اسلامی اخلاق

اسلامی اخلاق13%

اسلامی اخلاق مؤلف:
زمرہ جات: اخلاقی کتابیں
صفحے: 296

اسلامی اخلاق
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 296 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 177871 / ڈاؤنلوڈ: 5167
سائز سائز سائز
اسلامی اخلاق

اسلامی اخلاق

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

یہ وہی دنیاہے جس کی مذمت میں خدا وند سبحان نے فرمایا ہے: ''گونا گوں اور رنگا رنگ خواہشات کی دوستی یعنی عورتیں، اولاد، کثیر اموال سونے چاندی سے، علامت والے (تندرست) گھوڑے، چوپائے اور کھیتیاں یہ سب لوگوں کے لئے آراستہ کر دی گئی ہیں، (لیکن) یہ سب دنیاوی زندگی کے استفادہ کا ذریعہ ہیں۔(١)

بعض آیات میں ہوائے نفس کے عنوان کے تحت مذموم و نا پسند دنیا سے مخا لفت کی ترغیب دلائی گئی ہے۔(٢)

قرآن اس کی حقیقت کی تو ضیح دیتے ہوئے فرماتا ہے:'' جان لو کہ دنیاوی زندگی در حقیقت صرف کھیل کود، تماشہ، آرائش، آپس میں فخرو مباہات اور اولاد واموال میں زیادتی کے مقابلہ کا نام ہے''۔(٣) سر انجام جو اپنی دنیوی زندگی کا دنیا سے سوداکرتے ہیں، قیامت میں ان سے کہا جائے گا: ''اب اسی میں ذلّت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔(٤) ''یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کو دے کر دنیوی زندگی خرید لی ہے لہذا نہ ان کا عذاب کم ہوگا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی''۔(٥)

اس دنیا اور اس کے ناگوار علائم کے بارے میں، جو کہ دنیا وآخرت میں ہوں گے، روایات کثرت سے پائی جاتی ہیںاور ان کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ بعض میں یہ توہم ہوتا ہے کہ گو یا اسلامی اخلاق میں دنیاوی چیزوں کی ہمیشہ مذمت ہی کی گئی ہے جب کہ ایسا نہیں ہے۔ ہم ان روایات میں سے انھیں پر اکتفا کریں گے جو زہد کی بحث میں بیان کی جاچکی ہیں۔

ممدوح دنیا نام ہے اس سے اتنا ہی استفادہ کرنا جتنا اپنی بقائ، خدا کی عبودیت اور اعمال صالحہ انجام دینے کے لئے لازم ہے۔ یہ حقیقت میں تحصیل آخرت کا مقدمہ ہے۔ اس طرح کی دنیا اسلامی اخلاق میں قابل ستائش واقع ہوئی ہے اور انسانوں کو اس کی تحصیل اور اس سے بہرہ مندہونے کی ترغیب اور تشویق دلائی گئی ہے۔

بہت سی روایات میں دنیا و آخرت کے خیر کو بہت سے نیک اعمال کے نتیجہ کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے(٦)

____________________

١۔ آل عمران، ١٤ ؛ منافقون، ٩ ؛انفال ٢٨ اور کہف ٤٧۔

٢۔ نازعات ٤٠۔

٣۔ حدید ٢٠۔

٤۔ مومنون ١٠٨۔

٥۔ بقرہ ٨٦۔

٦۔ کلینی ، کافی، ج٢، ص ٤٩٩، ح ١۔ اور ص ٧١، ح ٢۔ اور ج ٥، ص ٣٢٧، ج ٢ ۔ صدوق، خصال، ص ٤٢، ح ٣٤۔

۱۲۱

بہت سی دعاؤ ں میں ہمیشہ اولیاء خداکا مطلوب یہی رہا ہے۔ جیسا کہ خدا وندعالم قرآن مجید میںارشادفرماتا ہے: ''مومنین کی درخواست یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں: '' خدا یا ! ہمیں اس دنیا میں بھی نیکی اور آخرت میں بھی نیکی عطا کر''۔(١) اس میں شک نہیں کہ خیر دنیا سے مراد وہی ممدوح اور پسندیدہ دنیا ہے اس کے مصادیق کثرت سے پائے جاتے ہیں کہ بعض روایات میں ان کی طرف اشارہ ہوا ہے۔حضرت علی ـ ممدوح اورپسندیدہ دنیا کی ستا ئش میں فرماتے ہیں: ''دنیا مومن کی سواری ہے جس پر سوار ہو کر وہ خداوند سبحان کی طرف سفر کرتا ہے، لہٰذا اپنی سواریوں کو آمادہ (اصلاح) رکھو تاکہ وہ تمہیں تمہارے رب کی جانب پہنچادیں''۔(٢)

متعدد روایات میں مذکورہے '' جو انسان اپنی معیشت اور اپنے اہل و عیال کی دنیا اصلاح کرنے کے لئے حلال طریقہ سے کوشش کرے تو وہ راہ خدا میں مجاہد کے مانند ہے ''۔(٣)

دنیا کی محبت کی نشانیاں:

دنیا کی محبت کی اہم نشانیاں میں جو ایک مانع کے عنوان سے انسان کے زہدکے مقابل ہے وہ حرص وطمع ہے جس کو اختصا رکے ساتھ بیان کررہے ہیں۔

الف۔ دنیا کی حرص:

عربی لغت میں ''حرص '' محبوب و مطلوب چیز کی طلب میں شدید خواہش وارادہ ہوتا ہے۔(٤) نیکی کے حصول میںحرص کرنا ممدوح اورپسندیدہ ہے جیسا کہ رسول اکرم نے واقعی توبہ کرنے والوں کی خصوصیات میں نیکیوں اور خیرات پر حریص ہونا جانا ہے۔(٥) متعدد روایات میں علم حاصل کرنے(٦) ، فقاہت(٧) ، نیک اور پسندیدہ اعمال انجام دینے(٨) ، راہ خدا میں جہاد کرنا(٩) ، ١خروی درجات(١٠) حاصل کرنے اور ان کے مانند دوسری چیزوں ہیں حریص ہونے کی ستائش ہوئی ہے۔

____________________

١۔ سورئہ بقرہ، آیت ٢٠١۔ ٢۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج ٢٠، ص ٣١٧، ح ٦٤٠۔٣۔ شیخ کلینی، کافی، ج ٥، ص ٩٣، ح٣۔ ص٨٨، ح٢ ۔ حرانی، تحف العقول، ص ٤٤٥۔ ٤۔ ابن منظور، لسان العرب، ج٧، ص١١۔راغب اصفہانی، مفردات الفاظ قرآن، ص ٢٢٧، ٢٢٨ ملاحظہ ہو۔

٥۔ حرانی، تحف العقول، ص ٢٢۔ ٦۔ نہج البلاغہ، خطبہ ١٩٣ ۔ حرانی، تحف العقول، ص ١٦٠۔٧۔ شیخ کلینی، کافی، ج ٢، ص ١ ٢٣، ح٤ ملاحظہ ہو۔

٨۔ شیخ صدوق، خصال، ص ٥١٥، ح ١۔٩۔ شیخ کلینی، کافی، ج ٢، ص ٢٣١، ح ٤ ملاحظہ ہو۔ ١٠۔ حرانی، تحف العقول، ص ٢٨٦۔

۱۲۲

دنیا کا حریص ہونا ناپسندیدہ صفات اور زہد کے موانع میں سے ایک مانع ہے۔ اسی بنیادپر متعدد آیات وروایات میں اس کی شدت سے مذمت کی گئی ہے اور اس کے نقصان دہ اثرات مختلف پہلوئوں سے بیان کئے گئے ہیں۔ حریص انسان کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ کبھی سیر نہیں ہوتا ہے۔ حرص کا اہم ترین نمونہ روایات معصومین(ع) کی روشنی میں علماء وحکماء کی حرص اور محرمات کے انجام دینے کی حرص ہے۔ سب سے اہم حرص کا سبب موت کو بھلادینا اور دنیا کی محبت ہے۔ ذلت وخواری، حیا و انسانیت کو ترک کرنا، گناہوںمیںڈوب جانا، انجام و عاقبت کو تباہ وبرباد کردینا دنیا کی حرص کے اہم ترین میں سے ہیں ۔ توکل، قناعت اور موت کی یاد کو دنیاکی حرص کے علاج کا بہترین وسیلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

ب۔ طمع اور لالچ :

عربی لغت میں طمع کسی شے سے متعلق(١) شہوت وخواہش نفس کے ساتھ اشتیاق کے مفہوم کو کہتے ہیں، علماء اخلاق کی نظر میں طمع سے مراد ہے لوگوںکے اموال کی خواہش اور لالچ کرنا۔(٢) حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ''مومن کے لئے کتنی بری بات ہے کہ وہ ایسی چیز کی خواہش اور دلچسپی پیدا کرے جو اسے ذلیل و خوار کردے''۔(٣) حضرت امام زین العابدین ـ دوسرے کی چیزوں سے انسان کی طمع کے قطع کرنے کی ترغیب و تشویق کے متعلق فرماتے ہیں: '' میں تمام خیر کو لوگوں کے پاس موجود چیزوں سے قطع طمع کرنے میں دیکھتا ہوں''۔(٤) ( یعنی اگر انسان تمام خیرکو جمع کرنا چا ہتا ہے تو لوگوں کے پاس موجود چیزوں سے چشم پوشی کرے اور اس پر نظر نہ جمائے)۔ اس وجہ سے طمع اور لالچ بہت سے اخلاقی رزائل کا سرچشمہ ہے جیسے ذلت وخواری، پستی، حسد اور جلن، کینہ توزی، بد گوئی۔ محبت دنیا کے دیگر علائم میں ایک حسرت وافسوس ہے اور یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کو دنیا حاصل نہیں ہوپاتی ہے۔

۲۔ خمود:

خمود سے مراد زندگی کے لئے ضروری کسب معاش میں سستی و تفریط کرنا نیز جنسی اور تمام لذتوںسے بہرہ مند ہونے میں بے رغبتی، عدم دلچسپی اور سستی کرنا ہے ۔(٥) جس طرح دنیا کی محبت اور اس سے دلبستگی زہد کی راہ میںمانع محسوب ہوتی ہے اسی طرح حد سے زیادہ ضروریات زندگی کی لازم مقدار پورا کرنے اور دنیوی مواہب اور عطیوںسے استفادہ کرنے میں سستی کرنا دنیا کی نسبت صحیح موقف کی راہ میں ایک مانع ہے۔ جو آیات وروایات ممدوح اورپسندیدہ دنیا کے بارے میںبیان کی گئی ہیںوہ سب زندگی کی ضروری چیزوں کے حصول سے متعلق سستی اور خمود کا مظاہرہ کرنے کی مذمت پر دلالت کرتی ہیں۔

____________________

١۔ راغب اصفہانی، مفردات الفاظ قرآن، ص ٢١٦۔ ٢۔ نراقی، مولی محمد مہدی، جامع السعادات، ج٢، ص ١٠٦۔ ٣۔ کلینی، کافی، ج ٢، ص ٣٢، ح ١۔ ٤۔ ایضاً، ج٢، ص ٣٢٠، ح ٣۔ ٥۔ نراقی، مولی محمد مہدی، جامع السعادات، ج٢، ص ١٣، ١٥۔

۱۲۳

و۔ دوسروں کی نسبت نفس کا رجحان

ہمارے خیال میں دوسروں کی نسبت انسان کے نفسانی مطلوب رجحان کو اللہ کی دوستی اور دشمنی کے محو ربیان کیا جاسکتا ہے '' حب فی اللہ '' اور '' بغض فی اللہ '' یہ دونوں ایسے مفاہیم ہیں جو اسلامی کتابوں کے اندر شدت کے ساتھ مورد تاکید واقع ہوئے ہیں اور دراصل دوسروں کی نسبت ہمارے دراز مدت موقف اور ہماری حکمت عملی کی تعیین کرتے ہیں۔ اسی سے اس حصہ کے مطالب انھیںدو عنوان کے تحت بیان کئے جائیںگے اور دیگر وہ تمام مفاہیم جو دوسروں سے متعلق ایک طرح سے نفسانی رجحان کو بیان کرتے ہیں ان کو ان دونوں کے توابع اور ملحقات کے عنوان سے بیان کریں گے۔

١۔ خدا وندعالم کی محبت

ایک۔دیگر دوستی کی حقیقت اور اس کے اقسام

علماء اخلاق نے دیگر دوستی (دوسروں کو دوست رکھنے) کے لئے چار صورتیں بتائی ہیں کہ پہلے ان کے بارے میںبیان کر یں گے پھر ان کی پسند شکلوں کو واضح کریں گے۔

١۔ انسان کا اپنے لئے دوسروںسے محبت کرنا نہ اس لئے کہ وہ محبوب تک رسائی کے لئے ایک راہ ہے۔ چونکہ خود اسے قابل دوستی اور صاحب کمال و جمال محسوس کرتا ہے اور اس کے دیدار سے لذّت حاصل کرتا ہے لہٰذا اسے دوست رکھتا ہے۔

کبھی اس طرح کی دوستی ایک قسم کی محض و باطنی ہم آہنگی کی وجہ سے بھی ہوتی ہے بغیراس کے کہ کوئی خوبصورتی اور کمال معلوم ہو۔ اس طرح کی دوستی کے مخفی اسرار کا کشف کرنا معمولی انسان کے بس سے باہر ہے، کہا گیا ہے: پیغمبر اکرم نے اس طرح کی دوستی کی طرف جو کہ مخفی ارتباط سے ہوتی ہے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:'' ارواح مثل لشکر کے ہیں، ان میں سے جو ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں وہ باہم مانوس ہوتی ہیں اور جوایک دوسرے کو نہیں پہچانتیں وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں ''۔(١)

____________________

١۔ صدوق، فقیہ، ج ٤، ص ٣٨٠، ح ٥٨١٨ ؛ اعتقادات، ص ٤٨ ؛ جامع الاخبار، ص ٤٨٨، ح ١٣٥٩ ؛ علل الشرائع، ص ٨٤، ح١۔

۱۲۴

اس طرح کی دیگردوستی خدا وند سبحان کی دوستی میں شمار نہیں ہوتی لیکن خود بخود مذموم اور بری بھی نہیں ہے، بلکہ انسان کی نفسانی خواہشات میںسے ایک ہے لیکن اگر مذموم اور نا پسند مقصد تک پہونچنے کا ذریعہ ہوتو خود بھی مذموم اور قابل ملامت ہوجائے گی۔

٢۔ ایسے محبوب تک رسائی کے لئے وسائل و ذرائع کے عنوان سے انسان کا دوسرے کو دوست رکھنا کہ جو اس کے لئے دنیاوی فوائد اور منافع رکھتا ہے، کیونکہ انسان ان وسائل و آلات جو اسے محبوب تک پہونچاتے ہیں عشق کرتا ہے۔ واضح ہے کہ اس طرح کی دوستی بھی خدا کی محبت شمار نہیں ہوتی۔

٣۔ دوسرے کودوست رکھنا ایک ایسے وسیلہ کے عنوان سے جو اسے ایسے ہدف تک پہونچا ئے کہ وہ ہدف اس کے لئے آخرت کے مثبت فوائد کاحامل ہو، جیسے وہ محبت جو اپنے استاد سے راہ حق کاسالک رکھتا ہے۔ کیونکہ اس کا ہدف سعادت اخروی کا حصول ہے اور معلم ایسا وسیلہ ہے جو اسے اس ہدف تک راہنمائی کرتا ہے

اسی طرح ہے وہ محبت بھی جو معلم اپنے شاگردوںسے رکھتا ہے، کیونکہ شاگردوں کے وجود کے واسطہ سے وہ استاد کے کمال و مرتبہ تک پہونچا ہے اور اس مرتبہ کو پا کر حضرت عیسیٰ ـ کے بقول ''اس کی بزرگی کا تذکرہ ملکوت اعظم میں ہوتا ہے''(١) بلکہ کلی طور پر ہر اس انسان کی دوستی جس کے علم وفن، صنعت وہنر، کام کاج اور عمل کے ذریعہ انسان خدا کے نزدیک ہوتا ہے جیسے ایسے لوگوں کو دوست رکھنا جو انسان کی دنیوی ضرورتوں کو فراہم کرتے ہیں تاکہ ان سے استفادہ کر کے اپنے اخروی و دنیوی اہداف تک پہنونچ سکیں، بے شک یہ تمام دیگر دوستی خدا کی دوستی محسوب ہوتی ہے۔

