اصول دين سے آشنائی

اصول دين سے آشنائی18%

اصول دين سے آشنائی مؤلف:
زمرہ جات: عقائد لائبریری

اصول دين سے آشنائی
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 22878 / ڈاؤنلوڈ: 4479
سائز سائز سائز
اصول دين سے آشنائی

اصول دين سے آشنائی

مؤلف:
اردو

تو حید ذات و صفات:

یعنی خدا کے صفات ذاتی ہیں، جیسے حیات، علم، قدرت عین ذات ہیں، و گرنہ ذات و صفت جدا جدا ہونا تجزیہ و ترکیب کا باعث ہوگا، وہ جو اجزاء سے مرّکب ہوگا وہ جو اجزاء سے مرکب ہو وہ اپنے اجزا کا محتاج ہوگا، (اور محتاج خدا نہیں ہوسکتا)

اسی طرح اگر صفات کو ذات سے جدا مان لیں تو لازم یہ آتا ہے وہ مرتبہ ذات میں فاقد صفات کمال ہو، اور اس کی ذات ان صفات کے امکان کی جہت پائی جائے، بلکہ خود ذات کا ممکن ہونا لازم آئے گا، کیونکہ جو ذات صفات کمال سے خالی ہو اور امکان صفات کی حامل ہو وہ ایسی ذات کی محتاج ہے جو غنی بالذات ہو۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا کی سب سے پهلی عبادت اس کی معرفت حاصل کرنا ہے۔اور اصل معرفت خدا کی وحدانیت کا اقرار ہے، اور نظام توحید یہ ہے کہ اس کی صفات سے صفات کی نفی و انکار کرنا ہے،

(زائد بر ذات) اس لئے کہ عقل گواہی دیتی ہے کہ ہر صفت اور موصوف مخلوق ہوتے ہیں، اور ہر مخلوق کا وجود اس بات پر گواہ ہے کہ اس کا کوئی خالق ہے، جو نہ صفت ہے اور نہ موصوف۔ (بحار الانوار، ج ۵۴ ، ص ۴۳)

توحید در الوہیت:

( وَإِلَهُکُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لاَإِلَهَ إِلاَّ هو الرَّحْمَانُ الرَّحِیمُ ) (سورہ بقرہ، آیت ۱۶۳)

”تمهارا خدا خدائے واحد ہے کوئی خدا نہیں جز اس کے جو رحمن و رحیم ہے“۔

توحید در ربوبیت:

خداوندعالم کا ارشاد ہے:

( قُلْ ا غََٔيْرَ اللهِ ا بَْٔغِی رَبًّا وَهُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ ) (سورہ انعام، آیت ۱۶۴)

”کہو کیا الله کے علاوہ کسی دوسرے کو رب بنائیں حالانکہ کہ وہ ہر چیز کا پروردگار ہے“۔

( ا ا رَْٔبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ ا مَْٔ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ) (سورہ یوسف، آیت ۳۹)

”آیا متفرق و جدا جدا ربّ کا ہونا بہتر ہے یا الله سبحانہ کا جو واحد اور قهار ہے“۔

توحید در خلق:

( قُلْ اللهُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ) (سورہ رعد، آیت ۱۶)

”کہہ دیجئے کہ الله ہر چیز کا خالق ہے اور وہ یکتاقهار ہے“۔

( وَالَّذِینَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ لاَيَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ) (سورہ نحل، آیت ۲۰)

”اور وہ لوگ جن کو خدا کے علاوہ پکارا جاتا ہے وہ کسی کو خلق نہیں کرتے بلکہ وہ خلق کئے جاتے ہیں“۔

توحید در عبادت:

یعنی عبادت صرف اسی کی ذات کے لئے منحصر ہے۔

( قُلْ ا تََٔعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَيَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَلاَنَفْعًا ) (سورہ مائدہ، آیت ۷۶ ۔)”کہ کیا تم خدا کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہو جو تمهارے لئے نہ نفع رکھتے ہیں نہ نقصان ؟)

توحید در ا مٔر وحکم خدا:

( ا لَٔاَلَهُ الْخَلْقُ وَالْا مَْٔرُ تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِینَ ) (سورہ اعراف ، آیت ۵۴ ۔)

”آگاہ ہو جاو صرف خدا کے لئے حکم کرنے و خلق کرنے کا حق ہے بالا مرتبہ ہے خدا کی ذات جو عالمین کا رب ہے“۔

( إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّه ) (سورہ یوسف، آیت ۱۰ ۔)”کوئی حکم نہیں مگر خدا کا حکم“۔

توحید در خوف وخشیت:

(یعنی صرف خدا سے ڈرنا)

( فَلاَتَخَافُوهُمْ وَخَافُونِی إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ ) (سورہ آ ل عمران، آیت ۱۷۵ ۔)”پس ان سے نہ ڈرو اگر صاحبان ایمان ہو تو مجه سے ڈرو“۔

اس سے متعلق بعض دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

۱۔تعدد الٰہ سے خداوند متعال میں اشتراک ضروری قرار پاتا ہے اس لئے کہ دونوں خدا ہیں، اور اسی طرح دونوں میں نقطہ امتیاز کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ دوگانگی تحقق پیدا کرے اور وہ مرکب جو بعض نکات اشتراک اور بعض نکات امتیاز سے مل کر بنا ہو، ممکن ومحتاج ہے۔

۲۔تعدد الہ کا کسی نقطہ امتیاز کے بغیر ہونا محال ہے اور امتیاز، فقدانِ کمال کا سبب ہے۔ فاقد کمال محتاج ہوتا ہے اور سلسلہ احتیاج کا ایک ایسے نکتے پر جاکر ختم ہونا ضروری ہے جو ہر اعتبار سے غنی بالذات ہو، ورنہ محال ہے کہ جو خود وجود کا محتاج وضرور ت مند ہو کسی دوسرے کو وجود عطا کرسکے۔

۳۔خدا ایسا موجود ہے جس کے لئے کسی قسم کی کوئی حد مقرر نہیں کیونکہ ہر محدود، دو چیزوں سے مل کر بنا ہے ، ایک اس کا وجوداور دوسرے اس کے وجود کی حد اور کسی بھی وجود کی حد اس وجود میں فقدان اور اس کے منزلِ کمال تک نہ پہچنے کی دلیل ہے اور یہ ترکیب، اقسامِ ترکیب کی بد ترین قسم ہے، کیونکہ ترکیب کی باقی اقسام میں یا تو دو وجودوں کے درمیان ترکیب ہے یا بود ونمود کے درمیان ترکیب ہے، جب کہ ترکیب کی اس قسم میں بود ونبود کے درمیان ترکیب ہے!! جب کہ خد ا کے حق میں ہر قسم کی ترکیب محال ہے۔وہ ایسا واحد وجود ہے جس کے لئے کسی ثانی کا تصور نہیں،

( فَلاَتَخْشَوْا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ ) (سورہ مائدہ، آیت ۴۴ ۔)”لوگوں سے مٹ ڈرو مجه سے ڈرو(خشیت خدا حاصل کرو“۔

توحید در مُلک:

(یعنی کائنات میں صرف اس کی حکومت ہے)

( وَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ ) (سورہ اسراء ، آیت ۱۱۱ ۔)”کہو ساری تعریفیں ہیں اس خدا کی جس کا کوئی فرزند نہیں اور ملک میں اس کا کوئی شریک نہیں“۔

توحید در ملک نفع وضرر:

یعنی نفع و نقصان کا مالک وہ ہے)

( قُلْ لاَا مَْٔلِکُ لِنَفْسِی نَفْعًا وَلاَضَرًّا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ ) (سورہ اعراف، آیت ۱۸۸ ۔)”کہو بس اپنے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں ہوں مگر وہ جو الله سبحانہ چاہے“۔

( قُلْ فَمَنْ يَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللهِ شَيْئًا إِنْ ا رََٔادَ بِکُمْ ضَرًّا ا ؤَْ ا رََٔادَ بِکُمْ نَفْعًا ) (سورہ فتح، آیت ۱۱ ۔)”کہو بس کون ہے تمهارے لئے خدا کے مقابل میں کوئی دوسرا اگر وہ تمهارے لئے نفع و نقصان کا ارادہ کرے“۔

توحید در رزق:

(رزاق صرف خدا ہے)

( قُلْ مَنْ يَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَاوَاتِ وَالْا رَْٔضِ قُلْ اللهُ ) (سورہ سباء، آیت ۲ ۴ ۔)”کہو کون ہے جو زمین وآسمان سے تم کو روزی عطاء کرتا ہے کہوخدائے متعال)

( ا مََّٔنْ هَذَا الَّذِی يَرْزُقُکُمْ إِنْ ا مَْٔسَکَ رِزْقَهُ ) (سورہ ملک ، آیت ۲۱ ۔)”آیا کون ہے تم کو روزی دینے والا اگر وہ تمهارے رزق کو روک لے“۔

توحید در توکل:

(بهروسہ صرف خدا کی ذات پر)

( وَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ وَکَفَی بِاللهِ وَکِیلاً ) (سورہ احزاب، آیت ۳۔)”اور الله پر بهروسہ کرو اس کو وکیل بنانا دوسرے سے بے نیاز کردیتا ہے“۔

( اللهُ لاَإِلَهَ إِلاَّ هو وَعَلَی اللهِ فَلْيَتَوَکَّلْ الْمُؤْمِنُونَ ) (سورہ ،تغابن آیت ۱۳ ۔)”کوئی خدا نہیں سوائے الله سبحانہ تعالیٰ کے بس مومنوں کو چاہئے خدا پر توکل کریں“۔

توحید در عمل:

(عمل صرف خدا کے لئے)

( وَمَا لِا حََٔدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَی ز إِلاَّ ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْا عَْٔلَی ) (سورہ لیل، آیت ۔ ۲۰ ۔ ۱۹ ۔)”اور لطف الٰهی یہ ہے کہ)کسی کا اس پر احسان نہیں جس کا اسے بدلہ دیا جاتا ہے بلکہ (وہ تو)صرف اپنے عالیشان پروردگار کی خوشنودی حاصل کر نے کے لئے (دیتاہے)

توحید در توجہ :

(انسان کی توجہ صرف خدا کی طرف ہونی چاہئے)

( إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِی لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْا رَْٔضَ ) (سورہ انعام، آیت ۷۹ ۔)”بے شک میں نے اپنے رخ اس کی طرف

موڑ لیا جس نے زمین وآسمان کو خلق کیا“۔

یہ ان لوگوں کا مقام ہے جو اس راز کو سمجه چکے ہیں کہ دنیا و مافیها سبکچھ هلاک ہوجائے گا۔

( کُلُّ شَیْءٍ هَالِکٌ إِلاَّ وَجْهَهُ ) (سورہ قصص، آیت ۸۸ ۔)(کائنات میں)هر چیز هلا ک ہو جائے گی جز اس ذات والاکے“( کُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ز وَيَبْقَی وَجْهُ رَبِّکَ ذُو الْجَلاَلِ وَالْإِکْرَامِ ) (سورہ رحمن، آیت ۲۷ ۔ ۲ ۶ ۔)”هر وہ چیز جو روئے زمین پر ہے سبکچھ فنا ہونے والی ہے اور باقی رہنے والی (صرف)تیرے پروردگار کی ذات ہے جو صاحب جلالت وکرامت ہے“۔

فطرت میں جو توحید خدا پنهاں ہے اس کی طرف توجہ سے انسان کے ارادہ میں توحید جلوہ نمائی کرتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ( وَعَنَتْ الْوُجُوهُ لِلْحَیِّ الْقَيُّومِ ) (سورہ طہ، آیت ۱۱۱)”اور ساری خدائی کے منه زندہ وپائندہ خدا کے سامنے جهک جائیں گے“۔ (فطرت توحیدی کی طرف توجہ انسان کے ارادہ کو توحید کا جلوہ بنا دیتی ہے)

کیونکہ ثانی کا تصور اس کے لئے محدودیت اور متناہی ہونے کا حکم رکھتا ہے، لہٰذا وہ ایسا یکتاہے کہ جس کے لئے کوئی ثانی نہ قابل تحقق ہے اور نہ ہی قابل تصور۔

۴ ۔ کائنات کے ہر جزء وکل میں وحدتِ نظم برقرار ہونے سے وحدت ناظم ثابت ہو جاتی ہے،

کیونکہ جزئیاتِ انواع کائنات میں موجود تمام اجزاء کے ہر هر جزء میںموجود نظم وترکیب اور پوری کائنات کے آپس کے ارتباط کے تفصیلی مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جزء و کل سب ایک ہی علیم ،قدیر اورحکیم خالق کی مخلوق ہیں۔ جیسا کہ ایک درخت کے اجزاء کی ترکیب، ایک حیوان کے اعضاء و قوتوں کی ترکیب اور ان کا ایک دوسرے نیز چاند اور سورج سے ارتباط، اسی طرح منظومہ شمسی کا دوسرے منظومات اور کہکشاؤں سے ارتباط، ان سب کے خالق کی وحدانیت کامنہ بولتا ثبوت ہیں۔ایٹم کے مرکزی حصے اور اس کے مدار کے گردگردش کرنے والے اجزاء سے لے کر سورج و منظومہ شمسی کے سیارات اور کہکشاؤں تک، سب اس بات کی علامت ہیں کہ ایٹم،سورج اور کہکشاو ںٔ

کا خالق ایک ہی ہے( و هُوْ الَّذِی فِی السَّمَاءِ ا لِٰٔهٌ وَّ فِی اْلا رَْٔضِ إِلٰهٌ وَّ هُوَ الْحَکِيْمُ الْعَلِيْم ) (۱) ( يَا ا ئَُّهَا النَّاس اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَةالَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ اْلا رَْٔضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاءَ بِنَاءً وَّ ا نَْٔزَلَ مِن السَّمَاءِ مَاءً فَا خَْٔرَجَ بِه مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّکُمْ فَلاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ ا نَْٔدَادًا وَّ ا نَْٔتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) (۲)

۵ ۔چھٹے امام (ع) سے سوال کیا گیا: صانع وخالقِ کائنات کا ایک سے زیادہ ہونا کیوں ممکن نہیں ہے ؟ آپ (ع) نے فرمایا : اگر دعوٰی کرو کہ دو ہیں تو ان کے درمیان شگاف کا ہونا ضروری ہے تاکہ دو بن سکیں، پس یہ شگاف تیسرا ہوا اور اگر تین ہو گئے تو پھر ان کے درمیان دو شگافوں کا ہونا ضروری ہے تاکہ تین محقق ہوسکیں،بس یہ تین پانچ ہوجائیں گے او راس طرح عدد بے نهایت اعداد تک بڑهتا چلا جائے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اگر خدا ایک سے زیادہ ہوئے تو اعداد میں خداؤں کی نا متناہی تعداد کا ہونا ضروری ہے۔(۳)

۶ ۔امیر المو مٔنین (ع) نے اپنے فرزند امام حسن (ع) سے فرمایا:((واعلم یابنی ا نٔه لو کان لربک شریک لا تٔتک رسله ولرا ئت آثار ملکه وسلطانه ولعرفت ا فٔعاله وصفاته ))(۴)

اور وحدانیت پروردگارپر ایمان کا نتیجہ، عبادت میں توحیدِ ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، چونکہ اس کے علاوہ سب عبد اور بندے ہیں( إِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضِ إِلاَّ آتِی الرَّحْمٰن عَبْداً ) (۵) غیر خد اکی عبودیت وعبادت کرنا ذلیل سے ذلت اٹهانا،فقیر سے بھیک مانگنا بلکہ ذلت سے ذلت اٹهانا اور گداگر سے گداگری کرناہے( يَا ا ئََُهَا النَّاسُ ا نَْٔتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلیَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِيْدُ ) (۶)

وحدانیت خداوندمتعال پر ایمان،اور یہ کہ جوکچھ ہے اسی سے اور اسی کی وجہ سے ہے اور سب کو اسی کی طرف پلٹنا ہے، کو تین جملوں میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے ((لا إله إلا اللّٰه))،((لا حول ولا قوة إلا باللّٰه ))،( وَ إِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ اْلا مُُٔوْرُ ) (۷)

سعادت مند وہ ہے جس کی زبان پر یہ تین مقدّس جملے ہر وقت جاری رہیں، انهی تین جملات کے ساته جاگے،سوئے،زندگی بسر کرے، مرے اور یهاں تک کہ( إِنَّا لِلّٰهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ) (۸) کی حقیقت کو پالے۔

____________________

۱ سورہ زخرف، آیت ۸۴ ۔”اور وہی وہ ہے جو آسمان میں بھی خد اہے اور زمین میں بھی خدا ہے اور وہ صاحب حکمت بھی ہے“۔

۲ سورہ بقرہ، آیت ۲۱ ۔ ۲۲ ۔”اے انسانو!پروردگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تم سے پهلے والوں کو بھی خلق کیا ہے شاید کہ تم اسی طرح متقی اور پرہیزگار بن جاو ۔ٔاس پروردگار نے تمهارے لئے زمین کا فرش اور آسمان کا شامیانہ بنایا ہے اور پھر آسمان سے پانی برسا کر تمهاری روزی کے لئے زمین سے پهل نکالے ہیں لہٰذا اس کے لئے کسی کو ہمسراور مثل نہ بناو اور تم جانتے ہو“۔۲۳۰ ۔ / ۳ بحار الانوار، ج ۳

۴ نهج البلاغہ خطوط ۳۱ ۔ حضرت کی وصیت امام حسن علیہ السلام کے نام۔ترجمہ:(جان لو اے میرے لال!اگر خدا کا کوئی شریک ہوتا تو اس کے بھیجے ہوئے پیامبر بھی تمهارے پاس آتے اور اس کی قدرت وحکومت کے آثار دیکھتے اور اس کی صفات کو پہچانتے)

۵ سورہ مریم،آیت ۹۳ ۔”زمین وآسمان میں کوئی ایسا نہیں ہے جو اس کی بارگاہ میں بندہ ہو کر حاضر ہونے والا نہ ہو“۔

۶ سورہ فاطر، آیت ۱۵ ۔”انسانو! تم سب الله کی بارگاہ کے فقیر ہو اور الله غنی (بے نیاز) اور قابل حمد و ثنا ہے“۔

۷ سورہ آل عمران، آیت ۱۰۹ ۔”اور الله کی طرف پلٹتے ہیں سارے امور“۔

۸ سورہ بقرہ،ا یت ۱۵۶ ۔”هم الله ہی کے لئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں“۔

اور توحید پر ایمان کا اثر یہ ہے کہ فرد ومعاشرے کی فکر و ارادہ ایک ہی مقصد وہدف پرمرتکز رہیں کہ جس سے بڑه کر، بلکہ اس کے سوا کوئی دوسرا ہدف و مقصد ہے ہی نہیں( قُلْ إِنَّمَا ا عَِٔظُکُمْ بِوَاحِدَةٍ ا نَْٔ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰی وَ فُرَادٰی ) (۱) ۔ اس توجہ کے ساته کہ اشعہ نفسِ انسانی میں تمرکزسے انسان کو ایسی قدرت مل جاتی ہے کہ وہ خیالی نقطے میں مشق کے ذریعے حیرت انگیز توانائیاں دکها سکتا ہے، اگر انسانی فکر اور ارادے کی شعاعیں اسی حقیقت کی جانب مرتکز ہو ں جومبدا ومنتهی اور( نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضِ ) (۲) ہے تو کس بلند واعلیٰ مقام تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ؟!

