احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)17%

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق) مؤلف:
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 326

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 326 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 211884 / ڈاؤنلوڈ: 4588
سائز سائز سائز
احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

مبطلات نماز کے احکام:

بات کرنا:

١۔اگر نماز گزار عمداًکوئی لفظ کہیز اور اس کے ذریعہ کسی معنی کو پہنچاناچاہے تو اس کی نماز باطل ہے۔(١)

٢۔اگر نماز گزار عمداًکوئی لفظ کہے اور یہ لفظ دویا دوسے زائد حروف پر مشتمل ہو، اگرچہ اس کے ذریعہ کسی معنی کو پہنچانا مقصدنہ ہو، احتیاط واجب کی بناپر اسے نماز دوبارہ پڑھنی چاہئے۔(٢) ٭٭

٣۔نماز میں کسی کو سلام نہیں کرنا چاہئے لیکن اگر کسی نے نماز گزار کوسلام کیا تو واجب ہے اس کا جواب دیدے اور چاہئے کہ سلام کو مقدم قراردے.مثلاً کہے:

''السلام علیک'' یا'' السلام علیکم''''علیکم السلام''نہ کہے.(٣) ٭٭٭

____________________

(١)توضیح المسائل،ص١٥٤

(٢) توضیح المسائل،م ١٥٤.

(٣) توضیح المسائل،م١١٣٧.

*(گلپائیگانی، اراکی) اگر وہ لفظ دوحرف یا اس سے زیادہ ہوتو (توضیح المسائل ص ١٩٩)

٭٭(خوئی) اس کی نماز باطل نہیں ہے لیکن نماز کے بعد سجدہ سہو بجالانا لازم ہے (مسئلہ ١١٤١)

٭٭٭(اراکی۔ گلپائیگانی) اسی صورت میں جواب دینا چاہئے جیسے اس نے سلام کیا ہو لیکن''علیکم السلام''کے جواب میں ''سلام علیکم'' کہنا چاہئے(مسئلہ١١٤٦)،(خوئی) احتیاط واجب کی بناء پر اسی صورت میں جواب دینا چاہئے کہ جیسے اس نے سلام کیا ہو لیکن'' علیکم السلام'' کے جواب میں جس طرح چاہے جواب دے سکتا ہے۔

۱۴۱

ہنسنا اور رونا :

١۔اگر نماز گزار عمداً قہقہہ لگاکر ہنسے، تو اس کی نماز باطل ہے۔

٢۔مسکرانے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔

٣۔اگر نماز گزار کسی دنیوی کام کے لئے عمداًآواز کے ساتھ ،روئے تو اس کی نماز باطل ہے۔

٤۔آواز کے بغیررونے، خوف خدا یا آخرت کے لئے رونے سے، اگرچہ آواز کے ساتھ ہو، نماز باطل نہیں ہوتی*(١)

قبلہ کی طرف سے رخ موڑنا:

١۔اگر عمداًاس درجہ قبلہ سے رخ موڑ لے کہ کہا جائے وہ قبلہ رخ نہیں ہے، تو نماز باطل ہے۔

٢۔ اگر بھولے سے پورے رخ کو قبلہ کے دائیں یا بائیں طرف موڑلے ٭٭، تواحتیاط واجب ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے، لیکن اگر پوری طرح قبلہ کے دائیں یا بائیں طرف منحرف نہ ہوا ہو تو نماز صحیح ہے۔(٢)

نماز کی حالت کو توڑنا:

١۔اگر نماز گزار نماز کے دوران کوئی ایسا کام انجام دے جس سے نماز کی اتصالی حالت (ہیئت) ٹوٹ جائے ،مثلاًمبطلات نماز کا ساتواں اور آٹھواں نمبر، تالی بجانا اور اچھل کود کرنا وغیرہ، اگرچہ سہواً بھی ایسا کام انجام دے تو نماز باطل ہے۔(٣)

٢۔اگر نماز کے دوران اس قدر خاموش ہوجائے کہ دیکھنے والے یہ کہیں کہ نماز نہیں پڑھ رہا ہے تو نماز باطل ہے۔(٤)

____________________

(١) توضیح المسائل،م ١٥٦مبطلات نماز کا ساتواں اور آٹھواں نمبر.

(٢)توضیح المسائل،م ١١٣١ (٣) توضیح المسائل،م ١١٥٦.نویں مبطلات نماز

(٤) توضیح المسائل،م ١١٥٢.

*(تمام مراجع)احتیاط واجب ہے کہ دنیوی کام کے لئے آواز کے بغیر بھی نہ روئے، (توضیح المسائل ص ٢٠٩)

٭٭(گلپائیگانی) اگر سر کو قبلہ کے دائیں یا بائیں طرف موڑلے اور عمدا ہویا سہواًنماز باطل نہیں ہوگی۔ لیکن مکروہ ہے.(م١١٤٠)

۱۴۲

٣۔واجب نماز کو توڑنا حرام ہے،مگر مجبوری کے عالم میں،جیسے درج ذیل مواقع پر:

*حفظ جان۔

*حفظ مال۔

*مالی اور جانی ضرر کو روکنے کے لئے۔

٤۔قرض کو ادا کرنے کے لئے نماز کو درج ذیل شرائط میں توڑ دے تو کوئی حرج نہیں :

*قرضدار، قرض کو لینا چاہتا ہو۔

*نماز کا وقت تنگ نہ ہو،یعنی قرض ادا کرنے کے بعد نماز کو بصورت ادا پڑھ سکے۔

*نماز کی حالت میں قرض کو ادا نہ کرسکتا ہو۔(١)

٥۔ بے اہمیت مال کے لئے نماز کو توڑنا مکروہ ہے۔(٢)

وہ چیزیں جو نماز میں مکروہ ہیں:

١۔ آنکھیں بندکرنا۔

٢۔ انگلیوں اور ہاتھوں سے کھیلنا۔

٣۔حمد یا سورہ یاذکر پڑھتے ہوئے، کسی کی بات سننے کے لئے خاموش رہنا.

