نمازکے آداب واسرار

نمازکے آداب واسرار15%

نمازکے آداب واسرار مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 370

نمازکے آداب واسرار
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 370 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 167227 / ڈاؤنلوڈ: 4239
سائز سائز سائز
نمازکے آداب واسرار

نمازکے آداب واسرار

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

مستحب ہے کہ جب انسان اپنے گھرسے نمازکے لئے مسجدکی طرف روانہ ہو تو بہترین لباس پہن کراورعطر وخوشبو لگاکرمسجدمیں آئے اوراگرگھرمیں بھی نمازپڑھے توخشبولگاکرنمازپڑھے،عورت کے لئے مستحب ہے کہ جب گھرمیں نمازاداکرے توعطرخوشبوکااستعمال کرے ،عطرلگاکرنماز پڑھنے کے بارے میں روایت میں آیاہے:قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم رکعتان علیٰ اثرطیب افضل من سبعین رکعة لیست کذلک (۱)

نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:خوشبوکے ساتھ دورکعت نمازپڑھناان ستررکعت نمازوں سے افضل ہیں جوعطرلگائے بغیر پڑھی جاتی ہیں ۔قال الرضاعلیه السلام :کان یعرف موضع جعفرعلیه السلام فی المسجد بطیب ریحه وموضع سجوده ۔(۲)

حضرت امام صادق کے بارے میں امام رضا فرماتے ہیں:کہ امام صادق کی محل نمازوسجدہ کومسجدمیں ان کی خوشبوکے ذریعہ پہچان لیاجاتاتھا۔حسین دیلمی نے اپنی کتاب“ہزارویک نکتہ دربارہ ”میں ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت امام زین العابدین جب بھی نماز پڑھنے کا ارادہ کرتے تھے اور محل نمازپر کھڑے ہوتے تھے تو ) اپنے آپ کو اس عطرسے جو آپ کے مصلّے میں رکھا رہتا تھا معُطّرکر تے تھے۔(۳)

حمام ، گِل،نمک زارزمین،کسی بیٹھے یاکھڑے ہوئے انسان کے مقابلے میں،کھلے ہوئے دروازے کے سامنے ،شاہروں اورسڑکوں پر،گلیوں میں جبکہ آنے جانے والے کے لئے باعث زحمت نہ ہو، اگرباعث زحمت ہوتوحرام ہے،آگ اورچراغ کے سامنے ،باورچی خانہ میں،جہاں اگ کی بھٹی ہو، کنویں کے سامنے ،ایسے گڑھے کے سامنے کہ جہاں حمام ولیٹرین وغیرہ کاپانی پہنچتاہے ،ذی روح کی تصویریامجمسہ کے سامنے،جس کمرہ میں مجنب موجودہو، قبرکے اوپریاقبرکے سامنے یاقبرستان میں نمازپڑھنامکروہ ہے۔

عن ابی عبدالله علیه السلام قال:عشرة مواضع لایصلی فیها:الطین والماء والحمام والقبورومسان الطریق وقری النمل ومعاطن الابل ومجری الماء والسبخ والثلج .

امام صادق فرماتے ہیں:دس مقام ایسے کہ جہاں نمازنہ پڑھی جائے : گِل،پانی،حمام،قبور، گذرگاہ ،چیونٹی خانہ ،اونٹوں کی جگہ ،(گندے )پانی کی نالی یاگڑھے کے پاس ،نمک زارزمین پر،برف پر۔(۴)

____________________

. ١)آثارالصادقین /ج ١٢ /ص ١٠٢

٢)مکارم الاخلاق /ص ۴٢

. ٣)ہزارویک نکتہ دربارہ نماز/ش ٢٢٣ /ص ۶٩

۴)وسائل الشیعہ/ج ٣/ص ۴۴١

۱۰۱

عن معلی بن خنیس قال:سئلت اباعبدالله علیه السلام عن الصلاة علی ظهرالطریق؟فقال:لا،اجت نبواالطریق .

معلی بن خنیس سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے راستے پر نمازکے پڑھنے کے بارے میں سوال کیاتوآپ نے فرمایا:صحیح نہیں ہے ،او رفرمایا:راستے پرنمازپڑھنے سے پرہیزکرو۔(۱)

عن ابی عبدالله علیه السلام قال:لاتصل فی بیت فیه خمرولامسکرلان الملائکة لاتدخله . امام صادق فرماتے ہیں:کسی ایسے گھرنمازنہ پڑھوکہ جس میں شراب یاکوئی مسکرشے مٔوجودہوکیونکہ ایسے گھروں میں ملائکہ داخل نہیں ہوتے ہیں۔(۲)

____________________

.۱) وسائل الشیعہ/ج ٣/ص ۴۴۶

. ۲)استبصار/ج ١/ص ١٨٩

۱۰۲

مسجد

مسجدکی اہمیت

مسجدروئے زمین پرالله کاگھرہے اورزمین کی افضل ترین جگہ ہے ،اہل معارف کی جائیگاہ اورمحل عبادت ہے،صدراسلام سے لے کرآج تک مسجدایک دینی والہٰی مرکزثابت ہوئی ہے،مسجد مسلمانوں کے درمیان اتحادپیداکرنے کامحورہے اوران کے لئے بہترین پناہگاہ بھی ہے، مسجدخانہ ہدایت و تربیت ہے مسجدمومنین کے دلوں کوآباداورروحوں کوشادکرتی ہے اورمسجدایک ایساراستہ ہے جوانسان کوبہشت اورصراط مستقیم کی ہدایت کرتاہے ۔ دین اسلام میں مسجد ایک خاص احترام ومقام رکھتی ہے ، کسی بھی انسان کو اس کی بے حرمتی کرنے کا حق نہیں ہے اور اسکا احترام کرنا ہر انسان پر واجب ہے ۔ ا بو بصیر سے مروی ہے: میں نے حضرت امام صادق سے سوال کیا کہ: مسجدوں کی تعظیم واحترام کاحکم کیوں دیاگیاہے ؟آپ (علیه السلام)نے فرمایا:

انّماامربتعظیم المساجدلانّهابیوت اللهفی الارض ۔(۱)

مسجدوں کے احترام کا حکم اس لئے صادرہواہے کیونکہ مسجدیں زمین پر خداکا گھر ہیں اور خدا کے گھر کا احترام ضروری ہے۔

نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)اپنے ایک طولانی خطبہ اورگفتگومیں ارشادفرماتے ہیں:من مشیٰ الی مسجد من مساجدالله فله بکل خطوة خطاهاحتی یرجع الی منزله عشرحسنات ،ومحی عنه عشرسیئات ، ورفع له عشردرجات.

ہروہ جوشخص کسی مسجدخداکی جانب قدم اٹھائے تواس کے گھرواپسی تک ہراٹھنے والے قدم پردس نیکیان درج لکھی جاتی ہیں اوردس برائیاں اس نامہ أعمال سے محوکردی جاتی ہیں اوردس درجہ اس کامقام بلندہوجاتاہے۔(۲)

قال النبی صلی الله علیه وآله:من کان القرآن حدیثه والمسجدبیته بنی الله له بیتافی الجنة.

نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جس شخص کی گفتگوقرآن کریم ہواورمسجداس کاگھرہوتوخداوندعالم اس کے لئے جنت میں ایک عالیشان گھرتعمیرکرتاہے۔(۳)

____________________

. ١)علل الشرئع /ج ٢/ص ٣١٨

۲). ثواب الاعمال/ص ٢٩١

۳). تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ٢۵۵

۱۰۳

عن ابی عبدالله علیه السلام قال:من مشی الی المسجد لم یضع رجلاعلی رطب ولایابسالّاسبحت له الارض الی الارض السابعة.

امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص مسجد کی طرف قدم اٹھائے اب وہ زمین کی جس خشک وترشے بٔھی قدم رکھے توساتوںزمین تک ہرزمین اس کے لئے تسبیح کرے گی۔(۱)

عن الصادق علیه السلام:ثلٰثة یشکون الی الله عزوجل مسجدخراب لایصلی فیه اهله وعالم بین الجهال ومصحف معلق قدوقع علیه غبارلایقرء فیه ۔(۲)

امام جعفر صادق فرماتے ہیں : تین چیزیں الله تبارک وتعالی کی بار گاہ میں شکوہ کرتی ہیں:

١۔ویران مسجدکہ جسے بستی کے لوگ آباد نہیں کر تے ہیں اور اس میں نماز نہیں پڑھتے ہیں

٢۔وہ عالم دین جو جاہلوں کے درمیان رہتا ہے اور وہ لوگ اس کے علم سے فائدہ نہیں اٹھاتے ہیں

٣۔ وہ قرآن جو کسی گھر میں گرد وغبارمیں آلودہ بالا ئے تاق رکھا ہوا ہے اور اہل خانہ میں سے کوئی شخص اس کی تلاوت نہیں کرتا ہے۔

قال النبی صلی الله علیه وآله وسلم :من سمع النداء فی المسجد فخرج من غیرعلة فهومنافق الّاان یریدالرجوع الیه ۔(۳)

رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں: منافق ہے وہ شخص جو مسجد میں حاضر ہے اور اذان کی آواز سن کر بغیر کسی مجبوری کے نماز نہ پڑھے اور مسجد سے خارج ہو جائے مگر یہ کہ وہ دوبارہ مسجد میں پلٹ آئے۔

____________________

۱) تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ٢۵۵

. ۲)سفینة البحار/ج ١/ص ۶٠٠

. ۳)امالی(شیخ صدوق )/ص ۵٩١

۱۰۴

قال رسول الله صلی الله علیه وآله :ان اللهجل جلاله اذارا یٔ اهل قریة قداسرفوافی المعاصی وفیهاثلاثة نفرمن المومنین ناداهم جل جلاله وتقدست اسمائه:یااهل معصیتی !لولامَن فیکم مِن المومنین المتحابّین بجلالی العامرین بصلواتهم ارضی ومساجدی والمستغفرین بالاسحارخوفاًمِنّی ،لَاَنزَلْتُ عَذَابِیْ ثُمَّ لااُبَالِی ۔(۱)

رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جب خداوندعالم کسی بستی کے لوگوں کوگناہوں میں آلودہ دیکھتاہے او راس بستی میں فقط تین افرادمومن باقی رہ جاتے ہیں تواس وقت خدائے عزوجل ان اہل بستی سے کہتاہے:

اے گنا ہگا ر انسانو ! اگرتمھارے درمیان وہ اہل ایمان جومیری جلالت کے واسطے سے ایک دوسرے کودوست رکھتے ہیں،اورمیری زمین ومساجدکواپنی نمازوں کے ذریعہ آبادرکھتے ہیں،اورمیرے خوف سے سحرامیں استغفارکرتے ہیں نہ ہوتے تومیں کسی چیزکی پرواہ کئے بغیرعذاب نازل کردیتا۔

وہ لوگ جومسجدکے ہمسایہ ہیں مگراپنی نمازوں کومسجدمیں ادانہیں کرتے ہیں ان کے بارے میں چندروایت ذکرہیں:

قال النبی صلی الله علیه وآله:لاصلاة لجارالمسجدالّافی المسجده ۔(۲) .

پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:مسجد کے ہمسایو ں کی نماز قبول نہیں ہوتی ہے مگر یہ کہ وہ اپنی نمازوں کو اپنی مسجد میں اداکریں۔

عن الصادق علیه السلام انه قال::شکت المساجدالی الله الّذین لایشهدونهامن جیرانهافاوحی الله الیهاوعزتی جلالی لاقبلت لهم صلوة واحدة ولااظهرت لهم فی الناس عدالة ولانالتهم رحمتی ولاجاورنی فی الجنة ۔(۳)

حضرت امام صادق فرماتے ہیں: مسجد وں نے ان لوگوں کے بارے میں جو اس کے ہمسایہ ہیں اور بغیر کسی مجبوری کے نماز کے لئے مسجد میں حاضر نہیں ہو تے ہیں درگاہ خداوندی میں شکایت کی ،خدا وندعالم نے ان پر الہام کیا اور فرمایا : میں اپنے جلال وعزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں ، میں ایسے لوگوں کی ایک بھی نماز قبول نہیں کر تا ہوں اور ان کو معا شرے میں اور نیک اورعادل آدمی کے نام سے شہرت وعزت نہیں دیتا ہوں اور وہ میری رحمت سے بہرہ مندنہ ہونگے اوربہشت میں میرے جوار میں جگہ نہیں پائیں گے ۔

____________________

. ۱)علل الشرایع /ج ٢/ص ۵٢٢

۲)وسائل الشیعہ /ج ٣/ص ۴٧٨

. ۳)سفیتة البحار/ج ١/ص ۶٠٠

۱۰۵

عن ابی جعفرعلیه السلام انه قال:لاصلاة لمن لایشهدالصلاة من جیران المسجد الّامریض ا ؤمشغول.

امام محمدباقر فرماتے ہیں:ہروہ مسجدکاہمسایہ جونمازجماعت میں شریک نہیں ہوتاہے اس کی نمازقبول نہیں ہوتی ہے مگریہ کہ وہ شخص مریض یاکوئی عذرموجہ رکھتاہو۔(۱)

مسجدکوآبادرکھنااورکسی نئی مسجدکی تعمیرکرنابہت زیادہ ثواب ہے،اگرکوئی مسجدگرجائے تواس کی مرمت کرنابھی مستحب ہے اوربہت زیادہ ثواب رکھتاہے، اگر مسجدچھوٹی ہے تواس کی توسیع کے لئے خراب کرکے دوبارہ وسیع مسجدبنانابھی مستحب ہے( اِنَّمَایَعْمُرُمَسَاْجِدَاللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الآخِروَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَی الزَّکٰوةَ وَلَمْ یَخْشَ اِلّااللّٰهَ فَعَسَیٰ اُوْلٰئِکَ اَنْ یَکُوْنُوامِنَ الْمُهْتَدِیْنَ ) .(۲)

الله کی مسجدوں کوصرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا اور روزآخرت پر ایمان رکھتے ہیں اورجنھوں نے نمازقائم کی ہے اورزکات اداکی ہے اور خداکے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو عنقریب ہدایت یافتہ لوگوں میں شمارکئے جائیں گے۔

عن ابی عبیدة الحذاء قال سمعت اباعبدالله علیه السلام یقول :من بنیٰ مسجدا بنی اللهله بیتاًفی الجنة ۔(۳)

ابوعبیدہ سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق کویہ فرماتے سناہے:ہروہ شخص جو کسی مسجدکی بنیادرکھے توخداوندعالم اسکے لئے بہشت میں ایک گھربنادیتاہے ۔

تاریخ میں لکھاہے کہ جس وقت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو آپ نے سب سے پہلے ایک مسجدکی بنیادرکھی (جو مسجد النبی کے نام سے شہرت رکھتی ہے )اوراس کے تعمیرہونے کے بعدحضرت بلال /نے اس میں بلندآوازسے لوگوں کونمازکی طرف دعوت دینے کاحکم دیا ۔

____________________

۱). من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٧۶

. ٢)سورہ تٔوبہ/آیت ١٨

۳)تہذیب الاحکام /ج ٣/ص ٢۶۴

۱۰۶

عن ابی جعفرعلیه السلام قال:اذادخل المهدی علیه السلام الکوفة قال الناس: یاابن رسول الله(ص انّ الصلاة معک تضاهی الصلاة خلف رسول الله(ص، وهذا المسجد لایسعنا فیخرج الی العزی فیخط مسجدا له الف باب یسع الناس ویبعث فیجری خلف قبر الحسین علیه السلام نهرایجری العزی حتی فی النجف.

