نمازکے آداب واسرار

نمازکے آداب واسرار10%

نمازکے آداب واسرار مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 370

نمازکے آداب واسرار
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 370 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 167163 / ڈاؤنلوڈ: 4239
سائز سائز سائز
نمازکے آداب واسرار

نمازکے آداب واسرار

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

تیسراسلام ان مومنین کے لئے ہوتاہے جواس کے بائیں جانب ہوتے ہیں اور ان فرشتوں کوسلام کیاجاتاہے جو مومنین اورخود پرمو کٔل ہیں اوروہ شخص کہ جس کے بائیں جانب کوئی نمازی نہ ہوتوبائیں جانب سلام نہ کرے ،ہاں اگر اس کے دائیں جانب دیوارہواورکوئی نمازی دائیں طرف نہ ہواوربائیں طرف کوئی نمازی موجودہوجواس کے ہمراہ امام جماعت کے پیچھے نمازپڑھ رہاتھاتواس صورت میں بائیں طرف سلام کرے

مفضل کہتے ہیں :میں نے امام(علیه السلام) سے معلوم کیا:امام جماعت کس لئے سلام کرتاہے اورکس چیزکاقصدکرتاہے؟امام(علیه السلام) نے جواب دیا:دونوںفرشتوں اورمامومین کوسلام کرتاہے ،وہ اپنے دل میں ان دونوں فرشتوں سے کہتاہے :نمازکی صحت وسلامتی کولکھواوراسے ان چیزوں سے محفوظ رکھو جونمازکوباطل کردیتی ہیں اورمامومین سے کہتاہے تم لوگ اپنے آپ کو عذاب الٰہی سے محفوظ وسالم رکھو

فضل کہتے ہیں: میں نے امام(علیه السلام) سے کہا:سلام ہی کوکیوں تحلیل نمازکیوں قرادیاگیاہے؟(تکبیر،تسبیح یاکسی دوسری چیزکوکیوں نہیں قراردیاگیاہے؟)امام(علیه السلام) نے فرمایا:کیونکہ اس کے ذریعہ (دونوں کاندھوں پرمو کٔل)دونوںفرشتوں کاسلام کیاجاتاہے اورنمازکااس کے پورے آداب شرائط کے ساتھ بجالانااور رکوع وسجودوسلام نمازبندہ کانارجہنم سے رہائی کاپروانہ ہے ،روزقیامت جس کی نمازقبول ہوگئی اس کے دوسرے اعمال بھی قبول ہوجائیں گے ،اگرنمازصحیح وسالم ہے تودوسرے اعمال بھی صحیح واقع ہونگے اورجس کی نمازردکردی گئی اس کے دوسرے اعمال صالح بھی ردکردئے جائیں گے ۔(۱)

”معانی الاخبار”میں عبدالله ابن فضل ہاشمی سے مروی ہے میں نے امام صادق سے سلام نمازکے معنی ومقصودکوپوچھاتوامام(علیه السلام) نے فرمایا:سلام امن وسلامتی کی علامت ہے اورتحلیل نمازہے کہ جس کے ذریعہ نمازسے فارغ ہواجاتاہے ،میں نے کہا:اے میرے امام !میری جان آپ پرقربان ہومجھے آگاہ کیجئے کہ نمازمیں سلام کوواجب قراردئے جانے کی وجہ کیاہے؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:

____________________

.۱) علل الشرایع/ص ١٠٠۵

۲۴۱

گذشتہ زمانہ میں لوگوں کی یہ روش تھی کہ اگرآنے والاشخص لوگوں کوسلام کردیاکرتاتھاتواس کامطلب یہ ہوتاتھاکہ لوگ اسکے شرسے امان میں ہیں اوراگرآنے والے کواپنے سلام کاجواب مل جاتاتھاتواس کے یہ معنی ہوتے تھے کہ وہ بھی ان لوگوں کے شرسے امان میں ہے ،لیکن اگرآنے والاشخص سلام نہیں کرتاتھا تواس کے یہ معنی ہوتے تھے کہ لوگ اس کے شرسے محفوظ نہیں ہیں اوراگرآنے سلام کرتاتھامگردوسری طرف سے کوئی جواب سلام نہیں دیاجاتھاتویہ اس چیزکی پہچان تھی کہ آنے والاشخص کی خیرنہیں ہے اوروہ ان کے شرسے ا مان میں نہیں ہے اوریہ اخلاق عربوں کے درمیان رائج تھا،پس سلام نمازسے فارغ ہونے کی علامت ہے اورسلام مومنین سے کلام کرنے کے جائزہونے کی پہچان ہے ،اب بندوں سے باتیں کرناجائزہے، “سلام ”الله تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے کہ جسے نمازگزارخداوندعالم کی طرف معین کئے گئے دوفرشتوں سے مخاطب ہوکرانجام دیتاہے۔(۱)

فضل بن شاذان سے روایت ہے امام علی رضا فرماتے ہیں:نمازمیں سلام کوتحلیل نمازاس لئے قراردیاگیاہے اوراس کے بدلہ میں تکبیر،تسبیح یااورکسی دوسری چیزکوتحلیل نماز قرارنہیں دیاگیاہے کیونکہ جب بندہ تکبیرکے ذریعہ نمازمیں داخل ہوجاتاہے تو اس کابندوں سے ہمکلام ہوناحرام ہوجاتاہے اورفقط خداکی جانب متوجہ رہناہوتاہے لاجرم نمازسے خارج ہونے میں مخلوق سے کلام حلال ہوجاتاہے اورپوری مخلوق کواپنے کلام کی ابتد اسلام کے ذریعہ کرنی چاہئے لہٰذانمازگذارجب نمازسے خارغ ہوتاہے پہلے مخلوق سے ہمکلام ہونے کوحلال کرے یعنی پہلے سلام کرے اوراس کے بعدکوئی کلام کرے اسی نمازکے آخرمیں سلام کوقراردیاگیاہے۔(۱)

روایت میں آیاہے کہ ایک شخص نے امام علی ابن ابی طالب +سے پوچھا:اے خداکی محبوب ترین مخلوق (حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله))کے چچازادبھائی!امام جماعت کاسلام میں “السلام علیکم ”کہنے کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ تو امام (علیه السلام) نے فرمایا:

انّ الامام یترجم عن الله عزوجل ویقول فی ترجمته لاهل الجماعة ا مٔان لکم من عذاب الله یوم القیامة ۔

کیونکہ امام جماعت خداوندمتعال کی جانب سے اس کے بندوں کے لئے ترجمانی کرتاہے جواپنے ترجمہ میں اہل جماعت سے کہتاہے :تمھیں روزقیامت کے الٰہی عذاب سے امان ونجات مل گئی ہے ۔(۳)

____________________

.۱) معانی الاخبار/ص ١٧۶

۲). علل الشرائع /ج ١/ص ٢۶٢ ۔عیون اخبارالرضا/ج ١/ص ١١۵

۳). من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٢٠

۲۴۲

مفضل ابن عمروسے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے پوچھا:کیاوجہ ہے کہ سلام نمازکے بعدتین مرتبہ ہاتھوں کوبلندکیاجائے اورتین مرتبہ“الله اکبر” کہاجائے؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:جس وقت رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نے مکہ فتح کیاتواپنے اصحاب کے ساتھ حجراسودکے قریب نمازظہراداکی اورسلام پڑھاتواپنے ہاتھوں کواوپرلے گئے اورتین مرتبہ تکبیرکہی اسکے بعدیہ دعاپڑھی:

لَااِلٰهَ اِلّااللهُ وَحْدَه وَحْدَه ، اَنْجَزَوَعْدَه ، وَنَصَرَعَبْدَه ، وَاَعَزَّجُنْدَه ، وَغَلَبَ الْاَحْزَابَ وَحْدَه ، فَلَهُ الْمُلْکُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَهُوَعَلٰی کُلِّ شَی قَٔدِیْرٌ.

اس کے بعداپنے اصحاب کی طرف رخ کرکے ارشادفرمایا:اس تکبیراوردعاکوکسی بھی واجب نمازکے بعدترک نہ کرناکیونکہ جوشخص سلام کے بعداس دعاکوپڑھے گویااس نے اس شکرکوجواسلام وسپاہیان اسلام کاشکراس کے اوپرواجب تھااداکردیاہے۔(۱)

____________________

۱). علل الشرائع /ج ٢/ص ٣۶٠

۲۴۳

رازقنوت

لغت میں خضوع وخشوع اوراطاعت وفرمانبرداری کوقنوت کہتے ہیں اوردعا ونمازاورعبادت کوبھی قنوت کہتے ہیں جیسا کہ خداوندعالم حضرت مریم کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے : ی( ٰامَرْ یَمُ اُقْت نیْ لِرَبِّکِ ) (١) (اے مریم ! تم اپنے پروردگار کی اطاعت کرو

محمدابن مسعودکی “تفسیرعیاشی ”میں امام صادق سے نقل کیاگیاہے کہ :اس قول خداوندی( قوموالله قانتین ) (۲) میں“ قانتین ” سے “مطیعین”مرادہے یعنی نمازکوخضوع وخشوع اوراطاعت خداوندی کے ساتھ بجالاو ۔ٔ

فقہا کی اصطلاح میں نمازمیں ایک مخصوص موقع پرایک خاص طریقہ سے دعاکرنے کوقنوت کہاجاتاہے اوردعاکے آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دونوں ہاتھوں کوچہرے کے مقابل دونوں ہاتھوں کوآپس میں ملاکرہتھیلیوں کے رخ کوآسمان کی جانب قراردیاجائے اورہتھیلیوں پرنگاہ کھی جائے

قنوت میں کسی مخصوص ذکرکاپڑھناشرط نہیں ہے بلکہ جائزہے نمازی جس دعاوذکراورمناجات کوبھی چاہے پڑھے لیکن مستحب ہے کہ قنوت میں معصومسے منقول یہ دعاپڑھی جائے:

امام صادق فرماتے ہیں:قنوت میں یہ دعاپڑھناکافی ہے:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلَنَا،وَارْحَمْنَا،وَعَافِنَا،وَاعْفُ عَنَّافِی الدُّنْیَاوَالآخِرَةِ ،اِنَّکَ عَلیٰ کُلِّ شَی ءٍ قَدِیْر ۔(۳)

اورامام صادق فرماتے ہیں: نمازجمعہ کی پہلی رکعت میں قرائت کے بعد کلمات فرج کوذکرکیاجائے اوروہ یہ ہیں:

لااله الّاالله الحلیم الکریم ،لااله الّاالله العلی العظیم ، سبحان الله ربّ السموات السبع وربّ الارضین سبع ،ومافیهنّ ،ومابینهنّ، وربّ العرش العظیم، والحمدللهربّ العالمین ،اللّٰهم صلّ علی محمدوآله کماهدیت نابه ۔(۴)

____________________

.۱)آل عمران /آیت ۴٢

.۲)بقرہ /آیت ٢٣٨ تفسیرعیاشی /ج ١ج/ص ١٢٧

۳). تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ٨٧

۴). تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ١٨

۲۴۴

رازنمازقصر

سفراورخوف کی حالت میں آٹھ شرائط کے ساتھ چاررکعتی نمازکودورکعت پڑھناواجب ہے لیکن نمازصبح اورمغرب کوپوری پڑھناواجب ہے اوراس بارے میں علمائے کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہمسافر کو قصرو اتمام کے درمیان کوئی اختیارنہیں ہے بلکہ قصرپڑھناواجب ہے۔

قال رسول صلی الله علیه وآله :ان الله عزوجل تصدق علی مرضی امتی ومسافریهابالتقصیروالافطار، وهل یسراحدکم اذاتصدق بصدقة ان تردعلیه. نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:بیشک خدائے عزوجل نے میری امت کے مریضوں اورمسافروں پرنمازکے قصرہونے اورروزے کانہ رکھنے کاتصدق عطاکیاہے ،اگرتم کسی کے ساتھ کوئی اچھائی کرواوروہ تمھارے اس تصدق کوواپس کردے توکیاتمھیں اس سے کوئی خوشی ملے گی ؟۔(۱)

زرارہ اورمحمدابن مسلم سے روایت ہے: ہم دونوں نے امام محمدباقر سے عرض کیا:سفرکی حالت میں نمازپڑھنے کے بارے میں کیاحکم ہے ،اورکس طرح سے نمازپڑھنی چاہئے اورکت نی رکعت پڑھنی چاہئے ؟ اما م(علیه السلام) نے فرمایا:کیاتم نے اس آیہ مبارکہ کونہیں پڑھاہے جسمیں خداوندعالم ارشادفرمایاتاہے:

( وَاِذَاضَرَبْتُمْ فِی الاَرْضِ فَلَیْسَعَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْامِنَ الصَّلاةِ ) ترجمہ:اورجب تم زمین میں سفرکروتوتمھارے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ تم اپنی نمازیں قصرکرو۔(۲)

یہ آیہ مبارکہ اس چیزپردلالت کرتی ہے کہ سفرمیں نمازکوقصرپڑھناواجب ہے جس طرح حضرمیں نمازکوپوری پڑھناواجب ہے ،راوی کہتے ہیں کہ ہم نے امام (علیه السلام) نے سے عرض کیا:خداوندعالم نے آیہ مبارکہ میں( لیس علیکم جناح ) فرمایاہے کہ جس سے وجوب کے معنی نہیں سمجھے جاتے ہیں اوراس نے “افعلوا” نہیں کہاہے کہ جس سے وجوب کے معنی سمجھ میں ائیں پس اس آیہ مبارکہ سے کس طرح ثابت کیاجاسکتاہے کہ سفرمیں نمازکوقصرپڑھناواجب ہے جس طرح حضرمیں پوری واجب ہے؟امام (علیه السلام) نے فرمایا: کیاخداوندعالم نے صفااورمروہ کے بارے میں ارشادنہیں فرمایاہے:

____________________

۱). کافی/ج ۴/ص ١٢٧

۲). سورہ نساء /آیت ١٠١

۲۴۵

( فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَفَلَاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ اَنْ یَطُوْفَ بِهِمَا ) جوشخص بھی حج یاعمرہ کرے اس کے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ ان کادونوں پہاڑیوں کاچکرلگائے ۔(۱)

اورکیاتم نہیں جانتے ہوکہ ان دونوں کاچکرلگاناواجب ہے کیونکہ خدائے عزوجل نے اس کا اپنی کتاب میں ذکرکیاہے اورنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے اسے انجام دیاہے پس اسی طرح سفرمیں نمازکوقصرپڑھنا واجب ہے کیونکہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے سفرمیں نمازکوقصرپڑھا ہے اورخداوندعالم نے قصرکواپنی کتاب میں ذکرکیاہے،راوی کہتے ہیں کہ ہم نے امام باقر سے عرض کیا: اگرکوئی شخص سفرمیں نمازکوچاررکعتی پڑھے،اسے اپنی نمازکااعادہ کرناچاہئے یانہیں؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:

اگراس کے سامنے آیہ تٔقصیرکوپڑھاگیاہے اوراسے تقصیرکے بارے میں بتایاگیاہے تواعادہ کرناواجب ہے لیکن اگرآیت کی قرائت نہیں کی گئی ہے اوراسے تقصیرسے آگاہ نہیں کیاگیاہے اوراسے تقصیرکے بارے میں تعلیم نہیں دی گئی ہے تواس کااعادہ نہیں ہے ،اس کے بعدامام (علیه السلام)نے فرمایا:

الصلوات کلهافی السفررکعتان کل صلاة الّاالمغرب فانهاثلاث لیس فیها تقصیرترکهارسول الله صلی الله علیه وآله فی السفروالحضرثلاث رکعات . نمازمغرب کے علاوہ روزانہ کی تمام نمازوں میں سے ہرنمازکوسفرمیں دورکعت پڑھناواجب ہے، نمازمغرب میں کوئی تقصیرنہیں ہے کیونکہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سفراورحضرمیں نمازمغرب کواسی طرح پڑھتے تھے ۔(۲)