٤۔ہروہ کام انجام دینا جو خضوع وخشوع کو توڑنے کا سبب بنے۔

٥۔رخ کو تھوڑاسا دائیں یا بائیں پھیرنا (چونکہ زیادہ پھیرنا نماز کو باطل کرتا ہے )۔(٣)

____________________

(١) توضیح المسائل،م ١١٥٩ تا ١١٦١.

(٢)توضیح المسائل،م ١١٦٠.

(٣) توضیح المسائل،م ١١٥٧

۱۴۳

سبق ٢١: کا خلاصہ

١۔درج ذیل امور نماز کو باطل کردیتے ہیں:

*کھانا اور پینا.

*بات کرنا.

*ہنسنا.

*رونا.

*قبلہ سے رخ موڑنا۔

*ارکان نماز میں کمی و بیشی کرنا۔

نماز کی حالت کو توڑنا ۔

٢۔نماز میں بات کرنا، اگرچہ دوحرف والا ایک لفظ بھی ہو، نماز کو باطل کردیتا ہے.

٣۔قہقہہ لگا کر ہنسنا نماز کو باطل کردیتا ہے۔

٤۔بلند آواز میں دنیوی امور کے لئے رونا نماز کو باطل کردیتا ہے۔

٥۔اگر نماز گزار اپنے رخ کو پوری طرح دائیں یا بائیں طرف موڑلے یا پشت بہ قبلہ کرے تو نماز باطل ہوجائے گی۔

٦۔ اگر نماز گزار ایسا کام کرے جس سے نماز کی حالت (ہیئت) ٹوٹ جائے تو،نماز باطل ہے۔

٧۔حفظ جان ومال اور قرض کو ادا کرنے کے لئے، جب قرضدار قرض کا تقاضا کرے اور وقت نماز میں وسعت ہو اور نماز کی حالت میں قرض ادانہ کرسکتا ہو،نماز کو توڑنا اشکال نہیں ہے۔

۱۴۴

سوالات:

١۔ کن امور سے نماز باطل ہو جاتی ہے؟

٢۔ اگر کوئی شخص نماز گزار کو نماز کی حالت میں سلام کرے تو اس کا فریضہ کیا ہے؟

٣۔ کس طرح کا ہنسنا اور رونا نماز کو باطل کردیتا ہے؟

٤۔اگر نماز گزار متوجہ ہوجائے کہ ایک بچہ بخاری (ہیٹر سے مشابہ ایک چیز ہے) کے نزدیک جارہا ہے اور ممکن ہے اس کا بدن جل جائے، کیا نماز کو توڑ سکتا ہے؟

٥۔ایک مسافر نماز کی حالت میں متوجہ ہوتا ہے کہ ریل گاڑی حرکت کرنے کے لئے تیار ہے کیا وہ ریل کو پکڑنے کے لئے نماز کو توڑسکتا ہے؟

۱۴۵

سبق نمبر ٢٢

اذان، اقامت اور نماز کا ترجمہ

اذان واقامت کا ترجمہ:

*اَللّٰهُ اَکْبَر

خدا سب سے بڑاہے۔

*اَشْهَدُاَنْ لَاْاِلٰهَ اِلاّ اللّٰه

میں گواہی دیتا ہوں کہ پروردگار کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔

*اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللّٰهِ

میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے پیغمبر ہیں

*اَشْهَدُ اَنَّ عَلِیًّا اَمِیْرَ الْمُوْمِنِیْنَ وَلِیُّ اللّٰهِ ۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ علی علیہ السلام مومنوں کے امیر اور لوگوں پر خدا کے ولی ہیں۔

*حَیَّ عَلَی الصَّلوٰةِ

نماز کی طرف جلدی کرو

*حَیَّ عَلَی الْفَلاٰحِ.

کامیابی کی طرف جلدی کرو۔

*حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ

بہترین کام کی طرف جلدی کرو۔

*قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰة

نماز قائم ہوگئی

*اَللّٰهُ اَکْبَر

خدا سب سے بڑاہے۔

*لَا اِلٰهٰ اِلَّا اللّٰه

پروردگار عالم کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔

۱۴۶

نماز کا ترجمہ:

تکبیرة الاحرام:

*اَللّٰهُ اَکْبَر

خداسب سے بڑاہے۔

حمد:

*بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

خداوند رحمن و رحیم کے نام سے شروع کرتا ہوں

*الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ٭

سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو عالمین کا پالنے والاہے۔

* الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ ٭

وہ عظیم اور دائمی رحمتوں والا ہے۔

* مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ ٭

روز قیامت کا مالک ومختار ہے۔

* ِیَّاکَ نَعْبُدُ وَِیَّاکَ نَسْتَعِینُ ٭

پروردگارا. ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں:

*اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ ٭صِرَاطَ الَّذِینَ َنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ٭

ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت فرماتا رہ،جوان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے نعمتیں نازل کی ہیں.

* غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْهِمْ وَلاَالضَّالِّینَ (٭)

ان کا راستہ نہیں، جن پر غضب نازل ہوا ہے یا جو بہکے ہوئے ہیں:

۱۴۷

سورہ:

* بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

خداوند رحمن و رحیم کے نام سے شروع کرتا ہوں

* قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَد ٭

اے رسول:! کہدیجئے کہ اللہ ایک ہے۔

* اَللّٰهُ الصَّمَدُ٭

اللہ برحق اور بے نیاز ہے۔

* لَمْ یَلِدُ وَلَمْ یُوْلَدْ٭

اس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ والد۔

* وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً اَحَدُ.

اور نہ اس کا کوئی کفووہمسر ہے۔

ذکر رکوع:

* سُبْحَانَ رَبیَّ العظیم وَبِحَمْدِه

اپنے پروردگار کی ستائس کرتاہوں اور اسے آراستہ جانتاہوں۔

ذکر سجود:

* سُبْحَانَ رَبیَّ الْاَعْلٰی وَبِحَمْدِه

اپنے پروردگار کی (جو سب سے بلند ہے)ستائش کرتا ہوں اور آراستہ جانتا ہوں

تسبیحات اربعہ:

* سُبْحٰانَ اللّٰه وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلاٰ اِلَهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکْبَر

خداوند عالم پاک اور منزہ ہے، تمام تعریفیں خدا سے مخصوص ہیں پروردگار عالم کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور خدا سب سے بڑا ہے۔

۱۴۸

تشہد:

*''أَشْهَدُ أَنْ لاٰاِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَهُ لاٰشَریْکَ لَه

میں گواہی دیتا ہوں کہ پروردگار کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے وہ یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

*وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُهُ وَرَسُوْلُهْ.

اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بندہ اور خدا کا بھیجاہوا( رسول) ہے۔

* أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ''.

خداوندا!: محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے خاندان پر درود بھیج۔

سلام:

* اَلْسّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّهَاْ اْلنَبِیُّ وَرَحْمَةُ اْﷲِ وَ بَرَکَاْتُه.

درود اور خدا کی رحمت وبرکات ہو آپ پراے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !

* اَلْسّلَاَمُ عَلَیْنَاْ وَ عَلٰی عِبَاْدِ اْللّٰهِ اْلصَّاْلِحِیْنَ

درود و سلام ہو ہم (نماز گزاروں)پر اور خدا کے شائستہ بندوں پر۔

* اَلسّلَاَمُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اْللّٰهِ وَ بَرکَاْتُه.

سلام اور خدا کی رحمت و برکت آپ پر ہو۔

۱۴۹

سوالات:

١۔اس جملہ کا ترجمہ کیجئے جو اقامت میں موجود ہے لیکن اذان میں نہیں ہے؟

٢۔تسبیحات اربعہ کا ترجمہ کیجئے؟

٣۔سبق میں مذکررہ سورہ کے علاوہ قرآن مجید سے ایک چھوٹے سورہ کو انتخاب کرکے اس کا ترجمہ کیجئے؟

٤۔نماز کے پہلے اور آخری جملہ کا ترجمہ کیا ہے؟

٥۔تکراری جملوں کو حذف کرنے کے بعد نماز کے کل جملوں کی تعداد (اذان واقامت کے علاوہ) کتنی ہے؟

۱۵۰

سبق نمبر٢٣، ٢٤

شکیات نماز

بعض اوقات ممکن ہے نماز گزار، نماز کے کسی حصے کوانجام دینے کے بارے میں شک کرے، مثلاً نہیں جانتا کہ اس نے تشہد پڑھا ہے یا نہیں، ایک سجدہ بجا لایا ہے یا دو سجدے،بعض اوقات نماز کی رکعتوں میں شک کرتا ہے، مثلاً نہیں جانتا اس وقت تیسری رکعت پڑھ رہاہے یا چو تھی۔

نماز میں شک کے بارے میں کچھ خاص احکام ہیں اور ان سب کا اس مختصر کتاب میں بیان کرنا امکان سے خارج ہے، لیکن خلاصہ کے طور پر اقسام شک اور ان کے احکام بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

نماز میں شک کی قسمیں(١) :

١۔نمازکے اجزاء میں شک:

الف: اگر نمازکے اجزاء کو بجالانے میں شک کرے، یعنی نہیں جانتا ہوکہ اس جزء کو بجالایا ہے یا نہیں، اگر اس کے بعد والاجزء ابھی شروع نہ کیا ہو، یعنی ابھی فراموش شدہ جزء کی جگہ سے نہ گزرا ہوتو اسے بجالانا چاہئے۔ لیکن اگر دوسرے جزء میں داخل ہونے کے بعد شک پیش آئے، یعنی محل شک جزء کی جگہ سے گزر گیا ہو ، تو ایسے شک پر اعتبار کئے بغیر نماز کو جاری رکھے اور اس کی نماز صحیح ہے۔

