گل نرگس مهدئ صاحب زمان(عجّ اللہ فرجہ الشریف)

گل نرگس مهدئ صاحب زمان(عجّ اللہ فرجہ الشریف)42%

گل نرگس مهدئ صاحب زمان(عجّ اللہ فرجہ الشریف) مؤلف:
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 138

گل نرگس مهدئ صاحب زمان(عجّ اللہ فرجہ الشریف)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 138 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 86414 / ڈاؤنلوڈ: 4057
سائز سائز سائز
گل نرگس مهدئ صاحب زمان(عجّ اللہ فرجہ الشریف)

گل نرگس مهدئ صاحب زمان(عجّ اللہ فرجہ الشریف)

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

ابن ابی الحدید

وہ شرح نہج البلاغہ میں حضرت امیر المؤمنین ؑکے اس جملہ (وبنا يختم لا بکم ) کو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں آپؑ کا اشارہ اس جملہ میں امام مھدی ؑکی طرف ہے کہ جو آخری زمانے میں ظہور کریں گے۔ اکثر محدثین کا کہنا ہے کہ آپؑ اولاد حضرت فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا میں سے ہیں ۔

معتزلہ کے ماننے والے اس بات کا انکار نہیں کرتے ہیں بلکہ اپنی کتابوں میں وضا حت سے بیان کرتے ہیں ۔ ان کے اکابرین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اگرچہ آپؑ پیدا نہیں ہوئے ہیں مگر آپؑ ضرور تشریف لا ئیں گے ۔(۱)

____________________

(۱) الامام مہدی عند اہل سنہ؛ ج ۲،ص ۱۶۰، ص۱۵۸

۴۱

علاّمہ خیرین آلوسی

آپؑ کتاب'' غایة المواعظ '' میں بیان فرماتے ہیں ۔ اکثر علماء اور بزرگان کے کہنے کے مطابق ظہور مھدی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے، اگر کوئی اہل فضل اس بات سے انکار کردے توگویا اس کا کوئی اعتبار اور قیمت نہیں ہے اس کے بعد وہ کہتے ہیں :ہم نے حضرت امام مھدی ؑکے بارے میں جو بات کی ہے وہ اہل سنت کی نظر میں معتبر، صحیح اور موثق ہے ۔(۱)

____________________

(۱) الامام مہدی عند اہل سنہ؛ ج ۲،ص ۱۶۰،ص ۱۵۸

۴۲

حذیفہ

حذیفہ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: اگر دنیا کی عمر صرف ایک دن سے زیادہ باقی نہ رہ جائے تو اس دن خداوند عالم ایک ایسے شخص کو ظاہر کرے گا جس کا نام میرا نام ہو گا جس کا خلق وخو میرا خلق وخو ہوگا جس کی کنیت میری کنیت ہو گی۔ جس کا کام میرا کام ہو گا۔

حضرت بقیة اللہ ا لاعظم امام مہدی ؑکے بارے میں شیعوں کی لکھی ہوئی کتابیں درج ذیل کتابیں علماء شیعہ سے منسوب ہیں مرحوم علامہ آقا بزرگ تہرانی نے کتاب شریف '' الذریعہ الیٰ تصانیف شیعہ '' میں نقل فرمایا ہے:۔

١۔ المھدی مرحوم خندق آبادی

٢۔ کتاب الغیبہ والحیرہ ابی العباس حمیری قمی

٣۔ المھدی جلال الدین مردوشتی

٤۔ کتاب الغیبہ و ذکر القائم ابی اخی طاہر

٥۔ المھدی ابو موسیٰ عیسیٰ بن مہران

٦۔ رسالة فی الحجہ مرحوم شیخ صدوق

٧۔ المھدی موعود سید علی لاہوری

٨۔ رسالة فی غیبة الحجہ سید مرتضیٰ علم الھدیٰ

٩۔ کتاب قائم علی بن مھزیار

١٠۔ رسالة فی غیبة الحجہ میرزا علی اکبر عراقی

١١۔ رسالةفی غیبة الامام سید دلدار

١٢۔ کتاب الغیبہ شیخ مفید

یہ وہ کتابیں ہیں جو بہت قدیمی ہیں اور گزشتہ صدیوں میں لکھی گئی ہیں ۔

۴۳

حضرت امام مہدی ؑکے بارے میں اہل سنّت کی لکھی ہوئی کتابیں :

١۔ البیان فی الاخبار صاحب الزمان گنجی شافعی

٢۔ المھدی حماد بن یعقوب

٣۔ عقد الدرر فی اخبار مھدی المنتظر ابی بدر مقدس

٤۔ علامات المھدی المنتظر ابن حجر عسقلانی

٥۔ البرھان فی علامات مھدی آخر الزمان متقی ہندی

٦۔ علامات المھدی جلال الدین سیوطی

۴۴

امام زمان ؑ کی ابتدائی دنوں کے مشکلات

گیارہویں امام حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعدحضرت کے لئے ٣٢٨؁ھ تک کا دور بڑی مشکلات اور مصیبتوں کا زمانہ رہا ہے۔ ان دنوں میں محمد وآل محمد علیہم السلام پر بنی عباس کے مظالم، بنی امیہ کے مظالم سے کچھ کم نہ تھے۔ اس دور میں سادات اور ان کے ارادتمندوں، عقیدتمندوں کے خون کی ندیاں بہائی گئیں ان کے خون سے گارے بنائے گئے۔ مکانوں کی بنیادوں میں، دیواروں میں زندہ چنوائے گئے۔ سولیوں پر چڑھائے گئے حبس ابد کی سزائیں ملیں، جائدادیں ضبط ہوئیں مختلف قسم کے مصیبت اور آلام میں گرفتار ہوئے۔ بنی عباس کے خلیفہ معتمد نے حضرت امام زمان علیہ السلام کو شہید کرنے کا مکمل پروگرام بنایا۔

اس حالے سے ہر طرف سے جاسوس مقرر کئے۔ مردوں، عورتوں، غلاموں ،کنیزوں کی شکل میں معین کئے۔ پروگرام کے مطابق حضرت امام زمان علیہ السلام کو پیدا ہوتے ہی قتل کرنا تھا مگر اس میں وہ ناکام رہے تو حضرت کی سراغ رسانی کے لئے دوسرے بڑے بڑے انتظامات کئے گئے اس دوران آپ کی خفیہ تلاش صرف شہروں تک محدود نہیں تھی بلکہ جنگل ، ریگستان، صحرا، میدانی علاقے اور غیر آباد جگہوں پر حکومت کی طرف سے جاسوس لگے ہوئے تھے خاص طور پر جہاں پر شیعہ اکثریت سے بستے تھے۔ جس شخص پر شک ہوتا تھا کہ وہ حضرت امام زمان علیہ السلام سے رابطہ میں ہے اسے مار دیا جاتا تھا۔

۴۵

مومنین کی حالت یہ تھی کہ عزیزوں سے دوستوں سے آپس میں ملنا چھوڑ دیا تھا باپ بیٹے کے درمیان عہد وپیمان کے بعد حضرت کے بارے میں کوئی بات کرسکتے تھے۔ان پریشان حال لوگوں کا نہ کوئی کاروبار تھا نہ ہی روزگار، نتیجہ یہ ہوا کہ اپنا اپنا شہر بار چھوڑ کر خاندان کے خاندان اطراف عالم میں نکل گئے اور مختلف ملکوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ان میں سے اکثر جنگلوں ،پہاڑوں میں حیران وپریشان،سرگردان پھرتے رہے اور خانہ بدوشی میں زندگی بسر کی بہت سے غریب عالم غربت ومسافرت میں بہت ہی مظلومانہ مرگئے۔ ہزاروں درود وسلام ہو اس زمانے کے راسخ العقیدہ شیعوں پر جنہوں نے نہیات ہی صبر وتحمل اور ثابت قدمی کے ساتھ ان حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بنی عباس کے حکمرانوں کی طرف سے قیامت خیر مظالم سے صفحہ قرطاس پر ہیں۔ یہاں پر مومنین اور مسلمین کی آگاہی آیئے صرف ایک واقعہ نقل کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ ایک دفعہ معتضد نے حکم دیا کہ حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو کسی طریقے سے گرفتار یا قتل کر ڈالیں۔ اس حوالے سے صدارتی گارڈ کے ایک فوجی دستے کو سامراء میں امام علی نقی علیہ السلام کے گھر کا محاصرہ کرنے کا اور جس کو بھی جس حالت میں ملے گرفتار کر کے لے آئیں۔

چنانچہ اس فوجی دستے نے شاہی حکم پر چاروں طرف سے مکان کو گھیر لیا آمد ورفت کے تمام راستے بند کردیئے۔ کچھ فوجی مع افسران کے گھر کے اندر داخل ہوئے حسب دستور اس سرداب مقدس کے قریب پہنچ گئے جو مکان کے آخری حصے میں ایسے مخفی مقام پر واقع تھا جہاں کسی کے رہنے کا احتمال نہیں ہوسکتا ہے ایسے میں وہاں سے کسی کی دلنشین انداز میں تلاوت قرآن مجید کرتے ہوئے سنایا گیا۔جس کو سن کر سب حیران رہ گئے فوجی دستے کے افسر نے باہر کے سپاہیوں کو بھی اند ر بلا لیا اور کہا ہمارا جو ہدف ہے وہ اسی سرداب کے اندر موجود ہے پس اس کو گرفتار کرنا ہے وہ یہیں پر موجود ہیں محاصرہ کی ضرورت نہیں ہے اب سب مل کر اس کو پکڑ لینا۔اتنے میں حضرت امام زمان علیہ السلام سرداب سے باہر آئے اور ان لوگوں کے سامنے سے نکل کر سب کی نگاہوں سے غائب ہوگئے بہت سے سپاہیوں نے حضرت کو نکلتے ہوئے دیکھا کچھ کی نظریں نہ پڑیں مگر جب فوجی افسر نے سرداب کے اندر داخل ہونے کا سپاہیوں کو حکم دیا تو دیکھنے والوں نے کہا کہ ایک صاحب ابھی برآمد ہوئے تھے اور اس طرح کو چلے گئے افسر نے کہا کہ ہم نے تو کسی کو نکلتے نہیں دیکھا جب آپ نے کچھ نہ کہا تو ہم نے بھی توجہ نہ کی۔ اس صورت حال سے سب دنگ رہ گئے پھر ہر چند کوشش کی گوشہ گوشہ چھان ڈالا لیکن کوئی نشان نہ ملا۔ آخر کار ندامت وشرمندگی کے ساتھ یہ گروہ واپس ہوگیا اور معتضد کو صورت حال سے آگاہ کیا۔

۴۶

نور خدا کفر کے حرکت پر خندہ زن پھونکوں سے یہ نور بجھایا نہ جائے گا

جن کو قدرت نے یہ بتا دیا کہ حجت خدا کا نگہبان خدا ہے جس کا حامی ہو خدا اس کو مٹا سکتا ہے کون!

