بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ پیغمبر اکرم(ص) کا سلوک

بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ پیغمبر اکرم(ص) کا سلوک42%

بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ پیغمبر اکرم(ص) کا سلوک مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)

بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ پیغمبر اکرم(ص) کا سلوک
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 16 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 13091 / ڈاؤنلوڈ: 4443
سائز سائز سائز
بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ پیغمبر اکرم(ص) کا سلوک

بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ پیغمبر اکرم(ص) کا سلوک

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

چوتھی فصل:

بچو ں کے ساتھ کھیلنا

جس شخص کے یہاںکوئی بچہ ہو،اُسے اس بچہ کے ساتھ بچوں جیسا سلوک کرنا چاہئے۔

( پیغمبر اکرم (ص))

بچوں کی شخصیت کوسنوار نے کے لئے مئوثر طریقہ بڑوں کاان کے ساتھ کھیلنا ہے۔ کیونکہ بچے ایک طرف تو اپنے اندر جسمانی کمزوری کا احسا س کرتے ہیں اور دوسری طرف بڑوں کے اندر موجود طاقت کا مشاہدہ کرتے ہیں تو فطری طور پر ان کو رشد وکمال سے جو عشق ہو تا ہے وہ اس امر کا سبب بنتا ہے کہ وہ بڑوں کے طریقہ کار پر عمل کریں اور خود کو ان کا جیسا بنا کر دکھائیں۔

جب والدین بچے بن کر ان کے ساتھ کھیل کود میں شریک ہوتے ہیں ،تو یقینا بچہ مسرور اور خوش ہوتاہے اور جذ بات میں آکر محسوس کرتا ہے کہ اس کے بچگا نہ کام کافی اہمیت رکھتے ہیں ۔

اس لئے آج کل کے تربیتی پرو گراموں میں بڑوں کا بچوں کے ساتھ کھیلنا ایک قابل قدر امر سمجھا جاتا ہے اور علم نفسیات کے ماہرین اس طریقہ کار کو والدین کی ذمہ داری جانتے ہیں ۔

ٹی،ایچ،موریس( T.H.MORRIS )''اپنی کتاب والدین کے لئے چند اسباق''میں لکھتا ہے:

''اپنے بچوں کے رفیق اور دوست بن جائو،ان کے ساتھ کھیلو،ان کو کہا نیاں سناؤ۔اور ان کے ساتھ دوستانہ اور مخلصا نہ گفتگو کرو۔بالخصوص والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کے ساتھ بچہ بن جا ئیں اور ان سے ایسی بات کریں کہ وہ ان کی بات کو سمجھ سکیں۔(۷۷) ''

ایک اور ماہر نفسیات لکھتا ہے:

''باپ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے تفریحی پروگراموں میں شرکت کرے۔یہ حسن تفاہم ضروری ہے۔لیکن بچوں کی زندگی سے مربوط زمان ومکان اور موسم مختلف ہوتے ہیں ۔جو باپ اپنے بچوں کے کھیل کود میں شرکت کرتا ہے، بیشک وہ مختصر مدت کے لئے ایسا کرتا ہے،لیکن اس کا بچوں کے ساتھ بچہ بننا، چاہے کم مدت کے لئے ہی ہو بچوں کی نظر میں اس کی اتنی اہمیت ہے کہ اس کو بہر حال اس کے لئے وقت نکالنا چاہئے خواہ کم ہی ہو ۔(۷۸)

بچوں کے کھیلنے کی فطرت

خدا وند متعال نے جو جبلّتیں بچوں میں قراردی ہیں ،ان میں سے ایک ان کی کھیل کود

سے دلچسپی بھی ہے۔وہ دوڑ تا ہے،اچھل کود کرتا ہے اور کبھی اپنے کھلونوں کے ساتھ مشغول رہتا ہے اور ان کو اُلٹ پُلٹ کرنے میں لذت محسوس کرتا ہے۔اگر چہ اس کی یہ حرکتیں ابتداء میں فضول دکھائی دیتی ہیں ،لیکن حقیقت میں یہ بچے کے جسم وروح کے کمال کا سبب بنتی ہیں ،اس کے نتیجہ میں بچے کا بدن مضبوط ہو جاتا ہے اور اس کے اندرغور وفکر اور تخلیق کی قوت بڑھ جاتی ہے اور اس کے اندرموجود پوشیدہ توانائیاں آشکار ہوجاتی ہیں ۔شاید اسلامی روایات میں بچوں کے کھیل کود کو اہمیت دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔

بچے کا کھیلنا،اس کے ارادہ کی آزادی اور قوت تخلیق کو زندہ کرنے کی مشق ہے،کیونکہ

جب بچہ کھلونوں سے ایک عمارت بنانے میں مشغول ہوتا ہے ،اس کی فکر ایک انجینئر کے مانند کام کرتی ہے اور وہ اپنی کامیابیوں سے لذت محسوس کرتا ہے۔جب وہ اس کام کو انجام دینے کے دوران کسی مشکل سے دو چار ہوتا ہے تو اس کا حل تلاش کر تا ہے ،نتیجہ میں یہ تمام کام اس کی فکر کی نشو ونمااور اس کی شخصیت کو بنانے میں کافی مؤثر ہو تے ہیں ۔

رسول خدا (ص) نے فرمایا:

''جس شخص کے یہاں کوئی بچہ ہواسے اس بچہ کے ساتھ بچوں جیسا سلوک کرنا چاہئے۔(۷۹) ''

نیزفرمایا:

''اس باپ پر خدا کی رحمت ہوجو نیکی اور کار خیر میں اپنے بچے کی مدد کرتاہے۔ اس کے ساتھ نیکی کرے اور ایک بچے کے مانند اس کادوست بن جائے اور اسے دانشور اور باادب

بنائے۔(۸۰) ''

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

''اپنے بچے کو سات سال تک آزاد چھوڑدو تاکہ وہ کھیلتا رہے۔(۸۱) ''

امام جعفر صادق علیہ السلا م نے فرمایا:

''بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی سات سال کے دوران کھیلتا ہے۔دوسرے سات سال کے دوران علم سیکھنے میں لگتا ہے اور تیسرے سات سال کے دوران حلال وحرام(دینی احکام) سیکھتا ہے۔(۸۲) ''

حضرت علی علیہ السلام نے فر مایا:

''جس شخص کے یہاں کوئی بچہ ہو اسے اس کی تربیت میں اس کے ساتھ بچے جیسا

بر تائو کرنا چاہئے۔(۸۳)

پیغمبر اسلام (ص)کا بچوں کے ساتھ کھیلنا

رسول اکرم (ص)اپنے بچوں ،امام حسن و امام حسین علیھماالسلام کے ساتھ کھیلتے تھے۔اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں نقل کی گئی ہیں ،ہم یہاں ان میں سے چند روایتیں بیان کرتے ہیں :منقول ہے کہ

''پیغمبر اکرم (ص)ہر روز صبح اپنے بچوں اور ان کی اولاد کے سروں پر دست شفقت پھیرتے تھے اور حسین علیہ السلا م کے ساتھ کھیلتے تھے۔(۸۴) ''

یعلی ا بن مرّہ کہتا ہے:

''رسول خدا (ص)کی( ایک دن کہیں )دعوت تھی ،ہم بھی آنحضرت (ص)کے ہمراہ تھے، ہم نے دیکھا کہ امام حسن علیہ السلام کوچہ میں کھیل رہے ہیں ۔پیغمبر اکرم (ص)نے بھی انھیں دیکھا ،اور آپ (ص) لوگوں کے سامنے دوڑتے ہوئے امام حسن علیہ السلام کی طرف گئے اور ہاتھ بڑھا کر انھیں پکڑ نا چاہا۔لیکن بچہ ادھراُدھر بھاگ رہا تھا اور اس طرح رسول خدا (ص)کو ہنساتاتھا،یہاں تک کہ رسول خدا (ص)نے بچے کو پکڑ لیا اور اپنے ایک ہاتھ کو امام حسن علیہ السلام کی ٹھوڑی پر اور دوسرے ہاتھ کوان کے سر پر رکھ کر اپنے چہرے کو ان کے چہرے سے ملاکرچومتے ہوئے فرمایا:حسن مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ،جو اسے دوست رکھے گاخدا وند متعال اس کو دوست رکھے گا۔(۸۵) ''

لیکن بہت سی روایات میں نقل ہوا ہے کہ یہ واقعہ حسین علیہ السلام کے بارے میں ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

''ایک دن امام حسین علیہ السلام پیغمبر اکرم (ص)کی آغوش میں تھے ،آنحضرت (ص) ان کے ساتھ کھیل رہے تھے اور ہنس رہے تھے ۔عائشہ نے کہا :اے رسول خدا! (ص)!آپ (ص)اس بچے کے ساتھ کتنا کھیلتے ہیں ؟! رسول خدا (ص)نے جواب میں فرمایا:افسوس ہے تم پر!میں کیوں اس سے پیار نہ کروں جبکہ وہ میرے دل کا میوہ

اور میرا نور چشم ہے۔(۸۶) ''

جبیرا بن عبداللہ کا کہنا ہے:

''رسول خدا (ص)اپنے اصحاب کے بچوں سے کھیلتے تھے اور انھیں اپنے پاس بٹھاتے تھے۔(۸۷) ''

انس ابن مالک کاکہنا ہے:

''پیغمبر اکرم (ص)لوگوں میں سب سے زیادہ خوش اخلاق تھے۔میرا ایک چھوٹا بھائی تھا،اس سے دودھ چھڑایا گیا تھا ،میں اس کو پال رہا تھا ،اس کی کنیت ابو عمیر تھی۔آنحضرت (ص)جب بھی اسے دیکھتے تھے تو فرماتے تھے:تمہارا دودھ چھڑا نے سے تمھیںکیسی مصیبت آ گئی ہے؟آپ (ص)خود بھی اس کے ساتھ کھیلتے تھے۔(۸۸) ''

ایک حدیث میں نقل ہوا ہے:

''پیغمبر اکرم (ص)،عباس کے بیٹوں ،عبداللہ،عبیداللہ اور کثیر یا قشم کو اپنے پاس بلاتے تھے،وہ چھوٹے تھے اور کھیلتے تھے۔ان سے آنحضرت (ص)فرماتے تھے:

جو تم میں سے پہلے اور جلدی میرے پاس پہنچے گااس کو میں انعام دوں گا ۔بچے مقابلہ کی صورت میں آپ (ص)کی طرف دوڑ تے تھے ۔رسول خدا (ص) انھیں آغوش میں لے کر ان کا بوسہ لیتے تھے(۸۹) !! اور کبھی ان کو اپنے پیچھے مرکب پر سوار کرتے

تھے،ان میں سے بعض کے سر پر دست شفقت پھیرتے تھے(۹۰) !!

بچوں کو سوار کرنا۔

پیغمبر اسلام کا بچوں کے ساتھ حسن سلوک کا ایک اور نمونہ یہ تھاکہ آپ (ص) انھیں کبھی اپنی سواری پر اپنے پیچھے اور کبھی اپنے سا منے بٹھاتے تھے ۔نفسیاتی طور پر پیغمبر اسلام (ص)کا یہ طرز عمل بچوں کے لئے انتہائی دلچسپ تھا ۔کیونکہ وہ پیغمبر اکرم (ص)کے اس برتائو کو اپنے لئے ایک بڑا فخر سمجھتے تھے اور یہ ان کے لئے ایک ناقابل فراموش واقعہ ہوتا تھا ۔

قابل غور بات یہ ہے کہ آنحضرت (ص)کبھی اپنے بچوں کواپنے کندھوں پر اور کبھی اپنی پشت پر سوار کرتے تھے اور دوسروں کے بچوں کو اپنے سواری پر بٹھاتے تھے ۔ان میں سے کچھ نمونے ہم اس فصل میں ذکر کریں گے۔

جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ پیغمبر اسلام(ص) اپنے بچوں کو اپنی پشت مبارک پر سوار کرتے تھے اور ان کے ساتھ کھیلتے تھے ۔اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں نقل کی گئی ہیں ۔

پیغمبر اکرم (ص)کے عظیم صحابی،جابر کہتے ہیں :

''میں پیغمبر اسلام (ص)کی خدمت میں حاضرہوا،اس وقت حسن وحسین علیھما السلام آنحضرت (ص)کی پشت مبارک پر سوار تھے ،آپ (ص)اپنے ہاتھوں اور پائوں سے چل رہے تھے اور فرمارہے تھے :تمھاری سواری کیااچھی سواری ہے اور تم کیا اچھے سوار ہو۔(۹۱) ''

ابن مسعود کا کہنا ہے کہ

''پیغمبر اسلام (ص)،حسن وحسین علیھما السلام کو اپنی پشت پر سوار کرکے لے جارہے تھے،جبکہ حسن علیہ السلام کو دائیں طرف اور حسین علیہ السلام کو بائیں طرف سوار کئے ہوئے تھے ۔آپ (ص)چلتے ہوئے فرماتے تھے:تمھاری سواری کیا اچھی سواری ہے اور تم بھی کتنے اچھے سوار ہو۔تمھارے والد تم دونوں سے بہتر ہیں ۔(۹۲) ''

پیغمبر اسلام (ص)کا لوگوں کے بچوں کو اپنی سواری پر سوار کرنا

پیغمبر اسلام (ص)جیسا برتائو اپنے بچوں سے کرتے تھے ویسا ہی برتائو اپنے اصحاب کے بچوں سے بھی کرتے تھے اور انھیں اپنی سواری پر سوار کرتے تھے ۔اس سلسلہ میں ہم چند روایتیں ذکر کرتے ہیں :

عبداللہ ابن جعفرا بن ابیطالب کہتے ہیں :

''ایک دن رسول خدا (ص)نے مجھے اپنے مرکب پر اپنے پیچھے سوار کیا اور میرے لئے ایک حدیث بیان فر مائی ،جسے میں کسی سے بیان نہیں کروں گا۔(۹۳) ''

مروی ہے کہ جب کبھی رسول خدا (ص)سفر سے لوٹتے ہوئے راستہ میں بچوں کو دیکھتے تو حکم فر ماتے تھے کہ انھیں اٹھا لو ۔ان میں سے بعض بچوں کو اپنے مرکب پراپنے سامنے اور بعض کو اپنے پیچھے سوار کرتے تھے ۔کچھ مدت گزرنے کے بعد وہ بچے ایک دوسرے سے کہتے تھے:رسول خدا (ص)نے مجھے اپنے سامنے سوار کیا لیکن تجھے پیچھے سوار کیا!!اور دوسرے کہتے تھے:رسول خدا (ص)نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ تجھے آپ(ص) کے مرکب پر آپ (ص)کے پیچھے سوار کریں۔(۹۴) ''

فضیل بن یسار کہتا ہے :میں نے امام باقر علیہ السلام کویہ فرماتے ہوئے سنا:

''پیغمبر اکرم (ص)کسی کام کے لئے اپنے گھر سے باہر نکلے ۔فضیل بن عباس کو دیکھا توفرمایا:اس بچے کو میرے مرکب پر میرے پیچھے سوار کرو ۔اس بچے کو پیغمبر اکرم (ص)کے پیچھے مرکب پر سوار کیا گیا اور آپ (ص)اس بچے کا خیال رکھے ہوئے تھے۔(۹۵) ''

عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں :

''میں عباس کے بیٹوں ،قثم اور عبیداللہ کے ہمراہ تھا اور ہم کھیل رہے تھے ۔رسول خدا (ص) ہمارے پاس سے گزرے اور فرمایا :اس بچے(عبداللہ ابن جعفر)کو اٹھا کر سوار کر دو ۔اصحاب نے اسے اٹھا کر رسول اﷲ (ص)کے آگے بٹھا دیا۔اس کے بعد آپ (ص)نے فرمایا :اس بچے(قثم)کو اٹھا لو۔اسے بھی اٹھا کرآنحضرت(ص) کے پیچھے سوار کیا گیا(۹۶) ''

پیغمبر اسلام (ص)کے اپنے بچوں کو اپنے کندھوں پر سوار کرنے کی چند صورتیں نقل کی گئی ہیں کہ ہم ان کو ذیل میں بیان کرتے ہیں :

۱۔دونوں (حسن وحسین علیھما السلام)کو اپنے کندھوں پر اس طرح سوار کرتے تھے کہ دونوں ایک دوسرے کے روبرو ہوں ۔

۲۔دونوں کو اپنے کندھوں پر ایک دوسرے کی طرف پشت کرکے سوار کرتے تھے۔

۳۔ایک کو اپنے دائیں کندھے پر آگے کی طرف رخ کرکے اور دوسرے کو اپنے بائیں کندھے پر پیچھے کی طرف رخ کر کے سوار فرماتے تھے۔(۹۷)

پانچویں فصل:

بچّوں کو کھلانا اور پلانا

پیغمبر اسلام (ص)کے بارے منقول ہے :

آنحضرت (ص)چھو ٹوں اور بڑوں کوسلام کرتے تھے۔

بچو ں کی تربیت اورپرورش کے سلسلہ میں ایک اہم اور سنگین ذمہ داری یہ ہے کہ ان کے درمیان عدل وانصاف برقرار رکھا جائے۔اس لئے جن والدین کے یہاں کئی بچے ہیں ،انھیں اپنے برتائو اور سلوک میں تمام بچوں کے ساتھ عدل وانصاف اور مساوات کے ساتھ پیش آنا چاہئے اوراپنے عمل میں تمام بچوں کو یکساں سمجھنا چاہئے تاکہ ان میں سے بعض احساس کمتری کا شکار نہ ہوں ۔پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے بچوں کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے ۔اسی سلسلہ میں اپنے بچوں کو پانی دیتے وقت عدالت کی رعایت فرمانابھی اس سلسلہ میں نقل کیا گیا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

''رسول خدا (ص)ہمارے گھر تشریف لائے ،میں اورحسن و حسین علیھما السلام ایک لحاف میں سوئے ہوئے تھے۔حسن نے پانی مانگاتورسول خدا (ص)گئے اور ایک برتن میں پانی لے کر آئے۔اسی اثنا ء میں حسین علیہ السلام بھی بیدار ہوئے اور پانی مانگا ۔لیکن رسول خدا (ص)نے پہلے انھیں پانی نہیں دیا۔

فاطمہ(س)نے فرمایا :

''اے رسول خدا ! (ص)کیاآپ حسن کو حسین سے زیادہ دوست رکھتے ہیں ؟رسول خدا (ص)نے فرمایا:حسن نے حسین سے پہلے پانی مانگا تھا ۔قیامت کے دن میں ،تم،حسن وحسین اور یہ جو سوئے ہوئے ہیں (علی علیہ السلام)ایک ہی جگہ ہوں(۹۸) !!''