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ١٩٨و ٢٠٠

۱۵۱

ب: اگر نماز کے کسی جزء کے صحیح ہونے میں شک کرے، یعنی نہ جانتاہوکہ نماز کے جس جزء کو بجالایا ہے، صحیح بجالایاہے،یا نہیں، اس صورت میں شک کے بارے میں اعتنا نہ کرے اور اس جزء کو صحیح مان کر نماز جاری رکھے اور اس کی نماز صحیح ہے۔

٢۔ رکعتوں میں شکز

وہ شک جو نماز کو باطل کرتے ہیں() :

١۔ اگر دورکعتی یاسہ رکعتی نماز جیسے صبج کی نماز یا مغرب کی نماز میں، رکعتوں میں شک پیش آئے تو نماز باطل ہے۔

٢۔ ایک اور ایک سے زیادہ رکعتوں میں شک کرنا، یعنی اگر شک کرے ایک رکعت پڑھی ہے یا زیادہ،نماز باطل ہے۔

٣۔ اگر نماز کے دوران یہ نہ جانتا ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھ چکا ہے تو اسکی نماز باطل ہے۔

*وہ شک جن کی پروانہ کرنی چاہئے:(٢)

١۔مستحبی نمازوں میں

٢۔ نماز جماعت میں ۔ ان دونوں کی وضاحت بعد میں کی جائے گی۔

٣۔ سلام کے بعد اگر نماز تمام کرنے کے بعد اس کی رکعتوں یا اجزاء میں شک ہوجائے تو ضروری نہیں ہے، نماز کو دوبارہ پڑھیں۔

٤۔ اگر نماز کا وقت گزرنے کے بعد شک کرے کہ نماز پڑھی یا نہیں؟ تو نماز کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

____________________

(١)توضیح المسائل م١١٦٥.

(٢)توضیح المسائل م١١٦٨.

*نماز کی رکعتوں میں شک کے اور مواقع ہیں چونکہ ان کا اتفاق کم ہوتاہے لہٰذا ان کے بیان سے چشم پوشی کرتے ہیں مزید وضاحت کے لئے توضیح المسائل ١١٦٥ تا١٢٠٠ ملاحظہ کیجئے.

۱۵۲

چار رکعتی نماز میں شک(١)

شک = قیام کی حالت میں=رکوع میں =رکوع کے بعد =سجدہ میں =سجدوں کے بعد بیٹھنے کی حالت میں=نمازصحیح ہونے پر نماز گزار کا فریضہ

٢اور ٣ میں شک =باطل =باطل =باطل =باطل *=صحیح =تین پربنا رکھ کر اور ایک رکعت نماز پڑھے اور سلام پھیرنےکے بعد ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکر یا دو رکعت بیٹھ کر بجالائے۔(٭٭)

٢اور ٤ میں شک=باطل =باطل =باطل =باطل =صحیح =چار پر بنا رکھ کر نماز تمام کرے اور اس کے بعد دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر پڑھے۔

٣اور ٤ میں شک =صحیح =صحیح =صحیح=صحیح =صحیح =چار پر بنا رکھ کر نماز تمام کرنے کے بعد ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکر یا دور کعت بیٹھ کر بجالائے۔

٤ اور ٥ میں شک =صحیح =باطل=باطل=باطل=صحیح =اگر قیام کی حالت میں شک پیش آئے، رکوع کئے بغیر بیٹھ جائے

او ر نماز تمام کرکے ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکر یا دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔٭٭٭اور اگر بیٹھے ہوئے

شک پیش آئے تو چار پر بنا رکھ کر نماز تمام کرکے دو سجدہ سہو بجالائے۔

____________________

(١) تو ضیح المسائل ،م ١١٩٩، العروة الوثقیٰ ج٢س ٢٠ م ٣.

*حضرت آیت اللہ خوئی کے فتوی کے مطابق اگر ذکر سجدہ کے بعد شک پیش آئے اور حضرت آیت اللہ گلپائیگانی کے فتوی کے مطابق اگر شک ذکر واجب کے بعد پیش آئے تو شک کا حکم وہی ہے جو بیٹھنے کی حالت میں ہے.(مسئلہ ١١٩٩)

٭٭(اراکی ۔ خوئی) احتیاط واجب کی بنابر پر کھڑے ہو کر پڑھے (م١١٩١) (گلپائیگانی )ایک رکعت کھڑے ہو کر پڑھے۔ (م١٢٠٨)

٭٭٭(گلپائیگانی)اس صورت میں احتیاط لازم ہے کہ نماز کے بعد احتیاط کے طور پر دو سجدہ سہو بجالائے۔(مسئلہ ١٢٠٨)

۱۵۳

یاددہانی:

١۔ جو کچھ نماز میں پڑھا یا انجام دیا جاتاہے وہ نماز کا حصہ یاایک جزء ہے۔

٢۔ اگر نماز گزار شک کرے کہ نماز کے کسی جزء کو پڑھا ہے یا نہیں، مثلا ًشک کرے کہ دوسرا سجدہ بجالایا ہے یا نہیں، اگر دوسرے جزء میں داخل نہ ہوا ہو تو اس جزو کو بجالانا چاہئے، لیکن اگر بعد والے جزو میں داخل ہوا ہو تو شک کی پروانہ کرے، اس لحاظ سے اگر مثلاً، بیٹھے ہوئے، تشہد کو شروع کرنے سے پہلے شک کرے کہ ایک سجدہ بجالایا ہے یا دو، تو ایک اور سجدہ کو بجالانا چاہئے۔ لیکن اگر تشہد کے دوران یا کھڑے ہونے کے بعد شک کرے، تو ضروری نہیں ہے کہ سجدہ کو بجالائے بلکہ نماز کو جاری رکھے اور اس کی نماز صحیح ہے۔