معاندین کی کوئی ظالمانہ حرکت کامیاب نہیں ہوسکتی۔ پہلے بھی خدا والوں کے کیسے کیسے محاصرے ہوتے رہے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے گرفتار کرکے پھانسی دینے کے ارادے سے ایک گھر میں بند کردیا تھا مگر خداوند عالم نے ان کو تو اٹھا لیا اور یہودیوں کے سردار یہودا کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں کردیا جو سولی پر چڑھا دیا گیا،پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کرنے کے سلسلہ میں کفار ومشرکینن نے بڑی بڑی تدبریں کرتے رہے یہاں تک کہ شب ہجرت کیسا محاصرہ ہوا مگر حضرت اندر سے باہر تشریف لائے دشمنوں کے سامنے سے چلے گئے اور کسی نے نہ دیکھا اسی طرح حضرت حجت علیہ السلام کی حفاظت کا واقعہ ہوا کہ سرداب سے تشریف لا کر حملہ کرنے والوں کے درمیان سے نکلے لیکن ان قاتلوں کی آنکھوں پر ، عقلوں پر ایسے پردے پڑے کہ کچھ نہ کرسکے مگر اپنی اس ناکامی وشان الٰہی کے مظاہرہ سے بھی کچھ سبق نہ لیا اور گمراہی کی دیواروں میں محصور رہے۔

غیبت کا آغاز ، غیبت صغریٰ ، غیبت کبریٰ

الف۔ غیبت کا آغاز

حضرت امام حسن عسکری ؑآٹھ ربیع الاوّل ٢٦٠ ؁ ہجری قمری کو عباسی خلیفہ معتمد کے ہاتھوں شہید ہوئے تو حضرت مہدی ؑجنکی عمر ابھی پانچ سال سے زیادہ نہ تھی آپ نے اپنے والد بزرگوار کی پیکر مبارک پر نماز اداکی ۔(۱)

____________________

(۱) سید محسن امین؛ ص ۲۵۹

۴۷

ب۔ غیبت صغریٰ و غیبت کبریٰ

(وله قبل قَياَمه غيبَتَان: احدايهما اَطوَلُ مِنَ الاُخریٰ کما جاأت بذالک الاخبارفَاِنّما القصریٰ مِنهمامنذئوقتِ مؤ لد الیٰ انقطاع السّفارةبينّة و بين شيعته وعدم السُّفراء بالوفاه و امّا الطّول لی فهی بعدالأولیٰ وفی آخرِها يقوم با السّيف )(۱)

حضرت ؑ کے قیام سے پہلے دو غیبت ہیں ۔ ایک، دوسرے سے زیادہ طولانی ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں کچھ اس طرح آیا ہے۔

ایک (غیبت صغریٰ) ہے جو آپؑ کی ولادت سے لے کرآپؑ کے سفراء اور نائبین تک کے زمانہ پر محیط ہے آپؑ کے معتمد نائبین کی رحلت کے بعد آپؑ غیبت کبریٰ میں چلے گئے جس میں آپؑ اپنے ظہور پر نورتک لوگوں سے مخفی رہیں گے۔

____________________

(۱) ارشاد مفید؛ باب ۳۵، ص ۶۷۳

۴۸

غیبت صغریٰ

حضرت امام زمان علیہ السلام کی غیبت ایسی ہی ہے کہ جیسی گذشتہ امتوں میں بعض انبیاء علیہم السلام وا ولیاء علیہم السلام کی غیبتیں ہوئیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ میری امت میں ہو بہو وہ باتیں ہوں گی جو گذشتہ امتوں میں پیش آتی رہیں ہیں لہٰذا حسب حالات مذکورہ اس امت میں بھی حجت خدا حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت ہوئی۔

سب سے پہلے ظالمین کے ظلم وستم کی وجہ سے حضرت ادریس علیہ السلام کو جو حضرت آدم علیہ السلام کی پانچویں پشت میں حضرت نوح علیہ السلام کے پر دادا ہیں غیبت کا حکم ہوا جبکہ بادشاہ وقت ان کے قتل کی فکر میں تھا چنانچہ وہ غائب ہوئے اور قوم کی شقاوت اور نافرمانی سے اس شہر میں اور اس کے اطراف میں بیس ٢٠ برس تک بارش تک نہ برسی اتنی مدت میں حضرت ادریس علیہ السلام پہاڑوں میں ویرانوں میں پوشیدہ رہے جب وہ ظالم حکمراں ہلاک ہوگیا اور قوم نے توبہ کی تو حضرت ادریس علیہ السلام ظاہر ہوئے اور آپ کی دعا سے بارش ہوئی پھر وہ وقت آیا کہ بالائے آسمان اٹھا لئے گئے۔

حضرت نوح علیہ السلام نے وقت وفات مومنین سے فرمایا تھا کہ میرے بعد غیبت کا زمانہ آئے گا یہاں تک کہ مدت کے بعد قائم آل نوح علیہ السلام ظاہر ہوں گے جن کا نام ہود ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور محبت خدا کی غیبت کا زمانہ اتنا طویل رہا کہ لوگ حضرت ہود علیہ السلام کے ظہور سے ناامید ہونے لگے تھے حضرت خضر علیہ السلام کی غیبت اب تک ہے اور حضرت امام زمان علیہ السلام کے رفیق ہیں آپ کا معجزہ یہ رہا ہے کہ آپ جس خشک زمین پر بیٹھتے وہ سر سبز وشاداب ہوجاتی جس خشک لکڑی پر تکیہ کرتے اس سے پھول پتے نکل آتے چونکہ خضرۃ کے معنی سبزی کے ہیں اس لئے ان کو خضر کہتے ہیں آپ نے آب حیات پیا ہے اسی لئے قیامت کے وقت صور پھونکے جانے کے وقت تک زندہ رہیں گے۔ بعض صالحین نے ان کو مسجد سہلہ اور مسجد صعصعہ میں دیکھا ہے جس قوم کی طرف وہ مبعوث ہوئے تھے اس نے ان ہیں ایک کمرے میں بند کرکے راستے میں مٹی پتھر سے روک دیئے تھے جب دروازہ کھولا گیا تو کمرہ خالی تھا وہ بحکم الٰہی وہیں سے غائب ہوگئے خداوند رب العزت نے وہ قوت عطا فرمائی کہ جس شکل وصورت میں چاہیں متشکل ہوجائیں حضرت خضر علیہ السلام کا تعلق دریاؤں سے ہے بے راہیوں کی رہبری فرماتے ہیں ہلاکت سے بچاتے ہیں اور حضرت امام زمان علیہ السلام کے رفقاء میں سے ہیں۔

۴۹

اسی طرح حضرت الیاس علیہ السلام کی غیبت ہے بنی اسرائیل کے پیغمبر رہے قوم ان کی تکذیب کرتی اور ان کی توہین کرتی رہی مدت تک ان کے ظلم وستم پر صبر کرتے رہے مگر جب وہ قتل کرنے پر تل گئے تو آپ ایک پہاڑ میں غائب ہوگئے اور سات برس اسی حالت میں گزرے کہ زمین کی گھاس غذا رہی خداوند رب العزت نے وحی کی کہ اب آپ جو چاہو سوال کرو عرض کیا کہ میں قوم بنی اسرائیل سے بہت بیزار ہوں تو مجھے دنیا سے اٹھالے ارشاد رب العزت ہوا کہ یہ وہ زمانہ نہیں ہے جو زمین واہل زمین کو تم سے خالی دیکھوں اس عہد میں زمین تمہاری وجہ سے قائم ہے اور ہر زمانہ میں میرا ایک خلیفہ ضرور رہتا ہے پس خداوند عالم نے وہ طاقت وکرامت فرمائی کہ حضرت الیاس علیہ السلام بھی حضرت خضر علیہ السلام کی طرح زمین پر موجود وغائب ہیں حضرت حجت علیہ السلام کی رفاقت کا شرف حاصل ہے جنگلوں میں پریشان حالوں کی رہنمائی ضعیفوں کی دستگیری فرماتے ہیں حضرت صالح علیہ السلام جب اپنی قوم ثمود کو ایک سو بیس ١٢٠ برس تک ہدایت کرتے رہے مگر انہوں نے بت پرستی نہ چھوڑی تو ان سے پوشیدہ ہوگئے اور اتنی مدت تک غیبت رہی کہ کچھ لوگ خیال کرنے لگے کہ آپ انتقال فرماگئے ایک گروہ کو یقین تھا کہ وہ زندہ ہیں جب ظاہر ہوئے تو کسی نے ان کو نہ پہچانا۔ حضرت صالح علیہ السلام سے کہا گیا تھا کہ اس پتھر سے جس کی لوگ پرستش کرتے تھے اونٹنی مع بچہ کے نکال دو تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے آپ نے دعا کی قبول ہوئی پھر بھی ایمان نہ لائے اور ایک شقی القلب کو لالچ دے کر اس اونٹ کے پاؤں کٹوا دیئے ٹکڑے ٹکڑے کیا گوشت کو کھایا توبہ کے لئے تین دن کی مہلت ملی لیکن وہ نہ سمجھے۔ چوتھے روز بڑی چیخ وپکار کی آواز ہوئی کانوں کے پردے پھٹ گئے زمین کو زلزلہ آیا قلب وجگر پاش پاش ہوگئے آسمان سے آگ آئی جس نے سب کو جلا کر خاکستر کردیا۔

۵۰

حضرت شعیب علیہ السلام کی عمر دو سو بیالیس ٢٤٢ برس کی ہوئی قوم کو ہدایت کرتے کرتے بوڑھے ہوگئے اور مدت تک غائب رہے پھر خدا کی قدرت اور عنایت سے جوانی کی حالت میں پلٹ گئے اور رہنمائی میں مصروف ہوئے قوم نے کہا ہم نے تمہارا کہنا اس وقت تک نہ مانا جب تم بوڑھے تھے اب تو جوانی میں تمہاری باتوں کا کیسے یقین کریں۔حضرت یونس علیہ السلام بھی اپنی قوم سے غائب ہوئے بلکہ ان کی غیبت تو ایسی ہے کہ مچھلی کے پیٹ میں رہے ٣٣ برس سمجھایا مگر دو افراد کے سوا کوئی ایمان نہ لایا۔ بارگاہ خداوندی میں بڑے اصرار کے ساتھ نزول عذاب کی دعا کی بالآخر عذاب نازل ہونے کا مہینہ، دن اور وقت مقرر ہوا جس کی اطلاع دے کر خود آبادی سے باہر آئے اور پہاڑ کے کسی گوشے میں چھپ گئے جب عذاب کا وقت قریب آیا تو اس قوم نے صحرا میں پہنچ کر بوڑھوں کو جوانوں سے جدا، عورتوں کو شیر خوار بچوں سے جدا، حیوانوں کو ان کے دودھ پیتے بچوں سے جدا کرکے فریاد شروع کردی ۔یکایک عذاب کے آثار دیکھے کہ زرد آندھی آئی جس میں خوفناک صدائے عظیم تھی سب نے گریہ وزاری کے ساتھ توبہ واستغفار کی آوازیں بلند کیں بچے اپنی ماؤں کو ڈھونڈتے اور روتے تھے جانور اپنے بچوں سے علیحدہ ہونے پر شور کررہے تھے رحمت الٰہی جوش میں آئی اور عذاب ٹل گیا۔ اس کے بعد حضرت یونس علیہ السلام یہ خیال کرکے کہ سب ہلاک ہوگئے ہوں گے شہر کی طرف آئے مگر وہاں سے چرواہوں کو آتے دیکھا اور سمجھ گئے کہ عذاب الٰہی نہیں آیا ہے آپ اس تصور میں کہ قوم مجھے جھوٹا کہے گی مخفی ہوگئے بیابانوں میں پھرے یہاں تک کہ دریا پر آئے کشتی میں سوار ہوئے اور مچھلی نگل گئی پھر باہر نکلے اپنی قوم میں واپس آئے تب سب نے تصدیق کی اور ان میں رہنے لگے حضرت یونس علیہ السلام کی غیبت ایسی تھی جس سے متعلق خداوند عالم نے فرمایاہے کہ اگر وہ اس کی تسبیح نہ کرتے تو روز قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔

۵۱

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو طرح طرح سے ستایا جب یہودی تھک گئے تو پھانسی دینے کے ارادے سے ان کو ایک مکان میں بند کردیا رات کا وقت تھا بحکم الٰہی جبرئیل آئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دشمنوں سے نکال کر بالائے آسمان لے گئے۔ صبح کو یہ سب ظالم پھانسی لگانے کے قصد سے جمع ہوئے اور ان کا سردار جس کا نام یہودا تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو باہر لانے کے لئے تنہا اس مکان میں داخل ہوا خداوند رب العزت نے اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں کردیا۔ جب اس نے ان کو وہاں نہ پایا تو دوسروں کو خبر دینے کے واسطے لوٹا اس کے باہر آتے ہی قبل اس کے کہ وہ کچھ کہے یہودا کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر پکڑ لیا اس نے شور مچایا کہ میں عیسیٰ ؑ نہیں ہوں یہودا ہوں۔ مگر کسی نے اس کی نہیں سنی اور اس کو سولی پر چڑھایا پھر خدا کی قدرت سے اس کی اصلی صورت ہوگئی۔

اس وقت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی غیبت ہے جب حضرت امام زمان علیہ السلام کا ظہور ہوگا تب آسمان سے اتریں گے اور ظاہر ہونگے۔

مذکورہ غیبتوں کے علاوہ دیگر انبیاء علیہم السلام کی غیبتیں بھی ہیں ، جب بنی اسرائیل پر بلاؤں کا وقت آیا تو چار سو سال تک انبیاء اور اوصیاء علیہم السلام ان سے غائب رہے باوجودیکہ روئے زمین پر حجت خدا موجود تھے لیکن غیبت رہی یہاں تو صرف چند حضرات سے متعلق روایات کا خلاصہ بیان کردیا گیا ہے جس پر نظر کرنے سے امام زمان علیہ السلام کی غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ دونوں کی صورتیں سمجھنے میں آسانی ہوجائیگی۔

۵۲

نوّاب امام مھدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا تعارف:

غیبت صغریٰ کے دوران حکومتی کا رندے امام ؑ کو نہیں دیکھ سکتے تھے اور عام لوگ بھی آپ کے دیدار سے محروم تھے لیکن امامؑ کے ماننے والے اور قریبی افراد آپؑ سے وقتاً فوقتاً ملاقات کرتے رہتے تھے اس عرصہ میں چار افراد ایسے تھے جو امام ؑ کے قریبی اور خاص تھے انہیں کے توسط سے لوگ اپنے مسائل حل کراتے تھے یہ افراد امامؑ اور لوگوں کے درمیان واسطہ اور پل کی حیثیت رکھتے تھے۔ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں :۔

١۔ عثمان بن سعید عَمری

یہ شخص حضرت امام علی نقی ؑکے خاص صحابی اور مورد اعتماد تھے ۔عثمان بن سعید حضرت امام حسن عسکری ؑکے دور امامت میں گھی بیچنے کے بہانے امامؑ اور لوگوں کے درمیان واسطہ کا کردار ادا کرتے تھے۔ امام عسکری ؑکی شہادت کے بعد آپ حضرت امام مھدی ؑکے پہلے نائب مقرر ہوئے ،لوگ آپ کے ذریعہ امامؑ سے اپنے مسائل حل کراتے تھے۔

۵۳

٢۔ محمد بن عثمان

حضرت امام مہدی ؑکے پہلے نائب کی رحلت کے بعد محمد بن عثمان امام کے نائب خاص منتخب ہوئے ،شیعہ آپ کے علاوہ کسی اور کو نائب امام نہیں مانتے تھے۔ آپ سے لوگوں نے بہت سی کرامات دیکھےں ۔محمد بن عثمان ۵۰سال تک نیابت امامؑ کے منصب پر فائز رہے۔آپ اپنی وفات سے پہلے حضرت امام زمان ؑکی توسط سے جانتے تھے کہ آپ کب رحلت فرمائیں گے۔

٣۔ حسین بن روح نوبختی

دوسرے نائب امام ؑ کی رحلت کے بعد حسین بن روح نوبختی نائب امام منتخب ہوئے اور مسلمانوں کے مالی امور کے عہدہ کو سنبھالا۔ جب بغداد کو حامد بن عباس نے فتح کیا تواس وقت حسین بن روح نو بختی کو گرفتار کیا گیا۔ اس عرصہ میں ابوجعفر محمد بن علی سلمخانی نیابت کی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ جب بعد میں اس کے انحراف فکری کو پہچان لیا تو حسین بن روح نو بختی نے ایک خط کے ذریعے لوگوں کو اطلاع دی کہ سلمخانی کو اس عہدہ سے ہٹایا گیا ہے سال ۳۲۶ہجری قمری کو حسین بن روح رحلت فرماگئے۔

٤۔ علی بن محمد سمری

تیسرے نائب امامؑ کی رحلت کے بعد حضرت امام زمان ؑکے حکم سے علی بن محمد سمری کو حسین بن روح کا جانشین اور نائبِ امام منتخب کیا گیا۔ تین سال تک آپ امامؑ اور لوگوں کے درمیان واسطے کا کردار ادا کرتے رہے آپ کی وفات سے قبل لوگوں نے سوال کیا کہ آپ کے بعد نائب امام اور آپ کا جانشین کون ہوگا؟تو آپ نے فرمایا: خدا کا حکم ہے جو ذمہ داری میری گردن پر ہے میں اسے انجام دوں ۔ اس طرح آپ دنیا سے رحلت فرماگے۔

جب غیبت صغریٰ کا زمانہ ختم ہوا تو پھر غیبت کبریٰ کا دور شروع ہوا جو امام ؑکے ظہور تک جاری رہے گا۔

۵۴

غیبت کبریٰ کے ظاہری اسباب

در حقیقت حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا مخفی رہنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ غیبت کے ضرور ایسے اسباب ہیں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو غیبت بھی نہ ہوتی ، جیسا کہ باقی ائمہ طاہرین علیہم السلام میں سے کسی کی غیبت نہیں ہوئی سب کچھ برداشت کیا مگر نظروں سے مخفی نہیں ہوئے ۔ اگرچہ ان کے اوپر کڑی پہرے لگے ہوئے تھے مگر سلاطین جانتی تھیں کہ یہ انہی دنیوی حکومت بنانے کے لئے کھڑے نہیں ہونگے بلکہ اس کا تعلق مہدی موعود سے ہے جو گیارہ اماموں کے بعد آنے والے ہیں اس لئے حکمرانوں اور سلاطین کی آنکھیں اول ہی سے حضرت امام زمان علیہ السلام کی طرف ایسی لگی ہوئی تھیں کہ قدرت کے انتظامات سے حضرت کی ولادت بھی پوشیدہ طور پر ہوئی وہ یہ تو سمجھے ہوئے تھے کہ بارہویں امامت کے زمانہ میں دنیا کی صورت بدلے گی مگر یہ کسی کو معلوم نہ تھا کہ اس زمانہ میں یہ سب انقلابات کب ہونگے کس وقت ہونگے اگر انہیں یہ معلوم ہوتی کہ ہماری حکومت ان کے ہاتھ سے نہیں بلکہ پہلے ہی حوادث زمانہ سے ختم ہوجائے گی تو شاید حضرت امام زمان علیہ السلام کے تجسّس میں ایسی کوششیں نہ کرتے جو ہوئیں۔

باقی ائمہ طاہرین علیہم السلام کے واقعات اور امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کے حالات میں بڑا فرق تھا ۔ ان حضرات علیہم السلام کی شہادتوں پر سب کے قائم مقام موجود تھے اور ہر امام نے اپنے بعد کے لئے امت کی ذمہ داریاں اپنے جانشین کے سپرد فرمائی ہیں لیکن حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ آخری امام تھے بارہ کے بعد تیرھواں آنے والا نہ تھا آیندہ کے لئے امامت کا دروازہ بند ہوچکا تھا اگر حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ پر دشمنوں کا غلبہ ہوجاتا تو نتیجہ میں زمین حجت خدا سے خالی ہوجاتی ۔ وہ پیش گوئیاں صحیح نہ رہتیں جو روز اوّل سے مھدی موعود علیہ السلام کے بارے میں ہوتی چلی آرہی تھی وعدہ الٰہی غلط ہوجاتا کہ ان کی حکومت تمام روئے زمین پر ہوگی ان کے مبارک ہاتھوں سے ظالمین کا خاتمہ ہوگا اور ساری زمین ان ظالم اور فاسق حکمرانوں سے پاک ہوکر عدل وداد سے بھر جائے گی حالانکہ یہ ناممکن ہے کہ خدوند کریم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان جو آنے والے حالات اور واقعات بیان کئے گئے ہیں وہ وقوع میں نہ آئیں یہ سب باتیں دنیا کے آخری حصہ میں پوری ہوکر رہیں گی اور اس وقت تک دنیا میں حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ کا موجود رہنا لازمی امر ہے۔

۵۵

خداوند عالم کی طرف سے بھی مجبور نہیں کئے جاسکتے تھے کیونکہ بندے اپنے افعال میں مختار ہیں اور جبر غلط چیز ہے پس حضرت کی حفاظت صرف صورت غیبت میں منحصر تھی اس لئے عوام کی نظروں سے مخفی ہوئے ہیں ۔

حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی غیبت کبریٰ سے پہلے غیبت صغریٰ رہی چونکہ حضرت کے وجود امامت کا مسئلہ مشتبہ بنایا جانے والا تھا اس لئے ضرورت تھی کہ ایک زمانہ ایسا بھی ہو جو عین دیکھنے والے حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ کو بحیثیت امامت پہچان کر دیکھ لیں تاکہ حضرت کے وجود اقدس سے انکار کرنے والوں کو یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ جس کو کسی نے کبھی نہ دیکھا اس کی موجودگی اور امام ہونے پر کیسے ایمان لایا جائے یہ تو خدا ہی کی خصوصیت ہے کہ اس کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ آیندہ کبھی کوئی دیکھ سکتا ہے وہ خود دکھائی نہیں دیتا بلکہ اس کے آثار وجود نظر آتے ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت کی ولادت کے بعد پدر بزرگوار نے بقدر ضرورت اپنے فرزند کو دیکھا یا اور بہت سے لوگوں کو اطلاع دیں پھر کافی زمانہ تک خود حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف نے مومنین کو اپنی ملاقات سے مشرف فرمایا یا ہزاروں انسان مطلع ہوئے اور نائبین کے ذریعہ سے تمام کام پورے ہوتے رہے لیکن جب حالات بدلے اور نائب خاص کی خدمت میں لوگوں کی حاضری نظروں سے کھٹکی اور ان کی مرجعیت بھی حکومت کو ناگوار ہونے لگی اور اس میں بھی مصیبتوں کا مقابلہ ہوا تو غیبت صغریٰ کی صورت ختم ہوئی اور غیبت کبریٰ کا وقت آگیا ۔

۵۶

غیبت صغریٰ میں یہ صورت بھی پیش آئی کہ نیابت اور سفارت کے جھوڑے مدعی پیدا ہونے لگے جن پر حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ نے اپنے فرمانوں میں لعنت فرمائی ہے اور اظہار برائت کیا ہے ۔

ابو محمد شریعی ، محمد بن نصیر نمیری ، احمد بن ہلال کرخی ، محمد بن علی شلغمانی وغیرہ نے اپنے اپنے لئے غلط دعوئے کرکے فتنہ وفساد پھیلانا شروع کردیا یا خمس وغیرہ کی رقمیں وصول کرنے لگے حضرت پر افتراء اور بہتان ، باطل عقیدے ، بہیودہ مسئلہ تلقین ہونے لگے ، کفر والحاد کی نوبت پہنچ گئی اور ایسی خلاف شریعت باتوں کا سادہ لوح افراد پر بُرا اثر پڑنے لگا ، حکومت کے مظالم تو جھیلے جارہے تھے لیکن عقیدتمندوں کے پردے میں ان دشمنوں کا یہ ظلم وستم طرح طرح کی گمراہیاں پھیلانا مومنین میں تفرقہ اندازی اور ان کو دھوئے دینا حضرت کی طرف سے اپنا تقریر بتا کر رسوخ پیدا کرنا اس جھوٹی نسبت کو اپنی بدکرداریوں میں کامیابی کا ذریعہ بنانا ناقابل عفو جرائم تھے جن کو آسانی کے ساتھ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔

۵۷

اور جن کے انسداد کی یہی صورت تھی کہ سفارت اور وکالت کا وہ سلسلہ ہی ختم کردیا جائے جس کے بہانے سے یہ کاذب وظالم سب کچھ کررہے تھے چنانچہ نیابت کا دروازہ بند ہوگیا ، جس کی اطلاعات مخلص مومنین کو پہنچ گئیں اور وہ ان کی بلاؤں سے محفوظ ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت کا وہ نور ہدایت بھی حجاب میں آگیا جو زمانہ غیبت صغریٰ نائبین کے ذریعہ نفاذ احکام سے مومنین میں پھیلا ہوا تھا اور غیبت کبریٰ واقع ہوگئی ۔

غیبت کبریٰ کا یہ سبب بھی کس قدر روشن اور واضح ہے کہ اگر یہ صورت نہ ہوتی تو دنیا میں خونریزی کا سلسلہ جاری ہوجاتا کیونکہ لوگ جانتے تھے کہ آخری امام کا وجود آخری وقت تک رہنے والا ہے جس میں سارے عالم پر آپ کی حکومت ہوگی اس خوف میں ہرزمانہ کی تمام سلطنتیں اپنے اپنے زوال کے خیال سے حضرت کے مقابلہ میں آتیں چاہیے یہ مدافعانہ لڑائیاں ہوتیں لیکن روئے زمین پر خون کی ندیاں بہتی رہتی حالانکہ اسلامی نظریہ ہمیشہ صلح اور امن پسندی رہا ہے مسلمان ہر ایک انسان کی سلامتی کا خواہاں رہتا ہے مومن دنیا میں بقاء امن وامان کا حامی ہوتا ہے اس لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کسی جنگ کی ابتداء نہیں ہوتی اور تبلیغ اسلام کے واسطے حضرت نے اخلاقی ہتھیاروں کو چھوڑ کر مادی آلات کو استعمال نہیں کیا اور کبھی تلوار نہیں اٹھائی بلکہ جتنی لڑائیاں ہوئیں سب دفاعی اور جوابی کاروائی تھی ۔ حضرت ائمہ طاہرین علیہم السلام کے پیش نظر ہمیشہ دنیا میں امن وامان کے قیام کا مسئلہ رہا ، طرح طرح کی مصیبتیں اٹھائیں مگر صبروتحمل سے کام لیا اپنے حقوق پامال ہوتے دیکھئے مگر صبر کیا۔

۵۸

حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام جن کی تلوار کے جوہر بدر ، احد ، خندق اور خیبر وغیرہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کی لڑائیوں میں یادگار ہیں انہوں نے پچیس برس کی خاموشی سے گزارے اور اپنی حق طلبی کے لئے جنگ پر آمادہ نہ ہوئے کیونکہ جانتے تھے کہ اس سے اسلام کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ حق کا مطالبہ زبانی ہوتا رہا لیکن شمشیر انتقام نیام سے باہر نہ آئی اور کوئی ایسا اقدام نہیں فرمایا جس سے ظاہری امن وامان کو ٹھیس لگے البتہ جب تمام مسلمانوں نے اپنی خوشی سے مملکت کی ذمہ داریاں حضرت کو سپرد کردیں اور کچھ لوگ اپنی ذاتی اغراض ومقاصد کے تحت فتنہ وفساد پر آمادہ ہوئے تو حضرت بھی ان کی شرارتوں کو روکنے اور ان کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے اور جنگ جمل ، صفین اور نہروان میں ہوا جو کچھ ہوا۔

حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے اسی امن وامان کی خاطر معاویہ سے صلح فرمائی باوجودیکہ یہ بات ساتھیوں کو ناگوار ہوئی لیکن حضرت نے اس مخالفت کی کچھ پروا نہ کی اور جنگ کی آگ کو بھڑکنے نہ دیا۔

۵۹

اسی طرح سرکار سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام بھائی کی شہادت کے بعد دس برس خاموش رہے مگر جب یزید پلید نے بیعت کا مطالبہ کیا اور جان کے پیچھے پڑگیا تو حضرت نے بغیر لشکری تیاری کے جس سے امن وامان میں خلل پڑتا تھا فوج یزید کا مقابلہ کیا کربلا کے میدان میں اپنا سارا گھر بار قربان کردیا راہ خدا میں جان دیدی مگر بیعت نہ کی اور اسلام کو موت سے بچالیا۔

حق کبھی باطل کا اتباع نہیں کرسکتا یہ کارنامہ ہے جس سے اسلام زندہ رہا اور حسین علیہ السلام کے نام کا سکّہ ساری دنیا میں چل رہا ہے اور کربلا والوں کی صدائے بازگشت فضاء عالم میں گونچ رہی ہے ،پھر اس قیامت خیز واقعہ کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام سے لیکر امام حسن العسکری علیہم السلام تک سب حضرات کی عمریں مصیبتوں میں گزریں بڑے بڑے مظالم جھیلے مگر کسی وقت لڑائی کا خیال بھی نہ کیا قید خانوں میں رہے مگر صبر کیا ، یہاں تک کہ خفیہ طور پر زہر دے کر شہید کئے گئے ، پس جسطرح ان جملہ حضرات کے پیش نظر امن وامان کا مسئلہ رہا ہے اسی طرح بارہویں امام علیہ السلام کی اس غیبت میں امن وامان کے بقاء کا راز مظہر ہے۔

دشمنوں کا قابو نہیں چلتا خون ریزی کی نوبت نہیں آتی بلکہ جب ظہور ہوگا تب دعوت ایمان کے لئے تلوار نہ اٹھائی جائے گی بلکہ خداوند تعالیٰ کی نشانیاں سامنے آئیں گی اور ان آیاتوبینات سے پوری دنیا روشن ومنوّر ہوں گی ایک ندائے آسمانی بلند ہوگی کہ تمام عالم متوجہ ہوجائے گا کہ حق کیا ہے تو باطل کیا ہے؟

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

اجتماعى خطرات كى شناخت۵،۸;معاشروں كے زوال كے اسباب۵،۸;معاشروں كے منقرض ہونے كے اسباب۵

مشركين مكہ :مشركين مكہ كے رہبروں كا كردارو ۸

نعمت :ائمہعليه‌السلام جيسى نعمت ۱۰

ہلاكت:ہلاكت كے اسباب۷

آیت ۲۹

( جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ )

وہ جہنم جس ميں يہ سب واصل ہوں گے اوروہ بدترين قرارگاہ ہے _

۱_ جہنم ناشكرے رہبروں اور ورغلانے والے بدكار راہنمائوں كا ٹھكانا ہے_

ا لم تر الى الذين ...ا حلّوا قومهم دارالبوار_جهنّم يصلونه

۲_جہنم ، ہلاكت و نابودى كا گھر ہے_دارالبوار_جهنّم يصلونه ''بوار'' كا معنى ہلاكت ہے_

۳_كفر وشرك كے سردارہى اپنى قوم كو دوزخى بنانے كا اصلى سبب ہيں _ا حلّوا قومهم دارالبوار_جهنّم يصلونه

مندرجہ بالا مطلب اس بات پر مبنى ہے كہ جب ''جھنّم يصلونھا'' ،''دارالبوار'' كا بدل ہو _

۴_دوزخ ايك گہرا كنواں ہے_جهنّم يصلونه

''جہنم ''،''جھنام'' كا معرب ہے _جس كامعنى گہرا كنواں ہے (مفردات راغب)

۵_جہنم ،انتہائي برا اور منحوس ٹھكانا ہے_جهنّم يصلونها وبئس القرار

جہنم :جہنم كامنحوس ہونا ۵;جہنم كى صفات۴;جہنم كے موجبات۳;جہنم ميں ہلاكت ۲

جہنمى لوگ:۱

رہبر:ورغلانے والے رہبر جہنم ميں ۱;برے رہبر جہنم ميں ۱;ناشكرے رہبر جہنم ميں ۱;شرك كے رہبروں كا كردارو نقش۳;كفر كے رہبروں كا كردار و نقش۳

۱۰۱

آیت ۳۰

( وَجَعَلُواْ لِلّهِ أَندَاداً لِّيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِهِ قُلْ تَمَتَّعُواْ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ )

اور ان لوگوں نے اللہ كے لئے مثل قرار دئے تا كہ اس كے ذريعہ لوگوں كو بہكا سكيں تو آپ كہہ ديجئے كہ تھوڑے دن اور مزے كرلو پھرتو تمھارا انجام جہنم ہى ہے _

