اسلامی اخلاق

اسلامی اخلاق20%

اسلامی اخلاق مؤلف:
زمرہ جات: اخلاقی کتابیں
صفحے: 296

اسلامی اخلاق
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 296 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 178026 / ڈاؤنلوڈ: 5181
سائز سائز سائز
اسلامی اخلاق

اسلامی اخلاق

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

کوئی منفی مقصد بھی نہیں رکھتے ہیں یعنی دین حق اور اس کے ماننے والوں سے دشمنی کے مقصد سے انجام نہیں دیتے اور فاعل انھیں انجام دینے کے لئے مادی اور حیوانی ضرورتوں کے پورا کرنے سے بالاتر مقصد دکھاتا ہے یعنی اس کا عمل، انسانی احساسات وعواطف کی خاطر انجام پاتاہے (جیسے کسی کو معاف کردیتا ہے اور سخاوت کو ظاہر کرتا ہے اس جیسے دوسرے اعمال) اگرچہ انسانی نفس کی بلندی وتکامل کے لئے ضروری شرطیں نہیں رکھتے اور اس کے لازمی نصاب تک نہیں پہنچتے لیکن وہ اس کے لئے مقدمہ فراہم کرتے ہیں یعنی انسان کی روح وجان کو معنوی سفر طے کرنے کے لئے آمادہ کردیتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض روایتوں کی بناپر اُخروی سزائوں کے رفع ہونے یا اُن میں تخفیف ہونے کا سبب بن جاتے ہیں اور اگرچہ لازم شرطوں کے نہ ہونے کی بناپر بہشت میں داخل نہیں ہوگا اوراسے ابدی سعادت میسر نہیں ہوگی لیکن مطلق ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کی کوئی اہمیت نہ ہو''۔(١)

٢۔فعلی اور عینی عنصر

اخلاقی عمل کے لئے ان شرطوں کے علاوہ جو فاعل کے ذریعہ ان کی انجام دہی میں ہونی چاہئے، لازم ہے کہ وہ عمل فی نفسہ اورذاتی طور پربھی نیک، اچھا اور پسندیدہ ہو۔

اسلامی علوم میں رائج تعبیر کے مطابق اُسے حُسن فعلی کے عنوان سے یاد کرتے ہیں یہ حُسن فاعلی کے مقابلہ میں ہے جس کے بارے میں عنصر فاعلی کے عنوان کے تحت اس کتاب میں گفتگو ہوئی ہے۔

اس سوال کے بارے میں کہ کیا کوئی عمل ذاتی طور پر نیک اور شائستگی کا حامل ہے یانہیں ؟ اس سے پہلے اس سلسلہ میں اجمالی طور پر گفتگو ہوچکی ہے اور اس سلسلہ میں زیادہ تحقیق اورمعلو مات کے لئے اس سے مربوط منابع ومصادر میں جستجو کرنی چاہئے(٢) لیکن اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے کہ اس عمل کا معیار اور اس کی نشانی انسان پر منحصر ہیں اور انھیںنشانیوں کی بنیاد پر اُسے نیکی اور برائی سے متّصف قرار دیاجاتاہے اور وہ ثواب یا عقاب کا مستحق ہوتا ہے اور محاسبہ وآزمائش کی بنیاد پر انسان خدا کے نزدیک جگہ پاتاہے۔ جب کہ اگر خارجی عمل پر اس کے علائم سے ہٹ کر اس پر توجہ کی جائے تو صرف ایک بدنی حرکت ہوگی اور وہ حرکت باقی تمام حرکتوں کی طرح نہیں ہوگی اور اس کی بہ نسبت اچھائی اور برائی کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔(٣)

____________________

١۔ ر۔ک مصباح یزدی، محمد تقی، اخلاق درقرآن، ص١١٧١،١٧٢۔

٢۔ سبحانی، جعفر: حسن وقبح عقلی، پایہ ہائے جاودان اخلاق کی طرف رجوع کیجئے۔

٣۔ علامہ طباطبائی: المیزان، ج١٦، ص٨٢۔

۴۱

اخلاقی عمل کے لئے حُسْن فعلی کی ضرورت کو عقلائی لحاظ سے بیان کرنے کے لئے کہا جاسکتاہے کہ انسان کا ارادی وآزادانہ (غیر ارادی) فعل اس کے نفس کے ذریعہ وجود میں آتاہے اورکمیّت، کیفیت، شکل، زمانی ومکانی خصوصیات وغیرہ کے لحاظ سے وہ فاعل کے مقصد کے تابع ہے۔ یعنی حقیقت میں فاعل کا مقصد اس کے عمل کی روح اور اسے وجود میں لانے والا ہے۔ اس بناپر ہر کام کو ہر مقصد کے ساتھ انجام نہیں دیا جاسکتا ہے اور ہر مقصد ایک خاص طریقہ سے کسی عمل کے ساتھ سنخیت اورمناسبت رکھتا ہے۔ سونے کی حالت میں کسی علمی امتحان میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔ گھرمیں بیٹھ کر کعبہ کی زیارت نہیں ہو سکتی ہے اوردوسروں کی عزت وحرمت اور مال کے ساتھ زیادتی کر کے پروردگارکی خوشنودی حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔(١)

اس طرح فلسفۂ اخلاق اسلامی میں فاعل کی نفسانی حالت اور مقصد پر بھی تو جہ کی جاتی ہے اس کے علاوہ عمل کی عینی ماہیت اوراس کے واقعی وحقیقی آثار کو بھی تو جہ کامرکزبنا یاجاتاہے۔یہ مکتب اُن اصالتِ فاعل کے طرفدار مکاتب کے برخلاف ہے جو عمل کی انجام دہی میں فقط فاعل کے نفسانی پہلووں پرتاکیدکرتے ہیں اور اصالت عین کے طرفدار مکاتب کے بر خلاف بھی ہے جو صرف خارجی عمل کی طبیعت اوراس کے عینی ومادی آثار کو اخلاقی اچھائی اوربرائی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔اس کے علاوہ جو شرائط وحالات اخلاق اسلامی میں فاعل کے مقصد کے لئے عمل کا معنوی عنصرہیں اوراسی طرح اخلاقی عمل کے مادی عنصرکے لئے ضروری مانے جاتے ہیں، وہ دوسرے اخلاقی مکاتب میں بیان ہونے والے شرائط وحالات سے بنیادی طورپرمختلف ہیں۔

____________________

١۔ر۔ک: مصباح یزدی، محمدتقی، دروس فلسفۂ اخلاق، ص١٦٧،١٦٨۔

۴۲

ب: اخلاقی ذمہ د اری کی شرطیں

گزشتہ بحث میں اخلاقی عمل کی اہمیت کی شرطوں اور ان کے عنصروں کے بارے میں گفتگو ہو چکی ہے۔ اخلاقی تعریف، جزا اور اس کی اہمیت اور قدر وقیمت کے مقابلہ میں اخلاقی سرزنش، مذمّت وسزااوراس کی ذمہ داری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم اخلاق میں ''قدروقیمت ''اور''ذمہ داری'' دوفیصلہ کن بنیادی رکن کی حیثیت رکھتی ہیں اور اُن میں سے کسی ایک کے فقدان کی وجہ سے ایک اخلاقی نظام کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ اس وجہ سے مناسب ہے کہ اخلاقی ذمہ داری کے اصلی عناصر اور ارکان کے بارے میں بھی کچھ بیان کیا جائے۔

اخلاقی ذمہ داری سے مراد پروردگار کے حضور میں ذمہ داری ہے اوراس کے نتیجہ میں اخروی جزاوسزاہوتی ہے خواہ دنیوی ذمہ داری اورسزا وجودرکھتی ہو یانہ رکھتی ہو۔دوسرے لفظوں میں اخلاقی ذمہ داری کی علامت، عمل پر مترتب ہو نے والااخروی عقاب اور سزا ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے اخلاقی قدر وقیمت آخرت میں جزا وثواب کو وجودمیں لاتی ہے ۔ مسلمان متکلمین، اخلاقی دستوروں کے مقابلہ میں ذمہ داری کی شرطوں کو چارحصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ان شرطوں میں کچھ اصل دستور اور اخلاقی تکلیف سے مربوط ہیں، کچھ دوسری شرطیں، دستور دینے والے سے مربوط ہوتی ہیں اُن میں سے بعض شرطیں ایسی ہیں جواُن موضوعات کے لئے ہیں جن سے دستور کا رابطہ ہو تا ہے

۴۳

اوربعض دوسری شرطیں مسئول وذمہ دارانسان سے مربوط ہو تی ہیں۔(١)

اخلاقی اوامر واحکام کے پسندیدہ ہونے کی وہ شرطیں جو شریعت کی اساس اور بنیاد کا اہم حصہ ہیں اور اسی طرح حاکم اور اخلاقی فرمان جاری کرنے کے لائق انسان کی خصوصیات، علم اخلاق کے کلامی موضوعات وافکار کی جزٔ ہیں اوران کے سلسلہ میں تحقیق وبحث کرنے کی جگہ، علم کلام ہے جہاں خداشناسی، نبوت اور دین کی ضرورت، جیسے مباحث میں بحث وتحقیق کی گئی ہے۔ اُن عملی شرطوں کو بیان کیا جاچکا ہے جن کے لئے حکم دیا جاتا ہے یا ان کی انجام دہی سے نہی کی جاتی ہے، اب اُن بنیادی عناصر کے سلسلہ میں گفتگو ہوگی جن کا انسان کے اندر موجود ہونا اخلاقی ذمہ داری کو قبول کرنے کے لئے شرط اور ضروری ہے۔

١۔بلوغ

بچے اورنا بالغ افراد اخلاقی ذمہ داری کے بارسے آزاداور بری ہیں۔البتہ اُن کے سرپرست اُن کے اعمال کی خاطر حقوقی طورپر ذمہ دارہیں۔اس وجہ سے اسلام کے اخلاقی نظام میں بچوں کے نیک اعمال اخلاقی اہمیت اور ثواب وجزا کے حامل ہیں لیکن ان کی اخلاقی برائیوں سے متعلق سوال نہیں ہو گا اور اُن کے لئے آخرت میں کوئی کیفروسزانہ ہوگی۔

اسلام کی مقدس کتابوں میں اخلاقی ذمہ داری کی بنیادی شرطوں میں سے بلوغ کو ایک شرط کے طور پرپیش کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پرحضرت امام محمد باقر ـ ایک روایت میں بلوغ کے زمانہ آغاز کو بیان کرتے ہو ئے فرماتے ہیں: ''انسان کے سنّ بلوغ تک پہنچنے کے بعد حدودالہی مکمل طورپراس کے نفع اورنقصان میں جاری ہو جائیں گے۔''(٢)

____________________

١۔ علامہ حلی: کشف المراد، ص ٣٢٢، شیخ طوسی: الاقتصاد فی ما یتعلق بالاعتقاد، ص١٠٧۔ حمصی رازی شیخ سدید الدین: المنقذسن التقلید، ص٢٨٨کی طرف رجوع کیجئے۔

٢۔ رک۔ کلینی: کافی، ج: ٧، ص: ١٩٨۔ شیخ صدوق: فقیہہ، ج٤، ص١٦٤۔

۴۴

٢۔عقل

طبیعی وفطری بلوغ کے علاوہ قوۂ عقل کی موجودگی اخلاقی ذمہ داری کی شرط ہے۔ اس بناپر وہ افراد جو عقل سلیم نہیں رکھتے اورقدرت تعقل کی کمی سے دوچارہیں وہ اخلاقی ذمہ داری کے حامل نہیں ہیں۔ اگر چہ ان کے سرپرست اُن کے اعمال کے نتیجہ میں دوسروں کو ہو نے والے نقصانات کے تئیں حقوقی طور پر ذمہ دار ہوتے ہیں۔

فاعل میں عقل کے موجود ہو نے کی ضررت پر جودلیلیں ہیں اُن میں سے ایک وہ اثر ہے جو فاعل میں علم وآگاہی کے لئے عقل رکھتی ہے(١) ۔ آئندہ بیان ہو گا کہ اخلاقی ذمہ داری کی شرطوں میں سے ایک فعل کی اچھائی اور برائی سے متعلق فاعل کا علم اور اس کی آگاہی ہے۔ اس وجہ سے کہ یہ شرط عقلی قدرت پر موقوف ہے انسان کے اندر عقل وادراک کی موجودگی آگاہی کے لئے ضروری مقدمہ ہے اور خود اخلاقی ذمہ داری کے لئے ایک شرط محسوب ہو تی ہے۔

٣۔علم یا اسے حاصل کرنے کا امکان

کو ئی انسان اخلاقی طور پراس وقت ذمہ دارہو تا ہے جب ترک کی جانے والے اعمال کی خرابی، برائی اور ممنوعیت کے بارے میں اورانجام دئے جانے والے اعمال کی خوبی، شائستگی، وجوب اور اسی طرح اُن کو انجام دینے کے سلسلہ کی کیفت میں علم وآگاہی رکھتا ہو یا یہ کہ ضروری علم حاصل کرنا اس کے لئے ممکن ہو۔یعنی ایسے حالات وشرائط کے تحت ہو جن میں وہ ان سے متعلق علم کو حاصل کرسکے۔(٢)