٣۔ نماز کے اجزاء میں سے کسی جزء کو بجالانے کے بعد شک کرے، مثلاً حمد یا اس کے ایک لفظ کو پڑھنے کے بعد شک کرے کہ صحیح بجالایا ہے یا نہیں، اس شک پر توجہ نہ کرے اور ضروری نہیں اس کو دوبارہ بجالائے، بلکہ نماز کو جاری رکھے، صحیح ہے۔

٤۔اگر مستجی نمازوں کی رکعتوں میں شک کرے، تو دوپر بنا رکھنا چاہئے چونکہ نماز وتر کے علاوہ تمام مستجی نمازیں دورکعتی ہیں،اگر ان میں ایک اور دو یا دو اور بیشتر میں شک پیش آئے تو دوپر بنارکھے، نماز صحیح ہے۔

٥۔ نماز جماعت میں، اگر امام جماعت شک کرے لیکن ماموم کو شک نہ ہوتومثلاًاللہ اکبر کہہ کر

امام کو مطلع کرے ، امام جماعت کو اپنے شک پر اعتنا نہیں کرنا چاہئے، اور اسی طرح اگر ماموم نے شک کیا لیکن امام جماعت شک نہ کرے، تو جس طرح امام جماعت نماز کو انجام دے ماموم کو بھی اسی طرح عمل کرنا چاہئے اور نماز صحیح ہے۔

٦۔ اگر نماز کو باطل کرنے والے شکیات میں سے کوئی شک پیش آئے، تو تھوڑی سی فکر کرنی چائے اور اگر کچھ یاد نہ آیا اور شک باقی ر ہا تو نماز کو توڑکر دوبارہ شروع کرنا چاہئے ۔

۱۵۴

نماز احتیاط:

١۔ جن مواقع پر نماز احتیاط واجب ہوتی ہے، جیسے ٣ اور ٤ میں شک وغیرہ سلام پھیرنے کے بعد نماز کی حالت کو توڑے بغیر اور کسی مبطل نماز کو انجام دئے بغیر اٹھنا چاہئے اور اذان واقامت کہے بغیر تکبیر کہہ کر نماز احتیاط پڑھے۔

نماز احتیاط اور دیگر نمازوں میں فرق:

*اس کی نیت کو زبان پر نہیں لاناچاہئے۔

*اس میں سورہ اور قنوت نہیں ہے۔ (گرچہ دورکعتی بھی ہو)

*حمد کو آہستہ پڑھنا چاہئے۔ ( احتیاط واجب کی بنا پر )*

٢۔ اگر نما* احتیاط ایک رکعت واجب ہو، تو دونوں سجدوں کے بعد، تشہد پڑھ کر سلام پھیردے اور اگر دورکعت واجب ہو تو پہلی رکعت میں تشہد اور سلام نہ پڑھے بلکہ ایک اور رکعت ( تکبیرة الا حرام کے بغیر) پڑھے اور دوسری رکعت کے اختتام پر تشہد پڑھنے کے بعد سلام پڑھے ۔(١)

____________________

(١)توضیح المسائل م١٢١٥۔١٢١٦.

*گلپائیگانی۔ خوئی)سورہ حمد کو آہستہ پڑھنا واجب ہے۔ (مسئلہ ١٢٢٥)

۱۵۵

سجدہ سہو:

١۔ جن مواقع پر سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے، جیسے بیٹھنے کی حالت میں ٤ اور ٥ کے درمیان شک کی صورت میں تو نماز کا سلام پھیرنے کے بعد سجدہ میں جائے اور کہے:بِسْمِ اللّٰهِ وَبِاللّٰهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ بلکہ بہترہے اس طرح کہے:

بِسْمِ اللّٰهِ وَبِاللّٰه اَلسّٰلَاْمُ عَلَیْکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکاَتُه.*

اس کے بعد بیٹھے اور دوبارہ سجدہ میں جاکر مذکورہ ذکر وں میں سے ایک کو پڑھے اس کے بعد بیٹھے اور تشہد پڑھ کے سلام پھیردے۔(١)

٢۔ سجدۂ سہومیں تکبیرة الا حرام نہیں ہے۔

____________________

(١)توضیح المسائل ،م ١٢٥٠

*(خوئی) احتیاط واجب ہے دوسرا جملہ پڑھاجائے. (مسئلہ ١٣٥٩)

۱۵۶

سبق ٢٣و٤ ٢ کا خلاصہ

١۔ اگر نماز گزار نماز کے بعد والے جزء میں داخل ہونے سے قبل پہلے والے جزء کے بارے میں شک کرے تو اسے پہلا والاجزء بجالانا ضروری ہے۔

٢۔ اگر محل کے گزرنے کے بعد نماز کے کسی جزء کے بارے میں شک کرے تو اس کی پروانہ کرے۔

٣۔ اگرنماز کے کسی جزء کے صحیح ہونے کے بارے میں شک کرے تو اس پر اعتنا نہ کرے۔

٤۔ اگر دورکعتی یا تین رکعتی نماز کی رکعتوں کی تعداد میں شک ہوجائے تو نماز باطل ہے۔