٤۔ دوسروں سے صرف خداکے لئے محبت کرنا، نہ اس لئے کہ اس کے علم و عمل سے فا ئدہ اٹھا ئے گا یا اسے کسی دوسرے ہدف تک پہونچنے کے لئے وسیلہ قرار دے گا، بلکہ اس لئے کہ وہ خدا سے ایک نسبت رکھتا ہے، وہ عام نسبت ہو جیسے یہ کہ وہ خدا کے بندوں میں سے ایک بندہ ہے یاخاص نسبت جیسے یہ کہ وہ خدا کا سچا اور واقعی دوست اور اس کا مقرب اور راہ خدا میں خدمت گذار ہے۔ اس کی محبت کی شدت کے نتائج نیز اس کے عالی مراتب سے میںیہ ہے کہ محبت اساسی طور پر محبوب سے متعلق تمام چیزوں تک سرایت کرجاتی ہے ( یعنی انسان محبوب کے ساتھ ساتھ اس سے متعلق چیزوں کو بھی دوست رکھنے لگتا ہے ) خواہ رابطہ اور نسبت دور ہی کی کیوں نہ ہو۔ جیسے جو انسان کسی دوسرے سے شدید محبت کرتا ہے وہ ان لوگوں کو بھی دوست رکھتا ہے جو اس کے محبوب کو دوست رکھتے ہیں، اس کی خدمت کرتے ہیں، اس کی تعریف توصیف کرتے ہیں یا اس کے محبوب کے محبوب ہیں۔(٢)

____________________

١۔ ابوفراس، تنبیہ الخواطر، ج١، ص ٨٢۔ ٢۔ نراقی، مولی محمد مہدی، جامع السعادات، ج٣، ص١٨٤تا ١٨٧۔

۱۲۵

دو۔خداسے محبت کرنے کی فضیلت

اسلامی اخلاق میں خدا کی محبت بلند مرتبہ کی حامل ہے اور اس کی کثرت سے تاکید کی گئی ہے اور اس کے لئے دنیا اور آخرت میں بہت سے علائم بیان کئے گئے ہیں۔

حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ''ایک دن پیغمبر اکرم نے اپنے اصحاب سے سوال کیا: ''ایمان کی دستا ویزوںمیں سے کونسی زیادہ محکم و مضبوط ہے '' انہوں نے جواب دیا: خدا اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ ا ن میں سے بعض نے کہا: نماز۔ کچھ نے کہا: زکات۔ کچھ نے کہا: روزہ۔ کچھ نے کہا حج و عمرہ اور بعض نے جہاد کوسب سے محکم خیال کیا۔ رسول خدا نے فرمایا: ''ان سب کی فضیلت ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی محکم ترین نہیں ہے بلکہ محکم ترین ایمان کی د ستاویز خدا کے لئے دوستی کرنا اور اسی کے لئے دشمنی کرنا، خدا کے دوستوں کو دوست رکھنا اور اس کے دشمنوں سے دشمنی اور بیزاری کرناہے'' ۔(١)

حضرت امام محمد باقر ـ انسان کے خیر و صلاح سے استفادہ کی علامت خدا کے لئے دوستی کو جانتے تھے، جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:'' جب تم جاننا چاہو کہ تم میں کوئی خیر پایا جارہا ہے تو اپنے دل کی طرف نگاہ کرواگر خدا کی اطاعت کرنے والے کو تم نے دوست رکھا اور اہل معصیت وگناہ کو دشمن توتم میں خیر ہے اور خدا بھی تم کو دوست رکھتا ہے لیکن اگر خدا کی اطاعت کرنے والوںکو دشمن اور خدا کی معصیت کرنے والوں کو دوست رکھا تو تم میں خیر کا وجود نہیں ہے نیز خدا بھی تمہیں دشمن رکھتا ہے، انسان( کا حساب و کتاب) اسی کے ساتھ ہے جسے وہ دوست رکھتا ہے''۔(٢)

آخرت میں خدا کی محبت کے علائم بارے میں حضرت امام زین العابدین ـ فرماتے ہیں: ''جب خدا وندعالم اولین سے لے کر آخرین تک تمام انسانوںکو جمع کرے گا تو ایک آوازلگانے والا اٹھے گا اور ایسی آواز سے کہ سب سن سکیں گے آواز لگائے گا: '' کہاں ہیں وہ لوگ جو خدا کے لئے دوستی کرتے تھے؟'' تو لوگوں کا ایک گروہ اٹھے گا اور ان سے کہا جائے گا : بغیر حساب و کتاب کے تم لوگ جنت میں داخل ہوجاؤ ''۔(٣) خدا وند عالم سے دوستی اور دشمنی کی اہمیت و منزلت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ متعدد روایات میں ایمان کی ساری حقیقت خدا کی دوستی اور دشمنی میں خلاصہ کی گئی ہے۔

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج٢، ص ١٢٥، ح ٢ ؛ برقی، محاسن، ج١، ص ٤١١ ؛مجلسی، بحار الانوار، ج ٦٩، ص ٢٤٢، ح ١٧۔

٢۔ ایضاً، ج ٢، ص ١٢٦، ح ١١ ؛ بر قی، محاسن، ج١، ص ٤١٠، ح ٩٣٥۔

٣۔ ایضاً، ج ٢، ص ١٢٦، ح ٨ ؛ بر قی، محاسن، ج١، ص ٤١٢، ح ٩٤٠۔

۱۲۶

جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق ـکا ایک صحابی آپ سے سوال کرتا ہے:'' آیا دوستی اور دشمنی ایمان میں شمار کی جائے گی ؟ امام نے جواب دیا: ''کیا ایمان دوستی اور دشمنی کے علاوہ کوئی اورچیز ہے ؟ ''(١)

تین۔خدا سے محبت کرنے کی نشانیاں

ان میں سے بعض نشانیاں جو خود نفسانی صفات اور بہت سے گراں قیمت اور اہم اخلاقی نشانیاں نتائج کا سر چشمہ ہیں، درج ذیل ہیں:

١۔ نصیحت اور خیرخواہی:

نصیحت و خیر خواہی ''حقد '' (کینہ) اور حسد( جلن) کے مقابلہ میں ہے اوراس سے مراد یہ ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں سے دوسروں کے استفادہ کی نسبت راضی و خوشنود ہواور ان پر بلا اور مصیبت کا نازل ہونا اس کے لئے ناگوارہو۔ اس خیر خواہی کا لازمہ یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو اس بات کی طرف جس میں ان کے لئے خیر و صلاح ہے ہدایت کرے۔ حضرت امام جعفر صادق ـ پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ''لوگوں میں سب سے زیادہ خداکے نزدیک قیامت کے دن عظیم انسان وہ ہے جو خلق کی خیر خواہی میں دوسرے افرادسے زیادہ قدم اٹھائے''۔(٢) اسی طرح پیغمبر اکرم نے فرمایا ہے:'' لوگوںمیںسب سے زیادہ عبادت گذار وہ انسان ہے جس کا دل تمام مسلمانوںکی نسبت سب سے زیادہ پاک و صاف ہو''۔(٣) جب رسول خدا سے لوگوں کی نصیحت اور خیر خواہی کی علامت کے بارے میں پوچھا گیا توآپ نے فرمایا: ''خیر خواہ انسان کی چار علا متیں ہیں: حق کے ساتھ فیصلہ کرنا اور اپنا حق دوسروں کو بخشنا، لوگوں کے لئے وہی پسند کرنا جو اپنے لئے پسند کرتا ہو، حق کے واسطے کسی کے ساتھ دست درازی نہ کرنا''۔(٤) دراصل چاروں علامتوں کو تیسری علامت میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی بنیاد پر حضرت علی ـفرماتے ہیں: ''انسان کی خیر خواہی میں اتنا ہی کافی ہے کہ جو کچھ وہ اپنے لئے پسند نہیں کرتا دوسروں کو بھی اس سے روکتا ہو''۔(٥)

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج٢، ص ١٢٥ ح ٥۔ اسی طرح ملاحظہ ہو کافی، ص١٢٧ ح ١٦ ؛ تفسیر عیاشی، ج١، ص ١٦٧، ح ٢٥۔

٢۔ کلینی، کافی، ج٢، ص ٢٠٨ ،ح ٥۔

٣۔ ایضاً، ص ١٦٣، ح٢۔

٤۔ حرانی، تحف العقول، ص ٢٠۔

٥۔ اردبیلی، ابولفتح، کشف الغمہ، ج٣، ص١٣٧، ١٣٨۔

۱۲۷

٢۔مومنین سے حسن ظن:

حسن ظن، انصاف، کرم وبخشش اور مروت جیسے مفاہیم کا بھی خدا وندعالم کی محبت کے علائم کے عنوان سے ذکر کیا جاسکتا ہے لیکن چونکہ یہ فضیلتیں حقیقت میںنصیحت اور خیر خواہی کی نشانی میں شمار ہوتی ہے لہٰذا حسن ظن کی طرف اشارہ کو اس مختصر کتاب میںکافی سمجھتے ہیں۔ مومنین سے بد گمانی کی مذمت میں قرآن کریم فرماتا ہے: '' اے صاحبان ایمان، بہت سے گمانوں سے پرہیز کروکیونکہ کچھ گمان گناہ ہیں''۔(١) واضح ہے ان گمانوں سے مراد کہ جن سے اجتناب لازم ہے ناروا گمان ہیں، یعنی سوء ظن ( بد گمانی)۔ اسی طرح گمان سے اجتناب کرنے سے مراد اپنی بد گمانیوں پر ترتیب اثر نہ دینا ہے۔(٢) آیت کے استمرار سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگرآیت صرف مومنین سے بد گمانی کی مذمت سے متعلق نہ ہو، تب بھی کم از کم ان سے بد گمانی کی مذمت اور حقیقت میں مومنین کی نسبت حسن ظن آیت کی بعض مراد ہے۔امیرا لمومنین حضرت علی ـ مومنین سے حسن ظن رکھنے کے بارے میں فرماتے ہیں: ''اپنے بھائی کے عمل کو بہترین وجہ پرحمل کرو اس وقت تک جب تک کہ اس سے کوئی ایسا کام سرزد ہوجو توجیہ کی راہ بند کردے اور جب بھی کوئی بات تمہارے برادر (ایمانی ) کے دہن سے نکلے تو جب تک اسکا بہترین معنی پائو بد گمانی نہ کرو۔(٣)

پیغمبر اکرم بھی حسن ظن کے نفسانی علائم کے بارے میں فرماتے ہیں: '' اپنے ایمانی بھائیوں سے حسن ظن رکھو تاکہ دل کی پاکیزگی اور صفائے نفس تک حاصل کرو ''۔(٤) بد گمانی کے جملہ تباہ کن اثرات میں غیبت، اختلافات کا ظاہر ہونا، بخل حسد ہے جن کو بحث کے تسلسل میں ان کے عوامل واسباب کو بیان کریں گے۔(٥)

بد گمانی ایجاد کرنے کا سب سے اہم عامل تہمت کی جگہ اور الزام کے مقام پر واقع ہوناہے۔ حضرت علی ـ ان لوگوں کی مذمت میں جو خود کو تہمت کی جگہ قرار دیتے ہیں،فرماتے ہیں: ''جو شخص کسی بری جگہ اور ٹھکانہ پر رفت و آمد کرے تووہ متہم ہوجائے گا اور جو اپنے آپ کو مقا م تہمت میںقرار دے تو اسے اس کو جو اس سے بد گمان ہوگیا ملامت نہیں کرنا چاہیے''۔(٦)

____________________

١۔ سورئہ حجرات، آیت ١٢۔

٢۔ طباطبائی ، المیزان، ج ١٨، ص ٣٢٣۔

٣۔ کافی ج٢، ص ٣٦٢، ح ٣۔نہج البلاغہ حکمت ٣٦٠ ۔ حرانی، تحف العقول، ص ٢٧١ ۔

٤۔ گیلانی، عبد الرزاق، مصباح الشریعة، ص ٤٦٤۔

٥۔ مصباح الشریعة، ص ٤٦٣تا٤٦٧ ۔مجلسی، بحار الانوار، ج ٧٥، ص ٢٠١ ۔ صدوق، فقیہ، ص ٤٠٩، ح ٨٩ ٥٨۔

٦۔ نہج البلاغہ حکمت ٥٩ا۔ شیخ صدوق، امالی، ص ٢٥٠، ح ٨ ۔ کراجکی، کنز الفوائد ج٢، ص١٨٢۔ حرانی، تحف العقول، ص ١٥٧تا ٢٧١۔

۱۲۸

اپنے سے دوسروں کی بد گمانی کو دور کرنے کا طریقہ حضرت علی ـ مالک اشتر سے بیان فرماتے ہیں:

'' اگر رعیت تمہارے بارے میںظلم و ستم کا گمان کرے تو اپنے عذرکو ان کے درمیان آشکار طورپر بیان کرو اور ایسا کرکے ان کی بد گمانی دور کرو کہ اس میں تمہارے نفس کی تربیت بھی ہے اور رعیت کے ساتھ نرمی اور مدارا کا اظہار بھی اور وہ عذر خواہی بھی ہے جس کے ذریعہ تم انھیںحق کی راہ پر چلانے کا مقصد بھی حاصل کر سکتے ہو''۔(١)

جی ہاں، ہمیشہ حسن ظن پسندیدہ اور محبوب نہیں ہے بلکہ کبھی بے موقع اور ناپسند بھی ہے۔ مثال کے طور پر ایسے زمانے میں حسن ظن رکھنا جب کہ ظلم و فساد حق اور خیر وصلاح پر غلبہ رکھتا ہے اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے، جیسا کہ حضرت علی ـ نے فرمایا ہے: ''اگر زمانہ اور اہل زمانہ پر برائی غالب آجائے اورکوئی دوسرے پر حسن ظن رکھے تو گویا اس نے اپنے آپ کو دھوکہ دیا ہے ''۔(٢) دوسری جگہ دشمنوں سے حسن ظن رکھنے کی مذمت کے بارے میں مالک اشترکو ہوشیار کرتے ہیں: صلح کے بعد اپنے دشمن سے مکمل طور پر چوکنا اور ہوشیار رہنا کیونکہ دشمن کبھی کبھی اپنے آپ کو تم سے اس لئے نزدیک کرتا ہے تاکہ تمہیں غافل بنادے لہٰذا دور اندیش اور محتاط رہو اور اپنے دشمن سے حسن ظن نہ رکھو''۔(٣)

چار۔ خداوندسبحان سے دوستی کے موانع

یہاں پر خدا کی راہ میںموانع محبت سے مراد ایسے موانع ہیں جو خود نفسانی صفات میں سے ہیں اس طرح کے اہم ترین موانع، حسد، حقد اور کینہ توزی وغیرہ ہیں۔

١۔ حسد:

ارباب لغت کے نزدیک حسد، اس بات کا نام ہے کہ انسان دل میں کسی شخص کی ایسی نعمت سے محرومیت کی تمنا رکھتا ہو جس کا وہ استحقاق رکھتا ہو۔(٤)

علماء اخلاق نے اس مفہوم کی مزید شرح میں زیادہ کہا ہے: حسد یعنی ایسی نعمت کے زوال کی آرزو کرنا جس سے استفادہ کرنے میں مسلمان شخص کی صلاح ہے۔ اس تعریف میں دو معتبر عنصر تصور کئے گئے ہیں: اول یہ کہ انسان

____________________

١۔ نہج البلاغہ، مکتوب ٥٣۔

٢۔ نہج البلاغہ حکمت ١١٤، اسی طرح ملاحظہ ہوکلینی کافی ج٥، ص ٢٩٨، ح٢ ؛ ؛حرانی، تحف العقول، ص٣٠٢۔

٣۔ نہج البلاغہ، مکتوب ٥٣۔

٤۔ راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، ص١٦ا۔

۱۲۹

دل میں دوسرے انسان سے نعمت کے زوال کی تمنا رکھتا ہو اور دوسرے یہ کہ اس نعمت سے اس کا مالا مال ہونا اس کے لئے مصلحت کا حامل ہو، لیکن اگر اس کی آرزو ایسی نعمت کا رکھنا ہو جس سے دوسرا انسان مالا مال ہے تو ایسی حالت کو ''غبطہ''اور ''منافسہ' 'کہتے ہیں، جیسا کہ قرآن کریم فرماتاہے: '' ان نعمتوں '' میں مشتاقین کو چاہئے کہ ایک دوسرے پر سبقت کریں''۔(١) اور اگر ایسی نعمت کہ مسلمان شخص کے پاس سے جس کے زوال کی تمنا رکھتا ہو اور اس کا اس شخص میں ہونا صلاح نہ ہو، مثال کے طور پر اس کے فساد اور تباہی میں مبتلا ہونے کا باعث ہو تو ایسی حالت کو ''غیرت '' کہتے ہیں۔(٢) اس لحاظ سے ''غبطہ'' ''منافسہ'' اور غیرت '' بااہمیت نفسانی حالات ہیں اور صرف ''حسد '' کہ جو دوسروں کی نصیحت اور خیر خواہی کے مقابلہ میں آتا ہے وہ اخلا ق کی برائی میں شمار ہوتا ہے۔