امام صادق فرماتے ہیں:جب امام زمانہ (ظہورکے بعد)کوفہ میں واردہونگے تووہاں کے لوگ آپ سے نماز پڑھانے کی فرمائش کریں گے ،اورکہیں گے آپ پیچھے نمازپڑھنارسول خدا(ص)کے پیچھے نمازپڑھنے کے مانندہے مگریہ مسجد بہت چھوٹی ہے پ،یہ سن کرامام (علیه السلام) عزیٰ کے جانب حرکت کریں گے اورزمین ایک خط کھینچ کرمسجدکاحصاربنائیں گے اوراس مسجدکے ہزاردروازے ہونگے جس میں تمام (شیعہ)لوگوں کی گنجائش کی جگہ ہوگی اورسب لوگ اس میں حاضرہوجائیں،امام حسینکی قبرمطہرکی پشت سے ایک نہرجاری ہوگی جوعزی تک پہنچے گی یہاں تک کہ شہرنجف میں بھی جار ی ہوگی۔(۱)

.عن ابی عبدالله علیه السلام قال:ان قائمنااذاقام یبنی له فی ظهرالکوفة مسجدله الف باب.

امام صادق فرماتے ہیں:جب امام زماں قیام کریں گے توپشت کوفہ میں ایک مسجدتعمیرکریں گے جسکے ہزاردروازے ہونگے ۔(۲)

مساجدفضیلت کے اعتبارسے

سنت مو کٔدہ ہے کہ انسان اپنی نمازوں کومسجدمیں اداکرے اورمسجدوں میں سب سے افضل مسجدالحرام ہے جس میں نمازپڑھناسوہزارثواب رکھتاہے اس کے بعدمسجدالنبی (صلی الله علیه و آله)ہے اس کے مسجدکوفہ اس کے بعدبیت المقدس اس کے بعدہرشہرکی جامع مسجداس کے بعدمحلہ اوربازار کی مسجدہے اورجیسے ہی مسجدمیں داخل ہوتودورکعت نمازتحیت مسجدپڑھے۔

عن النبی صلی الله علیه انه قال:اذادخل احدکم المسجد فلایجلسحتی یصلی رکعتین

رسول اسلام (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:تم میں جب بھی کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تومحل نمازپر بیٹھنے سے پہلے دورکعت نماز(تحیت مسجد) پڑھے ۔(۳)

____________________

۱) بحارالانوار/ج ٩٧ /ص ٣٨۵

۲). بحارالانوار/ج ٩٧ /ص ٣٨۵

۳) المبسوط/ج ٨/ص ٩٠

۱۰۷

مسجدالحرام میں نمازپڑھنے کاثواب

عن ابی جعفرعلیه السلام انه قال:من صلی فی المسجد الحرام صلاة مکتوبة قبل اللهبهامنه کل صلاة صلاهامنذیوم وجبت علیه الصلاة وکل صلاة یصلیهاالی ان یموت .

امام باقر فرماتے ہیں:جوشخص مسجدالحرام میں ایک واجب کواداکرے توخداوندعالم اس کی ان تمام نمازوں کوجواس نے واجب ہونے کے بعدسے اب تک انجام دی ہیں قبول کرتاہے اوران تمام کوبھی قبول کرلیتاہے جووہ آئندہ مرتے دم تک انجام دے گا۔(۱)

قال محمدبن علی الباقرعلیه السلام: صلاة فی المسجدالحرام ا فٔضل من مئة الف صلاة فی غیره من المساجد ۔(۲)

امام باقر فرماتے ہیں:مسجدالحرام میں ایک نمازپڑھنادوسری مسجدوں میں سوہزار نمازیں پڑھنے سے افضل ہے۔

مسجدالنبی (صلی الله علیه و آله)میں نمازپڑھنے کاثواب

قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم:صلاة فی مسجدی تعدل عندالله عشرة آلاف فی غیره من المساجدالّامسجدالحرام فانّ الصلاة فیه تعدل ما ئٔة ا لٔف صلاة ۔

( ١ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:میری مسجد(مسجدالنبی)میں ایک نمازپڑھنامسجدالحرام کے علاوہ دوسری مساجدمیں ایک ہزارنمازپڑھنے سے افضل ہے کیونکہ مسجدالحرام میں ایک نمازپڑھنادوسری مساجدمیں سوہزارنمازیں پڑھنے سے افضل ہے۔(۳)

قال ابوعبدالله علیه السلام : صلاة فی مسجد النبی صلی الله علیه وآله تعدل بعشرة آلاف صلاة .

امام صادق فرماتے ہیں:مسجدالنبی (صلی الله علیه و آله)میں ایک نمازپڑھناہزارنمازوں کے برابرہے۔(۴)

____________________

۱)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٢٨

. ۲) ثواب الاعمال /ص ٣٠

۳)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٢٨

۴). کافی/ج ۴/ص ۵۵۶

۱۰۸

مسجدکوفہ میں نمازپڑھنے کاثواب

مسجدکوفہ وہ مسجدہے کہ جس ایک ہزارانبیا ء اورایک ہزاراوصیاء نے نمازیں پڑھیں ہیں ،وہ ت نوربھی اسی مسجدمیں ہے کہ جس سے حضرت نوح کے زمانے میں پانی کاچشمہ جاری ہوااورپوری دنیامیں پانی ہی پانی ہوگیاتھا،یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں سے کشتی نوح (علیه السلام)نے حرکت کی اوراس میں سوارہونے والے لوگوں نے نجات پائی،یہ وہ مسجدہے کہ جسے معصومین نے جنت کاایک باغ قراردیاہے ،یہ وہ مسجدہے کہ جس میں امام اول علی ابن ابی طالب کو شہیدکیاگیاہے ،اس مسجدمیں نمازپڑھنے کے بارے میں روایت میں ایاہے:

عن محمدبن سنان قال: سمعت اباالحسن الرضاعلیه السلام یقول:الصلاة فی مسجدالکوفة فرداا فٔضل من سبعین صلاة فی غیرها جماعة ۔

محمدبن سنان سے مروی کہ میں نے امام علی رضا کویہ فرماتے ہوئے سناہے: مسجدکوفہ میں فرادیٰ نمازپڑھنا(بھی)دوسری مساجدمیں جماعت سے سترنمازیں پڑھنے سے افضل ہے ۔(۱)

عن المفضل بن عمرعن ابی عبدالله علیه السلام قال:صلاة فی مسجدالکوفة تعدل الف صلاة فی غیره من المساجد ۔

مفضل ابن عمر سے مروی کہ امام صادق فرماتے ہیں: مسجدکوفہ میں ایک نمازپڑھنادوسری مساجدمیں جماعت سے پڑھنے سے افضل ہے ۔(۲)

عن ابی جعفرعلیه السلام قال:صلاة فی مسجدالکوفة،الفریضة تعدل حجة مقبولة والتطوع فیه تعدل عمرة مقبولة

امام محمدباقر فرماتے ہیں:مسجدکوفہ میں ایک واجب نمازپڑھناایک حج مقبولہ کاثواب ہے اورایک مستحبی نمازپڑھناایک عمرہ مٔقبولہ کاثواب ہے۔(۳)

____________________

۱). بحارالانوار/ج ٨٠ /ص ٣٧٢

۲). ثواب الاعمال/ص ٣٠

.۳) کامل الزیارات/ص ٧١

۱۰۹

امام صادق سے مروی ہے :حضرت علی مسجدکوفہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص مسجدمیں داخل ہوااورکہا:“السلام علیک یاامیرالمومنین ورحمة الله وبرکاتہ ”امام علی (علیه السلام)نے اس کے سلام کے جواب دیا،اس کے بعداس شخص نے عرض کیا:اے میرے مولا! آپ پرقربان جاؤں،میں نے مسجدالاقصیٰ جانے کاارادہ کیاہے ،لہٰذامیں نے سوچاکہ آپ کو سلام اورخداحافظی کرلوں ،امام (علیه السلام) نے پوچھا:تم نے کس سبب سے وہاں جانے کاقصدکیاہے ؟جواب دیا:خداکافضل کرم ہے اوراس نے مجھے ات نی مال ودولت عطاکی ہے میںفلسطین جاکرواپسآسکتاہوں ،پسامام (علیه السلام)نے فرمایا:

فبع راحلتک وکلّ ذادک وصلّ فی هذاالمسجدفانّ الصلاة المکتوبة فیه مبرورةوالنافلة عمرة مبرورة ۔

تم اپنے گھوڑے اورزادسفرکوفروخت کردواوراس مسجدکوفہ میں نمازپڑھوکیونکہ اس مسجدمیں ایک واجب نمازاداکرناایک مقبولی حج کے برابرثواب رکھتاہے اورمستحبی نمازپڑھناایک مقبولی عمرہ کے برابرثواب رکھتاہے۔(۱)

قال النبی صلی الله علیه وآله:لمااسری بی مررت بموضع مسجدکوفة واناعلی البراق ومعی جبرئیل علیه السلام فقال:یامحمد!انزل فصل فی هذاالمکان ، قال: فنزلتُ فصلیتُ .

نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جب مجھے آسمانی معراج کے لئے لے جایاگیاتومیں براق پہ سوارتھااورجبرئیل (علیه السلام)بھی میرے ساتھ تھے ،جب ہم مسجدکوفہ کے اوپرپہنچے توجبرئیل (علیه السلام) نے مجھ سے کہا:اے محمد!زمین پراترجاؤاوراس جگہ پرنمازپڑھو،میںزمین پرنازل ہوااور(مسجدکوفہ میں)نمازپڑھی۔(۲)

____________________

۱). کافی/ج ١/ص ۴٩١

۲). من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٣١

۱۱۰

حرم آئمہ اطہار میں نمازپڑھنے کاثواب

آئمہ اطہار کے حرم میں نمازپڑھنابہت ہی زیادہ فضیلت رکھتاہے ،یہ وہ مقامات ہیں کہ جہاں نمازپڑھنے کابہت زیاد ہ ثواب ہے ، دعائیں مستجاب ہوتی ہیں،رویات میں ایاہے کہ امام علی کے حرم میں ایک نمازپڑھنادولاکھ نمازوں کے برابرثواب رکھتاہے۔ حرم آئمہ اطہار میں نمازپڑھنے اوردعاکرنے کے بارے میں دعاکے باب میں ذکرکریں گے۔

مسجدقبااورمسجدخیف میں نمازپڑھنے کاثواب

مدینہ میں ایک مسجدقباہے کہ جس کی بنیادروزاول تقویٰ وپرہیزگاری پررکھی گئی ہے ، مسجدفضیح جسے مسجدردّشمس بھی کہاجاتاہے اسی مسجدکے پاس ہے مسجدقبامیں نمازپڑھنے کے بارے میں روایت میں ایاہے:

قال رسول الله صلی الله علیه وآله:من اتیٰ مسجدی قبافصلی فیه رکعتین رجع بعمرة

. نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص میری مسجدمسجدقبامیں دورکعت نمازپڑھے وہ ایک عمرہ کے برابرثواب لے کرواپسہوتاہے ۔(۱)

مسجدخیف وہ مسجدہے کہ جومنی میں واقع ہے اوراس مسجدمیں ایک ہزارانبیاء نے نمازیں پڑھی ہیں اوربعض روایت کے مطابق اس میں سات سوانبیائے الٰہی نے نمازپڑھی ہیں معاویہ ابن عمارسے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے معلوم کیا:اس مسجدکومسجدکہنے وجہ کیاہے ؟

امام (علیه السلام) نے فرمایا:لانه مرتفع عن الوادی وکل ماارتفع عن الوادی سمی خیفا . کیونکہ یہ مسجدوادی منی کی بلندجگہ ہے اوروادی میں جوچیزبلندہوتی ہے اسے خیف کہتے ہیں(۲)

عن ابوجمزة الثمالی عن ابی جعفرعلیه السلام انه قال:من فی مسجد الخیف بمنی مئة رکعة قبل ان یخرج منه عدلت سبعین عاما ومن سبح فیه مئة تسبیحة کتب له کاجرعتق رقبة

. ابوحمزہ ثمالی سے روایت ہے امام باقر فرماتے ہیں:جوشخص مسجدخیف میں منی میں اس سے باہرآنے سے پہلےسورکعت نمازپڑھے اس کی وہ نمازسترسال کی عبادت کے برابرثواب رکھتی ہے اورجوشخص اس میں سومرتبہ تسبیح پروردگارکرے اس کے لئے راہ خدامیں ایک غلام آذارکرنے کاثواب لکھاجاتاہے۔(۳)

____________________

۱) من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٢٩

۲). علل الشرائع /ج ٢/ص ۴٣۶

۳)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٣٠

۱۱۱

مسجدسہلہ میں نمازپڑھنے ثواب

مسجدسہلہ کوفہ میں واقع ہے ،جس میں حضرت ابراہیماورحضرت ادریس کاگھرہے ،روایت میں ایاہے کہ وہ سبزپتھرکہ جس پرتمام انبیائے کرام کی تصویربنی ہے اسی مسجدمیں واقع ہے اوروہ پاک پتھربھی اسی مسجدمیں ہے کہ جس کے نیچے کی خاک سے خداوندعالم نے انبیاء کوخلق کیاہے۔

عن الصادق علیه السلام قال:اذادخلت الکوفة فات مسجدالسهلة فضل فیه واسئل الله حاجتک لدینک ودنیاک فانّ مسجدالسهلة بیت ادریس النبی علیه السلام الذی یخیط فیه ویصلی فیه ومن دعالله فیه بمااحبّ قضی له حوائجه ورفعه یوم القیامة مکاناعلیاالی درجة ادریس علیه السلام واجیرمن الدنیاومکائد اعدائه.

امام صادق فرماتے ہیں:جب آپ شہرکوفہ میں داخل ہوں اورمسجدسہلہ کادیدارکریں تومسجدمیں ضرورجائیں اوراس میں مقامات مقدسہ پرنمازپڑھیں اورالله تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی دینی اوردنیاوی مشکلات کوحل کرنے کی دعاکریں،کیونکہ مسجدسہلہ حضرت ادریس کاگھرہے جسمیں خیاطی کرتے تھے اورنمازبھی پڑھتے تھےجوشخص اس مسجدمیں الله تعالیٰ کی بارگاہ میں ہراس چیزکے بارے میں جسے وہ دوست رکھتاہے دعاکرے تواس کی وہ حاجت پوری ہوگی اورروزقیامت حضرت ادریس کے برابرمیں ایک بلندمقام سے برخوردارہوگااوراس مسجدمیں عبادت کرنے اورنیازمندی کااظہارکرنے کی وجہ سے دنیاوی مشکلیں اوردشمنوں کے شرسے خداکی امان میں رہے گا۔(۱)

روی ان الصادق علیه السلام انه قال:مامن مکروب یاتی مسجدسهلة فیصلی فیه رکعتین بین العشائین ویدعوالله عزوجل الّافرج الله کربته.