٥۔ درج ذیل مواقع میں شک پر اعتنا نہیں کیا جاسکتا :

مستجی نمازوں میں

* نماز جماعت میں

* نماز کا سلام پھیرنے کے بعد

*نماز کا وقت گزرنے کے بعد ۔

٦۔ جن مواقع پر رکعتوں میں شک کرنا نماز کو باطل نہیں کرتا، اگر شک کا بیشتر طرف چار سے زائد نہ ہوتو بیشترپر بنا رکھا جائے۔

٧۔نماز احتیاط نماز کی احتمالی کمی کی تلافی ہے، پس ٣اور ٤کے درمیان شک کی صورت میں ایک رکعت نماز احتیاط پڑھی جائے اور ٢اور ٤ کے درمیان شک کی صورت میں دورکعت نماز احتیاط پڑھی جائے۔

٨۔ نماز احتیاط اور دیگر نمازوں کے درمیان حسب ذیل فرق ہے:

*نیت کو زبان پر نہ لایا جائے۔

* سورہ اور قنوت نہیں ہے۔

*حمد کو آہستہ پڑھا جائے۔

٩۔ سجدہ سہو کو نماز کے فوراً بعد بجالانا چاہئے اور دوسجدے ایک ساتھ میں ، اس میں تکبیرة الا حرام نہیں ہے۔

۱۵۷

سوالات:

١۔ اگر نماز گزارتسبیحات اربعہ کے پڑھتے وقت شک کرے کہ تشہد کو پڑھا ہے یا نہیں تو اس کا حکم کیا ہے؟

٢۔ اجزائے نماز میں شک کی چار مثالیں بیان کیجئے؟

٣۔اگر صبح یا مغرب کی نماز میں رکعتوں کی تعداد کے بارے میںشک ہوجائے تو فریضہ کیا ہے؟

٤۔ اگر چار رکعتی نماز کے رکوع میں شک کرے کہ تیسری رکعت ہے یا چوتھی تو حکم کیا ہے؟

٥۔ اگر کوئی شخص ٤ بجے بعد از ظہر شک کرے کہ نماز ظہر وعصر پڑھی ہے یا نہیں تو اس کا فریضہ کیا ہے؟

٦۔جو شخص تکبیرةالاحرام کہنے کے بعد شک کرے کہ صحیح کہا ہے یا نہیں تو اس کا فریضہ کیا ہے؟

٧۔اگر قیام کی حالت میں ٤ اور ٥ کے درمیان شک ہوجائے تو کیا حکم ہے؟

٨۔کیا آپ جانتے ہیں کہ نماز احتیاط میں کیوں حمد کو آہستہ پڑھنا چا ہئے؟

٩۔ کیا آپ کو آج تک کبھی نماز میں کوئی شک پیش آیا ہے؟ اگر جواب مثبت ہوتو وضاحت کیجئے کہ پھر کیسے عمل کیا ہے؟

١٠۔ سجدۂ سہو کو بجالانے کی کیفیت بیان کیجئے؟

۱۵۸

سبق نمبر ٢٥

مسافر کی نماز

انسان کو سفر میں چار رکعتی نمازوں کو دورکعتی( قصر) بجالانا چاہئے،بشرطیکہ اس کا سفر ٨ فرسخ یعنی تقریباً ٤٥کیلو میڑسے کم نہ ہو۔(١)

چند مسائل:

١۔ اگر مسافر ایسی جگہ سے سفر پر نکلے، جہاں پر اس کی نماز تمام ہو، *جیسے وطن اور کم از کم چار فرسخ جاکر چار فر سخ واپس آجائے تو اس سفر میں بھی اس کی نماز قصرہے۔(٢)

٢۔ مسافرت پر جانے والے شخص کو اس وقت نماز قصر پڑھنی چاہئے جب کم از کم وہ اتنادور پہنچے کہ اس جگہ کی دیوار کو نہ دیکھ سکے ٭٭اور وہاں کی اذان کو بھی نہ سن سکے۔٭٭٭اگر اتنی مقدار دور ہونے سے پہلے نماز پڑھنا چاہے تو تمام پڑھے۔(٣)

____________________

(١)تو ضیح المسائل، ص ٣ ١٧، نماز مسافر

(٢)توضیح المسائل،م ١٢٧٢و ٧٣ ١٢.

(٣)توضیح المسائل،نماز مسافر آٹھویں شرط.

* چاررکعتی نماز کو دو رکعتی کے مقابلہ میں نماز کو تمام کہتے ہیں.

٭٭اس فاصلہ کو '' حد ترخص'' کہتے ہیں

٭٭٭ (خوئی ۔اراکی) اس قدر دورچلاجائے کہ وہاں کی اذان نہ سن سکے اور دہاں کے باشندے اس کو نہ دیکھ سکیں ۔ اس کی علامت یہ ہے کہ وہ وہاں کے باشندوں کو نہ دیکھ سکے۔(م١٢٩٢)

۱۵۹

٣۔اگر مسافر ایک جگہ سے سفر شروع کرے،ز جہاں نہ مکان ہو اور نہ کوئی دیوار،جب وہ ایک ایسی جگہ پر پہنچے کہ اگر اس کی دیوار ہوتی تو وہاں سے نہ دیکھی جاسکتی، تو نماز کو قصر پڑھے۔(١)

