلاصۂِ کلام یہ ہوا کہ مقام غدیرِ خُم پر ولایت علی رضی اللہ عنہ کے مضمون پر مشتمل اعلانِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حقیقت کو ابد الآباد تک کیلئے ثابت و ظاہر کردیا کہ ولایتِ علی رضی اللہ عنہ درحقیقت ولایتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہے۔ بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت و رسالت کا باب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا، لہٰذا تا قیامت فیضِ نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اجراء و تسلسل کیلئے باری تعالیٰ نے امت میں نئے دروازے اور راستے کھول دیئے جن میں کچھ کو مرتبۂ ظاہر سے نوازا گیا اور کچھ کو مرتبۂ باطن سے۔ مرتبۂ باطن کا حامل راستہ ’ولایت‘ قرار پایا، اور امتِ محمدی میں ولایت عظمیٰ کے حامل سب سے پہلے امامِ برحق۔ ۔ ۔ مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مقرر ہوئے۔ پھر ولایت کا سلسلۃ الذہب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہلِ بیت اور آلِ اَطہار میں ائمہ اِثنا عشر (بارہ اِماموں) میں جاری کیا گیا۔ ہر چند اِن کے علاوہ بھی ہزارہا نفوسِ قدسیہ ہر زمانہ میں مرتبۂ ولایت سے بہرہ یاب ہوتے رہے، قطبیت و غوثیت کے اعلیٰ و ارفع مقامات پر فائز ہوتے رہے، اہل جہاں کو انوارِ ولایت سے منور کرتے رہے اور کروڑوں انسانوں کو ہر صدی میں ظلمت و ضلالت سے نکال کر نورِ باطن سے ہمکنار کرتے رہے، مگر ان سب کا فیض سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی بارگاہِ ولایت سے بالواسطہ یا بلاواسطہ ماخوذ و مستفاد تھا۔ ولایت علی رضی اللہ عنہ سے کوئی بھی بے نیاز اور آزاد نہ تھا۔ یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا تاآنکہ امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آخری امامِ برحق اور مرکزِ ولایت کا ظہور ہوگا۔ یہ سیدنا امام محمد مہدی علیہ السلام ہوں گے جو بارہویں امام بھی ہوں گے اور آخری خلیفہ بھی۔ اُن کی ذاتِ اَقدس میں ظاہر و باطن کے دونوں راستے جو پہلے جدا تھے مجتمع کر دیئے جائیں گے۔ یہ حاملِ وِلایت بھی ہوں گے اور وارثِ خلافت بھی، ولایت اور خلافت کے دونوں مرتبے اُن پر ختم کر دیئے جائیں گے۔ سو جو امام مہدی علیہ السلام کا منکر ہو گا وہ دین کی ظاہری اور باطنی دونوں خلافتوں کا منکر ہو گا۔

یہ مظہریتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انتہاء ہو گی، اس لئے اُن کا نام بھی ’محمد‘ ہو گا اور اُن کا ’خلق‘ بھی محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو گا، تاکہ دُنیا کو معلوم ہو جائے کہ یہ ’امام‘ فیضانِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہر و باطن دونوں وراثتوں کا امین ہے۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جو امام مہدی علیہ السلام کی تکذیب کرے گا وہ کافر ہو جائے گا۔‘‘

اُس وقت روئے زمین کے تمام اولیاء کا مرجع آپ علیہ السلام ہوں گے اور اُمتِ محمدی کا اِمام ہونے کے باعث سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی آپ علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ادا فرمائیں گے اور اس طرح اہلِ جہاں میں آپ علیہ السلام کی اِمامت کا اعلان فرمائیں گے۔

سو ہم سب کو جان لینا چاہئے کہ حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت مہدی الارض و السمائں۔ ۔ ۔ باپ اور بیٹا دونوں۔ ۔ ۔ اللہ کے ولی اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی ہیں۔ انہیں تسلیم کرنا ہر صاحب ایمان پر واجب ہے۔

باری تعالیٰ ہمیں اِن عظیم منابعِ وِلایت سے اِکتسابِ فیض کی توفیق مرحمت فرمائے۔ (آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

یکے از غلامانِ اہل بیت محمدطاہر القادری

۱۸ ذی الحج، ۱۴۲۲ھ

فصل اول

حضرت مہدی علیہ السلام امام برحق اور بنو فاطمہ سے ہیں

۱ عن أم سلمة رضی اﷲ عنها زوج النبی صلی الله عليه وآله وسلم قالت : سمعتُ رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم يذکر المهدي، فقال : هو حق و هو من بني فاطمة رضي اﷲ عنها

رواه الحاکم في المستدرک من طريق علي بن نفيل عن سعيد بن المسيب عن ام سلمة و سکت ايضا عنه الامام الذهبي و اورده النواب صديق حسن خان القنوجي في الاذاعة و قال صحيح

حاکم، المستدرک، ۴ : ۶۰۰، رقم : ۸۶۷۱

اُم المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (امام) مہدی کا ذکر کرتے ہوئے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہدی حق ہے۔ (یعنی ان کا ظہور برحق اور ثابت ہے) اور وہ سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے۔

۲. عن انس بن مالک رضي الله عنه قال سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول نحن ولد عبدالمطلب سادة اهل الجنة انا و حمزة و علي و جعفر و الحسن و الحسين و المهدي.

ابن ماجه، السنن، ۲ : ۱۳۶۸، رقم : ۴۰۸۷

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خود فرماتے سنا ہے کہ ہم عبدالمطلب کی اولاد اہلِ جنت کے سردار ہوں گے۔ یعنی میں حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی رضی اللہ عنہم اجمعین

۳. عن ام سلمة رضي اﷲ عنها قالت ذکررسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم المهدي و هو من ولد فاطمة.

حاکم، المستدرک، ۴ : ۶۰۱، رقم : ۸۶۷۲

اُم المؤمنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہدی کا تذکرہ فرمایا (اور اس میں فرمایا کہ) وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے۔

۴. عن عائشه رضي اﷲ عنها عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم : قال هو رجل من عترتي، يقاتل علي سنتي کما قاتلت أنا علي الوحي.

i نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۷۱، رقم : ۱۰۹۲

ii سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۷۴

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’مہدی میری عترت (اہل بیت) سے ہونگے، جو میری سنت (کے قیام) کیلئے جنگ کریں گے، جس طرح میں نے وحی الٰہی (کی اتباع) میں جنگ کی۔

۵. عن ابي امامة رضي الله عنه مرفوعا قال سيکون بينکم و بين الروم اربع هدن تقوم الرابعة علي يد رجل من آل هرقل يدوم سبع سنين قيل يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من امام الناس يومئذ قال من ولدي ابن اربعين سنة کان وجهه کوکب دري في خده الا يمن خال اسود عليه عباء تان قطوانيتان کأنه من رجال بني اسرائيل يملک عشر سنين يستخرج الکنوز و يفتح مدائن الشرک.

i طبراني، المعجم الکبير، ۸ : ۱۰۱، رقم : ۷۴۹۵

ii هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۳۱۹

iii طبراني، المسند الشاميين، ۲ : ۴۱۰، رقم : ۱۶۰۰

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اور روم کے درمیان چار مرتبہ صلح ہوگی۔ چوتھی صلح ایسے شخص کے ہاتھ پر ہوگی جو آل ھرقل سے ہوگا اور یہ صلح سات سال تک برابر قائم رہے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اس وقت مسلمانوں کا امام کون شخص ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ شخص میری اولاد میں سے ہوگا جس کی عمر چالیس سال کی ہوگی۔ اس کا چہرہ ستارہ کی طرح چمکدار، اس کے دائیں رخسار پر سیاہ تل ہوگا، اور دو قطوانی عبائیں پہنے ہوگا، بالکل ایسا معلوم ہوگا جیسا بنی اسرائیل کا شخص، وہ دس سال حکومت کرے گا، زمین سے خزانوں کو نکالے گا اور مشرکین کے شہروں کو فتح کرے گا۔

۶. عن ابن مسعود رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : ’’اسم المهدي محمد‘‘.

سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۷۳

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’(امام) مہدی کا نام محمد ہوگا‘‘

فصل دوم

امام مہدی علیہ السلام کا دورِخلافت آے بغیر قیامت بپا نہیں ہوگی.

۱. قال الامام الحافظ ابو عيسي محمد بن عيسي بن سورة الترمذي رحمة اﷲ تعالي في جامعه

حدثنا عبيد بن اسباط بن محمد ن القرشي نا ابي ناسفيان الثوري عن عاصم بن بهدلة عن زر عن عبداﷲ رضي الله عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لا تذهب الدنيا حتي يملک العرب رجل من اهل بيتي يواطي اسمه اسمي و في الباب عن علي و ابي سعيد و ام سلمة و ابي هريرة رضي الله عنه

i ترمذي، الجامع الصحيح، ۴ : ۵۰۵، رقم : ۲۲۳۰

ii بزار، المسند، ۵ : ۲۰۴، رقم : ۱۸۰۳

iii حاکم، المستدرک، ۴ : ۴۸۸، رقم : ۸۳۶۴

امام حافظ ابو عیسیٰ محمد بن عیسی بن سورۃ ترمذی رحمۃ اﷲ علیہ اپنی کتاب ’’جامع ترمذی‘‘ میں فرماتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص عرب کا بادشاہ ہو جائے جس کا نام میرے نام کے مطابق (یعنی محمدہوگا)

۲. عن عبداﷲ رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال يلي رجل من اهل بيتي يواطي اسمه اسمي قال عاصم و حدثنا ابو صالح عن ابي هريرة رضي الله عنه لو لم يبق من الدنيا الا يوما لطول اﷲ ذالک اليوم حتي يلي. هذا حديث حسن صحيح

i ترمذي، الجامع الصحيح، ۴ : ۵۰۵، رقم : ۲۲۳۱

ii احمد بن حنبل، المسند، ۱ : ۳۷۶، رقم : ۳۵۷۱

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میرے اہلِ بیت سے ایک شخص خلیفہ ہوگا جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ اگر دنیا کا ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو بھی اللہ تعالیٰ اسی ایک دن کو اتنا دراز فرما دے گا یہاں تک کہ وہ شخص (یعنی مہدی علیہ السلام ) خلیفہ ہو جائے۔

۳. عن ام سلمة رضي اﷲ عنها قالت سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول المهدي من عترتي من ولد فاطمة.

ابوداؤد، السنن، ۴ : ۱۰۷، رقم : ۴۲۸۴

ام المؤمنين حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مہدی میری نسل اور فاطمہ (رضی اﷲ عنہا) کی اولاد سے ہوگا۔

۴. عن ابي نضرة قال کنا عند جابر بن عبداﷲ رضي اﷲ عنهما فقال يوشک اهل الشام ان لا يجبي اليهم دينار ولا مدي قلنا من اين ذالک قال من قبل الروم ثم أسکت هنية ثم قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يکون في آخر امتي خليفة يحثي المال حثيا ولا يعده عدا قال قلت لابي نضرة و ابي العلاء أتريان انه عمر بن عبدالعزيز فقالا لا.

i مسلم، الصحيح، ۴ : ۲۲۳۴، رقم : ۲۹۱۳

ii احمد بن حنبل، المسند، ۳ : ۳۱۷، رقم : ۱۴۴۴۶

iii ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۷۵، رقم : ۶۶۸۲

ابو نضرۃ تابعي بيان کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھے کہ انہوں نے فرمایا قریب ہے وہ وقت جب اہلِ شام کے پاس نہ دینار لائے جاسکیں گے اور نہ ہی غلہ، ہم نے پوچھا یہ بندش کن لوگوں کی جانب سے ہوگی؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا رومیوں کی طرف سے۔ پھر تھوڑی دیر خاموش رہ کر فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔ میری امت کے آخری دور میں ایک خلیفہ ہوگا (یعنی خلیفہ مہدی) جو مال لبالب بھر بھر کے دے گا، اور اسے شمار نہیں کرے گا۔

اس حدیث کے راوی الجریری کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے شیخ) ابو نضرہ اور ابو العلاء سے دریافت کیا۔ کیا آپ حضرات کی رائے میں حدیثِ پاک میں مذکور خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ہیں؟ تو ان دونوں حضرات نے فرمایا نہیں، یہ خلیفہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کے علاوہ ہوں گے۔

۵. عن ابي سعيد نالخدري رضي الله عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لا تقوم الساعة حتي تملأ الارض ظلما و جورا و عدوانا ثم يخرج من اهل بيتي من يملأها قسطا و عدلا.

قال ابو عبداﷲ رحمة اﷲ عليه صحيح علي شرطهما و وافقه الذهبي

i حاکم، المستدرک، ۴ : ۶۰۰، رقم : ۸۶۶۹

ii هيثمي، مواردالظمآن، ۱ : ۴۶۴، رقم : ۱۸۸۰

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ قیامت قائم نہیں ہوگی۔ یہاں تک کہ زمین ظلم و جور اور سرکشی سے بھر جائے گی، بعد ازاں میرے اہلِ بیت سے ایک شخص (مہدی) پیدا ہوگا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ (مطلب یہ ہے کہ خلیفہ مہدی کے ظہور سے پہلے قیامت نہیں آئے گی)

۶. عن ابي سعيد نالخدري رضي الله عنه قال قال رسولا المهدي منا اهل البيت اشم الأنف اقني اجلي يملأ الارض قسطا و عدلا کما ملئت جورا و ظلما يعيش هکذا و بسط يساره و اصبعين من يمينه المسبحة والابهام و عقد ثلاثة.

قال ابو عبداﷲ الحاکم صحيح علي شرط مسلم

حاکم، المستدرک، ۴ : ۶۰۰، رقم : ۸۶۷۰

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہدی میری نسل سے ہونگے۔ ان کی ناک ستواں و بلند اور پیشانی روشن اور نورانی ہوگی۔ زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے جس طرح (اس سے پہلے وہ) ظلم و زیادتی سے بھر گئی ہوگی اور انگلیوں پرشمار کرکے بتایا کہ (وہ خلافت کے بعد) سات سال تک زندہ رہیں گے۔

۷. عن علي رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال لو لم يبق من الدهر الا يوم لبعث اﷲ رجلا من اهل بيتي يملأ هاعدلا کما ملئت جورا.

رجال هذا السند کلهم رجال الصحاح الستة غير فطر فانه من رواة البخاري والأربعة خلا مسلم.

i ابوداؤد، السنن، ۴ : ۱۰۷، رقم : ۴۲۸۳

ii ابن ابي شيبه، المصنف، ۷ : ۵۱۳، رقم : ۳۷۶۴۸

حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہ جائے گا (تو اللہ تعالیٰ اسی کو دراز فرما دے گا اور) میرے اہل بیت میں سے ایک شخص (مہدی) کو پیدا فرمائے گا۔ جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ (ان سے پہلے) ظلم سے بھری ہوگی۔

مادہ ہے یا خدا؟

اس جگہ اگر کوئی یہ کھے کہ ان کا پیدا کرنے والا مادہ ہے جیسا کہ بعض لوگ اس نظریہ کے قائل ہیں تو ہم ان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ مادہ کیسے پیدا ہوا ؟اور اس کو کس نے پیدا کیا؟

ہمارے اس سوال کے جواب میں اھل مادہ کہتے ہیں:

”مادہ چونکہ پہلے سے موجود تھااور وہ ازلی ہے لہٰذا اس کے پیدا ہونے اوراس کو پیدا کرنے والے کی ضرورت ہی نہیں “

قارئین کرام ! آج کل کے سائنس نے اس نظریہ کو بہت ہی آسان طریقہ سے ردّ کیا ہے ، کیونکہ سائنس نے یہ بات واضح کردی ہے کہ یہ کائنات ازلی نہیں ہوسکتی، کیونکہ نظام کائنات کا دستور یہ ہے کہ گرم اجسام سے گرمی سرد اجسام کی طرف جاتی ہے اورذاتی طور پر اس کے برعکس نہیں ہوتی، مثلاً گرمی ٹھنڈی چیزوں سے گرم چیزوں کی طرف منتقل ہو، اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کائنات میں تمام اجسام کا درجہ حرارت متعادل رہتا ہے اور اس میں معین طاقت جذب ہوتی ہے ،اور اگر ایک روز ایسا آجائے کہ جب اس میں کیمیاوی اور طبیعی کارکردگی نہ ہو، تو اس کائنات میں کوئی شی بھی زندہ باقی نہ بچے، جبکہ ہم دیکھ رھے ہیں کہ اس کائنات میں حیات باقی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں مختلف قسم کی کارکردگی ہورھی ہے ، لہٰذا ہم یہ نتیجہ حاصل کرتے ہیں کہ یہ کائنات ازلی نہیں ہے اور اگر اس کو ازلی مان لیا جائے تو اس کائنات کی تمام موجودات کبھی کی ختم ہوگئی ہوتیں۔

چنانچہ آج سائنس نے ایسے آلات بنالئے ہیں جن کی وجہ سے زمین کی عمر کا پتہ لگایا جاسکتا ہے ، لیکن پھر بھی اس کے نتائج تخمینی ہوتے ہیں لیکن ان سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ کائنات کروڑوں اور اربوں سال پہلے ایجاد ہوئی ہے، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ازلی (ہمیشہ سے)نھیں ہے اور اگر ازلی ہوتی تو اس میں کوئی بھی عنصر نہ پایا جاتا، چنانچہ قوانین ”ڈینا میکا حراری“ " Thermo Dynamics "کا قانون دوم بھی اسی بات کی تصدیق کرتا ہے۔

لیکن وہ نظریہ جوکہتا ہے کہ” یہ کائنات دوری“ ہے یعنی پہلے یہ کائنات سُکڑی ہوئی تھی ، پھر پھیل گئی اور اس کے بعد پھر سُکڑ ے گی اوریہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔

لیکن یہ نظریہ بھی درست نہیں ہے اور نہ ہی اس کی دلیل قابل قبول ہے نیز نہ ہی اس کو علمی نظریہ کھا جاسکتا ہے، کیونکہ ”قوانین ڈینا میکا حراری“ " Thermo Dynamics " ، دلائل فلکی اور جیولوجی" Geological " ان تمام چیزوں سے مذکورہ نظریہ کی تائید نہیں ہوتی بلکہ یہ چیز اس جملہ کی تائید کرتی ہے کہ ”زمین وآسمان کو ابتداء میںخداوندعالم نے خلق کیا ہے“:

”لقد خلق الله فی البدایة السماوات والارض“

(بے شک خدا نے ہی زمین وآسمان کو ابتداء میں خلق کیا ہے۔)

اسی طرح یہ بے عیب سورج اور چمکتے ہوئے ستارے اوریہ زمین اپنی تمام زندگی کے اسباب کے ساتھ بہترین دلیل ہے کہ اس کائنات کی اصل واساس ایک خاص زمانہ سے مربوط ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بعد میں حادث ہوئی (یعنی ازلی اور ہمیشہ سے نہیں ہے۔)

اسی طرح علم کیمیا (کیمسٹری)بھی دلالت کرتا ہے کہ تمام مادے زوال اور فنا کی طرف بڑھ رھے ہیں چاھے ان کی رفتار تیز ہو یا کم، لہٰذا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادہ ہمیشہ باقی نہیں رھے گا ،اور نہ ہی یہ مادہ ازلی تھا پس اس مادہ کی بھی کوئی ابتداء تھی کہ جب یہ وجود میں آیا ، چنانچہ اس بات پر علم کیمیا اور سائنس بھی دلالت کرتے ہیںکہ مادہ کی ابتدا ء تدریجی نہیں بلکہ یہ اچانک اور یکایک پیدا ہوا ہے ،لہٰذا سائنس کے ذریعہ اس کے پیدا ہونے کا وقت معین کیا جاسکتا ہے ، تو پھر ان تمام چیزوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ عالَمِ مادی مخلوق ہے اور یہ جب سے خلق ہوا ہے تو اسی وقت سے خاص قوانین کے تحت ہے اور کائنات کے قوانین کے ساتھ محدود ہے جس میں کوئی اتفاقی عنصر نہیں پایا جاتا۔

قارئین کرام ! تقریباً سوسال پہلے روس کے ایک ماھر ”مانڈلیف“ نے ایسے کیمیاوی عناصر مرتب کئے جو ذرات کے وزن کو ترتیب دوری کے لحاظ سے بڑھادیتے ہیں ،اور اس نے ایسے عناصر کا پتہ لگایا ہے جن کے ذریعہ مادہ کی ایک نئی قسم ایجاد ہوتی ہے جس کی صفات تقریباً ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی ہیں، تو کیا ان تمام باتوں کو دیکھ کر یہ کھا جاسکتا ہے کہ یہ کائنات تصادفی اور اتفاقی طور پر پیدا ہوگئی ہے؟!!