البتہ حسد اور خیر خواہی کے درمیان تشخیص یقین یا اطمینان کے ساتھ افرادکی واقعی مصلحت شناخت پر موقوف ہے اور جب بھی ایسی شناخت کا حصول ممکن نہ ہو تو انسان کو چاہیے کہ صرف دوسروں کی واقعی مصلحت کی تمنّا پر اکتفا ء کرے اور اس نعمت کی نسبت کوئی موقف نہ رکھتا ہو۔ روایات میں حسد کی متعدد علامتیں بیان کی گئی ہیں جیسے غیبت، شماتت، دوستی کا اظہار، دشمنی کا پوشیدہ کرنا، احسان کے مقابل ناشکری اور اہلیت و شائستگی سے کم تعریف کرنا وغیرہ۔ کہ ہم اختصار کی رعایت کرتے ہوئے اس کی تفصیل سے صرف نظر کرتے ہیں۔

لفظ ''حسد''قرآن کریم میں پانچ بارمختلف صورتوں میں ذکرہوا ہے کہ سب ہی صریحی طور پر یا اشارہ کے طور پر حسد کی مذمت پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسا کہ خدا پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ تمام برائیوں با لخصوص ان کے بعض خاص مصادیق جیسے حاسدین کے حسد سے خداکی پناہ مانگو: '' کہو: ''میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں جو کچھ اس نے خلق کیا ہے اس کے شر سے اور ہر حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے ''۔(٣) اسی طرح بارہا کافروں کو پیغمبر اکرم ، وحی اور دینی معارف جیسی نعمتوں سے مسلمانوں کے مالامال ہونے کی نسبت ان کے حسد کرنے کی وجہ سے سرزنش کرتا ہے '' یا وہ ان لوگوں سے اس بات پر حسد کرتے ہیں کہ خدا نے اپنے فضل سے انھیں عطا کیا ہے ''۔(٤)

____________________

١۔ سورئہ مطففین، آیت ٢٦۔

٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص١٩٢؛فیض کاشانی، المحجة البیضا ئ، ج٥، ص ٣٣٠۔

٣۔ سورئہ فلق، آیات، ١، ٢، ٣۔

٤۔ سورئہ نسا ئ، آیت ٤ ٥ ؛ اسی طرح ملا حظہ ہو طباطبائی، ا لمیزا ن، ج٤، ص٣٧٦۔

۱۳۰

قرآن مجید کے بقول کفار مومنین سے حسد کی شدت کی بنا پر آرزو کرتے ہیں کہ مومنین کو ان کے ایمان لانے کے بعد دوبارہ کفر کی طرف پلٹادیں: '' بہت سے اہل کتاب جب کہ ان پر حق واضح ہو چکا ہے، اس حسد کی وجہ سے جو ان کے اندر پایا جاتا ہے آرزو کرتے تھے کہ تمہیںایمان لانے کے بعد کا فر بناڈالیں''۔(١)

پیغمبر اکرم خبر دیتے ہیں کہ خداوند عظیم نے موسٰی ـ سے فرمایا: ''اے عمران کے فرزند ! جو کچھ میں نے لوگوں کو اپنے فضل سے دیا ہے اس پر حسد نہ کرو اور اس کے پیچھے اپنی نگاہ کو د ر ا ز نہ کرواور اس کے چکر میںاپنا دل نہ الجھاؤ کیونکہ میری نعمت سے حسد کرنے والا غمگین رہتا ہے اور جو تقسیم میں نے اپنے بندوں کے درمیان کی ہے اس میں حائل ہوتا ہے لہٰذا جو ایسا ہو گا وہ مجھ سے نہیں ہے اور میںاس سے نہیں ہوں۔(٢)

حسد کے نقصان دہ اور خطر ناک علائم روایات میں بیان کئے گئے ہیں، جیسے لذت کی کمی، حاسدوں کے سکون و اطمینان اور اس کی راحت وخوشی کا سلب ہونا، اس کی آہ و حسرت درد ورنج کی کثر ت حتیٰ کے جسمانی سلامتی اور قوت کا کھو دینا، اس کے دین و ایمان کا نابود ہونا اس کے علاوہ اخروی مقامات اور سعادت کا ضائع ہو جانا۔

علماء اخلاق نے حسد کے درجات ومراتب درج ذیل عنوان سے بیان کئے ہیں:

١۔ یہ کہ انسان دوسرے سے نعمت کے زائل ہو نے کی تمناو آرزو دل میں رکھتا ہو، خواہ وہ نعمت اس کے ہاتھ نہ لگے ۔ یہ حسد کی بد ترین قسم ہے۔

٢۔دوسرے سے نعمت زائل ہونے کی خواہش خو د اس تک پہو نچنے کیلئے۔ مثال کے طور پر وہ خاص مرتبہ تک پہنچنا چاتا ہے اور چونکہ اس کا اس مرتبہ تک پہونچنا دوسرے سے اس کے سلب پر موقوف ہے لہٰذ وہ اس کے دوسرے سے زائل ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ درج ذیل آیت اسی طرح کے حسد کی ممانعت پر دلالت کرتی ہے: '' خبردار! جو کچھ خدا نے تم میں سے بعض کو بعض سے زیادہ دیا ہے اس کی آرزو نہ کرنا''۔(٣)

٣۔ اس نعمت کے مشابہ جوکسی دوسرے کے پاس ہے طلب کرے اور اگر خود اس نعمت تک نہ پہونچ سکے تو چاہے کہ دوسرے سے بھی سلب ہو جائے اور اگر دوسرے سے اسی نعمت کو سلب کرسکتا ہو تو اس کے لئے کوشش کرے۔

____________________

١۔ سو رئہ بقرہ ، آ یت ٩ ١٠۔

٢۔ کلینی کافی، ج ٢، ص٧ ٠ ٣، ح٦۔

٣۔ سو ر ئہ نسا ئ، آ یت ٣١۔

۱۳۱

٤۔ وہی تیسری صورت، اس فرق کے ساتھ کہ اس کی عقل و دین کی قوت اس بات سے مانع ہوتی ہے کہ دوسرے سے اس نعمت کے سلب کرنے کا اقدام کرے اورا پنی اس نفسانی حالت سے (یعنی دوسرے سے نعمت کے سلب کرنے کی تمنا سے) ناراض اور غمگین ہے، یہ نفسانی حالت اگر چہ ناپسند ہے، لیکن عذاب خداوند ی کا باعث نہیں ہوگی اور ایسے انسان کی نجات کی امید پائی جاتی ہے۔(١) حسد کے اہم عوامل عوامل و اسباب مندرجہ ذیل ہیں:

١۔ نفسانی پستی اور گندگی جس کے نتیجہ میں بغیر اس کے کہ کوئی خاص دشمنی اس کے اور دوسروں کے درمیان ہو دوسروں سے نعمت کے زوال پر خوش اور نعمت خدا وندی سے ان کے فیضیاب ہونے پر محزون و مغموم اور دوسروں کے درد والم، رنج و غم میںمبتلا ہونے سے خوش ہے، اگر چہ ان کے مالا مال ہونے سے اسے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

٢۔ دشمنی اور بغض حسد کے وسیع ترین عوامل میں سے ہے، کیونکہ خدا کے خاص دوستوں کے علاوہ تمام لوگ اپنے دشمن کے پریشانی میں مبتلا ہوجانے پر شاد و مسرور ہوجاتے ہیں۔

٣۔ ریاست طلبی اور مال و منصب سے لگاؤ، جو شخص دوست رکھتا ہے کہ اپنے فن میں منفرد جیسے شجاعت، عبادت اور اس کے مانند دوسری چیزوںمیں یکتا اور قابل مدح و ستائش رہے، جب وہ اپنے لئے کوئی رقیب اور نظیر دیکھتا ہے تو اس کے لئے ناگوارہوتا ہے، اور یہی چاہتا ہے کہ کسی صورت اس کے رقیب سے نعمت سلب ہوجائے۔

٤۔ اہداف ومقاصد تک نہ پہنچنے کا خوف، ایسی جگہ جہاں بہت سے افراد ایک ہی ہدف کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، اور ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ صرف اس ہدف تک پہنچے۔

٥۔ اپنے ہم پلّہ اور ہم پیشہ افراد کی برتری کا تحمل نہ کرنا، کیونکہ احساس کرتا ہے کہ اگر اس کاہم پلّہ فوقیت لے جائے گا تو اس پر فخرو مباہات کرتے ہوئے اس کی تحقیروتوہین کرے گا۔ اس بنا پر کہ سب ایک دوسرے کے برابر ہوں اور کوئی دوسرا اس پر تکبرنہ کرے، اپنے ہم پلّہ سے حسد کرتا ہے۔

٦۔ تکبر:

حاسد انسان چاہتاہے کہ دوسروں پربزرگی جتائے اور دوسرے لوگ اس کے پیرو اور تابع رہیں، چونکہ نعمت خدا وندی سے دوسروں کا فیضیاب ہونا اس تشویش کو اس کے اندر ابھارتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا بہرہ مند ہونا اس کے تہی دست ہونے کا باعث ہوجائے، جیسا کہ کفار پیغمبر اکرم کے بارے میں کہتے تھے: ''کیوں یہ قرآن ان دونوں شہروں (مکّہ ومدینہ) کے کسی بڑے شخص پر نازل نہیں ہوا ؟''(٢)

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی ، جامع السعادات، ج ٢، ص ٩٨ ١، ٩ ٩ ١۔ ٢۔ زخرف ٣١۔

۱۳۲

٧۔ دوسروںکے عظیم نعمتوں سے فیضیاب ہونے کی توقع نہ کرنا:

اور اس پر حیرت کرنا یعنی انسان کو اس لائق نہیں سمجھنا کہ اس طرح کی عظیم نعمتوں سے وہ بہرہ مند ہو، نتیجہ کے طور پر اس سے حسد کرتا ہے۔(١) جیسا کہ مشرکین پیغمبرسے کہتے تھے: '' تم ہمارے جیسے انسان کے سوا کچھ نہیں ہو''۔(٢)

رہا سوال یہ کہ ہم کس حد تک اپنے سے حسد کو دور رکھیں، اس کا جواب یہ ہے کہ حسد کبھی انسان کے قول و فعل سے غیبت اور تہمت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اورکبھی انسان کی رفتار وگفتار سے ظاہر نہیں ہوتابلکہ وہ صرف اپنے دل میں خواہش رکھتا ہے کہ دوسرے سے نعمت زائل ہوجائے۔ بلا شبہہ دونوں گناہ شمار ہوتے ہیں اور اس سے مقابلہ کرنا واجب ولازم ہے لیکن کبھی حسد کے علائم انسان کی گفتار و کردار سے ظاہر نہیں ہوتے اور انسان بھی اپنے اندر دوسروں سے زوال نعمت کے متعلق پائی جانے والی نفسانی خواہشات کی مذمت و ملامت کرتا ہے۔اس قسم کا حسد گناہ شمار نہیں ہوتا اور عقاب کا باعث نہیں ہے، اگر چہ اس سے مقابلہ بھی نیک اور معنوی بلندی کا باعث ہے۔(٣)

٢۔حقد اور کینہ توزی :

''حقد وکینہ '' کینہ سے مراد ہے دل میں دوسرے کی عداوت ودشمنی رکھنا اور اس کے ظاہر کرنے کے لئے موقع کی تلاش میں رہنا۔(٤) در حقیقت حقد، وہ خشم وغضب ہے کہ جو ظاہر نہیں ہو پاتا ہے اوردل میں دب کر رہ جاتا ہے،یہاں تک کہ ایک دن موقع پا کر ظاہر ہو جائے ۔(٥) بلا شبہہ حقد نفسانی رذائل میں سے ایک رذیلت اور خداوند سبحان سے دوستی کے موانع میں سے ایک مانع ہے۔ معصومین (ع) کے گہر بارکلمات میں کینہ توزی، اس کے علائم و اسباب اور اس سے نجات کے بارے میں بہت سے ارشادات بیان کئے گئے ہیں۔ حضرت علی ـ نے حقد و کینہ توزی کی مذمت میں فرمایا ہے: لہٰذا اپنے دلوں میں مخفی آتش تعصب کو خاموش کردو اور جاہلیت کے کینوں کو نکال پھینکو کہ مسلمانوں میں اس غرور کا ہونا شیطانی خصلتوں میں سے ہے ''(٦)

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص ١٩٩تا ٢٠٢۔

٢۔ یس ١٥ ۔مومنون ٣٤، ٤٨۔

٣۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص ٢١٠ ، ١ ١ ٢۔

٤۔ ابن منظور، لسا ن العر ب، ج ٣، ص ٤ ٥ ١

٥۔ نراقی، جامع السعادات، ج ١، ص٣١١۔

٦۔ نہج البلاغہ، خطبہ ١٩٢۔

۱۳۳

ایک دن پیغمبر اکرم نے لوگوں سے پوچھا: ''کیا میں تمہیں تم میں اپنے سے سب سے کم شباہت رکھنے والے انسان سے آگاہ نہ کروں ؟ انہوں نے عرض کی: کیوں نہیں ، فرمایا: بدگو، بے آبرو، بے حیا، بخیل، متکبر، کینہ توز، حاسد، سنگدل، ایسا انسان جس سے کوئی خیر نہیں ہوتا اور کوئی اس کے شر سے محفو ظ نہیں ہے ''۔(١)

حضرت علی ـ سے کینہ توزی کے عوامل و اسباب کے بارے میں منقول ہے: ایسے انسان کے پاس علم بیان کرنے سے پرہیز کروجو اس کا شوق نہیں رکھتا نیز گذشتہ مرتبہ و شرف کے بیان سے پرہیز کرو ایسے انسان کے پاس جو ماضی میں کوئی افتخار آمیز چیز نہیں رکھتا تھا اس لئے کہ یہ ا مرتیری نسبت اس کی کینہ توزی کا سبب ہوگا۔(٢)

حقد و کینہ توزی کے علائم کے بارے میں حضرت امام حسن عسکری ـنے فرمایا: '' لوگوں میں سب سے زیادہ رنجیدہ اور سب سے کم آسودہ کینہ توز انسان ہے ''۔(٣) حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ''خداوند عالم ہر روز ایک فرشتہ کو حکم دیتا ہے کہ آسمان پر آواز لگائے اور میرے بندوں کو نوید دے کہ میں نے تمہارے گذشتہ گناہوں کو بخش دیا اور شب قدر میں تم میں سے بعض کو بعض کا شفیع قرار دیا جز اس انسان کے جو شراب سے افطارکرے یا اپنے مسلمان بھائی سے کینہ توز ی کرے۔(٤)

حقد کے دنیوی نقصانات میں ایک یہ ہے کہ کینہ توز انسان کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔(٥) حقد اور کینہ توزی سے مقابلہ اس درجہ اہم ہے کہ قرآن کریم بعض مومنین کے قول کو نقل کرتاہے کہ وہ لوگ اپنی دعاؤں میں خداوند عالم سے اظہار کرتے ہیں: '' خدا یا! ہمیں اور ہمار ے ان بھائیوں کو جو ایمان میں ہم پر سبقت رکھتے ہیں بخش دے ا ور ہمارے دلوں میں صاحبان ایمان کی نسبت کسی طرح بھی کینہ قرار نہ دے، خدا یا یقینا تو روؤف ومہربان ہے''۔(٦) وہ تمام چیز یں جو کینہ توزی کے بر طرف کرنے کا سبب ہیں، ان میں سے ایک ہدیہ دینا ہے۔ پیغمبر اکرم نے فرمایا: ''ہدیہ دینا دلوں سے کینوں اور کدورتوں کو دور کردیتا ہے''۔(٧) اسی طرح ضیافت اور مہمانداری کرنا کینہ کے برطرف ہونے کاسبب ہوتا ہے، حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ''کینوں کی آگ کو گوشت اورروٹی سے دورکرو'' (مہمان نوازی کرکے اسے ختم کرو)۔(٨)

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج ٢، ص ١ ٩ ٢،ح٩۔ ٢۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج ٢٠، ص ٣٢٢، ح ٩٦ ٦نیز ،ص٣٢٧، ح٧٤٣۔