٤۔ اگر مسافر ایک ایسی جگہ جانا چاہتا ہو، جہاں تک پہنچنے کے دوراستے ہوں، ان میں سے ایک راستہ٨ فرسخ سے کم اور دوسرا راستہ ٨ فرسخ یا اس سے زیادہ ہو، تو ٨ فرسخ یا اس سے زیادہ والے راستے سے جانے کی صورت میں نماز قصر پڑھے اور اگر اس راستے سے جائے جو ٨ فرسخ سے کم ہے، تو نماز تمام یعنی چاررکعتی پڑھے۔(٢)

سفر میں نماز پوری پڑھنے کے مواقع

درج ذیل مواقع پر سفر میں نماز پوری پڑھنی چاہیئے

١۔آٹھ فرسخ طے کرنے سے پہلے اپنے وطن سے گزرے یا ایک جگہ پر دس دن ٹھہرے ۔

٢۔پہلے سے قصد وارادہ نہ کیا ہو کہ آٹھ فرسخ تک سفر کرے اور اس سفر کو قصد کے بغیر طے کیا ہو، جیسے کوئی کسی گم شدہ کو ڈھونڈنے نکلتاہے۔

٣۔ درمیان راہ ،سفر کے قصد کو توڑدے، یعنی چار فر سخ تک پہنچنے سے پہلے آگے بڑھنے سے منصرف ہوجائے اور واپس لوٹے۔

٤۔جس کا مشغلہ مسافرت ہو، جیسے ریل اور شہرسے باہر جانے والی گاڑیوں کے ڈرائیور، ہوائی جہاز کے پائیلٹ اور کشتی کے نا خدا (اگر سفر ان کا مشغلہ ہو)۔

٥۔ جس کا سفر حرام ہو، جیسے، وہ سفر جو ماں باپ کے لئے اذیت وآزارکا باعث بنے۔(٣)

____________________

(١)توضیح المسائل، م ١٣٢١

(٢)توضیح المسائل م ٩ ١٢٧

(٣)توضیح المسائل ، نمازمسافر.

*(اراکی ۔ خوئی) جہاں کوئی سکونت نہیں کرتا، اگر ایسی جگہ پر پہنچے جہاں اگر سکونت کرنے والے ہوتے تو انھیں نہ دیکھ سکتے.

۱۶۰

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

حتى يميز الخبيث من الطيب گذشتہ آيات مثلاً ''ھم الكفر يومئذ اقرب منھم للايمان''كے مطابق خبيثوں سے مراد وہ منافقين ہيں جنہوں نے كفار سے جنگ كرنے ميں پہلوتہى كى ہے_

١٠_ پاك و ناپاك افراد كے باہم ملنے اور پھر ان كے ايك دوسرے سے جدا ہوجانے كا تسلسل_

ما كان الله ليذر المؤمنين علي ما انتم عليہ حتي يميز الخبيث من الطيب

١١_ انسانوں كو پوشيدہ اسرار (غيب) سے آگاہ نہ كرنا سنت الہى ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

يہ مطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''الغيب''كا الف و لام جنس كيلئے ہو_

١٢_ فقط خداوند متعال، غيب اور پنہاں اسرار سے آگاہ ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

١٣_ انسانوں كا ايمان و كفر (پاكى و ناپاكي)، غيبى امور ميں سے ہے_

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب اگر ''الغيب''سے مراد جنس ہو تو كفر و ايمان مورد نظرمصاديق ميں سے ہيں البتہ يہ احتمال بھى ديا جاسكتا ہے كہ ''الغيب''كا الف و لام، عہد كيلئے ہو يعنى مخصوص كفر و ايمان_

١٤_ دلوں كے اسرار اور غيب سے لوگوں كو آگاہ كر كے پاك و ناپاك افراد كى صفوں كو مشخص كرنا، سنت الہى نہيں ہے_و ما كان الله ليذر المؤمنين علي ما انتم عليه حتى يميز الخبيث من الطيب و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

''و ما كان الله ليطلعكم ...''كا مطلب يہ ہے كہ اگرچہ خداوند متعال ناپاك و پاك افراد كو مشخص كرے گا_ ليكن يہ تشخيص و تميز، مشكلات اور جنگوں وغيرہ كے ذريعے ہے نہ كہ لوگوں كو غيب سے مطلع كر كے_

١٥_ بعض انبيائے (ع) الہى كا اپنى امت كے غيبى و خفيہ امور (ايمان و كفر) سے آگاہ ہونا_

و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر ہے كہ جب ''من'' تبعيض كيلئے اور ''يجتبي''كے متعلق ہو چونكہ جملہ''ولكن الله ...'' ،''ماكان الله ...'' سے استدراك كيلئے ہے لہذا آيت كا معنى يوں ہوگا_ خداوندمتعال امتوں اور قوموں كو غيب سے آگاہ نہيں كرتا، ليكن بعض انبياء (ع) كو غيب سے آگاہ كرنے كيلئے منتخب كرليتا ہے_

۲۶۱

١٦_ خداوند بعض انبياء (ع) كو، غيب سے آگاہ كرنے كيلئے منتخب كرليتا ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكنص الله يجتبى من رسله من يشائ

١٧_ انبيائے (ع) الہى كے درجات و مراتب ميں فرق ہونا_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ اگر خداوند متعال فقط اپنے بعض انبياء (ع) كو علم غيب عطا فرماتا ہے (جيساكہ آيت ميں احتمال ديا گيا ہے) تو اس سے پتہ چلتا ہے انبياء (ع) مختلفمراتب اور درجات كے حامل ہيں _