عیون اخبارالرضا میں فضل بن شاذان سے مروی ہے: اگرکوئی شخص یہ سوال کرے کہ : سفرمیں نمازکے قصرپڑھنے کاحکم کیوں جاری ہواہے؟تواسے اس طرح جواب دو:کیونکہ نمازاصل میں دس رکعت واجب تھی اورسات رکعت کابعدمیں(پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی فرمائش سے ) اضافہ کیاگیاہے اس کے بعدخداوندعالم نے مسافرکے لئے ان زحمت ومشقت کی وجہ سے جواسے سفرمیں اٹھانی پڑتی ہیں اورچونکہ نمازالله کے لئے ہی پڑھی جاتی ہے اسی لئے اس نے نمازمغرب کے علاوہ تمام اضافی کی گئی رکعتوں کوختم کردیاہے اورنمازمغرب سے اس لئے کوئی رکعت کم نہیں کی ہے کیونکہ نمازمغرب اصل میں مقصورہ ہے ۔(۳)

____________________

. ۱)سورہ بقرہ/آیت/ ١۵٨

۲). من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ۴٣۴

۳). عیون اخبارالرضا /ج ١/ص ١٠۶

۲۴۶

محمدابن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق کی محضرمبارک میں ان سے معلوم کیاکہ: سفراورحضرمیں نمازمغرب کوتین رکعت کیوں پڑھاجاتاہے اوربقیہ نمازوں کودورکعت ؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:کیونکہ رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)پرنمازدودورکعتی واجب کیاگیاتھااوراورآنحضرت نے تمام نمازوں میں دودورکعت کاضمیمہ کیااورپھرنمازمغرب سے ایک رکعت کوکم کردیااورسفرمیں ہرنماز میں سے دورکعت کوکم کردیالیکن نمازمغرب کوسفرمیں اسی تین رکعت کی حالت پررکھاکیونکہ اورفرمایا:نمازمغرب سے کسی رکعت کوکم کرتے ہوئے مجھے حیاآتی ہے اسی لئے نمازمغرب کوسفروحضرمیں تین رکعت ہی پڑھی جائے ۔(۱)

نمازصبح کوسفروحضرمیں اسی دورکعتی حالت پررکھاگیاہے اس بارے میں سعدنے مسیب سے منقول امام علی بن الحسین کی ایک روایت“پنچگانہ نمازوں”کے عنوان میں ذکرکرچکے ہیں لہٰذاتکرارکی ضرورت نہیں ہے ۔

عیون اخبارالضا میںفضل بن شاذان سے مروی ہے: اگرکوئی شخص یہ سوال کرے کہ آٹھ فرسخ کے سفرمیں ہی نمازکوکیوں قصرقراردیاگیاہے اس سے کم میں کیوں نہیں؟تواس کاجواب یہ ہے:کیو نکہ عموماً قافلہ اورحیوان بردارلوگ اوردیگرمسافروں کے لئے آٹھ فرسخ ایک دن کی سیرہے اسی لئے ایک دن کی سیرکے حساب سے نمازکوقصرقراردیاگیاہے

اوراگرکوئی یہ کہے کہ ایک دن کی سیرکی مقدارمیں نمازکوقصرکیوں رکھاگیاہے ؟اس کاجوب یہ ہے کہ اگرایک دن کی سیرمیں نمازکے قصرہونے کوواجب قرارنہ دیاجاتاتو ہزارسال کی سیرمیں بھی قصرکوواجب قرارنہ دیاجاتاکیونکہ ہروہ دن جوآج کے بعدآتاہے وہ بھی آج ہی کے مانند ہوتاہے یعنی دن سب برابرہیں اج ہویاکل،آج اورکل کے دن میں کوئی فرق نہیں ہے ،اگرایک دن کی سیرمیں نمازکوقصرنہ رکھاجاتاتواس کے نظیرمیں بھی قصرنہ رکھاجاتا اگرکوئی یہ کہے کہ سیرمیںفرق ہوتاہے اونٹ ایک دن میں اٹھ فرسخ راستہ طے کرتاہے مگرگھوڑامثلاًبیس فرسخ راستہ طے کرتاہے (اورآج کے زمانہ میں انسان ایک دن جہازکے ذریعہ نہ معلوم کت نی دورپہنچ جاتاہے)پس یہ ایک دن کی مسافت کوآٹھ فرسخ کیوں قراردیاگیاہے ؟اس کاجواب یہ ہے :کیونکہ اونٹ اورقافلے والوں کی سیرغالب آٹھ فرسخ ہوتی ہے اوراونٹ اورقافلے والے لوگ غالباًاس مقدارمسافت کوایک دن میںطے کرتے ہیں۔(۲)

____________________

. ۱)بحارالانوار/ج ٨۶ /ص ۵۶

۲). عیون اخبارالرضا /ج ١/ص ١٠۶

۲۴۷

حیض کی حالت میں ترک شدہ نمازوں کاحکم

دین اسلام میں کسی بھی شخص کے لئے نمازکومعاف نہیں کیاگیاہے بلکہ ہرحال میں نمازواجب ہے اوروہ نمازیں جوعمداًیاسہوایاکسی مجبوری کی بناء پرترک وجاتی ہیں ان کی قضابجالاناواجب ہے البتہ عورتوں کی وہ نمازیں جوہرماہ کی عادت کے دنوں میں یانفاس کی حالت میں ترک ہوجاتی ہیں ان کے لئے دین اسلام میں رخصت دی گئی ہے اور ان کی قضابجالاناواجب نہیں ہے لیکن روزوں کی قضابجالاناواجب ہے ۔

عن ابی جعفروابی عبدالله علیهماالسلام قالا:الحائض تقضی الصیام ولاتقضی الصلاة .

امام باقراورامام صادق فرماتے ہیں:حائضہ عورت اپنے روزوں کی قضاکرے اورنمازکی قضانہیں کرے گی۔(۱)

حالت حیض میں ترک شدہ نمازوں کی قضاکیوں واجب نہیں ہے ؟ حیض ونفاس کی حالت میں ترک شدہ نمازکی قضاہے مگرروزہ کی نہیں ہے دین اسلام میں کسی بھی شخص کے لئے نمازکومعاف نہیں کیاگیاہے بلکہ ہرحال میں نمازواجب ہے اوروہ نمازیں جوعمداًیاسہوایاکسی مجبوری کی بناء پرترک ہوجاتی ہیں ان کی قضابجالاناواجب ہے البتہ عورتوں کی وہ نمازیں جوہرماہ کی عادت کے دنوں میں یانفاس کی حالت میں ترک ہوجاتی ہیں ان کے لئے دین اسلام میں رخصت دی گئی ہے اور ان کی قضابجالاناواجب نہیں ہے لیکن روزوں کی قضابجالاناواجب ہے ۔عن ابی جعفروابی عبدالله علیهماالسلام قالا:الحائض تقضی الصیام ولاتقضی الصلاة.

امام باقراورامام صادق +فرماتے ہیں:حائضہ عورت اپنے روزوں کی قضاکرے اورنمازکی قضانہیں کرے گی۔(۲)

اگرکوئی یہ اعتراض کرے کہ نمازروزہ سے افضل ہے ،جب حائضہ پرروزہ کی قضاواجب ہے تونمازکی قضابدرجہ اولیٰ واجب ہے کیونکہ نمازروزہ سے افضل ہے ؟ اس کاجواب یہ کہ ایک چیزکوکسی دوسری چیزپرقیاس نہیں کیاجاسکتاہے لہٰذانمازکاروزہ پرقیاس کرناباطل ہے،یہی قیاس ابوحنیفہ نے کیاتھااورکہاتھا کہ جب نمازروزہ سے افضل ہے اورروزہ کی قضاواجب ہے تونمازکی قضابطریق اولیٰ واجب ہے روایت میں آیاہے کہ امام صادق نے ابوحنیفہ سے پوچھا:یہ بتاؤ نمازافضل ہے یاروزہ ؟ کیانمازافضل ہے (جب حائضہ روزہ کی قضاواجب ہے تونمازکی بطریق قضاواجب ہے )آپ نے امام(علیه السلام) نے فرمایا:تم نے قیاس کیاہے پس تقوائے الٰہی اختیارکرواورقیاس نہ کرو بلکہ حکم شرعی یہ ہے حائضہ پرروزہ کی قضاواجب ہے اورنمازکی قضانہیں ہے ۔(۳)

____________________

.۱) تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ١۶٠

۲). تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ١۶٠

۳) علل الشرائع/ج ١/ص ٨٧

۲۴۸

حیض ونفاس کی حالت میں عورت کے لئے نہ روزہ رکھناصحیح ہے اورنہ نمازپڑھنا۔ فضل بن شاذان مروی ہے امام علی فرماتے ہیں:اگرکوئی سوال کرے کہ جب عورت حیض کی حالت میں ہوتواس کے لئے روزہ رکھنااورنمازپڑھناکیوںصحیح نہیں ہے؟اس کاجواب یہ ہے :کیونکہ کیونکہ حیض حدّنجاست میں ہے ،لاجرم خداوندمتعال یہ چاہتاہے کہ عورت فقط طہارت کی حالت میں اس کی عبادت کرے اورایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس کی نمازصحیح نہ ہواورجس کےلئے اصل میں نمازکومشروع نہ کیاگیاہوتوروزہ بھی اس کے مشروعیت نہیں رکھتاہے

اگرکوئی یہ اعتراض کرے کہ وہ نمازیں جوعورت سے حیض کے ایام میں ترک ہوجاتی ہیں ان کی قضابجالاناکیوں واجب نہیں ہے اورروزہ کی قضابجالاناکیوں واجب ہے ؟تواس کاجواب یہ ہے کہ چند(مندرجہ ذیل)وجوہات کی بناپرعورت پرنمازکی قضاواجب ہے مگرروزہ کی قضاواجب نہیں ہے:

١۔ روزہ رکھناعورت کوروزانہ کے ضروری کام کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتاہے ،روزہ نہ امورخانہ داری سے منع کرتاہے ،نہ شوہرکی خدمت کرنے سے ،نہ شوہرکے فرمان کوانجام دینے سے منع کرتاہے ،نہ گھرکی صفائی کرنے اورنہ کپڑوں وغیرہ کی دھلائی کرنے سے منع کرتاہے ،روزہ کی حالت میں ان سب کاموں کوانجام دیاجاسکتاہے لیکن نمازکے لئے وقت درکارہوتاہے اورنمازکی قضاکابجالاناعورت کے لئے امورخانہ داری ،صفائی ،دھلائی وغیرہ میں مانع واقع ہوتاہے کیونکہ نمازروزانہ بطورمکررواجب ہوتی ہے اورعورت اس چیزکی قدرت نہیں رکھتی ہے کہ اپنی روزانہ کی نمازیں بھی پڑھے اورناپاکی کی حالت میں ترک کی گئی نمازوں بھی کی قضابجالائے اورگھروزندگی کے ضروری کاموں کوبھی انجام دے لیکن روزے میں ایسانہیں ہے ،عورت روزہ کی حالت میں امورخانہ داری کوانجام دے سکتی ہے ۔

٢۔ نمازپڑھنے میں رکوع وسجود،تشہدوسلام وغیرہ کے لئے اٹھنے ،بیٹھنے ، کی زحمت ہوتی ہے لیکن روزہ میں ایسانہیں ہے،بلکہ روزہ میں اپنے آپ کوکھانے پینے سے روکناپڑتاہے اورکھانے پینے سے رکنے کے لئے نہ اٹھنے کی ضرورت پڑتی ہے اورنہ بیٹھنے کی ضرورت ہوتی اورنہ کوئی حرکت کرنی پڑتی ہے ۔

٣۔ شب وروزکی مدت میں ایک وقت کے بعدجب دوسراوقت شروع ہوتاہے تواس وقت میں دوسری نمازواجب ہوجاتی ہے (نمازظہرکے بعدنمازعصرواجب ہوجاتی ہے ،نمازمغرب کے عشاکی نمازواجب ہوجاتی ہے اورجیسے ہی صبح ہوتی ہے تونمازصبح واجب ہوجاتی ہے )لیکن روزہ میں ایسانہیں ہے ،ماہ رمضان المبارک کے بعدکوئی روزہ نہیں آتاہے کہ جواس پرواجب ہوجائے لہٰذاروزہ رکھنے کاوقت خالی رہتاہے مگرنمازتووقت کے ساتھ ساتھ واجب ہوتی رہتی ہے ۔(۱)

____________________

. ۱)علل الشرائع /ج ١/ص ٢٧١

۲۴۹

قبولیت نمازکے شرائط

ہر شخص کی نمازدوحالت سے خالی نہیں ہوتی ہے یااس کی نماز بارگارب العزت میں قبول ہوتی ہے اورخداعالم اس نمازی پردنیاوآخرت میں نعمتیں نازل کرتاہے یاقبول نہیں ہوتی ہے اورخداوندعالم جس نمازکوقبول نہیں کرتاہے اسے نمازی کی طرف واپس کردیتاہے جیساکہ حدیث میں آیاہے:

حضرت امام صادق فرماتے ہیں : خدا کی جانب سے ایک فرشتہ نماز کے کا موں کے لئے مامور ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسراکام نہیں کر تاہے،جب بندہ نمازسے فارغ ہوجاتاہے تو وہ فرشتہ اس کی نماز کو آسمان پر لے جاتاہے اگر اس کی نماز قبولیت کی صلاحیت رکھتی ہے تو وہ بارگا ہ رب ا لعزت میں قبول ہوجاتی ہے اور اگر قبول ہونے کی صلالیت نہیں رکھتی ہے تواس فرشتے کو حکم دیا جاتاہے کہ اس نماز کو صاحب نماز کی طرف واپسلوٹا دے، وہ فرشتہ نماز کو واپسلے کر زمین پر آتا ہے اور اسے صا حب نماز کے منہ پر مارکر کہتا ہے : وائے ہو تجھ پر کیونکہ تیری اس نماز نے مجھے زحمت میں ڈالاہے اور واپس لے کر آناپڑاہے۔(۱)

روزقیامت صرف انھیں لوگوں کی نمازقبول ہوگی جونمازکو پورے آداب شرائط کے ساتھ انجام دیتے ہیں،وہ لوگ جو نماز کو اس کے تمام آداب و شرائط کی رعایت کے ساتھ انجام دیتے ہیں توان کی یہ صحیح اورمکمل نماز بقیہ دوسرے انجام دئے گئے واجبات کے قبول ہونے کاسبب واقع ہوگی اوروہ لوگسعادتمند محسوب ہونگے لیکن وہ لوگ جونمازکواس کے پورے آداب وشرایط کے ساتھ انجام نہ دیتے ہیں تو وہ بدبخت اور بدنصیب شمارہونگے ۔قال صادق علیه السلام :اوّل مایحاسب به العبد،الصلاة،فاذاقبلت قبل منه سائرعمله واذاردت علیه ردعلیه سائرعمله .(۲)

امام صادق فرماتے ہیں:روزقیامت سب سے پہلاسوال نمازکے بارے میں کیاجائے جن لوگوں کی نمازقبول ہوگی ان کے دوسرے اعمال بھی قبول ہونگے اورجن کی نمازقبول نہیں ہوگی ان بقیہ اعمال بھی قبول نہیں ہونگے ۔

____________________

. ۱) ثواب الاعمال وعقاب الاعمال/ص ٢٣٠

.۲)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٠٨

۲۵۰

قال رسول الله صلی الله علیه وآله:لکل شی ؤجه ووجه دینکم الصلاة فلایشیئنّ احدکم وجه دینه .(۱)

نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :ہر چیز کے لئے ایک چہرہ ہو تا ہے جو اس کی اصل وحقیقت کوبیان کرتا ہے اور نماز تمھارے دین کاچہرہ ہے ، ہر شخص پر واجب ہے کہ اپنے دین کی شکل و صورت کو نہ بگاڑےدین اسلام بھی انسان کی طرح اپنے جسم میں اعضاء جوارح رکھتاہے ،جس طرح انسان اپنے جسم میں ہاتھ ،پیر،آنکھ ناک ،کان رکھتاہے اسی طرح دین اسلام بھی رکھتاہے انسان کے جسم کاارجمندترین حصہ اس کاسرہے اورسرکابہترین حصہ انسان کاچہرہ ہے کیونکہ چہرہ میں حساس اعضاء پا ئے جاتے ہیں : جیسے آنکھ، کان ،ناک ، زبان ، دانت وغیرہ اسی طرح دین اسلام کے اعضا میں نمازمقدس ترین حصہ ہے جسے پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله) نے دین اسلام کاچہرہ قراردیاہے اورنمازکودین اسلام کاچہرہ قراردئے جانے کارازیہ ہے کہ انسان کا بدن چہرے کی خوبصورتی کی وجہ سے خوشنما معلوم ہو تاہے اگر کسی کا چہرہ خوبصورت نہیں ہے تو اسے حسین نہیں کہا جاتا ہے ،جس طرح بدن کی خوبصورتی چہرہ سے تعلق رکھتی ہے اسی طرح دین اسلام بھی نمازسے تعلق رکھتاہے ،اگر نماز میں حُسن وکمال پایا جا تا ہے تو دین بھی حسین وخو بصورت معلوم ہو تا ہے ۔ مثال کے طورپراگرہم خلوص کے ساتھ کسی شخص کے دیداروملاقات کے لئے اس کے گھرجاتے ہیں تو وہ پہلے ہمارے چہرہ پرنگاہ ڈالتاہے ،اگرہمارے چہرے چہرے کے تمام اعضاء صحیح و سالم ہوں ، اور دونوں اَبرو آپس میں پیوستہ ہوں ،آنکھوں میں کشش پائی جاتی ہو، ناک حالت زیبائی رکھتی ہو ،ہونٹوں پرکلیوں کی طرح مسکراہٹ ہو،دانت صدف کے ماننددرخشاں ہوں پیشانی پر نور خشاں ہو یقیناً ایساچہرہ مکمل زیبا اورباعث اشتیاق ہو گااوروہ شخص ہمارے اس چہرے کودیکھ کر خوشحال ہو جا ئے گااورعطوفت ومہربانی کااظہارکرے گا،ہمیں اپنے قریب میں جگہ دے گا،ہم سے میٹھی اورنرم باتیں کرے گا لیکن اگرہمارے چہرے بگڑے ہوئے ہوں، پیشانی کے تیورچڑھے ہوں ، چہرے پرکمال درخشندگی نہ ہو،ابروکے بال بالکل صاف ہوں ، آنکھیں غضبناک ہوں، ناک پرورم آگیا ہو ،ہو نٹ زخمی ہوں ، دانت گر چکے ہیں(یقیناًایسا چہرے کودیکھ دل میں نفرت پیداہوجاتی ہے) تو ہمیں اس طرح دیکھ کراس کے تیوربھی چڑھ جائیں گے ،اب وہ اپنے بٹھاناتو دورکی بات اپنے دربارمیں کھڑے ہونے کی مہلت بھی نہیں دے گااورہمیںفوراً اپنے دربارسے باہرنکال دے گااورسزابھی سنائے گا

____________________

. ١)کافی /ج ٣/ص ٢٧٠ ۔تہذیب الاحکام/ج ٢/ص

۲۵۱

بس اسی طرح جب قیامت میں تمام لوگوں کوقبرسے بلندکیاجائے توسب پہلاسوال

نمازکے بارے جائے گا،جن ہم سے لوگوں نے دنیامیں نمازیں نہیں پڑھی ہونگی انھیں واصل جہنم کردے گااورجن لوگوں نے نمازیں پڑھی ہونگی ان کی نمازوں کودیکھاجائے گا اگرہماری وہ نمازیں اس کے معیارکے مطابق ہونگی اورپروردگار خوشنودی کا سبب واقع ہو نگی تو وہ ہم پراپنا رحم وکرم کرے گااورہمیں جنت عطاکرے گالیکن اگر خدا وندعالم ہماری نمازوں سے ناراض ہوگیا تو ہم اس کی رحمت ومغفرت سے محروم ہو جائیں گے اور ہماری بقیہ دوسری عبادتیں ہمیں کوئی نفع نہیں پہنچائیں گی۔

جس طرح انسان کاچہرہ اعضاء رکھتاہے اوراعضائے چہرہ کی وجہ سے خوبصورت معلوم ہوتاہے اسی طرح نمازجودین اسلام کاچہرہ ہے اس کے بھی اعضاء ہیں وہ بھی اپنے چہرے پر آنکھ ناک ، کان ،دانت وغیرہ رکھتی ہے اگروہ سب اعضامناسب ہوں توالله تبارک تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کاسبب ہوتے ہے ،خضوع وخشوع ،حضورقلب ،ارکان نماز(نیت ،تکبیر ة الاحرام ،قیام ، قرئت ،ذکر، رکوع، سجوداور تشہدوسلام )اور مستحبات نماز اعضاء وجوارح کا حکم رکھتے ہیں، اگرنمازکاچہرہ خوبصورت ہے اوراس کے تمام اعضاء صحیح و کامل ہیں یعنی نمازکوخضوع وخشوع، حضورقلب اورارکان نمازکی رعایت کے ساتھ اداکیاہے تووہ خدا کی خوشنودی اور اس کی بارگاہ میں قبولیت کا سبب واقع ہو گی اور اگر نماز کی شکل و صورت بگڑی ہو ئی ہو اور ارکان نماز کو مکمل طور سے رعایت نہ کی گئی ہو تو یہ نماز خداکے غضبناک ہو نے کا سبب واقع ہوتی ہے اور خدا وندعالم ایسی نماز کی طرف کوئی توجہ نہیں کرے گا بلکہ ایسی نماز کو اسی نمازی کے منہ پر ماردے گا۔

یہ ممکن ہے کہ انسان کی نمازظاہری اعتبارسے بالکل صحیح ہواوراس میں کوئی کمی نہ ہو،روبقبلہ پڑھی گئی ہو،طمانینہ کی بھی رعایت کی گئی ہومگروہ بارگاہ خداوندی مقبول نہ کیونکہ ظاہری آداب کے لئے کچھ قلبی آداب بھی ہیں کہ جن کی رعایت کے سبب ہماری نمازیں بارگاہ خداوندی میں مقبول واقع ہوتی ہیں،اگرہماری نمازوں میں وہ شرائط موجودہیں توقبول واقع ہوسکتی ہیں اوران کے ذریعہ خداکا تقرب اوراس کی رضایت حاصل ہوسکتی ہے اوروہ شرائط یہ ہیں:

١۔حضورقلب

وہ الفاظ اورذکروتسبیح کہ جنھیں نمازگزار اپنے زبان سے اداکررہاہے اگرانھیں سے دل بھی کہے اوران کے معنی ومفہوم کوذہن میں رکھنے کے ساتھ زبان پرجاری کرے اوراپنی نمازسے بالکل غافل نہ ہواوراس طرح خداکی طرف متوجہ ہوگیاہوکہ وہ یہ بھی نہ جانتاہوکہ میرے برابرمیں کون ہے اورکیاکررہاہے

۲۵۲

تو اسے حضورقلب کہاجاتاہے۔ نمازی کے لئے ضروری ہے کہ نمازکی حالت میں اس کے تمام اعضاء وجوارح اور دل ودماغ سب کچھ خداکی طرف ہواس کے دل میں خداکاعشق اوراس سے ہمکلام ہونے کاشوق ہو،سستی اورکسلمندی نہ پائی جاتی ہوعبادت میں لذت محسوس کرتاہوکیونکہ جس مقدارمیں نمازی کادل خداکی طرف متوجہ رہے گااسی مقداراس کی نمازبارگاہ خداوندی میں باعث قبول ہوگی ،اگرعبادت کی حالت میں نمازی کادل دنیاکی طرف مبذول ہوتواس کی وہ عبادت کی کوئی حقیقت نہیں رکھتی ہے اور ہر نمازی حضو ر قلب وخوف خداکے اعتبار سے اجر وثواب حاصل کرتا ہے جو نمازی اپنے دل خت نازیادہ خوف خدا رکھتا ہے اسی مقدار میںثواب ونعمت حاصل کرتا ہے کیونکہ خدا وند متعال نمازگزار کے قلب پر نگاہ رکھتا ہے نہ اسکی ظاہری حر کتوں پر، روزقیامت صرف وہی نمازوعبادت کام آئے گی جوسچے دل سے انجام دی گئی ہو ۔( وَ لِکُلِّ دَرَ جٰا تٌ مِمَّا عَمِلوُاوَمَارَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمّایَعْمَلُونَ ) (۱) بے شک ہر ایک شخص کے لئے اسکے اعمال کے مطابق درجات ہیں اورجوکچھ تم انجام دیتے ہوتمھاراپروردگارہرگزاس سے غافل نہیں ہے( یَوْمٌ لایَنْفَعُ مَالٌ وَلابَنُونَ، اِلَّاْ مَنْ اَتَی الله بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (۲) روزقیامت نہ مال کام آئے اورنہ اولاد ،فقط وہی لوگ نجات پائیں گے جو قلب سلیم کے ساتھ بارگاہ باری تعالیٰ میں حاضر ہوتے ہیں ۔

بعض نماز یں ایسی ہیں جو آدھی قبول ہوتی ہیں اور بعض ایسی ہیں جو ایک سوم یا ایک چہارم ،ایک پنجم یا ایک دہم قبول ہوتی ہیں اور بعض نماز یں ایسی ہیں جو ایک بوسیدہ کپڑے میں لپیٹ کر اس نمازی کے منہ پر مار دی جاتی ہیں اور اس سے کہا جاتا ہے یہ تیری نماز تجھے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی ہے فقط وہی نماز تیرے کام آسکتی ہے جنھیں توحضور قلب کے ساتھ انجام دیتاہے ۔(۳)

٢۔خضوع وخشوع

( قَدْ اَ فْلَحَ المُو مِنُونَ الَّذِ یْنَ هُمْ فِی صَلاٰ تِهِمْ خٰشِعُونَ ) (۴) یقیناً صاحبانِ ایمان کا میاب ہوگئے جو اپنی نمازوں میں خشوع وحضورقلب رکھتے ہیں۔

____________________

. ۱)سورہ أنعام /آیت ١٣٢

. ٢)سورہ شٔعراء /آیت ٨٨ ۔ ٨٩

۳). بحارالانوار/ج ٨١ /ص ٢۶١

. ۴)سورہ مٔومنون/آیت ١۔ ٢

۲۵۳

نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :جب تم نمازپڑھوتوخضوع اور حضور قلب رکھاکروکیونکہ خداوندعالم قرآن کریم ارشادفرماتاہے:( اَلَّذِینَ هُمْ فی صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ ) ۔ روزقیامت وہی لوگ نجات پائیں گے جواپنی نمازوں میں حضورقلب اورخضوع وخشوع رکھتے ہیں۔(۱)

اعضاء وجوارح اوربدن میں نشاط پائے جانے اورجسم پرخوف خداکے آثارنمایاں ہونے کوخضوع خشوع کہاجاتاہے

ایک شخص نے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سے خشوع کے معنی معلوم کئے توآپ نے فرمایا: نمازی کوچاہئے کہ اپنے اعضاء وجوارح بھی نماز میں شامل کرے اوراپنے دائیں بائیں جانب نگاہ نہ کرے ،ہاتھ پیرنہ ہلائے ،روایت میں آیاہے کہ ایک دن رسول خدا (صلی الله علیه و آله) نے ایک شخص کودیکھا کہ وہ نماز پڑھتے ہو ئے اپنی ڈاڈھی سے کھیل رہا ہے ، آپ نے فرمایا:

لوخشع قلبه لخشعت جوارحه ” اگر اس نماز ی کا دل خضوع وخشوع رکھتا ہے تو اُس کے اعضاء وجوارح کو بھی خاشع و خاضع ہو نا چا ہئے ۔(۲)

خشو ع یعنی نماز میں تواضع کا استعمال کرنا اورکسی بندہ کا پورے دل اورنشاط کے ساتھ کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرنے کوخشوع کہاجاتاہے(۳)

فقہ الّرضا میں منقول ہے کہ امام علی رضا فرماتے ہیں : جب تم نماز کے لئے قیام کرو تو اپنے آپ کو کھیل کو داور خواب وکسالت سے دورکرلیاکرواوروقارو سکون قلب کے ساتھ نماز ادا کیا کرواورتم پرلازم ہے کہ نماز میں خضوع وخشوع کی حالت بنائے رکھو، خدا کے لئے تواضع کرو،اپنے جسم پرخوف وخشوع کی حالت طاری رکھو اور اپنی حالت ایسی بناؤ جیسے کوئی فراری اور گنا ہگا ر غلام اپنے مولا وآقا کی خدمت میں آکر کھڑاہو جاتا ہے اور اپنے دو پیروں کے درمیان (چار انگلیوں کے برابر) فاصلہ دیا کرو ، بالکل سیدھے کھڑ ے ہو اکرو ، دائیں بائیں چہرے کو نہ گھمایاکرو اور یہ سمجھوکہ گویا خدا سے ملاقات کررہے ہو ،اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہومگر وہ توتمھیں دیکھ رہا ہے۔(۴)

____________________

. ۱)وسائل الشیعہ/ج ۴/ص ۶٨۵

۲). بحارالانوار/ج ٨١ /ص ٢۶١

۳). مستدرک الوسائل /ج ۴/ص ١٠٣

۴). فقہ الرضا/ص ١٠١

۲۵۴

عن النبی صلیه الله علیه وآله :لاصلاة لمن لایتخشع فی قلبه . نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جس نمازی کے دل میں خشوع نہیں پایاجاتاہے اسکی نمازقبول نہیں ہے۔(۱)

نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جس نمازی کے دل میں خشوع نہیں پایاجاتاہے اسکی نمازقبول نہیں ہے۔(۲)

حضرت امام صادق فرماتے ہیں : خدا ئے عزوجل نے حضرت موسیٰپر وحی نازل کی : اے موسیٰ ! کیا تم جانتے ہو ، میں نے پوری مخلوق سے صرف تم ہی کو اپنے سے ہمکلام ہونے کے لئے کیوں منتخب کیا ہے ؟ عرض کیا : پرو درگار ا ! تو نے مجھ ہی کو کیوں منتخب کیا ہے ؟ خدا نے کہا : اے موسیٰ ! میں نے اپنے تمام بندوں پر نظر ڈالی لیکن تمھارے علاوہ کسی بھی بندے کو تجھ سے زیادہ متواضع نہ پایا ، کیونکہ اے موسیٰ ! جب تم نماز پڑھتے ہو تو اپنے چہرے کو خاک پر رکھتے ہو۔(۳)

خدا وند متعا ل نے حضرت داو دٔپروحی نازل کی :اے داو دٔ!بہت سے نماز ی ایسے ہیں جو اپنی نماز وں میں خضوع وخشوع رکھتے ہیں اورگر یہ وزاری کرتے ہیں اور رکعتوں کوطول دیتے ہیں ،ان کی یہ طولانی رکعتیں میرے نزد یک ایک فتیلہ(۴) کی بھی قیمت نہیں رکھتی ہیں کیو نکہ جب میں ان کے قلوب پر نگا ہ کر تا ہو ں دیکھتا ہوں کہ ان کے دل ایسے ہیں کہ اگر نماز سے فراغت پا نے کے بعد کو ئی عورت ت نہائی میں ان سے ملاقات کر ے اوراپنے آپ کو اس نمازی کے حوالے کر دے تو وہ اس عورت پر فر یفتہ ہوجائیں گے اور گنا ہ کبیرہ کا مرتکب ہوجائیں گے اوراگرکسی مومن سے کوئی معاملہ کریں تواس کے ساتھ دھو کااورخیانت کریں گے۔(۵)

____________________

.۱) میزان الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٢

. ۲)میزان الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٢

۳). / من لایحضرہ الفقیہ /ج ٣٣٢

۴)لغت عرب میں فتیلہ اس باریک دھاگے کوکہاجاتاہے جوخرماکی گٹھلی کے درمیان پایاجاتاہے.