٣۔ حرانی، تحف ا العقول، ص ٣٦٣۔ ٤۔ قطب راوندی، دعوات، ص ٣٠٧، ح٥٦١۔

٥۔ صدوق، معانی الاخبا ر، ص ٠٨ ٢، ح ٣۔ ٦۔ سورئہ حشر، آیت ١٠۔

٧۔ صدوق، عیون اخبارالرضا، ج ٢، ص ٧٣، ح ٣٤٣ ۔ کلینی، کافی، ج ٥، ص ١٤٣، ح ٧۔

٨۔ کلینی، کافی، ج ٦، ص٣١٨، ح ١٠۔

۱۳۴

۲۔خدا وند سبحان کے لئے دشمنی

خدا وند سبحان کے لئے دشمنی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس انسان کو جو خدا کے سامنے عصیان وگناہ، طغیانی وسر کشی کرتا ہے دشمن رکھے۔ البتہ جس طرح خداکی معصیت کے درجات و مراتب ہیں اسی طرح خدا کے لئے دشمنی کے بھی درجات مراتب ہیں۔ خدا کے مقابل سر کشی کبھی عقیدہ کے ساتھ ہے جیسے کفر و شرک اختیارکرنا اوردین میں بدعت کرنا اور کبھی رفتار وگفتار اور کبھی قول وفعل کے ساتھ دوسروں کی اذیت و آزار سے جڑی ہوتی ہے، جیسے قتل، ضرب، زخم لگانا جھوٹی گواہی دینا۔ اور کبھی دوسروں کی اذیت وآزار کا باعث نہیں ہوتی۔ یہ قسم کبھی دوسروں کے فساد کا باعث ہوتی ہے، جیسے دوسروں کے لئے فساد کے اسباب و وسائل فراہم کرنا، اور کبھی دوسروں کے فساد کا باعث نہیں بنتی۔ یہ آخری قسم کبھی گناہ کبیرہ ہے تو کبھی گناہ صغیرہ ہے۔دشمنی بھی مختلف طرح کی ہوتی ہے جیسے دوری اختیار کرنا، جداہونا، بات چیت بند کرنا، سخت کلامی کرنا، توہین و تحقیر کرنا، اس کی پیروی نہ کرنا، اس کے لئے برائی کی کوشش کر نا اور اس کی ضرورتوں اور آرزوؤں کے پورانہ ہونے کی سعی کرنا۔

واضح ہے کہ خدا کے لئے بغض کے درجات ومراتب شدت و ضعف کے اعتبارسے خدا وند سبحان کی معصیت کے مراتب و درجات کے تابع ہیں، کہ درحقیقت وہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مراتب ہیں۔ قابل ذکر بات ہے کہ اگر گناہگا ر انسان پسندیدہ صفات کا مالک ہو جیسے علم و سخاوت، تو پسندیدہ صفات کے لحاظ سے محبوب ہے لیکن خدا کی نافرمانی اور عصیان کی بنا پر مبغوض اور نا پسند ہے۔(١)

اس بنا پر بعض لوگوں سے محبت کرنا حرام اور بعض دیگرسے مکروہ اور خدا کے نزدیک نا گوار ہے یعنی ان سے بغض رکھنا واجب یا مستحب ہوگا۔(٢)

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی، جا مع السعادات، ج ٣، ص ١٨٧، ١٨٨۔

٢۔ ان موارد کی مزید معلومات کے لئے رجوع کیجئے سورئہ مجادلہ، آیت ٢٢۔ سورئہ ممتحنہ، آیت ١، ٨، ٩ ۔سورئہ آل عمران، آیت ١١٩ ۔ سورئہ ھود، آیت ١١٣ ۔ صفات الشیعہ، ص ٨٥، ح ٩۔ صدوق، امالی، ص ٧٠٢ ح ٩٦٠۔ مجلسی، بحار الانوار، ج ٦٩، ص ٧ ٢٣، ح ٤۔ج ٧٤، ص ١٩٧، ح ٣١۔ اور ج ٩ ٦، ص ٢٣٧، ح ٣ ۔ کلینی، کافی، ج ٢ ص، ١٢٦، ح ١١، ج ٥ ص ١٠٨، ح ١٢ ۔ ابن ابی فراس، تنبیہ الخواطر، ج ١، ص ٧٢۔ شعیری، جامع الاخبار، ص ٤٢٨، ح ١١٩٨ ؛ صدوق، فقیہ، ج ٤، ص ١٧ ٤، ح ٥٩٠٧ ؛ تفسیر قمی، ج٢، ص٢٨٧۔

۱۳۵

چوتھی فصل:

مؤثر نفسانی صفات

ز۔ نفس کو قابو میں رکھنے والے رجحان

نفس کو قابو میں رکھنے والے رجحان سے مراد وہ نفسانی صفات اور ملکات ہیں جو بہت سے اخلاقی رذائل سے روکنے کا کردار ادا کرتے ہیں اور دوسری طرف متعدد اخلاقی فضیلتوںکی راہ ہموار کرتے ہیں، اس قسم میں ممتاز نفسانی صفات درج ذیل ہیں:

١۔ نفس کی قوت

ایک ایسا نفسانی ملکہ ہے جو انسان کو اس بات کی قدرت بخشتاہے کہ پیش آنے والے حوادث خواہ کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہوں آسانی سے تحمل کر سکے۔ قوت نفس کی فضیلت و عظمت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ خدا وند عالم قرآن کریم میںارشاد فرماتا ہے: '' عزت خدا، پیغمبر خدا اور مومنین ہی کے لئے ہے ''۔(١)

حضرت امام جعفر صادق ـ نے اس سلسلہ میں فرمایا: ''خدا وند عالم نے مومنین کے تمام امور اس کے حوالے کر رکھے ہیں، لیکن اس نے اجازت نہیں دی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل و خوار کردے۔ آیا خدا وندعالم کا یہ کلام نہیں دیکھتے کہ اس نے فرمایا ہے: '' وللہ العزة و لرسولہ وللمومنین'' (عزت اﷲ، اس کے رسول اور مومنین ہی مخصوص ہے) لہٰذا سزاوار ہے کہ مومن با عزت ہو، ذلیل نہ ہو''۔(٢)

(ایک) قو ت نفس کے فوائد

نفسانی قوت وقدرت، نفس پر بہت سے سود مندو مفید اثرات و نتائج چھوڑتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک خود بھی نفسانی ملکہ اس کے مقابلہ نفس کیضعیف ہونے سے بہت سے اخلاقی رذائل مرتب ہوتے ہیں۔ ذیل میں انسان کی روحی عظمت فوائد کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے۔

____________________

١۔ سورئہ منافقون، آیت ٨۔

٢۔ کلینی، کافی، ج ٢۔

۱۳۶

١لف۔ ثبات اور اطمینان ( عدم اضطراب ) :

ثبات ایک ایسا نفسانی ملکہ ہے جو انسان کو اس بات کی قدرت عطا کرتا ہے کہ خطروں میں پڑ کر مشکلات اور رنج والم کی سختیوں کا ،خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، مقابلہ کرے، بغیر اس کے کہ اس میں ذر ہ برابر بھی شکستگی پیدا ہو۔ اس کے مقابل مشکلات وخطرات کے وقت اضطراب، تزلزل ہے۔ ثبات وپا یداری کے گونا گوں مظاہر پائے جاتے ہیں کہ ان میں سب سے نمایاں شکوک وشبہات کے مقابل ایمان میں پایداری اور ثبات ہے۔ قرآن کریم اس سلسلہ میں فرماتا ہے: '' خدا وندعالم صاحبان ایمان کو دنیوی اور اخروی زندگی میں محکم واستوار سخن سے ثابت وپایداربناتا ہے ''۔(١)

واضح ہے کہ ایمان میں ثبات اور عد م تزلزل تمام اہم نفسانی رجحانا ت کی پایداری و ثبات کا مقدمہ ہے۔ یہ امر خود بھی عمل صالح انجام دینے میں پایداری و ثبات کاباعث ہوگا۔ ثبات و پایداری معرفت کا نتیجہ ہونے کے ساتھ ساتھ روح کی قوت وعظمت کا بھی نتیجہ ہے جوکہ اہم نفسانی فضائل میں سے ایک ہے۔(٢)

ب۔ بلند ہمتی:

یعنی کمال و سعادت کے حصول اورعالی ترین امور تک پہنچنے کے لئے اس طرح سے کوشش کرنا کہ ان تک پہنچنے کی راہ میں دینوی نفع ونقصان کی طرف توجہ نہیں دے۔ بلند ہمت افراد کو دنیوی منافع شاد و مسرور اور اس کے نقصانات غمگین ومحزون نہیں کرتے حتی کہ بلند اہداف تک پہنچنے میں موت اور قتل کئے جانے کی بھی پرواہ نہیں کرتے ۔اس کے مدمقابل کوتاہی اورپست ہمتی ہے کہ پست ہمت شخص بلند اہداف کی طلب میںکوتاہی کرتا اور صرف پست اور معمولی امور پر قناعت کرتا ہے یہ نفسانی صفت خود ہی روح کی عظمت وقوت کا نتیجہ ہے اوربلا شبہہ نفسانی فضائل میں سے ایک ہے، کیونکہ قابل قدر اوربلند انسانی اہداف تک رسائی بلند ہمتی اور عظیم جد و جہد کے بغیر میسر نہیں ہے، شہامت ( شجاعت) جوکہ خود ایک با اہمیت نفسانی ملکہ ہے، اسے بلند ہمتی کے مصادیق میں شمار کیا گیا ہے۔(٣)

ج۔ غیرت وحمیت:

یعنی جس چیز کی حفاظت لازم ہے اس کی پاسداری و محافظت کی کوشش کرنا، یہ حالت روح وشہامت کی قوت و عظمت کے نتائج میں سے ایک ہے۔ حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا ہے: ''خدا وند تبارک و تعالی غیرت مند ہے اور ہر غیرت مند کو دوست رکھتاہے اس کی غیرت مندی ہی ہے کہ اس نے برائیوں کو خواہ ظاہر ہوں یا پنہاں، حرام کیا ہے''۔(٤)

____________________

١۔ سورئہ ابراہیم، آیت ٢٧۔ ٢۔ نراقی، محمد مہدی، جا مع السعادات، ج ١، ص ٢٦٢۔ ٣۔ ایضاً، ج١، ص ٢٦٣، ٢٦٤۔ ٤۔ کلینی، کافی، ج ٥، ص ٥٣٥، ح ١۔

۱۳۷

حضرت علی ـ نے بھی فرمایا ہے : '' نسان کی قدر وقیمت اس کی ہمت کے اعتبار سے ہے اور اس کی دلیری اس کے ننگ رکھنے کے بقدر ہے (پستیوں اور رذالتوں کو تسلیم کرنے کے اعتبار سے) ، اور اس کی پاکدامنی اس کی غیرت کے بقدر ہے''۔(١)

علماء اخلاق نے غیرت کے متعدد مقامات اور موارد ذکر کئے ہیں اور چونکہ بعض اخلاقی نصوص اس کے خاص موارد کی طرف ناظر ہیںلہٰذا بہتر ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جائے۔

١۔ دین میں غیرت:

دین میں غیرت کا لازمہ یہ ہے کہ بدعتوں اوراہانتوں کے مقابل دین کے تحفظ کی کوشش کریں، اور شبہہ ایجاد ہونے کی صورت میں اس کاشائستہ انداز میں دفاع کریں۔ دین کے احکام کی نشرو اشاعت کے لئے میں کوشاںرہیں اورامربہ معروف ونہی عن المنکر کرنے میں تساہلی سے کام نہ لیں۔

٢۔ نامو س کے لئے غیرت:

اسلام کے اخلاقی نصوص میں مردوں کو ایسی غیرت مندی کی طرف شدت کے ساتھ ترغیب دلائی گئی ہے اور ان کا یہ فریضہ بیان کیاگیا ہے اور جو انسان ایسی غیرت کا مالک نہیں ہے اس کی سختی کے ساتھ مذمت ہوئی ہے۔ حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: '' بے حس اور بے غیرت مردوں پربہشت حرام کردی گئی ہے '' ۔(٢) اور پیغمبر اکرم نے فرمایا: '' بہشت کی خوشبو پانچ سو سالہ راہ کے فاصلہ سے انسان کے مشام تک پہنچے گی لیکن نا خلف اولاد اور بے حس وبے غیرت انسان اسے سونگھ نہیں سکتا''۔(٣) امام محمد باقر ـ نقل کرتے ہیں: اسیروںکے ایک گروہ کو رسول خدا کے پاس لایا گیا توپیغمبر نے دستور دیا کہ ان کے درمیان ایک شخص کو آزاد اور باقی کوقتل کردیا جائے ۔ آزاد شدہ شخص نے سوال کیا: آپ نے مجھے کیوں آزاد کردیا ؟ پیغمبر اکرم نے جواب دیا: جبرئیل نے خدا کی طرف سے مجھے خبر دی ہے کہ تم میں پانچ ایسی خصلتیں پائی جاتی ہیں جنھیں خدا اور اس کا رسول دوست رکھتا ہے اپنی ناموس کے سلسلہ میں غیرت مند، جود و سخا، خوش اخلاقی، قول میں صداقت اور شجاعت۔ وہ انسان اس بات کے سنتے ہی مسلمان ہو گیا اور اپنے ایمان پر ثابت قدم رہا یہاں تک کہ ایک غزوہ میں درجہ شہادت پر بھی فائز ہوا''۔(٤)

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج٥، ص ٥٣٧، ح ٨۔

٢۔ نہج البلاغہ، حکمت ٤٧، ٣٠٥۔

٣۔ صدوق، فقیہ، ج٣، ص ٤٤٤، ح ٤٥٤٢۔

٤۔ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج ٢٠، ص ١٥٥۔

۱۳۸

یہ بات مخفی نہ رہے کہ ناموس کے سلسلہ میں حد سے زیادہ غیرت دکھانا ہرگز پسندیدہ نہیں ہے بلکہ بعض اوقات فساد کاباعث بھی ہوسکتا ہے۔ غیرت کا مقام وہاں ہے جہاںحرام کے ارتکاب کا یقین ہو یا انسان کو مقام تہمت وبد گمانی میں واقع ہونے کا خطرہ ہو۔ حضرت علی ـاپنے فرزند امام حسن ـ کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''بے جاغیرت سے پرہیز کرو کہ یہ چیز صحیح و سالم عورت کو بیمار بنادے گی اور پاکدامن کو بد گمانی (اور گناہ کی فکر) میں ڈال دے گی۔(١)

٣۔ اولاد کے سلسلہ میں غیرت:

اولاد کے سلسلہ میں غیرت کا مطلب یہ ہے کہ آغاز طفولیت سے ہی ان کی مادی ضرورتوں کو پوراکرنے کے لئے حلال راستوںسے کوشش کرے۔ ان کی صحیح تربیت کرنے کے لئے کوشاں رہے اور ایسے خطرات سے اولاد کی حفاظت کرے جو ان کی جسمانی یا اخلاقی صحت و سلامتی کے لئے چیلنج ہوں۔

٤۔ مال کے سلسلہ میںغیرت:

اس میں کوئی شک نہیں کہ مال دنیا میں انسان کی بقا کا ضامن نیز علم و عمل اور اخروی سعادت کی تحصیل کا وسیلہ ومقدمہ ہے۔ اس وجہ سے ہر عاقل پر لازم ہے کہ اس کی تحصیل کے لئے جائز و مشروع راستوں سے کوشش کرے اور اس کی محافظت ونگہداری کے سلسلہ میںاپنی غیرت کا مظاہرہ کرے۔ مال کے متعلق غیرت دکھانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی کے علاوہ کسی اور راہ میں ضایع نہ کرے، خود نمائی اور دکھاوے میں خرچ نہ کرڈالے، اسے بے نیازوں کے حوالے نہ کردے، اس کے خرچ کرنے اوربخشش کرنے کے سلسلہ میں اسراف کا راستہ نہ اپنائے(٢)

د۔ وقار اور قلبی سکون:

اخلاقی لغت میں ''وقار '' رفتار و گفتار اور حرکات میں پائے جانے والے سکون واطمینان کانام ہے۔ اس وجہ سے ''وقار'' ایک ایسا عام مفہوم ہے جو''تأنی ّ'' اور ''توقّف '' دونوں کو شامل ہوتا ہے؛ اس لئے کہ ''توقف '' ہر طرح کے اقدام سے پہلے لمحہ فکریہ اور اپنے اوپر کنٹرول کرنے کا نام ہے تاکہ اس اقدام کا درست ہونا انسان پر آشکار ہوجائے۔ ''تأنی ّ'' گفتار ورفتار کے شروع ہونے کے بعد ذہنی سکون و اطمینان کا نام ہے تاکہ امور کو شائستگی کے ساتھ مرحلہ انجام تک پہنچاسکے۔