۱_خدا وند متعال كے ساتھ شرك ،اس كى نعمتوں كا كفران اور ناشكرى ہے_

ا لم تر الى الذين بدّلوا نعمت الله كفرًا ...وجعلوالله ا ندادًا

جملہ ''وجعلوالله ا ندادًا''جملہ ''بدّلوا نعمت الله ...''پر عطف ہے اور يہ جملہ نعمت الہى كے تبديل ہونے كى كيفيت كے لئے بيان اور تفسير بن سكتا ہے _

۲_كفر و شرك كے سرداروں كا خدا وند عالم اور توحيد كے راستے سے لوگوں كو بھٹكانے كے لئے خدا كا شريك اور شبيہ بنا كر پيش كرنا_ا حلّوا قومهم دارالبوار ...وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله

اس ايت مجيدہ اور پہلے والى ايات كے سياق سے معلوم ہوتا ہے كہ يہ كفر وشرك كے سرداروں كے بارے ميں ہے _كيونكہ لوگوں كو برے انجام

اور ٹھكانے ميں مبتلا كرنا''ا حلّوا قومهم دارالبوار'' نيز خدا كے لئے شريك بنانااور لوگوں كو راہ خدا سے گمراہ كرنا ''وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيلہ''كفر و شرك كے سرداروں اور رہبروں ہى كا كام ہے_

۳_شرك ايك ايسا من گھڑت مذہب ہے كہ جو خداوند يكتا اور توحيد پر عقيدے كے بعد وجود ميں ايا ہے_

وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله

''جعلوالله ا ندادًا'' يعنى ''خدا كے ساتھ شريك بنانے'' كى تعبيرسے معلوم ہوتا ہے كہ وہ لوگ خداوند متعال كے وجود كے قائل تھے ليكن بعد ميں انہوں نے اس كے ساتھ شريك بنانے شروع كر ديئے_

۴_شرك اور بت پرستى كا مذہب ايجاد كرنے والے خداوند متعال كى توحيد اور بت پرستى كے باطل

۱۰۲

ہونے سے اگاہ تھے_وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله قل تمتّعوا فان مصيركم الى النار

''جعلوالله ا ندادًا'' يعنى ''خدا كے ساتھ شريك بنانے'' كى تعبيرسے اوريہ كہ يہ كام مذہب شرك كے سرداروں اور بنانے والوں سے تعلق ركھتا ہے_ لہذا اس سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ لوگ عمداً اورجان بوجھ كر يہ كام كرتے تھے_

۵_شرك اور بت پرستى كے مذہب كو ايجاد كرنے والوں كا اصلى محرك مادى منافع اور مقام و حكومت حاصل كرنا تھا _

وا حلّوا قومهم ...وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله قل تمتّعوا

جملہ '' فان مصيركم الى النار''سے پہلے جملہ''قل تمتّعوا'' ( كہہ دو فائدہ اٹھا لو)كا لانا ہو سكتا ہے اس بات كى طرف كنايہ ہو كہ اگر چہ تم دنياوى كاميابى اور فائدے كے پيچھے لگے ہوئے ہو ليكن تمہارا راستہ اور انجام دوزخ پر ہى ختم ہوتا ہے_يہ بھى ياد رہے كہ حكومت ومقام تك پہنچنے كا موضوع جملہ ''وا حلّوا قومھم ...''سے اخذ ہوتا ہے_

۶_شرك اور بت پرستى كا مذہب ايجاد كرنے والے حكومت و رياست اور مال و دولت سے بہرہ مند تھے_

وا حلّوا قومهم ...وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله قل تمتّعوا

۷_ دنيا پرست اور مال و دولت كے مالك افراد اپنے مادى مقاصد تك پہنچنے كے لئے بطور ہتھيار دين ميں انحراف پيدا كرنے كا طريقہ اختيار كرتے ہيں _وا حلّوا قومهم ...وجعلوالله ا ندادًا قل تمتّعوا

۸_خدا اور توحيد كے راستے سے لوگوں كو گمراہ كرنے اور مذہب شرك كى ترويج كرنے والوں كى كوشش كا اخرى انجام دوزخ ہے_

وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله فان مصيركم الى النار

الله تعالى :الله تعالى كے ساتھ شريك بنانا۲

جہنمى لوگ:۸

دولت مند لوگ:دولت مندوں كا گمراہ كرنا۷

دنيا پرست لوگ:دنيا پرستوں كا گمراہ كرنا۷

دين:دين ميں انحراف۷

رہبر:شرك كے رہبروں كا محرك۵;شرك كے رہبروں

۱۰۳

كا دولت مند ہونا ۶;شرك كے رہبروں كى دنيا پرستى ۵;شرك كے رہبروں كے گمراہ كرنے كى روش ۲;كفر كے رہبروں كے گمراہ كرنے كى روش ۲; شرك كے رہبر اور بت پرستى كا بطلان ۴;شرك اور توحيد كے رہبر ۴;شرك كے رہبروں كى جاہ پرستي۶

شرك:شرك كے اثرات ۱;شرك كا لغو ہونا ۳;شرك كى پيدائش ۳;شرك كى تاريخ ۳;شرك كى ترويج كا انجام ۸;شرك كے مروجين جہنم ميں ۸

ظالمين :ظالمين كا گمراہ كرنا۷

عقيدہ :عقيدے كى تاريخ ۳

كفران نعمت:كفران نعمت كے موارد۱

گمراہ كرنے والے:گمراہ كرنے والے جہنم ميں ۸

گمراہى :گمراہى كا ہتھيار ۷

لوگ:لوگوں كو گمراہ كرنے كا انجام ۸

آیت ۳۱

( قُل لِّعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُواْ يُقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَيُنفِقُواْ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرّاً وَعَلانِيَةً مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لاَّ بَيْعٌ فِيهِ وَلاَ خِلاَلٌ )

اور آپ ميرے ايماندار بندوں سے كہہ ديجئے كہ نمازيں قائم كريں اور ہمارے رزق ميں سے خفيہ اور علانيہ ہمارى راہ ميں انفاق كريں قبل اس كے كہ وہ دن آجائے جب نہ تجارت كام آئے گى اور نہ دوستي_

۱_پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اقامہ نماز اور مؤمنين پر انفاق كے بارے ميں حكم الہى پہنچانے پر مامور تھے_

قل لعبادى الذين ا منوا يقيموا الصلوة وينفقو

۲_خدا وند متعال كے خاص لطف و عنايت سے بہرہ مندسچے بندے اور مؤمنين اس كى بارگاہ ميں خاص مقام و منزلت ركھتے ہيں _قل لعبادي

مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب '' عبادى '' ميں اضافہ ،تشريفيہ ہو_

۱۰۴

۳_مكہ ميں نماز اور انفاق كا حكم ہجرت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے نازل ہوا تھا _قل لعبادى الذين ء امنوا يقيموا الصلوة وينفقوا

مندرجہ بالا مطلب سورئہ ابراہيم كے مكى ہونے كى وجہ سے اخذ كيا گيا ہے_

۴_تمام الہى فرائض اور شرعى ذمہ داريوں ميں سے نماز قائم كرنے اور انفاق (راہ خدا ميں خرچ )كرنے كو خاص اہميت حاصل ہے_قل لعبادى الذين ء امنوا يقيموا الصلوة وينفقوا

حقيقى بندوں كى صفت ايمان كو بيان كرنے كے بعد اقامہ نماز اور انفاق كا تذكرہ او رتمام فرائض ميں سے فقط ان دوفرائض كو انتخاب كرنے سے مندرجہ بالا مطلب اخذ ہوتا ہے_

۵_جلوت و خلوت ميں نماز قائم كرنا اور راہ خدا ميں خرچ كرنا خداوند متعال كے سچے بندوں كى نشانيوں اور خصوصيات ميں سے ہے_قل لعبادى الذين ء امنوا يقيموا الصلوة وينفقواسرًّا و علانية

۶_ راہ خدا ميں خرچ كرنا خواہ پنہان ہويااشكار ، پسنديدہ اور قابل قدر ہے _قل لعبادي ...وينفقوا ممّا رزقنهم سرًّا و علانية

يہ كہ خداوند متعال نے پنہاں اور اشكار دونوں قسم كے انفاق كى باہم مدح كى ہے اس سے مذكورہ بالا مطلب اخذ ہوتا ہے_

۷_مال ودولت اور ثروت كو خدائي سرچشمہ جانتے ہوئے توجہ كرنے سے انسان كو انفاق اور راہ خدا ميں خرچ كرنے كى تشويق ہوتى ہے_قل لعبادي ...وينفقوا ممّا رزقنهم

يہ كہ خداوند متعال نے انسان كے مال ودولت اور وسائل كى نسبت اپنى طرف دى ہے اور اسے خداداد ، رزق كہا ہے تو اس سے مذكورہ بالا مطلب اخذ كى جاسكتا ہے_

۸_پنہانى طور پر انفاق كرنا ،اشكار انفاق كرنے سے كہيں زيادہ پسنديدہ اور قدر ومنزلت كا حامل ہے_*

وينفقوا ممّا رزقنهم سرًّا و علانية

مذكورہ بالا ايت مجيدہ ميں اشكار انفاق پر مخفى انفاق كا مقدم ہونا ممكن اس حقيقت كو بيان كررہا ہو كہ مخفى انفاق چونكہ دكھاوے اور نفاق سے خالى ہوتا ہے لہذا زيادہ پسنديدہ اور قدر و منزلت كا حامل ہے_

۹_انسان كے تمام مادى اور معنوى وسائل ،خدائي رزق وروزى شمار ہوتے ہيں اور اسى كى جانب سے ہيں _

ينفقوا ممّا رزقنهم

۱۰۵

جملہ '' مّا رزقنھم''عام ہے او ر انسان كے تمام وسائل كو شامل ہے خواہ وہ مال ودولت جيسے مادى وسائل ہوں يا علم وغير جيسے معنوى وسائل_

۱۰_انسان قرب و منزلت الہى كے جس مر حلے پر بھى پہنچ جائے اسے عبادت ( نماز وغيرہ ) اور خدمت خلق (انفاق) كى ضروت ہوتى ہے_قل لعبادى الذين ء امنوا يقيموا الصلوة وينفقوا ممّا رزقنهم

''يائے '' متكلم كى طرف ''عباد'' كا اضافہ ،تشريفيہ ہے اور بارگاہ خدا وندى ميں بندوں كے قرب اور منزلت كو بيان كر رہا ہے _بنا بريں ان كو خداوند كى جانب سے نماز قائم كرنے اور انفاق كرنے كے فرمان سے ظاہر ہوتا ہے كہ بندہ قرب الہى كے مقام تك پہنچ جانے كے باوجود ان دو فرائض ،(نماز اور انفاق) كو انجام دينے كا محتاج ہے_

۱۱_فقط وہى وسائل اور ما ل و دولت ،رزق وروزى خدا شمار ہوتا ہے اور انفاق كے قابل ہے كہ جو فرمان الہى كے مطابق حاصل كيا گيا ہو_ينفقوا ممّا رزقنهم

جملہ '' ممّا رزقنھم''انفاق كے لئے قيد كى حيثيت ركھتا ہے _يعنى اس مال سے انفاق كرو كہ جوہم نے چاہا ہے اور تمہيں عطا كيا ہے نہ كسى اور مال سے_