اس بنا پر بہت سے ایسے مسلمان یا غیر مسلمان جو اپنے اخلاقی فرائض کے بارے میں علم نہیں رکھتے لیکن اُن کے لئے اس طرح کا علم حاصل کرنا ممکن ہے، وہ اس طرح کے اپنے اعمال کے سلسلہ میں اخلاقی طور پر ذمہ دار ہیں اور اخروی سزائیں ان لوگوں سے بھی متعلق ہیں اگر چہ فی الحال علم نہ رکھتے ہوں ان کے مقابلہ میں وہ مسلمان یا غیرمسلمان جن کے لئے اس طرح کا امکان فراہم نہیں ہے اوران سے ممکن بھی نہیں ہے وہ اس طرح کی اخلاقی ذمہ داری سے بری ہونگے۔اخلاق کے علاوہ موجودہ حقوقی نظام بھی انسان کے علم یا اس کے لئے علم حاصل کرنے کے امکانات کو کیفری طور پر ذمہ دار ہونے کے لئے شرط سمجھتے ہیں۔

____________________

١۔ رک۔ شیخ طوسی: الاقتصاد فی ما یتعلق بالاعتقاد، ص١١٧۔

٢۔ ایضاً ١١٦، ١١٧۔ علامہ حلی: کشف المراد، ص٣٢٢۔

۴۵

فرائض سے متعلق علم یااسے حاصل کرنے کے امکان کو اخلاقی ذمہ داری کے لئے ایک شرط کیوں مانا گیاہے؟

علم کی شرط اور اس کی موجو دگی کی ضرورت کے سلسلہ میں اس کیوں کا جواب دینے کے لئے فطری ، وجدانی، عقلی وعقلائی اور دینی لحاظ سے متعدد دلیلیں پیش کی جاسکتی ہیں:

پہلی دلیل :

انسان کا سالم وجدان کسی انسان کے لئے کیفر اورسزاکے اعلان وابلاغ کے بغیر اور اس وقت تک پسند نہیں کرتا جب تک وہ اپنے فریضہ سے متعلق علم کے حاصل کرنے میں کوتاہی نہ کرے۔(١)

یہاں یہ بیان کرنا مناسب ہے کہ یہ شرط حتّیٰ اس نظریہ کی صورت میں بھی قابل قبول ہے کہ بدلہ اور سزاکو اخلاقی عمل کا طبیعی نتیجہ مان لیں، کیونکہ وہ لوگ بھی جو عمل اور بدلہ کے درمیان قراردادی رابطہ کی نفی کرتے ہیں اور تکوینی رابطہ کو قبول کرتے ہیں عمل کا لحاظ اس کے معنوی عناصر کے ساتھ کرتے ہیں نہ کہ فقط مادی عنصر کے ساتھ۔ یعنی اخلاقی عمل اس کے تمام عنصروں، منجملہ ان کے اس کا مادی پیکر کے ساتھ، فاعل کے مقصد اور نیت اور اس کے آگاہ ہونے اور نہ ہونے کے نتیجہ میں بدلہ اور کیفر کی صورت میں نتیجہ دیتاہے اور یہ فقط اس کے مادی پیکر میں نہیں ہے۔

دوسری دلیل:

عقل، فریضہ سے متعلق علم وآگاہی کو فریضہ کی انجام دہی کے لئے تکوینی اور فلسفی شرط کے طور پر مانتی ہے اور اس بنا پر اس کے فقدان کی صورت میں فریضہ کی انجام دہی کو محال جانتی ہے۔ کیونکہ فرائض سے متعلق جہل کی حالت میں فریضہ سے متعلق پابندی کے لئے فاعل میں کوئی مقصد اور اسے تحریک کرنے والی کوئی چیز موجود نہ ہوگی اس طرح مقصد کے بغیر فعل کا صادر ہوناعقلی طور پر محال ہے(٢) اس کے علاوہ عقل اصولی طورپر انسان کی جواب دہی، بازپرس اور سزائوں کو مجہول تکلیف (نامعلوم فریضہ) اوران حالات کی بناپر جن میں انسان نے اپنے اخلاقی فرائض سے آگاہی کے لئے پوری کوششیں کی ہیں، برا، ناپسند، اور حقیقت میں تشریعی عدالت کے خلاف جانتی ہے(٣) عقل کے اس فیصلہ کو علم اصول کے علماء قاعدہ ''قبح عقاب بلابیان'' کے عنوان سے یاد کرتے ہیں۔

____________________

١۔ رک۔ آخوند خراسانی: کفایة الاصول، ص: ٣٤٣۔

٢۔ میرزا نائینی: فوائد الاصول (تقریر شیخ محمد علی کاظمی) ، ج٣، ص٣٦٥۔٣٧١۔

٣۔ آخوند خراسانی: کفایة الاصول۔

۴۶

تیسری دلیل:

عقلائی اور عرفی وجدان، مجہول تکلیف (نامعلوم فریضہ) کے ترک کرنے پر سزاکا مستحق نہیں جانتا ہے، دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ سماج کے عقلمند لوگ، اپنے ماتحت رہنے والوں کو اس دستور کی بنا پر جو ان کے لئے اعلان نہیں ہوا اوران تک نہیں پہنچا ہے یا جس کی دستیابی میں ان لوگوں نے کوتاہی اور تقصیر نہیں کی ہے، جواب دہی اور سزا کا مستحق نہیں جانتے ہیں اور اُن لوگوں کو سزا دینا غیر مناسب اور برا مانتے ہیں۔

چوتھی دلیل:

کتاب وسنت میں مذکورہ قاعدہ (قبح عقاب بلا بیان) کی تائید کثرت کے ساتھ کی گئی ہے۔ نمونہ کے طور پر ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کیاجاتاہے:

خداوند عالم فرماتا ہے: ''ہم نے جب تک پیغمبر کو مبعوث نہیں کرتے، اس وقت تک عذاب نازل نہیں کرتے''۔(١)

معروف تفسیروں کے مطابق پیغمبر کو (بغیر کسی مقصد کے) بھیجنا اہم نہیں ہے بلکہ حقیقت میں اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک ضروری علم وآگاہی کو لوگوں تک نہیں پہنچا دیا جاتا، ان لوگوں کو ذمہ دار نہیں جاناجاسکتا ہے اور سزا نہیں دی جاسکتی ہے۔

دوسری جگہ پر فرماتاہے: ''خداکسی کو بھی تکلیف نہیں دیتا مگر صرف اتنی جتنی کہ اسے قدرت دی ہے''۔(٢) اس آیت کے مطابق بھی انسان اسی قدر ذمہ دار ہے جس قدر اس نے کچھ حاصل کیا ہے یا حاصل کرسکتا ہے۔ خواہ علم وآگاہی ہو یاقدرت واستعداد۔

پیغمبراکرم نے بھی فرمایا ہے:

''ہماری امت سے نو چیزوں (کے بدلہ) کو اُٹھا لیاگیا ہے: خطا، فراموشی، لاعلمی، ناتوانی، وہ امور جن کی خاطر قدرت نہیں ہے، وہ امور جن کو اضطرار یا اکراہ یا اجبار کی وجہ سے انجام دیا جاتا ہے، فال بد نکالنا، خلقت میں اور تفکّر وتدبّر میں وسوسہ پیدا ہونا اور حسد اس صورت میں کہ زبان یا ہاتھ سے ظاہر نہ ہو۔(٣)

____________________

١۔ سورۂ اسراء آیت١٥ (وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّیٰ نَبْعَثْ رَسُوْلاً

٢۔ سورۂ طلاق آیت٧(لَایُکَلِّفَ اللّٰهُ نَفْساً اِلّا مَا آتَاهَا

۳۔ کلینی، کافی، ج٢ ]کتاب الایمان والکفر، باب ما رفع عن الامة[ح٢۔ صدوق، فقیہہ، ج١، ص٣٦۔ خصال، ج٢، ص٤١٧۔

۴۷

اس حدیث میں انسان نوچیزوں سے متعلق اپنی اخلاقی ذمہ داری اور جواب دہی وسزا سے معاف ہوگیا ہے، ان میں سے یہ بھی ہے کہ انسان ان تکلیفوں اور فرائض کے سلسلہ میں جواب دہ نہ ہوگا جن کے بارے میں علم وآگاہی نہیں رکھتا ہے مگر یہ کہ اس کی لاعلمی تقصیر اور کوتاہی کی بنا پر ہو، نہ کہ غلطی اورمجبوری کی بناپر۔ اس (غلطی کی) صورت میں بے خبررہنا ذمہ داری کو ختم نہیں کرتا ہے۔اس وجہ سے کہ علم کا دوام اورباقی رہنابھی اخلاقی ذمہ داری کے تحقق کے لئے مؤثر ہے اور عقلی طور پر بھولنے والے انسان کے لئے تکلیف اور ذمہ داری نہ ہونے کی دلیل کی بنا پر وہ انسان جو پہلے اپنی اخلاقی ذمہ داری سے متعلق علم رکھتا تھا لیکن اسے انجام دیتے وقت غفلت اور فراموشی کا شکار ہوگیا، اخلاقی طور پرذمہ دارنہ ہوگا۔

٤۔قدرت

اس شرط کی بنیاد پرانسان اُن چیزوں کے بارے میں جن کی پابندی کے لئے توانا ئی نہیں رکھتا اخلاقی طور پر ذمہ دارنہیں ہے۔ (خواہ وہ فعل کو انجام دینے کے لئے ہو یا ترک کرنے کے لئے) اور قیامت کے دن اس سلسلہ میں اس سے سوال وجواب نہ کیا جائے گا اور قابل توبیخ نہ ہو گا۔ اسلامی علوم میں یہ شرط ''تکلیف مالا یطاق'' کے عنوان کے تحت محال اور قبیح ہے اور یہ مسئلہ تمام لوگوں کے نزدیک مشہور، رائج اور قابل قبول ہے۔

مسلمان حکما اور متکلمین نے اس شرط کو ثابت کرنے کے لئے اس کے عقلی پہلو (یعنی یہ کہ نا قابل برداشت تکلیف اور فریضہ کی انجام دہی کا حکم دینا عدالت کے باخلاف اور ظلم کے واضح مصداقوں میں سے ہے) پر زور دینے کے علاوہ الہی حکمت اور خدا کے افعال کے بامقصد ہونے کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ خدا کے تکوینی اور تشریعی افعال کے حکیمانہ ہونے کی مصلحت کی بناپر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اُنہیں تکلیفوں کو بندوں کے لئے مقرر کرتا ہے جن کے نتیجہ میں مقصد حاصل ہوسکے۔یہ بات واضح ہے کہ یہ مقاصد اس صورت میں قابل مقدور ہونگے کہ مقررشدہ فرائض کی انجام دہی افراد کی طاقت و توانائی سے باہر نہ ہو۔ اس بناپر ایسے امور کے لئے تکلیف معین کرنا جو انسان کے لئے غیر مقدور و ناممکن ہے، بے کار وبے فائدہ اور حکمت و مصلحت کے خلاف ہے اور اُن کا حکیم پرور دگار کی طرف سے نافذ ہو نامحال ہے۔(١)

____________________

١۔ رک۔ سبحانی ، جعفر، الہیات، ج١، ص٣٠١۔ شہیدصدر: دروس فی علم الاصول، حلقہ دوم، ص٢٣٥تا ٢٤٠۔

۴۸

یہ شرط کتاب وسنت میں بھی کئی بار تائید اور تأکید کے مرحلہ سے گذری ہے۔اُن کی بعض مثالیں ذیل میں درج کی جاتی ہیں:

''خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگراسی قدر جتنی کہ اس کے پاس توانائی ہے۔ جو کچھ نیکی سے حاصل کیا اس کے لئے مفید اور جو کچھ برائی سے حاصل کیا اس کے لئے نقصان دہ ہے ''۔(١)

''ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اسی قدر جتنی کہ اس کے پاس طاقت ہے۔ اور ہمارے پاس وہ کتاب ہے جوحق بیان کرتی ہے اوران پرکوئی ظلم نہیں کیا جاتا ہے''۔(٢)

اس بات کے علاوہ کہ انسان کو اصل فعل کی انجام دہی پر قادرہونا چاہئے، یہ بھی ضروری ہے کہ اگر مکلّف کے لئے فریضہ کو انجام دینے میں وسائل ومقدمات فراہم کرنے کی ضرورت ہو تو مکلف کے لئے ضروری ہے کہ اس کے مقدمات کو بھی حاصل کرنے کی قدرت رکھتا ہو، ورنہ حقیقت میں وہ اس فریضہ سے متعلق قدرت اور توانائی نہیں رکھتا۔(٣)

یاد رہے کہ جس طرح علم کا فقدان اس صورت میں اخلاقی ذمہ داری کو معاف کرتا ہے جب انسان نے اپنی لاعلمی کے سلسلہ میں تقصیر اور کوتاہی نہ کی ہو، اسی طرح قدرت اور توانائی کی شرط کے سلسلہ میں بھی کہنا چاہئے کہ ہم بہت سے مقامات پر قدرت وتوانائی حاصل کرنے کے لئے ذمہ دار ہیں(٤) ، مثلاً ہمارا فریضہ ہے کہ اسلامی سرزمین اورملکوں کی حفاظت اور ان کے دفاع کی قدرت وتوانائی اور آمادگی کے وسائل کو فراہم کریں۔