جس فرد ومعاشرے کی( إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِیْ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضَ حَنِيْفاً وَّمَا ا نََٔا مِن الْمُشْرِکِيْنَ ) (۳) کے مقام تک رسائی ہو، خیر وسعادت وکمال کا ایسا مرکز بن جائے گا جو تقریر وبیان سے بہت بلند ہے۔

عن ا بٔی حمزة عن ا بٔی جعفر (ع) :((قال سمعته یقول: ما من شیء ا عٔظم ثواباً من شهادة ا نٔ لا إله إلا اللّٰه، لا نٔ اللّٰه عزوجل لا یعدله شی ولا یشرکه فی الا مٔر ا حٔد ))(۴)

اس روایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جیسا کہ کوئی بھی چیز خداوند متعال کی مثل وہمسر نہیں، اس ذات قدوس کے امرمیں بھی کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ کوئی عمل اس حقیقت کی گواہی کا مثل و ہمسر نہیں جو کلمہ طیبہ ((لا إله إلااللّٰه ))کا مضمون ہے اورعمل کے ساته شایان شان جزاکے ثواب میںبھی اس کا کوئی شریک نہیں۔

زبان سے ((لا إله إلااللّٰه )) کی گواہی، دنیا میں جان ومال کی حفاظت کا سبب ہے اور دل سے اس کی گواہی آتش جهنم کے عذاب سے نجات کا باعث ہے اور اس کی جزا بهشت بریںہے۔ یہ کلمہ طیبّہ رحمت رحمانیہ ورحیمیہ کا مظهر ہے۔

چھٹے امام (ع) سے روایت ہے کہ: خداوند تبارک وتعالی نے اپنی عزت وجلال کی قسم کهائی ہے کہ اہل توحید کو آگ کے عذاب میں ہر گز مبتلا نہ کرے گا۔(۵)

اوررسول خدا (ص)سے منقول ہے: ((ماجزاء من ا نٔعم عزوجل علیه بالتوحید إلا الجنة ))(۶)

جو اس کلمہ طیبہ کا ہر وقت ورد کرتاہے ، وہ حوادث کی جان لیوا امواج، وسواس اور خواہشات نفسانی کے مقابلے میں کشتی دٔل کو لنگرِ ((لا إله إلا اللّٰه )) کے ذریعے هلاکتوں کی گرداب سے نجات دلاتا ہے( اَلَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوَبُهُمْ بِذِکْرِ اللّٰهِ ا لَٔاَ بِذِکْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ) (۷)

کلمہ طیبہ کے حروف کوبالجهر اور بالاخفات دونوں طریقوں سے ادا کیا جاسکتا ہے کہ جامع ذکرِ جلی وخفی ہے اور اسم مقدس ((اللّٰہ))پر مشتمل ہے، کہ امیرالمو مٔنین (ع) سے منقول ہے کہ:

((اللّٰہ)) اسماء خدا میں سے بزرگترین اسم ہے اور ایسا اسم ہے جو کسی مخلوق کے لئے نہیں رکھا گیا۔

اس کی تفسیر یہ ہے کہ غیر خدا سے امید ٹوٹ جانے کے وقت ہر ایک اس کو پکارتا ہے( قُلْ ا رََٔا ئَْتَکُم إِنْ ا تََٔاکُمْ عَذَابُ اللّٰهِ ا ؤَْ ا تََٔتْکُمُ السَّاعَةُ ا غَيْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِيْنَةبَلْ إِيَّاهُ تَدْعُوْنَ فَيَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ إِلَيْه إِنْ شَاءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَ ) (۸)

____________________

۱ سورہ سباء،ا یت ۴۶ ۔”پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہیں صرف اس بات کی نصیحت کرتا ہوںکہ الله کے لئے دو دو اور ایک ایک کرکے قیام کرو“۔

۲ سورہ نور،آ یت ۳۵ ۔”الله آسمانوں اورزمین کا نور ہے“۔

۳ سورہ انعام، آیت ۷۹ ۔” میرا رخ تمام تر اس خدا کی طرف سے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں استقامت کے ساته توحید میں ہوں اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں“۔

۴ توحید صدوق ص ۱۹ ۔

۵ توحید ص ۲۰ ۔

۶ توحید ص ۲۲ ۔ اس شخص کی جزا اس کو خدا نے نعمت توحید سے نوازا ہے جز بهشت کچھ نہیں ۔

۷ سورہ رعد، آیت ۲۸ ۔”یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دلوں کو یاد خدا سے اطمینان حاصل ہوتا ہے اور آگاہ ہو جاو کہ اطمینان یاد خدا سے ہی حاصل ہوتاہے“۔

۸ سور ہ انعام، آیت ۴۰ ۔ ۴۱ ۔”آپ ان سے کہئے کہ تمهارا کیا خیال ہے کہ اگر تمهارے پاس عذاب یا قیامت آجائے تو کیا تم اپنے دعوے کی صداقت میں غیر خدا کو بلاو گٔے۔ تم خدا ہی کو پکاروگے اور وہی اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو رفع کر سکتا ہے۔اور تم اپنے مشرکانہ خداو ںٔ کو بهول جاو گٔے“۔

ابو سعید خدری نے رسول خدا (ص)سے روایت کی ہے کہ خداوند جل جلالہ نے حضرت موسی (ع) سے فرمایا :

اے موسی! اگر آسمانوں، ان کے آباد کرنے والوں (جو امر کی تدبیر کرنے والے ہیں)اور ساتوں زمینوں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور((لا إله إلا اللّٰه )) کو دوسرے پلڑے میں تو یہ دوسرا پلڑا بهاری ہوگا۔(۱) (یعنی اس کلمے کے مقابلے میں تمام مادّیات ومجرّدات سبک وزن ہیں)۔

عدل

خداوندِ متعال کی عدالت کو ثابت کرنے کے لئے متعدد دلائل ہیں جن میں سے ہم بعض کاتذکرہ کریں گے:

۱۔هر انسان، چاہے کسی بھی دین ومذهب پر اعتقاد نہ رکھتاہو، اپنی فطرت کے مطابق عدل کی اچهائی و حسن اور ظلم کی بدی و برائی کو درک کر سکتا ہے۔حتی اگر کسی ظالم کو ظلم سے نسبت دیں تو اس سے اظهار نفرت اور عادل کہیں تو خوشی کا اظهار کرتا ہے۔شہوت وغضب کا تابع ظالم فرمانروا، جس کی ساری محنتوں کا نچوڑ نفسانی خواہشات کا حصول ہے، اگر اس کا واسطہ محکمہ عدالت سے پڑ جائے اور قاضی اس کے زور و زر کی وجہ سے اس کے کسی دشمن کا حق پامال کر کے اس ظالم کے حق میں فیصلہ دے دے، اگر چہ قاضی کا فیصلہ اس کے لئے باعث مسرت وخوشنودی ہے لیکن اس کی عقل وفطرت حکم کی بدی اور حاکم کی پستی کو سمجه جائیں گے۔جب کہ اس کے برعکس اگر قاضی اس کے زور و زر کے اثر میں نہ آئے اور حق وعدل کا خیال کرے، ظالم اس سے ناراض تو ہو گا لیکن فطرتاً وہ قاضی اور اس کے فیصلے کو احترام کی نظر سے دیکھے گا۔

تو کس طرح ممکن ہے کہ جس خدا نے فطرت انسانی میں ظلم کو برا اور عدل کو اس لئے اچها قرار دیا ہو تاکہ اسے عدل کے زیور سے مزین اور ظلم کی آلودگی سے دور کرے اور جو( إِنَّ اللّٰهَ يَا مُْٔر بِالْعَدْل وَاْلإِحْسَانِ ) (۲) ،( قُلْ ا مََٔرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ ) (۳) ،( يَادَاودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِيْفَةً فِی اْلا رَْٔضِ فَاحْکُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَق وَلاَ تَتَّبِعِ الْهَوٰی ) ٤جیسی آیات کے مطابق عدل کا حکم دے وہ خود اپنے ملک وحکم میں ظالم ہو؟!

۲۔ظلم کی بنیاد یا تو ظلم کی برائی سے لاعلمی، یا مقصد و ہدف تک پهنچنے میں عجز یا لغووعبث کام ہے، جب کہ خداوندِمتعال کی ذات جهل، عجز اور سفا ہت سے پاک ومنزہ ہے۔

لہٰذا، علم، قدرت اور لا متناہی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ خداوند متعال عادل ہو اور ہر ظلم و قبیح سے منزہ ہو۔

۳۔ ظلم نقص ہے اور خداوندِمتعال کے ظالم ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ اس کی ترکیب میں کمال ونقصان اور وجود وفقدان بیک وقت شامل ہوں، جب کہ اس بات سے قطع نظر کہ یہ ترکیب کی بدترین قسم ہے، کمال ونقص سے مرکب ہونے والا موجود محتاج اور محدود ہوتا ہے اور یہ دونوں صفات مخلوق میں پائی جاتی ہیں نہ کہ خالق میں۔

لہٰذا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تخلیق کائنات( شَهِدَ اللّٰهُ ا نََّٔه لاَ إِلٰهَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلاَئِکَةُ وَ ا ؤُْلُوالْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْط لاَ إِلٰهَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُ ) (۵) ،

قوانین واحکام

( لَقَدْ ا رَْٔسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَ ا نَْٔزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْم النَّاسُ بِالْقِسْطِ ) (۶) اور قیامت کے دن لوگوں کے حساب وکتاب میں عادل ہے۔( وَقُضِیَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُوْنَ ) (۱)

عن الصادق (ع) :((إنه سا لٔه رجل فقال له :إن ا سٔاس الدین التوحید والعدل، وعلمه کثیر، ولا بد لعاقل منه، فا ذٔکر ما یسهل الوقوف علیه ویتهیا حفظه، فقال: ا مٔا التوحید فا نٔ لا تجوّز علی ربک ماجاز علیک، و ا مٔا العدل فا نٔ لا تنسب إلی خالقک ما لامک علیه ))(۲) اور هشام بن حکم سے فرمایا: ((ا لٔا ا عٔطیک جملة فی العدل والتوحید ؟ قال: بلی، جعلت فداک، قال: من العدل ا نٔ لا تتّهمه ومن التوحید ا نٔ لا تتوهّمه ))(۳)

اور امیر المومنین (ع) نے فرمایا:((کل ما استغفرت اللّٰه منه فهومنک،وکل ما حمدت اللّٰه علیه فهومنه ))(۴)

____________________

۱ توحید، ص ۳۰ ۔

۲ سورہ نحل، آیت ۹۰ ۔”باتحقیق خدا وند متعال عدل واحسان کا امر کرتا ہے“۔

۳ سورہ اعراف، آیت ۲۹ ۔ ”کہو میرے رب نے انصاف کے ساته حکم کیا ہے“۔

۴ سورہ ص، آیت ۲۶ ۔ ”اے داو دٔ (ع)!هم نے تم کو روئے زمین پر خلیفہ بنایا ہے تو تم لوگوں کے درمیان بالکل ٹهیک فیصلہ کرو اور ہویٰ وہوس کی پیروی مت کرو“۔

۵ سورہ آل عمران ، آیت ۱۸ ۔”خدا نے خود اس بات کی شهادت دی کہ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں ہے و کل فرشتوں نے اور صاحبان علم نے جو عدل پر قائم ہیں (یهی شهادت دی) کہ سوائے اس زبردست حکمت والے کے اور کوئی معبود نہیں ہے“۔

۶ سورہ حدید ، آیت ۲۵ ۔ ”هم نے یقینا اپنے پیغمبروں کو واضح و روشن معجزے دے کر بھیجا ہے اور ان کے ساته کتاب (انصاف کی)ترازو نازل کی تاکہ لوگ قسط وعدل پر قائم رہیں“۔

نبوت خاصّہ

چونکہ پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت رہتی دنیا تک کے لئے ہے اور آپ (ص) خاتم النبیین ہیں،لہٰذا ضروری ہے کہ آنحضرت (ص) کا معجزہ بھی ہمیشہ باقی رہے۔

دوسرے یہ کہ آپ (ص) کی بعثت کا دور کلام میں فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے مقابلے کا دور تھا اور اس معاشرے میں شخصیات کی عظمت و منزلت، نظم و نثر میں فصاحت و بلاغت کے مراتب کی بنیاد پر طے ہوتی تھی۔

ان ہی دو خصوصیات کے سبب قرآن مجید، مختلف لفظی اور معنوی اعتبارات سے حضور اکرم (ص) کی نبوت و رسالت کی دلیل قرار پایا۔ جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں:

۱۔قرآن کی مثل لانے سے انسانی عجز:

پیغمبر اکرم (ص) نے ایسے زمانے اور ماحول میں ظہور فرمایا جهاں مختلف اقوام کے لوگ گوناگوں عقائد کے ساته زندگی بسر کر رہے تھے۔کچھ تو سرے سے مبدا متعال کے منکر اور مادہ پرست تھے اور جو ماوراء مادہ و طبیعت کے قائل بھی تھے تو، ان میں سے بھی بعض بت پرستی اور بعض ستارہ پرستی میں مشغول تھے۔ باقی جو ان بتوںاور ستاروں سے دور تھے وہ مجوسیت، یہودیت، یا عیسائیت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔

دوسری جانب شهنشاہ ایران اور هرقل روم کمزور اقوام کی گردنوں میں استعمار و استحصال کے طوق ڈالے ہوئے تھے یا پھر جنگ و خونریزی میں سرگرم تھے۔

ایسے دور میں پیغمبر اسلام (ص) نے غیب پر ایمان اور توحید کے پرچم کو بلند کرکے کائنات کے تمام انسانوںکو پروردگار عالم کی عبادت اور کفر و ظلم کی زنجیریں توڑنے کی دعوت دی۔ ایران کے کسریٰ اور قیصرروم سے لے کر غسان و حیرہ کے بادشاہوں تک، ظالموں اور متکبروں کو پروردگار عالم کی عبودیت، قبولِ اسلام، قوانین الٰهی کے سامنے تسلیم اور خود کو حق و عدالت کے سپرد کرنے کی دعوت دی۔

مجوس کی ثنویت، نصاریٰ کی تثلیث، یہود کی خدا اور انبیاء علیهم السلام سے ناروا نسبتوں اور جاہلیت کی ان غلط عادات ورسوم سے، جو آباء و اجداد سے وراثت میں پانے کے سبب جزیرة العرب کے لوگوں کے ر گ وپے میں سما چکی تہیں، مقابلہ کیا اور تمام اقوام و امم کے مدمقابل اکیلے قیام فرمایا۔

باقی معجزات کو چهوڑ کر معجزہ قرآن کو اثبات نبوت کی قاطع دلیل قرار دیا اور قرآن کو چیلنج بناتے ہوئے بادشاہوں، سلاطین، نیز علمائے یہود اورعیسائی راہبوں جیسی طاقتوں اور تمام بت پرستوں کو مقابلے کی دعوت دی( وَإِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلیٰ عَبْدِنَا فَا تُْٔوا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِه وَادْعُوْا شُهَدَآئَکُمْ مِن دُوْنِ اللّٰهِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِيْنَ ) (۲)

____________________

۱ بحار الانوار ج ۶ ص ۵۹ ۔”امام نے اس حدیث میں پیغمبران خدا کی معرفت اور ان کی رسالت کا اقرار اور ان کی اطاعت کے واجب ہونے کے سلسلے میں فرمایا:کیونکہ مخلوق خلقت کے اعتبار سے اپنی مصلحتوں تک نہیں پہونچ سکتے تھے، دوسرے طرف خالق عالی ومتعالی ہے مخلوق اپنے ضعف و نقص کے ساته خدا کا ادراک نہیں کرسکتے لہٰذا کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ ان دونوں کے درمیان ایک معصوم رسول وسیلہ بنے جو خدا کے امر و نهی کو اس کمزور مخلوق تک پہونچا سکے ۔

اور ان کے مصالح و مفاسد سے آگاہ کرے کیونکہ ان کی خلقت میں اپنی حاجتوں کے مطابق مصلحتوں اور نقصان دینے والی چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت نہیں ہے“۔

۲ سورہ بقرہ ، آیت ۲۳ ۔”اگر تمہیں اس کلام کے بارے میں کوئی شک ہے جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس کا جیسا ایک ہی سورہ لے آو اور الله کے علاوہ جتنے تمهارے مددگار ہیں سب کو بلا لو اگر تم اپنے دعوے میںاور خیال میں سچے ہو“۔

مادہ ہے یا خدا؟

اس جگہ اگر کوئی یہ کھے کہ ان کا پیدا کرنے والا مادہ ہے جیسا کہ بعض لوگ اس نظریہ کے قائل ہیں تو ہم ان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ مادہ کیسے پیدا ہوا ؟اور اس کو کس نے پیدا کیا؟

ہمارے اس سوال کے جواب میں اھل مادہ کہتے ہیں:

”مادہ چونکہ پہلے سے موجود تھااور وہ ازلی ہے لہٰذا اس کے پیدا ہونے اوراس کو پیدا کرنے والے کی ضرورت ہی نہیں “

قارئین کرام ! آج کل کے سائنس نے اس نظریہ کو بہت ہی آسان طریقہ سے ردّ کیا ہے ، کیونکہ سائنس نے یہ بات واضح کردی ہے کہ یہ کائنات ازلی نہیں ہوسکتی، کیونکہ نظام کائنات کا دستور یہ ہے کہ گرم اجسام سے گرمی سرد اجسام کی طرف جاتی ہے اورذاتی طور پر اس کے برعکس نہیں ہوتی، مثلاً گرمی ٹھنڈی چیزوں سے گرم چیزوں کی طرف منتقل ہو، اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کائنات میں تمام اجسام کا درجہ حرارت متعادل رہتا ہے اور اس میں معین طاقت جذب ہوتی ہے ،اور اگر ایک روز ایسا آجائے کہ جب اس میں کیمیاوی اور طبیعی کارکردگی نہ ہو، تو اس کائنات میں کوئی شی بھی زندہ باقی نہ بچے، جبکہ ہم دیکھ رھے ہیں کہ اس کائنات میں حیات باقی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں مختلف قسم کی کارکردگی ہورھی ہے ، لہٰذا ہم یہ نتیجہ حاصل کرتے ہیں کہ یہ کائنات ازلی نہیں ہے اور اگر اس کو ازلی مان لیا جائے تو اس کائنات کی تمام موجودات کبھی کی ختم ہوگئی ہوتیں۔

چنانچہ آج سائنس نے ایسے آلات بنالئے ہیں جن کی وجہ سے زمین کی عمر کا پتہ لگایا جاسکتا ہے ، لیکن پھر بھی اس کے نتائج تخمینی ہوتے ہیں لیکن ان سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ کائنات کروڑوں اور اربوں سال پہلے ایجاد ہوئی ہے، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ازلی (ہمیشہ سے)نھیں ہے اور اگر ازلی ہوتی تو اس میں کوئی بھی عنصر نہ پایا جاتا، چنانچہ قوانین ”ڈینا میکا حراری“ " Thermo Dynamics "کا قانون دوم بھی اسی بات کی تصدیق کرتا ہے۔

لیکن وہ نظریہ جوکہتا ہے کہ” یہ کائنات دوری“ ہے یعنی پہلے یہ کائنات سُکڑی ہوئی تھی ، پھر پھیل گئی اور اس کے بعد پھر سُکڑ ے گی اوریہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔

لیکن یہ نظریہ بھی درست نہیں ہے اور نہ ہی اس کی دلیل قابل قبول ہے نیز نہ ہی اس کو علمی نظریہ کھا جاسکتا ہے، کیونکہ ”قوانین ڈینا میکا حراری“ " Thermo Dynamics " ، دلائل فلکی اور جیولوجی" Geological " ان تمام چیزوں سے مذکورہ نظریہ کی تائید نہیں ہوتی بلکہ یہ چیز اس جملہ کی تائید کرتی ہے کہ ”زمین وآسمان کو ابتداء میںخداوندعالم نے خلق کیا ہے“:

”لقد خلق الله فی البدایة السماوات والارض“

(بے شک خدا نے ہی زمین وآسمان کو ابتداء میں خلق کیا ہے۔)

اسی طرح یہ بے عیب سورج اور چمکتے ہوئے ستارے اوریہ زمین اپنی تمام زندگی کے اسباب کے ساتھ بہترین دلیل ہے کہ اس کائنات کی اصل واساس ایک خاص زمانہ سے مربوط ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بعد میں حادث ہوئی (یعنی ازلی اور ہمیشہ سے نہیں ہے۔)

اسی طرح علم کیمیا (کیمسٹری)بھی دلالت کرتا ہے کہ تمام مادے زوال اور فنا کی طرف بڑھ رھے ہیں چاھے ان کی رفتار تیز ہو یا کم، لہٰذا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادہ ہمیشہ باقی نہیں رھے گا ،اور نہ ہی یہ مادہ ازلی تھا پس اس مادہ کی بھی کوئی ابتداء تھی کہ جب یہ وجود میں آیا ، چنانچہ اس بات پر علم کیمیا اور سائنس بھی دلالت کرتے ہیںکہ مادہ کی ابتدا ء تدریجی نہیں بلکہ یہ اچانک اور یکایک پیدا ہوا ہے ،لہٰذا سائنس کے ذریعہ اس کے پیدا ہونے کا وقت معین کیا جاسکتا ہے ، تو پھر ان تمام چیزوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ عالَمِ مادی مخلوق ہے اور یہ جب سے خلق ہوا ہے تو اسی وقت سے خاص قوانین کے تحت ہے اور کائنات کے قوانین کے ساتھ محدود ہے جس میں کوئی اتفاقی عنصر نہیں پایا جاتا۔

قارئین کرام ! تقریباً سوسال پہلے روس کے ایک ماھر ”مانڈلیف“ نے ایسے کیمیاوی عناصر مرتب کئے جو ذرات کے وزن کو ترتیب دوری کے لحاظ سے بڑھادیتے ہیں ،اور اس نے ایسے عناصر کا پتہ لگایا ہے جن کے ذریعہ مادہ کی ایک نئی قسم ایجاد ہوتی ہے جس کی صفات تقریباً ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی ہیں، تو کیا ان تمام باتوں کو دیکھ کر یہ کھا جاسکتا ہے کہ یہ کائنات تصادفی اور اتفاقی طور پر پیدا ہوگئی ہے؟!!

بتحقیق ”مانڈالیف“ کے کشفیات کو ”مصادفہ دوری“ کا نام نہیں دیا جاسکتا، البتہ اسے”قانون دوری“ " Periodic Law "کھا جاسکتا ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ان کو مصادفہ اور اتفاق کا نام دیدیں جیسا کہ ماھرین سائنس کا درج ذیل نظریہ :

عنصر ”الف“ ،عنصر ”ب“ کے ذریعہ متاثر ہوتا ہے لیکن عنصر ”الف“ ،عنصر ”ج“ کے ذریعہ متاثر نہیں ہوتا۔؟!