امام صادق فرماتے ہیں:ہروہ شخص جوکسی بھی مشکل میں گرفتارہو مسجدسہلہ میں ائے اورنمازمغرب وعشاکے میں درمیان دورکعت نمازپڑھ کرخدائے عزوجل سے دعاکرے توخداوندعالم اس کی پریشانی دورکردے گا۔(۲)

قال علی بن الحسین علیهماالسلام :من صل فی مسجدالسهلة رکعتین ، زادالله فی عمره سنتین .

امام زین العابدین فرماتے ہیں:جوشخص مسجدسہلہ میں دورکعت نمازپڑھے ،خداوندعالم اس کی عمرمیں دوسال کااضافہ کردیتاہے۔(۳)

____________________

۱) بحارالانوار/ج ١١ /ص ٢٨٠

۲). تہذیب الاحکام/ج ۶/ص ٣٨

۳). مستدرک الوسائل /ج ٣/ص ۴١٧

۱۱۲

مسجدبراثامیں نماپڑھنے کاثواب

مسجدبراثاعراق کے شہربغدامیں واقع ہے ،اس مسجدکی چندفضیلت یہ ہیں کہ یہ حضرت عیسیٰ کی زمین ہے ،جب حضرت علی جنگ نہروان سے واپس ہورہے تھے اوراس جگہ پرپہنچے توآپ نے یہاں پرنمازپڑھی اورحسن وحسین نے بھی اس مسجدمیں نمازپڑھی ہے ،اس مسجدمیں ایک پتھرہے کہ جس پرحضرت مریم نے حضرت عیسیٰ کوقراردیاتھا،اسی جگہ پرحضرت مریم کے لئے چشمہ حاری ہواتھا،یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت علی کے لئے سورج پلٹااورآپ نے نمازعصرکواس کے وقت میں اداکیا، اورکہاجاتاہے کہ حضرت یوشع اسی مسجدمیں دفن ہیں(۱)

بیت المقدس ، مسجدجامع ،محله وبازارکی مسجدمیں نمازپڑهنے کاثواب

عن السکونی عن جعفربن محمدعن آبائه عن علی علیهم السلام قال:صلاة فی البیت المقدس تعدل ا لٔف صلاة ، وصلاة فی مسجدالاعظم مائة صلاة ، وصلاة فی المسجدالقبیلة خمس وعشرون صلاة ، وصلاة فی مسجدالسوق اثنتاعشرة صلاة ، وصلاة الرجل فی بیته وحده صلاة واحد ۔

حضرت علی فرماتے ہیں:بیت المقدس میں ایک نمازپڑھناہزارنمازوں کے برابرہے اورشہرکی جامع مسجد میں ایک نمازپڑھناسونمازوں کے برابرہے اورمحلہ کی مسجدمیں ایک نمازپڑھنا پچیس نمازوں کے برابرہے اوربازارکی مسجدمیں ایک نمازپڑھنابارہ نمازوں کے بابرہے اورگھرمیں ایک نمازپڑھناایک ہی نمازکاثواب رکھتاہے ۔(۲)

مسجدکے میں مختلف حصوں میں نمازپڑھنے کی وجہ

جب انسان مسجدمیں جائے اوراپنی نمازکی جگہ کوبدلنامستحب ہے یعنی دوسری کودوسری پرپڑھے

عن الصادق جعفربن محمد علیهما السلام انّه قال:علیکم بِاتْیَان الْمساجد فانّهابیوت الله فی الارض،مَن اَتاهامتطهراًطَهره الله مِن ذنوبه،وکتب من زوّارهِ، فاکثروفیهامن الصلاة والدعاء وصلوا المساجدفی بقاع المختلفة فان کل بقعة تشهد للمصلی علیهایوم القیامة تم مسجد میں حاضر ہوا کروکیونکہ مسجد یں زمین پر خدا کا گھر ہیں پس جو شخص طہارت کے ساتھ مسجدمیں داخل ہو تا ہے خدا وند عالم اس کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کا نام زائرین خدا میں لکھاجاتاہے پس تم مسجدمیں بہت زیادہ نمازیں پڑھاکرواوردعائیں کرواورمسجدمیں مختلف جگہوں پرنمازپڑھاکروکیونکہ مسجدکاہرقطعہ روزقیامت اپنے اوپرنمازپڑھنے والے کے لئے نمازکی گواہی دے گا(۳)

____________________

.۱) رہنمائے زائرین کربلا/ص ٢۵---.۲) ثواب الاعمال /ص ٣٠

.۳)امالی(شیخ صدوق )/ص ۴۴٠

۱۱۳

مسجدمیں داخل ہوتے ہوئے دائیں قدم رکھنے کی وجہ

مستحب ہے کہ مسجدمیں داخل ہوتے وقت پہلے داہناقدم اندررکھیں اورمسجدسے نکلتے وقت بایاں قدم باہررکھیں کیونکہ داہناقدم بائیں قدم سے اشرف ہوتاہے،اورتاکہ خداوندعالم اسے اصحاب یمین میں قراردے اورقدم رکھتے وقت بسم الله کہیں ،حمدوثنائے الٰہی کریں محمدوآل محمد علیہم الصلاة والسلام پردرودبھیجیں اورخداسے اپنی حاجتوں کوطلب کریں

عن یونس عنهم علیهم السلام قال قال:الفضل فی دخول المسجد ان تبدا بٔرجلک الیمنی اذادخلت وبالیسری اذاخرجت .

یونس سے روایت ہے ،معصوم(علیه السلام) فرماتے ہیں:مسجدمیں داخل ہونے کے لئے بہترہے کہ آپ دائیں پیرسے داخل ہواکریں اوربائیں پیرسے باہرآیاکریں۔(۱)

روایت میں ایاہے کہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)مسجدمیں داخل ہوتے تھے وقت “بسم الله اللہمّ صل علی محمدوآل محمد ، واغفرلی ذنوذبی وافتح لی ابواب رحمتک”اورمسجدسے کے باہرآتے وقت دروازے کے پاس کھڑے ہوکر“اللهمّ اغفرلی ذنوذبی وافتح لی ابواب فضلک ”کہتے تھے(۲)

اہل مدینہ کی ایک بزرگ شخصیت ابوحفص عطارسے مروی ہے کہ میں نے امام صادق کویہ فرماتے ہوئے سناہے :رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جب بھی تم میں سے کوئی شخص نمازواجب پڑھے اورمسجدسے باہرآنے لگے تودروازہ میں کھڑے ہوکریہ دعاپڑھے:

اَللّٰهُمَّ دَعَوْت نی فَاَجَبْتُ دَعْوَتَکَ وَصَلَّیْتُ مَکْتُوْبَتَکَ وَانْتَشَرْتُ فِیْ اَرْضِکَ کَمَااَمَرْت نیْ فَاَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَمَلَ بِطَاعَتِکَ وَاجْت نابَ مَعْصِیَتِکَ وَالْکِفَافَ مِنَ الرِّزقِْ بِرَحْمَتِکَ .

ترجمہ:بارالٰہا!تونے مجھے دعوت دی ،پس میں نے تیری دعوت پرلبیک کہااورتیرے واجب کواداکیااورمیں تیرے فرمان کے مطابق تیری زمین پر(روزی کی تلاش میں)نکلا، پس میں تیرے فضل وکرم سے تجھ سے اپنے عمل میں تیری اطاعت کی درخواست کرتاہوں اورگناہ ومعصیت سے دوری چاہتاہوں اورتجھ سے تیری رحمت کے وسیلے سے رزق وروزی میں کفاف ) چاہتاہوں۔(۳)

____________________

۱) کافی/ج ٣/ص ٣٠٩

.۲) مستدرک الوسائل/ج ٣/ص ٣٩۴

. ۳)وسائل الشیعہ/ج ٣/ص ۵١٧

۱۱۴

مسجدکے صاف وتمیزرکھنے کی وجہ

مسجدمیں جھاڑولگانااوراس کی صفائی کرناسنت مو کٔدہ ہے اوراسے نجس کرناحرام ہے۔

مسجدمیںصفائی کرنے اوراس میں چراغ کے جلانے سے انسان کے دل میں نورانیت پیدا،خضوع وخشوع اورتقرب الٰہی ہوتی ہے اورلوگ اسے ایک اچھاانسان محسوب کرتے ہیں

قال رسول الله صلی الله صلی الله علیه وآله:من کنس فی المسجدیوم الخمیس لیلة الجمعة فاخرج منه التراب قدرمایذر فی العین غفرالله له ۔(۱)

نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص جمعرات کے دن شب جمعہ مسجدمیں جھاڑولگائے اورآنکھ میں سرمہ لگانے کے برابرگردوخاک کومسجدسے باہرنکالے توخداوندعالم اس کے گناہوں بخشدیتاہے ۔

حکایت کی گئی ہے کہ ایک مجوسی اپنی کمرپرمجوسی کمربندباندھے اورسرپرمجوسی ٹوپی لگائے ہوئے مسجدالحرام میں داخل ہوا،جب وہ خانہ کعبہ کے گردگھوم رہاتھاتواس نے دیکھاکہ دیوارکعبہ پرکسی کالعاب دہن لگاہواہے ،اس نے دیوارکعبہ سے لعاب دہن کوصاف کردیااورمسجدالحرام سے باہرنکل آیا،جیسے ہی وہ باہرآیاتوناگہان ہواکاایک تیزجھونکاآیااوراس کے سرپہ لگی ہوئی ٹوپی ہوامیں اڑھ گئی،اس نے اپنی ٹوپی کوہرچندپکڑنے کی کوشش کی مگروہ اس کے ہاتھ نہ آئی ،ناگاہ ہاتف غیبی سے ایک آوازاس کے کانوں سے ٹکرائی :جب تجھے ہمارے گھرپہ کسی کالعاب دہن لگے ہوئے دیکھناپسندنہیں ہے توہمیں بھی تیرے سرپرکفرکی نشانی لگے ہوئے دیکھناپسندنہیں ہے ،یہ بات سن کراس آتش پرست نے اپنی کمرسے وہ کمربندبھی کھول کرپھینک دیااورمسلمان ہوگیا۔(۲)

روایت میں آیاہے کہ ایک بوڑھی اوربےنوا عورت اس مسجد میں کہ جس میں پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله) نمازپڑھتے تھے ، جھاڑو لگا یا کرتی تھی اورمسجدکوصاف رکھتی تھی ،وہ عورت بہت ہی زیادہ غریب وفقیرتھی اورمسجد کے کسی ایک گوشہ میں سویا کرتی تھی ، نمازجماعت میں حاضرہونے والے لوگ اس کے لئے آب وغذا کا انتظام کرتے تھے ،ایک دن پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله)اور مسجد میں داخل ہوئے اوراس ضعیفہ کو مسجد میں نہ پایاتومسجدموجودلوگوں سے اس عورت کے بارے میں دریافت کیا،حاضرین مسجدنے جواب دیا:

____________________

١)ثواب الاعمال/ص ٣١

. ۲)نماز،حکایتہاوروایتہا/ص ١۴

۱۱۵

یانبی الله! وہ عورت شب گذشتہ انتقال کر گئی ہے اور اسے دفن بھی کردیا گیا ہے ،پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله) اس کے انتقال کی خبر سن کر بہت زیادہ غمگین ہوئے اور کہا : تم نے مجھ تک اس کے مرنے کی خبر کیوں نہیں پہنچائی تھی تم مجھے اس عورت کی قبرکاپتہ بتاؤ، ان لوگوں نے آنحضرت کو اس ضعیفہ کی قبرکاپتہ بتایااورنمازکے بعدچندلوگ آپ کے ہمراہ اس کی قبر پرپہنچے ،پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے اس کی قبرنمازپڑھنے کے لئے کہا،آنحضرت آگے کھڑے ہوئے اورآپ کے ساتھ آئے ہوئے لوگ صف باندھ کرپیچھے کھڑے ہوگئے اور سب نے پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله)کے ساتھ کھڑے ہوکرنمازمیت پڑھی اور ) اس کی مغفرت کے لئے دعائیں مانگی ۔(۱)

بدبودارچیزکھاکرمسجدمیں انے کی کراہیت کی وجہ

مسجدمیں کوئی ایسی چیزکھاکرآنایاساتھ میں لانامکروہ ہے کہ جس کی بوسے مومنین کواذیت پہنچے ، لہسن یاپیازوغیرہ کھاکرمسجدمیں آنے سے پرہیزکیاجائے ۔

عن محمدبن مسلم عن ابی جعفرعلیه السلام قال:سئلته عن اکل الثوم فقال:انمانهی رسول صلی الله علیه واله عنه لریحه فقال:من اکل هذه البقلة المنت نة فلایقرب مسجدنا .

محمدابن مسلم سے مروی ہے کہ میں امام باقر سے لہسن کے بارے میں معلوم کیاتوامام (علیه السلام) نے فرمایا: نبی اکرم (صلی الله علیه و آله):نے اس کی بدبوکی وجہ سے (اسے کھاکرمسجدمیں جانے کو)منع کیاہے اورفرمایاہے :جوشخص اس بدبودارگھاس کوکھائے تووہ ہمارے مسجدوں کے قریب بھی نہ آئے ۔(۲)

عن محمدبن سان قال:سئلت اباعبدالله علیه السلام عن اکل البصل الکراث، فقال:لاباس باکله مطبوخاوغیرمطبوخ ،ولکن ان اکل منه ماله اذافلایخرج الی المسجد کراهیة اذاه علی من یجالس .

محمدابن سان سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے پیازاورترہ کے بارے میں سوال کیاتوامام (علیه السلام) نے فرمایا:ان دوچیزوں کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ پختہ استعمال کیاجائے یاغیرپختہ ، لیکن اگر انھیں کھاکرمسجدمیں نہ جائے کیونکہ اس کی بدبوسے مسجدمیں بیٹھے والوں کواذیت ہوتی ہے۔(۳)

____________________

. ١)ہزاریک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ٧۵٨ /ص ٢٣٨

. ۲)علل الشرائع/ج ٢/ص ۵١٩

. ۳)علل الشرائع/ج ٢/ص ۵٢٠

۱۱۶

مسجدوں کااس طرح بلندبناناکہ اس سے اطراف میں موجودگھروں کے اندرنی حصے نظرآتے ہوں مکروہ ہے

عن جعفربن محمد عن ابیه علیه السلام : انّ علیارا یٔ مسجدا بالکوفة قدشرف فقال:کانهابیعة ،وقال:ان المساجدلاتشرف تبنی جما.

