اسلامی اخلاق

اسلامی اخلاق20%

اسلامی اخلاق مؤلف:
زمرہ جات: اخلاقی کتابیں
صفحے: 296

اسلامی اخلاق
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 296 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 178006 / ڈاؤنلوڈ: 5181
سائز سائز سائز
اسلامی اخلاق

اسلامی اخلاق

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

بسم اللہ الرحمن الرحیم

۵- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت

از:زہراءاصغری

امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت یوں تو بہت ہیں اور یہ کہ اس جہان میں کوئی شی اور کام بغیر کسی ہدف اور حکمت و مصلحت کے نہیں ہے حکیم کا کوئی بھی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا غیبت امام مہدی علیہ السلام میں بھی ہدف اور حکمت موجود ہے اصل فلسفہ اور حکمت سے تو صرف خداوندعالم واقف ہے عام لوگ اس حکمت و مصلحت سے واقف نہیں ہے لیکن جس طرح بہت سے واجبات اور احکامات تعبدی محض ہے اور کسی کو اس کی اصل مصلحت اور حکمے کے بارے میں علم نہیں اسی طرح غیبت امام زمانہ علیہ السلام بھی مصلحت و حکمت خداوندی کی بناءپر عمل میں آئی ہے جیسے طواف کعبہ، رمی حمرہ اور تعداد رکعات نماز، تعداد خازنان جہنم وغیرہ جس کی اصل حکمت و فلسفہ سے صرف خدا آگاہ ہے البتہ بعض مصلحتیں حکمتیں اور اہداف قرآنی آیات میں موجود ہے اور پیغمبر اکرم اور آئمہ طاہرین علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے جو خود معلمین و راہنمائے بشریت ہے اور ارشاد خداوندی کے مطابقمن یطلع الرسول فقد اطاع الله (سورہ نباءآیت۰۸) جس نے پیغمبر کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی کیونکہ پیغمبر کوئی قدم خدا کی معثیت کے خلاف نہیں اُٹھاتا اس کی گفتار، کردار اعمال سب کے فرمان کے مطابق ہیں اور اس طرح آیہ تطہیر اور اولی الامر کے مطابق چونکہ اہلبیت علیہ السلام ہر رجس سے پاک ہیں اور ان کی طاعت واجب ہے یہ روایات مدرک قطعی کے مطابق روایات متواترہ میں سے ہیں یہ مسلم ہے کہ زمین حجت خدا اور امام زمانہ علیہ السلام سے خالی نہیں رہ سکتی اور چونکہ حجت خدا اس وقت حضرت مہدی علیہ السلام کے سوا کوئی نہ تھا اور انہیں دشمن قتل کر دینے پر تلے ہوئے تھے اس لیے محفوظ و مستود کر دیا گیا کیونکہ مثیت خداوندی یہی ہے کہ زمین حجت سے خالی نہ ہو حدیث میں وارد ہے کہ حجت خدا کی وجہ سے بارش ہوتی اور انہیں کی وجہ سے اور انہیں کے ذریعے روزی تقسیم کی جاتی ہے(بحار) یہ بھی مسلم ہے کہ حضر مہدی علیہ السلام جملہ انبیاءکے مظہر تھے اس لیے ضرورت تھی کہ انہیں کی طرح ان کی غیبت بھی ہوئی یعنی جس طرح بادشاہ وقت کے مظالم کی وجہ سے حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی اپنے عہد حیات میں مناسب مدت تک غائب رہ چکے تھے اسی طرح یہ بھی غائب رہتے بادشاہ وقت خلیفہ محمد عباسی جو اپنے آباءو اجداد کی طرح ظلم و ستم کا خوگر اور آل محمد کا جانی دشمن تھا اور اس کے کانوں میں مہدی علیہ السلام کی ولادت کی خبر کم و بیش بڑھ چکی تھی اس نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد تکفین و تدفین سے پہلے حضرت کے گھر پر پولیس کا چھاپہ ڈبوایا اور چاہا کہ امام مہدی علیہ السلام کو گرفتار کرا لے اور چونکہ آپ کو اپنی جان کا خوف تھا اور یہ طے شدہ بات ہے کہ جیسے اپنے نفس اور اپنی جان کا خوف ہو وہ پوشیدہ ہونے کو لازمی جانتا ہے سورہ انا انزلناہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نزول ملائکہ شب قدر میں ہوتا رہتا ہے یہ ظاہر ہے کہ نزول ملائکہ انبیاءو اوصیاءہی پر ہوا کرتا ہے لہذا امام مہدی علیہ السلام کو اسی لیے موجود اور باقی رکھا گیا ہے تا کہ نزول ملائکہ کی مرکزی غرض و مقصد پوری ہو سکے اور شب قدر میں انہیں پر نزول ملائکہ ہو سکے حدیث میں ہے کہ شب قدر میں سال بھر کی روزی وغیرہ امام مہدی علیہ السلام تک پہنچا دی جاتی ہے اور وہی اس سے تقسیم کرتے رہتے ہیں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرمان کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کو اس لیے غائب کیا جائے گا تا کہ خداوند عالم اپنی ساری مخلوقات کاامتحان کر کے یہ جانچے کہ نیک بندے کون ہیں اور باطل پرست کون لوگ ہیں زمانہ غیبت میں مصائب و مشکلات کے ذریعے شیعوں سے امتحان لیا جائے گا آپ کی غیبت کے متعلق قرآن مجید میںارشاد خداوندی ہے: الم ذالک الکتاب لاریب فیہ ھدی للمتقین الذین یومنون بالغیب مفسر اعظم حضرت محمد فرماتے ہیں کہ ایمان بالغیب سے امام مہدی علیہ السلام کی غیبت مراد ہے نیک بخت وہ لوگ ہیں جو ان کی غیبت پر صبر اور زمانہ غیبت مراد ہے نیک بخت وہ لوگ ہیں جو ان کی غیبت پر صبر اور زمانہ غیبت میں ان پر ہونے والے مشکلات پر صبر کریں گے اور مبارک باد اور آفرین کے قابل ہیں وہ لوگ جو غیبت میں بھی ان کی محبت پر قائم رہیں گے اور شاید آپ کی غیبت اس لیے واقع ہوئی ہے کہ خداوند عالم ایک وقت معین میں آل محمد پر جو مظالم کیے گئے ہیں ان کا بدلہ امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے سے لے گا عبدالسلام بن صالح ہروی سے مروی ہے کہ اس نے کہا میں نے امام رضا علیہ السلام سے کہا اے فرزند رسول امام جعفر صادق علیہ السلام سے ملنے والی حدیث میں فرمایا گیا کہ جب ہمارا قائم علیہ السلام ظاہر ہو گا تو وہ قاتلان حسین علیہ السلام کی اولاد کو ان کے اجداد کے جرائم کی پاداش میں قتل کرے گا امام رضا علیہ السلام نے فرمایا یہ درست ہے میں نے کہا خدا نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ولا تزر وازرة وزراخریٰ کوئی شخص کسی دوسرے (گناہ) کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا اس کا کیا مفہوم ہے آپ نے فرمایا خدا نے اپنے تمام کلام میں سچ کہا ہے لیکن چوکہ امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کی اولاد اپنے اجداد کے اعمال پہ راضی اور اس پہ فخر کرتے ہیں اس لیے وہ بھی قتل کیے جائیں گے جو شخص کسی کے عمل پر راضی ہو تو گویا وہ اس عمل کے بجا لانے میں اس کا شریک ہے اگر کوئی انسان مشرق میں قتل کیا جائے اور مغرب میں کوئی اس کے قتل پر خوش ہو تو خداوندعالم کے نزدیک وہ بھی اس قتل کا ساتھی ہے حضرت قائم علیہ السلام ے ہاتھوں ان کے قتل ہونے کا یہی سبب ہے اور شاید ایک سبب اور حکمت امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا یہ بھی ہو بقول محقق طوسی کہ وجودہ لطف وتصرفہ لطف اٰخروعدمہ منا امام زمانہ علیہ السلام کا وجود لطف ہے اور ان کا تصرف دوسرا لطف ہے اور ان کی غیبت ہماری طرف سے ہے مقصد یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا سبب اور ان کا امور مسلمین میں تصرف نہ فرمانا یہ سب اس لیے ہے کہ ابھی تمام مسلمان حضرت کی اطاعت پر آمادہ نہیں ہیں اور مستضعفین کو متکبرین اور طاغوت کے شر سے نجات دلانا اور سارے جہاں میں عدل عمومی کی آمادگی شرط اول ہے اور ابھی تک اس تصرف کی شرائط فراہم نہیں ہوئیں بقول شہید مطہری کہ یہ دنیا کا دستور ہے کہ جب کسی اہم مہمان کو دعوت دیتے ہیں تو بہت اہتمام کرتے ہیں اور اپنے گھر کی صفائی کرتے ہیں لذیذ کھانے تیار کرتے ہیں تو کس طرح ممکن ہے کہ ہم اس عظیم شخصیت کو دعوت دیں اور اپنے دل کے گھر کو ہر گناہ اور خلاف ورزی سے صاف نہ کریں کیونکہ امام زمانہ علیہ السلام کا ایک شرعی فرض یہ ہے کہ وہ زمانہ غیبت کے لیے اپنے جانشینوں کا تعین فرمائیں خواہ لوگ انہیں تسلیم کریں یا نہ کریں اس سے آپ کا شرعی فریضہ پورا ہو جائے گا اور آپ نے ان جانشینوں کے بارے میں فرمایا ہے ان کی بات رد کرنے والا ہماری بات کو رد کرنے والا ہے اور جس نے ہماری بات کو رد کیا اس نے خدا کے فرمان کو رد کیا اور خدا کے فرمان کو رد کرنے والا حد شرک میں داخل ہو جاتا ہے ایک اور روایت میں امام زمانہ علیہ السلام سے یہ الفاظ مروی ہےں آپ نے فرمایا امورو احکام ان علمائے الہیٰ کے ہاتھوں جاری ہون گے جو حلال و حرام کے لیے اللہ کے امین ہوں گے اب یہ دیکھنا ہو گا کہ ہم مسلمانوں میں سے کتنے لوگ ان جانشینوں کی اطاعت کرتے ہیں اور ظہور امام زمانہ علیہ السلام کے لیے اپنے دل کے گھر کو آمادہ کرتے ہیں رہبر کی اطاعت مسلمانوں پر فرض ہے کیونکہ اس سے نظام اسلام کی بقاءوابستہ ہے اور مسلمانوںکے اجتماعی امور اور ان کی فلاح و دستگاری کا انحصار اسی پر ہے کہ وہ ایک مرکز سے وابستہ ہوں تا کہ مضبوط مرکز کی وجہ سے طاغوت و استکبار کے تسلط سے محفوظ رہیں ارشاد خداوندی ہے سورہ بقرہولنبلونکم بشیءمن الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات و بشرالصابرین الذین اذا اصابتهم مصیبة قالو انا لله وانا الیه راجعون ۔

اور ہم یقینا تمہیں تھوڑے خوف، تھوڑی بھوک اور اموال، نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر آپ ان صبر کرنے والوں کو شہادت دے دیں جو مصیبت پڑنے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں اس نفسا نفسی اور دہشت گردی کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان دنیا کے کسی بھی خطے میں محفوظ نہیں ہیں نہ مالی لحاظ سے اور نہ جانی لحاظ سے جس ملک میں بھی اسلامی حکومتیں ہیں اس ملک کو اس کے باشندے اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو اس کا الزام مسلمانوں کے اوپر ہے یہ سب امتحان نہیں تو اور کیا ہے خدا کریں کہ ہم ان مصائب پر صبر کر کے اور دشمنان اسلام کے نا پاک عزائم کو نا کام بنا کے اس آیت کے مصداق بن جائیں۔

انا وجدناه صابر انعم العبد انه اواب ۔(سورہ ص)

ہم نے اسے صابر پایا بہترین بندہ جو ہماری طرف بہت ہی رجوع کرنے والا ہے علامہ شیخ قندوزی بلخی حنفی لکھتے ہیں کہ سدیر صیرفی کا بیان ہے کہ ہم اور مفضل بن عمر، ابو بصیر، ابان بن تغلب ایک دن صادق آل محمد کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ زمین پر بیٹھے تھے اور رو رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے کہ اے محمد تمہاری غیبت کی خبر نے میرا دل بے چین کر دیا ہے میں نے عرض کی حضور خدا آپ کی آنکھوں کو کبھی نہ رولائے بات کیا ہے کس لیے حضور گریہ کناں ہیں فرمایا اے سدیر میں نے آج کتاب جفر جامع میں بوقت صبح اما مہدی علیہ السلام کی غیبت کا مطالعہ کیا ہے اے سدیر یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب اس میں لکھا ہوا ہے اے سدیر میں نے اس کتاب میں دیکھا ہے کہ ہماری نسل سے امام مہدی علیہ السلام ہوں گے پھر وہ غائب ہو جائیں گے اور ان کے غیبت نیز طول عمر ہو گی ان کی غیبت کے زمانے میں مومنین مصائب میں مبتلا ہوں گے اور ان کے امتحانات ہوتے رہیں گے اور غیبت میں تاخیر کی وجہ سے ان کے دلوں میں شکوک پیدا ہوں گے غیبت کی طویل ہونے اور ظہور میں تاخیر خود ایک بہت سخت اور دشوار امتحان ہے جس مومنین حقیقی اور غیر حقیقی کی پہنچا ہو جائیں گے اس دور میں جب اسلام دشمن عناصر مسلمانوں کو گمراہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور شب و روز کوششوں میں مصروف ہیں اور ہر قسم کے حربے استعمال کرتے ہیں تا کہ مسلمانوں کو ان کے دین و مذہب سے دور کرکے اور ان کو اسلام سے بدظن کر کے یہ تاثیر دلا دے کہ جو دیندار ہو گا ان کی مال و جان عزت و آبرو خطرے میں ہو گا اسی لیے اب تو بعض نوجوان اس روز کے واقعات و حادثات سے ننگ و آکر یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ آخر امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور کب ہو گا ہم کب تک انتظار کریں اس مذہب کا کیا فائدہ جس کی وجہ سے ہم ہر روز قتل ہو جائیں عزیزان امتحان بہت مشکل ہے اس لیے تو حدیث میں وارد ہے کہ آخرالزمان علیہ السلام میں ایمان کی حفاظت کرنا گرم لو ہے کو پکڑنے سے زیادہ دشوار ہے اسی طرح کمزور ایمان والے غیبت امام مہدی علیہ السلام اور تاخیر ظہور کی وجہ سے فرامین پیغمبر اور آئمہ علیہ السلام کی تکذیب کر رہے یں اور بلا وجہ اعتراضات کر کے اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں اور احادیث میں اپنی طرف سے تاویل و تفسیر کر کے ایک نیا راستہ تلاش کر رہے ہیں جو کہ یقینا ان لوگوں سے قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ سورہ آل عمران آیت ۵۸ میں انہی لوگوں کے بارے ارشاد رب العزت ہے۔ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منه وهو من الاخرة من الخاسرین ۔