نھیں ھرگز نھیں! کیونکہ سائنسدانوں کا یہ ماننا ہے کہ اس کائنات کے تمام عنصر ”الف“ ،وعنصر ”ب“ میں قوت جاذبہ اور رجحان ہوتا ہے لیکن یہ طاقت عنصر”ج“ میں نہیں ہوتی۔

چنانچہ ماھر سائنسداںافراد کا ماننا ہے ھلکے معادنی ذرات اور پانی کے درمیان سرعت تفاعل معادنی ذرات کے اوزان کی زیادتی کی وجہ سے بڑھتی رہتی ہے ، اس حال میں کہ عناصر ”ھالوجینیہ “ جو جدا ہوئے ہیں ان کی گردش ،مذکورہ گردش کے بالکل مخالف ہوتی ہیں، اور آج تک بھی اس مخالفت کا سبب کسی کو معلوم نہ ہوسکا، اس کے باوجود بھی کسی بھی شخص نے اس چیز کو محض مصادفہ کا نام نہیں دیا ہے، اور نہ کسی نے یہ گمان کیا ہے کہ ان عناصر کی مذکورہ گردش کبھی کبھی ایک دو مادہ کے بعد معتدل ہوجاتی ہے، یا زمان ومکان کے اختلاف کی بناپر معتدل ہوجاتی ہے، اور نہ ہی کسی کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ تمام ذرات بنفسہ کبھی کبھی اپنے تفاعل سے خارج ہوجاتے ہیں، یا برعکس فعالیت کرنا شروع کردیتے ہیں یا بغیر کسی سوچے سمجھے اپنی فعالیت انجام دیتے ہیں۔

سائنس نے ترکیب ذرات کوکشف کیا ہے کہ کیمیا کی وہ فعالیت جو ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور ان کی خاصیت کو ملاحظہ کرتے ہیں یہ سب کے سب، خاص قوانین کے تحت ہوتے ہیں جن میں تصادفی اور اتفاقی کوئی چیز نہیں ہے۔

تاکہ ہم نامعلوم ذرات کے ذریعہ اس واضح نظریہ کو اخذ کریںکہ ہم یہ تصور کریں کہ اگر ”ھیڈروجن“ " Hydrogen "کے کروڑوں ذرات ایک جگہ جمع ہوجائےں تو ایک ملی میڑ ( m.m )جگہ میں جمع ہوجاتے ہیں۔

بالفرض اگر ہم پیاسے ہو ں اور ہم پانی پئیں تو جو پانی ہم پیتے ہیں تو اس میں کچھ ریت کے ذرات ہوتے ہیں کیونکہ سمندر اور زمین میں ہونے کی وجہ سے پانی میں مٹی کے ذرات پائے جاتے ہیں۔

اور کبھی کبھی یہ ذرات بہت ہی باریک باریک پتھر سے تشکیل پاتے ہیںجو بالکل ذرہ کے برابر ہوتے ہیں۔

اور یہ ذرہ ایک نوات ( بہت ہی باریک پتھر )سے وجود میں آتا ہے کیونکہ یہ نوات باریک پتھر سے بنتے ہیں، چنانچہ ان میں کے بعض پروٹن ہوتے ہیںاور بعض نیوٹرن ، جبکہ ان کے اردگرد ایک بعید فاصلہ پر الکٹرون گردش کرتی ہے۔

چنانچہ سائنسدانوں نے اس نظام میں بہت سی چیزوں کو کشف کیا ہے جن کی اب تک ۳۰/ قسموں کاپتہ چل چکا ہے جن میں سے بعض وہ ہیں جن کو ہم نے ابھی ذکر کیا ہے جیسے ”پروٹن“، ”نیوٹرون“ اور ”الکٹرون“۔ " Proton","Neutron", "Electron "۔

اور ماھرین کا کہنا ہے کہ ”الکٹرون“ کے چکّر ایک سیکنڈ میں ۷ بلین " Billion " (ملین در ملین) ہوتے ہیں۔

جبکہ بعض ذرات ایسے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے میں جذب ہوجاتے ہیں اور بعض ذرات کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں چونکہ ذرات کے بھی کچھ قوانین ہیں جو انسان میں شادی اور طلاق کے قوانین سے دقیق تر ہیں۔

اسی طرح ہم جس نمک کو مختلف غذاؤں میں استعمال کرتے ہیں اس کے دو جز ہوتے ہیں جو ایک ساتھ رہتے ہیں اور اگر اس کے یہ دو جز ایک ساتھ نہ ہوں تو پھر ان میں کا ہر ایک جزء جسم میں فساد اور خرابی ایجاد کردیتا ہے، کیونکہ نمک میں دو درج ذیل چیزیں ہوتی ہیں:

۱ ۔”کلورائیڈ“ " Chloride " جو ایک قسم کی گیس ہوتی ہے جس کو اگر کوئی زندہ حیوان سونگ لے تو وہ موت کے گھاٹ اتر جائے۔

۲ ۔” سوڈیم“ " Sodium "جو ایک نرم عنصر ہوتا ہے جو پانی کو خشک کردیتا ہے اور اس کے اندر سے دھواں اور شعلے نکلتے ہیں یہ بھی اگر کسی کے بدن میں داخل ہوجائے تو وہ بھی مرجائے ، لیکن یھی دونوں زھریلی اور خطرناک چیزیں جب آپس میں مل جاتی ہیں تو نمک بن جاتاھے جس کے بعد نہ نقصان دہ ہوتا ہے اور نہ شعلہ ور۔

اسی طرح پانی کے بھی تین اجزاء ہوتے ہیں جس طرح سے اسلامی قوانین کے مطابق انسان کو یہ اختیار ہے کہ وہ ایک، دو تین یا چار بیویوں سے (ایک وقت میں) شادی کرسکتا ہے اسی طرح ذرات کا قانون بھی ہے پس جب ”کلورائیڈ“ ”سوڈیم“ سے ملتا ہے تو ہمارے لئے نمک بن جاتا ہے گویا یہ کلورڈ ایک ذرہ سے ملا ہے، اسی طرح جب آکسیجن،" Oxygen "، ہیڈروجن " Hydrogen " کے دو ذروں سے ملتا ہے تو پانی بنتا ہے، اور جب ”نیٹروجن“ تین ذروں سے ملتا ہے تو ”امونےا“نامی گیس بنتی ہے (جس کا مزہ منھ جلانے والا ہوتا ہے جو بے رنگ اور تیز مزہ رکھتی ہے) اور جب ”کاربن“ " Carbon " ہیڈروجن " Hydrogen "کے چار ذروں سے ملتا ہے تو ”میٹھن“ " Methane "نامی گیس بنتی ہے۔

اسی طرح بعض عناصر ایسے ہیںجو انفرادی طور پر رہتے ہیںاور ان میں کے بعض ذرات کے نام اس طرح ہیں: ”نیون“ اور ”راڈون“(جو دونوںگیس ہیں)

قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ کیا کہ عالم ذرات بھی کتنا عجیب ہے جس میں مختلف فائدہ مندجزئیات ہوتے ہیں اور یہ ہماری زمین پر اس طرح ایک دوسرے سے مرتبط ہیں کہ انسان تصور کرنے سے قاصر ہے ، بس ایسے سمجھ لیجئے کہ جس طرح کسی بھی زبان کے حروف (جیسے عربی زبان میں حروف تہجی کی تعداد ۲۸/ ہے ) کو ایک دوسرے سے ملاتے جائےں، ان سے کلمات بنتے جائیں تب آپ دیکھیں کہ کتنے عنصر بنتے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ لاکھوں او ر کروڑوں کی تعداد ہوجائے گی۔

مثال کے طور پر یھی تین چیزیں :

۱ ۔ کاربن۔" Carbon " ۔

۲ ۔آکسیجن" Oxygen " ۔

۳ ۔ ہیڈروجن" Hydrogen "۔ کو اگر ایک دوسرے سے ملائیں تو لاکھوں کیمیائی مرکب تیار ہوسکتے ہیں جن میں سے ہر ایک کی الگ الگ خاصیتیں ہونگی۔

جیسا کہ ماھرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے مختلف پروٹن " Protein "کی اتنی قسم ہیں جن کی تعداد دسیوں لاکھ تک پهونچتی ہے جبکہ پروٹن" Protein "، کاربن" Carbon "، ہیڈروجن" Hydrogen " اور آکسیجن،" Oxygen " کے بغیر وجود میں نہیں آتی۔اور کبھی کبھی پروٹن کے ساتھ ”فاسفور " Phosphore " اور ”کاربرائڈ“" Carbide "هوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔

اسی طریقہ سے ہمارے لئے حیات کے تمام جزئیات واضح ہوتے جاتے ہیں اوریہ جزئیات حیات اسی طریقہ سے جاری وساری ومتحدو منفصل (جدا) ہوتے جاتے ہیں، چنانچہ اس زندگی کے تمام جزئیات کے ادوار اور اس کے اتحاد وانفصال کی تمام صورتیں ایک معین اور معلوم مقدار کے مطابق رواں دواں ہے نہ اس میں کمی ہوتی ہے نہ زیادتی، کیونکہ ھرحالت کے لئے ایک قطعی قانون اور محکم نظام ہوتا ہے ۔

کیا کوئی صاحب عقل اور مفکر انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ عقل وحکمت سے خالی مادہ اپنے آپ کو خود بخود اچانک وجود میں لے آئے؟! یا یہ مجرد مادہ پہلے اس کائنات کے قوانین ونظام کا موجداور پھر ان قوانین کو اپنے اوپر لاگوبھی کردے یعنی پہلے ان قوانین کو اس مادہ نے ایجاد کیا اورپھر یہ مادہ ان قوانین کے ماتحت ہوجاتا ہے؟!!

بلا شبہ ہر صاحب عقل کا جواب یھاں نفی میں ہوگا، بلکہ مادہ جب طاقت میں تبدیل ہوتا ہے یا مادہ میں طاقت آتی ہے تو یہ تمام چیزیں معین قوانین کے تحت ہوتی ہیں، اور وہ مادہ جو وجود میں آیا ہے وہ بعد میںان قوانین کا محکوم ہوتاھے یعنی اس پر معین قوانین لاگو ہوتے ہیں۔

اور جب ہمارا یہ مادی عالم اپنے جیسا( عالم) خلق کرنے یا ایسے قوانین تعین کرنے سے، (جو اس کے زیر اثر ہوں)عاجز ہے تو پھر ضروری ہے کہ اس عالم کی خلقت ایک ایسے موجود کے ذریعہ وجود میں آئے جو مادہ کے علاوہ ہو۔

چنانچہ ہماری اس بات کی تائید قوانین حرارت کرتے ہیں، اور ہم انھیں کے ذریعہ طاقت میسورہ اور طاقت غیر میسورہ کے درمیان فرق محسوس کرتے ہیں،اور بتحقیق یہ بات ظاہر ہے کہ جب کوئی بھی حرارت متغیر ہو توطاقت میسورہ کا ایک معین جز طاقت غیر میسورہ میں تبدیل ہوجاتا ہے، جبکہ یہ بات بھی واضح ہے کہ طبعیات میں یہ تغییر و تبدیلی اس کے برخلاف نہیں ہوتی،اور یہ” ڈینا میکا حرارتی قوانین“ " Thermo Dynamics "کا دوسرا قانون ہے۔

اور جب یہ بات طے ہوگئی کہ مادہ ازلی نہیں ہے بلکہ حادث ہے (جیسا کہ تفصیل گذر چکی ہے) تواس کے لئے کسی محدث کا ہونا ضروری ہے،کیونکہ کوئی بھی چیز اپنے کو پیدا نہیں کرسکتی ،بلکہ یہ بات عقلی طور پر محال ہے کہ کوئی شے اپنی موجد ہو۔

پس نتیجہ یہ نکلا کہ مادہ کا خالق اور موجد خداوندعالم کے علاوہ کوئی دوسر انھیں ہوسکتا۔

صُدفہ نظریہ کے دلائل اور اس کی ردّ

اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ” تطورمادہ“ (حرکت مادہ) بر بناء صُدفہ ہے،تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ مصادفت (اتفاق) موجودات عالم کے لئے بمنزلہ سبب ہے، اور کوئی بھی عقل اس بات کو قبول نہیں کرسکتی۔

چنانچہ علم طبیعات کے ماھر ڈاکٹر ”نوبلٹشی“کہتے ہیں:

”میں کبھی بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ صرف مصادفت (اتفاق) الکٹرون پہلے پروٹن کے لئے مظھر ہو یا پہلے ذرات، یاپھلے احماض الامینیةیا پروٹوپلازم الاول " Protoplasm ۱st " یا بذرة اولیٰ یا عقل اول کے لئے مظھر ہو !! بلکہ میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کا مظھر اور مفسر واجب الوجود اللہ کی ذات ہے جو کائنات کی تمام اشیاء پر محیط ہے۔

قارئین کرام ! مصادفہ اور احتمال کا نظریہ ریاضی " Mathe matical " لحاظ سے تفصیلی طور پر گذر چکاھے ، جس کی بنا پر ہم بعض چیزوں کے بارے میں اتفاقی وجودکے قائل ہوئے کہ جن کی تفسیر اس کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتی لیکن مذکورہ بحث کے مطالعہ سے اس بات پر قادر ہوجاتے ہیں کہ ہم ان اشیاء کے درمیان اتفاقی اور غیر اتفاقی اشیاء کے درمیان فرق کرلیں، لہٰذا اب ہم یھاں پروہ بحث بیان کرتے ہیں جس میں مادہ کو منشاء حیات قرار دیا گیاھے۔

چنانچہ بلا شبہ یہ بات طے شدہ ہے کہ اساسی مرکبات کے پروٹن" Protein " تمام زندہ خلیے " Cells "پانچ عناصرسے مرکب ہوتے ہیں:

۱ ۔ کاربن" Carbon "۔

۲ ۔ ہیڈروجن" Hydrogen "۔

۳ ۔ نیٹروجن" Nytrogen "۔

۴ ۔ آکسیجن،" Oxygen " ۔

۵ ۔کبریت( سلفور)" Sulfur "

اور پروٹن کے ایک جز میں ۰۰۰’۴۰ ذرات پائے جاتے ہیں، اور اب تک سائنس نے ۱۰۲/ عناصر کا پتہ لگایا ہے توکیا ان کی تقسیم ایک اتفاقی اور تصادفی ہے،اورجب یہ پانچ عناصر ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو پروٹن کا ایک جز بنتا ہے ، لہٰذا جب اس پروٹن کے ایک جز کے لئے اتنا دقیق حساب درکار ہے تو اس مادہ کے لئے جو تمام چیزوں کا لازمہ ہے اس میں ان ذرات کا حساب کس قدر دقیق ہونا چاہئے۔

جیسا کہ سویسی ریاضی داں ”ٹشالزیوجن“ نے ا ن تمام اسباب کا حساب وکتاب پیش کیا ہے، چنانچہ وہ کہتا ہے کہ اس کائنات کا صدفةً اور اتفاقی پیدا ہونے کا احتمال اربوں اور کھربوں میں سے صرف ایک احتمال ہے ، کیونکہ اس نے اس طرح حساب کیا ہے کہ اگر عدد ۱۰/ کو ۱۰ میں ۱۶۰/ مرتبہ گنا کیا جائے تو اربوں کھربوں اور پدم وغیرہ سے بھی بڑی رقم بنی گی جس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے تو اس رقم میں سے صرف ایک احتمال پایا جاتا ہے اور پھر کائنات کے لئے مادہ کی آزمایش کے لئے ملیونوں بار آزمائش کی ضرورت پڑی گی کیونکہ صرف زمین پر موجود پروٹن کے ایک جز کے لئے اربوں کھربوں سال کی ضرورت پڑے گی جس کا حساب مذکورہ دانشمند نے اس طرح کیا کہ عدد ۱۰ کو ۱۰ میں ۲۴۳ بار گنا کیا جائے تو یہ رقم تو گذشتہ رقم کے لاکھوں گنا ہوجائے گی جس کو بیان کرنے کے لئے انسان کے پاس الفاظ نہیں ہے ، مطلب یہ ہے کہ ان تمام حساب وکتاب کے پیش نظر اس کائنات کو اتفاقی کی پیدا وار کہنے کی کوئی صورت نہیں ہے، کیونکہ زمین کی پیدائش کا اندازہ لگایا لیا گیا ہے لیکن اس اعتبار سے ہزاروں برابر سال درکار ہیں تاکہ صرف زمین پر موجودات اس اعتبار سے پیدا ہوں۔

اور اگر ہم مذکورہ قاعدہ سے تھوڑا تنزل کریں اور ”ھیموغلوبین“ " Hemogbobin " کے ذرات کو دیکھیں جو کہ خون میں لال رنگ کے ہوتے ہیں (جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ پروٹن" Protein " کی ترکیب کا سب سے کم درجہ ہے) تو ان میں ”کاربن“ " Carbon "کے ۶۰۰/ متحد ذروں سے بھی زیادہ پائیں گے جن میں ہیڈروجن " Hydrogen "کے ۱۰۰/ ذروں سے کم نہیں ہوتے اور نیٹروجن کے ۲۰۰/ ذروں سے زیادہ ہوتے ہیں اسی طرح آکسیجن،" Oxygen " کے بھی ۲۰۰/ ذروں سے زیادہ ہوتے ہیں یھاں تک کہ انسان میں ۲۵/ ٹریلین (۲۵,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,)) خون کے دائرے ہوتے ہیں۔

اسی طرح علم کیمیا کے ماھر ڈاکٹر” بوھلڑ “ کہتے ہیں :

اورجس وقت انسان، قوانین مصادفہ (اتفاقی نظریہ) کو ملاحظہ کرتا ہے تاکہ اس بات کا اندازہ لگائے کہ کائنات کے کسی ایک پروٹن کے کسی ایک جز کا اتفاقی ہونا کھاں تک درست ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی عمر تقریباً تین بلین(ملیون در ملیون) (۳,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,) سال یا اس سے بھی زیادہ ہے لیکن اس طویل مدت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کائنات اتفاقی نہیں ہے۔

قارئین کرام ! مذکورہ باتوں کے پیش نظر یہ بات ثابت ہے کہ یہ پروٹن " Protein " زندگی دہندہ کیمیاوی مواد ہیں اور ان میں زندگی نہیں پائی جاتی مگر جب تک ان میں وہ عجیب وغریب راز ودیعت نہ کیا جائے جس کی حقیقت کو ہم نہیں پہچانتے۔

بتحقیق اساسی مواد میں جن میں" Hydrogen","Oxygen","Carbon ", کے ساتھ کچھ عناصر نیٹروجن اور دیگر عناصر پائے جاتے ہیں تو ان کے لئے ملیونوں ذرات پائے جاتے ہیں تب ایک چھوٹا سا مواد بنتا ہے ، اور جب ہم اس سے بڑے جسم والے مواد کو دیکھتے ہیں تو اس ذرات کی بنا پر مصادفہ (اتفاقی) نظریہ کا بہت کم احتمال باقی بچتا ہے جس کو عقل انسانی سوچنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتی اور اس کو ماننے سے انکار کردیتی ہے ۔

چنانچہ مذکورہ گفتگو کے پیش نظر ”علوم اکاڈمی نیویورک“ کے صدر استاد ”کرس موریسن“ وضاحت کرتے ہیں:

”فرض کریں کہ آپ کے ایک تھیلے میں پتھر کے ۱۰۰ عدد ٹکڑے ہیں جن میں ۹۹/ کالے ہیں اور ایک سفید ہے،اور ان کو آپس میں ملالیںاس کے بعد اگر آپ تھیلے میں ھاتھ ڈال کر ان میں سے سفید پتھر نکالنا چاھیںتو اس سفید پتھر کے نکلنے کا احتمال ایک فیصد ہے، اسی طرح اگر آپ اس کے بعد دوبارہ پتھر نکالنا شروع کریں تو بھی سفید پتھر کے نکلنے کا احتمال ایک ہی فیصد رھے گا لیکن اگر اسی کام کو دومرتبہ لگاتار نکالیں تو اس کا احتمال دس ہزار میں سے ایک ہے اور اگر تیسری مرتبہ لگاتار نکالنا چاہیں تو اس کا احتمال دس لاکھ میں سے ایک ہے، اور اگر اس کے بعد اس کام کو چار بار لگاتار نکالیں تو رقم زیادہ ہوجائے گی، کیونکہ ہر بار اس عدد کو اسی میں گنا کیا جائے گا، مثلاً ۱۰۰ گنا ۱۰۰ دس ہزار ہوتے ہیں اسی طرح اگر تین بار لگاتار نکالنا چاھیں تو دس ہزار دس ہزار میں گنا کیا جائے گا جس سے دس لاکھ بن جائے گا، تو جتنی مرتبہ میں آپ اس سفید پتھر کو نکالنا چاھیں تو اس عدد کو اسی میں گنا کرتے چلے جائیں گے ، اور اس سفید پتھر کے نکلنا کا چانس گھٹتا چلا جائے گا۔