____________________

١۔ نہج البلاغہ، مکتوب ٣١۔

٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج١، ص ٢٦٥، ٢٧٤۔

۱۳۹

وقار اور قلبی اطمینان وسکون کے درمیان نسبت کے بارے میںکہا گیا ہے کہ جب بھی کوئی انسان رفتار و گفتار میں زحمت و تکلف کے ساتھ سکون کو حاکم قرار دے تو ایسے انسان کو با وقار کہتے ہیں، لیکن قلبی سکون و اطمینان اس وقت حاصل ہوگا جب سکون ایک صفت اور ملکہ کی صورت میں نفس کے اندر موجود ہو۔ بعبارت دیگر وقار ظاہری سکون اور سکینہ باطنی سکون کو کہتے ہیں۔(١) رسول خدا وقار کی اہمیت کوبیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''اسلام عریاں ہے اور اس کا لباس حیا اور اس کا زیور وقار ہے ''۔(٢)

حضرت علی ـ پرہیزگاروںکی خصوصیت کے بارے میں فرماتے ہیں: '' وہ لوگ زلزلوں (سختیوں) میں ہیں''۔(٣) حضرت امام جعفر صادق ـ اس گراں قیمت صفت کی تحصیل کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: ''طلب علم کی کوشش کرواور اس کے ساتھ ساتھ خود کو حلم و وقار سے آراستہ کرو'' ۔(٤) قرآن قلبی سکون و اطمینان کو مومنین کے صفات میں شمار کرتا ہے اور اس کی تحصیل کی راہ خداوند عالم کی یاد کو جانتا ہے۔ '' وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل یاد الہی سے مطمئن ہیں، آگاہ ہو جاؤ کہ یاد الہی سے دلوںکو اطمینان نصیب ہوتا ہے ''۔(٥) خداوند عالم متعدد مقامات پر اعلان کرتا ہے کہ ہم نے سکون و اطمینان کوپیغمبر اکرم اور مومنین کے دلوں پر نازل فرمایا ہے۔ '' وہ ہے جس نے مومنین کے دلوں میں سکون نازل کیا تاکہ وہ اپنے ایمان میں مزید ایمان کا اضافہ کریں ''۔(٦)

واضح ترین اسباب و علل جو وقار کے حصول کے لئے روایات میں بیان ہوئے ہیں مندرجہ ذیل ہیں:

١۔ خدا وند عالم کی بندگی:

حضرت علی ـ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: جو شخص خاندان اور قبیلہ کے بغیر عزت، سلطنت کے بغیر ہیبت، مال کے بغیر بے نیازی اور جود و بخشش کے بغیر فرمانبرداری کا طالب ہو تو اسے چاہیے کہ خدا کی نافرمانی کی ذلّت سے نکل کر اس کی بندگی کی عزّت کی طرف آجائے۔(٧)

____________________

١۔ جامع السعادات، ص ٢٧٩ ،٢٨٠۔ ابو ہلال عسکری ؛ معجم الفروق اللغة، ص٢٨٠ ؛ المیزان، طباطبائی، ج٩، ص٧ ٢٢تا ٣ ٢٢۔ اورج٢، ص٢٨٩تا ٢٩١۔

٢۔ کلینی، کافی، ج٢، ص ٤٦، ح٢۔٣۔ نہج البلاغہ، خطبہ ١٩٣۔ اسی طرح ملاحظہ ہو: صدوق، فقیہ، ج ٤، ص٣٥٤، ح ٥٧٦٢۔

٤۔ کلینی، کافی، ج ١، ص ٣٦، ح١۔ ٥۔ سورئہ رعد، آیت ٢٨۔٦۔ سورئہ فتح، آیت ٤، نیز ملاحظہ ہو آیات ١٨، ٢٦ ؛ طباطبائی، المیزان، ج ٢ ص ٢٨٩تا ٢٩١ اور ج ٩، ص٢٢٣تا ٢٢٧۔٧۔ خزاز، قمی، کفاےة الاثر، ص ٢٢٨ ؛ مجلسی بحار الا نوار، ج ١ ٧، ص ٩ ١٧، ح ٢٩۔

۱۴۰

٢۔ علم و حکمت:

حضرت علی ـاس سلسلہ میں فرماتے ہیں: ''جو شخص حکمت سے آگاہ ہے اس کو نگاہیں ہیبت اور وقار کی نظر سے دیکھتی ہیں ''۔(١)

٣۔ حلم:

حضرت علی ـسے منقول ہے: ''حلم وقا رکا باعث ہے '' ۔(٢)

٤۔سکوت:

حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''زیادہ خاموشی انسان کے وقار میں اضافہ کرتی ہے ''۔(٣) نیز مومنین اور پرہیز گاروں کی خصوصیات کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: '' اے ہمام ! مومن زیادہ سے زیادہ خاموش رہتا ہے اور باوقار ہوتا ہے ''۔(٤)

٥۔ تواضع و فروتنی:

حضرت علی ـ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: ''فروتنی تم پر بزرگی اور شان و شوکت کا لباس پہناتی ہے '' ۔(٥) اسی طرح روایات میںدوسرے اسباب جیسے آہستہ گفتگو کرنا(٦) وغیرہ بیان ہوا ہے کہ اختصار کی وجہ سے انھیںہم ذکر نہیں کررہے ہیں۔ آیات و روایات میںاطمینان قلب کے لئے بہت سے اسباب و علل بیان کئے گئے ہیں کہ ان میں سب سے اہم درج ذیل ہے:

١۔ ازدواج:

قرآن کریم اس سلسلہ میں فرماتا ہے: ''اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم ہی میں سے تمہارے جوڑوں کو تمہارے لئے خلق فرمایا تاکہ ان سے سکون حاصل کرواور تمہارے درمیان محبت ورحمت قرار دی۔ ہاں، اس (نعمت ) میں صاحبان عقل و فکر کے لئے یقینا ً نشانیاںہیں''۔(٧) دوسری جگہ فرماتا ہے: ''وہ ایسی ذات ہے جس نے تم کو ایک نفس سے خلق فرمایا اور اس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ اس سے سکون حاصل کرو'' ۔(٨)

٢۔ عدالت:

حضرت فاطمہ زہرا ٭ فرماتی ہیں: ''خداوند عالم نے ایمان کو شرک دور کرنے کا ذریعہ....... اور عدالت کو دلوں کے سکون کا باعث قرار دیا ہے ''۔(٩)

____________________

١ ۔ کلینی، کافی، ج ٨، ص ٢٣، ح ٤، اور ملاحظہ ہو : صدوق، علل الشرائع، ج ١، ص ١١٠، ح ٩ ؛ مجلسی، بحار لا نوار، ج ١، ص ١١٧تا ١٢٤۔٢۔ آمدی، غرر الحکم، حکمت ٥٥٣٤۔ ٣۔ کلینی، کافی، ج ٢، ص ٢٢٦، ح ١۔ ٤۔ ایضاً۔٥۔ آمدی، غرر الحکم، ح ٤١٨٤۔ ٦۔ کافی، ج٥، ص٣٩،ح٤۔٧۔ سورئہ روم، آیت ١ ٢۔ ٨۔ سورئہ اعراف، آیت ١٨٩۔ ٩۔ صدوق، من لا یحضر الفقیہ،ج٣، ص٥٦٨،ح٤٩٤٠۔ علل الشرایع، ص٢٤٨، ح٢۔ طبرسی، احتجاج، ج١،ص١٣٤۔

۱۴۱

٣۔ایمان:

حضرت امام جعفر صادق ـنے فرمایا: ''کوئی مومن نہیں ہے مگر یہ کہ خداوندعالم اس کے ایمان کے نتیجہ میں اس کے لئے ایک انس قرار دیتا ہے کہ جس سے وہ سکون حاصل کرتا ہے، اس طرح سے کہ اگر وہ پہاڑ کی چوٹی پر بھی ہو تو اپنے مخالفین سے وحشت نہیں رکھتا''۔(١) واضح ہے کہ اس سکون و اطمینان کا درجہ ایمان کے اعتبار سے ہے، جتنا ایمان کا درجہ زیادہ ہوگا اس سے حاصل شدہ سکون بھی زیادہ پایدار ہوگا۔

٤۔ خدا کی یاد:

قرآن کریم میں مذکور ہے: '' وہ لوگ جو ایمان لا چکے ہیںاور ان کے دل یاد الہی سے مطمئن ہیں آگاہ ہوجائیں کہ یاد الہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے ''۔(٢)

٥۔ حق تک پہنچنا:

حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا:'' انسان کا دل ہمیشہ حق کی تلاش و جستجو میں مضطرب اور پریشان رہتاہے اور جب اسے درک کرلیتا ہے تو مطمئن ہو جاتا ہے ''۔(٣) اس لحاظ سے شک وتردید کے علائم میں سے ایک اضطراب اور عدم سکون ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا ذہنی درد و الم ہے۔ اُن تمام مذکورہ موارد کا فقدان جو سکون و وقار کے اسباب و علل میں شمار کئے گئے ہیں ان دونوں کے تحقق کے موانع شمار ہوتے ہیں مگر چونکہ بعض دیگر امور روایات میں سکون و وقار کے موانع کے عنوان سے ذکر کئے گئے ہیں لہٰذا ذیل میںان میں سے اہم ترین امور کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے:

۱۔ لوگوں سے سوال و درخواست کرنا:

حضرت امام زین العابدین ـ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: ''لوگوں سے سوال کرنا انسان کی زندگی کو ذلت وخواری سے جوڑ دیتا ہے، حیا کو ختم کردیتا اور وقار کو کم کردیتا ہے ''۔(٤) حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: ''فقیر انسان میں ہیبت و عظمت کا وجود محال ہے

۲۔ حد سے زیادہ ہنسنا اور ہنسی مذاق کرنا:

حضرت علی ـ نے فرمایا: ''جو زیادہ ہنستا ہے اس کی شان و شوکت کم ہوجاتی ہے ''۔ رسولخدا فرماتے ہیں: ''زیادہ ہنسی مذاق کرنا انسان کی آبرو کو ختم کردیتا ہے''۔(٥)

____________________

١ ۔ مجلسی، بحار لا نوار ج ٦٧، ص ٨ ٤ ١، ح ٤۔ ٢۔ رعد ، ٢٨۔ ٣۔ کلینی، کافی، ج ٢، ص٤٢١، ح ٥۔ ٤ ۔ مجلسی، بحار لا نوار، ج ٧٨، ص ١٣٦، ح ٣و ج ٧٥، ص ١٠٨۔

٥ ۔ کلینی، کافی، ج ٨، ص٢٢، ح ٤، اور ملاحظہ ہو حرانی، تحف العقول، ص ٩٦۔

۱۴۲

نیز حضرت علی ـ سے وصیت فرماتے ہیں : ''ہنسی مذاق کرنے سے اجتناب کروکیونکہ تمہاری شان و شوکت اور عظمت ختم ہوجائے گی ''۔(١) حضرت علی ـ نے بھی فرمایا ہے: ''جو زیادہ ہنسی مذاق کرتا ہے وہ کم عقل شمار ہوتا ہے''۔(٢)

٣۔ مال، قدرت،علم، تعریف اور جوانی سے سر مست ہونا:

حضرت علی ـ کی طرف منسوب بیان کے مطابق عاقل انسان کو چاہیے کہ خود کو مال، قدرت، علم، ستائش و جوانی کی سرمستی سے محفوظ رکھے، کیونکہ یہ سر مستی انسان کی عقل کو زائل کردیتی ہے اوراس کے وقارکو ختم کردیتی ہے۔(٣)

٤۔ جلد بازی:

جلد بازی سے مراد کسی کام کو بغیر سونچے سمجھے انجام دینا ہے۔ حضرت علی ـ مالک اشتر کو لکھتے ہیں: ہر گز کسی ایسے کام میں جلد بازی نہ کرو جس کا ابھی وقت نہ ہوا ہو! یا جس کام کا وقت ہوچکا ہو اس کے کرنے میں سستی نہ دکھاؤ! کوشش کروکہ ہر کام کو اس کے موقع و محل اور اس سے مخصوص وقت میں ہی انجام دو''۔(٤) ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں: '' کسی کام میں جب تک کہ واضح نہ ہو اس کے کرنے میں جلد بازی نہ کرو''۔(٥) اور فرماتے ہیں: اس چیز میں جس میںخدا نے جلد بازی لازم نہیں قرار دی ہے اس میںجلد بازی نہ کرو ۔ ''(٦)

اسلام کے خلاقی نظام میںجلد بازی ہمیشہ نا پسندنہیں ہے، بلکہ بعض امور میں اس کی تاکید بھی کی گئی ہے، لیکن درج ذیل موارد میں جلد بازی سے روکا گیا ہے جیسے سزادینے، جنگ و خونریزی کرنے، کھانا کھانے، نماز تمام کرنے اور غور خوص کرنے میں جلد بازی سے منع کیا گیا ہے۔ نیکیوں، خدا کی خوشنودی، توبہ، عمل صالح اور تحصیل علم وغیرہ کے لئے جلد بازی کی تاکید کی گئی ہے۔ قرآن کریم نیک امور کی جانب سبقت کرنے کی تاکید فرماتا ہے: '' نیک کاموں میںایک دوسرے پر سبقت کرو''۔(٧)

____________________

١۔ صدوق، امالی، ص ٣ ٢٢، ح ٤۔ اختصاص، ص ٢٣٠ ؛ کلینی، کافی، ج ٢، ص ٦٦٤، ح ٦، اور ٦٦٥، ح١٦۔

٢۔ کلینی، کافی، ج ٨، ص٢٢، ح ٤۔ حرانی، تحف العقول، ص ٦٩۔ ٣۔ آمدی، غرر الحکم، ح ٩٤٨ ١٠۔

٤۔ نہج البلاغہ، نامہ ٥٣۔ ٥۔ نہج البلاغہ، خطبہ ١٧٣۔ ٦ْ۔ ایضاً، خطبہ ٠ ١٩۔ ٧۔ سورئہ بقرہ، آیت ٤٨ اور سورئہ مائدہ، آیت ٨ ٤۔

۱۴۳

دو۔ نفس کے لئے خطر ناک شئی

نفس کے لئے خطر ناک شئی اس کا ضعیف ہونا ہے جس کے مضر اثرات ہیں اور یہ نفس کے موانع میںشمار ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض اثرات جیسے عدم ثبات، پست ہمتی، غیرت و حمیت کا نہ ہونا ان مباحث کے ضمن میں جو قوت نفس کے علائم میںبیان ہوئے ہیں، آشکار ہوگئے۔ یہاں پر ایک دوسرا مانع یعنی ''تہاون'' اور ''مداہنہ ''کا ذکر اس کی اہمیت کی بنا پر کیا جا رہا ہے۔

''مداہنہ'' سے مراد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں نرمی، کوتاہی اور سستی سے کام لینا ہے''۔(١) امر

با لمعروف اور نہی عن المنکر میں سستی اور کوتاہی یا نفس کے ضعیف ہونے سے پیدا ہوتی ہے یا اس شخص کے مال اور اعتبار میں دنیوی طمع و آرزو کی وجہ سے جس کی نسبت سستی اور کوتاہی کو روا رکھتا ہے۔(٢)

آیات وروایات میں دین میں نرمی اور کوتاہی کرنے کی شدت کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اور اس کے نقصان دہ اثرات بیان کئے گئے ہیں ، جیسا کہ خدا وندعالم کفارو مشرکین کی سرزنش کرتے ہوئے فرماتا ہے: ''وہ چاہتے ہیں کہ تم نرمی سے کام لو تو وہ بھی نرمی سے کام لیں ''۔(٣) یعنی طرفین میںسے ہر ایک دوسرے کے دین سے متعلق سہل انگاری اور نرمی سے کام لے۔(٤ ) حضرت علی ـ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: '' میری جان کی قسم، حق کے مخالفین گمراہی و فساد میں غوطہ لگا نے والوں سے ایک آن بھی مقابلہ و جنگ کرنے میں سستی نہیں کروں گا''۔(٥) حضرت امام محمد باقر ـ فرماتے ہیں: '' خداوند سبحان نے حضرت شعیب کو وحی کی کہ تمہاری قوم میں سے ایک لاکھ افراد پر عذاب نازل کروں گا، ان میں سے ٤٠ ہزار افراد برے ہیں اور ٦٠ ہزار ان کے برگزیدہ ہیں۔ حضرت شعیب نے پوچھا: خدایا ! اخیار اور برگزیدہ افراد کا جرم و گناہ کیاہے ؟ تو خداوند سبحان نے جواب دیا: ان لوگوں نے گناہگاروں کے مقابل سستی اور نرمی سے کام لیا ہے اور میرے ناراض ہونے سے وہ ان پر ناراض نہیں ہوئے ''۔(٦)