روایت میں آیاہے کہ حضرت علی نے کوفہ میں ایک مسجدکو اطراف کے گھروں سے بلنددیکھاتوآپ نے فرمایا:یہ گرجاگھر(معبدیہودونصاریٰ )ہے اورفرمایا:مسجدوں کوبلندنہیں بناناچاہئے بلکہ انھیں پست وکوتاہ بنایاجائے۔(۱)

قبلہ

جب بندہ مومن اس چیزکاعلم رکھتاہے کہ خداوندعالم ہرجگہ اورہرسمت میں موجودہے،نہ اس کے رہنے کی کوئی جگہ مخصوص ہے وہ لامکان ہے ،ہم جدھربھی اپنا رخ رکھیں وہ ہمیں دیکھ رہاہے اورسن رہاہے پھرکیاضروری ہے کہ انسان کسی ایک مخصوص سمت رخ کرکے پروردگارکی عبادت کرے اوراس سے رازونیازکرے؟ صرف ظاہری طورسے جس طرف بھی کھڑے ہوکر نمازپڑھنے ،رکوع وسجودکرنے کوعبادت نہیں کہتے ہیں بلکہ باطنی طورسے بھی عبادت کرناضروری ہے یعنی دل کوپروردگارعالم کی طرف متوجہ کرناضروری ہے ،اگردل خداکی طرف نہ ہوتواسے عبادت نہیں کہتے ہیں

خداوندعالم یہی چاہتااوردوست رکھتاہے اوراسی چیرکاامرکرتاہے میرابندہ باطنی طورسے بھی میری ہی عبادت کرے اورظاہری طورکے علاوہ معنوی اعتبارسے بھی میری طرف توجہ رکھے اورغیرخداکاخیال بھی نہ کرے لہٰذاپروردگارنے زمین پرایک جگہ معین کیاتاکہ بندے اس طرف رخ کرکے اس کی عبادت کریں اوراپنے دل میںغیراخداکاارادہ بھی نہ کریں۔ خداوندعالم کی حمدوثنااورتسبیح وتقدیس کرنے میں کسی دوسرے کادل میں خیال بھی نہیں آناچاہئے بلکہ دل کوپروردگار کی طرف مائل رکھنازیادہ ضروری ہے ،کیونکہ اگرکتاب وسنت کی طرف رجوع کیاجائے توسب کاحکم یہی ہے کہ انسان رب دوجہاں کی عبادت کرنے میں اپنے دل کوبھی متوجہ رکھے بلکہ کتاب وسنت میں دل وباطن کوخداکی طرف متوجہ رکھنے کوزیادہ لازم قراردیاگیاہے

____________________

۱) علل الشرئع/ ٢/ص ٣٢٠

۱۱۷

قرآن وسنت میں کسی چیزکوقبلہ قراردینے کاجوحکم دیاگیاہے اس کی اصلی وجہ دل وباطن کوخداکی طرف توجہ کرنامقصودہے، تاکہ انسان کے تمام اعضاوجوارح میںثبات پایاجائے کتاب وسنت میں ایک مخصوص سمت رخ کرکے نمازپڑھنے کاحکم دیا ہے کیونکہ جب دل ایک طرف رہے گاتواس میںزیادہ سکون واطمینان لیکن اگراعضاوجوارح مختلف جہت وسمت میں ہوں توپھردل بھی ایک طرف نہیں رہے گااوربارگاہ خداوندی میں حاضرنہیں رہ سکے گااورعبادت میں اصلی چیزدل وباطن کوخداکی طرف توجہ کرناہے اوروہ آیات وروایات کہ جن میں ذکروعبادت اورتقوائے الٰہی اختیارکرنے کی تاکیدکی گئی ہے وہ سب قلب کے متوجہ ہونے کولازم قراردیتی ہیں۔

جس سمت رخ کرکے تمام مسلمان اپنی نمازوں اورعبادتوں کوانجام دیتے ہیں ،اورجس کی طرف اپنے دلوں کومتوجہ کرتے ہیں اسے قبلہ کہاجاتاہے اسی لئے کعبہ کوقبلہ کہاجاتاہے کیونکہ تمام مسلمان اپنی نمازوعبادت کواسی کی سمت انجام دیتے ہیں خانہ کعبہ مکہ مکرمہ میں واقع ہے جوپوری دنیاتمام مسلمانوں کا مرکزاورقبلہ ہے خانہ کعبہ کے بارے میں چند اہم نکات وسوال قابل ذکرہیں:

١۔خانہ کعبہ کوکعبہ کیوں کہاجاتاہے؟

اس بارے میں روایت میں آیاہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی خدمت میں ائی اورانھوں نے آنحضرتسے چندسوال کئے ،ان میں سے ایک یہودی نے معلوم کیا:کعبہ کوکعبہ کیوں کہاجاتاہے ؟نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا:لانّهاوسط الدنیا ۔ کیونکہ کعبہ دنیاکے درمیان میں واقع ہے ۔(۱)

٢۔خانہ کعبہ کے چارگوشہ کیوں ہیں؟

یہودی نے بنی اکرم (صلی الله علیه و آله)سے معلوم کیا:خانہ کعبہ کوچارگوشہ بنائے جانے کی وجہ کیاہے؟

پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا:کلمات اربعہ(سبحان الله ، والحمدلله ، ولااله الّالله ، والله اکبر )کی وجہ سے ۔(۲)

____________________

۱). امالی (شیخ صدوق )/ص ٢۵۵

۲). امالی (شیخ صدوق )/ص ٢۵۵

۱۱۸

روایت میں آیاہے کہ کسی نے امام صادق سے معلوم کیا:کعبہ کوکعبہ کیوں کہاجاتاہے ؟آپ نے فرمایا؟کیونکہ کعبہ کے چارگوشہ ہیں،اس نے کہا:کعبہ کے چارگوشہ بنائے جانے کی وجہ کیاہے ؟ امام (علیه السلام) نے فرمایا:کیونکہ کعبہ بیت المعمور کے مقابل میں ہے اوراس کے چارگوشہ (لہٰذاکعبہ کے بھی چارگوشہ ہیں)اس نے معلوم کیا:بیت المعورکے چارگوشہ کیوں ہیں؟فرمایا:کیونکہ وہ عرش کے مقابل میں ہیں اوراس کے چارگوشہ ہیں (لہٰذابیت المعمور کے بھی چارگوشہ ہیں)روای نے پوچھا:عرش کے چارگوشہ کیوں ہیں؟فرمایا:کیوں وہ کلمات کہ جن پراسلام کی بنیادرکھی گئی ہے وہ چارہیں جوکہ یہ ہیں:

سبحان الله ، والحمدلله ، ولااله الّالله ، والله اکبر .(۱)

٣۔خانہ کعبہ کو“بیت الله الحرام ”کیوں کہاجاتاہے؟

حسین بن ولیدنے حنان سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ:میں نے امام صادق سے معلوم کیا:خانہ کعبہ کو“بیت الله الحرام ”کیوں کہاجاتاہے ؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:کیونکہ اس میں مشرکوں کاداخل ہوناحرام ہے اس لئے کعبہ کو“بیت الله الحرام” کہاجاتاہے

۴ ۔خانہ کعبہ کوعتیق کیوں کہاجاتاہے ؟

ابوخدیجہ سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے معلوم کیا:خانہ کعبہ کوعتیق کیوں کہاجاتاہے ؟ آپ نے فرمایا:کعبہ اس لئے عتیق کہاجاتاہے کہ یہ جگہ سیلاب میں عرق ہونے سے آزاداورمحفوظ ہے (جب طوفان نوح (علیه السلام) آیاتھاتواسوقت بھی کعبہ غرق نہیں ہواتھااورنوح نے کشتی میں بیٹھے ہوئے کعبہ کادیدارکیاتھا(۲)

ابن محاربی سے مروی ہے امام صادق فرماتے ہیں:

خداوندعالم نے حضرت نوح کے زمانہ میںطوفان کے وقت کعبہ کے علاوہ پوری زمین کوپانی میں غرق کردیاتھااسی لئے اس بقعہ مبارکہ کوبیت عتیق کہاجاتاہے کیونکہ یہ جگہ اس وقت بھی غرق ہونے سے آزادومحفوظ تھی ،راوی کہتاہے کہ میں نے امام (علیه السلام) سے عرض کیا:کیایہ بقعہ مبارکہ اس دن آسمان پرجلاگیاتھاجوغرق ہونے سے محفوظ رہا؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:نہیں بلکہ اپنی جگہ پرتھااورپانی اس تک نہیں پہنچااوریہ بیت پانی سے مرتفع قرارپایا۔(۳)

____________________

. ۱)علل الشرائع/ج ٢/ص ٣٩٨

۲). علل الشرئع /ج ٢/ص ٣٩٨

۳) تفسیرنورالتقلین/ج ٣/ص ۴٩۵

۱۱۹

ابوحمزہ ثمالی سے مروی ہے کہ میں نے امام محمدباقر سے معلوم کیا: خداوند عالم نے کعبہ کوعتیق کے نام سے کیوں ملقب کیاہے ؟آپ (علیه السلام)نے فرمایا: خداوندعالم نے روئے زمین پرجت نے بھی گھربنائے ہیں ہرگھرکے لئے ایک مالک اورساکن قراردیاہے مگرکعبہ کاکسی کومالک وساکن قرارنہیں دیابلکہ پروردگاراس گھرکامالک وساکن ہے اورامام (علیه السلام) نے فرمایا:خداوندعالم نے اپنی مخلوقات میں سب سے پہلے اس گھرپیداکیااس کے بعدزمین کواس طرح وجودمیں لایاکہ کعبہ کے نیچے سے مٹی کوکھینچااورپھراسے پھیلادیا۔(۱)

کعبہ کب سے قبلہ بناہے؟

کیا اسلام کے آغازہی سے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)اورتمام مسلمان خانہ کعبہ کی طرف نمازپڑھتے آرہے ہیں اورکیاخانہ کعبہ اول اسلام سے مسلمانوں کاقبلہ ہے یاکعبہ سے پہلے کوئی دوسرابھی قبلہ تھااوراس طرف نمازپڑھی جاتی تھی اوربعدمیں قبلہ تبدیل کردیاگیاہے؟

جس وقت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)درجہ رسالت پرمبعوث ہوئے تواس وقت مسلمانوں کاقبلہ بیت المقدس تھاجسے قبلہ اوّل کہاجاتاہے لیکن بعدمیں خداکے حکم سے قبلہ کوبدل دیاگیا اورخانہ کعبہ مسلمانوں کادوسراقبلہ قرارپایا نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے درجہ نبوت پرفائز ہونے کے بعد ١٣ /سال تک مکہ مکرمہ میں قیام مدت کے درمیان بیت المقدس کی سمت نماز پڑھتے رہے اور مدینہ ہجرت کرنے کے بعد بھی سترہ مہینہ تک اسی طرف نماز یں پڑھتے رہے ۔

معاویہ ابن عمارسے مروی ہے کہ : میں نے امام صادق معلوم کیاکہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے چہرے کوکس وقت کعبہ کی طرف منصرف کیاگیا؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:

بعدرجوعه من بدر،وکان یصلی فی المدینة الی بیت المقدس سبعة عشرشهرا ثمّ اعیدالی الکعبة ۔(۲)

جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)جنگ بدرسے واپس ہوئے توقبلہ کو تغییر کردیا گیا اورمدینہ ہجرت کے بعدآنحضرت سترہ مہینہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نمازپڑھتے رہے اس کے بعد قبلہ کوکعبہ کی طرف گھمادیاگیا۔

____________________

۱). کافی /ج ۴/ص ١٨٩

۲)وسائل الشیعہ/ج ٣/ص ٢١۶

۱۲۰

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

تیسراسلام ان مومنین کے لئے ہوتاہے جواس کے بائیں جانب ہوتے ہیں اور ان فرشتوں کوسلام کیاجاتاہے جو مومنین اورخود پرمو کٔل ہیں اوروہ شخص کہ جس کے بائیں جانب کوئی نمازی نہ ہوتوبائیں جانب سلام نہ کرے ،ہاں اگر اس کے دائیں جانب دیوارہواورکوئی نمازی دائیں طرف نہ ہواوربائیں طرف کوئی نمازی موجودہوجواس کے ہمراہ امام جماعت کے پیچھے نمازپڑھ رہاتھاتواس صورت میں بائیں طرف سلام کرے

مفضل کہتے ہیں :میں نے امام(علیه السلام) سے معلوم کیا:امام جماعت کس لئے سلام کرتاہے اورکس چیزکاقصدکرتاہے؟امام(علیه السلام) نے جواب دیا:دونوںفرشتوں اورمامومین کوسلام کرتاہے ،وہ اپنے دل میں ان دونوں فرشتوں سے کہتاہے :نمازکی صحت وسلامتی کولکھواوراسے ان چیزوں سے محفوظ رکھو جونمازکوباطل کردیتی ہیں اورمامومین سے کہتاہے تم لوگ اپنے آپ کو عذاب الٰہی سے محفوظ وسالم رکھو

فضل کہتے ہیں: میں نے امام(علیه السلام) سے کہا:سلام ہی کوکیوں تحلیل نمازکیوں قرادیاگیاہے؟(تکبیر،تسبیح یاکسی دوسری چیزکوکیوں نہیں قراردیاگیاہے؟)امام(علیه السلام) نے فرمایا:کیونکہ اس کے ذریعہ (دونوں کاندھوں پرمو کٔل)دونوںفرشتوں کاسلام کیاجاتاہے اورنمازکااس کے پورے آداب شرائط کے ساتھ بجالانااور رکوع وسجودوسلام نمازبندہ کانارجہنم سے رہائی کاپروانہ ہے ،روزقیامت جس کی نمازقبول ہوگئی اس کے دوسرے اعمال بھی قبول ہوجائیں گے ،اگرنمازصحیح وسالم ہے تودوسرے اعمال بھی صحیح واقع ہونگے اورجس کی نمازردکردی گئی اس کے دوسرے اعمال صالح بھی ردکردئے جائیں گے ۔(۱)

”معانی الاخبار”میں عبدالله ابن فضل ہاشمی سے مروی ہے میں نے امام صادق سے سلام نمازکے معنی ومقصودکوپوچھاتوامام(علیه السلام) نے فرمایا:سلام امن وسلامتی کی علامت ہے اورتحلیل نمازہے کہ جس کے ذریعہ نمازسے فارغ ہواجاتاہے ،میں نے کہا:اے میرے امام !میری جان آپ پرقربان ہومجھے آگاہ کیجئے کہ نمازمیں سلام کوواجب قراردئے جانے کی وجہ کیاہے؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:

____________________

.۱) علل الشرایع/ص ١٠٠۵

۲۴۱

گذشتہ زمانہ میں لوگوں کی یہ روش تھی کہ اگرآنے والاشخص لوگوں کوسلام کردیاکرتاتھاتواس کامطلب یہ ہوتاتھاکہ لوگ اسکے شرسے امان میں ہیں اوراگرآنے والے کواپنے سلام کاجواب مل جاتاتھاتواس کے یہ معنی ہوتے تھے کہ وہ بھی ان لوگوں کے شرسے امان میں ہے ،لیکن اگرآنے والاشخص سلام نہیں کرتاتھا تواس کے یہ معنی ہوتے تھے کہ لوگ اس کے شرسے محفوظ نہیں ہیں اوراگرآنے سلام کرتاتھامگردوسری طرف سے کوئی جواب سلام نہیں دیاجاتھاتویہ اس چیزکی پہچان تھی کہ آنے والاشخص کی خیرنہیں ہے اوروہ ان کے شرسے ا مان میں نہیں ہے اوریہ اخلاق عربوں کے درمیان رائج تھا،پس سلام نمازسے فارغ ہونے کی علامت ہے اورسلام مومنین سے کلام کرنے کے جائزہونے کی پہچان ہے ،اب بندوں سے باتیں کرناجائزہے، “سلام ”الله تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے کہ جسے نمازگزارخداوندعالم کی طرف معین کئے گئے دوفرشتوں سے مخاطب ہوکرانجام دیتاہے۔(۱)