بتحقیق ”مانڈالیف“ کے کشفیات کو ”مصادفہ دوری“ کا نام نہیں دیا جاسکتا، البتہ اسے”قانون دوری“ " Periodic Law "کھا جاسکتا ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ان کو مصادفہ اور اتفاق کا نام دیدیں جیسا کہ ماھرین سائنس کا درج ذیل نظریہ :

عنصر ”الف“ ،عنصر ”ب“ کے ذریعہ متاثر ہوتا ہے لیکن عنصر ”الف“ ،عنصر ”ج“ کے ذریعہ متاثر نہیں ہوتا۔؟!

نھیں ھرگز نھیں! کیونکہ سائنسدانوں کا یہ ماننا ہے کہ اس کائنات کے تمام عنصر ”الف“ ،وعنصر ”ب“ میں قوت جاذبہ اور رجحان ہوتا ہے لیکن یہ طاقت عنصر”ج“ میں نہیں ہوتی۔

چنانچہ ماھر سائنسداںافراد کا ماننا ہے ھلکے معادنی ذرات اور پانی کے درمیان سرعت تفاعل معادنی ذرات کے اوزان کی زیادتی کی وجہ سے بڑھتی رہتی ہے ، اس حال میں کہ عناصر ”ھالوجینیہ “ جو جدا ہوئے ہیں ان کی گردش ،مذکورہ گردش کے بالکل مخالف ہوتی ہیں، اور آج تک بھی اس مخالفت کا سبب کسی کو معلوم نہ ہوسکا، اس کے باوجود بھی کسی بھی شخص نے اس چیز کو محض مصادفہ کا نام نہیں دیا ہے، اور نہ کسی نے یہ گمان کیا ہے کہ ان عناصر کی مذکورہ گردش کبھی کبھی ایک دو مادہ کے بعد معتدل ہوجاتی ہے، یا زمان ومکان کے اختلاف کی بناپر معتدل ہوجاتی ہے، اور نہ ہی کسی کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ تمام ذرات بنفسہ کبھی کبھی اپنے تفاعل سے خارج ہوجاتے ہیں، یا برعکس فعالیت کرنا شروع کردیتے ہیں یا بغیر کسی سوچے سمجھے اپنی فعالیت انجام دیتے ہیں۔

سائنس نے ترکیب ذرات کوکشف کیا ہے کہ کیمیا کی وہ فعالیت جو ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور ان کی خاصیت کو ملاحظہ کرتے ہیں یہ سب کے سب، خاص قوانین کے تحت ہوتے ہیں جن میں تصادفی اور اتفاقی کوئی چیز نہیں ہے۔

تاکہ ہم نامعلوم ذرات کے ذریعہ اس واضح نظریہ کو اخذ کریںکہ ہم یہ تصور کریں کہ اگر ”ھیڈروجن“ " Hydrogen "کے کروڑوں ذرات ایک جگہ جمع ہوجائےں تو ایک ملی میڑ ( m.m )جگہ میں جمع ہوجاتے ہیں۔

بالفرض اگر ہم پیاسے ہو ں اور ہم پانی پئیں تو جو پانی ہم پیتے ہیں تو اس میں کچھ ریت کے ذرات ہوتے ہیں کیونکہ سمندر اور زمین میں ہونے کی وجہ سے پانی میں مٹی کے ذرات پائے جاتے ہیں۔

اور کبھی کبھی یہ ذرات بہت ہی باریک باریک پتھر سے تشکیل پاتے ہیںجو بالکل ذرہ کے برابر ہوتے ہیں۔

اور یہ ذرہ ایک نوات ( بہت ہی باریک پتھر )سے وجود میں آتا ہے کیونکہ یہ نوات باریک پتھر سے بنتے ہیں، چنانچہ ان میں کے بعض پروٹن ہوتے ہیںاور بعض نیوٹرن ، جبکہ ان کے اردگرد ایک بعید فاصلہ پر الکٹرون گردش کرتی ہے۔

چنانچہ سائنسدانوں نے اس نظام میں بہت سی چیزوں کو کشف کیا ہے جن کی اب تک ۳۰/ قسموں کاپتہ چل چکا ہے جن میں سے بعض وہ ہیں جن کو ہم نے ابھی ذکر کیا ہے جیسے ”پروٹن“، ”نیوٹرون“ اور ”الکٹرون“۔ " Proton","Neutron", "Electron "۔

اور ماھرین کا کہنا ہے کہ ”الکٹرون“ کے چکّر ایک سیکنڈ میں ۷ بلین " Billion " (ملین در ملین) ہوتے ہیں۔

جبکہ بعض ذرات ایسے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے میں جذب ہوجاتے ہیں اور بعض ذرات کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں چونکہ ذرات کے بھی کچھ قوانین ہیں جو انسان میں شادی اور طلاق کے قوانین سے دقیق تر ہیں۔

اسی طرح ہم جس نمک کو مختلف غذاؤں میں استعمال کرتے ہیں اس کے دو جز ہوتے ہیں جو ایک ساتھ رہتے ہیں اور اگر اس کے یہ دو جز ایک ساتھ نہ ہوں تو پھر ان میں کا ہر ایک جزء جسم میں فساد اور خرابی ایجاد کردیتا ہے، کیونکہ نمک میں دو درج ذیل چیزیں ہوتی ہیں:

۱ ۔”کلورائیڈ“ " Chloride " جو ایک قسم کی گیس ہوتی ہے جس کو اگر کوئی زندہ حیوان سونگ لے تو وہ موت کے گھاٹ اتر جائے۔

۲ ۔” سوڈیم“ " Sodium "جو ایک نرم عنصر ہوتا ہے جو پانی کو خشک کردیتا ہے اور اس کے اندر سے دھواں اور شعلے نکلتے ہیں یہ بھی اگر کسی کے بدن میں داخل ہوجائے تو وہ بھی مرجائے ، لیکن یھی دونوں زھریلی اور خطرناک چیزیں جب آپس میں مل جاتی ہیں تو نمک بن جاتاھے جس کے بعد نہ نقصان دہ ہوتا ہے اور نہ شعلہ ور۔

اسی طرح پانی کے بھی تین اجزاء ہوتے ہیں جس طرح سے اسلامی قوانین کے مطابق انسان کو یہ اختیار ہے کہ وہ ایک، دو تین یا چار بیویوں سے (ایک وقت میں) شادی کرسکتا ہے اسی طرح ذرات کا قانون بھی ہے پس جب ”کلورائیڈ“ ”سوڈیم“ سے ملتا ہے تو ہمارے لئے نمک بن جاتا ہے گویا یہ کلورڈ ایک ذرہ سے ملا ہے، اسی طرح جب آکسیجن،" Oxygen "، ہیڈروجن " Hydrogen " کے دو ذروں سے ملتا ہے تو پانی بنتا ہے، اور جب ”نیٹروجن“ تین ذروں سے ملتا ہے تو ”امونےا“نامی گیس بنتی ہے (جس کا مزہ منھ جلانے والا ہوتا ہے جو بے رنگ اور تیز مزہ رکھتی ہے) اور جب ”کاربن“ " Carbon " ہیڈروجن " Hydrogen "کے چار ذروں سے ملتا ہے تو ”میٹھن“ " Methane "نامی گیس بنتی ہے۔

اسی طرح بعض عناصر ایسے ہیںجو انفرادی طور پر رہتے ہیںاور ان میں کے بعض ذرات کے نام اس طرح ہیں: ”نیون“ اور ”راڈون“(جو دونوںگیس ہیں)

قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ کیا کہ عالم ذرات بھی کتنا عجیب ہے جس میں مختلف فائدہ مندجزئیات ہوتے ہیں اور یہ ہماری زمین پر اس طرح ایک دوسرے سے مرتبط ہیں کہ انسان تصور کرنے سے قاصر ہے ، بس ایسے سمجھ لیجئے کہ جس طرح کسی بھی زبان کے حروف (جیسے عربی زبان میں حروف تہجی کی تعداد ۲۸/ ہے ) کو ایک دوسرے سے ملاتے جائےں، ان سے کلمات بنتے جائیں تب آپ دیکھیں کہ کتنے عنصر بنتے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ لاکھوں او ر کروڑوں کی تعداد ہوجائے گی۔

مثال کے طور پر یھی تین چیزیں :

۱ ۔ کاربن۔" Carbon " ۔

۲ ۔آکسیجن" Oxygen " ۔

۳ ۔ ہیڈروجن" Hydrogen "۔ کو اگر ایک دوسرے سے ملائیں تو لاکھوں کیمیائی مرکب تیار ہوسکتے ہیں جن میں سے ہر ایک کی الگ الگ خاصیتیں ہونگی۔

جیسا کہ ماھرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے مختلف پروٹن " Protein "کی اتنی قسم ہیں جن کی تعداد دسیوں لاکھ تک پهونچتی ہے جبکہ پروٹن" Protein "، کاربن" Carbon "، ہیڈروجن" Hydrogen " اور آکسیجن،" Oxygen " کے بغیر وجود میں نہیں آتی۔اور کبھی کبھی پروٹن کے ساتھ ”فاسفور " Phosphore " اور ”کاربرائڈ“" Carbide "هوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔

اسی طریقہ سے ہمارے لئے حیات کے تمام جزئیات واضح ہوتے جاتے ہیں اوریہ جزئیات حیات اسی طریقہ سے جاری وساری ومتحدو منفصل (جدا) ہوتے جاتے ہیں، چنانچہ اس زندگی کے تمام جزئیات کے ادوار اور اس کے اتحاد وانفصال کی تمام صورتیں ایک معین اور معلوم مقدار کے مطابق رواں دواں ہے نہ اس میں کمی ہوتی ہے نہ زیادتی، کیونکہ ھرحالت کے لئے ایک قطعی قانون اور محکم نظام ہوتا ہے ۔

کیا کوئی صاحب عقل اور مفکر انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ عقل وحکمت سے خالی مادہ اپنے آپ کو خود بخود اچانک وجود میں لے آئے؟! یا یہ مجرد مادہ پہلے اس کائنات کے قوانین ونظام کا موجداور پھر ان قوانین کو اپنے اوپر لاگوبھی کردے یعنی پہلے ان قوانین کو اس مادہ نے ایجاد کیا اورپھر یہ مادہ ان قوانین کے ماتحت ہوجاتا ہے؟!!

بلا شبہ ہر صاحب عقل کا جواب یھاں نفی میں ہوگا، بلکہ مادہ جب طاقت میں تبدیل ہوتا ہے یا مادہ میں طاقت آتی ہے تو یہ تمام چیزیں معین قوانین کے تحت ہوتی ہیں، اور وہ مادہ جو وجود میں آیا ہے وہ بعد میںان قوانین کا محکوم ہوتاھے یعنی اس پر معین قوانین لاگو ہوتے ہیں۔

اور جب ہمارا یہ مادی عالم اپنے جیسا( عالم) خلق کرنے یا ایسے قوانین تعین کرنے سے، (جو اس کے زیر اثر ہوں)عاجز ہے تو پھر ضروری ہے کہ اس عالم کی خلقت ایک ایسے موجود کے ذریعہ وجود میں آئے جو مادہ کے علاوہ ہو۔

چنانچہ ہماری اس بات کی تائید قوانین حرارت کرتے ہیں، اور ہم انھیں کے ذریعہ طاقت میسورہ اور طاقت غیر میسورہ کے درمیان فرق محسوس کرتے ہیں،اور بتحقیق یہ بات ظاہر ہے کہ جب کوئی بھی حرارت متغیر ہو توطاقت میسورہ کا ایک معین جز طاقت غیر میسورہ میں تبدیل ہوجاتا ہے، جبکہ یہ بات بھی واضح ہے کہ طبعیات میں یہ تغییر و تبدیلی اس کے برخلاف نہیں ہوتی،اور یہ” ڈینا میکا حرارتی قوانین“ " Thermo Dynamics "کا دوسرا قانون ہے۔

اور جب یہ بات طے ہوگئی کہ مادہ ازلی نہیں ہے بلکہ حادث ہے (جیسا کہ تفصیل گذر چکی ہے) تواس کے لئے کسی محدث کا ہونا ضروری ہے،کیونکہ کوئی بھی چیز اپنے کو پیدا نہیں کرسکتی ،بلکہ یہ بات عقلی طور پر محال ہے کہ کوئی شے اپنی موجد ہو۔

پس نتیجہ یہ نکلا کہ مادہ کا خالق اور موجد خداوندعالم کے علاوہ کوئی دوسر انھیں ہوسکتا۔

صُدفہ نظریہ کے دلائل اور اس کی ردّ

اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ” تطورمادہ“ (حرکت مادہ) بر بناء صُدفہ ہے،تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ مصادفت (اتفاق) موجودات عالم کے لئے بمنزلہ سبب ہے، اور کوئی بھی عقل اس بات کو قبول نہیں کرسکتی۔

چنانچہ علم طبیعات کے ماھر ڈاکٹر ”نوبلٹشی“کہتے ہیں:

”میں کبھی بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ صرف مصادفت (اتفاق) الکٹرون پہلے پروٹن کے لئے مظھر ہو یا پہلے ذرات، یاپھلے احماض الامینیةیا پروٹوپلازم الاول " Protoplasm ۱st " یا بذرة اولیٰ یا عقل اول کے لئے مظھر ہو !! بلکہ میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کا مظھر اور مفسر واجب الوجود اللہ کی ذات ہے جو کائنات کی تمام اشیاء پر محیط ہے۔

قارئین کرام ! مصادفہ اور احتمال کا نظریہ ریاضی " Mathe matical " لحاظ سے تفصیلی طور پر گذر چکاھے ، جس کی بنا پر ہم بعض چیزوں کے بارے میں اتفاقی وجودکے قائل ہوئے کہ جن کی تفسیر اس کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتی لیکن مذکورہ بحث کے مطالعہ سے اس بات پر قادر ہوجاتے ہیں کہ ہم ان اشیاء کے درمیان اتفاقی اور غیر اتفاقی اشیاء کے درمیان فرق کرلیں، لہٰذا اب ہم یھاں پروہ بحث بیان کرتے ہیں جس میں مادہ کو منشاء حیات قرار دیا گیاھے۔

چنانچہ بلا شبہ یہ بات طے شدہ ہے کہ اساسی مرکبات کے پروٹن" Protein " تمام زندہ خلیے " Cells "پانچ عناصرسے مرکب ہوتے ہیں:

۱ ۔ کاربن" Carbon "۔

۲ ۔ ہیڈروجن" Hydrogen "۔

۳ ۔ نیٹروجن" Nytrogen "۔

۴ ۔ آکسیجن،" Oxygen " ۔

۵ ۔کبریت( سلفور)" Sulfur "

اور پروٹن کے ایک جز میں ۰۰۰’۴۰ ذرات پائے جاتے ہیں، اور اب تک سائنس نے ۱۰۲/ عناصر کا پتہ لگایا ہے توکیا ان کی تقسیم ایک اتفاقی اور تصادفی ہے،اورجب یہ پانچ عناصر ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو پروٹن کا ایک جز بنتا ہے ، لہٰذا جب اس پروٹن کے ایک جز کے لئے اتنا دقیق حساب درکار ہے تو اس مادہ کے لئے جو تمام چیزوں کا لازمہ ہے اس میں ان ذرات کا حساب کس قدر دقیق ہونا چاہئے۔