۱۲_انسان كے نيك اعمال(نماز و انفاق وغيرہ ) خداوند متعال كے ساتھ لين دين اور دوستى كى حيثيت ركھتے ہيں _

يقيموا الصلوة وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۳_خداو ند متعال ، اپنے خالص بندوں اورمؤمنين كو موت اجانے سے پہلے اپنے اموال سے انفاق كرنے كى دعوت ديتا ہے_قل لعبادى الذين ء امنوا ...وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۴_موت كے انے سے پہلے دنيوى وسائل اور فرصتوں سے استفادہ كرنا ضرورى ہے _

يقيموا الصلوة وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۵_فقط دنيا كى زندگى ہى عمل كا ميدان اور اخروى سعادت حاصل كرنے كا مقام ہے _

يقيموا الصلوة وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۶_عالم اخرت ،كسى قسم كى كوشش ،معاملے اور دوستانہ رابطے كى جگہ نہيں اور وہ انسان كے لئے كار امد نہ ہوگي_

يقيموا الصلوة وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۰۶

۱۷_''عن ا بى عبدالله عليه‌السلام قال: ...ولكنّ الله عزّوجلّ فرض فى ا موال الا غنياء حقوقاً غير الزكاة و قد قال الله عزّوجلّ: ''ينفقوا ممّا رزقنهم سرًّا و علانية '' ...;(۱) امام صادقعليه‌السلام سے منقول ہے كہ اپعليه‌السلام نے فرمايا: ليكن خداوند عزوجل نے دولت مندوں كے اموال ميں زكوة كے علاوہ بھى كچھ حقوق واجب كيئے ہيں : ...اور خدا وند متعال نے فرمايا ہے:''ينفقوا ممّا رزقنهم سرًّا و علانية ''_

اخرت :اخرت ميں دوستي۱۶;اخرت ميں تعلقات توڑنا ۱۶ ; اخرت ميں معاملہ۱۶;اخرت كى خصوصيات ۱۶

انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :انحضر تصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رسالت ۱

احكام:۱۷

الله تعالى :الله تعالى كى دعوتيں ۱۳;الله تعالى كے ساتھ دوستى ۱۲;الله تعالى كى رزاقيت ۹;الله تعالى كى روزى ۱۱;الله تعالى كى خاص عنايت۲;الله تعالى كے ساتھ معاملہ ۱۲

الله تعالى كا لطف:الله تعالى كا لطف جن كے شامل حال ہے ۲

الله تعالى كے بندے:الله تعالى كے بندوں كا تقرب ۲;الله تعالى كے بندوں كو دعوت ۱۳;الله تعالى كے بندوں كى نشانياں ۵

انسان:انسانوں كى خدمت ۱۰; انسان كى معنوى ضروريات ۱۰

انفاق:اشكارا نفاق كى قدرومنزلت۶،۸;مخفى انفاق كى قدرو منزلت۶،۸،حلال سے انفاق ۱۱;موت سے پہلے انفاق۱۳;واجب ا نفاق۱۷;انفاق كى اہميت ۱،۴،۱۲;اشكار انفاق كى اہميت ۵;پنہان انفاق كى اہميت ۵;تشريع انفاق كى تاريخ ۳;مكہ ميں انفاق كى تشريع ۳;انفاق كى دعوت ۱۳;انفاق كا پيش خيمہ ۷;انفاق كى شرائط ۱۱

تحريك:تحريك كرنے كے عوامل ۷

ذكر:سر چشمہ ثروت كو ذكركرنے كے اثرات ۷

روايت:۱۷

____________________

۱)كافى ،ج۳،ص۴۹۸،ح۸;تفسير برہان ،ج۲، ص۷ ۳۱، ح۱_

۱۰۷

روزي:روزى كا سر چشمہ ۹

سعادت:دنيوى سعادت كا پيش خيمہ ۱۵

شرعى فريضہ:اہم ترين شرعى فريضہ ۴

ضروريات:انفاق كى ضرورت ۱۰;عبادت كى ضرورت ۱۰;نماز كى ضرورت ۱۰

عمل:پسنديدہ عمل كى اہميت ۱۲;پسنديدہ عمل ۶;عمل كى فرصت ۱۵

فرصت:فرصت سے استفادے كى اہميت ۱۴

فقرا:فقرا كے حقوق ۱۷

مادى وسائل:مادى وسائل سے استفادہ۱۴;مادى وسائل كا سر چشمہ ۹

مالك:حقيقى مالك ۷

معنوى وسائل:معنوى وسائل كا سر چشمہ ۹

مؤمنين :مؤمنين كا تقرب ۲;مؤمنين كو دعوت ۱۳;مؤمنين كا مقام و مرتبہ ۲;مؤمنين كى نشانياں ۵

مقربين :۲

مقربين كى ضروريات ۱۰

نماز:نماز قائم كرنے كى اہميت ۱،۴،۵;نمازكى اہميت ۱۲;نماز كى تشريع كى تاريخ ۳;نماز كى مكہ ميں تشريع ۳

واجبات:مالى واجبات۱۷

۱۰۸

آیت ۳۲

( اللّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّكُمْ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الأَنْهَارَ )

اللہ ہى وہ ہے جس نے آسمان و زمين كو پيدا كياہے اور آسمان سے پانى برسا كر اس كے ذريعہ تمھارى روزى كے لئے پھل پيدا كئے ہيں اور كشتيوں كو مسخر كرديا ہے كہ سمندر ميں اس كے حكم سے چليں اور تمھارے لئے نہروں كو بھى مسخر كرديا ہے _

۱_فقط خدا وند عالم ہى اسمانوں اور زمين كا خالق اور اسمان سے بارش برسانے والا ہے _

لله الذى خلق السموت والا رض وا نزل من السّماء ماء

مسند اليہ اور مسند يعنى ''الله '' اور'' الذي'' كا معرفہ ہونا حصر پر دلالت كرتا ہے_

۲_اسمانوں اور زمين كى خلقت خداوند متعال كى توحيد كى دليل اور علامت ہے_الله الذى خلق السموت والا رض

۳_عالم خلقت ميں متعدد اسمانوں كا موجود ہونا _السموت

۴_پانى مايہ حيات اورپودوں ، پھلوں اور نباتات كے اگنے كا سبب ہے_وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات

۵_پانى كا اصلى منبع ،اسمان ہے_وا نزل من السّماء ماء

۶_انسان كے رزق اور روزى كا پودوں ،نباتات اور پھلوں كے اگنے سے پورا ہونا_فا خرج به من الثمرات رزقًالكم

۷_بارش كا برسنا اور پودوں اور پھلوں كا اگنا خداوند متعال كى توحيد كى دليل اور علامت ہے_

الله الذى خلق السموت والا رض وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات

۸_پھل، پودے اور انسان كى روزى ورزق كا پورا ہونا ،بندوں پرنعمت و لطف الہى كا ايك مظہرہے جو شكر وسپاس كے لائق ہے_الله الذى خلق السموت والا رض وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات رزقًالكم

ايت مجيدہ نعمات الہى كو شمار كر كے مقام احسا ن مندى اور شكر گذارى كو بيان كر رہى ہے اور ايت كا لب ولہجہ بندوں كو نعمات الہى كے سامنے شكر و سپاس كرنے كى تشويق كر رہاہے_ يا درہے كہ دو ايات كے بعد (ايت ۳۴) بھى اس مطلب كى تائيد كرتى ہيں _

۱۰۹

۹_عالم طبيعت پر نظام ''علت ومعلول '' كا حاكم ہونا_وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات رزقًالكم

۱۰_طبيعى عوامل كے ذريعے ہى فعل خدا انجام پاتا ہے_وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات

يہ كہ كائنات كى تمام موجودات فرمان خداوند متعال كے تحت اور اسى كے ارادے سے وجود حاصل كرتى ہيں ،اس كے باوجود خد اوند متعال نے پانى كو پودوں اور نباتات كا سر چشمہ قرار ديا ہے _يہى حقيقت مندرجہ بالا مطلب كو بيان كر رہى ہے_

۱۱_خداوند متعال كى جانب سے انسان كے فائدے اور بہر ہ مند ہونے كے لئے كشتيوں كا مسخر اور مطيع ہونا_

وسخّرلكم الفلك

۱۲_حكم خدا وند كى وجہ سے كشيتوں كا حركت كرنا اور انسانوں كے سامنے ان كا مسخر ہونا _

وسخّرلكم الفلك لتجرى فى البحر با مره

۱۳_انسان كے لئے سمندر اور كشتى رانى كانہايت اہم كردار ادا كرنا_وسخّرلكم الفلك لتجرى فى البحر با مره

۱۴_انسان كے فائدے كے لئے خدا وند متعال كا نہروں اور دريائوں كو مسخر كرنا_وسخّرلكم الا نهار

۱۵_خدا وند متعال ،انسان كو كشتى رانى اورجہاز رانى كى تربيت حاصل كرنے اور سمندروں ودريائوں سے بہتر استفادہ كرنے كى تشويق كرتا ہے_وسخّرلكم الفلك لتجرى فى البحر با مره وسخّرلكم الا نهار

انسان كے لئے سمندر اور كشتى كے مسخر ہونے سے مراد، ان سے بہرہ مند ہونے كى استعداد اور ضرورى وسائل كا فراہم ہونا ہے _اس استعداد اور اسباب سے انسا ن كو اپنى علمى كوشش اور محنت سے استفادہ كرنا چاہيے_

۱۶_انسان كے لئے دريائوں اور نہروں كا نہايت اہم

۱۱۰

كردار ادا كرنا_وسخّرلكم الا نهار

۱۷_دريائوں اور نہروں كا مسخر اور مطيع ہونا بندوں پر خداوند عالم كى نعمت اور عنايت كا قابل شكر و سپاس مظہر ہے _

وسخّرلكم الا نهار

۱۸_انسان كے لئے كشتيوں ،نہروں اور دريائوں كو مسخر و مطيع بنانا ،توحيد خداوند كى دليل اور نشانى ہے_

الله الذى خلق وسخّرلكم الفلك لتجرى فى البحر با مره وسخّرلكم الا نهار

اسمان:اسمانوں كا متعدد ہونا۳;اسمانوں كا خالق۱; اسمانوں كى خلقت۲;اسمانوں كے فوائد۵

الہى نشانياں :افاقى نشانياں ۲،۷،۱۸

الله تعالى :الله تعالى سے مختص چيزيں ۱;الله تعالى كے افعال ۱۱ ،۱۴;الله تعالى كے اوامر ۱۲;الله تعالى كى تشويق ۱۵ ;الله تعالى كى خالقيت ۱;الله تعالى كے افعال كے مجارى ۱۰;الله تعالى كے لطف كى نشانياں ۸، ۱۷; الله تعالى كى نعمتيں ۸،۱۷