____________________

١۔ راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، ص ١٧٣ ؛ طریحی، مجمع البحرین، ج ١، ص ٦٦ ؛ ابن منظور، لسان العرب، ج١٣، ص ٢ ١٦ ؛ مجلسی ،بحار الانوار، ج ٧٥، ص ٢٨٢۔ ٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص ٢٣٢ تا٢٤٠۔ ٣۔ قلم ٩۔

٤۔ طباطبائی، المیزان، ج١٩، ص ٣٧١۔ ٥۔ نہج البلاغہ، خطبہ ٢٤۔

٦۔ تہذیب، طوسی، ج ٦، ص ١٨١ ،ح ٣٧٢ ؛ کلینی، کافی، ج ٥، ص ٥٦، ح ١۔

۱۴۴

دین میں سستی ،سہل انگاری اور کوتاہی سے متعلق روایات میں جو نقصان دہ اور ضرر رساں اثرات بیان کئے گئے ہیں ان میں سے انسانی سماج کی گراوٹ، فسادو تباہی، گناہ و عصیان کی زیادتی، سزا ودنیوی اور اخروی عذاب اور دنیا وآخرت میں نقصان وخسارہ کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔(١)

٢۔ حلم و برد باری اور غصہ کا پینا

'' حلم '' عربی زبان میں امور میں تامل، غوروفکر، تدبیر کرنے اور جلد بازی نہ کرنے کو کہتے ہیں۔ '' حلیم '' اس انسان کو کہتے ہیں جو حق پر ہونے کے باوجود جاہلوں کو سزا دینے میں جلد بازی نہ کرے اور مقابل شخص کی جاہلانہ رفتار سے وجود میں آنے والے غیض وغضب سے اپنے کو قابو میں رکھے۔(٢) بعض علماء اخلاق حلم کو اطمینان قلبی اور اعتماد نفس کا ایک درجہ خیال کرتے ہیں کہ اس کا مالک انسان آسانی سے غضبناک نہیں ہوتا اور ناگوار حوادث جلدی اسے پریشان اور مضطرب نہیں کرتے۔ اس وجہ سے حلم کی حقیقی ضد غضب ہے، کیونکہ حلم اصولی طور پر غضب کے وجود میں آنے سے مانع ہوجاتا ہے۔ حلم اور '' کظم غیظ '' ( غصہ کو پینے ) کے درمیان فرق کے بارے میں کہا گیا ہے کظم غیظ صرف خشم و غضب کے پیدا ہوجانے کے بعد اسے ضبط کر کے ٹھنڈا کردیتا ہے جب کہ حلم بے جا غیض و غضب کے پیدا ہونے سے مانع ہوتا ہے، پس حلم غیض و غضب کو پیدا ہی نہیں ہونے دیتا ''کظم غیظ '' اس کے پیدا ہونے کے بعد اس کے علائم کے ظاہر ہونے کو روک کر درحقیقت اس کا علاج کرتا ہے۔(٣)

قرآن کریم میں حلم ١٠ بار سے زیادہ خداوندسبحان کے صفات میں شمار کیا گیا ہے کہ ان موارد میں نصف سے زیادہ ''غفور'' اور ''حلیم '' ایک ساتھ ذکر ہوا ہے۔(٤)

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج ١، ص ٤٥، ح ٦، اور ج ٨، ص ٤ ٣ ١، ح ١٠٣، اور ص ١٢٨، ح ٩٨ ؛ حرانی، تحف العقول، ص ١٠٥، ٧ ٣ ٢؛ نہج البلاغہ، خ ٨٦، ٢٣٣؛ شیخ مفید، ارشاد، ص ٩٢۔

٢۔ ابن اثیر، نہایہ، ج ١، ص ٣٤ ٤، ؛ ابن منظور، لسان العرب، ج ١٢، ص ١٤٦ ؛ راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، ص ١٢٩، مجمع البحرین، ج ١، ص ٥٦٥۔ اور فیض کاشانی، ملا محسن، المحجةالبیضائ، ج ٥، ص ٣١٠۔

٣۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ١، ص ٥ ٢٩، ٢٩٦۔

٤۔ عبد الباقی، محمد فؤاد، المعجم المفہرس لالفاظ القرآن الکریم، ص ٢١٦، ٢١٧۔

۱۴۵

اسلام کے اخلاقی نظام میںحلم اور بردباری کی قدر و منزلت اس درجہ بلند ہے کہ لوگوں کی رہبری و امامت کے ایک لوازم میں شمار کیا گیا ہے۔ رسول خدا فرماتے ہیں: ''امامت اوررہبری تین خصوصیات کے مالک افراد کے علاوہ کسی کے لئے سزاوار نہیں ہے، ایسا تقویٰ جو اسے خدا کی نافرمانی سے روکے، ایسا حلم وبرد باری جس کے ذریعہ وہ اپنے غصہ کو کنٹرول کرے اور لوگوں پر ایسی پسندیدہ حکمرانی کہ ان کے لئے ایک مہربان باپ کی طرح ہو''۔(١) حضرت علی ـ نے فرمایا: '' حلم ڈھانکنے والا پردہ اور عقل شمشیر براں ہے، لہٰذا اپنی اخلاقی کمی کو برد باری سے چھپاؤ اور اپنی نفسانی خواہشات کو عقل کی شمشیر سے قتل کرڈالو ''۔(٢) یعنی انسان کی اخلاقی کمی کے لئے حلم ایک پردہ ہے۔ دوسری جگہ حلم کو عزت کا بلند ترین مرتبہ(٣) عاقلوں کی سرشت ،(٤) اور قدرت کی علامت(٥) تصور کیا گیا ہے۔ کظم غیظ اور غصہ کو پینا در حقیقت تحلّم اور زحمت و کلفت کے ساتھ حلم اختیار کرنا ہے۔ اس وجہ سے کظم غیظ اہمیت کے اعتبار سے حلم سے کم درجہ رکھتا ہے، اگر چہ اپنی جگہ اہم اور قابل تعریف ہے۔ قرآن کریم کظم غیظ کو متقین کی صفت اور ایک قسم کی نیکی اور احسان جانتاہے۔ قرآن فرماتا ہے: ''اپنے پروردگار کی عفو و بخشش اورایسی بہشت کی طرف سبقت کرو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے اور وہ ان پرہیز گاروں کے لئے آمادہ کی گئی ہے ۔(٦) وہ لوگ جو فراخی اور تنگی حالتوں میں انفاق کرتے ہیں اور اپنے غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، اور خدا وند عالم احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے''۔ پیغمبر اکرم نے غصہ کے پینے کی فضیلت میں فرمایا ہے: ''خدا تک انسان کے پہنچنے کے محبوب ترین راستے دو گھونٹ نوش کرنا ہے،ایک غصّہ کا گھونٹ جو حلم وبردباری کے ساتھ پیاجاتا ہے اور غصّہ بر طرف ہوجاتا ہے، دوسرا مصیبت کا گھونٹ کہ جو صبر وتحمّل سے زائل ہوتا ہے ''(٧)

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج ١، ص ٤٠٧، ح ٨۔ ٢۔ نہج البلاغہ، حکمت ٤٢٤۔٣۔ کلینی، کافی ج ٨، ص ١٩، ح ٤۔

٤۔ صدوق، فقیہ، ج ٤، ص ٢٧٤، ح ٨٢٩۔٥۔ صدوق، خصال، ج ١، ص ١١٦، ح ٩٦۔

٦۔ سورئہ آل عمران، آیت ٣٣ ١ ، ١٣٤۔٧۔ کلینی، کافی، ج ٢، باب کظم غیظ، ح ٩۔

۱۴۶

حضرت امام جعفر صادق ـ نے اس سلسلہ میں فر مایا ہے: ''جو کوئی ایسے خشم وغضب کو کہ جسے وہ ظاہر کرسکتا ہے پی جائے تو قیامت کے دن خدا وند تعالیٰ اپنی رضا سے اس کے دل کو پرکردے گا ''(١)

الف۔ حلم اور کظم غیظ کے اسباب و موانع:

روایات میں علم، عقل، فقہ، تحلم، بلند ہمتی اور حلیم و برد بار افراد کی ہمنشینی کو حلم اختیار کرنے کے اسباب و علل میں ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ حضرت امام علی رضا ـ فرماتے ہیں: ''فقاہت کی علامتوں میں سے حلم اور سکوت ہے''۔(٢)

نیز حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''اگر تم واقعاً حلیم نہیں ہو تو حلم کا اظہار کرو کہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کسی قوم کی شباہت اختیار کرے اور ان میں سے نہ ہوجائے''۔(١) اسی طرح آپ نے فرمایا: ''حلم اور صبر دونوں جڑواں ہیں اور دونوں ہی بلند ہمتی کا نتیجہ ہیں ''۔(٢) اس کے مقابل کچھ صفات ایسے ہیں جو حلم و برد باری کے موانع کے عنوان سے ذکر کئے گئے ہیں کہ ان میں سے سفاہت ، بیوقوفی، حماقت ، دُرشت مزاجی، تند خوئی، غیض وغضب، ذلت وخواری اور ترش روئی کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔(٣)

ب۔حلم و برد باری کے فوائد:

اخروی جزا کے علاوہ آیات و روایات میں دنیوی فوائد بھی حلم و برد باری کے بیان کئے گئے ہیں۔ یہ فوائد خواہ انسان کی انسانی زندگی میں نفسانی صفات اور عملی صفات ہوں خواہ ا نسان کی اجتماعی زندگی کے مختلف ادوار میںظاہر ہوں، ان میں سب سے اہم فوائد یہ ہیں: سکون قلب، وقار، نجابت، رفق ومدارا، صبر، عفو و بخشش، خاموشی، سزادینے میںجلد بازی نہ کرنا، اور خندہ روئی فردی فائدے کے عنوان سے اور کرامت وبزرگواری، کامیابی ،صلح و آشتی، ریاست و بزرگی، لوگوں کے دلوں میں محبوبیت اور پسندیدہ وخوشگوارزندگی حلم و برد باری کے اجتماعی فوائد ہیں ۔ان میں سے بعض فوائد پر اس کے پہلے بحث ہوچکی ہے اور بعض دیگر ایک قسم کی رفتار (عمل) ہیں کہ عملی صفات کے بیان کے وقت ان میں سے بعض کا ذکر کریں گے۔

____________________

١۔کلینی، کافی، ج ٢، باب کظم غیظ، ح ٦۔ ٢۔ کلینی، کافی، ج ١، ص ٣٦، ح ٤۔٣۔ نہج البلاغہ، حکمت ٧ہ٢؛ کلینی، کافی، ج ٢، ص١١٢، ح ٦، ص ٢٠، ح ٤ اور تحف ا لعقول، ص ٦٩۔٤۔ نہج البلاغہ، حکمت ٤٦٠۔٥۔ صدوق، خصال، ج ٢، ص ٤١٦، ح ٧ ؛ مجلسی، بحار الانوار، ج ١٣، ص ٤٢١، ح ١٥ ؛ غرر الحکم، ح ٢٠٠٩ اور ٣٩٤٠ ؛نراقی، جامع السعادات، ج ١، ص ٢٧٥ اور ٢٩٥ ؛ فیض کاشانی، المحجة البیضائ، ج١٥، ص ٢٨٨، ٣٠٨۔

۱۴۷

٣۔ حیا

حیا نفسانی صفات میںایک اہم صفت ہے جو ہماری اخلاقی زندگی کے مختلف شعبوں میں بہت زیادہ اثر رکھتی ہے۔ اس تاثیر کا اہم ترین کردار خود کو محفوظ رکھنا ہے۔ '' حیا'' لغت میں شرم وندامت کے مفہوم میںہے اور اس کی ضد ''وقاحت'' اور بے حیائی ہے۔(١) علماء اخلاق کی اصطلاح میں حیا ایک قسم کا نفسانی انفعال اور انقباض ہے جو انسان میں نا پسندیدہ افعال کے انجام نہ دینے کاباعث بنتا ہے اور اس کا سر چشمہ لوگوں کی ملامت کا خوف ہے۔(٢)

آیات و روایات میں ''حیا '' کے مفہوم کے بارے میں مطالعہ کرنا بتاتا ہے کہ اس حالت کی پیدائش کا مرکز ایک آ گا ہ ناظر کے سامنے حضور کا احساس کرنا ہے، ایسا ناظر جو محترم اورگرامی قدر ہے۔ اس مفہوم کو کتاب و سنت میں مذکور حیا کے مسائل اور ابواب میں بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ مفہوم حیا کی تمام اقسام کے درمیان ایک مشترک مفہوم ہے اس وجہ سے حیا کے تین اصلی رکن ہیں: فاعل، ناظر اور فعل۔ حیا میں فاعل وہ ہے جو نفسانی کرامت و بزرگواری کا مالک ہے۔ ناظروہ ہے کہ جس کی قدرو منزلت فا عل کی نگاہ میںعظیم اور قابل احترام ہے اور فعل جو کہ حیا کے تحقق کا تیسرا رکن ہے، برا اور ناپسنددیدہ فعل ہے لہٰذا نتیجہ کے طور پر ''حیا ''''خوف '' و '' تقویٰ '' کے درمیان فرق کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ حیا میں روکنے والا محور ایک محترم اور بلند مرتبہ ناظر کے حضور کو درک کرنا اور اس کی حرمت کی حفاظت کرنا ہے، جبکہ خوف وتقویٰ میں روکنے والا محور، خدا کی قدرت کا درک کرنا اور اس کی سزا کا خوف ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حیا کا اہم ترین کردار اور اصلی جوہر برے اعمال کے ارتکاب سے روکنا ہے، لامحالہ یہ رکاوٹ نیک اعمال کی انجام دہی کا باعث ہوگی۔ اسی طرح یہ بات قابل توجہ ہے کہ حیا مختلف شعبوںمیںکی جاتی ہے کہ اس کی بحث اپنے مقام پر آئے گی، جیسا کہ عورتوں کی حیا '' اخلاق جنسی'' میں، گھرمیں حیا کی بحث '' اخلاق خانوادہ ''میں اور دوسروں سے حیا '' اخلاق معاشرت '' میں مورد تحقیق قرار دی جائے گی۔ یہاں پر حیا سے متعلق صرف عام اور کلی مباحث ذکر کررہے ہیں۔

____________________

١۔ ابن منظور، لسان العرب، ج٨، ص ٥١ ؛ مفرادات الفاظ قرآن کریم، ص ٢٧٠ اور ابن اثیر نہایہ، ج ١، ص ٣٩١۔

٢۔ ابن مسکویہ، تہذیب الاخلاق، ص ٤١، ؛طوسی اخلاق نا صری، ص ٧٧۔

۱۴۸

الف۔ حیا کی اہمیت:

رسول خدا حیا کو انسان کی زینت شمار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''بے حیائی کسی چیز کے ہمراہ نہیں ہوئی مگر یہ کہ اس کو نا پسند اور برا بنا دیا، اور حیا کسی چیز کے ہمراہ نہیں ہوئی مگر یہ کہ اسے اس نے آراستہ کردیا ''۔(١) حضرت علی ـ نے بھی فرمایا ہے: ''جو حیا کا لباس پہنتا ہے کوئی اس کا عیب دیکھ نہیں پاتا''۔ (٢ ) اور دوسرے بیان میں فرماتے ہیں: ''حیا اختیار کروکیونکہ حیا نجابت کی دلیل و نشا نی ہے''۔(٣) حضرت امام جعفر صادق ـ حیا کے مرتبہ کو اخلاقی مکارم میں سر فہرست قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ''مکارم اخلاق میں ہر ایک دوسرے سے مربوط اور جڑے ہوئے ہیں، خدا وندعالم ہر اس انسان کو جو ان مکارم اخلاق کا طالب ہے دیتا ہے، ممکن ہے کہ یہ مکارم ایک انسان میں ہو لیکن اس کی اولاد میں نہ ہو، بندہ میں ہو لیکن اس کے آقا میں نہ ہو (وہ مکارم یہ ہیں ) صداقت و راست گوئی، لوگوںکے ساتھ سچائی برتنا، مسکین کو بخشنا، خوبیوںکی تلافی، امانت داری، صلہ رحم، دوستوں اور پڑوسیوںکے ساتھ دوستی اور مہربانی ،مہمان نوازی اور ان سب میں سر فہرست حیا ہے۔(٤) حضرت علی ـ نے حیا کے بنیادی کردار کے بارے میں فرمایا: ''حیا تمام خوبصورتی اور نیکی تک پہنچنے کا وسیلہ ہے''۔(٥) حیا کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: ''جو حیا نہ رکھتا ہو اس کے پاس ایمان نہیں ہے''۔(٦) رسول اکرم کی سیرت کے بارے میں منقول ہے کہ آنحضرت جب بھی لوگوں سے بات کرتے تھے تو عرق شرم (حیا کا پسینہ ) آپ کی پیشانی پر ہوتا تھا اور کبھی ان سے آنکھیں چار نہیں کرتے تھے۔(٧)