اور جو اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین تلاش کرے گا تو وہ دین اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور قیامت کے دن خسارہ والوں میں سے ہو گا جو لوگ توحید اور ایک خدا کی بندگی کی راہ میں ثابت قدم ہوتے ہیں ان کے قدم نہ مال و مقام کے امتحانج سے ڈگمگاتے ہیں اور نہ شہوت و لزت کے سامنے ٹھوکر کھاتے ہیں جو لوگ ایمان و عمل ثابت قدم ہوتے ہیں وہ دنیا کے تمام امتحانات میں ثابت قدم ہوتے ہیں اور دشمن کے کسی حربے اور طاقت سے مرعوب نہیں ہوتے حتیٰ کہ قتل ہو جانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں مگر اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت کے لیے حاضر نہیں ہوتے اس لیے کہ اسلام و مسلمین کے ساتھ خیانت دراصل خدا کے ساتھ خیانت ہے پس حقیقت صرف یہ ہے کہ دنیا کی تمام مشکلات کا حل تمام دکھوں دردوں اور پسماندگیوں کا علاج اور مسلم امر کی ترقی و خوشحالی کا واحد راستہ تمسک بالثقلین ہے یعنی قرآن مجید اور عترت رسول کی پیروی ہے حضرت محمد و ال محمد سے بہتر کوئی پیشوا نہیں اور کوئی ان کے برابر نہیں امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت یہ بھی ہے کہ خداوند متعال چاہتا ہے کہ اپنے بندوں کی تربیت کر کے انہیں ظہور مہدی علیہ السلام کے لیے آمادہ کرین کیونکہ انتظار ظہور مہدی علیہ السلام تربیت کنندہ بھی ہے اور افضل ترین عمل بھی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:افضل اعمال امتی انتظار الفرج من الله عزوجل ۔

یعنی میری امت ترین اعمال میں سے ظہور کا انتظار کرنا ہے۔

کسی نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو ہادیان بر حق کی ولایت رکھتا ہے اور حکومت حق کے ظہور کے انتظار میں رہتا ہے اور اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس رہبر انقلاب کے خیمہ میں اس کی فوج کے سپاہیوں میں ہو پھر آپ نے کچھ توقف کیا پھر فرمایا اسی شخص کی طرح جو پیغمبر اسلام کے ساتھ ان کے معرکوں میں شریک ہو حضرت رسول اور آئمہ علیہ السلام طاہرین علیہ السلام کہ جو شخص قیام مہدی علیہ السلام کا انتظار کرتے ہوئے مر جائے اس کی مثال ایسی ہے گویا وہ امام علیہ السلام کے ساتھ جہاد میں شریک ہے جب کہ اس کا ثواب پچیس شہیدوں کے ثواب کے برابر محی الدین اردبیلی کہتا ہے کہ ایک دن میں بیٹھا اُونگھ رہا ہے ایسی حالت میں یکایک اس کے سر سے عمامہ گر گیا اس کے سر پر زخم کا نشان نمایاں تھا میرے والد نے پوچھا یہ زخم کیسا ہے؟ اس نے جواب دیا یہ جنگ صفین کے زخم کا نشان ہے میرے والد نے اس سے پوچھا تم نے کہاں اور جنگ صفین کہاں؟ یہ کیا معاملہ ہے اس نے جواب دیا میں مصر کی طرف سفر کر رہا تھا غزہ کا رہنے والا شخص بھی ہمراہ ہو گیا اثنائے راہ میں جنگ صفین پر گفتگو چھڑ گئی میرا ساتھی کہنے لگا اگر میں جنگ صفین میں ہوتا تو اپنی تلوار کو علی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے خون سے سیراب کرتا میں نے بھی اس کے جواب میں کہا اگر میں جنگ صفین میں ہوتا تو اپنی تلوار کی پیاش کو معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے خون سے بچھاتا اب میں اور تم علی علیہ السلام اور معاویہ کے ساتھیوں میں سے ہیں کیوں نہ باہم جنگ کر لیں آپس میں اچھی خاصی جنگ ہوئی یکایک میں نے محسوس کیا کہ میرے سر پر زخم لگا اور فوراً ہی میں بیہوش ہو گیا اسی اثنا میںمیں نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے نیزے کے سرے سے مجھے بیدار کر دیا ہے جب میں نے آنکھ کھولی تو وہ سوار گھوڑے سے اتر آیا اور اپنا ہاتھ میرے سر کے زخم پر پھیرا میرا زخم ٹھیک ہو گیا فرمایا اسی مقام پر رک جاو کچھ دیر بعد سوار غائب ہو گیا میں نے دیکھا ان کے ہاتھ مین میرے اس ساتھی کا کٹا ہوا سر ہے جو میرے ساتھ سفر کر رہا تھا اور اس کے مال مویشی بھی ان کے ساتھ ہیں واپس آکر مجھ سے فرمانے لگے یہ تیرے دشمن کا سر ہے تو نے ہماری نصرت میں قیام کیا پس ہم نے بھی تمہاری مدد کی جو بھی خداوند عالم کی مدد کرتا ہے خدا اس کی نصرت کرتا ہے میں نے پوچھا آپ کون ہے؟ تو فرمایا میں ہی صاحب الامر علیہ السلام تمہارے زمانے کا امام علیہ السلام ہوں پھر فرمانے لگے جو بھی اس زخم کے متعلق سوال کرے اسے بتانا کہ یہ جنگ صفین کا زخم ہے حضرت مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت اور عالمی مصلح کے قیام کا انتظار دو عناصر کا مرکب ہے ایک نفی کا عنصر اور دوسرا مثبت کا عنصر، منفی عنصر موجودہ حالت کی ناپسندیدگی ہے اور مثبت عنصر بہتر اور اچھی حالت کی آرزو ہے اب اگرچہ دونوں پہلو روح انسانی میں اتر جائیں تو دو قسم کے وسیع اعمال کا سر چشمہ بن جائیں گے ان دو قسم کے اعمال میں ایک طرف تو ظلم و فساد کے عوامل سے ہر طرح کا تعلق ترک کرنا ہے یہاں تک کہ ان سے مقابلہ اور جنگ کرنا ہے اور دوسری طرف خودسازی ہے اگرہم اچھی طرح غورکریں تو دیکھیں گے کہ اس کے دونوں حصے اصلاح کن، تربیت کنندہ اور تحرک، آگاہی اور بیداری کے عوامل ہیں سچے انتظار کرنے والوں کی ساتھ ساتھ یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فقط اپنی اصلاح نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کے حالات پر بھی نظر رکھیں اور اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی کوشش کریں کیونکہ جس عظیم پروگرام کی تکمیل کے وہ منتظر ہیں انفرادی نہیں بلکہ ایسا پروگرام ہے جس میں تمام عناصر انقلاب کو شرکت کرنا ہو گی ایک اجتماعی اور وسیع جنگ کے میدان میں کوئی شخص دوسرں کے حال سے غافل نہیں رہ سکتا بلکہ اس کی ذمہ داری ہے کہ کمزوری کا کوئی نقطہ اسے جہاں نظر آئے اس کی اصلاح کرے تنہا جو چیز انسان میں امید کی روح پھونک سکتی ہے انہیں مقابلے اور کھڑے رہنے کی دعوت دے سکتی ہے اور انہیں فاسد ماحول میں گھل مل جانے سے رک سکتی ہے وہ ہے مکمل اصلاح کی امید صرف یہی صورت ہے کہ جس میں وہ اپنی پاکیزگی کی حفاظت کر سکتے ہیں اور دوسروں کی اصلاح کی جدوجہد کو جاری رکھ سکتے ہیں خلاصہ یہ کہ جس قدر دنیا فاسد اورخراب ہو گی مصلح کے ظہور کے انتظار میں امید بڑھے گی جو معتقدین پر زیادہ روحانی اثر ڈالے گی برائی اور خرابی کی طاقتور موجوں کے مقابلے میں یہ امید ان کی حفاظت کرے گی اور وہ نہ صرف ماحول کے دامن فساد کی وسعت سے مایوس نہیں ہوں گے بلکہ وعدہ وصل کی نزدیکی سے ان کی آتش عشق تیز ہوں گی بقول شاعر

وعدئہ وصل چون شود نزدیک

آتش عشق تیز نستر گردد

یہ تھی فلسفہ و حکمت غیبت امام زمانہ علیہ السلام خدا سے دعا گو ہوں کہ ہم سب کو اپنے محبوب و معشوق امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے اور ان کے سچے پیروکار اور منظر حقیقی ہونے کی توفیق عطا فرمائیں مضمون کے اختتام میں فرزندان اسلام سے بالعموم اور شیعیان حیدر کرار علیہ السلام سے بالخصوص دردمندانہ اپیل کرتی ہوں ہ خدا را اپنے اعمال پر نظر ڈالیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کریں اور اپنی دو عملی سے اسلام و مسلمین کی بد نامی کا ذریعہ نہ بنیں جناب رسالت مآب اور ہادیان دین نے ہمیشہ اپنے کردار سے اسلام کی تبلیغ کی اور آج دنیا آپ کے عمل کو دیکھ رہی ہے آج کا دور جو کہ الیکٹرانک میڈیا اور پریس کی بے تحاشا قوت کا دور ہے دنیا اپنے ذرائع ابلاغ سے آپ کی بد اعمالیوں کو نمایاں کر رہی ہے اور آپ کی بد عملی اسلام کی نشرواشاعت میں رکاٹ بن رہی ہے آج کے اس دور میں وحدت و اتحاد اور بھائی چارہ کی اشد ضرورت ہے ہمیں چاہتے کہ اپنے آپ کو ظہور مہدی علیہ السلام کے لیے آمادہ کریںخداوند ہم سب کو دیدار مہدی علیہ السلام کا شرف عطا فرمائیں۔

الہیٰ بہ امید شفاعت فاطمہ علیہ السلام

مآخذ: منتہی الآمال، مہدی علیہ السلام موعود، سیرہ آئمہ تفسیر نمونہ کتاب آیت اللہ دستغیب۔

۲۱

بسم اللہ الرحمن الرحیم

۶- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت

از: سید راحت کاظمی

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مبعوث کرنا چاہا تو فرمایا:”انی جاعل فی الارض خلیفه

میں زمین پر قائم مقام مقرر کرنے والا ہوں اس سے صاف ظاہر ہے کہ جب تک زمین رہے گی اس کا کوئی نہ کوئی قائم مقام ضرور رہے گا کواہ اس کانسبی و رسول ہو یا خلیفہ و امام اس لےے قرآن مجید نے اعلان فرما دیا ہے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے جو خالص ایمان والے ہیں اور ان کے تمام عمل صالح و نیک ہیں وہ انہیں زمین پر ضرور اس طرح سے خلیفہ بنائے گا اس سے قبل خلیفہ بناتا رہا ہے کس نبی کے خلیفہ کا انتخاب امت کے سپرد نہیں کیا گیا اور نہ کسی کا انتخاب اجماع سے اور نہ شوریٰ اور نہ قیاس وغیرہ سے سب کا انتخاب خدا ہی کرتا رہا ہے اور ہر پہلے آنے والا بعد میں آنے والے کے صفات و کمالات و خصوصیت بلکہ اس کے نام سے قوم کو مطلع و با خبر کرتا رہا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمارے نبی کا اپنی امت کے سامنے ان الفاظ مین اعلان فرمایا ہے۔

یاتی من یعد اسمه احمد

میرے بعد آنے والے نبی کا نام احمد ہو گا ظاہر ہے جو وعدہ کرتا ہے ایفائے عہد کا بھی وہی ذمہ دار ہوتا ہے جب رب العزت نے وعدہ فرمایا ہے پچھلے انبیاءکے خلفاءکی خلق کا انتخاب خدا پر ہے نہ کہ امت پر انتخاب کرنا خدا کا کام نہیں ہے چنانچہ رسول اکرم بار بار فرماتے ہیں کہ میرے بعد بارہ امام ہوں گئے اور سب قریش سے ہوں گئے پھر آپ نے متعدد بارہ اصحاب کے سامنے نام لے کر فرمایا کہ ان بارہ کے اول علی مرتضیٰ علیہ السلام ہیں ان کے بعد فرزند امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام اور ان کے بعد امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں نو ہوں گئے جن کا آخری اس امت کا مہدی علیہ السلام ہو گا ان کا نام میرا نام اور ان کی کنیت میری کنیت ہو گی وہ انقلاب زمانہ کی وجہ سے ایک پردہ غیبت میں رہیں گے امام مہدی علیہ السلام وہ مبارک مولود ہے جو اج سے ایک ہزار ایک سو پینتیس برس پہلے س دنیا میں آچکا ہے آج تک زندہ و پائندہ ہیں روئے ارض پر زندگی گزار رہا ہے نعمات الہیٰ سے مستفید ہو رہا ہے عبادات الہیہ میں مصروف ہے اور ظہور میں امر الہیٰ کا انتظار کر رہے ہیں آنکھوں سے غائب ہیں اور جب آپ علیہ السلام ظاہر ہوں گے تو وہ زمین کو عدل و انصاف سے پر کردےں گے آپ علیہ السلام یہ بھی بار بار فرماتے ہیں ۔