. ۵)بحارالانوار/ج ١۴ /ص ۴٣

۲۵۵

معصومین اورحضورقلب وخشوع

جب آپ حضورقلب ،خضوع وخشوع کے معنی ومفہوم اوران کی اہمیت سے آگاہ ہوگئے تواسی جگہ پران روایتوں کوبھی ذکرکردینامناسب ہے کہ جن میں معصومین کی طرزنمازاوران کے اخلاص وحضورقلب اورخضوع وخشوع کوذکرکیاگیاہے اوروہ احادیث یہ ہیں: نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے بارے میں آیاہے:

کان النبی صلی الله علیه واله:اذاقام الی الصلاة تربد وجهه خوفامن الله تعالیٰ (۱) جس وقت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نمازکے لئے قیام کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ متغیرہوجاتاتھا۔

ان النبی صلی الله علیه واله:کان اذاقام الی الصلاة کانّه ثوب ملقی (۲) جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نمازمیں مشغول ہوتے تھے توایسے نظرآتے تھے جیسے گوشہ میں کوئی کپڑاپڑارہتاہے۔

امام علی بن ابی طالب +کے بارے میں روایتوں میں ملتاہے کہ آپ نمازمیں اس قدرحضورقلب اورخضوع وخشوع رکھتے تھے کہ ایک جنگ کے دوران آپ کے پائے مبارک میں تیر پیوست ہوگیا تھااور لوگوں نے تیر کو نکالنے کی کوشش کی مگر تیر ہڈّی میں اس طرح پیوست ہوگیاتھا کہ گوشت وپوست کے کاٹے بغیر تیرکانکالنامحال تھا ،لہٰذا آپ کے فرزندوں نے کہا: اگریہی صورتحال ہے تو صبرکیا جائے اورجب امام (علیه السلام)نمازمیں مشغول ہوجائیں توپائے مبارک سے آسانی سے تیر نکالاجاسکتاہے اورآپ کوخبربھی نہیں ہوگی جب امام (علیه السلام) نماز میں مشغول ہوئے ،توطبیب نے گوشت وپوست کوکاٹ کر یہاں تک کہ ہڈّی کو توڑکر تیرنکالا اورزخم پرمرہم لگاکر پٹّی باندھی ،جب امام(علیه السلام) نماز سے فارغ ہوئے توفرمایاکہ :میرے پیر میں تیرپیوست ہے مگر اسوقت پیر میں کوئی دردوتکلیف محسوس نہیں ہورہی ہے ؟سب نے کہا:نماز کی حالت میں آپ کے پیر سے گوشت وپوست کو کاٹ کر تیر نکالیا گیا، اور آپ کو محسوس بھی نہ ہوا امام (علیه السلام)نے فرمایا : جب میں ذکرویادالٰہی میں مشغول رہتاہوں اگردنیا بھی زیروزبر ہوجائے یا میرے بدن میں تیغ وتبر بھی مارے جائیں تومجھے اپنے پروردگار سے مناجات کی لذت میں کی وجہ سے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوگی۔

____________________

. ۱)میزان الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٣

٢)فلاح السائل/ص ١۶١

۲۵۶

فلاح السائل میں نقل کیاگیاہے کہ حضرت علیجب نمازکے لئے قیام کرتھے تو آیہ مبارکہ( اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِی لِلَّذِی فَطَرَالسَّمَوٰاتِ وَالْاَرْض وَمَااَنَامِنَ المُشْرکِین ) (۱) (میرارختمامتراس خداکی طرف ہے جس نے آسمانوں کوپیداکیاہے اورمیں باطل سے کنارہ کش ہوں اورمشرکین ) میں سے نہیں ہوںاورزمین کی تلاوت کرتے تھے اورآپ کے چہرہ کارنگ متغیرہوجاتاتھا۔(۲)

امام علیجب نمازپڑھتے تھے توآپ سیدھے ستون کی مانندنظرآتے تھے اوربالکل بھی حرکت نہیں کرتھے اوررکوع وسجودکی حالت میں آپ کے جسم پر پرندہ بھی آکربیٹھ جاتاتھااورامام علی (علیه السلام) وامام زین العابدین +کے علاوہ کوئی بھی رسول اکرم کی حالت نمازکاانعکاس نہیں کرسکتاتھا۔(۳)

امیرالمومنین حضرت علی جس وقت آپ نماز کے لئے قیام کرناچاہتے تھے توخوف خدا میں پورابدن کا نپ جاتاتھااورچہر ے کا رنگ متغیرہوجاتاتھا اور کہتے تھے : بارالٰہا! اس امانت کے ادا کرنے کا وقت آگیاہے ، جس کو سات زمین وآسمان عرضہ کیاگیا اور وہ اس کے تحمل کی قوت نہیں رکھتے تھے۔(۴)

روایت میں آیاہے کہ: ایک شخص نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی خدمت آیااورآپ کی خدمت میں دواونٹ بطورہدیہ پیشکئے ، آنحضرت نے فرمایا: من صلی رکعتین ولم یحدث فیہما نفسہ من امورالدنیاغفراللھلہ ذنبہ. جو شخص دورکعت نماز اس طرح پڑھے کہ نماز کسی بھی دنیاوی چیز کی طرف توجہ پیدانہ کرے تو میں ان میں سے ایک اونٹ اسے عطا کردوں گا ،علی ابن ابی طالب+کے علاوہ کوئی بھی شخص آنحضرت کی اس درخواست پرعمل کرنے کوتیارنہ ہوااور رسول خدا (صلی الله علیه و آله) نے دونوں اونٹو ں کو حضرت علی کو عطا کر دئے۔(۵)

حضرت فاطمہ زہرا کے نمازمیں حضورقلب اورخضوع وخشوع کے بارے میں روایتوں میں آیاہے:

کانت فاطمة سلام الله علیهات نهج فی الصلاة فی خیفة الله تبارک وتعالی حضرت فاطمہ زہرا نماز کی حالت میں خوف خدا میں اس طرح لرزتی تھیں کہ آپ پر ) جاں کنی کی حالت طاری ہو جاتی تھی(۶)

____________________

١)سورہ أنعام /آیت ٧٩

. ٢)فلاح السائل /ص ١٠١

۳). دعا‏‏ئم الاسلام /ج ١/ص ١۵٩

۴). میزان الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٣

۵). میزا ن الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٨

۶)بحارالانوار/ج ٧٠ /ص ۴٠٠

۲۵۷

رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : میری لخت جگرحضرت فاطمہ دونوں جہاں گذشتہ اورآئندہ کی عورتوں کی سردار ہیں ، وہ جسوقت محراب عبادت میں اپنے پروردگارکے سامنے کھڑی ہوتی ہیں تو آپ کے چہرہ سے ایک نورساطع ہوتاہے وہ نور آسمان کے ملائکہ کے لئے اسی طرح درخشاں ہو تا ہے جیسے اہل زمین کے لئے ستاروں کا نور چمکتا ہے ،جب یہ نورساطع ہوتاہے توخدا وندعالم اپنے فرشتوں سے کہتاہے : اے میرے فرشتوں!تم ذرا میرے حبیب کی لخت جگرپر نگاہ ڈالو ، میری کنیز وں کی سردار میرے پاس کھڑی ہے اور میرے خوف سے اس کے تمام اعضاء وجوارح لرزرہے ہیں اور خلوص دل سے میری عبادت کررہی ہے ، میں تم فرشتوں کو شاہد قرار دیتا ہوں کہ میں نے ان ) کے تمام شیعوں پر آتشجہنم کو حرام قرار دیتا ہوں۔(۱)

امام زین العابدین کے نمازمیں حضورقلب اورخضوع وخشوع کے بارے میں چندروایت ذکرہیں:

قال مولاناالصادق علیه السلام :کان علی بن الحسین علیه السلام اذاحضرت الصلاة اِقشعرّجلده ، واصفرّلونه وارتعدکالسعفة .(۲) امام صادق فرماتے ہیں:جب علی ابن الحسین +نمازکے لئے قیام کرتے تھے تو(خوف خدامیں)بدن کے بال کھڑے ہوجاتے تھے اوررنگ پیلاہوجاتھا اورخرمے کے سوکھے ہوئے درخت کے مانندلرزتے رہتے تھے ۔

عن ابی عبدالله علیه السلام قال :کان علی بن الحسین علیه السلام صلوات الله علیهمااذ اقام فی الصلاة کانه ساق شجرة لایتحرک منه شی ألاماحرکه الریح منه .( ۳) امام صادق فرماتے ہیں:جب علی ابن الحسین +نمازکے لئے قیام کرتے تھے تو(خوف خدامیں) اس ساقہ دٔرخت کے مانندکھڑے رہتے تھے کہ جس کی کوئی چیزحرکت نہیں کرتی تھی مگروہی کہ جوہواکی وجہ سے ہلتی تھی ۔

ایک روایت میں آیاہے کہ ایک دن حضرت امام زین العابدینکے گھرمیں اگ لگ گئی اورآپ اس وقت نمازمیں اس طرح مشغول تھے کہ آپ کوگ لگنے کااحساس بھی نہ ہوا،جب نمازسے فارغ ہوئے توآپ کوگھر میں آگ لگ جانے کی اطلاع دی گئی توامام (علیه السلام)نے فرمایا:آتش جہنم کی یادنے مجھے اس دنیاوی آگ سے بالکل بے خبرکردیاتھا۔(۴)

____________________

۱)بحارالانوار/ج ٧٠ /ص ۴٠٠.

۲)مستدرک الوسائل /ج ۴/ص ٩٣

۳)کافی /ج ٣٠٠.

۴). تحلیلی اززندگانی امام سجاد/ج ١/ص ٢٨٧

۲۵۸

اوردوسری روایت میں آیاہے کہ امام زین العابدین کے بچے اس انتظارمیں رہتے تھے کہ امام (علیه السلام) کب نماز شروع کرتے ہیں تاکہ ہم پورے شوروغل کے ساتھ کھیل کود کرسکیں، بچےّ آپس میں کہتے تھے کہ جب امام (علیه السلام) نماز میں مشغول ہوجاتے ہیں توخداکی یاد میں اس طرح غرق ہوجا تے ہیں کہ انھیں ہماری طرف کوئی دھیان نہیں رہتا ہے ، چاہے ہم کت ناہی زیادہ شوروغل مچائیں۔(۱)

ابو حمزہ ثمالی سے روایت ہے کہ : میں نے حضرت امام سجاد کو نماز کی حالت میں دیکھا کہ آپ کی عباء دوش مبارک سے نیچے گرگئی اور آپ نے کوئی تو جہ نہ کی ،جب آپ نمازسے فارغ ہوئے تومیں نے آپ سے پو چھا : نماز کی حالت میں آپ کی عبادوش سے نیچے گر گئی اور آپ نے کوئی توجہ بھی نہیں کی ؟ امام (علیه السلام)نے فرمایا: اے ابوحمزہ ثمالی ! کیا تم نہیں جانتے ہو میں کس کی بارگاہ میں کھڑاتھا ؟ بے شک بندے کی نماز الله کی بارگاہ میں اسی مقدارمیں قبول ہو تی ہے جس مقدار میں نمازی کادل اپنے رب کی طرف متوجہ ہو گا ۔(۲)

امام صادق کے نمازمیں حضورقلب اورخضوع وخشوع کے بارے میں روایتوں میں آیاہے: حضرت امام جعفر صادق کے ایک صحابی“حمّادبن عیسیٰ ”سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : ایک دن امام (علیه السلام) نے مجھ سے پوچھا: اے حماد!تم نمازکس طرح پڑھتے ہواورکیااسے پورے آداب وشرائط کے اداکرتے ہو؟ میں نے کہا : اے میرے مولاو آقا ! میں“ حریزبن عبدالله سجستانی ”کی لکھی ہوئی کتاب نمازپڑھتاہوں

امام (علیه السلام)نے فرمایا : یہ کافی نہیں ہے بلکہ تم ابھی اٹھواور میرے سامنے دورکعت نماز پڑھو

حمّاد کہتے ہیں :میں نے امام (علیه السلام) کی فرمائش پر عمل کیا اورامام (علیه السلام)کے حضور میں روبقبلہ کھڑے ہوکر نماز شروع کی ، رکوع وسجود کو انجام دیا اور نماز کو تمام کیا

امام (علیه السلام)نے فرمایا :اے حماد!تم نے نمازاس کے آداب وشرائط کے مطابق نہیں پڑھی ہے اور تعجب ہے کہ تمہاری عمرساٹھ یا ستّر سال ہو گئی ہے اور تم صحیح و مکمل طور سے نماز نہیں پڑھ سکتے ہو!

____________________

۱). ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ٢١٨ /ص ۶٨

۲) تحلیلی اززندگانی مام سجاد/ج ١/ص ٢٨٧

۲۵۹

حمّاد کہتے ہیں : میں امام (علیه السلام)کی یہ باتیں سنکر بہت ہی شرمندہ ہوا اور میں نے امام (علیه السلام)سے عرض کیا : اے میرے مولا آپ پرقربان جاؤں آپ مجھے صحیح اورمکمل نماز کی تعلیم دیجئے

امام صادق اپنی جگہ سے بلند ہوئے اور روبقبلہ کھڑے ہوئے دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو آپس میں چسپاں کیا اور دستہائے مبارک کومرتب طریقہ سے ران پر رکھا ،دونوں کے درمیا ن چار انگلی کے برابر فاصلہ دیا اور پیروں کی انگلیوں کو روبقیلہ قرار دیا اور خضوع وخشوع کے “الله اکبر”کہہ کر نمازکاآغازکیا،سورئہ حمد و سورئہ“( قُلْ هَوَا لله اَحَد ) ”کو سکون واطمینان کے ساتھ قرائت کیا پھرایک سانس کے برابر صبر کیا اور حرکت کئے بغیر“الله اکبر”کہا ،اسکے بعد رکوع میں گئے ،

رکوع کی حالت میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو زانوپر رکھا اوردونوں زانوبالکل سیدھے تھے اور کمراس طرح سیدھی تھی کہ اگر کمر پر کوئی قطرئہ آب یا روغن گر جاتا تو وہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹ سکتا تھا اور رکوع میں گردن کو سیدھا رکھا اور آنکھیں بند کر کے تین مرتبہ “سبحان الله”کہا : اسکے بعد“سبحان ربی العظیم و بحمدہ ”کہا ،پھررکوع سے بلند ہو ئے اور اطمینان کے ساتھ “سَمِعَ الله لِمَن حَمِدَہ ” کہا اور دونوں ہاتھوں کو کانوں تک لاکر “الله اکبر ”کہا ،پھر سجد ے میں گئے اور دونوں زانوں کو زمین پر رکھنے سے پہلے دونوں ہا تھوں کو زمین پر رکھا اور سجدے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ بدن کا کوئی حصّہ آپس میں چسپاں نہیں تھا اور آٹھ اعضاء بدن ( پیشانی ،دونوں ہاتھ کی ہتھیلی ،دونوں زانو کے سرے ، دونوں پیرکے انگوٹھے اور ناک کی نوک) کو زمین پر رکھے ہو ئے تھے ، ناک کی نوک کو زمین پر رکھنا مستحب ہے اور بقیہ چیزیں واجب ہیں آپ نے سجدے میں تین مرتبہ “سُبَحَانَ رَبِّیَ الْاَعَلیٰ وبَحَمْدِهِ ”کہا اور سجدے سے سرکو بلند کیا “الله اکبر ”کہا اور بائیں پیرپرزور دیکر بیٹھے اور“اُسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّیْ وَاَ تُوبُ اِلَیهْ ”کہا اور “ا لله اکبر ”کہنے کے بعد دوسرے سجدے میں گئے اور پہلے سجدے کی طرح دوسرا سجدہ کیا اور سجدے میں کہنیوں کو زمین پر قرار نہیں دیا اور اسی طرح دوسری رکعت پڑھ کرنمازکو تشہدوسلام کے ساتھ تمام کیا ، اور نماز کے بعد فرمایا: اے حمّاد ! نماز پڑھنے کا یہی طریقہ ہے جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ، پس نماز کی حالت میں ہاتھ، پاؤں ، ڈاڑھی و غیرہ سے کھیل نہ کرو ، اپنی انگلیوں سے بھی کھیل نہ کرو ،اپنے دائیں بائیں نگاہ نہ کرو اور قبلہ کی سمت بھی نگاہ نہ کرو کیونکہ ان کاموں کی وجہ سے نماز میں خضوع وخشوع نہیں پایا جاتا ہے اورجونمازی کے حواس اڑجانے کا سبب واقع ہو تے ہیں

۲۶۰

اوردوسری روایت میں آیاہے کہ حضر ت امام مو سیٰ کاظم بچپن میں اپنے وا لد ماجدحضرت امام جعفر صادق کے حضور میں نما ز اداکررہے تھے کہ اس وقت شہر کا ایک متفکراوردانشمند شخص امام (علیه السلام)کی خدمت میں موجود تھا ،اس نے دیکھاکہ یہ فرزند کھُلے ہو ئے درازہ کے سا منے کھڑے ہوکرنماز پٹرھ رہا ہے جو کہ مکر وہ ہے لہٰذاامام صادق سے کہا:آپ کا یہ فرزند کھُلے دروازہ کے سامنے نماز کیو ں پٹرھ رہا ہے ؟ امام (علیه السلام) نے فرمایا : بہتر ہے کہ آپ اپنے اس سوال کا جواب خود بچّے سے معلوم کریں ! اس عا لم ومتفکر نے بچے کی جانب رخ کیا اور پو چھا ! تم کھُلے دروازے کے سا منے نماز کیوں پٹرھ رہے ہو ؟کمسن بچے(امام کا ظم ) نے جواب دیا :وہ ذات کہ جسکی طرف میں نماز پٹرھتا ہوں وہ اسی درواز ہ سے مجھ سے بہت زیا دہ قریب ہے ۔(۱)