____________________

١۔ شیخ مفید، امالی، ص ١٦٧۔ ٢۔ نہج البلاغہ، حکمت ٢٢٣ ؛ صدوق، فقیہ، ج ٤، ص ٣٩١ ح٥٨٣٤ ۔ کلینی، کافی، ج٨، ص ٢٣۔

٣۔ آ مدی، غرر الحکم، ح ٨٢ ٠ ٦۔٤۔ کلینی، کافی ج ٢، ص ٥٥ ح١۔ طوسی، امالی، ص ٣٠٨۔

٥۔ حرانی، تحف العقول ِ ،ص ٨٤۔٦۔ کلینی، کافی، ج٢، ص١٠٦۔٧۔ کافی ، ج٥ ،ص٥٦٥، ح٤١۔

۱۴۹

کبھی حیا کا منفی رخ سامنے آتا ہے اور وہ اس صورت میں کہ جب اس کا سبب حماقت، جہالت، اور نفس کی کمزوری ہو۔ اسلامی اخلاق میں ایسی شرم و حیا کی شدت کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اور اسے اخلاقی فضیلت شمار نہیں کیا گیا ہے بلکہ انسان کے رشد و علو کے لئے رکاوٹ اور مختلف شعبوںمیں اس کے پچھڑنے کا سبب ہوتی ہے۔ روایات میں اس طرح کی شرم کو جہل و حماقت اور ضعف کی حیا کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔(١)

ب۔ حیا کے اسباب و موانع :

بعض وہ امور جو روایات میں حیا کے اسباب کے عنوان سے ذکر کئے گئے ہیں، درج ذیل ہیں:

١۔عقل:

رسول خدا نے ایک عیسائی راہب ( شمعون بن لاوی بن یہودا) کے جواب میں کہ اس نے آپ سے عقل کے علائم وماہیت کے بارے میں سوال کیا تھا، فرمایا: ''عقل حلم کی پیدائش کا باعث ہے اور حلم سے علم، علم سے رشد، رشدسے عفاف اور پاک دامنی، عفاف سے خوداری، خوداری سے حیا، حیا سے وقار، وقار سے عمل خیر کی پابندی اور شر سے بیزاری اور شر سے تنفرسے نصیحت آمیز اطاعت حاصل ہوتی ہے۔(٢)

٢۔ایمان:

حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: '' جو حیا نہیں رکھتا وہ ایمان بھی نہیں رکھتا ''۔

اسی طرح روایات میں کچھ امور کو حیا کے موانع بے حیا ئی کے اسباب و علل کے عنوان سے پہچنوایا گیا ہے۔ ان میں سب سے اہم درج ذیل ہیں: ایک۔ حرمتوں اور پردوں کو اٹھا دینا: حضرت امام موسیٰ کاظم ـ اپنے اصحاب سے فرماتے ہیں: '' شرم وحیا کا پردہ اپنے اور اپنے بھائیوںکے درمیان سے نہ اٹھاؤ اور اس کی کچھ مقدار باقی رکھو، کیونکہ اس کا اٹھانا حیا کے اٹھانے کے مترادف ہے''۔(٣)

۳۔ لوگوںکی طرف دست سوال دراز کرنا:

حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: '' لوگوں کی طرف دست سوال دراز کرنا عزت چھین لیتا ہے اور حیا کو ختم کردیتا ہے''۔(٤)

____________________

١۔ صدوق، خصال، ج ١، ص٥٥، ح ٧٦ ؛ کلینی، کافی، ج٢، ص ١٠٦، ح ٦۔ ٢۔ حرانی، تحف العقول، ص ١٩، اسی طرح ملاحظہ ہو، ص ٢٧ ؛ صدوق، خصال، ج ٢، ص٤٠٤، ٤٢٧ ؛ کلینی، کافی، ج١، ص ١٠، ح ٢ ۔اور ج ٢، ص ٢٣٠۔ ٣۔ کافی، ج ٢، ص ٦٧٢، ح٥۔٤۔ ایضاً، ج٢، ص ١٤٨، ح ٤۔

۱۵۰

٣۔ زیادہ بات کرنا:

حضرت علی ـ نے فرمایا: ''جو زیادہ بولتا ہے وہ زیادہ خطا کرتا ہے اور جو زیادہ خطا کرتا ہے اس کی شرم و حیا کم ہو جا تی ہے اور جس کی شرم کم ہوجاتی ہے اس کی پارسائی کم ہوجاتی ہے اور جس کی پارسائی کم ہوجاتی ہے اس کا دل مردہ ہوجاتا ہے''۔(١)

٤۔ شراب خوری:

حضرت امام علی رضا ـ کی طرف منسوب ہے کہ آپ نے شراب کی حرمت کی علت کے بارے میں فرمایا: ''خداوندسبحان نے شراب حرام کی کیونکہ شراب تباہی مچاتی ہے، عقلو ں کو حقائق کی شناخت میں باطل کرتی ہے اورانسان کے چہرہ سے شرم و حیا ختم کردیتی ہے''۔(٢)

ج۔ حیا کے فوائد:

روایت میں حیا کے کثرت سے فوائد پائے جاتے ہیں خواہ وہ دنیوی ہوں یا اخروی، فردی ہوں یا اجتماعی، نفسانی ہوں یا عملی، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

١۔ خدا کی محبت:

پیغمبر اکرم نے فرمایا: '' خدا وند سبحان، حیا دار،با شرم اور پاکدامن انسان کو دوست رکھتا ہے اور بے شرم فقیر کی بے شرمی سے نفرت کرتا ہے ''۔(٣)

٢۔عفّت اور پاکدامنی:

حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''حیا کا نتیجہ عفّت اورپاکدامنی ہے''۔(٤)

٣۔ گناہوں سے پاک ہونا:

حضرت امام زین العابدین ـ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:'' چار چیزیں ایسی ہیں کہ اگر وہ کسی کے پاس ہوں تو اس کا اسلام کامل اور اس کے گناہ پاک ہوجائیں گے اور وہ اپنے رب سے ملاقات اس حال میں کرے گا، کہ خدا وند عالم اس سے را ضی و خوشنود ہوگا، جو کچھ اس نے اپنے آپ پر لوگو ں کے نفع میں قرار دیا ہے خدا کے لئے انجام دے اور لوگوں کے ساتھ اس کی زبان راست گوئی کرے اور جو کچھ خدا اور لوگوں کے نزدیک برا ہے اس سے شرم کرے اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ خوش اخلاق ہو''۔(٥)

____________________

١۔ نہج البلاغہ، حکمت ٣٤٩۔٢۔ فقہ الرضا، ص ٢٨٢۔٣۔ طوسی، امالی، ص ٣٩، ح ٤٣۔ کلینی، کافی، ج ٢، ص ١١٢، ح٨ ؛ صدوق، فقیہ، ج٣، ص ٥٠٦، ح٤٧٧٤۔

٤۔ آمدی، غرر الحکم، ح ٤٦١٢۔ ٥۔ صدوق، ، خصال، ج١، ص ٢٢٢، ح ١٥٠ ۔ مفید، امالی، ص ١٦٦، ح ١۔

۱۵۱

٤۔ رسول خدا نے شرم و حیا کے کچھ فوائد کی شرح کے ذیل میں فرمایا ہے:

''جو صفات حیا سے پیدا ہوتے ہیں یہ ہیں: نرمی، مہربانی، ظاہر اورمخفی دونوں صورتوں میں خدا کو نظر میںرکھنا، سلامتی، برائی سے دوری، خندہ روئی، جود وبخشش، لوگوںکے درمیان کامیابی اور نیک نامی، یہ ایسے فوائد ہیں جنھیں عقلمند انسان حیا سے حاصل کرتا ہے''۔(١)

اسلام کی اخلاقی کتابوں میں ''وقاحت '' اور ''بے شرمی'' سے متعلق بہت سے بیانات ہیںکہ ہم اختصار کی خاطر صرف ایک روایت پر اکتفا کرتے ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق ـ اپنے شاگرد ''مفضل '' سے فرماتے ہیں: ''اے مفضل! اگرحیا نہ ہوتی تو انسان کبھی مہمان قبو ل نہیں کرتا، اپنے وعدہ کو وفا نہیں کرتا، لوگوں کی ضرورتوں کو پورا نہ کرتا، نیکیوں سے دور ہو تا اور برائیوں کا ارتکاب کرتا۔ بہت سے واجب اور لازم امور حیا کی وجہ سے انجام دئے جاتے ہیں، بہت سے لوگ اگرحیا نہ کرتے اور شرمسار نہ ہوتے تو والدین کے حقوق کی رعایت نہیں کرتے، کوئی صلہ رحمی نہ کرتا، کوئی امانت صحیح وسالم واپس نہیں کرتااور فحشاو منکر سے باز نہیں آتا''۔(٢)

د۔حیا کے مقامات :

بیان کیا جاچکا ہے کہ ''حیا'' ناظر محترم کے حضوربرے اعمال انجام دینے سے شرم کرنا ہے۔ اس بنا پر پہلے: اسلام کی اخلاقی کتابوں میں خدا، اس کی طرف سے نظارت کرنے والے، اس کے نمایندے، انسان اور دوسروں کی انسانی اور الہی حقیقت کا ذکر ایک ایسے ناظر کے عنوان سے ہوا ہے کہ جن سے شرم وحیا کرنی چاہیے۔(٣)

دوسرے: حیا کے لئے ناپسندیدہ اور امور ہیں اور نیکیوں کی انجام دہی میں شرم و حیا کبھی ممدوح نہیں ہے لیکن اس حد و مرز کی رعایت بہت سے افراد کی طرف سے نہیں ہوتی ہے، اس کا سبب کبھی جہالت ہے اور کبھی لاپرواہی۔ بہت سی روایات میں بعض موقع پر حیا کرنے سے ممانعت کی گئی ہے معلوم ہوتا ہے کہ حیا کے مفہوم میں پہلے بیان کئے گئے ضابطہ و قانون کے باوجود یہ تاکید اس وجہ سے ہے کہ انسان ان موارد کی نسبت ایک طرح علمی شبہہ رکھتا

____________________

١۔ حرانی، تحف العقول، ص ٢٠۔٢۔ مجلسی، بحار ج ٣، ص ٨١۔

٣۔ صدوق، عیون اخبار الرضا ، ج ٢، ص٤٥، ح ١٦٢ ؛ تفسیر قمی، ج ١، ص ٣٠٤ ؛ کراجکی، کنز الفؤائد، ج ٢، ص ١٨٢ ؛ طوسی، امالی، ص ٢١٠۔

۱۵۲

ہے اور ایک حد تک ان موارد میں حیا کرنے کی تائید کے لئے توجیہات گڑھنے کی کوشش کرتا ہے، جب کہ اس کے خیالات و تصورات باطل ہیں۔ وہ بعض موارد اور مقامات جہاں حیا نہیں کرنی چاہیے، درج ذیل ہیں:

١۔ حق بات، حق عمل اور حق کی درخواست میں حیا کرنا: پیغمبر اکرم نے فرمایا: '' کوئی عمل بھی ریا اور خود نمائی کے عنوان سے انجام نہ دو اور اسے شرم و حیا کی وجہ سے ترک نہ کرو ''۔(١)

٢۔تحصیل علم سے حیاکرنا:

حضرت علی ـ نے فرمایا: '' کوئی شخص جو وہ نہیں جانتا ہے اس کے سیکھنے میں شرم نہ کرے''۔(٢)

٣۔ حلال درآمد کے حصول میں حیا کرنا:

حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: ''اگر کوئی مال حلال طلب کرنے میں حیا نہ کرے تو اس کے مخارج آسان ہوجائیں گے اور خدا اس کے اہل و عیال کو اپنی نعمت سے فیضیاب کرے گا''۔(٣)

٤۔ مہمانوںکی خدمت کرنے سے حیا کرنا:

حضرت علی ـ نے فرمایا: '' تین چیزیں ایسی ہیں جن سے شرم نہیں کرنی چا ہیے، منجملہ ان کے انہیں میں مہمانوں کی خدمت کرناہے''۔(٤)

٥۔دوسروں کا احترام کرنے سے حیا کرنا:

حضرت علی ـ نے فرمایا: ''تین چیزوں سے شرم نہیں کرنی چا ہیے: منجملہ ان کے اپنی جگہ سے باپ اور استاد کی تعظیم کے لئے اٹھنا ہے''۔(٥)

٦۔ نہ جاننے کے اعتراف سے حیا کرنا:

حضرت علی ـ نے فرمایا: '' اگر کسی سے سوال کریں اور وہ نہیں جانتا تو اسے یہ کہنے میں کہ ''میں نہیں جانتا'' شرم نہیں کرنی چاہیے''۔(٦)

____________________

١۔ حرانی، تحف العقول، ص ٤٧، ؛ صدوق، امالی، ص ٩٩ ٣ ، ح١٢، ؛ کلینی، کافی، ج٢، ص ١١ ١، ح ٢، اور ج ٥، ص ٥٦٨، ح ٥٣ ۔ ٢۔ نہج البلاغہ، حکمت ٨٢ ؛ حرانی، تحف العقول، ٣١٣۔٣۔ حرانی، تحف العقول، ص٥٩ ؛ صدوق، فقیہ ،ج ٤، ص ٤١٠، ح ٥٨٩٠۔ ٤۔ آمدی، غرر الحکم، ح ٤٦٦٦۔٥۔ غرر الحکم۔

٦۔ نہج البلاغہ، حکمت، ٨٢ ؛ صدوق، خصال، ج ١، ص ٣١٥، ح ٩٥۔

۱۵۳

٧۔ خداوند عالم سے درخوست کرنے میں حیا کرنا:

امام جعفر صادق ـنے فرمایا: ''کوئی چیز خدا کے نزدیک اس بات سے زیادہ محبوب نہیں ہے کہ اس سے کسی چیز کا سوال کیا جائے، لہٰذا تم میں سے کسی کو رحمت خدا وندی کا سوال کرنے سے شرم نہیں کرنی چاہیے، اگر چہ اس کا سوال جوتے کے ایک فیتہ کے متعلق ہو ''۔(١)

٨۔ معمولی بخشش کرنے سے حیا کرنا:

حضرت علی ـ نے فرمایا: ''معمولی بخشش کرنے سے شرم نہ کروکہ اس سے محروم کرنا اس سے بھی کمتر ہے۔''(٢)

٩۔اہل و عیال کی خدمت کرنے سے حیا کرنا:

حضرت امام جعفر صادق ـ نے مدینہ کے ایک انسان کو دیکھا کہ اس نے اپنے اہل و عیال کے لئے کوئی چیز خریدی ہے اور اپنے ہمراہ لئے جا رہا ہے، جب اس انسان نے امام کو دیکھا تو شرمندہ ہوگیا امام نے فرمایا: ''یہ تم نے خود خریدا ہے اور اپنے اہل و عیال کے لئے لے جا رہے ہو ؟ خدا کی قسم، اگر اہل مدینہ نہ ہوتے (کہ ملامت اور نکتہ چینی کریں) تو میں بھی اس بات کو دوست رکھتا کہ کچھ خرید کر اپنے اہل و عیال کے لئے لے جائوں''۔(٣)

٤۔ عفّت

نفسانی صفات میںایک دوسر ی روکنے والی صفت عفّت اور پاکدامنی ہے۔ '' عفّت '' لغت میں نا پسند اور قبیح امر کے انجام دینے سے اجتناب کرنے کے معنی میں ہے۔(٤) علم اخلاق کی اصطلاح میں ''عفت'' نام ہے اس نفسانی صفت کا جو انسان پر شہوت کے غلبہ اور تسلّط سے روکتی ہے۔(٥) شہوت سے مراد اس کا عام مفہوم ہے کہ جو شکم وخوراک کی شہوت، جنسی شہوت، بات کرنے کی شہوت اور نظر کرنے کی شہوت اور تمام غریزوں (شہوتوں) کو شامل ہوتی ہے، حقیقت عفّت یہ ہے کہ شہوتوںاورغریزوں سے استفادہ کی کیفیت میں ہمیشہ شہوتوں کی جگہ عقل و شرع کا غلبہ اور تسّلط ہو۔ اس طرح شہوتوں سے منظّم ومعیّن عقلی وشرعی معیاروں کے مطابق بہرہ مند ہونے میں افراط و تفریط نہیں ہوگی۔