''( اے ایمان لانے والو!) تم سب ان کے مقابلہ کے لئے ہر ممکن طاقت (جنگی سامان) اور گھوڑوں کی صف بندی کا انتظام کر لو تاکہ اُن کے ذریعہ خداکے دشمن اور خود اپنے دشمن اور اُن دشمنوں کو جن کو تم نہیں جانتے اور اﷲ جانتا ہے ڈرائو۔(٥)

____________________

١۔ سورہ ٔبقرة، آیت٢٨٦ ۔ علامہ طباطبائی: المیزان، ج٢، ص٤٤٣، ٤٤٤۔

٢۔ سورۂ مومنون، آیت ٦٢۔ اور اسی طرح سورۂ انعام، آیت١٥٢۔ اور علامہ طباطبائی: المیزان، ج١٥، ص٤١تا٤٣۔

٣۔ ر،ک۔ شیخ طوسی،الاقتصاد فیما یتعلق بالاعتقاد ، ص١١٨،١١٩۔

٤۔ ر،ک۔شہید مرتضیٰ مطہری: مقدمہ ای بر جہان بینی اسلامی (انسان درقرآن ) ، ص٢٧٦،٢٧٧۔

٥۔ سورہ ٔانفال، آیت٦٠

۴۹

٥۔ اضطرار (مجبوری) کا نہ ہونا

اضطرار (مجبوری) بہت سی جگہوں پر اخلاقی ذمہ داریوں کو ختم کردیتا ہے۔'' مضطر''اس انسان کو کہتے ہیں جسے مشکل حالات کا سامنا ہو۔ جیسے یہ کہ کوئی انسان کسی بیابان میں عاجز وناتوان اور بھوکا ہو اور اسے کھانے کے لئے مردار کے علاوہ کوئی چیز نہیں ملتی۔

٦۔ اکراہ واجبار کا نہ ہونا

اکراہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب انسان کو کسی دوسرے جابر انسان یا گروہ کے ذریعہ دھمکی دی جاتی ہے اور وہ اپنی باطنی مرضی کے برخلاف ایسے فعل کو ترک کرنے یا انجام دینے پر مجبور ہوتاہے جو اخلاقی لحاظ سے برا اور ناپسند ہے۔ جیسے یہ کہ اس سے کہا جائے کہ اگر تم نے اپنے روزہ کو نہیں توڑا تو تمہاری جان لے لوں گا یا یہ کہ اگر فلاں مسئلہ میں سچ بولوگے تم کو کام سے ہٹادیاجائے گا۔

وہ حدیث جسے حدیث رفع کہا جاتا ہے ایسے مختلف امور کو بیان کرتی ہے جن میں انسان کے لئے تکلیف اور ذمہ داری نہیں ہے، اُن امور میں سے ایک ''ما استکر ہوا علیہ'' ہے یعنی وہ امور جنہیں انجام دینے یا ترک کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔اکراہ اور اضطرار میں فرق یہ ہے کہ اضطرار میں دھمکی دینے والا کوئی نہیں ہوتا ہے بلکہ مجموعی حالات اس طرح ہوجاتے ہیں کہ وہ ناپسند حالات انسان کے اوپر بار ہو جاتے ہیں اور انسان ان نامطلوب حالات کو رفع کرنے کے لئے ناچار ہو جاتا ہے کہ اپنے اخلاقی فریضہ کے برخلاف عمل کرے اور اکراہ میں انسان اس مصیبت اور نقصان کو دفع کرنے کے لئے مجبور ہوتاہے کہ اپنے اخلاقی فریضہ کے برخلاف عمل کو انجام دے جو کسی دوسرے کی دھمکی کے نتیجہ میں اس کے سامنے ہے۔

اکراہ اور اضطرار مندرجہ ذیل دو بنیادی اسباب سے وابستہ ہے

ایک۔ ایسا صدمہ اور نقصان جس سے بچنا ضروری ہے۔

دو۔ اس تکلیف اور وظیفہ کی اہمیت کہ انسان اکراہ یا اضطرار کی بناپر اسے انجام دینے سے پرہیز کرتا ہے۔

۵۰

اسلام کے اخلاقی نظام میں بعض اخلاقی فرائض کو اکراہ یا اضطرار کی بنا پر ہرگز ترک نہیں کیا جاسکتا ہے اور ہر حالت میں ان کی پابندی نہیں کی جاسکتی اور اس کے نتیجہ میں ہونے والے نقصان کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے، جیسے کبھی بھی اکراہ یا اضطرار کی بناپر دوسروں کی جانوں کو خطرہ میں نہیں ڈالاجاسکتاہے یاسماجی مصلحتوں کے خلاف عمل نہیں کیا جاسکتا ہے یا دین کی اہم مصلحتوں کو نظر اندازنہیں کیا جاسکتا ہے۔(١)

٧۔قصد وعمد

اخلاقی طور پر ذمہ دار (جوابدہ) ہونے کی دوسری شرط یہ ہے کہ انسان قصداً اورعمداً اپنے اخلاقی فریضہ کو نظر انداز کردے۔ اس بناپر جب بھول چوک کی وجہ سے اپنے اخلاقی فریضہ کو ترک کردے تو اخلاقی لحاظ سے وہ ذمہ دار نہ ہوگا۔

____________________

١۔رک۔ شہید مرتضیٰ مطہری: مقدمہ ای بر جہان بینی اسلامی، ٢٧٧۔٢٧٨۔

۵۱

ج: ۔ اخلاقی عمل کی پہچان

کار آمد اخلاقی نظام کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کی تعیین کے لئے عقلی اصولوں اور معیاروں کو پہچنوانے کے علاوہ ان کے مصداقوں کی بھی واضح طریقہ سے پہچان کرأے۔ انسانی اخلاقی نظام کے ناقص ہونے کے اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ اخلاقی فضائل ورذائل کو پہچنوانے کے لئے مفید قاعدوں، طریقوں اور راستوں کو پیش کرنے میں وہ ناکام ہیں حتی اگر یہ بھی قبول کر لیا جائے کہ اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کے سلسلہ میں اُن کی طرف سے پیش کردہ کلی اصول اور معیار صحیح ہیں۔(١)

اسلام کے اخلاقی نظام میں اخلاقی فضائل ورذائل کے مصداقوں تک پہنچنے کے لئے اِن تین بنیادی طریقوں پر تاکید کی گئی ہے جو اپنی خاص ماہیت رکھتے ہیں:

ا۔عقل(٢)

اعمال اور اشیاء کے ذاتی حُسن وقبح کو قبول کرنے اور اچھائی اور برائی کو درک کرنے اور پہچاننے کے لئے انسانی عقل کی توانائی کا اعتراف کرنے کے ساتھ انسانی عقل کو اسلام کے اخلاقی نظام میں ایک مستقل قاضی کی حیثیت سے مانا گیا ہے۔ عقلی راستہ ایک ایسا راستہ ہے جووحی سے جدا اور مستقل طریقہ ہے اور یہ بہت سی اچھائیوں اور برائیوں کو پہچنوانے کے لئے ذاتی طور پر قادر ہے۔

____________________

١۔ نمونہ کے طور پر کانٹ کے اخلاقی نظریہ میں جو ممتاز اخلاقی مکاتب میںسے ہے کہاگیا ہے کہ وہ عمل اخلاقی لحاظ سے اہمیت رکھتاہے جو تکلیف اور فریضہ کا مصداق ہو اور فاعل کی نیت اور مقصد صرف فریضہ کو انجام دینا۔ وہ اس سوال کے جواب میں کہ فریضہ کوکس طرح پہچانا جاسکتاہے ؟ جواب دیتا ہے کہ فریضہ ایک مطلق اور کلی بات ہے جو عام قانونی صورت میں مقرر ہوسکتا ہے۔ کانٹ اس بات کی تشخیص دینے کو انسان کی مشترک عقل یا وجدان کے سپرد کرتاہے۔یہ بات واضح ہے کہ یہ ضابطہ اور قانون بہت زیادہ کلی، غیرشفاف اور تفسیرکا محتاج ہے جس کے نتیجہ میں اس نظریہ کے کارگر اور مفید ہونے کو بہت زیادہ محدود کر دیتا ہے۔ (رجوع کیجئے: ایما نوئل کانٹ، ص١٢ تا ٣٤)۔

٢۔ یہاں پر ''عقل'' سے مراد عقلی احکام کی وہ قسم ہے جو قاعدۂ کلیہ: ''حکم عقل وشرع کے درمیان ملازمہ'' کے تحت قرار پا سکتی ہے اور اس قاعدہ کی مدد سے ارادۂ شریعت کی حکایت کرسکتی ہے۔ اس بات کے شرائط وکیفیات کو اصول فقہ کی کتابوں میں ملازمات عقلیہ کی بحث میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

۵۲

انسانی عقل قطعی طور پر درک کرتی ہے کہ دوسروں کی خوبیوں کا احترام کرنا چاہئے، ان کے ساتھ ایسا برتائو کرنا چاہئے جوان کے لئے مناسب ہے، دوسروں کے مال پر ان کی ملکیت کا احترام کرنا چاہئے، اپنے فائدہ کو دوسروں کے نقصان پہنچانے کا ذریعہ نہ بنائے، دوسروں کی زیادتیوں کی تلافی عادلانہ طریقہ سے کی جائے، افراد کے مخصوص حقوق کا احترام کیا جائے اور اس طرح کی دسیوں ایسی مثالیں ہیں جو اخلاقی فضیلتوں کے اصولوں میں سے ایک اصل ہیں۔ انسانی اور الٰہی اخلاقی مکاتب کے درمیان پائی جانے والی اخلاق کی بعض مشترک چیزیں، اخلاقی اچھائی اور برائی کے متعلق انسانی عقل کا حاصل کروہ نتیجہ اور معلول ہیں۔ البتہ اخلاق کی بہت سی جزئی چیزوں کو سمجھنے میں عقل کی ناتوانی کی بنا پروہ (عقل) ہر گز انفرادی حیثیت سے اخلاق کی جامع وکا مل عمارت نہیں کرسکتی ۔

٢۔فطرت(١)

اخلاق سے متعلق نیکیوں کی طرف فطرت کی رغبتیں اوربرائیوں سے باطنی طور پر نفرتیں آدمی کی سرشت میں ہیں اور یہ ایسا قابل اعتماد اور اطمینان بخش طریقہ اور راستہ ہے جس کا مقصد ومبداء انسانیت کا پاک اور غیر آلودہ گو ہر قلب سلیم ہے۔انسان کی فطری رغبتوں کو ان کے مثبت اور معنوی ہونے، ارادی اور زیادہ با خبر ہونے اور ان کا انسانی زندگی سے مخصوص ہونے جیسے معیا روںکے ذریعہ آسانی کے ساتھ ان غریزی اورطبیعی میلانات سے جدا کیا جاسکتا ہے جو انسان کے اندر پائے جاتے ہیں۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو رائج عام تہذیب وتمدن اور علم و تعلیم و تربیت سے بے خبر ہیں لیکن اس (فطرت) کے جہاں ہیں جام اور حق نما آئینہ کا نظارہ کرنے کی برکت سے مکارم اخلاق کے شفاف سرچشموں سے سیراب اور اخلاقی فضائل کے زیور سے آراستہ ہیں۔اُویس قرنی وہ یمنی بادیہ نشین ہیں جو رسول خدا(ص) کے جمال کو دیکھے بغیر آپ کے فضائل ومکارم کے شیفتہ ہو جاتے ہیں اور آپ سے ملنے کے لئے اپنے وطن اورمال و دولت کو ترک کردیتے ہیں۔ سلمان فارسی فضیلت اور حقیقت کی جستجو میں ہر دَیر و خانقاہ کا چکر لگاتے ہیں اور عیسائی راہب اور یہودی خاخام سے جس کادل اس کے بارے میں خبر رکھتا تھا سوال کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں وہ بے حد مشقت کا سامنا کرتے ہیں اور آخر کار یثرب کے اطراف نخلستانوں میں اپنی آرزئوں کی تجلی، امیدوں کی کرن اور اپنے گم گشتہ محبوب کو جبیب خدا کی صورت میں پالیتے ہیں اوریہاں تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اہلبیت اطہار (ع) کے راز داروں میں شمار کئے جانے لگتے ہیں۔

____________________

١۔ یہاں فطرت سے مراد ایسے واضح، معلوم شدہ اور اختیاری، مثبت ، عالی ، غیر اکتسابی اور باطنی رجحانات ہیں جو تمام انسانوںمیں بالقوة پائے جاتے ہیں اور حالات کے فراہم ہونے پر فعلیت حاصل کرتے ہیں۔

۵۳

قرآن کریم نے معرفت کے سرچشموں اور ترقی کی راہوں کو اور اس سلسلہ میں آنے والی رکاوٹوں کوباربار یاد دلایاہے اور ان کی نشان دہی کی ہے۔ سورۂ شمس میں کئی بار قسمیں کھانے کے بعد، جس میں آخری قسم آدمی کی جان اور نفس کی قسم ہے، فرماتاہے: ''پھر اُس کو بدی اور تقویٰ کا الہام کیا ہے''۔(١)