جیسا کہ سویسی ریاضی داں ”ٹشالزیوجن“ نے ا ن تمام اسباب کا حساب وکتاب پیش کیا ہے، چنانچہ وہ کہتا ہے کہ اس کائنات کا صدفةً اور اتفاقی پیدا ہونے کا احتمال اربوں اور کھربوں میں سے صرف ایک احتمال ہے ، کیونکہ اس نے اس طرح حساب کیا ہے کہ اگر عدد ۱۰/ کو ۱۰ میں ۱۶۰/ مرتبہ گنا کیا جائے تو اربوں کھربوں اور پدم وغیرہ سے بھی بڑی رقم بنی گی جس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے تو اس رقم میں سے صرف ایک احتمال پایا جاتا ہے اور پھر کائنات کے لئے مادہ کی آزمایش کے لئے ملیونوں بار آزمائش کی ضرورت پڑی گی کیونکہ صرف زمین پر موجود پروٹن کے ایک جز کے لئے اربوں کھربوں سال کی ضرورت پڑے گی جس کا حساب مذکورہ دانشمند نے اس طرح کیا کہ عدد ۱۰ کو ۱۰ میں ۲۴۳ بار گنا کیا جائے تو یہ رقم تو گذشتہ رقم کے لاکھوں گنا ہوجائے گی جس کو بیان کرنے کے لئے انسان کے پاس الفاظ نہیں ہے ، مطلب یہ ہے کہ ان تمام حساب وکتاب کے پیش نظر اس کائنات کو اتفاقی کی پیدا وار کہنے کی کوئی صورت نہیں ہے، کیونکہ زمین کی پیدائش کا اندازہ لگایا لیا گیا ہے لیکن اس اعتبار سے ہزاروں برابر سال درکار ہیں تاکہ صرف زمین پر موجودات اس اعتبار سے پیدا ہوں۔

اور اگر ہم مذکورہ قاعدہ سے تھوڑا تنزل کریں اور ”ھیموغلوبین“ " Hemogbobin " کے ذرات کو دیکھیں جو کہ خون میں لال رنگ کے ہوتے ہیں (جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ پروٹن" Protein " کی ترکیب کا سب سے کم درجہ ہے) تو ان میں ”کاربن“ " Carbon "کے ۶۰۰/ متحد ذروں سے بھی زیادہ پائیں گے جن میں ہیڈروجن " Hydrogen "کے ۱۰۰/ ذروں سے کم نہیں ہوتے اور نیٹروجن کے ۲۰۰/ ذروں سے زیادہ ہوتے ہیں اسی طرح آکسیجن،" Oxygen " کے بھی ۲۰۰/ ذروں سے زیادہ ہوتے ہیں یھاں تک کہ انسان میں ۲۵/ ٹریلین (۲۵,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,)) خون کے دائرے ہوتے ہیں۔

اسی طرح علم کیمیا کے ماھر ڈاکٹر” بوھلڑ “ کہتے ہیں :

اورجس وقت انسان، قوانین مصادفہ (اتفاقی نظریہ) کو ملاحظہ کرتا ہے تاکہ اس بات کا اندازہ لگائے کہ کائنات کے کسی ایک پروٹن کے کسی ایک جز کا اتفاقی ہونا کھاں تک درست ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی عمر تقریباً تین بلین(ملیون در ملیون) (۳,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,) سال یا اس سے بھی زیادہ ہے لیکن اس طویل مدت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کائنات اتفاقی نہیں ہے۔

قارئین کرام ! مذکورہ باتوں کے پیش نظر یہ بات ثابت ہے کہ یہ پروٹن " Protein " زندگی دہندہ کیمیاوی مواد ہیں اور ان میں زندگی نہیں پائی جاتی مگر جب تک ان میں وہ عجیب وغریب راز ودیعت نہ کیا جائے جس کی حقیقت کو ہم نہیں پہچانتے۔

بتحقیق اساسی مواد میں جن میں" Hydrogen","Oxygen","Carbon ", کے ساتھ کچھ عناصر نیٹروجن اور دیگر عناصر پائے جاتے ہیں تو ان کے لئے ملیونوں ذرات پائے جاتے ہیں تب ایک چھوٹا سا مواد بنتا ہے ، اور جب ہم اس سے بڑے جسم والے مواد کو دیکھتے ہیں تو اس ذرات کی بنا پر مصادفہ (اتفاقی) نظریہ کا بہت کم احتمال باقی بچتا ہے جس کو عقل انسانی سوچنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتی اور اس کو ماننے سے انکار کردیتی ہے ۔

چنانچہ مذکورہ گفتگو کے پیش نظر ”علوم اکاڈمی نیویورک“ کے صدر استاد ”کرس موریسن“ وضاحت کرتے ہیں:

”فرض کریں کہ آپ کے ایک تھیلے میں پتھر کے ۱۰۰ عدد ٹکڑے ہیں جن میں ۹۹/ کالے ہیں اور ایک سفید ہے،اور ان کو آپس میں ملالیںاس کے بعد اگر آپ تھیلے میں ھاتھ ڈال کر ان میں سے سفید پتھر نکالنا چاھیںتو اس سفید پتھر کے نکلنے کا احتمال ایک فیصد ہے، اسی طرح اگر آپ اس کے بعد دوبارہ پتھر نکالنا شروع کریں تو بھی سفید پتھر کے نکلنے کا احتمال ایک ہی فیصد رھے گا لیکن اگر اسی کام کو دومرتبہ لگاتار نکالیں تو اس کا احتمال دس ہزار میں سے ایک ہے اور اگر تیسری مرتبہ لگاتار نکالنا چاہیں تو اس کا احتمال دس لاکھ میں سے ایک ہے، اور اگر اس کے بعد اس کام کو چار بار لگاتار نکالیں تو رقم زیادہ ہوجائے گی، کیونکہ ہر بار اس عدد کو اسی میں گنا کیا جائے گا، مثلاً ۱۰۰ گنا ۱۰۰ دس ہزار ہوتے ہیں اسی طرح اگر تین بار لگاتار نکالنا چاھیں تو دس ہزار دس ہزار میں گنا کیا جائے گا جس سے دس لاکھ بن جائے گا، تو جتنی مرتبہ میں آپ اس سفید پتھر کو نکالنا چاھیں تو اس عدد کو اسی میں گنا کرتے چلے جائیں گے ، اور اس سفید پتھر کے نکلنا کا چانس گھٹتا چلا جائے گا۔

چنانچہ اس طریقہ کار سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے قارئین کو علمی اورواضح طریقہ سے ان دقیق حدود کو بیان کریں جن کے ذریعہ زمین پر زندگی بسرکرنا ممکن ہے اور حقیقی برھان کے ذریعہ زندگی حقیقی کے تمام مقومات کو ثابت کریں اور یہ بتائیں کہ کسی بھی وقت میں کوئی ایک ستارہ صرف صدفہ اور اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوا ہے۔

کیونکہ جب ہم عالم مادی کی طرف دقت سے دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا ذرہ اور بڑے سے بڑاایٹم ، ان میں خاص قوانین اور حساب وانضباط پایا جاتا ہے۔

یھاں تک کہ الکٹرون بھی ایک مدار سے دوسری مدار کی طرف نہیں جاتے جب تک کہ وہ ان کو اس طرح کی مساوی طاقت نہ مل جائے تاکہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ ہوجائے، گویا ایک مسافر کی طرح ہے کہ جب تک اس کو زاد راہ نہ دیا جائے وہ سفر نہیں کرسکتا۔

چنانچہ ستاروں کی پیدائش اور ان کی موت کے بھی خاص قوانین اور اسباب ہیں۔

ستاروں کے گھومنے میں طاقت متعادل ہے۔

اسی طرح مادہ ایک طاقت میں تبدیل ہوتا ہے اور سورج کے جسم کو نور معادلة کی طرف روانہ کرتا ہے۔

اسی طرح نور کے لئے بھی ایک معین رفتار ہے۔

اسی طرح ہر موج کے لئے طول ہوتا ہے اور حرکت کرنے والی طاقت بھی اور اس کی معین رفتار بھی۔

جیساکہ ہر معادن کے لئے کچھ ایسے مقناطیسی واضح اجزاء وخطوط ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے یہ معادن گردشی سسٹم میں قابل شناخت ہیں۔

اسی طرح ہر معدن اپنی خاص مقدار میں ہوتا ہے اس میں گرمی او ر سردی خاص مقدار میں ہوتی ہے اسی طرح ہر معدن کے لئے ضخامت اور بدن اور خاص وزن ہوتا ہے۔

چنانچہ ”اینش ٹن“ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہر معادن کے جسم اور اس کی رفتار میں خاص تناسب ہے ، اسی طرح زمانہ اور نظام حرکت جو ایک متحرک مجموعہ ہے اس میں اور زمان ومکان میں رابطہ پایا جاتا ہے۔

جس طرح بجلی بھی خاص قوانین کے تحت پیدا ہوتی ہے۔

اسی طرح زلزلہ جس کے بارے میں کھا جاتا ہے کہ یہ بے قانونی کی وجہ سے حادث ہوتا ہے لیکن یہ بھی ایک خاص نظام کے تحت ہوتا ہے۔

اسی طرح کرہ زمین کا حجم اور اس کی سورج سے دوری ، اسی طرح سورج کی گرمی اور اس کی شاعیں جن کی وجہ سے مختلف چیزوں کو حیات ملتی ہے ، اسی طرح زمین کا اوپری حصہ، نیزپانی کی مقدار ، اور ”ڈائی آکسائیڈ کاربن ثانی“" Carbon Dioxide "اسی طرح نایٹروجن کا حجم ، اور انسان کی پیدائش اور اس کا زندگی بھر باقی رہنا، یہ تمام کی تمام (کسی کے )ارادے اور قصد پر موقوف ہیںاور جیسا کہ معلوم ہوا ہے کہ یہ تمام چیزیںدقیق اور باریک حساب کے تحت ہوتے ہیں ،توکیا ان سب کا اتفاقی طور پر پیدا ہونا ممکن ہے؟!!

لیکن مادی لوگوں نے اتفاقی نظریہ کو ثابت کرتے ہوئے کھا ہے:

”بالفرض اگر حروف ابجد سے ایک صندوق بھرا ہوا ہو جس کی ترتیب وتنظیم کو لاکھوں اور کروڑوں مرتبہ لاتعداد صدیوں میں انجام دیا گیا ہو ، اس صورت میں کوئی مانع پیش نہیں آتا کہ ہم ایک منظوم قصیدہ کے نظم ونسق وترتیب کو صرف ایک دفعہ میں جدا کردیں، چنانچہ اس صورت میں قصیدہ کے حروف کی دوبارہ ترتیب میںصرف ہم کو ایک عمل کرنا پڑے گا اور وہ عمل وھی ہے جو ہم نے قصیدہ کی ترتیب وتنظیم کے جدا کرنے میں انجام دیا تھا، پس ترتیب جدا کرنے میںہم کو صرف ایک عمل (مصادفت)کے علاوہ اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوئی۔

اسی طریقہ سے ہمارا یہ عالم مادی جس کے بارے میں بہت سی ممکنہ مصادفات (اتفاقات) ہماری عقل میں آسکتی ہیں چنانچہ گذشتہ مثال کی طرح ہم عالم مادی میں بھی یھی طریقہ اپنا سکتے ہیں یعنی عقل اس بات سے منع نہیں کرتی کہ ہم اس نظام میں متعدد پائے جانے والے اتفاقات میں سے ایک اتفاق کو جدا کرلیں، اور یہ عالم مادہ چاھے عالَم جماد ہو یا عالم حیات۔“

لیکن ان کے قول کو ردّ کرنے کے لئے مذکورہ مثال کی تحلیل کرنا ہی کافی ہے، جس میں چند احتمالات پائے جاتے ہیں:

۱ ۔سب سے پہلے ہمارے پاس ایسے حروف ہونا ضروری ہے جن سے قصیدہ کھا جاسکتا ہو، ان میں سے نہ ایک حرف کم ہو اور نہ زیادہ۔

۲ ۔ ان حروف کومنظم ومترتب کرنے والی طاقت کا ہونا بھی ضروری ہے۔

۳ ۔ اس طاقت کا باقی رہنا تاکہ نظم وترتیب ہوتی رھے اور بیچ میں متوقف نہ ہو۔

۴ ۔ ایسی بافہم قوت کا ہونا ضروری ہے جو قصیدہ تمام ہونے پر تنظیم وترتیب کی حرکت کو موقوف کردے۔

چنانچہ ان چاروں احتمالات میں ان کے دعویٰ کو باطل کرنے والی دلیل موجود ہے۔

پھلے فرضیہ میں ہم یہ سوال کریں گے کہ مذکورہ حروف جن کو ترتیب دیا گیا کس طرح پیدا ہوئے؟ اور مادہ مختلف اجزاء میں کس طرح تقسیم ہوا اور اس طرح کے نتائج کیسے برآمد ہوئے؟ اس کے بعد اس تقسیم کے لئے کس طرح اتحاد کی قابلیت پیدا ہوئی؟!

دوسرے فرضیہ میں ہم یہ سوال کریں گے :

وہ کونسی طاقت ہے کہ جس کے تحت یہ ترتیب وتنظیم انجام پائی اور کیا یہ عقلی طور پر صحیح ہے کہ یھی حروف بذات خود اس بات کی صلاحیت رکھتے ہوں کہ وہ خود بخود محرک ہوکر کوئی قصیدہ بن جائےں؟

تیسرے فرضیہ میں ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ حروف کے درمیان ایک قوت محرکہ پائی جاتی ہے جو تنظیم وترتیب کاکام انجام دیتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ کونسی طاقت ہے جو اس قوت محرکہ کو اثنائے حرکت میں رکنے نہیں دیتی، کیا اس قوت محرکہ کے پاس اس حرکت کو مسلسل جاری رکھنے کا ادراک پایا جاتا ہے؟!

چوتھے فرضیہ میں ہمارا سول یہ ہے کہ وہ طاقت کونسی ہے جس نے اس قصیدہ کے تمام ہونے پر اس قوہ محرکہ کے استمرار کو روک دیا،اور پھریہ قوت کیوں اس کام کو مسلسل جاری رکھنے سے متوقف ہوگئی؟!

( إِنَّ اللهَ یُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ اٴَنْ تَزُولاَوَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ اٴَمْسَکَهُمَا مِنْ اٴَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إِنَّهُ کَانَ حَلِیمًا غَفُورًا ) ( ۳۹ )

”بے شک خدا ہی سارے آسمان اور زمین اپنی جگہ سے ہٹ جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر (فرض کرو کہ) یہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو پھر اس کے سوا انھیں کوئی نہیں روک سکتا بے شک وہ بڑا بردبار (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔“

قارئین کرام ! گذشتہ مطالب کے پیش نظریہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مذکورہ نظریہ کو نہ تو منطق قبول کرتی ہے اور نہ ہی عقل تسلیم کرتی ہے،چنانچہ یہ تمام احتمالات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ایک ایسی قوت کا ہونا ضروری ہے جو ازلی ، ابدی ، ہمیشگی اور صاحب عقل ہو،

اور اسی نے اس عظیم کائنات کو بغیر کسی اضطراب و اتفاق کے مرتب و منظم طریقہ سے خلق کیا ہے ۔

ہم نظریہ صدفہ کے باطل ہونے کے سلسلے میں مزید عرض کرتے ہیں:

اگر ہم بدون حیات مادہ میں حیات کا تصور کریں تو ہماری عقل دوچیزوں میں سے ایک چیز کو قبول کرتی ہے اور اس میں کسی تیسری چیز کا تصور نہیں :

۱ ۔ یا تو حیات مادہ کی خصوصیات اور لوازم میں سے ہے تو پھر اس صورت میں حیات کی خلقت کے لئے خالق مرید کی کوئی ضرورت نہیں !

۲ ۔ یا پھر حیات کا کوئی خالق ہے۔

پس اگر کوئی یہ کھے کہ حیات اورزندگی مادہ کی خاصیتوں میں سے ہے تو ہم اس سے یہ کہیں گے کہ اس صورت میں مادہ ازلی اور ابدی ہے جس کا اول وآخر نہیں ہے اور وہ ازل سے اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ موجود ہے، اور اس کی خصوصیات اس کے ساتھ ہیں چاھے جھاں بھی رھے۔

لیکن اس صورت میں یہ کہنا غلط ہوگا کہ فلاں ستارہ پیدا ہوا اور فلاں ستارہ پیدا نہیں ہوا کیونکہ حیات کی تمام خصوصیات کا بغیرکسی اثر کے اربوں سال تک باقی رہنے کا کوئی مقصد نہیں ہے کہ حیات ایک زمانے کے بعد ظاہر ہو جس کا تاریخ نے اربوں سال کا حساب کیا ہے لہٰذا اس جگہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حیات اتنے طولانی عرصے کے بعد کیوں ظاہر ہوئی جبکہ حیات کے خصوصیات ازل سے موجود ہیں؟!!

اور اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ حیات کا مادہ ازلی ہے تو اب سوال یہ در پیش ہے کہ یہ اتفاق(صدفہ) سے پیدا ہوکر دائمی کسیے ہوگئی؟ اوریہ اتنی طولانی مدت کھاں رھی ؟ یھاں تک کہ وہ یکایک بغیر کسی ارادہ وقصد کے وقوع پذیرهوگئی ؟!!

پس ان تمام باتوں سے یہ ثابت ہوا کہ ہم اس دوسرے فرضیہ کو صحیح مانیں کہ اس مجرد(بدون حیات) مادہ کے لئے ظهور حیات ایک خالق ازلی، مریداور صاحب اختیار سے وجود میں آئی ہے جو اس کے ظهور کے لئے زمانہ معین کرتا ہے اور جس جگہ رکھنا چاھے رکھتا ہے ،پس اسی نے اس کائنات کو اپنے ارادہ اور حکمت سے خلق کیا ہے، اور اسی کا نام اللہ تبارک وتعالیٰ ہے۔

زمین پر حیات کی شروعات

ہم اپنی بات کو تمام کرنے سے پہلے اس سوال کا جواب دینا اپنے لئے ضروری اور مناسب سمجھتے ہیں :زمین پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟ اور کیا اس حیات کی اصل سورج ہوسکتا ہے؟!

لہٰذا ہم اس سوال کے جواب میں یہ عرض کرتے ہیں کہ حیات اور زندگی کیا ہے؟ کیا یہ حجم والی چیز ہے یا وزن دار مادہ؟ یا یہ ان دونوں چیزوں سے مل کر تشکیل پاتی ہے؟

حیات ایک ایسا اثر ہے جس کا ایک زندہ خَلیہ " Cell "میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے وہ بھی ٹلسکوپ " Telescope " وغیرہ کے ذریعہ، لہٰذا جب یہ معمولی اور سب سے چھوٹا نقطہ جو ”پروٹو پلازم“ " Protoplasm "سے مخلوط ہوتا ہے اور اس میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہیںجو ہوا میں سے " Carbon Dioxide۲th "خورشید سے حاصل کرتا ہے ، اور پانی سے " Hydrogen ", نکلتا ہے چنانچہ ان دونوں چیزوں سے اس کی غذا فراہم ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ رشد ونموکرتا ہے۔

چنانچہ ماھرین نے ”پروٹو پلازم “ " Protoplasm "کو بارھا مختلف وسائل اور مختلف زمانے میں خلق کرنا چاھالیکن سب ناکام رھے اور اسی وجہ سے خدا پر ایمان میں اضافہ ہوا جو ان تمام خلیوں کا خالق ہے کیونکہ مخلوقات اپنی کو نہیں بناسکتی۔

چنانچہ یھی واحد زندہ خلیہ جو حیات کا واحد عنصر ہے جس کی بنا پر یہ کائنات وجود میں آئی تو کیا یہ پہلا خلیہ خود بخود اچانک پیدا ہوگیا یا اس کو کسی نے خلق کیا ہے؟!