٣۔ایمان

دریامیں کشتی اسی وقت حرکت کرسکتی ہے جبکہ اسے پانی میں مسقرکیاجائے لہٰذاکشتی کوحرکت کرنے کے لئے پانی کی ضرورت ہے ،اگراسے کسی خشک زمین پررکھاجائے تووہ خشکی میں ذرّہ برابر حرکت نہیں کر سکتی ہے، نماز بھی کشتی کے مانند ہے ،نمازی کوچاہئے کہ وہ اللھورسول ،قرآن اورغیب پرایمان رکھتاہو تاکہ اس کی کشتی حرکت کر سکے اوراسے دریاکے دوسری طرف ساحل تک پہنچاسکے،جب تک اس کی نماز اللھورسول ،قرآن ،معاداورغیب پرایمان کے دریامیں قرارنہ پائے اس وقت تک اس کابارگاہ خداوندی میں قبول ہوناغیرممکن ہے۔

اگر دریامیں کشتی کی حرکت کے لئے پانی موجودنہیں ہے توکشتی کے وجودکاکوئی فائدہ نہیں ہے اسی طرح اگرنمازگزارخداورسول ،قرآن ،معاداورغیب پرایمان نہیں رکھتاہے تواس کی وہ نماز کسی بھی کام کی نہیں ہے اورہرگزقبول نہیں ہوسکتی ہے ۔ قرآن کریم کی چندآیتوں میں ایمان اورنمازکوایک ساتھ ذکرکیاگیاہے:

( اِنَّمَایَعْمرُمَسَاجِدَالله مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآ خَراَقَامَ الصَّلٰوةَ ) (۲) الله کی مسجدوں کو صرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا و آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جنھوں نے نماز قائم کی ہے ۔

( وَالمُو مِنُونَ یُومِنُونَ بِمَا اُنْرِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَالَمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَالْمُوْتُوْنَ الزَّکٰوةَ ) وَالْمُوْمِنُوْنَ بَاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اُولٰئِکَ سَنُوتِیْهِمْ اَجْراًعَظِیْماً ) ( ۳)

____________________

۱). ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ١۶ /ص ١٢

۲)سورہ تٔوبہ/آیت ١٨

. ۳)سورہ نٔساء/آیت ١۶٢

۲۶۱

اے رسول !مومنین حضرات جوتم پر نازل ہوا ہے یا تم سے پہلے نازل ہو چکاہے ان سب پرایمان رکھتے ہیں اور نماز بھی برگزار کرتے ہیں اورہم عنقریب نماز قائم کر نے والے اور زکات دینے والے اور آخرت پر ایمان رکھنے والے لوگوں کو اجر عظیم عطاکریں گے۔( اَلَّذِیْنَ یُوْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَوَمَمّارَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُو نَ ) (۱) متقی وپر ہیز گا ر وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور پابندی سے پورے اہتمام کے ساتھ نماز اداکر تے ہیں اور ہم نے جوکچھ رزق ونعمت عطاکی ہیں ان میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔

امام علی ابن ابی طالب “ نہج البلاغہ ” میں نمازاورایمان کوخداسے تقرب حاصل کرنے کاذریعہ قراردیتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:انّ افضل ماتوسل به المتوسلوں الی اللهسبحانه وتعالیٰ ،الایمان به وبرسوله واقام الصلاة فانّهاالملة ۔(۲)

بے شک سب سے بہترین شی کٔہ جس کے ذریعہ خدا سے قربت حاصل کیا جاسکتا ہے وہ خدا ورسول پر ایمان رکھنا اور نماز کا قائم کرناہے جو کہ دین کا ستون ہے۔

۴ ۔دلایت

نمازقبول ہونے کی سب سے اہم شرط یہ کہ نمازگزاراپنے دل میں پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کے علاوہ ان کی آل اطہارکی بھی محبت رکھتاہواوران کے دشمن سے بیزاری بھی کرتاہو،الله کی بارگاہ میں صرف انھیں لوگوں کی نمازقبول ہوتی ہے جوآ ل محمدکی محبت ومودت کے ساتھ نمازاداکرتے ہیں اوراپنے دلوں میں ال رسول کی محبت کاچراغ روشن رکھتے ہیں لیکن اگران کی محبت کاچراغ دل میں روشن نہیں ہے تووہ عبادت بے کارہے اورالله کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتی ہے،نمازو عبادت اسی وقت فائدہ مندواقع ہوسکتی ہے جب نمازکواہلبیت کی محبت و معرفت اوران کی اطاعت وولایت کے زیرسایہ انجام دیاجائے ،اہلبیت کی محبت وولایت کے بغیرسب نمازیں بےکارہیں۔

وہ نمازجواس کے تمام ظاہری آداب شرائط کے ساتھ انجام دی گئی ہو،قبلہ کی سمت رخ کرکے پڑھی گئی ہو،حمدوسورہ قرائت بھی صحیح طرح کی گئی ہو،رکوع وسجودمیں طمانینہ کابھی خیال رکھاگیاہواوردیگرشرائط کوبھی ملحوظ خاطررکھاگیاہویہاں تک خدارسول پرایمان کے ساتھ انجام دی گئی ہو،نمازپڑھنے والامتقی وپرہیزگاربھی ہومگردل میں آل رسول کی محبت نہ پائی جاتی ہوتوہرگزقبول نہیں ہوتی ہے

____________________

. ۱) سورئہ بقرہ آیت ٣

۲)نہج البلاغہ /خطبہ ١١٠

۲۶۲

مثال کے طور پر: اگرپولیس والاکسی ڈرائیورسے ڈرائیوری کارٹ طلب کرے لیکن اس ڈرائیورکے پاس ڈرائیوری کارٹ موجودنہ ہوتو وہ پولیس والااسے آگے جانے دے گااورسزاکامستحق قراردے گا،چاہے ڈارئیورلاکھ کہے :جناب پولیس !میں نے ڈرائیوری کے تمام قوانین کی رعایت کی ہے اورکسی طرح کی کوئی غلطی نہیں کی ہے ،میں اپنی لائن پرگاڑی چلارہاتھااورآپ کی یہ بات صحیح ہے کہ میرے پاس ڈرائیوری کارٹ نہیں لیکن میرے پاس شناختی کارٹ موجودہے،پاسپورٹ بھی موجودہے لہٰذاتم ان کاغذات کودیکھ کرمجھے آزادکردیجئے،مگروہ پولیس اس کی ایک بات بھی سنی گی اورکہے گاتھمارے یہ کاغذات یہاں پرکسی کام نہیں آسکتے ہیں مجھے صرف ڈرائیوری کارٹ چاہئے ،اگر تمھارے پاس نہیں ہے توتمھیں سزادی جائے اورآگے سزاملنے کے بعدنہیں جاسکتے ہو علامہ طباطبائی “ تفسیرالمیزان ”میں لکھتے ہیں :اہلبیت اطہار کی محبت وولایت کے بغیرنمازکاکوئی نہیں ہوتاہے اسی لئے ہم لوگ نمازسے پہلے اپنی اذان واقامت میں “اشهدانّ علیّاًولی الله ”اور قرائت نمازمیں( اِهْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم ) اور تشہدمیں درودشریف پڑھتے ہیں اورمحمدوآل محمدمحبت اوران کی ولایت کاثبوت پیش کرتے ہیں اور آئمہ اطہار کی امامت کااقرار کرتے ہیں

ہم لوگ سورہ حٔمدکی قرائت میں( اِهْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم ) کے یہ معنی مرادلیتے ہیں: بارا لہٰا ! تو ہم کو آئمہ کی راہ پرگا مزن رکھ اور ہمیں امامت کے پیرو کاراور دوستدا رولایت میں سے قرار دے اوراس بارے میں امام صادق فرماتے ہیں : صراط المستقیم سے مراد علی ابن ابی طالب ہیں اور حضرت امام سجاد فرماتے ہیں :“نحن صراط المستقیم ” ہم (آئمہ طا ) ہرین )صراط مستقیم ہیں۔(۱)

تفسیرنمازمیں لکھاہے:جنگ نہروان میں حضرت علی کے مقابلہ میں آنے والے سب لوگ(جنھیں تاریخ اسلام میں خوارج کے نام دیاگیاہے ) بے نمازی نہیں تھے بلکہ ان میں اکثرنمازی وروزے دارتھے اوران کی پیشانیوں پر مکرر اور طولانی سجدوں کی وجہ سے گٹھے پڑے ہو ئے تھے لیکن ان کے دل اہلبیت کی محبت سے خالی تھے اورولایت اہلبیت کے منکر تھے،ان لوگوں نے امام علی ابن ابی طالب کے مقا بلے میں قیام کیا اور آپ کی طرف تلوار یں چلائی(ان لوگوں کی نمازیں ہرگزقبول نہیں ہیں)(۲) ۔

اسی جنگ نہروان میں حضرت علینے جب یہ سناکہ دشمنوں میں ایک شخص ایسابھی ہے جوشب بیدار ی کرتا ہے رات بھر نماز یں پڑھتا ہے ، قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو آپ نے فرمایا:

نومٌ علیٰ یقین خیرٌمن صلاة فی شکّ (۳)

____________________

۱)تفسیرالمیزان /ج ١/ص ۴١

.۲)تفسیرنماز/ص ٣٩

. ۳)نہج البلاغہ /کلمات قصار/ش ٩٧ /ص ٣٧۶

۲۶۳

اس شخص کا یقین کے ساتھ سونا ان دو قلبی نمازیں پڑھنے سے بہتر ہے یعنی وہ شخص جو الله اوراس کے رسول کومانتاہومگردل میں آل سے دشمنی رکھتاہوتوخداوندعالم اس کی نمازہرگزقبول نہیں کرتاہے بلکہ ایسے شخص کارات میں نمازیں پڑھنے کے بجائے چین کی نیندسونابہترہے۔

جنگ صفین کے بارے تاریخ کے اوراق اٹھاکردیکھیں تویہی معلوم ہوگاکہ دشمنوں نے نیزوں پرقرآن بلندکررکھے اورناطق ومفسرقرآن سے جنگ کرنے آئے تھے ۔ کرب وبلاکی المناک تاریخ کودیکھیں تواس میں بھی ملے گاکہ جولوگ حضرت امام حسین اور ان کی اولاد واصحاب کو شہیدکرنے کے لئے کربلائے معلی میں یزیدی لشکرمیں موجودتھے وہ سب تارک الصلوة نہیں تھے بلکہ ان میں اکثرنمازی تھے اورجماعت کے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے،کیاان سب دشمنان اہلبیت کی نمازقبول ہے؟ہرگزنہیں قبول ہے۔ اہلبیت اطہار کی محبت کے بغیرنمازپڑھناایساہی ہے جیسے کوئی بغیرطہارت کے نمازپڑھتاہے ایک ایرانی شاعرکیاخوب کہاہے:

بہ منکر علی بگو نماز خو د قضاکند نمازبے ولائے اوعبادتی است بی وضو

علی (علیه السلام)کی ولایت سے انکارکرنے والے چاہئے کہ اہلبیت رسول کی ولایت کااقراکرتے ہوئے اپنی نمازی کی قضابجالائے کیونکہ علی کی ولایت کے بغیرنمازپڑھنابغیروضوکے نمازپڑھنے کے مانندہے جس طہارت کے بغیرنمازقبول نہیں ہوتی ہے اسی طرح آئمہ اطہار کی ولایت کے بغیربھی نمازقبول نہیں ہوتی ہے ،فقط وہی نمازقبول ہوتی ہے جسپراہلبیت (علیه السلام)کی ولایت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے ولایت اہلیت سے متعلق امام شافعی کاایک مشہور شعرہے:

یا آل رسول الله حبکم فرض من الله فی القرآن انزله کفاکم من عظیم القدرانّکم من لم یصل علیکم لاصلاة له

اے اہلبیت رسالت آپ کی محبت تواس قرآن میں واجب کی گئی ہے جس کوخدانے نازل فرمایاہے اور آپ کی قدرمنزلت کے بارے میں بس اتناجان لیناکافی ہے کہ جوتم پرنمازمیں ) درودنہ بھیجے اس کی نمازہی نہیں ہے ۔(۱)

ابوحازم سے مروی کہ ایک شخص نے حضرت امام زین العابدین سے معلوم کیا: وہ کو نسی چیز ہے جوبارگاہ رب العزت میں نماز کے قبول ہونے کا سبب واقع ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا :

ولایتناوالبرائة من اعدائنا ہماری ولایت ومحبت اور ہما رے دشمنوں سے اظہارنفرت وبیزاری بارگاہ خداوندی میں ) نمازوں کے قبول ہونے کاسبب واقع ہو تی ہے ۔(۲)

____________________

.۱)ینابیع المو دٔة /ج ٢/ص ٣۴٣ .(صواعق محرقہ باب/ ١١ فصل ١ (

۲)مناقب آل ابی طالب /ج ٣/ص ٢٧۴ (

۲۶۴

حضرت امام صادق اس قول خداوندی( اِلَیهِ یَصْعَدُالْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُه وَالَّذِیْنَ یَمْکُرُوْنَ السَیِّئَاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ) (۱) (پاکیزہ کلمات اسی کی طرف بلندہوتے ہیں اورعمل صالح انھیں بلندکرتاہے اورجولوگ برائیوں کی تدبیرکرتے ہیں ان کے لئے شدیدعذاب ہے )کے بارے میںفرماتے ہیں:

ولاییتنااهل البیت، فمن لم بتولنالم یرفع الله عملا ۔ جوبھی ہماری ولایت کوقبول نہیں کرتاہے اورہماری رہبری پرسرتسلیم خم نہیں کرتاہے خداوندعالم اس کے کسی بھی عمل کوقبول نہیں کرتاہے۔(۳) اوررسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :

من صلی صلاة ولم یصل علیّ فیهاوعلیٰ اهل بیتی لم تقبل منه ۔(۳)

جو شخص نماز پڑھے اور مجھ پر اور میرے اہل بیت پر درود نہ بھیجے اس کی نماز قبول نہیں ہے۔

عن محمدبن مسلم قال:سمعت ا بٔاجعفرعلیہ السلام یقول:کلّ من دان الله بعبادة ) یجہدفیہانفسہ ولاامام لہ من الله فسعیہ غیرمقبول۔( ١ امام باقر فرماتے ہیں:جوشخص خداپرایمان رکھتاہواورعمدہ طریقہ سے عبادت کرتاہولیکن خداکی طرف سے معین کسی امام صالح کی پیروی نہ کرتاہواس ساری محنت ومشقت بےکارہے اوروہ قبول بھی نہ ہونگی۔(۴)

۵ ۔تقویٰ

نمازقبول ہوے کے شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ نمازگزارگناہ کبیرہ وصغیرہ سے دوری کرتاہو،غیبت سے پرہیزکرتاہو،والدین کے حکم کی نافرمانی نہ کرتاہو،مال حرام نہ کھاتاہو،شراب ومسکرات کااستعمال نہ کرتاہو،اپنے دینی بھائیوں سے بغض وحسدنہ کرتاہو،مرداپنی بیوی کواوربیوی اپنے شوہرکواذیت نہ کرتے ہوں،اپنے ہمسایہ کے لئے رنج واذیت کاباعث نہ ہو،ظام وجابرشخص کی ہمایت نہ کرتاہو،وغیرہ وغیرہ ۔

____________________

. ۱)سورہ فاطر/آیت ١٠ )

۲)الکافی /ج ١/ص ۴٣٠

. ۳)الغدیر(علامہ امینی)/ج ٢/ص ٣٠۴

۴)کافی /ج ١/باب معرفت امام (علیه السلام).