الہام سے مراد وہ علم ہے جو تصور اورتصدیق کی صورت میں انسانی جان کے سپرد کردیا گیا ہے۔خدا کی طرف سے فجور اور تقویٰ کا الہام اس معنی میں ہے کہ انسانی رفتار کی اچھائی اور برائی کو فطری طور پر اسے بتایا اور سکھایا گیا ہے۔ مثلاً انسان واضح طور پر یتیم کا مال کھانے کی برائی کو اپنے مال کے استعمال سے جدا کرنے کی صلاحیت اور قدرت رکھتاہے(٢)

خدا وند عالم سورۂ روم میں فرماتا ہے:

''بس (اے رسول!) اپنے رُخ کو دین توحید (اسلام) کی طرف رکھیئے اس حال میں کہ آپ دوسرے تمام ادیان ومذاہب سے منہ پھیرے رہیں اور حق پرست رہیں۔ یہ دین وہ فطرت الٰہی ہے جس پر خدا نے لوگوں کو خلق کیا ہے خدا کی خلقت (توحیدی فطرت) میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں ہوسکتی یہی ہے سیدھا اور مستحکم دین۔ لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے ہیں''۔(٣)

اس آیت میں اس دین کوجو عقائد اور اخلاق، حقوق وغیرہ کی تعلیمات کا مجموعہ ہے، ایک فطری بات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ جسے پہچاننا اور اس کی طرف رغبت پیدا کرنا انسان کی سرشت میں ڈال دیا گیا ہے۔(٤)

٣۔وحی

گذشتہ دو طریقے اگرچہ بہت سی جگہوں پر مشکل کشائی کرتے ہیں لیکن اُن کا مفید وکارگر ہونا کلی اور اصولی امور تک منحصر ہے اور جزئیات کی تفصیل بتانے اور اُن کو معین کرنے کے مرحلہ میں سخت نقصاندہ، ناکام اور اختلاف کا باعث بنتے ہیں۔

____________________

١۔ سورۂ شمس، آیت٨۔

٢۔ علامہ طباطبائی ، المیزان، ج٢٠، ص٢٩٧، ٢٩٨۔

٣۔ سورہ ٔروم، آیت ٣٠۔

٤۔ رک۔ علامہ طباطبائی، المیزان ج١٦، ص١٧٨۔

۵۴

اسی بنیاد پر خدا پرستی پر مبنی اخلاقی نظام میں''وحی'' پہچان کاتیسرا طریقہ جو گذشتہ دو طریقوں کو مکمل کرتی ہے۔ وحی کو اخلاقی مفاہیم کی تعیین وتفسیر میں اور ان کی جزئیات کو بیان کرنے کی قدرت رکھنے کی بناپر اخلاقی عمل کو پہچنوانے کے سلسلہ میں پہلا مرتبہ حاصل ہے۔ اگرچہ یہ کبھی بھی اُن دونوں کو نظرانداز نہیں کرتی ہے بلکہ ہمیشہ اُن کی ترقی اور زیادہ مفیدقرار دینے پر تاکید کرتی ہے۔

اسلام کے اخلاقی نظام میں اخلاقی فضیلتوں کو اِن عنوانات کے تحت پہچنوانا گیا ہے: حَسَنَہ(نیک، پسندیدہ) ، حلال، اجرو ثواب کا باعث اور جو کچھ انسان کے بہشت میں جانے کا سبب ہے۔ اور اس کے ساتھ اخلاقی برائیوں کو ذنب(جرم) ، اِثم(گناہ) ، حرام، گھاٹے اور جو کچھ، جہنم میں جانے کا باعث ہے ان جیسے عنوانات کے ذریعہ شناخت کرائی گئی ہے۔ اسی طرح اخلاقی لحاظ سے تمام مثبت اور منفی مفاہیم کی اہمیت اور اس سلسلہ میں داخل نمایاں باتیں جیسے سہل ودشوار، پوشیدہ وآشکار، فاعل کے مقصد اور نیت کی حالت وحقیقت اور اس کے ہمراہ یا بعد میں آنے والے کمی اور کیفی آثار ونتائج پر توجہ کرتے ہوئے کافی دقت کے ساتھ تحقیق کی گئی ہے اور انھیں جانچا اور پرکھا گیا ہے ۔ کتاب وسنت میں اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کی طبقہ بندی کے سلسلہ میں پائے جانے والے بہت سے نکات پر دقت کی ضرورت ہے، جن کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنااس کتاب کی گنجائش سے باہر ہے۔

د۔ اخلاقی اقدار کا تزاحم اورترجیح کا معیار

عمل کے مرحلہ میں اخلاقی قدروں کا تزاحم انسان کی اخلاقی مشکلات میں سے ایک ہے۔یعنی انسان ہمیشہ اپنی شخصی اور سماجی زندگی کے دوران ایک ہی وقت میں دو یا اس سے زیادہ اخلاقی تکلیفوں سے سامنا کرتا ہے اس طرح سے کہ اُن سب کی پابندی ایک وقت میںممکن نہیں ہوتی اور اُن میں سے بعض فرائض کی انجام دہی دوسرے زمانہ میں بھی نہیں ہوسکتی ہے۔ اس بناپر اس کے پاس اس کے سوادوسرا راستہ نہیں رہ جاتا ہے کہ وہ اُن میں سے ایک کا انتخاب کرلے۔ اس ناگزیر انتخاب کے سلسلہ میں ترجیح کا معیار کیاہے ؟ کیا اسلام کے اخلاقی نظام میں اس طرح کے انتخابات کے لئے کوئی معیار وملاک بیان کیا گیا ہے؟ ایک مفید اخلاقی نظام سے یہی امید کی جاسکتی ہے کہ اس طرح کی مشکلوں کو حل کرنے لئے ایسے معقول معیارکا مشورہ دیا جائے جسے سمجھا اور بروئے کار لایا جاسکے ۔ اسی بنیاد پر فلسفۂ اخلاق کی بعض کتابوں میں اس بات پر توجہ کی گئی ہے۔(١)

____________________

١۔ رک۔ فرانکنا: فلسفۂ اخلاق، ترجمۂ ہادی صادقی (فارسی) ص١٢١؛ اٹکینسون: فلسفۂ اخلاق، ترجمہ سہراب علوی نیا، ص ٣١، ٥٠۔

۵۵

اسلامی علوم میں فرائض کے درمیان کا مسئلہ خواہ اخلاقی ہو یا حقوقی، علماء اصول کی توجہ کا خاص مرکزبنا ہوا ہے اور تزاحم کے باب میں اس پر گفتگو کی گئی ہے۔ اِن لوگوں نے مقام عمل میں قدروں کے ٹکرائو اور تزاحم وکشمکش کی قسموں کو بیان کرنے کے علاوہ ان میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دینے کے معیاروں اور قاعدوں کو بھی بتایا اور پہچنوایا ہے۔(١)

اُن معیاروں میں سب سے زیادہ اہم اورقابل فہم مندرجہ ذیل ہیں:

اخلاق اور حقوق کے درمیان میں عقلی اور شرعی لحاظ سے ترجیح دینے کا بہترین معیار، ہر فریضہ کی اہمیت کا اندازہ کرنا ہے۔ یعنی جب مجبور ہوجائیں کہ دو یا چند اخلاقی تکلیفوں میں سے کسی ایک کو اطاعت اورپابندی کے لئے

انتخاب کریں تو اُن میں سب سے زیادہ اہم تکلیف کاانتخاب کرکے اس پر عمل کرنا چاہئے۔ لیکن سب سے زیادہ اہم تکلیف کا انتخاب کس طرح کیا جائے؟ کیا سب سے زیادہ اہم تکلیف کی تشخیص کے لئے کوئی معیار ہے؟ انسانی عقل بہت سی جگہوں پر سب سے زیادہ اہم تکلیف کی پہچان کرنے پر قادر ہے۔ (مثال کے طور پر) جب مجبور ہوجائیں کہ دوسرے کی گاڑی کو اس سے پوچھے بغیراستعمال کرکے ایک مریض کی جان کو (ڈاکٹر کے پاس جاکر) خطرہ سے بچایا جائے یا دوسروں کے مال کا احترام کرنے کے اصول کی پابندی کی جائے، اِن دونوں باتوں

میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے تو عقلاً بیمار کی جان کو بچانا اہم اورنہایت ضروری ہوگا۔ انسانی عقل یہاں اور اس طرح کی دوسری جگہوں پر انسان کے حق مالکےّت کو نظر انداز کرنے کو موجّہ اور معقول مانتی ہے۔ بہت سی جگہوں پرعقل اور انسان کے وجدانی اور باطنی معلومات کے درمیان تزاحم سے حل کا راستہ نہیں ملتا لیکن شریعت نے اپنے خاص طریقوں سے اصولوں کو بیان کرکے اور اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کی درجہ بندی اور قدر وقیمت کو طے کرکے مہم تر فریضہ کی نشاندہی کی ہے مثلاً اسلام کے اخلاقی نظام میں جب بھی انسان کے ذمہ خدا سے متعلق اور بندوں سے مربوط فرائض میں ٹکرائو ہو تو لوگوں سے مربوط فریضہ زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اسی بناپر دین کی مقدس کتابوں میں لوگوں کی جان ومال وآبرو کو اہم امور میں شمار کیا گیا ہے جن کے سلسلہ میں دست درازی اور زیادتی

نہیں ہونی چاہئے۔ اِن تینوںچیزوں میں سے لوگوں کی جان اور زندگی کی حفاظت بقیہ دو چیزوں پر مقدم ہے۔ اس بناپر اخلاقی مفاہیم کو کتاب وسنت میں موجود مطالب اور اُن کے سلسلہ میں پائی جانے والی تعبیر ات اور نظریات پر توجہ کرتے ہوئے حاصل کرنا چاہئے۔

____________________

١۔ رک: نائینی فوائد الاصول(تقریر شیخ محمد علی کاظمی) ، ج١، ٢، ص٣١٧، اور ٣٣٥۔

۵۶

کبھی ممکن ہے عقلی اور وجدانی قاعدے اور دینی کتابوں کی تعبیریں ایک فریضہ کی دوسرے کے مقابلہ میں اہمیت اور برتری کو معین کرنے کے لئے موجود نہ ہوں تو ایسی جگہوں پر انسان کسی کو بھی حسب خواہش انتخاب کرسکتا ہے۔ اس طرح اسلام کے اخلاقی نظام نے اخلاق سے متعلق اچھائیوں اور برائیوں کی جزئیات اور مصادیق کو پہچنوانے کے سلسلہ میں ضروری تدبیروں پر غور وفکر سے کام لیا ہے جو ایک مفید اخلاقی نظام کے ارکان میں سے ہے اور اس سلسلہ میں بھی اس کی حیثیت بے مثال ہے۔

۵۷

دوسرا باب :

اخلاق کے عام مفاہیم۔

پہلی فصل:

ہدایت کرنے والی نفسانی صفت

جیساکہ ذکر ہوچکا ہے اس طرح کی نفسانی صفتیں، انسان میں تاثیر گذار قوتوں کے طریقوں کی وضاحت کرتی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ بنیادی اور اصلی مفاہیم یقین اور ایمان ہیں۔ جو ایک نیک اور قدر وقیمت والی نفسانی صفت کی صورت میں بیان ہوئے ہیں۔ یقین ایمان کی سرپرستی میں عمل کرتا ہے۔ البتہ ناپسندیدہ صفات اور منفی مفاہیم بھی ہیں جو اسی نفسانی صفت کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن چونکہ اس کتاب میں گفتگو کا محور فضیلتیں ہیں اس لئے رذائل کے بارے میں گفتگو آفات اور موانع کے عنوان سے فضائل کی تشریح کے بعد ہوگی۔

ایمان

اخلاق اسلامی میں ''ایمان'' ہدایت کرنے والی سب سے زیادہ اہم نفسانی صفت کے عنوان سے بہت زیادہ مقبول ہے اور اس پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ اسی وجہ سے علم ویقین کی طرح اس کے مبادی اور مقدمات کو حاصل کرنے کے لئے ترغیب و تشویق سے کام لیا گیا ہے اور اسلام کے اخلاقی نظام میں اُن ذرائع اور طریقوں کی خاص اہمیت ہے جو انسان کوان نفسانی صفات تک پہنچاتے ہیں۔ جیسے پسندیدہ فکر، خاطرات وخیالات اور الہامات۔ نفسانی صفات کے سامنے ایسے موانع اور رکاوٹیں ہیں جو انسان کو باایمان ہونے سے روکتی ہیں جیسے جہل بسیط یا مرکب، شک اورحیرت، مکاری اور فریب کاری، ناپسندیدہ نفسانی خیالات اور شیطانی وسوسہ وغیرہ۔ اِن سب کی ہمیشہ سے مذمت ہوئی ہے اوران سے روکا گیاہے۔

ایمان کی حقیقت اور اس کی شرطوں کے سلسلہ میں زمانۂ قدیم سے الٰہی مکاتب کے پیرؤوں خاص طور سے مسلمان متکلمین کے درمیان گفتگو کا سلسلہ جاری ہے(١) ۔