من مات ولم یعرف امام زمانه علیه السلام مات میته الجاهلیه ۔

جو شخص مر جائے اور اپنے زمانے کے امام علیہ السلام کو نہ پہچانے وہ جاہلیت کی موت مرا اس فرمان سے ظاہر ہو گیا ہے کہ ہر زمانہ کا امام الگ ہے جس کی معرفت اس زمانہ والوں پر فرض ہے جو اس کی معرفت سے محروم رہے گا وہ کفر کی موت مرے گا امام مہدی علیہ السلام کی غیبت تویہ خدا کا کام ہے اس کی قدرت میں کون شک کر سکتا ہے جس نے آدم علیہ السلام کی مجرم اولاد سے بچا کر ادریس علیہ السلام کو ساتویں آسمان پر زندہ بلا لیا اور فرمایا:”ورفعا مکانا علیا

ہم نے انہیں بلند مقام پر اُٹھا لیا جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے شر سے نجات دینے کے لےے چوتھے آسمان پر بلا لیا اورفرمایا۔”انی متوفیک ورافعک الی“میں تمہیں یوں پورا لے کر اپنی طرف بلند کرنے والا ہوں جس نے حضرت خضر علیہ السلام و الیاس علیہ السلام کو ہزاروں سال غائب رکھا جس نے اصحاب کہف کو ہزاروں سال غائب رکھا جس نے حضور اکرم کو شب ہجرت محاصرہ کرنے والوں کے بیچ سے غائب کر کے نکال دیا اور وہ محسوس بھی نہ کر سکے تو اس کےا تعجب کی بات ہے اگر اللہ تعالیٰ ایک مقررہ وقت امام مہدی علیہ السلام کو حسب ضرورت غائب رکھے بلکہ متقین کا معیار ہی یہ ہے کہ وہ غیبت پر ایمان رکھیں ہمارا خدا غائب روز حشر غائب جنت غائب دوزخ غائب صراط غائب میزان غائب اعراف غائب حوریں غائب غلمان غائب ملائکہ غائب جن جو اس زمی نپر موجود ہیں مگر نظروں سے غائب تو امام مہدی علیہ السلام کی غیبت پر کیا تعجب ہے حضور اکرم نے فرمایا جب قیامت کا ایک دن باقی رہ جائے گا اس سے قبل بارہویں امام علیہ السلام کا ظہور ضرور ہو گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کی اقتدار میں نماز پڑھیں گے اس طرح اگر اس نے امام علیہ السلام کو غائب رکھ کر یہ فرما دیا۔

الم ذالک الکتاب لا ریب فیه هدی للمتقین الذین یومنون بالغیب ۔

اس کتاب میں کوئی ریب و شک نہیں ہے یہ عین ہدایت ہے متقین کے لیے جو غائب پر ایمان رکھتے ہیں تو اس کے لیے کیا تعجب ہے کہ امام علیہ السلام کو ایک وقت مقررہ تک حسب و ضرورت غائب رکھے بلکہ متقین کا معیار یہ ہے کہ وہ غیبت پر ایمان رکھیں اگر مانع نہ ہونا تو آپ کا ظہور زیادہ مفید و بہتر ہوتا لیکن چونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خداوندعالم نے اس مقدس وجود کو آنکھوں سے پنہاں رکھا ہے اور خدا کے افعال نہایت ہی استحکام اور مصلحت و واقع کے مطابق ہوتے ہیں لہذا امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کی بھی یقینا کوئی وجہ ضرور ہو گی اگرچہ ہمیں اس کی تفصیل معلوم نہیں ہے درج ذیل حدیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ غیبت کا بنیادی سبب لوگوں کو نہیں بتایا گیا صرف آئمہ علیہ السلام کو معلوم ہے عبداللہ بن فضل ہاشمی کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا صاحب الامر علیہ السلام کے لیے غیبت ضروری ہے تا کہ گمراہ لوگ شک میں مبتلا ہو جائیں میں نے عرض کی کیوں آپ علیہ السلام نے فرمایا ہمیں اس کی علت بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے اس کا فلسفہ کیا ہے وہی فلسفہ جو گزشتہ حجت خدا کی غیبت میں تھااس کی حکمت ظہور کے بعد معلم ہو گی بالکل ایسے ہی جیسے جناب خضر علیہ السلام کا کشتی میں سوراخ سرنا بچہ کے قتل اور دیوار کرو تعمیر کرنے کی علت جناب موسیٰ علیہ السلام کو جدا ہوتے وقت معلوم ہوئی تھی اے فضل کے بیٹے غیبت کا موضوع مری ہے یہ خدا کے اسرار اور الہیٰ غیوب میں سے ایک ہے چونکہ ہم خدا کو تسلیم کرتے ہیں اس بات کا اعتراض بھی کرنا چاہےے کہ اس کے امور حکمت کی رو سے انجام پاتے ہیں اگرچہ ہم اس کی تفصیل نہیں جانتے(بحارالانوار ج۲۵ ص۱۹) مذکورہ حدیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ غیبت کی اصلی حقیقت و سبب اس لیے بیان نہیں ہے کہ لوگوں کو بنانے میں فلاح نہیں تھی یا وہ اس کے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے پہلا فائدہ امتحان و آزمائش ہے تا کہ جن لوگوں کا ایمان قوی نہٰں ہے ان کی باطنی حالت ظاہر ہو جائے اور جن لوگوں کے دل کی گہرائیوں میں ایمان کی جڑیں اتر چکی ہیں غیبت پر ایمان انتظار فرج اور مصیبتوں پر صبر کے ذریعہ ان کی قدر و قیمت ظاہر ہو جائے اور ثواب کے مستحق قرار پائیں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں ساتویں امام علیہ السلام کے جب پانچویں بیٹے غائب ہو جائیں اس وقت تم اپنے دین کی حفاظت کرنا ایسا نہ ہو کہ کوئی تمہیں دین سے صاحب الامر علیہ السلام عقیدے سے منحرف ہو جائے گا خدا امام زمانہ کی غیبت کے ذریعے اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے (بحارالانوار ج۲۵ ص۳۱۱) اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ غیبت کے ذریعے ستمگروں کی بیعت سے محفوظ رہیں گے حسن بن فضال کہتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا گویا میں اپنے تیسرے بیٹے امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات پر اپنے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے امام مہدی علیہ السلام کو یہ جگہ تلاش کر رہے ہیں لیکن اس بارے میں نے عرض کی فرزند رسول کیوں آپ نے فرمایا ان کے امام مہدی علیہ السلام غائب ہو جائیں گے عرض کی کیوں غائب ہوں گے فرمایا تا کہ جب تلوار کے ساتھ قیام کریں تو اس وقت آپ کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہو گی (بحارالانوار ج۱۵ص۴۵۱)اس کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ غیبت کی وجہ سے قتل نجات پائی زرارہ کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا قائم علیہ السلام کے لیے غیبت ضروری ہے عرض کی کیوں مول علیہ السلام فرمایا قتل ہو جانے کا خوف ہے اور اپنے شکم مبارک کی طرف اشارہ کر کے فرمایا مذکورہ تینوں حکمتیں اہل بیت علیہ السلام کی احادیث میں منقول ہیں (اثبات الہدیٰ ج۴ص۷۳۴)

غیبت پر ایمان لانا نہایت عظمت رکھتا ہے اور یہ نعمت یقین کامل کے ساتھ ایمان والوں کو ہی حاصل ہے ابن قاسم کا بیان ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سےالم ذالک الکتب لاریب فیه هدی للمتقین الذین ۔

ترجمہ: الم یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے۔

جو غیبت پر ایمان رکھتے ہیں کے بارے میں دریافت کیا آپ علیہ السلام نے فرمایا متقین سے مراد علی علیہ السلام کے شیعہ ہیں اور بالغیب سے مراد حجت غائب ہیں اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے کہ اس (رسول) پر اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نازل نہیں ہوتا۔

اے رسول کہہ دو کہ غائب کا مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے پس تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (سورہ یونس آیت نمبر۰۲)

امام جعفر صادق علیہ السلام اور آپ علیہ السلام نے اپنے آبائے کرام سے روایت نقل کی کہ رسول خدا نے ایک مرتبہ حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا اے علی علیہ السلام تمہیں معلوم کہ لوگوں میں سے سب سے بڑا صاحب یقین ہو گا جو آخرزمانہ میں پیدا ہو گا انہوں نے اپنے نبی کو نہ دیکھا ہو گا اور حجت خدا امام علیہ السلام بھی پردہ غیبت میں ہوں گے مگراس کے باوجود یہ سیاہ و سفید پر ایمان رکھتے ہوں گے۔(اکمال الدین)

کہتا ہے کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ غیبت امام علیہ السلام کا فائدہ کیا ہے یوں تو بکثرت ایسی احادیث موجود ہیں جن میں امام غائب کا شمار کیا گیا ہے جابر جعفی نے جابر بن عبداللہ انصاری سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا میں نے پیغمبر خدا سے سوال کیا کہ کیا شیعہ غیبت کے زمانہ میں حضرت قائم علیہ السلام کے وجود سے فائدہ اُٹھائیں گے یا نہیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے پیغمبری پر مبعوث کیا ہے آپ علیہ السلام کی غیبت میں شیعہ اس کے نور ولایت سے اس طرح مستفید ہوں گے جس طرح بادل کے باوجود سورج کی روشنی سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے (صواعق محرقہ) میں حضرت علی علیہ السلام نے رسول خدا سے روایت بیان کی ہے ستارے اہل آسمان کے لیے آمان ہیں جب یہ ستارے ختم ہوئے تو اہل آسمان ختم ہو جائیں گے اور میرے اہل بیت علیہ السلام اہل ارض کے لیے امان ہیں جب اہل بیت علیہ السلام نہ رہے تو اہل ارض نہ رہیں گے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں ہم مسلمانوں کے امام علیہ السلام دنیا پر حجت مومنین کے سردار نیکوکاروں کے رہبر اور مسلمانوں کے رہبر اور مسلمانوں کے مولا ہیں ہم زمین والوں کے لیے امان ہیں جیسا کہ آسمان والوں کے لیے ستارے امان ہیں ہماری وجہ سے آسمان اپنی جگہ ٹھہرا ہوا ہے جب خدا چاہتا ہے ہمارے لیے باران رحمت نازل کرتا ہے اور زمین سے برکتیں ظاہر کرتا ہے کہ اگر ہم روئے زمین پر نہ ہوتے تو اہل زمین دھنس گئے ہوتے پھر حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہین جس دن سے خدا نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ہے اس دن سے آج تک زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہی ہے قیامت تک زمین حجت خدا سے خالی نہ ہو گی حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ رب ذوالجلال کی قسم کہ وہ ذات جلیل جدوجہد کے ذریعے اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور امتحان میں مبتلا کرتا ہے تا کہ ان کے دلوں سے تکبر نکلے اور ان میں عاجزی و انکساری پیدا ہو اس طرح اس کو اپنے فضل و کرم اور ان کی بخشش کا ذریعہ بنائے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔

ترجمہ: کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ صرف یہ کہنے پر ان کو چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کاامتحان نہیں لیا جائے گا خداوند عالم نے مسلمانوں کا کبھی ہجرت کے ذریعے امتحان لیا جائے گا خداوندعالم نے کبھی جنگوں اور جہاد کے ذریعے کبھی فتح و نصرت دے کر اور کبھی شکست میں مبتلا کر کے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو مسلمانوں کو ساری جنگوں میں فتح و نصرت سے ہم کنار کرتا مگر یہ سب امتحان اور آزمائش کے ذریعے ہی تھے صدر اسلام رسول اعظم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تابعین اور نبع تابعین کا امتحان اس طرح لیا کہ وہ ایسے زمانے میں زندگی گزاریں جب بلا وجہ ان کے امام مظلومیت میں گرفتار ہوں اور قید و بند در بدری جلا وطنی اور آخر کار ارشادات کی منزلوں سے گزر رہے ہوں یہ ان کا کیسا امتحان تھا کہ موسیٰ بن جعفر کو تو قید و بند میںمبتلا دیکھیں اور ان پر عورتیں اور خادم حکومت کر رہے ہوں آج ہم خدائے عزوجل نے ہمارے امام علیہ السلام کی غیبت اور ہمارے رہبر بر حق فائدہ امام مہدی علیہ السلام کے عیاں نہ ہونے کے ذریعے آزماتا ہے اور امتحان لیا ہے تا کہ اس امتحان کے ذریعے یہ دونوں باتیں واضح ہو جائیں مبداءاور خدا کے اعتقاد پر ہم قائم ہیں اور اسلام سے ہمارا تمسک ہے زندگی کی بہت سی سختیاں شدائد اور مصائب اور تکالیف ہمارے نفوس کی تکمیل کا ذریعہ بنتی ہیں اور ہماری اچھی صفات ان سے اُجا گر ہوتی ہیں یہ مشکلیں اور تکالیف اس بات کا باعث بنتی ہین کہ ہم اس دنیا سے رشتہ کم سے کم کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی توجہ کا رخ موڑ دیں ہمارے امام علیہ السلام کی غیبت بھی ان مصیبتوں میں سے ایک ہے جو ان سے زیادہ بڑی نہ ہو تو کم بھی نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی جانب توجہ کے لیے حق کی نصرت معاشرے کی اصلاح اور فرج میں تعجیل کی تمنا اور خدا کی طرف رخ موڑنے کے لیے ہے اس امتحان میں کتنے ہی نفوس کی تکمیل صفات کی درستگی اور طائع کی اصلاح مضمر ہے دور غیبت میں آئمہ اہل بیت علیہ السلام کی محبت میں شیعوں کی سخت آزمائش ہو گی اور شیعوں کے سر کی قیمت رکھی جائے گی احوال و اولاد بلا اور آفات کے ذریعے ان کو آزمایا جائے گا۔

قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

ترجمہ: ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں کلمہ باقیہ قرار دے دیا ہے نسل ابراہیم علیہ السلام دو فرزندوں سے چلی ہے ایک اسحاق اور دوسرے اسماعیل اسحاق کی نسل سے خداوندعالم نے جناب عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ و باقی قرار دے کر آسمان پر محفوظ کر چکا تھا انصاف کی بھی ضرورت تھی کہ نسل اسماعیل علیہ السلام سے بھی کسی ایک کو باقی رکھے اور وہ بھی زمین پر کیونکہ آسمان پر ایک باقی موجود تھا لہذا امام مہدی علیہ السلام جو نسل اسماعیل سے ہیں زمین پر زندہ اور باقی رکھا اور انہیں بھی اسی طرح دشمنوں کے شر سے محفوظ کر دیا جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محفوظ کیا تھا یہ مسلمات اسلامی سے ہے کہ زمین حجت خدا اورامام زمانہ علیہ السلام سے خالی نہیں رہ سکتی اُصول کافی ج۳۰۱ طبع نولکشور چونکہ حجت خدا اس وقت امام مہدی علیہ السلام کے سوا کوئی نہ تھا اور انہیں دشمن قتل کر دینے پر تلے ہوئے تھے اس لیے انہیں محفوظ و مستور کر دیا گیا حدیث میں ہے کہ حجت خد علیہ السلام کی وجہ سے بارش ہوتی اور انہیں کے ذریعہ سے روزی تقسیم کی جاتی ہے(بحار) یہ مسلم ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام جملہ انبیاءکے مظہر تھے اس لیے ضرورت تھی کہ انہیں کی طرح ان کی غیبت بھی ہوتی یعنی جس طرح بادشاہ وقت کے مظالم کی وجہ سے حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد اپنے عہد حیات میں مناسب مدت تک غائب رہ چکے ہیں اسی طرح امام مہدی علیہ السلام بھی غائب ہیں ۔

امام عصر علیہ السلام سے یوں منسلک ہوتی ہے حیات

حیات خلق ہوئی جیسے ہی کے لیے

دلیل عظمت آدم علیہ السلام آب اور کیا ہو گی

رکی ہے قیامت ایک آدمی کے لیے

عجب حسن ہے شمع امام آخر ولی

چھپا ہوا ہے زمانے میں روشنی کے لیے

امام علیہ السلام کی غیبت ہمارے لیے مقرر کی گئی ہے در حقیقت آنجناب دیگر جہانوں کی نسبت اور اولیاءاللہ کے لیے غائب نہیں ہیں ۔

۲۲

فہرست

۱-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۴

از: حب علی مہرانی ۴

محزون و رنجیدہ رہنما: ۴

انتظار حکومت و سکون آل محمد: ۵

امام علیہ السلام کے وجود مبارک کی حفاظت کے لیے پروردگار احدیت میں دست بدعا رہنا: ۶

امام علیہ السلام کی سلامتی کے لےے صدقہ دینا: ۶

امام عصرعلیہ السلام کی طرف سے حج کرنا یا دوسروں کو حج نیابت کے لیے بھیجنا: ۷

امام عصرعلیہ السلام کا اسم گرامی آنے پر قیام کرنا: ۷

دور غیبت میں حفاظت دین و ایمان کے لےے دعا کرتے رہنا: ۷

اما زمانہ علیہ السلام سے مصائب و بلیات کے موقع پر استغاثہ کرنا: ۸

۲-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۹

از:علی عباس ۹

۳-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۱۲

از:سید ریاض حسین اختر ولد سید سلیم اختر حسین شاہ ۱۲

۴-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۲۴

از:سید عمران عباس نقوی ولد سید عابد حسین نقوی ۲۴

حضرت سلمان فارسی کا وارد کوفہ ہونا۔ ۲۶

امام قائم علیہ السلام کا انتظار کرنے والوں کے فضائل: ۲۸

معرفت امام علیہ السلام زمانہ کیوں ضروری ہے: ۳۰

۲۳

دور غیبت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے: ۳۲

۵-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۳۴

از:سید احمد علی شاہ رضوی ۳۴

پہلی ذمہ داری: ۳۴

دوسری ذمہ داری: ۳۶

تیسری ذمہ داری: ۳۷

چوتھی ذمہ داری: ۳۷

پانچویں ذمہ داری: ۳۸

چھٹی ذمہ داری: ۳۹

ساتویں ذمہ داری: ۳۹

آٹھویں ذمہ داری: ۳۹

۶-امام زمانہ علیہ السلام کے زمانہ غیبت کبریٰ میں ہماری ذمہ داریاں ۴۱

از: ملک غلام حسنین مونڈ پپلاں ۴۱

۷-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۴۵

از:سید محمد عباس نقوی ۴۵

زمانہ غیبت میں ہماری چند ذمہ داریاں: ۴۵

۸-زمانہ غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۴۸

از:رضیہ صفدر ۴۸

غیبت صغریٰ غیبت کبریٰ ۴۸

مخزون و رنجیدہ رہنا: ۴۸

۲۴

انتظار حکومت آل محمد ۵۰

امام عصرعلیہ السلام کا اسم گرامی آنے پر قیام کرنا: ۵۱

دور غیبت میں ایمان کی حفاظت کیلئے دعا کرتے رہنا: ۵۴

حضرت کی سلامتی کی نیت سے صدقہ نکالنا: ۵۵

امام زمانہ علیہ السلام سے مصائب کے موقع پر فریاد کرنا: ۵۵

امام زمانہ علیہ السلام کے وجود مبارک کی حفاظت کے لیے بارگاہ احدیت میں دست بدعا رہنا: ۵۶

امام زمانہ علیہ السلام پر زیادہ سے زیادہ سلام و درود پڑھا جائے: ۵۷

آپ علیہ السلام کے ظہور اور فرج و فتح کا انتظار کرنا افضل ترین اعمال ہے: ۵۸

تمام محافل و مجالس میں ذاکرین امام زمانہ علیہ السلام کا ذکر ضرور کریں: ۶۱

۹-زمانہ غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۶۳

از:تسنیم جہان ۶۳

پہلی ذمہ داری: ۶۳

مخزون و رنجیدہ رہنا: ۶۳

دوسری ذمہ داری: ۶۵

تیسری ذمہ داری: ۶۶

چوتھی ذمہ داری: ۶۷

پانچویں ذمہ داری: ۶۸

چھٹی ذمہ داری: ۶۸

ساتویں ذمہ داری: ۶۹

آٹھویں ذمہ داری: ۶۹

۲۵

استغاثہ برای امام زمانہ علیہ السلام: ۷۰

۱۰-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۷۲

از:سیماب بتول ولد حاجی شاہد اقبال ۷۲

۱۱-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۷۸

از:سیدہ فہمیدہ زیدی ۷۸

معرفت: ۷۸

اطاعت: ۷۸

تعجیل ظہور کی دعا: ۷۹

انتظار: ۷۹

اشتیاق زیارت: ۷۹

دعا برائے سلامتی امام زمانہ علیہ السلام: ۷۹

صدقہ برائے سلامتی امام زمانہ علیہ السلام: ۸۰

اتباع نائبین امام علیہ السلام: ۸۰

امام علیہ السلام کا نام لینے کی ممانعت: ۸۰

احتراماً کھڑے ہونا: ۸۱

مشکلات میں امام زمانہ علیہ السلام کو وسیلہ بنانا: ۸۱

امام علیہ السلام پر کثرت سے درود بھیجنا: ۸۱

غیبت میں کثرت سے امام مہدی علیہ السلام کا ذکر کرنا: ۸۱

دشمنوں سے مقابلے کے لیے مسلح رہنا: ۸۲

امام علیہ السلام کی نیابت میں مستحبات کی انجام دہی: ۸۲

۲۶

حضرت مہدی علیہ السلام کی زیارت پڑھنا: ۸۲

تجدید بیعت: ۸۳

توبہ کے پروگرام: ۸۳

علماءاپنے علم کو ظاہر کریں: ۸۳

جھوٹے دعویداروں کو جھٹلانا: ۸۴

ظہور کا وقت معین نہ کرنا: ۸۴

مال امام علیہ السلام کی ادائیگی: ۸۴

امام العصر علیہ السلام سے محبت کا اظہار کرنا: ۸۴

آپ علیہ السلام کے فراق میں غمگین رہنا: ۸۴

آپ علیہ السلام کی غیبت پر اظہار رضایت: ۸۵

امام علیہ السلام کی مظلومیت پر افسردہ ہونا: ۸۵

ایمان پر ثابت قدم رہنا: ۸۵

مصائب کو برداشت کرنا: ۸۶

۱۲-امام زمانہ کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۸۸

از: سیدہ تعزین فاطمہ موسوی ۸۸

صدقہ: ۹۰

حج کرنا: ۹۱

دعا مانگنا: ۹۱

عریضہ: ۹۱

انتظار امام علیہ السلام: ۹۲

۲۷

دعائے ظہور امام زمانہ علیہ السلام: ۹۲

۱۳-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۹۴

از:بی بی آسیہ حیدری ۹۴

۱- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ ۱۱۶

از: رخسانہ بتول ۱۱۶

غیبت صغریٰ، غیبت کبریٰ ۱۱۶

غیبت بارہویں امام علیہ السلام ہی کے ساتھ کیوں مخصوص ہوتی اور امام بارگاہ ہی کیوں ہوتے؟ ۱۱۷

۲- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۲۰

از: شرافت حسین شمسی ۱۲۰

۳- حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۲۵

از: حماد رضا شاہ ۱۲۵

تعارف امام زمانہ علیہ السلام: ۱۲۵

ادوار غیبت: ۱۲۵

غیبت صغریٰ: ۱۲۵

غیبت کبریٰ: ۱۲۵

غیبت اسلام کے مفادات کے عین مطابق: ۱۲۶

خداوند متعال حقیقی رازدان: ۱۲۶

مصلحت خداوندی: ۱۲۶

مختلف اور متضاد نظریات کا جائزہ اور حقیقت: ۱۲۷

غلط استدلال کا ثبوت: ۱۲۷

۲۸

گزشتہ حکمتیں اور غیبت امام علیہ السلام: ۱۲۸

غیبت کبریٰ سے پہلے غیبت صغریٰ کیوں؟ ۱۲۸

امتحان و آزمائش مومنین: ۱۲۹

ظالم حکمرانوں کی بیعت اور ظلم سے محفوط: ۱۲۹

حیات امام علیہ السلام کی محافظت: ۱۳۰

کذاب مدعی نبوت، حقیقی امام علیہ السلام کی حفاطت: ۱۳۱

جواب: ۱۳۲

غلبہ دین اور وعدہ الہیٰ: ۱۳۳

زمین حجت خدا کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی: ۱۳۳

تقاضا عدل خدا (کلمہ یافتہ): ۱۳۳

نزول ملائکہ: ۱۳۴

مظلوموں کا حقیقی سہارا: ۱۳۴

امام علیہ السلام کے غائب کا فائدہ: ۱۳۴

سورج سے تشبیہہ ایک پاکیزہ پہلو: ۱۳۵

۴- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۳۷

از: مولانا محمد آصف رضا ۱۳۷

۵- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۴۰

از:زہراءاصغری ۱۴۰

۶- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۴۶

از: سید راحت کاظمی ۱۴۶

۲۹

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

''المیزان'' میں مرحوم علامہ طباطبائی کا کلام الٰہی کے امتحانوں کے سلسلہ میں تربیتی عنوان سے قابل توجہ ہے: ''... اس وجہ سے انسانوں کے لئے عام الٰہی تربیت حُسن عاقبت اور سعادت اس دعوت دینے کے اعتبار سے امتحان ہے کیونکہ انسان کے لئے حالات کو مشخص و معین اور آشکار کرتی ہے کہ آیا یہ شخص کس عالم سے متعلق ہے: عالم ثواب وا جزا یا عالم عقاب و سزا۔ اس وجہ سے خداوند متعال اپنے تصرفات کو حوادث کی تشریع اور توجیہ کے عنوان سے بلائ، ابتلأ اور فتنہ نام دیتا ہے، مثال کے طور پر عام عنوان سے فرماتا ہے: (اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً )(١) ''بے شک ہم نے روئے زمین کی ہر چیز کو زمین کی زینت قرار دیا ہے تاکہ ان لوگوں کا امتحان لیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر کون ہے '' یا فرماتا ہے: (وَنَبْلُوکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَةً )(٢) ''... اور ہم اچھائی اور برائی کے ذریعہ تم سب کو آزمائیں گے...'' یافرماتا ہے:(اَنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَة )(٣) '' تمہارے اموال اور اولاد فتنہ ہیں'' وغیرہ۔

یہ آیات جیسا کہ آپ ملاحظہ کررہے ہیں انسان سے متعلق ہر مصیبت وبلا کو ''الٰہی امتحان وآزمائش'' شمار کرتی ہیں تمام امور کے لئے جیسے اس کا وجود، اس کے اجزا اور اعضاء جیسے آنکھ، کان یا اس کے وجود سے خارج چیزیں جو اُس سے مربوط ہیںجیسے اولاد بیوی، رشتہ دار، احباب، مال، جاہ و مرتبہ مقام اور وہ تمام امور کہ جن سے وہ کسی قسم کا فائدہ حاصل کرتاہے، اسی طرح ان کے مقابل امور جیسے موت اور تمام مصیبتیں ۔ ان آیات میں افراد کے اعتبار سے بھی ایک عمومیت پائی جاتی ہے یعنی مومن وکافر، نیکوکار اور گناہگار، انبیاء اور ان سے کم درجہ والے سارے افرادمعرض بلا و امتحان میں ہیں، لہٰذا یہ اﷲ کی ایک جاری وساری سنت ہے کہ کوئی اس سے الگ نہیں ہوسکتا''۔(٤)

____________________

١۔ سورہ ٔکہف آیت ٧۔

٢۔ سورۂ انبیاء آیت ٣٥۔

٣۔سورۂ تغابن آیت ١٥ ۔

٤۔ المیزان ج٤ ص٣٦۔

۲۲۱

یہ بات کہ امتحان اور ابتلاء جملہ امور میں تمام افراد کے لئیاﷲ کی بلا استثناء ایک جاری سنت ہے ، ابتلا کے تربیتی روش سے منافات نہیں رکھتی، کیونکہ اس طرح کے امور کے ساتھ ہمارے طرز عمل کو ایک تربیتی طرز کے عنوان سے مانا جاسکتا ہے یعنی مشکلات میں صبر وتحمل اور نعمات میں شکر کہ جس کی بازگشت ہمارے طرز عمل ہی کی جانب ہے، خود اخلاقی تربیت کے عوامل میں محسوب ہوسکتا ہے: اور ہم قطعی طور پر تم کو کچھ چیزوں جیسے خوف،بھوک، اموال، نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور ان صابروں کو بشارت دیدو، (وہی لوگ) کہ جب ان پر مصیبت پڑتی ہے، کہتے ہیں: ''ہم خدا ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ جائیں گے''(١)