فضل بن شاذان سے روایت ہے امام علی رضا فرماتے ہیں:نمازمیں سلام کوتحلیل نمازاس لئے قراردیاگیاہے اوراس کے بدلہ میں تکبیر،تسبیح یااورکسی دوسری چیزکوتحلیل نماز قرارنہیں دیاگیاہے کیونکہ جب بندہ تکبیرکے ذریعہ نمازمیں داخل ہوجاتاہے تو اس کابندوں سے ہمکلام ہوناحرام ہوجاتاہے اورفقط خداکی جانب متوجہ رہناہوتاہے لاجرم نمازسے خارج ہونے میں مخلوق سے کلام حلال ہوجاتاہے اورپوری مخلوق کواپنے کلام کی ابتد اسلام کے ذریعہ کرنی چاہئے لہٰذانمازگذارجب نمازسے خارغ ہوتاہے پہلے مخلوق سے ہمکلام ہونے کوحلال کرے یعنی پہلے سلام کرے اوراس کے بعدکوئی کلام کرے اسی نمازکے آخرمیں سلام کوقراردیاگیاہے۔(۱)

روایت میں آیاہے کہ ایک شخص نے امام علی ابن ابی طالب +سے پوچھا:اے خداکی محبوب ترین مخلوق (حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله))کے چچازادبھائی!امام جماعت کاسلام میں “السلام علیکم ”کہنے کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ تو امام (علیه السلام) نے فرمایا:

انّ الامام یترجم عن الله عزوجل ویقول فی ترجمته لاهل الجماعة ا مٔان لکم من عذاب الله یوم القیامة ۔

کیونکہ امام جماعت خداوندمتعال کی جانب سے اس کے بندوں کے لئے ترجمانی کرتاہے جواپنے ترجمہ میں اہل جماعت سے کہتاہے :تمھیں روزقیامت کے الٰہی عذاب سے امان ونجات مل گئی ہے ۔(۳)

____________________

.۱) معانی الاخبار/ص ١٧۶

۲). علل الشرائع /ج ١/ص ٢۶٢ ۔عیون اخبارالرضا/ج ١/ص ١١۵

۳). من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٢٠

۲۴۲

مفضل ابن عمروسے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے پوچھا:کیاوجہ ہے کہ سلام نمازکے بعدتین مرتبہ ہاتھوں کوبلندکیاجائے اورتین مرتبہ“الله اکبر” کہاجائے؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:جس وقت رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نے مکہ فتح کیاتواپنے اصحاب کے ساتھ حجراسودکے قریب نمازظہراداکی اورسلام پڑھاتواپنے ہاتھوں کواوپرلے گئے اورتین مرتبہ تکبیرکہی اسکے بعدیہ دعاپڑھی:

لَااِلٰهَ اِلّااللهُ وَحْدَه وَحْدَه ، اَنْجَزَوَعْدَه ، وَنَصَرَعَبْدَه ، وَاَعَزَّجُنْدَه ، وَغَلَبَ الْاَحْزَابَ وَحْدَه ، فَلَهُ الْمُلْکُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَهُوَعَلٰی کُلِّ شَی قَٔدِیْرٌ.

اس کے بعداپنے اصحاب کی طرف رخ کرکے ارشادفرمایا:اس تکبیراوردعاکوکسی بھی واجب نمازکے بعدترک نہ کرناکیونکہ جوشخص سلام کے بعداس دعاکوپڑھے گویااس نے اس شکرکوجواسلام وسپاہیان اسلام کاشکراس کے اوپرواجب تھااداکردیاہے۔(۱)

____________________

۱). علل الشرائع /ج ٢/ص ٣۶٠

۲۴۳

رازقنوت

لغت میں خضوع وخشوع اوراطاعت وفرمانبرداری کوقنوت کہتے ہیں اوردعا ونمازاورعبادت کوبھی قنوت کہتے ہیں جیسا کہ خداوندعالم حضرت مریم کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے : ی( ٰامَرْ یَمُ اُقْت نیْ لِرَبِّکِ ) (١) (اے مریم ! تم اپنے پروردگار کی اطاعت کرو

محمدابن مسعودکی “تفسیرعیاشی ”میں امام صادق سے نقل کیاگیاہے کہ :اس قول خداوندی( قوموالله قانتین ) (۲) میں“ قانتین ” سے “مطیعین”مرادہے یعنی نمازکوخضوع وخشوع اوراطاعت خداوندی کے ساتھ بجالاو ۔ٔ

فقہا کی اصطلاح میں نمازمیں ایک مخصوص موقع پرایک خاص طریقہ سے دعاکرنے کوقنوت کہاجاتاہے اوردعاکے آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دونوں ہاتھوں کوچہرے کے مقابل دونوں ہاتھوں کوآپس میں ملاکرہتھیلیوں کے رخ کوآسمان کی جانب قراردیاجائے اورہتھیلیوں پرنگاہ کھی جائے

قنوت میں کسی مخصوص ذکرکاپڑھناشرط نہیں ہے بلکہ جائزہے نمازی جس دعاوذکراورمناجات کوبھی چاہے پڑھے لیکن مستحب ہے کہ قنوت میں معصومسے منقول یہ دعاپڑھی جائے:

امام صادق فرماتے ہیں:قنوت میں یہ دعاپڑھناکافی ہے:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلَنَا،وَارْحَمْنَا،وَعَافِنَا،وَاعْفُ عَنَّافِی الدُّنْیَاوَالآخِرَةِ ،اِنَّکَ عَلیٰ کُلِّ شَی ءٍ قَدِیْر ۔(۳)

اورامام صادق فرماتے ہیں: نمازجمعہ کی پہلی رکعت میں قرائت کے بعد کلمات فرج کوذکرکیاجائے اوروہ یہ ہیں:

لااله الّاالله الحلیم الکریم ،لااله الّاالله العلی العظیم ، سبحان الله ربّ السموات السبع وربّ الارضین سبع ،ومافیهنّ ،ومابینهنّ، وربّ العرش العظیم، والحمدللهربّ العالمین ،اللّٰهم صلّ علی محمدوآله کماهدیت نابه ۔(۴)

____________________

.۱)آل عمران /آیت ۴٢

.۲)بقرہ /آیت ٢٣٨ تفسیرعیاشی /ج ١ج/ص ١٢٧

۳). تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ٨٧

۴). تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ١٨

۲۴۴

رازنمازقصر

سفراورخوف کی حالت میں آٹھ شرائط کے ساتھ چاررکعتی نمازکودورکعت پڑھناواجب ہے لیکن نمازصبح اورمغرب کوپوری پڑھناواجب ہے اوراس بارے میں علمائے کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہمسافر کو قصرو اتمام کے درمیان کوئی اختیارنہیں ہے بلکہ قصرپڑھناواجب ہے۔

قال رسول صلی الله علیه وآله :ان الله عزوجل تصدق علی مرضی امتی ومسافریهابالتقصیروالافطار، وهل یسراحدکم اذاتصدق بصدقة ان تردعلیه. نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:بیشک خدائے عزوجل نے میری امت کے مریضوں اورمسافروں پرنمازکے قصرہونے اورروزے کانہ رکھنے کاتصدق عطاکیاہے ،اگرتم کسی کے ساتھ کوئی اچھائی کرواوروہ تمھارے اس تصدق کوواپس کردے توکیاتمھیں اس سے کوئی خوشی ملے گی ؟۔(۱)

زرارہ اورمحمدابن مسلم سے روایت ہے: ہم دونوں نے امام محمدباقر سے عرض کیا:سفرکی حالت میں نمازپڑھنے کے بارے میں کیاحکم ہے ،اورکس طرح سے نمازپڑھنی چاہئے اورکت نی رکعت پڑھنی چاہئے ؟ اما م(علیه السلام) نے فرمایا:کیاتم نے اس آیہ مبارکہ کونہیں پڑھاہے جسمیں خداوندعالم ارشادفرمایاتاہے:

( وَاِذَاضَرَبْتُمْ فِی الاَرْضِ فَلَیْسَعَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْامِنَ الصَّلاةِ ) ترجمہ:اورجب تم زمین میں سفرکروتوتمھارے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ تم اپنی نمازیں قصرکرو۔(۲)

یہ آیہ مبارکہ اس چیزپردلالت کرتی ہے کہ سفرمیں نمازکوقصرپڑھناواجب ہے جس طرح حضرمیں نمازکوپوری پڑھناواجب ہے ،راوی کہتے ہیں کہ ہم نے امام (علیه السلام) نے سے عرض کیا:خداوندعالم نے آیہ مبارکہ میں( لیس علیکم جناح ) فرمایاہے کہ جس سے وجوب کے معنی نہیں سمجھے جاتے ہیں اوراس نے “افعلوا” نہیں کہاہے کہ جس سے وجوب کے معنی سمجھ میں ائیں پس اس آیہ مبارکہ سے کس طرح ثابت کیاجاسکتاہے کہ سفرمیں نمازکوقصرپڑھناواجب ہے جس طرح حضرمیں پوری واجب ہے؟امام (علیه السلام) نے فرمایا: کیاخداوندعالم نے صفااورمروہ کے بارے میں ارشادنہیں فرمایاہے:

____________________

۱). کافی/ج ۴/ص ١٢٧

۲). سورہ نساء /آیت ١٠١

۲۴۵

( فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَفَلَاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ اَنْ یَطُوْفَ بِهِمَا ) جوشخص بھی حج یاعمرہ کرے اس کے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ ان کادونوں پہاڑیوں کاچکرلگائے ۔(۱)

اورکیاتم نہیں جانتے ہوکہ ان دونوں کاچکرلگاناواجب ہے کیونکہ خدائے عزوجل نے اس کا اپنی کتاب میں ذکرکیاہے اورنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے اسے انجام دیاہے پس اسی طرح سفرمیں نمازکوقصرپڑھنا واجب ہے کیونکہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے سفرمیں نمازکوقصرپڑھا ہے اورخداوندعالم نے قصرکواپنی کتاب میں ذکرکیاہے،راوی کہتے ہیں کہ ہم نے امام باقر سے عرض کیا: اگرکوئی شخص سفرمیں نمازکوچاررکعتی پڑھے،اسے اپنی نمازکااعادہ کرناچاہئے یانہیں؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:

اگراس کے سامنے آیہ تٔقصیرکوپڑھاگیاہے اوراسے تقصیرکے بارے میں بتایاگیاہے تواعادہ کرناواجب ہے لیکن اگرآیت کی قرائت نہیں کی گئی ہے اوراسے تقصیرسے آگاہ نہیں کیاگیاہے اوراسے تقصیرکے بارے میں تعلیم نہیں دی گئی ہے تواس کااعادہ نہیں ہے ،اس کے بعدامام (علیه السلام)نے فرمایا:

الصلوات کلهافی السفررکعتان کل صلاة الّاالمغرب فانهاثلاث لیس فیها تقصیرترکهارسول الله صلی الله علیه وآله فی السفروالحضرثلاث رکعات . نمازمغرب کے علاوہ روزانہ کی تمام نمازوں میں سے ہرنمازکوسفرمیں دورکعت پڑھناواجب ہے، نمازمغرب میں کوئی تقصیرنہیں ہے کیونکہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سفراورحضرمیں نمازمغرب کواسی طرح پڑھتے تھے ۔(۲)

عیون اخبارالرضا میں فضل بن شاذان سے مروی ہے: اگرکوئی شخص یہ سوال کرے کہ : سفرمیں نمازکے قصرپڑھنے کاحکم کیوں جاری ہواہے؟تواسے اس طرح جواب دو:کیونکہ نمازاصل میں دس رکعت واجب تھی اورسات رکعت کابعدمیں(پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی فرمائش سے ) اضافہ کیاگیاہے اس کے بعدخداوندعالم نے مسافرکے لئے ان زحمت ومشقت کی وجہ سے جواسے سفرمیں اٹھانی پڑتی ہیں اورچونکہ نمازالله کے لئے ہی پڑھی جاتی ہے اسی لئے اس نے نمازمغرب کے علاوہ تمام اضافی کی گئی رکعتوں کوختم کردیاہے اورنمازمغرب سے اس لئے کوئی رکعت کم نہیں کی ہے کیونکہ نمازمغرب اصل میں مقصورہ ہے ۔(۳)

____________________

. ۱)سورہ بقرہ/آیت/ ١۵٨

۲). من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ۴٣۴

۳). عیون اخبارالرضا /ج ١/ص ١٠۶

۲۴۶

محمدابن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق کی محضرمبارک میں ان سے معلوم کیاکہ: سفراورحضرمیں نمازمغرب کوتین رکعت کیوں پڑھاجاتاہے اوربقیہ نمازوں کودورکعت ؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:کیونکہ رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)پرنمازدودورکعتی واجب کیاگیاتھااوراورآنحضرت نے تمام نمازوں میں دودورکعت کاضمیمہ کیااورپھرنمازمغرب سے ایک رکعت کوکم کردیااورسفرمیں ہرنماز میں سے دورکعت کوکم کردیالیکن نمازمغرب کوسفرمیں اسی تین رکعت کی حالت پررکھاکیونکہ اورفرمایا:نمازمغرب سے کسی رکعت کوکم کرتے ہوئے مجھے حیاآتی ہے اسی لئے نمازمغرب کوسفروحضرمیں تین رکعت ہی پڑھی جائے ۔(۱)

نمازصبح کوسفروحضرمیں اسی دورکعتی حالت پررکھاگیاہے اس بارے میں سعدنے مسیب سے منقول امام علی بن الحسین کی ایک روایت“پنچگانہ نمازوں”کے عنوان میں ذکرکرچکے ہیں لہٰذاتکرارکی ضرورت نہیں ہے ۔

عیون اخبارالضا میںفضل بن شاذان سے مروی ہے: اگرکوئی شخص یہ سوال کرے کہ آٹھ فرسخ کے سفرمیں ہی نمازکوکیوں قصرقراردیاگیاہے اس سے کم میں کیوں نہیں؟تواس کاجواب یہ ہے:کیو نکہ عموماً قافلہ اورحیوان بردارلوگ اوردیگرمسافروں کے لئے آٹھ فرسخ ایک دن کی سیرہے اسی لئے ایک دن کی سیرکے حساب سے نمازکوقصرقراردیاگیاہے

اوراگرکوئی یہ کہے کہ ایک دن کی سیرکی مقدارمیں نمازکوقصرکیوں رکھاگیاہے ؟اس کاجوب یہ ہے کہ اگرایک دن کی سیرمیں نمازکے قصرہونے کوواجب قرارنہ دیاجاتاتو ہزارسال کی سیرمیں بھی قصرکوواجب قرارنہ دیاجاتاکیونکہ ہروہ دن جوآج کے بعدآتاہے وہ بھی آج ہی کے مانند ہوتاہے یعنی دن سب برابرہیں اج ہویاکل،آج اورکل کے دن میں کوئی فرق نہیں ہے ،اگرایک دن کی سیرمیں نمازکوقصرنہ رکھاجاتاتواس کے نظیرمیں بھی قصرنہ رکھاجاتا اگرکوئی یہ کہے کہ سیرمیںفرق ہوتاہے اونٹ ایک دن میں اٹھ فرسخ راستہ طے کرتاہے مگرگھوڑامثلاًبیس فرسخ راستہ طے کرتاہے (اورآج کے زمانہ میں انسان ایک دن جہازکے ذریعہ نہ معلوم کت نی دورپہنچ جاتاہے)پس یہ ایک دن کی مسافت کوآٹھ فرسخ کیوں قراردیاگیاہے ؟اس کاجواب یہ ہے :کیونکہ اونٹ اورقافلے والوں کی سیرغالب آٹھ فرسخ ہوتی ہے اوراونٹ اورقافلے والے لوگ غالباًاس مقدارمسافت کوایک دن میںطے کرتے ہیں۔(۲)

____________________

. ۱)بحارالانوار/ج ٨۶ /ص ۵۶

۲). عیون اخبارالرضا /ج ١/ص ١٠۶

۲۴۷

حیض کی حالت میں ترک شدہ نمازوں کاحکم

دین اسلام میں کسی بھی شخص کے لئے نمازکومعاف نہیں کیاگیاہے بلکہ ہرحال میں نمازواجب ہے اوروہ نمازیں جوعمداًیاسہوایاکسی مجبوری کی بناء پرترک وجاتی ہیں ان کی قضابجالاناواجب ہے البتہ عورتوں کی وہ نمازیں جوہرماہ کی عادت کے دنوں میں یانفاس کی حالت میں ترک ہوجاتی ہیں ان کے لئے دین اسلام میں رخصت دی گئی ہے اور ان کی قضابجالاناواجب نہیں ہے لیکن روزوں کی قضابجالاناواجب ہے ۔

عن ابی جعفروابی عبدالله علیهماالسلام قالا:الحائض تقضی الصیام ولاتقضی الصلاة .