چنانچہ اس طریقہ کار سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے قارئین کو علمی اورواضح طریقہ سے ان دقیق حدود کو بیان کریں جن کے ذریعہ زمین پر زندگی بسرکرنا ممکن ہے اور حقیقی برھان کے ذریعہ زندگی حقیقی کے تمام مقومات کو ثابت کریں اور یہ بتائیں کہ کسی بھی وقت میں کوئی ایک ستارہ صرف صدفہ اور اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوا ہے۔

کیونکہ جب ہم عالم مادی کی طرف دقت سے دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا ذرہ اور بڑے سے بڑاایٹم ، ان میں خاص قوانین اور حساب وانضباط پایا جاتا ہے۔

یھاں تک کہ الکٹرون بھی ایک مدار سے دوسری مدار کی طرف نہیں جاتے جب تک کہ وہ ان کو اس طرح کی مساوی طاقت نہ مل جائے تاکہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ ہوجائے، گویا ایک مسافر کی طرح ہے کہ جب تک اس کو زاد راہ نہ دیا جائے وہ سفر نہیں کرسکتا۔

چنانچہ ستاروں کی پیدائش اور ان کی موت کے بھی خاص قوانین اور اسباب ہیں۔

ستاروں کے گھومنے میں طاقت متعادل ہے۔

اسی طرح مادہ ایک طاقت میں تبدیل ہوتا ہے اور سورج کے جسم کو نور معادلة کی طرف روانہ کرتا ہے۔

اسی طرح نور کے لئے بھی ایک معین رفتار ہے۔

اسی طرح ہر موج کے لئے طول ہوتا ہے اور حرکت کرنے والی طاقت بھی اور اس کی معین رفتار بھی۔

جیساکہ ہر معادن کے لئے کچھ ایسے مقناطیسی واضح اجزاء وخطوط ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے یہ معادن گردشی سسٹم میں قابل شناخت ہیں۔

اسی طرح ہر معدن اپنی خاص مقدار میں ہوتا ہے اس میں گرمی او ر سردی خاص مقدار میں ہوتی ہے اسی طرح ہر معدن کے لئے ضخامت اور بدن اور خاص وزن ہوتا ہے۔

چنانچہ ”اینش ٹن“ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہر معادن کے جسم اور اس کی رفتار میں خاص تناسب ہے ، اسی طرح زمانہ اور نظام حرکت جو ایک متحرک مجموعہ ہے اس میں اور زمان ومکان میں رابطہ پایا جاتا ہے۔

جس طرح بجلی بھی خاص قوانین کے تحت پیدا ہوتی ہے۔

اسی طرح زلزلہ جس کے بارے میں کھا جاتا ہے کہ یہ بے قانونی کی وجہ سے حادث ہوتا ہے لیکن یہ بھی ایک خاص نظام کے تحت ہوتا ہے۔

اسی طرح کرہ زمین کا حجم اور اس کی سورج سے دوری ، اسی طرح سورج کی گرمی اور اس کی شاعیں جن کی وجہ سے مختلف چیزوں کو حیات ملتی ہے ، اسی طرح زمین کا اوپری حصہ، نیزپانی کی مقدار ، اور ”ڈائی آکسائیڈ کاربن ثانی“" Carbon Dioxide "اسی طرح نایٹروجن کا حجم ، اور انسان کی پیدائش اور اس کا زندگی بھر باقی رہنا، یہ تمام کی تمام (کسی کے )ارادے اور قصد پر موقوف ہیںاور جیسا کہ معلوم ہوا ہے کہ یہ تمام چیزیںدقیق اور باریک حساب کے تحت ہوتے ہیں ،توکیا ان سب کا اتفاقی طور پر پیدا ہونا ممکن ہے؟!!

لیکن مادی لوگوں نے اتفاقی نظریہ کو ثابت کرتے ہوئے کھا ہے:

”بالفرض اگر حروف ابجد سے ایک صندوق بھرا ہوا ہو جس کی ترتیب وتنظیم کو لاکھوں اور کروڑوں مرتبہ لاتعداد صدیوں میں انجام دیا گیا ہو ، اس صورت میں کوئی مانع پیش نہیں آتا کہ ہم ایک منظوم قصیدہ کے نظم ونسق وترتیب کو صرف ایک دفعہ میں جدا کردیں، چنانچہ اس صورت میں قصیدہ کے حروف کی دوبارہ ترتیب میںصرف ہم کو ایک عمل کرنا پڑے گا اور وہ عمل وھی ہے جو ہم نے قصیدہ کی ترتیب وتنظیم کے جدا کرنے میں انجام دیا تھا، پس ترتیب جدا کرنے میںہم کو صرف ایک عمل (مصادفت)کے علاوہ اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوئی۔

اسی طریقہ سے ہمارا یہ عالم مادی جس کے بارے میں بہت سی ممکنہ مصادفات (اتفاقات) ہماری عقل میں آسکتی ہیں چنانچہ گذشتہ مثال کی طرح ہم عالم مادی میں بھی یھی طریقہ اپنا سکتے ہیں یعنی عقل اس بات سے منع نہیں کرتی کہ ہم اس نظام میں متعدد پائے جانے والے اتفاقات میں سے ایک اتفاق کو جدا کرلیں، اور یہ عالم مادہ چاھے عالَم جماد ہو یا عالم حیات۔“

لیکن ان کے قول کو ردّ کرنے کے لئے مذکورہ مثال کی تحلیل کرنا ہی کافی ہے، جس میں چند احتمالات پائے جاتے ہیں:

۱ ۔سب سے پہلے ہمارے پاس ایسے حروف ہونا ضروری ہے جن سے قصیدہ کھا جاسکتا ہو، ان میں سے نہ ایک حرف کم ہو اور نہ زیادہ۔

۲ ۔ ان حروف کومنظم ومترتب کرنے والی طاقت کا ہونا بھی ضروری ہے۔

۳ ۔ اس طاقت کا باقی رہنا تاکہ نظم وترتیب ہوتی رھے اور بیچ میں متوقف نہ ہو۔

۴ ۔ ایسی بافہم قوت کا ہونا ضروری ہے جو قصیدہ تمام ہونے پر تنظیم وترتیب کی حرکت کو موقوف کردے۔

چنانچہ ان چاروں احتمالات میں ان کے دعویٰ کو باطل کرنے والی دلیل موجود ہے۔

پھلے فرضیہ میں ہم یہ سوال کریں گے کہ مذکورہ حروف جن کو ترتیب دیا گیا کس طرح پیدا ہوئے؟ اور مادہ مختلف اجزاء میں کس طرح تقسیم ہوا اور اس طرح کے نتائج کیسے برآمد ہوئے؟ اس کے بعد اس تقسیم کے لئے کس طرح اتحاد کی قابلیت پیدا ہوئی؟!

دوسرے فرضیہ میں ہم یہ سوال کریں گے :

وہ کونسی طاقت ہے کہ جس کے تحت یہ ترتیب وتنظیم انجام پائی اور کیا یہ عقلی طور پر صحیح ہے کہ یھی حروف بذات خود اس بات کی صلاحیت رکھتے ہوں کہ وہ خود بخود محرک ہوکر کوئی قصیدہ بن جائےں؟

تیسرے فرضیہ میں ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ حروف کے درمیان ایک قوت محرکہ پائی جاتی ہے جو تنظیم وترتیب کاکام انجام دیتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ کونسی طاقت ہے جو اس قوت محرکہ کو اثنائے حرکت میں رکنے نہیں دیتی، کیا اس قوت محرکہ کے پاس اس حرکت کو مسلسل جاری رکھنے کا ادراک پایا جاتا ہے؟!

چوتھے فرضیہ میں ہمارا سول یہ ہے کہ وہ طاقت کونسی ہے جس نے اس قصیدہ کے تمام ہونے پر اس قوہ محرکہ کے استمرار کو روک دیا،اور پھریہ قوت کیوں اس کام کو مسلسل جاری رکھنے سے متوقف ہوگئی؟!

( إِنَّ اللهَ یُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ اٴَنْ تَزُولاَوَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ اٴَمْسَکَهُمَا مِنْ اٴَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إِنَّهُ کَانَ حَلِیمًا غَفُورًا ) ( ۳۹ )

”بے شک خدا ہی سارے آسمان اور زمین اپنی جگہ سے ہٹ جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر (فرض کرو کہ) یہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو پھر اس کے سوا انھیں کوئی نہیں روک سکتا بے شک وہ بڑا بردبار (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔“

قارئین کرام ! گذشتہ مطالب کے پیش نظریہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مذکورہ نظریہ کو نہ تو منطق قبول کرتی ہے اور نہ ہی عقل تسلیم کرتی ہے،چنانچہ یہ تمام احتمالات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ایک ایسی قوت کا ہونا ضروری ہے جو ازلی ، ابدی ، ہمیشگی اور صاحب عقل ہو،

اور اسی نے اس عظیم کائنات کو بغیر کسی اضطراب و اتفاق کے مرتب و منظم طریقہ سے خلق کیا ہے ۔

ہم نظریہ صدفہ کے باطل ہونے کے سلسلے میں مزید عرض کرتے ہیں:

اگر ہم بدون حیات مادہ میں حیات کا تصور کریں تو ہماری عقل دوچیزوں میں سے ایک چیز کو قبول کرتی ہے اور اس میں کسی تیسری چیز کا تصور نہیں :

۱ ۔ یا تو حیات مادہ کی خصوصیات اور لوازم میں سے ہے تو پھر اس صورت میں حیات کی خلقت کے لئے خالق مرید کی کوئی ضرورت نہیں !

۲ ۔ یا پھر حیات کا کوئی خالق ہے۔

پس اگر کوئی یہ کھے کہ حیات اورزندگی مادہ کی خاصیتوں میں سے ہے تو ہم اس سے یہ کہیں گے کہ اس صورت میں مادہ ازلی اور ابدی ہے جس کا اول وآخر نہیں ہے اور وہ ازل سے اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ موجود ہے، اور اس کی خصوصیات اس کے ساتھ ہیں چاھے جھاں بھی رھے۔

لیکن اس صورت میں یہ کہنا غلط ہوگا کہ فلاں ستارہ پیدا ہوا اور فلاں ستارہ پیدا نہیں ہوا کیونکہ حیات کی تمام خصوصیات کا بغیرکسی اثر کے اربوں سال تک باقی رہنے کا کوئی مقصد نہیں ہے کہ حیات ایک زمانے کے بعد ظاہر ہو جس کا تاریخ نے اربوں سال کا حساب کیا ہے لہٰذا اس جگہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حیات اتنے طولانی عرصے کے بعد کیوں ظاہر ہوئی جبکہ حیات کے خصوصیات ازل سے موجود ہیں؟!!

اور اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ حیات کا مادہ ازلی ہے تو اب سوال یہ در پیش ہے کہ یہ اتفاق(صدفہ) سے پیدا ہوکر دائمی کسیے ہوگئی؟ اوریہ اتنی طولانی مدت کھاں رھی ؟ یھاں تک کہ وہ یکایک بغیر کسی ارادہ وقصد کے وقوع پذیرهوگئی ؟!!

پس ان تمام باتوں سے یہ ثابت ہوا کہ ہم اس دوسرے فرضیہ کو صحیح مانیں کہ اس مجرد(بدون حیات) مادہ کے لئے ظهور حیات ایک خالق ازلی، مریداور صاحب اختیار سے وجود میں آئی ہے جو اس کے ظهور کے لئے زمانہ معین کرتا ہے اور جس جگہ رکھنا چاھے رکھتا ہے ،پس اسی نے اس کائنات کو اپنے ارادہ اور حکمت سے خلق کیا ہے، اور اسی کا نام اللہ تبارک وتعالیٰ ہے۔

زمین پر حیات کی شروعات

ہم اپنی بات کو تمام کرنے سے پہلے اس سوال کا جواب دینا اپنے لئے ضروری اور مناسب سمجھتے ہیں :زمین پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟ اور کیا اس حیات کی اصل سورج ہوسکتا ہے؟!

لہٰذا ہم اس سوال کے جواب میں یہ عرض کرتے ہیں کہ حیات اور زندگی کیا ہے؟ کیا یہ حجم والی چیز ہے یا وزن دار مادہ؟ یا یہ ان دونوں چیزوں سے مل کر تشکیل پاتی ہے؟

حیات ایک ایسا اثر ہے جس کا ایک زندہ خَلیہ " Cell "میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے وہ بھی ٹلسکوپ " Telescope " وغیرہ کے ذریعہ، لہٰذا جب یہ معمولی اور سب سے چھوٹا نقطہ جو ”پروٹو پلازم“ " Protoplasm "سے مخلوط ہوتا ہے اور اس میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہیںجو ہوا میں سے " Carbon Dioxide۲th "خورشید سے حاصل کرتا ہے ، اور پانی سے " Hydrogen ", نکلتا ہے چنانچہ ان دونوں چیزوں سے اس کی غذا فراہم ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ رشد ونموکرتا ہے۔

چنانچہ ماھرین نے ”پروٹو پلازم “ " Protoplasm "کو بارھا مختلف وسائل اور مختلف زمانے میں خلق کرنا چاھالیکن سب ناکام رھے اور اسی وجہ سے خدا پر ایمان میں اضافہ ہوا جو ان تمام خلیوں کا خالق ہے کیونکہ مخلوقات اپنی کو نہیں بناسکتی۔

چنانچہ یھی واحد زندہ خلیہ جو حیات کا واحد عنصر ہے جس کی بنا پر یہ کائنات وجود میں آئی تو کیا یہ پہلا خلیہ خود بخود اچانک پیدا ہوگیا یا اس کو کسی نے خلق کیا ہے؟!

قارئین کرام ! زندگی کی ابتداء کے بارے میں مختلف قسم کے نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے بعض افراد نے یہ کھاھے کہ حیات ”پروٹوجن “یا ”فیروس“ سے شروع ہوئی ہے یا ”پروٹن“ کے وجود سے شروع ہوئی ہے جبکہ بعض لوگوں کا یہ بھی گمان ہے کہ ان نظریات نے اس میدان کا دروازہ بند کردیا جس سے عالم جماد اور عالم حیات میں فرق پیدا ہوتا ہے ۔

جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مذکورہ کسی بھی نظریہ میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ ان کو قبول کرلیا جائے کیونکہ ان کی دلیلیں بہت کمزور ہیں ۔

ان تمام کے باوجود جو شخص بھی خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے وہ کوئی ایسی علمی دلیل پیش کرنے سے قاصر ہے کہ تمام ذرات جمع ہوکر اتفاقی طور پر زندگی کے اسباب بن گئے ، کیونکہ خلیوں میں ہر ایک خلیہ اتنا دقیق ہے کہ ہماری سمجھ میں آنا مشکل ہے اور اس کائنات میں اربوں، کھربوں خلیہ موجود ہیں جو اپنی زبان بے زبانی سے خدا کی قدرت کی گواھی دے رھے ہیں، جن پر عقل وفکر اور منطق دلالت کررھی ہیں۔

اسی طرح حیات کی یہ تعریف کرنا کہ یہ ایک کیمیاوی نشاط ہے ، یہ تعریف بھی قابل قبول نہیں کیونکہ مردہ جسم میں بھی کیمیاوی مادہ پایا جاتاھے، اسی طریقہ سے خود مٹی میں بھی لوھا، تانبا اور کاربن نکلتا ہے۔

اسی طرح یہ کہنا کہ جنسی خواہشات ” تستوسترون ھارمون“" Testosterone Hormone "کی وجہ سے ہوتا ہے ،لیکن اس کے بھی کوئی معنی نہیں ہیں کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں اس Hormone میں یہ فاعلیت اور خاصیت کس نے عطا کی؟!!

اسی طریقہ سے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ عالم نباتات کی حرکت سورج مکھی کے پھول کی طرح ہے جس میں ”ھارمون اکسین“ " Hormone Auxin ." کا کردار ہوتاھے اورہمیشہ اسی طرح یہ پھول سورج کی طرف گھومتا رہتا ہے اور اس میں کوئی مشکل ایجاد نہیں ہوتی۔

لہٰذا ہم یھاں پر یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ کونسی طاقت ہے جس نے مادہ کو اس طرح کی تاثیر عنایت کی جو نباتات میں اسی طرح کیمیاوی عناصر کو پهونچاتی ہے۔؟

کیونکہ ابھی تک خلیہ میں کیمیاوی ترکیب نے ہمارے اوپر راز حیات کو واضح نہیں کیا ہے کیونکہ حیات صرف مجرد منظومہ اور جامد مثلاً مکان نہیں ہے بلکہ یہ تو حیات منظومہ صاحب حیات ہے جس میں ایک طاقت ہوتی ہے جن کے اندر ایسی قدرت ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ ہدایت کرتا ہے اور ایک ایسی فطرت ہے جس میں تنظیم و ترتیب کی صلاحیت ہوتی ہے۔

اسی طرح سائنس کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ یہ ہماری زمین سورج سے جدا ہوئی ہے اور جس وقت یہ سورج سے جدا ہوئی ،اس وقت اس کی گرمی سورج کے برابر تھی اور ہمارے فرض کے حساب سے اس کا درجہ حرارت ، سورج کے اس وقت کی گرمی کے برابر ہے اور چونکہ ملیونوں سال سے اس کی گرمی میں کمی واقع ہورھی ہے۔

لہٰذا اس وقت اس کی سطح کی گرمی ( ۶۰۰۰) درجہ ہے ، لیکن اس کے اندر کا درجہ حرارت چالیس ملین (چار کروڑ) درجہ ہے، اور جب اس زمین نے ان گیسوں کو حاصل کرناشروع کیا جو سورج سے جدا ہوئیں تھیں تو یہ زمین سطح ارض پر ٹھنڈی ہونے لگی اور پانی جب زمین کے اس حصے سے مس ہوا جو مرتفع اور حرارتی تھا تو یہ پانی فضا کی جانب بخار کی شکل میں جانے لگا کہ جس کا درجہ قابل تصور نہ تھا پس یہ پانی اس فضا کے مقابل قرار پایا جو سورج اور زمین کے درمیان ٹھنڈی تھی اس کے بعد یہ زمین کی طرف ھلاک کنندہ طوفان کی طرح واپس ہوا، اور آہستہ آہستہ جب اس میں درجہ حرارت کم ہوا تو پانی ایک جگہ رک گیا اور کھیں سمندر کی شکل میں اور کھیں منجمد ہوکر پھاڑوںکی شکل میں ظاہر ہوا۔

اور اگر کرہ ارضیہ کے بارے میں یہ فرضیہ صحیح ہو تو پھر ذرا اس زندہ خلیہ کے بارے میں فکر کریں جس کے بارے میں کھا جاتا ہے کہ یہ زمین کے ساتھ سورج سے جدا ہوا ہے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ۶۰۰۰/ درجہ حرارت میں کس طرح باقی رہ سکتا ہے ، اگرچہ یہ خلیے غلاف شدہ ہی کیوں نہ ہوں۔

کیونکہ انسان کا درجہ حرارت ۳۷ / درجہ ہوتا ہے لیکن جب مریض ہوتا ہے تو یہ درجہ حرارت ۴۰ / درجہ تک پهونچ جاتا ہے ، اور جب پانی کا درجہ حرارت سوپر پهونچ جاتا ہے تو وہ بخار بن جاتا ہے، اور اس صورت میں ہزارواں درجہ کفایت کرے گا کیونکہ یہ درجہ ہر شے کو گیس کا درجہ بنادیتا ہے اس صورت میں کوئی بھی سخت سے سخت چیز پگھل جاتی ہے، پس اگر یہ درجہ حرارت ۶۰۰۰ / پر پهونچ جائے توپھر اس کائنات کا کیا حال ہوگا؟!!

لہٰذا علم وعقل دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ سورج کے جدا شدہ خلیہ کے ذریعہ حیات کا آغاز ہونا محال اور ناممکن ہے، لہٰذا اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک خالق حیّ ہو جو زمین پر مخلوقات کو پیدا کرے۔

چنانچہ ایک مشهور ومعروف ماھر ”غوسٹاف بونیہ“ کا یہ قول کتنا بہترین ہے:

”اگرہم نے زندہ مادہ کو خلق کیا ہے تو پھر یہ فکر کرنا کیسے ممکن ہے کہ کتنے ہی اجتماعی ،وراثتی اور پیچیدہ پیش آنے والے خصائص ”پروٹوپلازم حیّ“کے ٹکڑے میں پائے جاتے ہیں۔؟“

.....

قارئین کرام !

ان تمام باتوں کی تفصیل کے بعد ہم یھاں ایک یہ اہم سوال کرنا چاہتے ہیں:

”یہ پہلی موجود جس میں پہلے حیات نہ تھی کھاں سے آئی؟ اور کس طرح مختلف حالات میں تبدیل ہوئی؟ جبکہ اس میں پہلے کبھی حیات نہ تھی۔کیا یہ عدم سے وجود میں آگئی؟ یا مردہ مادہ سے پیدا ہوئی؟!!