____________________

١۔رک۔جواد محسن، نظریہ ایمان درعرصہ کلام وقرآن، ص١٩تا ١٨٠۔

۵۸

اخلاق اسلامی کے دو اصلی منابع یعنی قرآن کریم اور روایات میں ایمان کی اہمیت اور اس کے مرتبہ کے بارے میں بہت زیادہ گفتگو کی گئی ہے جس کا خلاصہ یہاں بیان کیا جاتاہے۔

١۔ایمان کی اہمیت

ایمان کے بلند مقام ومنزلت کو بیان کرنے کے لئے یہ حدیث کفایت کرے گی کہ پیغمبر نے اپنی نصیحتوں میں جناب ابوذر سے فرمایا:

''اے ابوذر !خداوندمتعال کے نزدیک اس پر ایمان رکھنے سے اور ان چیزوں سے پرہیز کرنے سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ہے جن چیزوں سے منع کرتا ہے ''۔(١)

یہ بات واضح ہے کہ خدا کے ذریعہ منع کی گئی چیزوں سے پرہیز، صرف اس پر ایمان کے سایہ میں ممکن ہے اور حقیقت میں یہ ایمان کی برکتوں میں سے ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں:

''خداوند متعال دنیا کو، اُن لوگوں کے واسطے بھی قرار دیتا ہے جن کو دوست رکھتا ہے اور اُن لوگوں کے واسطے بھی جن پر غضبناک ہے لیکن ایمان نہیں دیتا مگر اُن لوگوں کو جنہیں دوست رکھتا ہے ''۔(٢)

حضرت امام جعفر صادق ـ مومن کے مقام ومنزلت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''جب بھی لوگوں کی آنکھوں سے پردہ ہٹ جائے گا اور وہ لوگ خدا اور بندۂ مومن کے درمیان وصال ورابطہ پر نظر کریں گے اس وقت اُن کی گردنیں مومنین کے سامنے جھک جائیں گی، مومنین کے امور اُن کے لئے آسان ہوجائیں گے اور اُن کے لئے مومنین کی اطاعت کرنا سہل اور آسان ہوجائے گا''۔(٣)

یہ تمام بلند درجات جو روایتوں میں ایمان کے لئے بیان ہوئے ہیں اس اثر کی وجہ سے ہیں جو ایمان انسان کے کما ل اورسعادت میں رکھتا ہے۔ ایمان ایک طرف خلیفۂ الٰہی کی منزلت پانے کے لئے سب سے آخری کڑی اور قرب معنوی کا وسیلہ ہے اور دوسری طرف قرآن وروایات کے مطابق تمام پسندیدہ نفسانی صفات اور عملی نیکیوں کے لئے مبدأ اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

____________________

١۔ شیخ طوسی: امالی، ص ٥٣١، ح١١٦٢۔

٢۔ کافی، ج٢، ص٢١٥، ح٤،اور ح٣ بھی دیکھئے۔

٣۔ کافی، ج٨، ص٣٦٥، ح٥٥٦۔

۵۹

٢ ۔ ایمان کی ماہیت

اگرچہ ایمان کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں مسلمان متکلمین کے درمیان اختلاف نظر پایاجاتاہے پھر بھی اُس کی اہم خصوصیتیں یہ ہیں:

ایک۔ ایمان وہ قلبی یقین، تصدیق اور اقرار ہے جو ایک طرف سے کسی امر کی نسبت نفسانی صفت اور حالت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وجہ سے خالص شناخت اور معرفت سے فرق رکھتا ہے۔(١)

دو۔ ایمان کے محقق ہونے کی جگہ نفس اور قلب ہے اور اگرچہ اس کا قولی اور فعلی اثر ہے لیکن اس کا محقق ہونا قول یا عمل پر منحصر نہیں ہے۔

تین۔ اسلام اور ایمان کے درمیان کی نسبت عام وخاص مطلق جیسی ہے یعنی ہر مومن مسلمان ہے لیکن ممکن ہے بعض مسلمان صرف ظاہر میں حق کو تسلیم کئے ہوں۔

٣ ۔ایمان کے اقسام اوردرجات

اوّلاً:

ایک قسم کے لحاظ سے ایمان کی دو قسمیں ہیں: ''مستقر''اور'' مستودع''( مستودع یعنی وہ ایمان جو عاریت اور امانت کے طور پر لیا گیا ہو)۔

قرآن کریم میںارشاد ہورہاہے:

''وہ وہی ہے جس نے تم کو ایک بدن سے پیدا کیا ہے۔ پھر تمہارے لئے قرارگاہ اورامانت کی جگہ مقرر کردی۔ بے شک ہم نے اپنی نشانیوں کو اہل بصیرت اور سمجھدار لوگوں کے لئے واضح طور سے بیان کردی ہیں''۔(٢)

حضرت امام موسیٰ کاظم ـ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

''مستقر ایمان وہ ایمان ہے جو قیامت تک ثابت وپائدار ہے اور مستودع ایمان وہ ایمان ہے جسے خداوند موت سے پہلے انسان سے لے لے گا۔(٣)

____________________

١۔ ر۔ک: سید مرتضیٰ: الذخیرة، ص ٥٣٦۔ شیرازی، صدرالدین: تفسیر القرآن، ج١، ص٢٤٩۔ شیخ مفید: اوائل المقالات، ص٤٨۔ اس بارے میں مزید اطلاع کے لئے محسن جوادی کی کتابت نظریۂ ایمان درعرصہ کلام وقرآن، ص١١٩تا ١٥٨۔ کی طرف رجوع کیجئے۔

٢۔ سورۂ انعام، آیت ٩٨۔٣۔ تفسیر عیاشی، ج١، ص٣٧١، ح٧٢۔ تفسیر قمی، ج١، ص ٢١٢، ح١۔

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

اجتماعى خطرات كى شناخت۵،۸;معاشروں كے زوال كے اسباب۵،۸;معاشروں كے منقرض ہونے كے اسباب۵

مشركين مكہ :مشركين مكہ كے رہبروں كا كردارو ۸

نعمت :ائمہعليه‌السلام جيسى نعمت ۱۰

ہلاكت:ہلاكت كے اسباب۷

آیت ۲۹

( جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ )

وہ جہنم جس ميں يہ سب واصل ہوں گے اوروہ بدترين قرارگاہ ہے _

۱_ جہنم ناشكرے رہبروں اور ورغلانے والے بدكار راہنمائوں كا ٹھكانا ہے_

ا لم تر الى الذين ...ا حلّوا قومهم دارالبوار_جهنّم يصلونه

۲_جہنم ، ہلاكت و نابودى كا گھر ہے_دارالبوار_جهنّم يصلونه ''بوار'' كا معنى ہلاكت ہے_

۳_كفر وشرك كے سردارہى اپنى قوم كو دوزخى بنانے كا اصلى سبب ہيں _ا حلّوا قومهم دارالبوار_جهنّم يصلونه

مندرجہ بالا مطلب اس بات پر مبنى ہے كہ جب ''جھنّم يصلونھا'' ،''دارالبوار'' كا بدل ہو _

۴_دوزخ ايك گہرا كنواں ہے_جهنّم يصلونه

''جہنم ''،''جھنام'' كا معرب ہے _جس كامعنى گہرا كنواں ہے (مفردات راغب)

۵_جہنم ،انتہائي برا اور منحوس ٹھكانا ہے_جهنّم يصلونها وبئس القرار

جہنم :جہنم كامنحوس ہونا ۵;جہنم كى صفات۴;جہنم كے موجبات۳;جہنم ميں ہلاكت ۲

جہنمى لوگ:۱

رہبر:ورغلانے والے رہبر جہنم ميں ۱;برے رہبر جہنم ميں ۱;ناشكرے رہبر جہنم ميں ۱;شرك كے رہبروں كا كردارو نقش۳;كفر كے رہبروں كا كردار و نقش۳

۱۰۱

آیت ۳۰

( وَجَعَلُواْ لِلّهِ أَندَاداً لِّيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِهِ قُلْ تَمَتَّعُواْ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ )

اور ان لوگوں نے اللہ كے لئے مثل قرار دئے تا كہ اس كے ذريعہ لوگوں كو بہكا سكيں تو آپ كہہ ديجئے كہ تھوڑے دن اور مزے كرلو پھرتو تمھارا انجام جہنم ہى ہے _

۱_خدا وند متعال كے ساتھ شرك ،اس كى نعمتوں كا كفران اور ناشكرى ہے_

ا لم تر الى الذين بدّلوا نعمت الله كفرًا ...وجعلوالله ا ندادًا

جملہ ''وجعلوالله ا ندادًا''جملہ ''بدّلوا نعمت الله ...''پر عطف ہے اور يہ جملہ نعمت الہى كے تبديل ہونے كى كيفيت كے لئے بيان اور تفسير بن سكتا ہے _

۲_كفر و شرك كے سرداروں كا خدا وند عالم اور توحيد كے راستے سے لوگوں كو بھٹكانے كے لئے خدا كا شريك اور شبيہ بنا كر پيش كرنا_ا حلّوا قومهم دارالبوار ...وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله

اس ايت مجيدہ اور پہلے والى ايات كے سياق سے معلوم ہوتا ہے كہ يہ كفر وشرك كے سرداروں كے بارے ميں ہے _كيونكہ لوگوں كو برے انجام

اور ٹھكانے ميں مبتلا كرنا''ا حلّوا قومهم دارالبوار'' نيز خدا كے لئے شريك بنانااور لوگوں كو راہ خدا سے گمراہ كرنا ''وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيلہ''كفر و شرك كے سرداروں اور رہبروں ہى كا كام ہے_

۳_شرك ايك ايسا من گھڑت مذہب ہے كہ جو خداوند يكتا اور توحيد پر عقيدے كے بعد وجود ميں ايا ہے_

وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله

''جعلوالله ا ندادًا'' يعنى ''خدا كے ساتھ شريك بنانے'' كى تعبيرسے معلوم ہوتا ہے كہ وہ لوگ خداوند متعال كے وجود كے قائل تھے ليكن بعد ميں انہوں نے اس كے ساتھ شريك بنانے شروع كر ديئے_

۴_شرك اور بت پرستى كا مذہب ايجاد كرنے والے خداوند متعال كى توحيد اور بت پرستى كے باطل

۱۰۲

ہونے سے اگاہ تھے_وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله قل تمتّعوا فان مصيركم الى النار

''جعلوالله ا ندادًا'' يعنى ''خدا كے ساتھ شريك بنانے'' كى تعبيرسے اوريہ كہ يہ كام مذہب شرك كے سرداروں اور بنانے والوں سے تعلق ركھتا ہے_ لہذا اس سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ لوگ عمداً اورجان بوجھ كر يہ كام كرتے تھے_

۵_شرك اور بت پرستى كے مذہب كو ايجاد كرنے والوں كا اصلى محرك مادى منافع اور مقام و حكومت حاصل كرنا تھا _

وا حلّوا قومهم ...وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله قل تمتّعوا

جملہ '' فان مصيركم الى النار''سے پہلے جملہ''قل تمتّعوا'' ( كہہ دو فائدہ اٹھا لو)كا لانا ہو سكتا ہے اس بات كى طرف كنايہ ہو كہ اگر چہ تم دنياوى كاميابى اور فائدے كے پيچھے لگے ہوئے ہو ليكن تمہارا راستہ اور انجام دوزخ پر ہى ختم ہوتا ہے_يہ بھى ياد رہے كہ حكومت ومقام تك پہنچنے كا موضوع جملہ ''وا حلّوا قومھم ...''سے اخذ ہوتا ہے_

۶_شرك اور بت پرستى كا مذہب ايجاد كرنے والے حكومت و رياست اور مال و دولت سے بہرہ مند تھے_

وا حلّوا قومهم ...وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله قل تمتّعوا

۷_ دنيا پرست اور مال و دولت كے مالك افراد اپنے مادى مقاصد تك پہنچنے كے لئے بطور ہتھيار دين ميں انحراف پيدا كرنے كا طريقہ اختيار كرتے ہيں _وا حلّوا قومهم ...وجعلوالله ا ندادًا قل تمتّعوا

۸_خدا اور توحيد كے راستے سے لوگوں كو گمراہ كرنے اور مذہب شرك كى ترويج كرنے والوں كى كوشش كا اخرى انجام دوزخ ہے_

وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله فان مصيركم الى النار

الله تعالى :الله تعالى كے ساتھ شريك بنانا۲

جہنمى لوگ:۸

دولت مند لوگ:دولت مندوں كا گمراہ كرنا۷

دنيا پرست لوگ:دنيا پرستوں كا گمراہ كرنا۷

دين:دين ميں انحراف۷

رہبر:شرك كے رہبروں كا محرك۵;شرك كے رہبروں

۱۰۳

كا دولت مند ہونا ۶;شرك كے رہبروں كى دنيا پرستى ۵;شرك كے رہبروں كے گمراہ كرنے كى روش ۲;كفر كے رہبروں كے گمراہ كرنے كى روش ۲; شرك كے رہبر اور بت پرستى كا بطلان ۴;شرك اور توحيد كے رہبر ۴;شرك كے رہبروں كى جاہ پرستي۶