قارئین کرام ! زندگی کی ابتداء کے بارے میں مختلف قسم کے نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے بعض افراد نے یہ کھاھے کہ حیات ”پروٹوجن “یا ”فیروس“ سے شروع ہوئی ہے یا ”پروٹن“ کے وجود سے شروع ہوئی ہے جبکہ بعض لوگوں کا یہ بھی گمان ہے کہ ان نظریات نے اس میدان کا دروازہ بند کردیا جس سے عالم جماد اور عالم حیات میں فرق پیدا ہوتا ہے ۔

جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مذکورہ کسی بھی نظریہ میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ ان کو قبول کرلیا جائے کیونکہ ان کی دلیلیں بہت کمزور ہیں ۔

ان تمام کے باوجود جو شخص بھی خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے وہ کوئی ایسی علمی دلیل پیش کرنے سے قاصر ہے کہ تمام ذرات جمع ہوکر اتفاقی طور پر زندگی کے اسباب بن گئے ، کیونکہ خلیوں میں ہر ایک خلیہ اتنا دقیق ہے کہ ہماری سمجھ میں آنا مشکل ہے اور اس کائنات میں اربوں، کھربوں خلیہ موجود ہیں جو اپنی زبان بے زبانی سے خدا کی قدرت کی گواھی دے رھے ہیں، جن پر عقل وفکر اور منطق دلالت کررھی ہیں۔

اسی طرح حیات کی یہ تعریف کرنا کہ یہ ایک کیمیاوی نشاط ہے ، یہ تعریف بھی قابل قبول نہیں کیونکہ مردہ جسم میں بھی کیمیاوی مادہ پایا جاتاھے، اسی طریقہ سے خود مٹی میں بھی لوھا، تانبا اور کاربن نکلتا ہے۔

اسی طرح یہ کہنا کہ جنسی خواہشات ” تستوسترون ھارمون“" Testosterone Hormone "کی وجہ سے ہوتا ہے ،لیکن اس کے بھی کوئی معنی نہیں ہیں کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں اس Hormone میں یہ فاعلیت اور خاصیت کس نے عطا کی؟!!

اسی طریقہ سے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ عالم نباتات کی حرکت سورج مکھی کے پھول کی طرح ہے جس میں ”ھارمون اکسین“ " Hormone Auxin ." کا کردار ہوتاھے اورہمیشہ اسی طرح یہ پھول سورج کی طرف گھومتا رہتا ہے اور اس میں کوئی مشکل ایجاد نہیں ہوتی۔

لہٰذا ہم یھاں پر یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ کونسی طاقت ہے جس نے مادہ کو اس طرح کی تاثیر عنایت کی جو نباتات میں اسی طرح کیمیاوی عناصر کو پهونچاتی ہے۔؟

کیونکہ ابھی تک خلیہ میں کیمیاوی ترکیب نے ہمارے اوپر راز حیات کو واضح نہیں کیا ہے کیونکہ حیات صرف مجرد منظومہ اور جامد مثلاً مکان نہیں ہے بلکہ یہ تو حیات منظومہ صاحب حیات ہے جس میں ایک طاقت ہوتی ہے جن کے اندر ایسی قدرت ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ ہدایت کرتا ہے اور ایک ایسی فطرت ہے جس میں تنظیم و ترتیب کی صلاحیت ہوتی ہے۔

اسی طرح سائنس کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ یہ ہماری زمین سورج سے جدا ہوئی ہے اور جس وقت یہ سورج سے جدا ہوئی ،اس وقت اس کی گرمی سورج کے برابر تھی اور ہمارے فرض کے حساب سے اس کا درجہ حرارت ، سورج کے اس وقت کی گرمی کے برابر ہے اور چونکہ ملیونوں سال سے اس کی گرمی میں کمی واقع ہورھی ہے۔

لہٰذا اس وقت اس کی سطح کی گرمی ( ۶۰۰۰) درجہ ہے ، لیکن اس کے اندر کا درجہ حرارت چالیس ملین (چار کروڑ) درجہ ہے، اور جب اس زمین نے ان گیسوں کو حاصل کرناشروع کیا جو سورج سے جدا ہوئیں تھیں تو یہ زمین سطح ارض پر ٹھنڈی ہونے لگی اور پانی جب زمین کے اس حصے سے مس ہوا جو مرتفع اور حرارتی تھا تو یہ پانی فضا کی جانب بخار کی شکل میں جانے لگا کہ جس کا درجہ قابل تصور نہ تھا پس یہ پانی اس فضا کے مقابل قرار پایا جو سورج اور زمین کے درمیان ٹھنڈی تھی اس کے بعد یہ زمین کی طرف ھلاک کنندہ طوفان کی طرح واپس ہوا، اور آہستہ آہستہ جب اس میں درجہ حرارت کم ہوا تو پانی ایک جگہ رک گیا اور کھیں سمندر کی شکل میں اور کھیں منجمد ہوکر پھاڑوںکی شکل میں ظاہر ہوا۔

اور اگر کرہ ارضیہ کے بارے میں یہ فرضیہ صحیح ہو تو پھر ذرا اس زندہ خلیہ کے بارے میں فکر کریں جس کے بارے میں کھا جاتا ہے کہ یہ زمین کے ساتھ سورج سے جدا ہوا ہے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ۶۰۰۰/ درجہ حرارت میں کس طرح باقی رہ سکتا ہے ، اگرچہ یہ خلیے غلاف شدہ ہی کیوں نہ ہوں۔

کیونکہ انسان کا درجہ حرارت ۳۷ / درجہ ہوتا ہے لیکن جب مریض ہوتا ہے تو یہ درجہ حرارت ۴۰ / درجہ تک پهونچ جاتا ہے ، اور جب پانی کا درجہ حرارت سوپر پهونچ جاتا ہے تو وہ بخار بن جاتا ہے، اور اس صورت میں ہزارواں درجہ کفایت کرے گا کیونکہ یہ درجہ ہر شے کو گیس کا درجہ بنادیتا ہے اس صورت میں کوئی بھی سخت سے سخت چیز پگھل جاتی ہے، پس اگر یہ درجہ حرارت ۶۰۰۰ / پر پهونچ جائے توپھر اس کائنات کا کیا حال ہوگا؟!!

لہٰذا علم وعقل دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ سورج کے جدا شدہ خلیہ کے ذریعہ حیات کا آغاز ہونا محال اور ناممکن ہے، لہٰذا اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک خالق حیّ ہو جو زمین پر مخلوقات کو پیدا کرے۔

چنانچہ ایک مشهور ومعروف ماھر ”غوسٹاف بونیہ“ کا یہ قول کتنا بہترین ہے:

”اگرہم نے زندہ مادہ کو خلق کیا ہے تو پھر یہ فکر کرنا کیسے ممکن ہے کہ کتنے ہی اجتماعی ،وراثتی اور پیچیدہ پیش آنے والے خصائص ”پروٹوپلازم حیّ“کے ٹکڑے میں پائے جاتے ہیں۔؟“

.....

قارئین کرام !

ان تمام باتوں کی تفصیل کے بعد ہم یھاں ایک یہ اہم سوال کرنا چاہتے ہیں:

”یہ پہلی موجود جس میں پہلے حیات نہ تھی کھاں سے آئی؟ اور کس طرح مختلف حالات میں تبدیل ہوئی؟ جبکہ اس میں پہلے کبھی حیات نہ تھی۔کیا یہ عدم سے وجود میں آگئی؟ یا مردہ مادہ سے پیدا ہوئی؟!!

اور کس طرح ایک مردہ شے سے زندہ چیز بن سکتی ہے اور وجود، عدم سے کیسے بن سکتا ہے۔؟“

اس سوال کا جواب سائنس کے پاس مفروضوں اور تخمینوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

مثلاً ایک صاحب کہتے ہیں کہ یہ پہلی مخلوق ، آسمان سے شھاب( بجلی) کے ذریعہ نازل ہوئی ہے ، یعنی جب بہت ہی دوری پر موجود ستاروں سے شھاب جداهوئے تو ان کے ذریعہ یہ زندگی وجود میں آئی۔

اس کاجواب تو خود ہمارے سوال کی طرف پلٹ رھا ہے ، یعنی ہم پھر سوال کرتے ہیں کہ یہ پہلی مخلوق ان دوردراز ستاروں میں کھاں سے آئی؟

چنانچہ ایک اور ماھرسائنس کہتا ہے کہ یہ حیات مردہ مادہ کے ذرات کی ترتیب سے وجود میں آئی ہے ، اور اس نظریہ پر ہماری دلیل یہ ہے کہ زندہ مادہ، مردہ عناصر سے وجود میں آتا ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں ہمارے اردگرد موجود پتھر ، پانی اور مٹی جیسے عناصر کے ذریعہ یہ مادہ تشکیل پاتا ہے اوریہ ذرات کاربن، ہیڈروجن، آکسیجن اور نیٹروجن " Hydrogen","Oxygen", "Carbon", "Nytrogen " ہی سے مادہ بنتا ہے چنانچہ ہم انھیں کو ترتیب دے کر دوبارہ دوسرے مادہ بناسکتے ہیں اور کبھی ان میں ”امینہ“ پروٹن ، نشویات اور سوگر کا اضافہ کرتے ہیں تو ایک نیا مادہ تشکیل پاتا ہے، اور یہ فرضیہ میں کافی نہیں ہے بلکہ اس پر کچھ تجربات کئے جانے ضروری ہیں جس میں بجلی اور شعائیں ہوتی ہیں اور جس میں مختلف قسم کی گیس ہوتی ہیں جیسے نوشادر آکسیڈ کاربن ،" CarbonDioxide " ”میٹھن“ " Methane " اور پانی کے بخارات کے فعل وانفعالات کے بعد آثار احماض امینیہ پیدا ہوتے ہیں۔

”احماض امینیہ“ (کڑوی گیس) جو ایک دودھ جیسی گیس ہوتی ہے جس کا تمام زندہ چیزوں میں ہوناضروری ہے اور جب ان احماض کو آپس میں ملایا جاتا ہے تو ایک دوسری قسم کی پروٹن بن جاتی ہے ، یھاں تک کہ ان کو آپس میں ملانے سے کروڑوں قسم کی پروٹن بن سکتی ہیں جس طریقہ سے کسی زبان کے الفابیٹ کے ذریعہ سے مختلف کلمات بنتے جاتے ہیں تاکہ ان سے مختلف مفاھیم ومعانی حاصل کریں، اور یہ نتیجہ بخش پروٹن ہمیشہ حرارت وبرودت (ٹھنڈک) روشنی اور بجلی کے لئے اہم مواد ہوتے ہیںپس یہ پرو ٹن مرکب ہوکر دوسری خارجی چیزوں کے بننے کے باعث ہوتے ہیںتب جاکے جوھرحیات کی صفت بنتے ہیں۔

جبکہ زمین کو تقریباً کروڑوں سال ہوچکے ہیں اور مختلف تجربے ہوتے رہتے ہیںاور اس مرکب ”احماض امینیہ“ کے بے مثال تجربہ ہوچکے ہیںاور یہ احماض امینیہ پانی میں اپنے جوھر کے ساتھ گھُل جاتے ہیں تاکہ پروٹن کے لاکھوں مواد کوتشکیل دے، اور ضروری ہے کہ یہ احماض امینیہ ایک مرتبہ جب بے مثال گیس ( حامض دیزوکسی ربیونیوکلئیک ) " D.N.A " سے ملتے ہیں اور اسی جز سے ”فیروس“ بنتا ہے۔

یہ تمام مفروضوں کا مجموعہ تھا جو ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔

چنانچہ ماھرین کا کہنا ہے کہ قانون صدفہ ہماری تائید کرتا ہے، جیسا کہ اگر کمپیوٹر پر بیٹھ کر ایک بندر کی بورڈ کے بٹن کو بہت ہی دقت سے دباتا چلا جائے تو کیا اس کے لکھنے سے کسی مشهور شاعر کا شعر بن سکتا ہے؟!!!ھر گز نہیں ، چاھے سالوں بیٹھ کر لکھتا رھے لیکن کبھی بھی اس کا یہ کام نتیجہ بخش نہیں ہوسکتا۔

چنانچہ ماھرین کا کہنا کہ احماض امینیہ اپنی ہیئت مخصوص " D.N.A " پر باقی رہتا ہے تب کھیں منفرد مادہ اپنے اوپر تسلط پیداکرتا ہے اور پھر یہ منفرد مادہ اپنے مخصوص طریقوں کے ذریعہ تکاثر پیدا کرتا ہے اور اس کے ذریعہ بذر حیات برقرار رہتا ہے۔

بالفرض اگر ہم جدلی طریقہ سے قبول کریں اور فرض کریں کہ مٹی اور پانی کے عناصر بغیر کسی علت کے صدفةً اور اتفاقاً ( D.N.A ) حامض کے لحاظ سے پیدا ہوتے ہیں ۔

اس کے بعد اس ( D.N.A ) سے مختلف لاکھوں چیزیں بننے کا سبب بنتا ہے۔

لیکن ان تمام چیزوں میں وہ حیات نہیں ہے جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔

پس ضروری ہے کہ ہم پلٹ کر یہ کھیں کہ اس حامض کے اجزاء بھی اتفاقاً اور صدفةً ہونے چاہئے تاکہ ان سے پروٹن وجود میں آئیں۔

اس کے بعد پروٹن بھی اتفاقاً خلیہ کے شکل میں ایجاد ہونے چاہئے۔

پھر یہ خلےے بھی اپنی ذات میں خود بخود اور اتفاقی طور پر پیدا ہوکر نباتی شکل اختیار کریں اور پھر دوسرا خلیہ انسانی شکل کو پیدا کرے۔

اس کے بعد ہم زندگی کی تمام کڑیوں کودرجہ بدرجہ ملاتے جائیں ،تو اس جادوئی کلید (کنجی)کا مطلب یہ بھی ہوگاکہ یہ بھی صدفةً اور اتفاقی طور پر پیدا ہوا ہے؟!

لیکن کیا یہ عقل میں آنے والی باتیں ہیں:

کیااتفاقی طور پر پرندے اور مچھلیوں کااپنے گھروں سے لاکھوں میل فاصلہ پر چلے جانے کے باو جود اپنے گھروں میں واپس آجانا اتفاقی ہے؟!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ مرغی کا بچہ انڈے کو توڑ کر خود بخودباھر نکل جائے!!

کیا زخم کا خود بخود ٹھیک ہوجانا یہ بھی اتفاق ہے!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ ”سورج سے جدا شدہ اجزا“ اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ ان کی حیات کا ملجاء وماویٰ سورج ہے تاکہ وہ اس کی اتباع کریں!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ جنگل اور پھاڑوں میں درخت خود بخود اگ جائیں ۔!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ”فیروس“ خلیہ کو کشف کرتا ہے اوراس سے اپنی حیات حاصل کرتا ہے۔

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ نباتات اپنے لئے ”کلوروفیل“ " Chlorophill "کشف کرتے ہیں اور اس کو استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کی حیات باقی رھے۔

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ مچھر بڑی ہوشیاری سے پانی پرتیرے اور وھاں انڈے دے اور پانی پر تیرتا رھے اور ھلاک نہ ہو۔!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ چیونٹی اپنے اندرمو جود زھر کو محفوظ رکھے اور اپنے بچوں کو دی جانے والی غذا میں اسے نہ ملائے ۔ کیا یہ اتفاق کی ناؤ ریت پر چل سکتی ہے!!

اسی طرح شہد کی مکھی اتنے منظم طریقہ سے شہد کو جمع کرتی ہے، مختلف پھولوں سے رس چوستی ہے اور اس کو شہد میں تبدیل کرتی ہے اور اس کے موم سے شمع بنائی جاتی ہے کیا یہ بھی اتفاق ہے۔!!!

اسی طرح زمین پر رینگنے والے حشرات (کیڑے مکوڑے) فضا میں موجود قوانین کو سمجھتے ہیں اور اسی کے تحت اپنی زندگی چلاتے ہیں کیونکہ بہت سے کیڑے صرف برسات کے موسم میں نکلتے ہیں ، کیا یہ بھی اتفاق ہے !!!

اسی طرح رنگ برنگے حشرات جو اپنے اندر ایسی صلاحیت رکھتے ہیں جو ان کے رنگ سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اسی طرح وہ حشرات جو بہت سی زھریلی گیس بناتے ہیں اورفضا میں چھوڑتے ہیں، کیا یہ بھی اتفاق ہے ؟!!

قارئین کرام ! اگر ہم ان تمام باتوں کو تسلیم کرلیں کہ یہ حیات بھی اتفاقی طور پر وجود میں آئی ہے تو ہم کیسے مان سکتے ہیں کہ یہ مذکورہ تمام چیزیں اتفاقی طور پر وجود میں آگئی ہیں۔!!

چنانچہ ان تمام بے ہودہ باتوںکو عقل انسانی تسلیم نہیں کرسکتی۔

اور جب مادہ پرستوں نے اپنے کواتفاق(صدفہ)کی اس کشمش میں پایا تو اس سے چھٹکارا پانے کے لئے صدفہ (اتفاق) کی جگہ ایک دوسرا لفظ رکھا اور اس طرح کھا کہ یہ ہماری حیات (جو مختلف الوان واقسام سے مزین ہے) ایک ضرورت کے تحت پیدا ہوئی جس طرح ایک بھوکا انسان غذا تلاش کرتا ہے اور مختلف غذا فراہم کرتا ہے اسی طرح ہماری زندگی میں مختلف ضروریات پیش آتی رھی اور ہمارے سامنے بہت سی چیزیں وجودمیں آتی گئیں!!۔

قارئین کرام ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ سب الفاظ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ،کیونکہ انھوں نے لفظ ”صدفہ “(اتفاق) کی جگہ ” ضرورت کے تحت “ رکھا ! ۔

یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک چھوٹا سا واقعہ بغیر کسی عقل کی کارکردگی کے ایک بہت بڑا واقعہ بن جائے؟!! لہٰذا یھاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ”ضرورت“ کو کس نے پیدا کیا؟۔

اور یہ” ضرورت“ ”لاضرورت“ سے کیسے وجود میں آئی؟!!