اور کس طرح ایک مردہ شے سے زندہ چیز بن سکتی ہے اور وجود، عدم سے کیسے بن سکتا ہے۔؟“

اس سوال کا جواب سائنس کے پاس مفروضوں اور تخمینوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

مثلاً ایک صاحب کہتے ہیں کہ یہ پہلی مخلوق ، آسمان سے شھاب( بجلی) کے ذریعہ نازل ہوئی ہے ، یعنی جب بہت ہی دوری پر موجود ستاروں سے شھاب جداهوئے تو ان کے ذریعہ یہ زندگی وجود میں آئی۔

اس کاجواب تو خود ہمارے سوال کی طرف پلٹ رھا ہے ، یعنی ہم پھر سوال کرتے ہیں کہ یہ پہلی مخلوق ان دوردراز ستاروں میں کھاں سے آئی؟

چنانچہ ایک اور ماھرسائنس کہتا ہے کہ یہ حیات مردہ مادہ کے ذرات کی ترتیب سے وجود میں آئی ہے ، اور اس نظریہ پر ہماری دلیل یہ ہے کہ زندہ مادہ، مردہ عناصر سے وجود میں آتا ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں ہمارے اردگرد موجود پتھر ، پانی اور مٹی جیسے عناصر کے ذریعہ یہ مادہ تشکیل پاتا ہے اوریہ ذرات کاربن، ہیڈروجن، آکسیجن اور نیٹروجن " Hydrogen","Oxygen", "Carbon", "Nytrogen " ہی سے مادہ بنتا ہے چنانچہ ہم انھیں کو ترتیب دے کر دوبارہ دوسرے مادہ بناسکتے ہیں اور کبھی ان میں ”امینہ“ پروٹن ، نشویات اور سوگر کا اضافہ کرتے ہیں تو ایک نیا مادہ تشکیل پاتا ہے، اور یہ فرضیہ میں کافی نہیں ہے بلکہ اس پر کچھ تجربات کئے جانے ضروری ہیں جس میں بجلی اور شعائیں ہوتی ہیں اور جس میں مختلف قسم کی گیس ہوتی ہیں جیسے نوشادر آکسیڈ کاربن ،" CarbonDioxide " ”میٹھن“ " Methane " اور پانی کے بخارات کے فعل وانفعالات کے بعد آثار احماض امینیہ پیدا ہوتے ہیں۔

”احماض امینیہ“ (کڑوی گیس) جو ایک دودھ جیسی گیس ہوتی ہے جس کا تمام زندہ چیزوں میں ہوناضروری ہے اور جب ان احماض کو آپس میں ملایا جاتا ہے تو ایک دوسری قسم کی پروٹن بن جاتی ہے ، یھاں تک کہ ان کو آپس میں ملانے سے کروڑوں قسم کی پروٹن بن سکتی ہیں جس طریقہ سے کسی زبان کے الفابیٹ کے ذریعہ سے مختلف کلمات بنتے جاتے ہیں تاکہ ان سے مختلف مفاھیم ومعانی حاصل کریں، اور یہ نتیجہ بخش پروٹن ہمیشہ حرارت وبرودت (ٹھنڈک) روشنی اور بجلی کے لئے اہم مواد ہوتے ہیںپس یہ پرو ٹن مرکب ہوکر دوسری خارجی چیزوں کے بننے کے باعث ہوتے ہیںتب جاکے جوھرحیات کی صفت بنتے ہیں۔

جبکہ زمین کو تقریباً کروڑوں سال ہوچکے ہیں اور مختلف تجربے ہوتے رہتے ہیںاور اس مرکب ”احماض امینیہ“ کے بے مثال تجربہ ہوچکے ہیںاور یہ احماض امینیہ پانی میں اپنے جوھر کے ساتھ گھُل جاتے ہیں تاکہ پروٹن کے لاکھوں مواد کوتشکیل دے، اور ضروری ہے کہ یہ احماض امینیہ ایک مرتبہ جب بے مثال گیس ( حامض دیزوکسی ربیونیوکلئیک ) " D.N.A " سے ملتے ہیں اور اسی جز سے ”فیروس“ بنتا ہے۔

یہ تمام مفروضوں کا مجموعہ تھا جو ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔

چنانچہ ماھرین کا کہنا ہے کہ قانون صدفہ ہماری تائید کرتا ہے، جیسا کہ اگر کمپیوٹر پر بیٹھ کر ایک بندر کی بورڈ کے بٹن کو بہت ہی دقت سے دباتا چلا جائے تو کیا اس کے لکھنے سے کسی مشهور شاعر کا شعر بن سکتا ہے؟!!!ھر گز نہیں ، چاھے سالوں بیٹھ کر لکھتا رھے لیکن کبھی بھی اس کا یہ کام نتیجہ بخش نہیں ہوسکتا۔

چنانچہ ماھرین کا کہنا کہ احماض امینیہ اپنی ہیئت مخصوص " D.N.A " پر باقی رہتا ہے تب کھیں منفرد مادہ اپنے اوپر تسلط پیداکرتا ہے اور پھر یہ منفرد مادہ اپنے مخصوص طریقوں کے ذریعہ تکاثر پیدا کرتا ہے اور اس کے ذریعہ بذر حیات برقرار رہتا ہے۔

بالفرض اگر ہم جدلی طریقہ سے قبول کریں اور فرض کریں کہ مٹی اور پانی کے عناصر بغیر کسی علت کے صدفةً اور اتفاقاً ( D.N.A ) حامض کے لحاظ سے پیدا ہوتے ہیں ۔

اس کے بعد اس ( D.N.A ) سے مختلف لاکھوں چیزیں بننے کا سبب بنتا ہے۔

لیکن ان تمام چیزوں میں وہ حیات نہیں ہے جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔

پس ضروری ہے کہ ہم پلٹ کر یہ کھیں کہ اس حامض کے اجزاء بھی اتفاقاً اور صدفةً ہونے چاہئے تاکہ ان سے پروٹن وجود میں آئیں۔

اس کے بعد پروٹن بھی اتفاقاً خلیہ کے شکل میں ایجاد ہونے چاہئے۔

پھر یہ خلےے بھی اپنی ذات میں خود بخود اور اتفاقی طور پر پیدا ہوکر نباتی شکل اختیار کریں اور پھر دوسرا خلیہ انسانی شکل کو پیدا کرے۔

اس کے بعد ہم زندگی کی تمام کڑیوں کودرجہ بدرجہ ملاتے جائیں ،تو اس جادوئی کلید (کنجی)کا مطلب یہ بھی ہوگاکہ یہ بھی صدفةً اور اتفاقی طور پر پیدا ہوا ہے؟!

لیکن کیا یہ عقل میں آنے والی باتیں ہیں:

کیااتفاقی طور پر پرندے اور مچھلیوں کااپنے گھروں سے لاکھوں میل فاصلہ پر چلے جانے کے باو جود اپنے گھروں میں واپس آجانا اتفاقی ہے؟!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ مرغی کا بچہ انڈے کو توڑ کر خود بخودباھر نکل جائے!!

کیا زخم کا خود بخود ٹھیک ہوجانا یہ بھی اتفاق ہے!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ ”سورج سے جدا شدہ اجزا“ اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ ان کی حیات کا ملجاء وماویٰ سورج ہے تاکہ وہ اس کی اتباع کریں!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ جنگل اور پھاڑوں میں درخت خود بخود اگ جائیں ۔!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ”فیروس“ خلیہ کو کشف کرتا ہے اوراس سے اپنی حیات حاصل کرتا ہے۔

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ نباتات اپنے لئے ”کلوروفیل“ " Chlorophill "کشف کرتے ہیں اور اس کو استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کی حیات باقی رھے۔

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ مچھر بڑی ہوشیاری سے پانی پرتیرے اور وھاں انڈے دے اور پانی پر تیرتا رھے اور ھلاک نہ ہو۔!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ چیونٹی اپنے اندرمو جود زھر کو محفوظ رکھے اور اپنے بچوں کو دی جانے والی غذا میں اسے نہ ملائے ۔ کیا یہ اتفاق کی ناؤ ریت پر چل سکتی ہے!!

اسی طرح شہد کی مکھی اتنے منظم طریقہ سے شہد کو جمع کرتی ہے، مختلف پھولوں سے رس چوستی ہے اور اس کو شہد میں تبدیل کرتی ہے اور اس کے موم سے شمع بنائی جاتی ہے کیا یہ بھی اتفاق ہے۔!!!

اسی طرح زمین پر رینگنے والے حشرات (کیڑے مکوڑے) فضا میں موجود قوانین کو سمجھتے ہیں اور اسی کے تحت اپنی زندگی چلاتے ہیں کیونکہ بہت سے کیڑے صرف برسات کے موسم میں نکلتے ہیں ، کیا یہ بھی اتفاق ہے !!!

اسی طرح رنگ برنگے حشرات جو اپنے اندر ایسی صلاحیت رکھتے ہیں جو ان کے رنگ سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اسی طرح وہ حشرات جو بہت سی زھریلی گیس بناتے ہیں اورفضا میں چھوڑتے ہیں، کیا یہ بھی اتفاق ہے ؟!!

قارئین کرام ! اگر ہم ان تمام باتوں کو تسلیم کرلیں کہ یہ حیات بھی اتفاقی طور پر وجود میں آئی ہے تو ہم کیسے مان سکتے ہیں کہ یہ مذکورہ تمام چیزیں اتفاقی طور پر وجود میں آگئی ہیں۔!!

چنانچہ ان تمام بے ہودہ باتوںکو عقل انسانی تسلیم نہیں کرسکتی۔

اور جب مادہ پرستوں نے اپنے کواتفاق(صدفہ)کی اس کشمش میں پایا تو اس سے چھٹکارا پانے کے لئے صدفہ (اتفاق) کی جگہ ایک دوسرا لفظ رکھا اور اس طرح کھا کہ یہ ہماری حیات (جو مختلف الوان واقسام سے مزین ہے) ایک ضرورت کے تحت پیدا ہوئی جس طرح ایک بھوکا انسان غذا تلاش کرتا ہے اور مختلف غذا فراہم کرتا ہے اسی طرح ہماری زندگی میں مختلف ضروریات پیش آتی رھی اور ہمارے سامنے بہت سی چیزیں وجودمیں آتی گئیں!!۔

قارئین کرام ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ سب الفاظ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ،کیونکہ انھوں نے لفظ ”صدفہ “(اتفاق) کی جگہ ” ضرورت کے تحت “ رکھا ! ۔

یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک چھوٹا سا واقعہ بغیر کسی عقل کی کارکردگی کے ایک بہت بڑا واقعہ بن جائے؟!! لہٰذا یھاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ”ضرورت“ کو کس نے پیدا کیا؟۔

اور یہ” ضرورت“ ”لاضرورت“ سے کیسے وجود میں آئی؟!!

کیونکہ یہ سب چیزیں حقیقت کو چھپانے والی ہیں جس کا عقل انسانی اور فطرت بدیھی طور پر انکار کرتی ہیں پس معلوم یہ ہوا کہ ان تمام چیزوں کا خالق ایک مدبر اور حکیم ہے۔

پس ہم ان زور گوئی والی باتوںکو بغیر دلیل کے کس طرح قبول کرسکتے ہیں؟!!

ہم کیسے ان محالات کو قبول کرسکتے ہیں؟!! تاکہ واضح حقائق کی پردہ پوشی ہوجائے جو کہ ہماری بدیھی فطرت میں شامل ہیں اور ہم ان کا مشاہدہ کررھے ہیں۔!! اور اگر ہم ان تمام چیزوں کی بداہت کو جھٹلائیں تو پھرگویا ہم نے عقل کو بیچ ڈالا ،!! کیونکہ یہ تمام چیزیں منطقی اور عقلی بدیھیات میں سے ہیں۔ اگر ہم ان تمام چیزوں کا انکار کریں تو گویا ہم نے اپنی عقل کو بالائے طاق رکھدیا حالانکہ ہم اپنے کو بہت بڑاعاقل اور علامہ سمجھتے ہیں۔

چنانچہ علم طبیعیات کے مشهورو معروف ماھر ڈاکٹر ”کونجڈن“کہتے ہیں: ”کائنات میں موجود ہر شے خدا کے وجود ، اس کی قدرت اور اس کی عظمت پر دلالت کرتی ہے ، اور جب ہم اس کائنات کی چیزوںکو ملاحظہ کرتے ہیں تو ہمیں نعمت خدا کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا ،پس خدا ہی کی ذات ہے جس نے کائنات میں ان نعمتوں کو ہماری خدمت کے لئے خلق کیا ، لہٰذا ہم کسی مادی علمی وسیلہ سے خدا کو نہیں پہچان سکتے، لیکن ہم اپنے اندر اور کائنات کے ذرہ ذرہ میںخدا کی نشانیاں واضح طور پر دیکھتے ہیں: خلاصہ یہ کہ یہ علوم ، مخلوقات اور خدا کی قدرت کے علاوہ اور کسی چیز کا پتہ نہیں دے سکتے۔ چنانچہ خداوندعالم کا ارشاد ہوتا ہے:

( ذَلِکُمْ اللهُ رَبُّکُمْ لاَإِلَهَ إِلاَّ هو خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهو عَلَی کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ ) ( ۴۰ )

”(لوگو) وھی اللہ تمھارا پروردگار ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے تو اسی کی عبادت کرو اور ہی ہر چیز کا نگھبان ہے ۔“

( هو الَّذِی جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِینَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللهُ ذَلِکَ إِلاَّ بِالْحَقِّ یُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ) (( ۴۱ )

”وھی وہ (خدائے قادر) ہے جس نے آفتاب کو چمکدار اور ماہتاب کو روشن بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم لوگ برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلو، خدا نے اسے حکمت ومصلحت سے بنایا ہے وہ اپنی آیتوں کو واقف کار لوگوں کے تفصیل وار بیان کرتا ہے۔“

( اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَاٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجَ بِهِ مِنْ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ وَسَخَّرَ لَکُمْ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاٴَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَکُمْ الْاٴَنهَارَ وَسَخَّرَ لَکُمْ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَیْنِ وَسَخَّرَ لَکُمْ اللَّیْلَ وَالنَّهَارَ وَآتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَاٴَلْتُمُوه ) ( ۴۲ )

”خدا ہی ایسا (قادر وتوانا) ہے جس نے آسمان وزمین پیدا کرڈالے اورآسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے (مختلف درختوں سے) تمھاری روزی کے واسطے (طرح طرح کے) پھل پیدا کئے اور تمھارے واسطے کشتیاں تمھارے بس میں کردیں تاکہ اس کے حکم سے دریا میں چلیں اور تمھارے واسطے ندیوں کو تمھارے اختیار میں کردیا اور سورج چاند کو تمھارا تابعدار بنادیا کہ سدا پھیری کیا کرتے ہیں او ررات دن کو تمھارے قبضہ میں کردیا (کہ ہمیشہ حاضر باش رہتے ہیں) اور( اپنی ضرورت کے موافق) جو کچھ تم نے اس سے مانگا اس میں سے بقدر مناسب تمھیں دیا ۔۔۔“

( اٴَلاَلَهُ الْخَلْقُ وَالْاٴَمْرُ تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِین ) ( ۴۳ )

”دیکھو حکومت او رپیداکرنا بس خاص اسی کے لئے ہے۔“

____________________

[۱] سورہ ابراھیم آیت ۱۰

[۲] سورہ اعراف آیت ۴۳۔

[۳] سورہ آل عمران آیت ۱۹۳۔

[۴] سورہ ملک آیت ۳، ۴۔

[۵] نشاة الدین ص ۱۹۶،۱۹۷۔

[۶] نشاة الدین ص ۱۸۴۔

[۷] سورہ بقرہ آیت ۱۶۴۔

[۸] سورہ واقعہ آیت ۵۸،۵۹۔

[۹] سورہ واقعہ آیت ۵۸،۵۹۔

[۱۰] سورہ طارق آیات ۶تا ۸۔

[۱۱] سورہ طٰہ آیت ۳۵۔

[۱۲] سورہ روم آیت ۲۰۔

[۱۳] سورہ نحل آیت ۷۸۔

[۱۴] سورہ نور آیت ۴۵۔

[۱۵] سورہ فاطر آیت ۲۸۔

[۱۶] سورہ انعام آیت ۳۸۔

[۱۷] سورہ ملک آیت ۱۹۔

[۱۸] سورہ نحل آیات ۵ تا ۸۔

[۱۹] سورہ غاشیہ آیت ۱۷۔

[۲۰] سورہ نمل آیت ۱۸ َ

[۲۱] سورہ نمل آیت ۸۸۔

[۲۲] سورہ واقعہ آیت ۶۳تا ۶۵۔

[۲۳] سورہ واقعہ آیت ۷۱تا ۷۲۔

[۲۴] سورہ انعام آیت ۹۹۔

[۲۵] سورہ طٰہ آیت ۵۳۔

[۲۶] سورہ نمل آیت ۶۰۔

[۲۷] سورہ انبیاء آیت ۳۰ ۔

[۲۸] سورہ واقعہ آیات ۶۸تا۷۰۔

[۲۹] سورہ روم آیت ۲۴۔

[۳۰] سورہ بقرہ آیت ۱۶۴۔

[۳۱] سورہ اعراف آیت ۱۸۵۔

[۳۲] سورہ نحل آیت ۱۴ ۔

[۳۳] سورہ یونس آیت ۱۰۱۔

[۳۴] سورہ ق آیت ۶۔

[۳۵] سورہ رعد آیت ۲۔

[۳۶] سورہ ذاریات آیت ۴۷۔

[۳۷] سورہ فاطر آیت ۱۳۔

[۳۸] سورہ لقمان آیت ۱۱۔

[۳۹] سورہ فاطر آیت ۴۱۔

[۴۰] سورہ انعام آیت۱۰۲۔

[۴۱] سورہ یونس آیت۵۔

[۴۲] سورہ ابراھیم آیت ۳۲تا۳۴۔

[۴۳] سورہ اعراف آیت۵۴۔

مادہ ہے یا خدا؟

اس جگہ اگر کوئی یہ کھے کہ ان کا پیدا کرنے والا مادہ ہے جیسا کہ بعض لوگ اس نظریہ کے قائل ہیں تو ہم ان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ مادہ کیسے پیدا ہوا ؟اور اس کو کس نے پیدا کیا؟

ہمارے اس سوال کے جواب میں اھل مادہ کہتے ہیں:

”مادہ چونکہ پہلے سے موجود تھااور وہ ازلی ہے لہٰذا اس کے پیدا ہونے اوراس کو پیدا کرنے والے کی ضرورت ہی نہیں “

قارئین کرام ! آج کل کے سائنس نے اس نظریہ کو بہت ہی آسان طریقہ سے ردّ کیا ہے ، کیونکہ سائنس نے یہ بات واضح کردی ہے کہ یہ کائنات ازلی نہیں ہوسکتی، کیونکہ نظام کائنات کا دستور یہ ہے کہ گرم اجسام سے گرمی سرد اجسام کی طرف جاتی ہے اورذاتی طور پر اس کے برعکس نہیں ہوتی، مثلاً گرمی ٹھنڈی چیزوں سے گرم چیزوں کی طرف منتقل ہو، اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کائنات میں تمام اجسام کا درجہ حرارت متعادل رہتا ہے اور اس میں معین طاقت جذب ہوتی ہے ،اور اگر ایک روز ایسا آجائے کہ جب اس میں کیمیاوی اور طبیعی کارکردگی نہ ہو، تو اس کائنات میں کوئی شی بھی زندہ باقی نہ بچے، جبکہ ہم دیکھ رھے ہیں کہ اس کائنات میں حیات باقی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں مختلف قسم کی کارکردگی ہورھی ہے ، لہٰذا ہم یہ نتیجہ حاصل کرتے ہیں کہ یہ کائنات ازلی نہیں ہے اور اگر اس کو ازلی مان لیا جائے تو اس کائنات کی تمام موجودات کبھی کی ختم ہوگئی ہوتیں۔

چنانچہ آج سائنس نے ایسے آلات بنالئے ہیں جن کی وجہ سے زمین کی عمر کا پتہ لگایا جاسکتا ہے ، لیکن پھر بھی اس کے نتائج تخمینی ہوتے ہیں لیکن ان سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ کائنات کروڑوں اور اربوں سال پہلے ایجاد ہوئی ہے، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ازلی (ہمیشہ سے)نھیں ہے اور اگر ازلی ہوتی تو اس میں کوئی بھی عنصر نہ پایا جاتا، چنانچہ قوانین ”ڈینا میکا حراری“ " Thermo Dynamics "کا قانون دوم بھی اسی بات کی تصدیق کرتا ہے۔

لیکن وہ نظریہ جوکہتا ہے کہ” یہ کائنات دوری“ ہے یعنی پہلے یہ کائنات سُکڑی ہوئی تھی ، پھر پھیل گئی اور اس کے بعد پھر سُکڑ ے گی اوریہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔

لیکن یہ نظریہ بھی درست نہیں ہے اور نہ ہی اس کی دلیل قابل قبول ہے نیز نہ ہی اس کو علمی نظریہ کھا جاسکتا ہے، کیونکہ ”قوانین ڈینا میکا حراری“ " Thermo Dynamics " ، دلائل فلکی اور جیولوجی" Geological " ان تمام چیزوں سے مذکورہ نظریہ کی تائید نہیں ہوتی بلکہ یہ چیز اس جملہ کی تائید کرتی ہے کہ ”زمین وآسمان کو ابتداء میںخداوندعالم نے خلق کیا ہے“:

”لقد خلق الله فی البدایة السماوات والارض“

(بے شک خدا نے ہی زمین وآسمان کو ابتداء میں خلق کیا ہے۔)

اسی طرح یہ بے عیب سورج اور چمکتے ہوئے ستارے اوریہ زمین اپنی تمام زندگی کے اسباب کے ساتھ بہترین دلیل ہے کہ اس کائنات کی اصل واساس ایک خاص زمانہ سے مربوط ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بعد میں حادث ہوئی (یعنی ازلی اور ہمیشہ سے نہیں ہے۔)

اسی طرح علم کیمیا (کیمسٹری)بھی دلالت کرتا ہے کہ تمام مادے زوال اور فنا کی طرف بڑھ رھے ہیں چاھے ان کی رفتار تیز ہو یا کم، لہٰذا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادہ ہمیشہ باقی نہیں رھے گا ،اور نہ ہی یہ مادہ ازلی تھا پس اس مادہ کی بھی کوئی ابتداء تھی کہ جب یہ وجود میں آیا ، چنانچہ اس بات پر علم کیمیا اور سائنس بھی دلالت کرتے ہیںکہ مادہ کی ابتدا ء تدریجی نہیں بلکہ یہ اچانک اور یکایک پیدا ہوا ہے ،لہٰذا سائنس کے ذریعہ اس کے پیدا ہونے کا وقت معین کیا جاسکتا ہے ، تو پھر ان تمام چیزوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ عالَمِ مادی مخلوق ہے اور یہ جب سے خلق ہوا ہے تو اسی وقت سے خاص قوانین کے تحت ہے اور کائنات کے قوانین کے ساتھ محدود ہے جس میں کوئی اتفاقی عنصر نہیں پایا جاتا۔

قارئین کرام ! تقریباً سوسال پہلے روس کے ایک ماھر ”مانڈلیف“ نے ایسے کیمیاوی عناصر مرتب کئے جو ذرات کے وزن کو ترتیب دوری کے لحاظ سے بڑھادیتے ہیں ،اور اس نے ایسے عناصر کا پتہ لگایا ہے جن کے ذریعہ مادہ کی ایک نئی قسم ایجاد ہوتی ہے جس کی صفات تقریباً ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی ہیں، تو کیا ان تمام باتوں کو دیکھ کر یہ کھا جاسکتا ہے کہ یہ کائنات تصادفی اور اتفاقی طور پر پیدا ہوگئی ہے؟!!