۲۶۵

خداوندعالم انسان کے ظاہری عمل کونہیں دیکھتاہے بلکہ اس کے تقویٰ پرہیزگاری کونظرمیں رکھتاہے اب اگرکوئی شخص اپنے دل میں ریاکاری کاقصدرکھتے ہوئے اپنے مال سے خمس نکالے یا اسے لوگوں کے درمیان خیرات کرے یاکسی دوسرے کامال چوری کرکے خمس نکالے یاغریبوں میں تقسیم کرے یہ کام الله کے نزدیک قبولیت کادرجہ نہیں رکھتے ہیں اورنہ ایسے کاموں پروہ شخص کسی اجروثواب کاحق رکھتاہے بس اسی طرح اگرکوئی شخص نمازبھی پڑھتاہے اورگناہوں کابھی مرتکب ہوتاہے ،اپنے ماں باپ کے ساتھ گرم مزاجی سے کلام کرتاہے اورنمازبھی پڑھتاہے ،عزیزواقارب کے ساتھ صلہ رحم نہیں کرتاہے اورنمازبھی پڑھتاہے ،عورت اپنے شوہرکی درآمدسے فائدہ اٹھاتی ہے مگراس کے ساتھ تمکین نہیں کرتی ہے ،اس کی اجازت کے بغیرگھرسے باہرقدم نکالتی ہے یااپنی زبان وغیرہ سے اسے اذیت کرتی ہے اورنمازبھی پڑھتی ہے،یاشوہراپنے زوجہ کے ساتھ بدسلوکی کرتاہے،اسے آزارواذیت دیتاہے اورنمازبھی پڑھتاہے ،یاانسان کسی دوسرے کی غیبت کرتاہے اورنمازبھی پڑھتاہے،کسی دوسرے پرظلم وستم بھی کرتاہے اورنمازبھی پڑھتاہے ،غیبت بھی کرتاہے اورنمازبھی پڑھتاہے دوسروں کی ناموس کوبری نگاہ سے دیکھتاہے اورنمازبھی پڑھتاہے یاکسی معصوم (علیه السلام)کی قبرمطہر کی زیارت کرتاہے خداایسی نمازوزیارت کوہرگزقبول نہیں کرتاہے پس صاب تقویٰ وپرہیزگارہونادینداری کی پہچان ہے جیساکہ امام رضا فرماتے ہیں: لادینَ لِمن لاوَرَع لہ۔ ) جوشخص ورع وتقویٰ نہ رکھتاہووہ دین بھی نہیں رکھتاہے۔(۱)

نمازقبول نہ ہونے کے اسباب

ایساہرگزنہیں ہے کہ دنیامیں جت نے بھی نمازی ہیں ان سب کی نمازیں بارگاہ خداوندی میں قبول ہوتی ہیں بلکہ نمازقبول ہونے کچھ ظاہری آداب ہیں اورقلبی آداب ہیں اب جولوگ ظاہری آداب کے علاوہ قلبی آداب کی بھی رعایت کرتے ہیں خداوندعالم ان نمازوں کوقبول کرتاہے لیگن وہ لوگ کہ جن کی نمازیں بارگاہ خداوندی میں قبول نہیں ہوتی ہیں اورانھیں اپنی نمازوں سے الله سے دوری اوراٹھ بیٹھ لگانے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتاہے ،پس کچھ چیزیں ایسی ہیں جوانسان کی نمازوعبادت کے قبول نہ ہونے کاسبب واقع ہوتی ہیں اورچیزیں کہ جنھیں معصومین نے عدم قبولیت نمازوعبادت کاسبب قراردیاہے یہ ہیں :

____________________

. ۱)کمال الدین وتمام النعمة /ص ٣٧١

۲۶۶

١۔ولایت اہلبیت کامنکرہونا

وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں اہلبیت کی محبت کاچراغ دل میں روشن نہیں رکھتے ہیں توان کی نمازوعبادت ہرگزقبول نہیں ہوتی ہے ،نمازو عبادت اسی وقت فائدہ مندواقع ہوسکتی ہے جب نمازکواہلبیت کی محبت و معرفت اوران کی اطاعت وولایت کے زیرسایہ انجام دیاجائے ،اہلبیت کی محبت وولایت کے بغیرسب نمازیں بےکارہیں۔

وہ نمازجواس کے تمام ظاہری آداب شرائط کے ساتھ انجام دی گئی ہو،قبلہ کی سمت رخ کرکے پڑھی گئی ہو،حمدوسورہ قرائت بھی صحیح طرح کی گئی ہو،رکوع وسجودمیں طمانینہ کابھی خیال رکھاگیاہواوردیگرشرائط کوبھی ملحوظ خاطررکھاگیاہویہاں تک خدارسول پرایمان کے ساتھ انجام دی گئی ہومگراس نمازپراہلبیت کی محبت کی مہرلگی ہو تووہ نمازقبول ہوسکتی ہے چاہے نمازکو کت ناہی خضوع وخشوع کیوں انجام دیاگیاہومگراہلبیت اطہار کی محبت دل نہ ہوتووہ نمازبیکارہے۔

نمازقبول ہونے کے شرائط میں ولایت کوذکرچکے ،ہم نے وہاں پرولایت کے بغیرپڑھی جانے والی کوباطل قراردئے جانے احادیث کوذکرکیاہے اورشافعی کاوہ مشہورشعربھی ذکرکیاہے کہ جس میں انھوں نے صاف طورسے اہلبیت رسول کی محبت کے بغیر پڑھی جانے والی نمازغیرمقبول قراردیاہے لہٰذامطلب کوتکرارکرنے کی ضرورت نہیں ہے

٢۔والدین کی اطاعت نہ کرنا

وہ لوگ جواپنے ماں باپ کی نافرمانی کرتے ہیں،ان کاادب احترام نہیں کرتے ہیں اوراپنے والدین کے لئے اذیت کاباعث ہوتے ہیں قرآن کریم میں چندآیات کریمہ میں جہاں الله کی اطاعت کاحکم دیاگیاہے اسی کے فورابعدوالدین کے بھی مقام کوبیان کیاگیاہے یہاں تک کہ والدین کواف تک کہنے سے سختی کے ساتھ منع کیاگیاہے:

( وَقَضٰی رَبُّکَ اَنْ لَاتَعْبُدُوْااِلَّااِیَّاهُ وَبِالْوِالِدَیْنِ اِحْسَانًااِمَّایَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُهُمَااَوْکِلَاهُمَافَلَاتَقُلْ لَهُمَااُفٍّ وَّلَات نهَرْهُمَاوَقُلْ لَهُمَاقَوْلًاکَرِیْمًاوَاخْفِض لَْهُمَاجَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَاکَمَارَبَّیٰنِیْ صَغِیْراً )

تمھارے پروردگارفیصلہ یہ ہے کہ تم سب اس کے علاوہ کسی عبادت نہ کرنااورماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤکرنااوراگران دونوں میں سے کوئی ایک یادونوں بوڑھے جائیں توخبرداران سے اف بھی نہ کہنااورانھیں جھڑکنابھی نہیں اوران سے ہمیشہ شریفانہ گفتگوکرتے رہنا،اوران کے حق میں دعاکرتے رہناکہ پروردگاران دونوں پراسی طرح رحمت نازل فرماجس طرح کہ انھوں نے بچپنے میں مجھے پالاہے۔(۱)

____________________

. سورہ أسراء /آیت ٢٣ ۔ ٢۴

۲۶۷

اوراحادیث میں بھی والدین کی نافرمانی کرنے کی بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے خداوندعالم ایسے لوگوں کی کوئی نمازقبول نہیں کرتاہے

عن ابی عبدالله علیه السلام قال:من نظرالی ابویه نظرماقت وهماظالمان له لم یقبل له صلاته ۔(۱)

حضرت امام صادق فرماتے ہیں :ہر وہ شخص جو دشمن اور بعض وکینہ کی نظروں سے اپنے ماں باپ کی طرف نگاہ کرتاہے ،خداوندعالم ایسے شخص کی نماز ہر گز قبول نہیں کرتا ہے ، خواہ اس کے والدین نے اپنے فرزند پر ظلم وستم ہی کیوں نہ کئے ہوں۔

٣۔چغلخوری کرنا

وہ لوگ جودوسروں کی غیبت کرتے ہیں ،دوسروں کے پوشیدہ عیوب سے پردہ اٹھاتے ہیں توخداان کی کوئی نمازقبول نہیں کرتاہے اورجب تک صاحب غیبت اسے معاف نہیں کردیتاہے خدابھی معاف نہیں کرتاہے

قال رسول الله صلی الله علیه وآله :من اغتاب مسلماًا ؤمسلمة لم یقبل الله صلاته ولاصیامه اربعین یوماًولیلة الّاان یغفرله صابه ۔(۲)

رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:اگرکوئی مسلمان مردیاعورت کسی دوسرے مسلمان کی غیبت کرے توخداوندعالم چالیس روزتک اس کوئی نمازقبول نہیں کرتاہے مگرکہ جسکی غیبت کی گئی ہے وہ اسسے راضی ہوجائے اوراسے معاف کردے ۔

۴ ۔مال حرام کھانا

وہ لوگ جودوسروں کامال کھاتے ہیں خدوندعالم ان کی نمازقبول نہیں کرتاہے، خواہ مال کو چوری کیاگیاہویاغصب کیاگیا،یاکسی جگہ پڑاہوامل گیاہو ہوچاہے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :

اَلْعِبَادَةُ مَعَ اَکْلِ الْحَرَامِ کَاْ لبِنَاءِ عَلیَ الرَّ مْلِ.

مال حرام کھانے والے لوگوں کی عبادت ریگ پر گھر تعمیر کرنے کے مانند ہے ۔(۴)

____________________

. ۱)کافی /ج ٢/ص ٣۴٩

.۲)خصال شیخ صدوق /ص ١٢٣

. ۳)بحارالانوار/ج ٨١ /ص ٢۵٨ )

۲۶۸

۵ ۔نمازکوہلکاسمجھنا

حضرت امام صادق فرماتے ہیں : خدا کی قسم ! اس سے بڑھ کر اور کیا گناہ ہو سکتا ہے کہ ایک مرد کی عمرپچاس ہوگئی ہے مگر خدا نے ابھی تک اس کی ایک بھی نماز قبول نہیں کی ہے ، خدا کی قسم تم بھی اپنے بعض دوست اور عزیرو ہمسایہ کو جانتے ہیں کہ اگر وہ تمھارے لئے نماز پڑھیں تو ہر گزان کی نماز قبول نہیں کرو گے کیونکہ انھوں نے بے توجہّی کے ساتھ میں نمازپڑھی ہے جب تم اس نماز کو قبول نہیں کر سکتے ہو تو خداکیسے قبول کر سکتاہے جنکو انسان ہلکا اور آسان سمجھ کر انجام دیتا ہے؟۔

۶ ۔شراب ومسکرکااستعمال کرنا

عن ابی عبدالله علیہ السلام قال:من شرب الخمرلم یقبل الله لہ صلاة اربعین یوما. امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص شراب پیتاہے خداوندعالم چالیس روزتک اس کوئی نمازقبول نہیں کرتاہے ۔(۱)

عن ابی عبدالله علیه السلام قال: من شرب مسکرا لم تقبل منه صلاته اربعین یوما فان مات فی الاربعین مات میتة جاهلیة ، وان تاب تاب الله عزوجل علیه .

امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص مسکرات کااستعمال کرتاہے چالیس روزتک اس کی قبول ہونے سے رک جاتی ہے ،اگروہ ان چالیس روزکے درمیان انتقال کرجائے توجاہلیت کی موت مرتاہے ،ہاں اگروہ توبہ کرتاہے توخداوندعالم اس توبہ قبول کرلیتاہے ۔(۲)

عن ابی عبدالله علیه السلام قال: مدمن الخمریلقی الله کعابدوثن .

امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص شراب ونشے کے عالم میں خداسے ملاقات کرتاہے اوراس کی عبادت کرتاہے وہ بت پرست کے مانندہے ۔(۳)

____________________

.۱) کافی /ج ۶/ص ۴٠١ ۔تہذیب الاحکام /ج ٩/ص ١٠٧

۲)کافی/ج ۶/ص ۴٠٠

۳). کافی /ج ۶/ص ۴٠۴

۲۶۹

حسین ابن خالدسے مروی ہے:میں نے امام رضاسے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی اس حدیث کے بارے میں پوچھاکہ جسمیں انحضرت فرماتے ہیں:انّ من شرب الخمرلم یحتسب صلاته اربعین صباحاً.

شراب پینے والے شخص کی چالیسشبانہ روزتک کوئی نمازقبول نہیں ہوتی ہے امام (علیه السلام)نے جواب دیا:یہ حدیث صحیح ہے ،میں نے کہا:شرابی کے چایس روزکیوں معین کئے گئے ہیں ،اس سے کم یازیادہ کیوں نہیں؟امام (علیه السلام) نے جواب دیا: کیونکہ خداوندعالم نے انسان کے لئے چالیس روزمعین کررکھے ہیں،جب انسان کانطفہ رحم مادرمیں قرارپاتاہے توچالیس تک نطفہ رہتاہے اس کے بعدچالیس روزتک علقہ رہتاہے ،پھرچالیس روزتک مضغہ رہتاہے اسی طرح شرابخورکے منہ سے بھی چالیس روزتک شراب کی بدبوباقی رہتی ہے لہٰذاچالیسروزتک اس کی کوئی بھی نمازقبول نہیں ہوتی ہے۔(۱)

٧۔حاقن وحاقب

عن اسحاق بن عمار ، قال : سمعت اباعبدالله علیہ السلام یقول : لاصلاة لحاقن ولالحاقب ولالحاذق والحاقن الذی بہ البول ، والحاقب الذی بہ الغائط والحازق بہ ضغطة الخف اسحاق ابن عمارسے مروی ہے کہ امام صادق فرماتے ہیں:حاقن وحاقب اورحاذن کی نمازقبول نہیں ہوتی ہے ، حاقن وہ شخص کہ جوپیشاب کوروکے رکھے،حاقب وہ شخص کہ جوغائط کوروکے رکھے ،اورحازق اس شخص کوکہتے ہیں جودونوں پیروں کوایک دوسرے سے ملائے رکھے ۔(۲)

٨۔ خمس وزکات نہ دینا

قرآن کریم میں متعددآیتوں میں زکات اداکرنے کو قیام نماز کے پہلو میں ذکر کیا گیا ہے: سورہ بٔقرہ /آیت ١١٠ ۔ ۴ ٣ ۔ ٢٧٧ حج/ ۴ ١ ۔ ٧٨ توبہ/ ١١ ۔ ١٨ ۔ ٧١ ۔ مائدہ / ۵۵ نمل/ ٣. لقمان/ ۴ مریم/ ٣١ ۔ ۵۵ انبیاء/ ٧٣ نساء/ ٧٧ ۔ ١ ۶ ٢ نور/ ۵۶ بینہ/ ۵. اوران آیتوں کے علاوہ بعض دیگر آیتوں میں نمازکوانفاق کے ساتھ ذکرکیاگیاہے۔

اور متعدد احادیث میں آیا ہے کہ جولوگ اپنے مال سے زکات نہیں نکالتے ہیں ان کی نماز قبول نہیں ہو تی ہے

قال رسول الله صلی الله علیه وآله:لاتقبل الصلاة الّابالزکٰوة ۔(۳) رسول خدا (صلی الله علیه و آله) فرما تے ہیں : زکات اداکئے بغیر نماز قبو ل نہیں ہے۔

____________________

. ۱)علل الشرایع /ج ٢/ص ٣۴

.۲) معانی الاخبار/ص ٢٣٧

۳)منہج الصادقین /ج ۶/ص ٢٠٣

۲۷۰

٩۔گناہ ومنکرات کوانجام دینا

عَنِ النّبِی صلّی اللهُ عَلَیهِ وَآلِهِ اَنّهُ قَالَ:لاصلاة لمن لم یطع الصلوة وطاعة الصلوة ان ینتهی عن الفحشاء والمنکر ۔(۱)

پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : جو شخص مطیع نماز نہ ہو اس کی نمازہی نہیں ہے اور گناہوں ومنکرات سے دوری اختیا ر کرنے کواطاعت نماز کہاجاتا ہے۔

عَنِ النّبِی صلّی اللهُ عَلَیهِ وَآلِهِ اَنّهُ قَالَ:مَن لَم ت نهه صَلاتَهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِلَم یَزِدْمِن اللهِ اِلّابُعداً ۔(۲)

جس کی نمازاسے بدی ومنکرات سے دورنہیں رکھتی ہے اسے اللھسے دوری کے علاوہ کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتی ہے ۔

عن ابی عبدالله علیه السلام قال: من احب ان یعلم ا قٔبلت صلاته ا مٔ لم تقبل فلینظرهل منعته صلاته عن الفحشاء والمنکرفبقدرمامنعته قبلت منه ۔(۳)

حضرت امام صادق فرماتے ہیں: اگر کوئی دیکھنا چا ہتا ہے کہ اس کی نماز بارگاہ خدا وندی میں قبول ہوئی ہے یا نہیں تو اس چیز کودیکھے کہ اس کی نمازنے اسے برے کام اور گنا ہوں سے دور رکھا ہے یانہیں کیو نکہ جس مقدا ر میں وہ نماز کی وجہ سے گنا ہوں سے دور رہتا ہے اسی مقدارکے مطابق اس کی نمازبار گاہ باری تعالیٰ میں قبول ہوتی ہے ۔

١٠ ۔مومنین سے بغضوحسدرکھنے والے

بہت سے نمازی ایسے بھی جومتقی وپرہیزگارلوگوں سے اس وجہ سے بغض وحسدرکھتے ہیں وہ لوگوں کے درمیان عزّت وشرف اورمقبولیت کیوں رکھتے ہیں اورہم کیوں نہیں رکھتے ہیں لہٰذااس سے دشمنی کرتے ہیں،ایسے لوگوں کے بارے میں خداوندعالم حدیث قدسی میں حضرت داؤد سے ارشادفرماتاہے:

____________________

. ۱)تفسیرنورالثقلین /ج ۴/ص ١۶٢

۲)تفسیرنورالثقلین /ج ۴/ص ١۶٢

۳)تفسیرنورالثقلین /ج ۴/ص ١۶٢.