کیونکہ یہ سب چیزیں حقیقت کو چھپانے والی ہیں جس کا عقل انسانی اور فطرت بدیھی طور پر انکار کرتی ہیں پس معلوم یہ ہوا کہ ان تمام چیزوں کا خالق ایک مدبر اور حکیم ہے۔

پس ہم ان زور گوئی والی باتوںکو بغیر دلیل کے کس طرح قبول کرسکتے ہیں؟!!

ہم کیسے ان محالات کو قبول کرسکتے ہیں؟!! تاکہ واضح حقائق کی پردہ پوشی ہوجائے جو کہ ہماری بدیھی فطرت میں شامل ہیں اور ہم ان کا مشاہدہ کررھے ہیں۔!! اور اگر ہم ان تمام چیزوں کی بداہت کو جھٹلائیں تو پھرگویا ہم نے عقل کو بیچ ڈالا ،!! کیونکہ یہ تمام چیزیں منطقی اور عقلی بدیھیات میں سے ہیں۔ اگر ہم ان تمام چیزوں کا انکار کریں تو گویا ہم نے اپنی عقل کو بالائے طاق رکھدیا حالانکہ ہم اپنے کو بہت بڑاعاقل اور علامہ سمجھتے ہیں۔

چنانچہ علم طبیعیات کے مشهورو معروف ماھر ڈاکٹر ”کونجڈن“کہتے ہیں: ”کائنات میں موجود ہر شے خدا کے وجود ، اس کی قدرت اور اس کی عظمت پر دلالت کرتی ہے ، اور جب ہم اس کائنات کی چیزوںکو ملاحظہ کرتے ہیں تو ہمیں نعمت خدا کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا ،پس خدا ہی کی ذات ہے جس نے کائنات میں ان نعمتوں کو ہماری خدمت کے لئے خلق کیا ، لہٰذا ہم کسی مادی علمی وسیلہ سے خدا کو نہیں پہچان سکتے، لیکن ہم اپنے اندر اور کائنات کے ذرہ ذرہ میںخدا کی نشانیاں واضح طور پر دیکھتے ہیں: خلاصہ یہ کہ یہ علوم ، مخلوقات اور خدا کی قدرت کے علاوہ اور کسی چیز کا پتہ نہیں دے سکتے۔ چنانچہ خداوندعالم کا ارشاد ہوتا ہے:

( ذَلِکُمْ اللهُ رَبُّکُمْ لاَإِلَهَ إِلاَّ هو خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهو عَلَی کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ ) ( ۴۰ )

”(لوگو) وھی اللہ تمھارا پروردگار ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے تو اسی کی عبادت کرو اور ہی ہر چیز کا نگھبان ہے ۔“

( هو الَّذِی جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِینَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللهُ ذَلِکَ إِلاَّ بِالْحَقِّ یُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ) (( ۴۱ )

”وھی وہ (خدائے قادر) ہے جس نے آفتاب کو چمکدار اور ماہتاب کو روشن بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم لوگ برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلو، خدا نے اسے حکمت ومصلحت سے بنایا ہے وہ اپنی آیتوں کو واقف کار لوگوں کے تفصیل وار بیان کرتا ہے۔“

( اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَاٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجَ بِهِ مِنْ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ وَسَخَّرَ لَکُمْ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاٴَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَکُمْ الْاٴَنهَارَ وَسَخَّرَ لَکُمْ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَیْنِ وَسَخَّرَ لَکُمْ اللَّیْلَ وَالنَّهَارَ وَآتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَاٴَلْتُمُوه ) ( ۴۲ )

”خدا ہی ایسا (قادر وتوانا) ہے جس نے آسمان وزمین پیدا کرڈالے اورآسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے (مختلف درختوں سے) تمھاری روزی کے واسطے (طرح طرح کے) پھل پیدا کئے اور تمھارے واسطے کشتیاں تمھارے بس میں کردیں تاکہ اس کے حکم سے دریا میں چلیں اور تمھارے واسطے ندیوں کو تمھارے اختیار میں کردیا اور سورج چاند کو تمھارا تابعدار بنادیا کہ سدا پھیری کیا کرتے ہیں او ررات دن کو تمھارے قبضہ میں کردیا (کہ ہمیشہ حاضر باش رہتے ہیں) اور( اپنی ضرورت کے موافق) جو کچھ تم نے اس سے مانگا اس میں سے بقدر مناسب تمھیں دیا ۔۔۔“

( اٴَلاَلَهُ الْخَلْقُ وَالْاٴَمْرُ تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِین ) ( ۴۳ )

”دیکھو حکومت او رپیداکرنا بس خاص اسی کے لئے ہے۔“

____________________

[۱] سورہ ابراھیم آیت ۱۰

[۲] سورہ اعراف آیت ۴۳۔

[۳] سورہ آل عمران آیت ۱۹۳۔

[۴] سورہ ملک آیت ۳، ۴۔

[۵] نشاة الدین ص ۱۹۶،۱۹۷۔

[۶] نشاة الدین ص ۱۸۴۔

[۷] سورہ بقرہ آیت ۱۶۴۔

[۸] سورہ واقعہ آیت ۵۸،۵۹۔

[۹] سورہ واقعہ آیت ۵۸،۵۹۔

[۱۰] سورہ طارق آیات ۶تا ۸۔

[۱۱] سورہ طٰہ آیت ۳۵۔

[۱۲] سورہ روم آیت ۲۰۔

[۱۳] سورہ نحل آیت ۷۸۔

[۱۴] سورہ نور آیت ۴۵۔

[۱۵] سورہ فاطر آیت ۲۸۔

[۱۶] سورہ انعام آیت ۳۸۔

[۱۷] سورہ ملک آیت ۱۹۔

[۱۸] سورہ نحل آیات ۵ تا ۸۔

[۱۹] سورہ غاشیہ آیت ۱۷۔

[۲۰] سورہ نمل آیت ۱۸ َ

[۲۱] سورہ نمل آیت ۸۸۔

[۲۲] سورہ واقعہ آیت ۶۳تا ۶۵۔

[۲۳] سورہ واقعہ آیت ۷۱تا ۷۲۔

[۲۴] سورہ انعام آیت ۹۹۔

[۲۵] سورہ طٰہ آیت ۵۳۔

[۲۶] سورہ نمل آیت ۶۰۔

[۲۷] سورہ انبیاء آیت ۳۰ ۔

[۲۸] سورہ واقعہ آیات ۶۸تا۷۰۔

[۲۹] سورہ روم آیت ۲۴۔

[۳۰] سورہ بقرہ آیت ۱۶۴۔

[۳۱] سورہ اعراف آیت ۱۸۵۔

[۳۲] سورہ نحل آیت ۱۴ ۔

[۳۳] سورہ یونس آیت ۱۰۱۔

[۳۴] سورہ ق آیت ۶۔

[۳۵] سورہ رعد آیت ۲۔

[۳۶] سورہ ذاریات آیت ۴۷۔

[۳۷] سورہ فاطر آیت ۱۳۔

[۳۸] سورہ لقمان آیت ۱۱۔

[۳۹] سورہ فاطر آیت ۴۱۔

[۴۰] سورہ انعام آیت۱۰۲۔

[۴۱] سورہ یونس آیت۵۔

[۴۲] سورہ ابراھیم آیت ۳۲تا۳۴۔

[۴۳] سورہ اعراف آیت۵۴۔

مادہ ہے یا خدا؟

اس جگہ اگر کوئی یہ کھے کہ ان کا پیدا کرنے والا مادہ ہے جیسا کہ بعض لوگ اس نظریہ کے قائل ہیں تو ہم ان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ مادہ کیسے پیدا ہوا ؟اور اس کو کس نے پیدا کیا؟

ہمارے اس سوال کے جواب میں اھل مادہ کہتے ہیں:

”مادہ چونکہ پہلے سے موجود تھااور وہ ازلی ہے لہٰذا اس کے پیدا ہونے اوراس کو پیدا کرنے والے کی ضرورت ہی نہیں “

قارئین کرام ! آج کل کے سائنس نے اس نظریہ کو بہت ہی آسان طریقہ سے ردّ کیا ہے ، کیونکہ سائنس نے یہ بات واضح کردی ہے کہ یہ کائنات ازلی نہیں ہوسکتی، کیونکہ نظام کائنات کا دستور یہ ہے کہ گرم اجسام سے گرمی سرد اجسام کی طرف جاتی ہے اورذاتی طور پر اس کے برعکس نہیں ہوتی، مثلاً گرمی ٹھنڈی چیزوں سے گرم چیزوں کی طرف منتقل ہو، اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کائنات میں تمام اجسام کا درجہ حرارت متعادل رہتا ہے اور اس میں معین طاقت جذب ہوتی ہے ،اور اگر ایک روز ایسا آجائے کہ جب اس میں کیمیاوی اور طبیعی کارکردگی نہ ہو، تو اس کائنات میں کوئی شی بھی زندہ باقی نہ بچے، جبکہ ہم دیکھ رھے ہیں کہ اس کائنات میں حیات باقی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں مختلف قسم کی کارکردگی ہورھی ہے ، لہٰذا ہم یہ نتیجہ حاصل کرتے ہیں کہ یہ کائنات ازلی نہیں ہے اور اگر اس کو ازلی مان لیا جائے تو اس کائنات کی تمام موجودات کبھی کی ختم ہوگئی ہوتیں۔

چنانچہ آج سائنس نے ایسے آلات بنالئے ہیں جن کی وجہ سے زمین کی عمر کا پتہ لگایا جاسکتا ہے ، لیکن پھر بھی اس کے نتائج تخمینی ہوتے ہیں لیکن ان سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ کائنات کروڑوں اور اربوں سال پہلے ایجاد ہوئی ہے، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ازلی (ہمیشہ سے)نھیں ہے اور اگر ازلی ہوتی تو اس میں کوئی بھی عنصر نہ پایا جاتا، چنانچہ قوانین ”ڈینا میکا حراری“ " Thermo Dynamics "کا قانون دوم بھی اسی بات کی تصدیق کرتا ہے۔

لیکن وہ نظریہ جوکہتا ہے کہ” یہ کائنات دوری“ ہے یعنی پہلے یہ کائنات سُکڑی ہوئی تھی ، پھر پھیل گئی اور اس کے بعد پھر سُکڑ ے گی اوریہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔

لیکن یہ نظریہ بھی درست نہیں ہے اور نہ ہی اس کی دلیل قابل قبول ہے نیز نہ ہی اس کو علمی نظریہ کھا جاسکتا ہے، کیونکہ ”قوانین ڈینا میکا حراری“ " Thermo Dynamics " ، دلائل فلکی اور جیولوجی" Geological " ان تمام چیزوں سے مذکورہ نظریہ کی تائید نہیں ہوتی بلکہ یہ چیز اس جملہ کی تائید کرتی ہے کہ ”زمین وآسمان کو ابتداء میںخداوندعالم نے خلق کیا ہے“:

”لقد خلق الله فی البدایة السماوات والارض“

(بے شک خدا نے ہی زمین وآسمان کو ابتداء میں خلق کیا ہے۔)

اسی طرح یہ بے عیب سورج اور چمکتے ہوئے ستارے اوریہ زمین اپنی تمام زندگی کے اسباب کے ساتھ بہترین دلیل ہے کہ اس کائنات کی اصل واساس ایک خاص زمانہ سے مربوط ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بعد میں حادث ہوئی (یعنی ازلی اور ہمیشہ سے نہیں ہے۔)

اسی طرح علم کیمیا (کیمسٹری)بھی دلالت کرتا ہے کہ تمام مادے زوال اور فنا کی طرف بڑھ رھے ہیں چاھے ان کی رفتار تیز ہو یا کم، لہٰذا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادہ ہمیشہ باقی نہیں رھے گا ،اور نہ ہی یہ مادہ ازلی تھا پس اس مادہ کی بھی کوئی ابتداء تھی کہ جب یہ وجود میں آیا ، چنانچہ اس بات پر علم کیمیا اور سائنس بھی دلالت کرتے ہیںکہ مادہ کی ابتدا ء تدریجی نہیں بلکہ یہ اچانک اور یکایک پیدا ہوا ہے ،لہٰذا سائنس کے ذریعہ اس کے پیدا ہونے کا وقت معین کیا جاسکتا ہے ، تو پھر ان تمام چیزوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ عالَمِ مادی مخلوق ہے اور یہ جب سے خلق ہوا ہے تو اسی وقت سے خاص قوانین کے تحت ہے اور کائنات کے قوانین کے ساتھ محدود ہے جس میں کوئی اتفاقی عنصر نہیں پایا جاتا۔

قارئین کرام ! تقریباً سوسال پہلے روس کے ایک ماھر ”مانڈلیف“ نے ایسے کیمیاوی عناصر مرتب کئے جو ذرات کے وزن کو ترتیب دوری کے لحاظ سے بڑھادیتے ہیں ،اور اس نے ایسے عناصر کا پتہ لگایا ہے جن کے ذریعہ مادہ کی ایک نئی قسم ایجاد ہوتی ہے جس کی صفات تقریباً ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی ہیں، تو کیا ان تمام باتوں کو دیکھ کر یہ کھا جاسکتا ہے کہ یہ کائنات تصادفی اور اتفاقی طور پر پیدا ہوگئی ہے؟!!

بتحقیق ”مانڈالیف“ کے کشفیات کو ”مصادفہ دوری“ کا نام نہیں دیا جاسکتا، البتہ اسے”قانون دوری“ " Periodic Law "کھا جاسکتا ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ان کو مصادفہ اور اتفاق کا نام دیدیں جیسا کہ ماھرین سائنس کا درج ذیل نظریہ :

عنصر ”الف“ ،عنصر ”ب“ کے ذریعہ متاثر ہوتا ہے لیکن عنصر ”الف“ ،عنصر ”ج“ کے ذریعہ متاثر نہیں ہوتا۔؟!

نھیں ھرگز نھیں! کیونکہ سائنسدانوں کا یہ ماننا ہے کہ اس کائنات کے تمام عنصر ”الف“ ،وعنصر ”ب“ میں قوت جاذبہ اور رجحان ہوتا ہے لیکن یہ طاقت عنصر”ج“ میں نہیں ہوتی۔

چنانچہ ماھر سائنسداںافراد کا ماننا ہے ھلکے معادنی ذرات اور پانی کے درمیان سرعت تفاعل معادنی ذرات کے اوزان کی زیادتی کی وجہ سے بڑھتی رہتی ہے ، اس حال میں کہ عناصر ”ھالوجینیہ “ جو جدا ہوئے ہیں ان کی گردش ،مذکورہ گردش کے بالکل مخالف ہوتی ہیں، اور آج تک بھی اس مخالفت کا سبب کسی کو معلوم نہ ہوسکا، اس کے باوجود بھی کسی بھی شخص نے اس چیز کو محض مصادفہ کا نام نہیں دیا ہے، اور نہ کسی نے یہ گمان کیا ہے کہ ان عناصر کی مذکورہ گردش کبھی کبھی ایک دو مادہ کے بعد معتدل ہوجاتی ہے، یا زمان ومکان کے اختلاف کی بناپر معتدل ہوجاتی ہے، اور نہ ہی کسی کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ تمام ذرات بنفسہ کبھی کبھی اپنے تفاعل سے خارج ہوجاتے ہیں، یا برعکس فعالیت کرنا شروع کردیتے ہیں یا بغیر کسی سوچے سمجھے اپنی فعالیت انجام دیتے ہیں۔

سائنس نے ترکیب ذرات کوکشف کیا ہے کہ کیمیا کی وہ فعالیت جو ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور ان کی خاصیت کو ملاحظہ کرتے ہیں یہ سب کے سب، خاص قوانین کے تحت ہوتے ہیں جن میں تصادفی اور اتفاقی کوئی چیز نہیں ہے۔

تاکہ ہم نامعلوم ذرات کے ذریعہ اس واضح نظریہ کو اخذ کریںکہ ہم یہ تصور کریں کہ اگر ”ھیڈروجن“ " Hydrogen "کے کروڑوں ذرات ایک جگہ جمع ہوجائےں تو ایک ملی میڑ ( m.m )جگہ میں جمع ہوجاتے ہیں۔

بالفرض اگر ہم پیاسے ہو ں اور ہم پانی پئیں تو جو پانی ہم پیتے ہیں تو اس میں کچھ ریت کے ذرات ہوتے ہیں کیونکہ سمندر اور زمین میں ہونے کی وجہ سے پانی میں مٹی کے ذرات پائے جاتے ہیں۔

اور کبھی کبھی یہ ذرات بہت ہی باریک باریک پتھر سے تشکیل پاتے ہیںجو بالکل ذرہ کے برابر ہوتے ہیں۔

اور یہ ذرہ ایک نوات ( بہت ہی باریک پتھر )سے وجود میں آتا ہے کیونکہ یہ نوات باریک پتھر سے بنتے ہیں، چنانچہ ان میں کے بعض پروٹن ہوتے ہیںاور بعض نیوٹرن ، جبکہ ان کے اردگرد ایک بعید فاصلہ پر الکٹرون گردش کرتی ہے۔

چنانچہ سائنسدانوں نے اس نظام میں بہت سی چیزوں کو کشف کیا ہے جن کی اب تک ۳۰/ قسموں کاپتہ چل چکا ہے جن میں سے بعض وہ ہیں جن کو ہم نے ابھی ذکر کیا ہے جیسے ”پروٹن“، ”نیوٹرون“ اور ”الکٹرون“۔ " Proton","Neutron", "Electron "۔

اور ماھرین کا کہنا ہے کہ ”الکٹرون“ کے چکّر ایک سیکنڈ میں ۷ بلین " Billion " (ملین در ملین) ہوتے ہیں۔

جبکہ بعض ذرات ایسے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے میں جذب ہوجاتے ہیں اور بعض ذرات کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں چونکہ ذرات کے بھی کچھ قوانین ہیں جو انسان میں شادی اور طلاق کے قوانین سے دقیق تر ہیں۔

اسی طرح ہم جس نمک کو مختلف غذاؤں میں استعمال کرتے ہیں اس کے دو جز ہوتے ہیں جو ایک ساتھ رہتے ہیں اور اگر اس کے یہ دو جز ایک ساتھ نہ ہوں تو پھر ان میں کا ہر ایک جزء جسم میں فساد اور خرابی ایجاد کردیتا ہے، کیونکہ نمک میں دو درج ذیل چیزیں ہوتی ہیں:

۱ ۔”کلورائیڈ“ " Chloride " جو ایک قسم کی گیس ہوتی ہے جس کو اگر کوئی زندہ حیوان سونگ لے تو وہ موت کے گھاٹ اتر جائے۔

۲ ۔” سوڈیم“ " Sodium "جو ایک نرم عنصر ہوتا ہے جو پانی کو خشک کردیتا ہے اور اس کے اندر سے دھواں اور شعلے نکلتے ہیں یہ بھی اگر کسی کے بدن میں داخل ہوجائے تو وہ بھی مرجائے ، لیکن یھی دونوں زھریلی اور خطرناک چیزیں جب آپس میں مل جاتی ہیں تو نمک بن جاتاھے جس کے بعد نہ نقصان دہ ہوتا ہے اور نہ شعلہ ور۔

اسی طرح پانی کے بھی تین اجزاء ہوتے ہیں جس طرح سے اسلامی قوانین کے مطابق انسان کو یہ اختیار ہے کہ وہ ایک، دو تین یا چار بیویوں سے (ایک وقت میں) شادی کرسکتا ہے اسی طرح ذرات کا قانون بھی ہے پس جب ”کلورائیڈ“ ”سوڈیم“ سے ملتا ہے تو ہمارے لئے نمک بن جاتا ہے گویا یہ کلورڈ ایک ذرہ سے ملا ہے، اسی طرح جب آکسیجن،" Oxygen "، ہیڈروجن " Hydrogen " کے دو ذروں سے ملتا ہے تو پانی بنتا ہے، اور جب ”نیٹروجن“ تین ذروں سے ملتا ہے تو ”امونےا“نامی گیس بنتی ہے (جس کا مزہ منھ جلانے والا ہوتا ہے جو بے رنگ اور تیز مزہ رکھتی ہے) اور جب ”کاربن“ " Carbon " ہیڈروجن " Hydrogen "کے چار ذروں سے ملتا ہے تو ”میٹھن“ " Methane "نامی گیس بنتی ہے۔

اسی طرح بعض عناصر ایسے ہیںجو انفرادی طور پر رہتے ہیںاور ان میں کے بعض ذرات کے نام اس طرح ہیں: ”نیون“ اور ”راڈون“(جو دونوںگیس ہیں)

قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ کیا کہ عالم ذرات بھی کتنا عجیب ہے جس میں مختلف فائدہ مندجزئیات ہوتے ہیں اور یہ ہماری زمین پر اس طرح ایک دوسرے سے مرتبط ہیں کہ انسان تصور کرنے سے قاصر ہے ، بس ایسے سمجھ لیجئے کہ جس طرح کسی بھی زبان کے حروف (جیسے عربی زبان میں حروف تہجی کی تعداد ۲۸/ ہے ) کو ایک دوسرے سے ملاتے جائےں، ان سے کلمات بنتے جائیں تب آپ دیکھیں کہ کتنے عنصر بنتے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ لاکھوں او ر کروڑوں کی تعداد ہوجائے گی۔

مثال کے طور پر یھی تین چیزیں :

۱ ۔ کاربن۔" Carbon " ۔

۲ ۔آکسیجن" Oxygen " ۔

۳ ۔ ہیڈروجن" Hydrogen "۔ کو اگر ایک دوسرے سے ملائیں تو لاکھوں کیمیائی مرکب تیار ہوسکتے ہیں جن میں سے ہر ایک کی الگ الگ خاصیتیں ہونگی۔

جیسا کہ ماھرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے مختلف پروٹن " Protein "کی اتنی قسم ہیں جن کی تعداد دسیوں لاکھ تک پهونچتی ہے جبکہ پروٹن" Protein "، کاربن" Carbon "، ہیڈروجن" Hydrogen " اور آکسیجن،" Oxygen " کے بغیر وجود میں نہیں آتی۔اور کبھی کبھی پروٹن کے ساتھ ”فاسفور " Phosphore " اور ”کاربرائڈ“" Carbide "هوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔

اسی طریقہ سے ہمارے لئے حیات کے تمام جزئیات واضح ہوتے جاتے ہیں اوریہ جزئیات حیات اسی طریقہ سے جاری وساری ومتحدو منفصل (جدا) ہوتے جاتے ہیں، چنانچہ اس زندگی کے تمام جزئیات کے ادوار اور اس کے اتحاد وانفصال کی تمام صورتیں ایک معین اور معلوم مقدار کے مطابق رواں دواں ہے نہ اس میں کمی ہوتی ہے نہ زیادتی، کیونکہ ھرحالت کے لئے ایک قطعی قانون اور محکم نظام ہوتا ہے ۔

کیا کوئی صاحب عقل اور مفکر انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ عقل وحکمت سے خالی مادہ اپنے آپ کو خود بخود اچانک وجود میں لے آئے؟! یا یہ مجرد مادہ پہلے اس کائنات کے قوانین ونظام کا موجداور پھر ان قوانین کو اپنے اوپر لاگوبھی کردے یعنی پہلے ان قوانین کو اس مادہ نے ایجاد کیا اورپھر یہ مادہ ان قوانین کے ماتحت ہوجاتا ہے؟!!

بلا شبہ ہر صاحب عقل کا جواب یھاں نفی میں ہوگا، بلکہ مادہ جب طاقت میں تبدیل ہوتا ہے یا مادہ میں طاقت آتی ہے تو یہ تمام چیزیں معین قوانین کے تحت ہوتی ہیں، اور وہ مادہ جو وجود میں آیا ہے وہ بعد میںان قوانین کا محکوم ہوتاھے یعنی اس پر معین قوانین لاگو ہوتے ہیں۔

اور جب ہمارا یہ مادی عالم اپنے جیسا( عالم) خلق کرنے یا ایسے قوانین تعین کرنے سے، (جو اس کے زیر اثر ہوں)عاجز ہے تو پھر ضروری ہے کہ اس عالم کی خلقت ایک ایسے موجود کے ذریعہ وجود میں آئے جو مادہ کے علاوہ ہو۔

چنانچہ ہماری اس بات کی تائید قوانین حرارت کرتے ہیں، اور ہم انھیں کے ذریعہ طاقت میسورہ اور طاقت غیر میسورہ کے درمیان فرق محسوس کرتے ہیں،اور بتحقیق یہ بات ظاہر ہے کہ جب کوئی بھی حرارت متغیر ہو توطاقت میسورہ کا ایک معین جز طاقت غیر میسورہ میں تبدیل ہوجاتا ہے، جبکہ یہ بات بھی واضح ہے کہ طبعیات میں یہ تغییر و تبدیلی اس کے برخلاف نہیں ہوتی،اور یہ” ڈینا میکا حرارتی قوانین“ " Thermo Dynamics "کا دوسرا قانون ہے۔

اور جب یہ بات طے ہوگئی کہ مادہ ازلی نہیں ہے بلکہ حادث ہے (جیسا کہ تفصیل گذر چکی ہے) تواس کے لئے کسی محدث کا ہونا ضروری ہے،کیونکہ کوئی بھی چیز اپنے کو پیدا نہیں کرسکتی ،بلکہ یہ بات عقلی طور پر محال ہے کہ کوئی شے اپنی موجد ہو۔

پس نتیجہ یہ نکلا کہ مادہ کا خالق اور موجد خداوندعالم کے علاوہ کوئی دوسر انھیں ہوسکتا۔

صُدفہ نظریہ کے دلائل اور اس کی ردّ

اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ” تطورمادہ“ (حرکت مادہ) بر بناء صُدفہ ہے،تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ مصادفت (اتفاق) موجودات عالم کے لئے بمنزلہ سبب ہے، اور کوئی بھی عقل اس بات کو قبول نہیں کرسکتی۔

چنانچہ علم طبیعات کے ماھر ڈاکٹر ”نوبلٹشی“کہتے ہیں:

”میں کبھی بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ صرف مصادفت (اتفاق) الکٹرون پہلے پروٹن کے لئے مظھر ہو یا پہلے ذرات، یاپھلے احماض الامینیةیا پروٹوپلازم الاول " Protoplasm ۱st " یا بذرة اولیٰ یا عقل اول کے لئے مظھر ہو !! بلکہ میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کا مظھر اور مفسر واجب الوجود اللہ کی ذات ہے جو کائنات کی تمام اشیاء پر محیط ہے۔

قارئین کرام ! مصادفہ اور احتمال کا نظریہ ریاضی " Mathe matical " لحاظ سے تفصیلی طور پر گذر چکاھے ، جس کی بنا پر ہم بعض چیزوں کے بارے میں اتفاقی وجودکے قائل ہوئے کہ جن کی تفسیر اس کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتی لیکن مذکورہ بحث کے مطالعہ سے اس بات پر قادر ہوجاتے ہیں کہ ہم ان اشیاء کے درمیان اتفاقی اور غیر اتفاقی اشیاء کے درمیان فرق کرلیں، لہٰذا اب ہم یھاں پروہ بحث بیان کرتے ہیں جس میں مادہ کو منشاء حیات قرار دیا گیاھے۔

چنانچہ بلا شبہ یہ بات طے شدہ ہے کہ اساسی مرکبات کے پروٹن" Protein " تمام زندہ خلیے " Cells "پانچ عناصرسے مرکب ہوتے ہیں:

۱ ۔ کاربن" Carbon "۔

۲ ۔ ہیڈروجن" Hydrogen "۔

۳ ۔ نیٹروجن" Nytrogen "۔

۴ ۔ آکسیجن،" Oxygen " ۔

۵ ۔کبریت( سلفور)" Sulfur "

اور پروٹن کے ایک جز میں ۰۰۰’۴۰ ذرات پائے جاتے ہیں، اور اب تک سائنس نے ۱۰۲/ عناصر کا پتہ لگایا ہے توکیا ان کی تقسیم ایک اتفاقی اور تصادفی ہے،اورجب یہ پانچ عناصر ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو پروٹن کا ایک جز بنتا ہے ، لہٰذا جب اس پروٹن کے ایک جز کے لئے اتنا دقیق حساب درکار ہے تو اس مادہ کے لئے جو تمام چیزوں کا لازمہ ہے اس میں ان ذرات کا حساب کس قدر دقیق ہونا چاہئے۔

جیسا کہ سویسی ریاضی داں ”ٹشالزیوجن“ نے ا ن تمام اسباب کا حساب وکتاب پیش کیا ہے، چنانچہ وہ کہتا ہے کہ اس کائنات کا صدفةً اور اتفاقی پیدا ہونے کا احتمال اربوں اور کھربوں میں سے صرف ایک احتمال ہے ، کیونکہ اس نے اس طرح حساب کیا ہے کہ اگر عدد ۱۰/ کو ۱۰ میں ۱۶۰/ مرتبہ گنا کیا جائے تو اربوں کھربوں اور پدم وغیرہ سے بھی بڑی رقم بنی گی جس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے تو اس رقم میں سے صرف ایک احتمال پایا جاتا ہے اور پھر کائنات کے لئے مادہ کی آزمایش کے لئے ملیونوں بار آزمائش کی ضرورت پڑی گی کیونکہ صرف زمین پر موجود پروٹن کے ایک جز کے لئے اربوں کھربوں سال کی ضرورت پڑے گی جس کا حساب مذکورہ دانشمند نے اس طرح کیا کہ عدد ۱۰ کو ۱۰ میں ۲۴۳ بار گنا کیا جائے تو یہ رقم تو گذشتہ رقم کے لاکھوں گنا ہوجائے گی جس کو بیان کرنے کے لئے انسان کے پاس الفاظ نہیں ہے ، مطلب یہ ہے کہ ان تمام حساب وکتاب کے پیش نظر اس کائنات کو اتفاقی کی پیدا وار کہنے کی کوئی صورت نہیں ہے، کیونکہ زمین کی پیدائش کا اندازہ لگایا لیا گیا ہے لیکن اس اعتبار سے ہزاروں برابر سال درکار ہیں تاکہ صرف زمین پر موجودات اس اعتبار سے پیدا ہوں۔

اور اگر ہم مذکورہ قاعدہ سے تھوڑا تنزل کریں اور ”ھیموغلوبین“ " Hemogbobin " کے ذرات کو دیکھیں جو کہ خون میں لال رنگ کے ہوتے ہیں (جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ پروٹن" Protein " کی ترکیب کا سب سے کم درجہ ہے) تو ان میں ”کاربن“ " Carbon "کے ۶۰۰/ متحد ذروں سے بھی زیادہ پائیں گے جن میں ہیڈروجن " Hydrogen "کے ۱۰۰/ ذروں سے کم نہیں ہوتے اور نیٹروجن کے ۲۰۰/ ذروں سے زیادہ ہوتے ہیں اسی طرح آکسیجن،" Oxygen " کے بھی ۲۰۰/ ذروں سے زیادہ ہوتے ہیں یھاں تک کہ انسان میں ۲۵/ ٹریلین (۲۵,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,)) خون کے دائرے ہوتے ہیں۔

اسی طرح علم کیمیا کے ماھر ڈاکٹر” بوھلڑ “ کہتے ہیں :

اورجس وقت انسان، قوانین مصادفہ (اتفاقی نظریہ) کو ملاحظہ کرتا ہے تاکہ اس بات کا اندازہ لگائے کہ کائنات کے کسی ایک پروٹن کے کسی ایک جز کا اتفاقی ہونا کھاں تک درست ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی عمر تقریباً تین بلین(ملیون در ملیون) (۳,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,) سال یا اس سے بھی زیادہ ہے لیکن اس طویل مدت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کائنات اتفاقی نہیں ہے۔

قارئین کرام ! مذکورہ باتوں کے پیش نظر یہ بات ثابت ہے کہ یہ پروٹن " Protein " زندگی دہندہ کیمیاوی مواد ہیں اور ان میں زندگی نہیں پائی جاتی مگر جب تک ان میں وہ عجیب وغریب راز ودیعت نہ کیا جائے جس کی حقیقت کو ہم نہیں پہچانتے۔

بتحقیق اساسی مواد میں جن میں" Hydrogen","Oxygen","Carbon ", کے ساتھ کچھ عناصر نیٹروجن اور دیگر عناصر پائے جاتے ہیں تو ان کے لئے ملیونوں ذرات پائے جاتے ہیں تب ایک چھوٹا سا مواد بنتا ہے ، اور جب ہم اس سے بڑے جسم والے مواد کو دیکھتے ہیں تو اس ذرات کی بنا پر مصادفہ (اتفاقی) نظریہ کا بہت کم احتمال باقی بچتا ہے جس کو عقل انسانی سوچنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتی اور اس کو ماننے سے انکار کردیتی ہے ۔

چنانچہ مذکورہ گفتگو کے پیش نظر ”علوم اکاڈمی نیویورک“ کے صدر استاد ”کرس موریسن“ وضاحت کرتے ہیں:

”فرض کریں کہ آپ کے ایک تھیلے میں پتھر کے ۱۰۰ عدد ٹکڑے ہیں جن میں ۹۹/ کالے ہیں اور ایک سفید ہے،اور ان کو آپس میں ملالیںاس کے بعد اگر آپ تھیلے میں ھاتھ ڈال کر ان میں سے سفید پتھر نکالنا چاھیںتو اس سفید پتھر کے نکلنے کا احتمال ایک فیصد ہے، اسی طرح اگر آپ اس کے بعد دوبارہ پتھر نکالنا شروع کریں تو بھی سفید پتھر کے نکلنے کا احتمال ایک ہی فیصد رھے گا لیکن اگر اسی کام کو دومرتبہ لگاتار نکالیں تو اس کا احتمال دس ہزار میں سے ایک ہے اور اگر تیسری مرتبہ لگاتار نکالنا چاہیں تو اس کا احتمال دس لاکھ میں سے ایک ہے، اور اگر اس کے بعد اس کام کو چار بار لگاتار نکالیں تو رقم زیادہ ہوجائے گی، کیونکہ ہر بار اس عدد کو اسی میں گنا کیا جائے گا، مثلاً ۱۰۰ گنا ۱۰۰ دس ہزار ہوتے ہیں اسی طرح اگر تین بار لگاتار نکالنا چاھیں تو دس ہزار دس ہزار میں گنا کیا جائے گا جس سے دس لاکھ بن جائے گا، تو جتنی مرتبہ میں آپ اس سفید پتھر کو نکالنا چاھیں تو اس عدد کو اسی میں گنا کرتے چلے جائیں گے ، اور اس سفید پتھر کے نکلنا کا چانس گھٹتا چلا جائے گا۔

چنانچہ اس طریقہ کار سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے قارئین کو علمی اورواضح طریقہ سے ان دقیق حدود کو بیان کریں جن کے ذریعہ زمین پر زندگی بسرکرنا ممکن ہے اور حقیقی برھان کے ذریعہ زندگی حقیقی کے تمام مقومات کو ثابت کریں اور یہ بتائیں کہ کسی بھی وقت میں کوئی ایک ستارہ صرف صدفہ اور اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوا ہے۔

کیونکہ جب ہم عالم مادی کی طرف دقت سے دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا ذرہ اور بڑے سے بڑاایٹم ، ان میں خاص قوانین اور حساب وانضباط پایا جاتا ہے۔

یھاں تک کہ الکٹرون بھی ایک مدار سے دوسری مدار کی طرف نہیں جاتے جب تک کہ وہ ان کو اس طرح کی مساوی طاقت نہ مل جائے تاکہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ ہوجائے، گویا ایک مسافر کی طرح ہے کہ جب تک اس کو زاد راہ نہ دیا جائے وہ سفر نہیں کرسکتا۔

چنانچہ ستاروں کی پیدائش اور ان کی موت کے بھی خاص قوانین اور اسباب ہیں۔

ستاروں کے گھومنے میں طاقت متعادل ہے۔

اسی طرح مادہ ایک طاقت میں تبدیل ہوتا ہے اور سورج کے جسم کو نور معادلة کی طرف روانہ کرتا ہے۔

اسی طرح نور کے لئے بھی ایک معین رفتار ہے۔

اسی طرح ہر موج کے لئے طول ہوتا ہے اور حرکت کرنے والی طاقت بھی اور اس کی معین رفتار بھی۔

جیساکہ ہر معادن کے لئے کچھ ایسے مقناطیسی واضح اجزاء وخطوط ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے یہ معادن گردشی سسٹم میں قابل شناخت ہیں۔

اسی طرح ہر معدن اپنی خاص مقدار میں ہوتا ہے اس میں گرمی او ر سردی خاص مقدار میں ہوتی ہے اسی طرح ہر معدن کے لئے ضخامت اور بدن اور خاص وزن ہوتا ہے۔

چنانچہ ”اینش ٹن“ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہر معادن کے جسم اور اس کی رفتار میں خاص تناسب ہے ، اسی طرح زمانہ اور نظام حرکت جو ایک متحرک مجموعہ ہے اس میں اور زمان ومکان میں رابطہ پایا جاتا ہے۔

جس طرح بجلی بھی خاص قوانین کے تحت پیدا ہوتی ہے۔

اسی طرح زلزلہ جس کے بارے میں کھا جاتا ہے کہ یہ بے قانونی کی وجہ سے حادث ہوتا ہے لیکن یہ بھی ایک خاص نظام کے تحت ہوتا ہے۔

اسی طرح کرہ زمین کا حجم اور اس کی سورج سے دوری ، اسی طرح سورج کی گرمی اور اس کی شاعیں جن کی وجہ سے مختلف چیزوں کو حیات ملتی ہے ، اسی طرح زمین کا اوپری حصہ، نیزپانی کی مقدار ، اور ”ڈائی آکسائیڈ کاربن ثانی“" Carbon Dioxide "اسی طرح نایٹروجن کا حجم ، اور انسان کی پیدائش اور اس کا زندگی بھر باقی رہنا، یہ تمام کی تمام (کسی کے )ارادے اور قصد پر موقوف ہیںاور جیسا کہ معلوم ہوا ہے کہ یہ تمام چیزیںدقیق اور باریک حساب کے تحت ہوتے ہیں ،توکیا ان سب کا اتفاقی طور پر پیدا ہونا ممکن ہے؟!!