بتحقیق ”مانڈالیف“ کے کشفیات کو ”مصادفہ دوری“ کا نام نہیں دیا جاسکتا، البتہ اسے”قانون دوری“ " Periodic Law "کھا جاسکتا ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ان کو مصادفہ اور اتفاق کا نام دیدیں جیسا کہ ماھرین سائنس کا درج ذیل نظریہ :

عنصر ”الف“ ،عنصر ”ب“ کے ذریعہ متاثر ہوتا ہے لیکن عنصر ”الف“ ،عنصر ”ج“ کے ذریعہ متاثر نہیں ہوتا۔؟!

نھیں ھرگز نھیں! کیونکہ سائنسدانوں کا یہ ماننا ہے کہ اس کائنات کے تمام عنصر ”الف“ ،وعنصر ”ب“ میں قوت جاذبہ اور رجحان ہوتا ہے لیکن یہ طاقت عنصر”ج“ میں نہیں ہوتی۔

چنانچہ ماھر سائنسداںافراد کا ماننا ہے ھلکے معادنی ذرات اور پانی کے درمیان سرعت تفاعل معادنی ذرات کے اوزان کی زیادتی کی وجہ سے بڑھتی رہتی ہے ، اس حال میں کہ عناصر ”ھالوجینیہ “ جو جدا ہوئے ہیں ان کی گردش ،مذکورہ گردش کے بالکل مخالف ہوتی ہیں، اور آج تک بھی اس مخالفت کا سبب کسی کو معلوم نہ ہوسکا، اس کے باوجود بھی کسی بھی شخص نے اس چیز کو محض مصادفہ کا نام نہیں دیا ہے، اور نہ کسی نے یہ گمان کیا ہے کہ ان عناصر کی مذکورہ گردش کبھی کبھی ایک دو مادہ کے بعد معتدل ہوجاتی ہے، یا زمان ومکان کے اختلاف کی بناپر معتدل ہوجاتی ہے، اور نہ ہی کسی کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ تمام ذرات بنفسہ کبھی کبھی اپنے تفاعل سے خارج ہوجاتے ہیں، یا برعکس فعالیت کرنا شروع کردیتے ہیں یا بغیر کسی سوچے سمجھے اپنی فعالیت انجام دیتے ہیں۔

سائنس نے ترکیب ذرات کوکشف کیا ہے کہ کیمیا کی وہ فعالیت جو ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور ان کی خاصیت کو ملاحظہ کرتے ہیں یہ سب کے سب، خاص قوانین کے تحت ہوتے ہیں جن میں تصادفی اور اتفاقی کوئی چیز نہیں ہے۔

تاکہ ہم نامعلوم ذرات کے ذریعہ اس واضح نظریہ کو اخذ کریںکہ ہم یہ تصور کریں کہ اگر ”ھیڈروجن“ " Hydrogen "کے کروڑوں ذرات ایک جگہ جمع ہوجائےں تو ایک ملی میڑ ( m.m )جگہ میں جمع ہوجاتے ہیں۔

بالفرض اگر ہم پیاسے ہو ں اور ہم پانی پئیں تو جو پانی ہم پیتے ہیں تو اس میں کچھ ریت کے ذرات ہوتے ہیں کیونکہ سمندر اور زمین میں ہونے کی وجہ سے پانی میں مٹی کے ذرات پائے جاتے ہیں۔

اور کبھی کبھی یہ ذرات بہت ہی باریک باریک پتھر سے تشکیل پاتے ہیںجو بالکل ذرہ کے برابر ہوتے ہیں۔

اور یہ ذرہ ایک نوات ( بہت ہی باریک پتھر )سے وجود میں آتا ہے کیونکہ یہ نوات باریک پتھر سے بنتے ہیں، چنانچہ ان میں کے بعض پروٹن ہوتے ہیںاور بعض نیوٹرن ، جبکہ ان کے اردگرد ایک بعید فاصلہ پر الکٹرون گردش کرتی ہے۔

چنانچہ سائنسدانوں نے اس نظام میں بہت سی چیزوں کو کشف کیا ہے جن کی اب تک ۳۰/ قسموں کاپتہ چل چکا ہے جن میں سے بعض وہ ہیں جن کو ہم نے ابھی ذکر کیا ہے جیسے ”پروٹن“، ”نیوٹرون“ اور ”الکٹرون“۔ " Proton","Neutron", "Electron "۔

اور ماھرین کا کہنا ہے کہ ”الکٹرون“ کے چکّر ایک سیکنڈ میں ۷ بلین " Billion " (ملین در ملین) ہوتے ہیں۔

جبکہ بعض ذرات ایسے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے میں جذب ہوجاتے ہیں اور بعض ذرات کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں چونکہ ذرات کے بھی کچھ قوانین ہیں جو انسان میں شادی اور طلاق کے قوانین سے دقیق تر ہیں۔

اسی طرح ہم جس نمک کو مختلف غذاؤں میں استعمال کرتے ہیں اس کے دو جز ہوتے ہیں جو ایک ساتھ رہتے ہیں اور اگر اس کے یہ دو جز ایک ساتھ نہ ہوں تو پھر ان میں کا ہر ایک جزء جسم میں فساد اور خرابی ایجاد کردیتا ہے، کیونکہ نمک میں دو درج ذیل چیزیں ہوتی ہیں:

۱ ۔”کلورائیڈ“ " Chloride " جو ایک قسم کی گیس ہوتی ہے جس کو اگر کوئی زندہ حیوان سونگ لے تو وہ موت کے گھاٹ اتر جائے۔

۲ ۔” سوڈیم“ " Sodium "جو ایک نرم عنصر ہوتا ہے جو پانی کو خشک کردیتا ہے اور اس کے اندر سے دھواں اور شعلے نکلتے ہیں یہ بھی اگر کسی کے بدن میں داخل ہوجائے تو وہ بھی مرجائے ، لیکن یھی دونوں زھریلی اور خطرناک چیزیں جب آپس میں مل جاتی ہیں تو نمک بن جاتاھے جس کے بعد نہ نقصان دہ ہوتا ہے اور نہ شعلہ ور۔

اسی طرح پانی کے بھی تین اجزاء ہوتے ہیں جس طرح سے اسلامی قوانین کے مطابق انسان کو یہ اختیار ہے کہ وہ ایک، دو تین یا چار بیویوں سے (ایک وقت میں) شادی کرسکتا ہے اسی طرح ذرات کا قانون بھی ہے پس جب ”کلورائیڈ“ ”سوڈیم“ سے ملتا ہے تو ہمارے لئے نمک بن جاتا ہے گویا یہ کلورڈ ایک ذرہ سے ملا ہے، اسی طرح جب آکسیجن،" Oxygen "، ہیڈروجن " Hydrogen " کے دو ذروں سے ملتا ہے تو پانی بنتا ہے، اور جب ”نیٹروجن“ تین ذروں سے ملتا ہے تو ”امونےا“نامی گیس بنتی ہے (جس کا مزہ منھ جلانے والا ہوتا ہے جو بے رنگ اور تیز مزہ رکھتی ہے) اور جب ”کاربن“ " Carbon " ہیڈروجن " Hydrogen "کے چار ذروں سے ملتا ہے تو ”میٹھن“ " Methane "نامی گیس بنتی ہے۔

اسی طرح بعض عناصر ایسے ہیںجو انفرادی طور پر رہتے ہیںاور ان میں کے بعض ذرات کے نام اس طرح ہیں: ”نیون“ اور ”راڈون“(جو دونوںگیس ہیں)

قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ کیا کہ عالم ذرات بھی کتنا عجیب ہے جس میں مختلف فائدہ مندجزئیات ہوتے ہیں اور یہ ہماری زمین پر اس طرح ایک دوسرے سے مرتبط ہیں کہ انسان تصور کرنے سے قاصر ہے ، بس ایسے سمجھ لیجئے کہ جس طرح کسی بھی زبان کے حروف (جیسے عربی زبان میں حروف تہجی کی تعداد ۲۸/ ہے ) کو ایک دوسرے سے ملاتے جائےں، ان سے کلمات بنتے جائیں تب آپ دیکھیں کہ کتنے عنصر بنتے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ لاکھوں او ر کروڑوں کی تعداد ہوجائے گی۔

مثال کے طور پر یھی تین چیزیں :

۱ ۔ کاربن۔" Carbon " ۔

۲ ۔آکسیجن" Oxygen " ۔

۳ ۔ ہیڈروجن" Hydrogen "۔ کو اگر ایک دوسرے سے ملائیں تو لاکھوں کیمیائی مرکب تیار ہوسکتے ہیں جن میں سے ہر ایک کی الگ الگ خاصیتیں ہونگی۔

جیسا کہ ماھرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے مختلف پروٹن " Protein "کی اتنی قسم ہیں جن کی تعداد دسیوں لاکھ تک پهونچتی ہے جبکہ پروٹن" Protein "، کاربن" Carbon "، ہیڈروجن" Hydrogen " اور آکسیجن،" Oxygen " کے بغیر وجود میں نہیں آتی۔اور کبھی کبھی پروٹن کے ساتھ ”فاسفور " Phosphore " اور ”کاربرائڈ“" Carbide "هوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔

اسی طریقہ سے ہمارے لئے حیات کے تمام جزئیات واضح ہوتے جاتے ہیں اوریہ جزئیات حیات اسی طریقہ سے جاری وساری ومتحدو منفصل (جدا) ہوتے جاتے ہیں، چنانچہ اس زندگی کے تمام جزئیات کے ادوار اور اس کے اتحاد وانفصال کی تمام صورتیں ایک معین اور معلوم مقدار کے مطابق رواں دواں ہے نہ اس میں کمی ہوتی ہے نہ زیادتی، کیونکہ ھرحالت کے لئے ایک قطعی قانون اور محکم نظام ہوتا ہے ۔

کیا کوئی صاحب عقل اور مفکر انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ عقل وحکمت سے خالی مادہ اپنے آپ کو خود بخود اچانک وجود میں لے آئے؟! یا یہ مجرد مادہ پہلے اس کائنات کے قوانین ونظام کا موجداور پھر ان قوانین کو اپنے اوپر لاگوبھی کردے یعنی پہلے ان قوانین کو اس مادہ نے ایجاد کیا اورپھر یہ مادہ ان قوانین کے ماتحت ہوجاتا ہے؟!!

بلا شبہ ہر صاحب عقل کا جواب یھاں نفی میں ہوگا، بلکہ مادہ جب طاقت میں تبدیل ہوتا ہے یا مادہ میں طاقت آتی ہے تو یہ تمام چیزیں معین قوانین کے تحت ہوتی ہیں، اور وہ مادہ جو وجود میں آیا ہے وہ بعد میںان قوانین کا محکوم ہوتاھے یعنی اس پر معین قوانین لاگو ہوتے ہیں۔

اور جب ہمارا یہ مادی عالم اپنے جیسا( عالم) خلق کرنے یا ایسے قوانین تعین کرنے سے، (جو اس کے زیر اثر ہوں)عاجز ہے تو پھر ضروری ہے کہ اس عالم کی خلقت ایک ایسے موجود کے ذریعہ وجود میں آئے جو مادہ کے علاوہ ہو۔

چنانچہ ہماری اس بات کی تائید قوانین حرارت کرتے ہیں، اور ہم انھیں کے ذریعہ طاقت میسورہ اور طاقت غیر میسورہ کے درمیان فرق محسوس کرتے ہیں،اور بتحقیق یہ بات ظاہر ہے کہ جب کوئی بھی حرارت متغیر ہو توطاقت میسورہ کا ایک معین جز طاقت غیر میسورہ میں تبدیل ہوجاتا ہے، جبکہ یہ بات بھی واضح ہے کہ طبعیات میں یہ تغییر و تبدیلی اس کے برخلاف نہیں ہوتی،اور یہ” ڈینا میکا حرارتی قوانین“ " Thermo Dynamics "کا دوسرا قانون ہے۔

اور جب یہ بات طے ہوگئی کہ مادہ ازلی نہیں ہے بلکہ حادث ہے (جیسا کہ تفصیل گذر چکی ہے) تواس کے لئے کسی محدث کا ہونا ضروری ہے،کیونکہ کوئی بھی چیز اپنے کو پیدا نہیں کرسکتی ،بلکہ یہ بات عقلی طور پر محال ہے کہ کوئی شے اپنی موجد ہو۔

پس نتیجہ یہ نکلا کہ مادہ کا خالق اور موجد خداوندعالم کے علاوہ کوئی دوسر انھیں ہوسکتا۔

صُدفہ نظریہ کے دلائل اور اس کی ردّ

اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ” تطورمادہ“ (حرکت مادہ) بر بناء صُدفہ ہے،تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ مصادفت (اتفاق) موجودات عالم کے لئے بمنزلہ سبب ہے، اور کوئی بھی عقل اس بات کو قبول نہیں کرسکتی۔

چنانچہ علم طبیعات کے ماھر ڈاکٹر ”نوبلٹشی“کہتے ہیں:

”میں کبھی بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ صرف مصادفت (اتفاق) الکٹرون پہلے پروٹن کے لئے مظھر ہو یا پہلے ذرات، یاپھلے احماض الامینیةیا پروٹوپلازم الاول " Protoplasm ۱st " یا بذرة اولیٰ یا عقل اول کے لئے مظھر ہو !! بلکہ میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کا مظھر اور مفسر واجب الوجود اللہ کی ذات ہے جو کائنات کی تمام اشیاء پر محیط ہے۔

قارئین کرام ! مصادفہ اور احتمال کا نظریہ ریاضی " Mathe matical " لحاظ سے تفصیلی طور پر گذر چکاھے ، جس کی بنا پر ہم بعض چیزوں کے بارے میں اتفاقی وجودکے قائل ہوئے کہ جن کی تفسیر اس کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتی لیکن مذکورہ بحث کے مطالعہ سے اس بات پر قادر ہوجاتے ہیں کہ ہم ان اشیاء کے درمیان اتفاقی اور غیر اتفاقی اشیاء کے درمیان فرق کرلیں، لہٰذا اب ہم یھاں پروہ بحث بیان کرتے ہیں جس میں مادہ کو منشاء حیات قرار دیا گیاھے۔

چنانچہ بلا شبہ یہ بات طے شدہ ہے کہ اساسی مرکبات کے پروٹن" Protein " تمام زندہ خلیے " Cells "پانچ عناصرسے مرکب ہوتے ہیں:

۱ ۔ کاربن" Carbon "۔

۲ ۔ ہیڈروجن" Hydrogen "۔

۳ ۔ نیٹروجن" Nytrogen "۔

۴ ۔ آکسیجن،" Oxygen " ۔

۵ ۔کبریت( سلفور)" Sulfur "

اور پروٹن کے ایک جز میں ۰۰۰’۴۰ ذرات پائے جاتے ہیں، اور اب تک سائنس نے ۱۰۲/ عناصر کا پتہ لگایا ہے توکیا ان کی تقسیم ایک اتفاقی اور تصادفی ہے،اورجب یہ پانچ عناصر ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو پروٹن کا ایک جز بنتا ہے ، لہٰذا جب اس پروٹن کے ایک جز کے لئے اتنا دقیق حساب درکار ہے تو اس مادہ کے لئے جو تمام چیزوں کا لازمہ ہے اس میں ان ذرات کا حساب کس قدر دقیق ہونا چاہئے۔

جیسا کہ سویسی ریاضی داں ”ٹشالزیوجن“ نے ا ن تمام اسباب کا حساب وکتاب پیش کیا ہے، چنانچہ وہ کہتا ہے کہ اس کائنات کا صدفةً اور اتفاقی پیدا ہونے کا احتمال اربوں اور کھربوں میں سے صرف ایک احتمال ہے ، کیونکہ اس نے اس طرح حساب کیا ہے کہ اگر عدد ۱۰/ کو ۱۰ میں ۱۶۰/ مرتبہ گنا کیا جائے تو اربوں کھربوں اور پدم وغیرہ سے بھی بڑی رقم بنی گی جس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے تو اس رقم میں سے صرف ایک احتمال پایا جاتا ہے اور پھر کائنات کے لئے مادہ کی آزمایش کے لئے ملیونوں بار آزمائش کی ضرورت پڑی گی کیونکہ صرف زمین پر موجود پروٹن کے ایک جز کے لئے اربوں کھربوں سال کی ضرورت پڑے گی جس کا حساب مذکورہ دانشمند نے اس طرح کیا کہ عدد ۱۰ کو ۱۰ میں ۲۴۳ بار گنا کیا جائے تو یہ رقم تو گذشتہ رقم کے لاکھوں گنا ہوجائے گی جس کو بیان کرنے کے لئے انسان کے پاس الفاظ نہیں ہے ، مطلب یہ ہے کہ ان تمام حساب وکتاب کے پیش نظر اس کائنات کو اتفاقی کی پیدا وار کہنے کی کوئی صورت نہیں ہے، کیونکہ زمین کی پیدائش کا اندازہ لگایا لیا گیا ہے لیکن اس اعتبار سے ہزاروں برابر سال درکار ہیں تاکہ صرف زمین پر موجودات اس اعتبار سے پیدا ہوں۔

اور اگر ہم مذکورہ قاعدہ سے تھوڑا تنزل کریں اور ”ھیموغلوبین“ " Hemogbobin " کے ذرات کو دیکھیں جو کہ خون میں لال رنگ کے ہوتے ہیں (جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ پروٹن" Protein " کی ترکیب کا سب سے کم درجہ ہے) تو ان میں ”کاربن“ " Carbon "کے ۶۰۰/ متحد ذروں سے بھی زیادہ پائیں گے جن میں ہیڈروجن " Hydrogen "کے ۱۰۰/ ذروں سے کم نہیں ہوتے اور نیٹروجن کے ۲۰۰/ ذروں سے زیادہ ہوتے ہیں اسی طرح آکسیجن،" Oxygen " کے بھی ۲۰۰/ ذروں سے زیادہ ہوتے ہیں یھاں تک کہ انسان میں ۲۵/ ٹریلین (۲۵,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,)) خون کے دائرے ہوتے ہیں۔

اسی طرح علم کیمیا کے ماھر ڈاکٹر” بوھلڑ “ کہتے ہیں :