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج٤، ص ٢٠ ح ٤۔٢۔ نہج البلاغہ، حکمت، ٦٧۔٣۔ کلینی، کافی، ج٢، ص١٢٣، ح١٠۔٤۔ لسان العرب، ج ٩، ص ٢٥٣ ،٢٥٤ ؛ جوہری ،صحاح اللغة، ج ٤، ص ١٤٠٥، ١٤٠٦ ؛ نہایہ، ج ٣، ص ٢٦٤۔٥۔ راغب اصفہانی، مفردات الفاظ قرآن ص ٣٥١۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص ١٥ ۔

۱۵۴

الف۔ عفّت کے اقسام:

عفّت کے لئے بیان شدہ عام مفہوم کے مطابق عفّت کے مختلف ابعاد وانواع پائے جاتے ہیں کہ ان میں سب سے اہم درج ذیل ہیں:

١۔ عفّت شکم:

اہم ترین شہوتوںمیں سے ایک اہم کھانے کی شہوت و خواہش ہے۔ کھانے پینے کے غریزہ سے معقول ومشروع (جائز ) استفادہ کو عفّت شکم کہا جاتا ہے جیسا کہ اس عفّت کے متعلق قرآن میں اس آیت کی طرف اشارہ کیاجا سکتا ہے کہ فرماتا ہے: ''تم میں جو شخص مالداراور تونگر ہے وہ (یتیموں کا مال لینے سے) پرہیز کرے اور جو محتاج اور تہی دست ہے تو اسے عرف کے مطابق ( بقدر مناسب) کھا نا چاہیے''۔(١) اس عفّت کی تفصیلی بحث اقتصادی اخلاق میںکی جاتی ہے۔

٢۔ دامن کی عفت: جنسی غریزہ قوی ترین شہوتوں میں سے ایک ہے اسے جائز ومشروع استعمال میں محدود کرنا اور محرمات کی حد تک پہونچنے سے روکنا ''عفّت دامن '' یا پاکدامنی کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ اسی معنی میں عفّت کا استعمال درج ذیل آیت میں ہوا ہے: ''جن لوگوںمیں نکاح کرنے کی استطاعت نہیں ہے انھیں چاہیے کہ پاکدامنی اور عفّت سے کام لیں یہاں تک کہ خدا انھیںاپنے فضل سے بے نیاز کردے ''۔(٢)

اس عفّت کی بحث تفصیلی طور پراخلاق جنسی میں بیان کی جائے گی ۔اگر چہ اپنے آپ کو شہوتوںکے مقابل بچانا شکم اور دامن کی شہوت میں منحصر نہیں ہے، بلکہ تمام شہوتوں کو شامل ہے لیکن چونکہ یہ دونوں ان سب کی رئیس ہیں اور اخلاق کی مشہور کتابوں میں صرف انھیںدو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے حتیٰ بعض علماء نے ان دو کو عفّت کی تعریف میں بھی شامل کیا ہے،(٣) لہٰذا انھیں دو قسموں کے ذکر پر اکتفا کی جاتی ہے۔ دوسری طرف ان دو قسموں میں سے ہر ایک، ایک خاص عنوان سے مربوط ہے لہٰذا ہر ایک کی اپنے سے متعلق عنوان میں مفصل بحث کی جائے گی، یہا ں پر ان کے بعض کلی اور مشترک احکام کا ذکر کررہے ہیں۔

____________________

١۔ سورئہ نسائ، آیت ٦، اسیطرح سورئہ بقرہ، آیت ٢٧٣ ملاحظہ ہو۔

٢۔ سورئہ نور، آیت ٣٣؛ اسی طرح ملاحظہ ہو: آیت ٦٠۔

٣۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص١٥۔

۱۵۵

ب۔عفّت کی اہمیت:

حضرت علی ـ نے فرمایا: '' سب سے افضل عبادت عفّت ہے '' ۔(١) اور حضرت امام محمد باقر ـ سے منقول ہے: ''خدا کے نزدیک بطن اور دامن (شرمگاہ) کی عفّت سے افضل کوئی عبادت نہیں ہے ''۔(٢) اور جب کسی نے آپ سے عرض کیا کہ میں نیک اعمال انجام دینے میں ضعیف اور کمزور ہوں اور کثرت سے نماز نہیں پڑھ سکتا اور زیادہ روزہ نہیں رکھ سکتا، لیکن امید کرتا ہوںکہ صرف مال حلال کھاؤں اور حلال طریقہ سے نکاح کروں تو حضرت امام محمد باقر ـ نے فرمایا: '' عفّت بطن ودامن سے افضل کون سا جہاد ہے ؟''(٣) رسول خدا اپنی امت کے سلسلہ میں بے عفتی اور ناپاکی کے بارے میںاپنی پریشانی کا اظہار یوں کرتے ہیں: ''میں اپنے بعد اپنی امت کے لئے تین چیز کے بارے میں زیادہ پریشان ہوں معرفت کے بعد گمراہی، گمراہ کن فتنے اور شہوت بطن ودامن''۔(٤)

ایک دوسرے بیان میں فرماتے ہیں: ''میری امت کے جہنم میں جانے کا زیادہ سبب شہوت شکم ودامن کی پیروی کرناہے'' ۔(٥)

ج۔ عفّت کے اسباب:

شکم اور دامن کی عفّت میں سے ہرایک کے پیدا ہونے کے اسباب اقتصادی اور جنسی اخلاق سے مربوط بحث اور اس کے مانند دوسری بحثوں میں بیان کئے جاتے ہیں۔ لیکن روایت میں عام عوامل واسباب جیسے عقل، ایمان، تقویٰ حیا و مروت کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ اختصار کی رعایت اور ایک حد تک ان کی علت کے واضح ہونے کی وجہ سے ان میں سے ہر ایک کے ذکر سے صرف نظر کرتے ہیں۔

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج٢، ص٧٩ ،ح ٣۔

٢۔ جامع السعادات، ص ٨٠، ح ٨ ۔ ص ٧٩، ح ١۔

٣۔ جامع السعادات، ص ٧٩، ح ٤ ۔

٤۔ جامع السعادات، ح ٦ ۔

٥۔ جامع السعادات، ص ٨٠، ح ٧۔

۱۵۶

د۔ عفّت کے موانع:

عفّت کے عام موانع میں ''شرارت '' اور ''خمود '' ( سستی اور سہل انگاری ) ہے، ان دونوں کی مختصرتوضیح درج ذیل ہے:

١۔ شرارت:

شرارت سے مراد اپنے عام مفہوم کے لحاظ سے شہوانی قوتوں کی پیروی کرنا ہے اس چیز میں جو وہ طلب کرتی ہیں،(١) خواہ وہ شہوت شکم ہو یا شہوت مال دوستی یا اس کے مانند کسی دوسری چیز کی شہوت ۔ شرارت یعنی جنسی لذتوں میں شدید حرص کا ہونا اور ان میں زیادتی کا پایا جانا۔(٢) حضرت علی ـ نے شرارت کی مذمت میں فرمایا ہے: '' شرارت تمام عیوب کی رئیس ہے''۔(٣) حضرت امام جعفر صادق ـ کا بیان اس سلسلہ میں یہ ہے: کہیںایسا نہ ہو کہ جو کچھ خدا نے تم پر حرام کیا ہے اس کا تمہارا نفس حریص ہوجائے کیونکہ جو شخص بھی دنیا میں حرام خدا وندی کا مرتکب ہوگا خداوند سبحان اسے جنت سے اور اس کی نعمتوں اور لذتوں سے محروم کردے گا ''۔(٤)

٢۔ خمود:

''شرارت'' کے مقابل ہے یعنی ضروری خوراک کی فراہمی میں کاہلی اور کوتاہی کرنا اور جنسی غریزہ سے ضروری استفادہ کرنے میں سستی اور کوتاہی کرنا اس طرح سے کہ صحت و سلامتی، خاندان کی تباہی اور نسل کے منقطع ہونے کا سبب بن جائے ۔ یہ واضح ہے کہ یہ حالت غریزوں اور شہوتوں سے استفادہ میں تفریط اور کوتاہی کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔(٥) ''خمود'' حکمت خلقت کے مخالف اور نسل انسان کے استمرار و دوام نیز اس کی بقا اور مصلحت کے مخالف ہے، اس کے علاوہ اسلامی اخلاق میں غرائز وشہوات سے جائز استفادہ کی جوکثرت سے تاکید پائی جاتی ہے اور جو کچھ رہبانیت اور دنیا سے کنارہ کشی کی مذمت کے سلسلہ میں بیان ہوا ہے وہ سب '' خمود '' کی قباحت کو بیان کرتے ہیں ۔اس امر کی تفصیلی بحث '' اخلاق جنسی '' میں ہوگی۔

____________________

١۔ ابن منظور، لسان العرب، ج ١٣، ص ٥٠٦۔٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص ٤۔ ٣۔ ؛ کلینی، کافی، ج٨، ص ٩ ١، ح٤ ؛ نہج البلاغہ، حکمت، ٣٧١۔٤۔ کلینی، کافی ، ج٨، ص ٤، ح ١۔٥۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص ١٣۔

۱۵۷

ہ۔ عفّت کے فوائد :

روایات میں عفّت کے متعدد دنیوی اور اخروی فوائد بیان کئے گئے ہیں جیسے پستیوں سے نفس کی حفاظت کرنا، شہوتوں کو کمزور بنانا اور عیوب کا پوشیدہ ہونا کہ یہاں اختصار کے پیش نظررسول خدا کے ایک کلام کے ذکر پر اکتفا کرتے ہوئے اس بحث کو ختم کررہے ہیں۔

عفّت کے علائم یہ ہیں: جو کچھ ہے اس پر راضی ہونا، اپنے کو معمولی اور چھوٹا سمجھنا، نیکیوں سے استفادہ کرنا، آسائش اور راحت میں، اپنے ما تحتوں اور مسکینوں کی دل جوئی، تواضع، یا د آوری ( غفلت کے مقابل )، فکر، جو د و بخشش اور سخاوت کرنا۔(١)

٥۔ صبر

نفسانی صفات میں سب سے عام اور اہم روکنے والی صفت ''صبر '' ہے۔ ''صبر '' کے معنی عربی لغت میں حبس کرنے اور دباؤ میں رکھنے کے ہیں۔(٢) اور بعض نے اسے بے تابی اور بے قراری سے نفس کو باز رکھنے سے تعبیر کیا ہے۔(٣) اخلاقی اصطلاح میں صبرنام ہے نفس کو اس چیز کے انجام دینے اور آمادہ کرنے جس میں عقل و شرع کا اقتضاء ہونیز اس چیز سے روکنا جسے عقل وشرع منع کرتے ہیں۔(٤) مذکورہ تعریفوں کے پیش نظر ''صبر '' ایک ایسی عام اور روکنے والی نفسانی صفت ہے کہ جس میں دو اہم جہت پائے جاتے ہیں : صبر ایک طرف انسان کی غریزی اور نفسانی خواہش اور میلان کوحبس اور دائرئہ عقل وشرع میںمحدود کرتا ہے۔ دوسری طرف نفس کو عقل وشرع کے مقابل ذمہ داری سے فرار اختیار کرنے سے روکتا ہے اور اسے اس بات پر ابھارتا ہے کہ اپنے کو فرائض الہی کی پابندی کے لئے زحمت اٹھانے اور دشواریوں کا سامنا کرنے کے لئے آمادہ کرے، البتہ اگر یہ حالت انسان میں سہولت و آسانی سے پیدا ہوجائے تو اسے ''صبر'' اور اگر انسان زحمت ومشقت میں خود کو مبتلا کرکے اس پر آمادہ کرے تو اسے '' تصبر '' (زبردستی صبر کرنا )کہتے ہیں۔

____________________

١۔ حرانی، تحف العقول، ص٢٠۔

٢۔ زبیدی، تاج العروس، ج ٧، ص ٧١ ؛ راغب اصفہانی، مفردات، ٤٧٤ ؛ ابن منظور، لسان العرب، ج ٤، ص ٤٣٨۔

٣۔ جوہری، صحاح اللغة، ج ٢، ص ٧٠٦۔ طریحی، مجمع البحرین، ج ٢، ص ١٠٠٤۔

٤۔ راغب اصفہانی، معجم مفردات الفاظ قرآن، ص ٤٧٤۔

۱۵۸

الف۔ صبر کی قسمیں:

صبر کے لئے جو عام اور وسیع مفہوم بیان کیا گیا ہے اس کے مطابق علماء اخلاق نے متعدد جہات سے صبر کے لئے مختلف اقسام و انواع بیان کی ہیں کہ ان میں سے اہم ترین اقسام کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔

١۔ مفہوم کے لحاظ سے:

مذکورہ تعریفوں کے مطابق کبھی صبر سے مراد نفسانی جاذبوں اور دافعوں میں ہر قسم کی محدودیت کا ایجاد کرنا ہے کہ جو ایک عام مفہوم ہے اور کبھی اس سے مرادناگوار امور کی نسبت عدم رضایت اور بے تابی کے اظہار سے نفس کو روکنا ہے۔ اس لحاظ سے صبر کے دو مفہوم ہیں کہ کبھی خاص مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔

٢۔ موضوع کے لحاظ سے:

صبر اپنے عام مفہوم میں موضوع کے اعتبار سے متعدد انواع کا حامل ہے۔

کبھی صبر سختیوں اور مصیبتوںپر ہوتا ہے جو کہ ان سختیوں اور مصیبتوں کے مقابل مضطرب وپریشان نہ ہونا اور سعہ صدر کی حفاظت ہے، اسے '' مکروہات پر صبر '' کہتے ہیں اور اس کے مقابل ''جزع '' اور بے قرار ی ہے صبر کی رائج قسم یہی ہے۔ جنگ کی دشواریوں پر صبر کرنا '' شجاعت'' ہے اور اس کے مقابل '' جبن '' بزدلی اور خوف ہے۔ اور کبھی صبر غیض و غضب کی سرکشی اور طغیانی کے مقابل ہے کہ اسے '' حلم '' اور '' کظم غیظ '' کہتے ہیں۔ کبھی صبر عبادت کے انجام دینے میں ہے کہ اس کے مقابل ''فسق '' ہے جو شرعی عبادت کی پابندی نہ کرنے کے مفہوم میں ہے۔ اور کبھی صبر شکم کی شہوت اور جنسی غریزہ کے مقابل ہے کہ جسے '' عفّت ''کہتے ہیں۔ اور دنیا طلبی اور زیادہ طلبی کے مقابل ہے جو کہ ''زہد '' ہے اور اس کے مقابل '' حرص '' ہے۔

۱۵۹

اور کبھی صبر اسرار کے کتمان پر ہوتا ہے کہ جسے راز داری کہتے ہیں۔(١)

٣۔ حکم کے لحاظ سے:

صبر اپنے تکلیفی حکم کے اعتبارسے پانچ قسم میں تقسیم ہوتاہے: واجب صبرجو کہ حرام شہوات ومیلانات کے مقابل ہے۔ اور مستحب صبر مستحبات کے انجام دینے پر ہونے والی دشواریوں کے مقابل ہے۔ حرام صبر جو بعض اذیت و آزار پر ہے جیسے انسان کے مال، جان اور ناموس پر دوسروں کے تجاوز کرنے پر صبر کرنا۔ صبر ناگوار اور مکروہ امور کے مقابل جیسے عاشور کے دن روزہ رکھنے کی سختی پر صبر کہ جو مکروہ ہے ان موارد کے علاوہ مباح ہے، لہٰذا ہمیشہ صبر پسندیدہ اور محبوب شیٔ نہیں ہے، بلکہ کبھی حرام اور کبھی مکروہ بھی ہوجاتا ہے۔(٢)

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٣، ص٢٨٠، ٢٨١؛ رسول اکرم نے ایک حدیث میں صبر کی تین قسم بیان کی ہے: مصیبت کے وقت صبر، طاعت و بندگی پر صبر، اور معصیت و گناہ پر صبر۔ کلینی، اصو ل کافی، ج ٢، ص ٩١، ح ١٥۔ اسی طرح بعض علماء اخلاق نے صبر کو اس وجہ سے دو قسم پر تقسیم کیا ہے متاع دنیا (سراء ) پر صبر اور بلا (ضراء ) پر صبر۔ ملاحظہ ہو نراقی، جامع السعادات، ج٣، ص ٢٩٣، ٢٩٤۔

٢۔ نراقی، جامع السعادات، ج٣، ص ٢٨٥۔

۱۶۰

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296