رسول خدا (ص)اپنے بچوں کو خود کھانا کھلاتے تھے ۔آپ (ص)کا یہ سلوک اس بات کی دلیل ہے کہ آپ (ص)اپنے بچوں کے مزاج سے خوب واقف تھے۔

سلمان فارسی کہتے ہیں :

''میں رسول خدا (ص)کے گھر میں داخل ہوا۔حسن وحسین علیھما السلام آپ (ص)کے پاس کھانا کھا رہے تھے۔آنحضرت (ص)کبھی ایک لقمہ امام حسن علیہ السلام کے منہ میں اور کبھی امام حسین علیہ السلام کے منہ میں ڈالتے تھے۔جب بچے کھاناکھاچکے توآنحضرت(ص)نے امام حسن علیہ السلام کواپنے کندھے پراور امام حسین علیہ السلام کوزانو پر بٹھا لیا۔اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا:اے سلمان! کیا تم انھیں دوست رکھتے ہو؟میں نے جواب میں عرض کی :اے رسول خدا (ص) کیسے ممکن ہے کہ میں انھیں دوست نہ رکھوں جبکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہاہوں کہ آپ (ص) کے نزدیک ان کی کیا قدر ومنزلت ہے؟!(۹۹) ''

بچوں کو سلام کرنا

رسول خدا (ص) کے نیک کردار میں سے ایک بچوں کو سلام کرنا بھی ہے ۔کیونکہ بچے باوجود یکہ کہ عمر کے لحاظ سے چھوٹے ہوتے ہیں اور کھیل کود کو پسند کرتے ہیں اور ذمہ داریوں سے دور بھاگتے ہیں لیکن اچھی طرح سمجھتے ہیں اور محبت کو محسو س کرتے ہیں ۔

رسول خدا (ص)کا یہ سلوک بعض تنگ نظر اور جاہل افراد کے نظریہ کے برعکس ہے،جو بچوں کے احترام کے قائل نہیں ہیں اور اُنہیں حقیر سمجھتے ہیں ۔لیکن مکتب اسلام میں اس کی سخت تاکید کی گئی ہے کہ بچے بھی اسی سلوک اور احترام کے حقدار ہیں جس کے بڑے ہیں ۔بیشک،پیغمبر اسلام (ص)بچوں کا احترام کرتے تھے اور انھیں معاشرے کے ماحول میں داخل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

پیغمبر اسلام (ص)کے بچوں کو سلام کرنے کے سلسلہ میں بے شمار روایتیں نقل ہوئی ہیں ،ان میں سے چند ایک کو ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں :

انس ا بن مالک کہتے ہیں :

''حضرت محمد مصطفےٰ (ص) کہیں تشریف لے جارہے تھے۔راستہ میں چند چھوٹے بچوں سے ملاقات ہوئی،آپ (ص)نے انھیں سلام کیا اور کھانا کھلایا۔(۱۰۰) ''

ایک دوسری حدیث میں کہتے ہیں :

''پیغمبر اسلام (ص) ہمارے یہاں تشریف لائے،ہم بچے تھے،آپ (ص)نے ہم کو سلام کیا(۱۰۱) ۔''

امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:

''پانچ چیزیں ایسی ہیں ،جنہیں میں مرتے دم تک ترک نہیں کروں گا،ان میں سے ایک بچوں کو سلام کرنا ہے ۔(۱۰۲) ''

ایک اور حدیث میں نقل ہوا ہے:

''پیغمبر اکرم (ص)چھوٹے اور بڑوں کوسلام کرتے تھے۔(۱۰۳) اور سلام کرنے میں دوسروں حتیٰ بچوں پر بھی سبقت حاصل کرتے تھے،(۱۰۴) جس کو بھی دیکھتے ،پہلے آپ (ص) سلام کرتے تھے اور ہاتھ ملاتے تھے۔(۱۰۵)

آپ (ص)نے دوسری حدیث میں فرمایا:

''میں بچوں کو سلام کرنے کے سلسلہ میں حساس ہوں تاکہ یہ طریقہ میرے بعد مسلمانوں میں سنّت کی صورت میں باقی رہے اور وہ اس پر عمل کریں(۱۰۶) ۔''

کیا پیغمبر اسلام (ص)بچوں کی سرزنش کرتے تھے؟

کیا رسول خدا (ص)بچوں کی تربیت کے لئے ان کی سرزنش اور پٹائی کرتے تھے یا نہیں ؟

آنحضرت (ص)کی سیرت کے سلسلہ میں گہری تحقیق کے بعد معلوم ہو تا ہے کہ آپ (ص)بچوں کی تر بیت کے لئے کبھی اُنہیں مارتے نہیں تھے۔اگر چہ ڈانٹنا پھٹکار نا ضروری ہے،کیونکہ بہت کم ایسے بچے پائے جاتے ہیں جن کی تربیت کے دوران ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی تنبیہ نہ کی گئی ہو ۔لیکن ہماری بحث کا موضوع یہ ہے کہ کیا بچے کو مارا پیٹا جاسکتا ہے یا نہیں ؟

اسلامی روایتوں اور دینی پیشوائوں کی سیرت کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کی پٹائی نہیں کر ناچاہئے۔دور حاضر میں ،علم سکھانے اورتربیت کر نے کے لئے بھی بچوں کی پٹائی کرنا اور ادب سکھانے کے لئے ان کو جسمانی اذیت یاسزا دینامناسب نہیں سمجھا جاتا ہے اور تقریباً دنیاکے تمام ممالک میں بچوں کی پٹائی کرنااور انھیں جسمانی اذیت پہنچانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

لیکن کچھ جاہل اور بے خبرافراداسلام کے پیشوائوں کی سیرت سے غفلت کی وجہ سے بچوں کی پٹائی سے روکنے والی روایتوں پر توجہ نہیں کرتے ۔حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے ایک شخص سے اپنے بیٹے کے خلاف شکایت کرنے پرواضح طور پر فرمایا:

''اپنے بیٹے کی پٹائی نہ کرنااور اسے ادب سکھا نے کے لئے ناراضگی اور غصہ کا اظہار کرنا،لیکن خیال رکھناکہ غصہ زیادہ دیر کے لئے نہ ہو اور حتی الامکان اس کے ساتھ نر می سے پیش آنا۔(۱۰۷) ''

پیغمبر اسلام (ص)نہ صرف بچوں کوجسمانی اذیت نہیں دیتے تھے،بلکہ اگر کوئی دوسرا بھی ایسا کر تا تھا تو آپ(ص) اس کی سخت مخالفت کرتے تھے اورشدید اعتراض کرتے تھے۔ تاریخ میں اس سلسلہ میں چند نمونے درج ہیں :

ابو مسعود انصاری کہتے ہیں :

''میرا ایک غلام تھا،میں اس کی پٹائی کر رہاتھاکہ میں نے پیچھے سے ایک آواز سنی،کوئی کہہ رہا ہے:ابو سعید!خدا وند متعال نے تجھے اس پر قدرت بخشی ہے(اسے تیرا غلام بنایا ہے)میں نے مڑ کرجب دیکھا تو رسول خدا (ص)تھے۔میں نے رسول خدا (ص) کی خد مت میں عرض کی ،میں نے اسے خدا کی راہ میں آزاد کیا۔پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:اگر تم یہ کام نہ کرتے تو تجھے آگ کے شعلے اپنی لپیٹ میں لیتے۔(۱۰۸) ''

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

''رسول خدا (ص)کا قبیلہء بنی فہد کے ایک شخص سے سامنا ہوا،جو اپنے غلام کی پٹائی کررہاتھااور وہ غلام فریاد کرتے ہوئے خدا کی پناہ اور مدد چاہتاتھا۔لیکن وہ شخص اس کی فریاد پر کوئی توجہ نہیں کررہا تھا۔جیسے ہی اس غلام کی نظر رسول خدا (ص)پر پڑی تو کہا :ان سے مدد مانگ لونگا،مالک نے پٹائی کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔

رسول خدا (ص)نے اس کے آقاسے کہا :

''خدا سے ڈرواور اسے نہ مارو اور اسے خدا کے لئے بخش دو،لیکن اس شخص نے اسے نہیں بخشا۔پیغمبر (ص)نے فرمایا:اسے محمد (ص)کے لئے بخش دوجبکہ خدا وند متعال کے لئے بخشنا محمد (ص) کے لئے بخشنے سے بہتر ہے ۔''

اس شخص نے کہا:

میں نے اس غلام کوخداکی راہ میں آزاد کیا۔پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:اس خدا کی قسم جس نے مجھے رسالت پرمبعوث کیا ،اگر تم اسے آزاد نہ کرتے تو جہنم کی آگ تجھے اپنے لپیٹ میں لے لیتی۔(۱۰۹) ''

تاریخ کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول خدا (ص)خلاف ورزی کرنے والے بچوں کو بھی جسمانی اذیت کے ذریعہ سزا نہیں دیتے تھے اور ان کے ساتھ بھی محبت اور حسن اخلاق سے پیش آتے تھے۔

تاریخ میں ہے کہ جب جنگ احد کے لئے لشکر اسلام آمادہ ہواتوان کے درمیان چند بچے بھی دکھائی دیئے جو شوق وولولہ کے ساتھ رضاکارانہ طور پرمیدان جنگ میں جانے کے لئے آمادہ تھے۔رسول خدا (ص) کو ان پر رحم آیا اور انھیں لوٹا دیا ۔ان کے درمیان رافع ابن خدیج نام کا ایک بچہ بھی تھا ۔آنحضرت (ص)کی خدمت میں عرض کیاگیا کہ وہ ایک زبردست تیر انداز ہے ،اس لئے پیغمبر اکرم (ص)نے اسے لشکراسلام کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی ۔

ایک اور بچے نے روتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ رافع سے بھی زیادہ قوی ہے اس لئے پیغمبر اکرم (ص)نے ان سے کہا:آپس میں کُشتی لڑو ،کُشتی میں رافع نے شکست کھائی اس کے بعد پیغمبر اکرم (ص)نے انھیں میدان جنگ میں جانے کی اجازت دیدی۔(۱۱۰)

لہذا،جسمانی سزا کو تربیت کے لئے موثر عامل قرار دینے کے طور پر اختیار نہیں کرنا چاہئے۔چنانچہ اگر یہ طریقہ لمبی مدت تک جاری رکھا جائے تو بچے کی حیثیت پر کاری ضرب لگنے کا سبب بنتا ہے اور سر زنش کا اثر بھی باقی نہیں رہتا اور بچہ اسے ایک معمولی چیز خیال کر تا ہے، اس سے پرہیز نہیں کرتا اور شرم وحیا کا احساس بھی ختم ہو جاتا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

''عقلمند انسان ادب و تربیت سے نصیحت قبول کرتا ہے۔صرف مویشی اور حیوانات ہیں جو تازیانوں سے تر بیت پاتے ہیں ۔(۱۱۱) ''

اس لئے جسمانی سر زنش سے پر ہیز کرنا اس قدر اہم ہے ،کہ حکم ہوا ہے کہ نا بالغ اگر جرم کے مرتکب بھی ہو جائیں ان پر حد جاری کرنا جائز نہیں ہے بلکہ ان کی اصلا ح کے لئے سزا دی جائے۔(۱۱۲)

اس لئے ہم پیغمبر اسلام (ص)اور دین کے دوسرے پیشوا ئوں کی تاریخ میں کہیں یہ نہیں پاتے ہیں کہ انھیں اپنے بچوں کی تر بیت کے مقدس کام میں پٹائی کرنے کی ضرورت پڑی ہو ۔وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک مہر بان اور ہمدرد دوست،ایک محبوب پیشوا،اورایک غمگساررہنما کی حیثیت سے برتائو کرتے تھے۔اور ان کے بچپن کے دوران ان کے ساتھ کھیلتے تھے اور بڑے ہو کر ان کے دوست اور ہمدم رہتے تھے۔ان کا یہ طریقہ ان کے پیرو ئوں کے لئے مختلف زمانوں اور جگہوں پر راہنما ہو سکتا ہے کیونکہ اسلام ودین کے دستو رات کسی خاص زمان ومکان یا فرقہ وگروہ سے مخصوص نہیں ہوتے ،بلکہ ہر وقت اور ہر جگہ اور پوری بشریت کے لئے ہوتے ہیں ۔

دوسراحصہ:

پیغمبر اسلام (ص) کا جوانوں کے ساتھ سلوک

جوانی خدا وند متعال کی ایک گرانقدر نعمت اورانسانی زندگی کی سعادت کا بڑاسر مایہ ہے۔

پہلی فصل:

جوانی کی طاقت

میں تمہیں وصیت کرتاہوں کہ نوجوانوں اور جوانوں کے ساتھ نیکی کرو۔

( پیغمبر اکرم(ص))

پہلے حصہ میں مختصر طور پر آپ ،پیغمبر اسلام (ص) کے بچوں کے ساتھ حسن سلوک سے آگاہ ہوئے۔اب ہم دوسرے حصہ میں پیغمبر اسلام (ص) کے جوانوں کے ساتھ حسن سلوک کو پیش کرتے ہیں ،تاکہ معاشرے اور مسلمانوں کی رہنمائی ہو سکے ،کیونکہ ایک ملک کا سب سے بڑا سر مایہ اس ملک کے انسان ہوتے ہیں اور ہرملک کی سب سے اہم انسانی طاقت اس ملک کے جوان ہی ہو تے ہیں ۔کیونکہ یہ جوانی کی طاقت ہی ہے جو زندگی کی مشکلات پر قابو پاسکتی ہے اور دشوار وناہموار راستوں کو طے کرسکتی ہے ۔اگر کھیتیاں سر سبز اورلہلہاتی ہیں اور بڑی صنعتوں کی مشینیں چل رہی ہیں ،اگر زمین کے اندر موجود کانیں زمین کی گہرائیوں سے نکال کر باہر لائی جاتی ہیں ،اگر فلک بوس عمارتیں تعمیر کی جاتی ہیں ،اگر شہر آباد کئے جاتے ہیں اور ملک کی اقتصادی بینادوں کو مستحکم اور بارونق بنا یا جاتا ہے،اگر ملک کی سرحدوں کودشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھاجاتا ہے اور ملک میں امن و امان بر قرارکیا جاتا ہے،تو یہ سب جوان نسل کی گرانقدر کو ششوں کا نتیجہ ہے،کیونکہ جوانوں کی یہ انتھک طاقت تمام ملتوں اورقوموں کی امید کا سبب ہوتی ہے۔

اسی لئے جوانی کے دن پہنچتے ہی بچپن کا دور ختم ہو جاتا ہے اور انسان شخصی ذمہ داریوں کی دنیامیں قدم رکھتا ہے اور اجتماعی و عمومی فرائض انجام دینے کابیڑا اٹھا لیتاہے اس لئے آج کی دنیا میں جوا نوں کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے نو جوان،سیاسی ، اجتماعی ،اقتصادی،صنعتی واخلاقی جیسے تمام مسائل میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں ۔

دین مقدس اسلام نے بھی چودہ سو سال قبل اپنے جامع،روح افزا اور سعادت بخش منصوبوں کے پیش نظر جوان نسل پر ایک ایسی خاص توجہ کی ہے کہ آج تک کوئی معا شرہ،کوئی تہذیب،کوئی دین اور کوئی مکتب اس کی مثال پیش نہیں کرسکا ۔اسلام نے جوانوں کو مادی، معنوی، نفسیاتی،تر بیتی، اخلاقی،اجتماعی،دنیوی و اخروی،غرض کہ ہر لحاظ سے زیر نظر رکھا ہے،جبکہ دوسرے مذاہب اور تہذبیوں میں جوانوں کے صرف بعض مسا ئل پر توجہ دی جا تی ہے۔