اورجس وقت انسان، قوانین مصادفہ (اتفاقی نظریہ) کو ملاحظہ کرتا ہے تاکہ اس بات کا اندازہ لگائے کہ کائنات کے کسی ایک پروٹن کے کسی ایک جز کا اتفاقی ہونا کھاں تک درست ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی عمر تقریباً تین بلین(ملیون در ملیون) (۳,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,) سال یا اس سے بھی زیادہ ہے لیکن اس طویل مدت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کائنات اتفاقی نہیں ہے۔

قارئین کرام ! مذکورہ باتوں کے پیش نظر یہ بات ثابت ہے کہ یہ پروٹن " Protein " زندگی دہندہ کیمیاوی مواد ہیں اور ان میں زندگی نہیں پائی جاتی مگر جب تک ان میں وہ عجیب وغریب راز ودیعت نہ کیا جائے جس کی حقیقت کو ہم نہیں پہچانتے۔

بتحقیق اساسی مواد میں جن میں" Hydrogen","Oxygen","Carbon ", کے ساتھ کچھ عناصر نیٹروجن اور دیگر عناصر پائے جاتے ہیں تو ان کے لئے ملیونوں ذرات پائے جاتے ہیں تب ایک چھوٹا سا مواد بنتا ہے ، اور جب ہم اس سے بڑے جسم والے مواد کو دیکھتے ہیں تو اس ذرات کی بنا پر مصادفہ (اتفاقی) نظریہ کا بہت کم احتمال باقی بچتا ہے جس کو عقل انسانی سوچنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتی اور اس کو ماننے سے انکار کردیتی ہے ۔

چنانچہ مذکورہ گفتگو کے پیش نظر ”علوم اکاڈمی نیویورک“ کے صدر استاد ”کرس موریسن“ وضاحت کرتے ہیں:

”فرض کریں کہ آپ کے ایک تھیلے میں پتھر کے ۱۰۰ عدد ٹکڑے ہیں جن میں ۹۹/ کالے ہیں اور ایک سفید ہے،اور ان کو آپس میں ملالیںاس کے بعد اگر آپ تھیلے میں ھاتھ ڈال کر ان میں سے سفید پتھر نکالنا چاھیںتو اس سفید پتھر کے نکلنے کا احتمال ایک فیصد ہے، اسی طرح اگر آپ اس کے بعد دوبارہ پتھر نکالنا شروع کریں تو بھی سفید پتھر کے نکلنے کا احتمال ایک ہی فیصد رھے گا لیکن اگر اسی کام کو دومرتبہ لگاتار نکالیں تو اس کا احتمال دس ہزار میں سے ایک ہے اور اگر تیسری مرتبہ لگاتار نکالنا چاہیں تو اس کا احتمال دس لاکھ میں سے ایک ہے، اور اگر اس کے بعد اس کام کو چار بار لگاتار نکالیں تو رقم زیادہ ہوجائے گی، کیونکہ ہر بار اس عدد کو اسی میں گنا کیا جائے گا، مثلاً ۱۰۰ گنا ۱۰۰ دس ہزار ہوتے ہیں اسی طرح اگر تین بار لگاتار نکالنا چاھیں تو دس ہزار دس ہزار میں گنا کیا جائے گا جس سے دس لاکھ بن جائے گا، تو جتنی مرتبہ میں آپ اس سفید پتھر کو نکالنا چاھیں تو اس عدد کو اسی میں گنا کرتے چلے جائیں گے ، اور اس سفید پتھر کے نکلنا کا چانس گھٹتا چلا جائے گا۔

چنانچہ اس طریقہ کار سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے قارئین کو علمی اورواضح طریقہ سے ان دقیق حدود کو بیان کریں جن کے ذریعہ زمین پر زندگی بسرکرنا ممکن ہے اور حقیقی برھان کے ذریعہ زندگی حقیقی کے تمام مقومات کو ثابت کریں اور یہ بتائیں کہ کسی بھی وقت میں کوئی ایک ستارہ صرف صدفہ اور اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوا ہے۔

کیونکہ جب ہم عالم مادی کی طرف دقت سے دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا ذرہ اور بڑے سے بڑاایٹم ، ان میں خاص قوانین اور حساب وانضباط پایا جاتا ہے۔

یھاں تک کہ الکٹرون بھی ایک مدار سے دوسری مدار کی طرف نہیں جاتے جب تک کہ وہ ان کو اس طرح کی مساوی طاقت نہ مل جائے تاکہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ ہوجائے، گویا ایک مسافر کی طرح ہے کہ جب تک اس کو زاد راہ نہ دیا جائے وہ سفر نہیں کرسکتا۔

چنانچہ ستاروں کی پیدائش اور ان کی موت کے بھی خاص قوانین اور اسباب ہیں۔

ستاروں کے گھومنے میں طاقت متعادل ہے۔

اسی طرح مادہ ایک طاقت میں تبدیل ہوتا ہے اور سورج کے جسم کو نور معادلة کی طرف روانہ کرتا ہے۔

اسی طرح نور کے لئے بھی ایک معین رفتار ہے۔

اسی طرح ہر موج کے لئے طول ہوتا ہے اور حرکت کرنے والی طاقت بھی اور اس کی معین رفتار بھی۔

جیساکہ ہر معادن کے لئے کچھ ایسے مقناطیسی واضح اجزاء وخطوط ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے یہ معادن گردشی سسٹم میں قابل شناخت ہیں۔

اسی طرح ہر معدن اپنی خاص مقدار میں ہوتا ہے اس میں گرمی او ر سردی خاص مقدار میں ہوتی ہے اسی طرح ہر معدن کے لئے ضخامت اور بدن اور خاص وزن ہوتا ہے۔

چنانچہ ”اینش ٹن“ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہر معادن کے جسم اور اس کی رفتار میں خاص تناسب ہے ، اسی طرح زمانہ اور نظام حرکت جو ایک متحرک مجموعہ ہے اس میں اور زمان ومکان میں رابطہ پایا جاتا ہے۔

جس طرح بجلی بھی خاص قوانین کے تحت پیدا ہوتی ہے۔

اسی طرح زلزلہ جس کے بارے میں کھا جاتا ہے کہ یہ بے قانونی کی وجہ سے حادث ہوتا ہے لیکن یہ بھی ایک خاص نظام کے تحت ہوتا ہے۔

اسی طرح کرہ زمین کا حجم اور اس کی سورج سے دوری ، اسی طرح سورج کی گرمی اور اس کی شاعیں جن کی وجہ سے مختلف چیزوں کو حیات ملتی ہے ، اسی طرح زمین کا اوپری حصہ، نیزپانی کی مقدار ، اور ”ڈائی آکسائیڈ کاربن ثانی“" Carbon Dioxide "اسی طرح نایٹروجن کا حجم ، اور انسان کی پیدائش اور اس کا زندگی بھر باقی رہنا، یہ تمام کی تمام (کسی کے )ارادے اور قصد پر موقوف ہیںاور جیسا کہ معلوم ہوا ہے کہ یہ تمام چیزیںدقیق اور باریک حساب کے تحت ہوتے ہیں ،توکیا ان سب کا اتفاقی طور پر پیدا ہونا ممکن ہے؟!!

لیکن مادی لوگوں نے اتفاقی نظریہ کو ثابت کرتے ہوئے کھا ہے:

”بالفرض اگر حروف ابجد سے ایک صندوق بھرا ہوا ہو جس کی ترتیب وتنظیم کو لاکھوں اور کروڑوں مرتبہ لاتعداد صدیوں میں انجام دیا گیا ہو ، اس صورت میں کوئی مانع پیش نہیں آتا کہ ہم ایک منظوم قصیدہ کے نظم ونسق وترتیب کو صرف ایک دفعہ میں جدا کردیں، چنانچہ اس صورت میں قصیدہ کے حروف کی دوبارہ ترتیب میںصرف ہم کو ایک عمل کرنا پڑے گا اور وہ عمل وھی ہے جو ہم نے قصیدہ کی ترتیب وتنظیم کے جدا کرنے میں انجام دیا تھا، پس ترتیب جدا کرنے میںہم کو صرف ایک عمل (مصادفت)کے علاوہ اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوئی۔

اسی طریقہ سے ہمارا یہ عالم مادی جس کے بارے میں بہت سی ممکنہ مصادفات (اتفاقات) ہماری عقل میں آسکتی ہیں چنانچہ گذشتہ مثال کی طرح ہم عالم مادی میں بھی یھی طریقہ اپنا سکتے ہیں یعنی عقل اس بات سے منع نہیں کرتی کہ ہم اس نظام میں متعدد پائے جانے والے اتفاقات میں سے ایک اتفاق کو جدا کرلیں، اور یہ عالم مادہ چاھے عالَم جماد ہو یا عالم حیات۔“

لیکن ان کے قول کو ردّ کرنے کے لئے مذکورہ مثال کی تحلیل کرنا ہی کافی ہے، جس میں چند احتمالات پائے جاتے ہیں:

۱ ۔سب سے پہلے ہمارے پاس ایسے حروف ہونا ضروری ہے جن سے قصیدہ کھا جاسکتا ہو، ان میں سے نہ ایک حرف کم ہو اور نہ زیادہ۔

۲ ۔ ان حروف کومنظم ومترتب کرنے والی طاقت کا ہونا بھی ضروری ہے۔

۳ ۔ اس طاقت کا باقی رہنا تاکہ نظم وترتیب ہوتی رھے اور بیچ میں متوقف نہ ہو۔

۴ ۔ ایسی بافہم قوت کا ہونا ضروری ہے جو قصیدہ تمام ہونے پر تنظیم وترتیب کی حرکت کو موقوف کردے۔

چنانچہ ان چاروں احتمالات میں ان کے دعویٰ کو باطل کرنے والی دلیل موجود ہے۔

پھلے فرضیہ میں ہم یہ سوال کریں گے کہ مذکورہ حروف جن کو ترتیب دیا گیا کس طرح پیدا ہوئے؟ اور مادہ مختلف اجزاء میں کس طرح تقسیم ہوا اور اس طرح کے نتائج کیسے برآمد ہوئے؟ اس کے بعد اس تقسیم کے لئے کس طرح اتحاد کی قابلیت پیدا ہوئی؟!

دوسرے فرضیہ میں ہم یہ سوال کریں گے :

وہ کونسی طاقت ہے کہ جس کے تحت یہ ترتیب وتنظیم انجام پائی اور کیا یہ عقلی طور پر صحیح ہے کہ یھی حروف بذات خود اس بات کی صلاحیت رکھتے ہوں کہ وہ خود بخود محرک ہوکر کوئی قصیدہ بن جائےں؟

تیسرے فرضیہ میں ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ حروف کے درمیان ایک قوت محرکہ پائی جاتی ہے جو تنظیم وترتیب کاکام انجام دیتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ کونسی طاقت ہے جو اس قوت محرکہ کو اثنائے حرکت میں رکنے نہیں دیتی، کیا اس قوت محرکہ کے پاس اس حرکت کو مسلسل جاری رکھنے کا ادراک پایا جاتا ہے؟!

چوتھے فرضیہ میں ہمارا سول یہ ہے کہ وہ طاقت کونسی ہے جس نے اس قصیدہ کے تمام ہونے پر اس قوہ محرکہ کے استمرار کو روک دیا،اور پھریہ قوت کیوں اس کام کو مسلسل جاری رکھنے سے متوقف ہوگئی؟!

( إِنَّ اللهَ یُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ اٴَنْ تَزُولاَوَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ اٴَمْسَکَهُمَا مِنْ اٴَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إِنَّهُ کَانَ حَلِیمًا غَفُورًا ) ( ۳۹ )

”بے شک خدا ہی سارے آسمان اور زمین اپنی جگہ سے ہٹ جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر (فرض کرو کہ) یہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو پھر اس کے سوا انھیں کوئی نہیں روک سکتا بے شک وہ بڑا بردبار (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔“

قارئین کرام ! گذشتہ مطالب کے پیش نظریہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مذکورہ نظریہ کو نہ تو منطق قبول کرتی ہے اور نہ ہی عقل تسلیم کرتی ہے،چنانچہ یہ تمام احتمالات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ایک ایسی قوت کا ہونا ضروری ہے جو ازلی ، ابدی ، ہمیشگی اور صاحب عقل ہو،

اور اسی نے اس عظیم کائنات کو بغیر کسی اضطراب و اتفاق کے مرتب و منظم طریقہ سے خلق کیا ہے ۔

ہم نظریہ صدفہ کے باطل ہونے کے سلسلے میں مزید عرض کرتے ہیں:

اگر ہم بدون حیات مادہ میں حیات کا تصور کریں تو ہماری عقل دوچیزوں میں سے ایک چیز کو قبول کرتی ہے اور اس میں کسی تیسری چیز کا تصور نہیں :

۱ ۔ یا تو حیات مادہ کی خصوصیات اور لوازم میں سے ہے تو پھر اس صورت میں حیات کی خلقت کے لئے خالق مرید کی کوئی ضرورت نہیں !

۲ ۔ یا پھر حیات کا کوئی خالق ہے۔

پس اگر کوئی یہ کھے کہ حیات اورزندگی مادہ کی خاصیتوں میں سے ہے تو ہم اس سے یہ کہیں گے کہ اس صورت میں مادہ ازلی اور ابدی ہے جس کا اول وآخر نہیں ہے اور وہ ازل سے اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ موجود ہے، اور اس کی خصوصیات اس کے ساتھ ہیں چاھے جھاں بھی رھے۔

لیکن اس صورت میں یہ کہنا غلط ہوگا کہ فلاں ستارہ پیدا ہوا اور فلاں ستارہ پیدا نہیں ہوا کیونکہ حیات کی تمام خصوصیات کا بغیرکسی اثر کے اربوں سال تک باقی رہنے کا کوئی مقصد نہیں ہے کہ حیات ایک زمانے کے بعد ظاہر ہو جس کا تاریخ نے اربوں سال کا حساب کیا ہے لہٰذا اس جگہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حیات اتنے طولانی عرصے کے بعد کیوں ظاہر ہوئی جبکہ حیات کے خصوصیات ازل سے موجود ہیں؟!!

اور اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ حیات کا مادہ ازلی ہے تو اب سوال یہ در پیش ہے کہ یہ اتفاق(صدفہ) سے پیدا ہوکر دائمی کسیے ہوگئی؟ اوریہ اتنی طولانی مدت کھاں رھی ؟ یھاں تک کہ وہ یکایک بغیر کسی ارادہ وقصد کے وقوع پذیرهوگئی ؟!!

پس ان تمام باتوں سے یہ ثابت ہوا کہ ہم اس دوسرے فرضیہ کو صحیح مانیں کہ اس مجرد(بدون حیات) مادہ کے لئے ظهور حیات ایک خالق ازلی، مریداور صاحب اختیار سے وجود میں آئی ہے جو اس کے ظهور کے لئے زمانہ معین کرتا ہے اور جس جگہ رکھنا چاھے رکھتا ہے ،پس اسی نے اس کائنات کو اپنے ارادہ اور حکمت سے خلق کیا ہے، اور اسی کا نام اللہ تبارک وتعالیٰ ہے۔

زمین پر حیات کی شروعات

ہم اپنی بات کو تمام کرنے سے پہلے اس سوال کا جواب دینا اپنے لئے ضروری اور مناسب سمجھتے ہیں :زمین پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟ اور کیا اس حیات کی اصل سورج ہوسکتا ہے؟!

لہٰذا ہم اس سوال کے جواب میں یہ عرض کرتے ہیں کہ حیات اور زندگی کیا ہے؟ کیا یہ حجم والی چیز ہے یا وزن دار مادہ؟ یا یہ ان دونوں چیزوں سے مل کر تشکیل پاتی ہے؟

حیات ایک ایسا اثر ہے جس کا ایک زندہ خَلیہ " Cell "میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے وہ بھی ٹلسکوپ " Telescope " وغیرہ کے ذریعہ، لہٰذا جب یہ معمولی اور سب سے چھوٹا نقطہ جو ”پروٹو پلازم“ " Protoplasm "سے مخلوط ہوتا ہے اور اس میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہیںجو ہوا میں سے " Carbon Dioxide۲th "خورشید سے حاصل کرتا ہے ، اور پانی سے " Hydrogen ", نکلتا ہے چنانچہ ان دونوں چیزوں سے اس کی غذا فراہم ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ رشد ونموکرتا ہے۔

چنانچہ ماھرین نے ”پروٹو پلازم “ " Protoplasm "کو بارھا مختلف وسائل اور مختلف زمانے میں خلق کرنا چاھالیکن سب ناکام رھے اور اسی وجہ سے خدا پر ایمان میں اضافہ ہوا جو ان تمام خلیوں کا خالق ہے کیونکہ مخلوقات اپنی کو نہیں بناسکتی۔

چنانچہ یھی واحد زندہ خلیہ جو حیات کا واحد عنصر ہے جس کی بنا پر یہ کائنات وجود میں آئی تو کیا یہ پہلا خلیہ خود بخود اچانک پیدا ہوگیا یا اس کو کسی نے خلق کیا ہے؟!

قارئین کرام ! زندگی کی ابتداء کے بارے میں مختلف قسم کے نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے بعض افراد نے یہ کھاھے کہ حیات ”پروٹوجن “یا ”فیروس“ سے شروع ہوئی ہے یا ”پروٹن“ کے وجود سے شروع ہوئی ہے جبکہ بعض لوگوں کا یہ بھی گمان ہے کہ ان نظریات نے اس میدان کا دروازہ بند کردیا جس سے عالم جماد اور عالم حیات میں فرق پیدا ہوتا ہے ۔

جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مذکورہ کسی بھی نظریہ میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ ان کو قبول کرلیا جائے کیونکہ ان کی دلیلیں بہت کمزور ہیں ۔

ان تمام کے باوجود جو شخص بھی خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے وہ کوئی ایسی علمی دلیل پیش کرنے سے قاصر ہے کہ تمام ذرات جمع ہوکر اتفاقی طور پر زندگی کے اسباب بن گئے ، کیونکہ خلیوں میں ہر ایک خلیہ اتنا دقیق ہے کہ ہماری سمجھ میں آنا مشکل ہے اور اس کائنات میں اربوں، کھربوں خلیہ موجود ہیں جو اپنی زبان بے زبانی سے خدا کی قدرت کی گواھی دے رھے ہیں، جن پر عقل وفکر اور منطق دلالت کررھی ہیں۔

اسی طرح حیات کی یہ تعریف کرنا کہ یہ ایک کیمیاوی نشاط ہے ، یہ تعریف بھی قابل قبول نہیں کیونکہ مردہ جسم میں بھی کیمیاوی مادہ پایا جاتاھے، اسی طریقہ سے خود مٹی میں بھی لوھا، تانبا اور کاربن نکلتا ہے۔

اسی طرح یہ کہنا کہ جنسی خواہشات ” تستوسترون ھارمون“" Testosterone Hormone "کی وجہ سے ہوتا ہے ،لیکن اس کے بھی کوئی معنی نہیں ہیں کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں اس Hormone میں یہ فاعلیت اور خاصیت کس نے عطا کی؟!!

اسی طریقہ سے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ عالم نباتات کی حرکت سورج مکھی کے پھول کی طرح ہے جس میں ”ھارمون اکسین“ " Hormone Auxin ." کا کردار ہوتاھے اورہمیشہ اسی طرح یہ پھول سورج کی طرف گھومتا رہتا ہے اور اس میں کوئی مشکل ایجاد نہیں ہوتی۔

لہٰذا ہم یھاں پر یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ کونسی طاقت ہے جس نے مادہ کو اس طرح کی تاثیر عنایت کی جو نباتات میں اسی طرح کیمیاوی عناصر کو پهونچاتی ہے۔؟

کیونکہ ابھی تک خلیہ میں کیمیاوی ترکیب نے ہمارے اوپر راز حیات کو واضح نہیں کیا ہے کیونکہ حیات صرف مجرد منظومہ اور جامد مثلاً مکان نہیں ہے بلکہ یہ تو حیات منظومہ صاحب حیات ہے جس میں ایک طاقت ہوتی ہے جن کے اندر ایسی قدرت ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ ہدایت کرتا ہے اور ایک ایسی فطرت ہے جس میں تنظیم و ترتیب کی صلاحیت ہوتی ہے۔

اسی طرح سائنس کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ یہ ہماری زمین سورج سے جدا ہوئی ہے اور جس وقت یہ سورج سے جدا ہوئی ،اس وقت اس کی گرمی سورج کے برابر تھی اور ہمارے فرض کے حساب سے اس کا درجہ حرارت ، سورج کے اس وقت کی گرمی کے برابر ہے اور چونکہ ملیونوں سال سے اس کی گرمی میں کمی واقع ہورھی ہے۔

لہٰذا اس وقت اس کی سطح کی گرمی ( ۶۰۰۰) درجہ ہے ، لیکن اس کے اندر کا درجہ حرارت چالیس ملین (چار کروڑ) درجہ ہے، اور جب اس زمین نے ان گیسوں کو حاصل کرناشروع کیا جو سورج سے جدا ہوئیں تھیں تو یہ زمین سطح ارض پر ٹھنڈی ہونے لگی اور پانی جب زمین کے اس حصے سے مس ہوا جو مرتفع اور حرارتی تھا تو یہ پانی فضا کی جانب بخار کی شکل میں جانے لگا کہ جس کا درجہ قابل تصور نہ تھا پس یہ پانی اس فضا کے مقابل قرار پایا جو سورج اور زمین کے درمیان ٹھنڈی تھی اس کے بعد یہ زمین کی طرف ھلاک کنندہ طوفان کی طرح واپس ہوا، اور آہستہ آہستہ جب اس میں درجہ حرارت کم ہوا تو پانی ایک جگہ رک گیا اور کھیں سمندر کی شکل میں اور کھیں منجمد ہوکر پھاڑوںکی شکل میں ظاہر ہوا۔

اور اگر کرہ ارضیہ کے بارے میں یہ فرضیہ صحیح ہو تو پھر ذرا اس زندہ خلیہ کے بارے میں فکر کریں جس کے بارے میں کھا جاتا ہے کہ یہ زمین کے ساتھ سورج سے جدا ہوا ہے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ۶۰۰۰/ درجہ حرارت میں کس طرح باقی رہ سکتا ہے ، اگرچہ یہ خلیے غلاف شدہ ہی کیوں نہ ہوں۔

کیونکہ انسان کا درجہ حرارت ۳۷ / درجہ ہوتا ہے لیکن جب مریض ہوتا ہے تو یہ درجہ حرارت ۴۰ / درجہ تک پهونچ جاتا ہے ، اور جب پانی کا درجہ حرارت سوپر پهونچ جاتا ہے تو وہ بخار بن جاتا ہے، اور اس صورت میں ہزارواں درجہ کفایت کرے گا کیونکہ یہ درجہ ہر شے کو گیس کا درجہ بنادیتا ہے اس صورت میں کوئی بھی سخت سے سخت چیز پگھل جاتی ہے، پس اگر یہ درجہ حرارت ۶۰۰۰ / پر پهونچ جائے توپھر اس کائنات کا کیا حال ہوگا؟!!