امام باقراورامام صادق فرماتے ہیں:حائضہ عورت اپنے روزوں کی قضاکرے اورنمازکی قضانہیں کرے گی۔(۱)

حالت حیض میں ترک شدہ نمازوں کی قضاکیوں واجب نہیں ہے ؟ حیض ونفاس کی حالت میں ترک شدہ نمازکی قضاہے مگرروزہ کی نہیں ہے دین اسلام میں کسی بھی شخص کے لئے نمازکومعاف نہیں کیاگیاہے بلکہ ہرحال میں نمازواجب ہے اوروہ نمازیں جوعمداًیاسہوایاکسی مجبوری کی بناء پرترک ہوجاتی ہیں ان کی قضابجالاناواجب ہے البتہ عورتوں کی وہ نمازیں جوہرماہ کی عادت کے دنوں میں یانفاس کی حالت میں ترک ہوجاتی ہیں ان کے لئے دین اسلام میں رخصت دی گئی ہے اور ان کی قضابجالاناواجب نہیں ہے لیکن روزوں کی قضابجالاناواجب ہے ۔عن ابی جعفروابی عبدالله علیهماالسلام قالا:الحائض تقضی الصیام ولاتقضی الصلاة.

امام باقراورامام صادق +فرماتے ہیں:حائضہ عورت اپنے روزوں کی قضاکرے اورنمازکی قضانہیں کرے گی۔(۲)

اگرکوئی یہ اعتراض کرے کہ نمازروزہ سے افضل ہے ،جب حائضہ پرروزہ کی قضاواجب ہے تونمازکی قضابدرجہ اولیٰ واجب ہے کیونکہ نمازروزہ سے افضل ہے ؟ اس کاجواب یہ کہ ایک چیزکوکسی دوسری چیزپرقیاس نہیں کیاجاسکتاہے لہٰذانمازکاروزہ پرقیاس کرناباطل ہے،یہی قیاس ابوحنیفہ نے کیاتھااورکہاتھا کہ جب نمازروزہ سے افضل ہے اورروزہ کی قضاواجب ہے تونمازکی قضابطریق اولیٰ واجب ہے روایت میں آیاہے کہ امام صادق نے ابوحنیفہ سے پوچھا:یہ بتاؤ نمازافضل ہے یاروزہ ؟ کیانمازافضل ہے (جب حائضہ روزہ کی قضاواجب ہے تونمازکی بطریق قضاواجب ہے )آپ نے امام(علیه السلام) نے فرمایا:تم نے قیاس کیاہے پس تقوائے الٰہی اختیارکرواورقیاس نہ کرو بلکہ حکم شرعی یہ ہے حائضہ پرروزہ کی قضاواجب ہے اورنمازکی قضانہیں ہے ۔(۳)

____________________

.۱) تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ١۶٠

۲). تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ١۶٠

۳) علل الشرائع/ج ١/ص ٨٧

۲۴۸

حیض ونفاس کی حالت میں عورت کے لئے نہ روزہ رکھناصحیح ہے اورنہ نمازپڑھنا۔ فضل بن شاذان مروی ہے امام علی فرماتے ہیں:اگرکوئی سوال کرے کہ جب عورت حیض کی حالت میں ہوتواس کے لئے روزہ رکھنااورنمازپڑھناکیوںصحیح نہیں ہے؟اس کاجواب یہ ہے :کیونکہ کیونکہ حیض حدّنجاست میں ہے ،لاجرم خداوندمتعال یہ چاہتاہے کہ عورت فقط طہارت کی حالت میں اس کی عبادت کرے اورایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس کی نمازصحیح نہ ہواورجس کےلئے اصل میں نمازکومشروع نہ کیاگیاہوتوروزہ بھی اس کے مشروعیت نہیں رکھتاہے

اگرکوئی یہ اعتراض کرے کہ وہ نمازیں جوعورت سے حیض کے ایام میں ترک ہوجاتی ہیں ان کی قضابجالاناکیوں واجب نہیں ہے اورروزہ کی قضابجالاناکیوں واجب ہے ؟تواس کاجواب یہ ہے کہ چند(مندرجہ ذیل)وجوہات کی بناپرعورت پرنمازکی قضاواجب ہے مگرروزہ کی قضاواجب نہیں ہے:

١۔ روزہ رکھناعورت کوروزانہ کے ضروری کام کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتاہے ،روزہ نہ امورخانہ داری سے منع کرتاہے ،نہ شوہرکی خدمت کرنے سے ،نہ شوہرکے فرمان کوانجام دینے سے منع کرتاہے ،نہ گھرکی صفائی کرنے اورنہ کپڑوں وغیرہ کی دھلائی کرنے سے منع کرتاہے ،روزہ کی حالت میں ان سب کاموں کوانجام دیاجاسکتاہے لیکن نمازکے لئے وقت درکارہوتاہے اورنمازکی قضاکابجالاناعورت کے لئے امورخانہ داری ،صفائی ،دھلائی وغیرہ میں مانع واقع ہوتاہے کیونکہ نمازروزانہ بطورمکررواجب ہوتی ہے اورعورت اس چیزکی قدرت نہیں رکھتی ہے کہ اپنی روزانہ کی نمازیں بھی پڑھے اورناپاکی کی حالت میں ترک کی گئی نمازوں بھی کی قضابجالائے اورگھروزندگی کے ضروری کاموں کوبھی انجام دے لیکن روزے میں ایسانہیں ہے ،عورت روزہ کی حالت میں امورخانہ داری کوانجام دے سکتی ہے ۔

٢۔ نمازپڑھنے میں رکوع وسجود،تشہدوسلام وغیرہ کے لئے اٹھنے ،بیٹھنے ، کی زحمت ہوتی ہے لیکن روزہ میں ایسانہیں ہے،بلکہ روزہ میں اپنے آپ کوکھانے پینے سے روکناپڑتاہے اورکھانے پینے سے رکنے کے لئے نہ اٹھنے کی ضرورت پڑتی ہے اورنہ بیٹھنے کی ضرورت ہوتی اورنہ کوئی حرکت کرنی پڑتی ہے ۔

٣۔ شب وروزکی مدت میں ایک وقت کے بعدجب دوسراوقت شروع ہوتاہے تواس وقت میں دوسری نمازواجب ہوجاتی ہے (نمازظہرکے بعدنمازعصرواجب ہوجاتی ہے ،نمازمغرب کے عشاکی نمازواجب ہوجاتی ہے اورجیسے ہی صبح ہوتی ہے تونمازصبح واجب ہوجاتی ہے )لیکن روزہ میں ایسانہیں ہے ،ماہ رمضان المبارک کے بعدکوئی روزہ نہیں آتاہے کہ جواس پرواجب ہوجائے لہٰذاروزہ رکھنے کاوقت خالی رہتاہے مگرنمازتووقت کے ساتھ ساتھ واجب ہوتی رہتی ہے ۔(۱)

____________________

. ۱)علل الشرائع /ج ١/ص ٢٧١

۲۴۹

قبولیت نمازکے شرائط

ہر شخص کی نمازدوحالت سے خالی نہیں ہوتی ہے یااس کی نماز بارگارب العزت میں قبول ہوتی ہے اورخداعالم اس نمازی پردنیاوآخرت میں نعمتیں نازل کرتاہے یاقبول نہیں ہوتی ہے اورخداوندعالم جس نمازکوقبول نہیں کرتاہے اسے نمازی کی طرف واپس کردیتاہے جیساکہ حدیث میں آیاہے:

حضرت امام صادق فرماتے ہیں : خدا کی جانب سے ایک فرشتہ نماز کے کا موں کے لئے مامور ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسراکام نہیں کر تاہے،جب بندہ نمازسے فارغ ہوجاتاہے تو وہ فرشتہ اس کی نماز کو آسمان پر لے جاتاہے اگر اس کی نماز قبولیت کی صلاحیت رکھتی ہے تو وہ بارگا ہ رب ا لعزت میں قبول ہوجاتی ہے اور اگر قبول ہونے کی صلالیت نہیں رکھتی ہے تواس فرشتے کو حکم دیا جاتاہے کہ اس نماز کو صاحب نماز کی طرف واپسلوٹا دے، وہ فرشتہ نماز کو واپسلے کر زمین پر آتا ہے اور اسے صا حب نماز کے منہ پر مارکر کہتا ہے : وائے ہو تجھ پر کیونکہ تیری اس نماز نے مجھے زحمت میں ڈالاہے اور واپس لے کر آناپڑاہے۔(۱)

روزقیامت صرف انھیں لوگوں کی نمازقبول ہوگی جونمازکو پورے آداب شرائط کے ساتھ انجام دیتے ہیں،وہ لوگ جو نماز کو اس کے تمام آداب و شرائط کی رعایت کے ساتھ انجام دیتے ہیں توان کی یہ صحیح اورمکمل نماز بقیہ دوسرے انجام دئے گئے واجبات کے قبول ہونے کاسبب واقع ہوگی اوروہ لوگسعادتمند محسوب ہونگے لیکن وہ لوگ جونمازکواس کے پورے آداب وشرایط کے ساتھ انجام نہ دیتے ہیں تو وہ بدبخت اور بدنصیب شمارہونگے ۔قال صادق علیه السلام :اوّل مایحاسب به العبد،الصلاة،فاذاقبلت قبل منه سائرعمله واذاردت علیه ردعلیه سائرعمله .(۲)

امام صادق فرماتے ہیں:روزقیامت سب سے پہلاسوال نمازکے بارے میں کیاجائے جن لوگوں کی نمازقبول ہوگی ان کے دوسرے اعمال بھی قبول ہونگے اورجن کی نمازقبول نہیں ہوگی ان بقیہ اعمال بھی قبول نہیں ہونگے ۔

____________________

. ۱) ثواب الاعمال وعقاب الاعمال/ص ٢٣٠

.۲)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٠٨

۲۵۰

قال رسول الله صلی الله علیه وآله:لکل شی ؤجه ووجه دینکم الصلاة فلایشیئنّ احدکم وجه دینه .(۱)

نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :ہر چیز کے لئے ایک چہرہ ہو تا ہے جو اس کی اصل وحقیقت کوبیان کرتا ہے اور نماز تمھارے دین کاچہرہ ہے ، ہر شخص پر واجب ہے کہ اپنے دین کی شکل و صورت کو نہ بگاڑےدین اسلام بھی انسان کی طرح اپنے جسم میں اعضاء جوارح رکھتاہے ،جس طرح انسان اپنے جسم میں ہاتھ ،پیر،آنکھ ناک ،کان رکھتاہے اسی طرح دین اسلام بھی رکھتاہے انسان کے جسم کاارجمندترین حصہ اس کاسرہے اورسرکابہترین حصہ انسان کاچہرہ ہے کیونکہ چہرہ میں حساس اعضاء پا ئے جاتے ہیں : جیسے آنکھ، کان ،ناک ، زبان ، دانت وغیرہ اسی طرح دین اسلام کے اعضا میں نمازمقدس ترین حصہ ہے جسے پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله) نے دین اسلام کاچہرہ قراردیاہے اورنمازکودین اسلام کاچہرہ قراردئے جانے کارازیہ ہے کہ انسان کا بدن چہرے کی خوبصورتی کی وجہ سے خوشنما معلوم ہو تاہے اگر کسی کا چہرہ خوبصورت نہیں ہے تو اسے حسین نہیں کہا جاتا ہے ،جس طرح بدن کی خوبصورتی چہرہ سے تعلق رکھتی ہے اسی طرح دین اسلام بھی نمازسے تعلق رکھتاہے ،اگر نماز میں حُسن وکمال پایا جا تا ہے تو دین بھی حسین وخو بصورت معلوم ہو تا ہے ۔ مثال کے طورپراگرہم خلوص کے ساتھ کسی شخص کے دیداروملاقات کے لئے اس کے گھرجاتے ہیں تو وہ پہلے ہمارے چہرہ پرنگاہ ڈالتاہے ،اگرہمارے چہرے چہرے کے تمام اعضاء صحیح و سالم ہوں ، اور دونوں اَبرو آپس میں پیوستہ ہوں ،آنکھوں میں کشش پائی جاتی ہو، ناک حالت زیبائی رکھتی ہو ،ہونٹوں پرکلیوں کی طرح مسکراہٹ ہو،دانت صدف کے ماننددرخشاں ہوں پیشانی پر نور خشاں ہو یقیناً ایساچہرہ مکمل زیبا اورباعث اشتیاق ہو گااوروہ شخص ہمارے اس چہرے کودیکھ کر خوشحال ہو جا ئے گااورعطوفت ومہربانی کااظہارکرے گا،ہمیں اپنے قریب میں جگہ دے گا،ہم سے میٹھی اورنرم باتیں کرے گا لیکن اگرہمارے چہرے بگڑے ہوئے ہوں، پیشانی کے تیورچڑھے ہوں ، چہرے پرکمال درخشندگی نہ ہو،ابروکے بال بالکل صاف ہوں ، آنکھیں غضبناک ہوں، ناک پرورم آگیا ہو ،ہو نٹ زخمی ہوں ، دانت گر چکے ہیں(یقیناًایسا چہرے کودیکھ دل میں نفرت پیداہوجاتی ہے) تو ہمیں اس طرح دیکھ کراس کے تیوربھی چڑھ جائیں گے ،اب وہ اپنے بٹھاناتو دورکی بات اپنے دربارمیں کھڑے ہونے کی مہلت بھی نہیں دے گااورہمیںفوراً اپنے دربارسے باہرنکال دے گااورسزابھی سنائے گا