لیکن مادی لوگوں نے اتفاقی نظریہ کو ثابت کرتے ہوئے کھا ہے:

”بالفرض اگر حروف ابجد سے ایک صندوق بھرا ہوا ہو جس کی ترتیب وتنظیم کو لاکھوں اور کروڑوں مرتبہ لاتعداد صدیوں میں انجام دیا گیا ہو ، اس صورت میں کوئی مانع پیش نہیں آتا کہ ہم ایک منظوم قصیدہ کے نظم ونسق وترتیب کو صرف ایک دفعہ میں جدا کردیں، چنانچہ اس صورت میں قصیدہ کے حروف کی دوبارہ ترتیب میںصرف ہم کو ایک عمل کرنا پڑے گا اور وہ عمل وھی ہے جو ہم نے قصیدہ کی ترتیب وتنظیم کے جدا کرنے میں انجام دیا تھا، پس ترتیب جدا کرنے میںہم کو صرف ایک عمل (مصادفت)کے علاوہ اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوئی۔

اسی طریقہ سے ہمارا یہ عالم مادی جس کے بارے میں بہت سی ممکنہ مصادفات (اتفاقات) ہماری عقل میں آسکتی ہیں چنانچہ گذشتہ مثال کی طرح ہم عالم مادی میں بھی یھی طریقہ اپنا سکتے ہیں یعنی عقل اس بات سے منع نہیں کرتی کہ ہم اس نظام میں متعدد پائے جانے والے اتفاقات میں سے ایک اتفاق کو جدا کرلیں، اور یہ عالم مادہ چاھے عالَم جماد ہو یا عالم حیات۔“

لیکن ان کے قول کو ردّ کرنے کے لئے مذکورہ مثال کی تحلیل کرنا ہی کافی ہے، جس میں چند احتمالات پائے جاتے ہیں:

۱ ۔سب سے پہلے ہمارے پاس ایسے حروف ہونا ضروری ہے جن سے قصیدہ کھا جاسکتا ہو، ان میں سے نہ ایک حرف کم ہو اور نہ زیادہ۔

۲ ۔ ان حروف کومنظم ومترتب کرنے والی طاقت کا ہونا بھی ضروری ہے۔

۳ ۔ اس طاقت کا باقی رہنا تاکہ نظم وترتیب ہوتی رھے اور بیچ میں متوقف نہ ہو۔

۴ ۔ ایسی بافہم قوت کا ہونا ضروری ہے جو قصیدہ تمام ہونے پر تنظیم وترتیب کی حرکت کو موقوف کردے۔

چنانچہ ان چاروں احتمالات میں ان کے دعویٰ کو باطل کرنے والی دلیل موجود ہے۔

پھلے فرضیہ میں ہم یہ سوال کریں گے کہ مذکورہ حروف جن کو ترتیب دیا گیا کس طرح پیدا ہوئے؟ اور مادہ مختلف اجزاء میں کس طرح تقسیم ہوا اور اس طرح کے نتائج کیسے برآمد ہوئے؟ اس کے بعد اس تقسیم کے لئے کس طرح اتحاد کی قابلیت پیدا ہوئی؟!

دوسرے فرضیہ میں ہم یہ سوال کریں گے :

وہ کونسی طاقت ہے کہ جس کے تحت یہ ترتیب وتنظیم انجام پائی اور کیا یہ عقلی طور پر صحیح ہے کہ یھی حروف بذات خود اس بات کی صلاحیت رکھتے ہوں کہ وہ خود بخود محرک ہوکر کوئی قصیدہ بن جائےں؟

تیسرے فرضیہ میں ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ حروف کے درمیان ایک قوت محرکہ پائی جاتی ہے جو تنظیم وترتیب کاکام انجام دیتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ کونسی طاقت ہے جو اس قوت محرکہ کو اثنائے حرکت میں رکنے نہیں دیتی، کیا اس قوت محرکہ کے پاس اس حرکت کو مسلسل جاری رکھنے کا ادراک پایا جاتا ہے؟!

چوتھے فرضیہ میں ہمارا سول یہ ہے کہ وہ طاقت کونسی ہے جس نے اس قصیدہ کے تمام ہونے پر اس قوہ محرکہ کے استمرار کو روک دیا،اور پھریہ قوت کیوں اس کام کو مسلسل جاری رکھنے سے متوقف ہوگئی؟!

( إِنَّ اللهَ یُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ اٴَنْ تَزُولاَوَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ اٴَمْسَکَهُمَا مِنْ اٴَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إِنَّهُ کَانَ حَلِیمًا غَفُورًا ) ( ۳۹ )

”بے شک خدا ہی سارے آسمان اور زمین اپنی جگہ سے ہٹ جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر (فرض کرو کہ) یہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو پھر اس کے سوا انھیں کوئی نہیں روک سکتا بے شک وہ بڑا بردبار (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔“

قارئین کرام ! گذشتہ مطالب کے پیش نظریہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مذکورہ نظریہ کو نہ تو منطق قبول کرتی ہے اور نہ ہی عقل تسلیم کرتی ہے،چنانچہ یہ تمام احتمالات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ایک ایسی قوت کا ہونا ضروری ہے جو ازلی ، ابدی ، ہمیشگی اور صاحب عقل ہو،

اور اسی نے اس عظیم کائنات کو بغیر کسی اضطراب و اتفاق کے مرتب و منظم طریقہ سے خلق کیا ہے ۔

ہم نظریہ صدفہ کے باطل ہونے کے سلسلے میں مزید عرض کرتے ہیں:

اگر ہم بدون حیات مادہ میں حیات کا تصور کریں تو ہماری عقل دوچیزوں میں سے ایک چیز کو قبول کرتی ہے اور اس میں کسی تیسری چیز کا تصور نہیں :

۱ ۔ یا تو حیات مادہ کی خصوصیات اور لوازم میں سے ہے تو پھر اس صورت میں حیات کی خلقت کے لئے خالق مرید کی کوئی ضرورت نہیں !

۲ ۔ یا پھر حیات کا کوئی خالق ہے۔

پس اگر کوئی یہ کھے کہ حیات اورزندگی مادہ کی خاصیتوں میں سے ہے تو ہم اس سے یہ کہیں گے کہ اس صورت میں مادہ ازلی اور ابدی ہے جس کا اول وآخر نہیں ہے اور وہ ازل سے اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ موجود ہے، اور اس کی خصوصیات اس کے ساتھ ہیں چاھے جھاں بھی رھے۔

لیکن اس صورت میں یہ کہنا غلط ہوگا کہ فلاں ستارہ پیدا ہوا اور فلاں ستارہ پیدا نہیں ہوا کیونکہ حیات کی تمام خصوصیات کا بغیرکسی اثر کے اربوں سال تک باقی رہنے کا کوئی مقصد نہیں ہے کہ حیات ایک زمانے کے بعد ظاہر ہو جس کا تاریخ نے اربوں سال کا حساب کیا ہے لہٰذا اس جگہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حیات اتنے طولانی عرصے کے بعد کیوں ظاہر ہوئی جبکہ حیات کے خصوصیات ازل سے موجود ہیں؟!!

اور اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ حیات کا مادہ ازلی ہے تو اب سوال یہ در پیش ہے کہ یہ اتفاق(صدفہ) سے پیدا ہوکر دائمی کسیے ہوگئی؟ اوریہ اتنی طولانی مدت کھاں رھی ؟ یھاں تک کہ وہ یکایک بغیر کسی ارادہ وقصد کے وقوع پذیرهوگئی ؟!!

پس ان تمام باتوں سے یہ ثابت ہوا کہ ہم اس دوسرے فرضیہ کو صحیح مانیں کہ اس مجرد(بدون حیات) مادہ کے لئے ظهور حیات ایک خالق ازلی، مریداور صاحب اختیار سے وجود میں آئی ہے جو اس کے ظهور کے لئے زمانہ معین کرتا ہے اور جس جگہ رکھنا چاھے رکھتا ہے ،پس اسی نے اس کائنات کو اپنے ارادہ اور حکمت سے خلق کیا ہے، اور اسی کا نام اللہ تبارک وتعالیٰ ہے۔

زمین پر حیات کی شروعات

ہم اپنی بات کو تمام کرنے سے پہلے اس سوال کا جواب دینا اپنے لئے ضروری اور مناسب سمجھتے ہیں :زمین پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟ اور کیا اس حیات کی اصل سورج ہوسکتا ہے؟!

لہٰذا ہم اس سوال کے جواب میں یہ عرض کرتے ہیں کہ حیات اور زندگی کیا ہے؟ کیا یہ حجم والی چیز ہے یا وزن دار مادہ؟ یا یہ ان دونوں چیزوں سے مل کر تشکیل پاتی ہے؟

حیات ایک ایسا اثر ہے جس کا ایک زندہ خَلیہ " Cell "میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے وہ بھی ٹلسکوپ " Telescope " وغیرہ کے ذریعہ، لہٰذا جب یہ معمولی اور سب سے چھوٹا نقطہ جو ”پروٹو پلازم“ " Protoplasm "سے مخلوط ہوتا ہے اور اس میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہیںجو ہوا میں سے " Carbon Dioxide۲th "خورشید سے حاصل کرتا ہے ، اور پانی سے " Hydrogen ", نکلتا ہے چنانچہ ان دونوں چیزوں سے اس کی غذا فراہم ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ رشد ونموکرتا ہے۔

چنانچہ ماھرین نے ”پروٹو پلازم “ " Protoplasm "کو بارھا مختلف وسائل اور مختلف زمانے میں خلق کرنا چاھالیکن سب ناکام رھے اور اسی وجہ سے خدا پر ایمان میں اضافہ ہوا جو ان تمام خلیوں کا خالق ہے کیونکہ مخلوقات اپنی کو نہیں بناسکتی۔

چنانچہ یھی واحد زندہ خلیہ جو حیات کا واحد عنصر ہے جس کی بنا پر یہ کائنات وجود میں آئی تو کیا یہ پہلا خلیہ خود بخود اچانک پیدا ہوگیا یا اس کو کسی نے خلق کیا ہے؟!

قارئین کرام ! زندگی کی ابتداء کے بارے میں مختلف قسم کے نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے بعض افراد نے یہ کھاھے کہ حیات ”پروٹوجن “یا ”فیروس“ سے شروع ہوئی ہے یا ”پروٹن“ کے وجود سے شروع ہوئی ہے جبکہ بعض لوگوں کا یہ بھی گمان ہے کہ ان نظریات نے اس میدان کا دروازہ بند کردیا جس سے عالم جماد اور عالم حیات میں فرق پیدا ہوتا ہے ۔

جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مذکورہ کسی بھی نظریہ میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ ان کو قبول کرلیا جائے کیونکہ ان کی دلیلیں بہت کمزور ہیں ۔

ان تمام کے باوجود جو شخص بھی خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے وہ کوئی ایسی علمی دلیل پیش کرنے سے قاصر ہے کہ تمام ذرات جمع ہوکر اتفاقی طور پر زندگی کے اسباب بن گئے ، کیونکہ خلیوں میں ہر ایک خلیہ اتنا دقیق ہے کہ ہماری سمجھ میں آنا مشکل ہے اور اس کائنات میں اربوں، کھربوں خلیہ موجود ہیں جو اپنی زبان بے زبانی سے خدا کی قدرت کی گواھی دے رھے ہیں، جن پر عقل وفکر اور منطق دلالت کررھی ہیں۔

اسی طرح حیات کی یہ تعریف کرنا کہ یہ ایک کیمیاوی نشاط ہے ، یہ تعریف بھی قابل قبول نہیں کیونکہ مردہ جسم میں بھی کیمیاوی مادہ پایا جاتاھے، اسی طریقہ سے خود مٹی میں بھی لوھا، تانبا اور کاربن نکلتا ہے۔

اسی طرح یہ کہنا کہ جنسی خواہشات ” تستوسترون ھارمون“" Testosterone Hormone "کی وجہ سے ہوتا ہے ،لیکن اس کے بھی کوئی معنی نہیں ہیں کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں اس Hormone میں یہ فاعلیت اور خاصیت کس نے عطا کی؟!!

اسی طریقہ سے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ عالم نباتات کی حرکت سورج مکھی کے پھول کی طرح ہے جس میں ”ھارمون اکسین“ " Hormone Auxin ." کا کردار ہوتاھے اورہمیشہ اسی طرح یہ پھول سورج کی طرف گھومتا رہتا ہے اور اس میں کوئی مشکل ایجاد نہیں ہوتی۔

لہٰذا ہم یھاں پر یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ کونسی طاقت ہے جس نے مادہ کو اس طرح کی تاثیر عنایت کی جو نباتات میں اسی طرح کیمیاوی عناصر کو پهونچاتی ہے۔؟

کیونکہ ابھی تک خلیہ میں کیمیاوی ترکیب نے ہمارے اوپر راز حیات کو واضح نہیں کیا ہے کیونکہ حیات صرف مجرد منظومہ اور جامد مثلاً مکان نہیں ہے بلکہ یہ تو حیات منظومہ صاحب حیات ہے جس میں ایک طاقت ہوتی ہے جن کے اندر ایسی قدرت ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ ہدایت کرتا ہے اور ایک ایسی فطرت ہے جس میں تنظیم و ترتیب کی صلاحیت ہوتی ہے۔

اسی طرح سائنس کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ یہ ہماری زمین سورج سے جدا ہوئی ہے اور جس وقت یہ سورج سے جدا ہوئی ،اس وقت اس کی گرمی سورج کے برابر تھی اور ہمارے فرض کے حساب سے اس کا درجہ حرارت ، سورج کے اس وقت کی گرمی کے برابر ہے اور چونکہ ملیونوں سال سے اس کی گرمی میں کمی واقع ہورھی ہے۔

لہٰذا اس وقت اس کی سطح کی گرمی ( ۶۰۰۰) درجہ ہے ، لیکن اس کے اندر کا درجہ حرارت چالیس ملین (چار کروڑ) درجہ ہے، اور جب اس زمین نے ان گیسوں کو حاصل کرناشروع کیا جو سورج سے جدا ہوئیں تھیں تو یہ زمین سطح ارض پر ٹھنڈی ہونے لگی اور پانی جب زمین کے اس حصے سے مس ہوا جو مرتفع اور حرارتی تھا تو یہ پانی فضا کی جانب بخار کی شکل میں جانے لگا کہ جس کا درجہ قابل تصور نہ تھا پس یہ پانی اس فضا کے مقابل قرار پایا جو سورج اور زمین کے درمیان ٹھنڈی تھی اس کے بعد یہ زمین کی طرف ھلاک کنندہ طوفان کی طرح واپس ہوا، اور آہستہ آہستہ جب اس میں درجہ حرارت کم ہوا تو پانی ایک جگہ رک گیا اور کھیں سمندر کی شکل میں اور کھیں منجمد ہوکر پھاڑوںکی شکل میں ظاہر ہوا۔

اور اگر کرہ ارضیہ کے بارے میں یہ فرضیہ صحیح ہو تو پھر ذرا اس زندہ خلیہ کے بارے میں فکر کریں جس کے بارے میں کھا جاتا ہے کہ یہ زمین کے ساتھ سورج سے جدا ہوا ہے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ۶۰۰۰/ درجہ حرارت میں کس طرح باقی رہ سکتا ہے ، اگرچہ یہ خلیے غلاف شدہ ہی کیوں نہ ہوں۔

کیونکہ انسان کا درجہ حرارت ۳۷ / درجہ ہوتا ہے لیکن جب مریض ہوتا ہے تو یہ درجہ حرارت ۴۰ / درجہ تک پهونچ جاتا ہے ، اور جب پانی کا درجہ حرارت سوپر پهونچ جاتا ہے تو وہ بخار بن جاتا ہے، اور اس صورت میں ہزارواں درجہ کفایت کرے گا کیونکہ یہ درجہ ہر شے کو گیس کا درجہ بنادیتا ہے اس صورت میں کوئی بھی سخت سے سخت چیز پگھل جاتی ہے، پس اگر یہ درجہ حرارت ۶۰۰۰ / پر پهونچ جائے توپھر اس کائنات کا کیا حال ہوگا؟!!

لہٰذا علم وعقل دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ سورج کے جدا شدہ خلیہ کے ذریعہ حیات کا آغاز ہونا محال اور ناممکن ہے، لہٰذا اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک خالق حیّ ہو جو زمین پر مخلوقات کو پیدا کرے۔

چنانچہ ایک مشهور ومعروف ماھر ”غوسٹاف بونیہ“ کا یہ قول کتنا بہترین ہے:

”اگرہم نے زندہ مادہ کو خلق کیا ہے تو پھر یہ فکر کرنا کیسے ممکن ہے کہ کتنے ہی اجتماعی ،وراثتی اور پیچیدہ پیش آنے والے خصائص ”پروٹوپلازم حیّ“کے ٹکڑے میں پائے جاتے ہیں۔؟“

.....

قارئین کرام !