اس کے علاوہ اگرچہ آیات میں خیر وشر، نعمت ونقمت، سختی اور سہولت سب کو امتحان اور ابتلا کے مصادیق میں شمار کیا گیا ہے حتی کہ بعض روایات میں شکر و کشادگی کی منزل میں طرز عمل کو صبر وناگواری کے وقت سے زیادہ سخت جانا گیا ہے، لیکن جو چیز امتحان کے موقع پر افراد کی توجہ کا زیادہ تر مرکز ہوتی ہے وہ ناگوار ، رنج آمیز اور اندوہگین حوادث وواقعات کا مقابلہ کرنا ہے، چنانچہ مذکورہ آیت میں تصریح کی گئی ہے کہ خوفناک اور ہولناک امور، بھوک، دلبندوں اور عزیزوں کے فقدان، اموال اور سرمایہ حیات کی نسبت آفات وحوادث وغیرہ سے (کہ جنھیں اصطلاح میں ''مصیبت'' کہا جاتا ہے) تمھیں آزمائیں گے، ان امور کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادگی اور اُن سے ہمارا طرز مقابلہ ان میدان کو ایک تربیتی اور اصلاحی مدرسہ بناسکتا ہے۔

ابتلاء اور سختیوں سے مقابلہ کے تربیتی علائم روایات میں یوں بیان ہوئیہیں: گناہ سے پاک ہونا، باطنی خاکساری وتذلل اور خارجی سرافرازی وسربلندی، کبرونخوت کا زائل ہونا، درجہ بلند ہونا، شدائد ومشکلات کے سامنے ثابت قدمی، آخرت اور خدا کی ملاقات کا اشتیاق۔

''...یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ خدا نے جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے (عمل میں) آزمائش کرے اور جوکچھ تمہارے ضمیر کی حقیقت ہے اُسے آشکار کردے اور خدا سینوں کے اسرار سے آگاہ ہے''۔(٢)

____________________

١۔ سورہ ٔبقرہ آیت ١٥٥۔١٥٦۔

٢۔ (وَلِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِی صُدُوْرِکُمْ وَلِیُمَحِّصَ مَا فِی قُلُوبِکُم، وَاللّٰهُ عَلِیْم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ )(سورہ ٔآل عمران آیت ١٥٤)۔

۲۲۲

حضرت امام جعفر صادق ـنے بھی فرمایا: '' وہ لوگ آزمائش کی بھٹی میں آزمائے جائیں گے، جس طرح سونے کو بھٹی میں آزمایا جاتا ہے اور خالص کئے جائیںگے جس طرح سونا کھرا اور خالص کیا جاتا ہے''۔(١)

سید قطب کی تحریر کے مطابق: تمام وسائل پر حوادث کی ایک تربیتی وسیلہ کے عنوان سے فضیلت وبرتری یہ ہے کہ ایسی خاص حالت روح میں پیدا کرتے ہیں کہ گویا اس کو پگھلادیتے ہیں۔ حادثہ روح کو کامل طور سے جھنجھوڑدیتا ہے وردّ عمل (تاثیر وتاثر) ایک حرارت اس کے باطن میں ایجاد کردیتا ہے کہ کبھی نرم کرنے کے لئے یانرم کرنے کی حد تک پہنچنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ یہ حالت روح میں نہ ہمیشہ پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی نفس کے لئے آسان ہے کہ سکون واطمینان اور امن وامان یا راحت طلبی کی حالت میں اس تک پہنچ جائے۔

''... ایک مثل لوگ کہتے ہیں: جب تک لوہا گرم ہے کوٹ لو، () کیونکہ لوہے کی گرمی کے وقت اُس پر ہتھوڑا مارنا آسان ہے اور اسے جس شکل میں چاہے بدل سکتے ہیں... اس وجہ سے سختیوں اور حوادث سے استفادہ کرنا تربیت کے اہم مطالب میں سے ہے، کیونکہ نفس کے پگھلنے اور گداز ہونے کی صورت میں مربی تربیت دئے جانے والے کو ارشاد وتہذیب کے جس رنگ میں چاہے رنگ سکتا ہے وہ اس طرح کہ کبھی اس کا اثرزائل نہیں ہو گا یا کم ازکم جلدی زائل نہیں ہو گا''۔(٢)

اسی طرح سختیو ں سے استفادہ اور عیش وراحت سے دوری کو اس شیوہ کا مکمِّل (پوراکرنے والا) جانا جا سکتا ہے، سختیاں انسان کے گوہروجودکو جلابخشتی ہیں، اور اس میں نکھاراورچمک پیدا کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سختی، مقاومت کہ جوحادثوں اور سختیوں کی طوفان میں ہمیں حاصل ہو تی ہے، انسان کو نادرست اخلاقی میلانات اور رجحانات کے مقابل محفوظ رکھتی ہے اس وجہ سے روایات میں تاکیدکی گئی ہے کہ بچہ تھوڑا سا کو مشکلات اور سختیوں سے دوچارکرو۔

حضرت امام موسیٰ کاظم ـ فرماتے ہیں:

''بہترہے بچہ عہدطفولیت میںزندگی کی ناگزیرسختیوں اور مشکلوں کا سامنا کرے جو کہ حیات کا تاوان ہے تاکہ جوانی اوربڑھاپے میں بردباراورصابرہو'' ۔(٣)

____________________

١۔''یفتنون کما یفتن الذهب، یخلصون کما یخلص الذهب'' ۔(کافی ج١ص ٣٧٠۔)

٢۔ روش تربیتی اسلام، ص٢٨٧،٢٨٨۔

٣۔ وسائل الشیقہ، ج٥، ص١٢٦۔

۲۲۳

حضرت علی ـ فرماتے ہیں:

''جنگل، ہوا اور طوفان میں پرورش پانے والے درخت باغبا ن کے پر و ر دہ اور تروتازہ درختوں سے بہتر ہوتے ہیں''۔(١)

اسلام میں جہاد اسی زاویہ سے قابل تو جہ و تحقیق ہے دین کے دشمنوں سے جہاد اور مقابلہ خواہ صدر اسلام میں ہو یا بعد کے زمانوں میں ( بالخصوص آخری دفاع مقدس کے دوران) ایک تربیتی اور اخلاقی مدرسہ رہا ہے ، اور اخلاق کی بلندیوں پر فائز انسان اُس مدرسہ سے فارغ التحصیل ہوئے ہیں:

''ہم یقینا تمہیں آزمائیں گے تاکہ تم میں سے مجاہدین اور صابرین کو جان لیں اور (اس طرح) تمھارے حالات کو باقاعدہ جانچ لیں ''۔(٢)

ڈاکٹر'' ویکٹور فرانکل ''سویڈن کا ماہر نفسیات ہے اور ہیومنسٹ معالجین میں سے محسوب ہوتا ہے اور خود بھی ایک طولانی مدت تک جرمنی کے نازیوں چھائونی میں دوسری عالمی جنگ میں اسیر رہا ہے، اس نے اپنی آنکھوں سے جو انسان سوزی کی بھٹیاں دیکھیں اور بھوک، سردی، بیماری اور سخت ترین رنج والم اٹھائے لیکن اس کی جان بچ گئی۔ چھائونی سے آزاد ہونے کے بعد اُس نے اپنے معنوی علاج کے مکتب ( Logothrapy )کی بنیاد ان تین راہوں میں سے ایک راہ کے کشف وتفہیم پر رکھی:

١: ۔اچھے امور کا انجام دینا۔

٢: ۔تجربۂ اعلیٰ جیسے عشق۔

٣رنج والم برداشت کرنا۔

وہ تیسری راہ کی وضاحت میں کہتا ہے: رنج والم کابرداشت کرنا انسان کی بہترین وجودی جلوہ گاہ ہے اور جو بات اہم ہے وہ انسان کا رنج والم کے ساتھ فکر اور سلوک کا انداز ہے۔ ہدف زندگی رنج والم سے فرار کرنا نہیں ہے، بلکہ زندگی کو بامعنی بنانا ہے کہ اُسے واقعی مفہوم عطا کرے۔ ہر چیز کو ایک انسان سے لیاجاسکتا ہے مگر انسان کی آخری آزادی کو اس کی رفتار کے انتخاب میں ڈاسٹایوفسکی کے بقول: میں صرف ایک چیز سے ڈرتاہوں اور وہ یہ کہ اپنے رنج والم کی شایستگی اور لیاقت نہ رکھوں۔(٣)

____________________

١۔ نہج البلاغہ، نامہ، ٤٥۔

٢۔ سورہ ٔمحمد آیت٣١۔

٣۔ دیکٹور فرانکل: انسان درجستوی معنا۔

۲۲۴

د ۔معاشرت و مجالست:

اخلاقی ملکات کے رسوخ کے لئے ایک دوسرا عملی شیوہ صالح اور اخلاقی فضائل کے حامل افراد کے ساتھ زندگی گذارنا اور ناپاک نیز اخلاقی رذائل میں مبتلا افراد کی مجالست وہمنشینی سے اجتناب کرنا ہے، نفس شناسی کے دلائل بہت سی جہتوں سے قابل توجہ ہیں کہ جو تفصیل اور تکرار کے محتاج نہیں ہیں، منجملہ ان کے تقلید اور دوسروں کے اعمال کا مشاہدہ (باندوار کا نظریہ)،قوت بخش چیزوں کے وجود کے ساتھ ماحول سازی اور تداعی (موافقت وہماہنگی) کی ایجاد (ا سکینر کا فعال ماحول سازی کا نظریہ ، یعنی مثال کے طور پر ایک اچھے اور صالح گروہ میں اگر ایک اچھا باعمل انسان سے صادر ہو تو دیگر تمام افراد کے ذریعہ اس کی تقویت کی جائے)۔ (نظریہ تسہیل اجتماعی )(١) ہے (دوسروں کا وجود حتی غیر فعال تماشائیوں کا وجود انسان کی فعّالیت کو قوت بخشتا ہے (کیونکہ انسان کے مقصد کو بلندی عطا کرتا ہے) ۔

آیات وروایات میں نیکو کاروں کی معاشرت اخلاقی تربیت کے ایک شیوہ کے عنوان سے مورد تاکید واقع ہوئی ہے اور بزرگوں نے بھی اس سلسلہ میں مستقل کتابیں تالیف کی ہیں۔

قال الحواریون لعیسیٰ ـ: یاروح اللّٰہ مَن نجالسُ اذاً؟ قال: من یذکرکم اللّٰہ رؤیتہ ویزید فی عملکم منطقہ ویرغبکم فی الآخرة عملہ۔(٢) حواریوں نے حضرت عیسیٰ ـ سے پوچھا:

اے روح اﷲ! اس وقت ہم کس کے ساتھ ہمنشینی رکھیں؟ انھوں نے فرمایا: جس کا دیدار تمھیں اﷲ کی یاد دلائے، جس کی بات تمھارے علم میں اضافہ کرے اور جس کا عمل تمھارے اندر آخرت کے متعلق رغبت پیدا کرے۔

یا ابن مسعود، فلیکن جلساؤک الابرار واخوانک الاتقیاء والزهاد لانّ اللّٰه تعالیٰ قال فی کتابه : (الاخلاء یومئذ بعضهم لبعض عدو الّا المتقین(٣) اے ابن مسعود! تمھارے ہمنشین نیک لوگ ہونے چاہئیں اور تمھارے بھائی (دوست) متیقن وزاہدین ہونے چاہئیں اس لئے کہ تم خدائے تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ''اس دن صاحبان تقویٰ کے علاوہ تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیںگے'' ۔

____________________

١۔زمینہ روانشناسی ج٢ ص٢ ٣٧۔

٢۔ بحار الانوار ج٧٧ ص١٤٧۔

٣۔ بحار الانوار ج٧٧ ص١٠٠۔

۲۲۵

امام علی ـ:جالس العلماء تزدد حلماً ۔(١) علمائے کی ہمنشینی اختیار کرو کہ ان کی ہمنشینی حلم میں اضافہ کرتی ہے۔

امام حسین ـ:مجالس الصالحین داعیة الی الصلاح ۔(٢) صالحین کی مجالس (نشست) صلاح ونیکی کی طرف دعوت دیتی ہے۔

امام علی ـ:جالس العلماء یزددعلمک ویحسن ادبک وتزکوا نفسک ۔(٣) علماء کی ہمنشینی اختیار کرو کہ اس سے تمھارے علم میں اضافہ ہوگا، تمھارا ادب اچھا ہوگا اور تمھارا نفس پاک ہوگا۔

امام علی ـ:علیک باخوان الصدق فاکثر من اکتسابهم فانّهم عدة عند الرخاء وجُنَّة عند البلائ ۔(٤) تم پر سچے (نیک) دوستوںکی ہمنشینی لازم ہے پس ان سے زیادہ زیادہ سے زیادہ کسب فیض کرو اس لئے کہ وہ آسائش کے وقت وسیلۂ دفاع ہیں اور مصیبت کے وقت سپر ہیں۔

امام علی ـ:جانبوا الاشر وجالسوا الاخیار ۔(٥) بروں سے پرہیز کرو اور نیکوں کی ہمنشینی اختیار کرو۔

حضرت امام محمد باقرـ:لاتقارن ولاتواخ اربعة: الاحمق والبخیل والجبان والکذاب ۔(٦) چار افراد سے ہمنشینی اور دوستی اختیار نہ کرو: احمق، کنجوس، ڈرپوک اور جھوٹے سے۔

امام علی ـ:مجالسة اهل الهویٰ منساة للایمان ۔(٧) خواہش پرست کی ہمنشینی ایمان کو بھلادیتی ہے۔

____________________

١۔ غرر الحکم فصل ٣ص ٤٧۔

٢۔ بحار الانوار ج٧٨ ص١٤١۔

٣۔ غرر الحکم فصل ١ص ٤٣٠۔

٤۔ بحار الانوار ج٧٤ ص١٨٧۔

٥۔ غرر الحکم

٦۔ بحار الانوار ج٧٤ ص١٨٧۔

٧۔ نہج البلاغہ ج٨٦۔

۲۲۶

۴: ۔ تشویق اور تنبیہ کا طریقہ

''تشویق ''لغت میں آرزومند کرنے، شوق دلانے اور راغب کرنے کے معنی میں ہے۔(فرہنگ معین)