____________________

. ١)کافی /ج ٣/ص ٢٧٠ ۔تہذیب الاحکام/ج ٢/ص

۲۵۱

بس اسی طرح جب قیامت میں تمام لوگوں کوقبرسے بلندکیاجائے توسب پہلاسوال

نمازکے بارے جائے گا،جن ہم سے لوگوں نے دنیامیں نمازیں نہیں پڑھی ہونگی انھیں واصل جہنم کردے گااورجن لوگوں نے نمازیں پڑھی ہونگی ان کی نمازوں کودیکھاجائے گا اگرہماری وہ نمازیں اس کے معیارکے مطابق ہونگی اورپروردگار خوشنودی کا سبب واقع ہو نگی تو وہ ہم پراپنا رحم وکرم کرے گااورہمیں جنت عطاکرے گالیکن اگر خدا وندعالم ہماری نمازوں سے ناراض ہوگیا تو ہم اس کی رحمت ومغفرت سے محروم ہو جائیں گے اور ہماری بقیہ دوسری عبادتیں ہمیں کوئی نفع نہیں پہنچائیں گی۔

جس طرح انسان کاچہرہ اعضاء رکھتاہے اوراعضائے چہرہ کی وجہ سے خوبصورت معلوم ہوتاہے اسی طرح نمازجودین اسلام کاچہرہ ہے اس کے بھی اعضاء ہیں وہ بھی اپنے چہرے پر آنکھ ناک ، کان ،دانت وغیرہ رکھتی ہے اگروہ سب اعضامناسب ہوں توالله تبارک تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کاسبب ہوتے ہے ،خضوع وخشوع ،حضورقلب ،ارکان نماز(نیت ،تکبیر ة الاحرام ،قیام ، قرئت ،ذکر، رکوع، سجوداور تشہدوسلام )اور مستحبات نماز اعضاء وجوارح کا حکم رکھتے ہیں، اگرنمازکاچہرہ خوبصورت ہے اوراس کے تمام اعضاء صحیح و کامل ہیں یعنی نمازکوخضوع وخشوع، حضورقلب اورارکان نمازکی رعایت کے ساتھ اداکیاہے تووہ خدا کی خوشنودی اور اس کی بارگاہ میں قبولیت کا سبب واقع ہو گی اور اگر نماز کی شکل و صورت بگڑی ہو ئی ہو اور ارکان نماز کو مکمل طور سے رعایت نہ کی گئی ہو تو یہ نماز خداکے غضبناک ہو نے کا سبب واقع ہوتی ہے اور خدا وندعالم ایسی نماز کی طرف کوئی توجہ نہیں کرے گا بلکہ ایسی نماز کو اسی نمازی کے منہ پر ماردے گا۔

یہ ممکن ہے کہ انسان کی نمازظاہری اعتبارسے بالکل صحیح ہواوراس میں کوئی کمی نہ ہو،روبقبلہ پڑھی گئی ہو،طمانینہ کی بھی رعایت کی گئی ہومگروہ بارگاہ خداوندی مقبول نہ کیونکہ ظاہری آداب کے لئے کچھ قلبی آداب بھی ہیں کہ جن کی رعایت کے سبب ہماری نمازیں بارگاہ خداوندی میں مقبول واقع ہوتی ہیں،اگرہماری نمازوں میں وہ شرائط موجودہیں توقبول واقع ہوسکتی ہیں اوران کے ذریعہ خداکا تقرب اوراس کی رضایت حاصل ہوسکتی ہے اوروہ شرائط یہ ہیں:

١۔حضورقلب

وہ الفاظ اورذکروتسبیح کہ جنھیں نمازگزار اپنے زبان سے اداکررہاہے اگرانھیں سے دل بھی کہے اوران کے معنی ومفہوم کوذہن میں رکھنے کے ساتھ زبان پرجاری کرے اوراپنی نمازسے بالکل غافل نہ ہواوراس طرح خداکی طرف متوجہ ہوگیاہوکہ وہ یہ بھی نہ جانتاہوکہ میرے برابرمیں کون ہے اورکیاکررہاہے

۲۵۲

تو اسے حضورقلب کہاجاتاہے۔ نمازی کے لئے ضروری ہے کہ نمازکی حالت میں اس کے تمام اعضاء وجوارح اور دل ودماغ سب کچھ خداکی طرف ہواس کے دل میں خداکاعشق اوراس سے ہمکلام ہونے کاشوق ہو،سستی اورکسلمندی نہ پائی جاتی ہوعبادت میں لذت محسوس کرتاہوکیونکہ جس مقدارمیں نمازی کادل خداکی طرف متوجہ رہے گااسی مقداراس کی نمازبارگاہ خداوندی میں باعث قبول ہوگی ،اگرعبادت کی حالت میں نمازی کادل دنیاکی طرف مبذول ہوتواس کی وہ عبادت کی کوئی حقیقت نہیں رکھتی ہے اور ہر نمازی حضو ر قلب وخوف خداکے اعتبار سے اجر وثواب حاصل کرتا ہے جو نمازی اپنے دل خت نازیادہ خوف خدا رکھتا ہے اسی مقدار میںثواب ونعمت حاصل کرتا ہے کیونکہ خدا وند متعال نمازگزار کے قلب پر نگاہ رکھتا ہے نہ اسکی ظاہری حر کتوں پر، روزقیامت صرف وہی نمازوعبادت کام آئے گی جوسچے دل سے انجام دی گئی ہو ۔( وَ لِکُلِّ دَرَ جٰا تٌ مِمَّا عَمِلوُاوَمَارَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمّایَعْمَلُونَ ) (۱) بے شک ہر ایک شخص کے لئے اسکے اعمال کے مطابق درجات ہیں اورجوکچھ تم انجام دیتے ہوتمھاراپروردگارہرگزاس سے غافل نہیں ہے( یَوْمٌ لایَنْفَعُ مَالٌ وَلابَنُونَ، اِلَّاْ مَنْ اَتَی الله بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (۲) روزقیامت نہ مال کام آئے اورنہ اولاد ،فقط وہی لوگ نجات پائیں گے جو قلب سلیم کے ساتھ بارگاہ باری تعالیٰ میں حاضر ہوتے ہیں ۔

بعض نماز یں ایسی ہیں جو آدھی قبول ہوتی ہیں اور بعض ایسی ہیں جو ایک سوم یا ایک چہارم ،ایک پنجم یا ایک دہم قبول ہوتی ہیں اور بعض نماز یں ایسی ہیں جو ایک بوسیدہ کپڑے میں لپیٹ کر اس نمازی کے منہ پر مار دی جاتی ہیں اور اس سے کہا جاتا ہے یہ تیری نماز تجھے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی ہے فقط وہی نماز تیرے کام آسکتی ہے جنھیں توحضور قلب کے ساتھ انجام دیتاہے ۔(۳)

٢۔خضوع وخشوع

( قَدْ اَ فْلَحَ المُو مِنُونَ الَّذِ یْنَ هُمْ فِی صَلاٰ تِهِمْ خٰشِعُونَ ) (۴) یقیناً صاحبانِ ایمان کا میاب ہوگئے جو اپنی نمازوں میں خشوع وحضورقلب رکھتے ہیں۔

____________________

. ۱)سورہ أنعام /آیت ١٣٢

. ٢)سورہ شٔعراء /آیت ٨٨ ۔ ٨٩

۳). بحارالانوار/ج ٨١ /ص ٢۶١

. ۴)سورہ مٔومنون/آیت ١۔ ٢

۲۵۳

نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :جب تم نمازپڑھوتوخضوع اور حضور قلب رکھاکروکیونکہ خداوندعالم قرآن کریم ارشادفرماتاہے:( اَلَّذِینَ هُمْ فی صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ ) ۔ روزقیامت وہی لوگ نجات پائیں گے جواپنی نمازوں میں حضورقلب اورخضوع وخشوع رکھتے ہیں۔(۱)

اعضاء وجوارح اوربدن میں نشاط پائے جانے اورجسم پرخوف خداکے آثارنمایاں ہونے کوخضوع خشوع کہاجاتاہے

ایک شخص نے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سے خشوع کے معنی معلوم کئے توآپ نے فرمایا: نمازی کوچاہئے کہ اپنے اعضاء وجوارح بھی نماز میں شامل کرے اوراپنے دائیں بائیں جانب نگاہ نہ کرے ،ہاتھ پیرنہ ہلائے ،روایت میں آیاہے کہ ایک دن رسول خدا (صلی الله علیه و آله) نے ایک شخص کودیکھا کہ وہ نماز پڑھتے ہو ئے اپنی ڈاڈھی سے کھیل رہا ہے ، آپ نے فرمایا:

لوخشع قلبه لخشعت جوارحه ” اگر اس نماز ی کا دل خضوع وخشوع رکھتا ہے تو اُس کے اعضاء وجوارح کو بھی خاشع و خاضع ہو نا چا ہئے ۔(۲)

خشو ع یعنی نماز میں تواضع کا استعمال کرنا اورکسی بندہ کا پورے دل اورنشاط کے ساتھ کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرنے کوخشوع کہاجاتاہے(۳)

فقہ الّرضا میں منقول ہے کہ امام علی رضا فرماتے ہیں : جب تم نماز کے لئے قیام کرو تو اپنے آپ کو کھیل کو داور خواب وکسالت سے دورکرلیاکرواوروقارو سکون قلب کے ساتھ نماز ادا کیا کرواورتم پرلازم ہے کہ نماز میں خضوع وخشوع کی حالت بنائے رکھو، خدا کے لئے تواضع کرو،اپنے جسم پرخوف وخشوع کی حالت طاری رکھو اور اپنی حالت ایسی بناؤ جیسے کوئی فراری اور گنا ہگا ر غلام اپنے مولا وآقا کی خدمت میں آکر کھڑاہو جاتا ہے اور اپنے دو پیروں کے درمیان (چار انگلیوں کے برابر) فاصلہ دیا کرو ، بالکل سیدھے کھڑ ے ہو اکرو ، دائیں بائیں چہرے کو نہ گھمایاکرو اور یہ سمجھوکہ گویا خدا سے ملاقات کررہے ہو ،اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہومگر وہ توتمھیں دیکھ رہا ہے۔(۴)

____________________

. ۱)وسائل الشیعہ/ج ۴/ص ۶٨۵

۲). بحارالانوار/ج ٨١ /ص ٢۶١

۳). مستدرک الوسائل /ج ۴/ص ١٠٣

۴). فقہ الرضا/ص ١٠١

۲۵۴

عن النبی صلیه الله علیه وآله :لاصلاة لمن لایتخشع فی قلبه . نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جس نمازی کے دل میں خشوع نہیں پایاجاتاہے اسکی نمازقبول نہیں ہے۔(۱)

نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جس نمازی کے دل میں خشوع نہیں پایاجاتاہے اسکی نمازقبول نہیں ہے۔(۲)

حضرت امام صادق فرماتے ہیں : خدا ئے عزوجل نے حضرت موسیٰپر وحی نازل کی : اے موسیٰ ! کیا تم جانتے ہو ، میں نے پوری مخلوق سے صرف تم ہی کو اپنے سے ہمکلام ہونے کے لئے کیوں منتخب کیا ہے ؟ عرض کیا : پرو درگار ا ! تو نے مجھ ہی کو کیوں منتخب کیا ہے ؟ خدا نے کہا : اے موسیٰ ! میں نے اپنے تمام بندوں پر نظر ڈالی لیکن تمھارے علاوہ کسی بھی بندے کو تجھ سے زیادہ متواضع نہ پایا ، کیونکہ اے موسیٰ ! جب تم نماز پڑھتے ہو تو اپنے چہرے کو خاک پر رکھتے ہو۔(۳)

خدا وند متعا ل نے حضرت داو دٔپروحی نازل کی :اے داو دٔ!بہت سے نماز ی ایسے ہیں جو اپنی نماز وں میں خضوع وخشوع رکھتے ہیں اورگر یہ وزاری کرتے ہیں اور رکعتوں کوطول دیتے ہیں ،ان کی یہ طولانی رکعتیں میرے نزد یک ایک فتیلہ(۴) کی بھی قیمت نہیں رکھتی ہیں کیو نکہ جب میں ان کے قلوب پر نگا ہ کر تا ہو ں دیکھتا ہوں کہ ان کے دل ایسے ہیں کہ اگر نماز سے فراغت پا نے کے بعد کو ئی عورت ت نہائی میں ان سے ملاقات کر ے اوراپنے آپ کو اس نمازی کے حوالے کر دے تو وہ اس عورت پر فر یفتہ ہوجائیں گے اور گنا ہ کبیرہ کا مرتکب ہوجائیں گے اوراگرکسی مومن سے کوئی معاملہ کریں تواس کے ساتھ دھو کااورخیانت کریں گے۔(۵)

____________________

.۱) میزان الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٢

. ۲)میزان الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٢

۳). / من لایحضرہ الفقیہ /ج ٣٣٢

۴)لغت عرب میں فتیلہ اس باریک دھاگے کوکہاجاتاہے جوخرماکی گٹھلی کے درمیان پایاجاتاہے.