جوانی کی قدر وقیمت

جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ آج کی دنیا میں جوانوں کا موضوع اور ان کی قدر وقیمت تمام ملتوں اور اقوام کی زبان پر ہے اور ہر جگہ نسل جوان کا چرچا ہے ۔اس لئے محقیقن،مفکرین اور مصنفین نے ان کے بارے میں گونا گون علمی بحثیں کی ہیں ۔

ان میں سے بعض افراد نے تند روی سے کام لے کرجوا نوں کو اپنے شائستہ مقام ومنزلت سے بلند تر کر دیا ہے اور کچھ لو گوں نے تفریط سے دو چار ہوکرنا پختگی اور علمی وعملی نا تجربہ کاری کے سبب جوانوں کو ان کے اصلی مقام سے گرا دیا ہے ۔ایک تیسرا گروہ بھی ہے جس نے اس سلسلہ میں درمیانی راستہ اختیار کیا ہے۔

دین کے پیشوائوں نے جوانی کو خدا وند متعال کی ایک گرانقدر نعمت اور انسانی زندگی کی سعا دت کا عظیم سر مایہ جا نا ہے اور اس مو ضوع کے بارے میں مختلف عبارتوں میں مسلمانوں کویاد دہانی کرائی ہے۔

رسول خدا (ص) نے فر ما یا:

ٍٍٍٍ''میں تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ نوجوانوں اور جوانوں کے ساتھ نیکی کرو،کیونکہ ان کا دل نرم اور فضیلت کوقبول کرنے والا ہو تا ہے۔خدا وند متعال نے مجھے رسالت پر مبعوث کیا کہ لوگوں کو رحمت الہٰی کی بشارت دوں اور انھیں خدا کے عذاب سے ڈرا ؤں۔جوا نوں نے میری بات کو قبول کر کے میری بیعت کی لیکن بوڑھوں نے میری دعوت کو قبول نہ کرتے ہوئے میری مخالف کی ۔(۱۱۳) ''

علی علیہ السلام نے فر مایا:

''دو چیزیں ایسی ہیں جن کی قدر وقیمت کوئی نہیں جانتا،مگر وہ شخص جس نے ان کو کھودیا :ان میں سے ایک جوانی ہے اور دوسری تند رستی۔(۱۱۴) ''

جب محمد ابن عبداللہ ابن حسن نے قیام کیا اورلوگوں سے اپنے لئے بیعت لے لی توامام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں آکر ان سے بیعت لینے کی درخواست کی لیکن امام نے قبول نہ کرتے ہوئے انھیں چند نصیحتیں کیں،ان میں سے ایک جوانوں کے بارے میں نصیحت بھی تھی ۔امام علیہ السلام نے یہ فرمایا:

''تمھیں جوانوں کو اپنے ساتھ رکھنا چاہئے اور بوڑھوں سے دوری اختیار کرنی چاہئے۔(۱۱۵) ''

امام جعفر صادق علیہ السلام کی یہ نصیحت بذات خود جوانوں کی قدر وقیمت اور اہمیت واضح کرتی ہے اور خدا وند متعال کی اس بڑی نعمت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔اسی لئے رسول خدا (ص) ابو ذر سے فرماتے ہیں :

''پانچ چیزوں کو کھو دینے سے پہلے ان کی قدر کرو،اوران میں سے ایک جوانی بھی ہے کہ بڑھا پے سے پہلے اس کی قدر کرو(۱۱۶) ''

جوانوں کو اہمیت دینا

اسلام کے سچے پیشوائوں نے قدیم زمانے سے، اپنے گرانقدر بیا نات سے جوا نو ں کی پاک روح اور ان کی اخلاقی وانسانی اصولوں کی پابندی کی نصیحت اور تاکید کی ہے اور جوان نسل کو تر بیت کرنے کے سلسلہ میں مربیوں کے اس گرانقدر سرمایہ سے استفادہ کرنے کی تا کیدکی ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک صحابی ''ابی جعفر احول'' نے ایک مدت تک شیعہ مذہب کی تبلیغ اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی فکر کی تعلیم وتربیت کی۔ایک دن وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوے۔امام علیہ السلام نے ان سے پوچھا:تم نے اہل بیت علیہم السلام کی روش کو قبول کرنے اور شیعہ عقائد کو قبول کرنے کے سلسلہ میں بصرہ کے لوگوں کو کیسا پا یا؟

اس نے عرض کی :ان میں سے بہت کم لوگوں نے اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو قبول کیا ۔امام نے فر مایا :تم جوان نسل میں تبلیغ کر نا اور اپنی صلاحیتوں کو ان کی ہدایت میں صرف کرنا،کیونکہ جوان جلدی حق کو قبول کرتے ہیں اورہر خیر ونیکی کی طرف فوراًما ئل ہو تے ہیں ۔(۱۱۷)

اسماعیل بن فضل ہاشمی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے(حضرت یوسف کو کنویں میں ڈالنے کے بعد یوسف کے بھائیوں نے اپنے باپ کے پاس آکر عفو وبخشش کی درخواست کی) اپنے بیٹوں کی عفو وبخشش کی درخواست کو منظور کرنے میں کیوں تاخیر کی ،جبکہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو فورا بخش دیا اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کی ؟

امام جعفرصادق علیہ السلام نے جواب میں فرمایا!''اس لئے کہ جوان کا دل بوڑھے کی نسبت حق کو جلدی قبول کرتاہے۔(۱۱۸) ''

مذکورہ دو روایتوں سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ جوان نسل فضیلتوں کو پسند کرتی ہے اور خوبیوں کو جلدی قبول کرتی ہے اور فطری طور پر بہادری ،شجاعت،سچائی،اچھائی وعدہ وفائی، امانت داری ،خود اعتمادی،لوگوں کی خدمت خلق،جان نثاری اور اس طرح کی دوسری صفتوں کی طرف رجحان اور دلچسپی رکھتی ہے اور پست اور برُے اخلاق سے متنفر ہوتی ہے۔

چندنکات

دین کے پیشوائوں کی نظر میں ،جوانی ایک گراںبہااور گرانقدر شی ہے۔جو لوگ اپنے لئے سعادت اور خوشبختی کے خواہشمند ہیں اور اس گرانقدرطاقت سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں ،انھیں درج ذیل چند نکات کی طرف خاص توجہ رکھنی چاہئے!

۱۔جوانی کا دور،انسانی زندگی کا ایک بہترین ،گرانقدر اور مفید دور ہے۔

۲۔جوانی کی طاقت سے استفادہ کرنے کے سلسلہ میں سعی وکوشش کرنا، کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔

۳۔ہر انسان کی خوشبختی اور بد بختی کی داغ بیل اس کی جوانی کے دوران پڑتی ہے،کیونکہ جو انسان ان فرصتوں سے ضروری استفادہ کرے،وہ کامیاب ہو سکتاہے اور صلاحیتوں سے استفادہ کرکے اپنی پوری زندگی کے لئے خوشبختی حاصل کر سکتا ہے۔(۱۱۹)

قیامت کے دن جوانی کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

رسول خدا (ص)نے فر مایا:

''قیامت کے دن کوئی بندہ مندرجہ ذیل سوالات کا جواب دئے بغیرایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکے گا:

۱۔اس نے اپنی عمر کس کام میں صرف کی ؟

۲۔اس نے اپنی جوانی کس طرح اورکہاں گزاری ؟

پیغمبر اسلام (ص)کے اس ارشاد سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام نے جوانی کی طاقتوں کو کس قدر اہمیت دی اور توجہ دی ہے،کیونکہ اس گرانقدر سرمایہ کو ضائع کرنے کے سلسلہ میں قیامت کے دن خاص طور پر سوال کیا جائے گا۔

جی ہاں،اخلاقی اقدار اور انسانی صفات کے مالک جوانوں کی قدر ومنزلت، پھولوں کی ایک شاخ کی مانند ہے جو عطر وخوشبو سے لبریز ہے،تازگی کے علاوہ ،اس کی فطری خوبصورتی اور حسن و جمال بھی معطر ہے۔لیکن اگر جوانی الہٰی اقدارکی مالک نہ ہو،تو اس کی مثال کانٹوں کی سی ہے جن سے ہرگزکوئی محبت نہیں کرتا۔

رسول خدا (ص)نے فرمایا:

''با ایمان شخص کے لئے ضروری ہے کہ اپنی طاقت سے اپنے لئے استفادہ کرے اور دنیا سے اپنی آخرت کے لئے، جوانی سے بڑھاپے سے پہلے اور زندگی سے موت سے پہلے استفادہ کرے۔(۱۲۰)

آنحضرت (ص)نے مزید فرمایا:

''فرشتہ الہٰی،ہر شب بیس سالہ جوانوں سے مخاطب ہوکر فریاد کر تا ہے کہ سعی وکوشش کرواور کمال وسعادت تک پہنچنے کے لئے کو شش کرو۔(۱۲۱) ''

اس لئے،جوانی کا دور،انفرادی مسئولیت ،بیداری،ہوش میں آنے اور عمل وکوشش کا دور ہے اور جو لوگ اس الہٰی طاقت سے استفادہ نہیں کریں گے،انھیں سر زنش کی جائے گی۔

خدا وند متعال فرماتا ہے :

( ولم نعمّرکم مایتذکّر فیه من تذکّر ) (فاطر۳۷)

''تو کیا ہم نے تمھیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس میں عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرتے؟''

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

''یہ آیت ان غافل جوانوں کی سرزنش و ملامت کے لئے ہے جو اٹھارہ سال کے ہو گئے ہیں اور اپنی جوانی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔(۱۲۲)

سولھواں سبق

مال ومنصب سے لگائو کا خطرہ اور

قناعت وسادہ زندگی کی ستائش

*دنیا، مقصدہے یا وسیلہ

*ملامت کی گئی دنیا

*فقیر مومنینآسانی سے وارد بہشت ہوں گے

*قناعت اور سادہ زندگی کی ستائش اور طمع ولالچ کی سرزنش

*دنیا سے دوری اور اس کی بے اعتنائی کی ستائش

مال و منصب سے لگاؤ کا خطرہ اورقناعت و سادہ زندگی کی ستائش

''یَا اَبَاذَرٍ: حُبُ الْمَاِل وَ الشَّرَفِ اَذْهَبُ لِدینِ الرَّجُلِ مِنْ ذِئْبَینِ ضٰارِیَیْنِ فِی زَرْیبهِ الْغَنَمِ فَاَغَارٰا فیهَا حَتّٰی َصْبَحٰا فَمَاذٰا اَبْقَیٰا مِنْهٰا قٰالَ؛ قُلْتُ: یَا رَسُولَ ﷲ؛ اَلْخَائِفُونَ الْخَاضِعُونَ الْمُتَواضِعُونَ الذّٰکِرُونَ ﷲ کَثٰیراً اَهُمْ یَسْبِقُونَ النَّاسَ اِلَی الْجَنَّة؟

فَقَالَ: لاٰ وَلٰاٰکِنْ فُقَرَائُ الْمُسْلِمینَ فَاِنَّهُمْ یَتَخَطَّوْنَ رِقٰابَ النَّاسِ' فَیَقُولُ لَهُمْ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ کَمٰا اَنْتُمْ حَتیّٰ تُحَاسَبُوا' فَیَقُولُونَ بِمَ نُحَاسَبُ فَوَﷲ مٰا مَلَکَنٰا فَنَجُورَ وَ نَعْدِلَ وَلاٰ اَفیضَ عَلَیْنٰا فَنَقْبِضَ وَنَبْسُطَ وَلٰکِنَّا عَبَدْنَا رَبَّنَا حَتّٰی دَعٰانٰا فَاَجَبْنَا

یَا اَبَاذَرٍ؛ اِنَّ الدُّنْیٰا مَشْغِلَة لِلْقُلُوبِ وَالْاَبْدَانِ وَاِنَّ ﷲ تَبَارَکَ وَ تَعٰالیٰ سٰائِلُنَا عَمَّا نَعَّمَنَا فی حَلاَلِهِ فَکَیْفَ بِمٰا نَعَّمَنٰا فی حَرٰامِه

یَا اَبَاذَرٍّ؛ اِنِّی قَدْ دَعَوْتُ ﷲ جَلَّ ثَنَاوُهُ اَنْ یَجْعَلَ رِزْقَ مَنْ یُحِبُّنی الْکَفٰافَ وَ َنْ یُعْطِیَ مَنْ یُبْغِضُنی کَثْرَةَ الْمَالِ وَ الْوَلَدِ

یَا اَبَاذَرٍّ؛ طُوبٰی لِلزَّاهِدٰینَ فِی الدُّنْیٰا الرَّاغِبینَ فی الْآخِرَةِ الَّذینَ اتَّخَذُوا اَرْضَ ﷲ بِسٰاطاً وَتُرَابَهٰا فِرَاشاً وَ مَائَهَا طیباً وَاتَّخَذُواکِتَابَ ﷲ شِعَاراً وَ دُعَائَ هُ دِثاراً یَقْرِضُونَ الدُّنْیٰا قَرضاً

یَا اَبَاذَرٍ؛ حَرثُ الْآخِرةِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ وَ حَرْثُ الدُّنْیٰا الْمَالُ وَالْبَنُونَ''

دنیا مقصد ہے یا وسیلہ:

قرآن مجید کے نقطہ نظر کے مطابق اگر دنیا نہ ہوتی تو آخرت بھی نہ ہوتی۔ ہم اپنی آخرت کی زندگی کو اپنے اختیاری اعمال و رفتار کے ذریعہ دنیا میں بناتے ہیں، چنانچہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ پس اگر دنیا نہ ہوتی تو کوئی بہشت میں داخل نہیں ہوتا، کیونکہ بہشت کی نعمتیں دنیا کے اعمال کی جزا و پاداش ہیں۔ کرامات، فضائل اور اخروی مقامات انہی اعمال اور تلاش و کوششوں کا نتیجہ ہیں جنہیں انسان دنیا میں انجام دیتا ہے، پس دنیا داری کی کافی قدر و منزلت ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظریہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ، جب دنیا اس قدر اہمیت اور قدر و منزلت کی حامل ہے تو، کیوں روایتوں میں اس کی اتنی مذمت اور سرزنش کی گئی ہے؟

اس سوال کے جواب میں کہنا چاہیے: دنیا کی زندگی، اس لحاظ سے کہ خدائے حکیم کی مخلوق ہے، کوئی عیب نہیں رکھتی ہے۔ بنیادی طور پر دنیوی زندگی کا نظام بہترین نظام اور انتہائی استحکام و جمال کا حامل ہے۔ اس بنا پر اصلی و اساسی مشکل کا سراغ لگانے کے لئے کہیں اور جستجو کرنا چاہیے۔ آیات و روایات میں تھوڑے سے غور وخوض کے بعد ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اساسی مشکل اور عیب انسان کے دنیا سے رابطہ کی کیفیت اور برتاؤ کے طریقہ میں ہے۔ کیونکہ یہ انسان کا دنیا سے برتائو اور رابطہ کی کیفیت ہے جو اس کے مستقبل کے لئے اسے مفید یا مضر، بااہمیت یا بے اہمیت، اچھا یا برا بنا سکتی ہے۔ انسان کے برتائو، رفتار، زندگی اور انسان کے آئندہ کے سلسلہ میں سواء چند موارد کے کہ جو جبری تزاحم کے نتیجہ میں بعض نقائص و برائیوں کے وجود میں آنے کا سبب ہے دنیا پر کو نسا اعتراض کیا جاسکتا ہے؟ باوجود اس کے کہ ان نقائص و برائیوں کا دنیا کی خیر و برکات اور فراواں کمالات کا مواز نہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

لہذا، واضح ہوگیا کہ سرزنش اور اعتراض دنیا کے بارے میں انسان کا عقیدہ اوراس سے رابطہ کے طریقہ میں ہے۔ وہ رابطہ جو دنیا کواصالت کا درجہ دیتے ہیں اور دنیا کی نسبت مادی نقطہ نظر کے پیش نظر پیدا ہوتا ہے، ان لوگوں کا اعتقاد ہے جو گمان کرتے ہیں کہ دنیا کی زندگی کے علاوہ کسی دوسری زندگی کا وجود نہیں ہے، لیکن حقیقت میں یہ گمان باطل ہے اور اس نقطہ نگاہ سے دنیا کو دیکھنا ایک ایسی خطا ہے جس کے نتیجہ میں انسان کے اعمال و رفتار میں بیشمار خطائیں اور غلطیاںوجود میں آسکتی ہیں۔

لہذا دنیا کے بارے میں ہمیں اپنے عقیدہ و نظریہ کی تصحیح کرنا چاہیے اور جاننا چاہیے کہ انسان کی زندگی دنیا کی زندگی تک محدود اور منحصر نہیں ہے بلکہ اس کے ماورا اس کی ایک ابدی زندگی بھی موجود ہے۔ جب انسان دنیا کو ایک گزر گاہ قراردے گا، نہ اصلی اور آخری مقصد، تو فطری بات ہے کہ اسے زندگی کے وسائل اور مال و ثروت جو کمال تک پہنچنے کے لئے ضروری ہیںانھیں اپنے لئے فراہم کرنا چاہیے۔ اس صورت میں غذا، لباس، گھر، گاڑی، پیسے، مال اور ریاست یہ ساری چیزیں مقدمہ اور وسیلہ شمار ہوں گی، نہ اصلی مقصد لیکن اگر انہیں اصلی ہدف و مقصد قرار دیا جائے نہ وسیلہ و مقدمہ تو وہ انسان کے لئے کمال اور آخری مقصد تک پہنچنے میں رکاوٹ بنیں گے، اسی لئے ان کی مذمت اور سرزنش کی گئی ہے۔