یہاں پر ''تشویق'' سے مراد انسان کی درخواست سے متعلق اور مطلوب امور سے عمل انجام دینے کے بعد عمل کے اضافہ یا اس کی تثبیت کے لئے استفادہ کرناہے۔

''تنبیہ''بھی لغت میں آگاہ کرنے، بیدار کرنے، تادیب اورسزادینے کے معنی میں ہے (فرہنگ معین)۔ یہاں پر تنبیہ سے مراد انسان کے لئے تکلیف دہ اسباب ووسائل سے عمل انجام دینے کے بعد عمل کو دور یا کم کرنے کے لئے استفادہ کرناہے۔ اس وجہ سے تشویق یا تنبییہ کو خود انسان یا دوسروں کے ذریعہ عملکو کنٹرول کرنے کا ایک سسٹم جاننا چاہئے کہ پسندیدہ یا ناپسندیدہ عمل کے بعد اس عمل کی زیادتی یا کمی کے لئے ان چیزوں کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔

تشویق یا تنبیہ کا نفسیاتی مبنیٰ، فعال ماحول سازی کے نظریہ کے مطابق، درج ذیل آزمائشوں پر استوار ہے:

١ ۔ہر جواب جو ایک قوت بخش محرک کے نتیجہ میں حاصل ہو، اس کی تکرار کی جاتی ہے ۔

٢ ۔قوت بخش محرک ایک ایسی چیز ہے کہ جواب ملنے کے احتمال کو بڑھاتا ہے۔

٣۔ان قوت بخش چیزوں جو ذاتی طور پر تقویت کرنے کی خاصیت کے حامل ہیں،اولین یا غیر شرطی قوت بخش کہتے ہیں، اوّلین مثبت قوت بخش جاندار کی جسمانی قوت ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں جیسے: پانی، غذا، ہوا، وغیرہ۔ اوّلین منفی قوت بخش چیزیں ذاتی طور پر تکلیف دہ خاصیت رکھتی ہیں جیسے: مارپیٹ، گالم گلوج ، زیادہ حرارت اور زیادہ نور وغیرہ۔

٤ ۔ثانوی یاشرطی قوت بخش چیزیںوہ ہیں جو کلاسیک ماحول سازی (اوّلین بخش چیزوں کے ساتھ ہمراہی چیزوں کے ساتھ ہمراہی اور تداعی ) کے اصول کے مطابق تقویت کرنے کی خاصیت رکھتی ہیں جیسے: روپیہ، انعام، نمبر وغیرہ ۔

٥ ۔اگر کوئی رفتار کسی چیز کی تقویت سے بڑھ جائے اور اسے ایک مدت تک تقویت نہ کریں، تو وہ تدریجاً موقوف ہوجائے گی کہ اُسے ''خاموشی''بھی کہتے ہیں۔

٦ ۔تنبیہ، ایک نادرست اورنامطلوب رفتار کے دور کرنے کے لئیتکلیف دہ محرک وسبب کے واردکرنے کے معنی میں ہے۔

۲۲۷

٧ ۔ کبھی کبھی تقویت مسلسل تقویت سے زیادہ اثر رکھتی ہے، لہٰذا اگر مربی (تربیت دینے والا) ہر بار مطلوب اور پسندیدہ رفتار کے ظاہر ہونے کے بعد جزاوسزا دے، تو ناخواستہ طور پر اس کے وقوع کا احتمال کم ہوتا جائے گا، لیکن اگر مربی کبھی کبھی چند بار مطلوب رفتار انجام دینے کے بعد جزا دے، تو اس کے توقعکا احتمال زیادہ ہوجائے گا زیادہ موثر یہ ہے کہ تربیت کی ابتدا میں مسلسل جزا ہو اور رضایت بخش سطح تک پہنچنے کے بعد نوبت وار کبھی کبھی ہوجائے ۔

٨۔ آغاز میں اجتماعی قوت بخش (ستائش، تائید اور مسکراہٹ وغیرہ) محسوس طور پر قوت بخش چیزوں کے ساتھ استعمال کی جائے اور اس کے بعد محسوس قوت بخش چیزیں ترک کردی جائیں ، آیات وروایات میں تشویق وتنبیہ کے تربیتی کردار پر تاکید کی گئی ہے۔

حضرت امیر المومنین علی ـ مالک اشتر کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''تمہارے نزدیک نیکو کار اور بدکاریکساں نہ ہوں، کیونکہ یہ امر (یکساں قرار دینا) نیکو کاروں کے نیکی ترک کرنے اور نااہلوں کی بدکاری میں اضافہ کا باعث ہوگا، لہٰذا ادب کی رعایت کے لئے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ حالات کے مطابق برتائو رکھو''۔(١)

''نیکوکاروں کی اصلاح ان کا ادب و احترام کرنے سے ہوتی ہے اور بدکاروں کی اصلاح ان کی تادیب کرنے (سزا دینے)سے''۔(٢)

''جوکچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب خدا کے لئے ہے، تاکہ جن لوگوں نے برا کیا ہے وہ ان کے کرتوت کی انھیں سزا دے اور جن لوگوں نے احسان ونیکی ہے انھیں اچھا بدلہ دے ''۔(٣)

''خداوند سبحان نے جزا اپنی اطاعت پراور سزا اپنی معصیت پر قرار دی ہے، تاکہ اپنے بندوں کو اپنے عذاب سے باز رکھے اور بہشت کی طرف روانہ کرے''۔(٤)

____________________

١۔ بحار الانوار ج٧٧ ص٤٦۔

٢۔''استطلاح الاخیار باکرامهم والاشراربتأدیبهم'' (بحار الانوار ج٧٨ ص٢٤٥)۔

٣۔ سورہ ٔنجم آیت ٣١۔

٤۔ نہج البلاغہ حکمت ٣٦٨۔

۲۲۸

ادیان الٰہی اور اسلام میں قانون عذاب وثواب کو دو اعتبارسے دیکھا جاسکتا ہے

: اول

یہ کہ ان کا اعلان کرنا انذار وتبشیر کا پہلو رکھتا ہے ، دوسرے یہ کہ ثواب وعقاب کی واقعیت عینی ہے کہ اُن میں سے بعض دنیا میں (جیسے سکون واطمینان، راحت وچین ، زندگی کی آسائش اور عیش وعشرت کو احساس ) اور درک کرتا ہے، اس لحاظ سے تشویق وتنبیہ اُن دونوں کی تطبیق واقع سے دور نہیں ہے۔ اُس کا اخروی حصہ جیسے حور وقصر ومحلات وغیرہ بھی ایمانی بصیرت (انسان کا دوسرے عالم اور وعدہ الٰہی کے قطعی ہونے اور اس بات پر اعتقاد رکھنا کہ انسان اپنے اعمال سے اس ثواب یاعقاب کو اس وقت بھی عینی تجسم بخشتا ہے ) کے اقتضا کے مطابق حاضر وموجود ہیں اور انھیں بھی تنبیہ وتشویق کے مصادیق میں شمار کرسکتے ہیں۔ اس بناپر بہشت ودوزخ اور ا ﷲ کے وعدہ و وعید سے متعلق تمام آیات ایک طرح بندوں کی تشویق اورتنبیہ کے لئے ہیں تاکہ وہ اپنی عادت اور روش کو بدل ڈالیں اور فلاح وکامیابی اور فضائل اخلاقی کے حامل ہونے کی راہ میں گامزن ہوجائیں۔ لیکن ان لوگوں کے لئے جن کا عقیدہ وایمان کمزور ہے، ان کے لئے وہ آیات انذار وتبشیر ہی کی حد میں ہوں گی ۔

دوسرانکتہ

جس کی ہمیں تاکید کرنی ہے یہ ہے کہ یہاں پر تشویق، ترغیب اور تحریض (ابھارنے) کے علاوہ ایک چیز ہے، تشویق عمل انجام دینے کے بعد کی چیز ہے، لیکن ترغیب وتحریض قبل ازعمل سے مربوط ہیں۔ تشویق وتنبیہ کے وہ طریقے جن میں ایک طرح منطقی ترتیب کا لحاظ کیا جاسکتا ہے، درج ذیل ہیں:

الف ۔ عاطفی توجہ:

محبت آمیز نگاہ ، مسکرانا، اور ہر قسم کی تائید ، مہر ومحبتاور طلف کا احساس تربیت پانے والے کو عزت نفس کے عمیق احساس میں مبتلا کردیتاہے، کیونکہ ہر انسان حُبّ ذات کے زیر اثر غیروں کی محبت اورتوجہ حاصل کرنے کا محتاج ہوتا ہے۔(١) درج ذیل آیات اس سلسلہ میں قابل توجہ ہیں: (وَاخْفِضْ جِنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ المُؤمِنِیْنَ )(٢) ''اور جو صاحبان ایمان آپ کی اتباع کرلیں ان کے لئے اپنے شانوں کو جھکادیجئے''۔

____________________

١۔اس بات کی مزید توضیح ''تکریم شخصیت کی روش ''کی بحث میں گذر چکی ہے۔

٢۔ سورہ ٔشعراء آیت٢١٥۔

۲۲۹

(وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰواةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهُ وَلَاتَعْدُ عَیْنَاکَ عَنْهُمْ )(١)

''اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ صبر آمادہ کرو جو صبح وشام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اسی کی مرضی کے طلبگار ہیں اور خبردار تمھاری نگاہیں ان کی طرف سے نہ پھرجائیں...''۔

ان آیات میں خداوند متعال اپنے مہربان حبیب سے چاہتا ہے کہ مومنین کے لئے لطف ومرحمت کے بازو جھکادیں، ان کی طرف سے چشم محبت نہ ہٹائیں اوران کے ساتھ ہمراہی اور صبر وشکیبائی کریں دوسری آیت میں اپنے رسول کی بلند ترین ان صفات کے حامل ہونے اور مومنین کے ساتھ ایسی معاشرت رکھنے پر معاملات کرنے کی توصیف کرتا اورفخرو مباہات کرتا ہے:

''یقیناً تمھارے پاس تمھیں میں سے وہ پیغمبر آیا ہے کہ تمہاری ہر مصیبت پراس کے لئے بہت ناگوار ہے وہ تمہاری ہدایت کے بارے میں حرص رکھتا ہے اور مومنین پر دلسوز ومہربان ہے''۔(٢)

جی ہاں، وہ روح پرورنگاہ جو انسانوں پر عشق ومحبت کے ساتھ پڑتی ہے، انسان کو متحرک کرنے کے لئے کافی ہے اور بلال وسلمان کی صف میں بٹھادیتی ہے۔

ب ۔ زبانی تشویق:

تعریف وتمجید ، دعا، شکریہ ادا کرنا اور زبانی قدردانی بھی اُن عام وسائل اور اسباب میں سے ہیں کہ بلند مقاصد اور گرانمایہ اخلاقی اعمال تک رسائی کے لئے اُن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے خداوند عالم اپنے پیغمبر سے چاہتا ہے کہ مومنین سے زکات لینے کے بعد ان کے لئے دعا کریں۔(٣)

حضرت امیر المومنین علی ـ نے بھی مالک اشتر سے خطاب کرتے ہوئے انھیں اس نکتہ کی یاد آوری کی ہے:

... ان کی پے درپے تشویق کرو اور جو انھوں نے اہم کام انجام دئے ہیں انھیں شمار کرو (اہمیت دو) کیونکہ ان کے نیک کاموں کی یاد آوری ان کے دلیروں کو زیادہ سے زیادہ حرکت کرنے پر ابھارتی ہے، اور وہ لوگ جو کام میں سستی کرتے ہیں انھیں کام کرنے کا شوق پیدا ہوگا، انشاء اﷲ ۔(٤)

____________________

١۔ سورہ ٔکہف آیت٢٨۔ ٢۔ سورہ ٔتوبہآیت ١٢٨۔٣۔ سورہ ٔتوبہ آیت ١٠٣۔ ٤۔ نہج البلا غہ نامہ ٥٣۔

۲۳۰

زبانی تشویق میں اہم نکتہ یہ ہے کہ اور موقع ومحل سے اس حد تک استفادہ ہو اور افراط وتفریط یا چاپلوسی کی حالت پیدا نہ ہو امام علی ـ نے فرمایا ہے:

جب تم تعریف وثنا کر و تو اختصار پر اکتفاکرو۔(١)

سب سے زیادہ بے عقلی اور حماقت، تعریف وستائش یا مذمت میں زیادتی کرناہے۔(٢)

''استحقاق سے زیادہ تعریف کرناچاپلوسی ہے اور اس (استحقاق) سے کم تعریف کرنا حسد یا عاجزی کی علامت ہے''۔(٣)

بہت سے افراد اپنی تعریف وتمجید ہونے سے مغرور ہوجاتے ہیں۔(٤)

ج ۔ عملی تشویق:

انعام، ہدیہ، تحفہ وغیرہ دینا، نمبر، تنخواہ یا حقوق یا مزدوری میں اضافہ کرنا، سیاحت اور تفریح کے لئے لے جانا، کھیلنے کی یا دوستوں کے ہمراہ باہر جانے کی اجازت دیناوغیرہ ، یہ سب عملی تشویق شمار ہوتی ہے کہ موقعیت کے اعتبار سے ان کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پیغمبر اکرم اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی سیرت میں ایسے متعددمقامات پائے جاتے ہیں کہ کسی ایک آدمی کے نیک عمل کا مشاہدہ کرنے کے بعد اُسے صلہ اورہدیہ دیتے ہیں حتی کبھی اپنا لباس بھی دیدیتے تھے، جیسے کمیت بن زیاداسدی کی داستان کہ حضرت امام زین العابدین ـ کی خدمت میں پہنچے اور کہا: میں نے آپ کی مدح وثنا میں کچھ اشعار کہے ہیں اور چاہتا ہوں کہ انھیں پیغمبر سے تقرب کا وسیلہ قراردوں۔پھر اپنا معردف قصیدہ آخرتک پڑھا، جب قصیدہ تمام ہو گیا، امام ـ نے فرمایا: ''ہم تمہاری جزا نہیں دے سکتے، امید ہے کہ خداوندعالم تمہیں جزادے۔''پھر اس کے بعد اپنے بعض لباس انھیں دیدیئے اوراُن کے حق میں اس طرح دعا کی: ''خدا یا! کمیت نے تیرے پیغمبر کے خاندان کی نسبت، اس حالت میں نیک فریضہ اداکیا کہ اکثرلوگوں نے اس کام سے نجل کیا اور شانہ خالی کیا ہے جوحق دوسروں نے پوشیدہ رکھا تھا اس نے آشکار کردیا۔ خدایا! اسے سعادت مندزندگی عطا کر اور اُسے شہادت نصیب کر اور اُسے نیک جزا دے کہ ہم اُس کی جزا نہیں دے سکتے جزا ور ناتواں ہیں۔