لہٰذا علم وعقل دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ سورج کے جدا شدہ خلیہ کے ذریعہ حیات کا آغاز ہونا محال اور ناممکن ہے، لہٰذا اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک خالق حیّ ہو جو زمین پر مخلوقات کو پیدا کرے۔

چنانچہ ایک مشهور ومعروف ماھر ”غوسٹاف بونیہ“ کا یہ قول کتنا بہترین ہے:

”اگرہم نے زندہ مادہ کو خلق کیا ہے تو پھر یہ فکر کرنا کیسے ممکن ہے کہ کتنے ہی اجتماعی ،وراثتی اور پیچیدہ پیش آنے والے خصائص ”پروٹوپلازم حیّ“کے ٹکڑے میں پائے جاتے ہیں۔؟“

.....

قارئین کرام !

ان تمام باتوں کی تفصیل کے بعد ہم یھاں ایک یہ اہم سوال کرنا چاہتے ہیں:

”یہ پہلی موجود جس میں پہلے حیات نہ تھی کھاں سے آئی؟ اور کس طرح مختلف حالات میں تبدیل ہوئی؟ جبکہ اس میں پہلے کبھی حیات نہ تھی۔کیا یہ عدم سے وجود میں آگئی؟ یا مردہ مادہ سے پیدا ہوئی؟!!

اور کس طرح ایک مردہ شے سے زندہ چیز بن سکتی ہے اور وجود، عدم سے کیسے بن سکتا ہے۔؟“

اس سوال کا جواب سائنس کے پاس مفروضوں اور تخمینوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

مثلاً ایک صاحب کہتے ہیں کہ یہ پہلی مخلوق ، آسمان سے شھاب( بجلی) کے ذریعہ نازل ہوئی ہے ، یعنی جب بہت ہی دوری پر موجود ستاروں سے شھاب جداهوئے تو ان کے ذریعہ یہ زندگی وجود میں آئی۔

اس کاجواب تو خود ہمارے سوال کی طرف پلٹ رھا ہے ، یعنی ہم پھر سوال کرتے ہیں کہ یہ پہلی مخلوق ان دوردراز ستاروں میں کھاں سے آئی؟

چنانچہ ایک اور ماھرسائنس کہتا ہے کہ یہ حیات مردہ مادہ کے ذرات کی ترتیب سے وجود میں آئی ہے ، اور اس نظریہ پر ہماری دلیل یہ ہے کہ زندہ مادہ، مردہ عناصر سے وجود میں آتا ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں ہمارے اردگرد موجود پتھر ، پانی اور مٹی جیسے عناصر کے ذریعہ یہ مادہ تشکیل پاتا ہے اوریہ ذرات کاربن، ہیڈروجن، آکسیجن اور نیٹروجن " Hydrogen","Oxygen", "Carbon", "Nytrogen " ہی سے مادہ بنتا ہے چنانچہ ہم انھیں کو ترتیب دے کر دوبارہ دوسرے مادہ بناسکتے ہیں اور کبھی ان میں ”امینہ“ پروٹن ، نشویات اور سوگر کا اضافہ کرتے ہیں تو ایک نیا مادہ تشکیل پاتا ہے، اور یہ فرضیہ میں کافی نہیں ہے بلکہ اس پر کچھ تجربات کئے جانے ضروری ہیں جس میں بجلی اور شعائیں ہوتی ہیں اور جس میں مختلف قسم کی گیس ہوتی ہیں جیسے نوشادر آکسیڈ کاربن ،" CarbonDioxide " ”میٹھن“ " Methane " اور پانی کے بخارات کے فعل وانفعالات کے بعد آثار احماض امینیہ پیدا ہوتے ہیں۔

”احماض امینیہ“ (کڑوی گیس) جو ایک دودھ جیسی گیس ہوتی ہے جس کا تمام زندہ چیزوں میں ہوناضروری ہے اور جب ان احماض کو آپس میں ملایا جاتا ہے تو ایک دوسری قسم کی پروٹن بن جاتی ہے ، یھاں تک کہ ان کو آپس میں ملانے سے کروڑوں قسم کی پروٹن بن سکتی ہیں جس طریقہ سے کسی زبان کے الفابیٹ کے ذریعہ سے مختلف کلمات بنتے جاتے ہیں تاکہ ان سے مختلف مفاھیم ومعانی حاصل کریں، اور یہ نتیجہ بخش پروٹن ہمیشہ حرارت وبرودت (ٹھنڈک) روشنی اور بجلی کے لئے اہم مواد ہوتے ہیںپس یہ پرو ٹن مرکب ہوکر دوسری خارجی چیزوں کے بننے کے باعث ہوتے ہیںتب جاکے جوھرحیات کی صفت بنتے ہیں۔

جبکہ زمین کو تقریباً کروڑوں سال ہوچکے ہیں اور مختلف تجربے ہوتے رہتے ہیںاور اس مرکب ”احماض امینیہ“ کے بے مثال تجربہ ہوچکے ہیںاور یہ احماض امینیہ پانی میں اپنے جوھر کے ساتھ گھُل جاتے ہیں تاکہ پروٹن کے لاکھوں مواد کوتشکیل دے، اور ضروری ہے کہ یہ احماض امینیہ ایک مرتبہ جب بے مثال گیس ( حامض دیزوکسی ربیونیوکلئیک ) " D.N.A " سے ملتے ہیں اور اسی جز سے ”فیروس“ بنتا ہے۔

یہ تمام مفروضوں کا مجموعہ تھا جو ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔

چنانچہ ماھرین کا کہنا ہے کہ قانون صدفہ ہماری تائید کرتا ہے، جیسا کہ اگر کمپیوٹر پر بیٹھ کر ایک بندر کی بورڈ کے بٹن کو بہت ہی دقت سے دباتا چلا جائے تو کیا اس کے لکھنے سے کسی مشهور شاعر کا شعر بن سکتا ہے؟!!!ھر گز نہیں ، چاھے سالوں بیٹھ کر لکھتا رھے لیکن کبھی بھی اس کا یہ کام نتیجہ بخش نہیں ہوسکتا۔

چنانچہ ماھرین کا کہنا کہ احماض امینیہ اپنی ہیئت مخصوص " D.N.A " پر باقی رہتا ہے تب کھیں منفرد مادہ اپنے اوپر تسلط پیداکرتا ہے اور پھر یہ منفرد مادہ اپنے مخصوص طریقوں کے ذریعہ تکاثر پیدا کرتا ہے اور اس کے ذریعہ بذر حیات برقرار رہتا ہے۔

بالفرض اگر ہم جدلی طریقہ سے قبول کریں اور فرض کریں کہ مٹی اور پانی کے عناصر بغیر کسی علت کے صدفةً اور اتفاقاً ( D.N.A ) حامض کے لحاظ سے پیدا ہوتے ہیں ۔

اس کے بعد اس ( D.N.A ) سے مختلف لاکھوں چیزیں بننے کا سبب بنتا ہے۔

لیکن ان تمام چیزوں میں وہ حیات نہیں ہے جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔

پس ضروری ہے کہ ہم پلٹ کر یہ کھیں کہ اس حامض کے اجزاء بھی اتفاقاً اور صدفةً ہونے چاہئے تاکہ ان سے پروٹن وجود میں آئیں۔

اس کے بعد پروٹن بھی اتفاقاً خلیہ کے شکل میں ایجاد ہونے چاہئے۔

پھر یہ خلےے بھی اپنی ذات میں خود بخود اور اتفاقی طور پر پیدا ہوکر نباتی شکل اختیار کریں اور پھر دوسرا خلیہ انسانی شکل کو پیدا کرے۔

اس کے بعد ہم زندگی کی تمام کڑیوں کودرجہ بدرجہ ملاتے جائیں ،تو اس جادوئی کلید (کنجی)کا مطلب یہ بھی ہوگاکہ یہ بھی صدفةً اور اتفاقی طور پر پیدا ہوا ہے؟!

لیکن کیا یہ عقل میں آنے والی باتیں ہیں:

کیااتفاقی طور پر پرندے اور مچھلیوں کااپنے گھروں سے لاکھوں میل فاصلہ پر چلے جانے کے باو جود اپنے گھروں میں واپس آجانا اتفاقی ہے؟!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ مرغی کا بچہ انڈے کو توڑ کر خود بخودباھر نکل جائے!!

کیا زخم کا خود بخود ٹھیک ہوجانا یہ بھی اتفاق ہے!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ ”سورج سے جدا شدہ اجزا“ اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ ان کی حیات کا ملجاء وماویٰ سورج ہے تاکہ وہ اس کی اتباع کریں!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ جنگل اور پھاڑوں میں درخت خود بخود اگ جائیں ۔!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ”فیروس“ خلیہ کو کشف کرتا ہے اوراس سے اپنی حیات حاصل کرتا ہے۔

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ نباتات اپنے لئے ”کلوروفیل“ " Chlorophill "کشف کرتے ہیں اور اس کو استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کی حیات باقی رھے۔

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ مچھر بڑی ہوشیاری سے پانی پرتیرے اور وھاں انڈے دے اور پانی پر تیرتا رھے اور ھلاک نہ ہو۔!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ چیونٹی اپنے اندرمو جود زھر کو محفوظ رکھے اور اپنے بچوں کو دی جانے والی غذا میں اسے نہ ملائے ۔ کیا یہ اتفاق کی ناؤ ریت پر چل سکتی ہے!!

اسی طرح شہد کی مکھی اتنے منظم طریقہ سے شہد کو جمع کرتی ہے، مختلف پھولوں سے رس چوستی ہے اور اس کو شہد میں تبدیل کرتی ہے اور اس کے موم سے شمع بنائی جاتی ہے کیا یہ بھی اتفاق ہے۔!!!

اسی طرح زمین پر رینگنے والے حشرات (کیڑے مکوڑے) فضا میں موجود قوانین کو سمجھتے ہیں اور اسی کے تحت اپنی زندگی چلاتے ہیں کیونکہ بہت سے کیڑے صرف برسات کے موسم میں نکلتے ہیں ، کیا یہ بھی اتفاق ہے !!!

اسی طرح رنگ برنگے حشرات جو اپنے اندر ایسی صلاحیت رکھتے ہیں جو ان کے رنگ سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اسی طرح وہ حشرات جو بہت سی زھریلی گیس بناتے ہیں اورفضا میں چھوڑتے ہیں، کیا یہ بھی اتفاق ہے ؟!!

قارئین کرام ! اگر ہم ان تمام باتوں کو تسلیم کرلیں کہ یہ حیات بھی اتفاقی طور پر وجود میں آئی ہے تو ہم کیسے مان سکتے ہیں کہ یہ مذکورہ تمام چیزیں اتفاقی طور پر وجود میں آگئی ہیں۔!!

چنانچہ ان تمام بے ہودہ باتوںکو عقل انسانی تسلیم نہیں کرسکتی۔

اور جب مادہ پرستوں نے اپنے کواتفاق(صدفہ)کی اس کشمش میں پایا تو اس سے چھٹکارا پانے کے لئے صدفہ (اتفاق) کی جگہ ایک دوسرا لفظ رکھا اور اس طرح کھا کہ یہ ہماری حیات (جو مختلف الوان واقسام سے مزین ہے) ایک ضرورت کے تحت پیدا ہوئی جس طرح ایک بھوکا انسان غذا تلاش کرتا ہے اور مختلف غذا فراہم کرتا ہے اسی طرح ہماری زندگی میں مختلف ضروریات پیش آتی رھی اور ہمارے سامنے بہت سی چیزیں وجودمیں آتی گئیں!!۔

قارئین کرام ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ سب الفاظ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ،کیونکہ انھوں نے لفظ ”صدفہ “(اتفاق) کی جگہ ” ضرورت کے تحت “ رکھا ! ۔

یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک چھوٹا سا واقعہ بغیر کسی عقل کی کارکردگی کے ایک بہت بڑا واقعہ بن جائے؟!! لہٰذا یھاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ”ضرورت“ کو کس نے پیدا کیا؟۔

اور یہ” ضرورت“ ”لاضرورت“ سے کیسے وجود میں آئی؟!!

کیونکہ یہ سب چیزیں حقیقت کو چھپانے والی ہیں جس کا عقل انسانی اور فطرت بدیھی طور پر انکار کرتی ہیں پس معلوم یہ ہوا کہ ان تمام چیزوں کا خالق ایک مدبر اور حکیم ہے۔

پس ہم ان زور گوئی والی باتوںکو بغیر دلیل کے کس طرح قبول کرسکتے ہیں؟!!

ہم کیسے ان محالات کو قبول کرسکتے ہیں؟!! تاکہ واضح حقائق کی پردہ پوشی ہوجائے جو کہ ہماری بدیھی فطرت میں شامل ہیں اور ہم ان کا مشاہدہ کررھے ہیں۔!! اور اگر ہم ان تمام چیزوں کی بداہت کو جھٹلائیں تو پھرگویا ہم نے عقل کو بیچ ڈالا ،!! کیونکہ یہ تمام چیزیں منطقی اور عقلی بدیھیات میں سے ہیں۔ اگر ہم ان تمام چیزوں کا انکار کریں تو گویا ہم نے اپنی عقل کو بالائے طاق رکھدیا حالانکہ ہم اپنے کو بہت بڑاعاقل اور علامہ سمجھتے ہیں۔

چنانچہ علم طبیعیات کے مشهورو معروف ماھر ڈاکٹر ”کونجڈن“کہتے ہیں: ”کائنات میں موجود ہر شے خدا کے وجود ، اس کی قدرت اور اس کی عظمت پر دلالت کرتی ہے ، اور جب ہم اس کائنات کی چیزوںکو ملاحظہ کرتے ہیں تو ہمیں نعمت خدا کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا ،پس خدا ہی کی ذات ہے جس نے کائنات میں ان نعمتوں کو ہماری خدمت کے لئے خلق کیا ، لہٰذا ہم کسی مادی علمی وسیلہ سے خدا کو نہیں پہچان سکتے، لیکن ہم اپنے اندر اور کائنات کے ذرہ ذرہ میںخدا کی نشانیاں واضح طور پر دیکھتے ہیں: خلاصہ یہ کہ یہ علوم ، مخلوقات اور خدا کی قدرت کے علاوہ اور کسی چیز کا پتہ نہیں دے سکتے۔ چنانچہ خداوندعالم کا ارشاد ہوتا ہے:

( ذَلِکُمْ اللهُ رَبُّکُمْ لاَإِلَهَ إِلاَّ هو خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهو عَلَی کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ ) ( ۴۰ )

”(لوگو) وھی اللہ تمھارا پروردگار ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے تو اسی کی عبادت کرو اور ہی ہر چیز کا نگھبان ہے ۔“

( هو الَّذِی جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِینَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللهُ ذَلِکَ إِلاَّ بِالْحَقِّ یُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ) (( ۴۱ )

”وھی وہ (خدائے قادر) ہے جس نے آفتاب کو چمکدار اور ماہتاب کو روشن بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم لوگ برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلو، خدا نے اسے حکمت ومصلحت سے بنایا ہے وہ اپنی آیتوں کو واقف کار لوگوں کے تفصیل وار بیان کرتا ہے۔“

( اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَاٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجَ بِهِ مِنْ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ وَسَخَّرَ لَکُمْ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاٴَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَکُمْ الْاٴَنهَارَ وَسَخَّرَ لَکُمْ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَیْنِ وَسَخَّرَ لَکُمْ اللَّیْلَ وَالنَّهَارَ وَآتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَاٴَلْتُمُوه ) ( ۴۲ )

”خدا ہی ایسا (قادر وتوانا) ہے جس نے آسمان وزمین پیدا کرڈالے اورآسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے (مختلف درختوں سے) تمھاری روزی کے واسطے (طرح طرح کے) پھل پیدا کئے اور تمھارے واسطے کشتیاں تمھارے بس میں کردیں تاکہ اس کے حکم سے دریا میں چلیں اور تمھارے واسطے ندیوں کو تمھارے اختیار میں کردیا اور سورج چاند کو تمھارا تابعدار بنادیا کہ سدا پھیری کیا کرتے ہیں او ررات دن کو تمھارے قبضہ میں کردیا (کہ ہمیشہ حاضر باش رہتے ہیں) اور( اپنی ضرورت کے موافق) جو کچھ تم نے اس سے مانگا اس میں سے بقدر مناسب تمھیں دیا ۔۔۔“

( اٴَلاَلَهُ الْخَلْقُ وَالْاٴَمْرُ تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِین ) ( ۴۳ )

”دیکھو حکومت او رپیداکرنا بس خاص اسی کے لئے ہے۔“

____________________

[۱] سورہ ابراھیم آیت ۱۰

[۲] سورہ اعراف آیت ۴۳۔

[۳] سورہ آل عمران آیت ۱۹۳۔

[۴] سورہ ملک آیت ۳، ۴۔

[۵] نشاة الدین ص ۱۹۶،۱۹۷۔

[۶] نشاة الدین ص ۱۸۴۔

[۷] سورہ بقرہ آیت ۱۶۴۔

[۸] سورہ واقعہ آیت ۵۸،۵۹۔

[۹] سورہ واقعہ آیت ۵۸،۵۹۔

[۱۰] سورہ طارق آیات ۶تا ۸۔

[۱۱] سورہ طٰہ آیت ۳۵۔

[۱۲] سورہ روم آیت ۲۰۔

[۱۳] سورہ نحل آیت ۷۸۔

[۱۴] سورہ نور آیت ۴۵۔

[۱۵] سورہ فاطر آیت ۲۸۔

[۱۶] سورہ انعام آیت ۳۸۔

[۱۷] سورہ ملک آیت ۱۹۔

[۱۸] سورہ نحل آیات ۵ تا ۸۔

[۱۹] سورہ غاشیہ آیت ۱۷۔

[۲۰] سورہ نمل آیت ۱۸ َ

[۲۱] سورہ نمل آیت ۸۸۔

[۲۲] سورہ واقعہ آیت ۶۳تا ۶۵۔

[۲۳] سورہ واقعہ آیت ۷۱تا ۷۲۔

[۲۴] سورہ انعام آیت ۹۹۔

[۲۵] سورہ طٰہ آیت ۵۳۔

[۲۶] سورہ نمل آیت ۶۰۔

[۲۷] سورہ انبیاء آیت ۳۰ ۔

[۲۸] سورہ واقعہ آیات ۶۸تا۷۰۔

[۲۹] سورہ روم آیت ۲۴۔

[۳۰] سورہ بقرہ آیت ۱۶۴۔

[۳۱] سورہ اعراف آیت ۱۸۵۔

[۳۲] سورہ نحل آیت ۱۴ ۔

[۳۳] سورہ یونس آیت ۱۰۱۔

[۳۴] سورہ ق آیت ۶۔

[۳۵] سورہ رعد آیت ۲۔

[۳۶] سورہ ذاریات آیت ۴۷۔

[۳۷] سورہ فاطر آیت ۱۳۔

[۳۸] سورہ لقمان آیت ۱۱۔

[۳۹] سورہ فاطر آیت ۴۱۔

[۴۰] سورہ انعام آیت۱۰۲۔

[۴۱] سورہ یونس آیت۵۔

[۴۲] سورہ ابراھیم آیت ۳۲تا۳۴۔

[۴۳] سورہ اعراف آیت۵۴۔


4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16