شرك:شرك كے اثرات ۱;شرك كا لغو ہونا ۳;شرك كى پيدائش ۳;شرك كى تاريخ ۳;شرك كى ترويج كا انجام ۸;شرك كے مروجين جہنم ميں ۸

ظالمين :ظالمين كا گمراہ كرنا۷

عقيدہ :عقيدے كى تاريخ ۳

كفران نعمت:كفران نعمت كے موارد۱

گمراہ كرنے والے:گمراہ كرنے والے جہنم ميں ۸

گمراہى :گمراہى كا ہتھيار ۷

لوگ:لوگوں كو گمراہ كرنے كا انجام ۸

آیت ۳۱

( قُل لِّعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُواْ يُقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَيُنفِقُواْ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرّاً وَعَلانِيَةً مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لاَّ بَيْعٌ فِيهِ وَلاَ خِلاَلٌ )

اور آپ ميرے ايماندار بندوں سے كہہ ديجئے كہ نمازيں قائم كريں اور ہمارے رزق ميں سے خفيہ اور علانيہ ہمارى راہ ميں انفاق كريں قبل اس كے كہ وہ دن آجائے جب نہ تجارت كام آئے گى اور نہ دوستي_

۱_پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اقامہ نماز اور مؤمنين پر انفاق كے بارے ميں حكم الہى پہنچانے پر مامور تھے_

قل لعبادى الذين ا منوا يقيموا الصلوة وينفقو

۲_خدا وند متعال كے خاص لطف و عنايت سے بہرہ مندسچے بندے اور مؤمنين اس كى بارگاہ ميں خاص مقام و منزلت ركھتے ہيں _قل لعبادي

مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب '' عبادى '' ميں اضافہ ،تشريفيہ ہو_

۱۰۴

۳_مكہ ميں نماز اور انفاق كا حكم ہجرت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے نازل ہوا تھا _قل لعبادى الذين ء امنوا يقيموا الصلوة وينفقوا

مندرجہ بالا مطلب سورئہ ابراہيم كے مكى ہونے كى وجہ سے اخذ كيا گيا ہے_

۴_تمام الہى فرائض اور شرعى ذمہ داريوں ميں سے نماز قائم كرنے اور انفاق (راہ خدا ميں خرچ )كرنے كو خاص اہميت حاصل ہے_قل لعبادى الذين ء امنوا يقيموا الصلوة وينفقوا

حقيقى بندوں كى صفت ايمان كو بيان كرنے كے بعد اقامہ نماز اور انفاق كا تذكرہ او رتمام فرائض ميں سے فقط ان دوفرائض كو انتخاب كرنے سے مندرجہ بالا مطلب اخذ ہوتا ہے_

۵_جلوت و خلوت ميں نماز قائم كرنا اور راہ خدا ميں خرچ كرنا خداوند متعال كے سچے بندوں كى نشانيوں اور خصوصيات ميں سے ہے_قل لعبادى الذين ء امنوا يقيموا الصلوة وينفقواسرًّا و علانية

۶_ راہ خدا ميں خرچ كرنا خواہ پنہان ہويااشكار ، پسنديدہ اور قابل قدر ہے _قل لعبادي ...وينفقوا ممّا رزقنهم سرًّا و علانية

يہ كہ خداوند متعال نے پنہاں اور اشكار دونوں قسم كے انفاق كى باہم مدح كى ہے اس سے مذكورہ بالا مطلب اخذ ہوتا ہے_

۷_مال ودولت اور ثروت كو خدائي سرچشمہ جانتے ہوئے توجہ كرنے سے انسان كو انفاق اور راہ خدا ميں خرچ كرنے كى تشويق ہوتى ہے_قل لعبادي ...وينفقوا ممّا رزقنهم

يہ كہ خداوند متعال نے انسان كے مال ودولت اور وسائل كى نسبت اپنى طرف دى ہے اور اسے خداداد ، رزق كہا ہے تو اس سے مذكورہ بالا مطلب اخذ كى جاسكتا ہے_

۸_پنہانى طور پر انفاق كرنا ،اشكار انفاق كرنے سے كہيں زيادہ پسنديدہ اور قدر ومنزلت كا حامل ہے_*

وينفقوا ممّا رزقنهم سرًّا و علانية

مذكورہ بالا ايت مجيدہ ميں اشكار انفاق پر مخفى انفاق كا مقدم ہونا ممكن اس حقيقت كو بيان كررہا ہو كہ مخفى انفاق چونكہ دكھاوے اور نفاق سے خالى ہوتا ہے لہذا زيادہ پسنديدہ اور قدر و منزلت كا حامل ہے_

۹_انسان كے تمام مادى اور معنوى وسائل ،خدائي رزق وروزى شمار ہوتے ہيں اور اسى كى جانب سے ہيں _

ينفقوا ممّا رزقنهم

۱۰۵

جملہ '' مّا رزقنھم''عام ہے او ر انسان كے تمام وسائل كو شامل ہے خواہ وہ مال ودولت جيسے مادى وسائل ہوں يا علم وغير جيسے معنوى وسائل_

۱۰_انسان قرب و منزلت الہى كے جس مر حلے پر بھى پہنچ جائے اسے عبادت ( نماز وغيرہ ) اور خدمت خلق (انفاق) كى ضروت ہوتى ہے_قل لعبادى الذين ء امنوا يقيموا الصلوة وينفقوا ممّا رزقنهم

''يائے '' متكلم كى طرف ''عباد'' كا اضافہ ،تشريفيہ ہے اور بارگاہ خدا وندى ميں بندوں كے قرب اور منزلت كو بيان كر رہا ہے _بنا بريں ان كو خداوند كى جانب سے نماز قائم كرنے اور انفاق كرنے كے فرمان سے ظاہر ہوتا ہے كہ بندہ قرب الہى كے مقام تك پہنچ جانے كے باوجود ان دو فرائض ،(نماز اور انفاق) كو انجام دينے كا محتاج ہے_

۱۱_فقط وہى وسائل اور ما ل و دولت ،رزق وروزى خدا شمار ہوتا ہے اور انفاق كے قابل ہے كہ جو فرمان الہى كے مطابق حاصل كيا گيا ہو_ينفقوا ممّا رزقنهم

جملہ '' ممّا رزقنھم''انفاق كے لئے قيد كى حيثيت ركھتا ہے _يعنى اس مال سے انفاق كرو كہ جوہم نے چاہا ہے اور تمہيں عطا كيا ہے نہ كسى اور مال سے_

۱۲_انسان كے نيك اعمال(نماز و انفاق وغيرہ ) خداوند متعال كے ساتھ لين دين اور دوستى كى حيثيت ركھتے ہيں _

يقيموا الصلوة وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۳_خداو ند متعال ، اپنے خالص بندوں اورمؤمنين كو موت اجانے سے پہلے اپنے اموال سے انفاق كرنے كى دعوت ديتا ہے_قل لعبادى الذين ء امنوا ...وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۴_موت كے انے سے پہلے دنيوى وسائل اور فرصتوں سے استفادہ كرنا ضرورى ہے _

يقيموا الصلوة وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۵_فقط دنيا كى زندگى ہى عمل كا ميدان اور اخروى سعادت حاصل كرنے كا مقام ہے _

يقيموا الصلوة وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۶_عالم اخرت ،كسى قسم كى كوشش ،معاملے اور دوستانہ رابطے كى جگہ نہيں اور وہ انسان كے لئے كار امد نہ ہوگي_

يقيموا الصلوة وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۰۶

۱۷_''عن ا بى عبدالله عليه‌السلام قال: ...ولكنّ الله عزّوجلّ فرض فى ا موال الا غنياء حقوقاً غير الزكاة و قد قال الله عزّوجلّ: ''ينفقوا ممّا رزقنهم سرًّا و علانية '' ...;(۱) امام صادقعليه‌السلام سے منقول ہے كہ اپعليه‌السلام نے فرمايا: ليكن خداوند عزوجل نے دولت مندوں كے اموال ميں زكوة كے علاوہ بھى كچھ حقوق واجب كيئے ہيں : ...اور خدا وند متعال نے فرمايا ہے:''ينفقوا ممّا رزقنهم سرًّا و علانية ''_

اخرت :اخرت ميں دوستي۱۶;اخرت ميں تعلقات توڑنا ۱۶ ; اخرت ميں معاملہ۱۶;اخرت كى خصوصيات ۱۶

انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :انحضر تصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رسالت ۱

احكام:۱۷

الله تعالى :الله تعالى كى دعوتيں ۱۳;الله تعالى كے ساتھ دوستى ۱۲;الله تعالى كى رزاقيت ۹;الله تعالى كى روزى ۱۱;الله تعالى كى خاص عنايت۲;الله تعالى كے ساتھ معاملہ ۱۲

الله تعالى كا لطف:الله تعالى كا لطف جن كے شامل حال ہے ۲

الله تعالى كے بندے:الله تعالى كے بندوں كا تقرب ۲;الله تعالى كے بندوں كو دعوت ۱۳;الله تعالى كے بندوں كى نشانياں ۵

انسان:انسانوں كى خدمت ۱۰; انسان كى معنوى ضروريات ۱۰

انفاق:اشكارا نفاق كى قدرومنزلت۶،۸;مخفى انفاق كى قدرو منزلت۶،۸،حلال سے انفاق ۱۱;موت سے پہلے انفاق۱۳;واجب ا نفاق۱۷;انفاق كى اہميت ۱،۴،۱۲;اشكار انفاق كى اہميت ۵;پنہان انفاق كى اہميت ۵;تشريع انفاق كى تاريخ ۳;مكہ ميں انفاق كى تشريع ۳;انفاق كى دعوت ۱۳;انفاق كا پيش خيمہ ۷;انفاق كى شرائط ۱۱

تحريك:تحريك كرنے كے عوامل ۷

ذكر:سر چشمہ ثروت كو ذكركرنے كے اثرات ۷

روايت:۱۷

____________________

۱)كافى ،ج۳،ص۴۹۸،ح۸;تفسير برہان ،ج۲، ص۷ ۳۱، ح۱_

۱۰۷

روزي:روزى كا سر چشمہ ۹

سعادت:دنيوى سعادت كا پيش خيمہ ۱۵

شرعى فريضہ:اہم ترين شرعى فريضہ ۴

ضروريات:انفاق كى ضرورت ۱۰;عبادت كى ضرورت ۱۰;نماز كى ضرورت ۱۰

عمل:پسنديدہ عمل كى اہميت ۱۲;پسنديدہ عمل ۶;عمل كى فرصت ۱۵

فرصت:فرصت سے استفادے كى اہميت ۱۴

فقرا:فقرا كے حقوق ۱۷

مادى وسائل:مادى وسائل سے استفادہ۱۴;مادى وسائل كا سر چشمہ ۹

مالك:حقيقى مالك ۷

معنوى وسائل:معنوى وسائل كا سر چشمہ ۹

مؤمنين :مؤمنين كا تقرب ۲;مؤمنين كو دعوت ۱۳;مؤمنين كا مقام و مرتبہ ۲;مؤمنين كى نشانياں ۵

مقربين :۲

مقربين كى ضروريات ۱۰

نماز:نماز قائم كرنے كى اہميت ۱،۴،۵;نمازكى اہميت ۱۲;نماز كى تشريع كى تاريخ ۳;نماز كى مكہ ميں تشريع ۳

واجبات:مالى واجبات۱۷

۱۰۸

آیت ۳۲

( اللّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّكُمْ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الأَنْهَارَ )

اللہ ہى وہ ہے جس نے آسمان و زمين كو پيدا كياہے اور آسمان سے پانى برسا كر اس كے ذريعہ تمھارى روزى كے لئے پھل پيدا كئے ہيں اور كشتيوں كو مسخر كرديا ہے كہ سمندر ميں اس كے حكم سے چليں اور تمھارے لئے نہروں كو بھى مسخر كرديا ہے _

۱_فقط خدا وند عالم ہى اسمانوں اور زمين كا خالق اور اسمان سے بارش برسانے والا ہے _

لله الذى خلق السموت والا رض وا نزل من السّماء ماء

مسند اليہ اور مسند يعنى ''الله '' اور'' الذي'' كا معرفہ ہونا حصر پر دلالت كرتا ہے_

۲_اسمانوں اور زمين كى خلقت خداوند متعال كى توحيد كى دليل اور علامت ہے_الله الذى خلق السموت والا رض

۳_عالم خلقت ميں متعدد اسمانوں كا موجود ہونا _السموت

۴_پانى مايہ حيات اورپودوں ، پھلوں اور نباتات كے اگنے كا سبب ہے_وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات

۵_پانى كا اصلى منبع ،اسمان ہے_وا نزل من السّماء ماء

۶_انسان كے رزق اور روزى كا پودوں ،نباتات اور پھلوں كے اگنے سے پورا ہونا_فا خرج به من الثمرات رزقًالكم

۷_بارش كا برسنا اور پودوں اور پھلوں كا اگنا خداوند متعال كى توحيد كى دليل اور علامت ہے_

الله الذى خلق السموت والا رض وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات

۸_پھل، پودے اور انسان كى روزى ورزق كا پورا ہونا ،بندوں پرنعمت و لطف الہى كا ايك مظہرہے جو شكر وسپاس كے لائق ہے_الله الذى خلق السموت والا رض وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات رزقًالكم

ايت مجيدہ نعمات الہى كو شمار كر كے مقام احسا ن مندى اور شكر گذارى كو بيان كر رہى ہے اور ايت كا لب ولہجہ بندوں كو نعمات الہى كے سامنے شكر و سپاس كرنے كى تشويق كر رہاہے_ يا درہے كہ دو ايات كے بعد (ايت ۳۴) بھى اس مطلب كى تائيد كرتى ہيں _

۱۰۹

۹_عالم طبيعت پر نظام ''علت ومعلول '' كا حاكم ہونا_وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات رزقًالكم

۱۰_طبيعى عوامل كے ذريعے ہى فعل خدا انجام پاتا ہے_وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات

يہ كہ كائنات كى تمام موجودات فرمان خداوند متعال كے تحت اور اسى كے ارادے سے وجود حاصل كرتى ہيں ،اس كے باوجود خد اوند متعال نے پانى كو پودوں اور نباتات كا سر چشمہ قرار ديا ہے _يہى حقيقت مندرجہ بالا مطلب كو بيان كر رہى ہے_

۱۱_خداوند متعال كى جانب سے انسان كے فائدے اور بہر ہ مند ہونے كے لئے كشتيوں كا مسخر اور مطيع ہونا_

وسخّرلكم الفلك

۱۲_حكم خدا وند كى وجہ سے كشيتوں كا حركت كرنا اور انسانوں كے سامنے ان كا مسخر ہونا _

وسخّرلكم الفلك لتجرى فى البحر با مره

۱۳_انسان كے لئے سمندر اور كشتى رانى كانہايت اہم كردار ادا كرنا_وسخّرلكم الفلك لتجرى فى البحر با مره

۱۴_انسان كے فائدے كے لئے خدا وند متعال كا نہروں اور دريائوں كو مسخر كرنا_وسخّرلكم الا نهار

۱۵_خدا وند متعال ،انسان كو كشتى رانى اورجہاز رانى كى تربيت حاصل كرنے اور سمندروں ودريائوں سے بہتر استفادہ كرنے كى تشويق كرتا ہے_وسخّرلكم الفلك لتجرى فى البحر با مره وسخّرلكم الا نهار

انسان كے لئے سمندر اور كشتى كے مسخر ہونے سے مراد، ان سے بہرہ مند ہونے كى استعداد اور ضرورى وسائل كا فراہم ہونا ہے _اس استعداد اور اسباب سے انسا ن كو اپنى علمى كوشش اور محنت سے استفادہ كرنا چاہيے_

۱۶_انسان كے لئے دريائوں اور نہروں كا نہايت اہم

۱۱۰

كردار ادا كرنا_وسخّرلكم الا نهار

۱۷_دريائوں اور نہروں كا مسخر اور مطيع ہونا بندوں پر خداوند عالم كى نعمت اور عنايت كا قابل شكر و سپاس مظہر ہے _

وسخّرلكم الا نهار

۱۸_انسان كے لئے كشتيوں ،نہروں اور دريائوں كو مسخر و مطيع بنانا ،توحيد خداوند كى دليل اور نشانى ہے_

الله الذى خلق وسخّرلكم الفلك لتجرى فى البحر با مره وسخّرلكم الا نهار

اسمان:اسمانوں كا متعدد ہونا۳;اسمانوں كا خالق۱; اسمانوں كى خلقت۲;اسمانوں كے فوائد۵

الہى نشانياں :افاقى نشانياں ۲،۷،۱۸

الله تعالى :الله تعالى سے مختص چيزيں ۱;الله تعالى كے افعال ۱۱ ،۱۴;الله تعالى كے اوامر ۱۲;الله تعالى كى تشويق ۱۵ ;الله تعالى كى خالقيت ۱;الله تعالى كے افعال كے مجارى ۱۰;الله تعالى كے لطف كى نشانياں ۸، ۱۷; الله تعالى كى نعمتيں ۸،۱۷

انسان:انسان كے فضائل۱۱،۱۴

بارش:بارش كا سر چشمہ ۱;بارش كا كردار۷

پاني:پانى كے فوائد ۴;پانى كے منابع۵

پودے:پودے اگنے كے اسباب ۴;پودوں كے اگنے كا فلسفہ۶;پودوں كے اگنے كے اثرات۷

پھل:پھلوں كے اگنے كے اسباب ۴;پھلوں كے اگنے كا فلسفہ۶;پھلوں كے اگنے كے اثرات۷

توحيد:توحيد كے دلائل ۲،۷،۱۸

جہاز راني:جہاز رانى كى تشويق۱۵

حيات:حيات كے عوامل۴

خلقت:خلقت كا باضابطہ ہون

دريا:دريائوں كى تسخير۱۸

۱۱۱

روزي:روزى كے اسباب ۶

زمين :زمين كا خالق ۱;زمين كى خلقت ۲

سمندر:سمندر سے استفادہ ۱۵;سمندر كے فوائد ۱۳

شكر :شكر نعمت كى اہميت ۸،۱۷

طبيعى عوامل:طبيعى عوامل كا كردار۱۰

كشتي:كشتيوں سے استفادہ ۱۱;كشتيوں كى تسخير ۱۸; كشتيوں كى تسخير كا فلسفہ ۱۱;كشتيوں كى تسخير كا سر چشمہ۱۲;كشتيوں كى حركت كا سرچشمہ۱۲

كشتى راني:كشتى رانى كى اہميت ۱۳;كشتى رانى كى تعليم۱۵

نظام عليت:۹

نعمت:نہروں كى تسخير كى نعمت ۱۷;پودوں كى نعمت ۸; پھلوں كى نعمت۸

نہر:نہروں سے استفادہ ۱۵;نہروں كى اہميت ۱۶ ; نہروں كى تسخير ۱۴،۱۸;نہروں كے فوائد ۱۶

آیت ۳۳

( وَسَخَّر لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَينَ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ )

اور تمھارے لئے حركت كرنے والے آفتاب و ماہتاب كو بھى مسخر كردياہے اور تمھارے لئے رات اور دن كو بھى مسخر كرديا ہے _

۱_خدا وند متعال(ہي) انسان كے فائدے كے لئے سورج اور چاند كو مطيع كرنے والا ہے _

وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين

۲_سورج اور چاند ايك معين اور دائمى حالت ميں حركت كر رہے ہيں _وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين

۱۱۲

'' دائبين ''،مادہ '' دائب '' سے ''دا،ب ''كا تثنيہ ہے جس كا معنى ايك دائمى عادت اور حالت ہے_(مفردات راغب)_

۳_خداوند متعال (ہي) انسان كى بہرہ مندى كے لئے دن اور رات كو مسخر كرنے والا ہے_وسخّرلكم الّيل والنهار

۴_انسان كے لئے دن ، رات اور چاند اور سورج كو مطيع كرنا ،توحيد خدا وند كى دليل ہے_

الله الذى خلق ...وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

۵_ سورج ،چاند اور دن اور رات كا انسان كے لئے مطيع ہونا ،بندوں پرنعمت و لطف الہى كا ايك مظہرہے جو شكر وسپاس كے لائق ہے_الله الذى خلق ...وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

آيت مجيدہ نعمات الہى كو شمار كر كے مقام احسا ن مندى اور شكر گذارى كو بيان كر رہى ہے اور آيت كا لب ولہجہ بندوں كو پرورد گار كى نعمات كے سامنے شكر و سپاس كرنے كى تشويق كر رہاہے_ ياد رہے كہ بعدوالى آيت ميں جملہ(انّ الانسن لظلوم كفّار ) بھى اس مطلب كى تائيد كررہا ہے_

۶_تمام ( مؤمن و كافر ) انسان ،عالم طبيعت سے بہرہ مند ہونے كا حق ركھتے ہيں _

الله الذى خلق ...رزقًالكم ...وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

۷_نظام خلقت كا با ضابطہ ،با مقصد اور منظم ہونا _

الله الذى خلق السموت والا رض رزقًالكم وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

۸_ مادى دنيا(اسمان،زمين ،چاند،سورج اوربارش وغيرہ )كے نظام خلقت كا انسان كى خدمت ميں اور اس كى ضروريات ،خواہشات اور مصلحتوں كے مطابق ہونا_

الله الذى خلق السموت والا رض رزقًالكم وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

يہ جو خداوند متعال نے فرمايا ہے كہ ميں نے اسمان،زمين ،چاند،سورج وغيرہ كوانسان كے لئے مسخر و مطيع كر ديا ہے _اس سے معلوم ہو تا ہے كہ يہ سب چيزيں انسان كى خلقت اور اس كى ضروريات كے ساتھ ہم اہنگ ہيں _

۹_انسان، نظام خلقت اور مادى دنيا كى انتہائي با شرافت اور بلند مر تبہ مخلوق ہے_

الله الذى خلق السموت والا رض رزقًالكم وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

يہ كہ اسمان،زمين ،چاند،سورج وغيرہ اپنى تمام تر عظمت كے ساتھ انسان كے لئے مطيع بنا ديئے

۱۱۳

گئے ہيں اس سے معلوم ہوتا ہے كہ انسان ان سب سے زيادہ باعظمت اور قابل قدر مخلوق ہے يا كم از كم ايك خاص شرافت اور مرتبے كا حامل ہے_

۱۰_سمندر ،دريا ،سورج ،چاند اور دن ،رات ميں سے ہر ايك معرفت خدا كى الگ نشانى اور انسان كى ضروريات ميں سے كسى ايك ضرورت كو پورا كرنے والى چيز ہے_

وسخّرلكم الفلك ...وسخّرلكم الا نهار_وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

خلقت:خلقتاور انسانى مصلحتيں ۸; خلقتاور انسانى ضروريات ۸ ;خلقت كا باضابطہ ہونا ۷ ; موجودات خلقت۹;نظم خلقت ۷; خلقتكا بامقصد ہونا ۷; خلقتكى ہم اہنگي۸

الله كى نشانياں :افاقى نشانياں ۴،۱۰

الله تعالى :الله تعالى كے افعال ۱،۳;الله تعالى كى معرفت كے دلائل ۱۰;الله تعالى كے لطف كى نشانياں ۵;الله تعالى كى نعمتيں ۵

انسان:انسان كے حقوق ۶;انسان كى عظمت ۹;انسان كے فضائل۱،۳،۸،۹;انسانى ضروريات پورى ہونے كے منابع۱۰;انسانى ضروريات۳

توحيد:توحيد كے دلائل ۴

چاند:چاند كى گردش كا دوام ۲;چاند كى تسخير ۱،۴،۵ ; چاندكا كردار ۱۰

حقوق :حق تمتع ۶

دن:دنوں كى تسخير ۳،۵;دنوں كى تسخير كا كردار ۴ دنوں كا كردار ۱۰

رات:رات كى تسخير ۳،۴،۵;رات كا كردار۱۰

سمندر:سمندروں كا كردار ۱۰

سورج:سورج كى گردش كا داوم ۲;سورج كى تسخير ۱،۴، ۵; سورج كا كردار۱۰

شكر:شكر نعمت كى اہميت ۵

۱۱۴

ضروريات:ضروريات پورى ہونے كے منابع ۱۰

طبيعت:طبيعت سے استفادہ۶

نہر:نہروں كے فوائد ۱۰;نہروں كا كردار۱۰

آیت ۳۴

( وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَتَ اللّهِ لاَ تُحْصُوهَا إِنَّ الإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ )

اور جو كچھ تم نے مانگا اس ميں سے كچھ نہ كچھ ضرور ديا اور اگر تم اس كى نعمتوں كو شمار كرنا چاہو گے تو ہر گز شمار نہيں كرسكتے بيشك انسان بڑا ظالم اور انكار كرنے والاہے _

۱_خداوند متعال نے انسان كے وجود كے لئے تمام ضرورى چيزيں ،اسے عطا كر دى ہيں _

وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

جملہ ''ما سا لتموہ'' ميں سوال كے بارے ميں دو احتمال ہيں :ايك زبانى دعا اور درخواست كے معنى ميں سوال كرنا،دوسرا انسانى وجود اور طبع كا سوال اور درخواست كرنا ;يعنى بشر كو اپنى طبيعت اور وجود ميں ايك مستقل موجود كى حيثيت سے جس چيز كى ضرورت ہے وہ خدا نے اسے عطا كر دى ہے_مندرجہ بالا مطلب اسى دوسرے احتمال پر مبنى ہے_

۲_انسان اپنى تمام ضروريات كو پورا كرنے ميں خداوند متعال كا محتاج ہے_وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

يہ جو خدا وند عالم نے فرمايا ہے كہ ميں نے تمہارى تمام ضروريات اور تقاضوں كو پورا كر ديا ہے ،انسان كے اپنى تمام ضروريات كو برطرف كرنے ميں محتاج ہونے كى دليل ہے_

۳_خداو ند متعال ،انسان كى ضروريات اور خواہشات سے اگاہ اور انہيں پورا كرنے پر قادر ہے_

وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

چونكہ خدا وند عالم نے انسان كى تمام ضروريات كو پورا كر ديا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ ان ضروريات سے اگاہ اور انہيں عطا كرنے پر قادر (بھى ) ہے_

۱۱۵

۴_خدا وند تعالى نے انسان كى درخواستوں اور تقاضوں ميں سے بعض اسے عطا كر دى ہيں _وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

مندرجہ بالا مطلب اس بات پر مبنى ہے كہ جب ''من كل'' ميں ''من''تبعيض كے لئے ہو اور جملہ '' سا لتموہ'' ميں سوال سے مراد زبانى سوال اور تقاضا ہونہ وجودى تقاضے اور درخواستيں _

۵_بشر كى تمام مادى ضرورتيں اور تقاضے عالم طبيعت ميں موجود ہيں _وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

۶_انسان بے شمار الہى نعمتوں اور احساسات سے بہرہ مند ہے_وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

۷_انسان كو عطا شدہ الہى نعمتيں ہرگز شمار نہيں كى جا سكتيں _وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

۸_انسان كا تمام الہى نعمتوں كى شناخت سے عاجز ہونا_وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

نعمات الہى كو شمار كرنے سے انسان شايد اس وجہ سے عاجز ہو_ چونكہ وہ خدا كى بہت سى نعمتوں كى شناخت نہيں كر سكتاچہ جائيكہ وہ ان سب كو گن لے_

۹_ہر وہ چيز كہ جو خدا وند متعال نے بشر كى ضروريات اور تقاضوں كو پورا كرنے كے لئے اسے عطا كى ہے وہ اس كى نعمت اور مہربانى ہے _وء اتكم من كلّ ما سا لتموه وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

يہ كہ خدا وند متعال نے انسان كو اپنى عطا كردہ چيزوں كو (وء اتكم من كلّ ما سا لتموه ) نعمت كہا ہے (وان تعدّوا نعمت الله )اس سے مندرجہ بالا مطلب اخذ ہو تا ہے_

۱۰_انسان كوخداو ند عالم كا خاص لطف اور كرم شامل ہے اور وہ اس كى بار گاہ ميں خصوصى مقام و مرتبہ ركھتا ہے_

وء اتكم من كلّ ما سا لتموه وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

۱۱_انسان كے وجود كے لئے ضرورى تمام تقاضوں كو پورا كرنا اور اسے بے شمار نعمتوں سے بہرہ مند كرنا ،خداوند كى توحيد ربوبى كى دليل ہے_الله الذى خلق السموت والا رض ...وء اتكم من كلّ ما سا لتموه وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

۱۲_خدا وند متعال كى جانب سے انسان كے تمام تقاضوں اور درخواستوں كے قبول نہ ہونے كا (ايك ) سبب انسان كا ظلم اور ناشكراہونا ہے_وء اتكم من كلّ ما سا لتموه ...انّ الانسن لظلوم كفّار

۱۱۶

مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر ہے كہ جب '' من كلّ'' ميں '' من '' تبعيض كے لئے ہو اور سوال سے مراد زبانى درخواست ہو نيز جملہ ''انّ الانسن لظلوم كفّار ''پہلے جملوں كى علت بيان كر رہا ہو_

۱۳_انسان خدا كى بے انتہا نعمتوں كے مقابلے ميں بہت ظلم كرنے والا اور نا شكرا ہے_

وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

''ظلوم '' اور ''كفار'' مبالغے كے صيغے ہيں اوراپنے معنى كى كثر ت اور فروانى پر دلالت كرتے ہيں _

۱۴_انسان اپنے اوپر ظلم كرنے والا اور نعمت و نيكى كے مقابلے ميں انتہائي ناشكرا ہے_

وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

انسان كو عطا شدہ الہى نعمتوں اور عطائوں كے بيان كے قرينے سے ''ظلوم ''سے مراد انسان كا اپنے اوپر ظلم كرنا ہے_

۱۵_الہى نعمتوں كے مقابلے ميں شكر و سپاس ضرورى ہے_

وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

جملہ '' انّ الانسن لظلوم كفّار '' نعمات الہى كا شكر بجا نہ لانے اور ظلم كرنے كى برائي كو بيان كر رہا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ الہى نعمات كے مقابلے ميں شكر و سپاس ،ايك ضرورى امر ہے چونكہ يہ اگر ضرورى نہ ہوتا تو اس كا ترك كرنا بھى ناپسنديد ہ اور برا نہ ہوتا_

۱۶_نيكى اور نعمت كے مقابلے ميں ناشكرى كرنا، ايك انتہائي ناپسنديدہ اور قابل مذمت كام ہے_

وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

۱۷_الہى نعمتوں كا كفرا ن كرنا اورشكربجا نہ لانا،اپنے اوپر ظلم ہے_وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

۱۸_اپنے ساتھ ظلم كرنا اور ناشكرا ہونا، ايك طرح سے انسان كى طينت بن چكا ہے_انّ الانسن لظلوم كفّار

اپنے اپ:اپنے اپ پر ظلم ۴۱،۱۷،۱۸

الله تعالى :الله تعالى كى نعمتوں كى شناخت ۸;الله تعالى كے عطايا ۱،۴;الله تعالى كا علم غيب۳;الله تعالى كى قدرت ۳;الله تعالى كى نيكى كے موارد ۹;الله تعالى كى نعمتوں كے موارد ۹;الله تعالى كى نعمتوں كى فراواني۷،۱۳

۱۱۷

الله تعالى كا لطف:الله تعالى كا لطف جن كے شامل حال ہے ۱۰

انسان:انسان كى بعض ضروريات كا پورا ہونا ۴;انسان كى ضروريات كا پورا ہونا۹،۱۱;انسان كى صفات ۱۳،۱۴;انسان كى طبيعت۱۸;انسان كا ظلم ۳۱، ۱۴ ، ۱۸ ; انسان كا عجز ۸;انسان كے فضائل ۶،۱۰ ; انسان كا كفران نعمت كرنا ۱۳،۱۴;انسان كى ضروريات كے پورا ہونے كا سر چشمہ ۱،۲، ۳; انسان كى نعمتيں ۶;انسان كى مادى ضروريات۵

توحيد:توحيد ربوبى كے دلائل ۱۱

دعا:قبوليت دعا كے موانع ۱۲

شكر:شكر نعمت كى اہميت ۱۵

ضروريات:ضروريات پورى ہونے كے منابع ۵;ضروريات پورى ہونے كا سرچشمہ۱،۲،۳،خدا كى ضرورت۲

ظلم :ظلم كے اثرات ۱۲

كفران نعمت:كفران نعمت كے اثرات ۱۲،۱۷;كفران نعمت پر سر زنش ۱۶;كفران نعمت۱۸;كفران نعمت كا ناپسنديدہ ہونا ۱۶

نعمت:نعمت جن كے شامل حال ہے ۶

آیت ۳۵

( وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَـذَا الْبَلَدَ آمِناً وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الأَصْنَامَ )

اور اس وقت كو ياد كرو جب ابراہيم نے كہا كہ پروردگار اس شہر كو محفوظ بنادے اور مجھے اور ميرى اولاد كو بت پرستى سے بچائے ركھنا_

۱_ حضرت ابراہيمعليه‌السلام كى زندگى اور دعا كرنے كا انداز اور كيفيت ،سبق اموزاور قابل ذكر ہے_

واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

'' واذ قال'' ،'' اذكر '' سے متعلق ہے يا ''اذكروا '' تقدير ميں ہے_واضح ہے كہ حضرت ابراہيمعليه‌السلام كے قصے كى ياد دلانااس كے بااہميت اور سبق اموز ہونے كو ظاہر كرتا ہے_

۱۱۸

۲_حضرت ابراہيمعليه‌السلام نے خدا وند متعال سے سر زمين مكہ كى امنيت كے لئے دعا كى _

واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

۳_حضرت ابراہيمعليه‌السلام نے خداوند متعال سے حرمت مكہ كى حفاظت اور امنيت كے لئے قوانين وضع كرنے كى درخواست كى _واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

مندرجہ بالا مطلب اس بات پر مبنى ہے كہ جب ''اجعل'' سے تشريعى جعل مرادہو جيسا كہ اسلام ميں اسى سلسلے ميں متعدد قوانين وضع ہوئے ہيں _

۴_مكہ ،امن الہى كا حرم ہے_ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

تمجيد كى زبان ميں حضرت ابراہيمعليه‌السلام كى دعا نقل كرنا ،خداوند كى جانب سے اس دعا كے قبول ہونے كو ظاہر كرتا ہے_

۵_حضرت ابراہيمعليه‌السلام نے خداوند متعال سے مكہ كے امن و امان اور مذہب شرك اور بت پرستى كے نفوذ سے محفوظ رہنے كى دعا كى _*واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

حضرت ابراہيمعليه‌السلام كا اپنے اور اپنے خاندان كے بارے ميں شرك كى طرف ميلان سے محفوظ رہنے كى دعا كرنا ،اس بات كا قرينہ ہو سكتا ہے كہ مكہ كى امنيت سے مراداس كا مذہب شرك اور بت پرستى كے شر سے محفوظ ہونا ہے_

۶_خداوند متعال كو ''رب'' كے نام سے پكارنا،دعا كے اداب ميں سے ہے_ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

۷_حضرت ابراہيمعليه‌السلام كے زمانے ميں مكہ شہرى ابادى پر مشتمل تھا _واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

۸_ حضرت ابراہيمعليه‌السلام كا مكہ كى امنيت اور حرمت كى طرف خاص توجہ دينا _

واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

يہ كہ حضرت ابراہيمعليه‌السلام نے اپنى دعا ميں پہلے مكہ شہر كى امنيت كا مسئلہ پيش كيا ہے اور اسے اپنى اولاد كى ہدايت پر مقدم ركھا ہے ،ان كے نزديك مكہ كے امن وامان كى اہميت اور اس مسئلے كى طرف ان كى خاص توجہ كو ظاہر كرتا ہے_

۹_ پر امن اور مطمئن جگہ پرزندگى گذارنا اہميت اور قدر ومنزلت ركھتا ہے_ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

۱۰_حضرت ابراہيمعليه‌السلام كاخداوند متعال سے اپنے اور اپنى اولاد كے بت پرستى كى طرف رجحان سے محفوظ

۱۱۹

رہنے كى دعا كرنا_واذقال ابراهيم رب ...اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

۱۱_الہى حقائق تك پہنچنے اور ہدايت پانے كے اسباب فراہم ہونے كے لئے زندگى گذارنے كى جگہ كے پر امن اور قابل اطمينان ہونے كا موثر ہونا_واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا و اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

حضرت ابراہيمعليه‌السلام كے اپنى اولاد كے لئے ھدايت كى دعا مانگنے سے پہلے ان كے محل سكونت (مكہ شہر) كى امنيت كى دعا كرنے سے مذكورہ بالا مطلب حاصل ہوتا ہے_

۱۲_اپنى اولاد كے لئے دعا اور ان كى اخروى عاقبت اور ديانت وسعادت كى طرف توجہ ايك اہم اور قابل قدر مسئلہ ہے_

واذقال ابراهيم رب اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

۱۳_اہل مكہ كے لئے دعا كے وقت حضرت ابراہيمعليه‌السلام كى ايك سے زيادہ اولاد تھي_

واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا و اجنبنى وبنّي

۱۴_حضرت ابراہيمعليه‌السلام كے زمانے كے لوگ ،بت پرست تھے اور وہ چند بتوں كى پوجا كرتے تھے_

واذقال ابراهيم ربّ اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

۱۵_موحد ہونے اور شرك سے مكمل طور پر محفوظ رہنے كے لئے توفيق خدا اور اسكى مدد كى ضرورت ہے_

و اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

مندرجہ بالا مطلب اس دليل پر مبنى ہے كہ حضرت ابراہيمعليه‌السلام خدا كے عظيم (اولواالعزم) نبى ہونے كے باوجود خداوند متعال سے اپنے اور اپنى اولاد كے شرك سے محفوظ رہنے كى دعا كر تے ہيں _

۱۶_''عن ا بى عبدالله عليه‌السلام ...قال: ...ان الله ا مر ابراهيم عليه‌السلام ا ن ينزل اسماعيل بمكة ففعل فقال ابراهيم: ''ربّ اجعل هذا البلد ء امنًا و اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام'' فلم يعبد ا حد من ولد اسماعيل صنماًقطّ ...، (۱) امام صادقعليه‌السلام فرماتے ہيں : بہ تحقيق خدا وند متعال نے ابراہيمعليه‌السلام كو حكم ديا كہ وہ اسماعيلعليه‌السلام كو مكہ ميں اباد كريں _پس ابراہيمعليه‌السلام نے اس حكم كو انجام دينے كے بعد كہا: ''ربّ اجعل ھذاالبلد ء امنًا و اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام'' _ لہذااسماعيلعليه‌السلام كى كسى بھى اولاد نے كبھى كسى بت كى پرستش نہيں كي ...''

____________________

۱) تفسير عياشى ،ج۲،ص۲۳۰،ح۳۱;نور الثقلين ،ج۲ ،ص ۶ ۵۴،ح۹۶_

۱۲۰

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296