____________________

١۔ ''اذا مدحت فاختصر ''(غرر الحکم، فصل ٤ص٤٦٦)۔٢۔ ''اکبر الحمق الاغراق فی المدح والذم '' (غرر الحکم، فصل ٧ص٧٧)۔٣۔''الثناء بأکثر من الاستحقاق ملق والتقصیر عن الاستحقاق عیّ أوحسد'' (بحارالانوار ج٧٣ص ٢٩٥)۔٤۔''رُبّ مفتون بحسن القول فیه'' (بحارالانوار ج٧٣ص ٢٩٥)۔

۲۳۱

کمیت نے بعد میں کہا: ''میں ہمیشہ ان دعائوں کی برکت سے بہرہ مند رہا ہوں'' حضرت نے اس طریقہ سے کمیت کی روح شجاعت اور حق گوئی کی تشویق اور تائیدکی۔ اسی کے مشابہ داستان حضرت امام علی رضا ـ کے بارے میں بھی دعبل خز اعی کی نسبت ہے جب وہ قصیدہ پڑھ چکے تو حضرت نے وہ دس ہزار درہم کہ جن پر آپ کا نام کندہ تھا اُنھیں عطا کیا اور دعبل نے ہر درہم کو اپنی قوم کے درمیان (دس) درہم میں فروخت کیا۔(١)

درج ذیل نکات کی رعایت تشویق کی تاثیرمیں اضافہ کرتی ہے:

١۔تشویق ابھارنے اور قوت بخشنے کا ذریعہ ہے لہٰذا خودوہی ھدف نہیں بن جانا چاہئیکہ اور تربیت پانے والے کے تمام افکار داذہان کو اپنے ہی لئے سرگرم رکھے۔ تشویق کبھی کبھی کرنا، اس کا فیزیکی سطح سے اجتماعی ومعنوی بلندی کی طرف لے جانااور تشویق کا مستحق ہونا (رشوت کی حالت کا نہ رکھنا ) ایک حدتک مذکورہ اشکال واعتراض کو برطرف کردیتاہے۔

٢۔ تربیت پانے والے کو تشویق کی علت مکمل طور پرواضح اور معلوم ہونی چاہئے۔

٣۔تشویق موقع ومحل کے اعتبار سے ہو تاکہ کار آمد اور موثر ثابت ہو۔

٤۔تشویق کرتے وقت اُس کا کسی دوسرے سے مقائسہ اور موازنہ نہیں کرنا چاہئے ؛کیونکہ اُس پر بُرااثرپڑے گا۔

٥۔ مجمع میں تشویق وتحسین کرنا زیادہ اثر رکھتا ہے کیونکہ دوسروں کو بھی آمادہ کرتا ہے۔

د۔ جزاسے محرومیت اور نیکو کار کو جزادینا:

اس مرحلہ کے بعد تبنیہ کے طریقوں میںداخل ہو جائیں گے۔ مربی تربیت دئے جانے والے کی نا شائستہ حرکات وسکنات کو ختم کرنے کے لئیاسے ان بعض جزائوں اورمواہب سے محروم کردے جن کی وہ امید رکھتا ہے یایہ کہ نیکوکاروں کو جزادے کر اُسے اپنی محرومیت کی جانب متوجہ کرے اور اس کے اشتباہ وخطا کی نشاندہی کرے۔حضرت علی ـ کے گہربار اور زریں کلام میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ''نیکو کار کو جزا دے کر بدکار کو ان کی بدکاری سے روک دو''۔(٢)

____________________

١۔عیون اخبارالرضا ـ، ج١، ص١٥٤۔

٢۔ ''از جرالمسء بثواب المحسن''بحار، ج٧٥، ص٤٤، باب ٣٦

۲۳۲

(اَفَمَنْ کَانَ مُؤمِناً کَمَنْ کَانَ فَاسِقاً لَایَسْتَوُونَ(١)

''کیا وہ شخص جو صاحب ایمان ہے اس کے مثل ہوجائے گا جو فاسق ہے؟ ہرگز نہیں ، دونوں برابر نہیں ہوسکتے''۔

(لَایَسْتَوِی اَصْحَابُ النَّاسِ وَاَصْحَابُ الْجَنََّةِ ۔۔۔)(٢)

''اصحاب جنت اور اصحاب جہنم ایک جیسے نہیں ہوسکتے''۔

(وَمَایَسْتَوِی الاعمیٰ والبصیروالّذین آمنواوعملواالصالحات ولاالمسء قلیلا ماتتذکرون(٣)

''اور یاد رکھو کہ اندھے اور نابینا برابر نہیں ہوسکتے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بدکاروں جیسے نہیں ہوسکتے ہیں، مگر تم لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو''۔

خداوند عالم ان آیات میں واضح طورپر نیکوکاروں اوربدکار روں کے مسادی نہ ہو نے کا اعلان کرتا ہے، اس سے اس کا مقصود یہ ہے کہ سب جان لیں کہ اچھے لوگوں کے لئے جزا ہے اور ناشائستہ اور قبیح اعمال والوں کے لئے محرومیت کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ہ۔جرمانہ اور تلافی:

جرمانہ نمبرکم کرنے ، پیسہ دینے، دوستوں کے لئے مٹھائی خریدنے وغیرہ کی صورتوں میں ہوتا ہے۔ تلافی جیسے اس انسان سے عذر کرنا جس کی توہین کی ہے یا جس جگہ کوئی نقصان پہنچایا ہے اس کی تعمیر کرے یا مرمت کرے جرمانہ کے سلسلہ میں توجہ رکھنا چاہئے کہ ادا کرنے یا کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اوربے چارگی اوربیزاری کی حالت پیدا نہ ہو۔ جرمانہ کے شیوہ سے استفادہ کی شرط یہ ہے کہ انسان کی ایک مدت تک تقویت کی جائے تاکہ پہلے جو اُسے جزائیں دی گئی ہیں بعد میں اُس سے واپس لی جاسکیں۔

اسلام میں دیت کاقانون اس کے حقوقی جنبہ کے علاوہ تربیتی جنبہ سے بھی ایک قسم کا جرمانہ حساب ہوتا ہے۔

و۔ سرزنش وتوبیخ اور جسمانی توبیخ وتنبیہ:

توبیخ ، غیض وغضب کی نظر سے شروع ہوتی ہے اور علانیہ توبیخ تک پہنچتی ہے۔(٤)

____________________

١۔ سورئہ سجدہ، آیت ١٨۔ ٢۔ سورہ ٔحشرآیت ٢٠۔

٣۔ سورہ ٔغافر، آیت ٥٨۔ ٤۔ ایک اعتبار سے مخفی اور پوشیدہ توبیخ کو جرمانہ اور تلافی سے قبل جاننا چاہئے)۔

۲۳۳

حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''عقلمندوں کی سزا کنایہ اور اشارہ کی صورت میں ہوتی ہے اورنادانوں کی سزا واضح اور صریح انداز میں ہوتی ہے۔(١)

''تعریض (کنایہ میں توبیخ کرنا) عقلمند کے لئے آشکار توبیخ سے کہیں زیادہ سخت ہے''(٢)

حضرت امام جعفر صادق ـ ''شعرانی'' جوکہ پیغمبر کے چاہنے والوں میں سے تھے، خلوت میں بالواسطہ طور پر نصیحت کے ذریعہ انھیں ان کے ناپسند عمل (شرابخوری ) کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''اچھا کام سب کے لئے اچھا ہے اور تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اس انتساب کی وجہ سے جو تم ہم (اہل پیغمبر)سے رکھتے ہو اور برا کام سب کے لئے برا ہے لیکن تم سے سب سے زیادہ برا ہے اس انتساب کی وجہ سے کہ جو تم ہم سے رکھتے ہو''۔(٣)

جسمانی تنبیہ سب سے آخری مرحلہ میں ہے کہ گذشتہ مراحل میں ناکامی کی صورت میںخاص شرائط وحالات پائے جانے کی صورت میں اُس سے استفادہ ہوتا ہے، تنبیہی طریقہ کلی طریقے پر اور جسمانی تنبیہ خاص طور پر صاحبان نظر کے نزدیک محل اختلاف میں ہے، بعض جیسے سعدی ومولوی جسمانی تنبیہ کے طرفدار تھے، اور اس سے استفادہ کو جائز سمجھتے ہیں کہ بعض دیگر جیسے غزالی، بوعلی اور ابن خلدون نے مربی کو جسمانی تنبیہ سے تین بار سے زیادہ یا غصہ کی حالت میں روکا ہے۔(٤)

ماہرین نفسیات کے درمیان بھی بعض جیسے رین اور ہولز خاص شرائط وحالات پائے جانے کی صورت میں تنبیہ سے استفادہ کو رفتار تغییر کے معاملہ میں مفید جانتے ہیں(٥)

____________________

١۔''عقوبة العقلاء التلویح وعقوبة الجهال التصریح ''(میزان الحکمة ج١ص ٧٢)۔

٢۔''التعریض للعاقل اشد من عقابه'' (میزان الحکمة ج١ص ٧٢)۔

٣۔''یا شقر ان انّ الحسن لکل احد حسن وانه منک احسن لمکانک منّا وان القبیح لکل احدٍ قبیح وانّه منک اقبح'' (بحار الانوار ج٤٧ ص٣٤٩ باب ١١)۔

٤۔ نقش تربیت معلم، دفتر ہمکاری حوزہ ودانشگاہ۔

٥۔ ہیلگارد:روان شناسی یادگیر ص ٣٣٧۔

۲۳۴

اس کے باوجود اکثر ماہرین نفسیات رفتار کی تبدیلی اور تربیت کے لئے تنبیہ سے استفادہ کے مخالف ہیں۔

ا سکینرنہایت تاکید کے ساتھ تنبیہ سے استفادہ کو کلی طور پر خطرناک ، نامطلوب اور بے اثر شمار کرتا ہے اور متعدد دلائل بھی اپنے مدعا کے لئے پیش کرتا ہے:(١)

١ ۔تنبیہ دوسرے نامطلوب مضر آثار کا پیش خیمہ ہوتی ہے، جیسے عمومی خوف۔

٢ ۔تنبیہ اجسم کو پتہ دیتی ہے کہ کیا کام نہ کرے نہ یہ کہ کیا کام کرے۔

٣ ۔تنبیہ دوسروں کو صدمہ پہنچانے کی توجیہ کرتی ہے۔

٤۔تربیت پانے والا اگر مشابہ موقعیت میں واقع ہو جائے اور قابل تنبیہ نہ ہوتو ممکن ہے وہ اسی کام کے کرنے پر مجبور ہوجائے۔

٥ ۔تنبیہ، تنبیہ کرنے والے اور دوسروں کی نسبت پر خاش ایجاد کرتی ہے۔

٦ ۔تنبیہ عام طور پر ایک نامطلوب جواب کو دوسرے نامطلوب جواب کا جانشین بنادیتی ہے، جیسے بد نظمی کی جگہ رونا۔

ا سکینر اس کے بعد تنبیہ کے لئے بہت سی جانشین چیزوں کا ذکر کرتا ہے، جیسے ایسے مقتضیات کی تبدیلی جو نامطلوب رفتار کا باعث ہوتی ہے اور ناموافق رفتار کی نامطلوب رفتار سے تقویت ، آخر میں نتیجہ نکالتا ہے کہ نامطلوب عادات کے ختم کرنے کا بہترین طریقہ انھیں نظرانداز کرنا یا پھرخاموشی (تغافل اسی کے مانند ہے) اسلام کی نظر میں(٢) اگرتربیت نچلے درجوں اور طریقوں سے ممکن ہو تو جسمانی تنبیہ سے استفادہ جائز نہیں ہے اور اس کے علاوہ جسمانی تادیب اور تنبیہ (اس شرط کے ساتھ کہ اس حد میں نہ ہو کہ دیت لازم آجائے تو) جائز ہے انسان کے ولی کے علاوہ کی طرف سے بھی اجازت کے ساتھ ہونا چاہئے۔اس کی مقدار بھی محدود ہے (زیادہ سے زیادہ تین سے دس ضرب تک) فقہاء کے فتاویٰ بھی اسی طرح ہیں۔(٣)

____________________

١۔ ہرگنھان: روان شناسییاد گیری ص١٣٣۔

٢۔ البتہ تنبیہ کے موضوع پر اسلام کی فقہی نظر کا استخراج (حکم اولیہ اور ثانویہ کی صورت میں) مستقل فرصت کا محتاج ہے۔

٣۔ امام علی رضا ـ: ''التادیب ما بین ثلاث الی عشرةٍ''مستدرک الوسائل ج٣ص٢٤٨۔تحریر الوسیلة ج٢ص ٤٧٧۔

۲۳۵

تنبیہ کی نفی پر ا سکینرکے اعتراضات کے بارے میں کلی طور پر کہا جاسکتا ہے:

١۔ بعض ماہرین نفسیات جیسے رین اور ہولز خاص شرائط وحالات کے تحت( جیسے یہ کہ تنبیہ نامطلوب کاموں کے بعد فوراًبلافاصلہ ہو اور اس حد تک ہو کہ انسان کے لئے تکلیف دہ ہو... تنبیہ کو رفتار کی تبدیلی میں موثر جانتے ہیں اور اس سلسلہ میں آزمائشیں بھی کی ہیں۔

٢ ۔تنبیہ کے ہیجان آور نتائج (جیسے خوف یا پرخاش) کہ اسکینز جس کا ذکر کرتا ہے اس صورت میں منفی ہوجائیں گے جبکہ پہلے سے مربی اور تربیت پانے والے کے درمیان صرف ایک عاطفی ررابطہ رہا ہو کہ تنبیہ کی تاثیرکی شرط بھی اس طرح کے رابطہ موجود ہونا ہے۔