ملامت کی گئی دنیا

مذکورہ بیانات کے پیش نظر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مال وثروت، مقام و منصب سے دلچسپی اور لگائو کی سرزنش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍ: حُبُّ الْمَاِل وَ الشَّرَفِ اَذْهَبُ لِدینِ الرَّجُلِ مِنْ ذِئْبَینِ ضٰارِیَیْنِ فِی زَرْیبةِ الْغَنَمِ فَاَغَارٰا فیهَا حَتّٰی َصْبَحٰا فَمَاذٰا اَبْقَیٰا مِنْهٰا''

اے ابوذر! مال وثروت ،جاہ و منصب کی محبت، انسان کے دین پر، بھیڑوں کے ایک ریوڑ پر دو خونخوار بھیڑیوں کے حملہ سے زیادہ صدمہ پہنچاتے ہیں، جو رات کے وقت حملہ کرتے ہیں معلوم نہیں کل تک کتنے بھیڑ زندہ بچیں گے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے اور امت کو دنیا پرستی اور جاہ و مقام کی وابستگی کے خطرہ سے ڈرانے کے لئے، دنیا پرستی جاہ طلبی کو دو ایسے خونخوار بھیڑیئے سے تشبیہ دیتے ہیں جو ایک محدود جگہ پر موجودہ بھیڑوں کے ریوڑ پر حملہ آور ہوتے ہیں اور رات بھر صبح ہونے تک چیر پھاڑ کرتے رہتے ہیں۔ فطری بات ہے جب ایک بھیڑیا ایک ریوڑ پر حملہ کر تا ہے تو ایک بھیڑ پرقناعت نہیں کرتا ہے بلکہ سبھی کو ٹکڑے ٹکڑیکر دیتا ہے اور اس کے بعد ان کے کھانے میں مشغول ہوجاتا ہے، اب اگر دو خونخوار بھیڑیے ایک ریوڑ پر حملہ کریں توکیا کسی بھیڑ کو زندہ باقی رکھیں گے؟

دنیا پرستی اور جب ریاست کا انسان کے دین اور اخلاقی اقدار پر خطرہ دو خونخوار بھیڑیوں کے بھیڑوں پر حملہ کرنے سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ دنیا اور ریاست کی محبت انسان کی انسانی اور معنوی ہویت اور اس کے دین کو نابود کر کے رکھ دیتے ہیں، یہ وہ چیزیں ہیں جن سے انسان کی حقیقی شخصیت اور حیات وابستہ ہے۔

(حدیث کے اس حصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیانات کا مضمون مستفیض بلکہ متواتر ہے اور مختلف عبارتوں میں نقل ہوا ہے۔ حتی اصول کافی میں مال و ریاست کی محبت کی مذمت میں ایک الگ باب مخصوص کیا گیا)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیان مبالغہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انتباہ کی صورت میں مسلمانوں کے لئے بیان کی گئی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے لئے تاریخی تجربہ بھی تائید کرتا ہے۔ صدر اسلام سے آج تک جتنے بھی ظلم اسلام کے خلاف ہوئے ہیں ان کی جڑ مال و ریاست پرستی تھی، کیونکہ جو انسان مال دنیاا ور ریاست کا شیدا ئی ہو دین کے لئے اس کا ضرر ہر دشمن سے زیادہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خلافت کو اس کے مرکز سے ہٹانا اور اسے غضب کرنا، جابر اور باطل حکومتوں کا استمرار اور تمام وحشیانہ حملہ جو اسلام کے پیکر پر واردہوئے ہیں ان کا سرچشمہ مال دنیا اور اقتدار کی محبت تھی، لہذا دین کے لئے مال وا قتدار کی محبت کے خطرات کے پیش نظر ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے اور جب تک ہم جو ان ہیں اور ابھی دنیا پرستی اور اقتدار پرستی نے ہم میں اثر پیدا نہیں کیا ہے، ان دونوں کے ساتھ مبارزہ کریں اور اجازت نہ دیں کہ وہ ہمارے دلوں میں اپنی جڑیں مضبوط کر لیں ۔ اگر ہم کسی مال کو حاصل کریں ، تو ضرورت کی حد تک اس سے استفادہ کریں اور باقی مال کو حاجتمندوں اور محتاج رشتہ داروں و دوستوں میں تقسیم کردیں۔ کوشش کریں کہ جس مال سے محبت رکھتے ہیں اسے دوسروں کو بخش دیں،کیونکہ قرآن مجید فرماتا ہے:

( لَنْ تَنَالُو الْبِرَّحَتیّٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ) (آل عمران٩٢)

''تم ہرگز نیکیوں کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے ہو جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے راہ خدا میں انفاق نہ کروگے۔''

(بیشک انسان جن چیزوں سے محبت کرتا ہے وہ محبت اور قلبی لگائو ( راہ خدا میں ) انفاق کرنے سے مانع ہوتا ہے )

جو کچھ ہم نے بیان کیا، اس کا مشابہ اقتدار اور ریاست پرستی کے ساتھ مبارزہ میں بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی انسان کسی اقتدار پر فائز ہو تو اسے اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس میں دوسروں پر برتری، فرمانروائی اور حکمرانی کا جذبہ پیدا نہ ہو بلکہ اسے گمنا م صورت میں خدمت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور شہرت، لوگوں میں محبوبیت اور مقام کا متمنی نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ اقتدار پرستی کا خطرہ ان کے لئے نہیں ہے جو کسی مقام پر نہیں پہنچے ہیں یہ ان لوگوں سے مربوط ہے جن کے لئے جاہ و مقام کے مواقع فراہم ہوئے ہیں اور اپنے دین کو زبردست خطرہ میں قرار دے چکے ہیں۔

فقیر مومنین، آسانی سے وارد بہشت ہوں گے:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مال و اقتدار پر ستی کے خطرہ کو گوش گزار فرمایا تو جناب ابوذر نے سوال کیا:

''یا رسول ﷲ الخائفون الخاضعون المتواضعون الذاکرون ﷲ کثیراً أهم یسبقون الناس الی الجنة؟''

اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! کیا خداترس، فروتن، خاضع اور ذکر خدا بجالا نے والے لوگ بہشت میں جانے کے سلسلہ میں دوسروں پر سبقت حاصل کریں گے؟

جناب ابوذر، یہ سمجھنے کے بعد کہ، مال و اقتدار سے محبت رکھنے والے ہلاک ہوجائیں گے، سوچتے ہیں کہ خدا سے ڈرنے والے اور متواضع لوگ بہشت میں پہلے داخل ہونے والے ہوں گے، اس لئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کرتے ہیں اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''ولکن فقراء المسلمین فانهم یتخطّون رقاب الناس فیقول لهم خزنة الجنة کماأنتم حتی تحاسبوا' فیقولون بم نحاسب فوﷲ ماملکنا فنجورُدونعدل ولاافیض علینا فنقبض ونبسط ولکنّا عبدناربّنا حتی دعانا فاجبنا''

''مفلس اور نادار مسلمان لوگوں کے شانوں پر قدم رکھتے ہوئے بہشت کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ اس وقت بہشت کے خزانہ دار کہیں گے: اپنی جگہ پر ٹھہرو تاکہ تمہارا حساب لیا جائے۔ وہ جواب دیں گے: ہم سے کیوں حساب لیا جائے گا، خدا کی قسم ہمارے ہاتھ میں کوئی حکومت نہیں تھی تاکہ بخشش کر کے انصاف کو جاری کرتے۔ ہمیں اپنی ضرورت سے زیادہ مال و ثروت نہیں دی گئی تھی کہ کسی کو بخشتے یا بخل کرتے۔ بلکہ ہم نے خدائے متعال کی عبادت کی ہے اور آخر میں حق کی دعوت کو لبیک کہا ہے۔''

تعجب کی بات ہے کہ اس کے باوجود کہ معارف دینی میں خضوع، خشوع اور ذکر خدا بجالا نے والے اقدار کی تعریف کی گئی ہے، پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاضع، متواضع اور ذکر خدا بجالا نے والے افراد کو سب سے پہلے بہشت میں داخل ہونے والوں کی حیثیت سے تعارف نہیں فرماتے بلکہ فرماتے ہیں: بہشت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے مفلس و ناداری کے عالم میں اپنے دین کی حفاظت کی ہو اور کوشش، جہاد، مبارزہ یا علم حاصل کرنے سے پشیمان نہ ہوئے ہوں۔ وہ لوگوں کے شانوں پر قدم رکھ کر بہشت کی طرف روانہ ہوجائیں گے، گویا وہ پرواز کرنا چاہتے ہیں۔ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ: ٹھہرو تاکہتمھارا حساب لیا جائے، تو جواب میں کہتے ہیں: ہمارے ہاتھ میں نہ کوئی حکومت تھی اور نہ مشغلولیت تھی تاکہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرتے یا انصاف اور عدالت کو قائم کرتے ہمارے پاس پیسے نہیں تھے کہ انفاق کرتے یا بخل کرتے۔ جوکام ہم نے انجام دیا وہ خدا کی بندگی اور عبادت تھی جس میں ہم نے کو تا ہی نہیں کی۔

جی ہاں !ان کے پاس دولت نہ تھی کہ اسراف، فضول خرچی اور دوسروں کی مدد کرنے میں کوتاہی سے کام لیتے۔ اس لحاظ سے ان کے اعمال کے محاسبہ میں طولانی وقت صرف نہیں ہوگا، چونکہ اگر ان کے پاس دولت ہوتی اور خدا کی راہ میں خرچ کرتے تو بھی ان کے محاسبہ میں طولانی وقت صرف ہوتا۔

انسان کے دین کو درپیش دنیا اور مال و اقتدار پرستی کے خطرہ کی مذمت کے پیش نظر، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بیان ان لوگوں کے لئے تسلّی بخش ہے جن کے پاس مال دولت نہیں ہے یا تعلیم حاصل کرنے یا دشمن سے جہاد اور مبارزہ جیسے فرائض انجام دینے کی وجہ سے دنیا سے بہرہ مند نہیں کر سکتے ہیں۔ سچ ہے کہ اگر انسان کے پاس مال و دولت ہو تو وہ اسے راہ خدا میں انفاق کر ے نیز دوسروں کی مدد اور اسلام کی خدمت انجام دے، لیکن جو علم حاصل کرنے یا محاذ جنگ پر حاضر ہونے کی وجہ سے مال و دولت جمع کرنے اور اسے راہ خدا میں خرچ کرنے سے محروم ہے، وہ ایک ایسے مقام و منزلت پر فائز ہوتا ہے کہ جو مقام مال و دولت کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے والوں سے بلند تر ہے، چونکہ مالدار اپنے مال کو خرچ کرتا ہے لیکن طالب علم اور محاذ جنگ پر جانے والا مجاہد، اپنی ہستی اور آرام و آسائش کو خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور جن اقدار کو ایسا شخص حاصل کرتا ہے وہ دوسروں کی حاصل کر دہ چیزوں سے بلند تر ہے۔

جب انسان جنگ کے خاتمہ پر خالی ہاتھ محاذ جنگ سے واپس آتا ہے اور دیکھتا ہے جنہوں نے جنگ و جہاد میں شرکت نہیں کی تھی انھوں نے اپنے لئے بہت ساری دولت جمع کرلی ہے، بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کروالی ہیں،ا خرکار ان کے لئے عیش و آرام کے تمام وسائل فراہم ہو گئے ہیں۔ ممکن ہے اسے شیطان اس طرح کے وسوسہ میں ڈالے کہ تم محاذجنگ پر گئے اور مال دنیا سے محروم ہوگئے، دیکھو دوسرے کہاں سے پہنچ گئے؟ تم محاذ جنگ پر گئے اور دشمن سے جنگ کی مجروح یا معلول ہو گئے، اب تمھاری طرف کوئی توجہ نہیں دیتا تمھاری کوئی اہمیت نہیں رہی اور دوسرے بڑی بڑی پوسٹوں اور عہدوں پر فائز ہو گئے ہیں! ممکن ہے یہ شیطانی وسوسے ایسے افراد کے دل پراثر کریں جن کا ایمان کمزور ہے اور ان کے لئے پشیمانی کا سبب بنے۔

اسی طرح ممکن ہے جو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے حوزہ علمیہ سے وابستہ ہوئے ہیں وہ وسوسہ کریں کہ کیا غلطی کی! دوسروںنے یونیورسٹیوںمیں جا کر فلاں ڈگری حاصل کر لی اور، فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک مناسب نوکری میں بھی لگ گئے اس کی برکت سے ثروتمند و مالدار بھی ہو گئے، لیکن میں بیچارہ دینی طالب علم تیس سال حوزہ علمیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دال روٹی کے لئے ترس رہا ہوں! یہ وسوسہ ہمیشہ ان مومنوں کے لئے پیش آتا ہے جو مال دنیا سے محروم ہیں۔ اس لحاظ سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے کلام سے انہیںتسکین دے رہے ہیں کہ اگر چہ تم لوگ مال جمع کرنے والے قافلہ سے پیچھے رہ گئے ہو لیکن تم ایسے مقام و منزلت پر پہنچے ہو کہ دوسرے اس سے محروم ہیں اور وہ قیامت کے دن تمہارے مقام و منزلت کو دیکھ کر حسرت و افسوس کریں گے۔

حدیث کو جاری رکھتے ہوئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍ؛ اِنَّ الدُّنْیٰا مَشْغَلَة لِلْقُلُوبِ وَالْاَبْدَانِ وَاِنَّ ﷲ تَبَارَکَ وَ تَعٰالیٰ سٰائِلُنَا عَمَّا نَعَّمَنَا فی حَلاَلِهِ فَکَیْفَ بِمٰا نَعَّمَنٰا فی حَرٰامِه''

اے ابوذر! دنیا، لوگوں کی جان و تن کو اپنی طرف مشغول کرتی ہے۔ خدائے متعال ہم سے ان نعمتوں کا حساب وکتاب لے گا جو ہمیں حلال راہ سے عنایت کی گئی ہیں چہ جائے کہ حرام طریقے سے وہ نعمتیں ہمیں ملی ہوں!

بیشک مال دنیا حاصل کرنے کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ جو لوگ کسب معاش میں مشغول ہیں اس حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں کہ بعض اوقات انسان کی مشکلات اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ اس کے لئے راتوں کی نیند بھی حرام ہوجاتی ہے، ہمیشہ چک، ضمانت، خرید و فروش، ارزانی، گرانی، قرض، ٹیکس اور اس قسم کے دوسرے مسائل کی فکر میں الجھتا رہتا ہے۔ بہر حال جو بھی مال جمع کرنے کے پیچھے ہے اسے چاہئے زحمت و مشقت برداشت کرے، خواہ مال دنیا کو حلال راہ سے حاصل کرنا چاہتا ہے یا حرام راہ سے، کیونکہ مال و دولت آسانی کے ساتھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔ فطری بات ہے کہ ایسا شخص عبادت اور فکر کرنے کے لئے ایک لمحہ کی بھی فرصت پیدا نہیں کرتا۔اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ قیامت اور خدا سے مناجات کرنے کے لئیوقت نکالے۔

جو دل سے دنیا پر ست ہو، وہ عبادت کو بھی دنیا کے لئے انجام دیتا ہے، صبح سے شام تک مال و دولت جمع کرنے کے لئے آرام نہیں کرتا۔ اگر رات کو نمازِ شب کے لئے بھی بیدار ہوتا ہے تو اس کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ اس کے رزق میں اضافہ ہو اور اس کی دولت زیادہ ہوجائے۔ اس سے بدتر رسوائی کیا ہوسکتی ہے کہ انسان ذکر و عبادت خدا کو بھی اپنے شکم اور مال دنیا کے لئے قربان کرے، جس عبادت کو اسے بہشت، اس سے بالاتر رضوان الہٰی کے لئے وسیلہ قرار دینا چاہئے تھا اسے روٹی اچھے گھر اور اعلیٰ قسم کی گاڑی کے لئے وسیلہ قرار دیتا ہے!!