انسان:انسان كے فضائل۱۱،۱۴

بارش:بارش كا سر چشمہ ۱;بارش كا كردار۷

پاني:پانى كے فوائد ۴;پانى كے منابع۵

پودے:پودے اگنے كے اسباب ۴;پودوں كے اگنے كا فلسفہ۶;پودوں كے اگنے كے اثرات۷

پھل:پھلوں كے اگنے كے اسباب ۴;پھلوں كے اگنے كا فلسفہ۶;پھلوں كے اگنے كے اثرات۷

توحيد:توحيد كے دلائل ۲،۷،۱۸

جہاز راني:جہاز رانى كى تشويق۱۵

حيات:حيات كے عوامل۴

خلقت:خلقت كا باضابطہ ہون

دريا:دريائوں كى تسخير۱۸

۱۱۱

روزي:روزى كے اسباب ۶

زمين :زمين كا خالق ۱;زمين كى خلقت ۲

سمندر:سمندر سے استفادہ ۱۵;سمندر كے فوائد ۱۳

شكر :شكر نعمت كى اہميت ۸،۱۷

طبيعى عوامل:طبيعى عوامل كا كردار۱۰

كشتي:كشتيوں سے استفادہ ۱۱;كشتيوں كى تسخير ۱۸; كشتيوں كى تسخير كا فلسفہ ۱۱;كشتيوں كى تسخير كا سر چشمہ۱۲;كشتيوں كى حركت كا سرچشمہ۱۲

كشتى راني:كشتى رانى كى اہميت ۱۳;كشتى رانى كى تعليم۱۵

نظام عليت:۹

نعمت:نہروں كى تسخير كى نعمت ۱۷;پودوں كى نعمت ۸; پھلوں كى نعمت۸

نہر:نہروں سے استفادہ ۱۵;نہروں كى اہميت ۱۶ ; نہروں كى تسخير ۱۴،۱۸;نہروں كے فوائد ۱۶

آیت ۳۳

( وَسَخَّر لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَينَ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ )

اور تمھارے لئے حركت كرنے والے آفتاب و ماہتاب كو بھى مسخر كردياہے اور تمھارے لئے رات اور دن كو بھى مسخر كرديا ہے _

۱_خدا وند متعال(ہي) انسان كے فائدے كے لئے سورج اور چاند كو مطيع كرنے والا ہے _

وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين

۲_سورج اور چاند ايك معين اور دائمى حالت ميں حركت كر رہے ہيں _وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين

۱۱۲

'' دائبين ''،مادہ '' دائب '' سے ''دا،ب ''كا تثنيہ ہے جس كا معنى ايك دائمى عادت اور حالت ہے_(مفردات راغب)_

۳_خداوند متعال (ہي) انسان كى بہرہ مندى كے لئے دن اور رات كو مسخر كرنے والا ہے_وسخّرلكم الّيل والنهار

۴_انسان كے لئے دن ، رات اور چاند اور سورج كو مطيع كرنا ،توحيد خدا وند كى دليل ہے_

الله الذى خلق ...وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

۵_ سورج ،چاند اور دن اور رات كا انسان كے لئے مطيع ہونا ،بندوں پرنعمت و لطف الہى كا ايك مظہرہے جو شكر وسپاس كے لائق ہے_الله الذى خلق ...وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

آيت مجيدہ نعمات الہى كو شمار كر كے مقام احسا ن مندى اور شكر گذارى كو بيان كر رہى ہے اور آيت كا لب ولہجہ بندوں كو پرورد گار كى نعمات كے سامنے شكر و سپاس كرنے كى تشويق كر رہاہے_ ياد رہے كہ بعدوالى آيت ميں جملہ(انّ الانسن لظلوم كفّار ) بھى اس مطلب كى تائيد كررہا ہے_

۶_تمام ( مؤمن و كافر ) انسان ،عالم طبيعت سے بہرہ مند ہونے كا حق ركھتے ہيں _

الله الذى خلق ...رزقًالكم ...وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

۷_نظام خلقت كا با ضابطہ ،با مقصد اور منظم ہونا _

الله الذى خلق السموت والا رض رزقًالكم وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

۸_ مادى دنيا(اسمان،زمين ،چاند،سورج اوربارش وغيرہ )كے نظام خلقت كا انسان كى خدمت ميں اور اس كى ضروريات ،خواہشات اور مصلحتوں كے مطابق ہونا_

الله الذى خلق السموت والا رض رزقًالكم وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

يہ جو خداوند متعال نے فرمايا ہے كہ ميں نے اسمان،زمين ،چاند،سورج وغيرہ كوانسان كے لئے مسخر و مطيع كر ديا ہے _اس سے معلوم ہو تا ہے كہ يہ سب چيزيں انسان كى خلقت اور اس كى ضروريات كے ساتھ ہم اہنگ ہيں _

۹_انسان، نظام خلقت اور مادى دنيا كى انتہائي با شرافت اور بلند مر تبہ مخلوق ہے_

الله الذى خلق السموت والا رض رزقًالكم وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

يہ كہ اسمان،زمين ،چاند،سورج وغيرہ اپنى تمام تر عظمت كے ساتھ انسان كے لئے مطيع بنا ديئے

۱۱۳

گئے ہيں اس سے معلوم ہوتا ہے كہ انسان ان سب سے زيادہ باعظمت اور قابل قدر مخلوق ہے يا كم از كم ايك خاص شرافت اور مرتبے كا حامل ہے_

۱۰_سمندر ،دريا ،سورج ،چاند اور دن ،رات ميں سے ہر ايك معرفت خدا كى الگ نشانى اور انسان كى ضروريات ميں سے كسى ايك ضرورت كو پورا كرنے والى چيز ہے_

وسخّرلكم الفلك ...وسخّرلكم الا نهار_وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

خلقت:خلقتاور انسانى مصلحتيں ۸; خلقتاور انسانى ضروريات ۸ ;خلقت كا باضابطہ ہونا ۷ ; موجودات خلقت۹;نظم خلقت ۷; خلقتكا بامقصد ہونا ۷; خلقتكى ہم اہنگي۸

الله كى نشانياں :افاقى نشانياں ۴،۱۰

الله تعالى :الله تعالى كے افعال ۱،۳;الله تعالى كى معرفت كے دلائل ۱۰;الله تعالى كے لطف كى نشانياں ۵;الله تعالى كى نعمتيں ۵

انسان:انسان كے حقوق ۶;انسان كى عظمت ۹;انسان كے فضائل۱،۳،۸،۹;انسانى ضروريات پورى ہونے كے منابع۱۰;انسانى ضروريات۳

توحيد:توحيد كے دلائل ۴

چاند:چاند كى گردش كا دوام ۲;چاند كى تسخير ۱،۴،۵ ; چاندكا كردار ۱۰

حقوق :حق تمتع ۶

دن:دنوں كى تسخير ۳،۵;دنوں كى تسخير كا كردار ۴ دنوں كا كردار ۱۰

رات:رات كى تسخير ۳،۴،۵;رات كا كردار۱۰

سمندر:سمندروں كا كردار ۱۰

سورج:سورج كى گردش كا داوم ۲;سورج كى تسخير ۱،۴، ۵; سورج كا كردار۱۰

شكر:شكر نعمت كى اہميت ۵

۱۱۴

ضروريات:ضروريات پورى ہونے كے منابع ۱۰

طبيعت:طبيعت سے استفادہ۶

نہر:نہروں كے فوائد ۱۰;نہروں كا كردار۱۰

آیت ۳۴

( وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَتَ اللّهِ لاَ تُحْصُوهَا إِنَّ الإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ )

اور جو كچھ تم نے مانگا اس ميں سے كچھ نہ كچھ ضرور ديا اور اگر تم اس كى نعمتوں كو شمار كرنا چاہو گے تو ہر گز شمار نہيں كرسكتے بيشك انسان بڑا ظالم اور انكار كرنے والاہے _

۱_خداوند متعال نے انسان كے وجود كے لئے تمام ضرورى چيزيں ،اسے عطا كر دى ہيں _

وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

جملہ ''ما سا لتموہ'' ميں سوال كے بارے ميں دو احتمال ہيں :ايك زبانى دعا اور درخواست كے معنى ميں سوال كرنا،دوسرا انسانى وجود اور طبع كا سوال اور درخواست كرنا ;يعنى بشر كو اپنى طبيعت اور وجود ميں ايك مستقل موجود كى حيثيت سے جس چيز كى ضرورت ہے وہ خدا نے اسے عطا كر دى ہے_مندرجہ بالا مطلب اسى دوسرے احتمال پر مبنى ہے_

۲_انسان اپنى تمام ضروريات كو پورا كرنے ميں خداوند متعال كا محتاج ہے_وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

يہ جو خدا وند عالم نے فرمايا ہے كہ ميں نے تمہارى تمام ضروريات اور تقاضوں كو پورا كر ديا ہے ،انسان كے اپنى تمام ضروريات كو برطرف كرنے ميں محتاج ہونے كى دليل ہے_

۳_خداو ند متعال ،انسان كى ضروريات اور خواہشات سے اگاہ اور انہيں پورا كرنے پر قادر ہے_

وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

چونكہ خدا وند عالم نے انسان كى تمام ضروريات كو پورا كر ديا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ ان ضروريات سے اگاہ اور انہيں عطا كرنے پر قادر (بھى ) ہے_

۱۱۵

۴_خدا وند تعالى نے انسان كى درخواستوں اور تقاضوں ميں سے بعض اسے عطا كر دى ہيں _وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

مندرجہ بالا مطلب اس بات پر مبنى ہے كہ جب ''من كل'' ميں ''من''تبعيض كے لئے ہو اور جملہ '' سا لتموہ'' ميں سوال سے مراد زبانى سوال اور تقاضا ہونہ وجودى تقاضے اور درخواستيں _

۵_بشر كى تمام مادى ضرورتيں اور تقاضے عالم طبيعت ميں موجود ہيں _وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

۶_انسان بے شمار الہى نعمتوں اور احساسات سے بہرہ مند ہے_وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

۷_انسان كو عطا شدہ الہى نعمتيں ہرگز شمار نہيں كى جا سكتيں _وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

۸_انسان كا تمام الہى نعمتوں كى شناخت سے عاجز ہونا_وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

نعمات الہى كو شمار كرنے سے انسان شايد اس وجہ سے عاجز ہو_ چونكہ وہ خدا كى بہت سى نعمتوں كى شناخت نہيں كر سكتاچہ جائيكہ وہ ان سب كو گن لے_

۹_ہر وہ چيز كہ جو خدا وند متعال نے بشر كى ضروريات اور تقاضوں كو پورا كرنے كے لئے اسے عطا كى ہے وہ اس كى نعمت اور مہربانى ہے _وء اتكم من كلّ ما سا لتموه وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

يہ كہ خدا وند متعال نے انسان كو اپنى عطا كردہ چيزوں كو (وء اتكم من كلّ ما سا لتموه ) نعمت كہا ہے (وان تعدّوا نعمت الله )اس سے مندرجہ بالا مطلب اخذ ہو تا ہے_

۱۰_انسان كوخداو ند عالم كا خاص لطف اور كرم شامل ہے اور وہ اس كى بار گاہ ميں خصوصى مقام و مرتبہ ركھتا ہے_