حضرت امیرالمومنین ـ کے ایک چاہئے والے نے چوری کی تو حضرت نے اُس کے ہاتھ کو قطع کردیا۔ ''ابن کوائ'' جو کہ خوارج میں سے تھا اس نے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے اس سے سوال کیا: کس نے تمھارے ہاتھ کو قطع کردیا ہے؟ اس نے جواب دیا: میرے ہاتھ کو پیغمبروں کے اوصیاء کے سید وسردار، قیامت کے دن سرخرو حضرات کے پیشوا، مومنین کی نسبت سب سے زیادہ حقدار نے ابن کواء غصہ میں بولا: وائے ہو تم پر! وہ تمہارے ہاتھ کو قطع کرتے ہیں اور تو ان کی اس طرح مدح و ثنا کرتا ہے؟ اس نے جواب دیا: کیوںتعریف نہ کروں جبکہ ان کی محبت میرے گوشت وخون میں ملی ہوئی ہے، خدا کی قسم میرے انھوں نے ہاتھ کو صرف حق کی خاطر قطع کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ مجھے آخرت کی سزا سے نجات دیں۔(١)

٣ ۔تنبیہ نا پسند استعدادوں اور صلاحیتوں کے کنٹرول کرنے اور خاموش کرنے کا ذریعہ ہے۔ ان لوگوں کے لئے جن کے بارے میں نرم رویّہ نتیجہ بخش ثابت نہیں ہوتا ہے، صرف ممکن طریقہ یہ ہے کہ ایک توبیخ وسرزنش یا پھر نفسیاتی جھنجھوڑ ان کے اندر ایجاد کریں، بالخصوص اگر تسلط پسند اور طغیان آمیز طبیعت رکھتے ہوں، جس طرح انسان کے جسم میں بدبودار اور کثیف غدود کو قطع کردیتے یا جلادیتے ہیں تاکہ دیگر حصوں تک سرایت نہ کرے۔ ''البرٹ الیس ''ان ماہرین نفسیات میں ہے کہ جواپنے علاج اور مشاورہ میں ناگہانی سرزنش وتوبیخ اور اس کے مانند دوسری چیزوں سے استفادہ کرتا ہے اور ایک جھٹکا دے مشاورہ کے درمیان مراجع کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔

____________________

١۔ بحار الانوار ج٤٠ ص٢٨١،٢٨٢۔

۲۳۶

اسلام کا سزائی اور جزائی نظام بھی جوکہ خاص جسمانی سزائوں پر مشتمل ہے، اپنے حقوقی پہلوئوں کے علاوہ، تربیتی رخ سے بھی قابل توجہ ہے، کیونکہ انسان کو جرم کی تکرار سے روکتا ہے۔

مذکورہ نکات کے علاوہ تنبیہ کے استعمال میں درج ذیل چیزیں اس کی تربیتی تاثیر میں اضافہ کرتی ہیں:

١۔ہر قسم کی تنبیہ سے پہلے ناپسند عمل کی علت کی شناخت سے مطمئن ہوں، بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مختلف گھریلو اور روحی مسائل ومشکلات کی بنا پر جوکہ ہم پرپوشیدہ ہیں، یہ خطا سرزد ہوگئی ہو، ایسی صورت میں تنبیہ مشکلات اور پیچیدگی کواضافہ کرتی ہے۔

٢ ۔ وہ تنبیہ مؤثر ہے جو جذبۂ انتقام اور غیض وغضب کی عنوان سے نہ ہو، اس وجہ سے بے جاسرزنش اور حد سے زیادہ تحقیر وتوہین سے پرہیز کیاجانا چاہئے۔

٣ ۔تنبیہ سنجیدہ اور حسب ضرورت ہو اور میزان خطا سے آگے نہ بڑھ جائے۔ حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''ملامت میں زیادہ روی ضد اور ہٹ دھرمی کی آگ کو بھڑکادیتی ہے''۔(١)

٤۔تنبیہ انسان کی نامطلوب صفت یاعمل سے دقیق رابطہ رکھتی ہو اور اسے تنبیہ کی علت کی نسبت مکمل آگاہی حاصل ہو۔

٥ ۔اگر انسان اپنے عمل سے شرمندہ وپشیمان ہوگیا اور اپنی رفتار سے باز آگیا تو اسے لطف ومہربانی کے ساتھ قبول کرلینا چاہئے۔

____________________

١۔''الافراط فی الملامة یشبّ نار اللجاجة'' (غرر الحکم ،ج١،ص ٨٨)۔

۲۳۷

تیسری فصل :

اسلام میں اخلا قی تر بیت کے طر یقے

۱۔خود پر ناظر ہونا

یہ روش مکمل طور پر ''خود تربیتی'' صورت میں انجام پائے گی، اپنے آپ پر نظارت سے مراد یہ ہے کہ انسان کامل ہوشیاری اور مراقبت کے ساتھ قبول شدہ اخلاقی اقدار کی نسبت کوشش کرے کہ جو (جوارحی یا جوانحی) رفتار وکردار اخلاقی فضائل کے منافی ہیں اس کے وجود میں راستہ پیدا نہ کرنے پائیں اور اُس کے اخلاقی ملکات وقوّتوں کے زوال اور سستی کا باعث نہ بنیں۔

اپنے آپ پر روش نظارت کے نفسیاتی مبانی میں دو مرحلے قابل تفکیک ہیں: پہلا مرحلہ اس روش کے استعمال سے متعلق ہے کہ تربیت پانے والا شوق اور مقصد کے اعتبار سے باندازۂ کافی آمادگی رکھتا ہو۔(١)

یہ مرحلہ گذشتہ روشوں کی مدد سے بالخصوص اقدار کی طرف دعوت کی روش اور عقلانی توانائی کی تربیت کی روش کے ذریعہ عملی ہونا چائیے، یعنی ایک شخص اس نظریہ تک پہنچے کہ یہ اقدار اور اخلاقی مقاصد اُس کے وجود میں پائدار رہیں اور اخلاقی رذائل اُس سے مٹ جائیں دوسرا مرحلہ اس روش کی تاثیر کی کیفیت کو واضح کرنا ہے۔ نفسیاتی نظام کے صادرات اور واردات تدریجی صورت میں بیماری وجود ی شکل کی تعمیر کرتے ہیں ، اور نفس شناسی کی اصطلاح میںہمارے تزکیہ باطن اور ظاہر کو ایک تعادل پسندی کی طرف آگے بڑھاتی ہے، اس وجہ سے واردات وصادرات کی نوع کیفیت پر نظارت (کہ جو ہماری نیّات اور مقاصد کو بھی شامل ہوتی ہے)اس شکل کو جہت دینے میں کہ جو ان کا نتیجہ ہے، مؤثر بلکہ قابل تعیین ہوسکتی ہے۔

____________________

١۔ اخلاقی کتب میں اسے ''مقام یقظہ'' یعنی مقام بیداری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

۲۳۸

(اسکینز کے )فعال ماحول سازی کے نمونہ میں یہ روش تقریبی طور پر ایک مستقل روش کے عنوان کے تحت تین مرحلہ بیان کی جاتی ہے ۔(١)

١ ۔اپنا مشاہدہ : اپنی رفتارکو دقت کے ساتھ جزئی اورکمّی (مقدار ک )لحاظ سیثبت وضبط کرتا ہے۔

٢ ۔خود سنجی: (اپنے کو تولنا) موجودہ رفتاروں آئیڈیل نمونہ کے ساتھ کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے مقایسہ اور موازنہ کیا جاتا ہے۔

٣ ۔ خود تقویتی: (اپنے آپ کو قوت پہنچانا) ایسی رفتار جو ہدف کو زیادہ قریب کرتی ہے اور اُس سے سنخیت رکھتی ہے ، اس پر جزا دی جاتی ہے اور اس کے مدمقابل رفتار کومنفی تقویت کے ساتھ اور کبھی تنبیہ کے ذریعہ قابو اور کنٹرول میں رکھا جاتا ہے ۔

اس طرح سے رفتاری آثار ونتائج (پاداش اور تنبیہ)سے استفادہ کرنے سے اپنے آپ پر ایک دائمی نظارت اور مراقبت عمل میں آتی ہے دوسرے طریقے جو ا سکینر اپنے کنٹرول اور ضبط نفس کے لئے اس سلسلہ میں ذکر کرتا ہے، یہ ہیں: اور اسباب وشرائط کا آسان یا تنگ کرنا (مثال کے طور پر فضول خرچ انسان، اپنی جیب میں کم پیسہ رکھے)، محرومیت، عاطفی شرائط وحالات پر تسلط، تکلیف دہ محرک سے استفادہ (جیسے گھنٹی والی گھڑی) اور دوسرے امور کی انجام دہی۔

مکتب سلوکیت کا نمونہ ا سکینر کے نظریہ کے مطابق رفتار کی نظارت اور جانچ معمولی اور کم اہمیت کی حامل ہیں ، لیکن ہم اس نمونہ اور توضیح سے بالاترین سطحوں کے لئے اور اپنے آپ پر نظارت کے لئے استفادہ کرسکتے ہیںاور تیّات ، اہداف ومقاصد حتی کہ اپنی رفتار وکردار کی خوبیوں پر کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اخلاقی کتابوں میں یہ روش بہت زیادہ مورد توجہ رہی ہے اور اس سے متعلق مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔(٢) ان کتابوں میں مراقبہ، محاسبہ یا مرابطہ مرز بانی]دشمن سے سرحد کی حفاظت[ کے عناوین کے تحت یہ بحث کی گئی ہے۔(٣)

____________________

.۱ Psychoegyobhelthp.۱۰۳;۱۰k

٢۔جیسے ان کے محاسبة النفس از سید ابن طائوس اور محاسبة النفس کفعمی)

٣۔اخلاقی تربیت کی روش میں عرفاء شیعہ نے آخری دوسو سال میں (ملاحسین قلی ہمدانی، میرزا علی آقا قاضی، مرحوم بہاری، حاج میرزا جواد تبریزی ، مرحوم علامہ طباطبائی اور امام خمینی تک نے )اپنے آپ پر نظارت (مراقبہ ومحاسبہ) کی روش پر بہت تاکید کی ہے اور اسے اپنے سلوک کی بنیاد قرار دیا ہے۔

۲۳۹

'' ابو حامد بندوں کے درمیان صرف صاحبان بصیرت جانتے ہیں کہ خداند عزوجل ان کا محافظ اورنگراں ہے اورمحاسبہ میں دقت سے کام لیا ہے اور ان کی نسبت بہت جزئی امور میں بھی سوال اوربازپرس کرتا ہے، لہٰذا یہ لوگ جانتے ہیں کہ ان امور سے نجات کا راستہ محاسبہ اورمراقبہ کے لزوم کے سوا کچھ نہیں ہے اور یہ کہ نفس کو حرکات اور لحظات کی نسبت جانچتے رہیں، لہٰذا جو اپنے نفس کو روز قیامت کے حساب وکتاب سے پہلے مورد محاسبہ قرار دے تو اُس دن اُس کا حساب آسان اور سوال کے وقت اُس کا جواب آمادہ ہوگا اورنتیجہ نیک اور اچھا ہوگا۔ اورجو کوئی اپنے نفس کا محاسبہ نہ کرے گا اس کی حسرت دائمی اور قیامت کے مواقف میں اُس کا توقف طولانی ہوگااور اس کی برائیاں اسے ایسی ذلت وخواری کے گڑھے میں ڈھکیل دیں گی۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ خداوندعالم کی اطاعت کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے اور اُسی نے صبر مرزبانی کا حکم دیا ہے:

(یَا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوْا ۔۔۔)۔(١)

''اے صاحبان ایمان تم لوگ صبر کرو، صبر کی تعلیم دو اور مرابطہ یعنی دشمن سے جہاد کے لئے تیاری کرو...'' لہٰذا تم مرابطہ ومرزبانی کرو پہلے مشارطہ کے ذریعہ اس کے بعد مراقبہ کے ذریعہ پھر محاسبہ اور پھر معاقبہ (سزا دینے) کے ذریعہ پھر اس کے بعد مجاہدہ اورمعاتبہ (عتاب کرنے) کے ذریعہ ...''(٢) اس لحاظ سے ایک دوسرے رخ سے بھی اپنے آپ پر نظارت اور نگرانی کا لزوم معلوم ہوا، محاسبۂ اعمال کردار کے تولنے کے لئے موازین قسط کے قرار دینا، قیامت کے دن حساب وکتاب کرنااور ہمارے نامہ اعمال میں ان کے جزئیات کو ضبط کرنا کہ جن کو ہر شخص واضح طور پر دیکھے گا، ان سب باتوں کے قطعی ہونے کے پیش نظر محاسبہ اوراعمال پر نظارت کے لزوم کے سلسلہ میں کوئی تردید نہیں رہ جاتی اورخداوند اس سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ اپنے بندوں سے دوبارہ حساب کا مطالبہ کرے۔ قرآنی آیات اس سلسلہ میں بہت زیادہ واضح ہیں: ''ہم عدل وانصاف کا ترازو قیامت کے دن قرار دیں گے، پس کسی نفس پر بھی کسی چیز میں ستم نہیں جائے گا، اگر( کسی کا عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا اُسے ہم لے آئیں گے اور ہم سب کا حساب کرنے کے لئے کافی ہیں ''۔(٣) ''اور جب نامۂ اعمال سامنے رکھا جائے گا، اُس وقت مجرمین کو اپنے نامۂ اعمال کے مندرجات سے خوفزدہ دیکھوگے اور وہ کہیں گے : اے ہم پروائے ہو، یہ کیسا نامۂ اعمال ہے کہ جس میں کوئی ]کام[ چھوٹا ہو یابڑاچھوڑا نہیں گیاہے، بلکہ سب کو جمع کرلیاہے اور جوکچھ انھوں نے انجام دیا ہے وہ سب اس میں موجود پائیں گے اور تمہارا رب کسی پر ستم روا نہیں رکھتا''۔(٤) اپنے آپ پر نظارت کے طریقے درج ذیل ہیں:

____________________

١۔ سورہ ٔآل عمران آیت ٢٠٠۔ ٢۔ احیاء العلوم، غزالی ج٤ص ٤١٧، ٤١٨۔٣۔ سورہ ٔانبیاء آیت٤٧۔ ٤۔سورہ ٔکہف آیت٤٩۔

۲۴۰

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296