اس کے برعکس، جو دل دنیا کے بندھنوں سے آزاد ہوتا ہے، اس کے لئے دنیا کی چیزوں کا ہونا یا نہ ہونا یکساں ہے، اس کے لئے خاکستر اور سونے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگرچہ ہم ایسے افراد کو نہیں جانتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے افراد موجود ہیں۔ ایسے تاجربھی ہیں جن کے لئے کوڑے کرکٹ سے بھری بالٹی اور نوٹوں کے انبار کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، اور ان کے پاس صرف اس چیز کی قیمت ہے جو خدا کی راہ میں خرچ کی جائے شاید اگر انسان نہ دیکھے تو یقین نہیں کرے گا، لیکن چونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسلئے یقین کرتا ہوں۔

میں تقریباً چالیس سال قبل تہر ان کے بازار میں ایک سماور خرید نے کے لئے ایک تاجر کے پاس گیا تاکہ سماور خرید نے کے بعد فورا قم واپس ہوجائوں۔ لیکن اس شخص کی معنوی کشش نے مجھے اتنا فریفتہ کیا کہ غروب تک میں اس کے پاس رہا اور وہ مجھے نصیحتیں کرتا رہا۔ نصیحتوں کے دوران اس کی سفید داڑھی پر آنسوجاری تھے، اس نے مجھ سے پوچھا: پہلی کتاب جو حوزہ میں پڑھتے ہو اس کا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: ''شرح امثلہ'' اس نے کہا: اس کی ابتداء میں کیا لکھا ہے؟ میں نے کہا:''اول العلم معرفة الجبار'' اس نے کہا: کیا تم نے یاد کیا کہ علم کا آغاز خدا کی معرفت سے ہوتا ہے؟ وہ باتیں کر رہا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسؤں کا سیلاب رواں تھا، اس دوران اس کاشاگرد بیچنے میں مصروف تھا اور وہ بے اعتنائی کے عالم میں نوٹوں کو لے کر صندوق میں پھینکے جا رہا تھا۔

ظہر کی نماز کا وقت آیا، تو وہ اپنی اشکبار آنکھوں کے ساتھ اٹھ کر مسجد کی طرف روانہ ہو گیا نماز پڑھنے اور دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد میں پھر سے اس کی دوکان پر حاضر ہوا اور مغرب تک اس کے پاس رہ کر اس کی نصیحتوں کو سنتا رہا۔

جی ہاں! اگر انسان میں حب دنیا نہ ہو تو پیسوں کے انبار میں رہنے کے باوجود بھی اس کے نزدیک پیسوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی اور اس کا دل کہیں اور ہوتا ہے۔ لیکن اگر انسان میں حب دنیا ہو تو، نماز پڑھتے ہوئے بھی اس کے حواس کہیں اور ہوتے ہیں اور نماز میں بھی دنیوی مقاصد پیش نظر رکھتا ہے۔ جب انسان کے دل میں مقام و منزلت کی محبت ہوتی ہے تو ایسی حالت میں اگر وہ عرفان بھی پڑھ لے اور عرفانی سیروسلوک سے بھی آشنا ہوجائے، تب وہ اس فکر میں ہوتا ہے کہ ایسی جگہ پر پہنچائے کہ جہاں کوئی اور نہیں پہنچا ہے، ہر صورت میں دوسروں سے برتری چاہتا ہے۔ حقیقت میں وہ خدا کی بندگی کی فکرمیں نہیں ہوتا ہے۔ وہ ہندوستانی جو گیوں کی طرح ریاضت و کوشش و جستجو سے بعض کاموں پر قدرت حاصل کرلیتا ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔

اسلام کا تربیت یا فتہ صرف خدا کی بندگی کے علاوہ کسی اور فکر میں نہیں ہوتا ہے۔ اسلام ایسے افراد کا خواں ہے جو خدا کے لئے جد وجہد کرتے رہیں حتیٰ خدا کے لئے مال جمع کریں۔ جس طرح حضرت علی علیہ السلام محنتمزدوری کر کے خرما کے درخت اگاتے تھے بنجر زمین اور کنویں کھود کر خدا کی راہ میں وقف فرماتے تھے۔

پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ دنیا کی محبت کو اپنے آپ میں کم کریں۔ البتہ عام انسان جس قدر مادی نعمتوں سے بہرہ مند ہوتا ہے فطری طور پر دنیا سے زیادہ لگائو پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ جب دنیوی نعمتیں افزائش پاتی ہیں، تو آہستہ آہستہ اس کا مزہ انسان کی طبیعت میں اثر کرنے لگتا ہے اور دنیا کی طرف اس کے تما یلات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس لحاظ سے جو لوگ مال و دولت کے پیچھے پڑتے ہیں، وہ سنگین ذمہ داری رکھتے ہیں اور قیامت کے دن ان کے مال کے ذرہ ذرہ کی پوچھ تا چھ ہوگی، خواہ اسے حلال طریقے سے حاصل کیا ہے یا حرام طریقے سے۔

عام انسانوں کے مقابلہ میں ، اگر اولیائے الہٰیخدا کی بیشمار نعمتوں سے بھی بہرہ مند ہوجائیں تب بھی وہ ذرہ برا بر دنیا سے محبت نہیں کرتے کیونکہ ان کا دل کہیں اور ہوتا ہے۔ لیکن اس قسم کے افراد بہت کم ہیں۔ پوری تاریخ میں حضرت سلیمان جیسے افراد بہت کم گزرے ہیں کہ جو اتنی ساری نعمتوں اور عظیم سلطنت کے باوجود جو کی روٹی کھائیں۔

پس، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گراں قیمتی فرمودات کے پیش نظر کیا بہتر ہے کہ انسان مال و دولت کی فکر میں نہ ہو بلکہ خد اکی عبادت و بندگی سے دنیا کی آلود گیوں کو پاک کرے، جیسے جناب ابوذر، جن کی توصیف میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''کان لی فیما مضیٰ أخ فی ﷲ وکان یُعظّمه فی عینی صغر الدنیا فی عینه..... ''(۱)

''ماضی میں راہ خدا میں میرا ایک بھائی تھا، کہ اس کی نظر میں دنیا حقیر اور چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ خود میری نظر میں بزرگ تھا۔

قناعت اور سادہ زندگی کی ستائش اور طمع و لالچ کی سرزنش:

حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍّ؛ اِنِّی قَدْ دَعَوْتَ ﷲ جَلَّ ثَنَاوُهُ اَنْ یَجْعَلَ رِزْقَ مَنْ یُحِبُّنی الْکِفٰافَ وَا َنْ یُعْطِیَ مَنْ یُبْغِضُنی کَثْرَةَ الْمَالِ وَ الْوَلَدِ''

اے ابوذر! میں نے خدائے متعال سے درخواست کی ہے کہ میرے دوستوں کا رزق ان کی ضرورت کے مطابق قرار دے اور ہمارے دشمنوں کے لئے مال و اولاد میں اضافہ کرے۔

جیسا کہ اشارہ ہوا، اکثر لوگوں کے لئے نعمتوں کی فراوانی دنیا سے زیادہ وابستگی کا سبب بنتی ہے۔ پس ان کو دنیا کی آلودگیوں سے بچانے کے لئے، بہتر ہے ان کے اختیار میں زیادہ وسائل و امکانات نہ ہوں اور صرف ضرورت کی حدتک دنیوی امکانات اور وسائل سے بہرہ مند ہوں۔ لہذا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمدردی کی بناپر اپنے دوستوں کے بارے میں خدا سے مانگتے ہیں کہ ان کو ضرورت اور احتیاج کی حدتک رزق عطا کر نہ اس حدتک کہ اسراف اور فضول خرچی کا شکار ہو جائیں۔ اس کے برعکس اپنے دشمنوں کے لئے خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں اضافہ کر۔ درحقیقت خدا کے دشمنوں کے سرمایہ میں اضافہ ہونا ایک الہٰی سنت ہے جو ''قانون استدراج'' سے ماخوذ ہے ہے، یعنی خدائے متعال کفار کو اس قدر دنیوی و مادی نعمتوں سے بہرہ مند کرتا ہے کہ وہ دنیا کے شیدائی اور مغرور بنیں اور دنیا میں غرق ہو کر ان کے کفر و گناہ میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہوکہ جس کے نتیجہ میں ان کا اخروی عذاب زیادہ اوردردناک ہوجائے۔ اس کے علا وہ اس کی وجہ سے ان کی دنیوی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

خدا اور اولیائے خدا کے دشمنوں کے لئے دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں ہے کہ دنیا کی سرمستیوں میں غرق ہونے کی وجہ ان کی توفیق سلب ہوجائے اور روز بہ روز ان کے کفر و انحراف میں اضافہ ہو۔ اس کے بارے میں خدائے متعال فرماتا ہے:

( وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذینَ کَفَرُوا أَنَّمٰا نُمْلی لَهُمْ خَیْر لِاَنْفُسِهِمْ اِنَّمٰا نُمْلی لَهُمْ لِیَزْدَادُوا اِثْماً وَلَهُمْ عَذَاب مُهین ) (آل عمران ١٧٨)

''اور خبر دار یہ کفار نہ سمجھیں کہ ہم جس قدر انھیں راحت و آرام دے رہے ہیں وہ ان کے حق میں کوئی بھلائی ہے۔ ہم تو صرف اس لئے دے رہے ہیں کہ جتنا گناہ کر سکیں کر لیں ورنہ ان کے لئے رسواکن عذاب ہے۔''

دوسری جگہ پر فرماتا ہے:

( فَلاَ تُعْجِبْکَ اَمْوَالُهُمْ وَلاَ اَوْلاَدُهُمْ اِنَّمٰا یُریدُ ﷲ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهٰا فِی الْحَیَٰوةِ الدُّنْیٰا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ کَافِرُونَ ) (توبہ٥٥)

''تمھیں ان کے اموال اور ان کی اولادیں حیرت میں نہ ڈالیں بس اللہ کا ارادہ یہی ہے کہ انہیں کے ذریعہ ان پر زندگانی دنیا میں عذاب کرے اور حالت کفر ہی میں ان کی جان نکلے۔

اس لئے کہ مومنین دنیا کی دولت و ثروت کو دیکھ کرحسرت نہ کریں دنیا پرستوں اور دولتمندوں سے دھوکہ نہ کھائیں۔ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے:

( لاٰ تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَابِهِ اَزْوَاجاً مِنْهُمْ وَلاٰ تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَا حَکَ لِلْمُؤْمِنِینَ ) (حجر٨٨)

''لہٰذا تم ان کفار میں سے بعض افراد کو ہم نے جو کچھ دنیا کی نعمتیں عطا کی ہیں، ان کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھو اور اس کے بارے میں ہر گز رنجیدہ بھی نہ ہو بس تم اپنے شانوں کو صاحبان ایمان کے لئے جھکادو۔''

کسی نے حضرت علی علیہ السلام سے خیر کا معنی پوچھا تو حضرت نے جواب میں فرمایا:

''لَیْسَ الْخَیْرُاَنْ یَکْثُرَ مٰالُکَ وَ وَلَدُکَ وَلٰکِنَ الْخَیْرَاَنْ یَکْثُرَ عِلْمُکَ وَاَنْ یَعْظُمَ حِلْمَکَ وَاَنْ تُبٰاهِیَ النَّاسَ لِعِبَادَةِ رَبِّکَ' فَاِنْ اَحْسَنْتَ حَمِدْتَ ﷲ وَاِنْ اَسَأْتَ اسْتَغْفَرْتَ ﷲ وَلاَ خَیْرَ فِی الدُّنْیٰا اِلَّا لِرَجُلَینِ: رَجْل اَذْنَبَ ذُنُوباً فَهُوَیَتَدارَکَهٰا باِلتَّوبَةِ' وَرَجُل یُسَارِعُ فی الْخَیْرَاتِ... ''(۲)

خیر و نیکی یہ نہیں ہے کہ تمہارے مال و اولاد میں اضافہ ہوجائے، لیکن نیکی یہ ہے تمھارا علم زیادہ ہوجائے اور تمہارے صبر و تحمل میں اضافہ ہو جائے۔ اور پرور دگار کی عبادت کر کے لوگوں پر ناز کرو (نہ دوسری چیزوں پر) پس اگر تم نے نیک برتائو کیا تو خدا کا شکر بجالائو اور بُرا برتائو کیا تو خدا سے توبہ کرو دنیا میں نیکی دواشخاص کی خصوصیت ہے:

١۔ وہ شخص جو گناہ کی توبہ سے تلافی کرتا ہے۔

٢۔ وہ شخص جو نیکی میں پیش قدمی کرتا ہے۔

دنیا سے دوری اور بے اعتنائی کی ستائش:

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍّ؛ طُوبٰی لِلزَّاهِدٰینَ فِی الدُّنْیٰا الرَّاغِبینَ فی الْاَخِرَةِ الَّذینَ اتَّخَذُوا اَرْضَ ﷲ بِسٰاطاً وَتُرَابَهٰا فِرَاشاً وَ مَائَهَا طیباً وَاتَّخَذُواکِتَابَ ﷲ شِعَاراً وَ دُعَائَ هُ دِثاراً یَقْرِضُونَ الدُّنْیٰا قَرضاً''

اے ابوذر! مبارک ہو دنیا میں زاہدوں کے لئے اور ان لوگوں کے لئے کہ جنہوں نے آخرت سے دل لگایا ہے، خدا کی زمین کو اپنے لئے بساط اور اس کی خاک کو فرش، اس کے پانی کو اپنے لئے عطر قرار دیا ہے۔ خدا کی کتاب کو اپنے اندرونی لباس کے مانند اپنے دل سے لگا یا ہے اور دعائوں کو اپنا اوپر والا لباس قرار دیا ہے اور اپنے آپ کو دنیا سے منقطع اور جدا کر لیا ہے ۔

مبارک ہو ان کو جو دنیا سے دل کو وابستہ نہیں رکھتے ہیں اور صرف آخرت کی فکر میں ہوتے ہیں، کیونکہ وہ دنیا کی حقیقت سے آگاہ ہیں اور جانتے ہیں حقیقی قدر و منزلت کہاں ہے۔ وہ زمین پر بیٹھنے کے لئے آمادہ ہیں اور خاک کو اپنا بستر بنانے کے لئے آمادہ ہیں ان کے لئے خاک اور گراں قیمت فرش میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہم دنیا کے شیدائی کبھی آمادہ نہیں ہیں کہ مٹی پر بیٹھیں چونکہ لوگ دیکھیں گے کہ ہم خاک پر بیٹھے ہیں اسلئے ہم شرماتے ہیں۔ ہمیں اپنے آپ میں یہ جذبہ و حوصلہ پیدا کرنا چاہئے کہ ہمارے لئے مٹی اورقیمتی فرش میں کوئی تفاوت نہیں ہے۔ اگر کسی دن فریضہ کا تقاضا یہ ہوجائے کہ انکساری کے ساتھ ایک فقیر کے پہلو میں زمین پر بیٹھیں اور اس کی حوصلہ افزائی کریں تو ہمیں شرم محسوس نہ ہو۔

زاہد لوگ اس فکر میں نہیں ہوتے کہ خوشبو کے لئے حتماً گراں قیمت عطر استعمال کریں، بلکہ زمین پر جاری پانی سے اپنے آپ کو پاک و صاف کر کے معطر کرتے ہیں۔ خد اکے ساتھ ان کا رابطہ اتنا مضبوط ہے کہ جب قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں تو احساس کرتے ہیں کہ خدائے متعال ان کے ساتھ گفتگو کرتا ہے یا جب دعا پڑھتے ہیں تو جیسے وہ خدائے متعال سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں ان کی طرف دیکھتے ہیں، لیکن ان کا دل کہیں اور ہوتا ہے، ان کا دنیا سیبہرہ مند ہونے کا طریقہیہ ہے کہ وہ دنیا کی طرف سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور دنیا کو بالائے طاق رکھ دیاہے۔ چونکہ دنیا عارضی اور فنا ہونے والی ہے اس لئے خدا وند متعال اور ان چیزوں کی طرف توجہ کرتے ہیں جو ابدی ہیں۔

مکرر طور پر کہا گیا ہے کہ یہ تربیتی بیانات اسلئے نہیں ہیں کہ خدا کی نعمتوں کو بالکل ہی چھوڑ دیں یا اس معنی میں نہیں ہے کہ جو خدا کی نعمتوں کے مالک ہیں وہ بُرے انسان ہیں بلکہ یہ بیانات اسلئے ہیں کہ دنیا سے ہمارے روابط و تعلقات کم ہوجائیں اور دیکھ لیں کہ ہمارا فریضہ کیا ہے۔ اگر فریضہ کا تقاضا یہ ہو کہ ہم اچھا لباس پہنیں، اچھے گھوڑے پر سوار ہوں وغیرہ، تو چونکہ فریضہ ہے اور خداکو پسند ہے، اسلئے ہمیں یہ کام انجام دینا چاہئے۔ لیکن اگر ہم من پسندی کی بناپر نعمتوں کے پیچھے پڑے رہے تو ہم نے ایک خطر ناک راہ میں قدم رکھا ہے اور خواہ مخواہ ایسے کاموں میں پھنس جائیں گے جن میں خدا کی مرضی نہیں ہوگی، کیونکہ دل کی خواہش خدا کی مرضی سے نہیں ملتی ہے۔ دل اور ہوائے نفس کا راستہ خدا کے راستہ سے جدا ہے اور یہ کبھی ایک دوسرے سے نزدیک نہیں ہوتے ہیں:

( اَفَرَأَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهُ هَوٰهُ وَاَضَّلَهُ ﷲ عَلٰی عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلٰی سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجْعَلَ عَلٰی بَصَرِهِ غِشٰاوَة ) (جاثیہ٢٣)

''کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش ہی کو خدا بنا لیا ہے اور خدانے اس حالت کو دیکھ کراسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی ہے اور اس کی آنکھ پر پر دے پڑے ہوئے ہیں''