۲۷۱

وربماصلی العبدفاضرب بهاوجهه واحجب عنی صوته ،ا تٔدری مَن ذلک ؟یاداو دٔ!ذاک الّذی یکثرالالتفات الی حرم المومنین بعین الفسق وذاک الّذی یُحدّث نفسه اَنْ لووُلّیَ ا مٔراًلضرب فیه الرقاب ظلماً ۔

کت نے بند ے ایسے ہیں کہ جو نماز پڑھتے ہیں مگران کی نماز وں کو انھیں کے منہ پہ مار دیتاہوں اور اپنے اوراس کی نماز و دعاکی آواز کے درمیان ایک پر دہ ڈالدیتا ہوں ، اے داو دٔ ! کیا تم جانتے ہو وہ بند ے کون ہیں ؟اے داؤ د سنو!یہ وہ نمازی ہیں جو مو من بندوں کی عزّ ت وشرف وعصمت کو جرم و گنا ہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور خود سے کہتے ہیں : اگر مجھ میں ہمت و قدرت پیدا ہو گئی تو ظلم و جفا کے سا تھ ان لوگوں کی گرد نیں کاٹ کررکھ دوں گا ۔

قابیل اپنے بھائی سے بغض وحسدرکھتاتھاکہ جس کے نتیجہ میں خدانے اس کی قربانی کوقبول نہیں کیا،خداوندعالم قرآن کریم میں حضرت آدمکے ان دونوںفرزندکی داستان اس طرح بیان کرتاہے:

( وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ اِذْقَرََّبَاقُرْبَانًا ، فَتَقَبَّلَ مِنْ اَحَدِهِمَاوَلَمْ یَتَقَبَّلُ مِنَ الاٰخَرِ، قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ قَالَ اِنّمَایَتَقَبَّلُ اللهَ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ )

پیغمبر!آپ ان کوآدم کے دونوںفرزندوں کاسچاقصہ پڑھ کرسنائیےکہ جب دونوں نے راہ خدامیں قربانی پیش کی توہابیل کی قربانی قبول ہوگئی اورقابیل کی قربانی ردکردی گئی توشیطان نے قابیل کے دل میں حسدآگ بھڑکادی اورقابیل نے ہابیل سے کہا:میں تجھے قتل کردوں گا،ہابیل نے جواب دیا:میراکیاقصورہے خداصرف صاحبان تقویٰ کی اعمال قبول کرتاہے۔(۱)

١١ ۔موذی عورت ومرد

وہ عورتیں جواپنے شوہرکے لئے اذیت کاباعث ہوتی ہیں،اورہ وہ عورت جواپنے شوہرکے لئے عطروخوشبوکااستعمال نہیں کرتی ہے اورجب کسی شادی ومحفل میں جاتی ہے یاگھرپہ کوئی مہمان آتاہے توخوشبوکااستعمال کرتی ہے اورعمدہ لباس پہنتی ہے مگراپنے شوہرکے لئے ایساکچھ نہیں کرتی ہے توخداوندعالم اس کوئی نمازقبول نہیں کرتاہے ،اگرایساکرتاہے تویہی حکم اس کابھی ہے

امام صادق فرماتے ہیں:وہ عورت جو(بسترپہ )سوجائے اوراس کاشوہراس سے برحق ناراض ہوتوخداوندعالم اس عورت کی کوئی جب تک اس شوہراس سے راضی نہ ہوجائے کوئی نمازقبول نہیں ہوتی ہے اوروہ عورت کہ جواپنے شوہرکے علاوہ کسی دوسرے کے لئے خوشبولگائے توخداوندعالم ایسی عورت کی بھی کوئی نمازاس وقت تک قبول نہیں کرتاہے جب تک وہ اس خوشبوکاایسے غسل نہیں کرلیتی جس طرح جنابت کاغسل کرتی ہے(۲)

____________________

.۱) سورہ مٔائدہ /آیت ٢٧

.۲)۔من لایحضرہ الفقیہ/ج ٣/ص ۴۴٠ / کافی /ج ۵٠٧

۲۷۲

اوراسی طرح وہ مردجواپنی زوجہ کواذیت کرتے ہیں، خداوندعالم ان عورت مرودوں کی نمازیں قبول نہیں کرتاہے جیساکہ روایت میں آیاہے:

رسول خدا (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : وہ عورت جو اپنے شوہر کواذیت پہنچاتی ہے ،خداوندعالم ایسی عورت کی کوئی نمازاورنیک عمل اس وقت قبول نہیں کرتاہے جب تک وہ اپنے شوہرکوراضی نہیں کرلیتی ہے ،خواہ وہ ایک زمانے تک روزے رکھے اورراہ خدامیں جہادکرے اورراہ خدامیں کت ناہی مال خرچ کرے ،ایسی عورت کوسب سے جہنم میں ڈالاجائے ، اس کے بعدرول اکرم (صلی الله علیه و آله)ے نے فرمایا:مردکابھی یہی حکم ہے اوراس کابھی یہی گناہے ۔(۱)

١٢ ۔ہمسایہ کواذیت پہنچانا

نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے زمانے میں ایک مسلمان خاتوں جوروزانہ روزے رکھتی تھی اور رات بھر نماز وعبادت کرتی تھی لیکن بہت زیادہ بداخلاق تھی اور اپنی زبان سے ہمسایوں کو آزار واذیت پہنچاتی تھی

ایک دن لوگوں نے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سے کہا: یا رسول الله! فلاں عورت دنوں میں روزہ رکھتی ہے ،راتوں میں نماز وعبارت میں مشغول رہتی ہے لیکن اس میں ایک عیب یہ پایاجاتاہے کہ وہ بد اخلاق ہے اوراپنی زبان سے پڑوسیوں کواذیت پہنچاتی ہے تورسول اکرم نے فرمایا:

لَاْخَیْرَفیها،هِیَ مِنْ اَهْلِ النار ۔

ایسی عورت کے لئے کو ئی خیر و بھلائی نہیں ہے اوراہل جہنم ہے اس بعدلوگوں نے کہا:ایک فلاں عورت ہے جو(فقط)پنجگانہ نمازیں پڑھتی ہے اور(فقط)ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھتی ہے اوراپنے پڑوسیوں کواذیت بھی نہیں پہنچاتی ہے تورسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا:

هی من اهل الجنة.

وہ عورت اہل بہشت ہے۔(۲)

____________________

.۱) وسائل الشیعہ /ج ١۴ /ص ١١۶

.۲) مستدرک الوسائل/ج ٨/ص ۴٢٣

۲۷۳

امام علی رضافرماتے ہیں :خداوندعالم نے تین چیزوں کوتین چیزوں کے ساتھ بجالانے کاحکم دیاہے:

١۔ نمازکوزکات کے ساتھ اداکرنے کاحکم دیاہے، پس جوشخص نمازپڑھتاہے اورزکات نہیں نکالتاہے اس کی نمازقبول نہیں ہوتی ہے.

٢۔ خدانے اپناشکربجالانے کووالدین کاشکراداکرنے کے ساتھ حکم دیاہے ،پس جوشخص والدین کاشکرنہیں کرتاہے جب بھی خداکاشکرکرتاہے خدااس کاشکرقبول نہیں کرتاہے ۔ ٣۔ تقویٰ اورپرہیزگاری کوصلہ رحم کے ساتھ حکم دیاہے پس جوشخص صلہ رحم نہیں ) کرتاہے خدااس کے تقویٰ وپرہیزگاری کوقبول نہیں کرتاہے۔(۱)

حضرت امام صادق سے مروی ہے :رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:آٹھ لوگوں کی نمازیں قبول نہیں ہوتی ہیں:

١۔ وہ غلام جواپنے مالک سے فرارہوگیاہوجب تک وہ اپنے مولاکے پاس لوٹ کرنہیں آتاہے اس کی کوئی نمازقبول نہیں ہوتی ہے

٢۔ وہ عورت جوکہ ناشزہ ہے اوراس کاشوہراس پرغضبناک رہتاہے۔

٣۔ جولوگ زکات ادانہیں کرتے ہیں۔

۴ ۔جولوگ بغیروضوکے نمازپڑھتے ہیں۔

۵ ۔وہ بچّیاں جوسرچھپائے بغیرنمازپڑھتی ہیں۔

۶ ۔ وہ شخص کہ جولوگوں کے لئے امامت کے فرائض انجام دے مگرمومنین اسے پسندنہ کرتے ہوں اوراس امام سے کوئی رغبت نہ ر کھتے ہوں (لیکن وہ امام جماعت اپنی عزّت وآبرو کی وجہ سے مسجد کو ترک کرنے کے لئے حاضر نہ ہوجسکانتیجہ یہ ہوگاکہ ہرزوزمسجد میں آنے والے مومنین کی تعداد کم ہوتی جائے گی اور ایک دن وہ بھی آجائے گا کہ مسجد میں اس کے پیچھے کے لئے کوئی شخص نہیں آئے )۔

٧۔ ٨۔ زبین لوگ:نبی اکرمسے پوچھاگیا:یارسول اللھیہ کون لوگ ہیں ؟آنحضرت نے جواب دیا: وہ لوگ جو نماز کی حالت میں اپنے پیشاب وپاخانہ یا ریح کو روکے رکھتے ہیں( جس کی وجہ سے جسمانی امراض پیداہوجاتے ہیں ،یہ کام جسم کی سلامتی کوخطرہ میں ڈالنے کے علاوہ نماز کے تمرکز کو بھی خراب کردیتے ہیں اور نماز میں حضورقلب بھی نہیں پایاجاتا ہے )یہ ) آٹھ لوگ ہیں کہ جن کی نمازیں قبول نہیں ہوتی ہیں ۔(۲)

____________________

. ۱)خصال (شیخ صدوق) /ص ١٢٣

۲)معانی الاخبار(شیخ صدوق)/ص ۴٠۴

۲۷۴

حضرت امام صادق فرماتے ہیں :چارلوگوں کی نمازقبول نہیں ہوتی ہے: ١۔ظالم وستمکارپیشوا ۔ ٢۔وہ مردجوکسی گروہ کی امامت کرتاہواوروہ لوگ اسے پسندنہ کرتے ہوں ٣۔وہ غلام جوبغیرکسی عذرومجبوری کے اپنے آقاسے فرارہوگیاہو۔ ۴ ۔وہ عورت جواپنے شوہرکی اجازت کے گھرسے باہرجاتی ہو۔

حضرت امام صادق فرماتے ہیں :تین لوگوں کی نمازقبول نہیں ہوتی ہے:

١۔ وہ غلام جواپنے مالک سے فرارہوگیاہو،جب تک وہ لوٹ کراپنے ہاتھوں کواپنے مولاہاتھوں پہ نہیں رکھ دیتاہے اس کی کوئی نمازفبول نہیں ہوتی ہے

٢۔ وہ عورت جو(بسترپہ)سوجائے اوراس کاشوہراس سے ناراض ہو

٣۔ وہ شخص جوکسی جماعت کی امامت کررہاہواوروہ لوگ اسے پسندنہ کرتے ہوں(۱)

ترک نماز

کسی بھی حال میں نمازکاترک کرناجائزنہیں نمازکی اہمیت اوراس کے فضائل وفوائداوراس کے واجب ہونے کے بارے میں ذکرکی گئی آیات قرآنی واحادیث معصومین سے یہ ثابت ہوتاہے کہ کسی بھی حال میں اس کاترک کرناجائز نہیں ہے اورجس صورت میں ممکن ہوسکے اورجس مقدارمیں بھی ممکن ہوسکے نمازپڑھی جائے اورانسان جس طرح سے مضطرہوتاجائے اسی کے اعتبارسے نمازمیں بھی تخفیف ہوتی ہوتی رہے ۔

عبدالرحمن ابن ابی عبداللھسے روایت ہے کہ میں نے امام صادق سے دریافت کیا:اگرآپ سواری حالت میں ہیں یاپیدل ہیں اورکسی چیزکاخوف ہے توکس طرح نمازپڑھیں گے ؟اورمیں نے پوچھا: اگرکسی کوچوریادرندہ کاخوف ہے تووہ کسی طرح نمازپڑھے ؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:

یکبرویومی براسه ایماء

وہ شخص تکبیرکہے اوراپنے سرکے اشارے سے نمازپڑھے۔(۲)

____________________

۱).۵/ کافی /ج ۵٠٧

۲). تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ٣٠٠

۲۷۵

اگرکوئی شخص کسی درندہ وغیرہ کے چنگل میں پھنسجائے گیاہے اورنمازکاوقت بھی ہوتو اس صورت میں بھی نمازکاترک کرناجائز نہیں ہے بلکہ حسب امکان نمازکاپڑھناواجب ہے خواہ آنکھوں کے اشارہ ہی سے نمازپڑھے لیکن نمازکاترک کرناجائزنہیں ہے۔ روایت میں آیاہے کہ علی ابن جعفر (علیه السلام)نے اپنے بھائی امام موسیٰ کاظم سے دریافت کیا: اگر کوئی شخص کسی حیوان درندہ کے چنگل میں گرفتار ہوجائے اور بالکل بھی حرکت نہ کرسکتا ہو اور نماز کا وقت پہنچ گیا ہواوروہ اس درندہ کے خوف کی وجہ سے بالکل بھی حرکت نہ کرسکتاہو،اگروہ کھڑے ہوکرنمازپڑھے تورکوع وسجودکی حالت میں اس کااورزیادہ خطرہ ہے اوروہ شخص سمت قبلہ بھی نہ ہواب اگروہ اپنے چہرے کوقبلہ کی سمت کرے توپھربھی خطرہ ہے کہ وہ درندہ پیچھے سے حملہ کردے گاتواس صورت میں وہ شخص کیاکرے اورکسی طرح نمازپڑھے؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:یصلی ویومی راسه ایماء وهوقائم وان کان الاسدعلی غیرالقبلة. ایسے موقع پر اس شخص کا وظیفہ یہ ہے کہ کھڑے ہوکرنمازپڑھے اورسرکے ذریعہ رکوع وسجودکی طرف اشارہ کرتارہے خواہ وہ شیرپشت بہ قبلہ ہی کیوں نہ ہو۔(۱) سماع ابن مہران سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق سے دریافت کیا:وہ شخص جومشرکین کے ہاتھوں گرفتارہوجائے اورنمازکاوقت پہنچ جائے اوراسے خوف ہوکہ یہ مشرک مجھے نمازنہیں پڑھنے سے منع کریں گے تووہ کیاکرے اورکس طرح نمازپڑھے؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:

یومی ایماء . وہ شخص فقط شارہ سے نمازپڑھے۔(۲)

قال ابوعبدالله علیه السلام:من کان فی مکان لایقدرعلی الارض فلیو مٔ ایماء . اما م صادق فرماتے ہیں:اگرکوئی کسی جگہ میں گرفتارہوجائے وہ زمین پرنہ ٹھہراہوبلکہ (پانی غرق ہورہاہویاصولی پرلٹکاہو)تووہ اشارہ سے نمازپڑھے۔(۳)

نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :مریض شخص کوچاہئے کہ کھڑے ہوکر نمازپڑھے اوراگرکھڑے ہونے کی طاقت نہیں رکھتاہے توبیٹھ کرنمازپڑھے ،اگربیٹھنے سے بھی مجبورہے تودائیں کروٹ لیٹ کرنمازپڑھے اوراگردائیں کروٹ نہ لیٹ سکتاہو توبائیں کروٹ لیٹ کر نمازپڑھے اوربائیں کروٹ بھی نہیں لیٹ سکتاہے توسیدھالیٹ کرنمازپڑھے اوراپنے چہرے کوقبلہ کی سمت رکھے اور(رکوع سجودوغیرہ کواشارہ کے ذریعہ انجام دے )جب سجدہ کے لئے اشارہ کرے توجت نااشارہ رکوع کے لئے کیاتھااسسے تھوڑازیادہ اشارہ کرے۔(۴)

____________________

. ١)کافی/ج ٣/ص ۴۵٩

۲)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ۴۶۴

۳) تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ١٧۵

. ۴)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٣۶٢

۲۷۶

امام صادق فرماتے ہیں:مریض شخص کوچاہئے کہ کھڑے ہوکر نمازپڑھے اوراگرکھڑے ہونے کی طاقت نہیں رکھتاہے توبیٹھ کرنمازپڑھے ،اگربیٹھنے سے بھی مجبورہے تولیٹ کرنمازپڑھے،تکبیرکہے اورقرائت کرے ،جب رکوع کرنے کاراداہ کرے تواپنی آنکھوں کوبندکرے اورتسبیح کرے ،جب تسبیح کرلے توآنکھوں کوکھولے جورکوع سے بلندہونے کااشارہ ہے اورجب سجدہ کرنے کاارادہ کرے توآنکھوں کوبندکرے اورتسبیح کرے اس کے بعدآنکھوں کوکھولے جوسجدہ سے سربلندکرنے کااشارہ ہے (گویاہررکعت کواشارہ سے پڑھے )اس کےبعدتشہدوسلام پڑھے اورنمازکوتمام کرے ۔(۱)

عمربن اذینہ سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق کی خدمت میں ایک خط لکھااورپوچھاکہ اس مرض کی حدکیاہے کہ جس کی وجہ سے انسان روزہ کوافطارکرسکتاہے اوروہ مرض کہ جس کی وجہ انسان کھڑے ہوکرنمازپڑھنے کوترک کرسکتاہے اس کی حدکیاہے؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:

بل انسان علیٰ نفسه بصیرة،ذاک هوا عٔلم بنفسه ۔

)اس کی کوئی حدنہیں ہے بلکہ)ہرانسان اپنے نفس کے بارے میں خودجانتاہے اورمرض کیمقدارکوتشخیص دیناخودمریض سے مربوط ہے ،وہ اپنے مرض کے بارے میں زیادہ علم رکھتاہے (کہ میں کت نامریض ہوں،کھڑے ہونے کی قدرت ہے یانہیں ،بیٹھنے کی ہمت ہے یانہیں )۔(۲)

معصومین کی تاریخ میں جنگ کے چندواقعات ایسے ملتے ہیں کہ انھوں نے جنگ جیسے پرآشوب ماحول میں بھی نمازکوترک نہیں کیااورمسلمانوں کودرس دے دیاکہ دشمن سے سے نبردآزمائی کے وقت بھی نمازکاترک کرناجائزنہیں ہے ۔ امام علی ابن ابی طالبکی تاریخ حیات میں لکھا ہے کہ آپ جنگ صفین میں دشمنان اسلام سے جنگ کررہے تھے کہ اچانک سورج کی طرف دیکھنے لگے ،ابن عباس نے کہا:یاامیرالمومنین ! یہ آپ کیاکررہے ہیں ؟حضرت علینے جواب دیا:اَنْظُرُاِلَی الزَّوَالِ حتّی نُصَلِّی ”میں دیکھ رہاہوں کہ ابھی ظہرکاوقت ہواہے یانہیں تاکہ(معمول کے مطابق اورہمیشہ کی طرح اول وقت )نمازاداکروں،ابن عباس نے تعجب سے کہا:کیایہ نمازکاوقت ہے؟اس وقت ہم اسلام کے دشموں سے جنگ میں مشغول ہیں، اگرہم نے جنگ سے ہاتھوں کوروک لیاتودشمن ہم پرغالب آجائیں گے ،مولائے کائنات نے جواب دیا: ”علیٰ مانقاتلهم ؟انّمانقاتلهم علی الصلاة ”ہماری ان سے کس لئے جنگ ہورہی ہے ؟بے ) شک اسی نمازہی کے لئے توان سے جنگ ہورہی ہے ۔(۳)

____________________

۱). کافی /ج ٣/ص ۴١١ ۔من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣۶١ ۔تہذیب الاحکام /ج ٢/ص ١۶٩

. ۲)استبصار/ج ٢/ص ١١۴

.۳)وسائل الشیعہ /ج ٣/ص ١٧٩

۲۷۷

تاریخ کربلامیں یہی ملتاہے ہے کہ امام حسین نے دشمنوں کے نرغہ میں جنگ کے درمیان بھی نمازکوترک نہیں بلکہ نمازوعبادت ہی وجہ سے دشمنوں سے ایک رات کی مہلت طلب کی تھی ،کرب سے ایک درس یہ بھی ملتاہے کہ دشمن کے نرغہ میں گھرجانے بعدنمازکاترک کرناجائزنہیں ہے

نواسہ رٔسول سیّد الشہداء حضرت اباعبدالله الحسیننے اسی نمازاوردین اسلام ناناکی قبرسے رخصت ہوئے ،بھائی کی قبرکوالوداع کہا،اور ٢٨ /رجب کوایک چھوٹاساکاروان لے کرمکہ کی طرف روانہ ہوئے لیکن جب امام حسیننے حالات ایسے دیکھے کہ یہ دنیامیرے خون کی پیاسی ہے اورامام(علیه السلام) نہیں چاہتے تھے کہ خانہ کعبہ نبی کے نواسہ کے خون سے رنگین ہوجائے لہٰذاکربلاکی طرف رخ کیااوردومحرم الحرام کوخاک کربلاپروارد ہوئے، ہرطرف سے دشمنوں کے لشکرپہ لشکرآنے لگے ،لاکھوں کے تعدامیں میں تیر،تلوار، نیزے وغیرہ ہاتھوں میں لئے ہوئے رسول کے مختصرسے کنبہ کاخاتمہ کردینے کے لئے تیارکھڑے ہیں ، ٩/محرم کی شام آئی توامام حسیننے ( جونمازومناجات کوبہت ہی زیادہ دوست رکھتے تھے )دشمنوں سے ایک رات کی مہلت مانگی تاکہ زندگی کی آخری رات اصحاب باوفاکے ساتھ نمازوعبادت میں گذاریں،شب عاشورامام (علیه السلام)کے صحابی نمازودعامیں مشغول تھے ،کوئی رکوع میں تھا،توکوئی سجدہ میں گڑگڑارہاتھا،دشمن نے بھی اس بات کااقرارکیا ہے کہ حسین (علیه السلام)کے خیموں سے شہدکی مکھیوں کی آوازکے مانند پوری رات نمازومناجات کی آوازیں بلندتھیں

جب صبح عاشورنمادارہوئی توشبیہ رسول حضرت علی اکبرنے اذان کہی اورتمام دوستداران اہلبیت نے امام (علیه السلام)کی اقتدامیں نمازصبح اداکی ،نمازکے بعدامام (علیه السلام)جنگ کے لئے تیارکیانے وہ وقت بھی آیاکہ عمرابن سعدنے چلہ کمان میں تیرلگایااور خیام حسینی کی طرف پرتاب کرتے ہوئے کہا:اے لوگو!گواہ رہنامیں نے پہلاتیرچلایاہے ،یہیں سے دشمن کی طرف سے جنگ کاآغازہوا۔

اصحاب امام (علیه السلام)یکے بعدیگرے امام حسین کی خدمت میں آتے اوراذن جہادلے کرمیدان کارزارمیں جاتے اورجام شہادت پیتے رہے اورامام (علیه السلام)لاشے اٹھاکرلاتے رہے ،جب ظہرکاوقت پہنچاتواپنے ساتھیوں کوحکم دیاکہ نمازظہرکااہتمام کیاجائے

۲۷۸

علامہ مجلسی “بحارالانوار” میں لکھتے ہیں:کتاب ابوثمامہ صیداوی نے جب یہ دیکھا کہ اصحاب امام (علیه السلام)یکے بعد دیگر ے میدان کا رزار میں جاکر اپنی شجاعت کے جوہر دکھا رہے ہیں اور درجہ شٔہادت پر فائز ہورہے ہیں تو امام حسین کی خدمت میں اکر عرض کیا : یا اباعبد الله ! میں آپ پر قربان جاؤں دشمنوں کے لشکر بالکل قریب آگئے ہیں اس سے پہلے کہ وہ آپ پر کوئی حملہ کریں میں قربان ہوجاؤں اوراب چو نکہ نماز ظہر کا وقت ہو گیا ہے میں چاہتا ہو ں کہ پہلے نماز پڑھوں اور اس کے بعد شہید ہو جاؤ ں امام (علیه السلام) نے فرمایا : تم نے نماز کو یاد کیا خدا تم کو نماز گزار وں میں سے قرار دے ،امام (علیه السلام)ابوثمامہ سے کہا: اے ابو ثمامہ ! نمازکااول وقت ہے لہٰذاتم دشمنوں سے کہوکہ وہ ہم کوہمارے حال پرچھوڑدیں (اورجنگ بندکردیں تا کہ ہم نماز پڑھ سکیں)ابوثمامہ نے جیسے ہی یہ پیغام دشمن تک پہنچا یاتو حصین بن نمیربولا :تمہاری نماز قبول نہیں ہے،حبیب ابن مظاہرنے فوراً جواب دیا : اے خبیث ،کیا تو گمان کرتا ہے کہ فرزندرسول کی نماز قبول نہیں ہے اورتیری نمازقبول ہے ؟یہ جواب سن کرحصین نے حبیب پرحملہ کیا،پھرحبیب نے بھی اس پرحملہ شروع کردیااورتلوار سے اس کے گھوڑے کامنہ کاٹ ڈالا.

زہیر ابن قین اور سعید ابن عبد اللھ حنفی،ہلال بن نافع اورچنددیگرصحابی دشمنوں کے وحشیانہ ہجوم سے مقابلہ کرنے کے لئے دیواربن کر امام (علیه السلام)کے آگے کھڑے ہوگئے اس کے بعد امام (علیه السلام) نے اپنے آدھے صحابیوں کے ساتھ نمازظہرشروع کی چونکہ آپ نرغہ أعداء میں تھے اسلئے نمازخوف بجالائے۔(۱)

تاریخ کے اوراق میں لکھا ہے کہ:جب امام (علیه السلام)نے نمازشروع کی توسعید ابن عبدالله حنفی حضرت امام حسین کے آگے کھڑے ہوئے اوردشمن کی طرف سے آنے والے ہر تیرکو اپنے سینے پر کھاتے رہے ،جس طرف بھی کوئی تیرآتا تھافوراً آگے بڑھ کراسے اپنے سینہ پرکھالیاکرتے تھے اوراپنے آپ کو سپر قرار دیتے تھے ،اسی طرح امام (علیه السلام)کی حفاظت کرتے رہے یہاں تک کہ پے درپے بہت زیادہ تیر کھانے کے بعد اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے اورزمین پر گرنے کے بعد کہ رہے تھے:

پروردگارا!قوم عادوثمودکے عذاب کو ان دشمنوں پر نازل کرد ے اور اپنے رسول کی خدمت میں میرا سلام پہنچا .اور جوکچھ دردوزخم مجھ تک پہنچے ہیں ان کی بھی اپنے رسول کوخبر دے اور میں تیر ے رسول کے نواسہ کی مدد کے بدلے میں اجروثواب کا خواہشمند ہوں اس کے بعدسعیدابن عبدالله کی روح بار گاہ ملکو تی کی طرف پرواز کر گئی اور حالت یہ تھی کہ نیزہ اور شمشیر کے زخموں کے علاوہ ١٣ / تیر بدن میں پیوست تھے۔(۲)

____________________

. ١)بحارالانوار/ج ۵۴ /ص ٢١

. ٢)مقتل الشمس/ص ٢١٧ ۔ ٢١٨

۲۷۹

تار ک الصلاة کاحکم

تارک الصلاة کافرہے

تارک الصلاة لوگوں کے دوگروہ ہیں کچھ بے نمازی ایسے ہیں جونمازکے واجب ہونے سے انکارکرتے ہیں اوریہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نمازواجبات دین میں سے نہیں ہے ،وہ لوگ جوعمدانمازترک کرتے ہیں اورنمازسے کسی اجروثواب کی امیدنہیں رکھتے ہیں اورترک نمازکے عذاب وعقاب سے بھی نہیں ڈرتے ہیں وہ مسلمان کے دائرے سے خارج ہوجاتے ہیں اورمرتدو کافربن جاتے ہیں اوریہودی ،یانصرانی یامجوسی کی موت مرتے ہیں۔

منکرنمازایساہے کہ گویا اس نے حکم قرآن کے برخلاف ایک نیاحکم وضع کیاہے اوراسنے حلال خداکوحرام اورحرام خداکوحلال قراردیاہے لہٰذادین اسلام سے خارج ہوجاتاہے اوروہ اس طغیانی اورسرکشی کی وجہ سے عذاب وعقاب کامستحق ہے ،اس بات کوسب جانتے ہیں کہ خدانے شیطان کواپنی بارگاہ سے اس لئے نکالاتھاکہ اس نے الله کاحکم کوماننے سے انکارکردیاتھااورصرف انکارسجدہ کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے لعنت کاطوق اس کی گردن میں پڑگیا۔

نمازکے واجب ہونے سے انکارکرنے والوں کاحکم یہ ہے کہ ایسے لوگ کافراورمرتدہیں ،ان کابدن پاک نہیں ہے بلکہ وہ لوگ نجس ہیں ،دین اسلام میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے ،اگرکوئی مسلمان منکرنمازکو قتل کردے تواس کاقصاص نہیں ہے لیکن چونکہ خدادنیامیں سب پراپنا رحم وکرم نازل کرتاہے اس لئے وہ دنیامیں آرام سے زندگی بسرکرتاہے لیکن عالم برزخ وآخرت میں سخت عذاب الٰہی میں مبتلاہوگااورہمیشہ جہنم کی آگ میں جلتارہے گاجیساکہ قران میں ارشادخداوندی ہے:

( وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْاوَکَذَّبُوْابِاٰیٰت نآاُوْلٰئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِهُمْ فِیْهَاخَالِدُوْنَ ) (۱) جولوگ کافرہوگئے اورانھوں نے ہماری نشانیوں کوجھٹلادیاوہ جہنمی ہیں اورہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے۔

کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جونمازکوواجب سجھتے ہیں لیکن چندعلل واسباب کی بناء پر(جنھیں ہم ذکرکریں گے)نمازکوبہت ہی آسان اورہلکاسمجھتے ہیں اورنمازکواپنے اوپرایک بوجھ محسوس کرتے ہوئے ،اس کے اداکرنے میں لاپرواہی کرتے ہیں ،نمازکی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے ہیں ،اوراصلاًنمازنہیں پڑھتے ہیں یاایک دن پڑھتے ہیں اوردوسرے دن ترک کردیتے ہیں یاایک وقت پڑھتے اوردوسرے وقت کی قضاکردیتے ہیں اورقضاکی ہوئی نمازوں کوانجام دینے کی فکربھی نہیں کرتے ہیں

____________________

. ١)سورہ بٔقرہ/آیت ٣٨

۲۸۰

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370