. ۵)بحارالانوار/ج ١۴ /ص ۴٣

۲۵۵

معصومین اورحضورقلب وخشوع

جب آپ حضورقلب ،خضوع وخشوع کے معنی ومفہوم اوران کی اہمیت سے آگاہ ہوگئے تواسی جگہ پران روایتوں کوبھی ذکرکردینامناسب ہے کہ جن میں معصومین کی طرزنمازاوران کے اخلاص وحضورقلب اورخضوع وخشوع کوذکرکیاگیاہے اوروہ احادیث یہ ہیں: نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے بارے میں آیاہے:

کان النبی صلی الله علیه واله:اذاقام الی الصلاة تربد وجهه خوفامن الله تعالیٰ (۱) جس وقت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نمازکے لئے قیام کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ متغیرہوجاتاتھا۔

ان النبی صلی الله علیه واله:کان اذاقام الی الصلاة کانّه ثوب ملقی (۲) جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نمازمیں مشغول ہوتے تھے توایسے نظرآتے تھے جیسے گوشہ میں کوئی کپڑاپڑارہتاہے۔

امام علی بن ابی طالب +کے بارے میں روایتوں میں ملتاہے کہ آپ نمازمیں اس قدرحضورقلب اورخضوع وخشوع رکھتے تھے کہ ایک جنگ کے دوران آپ کے پائے مبارک میں تیر پیوست ہوگیا تھااور لوگوں نے تیر کو نکالنے کی کوشش کی مگر تیر ہڈّی میں اس طرح پیوست ہوگیاتھا کہ گوشت وپوست کے کاٹے بغیر تیرکانکالنامحال تھا ،لہٰذا آپ کے فرزندوں نے کہا: اگریہی صورتحال ہے تو صبرکیا جائے اورجب امام (علیه السلام)نمازمیں مشغول ہوجائیں توپائے مبارک سے آسانی سے تیر نکالاجاسکتاہے اورآپ کوخبربھی نہیں ہوگی جب امام (علیه السلام) نماز میں مشغول ہوئے ،توطبیب نے گوشت وپوست کوکاٹ کر یہاں تک کہ ہڈّی کو توڑکر تیرنکالا اورزخم پرمرہم لگاکر پٹّی باندھی ،جب امام(علیه السلام) نماز سے فارغ ہوئے توفرمایاکہ :میرے پیر میں تیرپیوست ہے مگر اسوقت پیر میں کوئی دردوتکلیف محسوس نہیں ہورہی ہے ؟سب نے کہا:نماز کی حالت میں آپ کے پیر سے گوشت وپوست کو کاٹ کر تیر نکالیا گیا، اور آپ کو محسوس بھی نہ ہوا امام (علیه السلام)نے فرمایا : جب میں ذکرویادالٰہی میں مشغول رہتاہوں اگردنیا بھی زیروزبر ہوجائے یا میرے بدن میں تیغ وتبر بھی مارے جائیں تومجھے اپنے پروردگار سے مناجات کی لذت میں کی وجہ سے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوگی۔

____________________

. ۱)میزان الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٣

٢)فلاح السائل/ص ١۶١

۲۵۶

فلاح السائل میں نقل کیاگیاہے کہ حضرت علیجب نمازکے لئے قیام کرتھے تو آیہ مبارکہ( اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِی لِلَّذِی فَطَرَالسَّمَوٰاتِ وَالْاَرْض وَمَااَنَامِنَ المُشْرکِین ) (۱) (میرارختمامتراس خداکی طرف ہے جس نے آسمانوں کوپیداکیاہے اورمیں باطل سے کنارہ کش ہوں اورمشرکین ) میں سے نہیں ہوںاورزمین کی تلاوت کرتے تھے اورآپ کے چہرہ کارنگ متغیرہوجاتاتھا۔(۲)

امام علیجب نمازپڑھتے تھے توآپ سیدھے ستون کی مانندنظرآتے تھے اوربالکل بھی حرکت نہیں کرتھے اوررکوع وسجودکی حالت میں آپ کے جسم پر پرندہ بھی آکربیٹھ جاتاتھااورامام علی (علیه السلام) وامام زین العابدین +کے علاوہ کوئی بھی رسول اکرم کی حالت نمازکاانعکاس نہیں کرسکتاتھا۔(۳)

امیرالمومنین حضرت علی جس وقت آپ نماز کے لئے قیام کرناچاہتے تھے توخوف خدا میں پورابدن کا نپ جاتاتھااورچہر ے کا رنگ متغیرہوجاتاتھا اور کہتے تھے : بارالٰہا! اس امانت کے ادا کرنے کا وقت آگیاہے ، جس کو سات زمین وآسمان عرضہ کیاگیا اور وہ اس کے تحمل کی قوت نہیں رکھتے تھے۔(۴)

روایت میں آیاہے کہ: ایک شخص نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی خدمت آیااورآپ کی خدمت میں دواونٹ بطورہدیہ پیشکئے ، آنحضرت نے فرمایا: من صلی رکعتین ولم یحدث فیہما نفسہ من امورالدنیاغفراللھلہ ذنبہ. جو شخص دورکعت نماز اس طرح پڑھے کہ نماز کسی بھی دنیاوی چیز کی طرف توجہ پیدانہ کرے تو میں ان میں سے ایک اونٹ اسے عطا کردوں گا ،علی ابن ابی طالب+کے علاوہ کوئی بھی شخص آنحضرت کی اس درخواست پرعمل کرنے کوتیارنہ ہوااور رسول خدا (صلی الله علیه و آله) نے دونوں اونٹو ں کو حضرت علی کو عطا کر دئے۔(۵)

حضرت فاطمہ زہرا کے نمازمیں حضورقلب اورخضوع وخشوع کے بارے میں روایتوں میں آیاہے:

کانت فاطمة سلام الله علیهات نهج فی الصلاة فی خیفة الله تبارک وتعالی حضرت فاطمہ زہرا نماز کی حالت میں خوف خدا میں اس طرح لرزتی تھیں کہ آپ پر ) جاں کنی کی حالت طاری ہو جاتی تھی(۶)

____________________

١)سورہ أنعام /آیت ٧٩

. ٢)فلاح السائل /ص ١٠١

۳). دعا‏‏ئم الاسلام /ج ١/ص ١۵٩

۴). میزان الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٣

۵). میزا ن الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٨

۶)بحارالانوار/ج ٧٠ /ص ۴٠٠

۲۵۷

رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : میری لخت جگرحضرت فاطمہ دونوں جہاں گذشتہ اورآئندہ کی عورتوں کی سردار ہیں ، وہ جسوقت محراب عبادت میں اپنے پروردگارکے سامنے کھڑی ہوتی ہیں تو آپ کے چہرہ سے ایک نورساطع ہوتاہے وہ نور آسمان کے ملائکہ کے لئے اسی طرح درخشاں ہو تا ہے جیسے اہل زمین کے لئے ستاروں کا نور چمکتا ہے ،جب یہ نورساطع ہوتاہے توخدا وندعالم اپنے فرشتوں سے کہتاہے : اے میرے فرشتوں!تم ذرا میرے حبیب کی لخت جگرپر نگاہ ڈالو ، میری کنیز وں کی سردار میرے پاس کھڑی ہے اور میرے خوف سے اس کے تمام اعضاء وجوارح لرزرہے ہیں اور خلوص دل سے میری عبادت کررہی ہے ، میں تم فرشتوں کو شاہد قرار دیتا ہوں کہ میں نے ان ) کے تمام شیعوں پر آتشجہنم کو حرام قرار دیتا ہوں۔(۱)

امام زین العابدین کے نمازمیں حضورقلب اورخضوع وخشوع کے بارے میں چندروایت ذکرہیں:

قال مولاناالصادق علیه السلام :کان علی بن الحسین علیه السلام اذاحضرت الصلاة اِقشعرّجلده ، واصفرّلونه وارتعدکالسعفة .(۲) امام صادق فرماتے ہیں:جب علی ابن الحسین +نمازکے لئے قیام کرتے تھے تو(خوف خدامیں)بدن کے بال کھڑے ہوجاتے تھے اوررنگ پیلاہوجاتھا اورخرمے کے سوکھے ہوئے درخت کے مانندلرزتے رہتے تھے ۔

عن ابی عبدالله علیه السلام قال :کان علی بن الحسین علیه السلام صلوات الله علیهمااذ اقام فی الصلاة کانه ساق شجرة لایتحرک منه شی ألاماحرکه الریح منه .( ۳) امام صادق فرماتے ہیں:جب علی ابن الحسین +نمازکے لئے قیام کرتے تھے تو(خوف خدامیں) اس ساقہ دٔرخت کے مانندکھڑے رہتے تھے کہ جس کی کوئی چیزحرکت نہیں کرتی تھی مگروہی کہ جوہواکی وجہ سے ہلتی تھی ۔

ایک روایت میں آیاہے کہ ایک دن حضرت امام زین العابدینکے گھرمیں اگ لگ گئی اورآپ اس وقت نمازمیں اس طرح مشغول تھے کہ آپ کوگ لگنے کااحساس بھی نہ ہوا،جب نمازسے فارغ ہوئے توآپ کوگھر میں آگ لگ جانے کی اطلاع دی گئی توامام (علیه السلام)نے فرمایا:آتش جہنم کی یادنے مجھے اس دنیاوی آگ سے بالکل بے خبرکردیاتھا۔(۴)

____________________

۱)بحارالانوار/ج ٧٠ /ص ۴٠٠.

۲)مستدرک الوسائل /ج ۴/ص ٩٣

۳)کافی /ج ٣٠٠.

۴). تحلیلی اززندگانی امام سجاد/ج ١/ص ٢٨٧

۲۵۸

اوردوسری روایت میں آیاہے کہ امام زین العابدین کے بچے اس انتظارمیں رہتے تھے کہ امام (علیه السلام) کب نماز شروع کرتے ہیں تاکہ ہم پورے شوروغل کے ساتھ کھیل کود کرسکیں، بچےّ آپس میں کہتے تھے کہ جب امام (علیه السلام) نماز میں مشغول ہوجاتے ہیں توخداکی یاد میں اس طرح غرق ہوجا تے ہیں کہ انھیں ہماری طرف کوئی دھیان نہیں رہتا ہے ، چاہے ہم کت ناہی زیادہ شوروغل مچائیں۔(۱)

ابو حمزہ ثمالی سے روایت ہے کہ : میں نے حضرت امام سجاد کو نماز کی حالت میں دیکھا کہ آپ کی عباء دوش مبارک سے نیچے گرگئی اور آپ نے کوئی تو جہ نہ کی ،جب آپ نمازسے فارغ ہوئے تومیں نے آپ سے پو چھا : نماز کی حالت میں آپ کی عبادوش سے نیچے گر گئی اور آپ نے کوئی توجہ بھی نہیں کی ؟ امام (علیه السلام)نے فرمایا: اے ابوحمزہ ثمالی ! کیا تم نہیں جانتے ہو میں کس کی بارگاہ میں کھڑاتھا ؟ بے شک بندے کی نماز الله کی بارگاہ میں اسی مقدارمیں قبول ہو تی ہے جس مقدار میں نمازی کادل اپنے رب کی طرف متوجہ ہو گا ۔(۲)

امام صادق کے نمازمیں حضورقلب اورخضوع وخشوع کے بارے میں روایتوں میں آیاہے: حضرت امام جعفر صادق کے ایک صحابی“حمّادبن عیسیٰ ”سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : ایک دن امام (علیه السلام) نے مجھ سے پوچھا: اے حماد!تم نمازکس طرح پڑھتے ہواورکیااسے پورے آداب وشرائط کے اداکرتے ہو؟ میں نے کہا : اے میرے مولاو آقا ! میں“ حریزبن عبدالله سجستانی ”کی لکھی ہوئی کتاب نمازپڑھتاہوں

امام (علیه السلام)نے فرمایا : یہ کافی نہیں ہے بلکہ تم ابھی اٹھواور میرے سامنے دورکعت نماز پڑھو

حمّاد کہتے ہیں :میں نے امام (علیه السلام) کی فرمائش پر عمل کیا اورامام (علیه السلام)کے حضور میں روبقبلہ کھڑے ہوکر نماز شروع کی ، رکوع وسجود کو انجام دیا اور نماز کو تمام کیا

امام (علیه السلام)نے فرمایا :اے حماد!تم نے نمازاس کے آداب وشرائط کے مطابق نہیں پڑھی ہے اور تعجب ہے کہ تمہاری عمرساٹھ یا ستّر سال ہو گئی ہے اور تم صحیح و مکمل طور سے نماز نہیں پڑھ سکتے ہو!

____________________

۱). ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ٢١٨ /ص ۶٨

۲) تحلیلی اززندگانی مام سجاد/ج ١/ص ٢٨٧

۲۵۹

حمّاد کہتے ہیں : میں امام (علیه السلام)کی یہ باتیں سنکر بہت ہی شرمندہ ہوا اور میں نے امام (علیه السلام)سے عرض کیا : اے میرے مولا آپ پرقربان جاؤں آپ مجھے صحیح اورمکمل نماز کی تعلیم دیجئے

امام صادق اپنی جگہ سے بلند ہوئے اور روبقبلہ کھڑے ہوئے دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو آپس میں چسپاں کیا اور دستہائے مبارک کومرتب طریقہ سے ران پر رکھا ،دونوں کے درمیا ن چار انگلی کے برابر فاصلہ دیا اور پیروں کی انگلیوں کو روبقیلہ قرار دیا اور خضوع وخشوع کے “الله اکبر”کہہ کر نمازکاآغازکیا،سورئہ حمد و سورئہ“( قُلْ هَوَا لله اَحَد ) ”کو سکون واطمینان کے ساتھ قرائت کیا پھرایک سانس کے برابر صبر کیا اور حرکت کئے بغیر“الله اکبر”کہا ،اسکے بعد رکوع میں گئے ،

رکوع کی حالت میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو زانوپر رکھا اوردونوں زانوبالکل سیدھے تھے اور کمراس طرح سیدھی تھی کہ اگر کمر پر کوئی قطرئہ آب یا روغن گر جاتا تو وہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹ سکتا تھا اور رکوع میں گردن کو سیدھا رکھا اور آنکھیں بند کر کے تین مرتبہ “سبحان الله”کہا : اسکے بعد“سبحان ربی العظیم و بحمدہ ”کہا ،پھررکوع سے بلند ہو ئے اور اطمینان کے ساتھ “سَمِعَ الله لِمَن حَمِدَہ ” کہا اور دونوں ہاتھوں کو کانوں تک لاکر “الله اکبر ”کہا ،پھر سجد ے میں گئے اور دونوں زانوں کو زمین پر رکھنے سے پہلے دونوں ہا تھوں کو زمین پر رکھا اور سجدے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ بدن کا کوئی حصّہ آپس میں چسپاں نہیں تھا اور آٹھ اعضاء بدن ( پیشانی ،دونوں ہاتھ کی ہتھیلی ،دونوں زانو کے سرے ، دونوں پیرکے انگوٹھے اور ناک کی نوک) کو زمین پر رکھے ہو ئے تھے ، ناک کی نوک کو زمین پر رکھنا مستحب ہے اور بقیہ چیزیں واجب ہیں آپ نے سجدے میں تین مرتبہ “سُبَحَانَ رَبِّیَ الْاَعَلیٰ وبَحَمْدِهِ ”کہا اور سجدے سے سرکو بلند کیا “الله اکبر ”کہا اور بائیں پیرپرزور دیکر بیٹھے اور“اُسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّیْ وَاَ تُوبُ اِلَیهْ ”کہا اور “ا لله اکبر ”کہنے کے بعد دوسرے سجدے میں گئے اور پہلے سجدے کی طرح دوسرا سجدہ کیا اور سجدے میں کہنیوں کو زمین پر قرار نہیں دیا اور اسی طرح دوسری رکعت پڑھ کرنمازکو تشہدوسلام کے ساتھ تمام کیا ، اور نماز کے بعد فرمایا: اے حمّاد ! نماز پڑھنے کا یہی طریقہ ہے جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ، پس نماز کی حالت میں ہاتھ، پاؤں ، ڈاڑھی و غیرہ سے کھیل نہ کرو ، اپنی انگلیوں سے بھی کھیل نہ کرو ،اپنے دائیں بائیں نگاہ نہ کرو اور قبلہ کی سمت بھی نگاہ نہ کرو کیونکہ ان کاموں کی وجہ سے نماز میں خضوع وخشوع نہیں پایا جاتا ہے اورجونمازی کے حواس اڑجانے کا سبب واقع ہو تے ہیں

۲۶۰

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370