پس، یہ بیانات دنیا سے دل لگی میں کمی واقع کرنے کے لئے ہیں۔ ہمیں خاک نشیں ہونے اور قیمتی فرش، ڈیکوریشن اور عیاشانہ زندگی سے پرہیز کی جو تشویق کی گئی ہے، اس معنی و مفہوم میں نہیں ہے کہ ہم خود کو مشکل اور زحمت سے دوچار کریں اور خدا کی نعمتوں سے بہرہ مندنہ ہوں۔ ایک صوفی مسلک شخص نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا: آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کیوں قیمتی لباس پہنا ہے، کیا آپ حضرت علی علیہ السلام کے فرزند نہیں ہیں؟ حضرت نے جواب میں فرمایا: حضرت علی کے زمانے میں لوگ فقر و تنگدستی میں زندگی بسر کرتے تھے، اس لحاظ سے شائستہ تھا امام عام مسلمانوں کی طرح زندگی بسر کریں، تاکہ لوگ اپنے فقر و ناداری سے دل تنگ نہ ہو جائیں۔ لیکن جب لوگ نعمتوں کی فراوانی میں قرار پائیں گے، تو صالح لوگ نعمتوں سے استفادہ کرنے میں دوسروں سے زیادہ سزاوار ہیں۔ جب شرائط اقتضا کریں، تو مسلمانوں کو صنعتی ترقی اور زندگی کے طریقۂ کار کو تبدیل کرنے کے لئے اقدام کرنا چاہئے تاکہ کافروں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی آبرو کا تحفظ کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ اگر مسلمان اور ترقی یافتہ معاشرے کی صورت کے پیش نظر آرٹ اور صنعت (ٹکنالوجی) کے شعبہ میں ترقی کرنے کی سعی و کوشش کرنا چاہئے تاکہکفار کے سامنے ہاتھ پھیلا نے کی ضرورت پیش نہ آئے اور مسلمانوں کی ذلت و خواری کا سبب نہ بنے ۔

اجتماعی پہلو سے اگر اسلامی معاشرہ حداقل پر قناعت کرے، صرف دستکاری کی صنعت سے استفادہ کرے، حمل و نقل کے قدیمی وسائل ہی پر اکتفا کرے، اپنے آپ کو صرف قدیمی اور ابتدائی اسلحوں کا پابند رکھے ، اس تفکر سے کہ اسلامی معاشرہ کو ایک سادہ اور قناعت پسند معاشرہ ہونا چاہئے، ایجاد و تخلیق کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے، تو یقینا اسلامی معاشرہ کفار کے زیرتسلط آجائے گا اور ایک کمزور و ذلیل اور محتاج معاشرے میں تبدیل ہوجائے گا، اور خدائے متعال ہر گز پسند نہیں کرتا ہے کہ الہٰی معاشرہ کفار کا اسیر و محتاج ہو، کیونکہ:

( وَلَنْ یَجْعَلَ ﷲ لِلْکَافِرینَ عَلَی الْمُؤْمِنینَ سَبیلاً ) (نسائ ١٤١)

خدائے متعال نے کافروں کے لئے مسلمانوں پر کوئی تسلط قرار نہیں دیا ہے۔

اور یہ خدا ہے جو عزت کو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مومنین سے مخصوص جانتا ہے:

( ( ...وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُوْمِنِینَ ) (منافقون٨)

''عزت، خدا، اس کے رسول اور مومنین سے مخصوص ہے۔''

اس کے پیش نظر کہ صنعتی پسماند گی کا لازمہ استعمار اور ثقافتی یورش ہے، اس لئے امت اسلامیہ کی ترقی کے لئے ایجادات و تخلیق کے میدانوں میں جستجو اور کوشش کرنا فریضہ الہٰی ہے اس سے کسی بھی بہانہ سے اجتناب نہیں کیا جاسکتا ہے۔ علوم و فنون کو سیکھنے کے سلسلے میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام نے بہت زیادہ تاکید کی ہے وہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس فرمان کی حقیقی گواہ ہے:

''اطلبوا العلم ولو بالصین '' ۳

علم حاصل کرو خواہ تمھیں چین جانا پڑے۔

یعنی ہر وہ علم کہ جس کی معاشرے کو ضرورت ہے اسے حاصل کرو۔

اس حدیث کے آخر پر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍ؛ حَرثُ الْآخِرةِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ وَ حَرْثُ الدَُّنْیٰا الْمَالُ وَالْبَنُونَ''

''اے ابوذر! آخرت کی کھیتی شائستہ کردار ہے اور دنیا کی کھیتی مال و فرزند ہیں۔''

(آخرت طلب کو عمل صالح کے پیچھے جانا چاہئے اور دنیا طلب کو مال ذخیرہ کرنے کے پیچھے جانا چاہئے)

____________________

١۔نہج البلاغہ ترجمہ فیض الاسلام کلام ٢٨١،ص١٢٢٥

۲۔نہج البلاغہ ترجمہ فیض الاسلام ،حکمت ٩٢،ص١٠٥٨

۳۔ بحار الانوار ،ج١ص١٧٧

سولھواں سبق

مال ومنصب سے لگائو کا خطرہ اور

قناعت وسادہ زندگی کی ستائش

*دنیا، مقصدہے یا وسیلہ

*ملامت کی گئی دنیا

*فقیر مومنینآسانی سے وارد بہشت ہوں گے

*قناعت اور سادہ زندگی کی ستائش اور طمع ولالچ کی سرزنش

*دنیا سے دوری اور اس کی بے اعتنائی کی ستائش

مال و منصب سے لگاؤ کا خطرہ اورقناعت و سادہ زندگی کی ستائش

''یَا اَبَاذَرٍ: حُبُ الْمَاِل وَ الشَّرَفِ اَذْهَبُ لِدینِ الرَّجُلِ مِنْ ذِئْبَینِ ضٰارِیَیْنِ فِی زَرْیبهِ الْغَنَمِ فَاَغَارٰا فیهَا حَتّٰی َصْبَحٰا فَمَاذٰا اَبْقَیٰا مِنْهٰا قٰالَ؛ قُلْتُ: یَا رَسُولَ ﷲ؛ اَلْخَائِفُونَ الْخَاضِعُونَ الْمُتَواضِعُونَ الذّٰکِرُونَ ﷲ کَثٰیراً اَهُمْ یَسْبِقُونَ النَّاسَ اِلَی الْجَنَّة؟

فَقَالَ: لاٰ وَلٰاٰکِنْ فُقَرَائُ الْمُسْلِمینَ فَاِنَّهُمْ یَتَخَطَّوْنَ رِقٰابَ النَّاسِ' فَیَقُولُ لَهُمْ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ کَمٰا اَنْتُمْ حَتیّٰ تُحَاسَبُوا' فَیَقُولُونَ بِمَ نُحَاسَبُ فَوَﷲ مٰا مَلَکَنٰا فَنَجُورَ وَ نَعْدِلَ وَلاٰ اَفیضَ عَلَیْنٰا فَنَقْبِضَ وَنَبْسُطَ وَلٰکِنَّا عَبَدْنَا رَبَّنَا حَتّٰی دَعٰانٰا فَاَجَبْنَا

یَا اَبَاذَرٍ؛ اِنَّ الدُّنْیٰا مَشْغِلَة لِلْقُلُوبِ وَالْاَبْدَانِ وَاِنَّ ﷲ تَبَارَکَ وَ تَعٰالیٰ سٰائِلُنَا عَمَّا نَعَّمَنَا فی حَلاَلِهِ فَکَیْفَ بِمٰا نَعَّمَنٰا فی حَرٰامِه

یَا اَبَاذَرٍّ؛ اِنِّی قَدْ دَعَوْتُ ﷲ جَلَّ ثَنَاوُهُ اَنْ یَجْعَلَ رِزْقَ مَنْ یُحِبُّنی الْکَفٰافَ وَ َنْ یُعْطِیَ مَنْ یُبْغِضُنی کَثْرَةَ الْمَالِ وَ الْوَلَدِ

یَا اَبَاذَرٍّ؛ طُوبٰی لِلزَّاهِدٰینَ فِی الدُّنْیٰا الرَّاغِبینَ فی الْآخِرَةِ الَّذینَ اتَّخَذُوا اَرْضَ ﷲ بِسٰاطاً وَتُرَابَهٰا فِرَاشاً وَ مَائَهَا طیباً وَاتَّخَذُواکِتَابَ ﷲ شِعَاراً وَ دُعَائَ هُ دِثاراً یَقْرِضُونَ الدُّنْیٰا قَرضاً

یَا اَبَاذَرٍ؛ حَرثُ الْآخِرةِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ وَ حَرْثُ الدُّنْیٰا الْمَالُ وَالْبَنُونَ''

دنیا مقصد ہے یا وسیلہ:

قرآن مجید کے نقطہ نظر کے مطابق اگر دنیا نہ ہوتی تو آخرت بھی نہ ہوتی۔ ہم اپنی آخرت کی زندگی کو اپنے اختیاری اعمال و رفتار کے ذریعہ دنیا میں بناتے ہیں، چنانچہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ پس اگر دنیا نہ ہوتی تو کوئی بہشت میں داخل نہیں ہوتا، کیونکہ بہشت کی نعمتیں دنیا کے اعمال کی جزا و پاداش ہیں۔ کرامات، فضائل اور اخروی مقامات انہی اعمال اور تلاش و کوششوں کا نتیجہ ہیں جنہیں انسان دنیا میں انجام دیتا ہے، پس دنیا داری کی کافی قدر و منزلت ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظریہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ، جب دنیا اس قدر اہمیت اور قدر و منزلت کی حامل ہے تو، کیوں روایتوں میں اس کی اتنی مذمت اور سرزنش کی گئی ہے؟

اس سوال کے جواب میں کہنا چاہیے: دنیا کی زندگی، اس لحاظ سے کہ خدائے حکیم کی مخلوق ہے، کوئی عیب نہیں رکھتی ہے۔ بنیادی طور پر دنیوی زندگی کا نظام بہترین نظام اور انتہائی استحکام و جمال کا حامل ہے۔ اس بنا پر اصلی و اساسی مشکل کا سراغ لگانے کے لئے کہیں اور جستجو کرنا چاہیے۔ آیات و روایات میں تھوڑے سے غور وخوض کے بعد ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اساسی مشکل اور عیب انسان کے دنیا سے رابطہ کی کیفیت اور برتاؤ کے طریقہ میں ہے۔ کیونکہ یہ انسان کا دنیا سے برتائو اور رابطہ کی کیفیت ہے جو اس کے مستقبل کے لئے اسے مفید یا مضر، بااہمیت یا بے اہمیت، اچھا یا برا بنا سکتی ہے۔ انسان کے برتائو، رفتار، زندگی اور انسان کے آئندہ کے سلسلہ میں سواء چند موارد کے کہ جو جبری تزاحم کے نتیجہ میں بعض نقائص و برائیوں کے وجود میں آنے کا سبب ہے دنیا پر کو نسا اعتراض کیا جاسکتا ہے؟ باوجود اس کے کہ ان نقائص و برائیوں کا دنیا کی خیر و برکات اور فراواں کمالات کا مواز نہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

لہذا، واضح ہوگیا کہ سرزنش اور اعتراض دنیا کے بارے میں انسان کا عقیدہ اوراس سے رابطہ کے طریقہ میں ہے۔ وہ رابطہ جو دنیا کواصالت کا درجہ دیتے ہیں اور دنیا کی نسبت مادی نقطہ نظر کے پیش نظر پیدا ہوتا ہے، ان لوگوں کا اعتقاد ہے جو گمان کرتے ہیں کہ دنیا کی زندگی کے علاوہ کسی دوسری زندگی کا وجود نہیں ہے، لیکن حقیقت میں یہ گمان باطل ہے اور اس نقطہ نگاہ سے دنیا کو دیکھنا ایک ایسی خطا ہے جس کے نتیجہ میں انسان کے اعمال و رفتار میں بیشمار خطائیں اور غلطیاںوجود میں آسکتی ہیں۔

لہذا دنیا کے بارے میں ہمیں اپنے عقیدہ و نظریہ کی تصحیح کرنا چاہیے اور جاننا چاہیے کہ انسان کی زندگی دنیا کی زندگی تک محدود اور منحصر نہیں ہے بلکہ اس کے ماورا اس کی ایک ابدی زندگی بھی موجود ہے۔ جب انسان دنیا کو ایک گزر گاہ قراردے گا، نہ اصلی اور آخری مقصد، تو فطری بات ہے کہ اسے زندگی کے وسائل اور مال و ثروت جو کمال تک پہنچنے کے لئے ضروری ہیںانھیں اپنے لئے فراہم کرنا چاہیے۔ اس صورت میں غذا، لباس، گھر، گاڑی، پیسے، مال اور ریاست یہ ساری چیزیں مقدمہ اور وسیلہ شمار ہوں گی، نہ اصلی مقصد لیکن اگر انہیں اصلی ہدف و مقصد قرار دیا جائے نہ وسیلہ و مقدمہ تو وہ انسان کے لئے کمال اور آخری مقصد تک پہنچنے میں رکاوٹ بنیں گے، اسی لئے ان کی مذمت اور سرزنش کی گئی ہے۔

ملامت کی گئی دنیا

مذکورہ بیانات کے پیش نظر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مال وثروت، مقام و منصب سے دلچسپی اور لگائو کی سرزنش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍ: حُبُّ الْمَاِل وَ الشَّرَفِ اَذْهَبُ لِدینِ الرَّجُلِ مِنْ ذِئْبَینِ ضٰارِیَیْنِ فِی زَرْیبةِ الْغَنَمِ فَاَغَارٰا فیهَا حَتّٰی َصْبَحٰا فَمَاذٰا اَبْقَیٰا مِنْهٰا''

اے ابوذر! مال وثروت ،جاہ و منصب کی محبت، انسان کے دین پر، بھیڑوں کے ایک ریوڑ پر دو خونخوار بھیڑیوں کے حملہ سے زیادہ صدمہ پہنچاتے ہیں، جو رات کے وقت حملہ کرتے ہیں معلوم نہیں کل تک کتنے بھیڑ زندہ بچیں گے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے اور امت کو دنیا پرستی اور جاہ و مقام کی وابستگی کے خطرہ سے ڈرانے کے لئے، دنیا پرستی جاہ طلبی کو دو ایسے خونخوار بھیڑیئے سے تشبیہ دیتے ہیں جو ایک محدود جگہ پر موجودہ بھیڑوں کے ریوڑ پر حملہ آور ہوتے ہیں اور رات بھر صبح ہونے تک چیر پھاڑ کرتے رہتے ہیں۔ فطری بات ہے جب ایک بھیڑیا ایک ریوڑ پر حملہ کر تا ہے تو ایک بھیڑ پرقناعت نہیں کرتا ہے بلکہ سبھی کو ٹکڑے ٹکڑیکر دیتا ہے اور اس کے بعد ان کے کھانے میں مشغول ہوجاتا ہے، اب اگر دو خونخوار بھیڑیے ایک ریوڑ پر حملہ کریں توکیا کسی بھیڑ کو زندہ باقی رکھیں گے؟

دنیا پرستی اور جب ریاست کا انسان کے دین اور اخلاقی اقدار پر خطرہ دو خونخوار بھیڑیوں کے بھیڑوں پر حملہ کرنے سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ دنیا اور ریاست کی محبت انسان کی انسانی اور معنوی ہویت اور اس کے دین کو نابود کر کے رکھ دیتے ہیں، یہ وہ چیزیں ہیں جن سے انسان کی حقیقی شخصیت اور حیات وابستہ ہے۔

(حدیث کے اس حصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیانات کا مضمون مستفیض بلکہ متواتر ہے اور مختلف عبارتوں میں نقل ہوا ہے۔ حتی اصول کافی میں مال و ریاست کی محبت کی مذمت میں ایک الگ باب مخصوص کیا گیا)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیان مبالغہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انتباہ کی صورت میں مسلمانوں کے لئے بیان کی گئی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے لئے تاریخی تجربہ بھی تائید کرتا ہے۔ صدر اسلام سے آج تک جتنے بھی ظلم اسلام کے خلاف ہوئے ہیں ان کی جڑ مال و ریاست پرستی تھی، کیونکہ جو انسان مال دنیاا ور ریاست کا شیدا ئی ہو دین کے لئے اس کا ضرر ہر دشمن سے زیادہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خلافت کو اس کے مرکز سے ہٹانا اور اسے غضب کرنا، جابر اور باطل حکومتوں کا استمرار اور تمام وحشیانہ حملہ جو اسلام کے پیکر پر واردہوئے ہیں ان کا سرچشمہ مال دنیا اور اقتدار کی محبت تھی، لہذا دین کے لئے مال وا قتدار کی محبت کے خطرات کے پیش نظر ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے اور جب تک ہم جو ان ہیں اور ابھی دنیا پرستی اور اقتدار پرستی نے ہم میں اثر پیدا نہیں کیا ہے، ان دونوں کے ساتھ مبارزہ کریں اور اجازت نہ دیں کہ وہ ہمارے دلوں میں اپنی جڑیں مضبوط کر لیں ۔ اگر ہم کسی مال کو حاصل کریں ، تو ضرورت کی حد تک اس سے استفادہ کریں اور باقی مال کو حاجتمندوں اور محتاج رشتہ داروں و دوستوں میں تقسیم کردیں۔ کوشش کریں کہ جس مال سے محبت رکھتے ہیں اسے دوسروں کو بخش دیں،کیونکہ قرآن مجید فرماتا ہے:

( لَنْ تَنَالُو الْبِرَّحَتیّٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ) (آل عمران٩٢)

''تم ہرگز نیکیوں کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے ہو جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے راہ خدا میں انفاق نہ کروگے۔''

(بیشک انسان جن چیزوں سے محبت کرتا ہے وہ محبت اور قلبی لگائو ( راہ خدا میں ) انفاق کرنے سے مانع ہوتا ہے )

جو کچھ ہم نے بیان کیا، اس کا مشابہ اقتدار اور ریاست پرستی کے ساتھ مبارزہ میں بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی انسان کسی اقتدار پر فائز ہو تو اسے اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس میں دوسروں پر برتری، فرمانروائی اور حکمرانی کا جذبہ پیدا نہ ہو بلکہ اسے گمنا م صورت میں خدمت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور شہرت، لوگوں میں محبوبیت اور مقام کا متمنی نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ اقتدار پرستی کا خطرہ ان کے لئے نہیں ہے جو کسی مقام پر نہیں پہنچے ہیں یہ ان لوگوں سے مربوط ہے جن کے لئے جاہ و مقام کے مواقع فراہم ہوئے ہیں اور اپنے دین کو زبردست خطرہ میں قرار دے چکے ہیں۔

فقیر مومنین، آسانی سے وارد بہشت ہوں گے:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مال و اقتدار پر ستی کے خطرہ کو گوش گزار فرمایا تو جناب ابوذر نے سوال کیا:

''یا رسول ﷲ الخائفون الخاضعون المتواضعون الذاکرون ﷲ کثیراً أهم یسبقون الناس الی الجنة؟''

اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! کیا خداترس، فروتن، خاضع اور ذکر خدا بجالا نے والے لوگ بہشت میں جانے کے سلسلہ میں دوسروں پر سبقت حاصل کریں گے؟

جناب ابوذر، یہ سمجھنے کے بعد کہ، مال و اقتدار سے محبت رکھنے والے ہلاک ہوجائیں گے، سوچتے ہیں کہ خدا سے ڈرنے والے اور متواضع لوگ بہشت میں پہلے داخل ہونے والے ہوں گے، اس لئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کرتے ہیں اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''ولکن فقراء المسلمین فانهم یتخطّون رقاب الناس فیقول لهم خزنة الجنة کماأنتم حتی تحاسبوا' فیقولون بم نحاسب فوﷲ ماملکنا فنجورُدونعدل ولاافیض علینا فنقبض ونبسط ولکنّا عبدناربّنا حتی دعانا فاجبنا''

''مفلس اور نادار مسلمان لوگوں کے شانوں پر قدم رکھتے ہوئے بہشت کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ اس وقت بہشت کے خزانہ دار کہیں گے: اپنی جگہ پر ٹھہرو تاکہ تمہارا حساب لیا جائے۔ وہ جواب دیں گے: ہم سے کیوں حساب لیا جائے گا، خدا کی قسم ہمارے ہاتھ میں کوئی حکومت نہیں تھی تاکہ بخشش کر کے انصاف کو جاری کرتے۔ ہمیں اپنی ضرورت سے زیادہ مال و ثروت نہیں دی گئی تھی کہ کسی کو بخشتے یا بخل کرتے۔ بلکہ ہم نے خدائے متعال کی عبادت کی ہے اور آخر میں حق کی دعوت کو لبیک کہا ہے۔''

تعجب کی بات ہے کہ اس کے باوجود کہ معارف دینی میں خضوع، خشوع اور ذکر خدا بجالا نے والے اقدار کی تعریف کی گئی ہے، پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاضع، متواضع اور ذکر خدا بجالا نے والے افراد کو سب سے پہلے بہشت میں داخل ہونے والوں کی حیثیت سے تعارف نہیں فرماتے بلکہ فرماتے ہیں: بہشت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے مفلس و ناداری کے عالم میں اپنے دین کی حفاظت کی ہو اور کوشش، جہاد، مبارزہ یا علم حاصل کرنے سے پشیمان نہ ہوئے ہوں۔ وہ لوگوں کے شانوں پر قدم رکھ کر بہشت کی طرف روانہ ہوجائیں گے، گویا وہ پرواز کرنا چاہتے ہیں۔ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ: ٹھہرو تاکہتمھارا حساب لیا جائے، تو جواب میں کہتے ہیں: ہمارے ہاتھ میں نہ کوئی حکومت تھی اور نہ مشغلولیت تھی تاکہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرتے یا انصاف اور عدالت کو قائم کرتے ہمارے پاس پیسے نہیں تھے کہ انفاق کرتے یا بخل کرتے۔ جوکام ہم نے انجام دیا وہ خدا کی بندگی اور عبادت تھی جس میں ہم نے کو تا ہی نہیں کی۔

جی ہاں !ان کے پاس دولت نہ تھی کہ اسراف، فضول خرچی اور دوسروں کی مدد کرنے میں کوتاہی سے کام لیتے۔ اس لحاظ سے ان کے اعمال کے محاسبہ میں طولانی وقت صرف نہیں ہوگا، چونکہ اگر ان کے پاس دولت ہوتی اور خدا کی راہ میں خرچ کرتے تو بھی ان کے محاسبہ میں طولانی وقت صرف ہوتا۔

انسان کے دین کو درپیش دنیا اور مال و اقتدار پرستی کے خطرہ کی مذمت کے پیش نظر، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بیان ان لوگوں کے لئے تسلّی بخش ہے جن کے پاس مال دولت نہیں ہے یا تعلیم حاصل کرنے یا دشمن سے جہاد اور مبارزہ جیسے فرائض انجام دینے کی وجہ سے دنیا سے بہرہ مند نہیں کر سکتے ہیں۔ سچ ہے کہ اگر انسان کے پاس مال و دولت ہو تو وہ اسے راہ خدا میں انفاق کر ے نیز دوسروں کی مدد اور اسلام کی خدمت انجام دے، لیکن جو علم حاصل کرنے یا محاذ جنگ پر حاضر ہونے کی وجہ سے مال و دولت جمع کرنے اور اسے راہ خدا میں خرچ کرنے سے محروم ہے، وہ ایک ایسے مقام و منزلت پر فائز ہوتا ہے کہ جو مقام مال و دولت کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے والوں سے بلند تر ہے، چونکہ مالدار اپنے مال کو خرچ کرتا ہے لیکن طالب علم اور محاذ جنگ پر جانے والا مجاہد، اپنی ہستی اور آرام و آسائش کو خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور جن اقدار کو ایسا شخص حاصل کرتا ہے وہ دوسروں کی حاصل کر دہ چیزوں سے بلند تر ہے۔

جب انسان جنگ کے خاتمہ پر خالی ہاتھ محاذ جنگ سے واپس آتا ہے اور دیکھتا ہے جنہوں نے جنگ و جہاد میں شرکت نہیں کی تھی انھوں نے اپنے لئے بہت ساری دولت جمع کرلی ہے، بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کروالی ہیں،ا خرکار ان کے لئے عیش و آرام کے تمام وسائل فراہم ہو گئے ہیں۔ ممکن ہے اسے شیطان اس طرح کے وسوسہ میں ڈالے کہ تم محاذجنگ پر گئے اور مال دنیا سے محروم ہوگئے، دیکھو دوسرے کہاں سے پہنچ گئے؟ تم محاذ جنگ پر گئے اور دشمن سے جنگ کی مجروح یا معلول ہو گئے، اب تمھاری طرف کوئی توجہ نہیں دیتا تمھاری کوئی اہمیت نہیں رہی اور دوسرے بڑی بڑی پوسٹوں اور عہدوں پر فائز ہو گئے ہیں! ممکن ہے یہ شیطانی وسوسے ایسے افراد کے دل پراثر کریں جن کا ایمان کمزور ہے اور ان کے لئے پشیمانی کا سبب بنے۔

اسی طرح ممکن ہے جو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے حوزہ علمیہ سے وابستہ ہوئے ہیں وہ وسوسہ کریں کہ کیا غلطی کی! دوسروںنے یونیورسٹیوںمیں جا کر فلاں ڈگری حاصل کر لی اور، فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک مناسب نوکری میں بھی لگ گئے اس کی برکت سے ثروتمند و مالدار بھی ہو گئے، لیکن میں بیچارہ دینی طالب علم تیس سال حوزہ علمیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دال روٹی کے لئے ترس رہا ہوں! یہ وسوسہ ہمیشہ ان مومنوں کے لئے پیش آتا ہے جو مال دنیا سے محروم ہیں۔ اس لحاظ سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے کلام سے انہیںتسکین دے رہے ہیں کہ اگر چہ تم لوگ مال جمع کرنے والے قافلہ سے پیچھے رہ گئے ہو لیکن تم ایسے مقام و منزلت پر پہنچے ہو کہ دوسرے اس سے محروم ہیں اور وہ قیامت کے دن تمہارے مقام و منزلت کو دیکھ کر حسرت و افسوس کریں گے۔

حدیث کو جاری رکھتے ہوئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍ؛ اِنَّ الدُّنْیٰا مَشْغَلَة لِلْقُلُوبِ وَالْاَبْدَانِ وَاِنَّ ﷲ تَبَارَکَ وَ تَعٰالیٰ سٰائِلُنَا عَمَّا نَعَّمَنَا فی حَلاَلِهِ فَکَیْفَ بِمٰا نَعَّمَنٰا فی حَرٰامِه''

اے ابوذر! دنیا، لوگوں کی جان و تن کو اپنی طرف مشغول کرتی ہے۔ خدائے متعال ہم سے ان نعمتوں کا حساب وکتاب لے گا جو ہمیں حلال راہ سے عنایت کی گئی ہیں چہ جائے کہ حرام طریقے سے وہ نعمتیں ہمیں ملی ہوں!

بیشک مال دنیا حاصل کرنے کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ جو لوگ کسب معاش میں مشغول ہیں اس حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں کہ بعض اوقات انسان کی مشکلات اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ اس کے لئے راتوں کی نیند بھی حرام ہوجاتی ہے، ہمیشہ چک، ضمانت، خرید و فروش، ارزانی، گرانی، قرض، ٹیکس اور اس قسم کے دوسرے مسائل کی فکر میں الجھتا رہتا ہے۔ بہر حال جو بھی مال جمع کرنے کے پیچھے ہے اسے چاہئے زحمت و مشقت برداشت کرے، خواہ مال دنیا کو حلال راہ سے حاصل کرنا چاہتا ہے یا حرام راہ سے، کیونکہ مال و دولت آسانی کے ساتھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔ فطری بات ہے کہ ایسا شخص عبادت اور فکر کرنے کے لئے ایک لمحہ کی بھی فرصت پیدا نہیں کرتا۔اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ قیامت اور خدا سے مناجات کرنے کے لئیوقت نکالے۔

جو دل سے دنیا پر ست ہو، وہ عبادت کو بھی دنیا کے لئے انجام دیتا ہے، صبح سے شام تک مال و دولت جمع کرنے کے لئے آرام نہیں کرتا۔ اگر رات کو نمازِ شب کے لئے بھی بیدار ہوتا ہے تو اس کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ اس کے رزق میں اضافہ ہو اور اس کی دولت زیادہ ہوجائے۔ اس سے بدتر رسوائی کیا ہوسکتی ہے کہ انسان ذکر و عبادت خدا کو بھی اپنے شکم اور مال دنیا کے لئے قربان کرے، جس عبادت کو اسے بہشت، اس سے بالاتر رضوان الہٰی کے لئے وسیلہ قرار دینا چاہئے تھا اسے روٹی اچھے گھر اور اعلیٰ قسم کی گاڑی کے لئے وسیلہ قرار دیتا ہے!!

اس کے برعکس، جو دل دنیا کے بندھنوں سے آزاد ہوتا ہے، اس کے لئے دنیا کی چیزوں کا ہونا یا نہ ہونا یکساں ہے، اس کے لئے خاکستر اور سونے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگرچہ ہم ایسے افراد کو نہیں جانتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے افراد موجود ہیں۔ ایسے تاجربھی ہیں جن کے لئے کوڑے کرکٹ سے بھری بالٹی اور نوٹوں کے انبار کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، اور ان کے پاس صرف اس چیز کی قیمت ہے جو خدا کی راہ میں خرچ کی جائے شاید اگر انسان نہ دیکھے تو یقین نہیں کرے گا، لیکن چونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسلئے یقین کرتا ہوں۔

میں تقریباً چالیس سال قبل تہر ان کے بازار میں ایک سماور خرید نے کے لئے ایک تاجر کے پاس گیا تاکہ سماور خرید نے کے بعد فورا قم واپس ہوجائوں۔ لیکن اس شخص کی معنوی کشش نے مجھے اتنا فریفتہ کیا کہ غروب تک میں اس کے پاس رہا اور وہ مجھے نصیحتیں کرتا رہا۔ نصیحتوں کے دوران اس کی سفید داڑھی پر آنسوجاری تھے، اس نے مجھ سے پوچھا: پہلی کتاب جو حوزہ میں پڑھتے ہو اس کا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: ''شرح امثلہ'' اس نے کہا: اس کی ابتداء میں کیا لکھا ہے؟ میں نے کہا:''اول العلم معرفة الجبار'' اس نے کہا: کیا تم نے یاد کیا کہ علم کا آغاز خدا کی معرفت سے ہوتا ہے؟ وہ باتیں کر رہا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسؤں کا سیلاب رواں تھا، اس دوران اس کاشاگرد بیچنے میں مصروف تھا اور وہ بے اعتنائی کے عالم میں نوٹوں کو لے کر صندوق میں پھینکے جا رہا تھا۔

ظہر کی نماز کا وقت آیا، تو وہ اپنی اشکبار آنکھوں کے ساتھ اٹھ کر مسجد کی طرف روانہ ہو گیا نماز پڑھنے اور دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد میں پھر سے اس کی دوکان پر حاضر ہوا اور مغرب تک اس کے پاس رہ کر اس کی نصیحتوں کو سنتا رہا۔

جی ہاں! اگر انسان میں حب دنیا نہ ہو تو پیسوں کے انبار میں رہنے کے باوجود بھی اس کے نزدیک پیسوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی اور اس کا دل کہیں اور ہوتا ہے۔ لیکن اگر انسان میں حب دنیا ہو تو، نماز پڑھتے ہوئے بھی اس کے حواس کہیں اور ہوتے ہیں اور نماز میں بھی دنیوی مقاصد پیش نظر رکھتا ہے۔ جب انسان کے دل میں مقام و منزلت کی محبت ہوتی ہے تو ایسی حالت میں اگر وہ عرفان بھی پڑھ لے اور عرفانی سیروسلوک سے بھی آشنا ہوجائے، تب وہ اس فکر میں ہوتا ہے کہ ایسی جگہ پر پہنچائے کہ جہاں کوئی اور نہیں پہنچا ہے، ہر صورت میں دوسروں سے برتری چاہتا ہے۔ حقیقت میں وہ خدا کی بندگی کی فکرمیں نہیں ہوتا ہے۔ وہ ہندوستانی جو گیوں کی طرح ریاضت و کوشش و جستجو سے بعض کاموں پر قدرت حاصل کرلیتا ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔

اسلام کا تربیت یا فتہ صرف خدا کی بندگی کے علاوہ کسی اور فکر میں نہیں ہوتا ہے۔ اسلام ایسے افراد کا خواں ہے جو خدا کے لئے جد وجہد کرتے رہیں حتیٰ خدا کے لئے مال جمع کریں۔ جس طرح حضرت علی علیہ السلام محنتمزدوری کر کے خرما کے درخت اگاتے تھے بنجر زمین اور کنویں کھود کر خدا کی راہ میں وقف فرماتے تھے۔

پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ دنیا کی محبت کو اپنے آپ میں کم کریں۔ البتہ عام انسان جس قدر مادی نعمتوں سے بہرہ مند ہوتا ہے فطری طور پر دنیا سے زیادہ لگائو پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ جب دنیوی نعمتیں افزائش پاتی ہیں، تو آہستہ آہستہ اس کا مزہ انسان کی طبیعت میں اثر کرنے لگتا ہے اور دنیا کی طرف اس کے تما یلات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس لحاظ سے جو لوگ مال و دولت کے پیچھے پڑتے ہیں، وہ سنگین ذمہ داری رکھتے ہیں اور قیامت کے دن ان کے مال کے ذرہ ذرہ کی پوچھ تا چھ ہوگی، خواہ اسے حلال طریقے سے حاصل کیا ہے یا حرام طریقے سے۔

عام انسانوں کے مقابلہ میں ، اگر اولیائے الہٰیخدا کی بیشمار نعمتوں سے بھی بہرہ مند ہوجائیں تب بھی وہ ذرہ برا بر دنیا سے محبت نہیں کرتے کیونکہ ان کا دل کہیں اور ہوتا ہے۔ لیکن اس قسم کے افراد بہت کم ہیں۔ پوری تاریخ میں حضرت سلیمان جیسے افراد بہت کم گزرے ہیں کہ جو اتنی ساری نعمتوں اور عظیم سلطنت کے باوجود جو کی روٹی کھائیں۔