ان تمام باتوں کی تفصیل کے بعد ہم یھاں ایک یہ اہم سوال کرنا چاہتے ہیں:

”یہ پہلی موجود جس میں پہلے حیات نہ تھی کھاں سے آئی؟ اور کس طرح مختلف حالات میں تبدیل ہوئی؟ جبکہ اس میں پہلے کبھی حیات نہ تھی۔کیا یہ عدم سے وجود میں آگئی؟ یا مردہ مادہ سے پیدا ہوئی؟!!

اور کس طرح ایک مردہ شے سے زندہ چیز بن سکتی ہے اور وجود، عدم سے کیسے بن سکتا ہے۔؟“

اس سوال کا جواب سائنس کے پاس مفروضوں اور تخمینوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

مثلاً ایک صاحب کہتے ہیں کہ یہ پہلی مخلوق ، آسمان سے شھاب( بجلی) کے ذریعہ نازل ہوئی ہے ، یعنی جب بہت ہی دوری پر موجود ستاروں سے شھاب جداهوئے تو ان کے ذریعہ یہ زندگی وجود میں آئی۔

اس کاجواب تو خود ہمارے سوال کی طرف پلٹ رھا ہے ، یعنی ہم پھر سوال کرتے ہیں کہ یہ پہلی مخلوق ان دوردراز ستاروں میں کھاں سے آئی؟

چنانچہ ایک اور ماھرسائنس کہتا ہے کہ یہ حیات مردہ مادہ کے ذرات کی ترتیب سے وجود میں آئی ہے ، اور اس نظریہ پر ہماری دلیل یہ ہے کہ زندہ مادہ، مردہ عناصر سے وجود میں آتا ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں ہمارے اردگرد موجود پتھر ، پانی اور مٹی جیسے عناصر کے ذریعہ یہ مادہ تشکیل پاتا ہے اوریہ ذرات کاربن، ہیڈروجن، آکسیجن اور نیٹروجن " Hydrogen","Oxygen", "Carbon", "Nytrogen " ہی سے مادہ بنتا ہے چنانچہ ہم انھیں کو ترتیب دے کر دوبارہ دوسرے مادہ بناسکتے ہیں اور کبھی ان میں ”امینہ“ پروٹن ، نشویات اور سوگر کا اضافہ کرتے ہیں تو ایک نیا مادہ تشکیل پاتا ہے، اور یہ فرضیہ میں کافی نہیں ہے بلکہ اس پر کچھ تجربات کئے جانے ضروری ہیں جس میں بجلی اور شعائیں ہوتی ہیں اور جس میں مختلف قسم کی گیس ہوتی ہیں جیسے نوشادر آکسیڈ کاربن ،" CarbonDioxide " ”میٹھن“ " Methane " اور پانی کے بخارات کے فعل وانفعالات کے بعد آثار احماض امینیہ پیدا ہوتے ہیں۔

”احماض امینیہ“ (کڑوی گیس) جو ایک دودھ جیسی گیس ہوتی ہے جس کا تمام زندہ چیزوں میں ہوناضروری ہے اور جب ان احماض کو آپس میں ملایا جاتا ہے تو ایک دوسری قسم کی پروٹن بن جاتی ہے ، یھاں تک کہ ان کو آپس میں ملانے سے کروڑوں قسم کی پروٹن بن سکتی ہیں جس طریقہ سے کسی زبان کے الفابیٹ کے ذریعہ سے مختلف کلمات بنتے جاتے ہیں تاکہ ان سے مختلف مفاھیم ومعانی حاصل کریں، اور یہ نتیجہ بخش پروٹن ہمیشہ حرارت وبرودت (ٹھنڈک) روشنی اور بجلی کے لئے اہم مواد ہوتے ہیںپس یہ پرو ٹن مرکب ہوکر دوسری خارجی چیزوں کے بننے کے باعث ہوتے ہیںتب جاکے جوھرحیات کی صفت بنتے ہیں۔

جبکہ زمین کو تقریباً کروڑوں سال ہوچکے ہیں اور مختلف تجربے ہوتے رہتے ہیںاور اس مرکب ”احماض امینیہ“ کے بے مثال تجربہ ہوچکے ہیںاور یہ احماض امینیہ پانی میں اپنے جوھر کے ساتھ گھُل جاتے ہیں تاکہ پروٹن کے لاکھوں مواد کوتشکیل دے، اور ضروری ہے کہ یہ احماض امینیہ ایک مرتبہ جب بے مثال گیس ( حامض دیزوکسی ربیونیوکلئیک ) " D.N.A " سے ملتے ہیں اور اسی جز سے ”فیروس“ بنتا ہے۔

یہ تمام مفروضوں کا مجموعہ تھا جو ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔

چنانچہ ماھرین کا کہنا ہے کہ قانون صدفہ ہماری تائید کرتا ہے، جیسا کہ اگر کمپیوٹر پر بیٹھ کر ایک بندر کی بورڈ کے بٹن کو بہت ہی دقت سے دباتا چلا جائے تو کیا اس کے لکھنے سے کسی مشهور شاعر کا شعر بن سکتا ہے؟!!!ھر گز نہیں ، چاھے سالوں بیٹھ کر لکھتا رھے لیکن کبھی بھی اس کا یہ کام نتیجہ بخش نہیں ہوسکتا۔

چنانچہ ماھرین کا کہنا کہ احماض امینیہ اپنی ہیئت مخصوص " D.N.A " پر باقی رہتا ہے تب کھیں منفرد مادہ اپنے اوپر تسلط پیداکرتا ہے اور پھر یہ منفرد مادہ اپنے مخصوص طریقوں کے ذریعہ تکاثر پیدا کرتا ہے اور اس کے ذریعہ بذر حیات برقرار رہتا ہے۔

بالفرض اگر ہم جدلی طریقہ سے قبول کریں اور فرض کریں کہ مٹی اور پانی کے عناصر بغیر کسی علت کے صدفةً اور اتفاقاً ( D.N.A ) حامض کے لحاظ سے پیدا ہوتے ہیں ۔

اس کے بعد اس ( D.N.A ) سے مختلف لاکھوں چیزیں بننے کا سبب بنتا ہے۔

لیکن ان تمام چیزوں میں وہ حیات نہیں ہے جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔

پس ضروری ہے کہ ہم پلٹ کر یہ کھیں کہ اس حامض کے اجزاء بھی اتفاقاً اور صدفةً ہونے چاہئے تاکہ ان سے پروٹن وجود میں آئیں۔

اس کے بعد پروٹن بھی اتفاقاً خلیہ کے شکل میں ایجاد ہونے چاہئے۔

پھر یہ خلےے بھی اپنی ذات میں خود بخود اور اتفاقی طور پر پیدا ہوکر نباتی شکل اختیار کریں اور پھر دوسرا خلیہ انسانی شکل کو پیدا کرے۔

اس کے بعد ہم زندگی کی تمام کڑیوں کودرجہ بدرجہ ملاتے جائیں ،تو اس جادوئی کلید (کنجی)کا مطلب یہ بھی ہوگاکہ یہ بھی صدفةً اور اتفاقی طور پر پیدا ہوا ہے؟!

لیکن کیا یہ عقل میں آنے والی باتیں ہیں:

کیااتفاقی طور پر پرندے اور مچھلیوں کااپنے گھروں سے لاکھوں میل فاصلہ پر چلے جانے کے باو جود اپنے گھروں میں واپس آجانا اتفاقی ہے؟!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ مرغی کا بچہ انڈے کو توڑ کر خود بخودباھر نکل جائے!!

کیا زخم کا خود بخود ٹھیک ہوجانا یہ بھی اتفاق ہے!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ ”سورج سے جدا شدہ اجزا“ اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ ان کی حیات کا ملجاء وماویٰ سورج ہے تاکہ وہ اس کی اتباع کریں!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ جنگل اور پھاڑوں میں درخت خود بخود اگ جائیں ۔!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ”فیروس“ خلیہ کو کشف کرتا ہے اوراس سے اپنی حیات حاصل کرتا ہے۔

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ نباتات اپنے لئے ”کلوروفیل“ " Chlorophill "کشف کرتے ہیں اور اس کو استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کی حیات باقی رھے۔

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ مچھر بڑی ہوشیاری سے پانی پرتیرے اور وھاں انڈے دے اور پانی پر تیرتا رھے اور ھلاک نہ ہو۔!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ چیونٹی اپنے اندرمو جود زھر کو محفوظ رکھے اور اپنے بچوں کو دی جانے والی غذا میں اسے نہ ملائے ۔ کیا یہ اتفاق کی ناؤ ریت پر چل سکتی ہے!!

اسی طرح شہد کی مکھی اتنے منظم طریقہ سے شہد کو جمع کرتی ہے، مختلف پھولوں سے رس چوستی ہے اور اس کو شہد میں تبدیل کرتی ہے اور اس کے موم سے شمع بنائی جاتی ہے کیا یہ بھی اتفاق ہے۔!!!

اسی طرح زمین پر رینگنے والے حشرات (کیڑے مکوڑے) فضا میں موجود قوانین کو سمجھتے ہیں اور اسی کے تحت اپنی زندگی چلاتے ہیں کیونکہ بہت سے کیڑے صرف برسات کے موسم میں نکلتے ہیں ، کیا یہ بھی اتفاق ہے !!!

اسی طرح رنگ برنگے حشرات جو اپنے اندر ایسی صلاحیت رکھتے ہیں جو ان کے رنگ سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اسی طرح وہ حشرات جو بہت سی زھریلی گیس بناتے ہیں اورفضا میں چھوڑتے ہیں، کیا یہ بھی اتفاق ہے ؟!!

قارئین کرام ! اگر ہم ان تمام باتوں کو تسلیم کرلیں کہ یہ حیات بھی اتفاقی طور پر وجود میں آئی ہے تو ہم کیسے مان سکتے ہیں کہ یہ مذکورہ تمام چیزیں اتفاقی طور پر وجود میں آگئی ہیں۔!!

چنانچہ ان تمام بے ہودہ باتوںکو عقل انسانی تسلیم نہیں کرسکتی۔

اور جب مادہ پرستوں نے اپنے کواتفاق(صدفہ)کی اس کشمش میں پایا تو اس سے چھٹکارا پانے کے لئے صدفہ (اتفاق) کی جگہ ایک دوسرا لفظ رکھا اور اس طرح کھا کہ یہ ہماری حیات (جو مختلف الوان واقسام سے مزین ہے) ایک ضرورت کے تحت پیدا ہوئی جس طرح ایک بھوکا انسان غذا تلاش کرتا ہے اور مختلف غذا فراہم کرتا ہے اسی طرح ہماری زندگی میں مختلف ضروریات پیش آتی رھی اور ہمارے سامنے بہت سی چیزیں وجودمیں آتی گئیں!!۔

قارئین کرام ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ سب الفاظ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ،کیونکہ انھوں نے لفظ ”صدفہ “(اتفاق) کی جگہ ” ضرورت کے تحت “ رکھا ! ۔

یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک چھوٹا سا واقعہ بغیر کسی عقل کی کارکردگی کے ایک بہت بڑا واقعہ بن جائے؟!! لہٰذا یھاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ”ضرورت“ کو کس نے پیدا کیا؟۔

اور یہ” ضرورت“ ”لاضرورت“ سے کیسے وجود میں آئی؟!!

کیونکہ یہ سب چیزیں حقیقت کو چھپانے والی ہیں جس کا عقل انسانی اور فطرت بدیھی طور پر انکار کرتی ہیں پس معلوم یہ ہوا کہ ان تمام چیزوں کا خالق ایک مدبر اور حکیم ہے۔

پس ہم ان زور گوئی والی باتوںکو بغیر دلیل کے کس طرح قبول کرسکتے ہیں؟!!

ہم کیسے ان محالات کو قبول کرسکتے ہیں؟!! تاکہ واضح حقائق کی پردہ پوشی ہوجائے جو کہ ہماری بدیھی فطرت میں شامل ہیں اور ہم ان کا مشاہدہ کررھے ہیں۔!! اور اگر ہم ان تمام چیزوں کی بداہت کو جھٹلائیں تو پھرگویا ہم نے عقل کو بیچ ڈالا ،!! کیونکہ یہ تمام چیزیں منطقی اور عقلی بدیھیات میں سے ہیں۔ اگر ہم ان تمام چیزوں کا انکار کریں تو گویا ہم نے اپنی عقل کو بالائے طاق رکھدیا حالانکہ ہم اپنے کو بہت بڑاعاقل اور علامہ سمجھتے ہیں۔

چنانچہ علم طبیعیات کے مشهورو معروف ماھر ڈاکٹر ”کونجڈن“کہتے ہیں: ”کائنات میں موجود ہر شے خدا کے وجود ، اس کی قدرت اور اس کی عظمت پر دلالت کرتی ہے ، اور جب ہم اس کائنات کی چیزوںکو ملاحظہ کرتے ہیں تو ہمیں نعمت خدا کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا ،پس خدا ہی کی ذات ہے جس نے کائنات میں ان نعمتوں کو ہماری خدمت کے لئے خلق کیا ، لہٰذا ہم کسی مادی علمی وسیلہ سے خدا کو نہیں پہچان سکتے، لیکن ہم اپنے اندر اور کائنات کے ذرہ ذرہ میںخدا کی نشانیاں واضح طور پر دیکھتے ہیں: خلاصہ یہ کہ یہ علوم ، مخلوقات اور خدا کی قدرت کے علاوہ اور کسی چیز کا پتہ نہیں دے سکتے۔ چنانچہ خداوندعالم کا ارشاد ہوتا ہے:

( ذَلِکُمْ اللهُ رَبُّکُمْ لاَإِلَهَ إِلاَّ هو خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهو عَلَی کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ ) ( ۴۰ )

”(لوگو) وھی اللہ تمھارا پروردگار ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے تو اسی کی عبادت کرو اور ہی ہر چیز کا نگھبان ہے ۔“

( هو الَّذِی جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِینَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللهُ ذَلِکَ إِلاَّ بِالْحَقِّ یُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ) (( ۴۱ )

”وھی وہ (خدائے قادر) ہے جس نے آفتاب کو چمکدار اور ماہتاب کو روشن بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم لوگ برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلو، خدا نے اسے حکمت ومصلحت سے بنایا ہے وہ اپنی آیتوں کو واقف کار لوگوں کے تفصیل وار بیان کرتا ہے۔“

( اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَاٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجَ بِهِ مِنْ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ وَسَخَّرَ لَکُمْ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاٴَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَکُمْ الْاٴَنهَارَ وَسَخَّرَ لَکُمْ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَیْنِ وَسَخَّرَ لَکُمْ اللَّیْلَ وَالنَّهَارَ وَآتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَاٴَلْتُمُوه ) ( ۴۲ )

”خدا ہی ایسا (قادر وتوانا) ہے جس نے آسمان وزمین پیدا کرڈالے اورآسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے (مختلف درختوں سے) تمھاری روزی کے واسطے (طرح طرح کے) پھل پیدا کئے اور تمھارے واسطے کشتیاں تمھارے بس میں کردیں تاکہ اس کے حکم سے دریا میں چلیں اور تمھارے واسطے ندیوں کو تمھارے اختیار میں کردیا اور سورج چاند کو تمھارا تابعدار بنادیا کہ سدا پھیری کیا کرتے ہیں او ررات دن کو تمھارے قبضہ میں کردیا (کہ ہمیشہ حاضر باش رہتے ہیں) اور( اپنی ضرورت کے موافق) جو کچھ تم نے اس سے مانگا اس میں سے بقدر مناسب تمھیں دیا ۔۔۔“

( اٴَلاَلَهُ الْخَلْقُ وَالْاٴَمْرُ تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِین ) ( ۴۳ )

”دیکھو حکومت او رپیداکرنا بس خاص اسی کے لئے ہے۔“

____________________

[۱] سورہ ابراھیم آیت ۱۰

[۲] سورہ اعراف آیت ۴۳۔

[۳] سورہ آل عمران آیت ۱۹۳۔

[۴] سورہ ملک آیت ۳، ۴۔

[۵] نشاة الدین ص ۱۹۶،۱۹۷۔

[۶] نشاة الدین ص ۱۸۴۔

[۷] سورہ بقرہ آیت ۱۶۴۔

[۸] سورہ واقعہ آیت ۵۸،۵۹۔

[۹] سورہ واقعہ آیت ۵۸،۵۹۔

[۱۰] سورہ طارق آیات ۶تا ۸۔

[۱۱] سورہ طٰہ آیت ۳۵۔

[۱۲] سورہ روم آیت ۲۰۔

[۱۳] سورہ نحل آیت ۷۸۔

[۱۴] سورہ نور آیت ۴۵۔

[۱۵] سورہ فاطر آیت ۲۸۔

[۱۶] سورہ انعام آیت ۳۸۔

[۱۷] سورہ ملک آیت ۱۹۔

[۱۸] سورہ نحل آیات ۵ تا ۸۔

[۱۹] سورہ غاشیہ آیت ۱۷۔

[۲۰] سورہ نمل آیت ۱۸ َ

[۲۱] سورہ نمل آیت ۸۸۔

[۲۲] سورہ واقعہ آیت ۶۳تا ۶۵۔

[۲۳] سورہ واقعہ آیت ۷۱تا ۷۲۔

[۲۴] سورہ انعام آیت ۹۹۔

[۲۵] سورہ طٰہ آیت ۵۳۔

[۲۶] سورہ نمل آیت ۶۰۔

[۲۷] سورہ انبیاء آیت ۳۰ ۔

[۲۸] سورہ واقعہ آیات ۶۸تا۷۰۔

[۲۹] سورہ روم آیت ۲۴۔

[۳۰] سورہ بقرہ آیت ۱۶۴۔

[۳۱] سورہ اعراف آیت ۱۸۵۔

[۳۲] سورہ نحل آیت ۱۴ ۔

[۳۳] سورہ یونس آیت ۱۰۱۔

[۳۴] سورہ ق آیت ۶۔

[۳۵] سورہ رعد آیت ۲۔

[۳۶] سورہ ذاریات آیت ۴۷۔

[۳۷] سورہ فاطر آیت ۱۳۔

[۳۸] سورہ لقمان آیت ۱۱۔

[۳۹] سورہ فاطر آیت ۴۱۔

[۴۰] سورہ انعام آیت۱۰۲۔

[۴۱] سورہ یونس آیت۵۔

[۴۲] سورہ ابراھیم آیت ۳۲تا۳۴۔

[۴۳] سورہ اعراف آیت۵۴۔


4