وء اتكم من كلّ ما سا لتموه وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

۱۱_انسان كے وجود كے لئے ضرورى تمام تقاضوں كو پورا كرنا اور اسے بے شمار نعمتوں سے بہرہ مند كرنا ،خداوند كى توحيد ربوبى كى دليل ہے_الله الذى خلق السموت والا رض ...وء اتكم من كلّ ما سا لتموه وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

۱۲_خدا وند متعال كى جانب سے انسان كے تمام تقاضوں اور درخواستوں كے قبول نہ ہونے كا (ايك ) سبب انسان كا ظلم اور ناشكراہونا ہے_وء اتكم من كلّ ما سا لتموه ...انّ الانسن لظلوم كفّار

۱۱۶

مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر ہے كہ جب '' من كلّ'' ميں '' من '' تبعيض كے لئے ہو اور سوال سے مراد زبانى درخواست ہو نيز جملہ ''انّ الانسن لظلوم كفّار ''پہلے جملوں كى علت بيان كر رہا ہو_

۱۳_انسان خدا كى بے انتہا نعمتوں كے مقابلے ميں بہت ظلم كرنے والا اور نا شكرا ہے_

وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

''ظلوم '' اور ''كفار'' مبالغے كے صيغے ہيں اوراپنے معنى كى كثر ت اور فروانى پر دلالت كرتے ہيں _

۱۴_انسان اپنے اوپر ظلم كرنے والا اور نعمت و نيكى كے مقابلے ميں انتہائي ناشكرا ہے_

وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

انسان كو عطا شدہ الہى نعمتوں اور عطائوں كے بيان كے قرينے سے ''ظلوم ''سے مراد انسان كا اپنے اوپر ظلم كرنا ہے_

۱۵_الہى نعمتوں كے مقابلے ميں شكر و سپاس ضرورى ہے_

وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

جملہ '' انّ الانسن لظلوم كفّار '' نعمات الہى كا شكر بجا نہ لانے اور ظلم كرنے كى برائي كو بيان كر رہا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ الہى نعمات كے مقابلے ميں شكر و سپاس ،ايك ضرورى امر ہے چونكہ يہ اگر ضرورى نہ ہوتا تو اس كا ترك كرنا بھى ناپسنديد ہ اور برا نہ ہوتا_

۱۶_نيكى اور نعمت كے مقابلے ميں ناشكرى كرنا، ايك انتہائي ناپسنديدہ اور قابل مذمت كام ہے_

وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

۱۷_الہى نعمتوں كا كفرا ن كرنا اورشكربجا نہ لانا،اپنے اوپر ظلم ہے_وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

۱۸_اپنے ساتھ ظلم كرنا اور ناشكرا ہونا، ايك طرح سے انسان كى طينت بن چكا ہے_انّ الانسن لظلوم كفّار

اپنے اپ:اپنے اپ پر ظلم ۴۱،۱۷،۱۸

الله تعالى :الله تعالى كى نعمتوں كى شناخت ۸;الله تعالى كے عطايا ۱،۴;الله تعالى كا علم غيب۳;الله تعالى كى قدرت ۳;الله تعالى كى نيكى كے موارد ۹;الله تعالى كى نعمتوں كے موارد ۹;الله تعالى كى نعمتوں كى فراواني۷،۱۳

۱۱۷

الله تعالى كا لطف:الله تعالى كا لطف جن كے شامل حال ہے ۱۰

انسان:انسان كى بعض ضروريات كا پورا ہونا ۴;انسان كى ضروريات كا پورا ہونا۹،۱۱;انسان كى صفات ۱۳،۱۴;انسان كى طبيعت۱۸;انسان كا ظلم ۳۱، ۱۴ ، ۱۸ ; انسان كا عجز ۸;انسان كے فضائل ۶،۱۰ ; انسان كا كفران نعمت كرنا ۱۳،۱۴;انسان كى ضروريات كے پورا ہونے كا سر چشمہ ۱،۲، ۳; انسان كى نعمتيں ۶;انسان كى مادى ضروريات۵

توحيد:توحيد ربوبى كے دلائل ۱۱

دعا:قبوليت دعا كے موانع ۱۲

شكر:شكر نعمت كى اہميت ۱۵

ضروريات:ضروريات پورى ہونے كے منابع ۵;ضروريات پورى ہونے كا سرچشمہ۱،۲،۳،خدا كى ضرورت۲

ظلم :ظلم كے اثرات ۱۲

كفران نعمت:كفران نعمت كے اثرات ۱۲،۱۷;كفران نعمت پر سر زنش ۱۶;كفران نعمت۱۸;كفران نعمت كا ناپسنديدہ ہونا ۱۶

نعمت:نعمت جن كے شامل حال ہے ۶

آیت ۳۵

( وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَـذَا الْبَلَدَ آمِناً وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الأَصْنَامَ )

اور اس وقت كو ياد كرو جب ابراہيم نے كہا كہ پروردگار اس شہر كو محفوظ بنادے اور مجھے اور ميرى اولاد كو بت پرستى سے بچائے ركھنا_

۱_ حضرت ابراہيمعليه‌السلام كى زندگى اور دعا كرنے كا انداز اور كيفيت ،سبق اموزاور قابل ذكر ہے_

واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

'' واذ قال'' ،'' اذكر '' سے متعلق ہے يا ''اذكروا '' تقدير ميں ہے_واضح ہے كہ حضرت ابراہيمعليه‌السلام كے قصے كى ياد دلانااس كے بااہميت اور سبق اموز ہونے كو ظاہر كرتا ہے_

۱۱۸

۲_حضرت ابراہيمعليه‌السلام نے خدا وند متعال سے سر زمين مكہ كى امنيت كے لئے دعا كى _

واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

۳_حضرت ابراہيمعليه‌السلام نے خداوند متعال سے حرمت مكہ كى حفاظت اور امنيت كے لئے قوانين وضع كرنے كى درخواست كى _واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

مندرجہ بالا مطلب اس بات پر مبنى ہے كہ جب ''اجعل'' سے تشريعى جعل مرادہو جيسا كہ اسلام ميں اسى سلسلے ميں متعدد قوانين وضع ہوئے ہيں _

۴_مكہ ،امن الہى كا حرم ہے_ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

تمجيد كى زبان ميں حضرت ابراہيمعليه‌السلام كى دعا نقل كرنا ،خداوند كى جانب سے اس دعا كے قبول ہونے كو ظاہر كرتا ہے_

۵_حضرت ابراہيمعليه‌السلام نے خداوند متعال سے مكہ كے امن و امان اور مذہب شرك اور بت پرستى كے نفوذ سے محفوظ رہنے كى دعا كى _*واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

حضرت ابراہيمعليه‌السلام كا اپنے اور اپنے خاندان كے بارے ميں شرك كى طرف ميلان سے محفوظ رہنے كى دعا كرنا ،اس بات كا قرينہ ہو سكتا ہے كہ مكہ كى امنيت سے مراداس كا مذہب شرك اور بت پرستى كے شر سے محفوظ ہونا ہے_

۶_خداوند متعال كو ''رب'' كے نام سے پكارنا،دعا كے اداب ميں سے ہے_ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

۷_حضرت ابراہيمعليه‌السلام كے زمانے ميں مكہ شہرى ابادى پر مشتمل تھا _واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

۸_ حضرت ابراہيمعليه‌السلام كا مكہ كى امنيت اور حرمت كى طرف خاص توجہ دينا _

واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

يہ كہ حضرت ابراہيمعليه‌السلام نے اپنى دعا ميں پہلے مكہ شہر كى امنيت كا مسئلہ پيش كيا ہے اور اسے اپنى اولاد كى ہدايت پر مقدم ركھا ہے ،ان كے نزديك مكہ كے امن وامان كى اہميت اور اس مسئلے كى طرف ان كى خاص توجہ كو ظاہر كرتا ہے_

۹_ پر امن اور مطمئن جگہ پرزندگى گذارنا اہميت اور قدر ومنزلت ركھتا ہے_ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

۱۰_حضرت ابراہيمعليه‌السلام كاخداوند متعال سے اپنے اور اپنى اولاد كے بت پرستى كى طرف رجحان سے محفوظ

۱۱۹

رہنے كى دعا كرنا_واذقال ابراهيم رب ...اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

۱۱_الہى حقائق تك پہنچنے اور ہدايت پانے كے اسباب فراہم ہونے كے لئے زندگى گذارنے كى جگہ كے پر امن اور قابل اطمينان ہونے كا موثر ہونا_واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا و اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

حضرت ابراہيمعليه‌السلام كے اپنى اولاد كے لئے ھدايت كى دعا مانگنے سے پہلے ان كے محل سكونت (مكہ شہر) كى امنيت كى دعا كرنے سے مذكورہ بالا مطلب حاصل ہوتا ہے_

۱۲_اپنى اولاد كے لئے دعا اور ان كى اخروى عاقبت اور ديانت وسعادت كى طرف توجہ ايك اہم اور قابل قدر مسئلہ ہے_

واذقال ابراهيم رب اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

۱۳_اہل مكہ كے لئے دعا كے وقت حضرت ابراہيمعليه‌السلام كى ايك سے زيادہ اولاد تھي_

واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا و اجنبنى وبنّي

۱۴_حضرت ابراہيمعليه‌السلام كے زمانے كے لوگ ،بت پرست تھے اور وہ چند بتوں كى پوجا كرتے تھے_

واذقال ابراهيم ربّ اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

۱۵_موحد ہونے اور شرك سے مكمل طور پر محفوظ رہنے كے لئے توفيق خدا اور اسكى مدد كى ضرورت ہے_

و اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

مندرجہ بالا مطلب اس دليل پر مبنى ہے كہ حضرت ابراہيمعليه‌السلام خدا كے عظيم (اولواالعزم) نبى ہونے كے باوجود خداوند متعال سے اپنے اور اپنى اولاد كے شرك سے محفوظ رہنے كى دعا كر تے ہيں _

۱۶_''عن ا بى عبدالله عليه‌السلام ...قال: ...ان الله ا مر ابراهيم عليه‌السلام ا ن ينزل اسماعيل بمكة ففعل فقال ابراهيم: ''ربّ اجعل هذا البلد ء امنًا و اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام'' فلم يعبد ا حد من ولد اسماعيل صنماًقطّ ...، (۱) امام صادقعليه‌السلام فرماتے ہيں : بہ تحقيق خدا وند متعال نے ابراہيمعليه‌السلام كو حكم ديا كہ وہ اسماعيلعليه‌السلام كو مكہ ميں اباد كريں _پس ابراہيمعليه‌السلام نے اس حكم كو انجام دينے كے بعد كہا: ''ربّ اجعل ھذاالبلد ء امنًا و اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام'' _ لہذااسماعيلعليه‌السلام كى كسى بھى اولاد نے كبھى كسى بت كى پرستش نہيں كي ...''

____________________

۱) تفسير عياشى ،ج۲،ص۲۳۰،ح۳۱;نور الثقلين ،ج۲ ،ص ۶ ۵۴،ح۹۶_

۱۲۰

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138