پس، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گراں قیمتی فرمودات کے پیش نظر کیا بہتر ہے کہ انسان مال و دولت کی فکر میں نہ ہو بلکہ خد اکی عبادت و بندگی سے دنیا کی آلود گیوں کو پاک کرے، جیسے جناب ابوذر، جن کی توصیف میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''کان لی فیما مضیٰ أخ فی ﷲ وکان یُعظّمه فی عینی صغر الدنیا فی عینه..... ''(۱)

''ماضی میں راہ خدا میں میرا ایک بھائی تھا، کہ اس کی نظر میں دنیا حقیر اور چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ خود میری نظر میں بزرگ تھا۔

قناعت اور سادہ زندگی کی ستائش اور طمع و لالچ کی سرزنش:

حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍّ؛ اِنِّی قَدْ دَعَوْتَ ﷲ جَلَّ ثَنَاوُهُ اَنْ یَجْعَلَ رِزْقَ مَنْ یُحِبُّنی الْکِفٰافَ وَا َنْ یُعْطِیَ مَنْ یُبْغِضُنی کَثْرَةَ الْمَالِ وَ الْوَلَدِ''

اے ابوذر! میں نے خدائے متعال سے درخواست کی ہے کہ میرے دوستوں کا رزق ان کی ضرورت کے مطابق قرار دے اور ہمارے دشمنوں کے لئے مال و اولاد میں اضافہ کرے۔

جیسا کہ اشارہ ہوا، اکثر لوگوں کے لئے نعمتوں کی فراوانی دنیا سے زیادہ وابستگی کا سبب بنتی ہے۔ پس ان کو دنیا کی آلودگیوں سے بچانے کے لئے، بہتر ہے ان کے اختیار میں زیادہ وسائل و امکانات نہ ہوں اور صرف ضرورت کی حدتک دنیوی امکانات اور وسائل سے بہرہ مند ہوں۔ لہذا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمدردی کی بناپر اپنے دوستوں کے بارے میں خدا سے مانگتے ہیں کہ ان کو ضرورت اور احتیاج کی حدتک رزق عطا کر نہ اس حدتک کہ اسراف اور فضول خرچی کا شکار ہو جائیں۔ اس کے برعکس اپنے دشمنوں کے لئے خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں اضافہ کر۔ درحقیقت خدا کے دشمنوں کے سرمایہ میں اضافہ ہونا ایک الہٰی سنت ہے جو ''قانون استدراج'' سے ماخوذ ہے ہے، یعنی خدائے متعال کفار کو اس قدر دنیوی و مادی نعمتوں سے بہرہ مند کرتا ہے کہ وہ دنیا کے شیدائی اور مغرور بنیں اور دنیا میں غرق ہو کر ان کے کفر و گناہ میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہوکہ جس کے نتیجہ میں ان کا اخروی عذاب زیادہ اوردردناک ہوجائے۔ اس کے علا وہ اس کی وجہ سے ان کی دنیوی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

خدا اور اولیائے خدا کے دشمنوں کے لئے دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں ہے کہ دنیا کی سرمستیوں میں غرق ہونے کی وجہ ان کی توفیق سلب ہوجائے اور روز بہ روز ان کے کفر و انحراف میں اضافہ ہو۔ اس کے بارے میں خدائے متعال فرماتا ہے:

( وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذینَ کَفَرُوا أَنَّمٰا نُمْلی لَهُمْ خَیْر لِاَنْفُسِهِمْ اِنَّمٰا نُمْلی لَهُمْ لِیَزْدَادُوا اِثْماً وَلَهُمْ عَذَاب مُهین ) (آل عمران ١٧٨)

''اور خبر دار یہ کفار نہ سمجھیں کہ ہم جس قدر انھیں راحت و آرام دے رہے ہیں وہ ان کے حق میں کوئی بھلائی ہے۔ ہم تو صرف اس لئے دے رہے ہیں کہ جتنا گناہ کر سکیں کر لیں ورنہ ان کے لئے رسواکن عذاب ہے۔''

دوسری جگہ پر فرماتا ہے:

( فَلاَ تُعْجِبْکَ اَمْوَالُهُمْ وَلاَ اَوْلاَدُهُمْ اِنَّمٰا یُریدُ ﷲ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهٰا فِی الْحَیَٰوةِ الدُّنْیٰا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ کَافِرُونَ ) (توبہ٥٥)

''تمھیں ان کے اموال اور ان کی اولادیں حیرت میں نہ ڈالیں بس اللہ کا ارادہ یہی ہے کہ انہیں کے ذریعہ ان پر زندگانی دنیا میں عذاب کرے اور حالت کفر ہی میں ان کی جان نکلے۔

اس لئے کہ مومنین دنیا کی دولت و ثروت کو دیکھ کرحسرت نہ کریں دنیا پرستوں اور دولتمندوں سے دھوکہ نہ کھائیں۔ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے:

( لاٰ تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَابِهِ اَزْوَاجاً مِنْهُمْ وَلاٰ تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَا حَکَ لِلْمُؤْمِنِینَ ) (حجر٨٨)

''لہٰذا تم ان کفار میں سے بعض افراد کو ہم نے جو کچھ دنیا کی نعمتیں عطا کی ہیں، ان کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھو اور اس کے بارے میں ہر گز رنجیدہ بھی نہ ہو بس تم اپنے شانوں کو صاحبان ایمان کے لئے جھکادو۔''

کسی نے حضرت علی علیہ السلام سے خیر کا معنی پوچھا تو حضرت نے جواب میں فرمایا:

''لَیْسَ الْخَیْرُاَنْ یَکْثُرَ مٰالُکَ وَ وَلَدُکَ وَلٰکِنَ الْخَیْرَاَنْ یَکْثُرَ عِلْمُکَ وَاَنْ یَعْظُمَ حِلْمَکَ وَاَنْ تُبٰاهِیَ النَّاسَ لِعِبَادَةِ رَبِّکَ' فَاِنْ اَحْسَنْتَ حَمِدْتَ ﷲ وَاِنْ اَسَأْتَ اسْتَغْفَرْتَ ﷲ وَلاَ خَیْرَ فِی الدُّنْیٰا اِلَّا لِرَجُلَینِ: رَجْل اَذْنَبَ ذُنُوباً فَهُوَیَتَدارَکَهٰا باِلتَّوبَةِ' وَرَجُل یُسَارِعُ فی الْخَیْرَاتِ... ''(۲)

خیر و نیکی یہ نہیں ہے کہ تمہارے مال و اولاد میں اضافہ ہوجائے، لیکن نیکی یہ ہے تمھارا علم زیادہ ہوجائے اور تمہارے صبر و تحمل میں اضافہ ہو جائے۔ اور پرور دگار کی عبادت کر کے لوگوں پر ناز کرو (نہ دوسری چیزوں پر) پس اگر تم نے نیک برتائو کیا تو خدا کا شکر بجالائو اور بُرا برتائو کیا تو خدا سے توبہ کرو دنیا میں نیکی دواشخاص کی خصوصیت ہے:

١۔ وہ شخص جو گناہ کی توبہ سے تلافی کرتا ہے۔

٢۔ وہ شخص جو نیکی میں پیش قدمی کرتا ہے۔

دنیا سے دوری اور بے اعتنائی کی ستائش:

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍّ؛ طُوبٰی لِلزَّاهِدٰینَ فِی الدُّنْیٰا الرَّاغِبینَ فی الْاَخِرَةِ الَّذینَ اتَّخَذُوا اَرْضَ ﷲ بِسٰاطاً وَتُرَابَهٰا فِرَاشاً وَ مَائَهَا طیباً وَاتَّخَذُواکِتَابَ ﷲ شِعَاراً وَ دُعَائَ هُ دِثاراً یَقْرِضُونَ الدُّنْیٰا قَرضاً''

اے ابوذر! مبارک ہو دنیا میں زاہدوں کے لئے اور ان لوگوں کے لئے کہ جنہوں نے آخرت سے دل لگایا ہے، خدا کی زمین کو اپنے لئے بساط اور اس کی خاک کو فرش، اس کے پانی کو اپنے لئے عطر قرار دیا ہے۔ خدا کی کتاب کو اپنے اندرونی لباس کے مانند اپنے دل سے لگا یا ہے اور دعائوں کو اپنا اوپر والا لباس قرار دیا ہے اور اپنے آپ کو دنیا سے منقطع اور جدا کر لیا ہے ۔

مبارک ہو ان کو جو دنیا سے دل کو وابستہ نہیں رکھتے ہیں اور صرف آخرت کی فکر میں ہوتے ہیں، کیونکہ وہ دنیا کی حقیقت سے آگاہ ہیں اور جانتے ہیں حقیقی قدر و منزلت کہاں ہے۔ وہ زمین پر بیٹھنے کے لئے آمادہ ہیں اور خاک کو اپنا بستر بنانے کے لئے آمادہ ہیں ان کے لئے خاک اور گراں قیمت فرش میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہم دنیا کے شیدائی کبھی آمادہ نہیں ہیں کہ مٹی پر بیٹھیں چونکہ لوگ دیکھیں گے کہ ہم خاک پر بیٹھے ہیں اسلئے ہم شرماتے ہیں۔ ہمیں اپنے آپ میں یہ جذبہ و حوصلہ پیدا کرنا چاہئے کہ ہمارے لئے مٹی اورقیمتی فرش میں کوئی تفاوت نہیں ہے۔ اگر کسی دن فریضہ کا تقاضا یہ ہوجائے کہ انکساری کے ساتھ ایک فقیر کے پہلو میں زمین پر بیٹھیں اور اس کی حوصلہ افزائی کریں تو ہمیں شرم محسوس نہ ہو۔

زاہد لوگ اس فکر میں نہیں ہوتے کہ خوشبو کے لئے حتماً گراں قیمت عطر استعمال کریں، بلکہ زمین پر جاری پانی سے اپنے آپ کو پاک و صاف کر کے معطر کرتے ہیں۔ خد اکے ساتھ ان کا رابطہ اتنا مضبوط ہے کہ جب قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں تو احساس کرتے ہیں کہ خدائے متعال ان کے ساتھ گفتگو کرتا ہے یا جب دعا پڑھتے ہیں تو جیسے وہ خدائے متعال سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں ان کی طرف دیکھتے ہیں، لیکن ان کا دل کہیں اور ہوتا ہے، ان کا دنیا سیبہرہ مند ہونے کا طریقہیہ ہے کہ وہ دنیا کی طرف سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور دنیا کو بالائے طاق رکھ دیاہے۔ چونکہ دنیا عارضی اور فنا ہونے والی ہے اس لئے خدا وند متعال اور ان چیزوں کی طرف توجہ کرتے ہیں جو ابدی ہیں۔

مکرر طور پر کہا گیا ہے کہ یہ تربیتی بیانات اسلئے نہیں ہیں کہ خدا کی نعمتوں کو بالکل ہی چھوڑ دیں یا اس معنی میں نہیں ہے کہ جو خدا کی نعمتوں کے مالک ہیں وہ بُرے انسان ہیں بلکہ یہ بیانات اسلئے ہیں کہ دنیا سے ہمارے روابط و تعلقات کم ہوجائیں اور دیکھ لیں کہ ہمارا فریضہ کیا ہے۔ اگر فریضہ کا تقاضا یہ ہو کہ ہم اچھا لباس پہنیں، اچھے گھوڑے پر سوار ہوں وغیرہ، تو چونکہ فریضہ ہے اور خداکو پسند ہے، اسلئے ہمیں یہ کام انجام دینا چاہئے۔ لیکن اگر ہم من پسندی کی بناپر نعمتوں کے پیچھے پڑے رہے تو ہم نے ایک خطر ناک راہ میں قدم رکھا ہے اور خواہ مخواہ ایسے کاموں میں پھنس جائیں گے جن میں خدا کی مرضی نہیں ہوگی، کیونکہ دل کی خواہش خدا کی مرضی سے نہیں ملتی ہے۔ دل اور ہوائے نفس کا راستہ خدا کے راستہ سے جدا ہے اور یہ کبھی ایک دوسرے سے نزدیک نہیں ہوتے ہیں:

( اَفَرَأَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهُ هَوٰهُ وَاَضَّلَهُ ﷲ عَلٰی عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلٰی سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجْعَلَ عَلٰی بَصَرِهِ غِشٰاوَة ) (جاثیہ٢٣)

''کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش ہی کو خدا بنا لیا ہے اور خدانے اس حالت کو دیکھ کراسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی ہے اور اس کی آنکھ پر پر دے پڑے ہوئے ہیں''

پس، یہ بیانات دنیا سے دل لگی میں کمی واقع کرنے کے لئے ہیں۔ ہمیں خاک نشیں ہونے اور قیمتی فرش، ڈیکوریشن اور عیاشانہ زندگی سے پرہیز کی جو تشویق کی گئی ہے، اس معنی و مفہوم میں نہیں ہے کہ ہم خود کو مشکل اور زحمت سے دوچار کریں اور خدا کی نعمتوں سے بہرہ مندنہ ہوں۔ ایک صوفی مسلک شخص نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا: آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کیوں قیمتی لباس پہنا ہے، کیا آپ حضرت علی علیہ السلام کے فرزند نہیں ہیں؟ حضرت نے جواب میں فرمایا: حضرت علی کے زمانے میں لوگ فقر و تنگدستی میں زندگی بسر کرتے تھے، اس لحاظ سے شائستہ تھا امام عام مسلمانوں کی طرح زندگی بسر کریں، تاکہ لوگ اپنے فقر و ناداری سے دل تنگ نہ ہو جائیں۔ لیکن جب لوگ نعمتوں کی فراوانی میں قرار پائیں گے، تو صالح لوگ نعمتوں سے استفادہ کرنے میں دوسروں سے زیادہ سزاوار ہیں۔ جب شرائط اقتضا کریں، تو مسلمانوں کو صنعتی ترقی اور زندگی کے طریقۂ کار کو تبدیل کرنے کے لئے اقدام کرنا چاہئے تاکہ کافروں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی آبرو کا تحفظ کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ اگر مسلمان اور ترقی یافتہ معاشرے کی صورت کے پیش نظر آرٹ اور صنعت (ٹکنالوجی) کے شعبہ میں ترقی کرنے کی سعی و کوشش کرنا چاہئے تاکہکفار کے سامنے ہاتھ پھیلا نے کی ضرورت پیش نہ آئے اور مسلمانوں کی ذلت و خواری کا سبب نہ بنے ۔

اجتماعی پہلو سے اگر اسلامی معاشرہ حداقل پر قناعت کرے، صرف دستکاری کی صنعت سے استفادہ کرے، حمل و نقل کے قدیمی وسائل ہی پر اکتفا کرے، اپنے آپ کو صرف قدیمی اور ابتدائی اسلحوں کا پابند رکھے ، اس تفکر سے کہ اسلامی معاشرہ کو ایک سادہ اور قناعت پسند معاشرہ ہونا چاہئے، ایجاد و تخلیق کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے، تو یقینا اسلامی معاشرہ کفار کے زیرتسلط آجائے گا اور ایک کمزور و ذلیل اور محتاج معاشرے میں تبدیل ہوجائے گا، اور خدائے متعال ہر گز پسند نہیں کرتا ہے کہ الہٰی معاشرہ کفار کا اسیر و محتاج ہو، کیونکہ:

( وَلَنْ یَجْعَلَ ﷲ لِلْکَافِرینَ عَلَی الْمُؤْمِنینَ سَبیلاً ) (نسائ ١٤١)

خدائے متعال نے کافروں کے لئے مسلمانوں پر کوئی تسلط قرار نہیں دیا ہے۔

اور یہ خدا ہے جو عزت کو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مومنین سے مخصوص جانتا ہے:

( ( ...وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُوْمِنِینَ ) (منافقون٨)

''عزت، خدا، اس کے رسول اور مومنین سے مخصوص ہے۔''

اس کے پیش نظر کہ صنعتی پسماند گی کا لازمہ استعمار اور ثقافتی یورش ہے، اس لئے امت اسلامیہ کی ترقی کے لئے ایجادات و تخلیق کے میدانوں میں جستجو اور کوشش کرنا فریضہ الہٰی ہے اس سے کسی بھی بہانہ سے اجتناب نہیں کیا جاسکتا ہے۔ علوم و فنون کو سیکھنے کے سلسلے میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام نے بہت زیادہ تاکید کی ہے وہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس فرمان کی حقیقی گواہ ہے:

''اطلبوا العلم ولو بالصین '' ۳

علم حاصل کرو خواہ تمھیں چین جانا پڑے۔

یعنی ہر وہ علم کہ جس کی معاشرے کو ضرورت ہے اسے حاصل کرو۔

اس حدیث کے آخر پر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍ؛ حَرثُ الْآخِرةِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ وَ حَرْثُ الدَُّنْیٰا الْمَالُ وَالْبَنُونَ''

''اے ابوذر! آخرت کی کھیتی شائستہ کردار ہے اور دنیا کی کھیتی مال و فرزند ہیں۔''

(آخرت طلب کو عمل صالح کے پیچھے جانا چاہئے اور دنیا طلب کو مال ذخیرہ کرنے کے پیچھے جانا چاہئے)

____________________

١۔نہج البلاغہ ترجمہ فیض الاسلام کلام ٢٨١،ص١٢٢٥

۲۔نہج البلاغہ ترجمہ فیض الاسلام ،حکمت ٩٢،ص١٠٥٨

۳۔ بحار الانوار ،ج١ص١٧٧


4

5

6

7