١٨_ تمام انبيائے الہى (ع) كا غيب سے آگاہ ہونا_ *و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ

يہ اس بنا پر كہ جب ''من''، ''مصن يشائ''كيلئے بيان ہو_ يعنى خداوند عالم غيب سے آگاہ كرنے كيلئے جس كو چاہتا ہے منتخب كرليتا ہے لہذا اس نے اس مقصد كيلئے اپنے انبياء (ع) كو منتخب كرليا ہے_

١٩_ پيغمبراكرم(ص) كا علم غيب كے ذريعے، اپنى امت كے پاك و ناپاك (مؤمن و منافق) افراد سے آگاہ ہونا_

و ما كان الله و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ ''من رسلہ''سے مراد خواہ بعض انبياء (ع) ہوں يا سب كے سب، يقيناً پيغمبراسلام(ص) ان ميں سے ايك ہيں _

٢٠_ خداوند متعال اپنے انبياء (ع) كو علم غيب عطا كرنے والا ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ

٢١_ خداوند متعال اور اسكے تمام انبياء (ع) پر ايمان لانا ضرورى ہے_فامنوا بالله و رُسله

٢٢_ خداوند متعال اور انبياء (ع) پر ايمان، انسان كو پاك افراد كے زمرے ميں شامل كرديتا ہے_

حتى يميز الخبيث من الطيب فامنوا بالله و رسله يہ اس بنا پر كہ جب جملہ ''فامنوا ...''جملہ ''و حتى يميز ...''پر متفرع ہو يعنى جب سنت الہى يہ ہے كہ پاك و ناپاك افراد كو مشخص كرديا جائے تو پاك افراد كے زمرے ميں شامل ہونے كيلئے خدا و رسول(ص) پر حقيقى ايمان ركھنے كے علاوہ اور كوئي چارہ نہيں _

٢٣_ انبياء (ع) كا غيب و پنہاں (پاكى و ناپاكى اور انسانوں كے حقيقى منافع و نقصان) سے آگاہ ہونا ان پر ايمان لانے كے ضرورى ہونے كى دليل ہے_

۲۶۲

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشاء فأمنوا بالله و رسله

مندرجہ بالا مفہوم اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب جملہ ''فامنوا ...''جملہ ''و لكن الله يجتبى من رسلہ''پر متفرع ہو_ يعنى چونكہ انبياء (ع) غيب سے آگاہ ہيں لہذا ان پر ايمان لانا ضرورى ہے_ كيونكہ فقط وہى ہستياں ،امور كے حقائق سے آگاہ ہيں اور سعادت و شقاوت كے راستوں كو پہچانتے ہيں _

٢٤_ تقوي اختيار كرنے والے مؤمنين كيلئے اجر عظيم _و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٢٥_ ايمان كے ساتھ ساتھ تقوي كا ضرورى ہونا_و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٢٦_ اجر عظيم كا استحقاق، خدا و رسول(ص) پر ايمان لانے اور ان كى مخالفت نہ كرنے سے مربوط ہے_

و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم چونكہ كلمہ ''اجر'' اس اجر ميں ظہور ركھتا ہے جو استحقاق كى بنياد پر ديا جاتا ہے_ لہذا اس مطلب ميں كلمہ ''استحقاق''استعمال كيا گيا ہے_

٢٧_ ايمان اور تقوي كى طرف تشويق كرنے كيلئے اجر و ثواب كا وعدہ و ضمانت دينا، ايك قرآنى روش ہے_

و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٨ ٢_ بعض مؤمنين كى طرف سے انسانوں كے خفيہ امور اور غيب سے آگاہى حاصل كرنے كا تقاضا كيا جانا تاكہ وہ مؤمن اور غيرمؤمن (طيب و خبيث) افراد ميں تميز كرسكيں _

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب اس آيت كے شان نزول ميں منقول ہے كہ بعض مؤمنين، ايسى علامتوں كا تقاضا كرر ہے تھے كہ جن كے ذريعے وہ مؤمنين اور منافقين ميں تميز كرسكيں ، تب خداوند متعال نے مندرجہ بالا آيت نازل فرمائي_

آنحضرت(ص) : ٢٦ آنحضرت(ص) كا علم غيب ١٩ ; آنحضرت(ص) كو تسلى و تشفى ٩

اجر: ٢٦ اجر كے مراتب ٢٤;اجر كا وعدہ ٢٧

اسلام: صدر اسلام كى تاريخ٨

اطاعت: آنحضرت(ص) كى اطاعت ٢٦;اطاعت كا اجر ٢٦ ; اللہ تعالى كى اطاعت ٢٦

اللہ تعالى: ١٢، ٢٢، ٢٦

۲۶۳

اللہ تعالى كا علم غيب ١٢; اللہ تعالى كا لطف ٧ ; اللہ تعالى كى امداد ٧; اللہ تعالى كى سنت٢، ١١، ١٤; اللہ تعالى كى عطا و بخشش ٢٠

امتحان: امتحان كا ذريعہ ٦;انواع و اقسام كے امتحان ٦; جنگ كے ذريعے امتحان ٦;سختى و مصائب كے ذريعے امتحان ٦;شكست كے ذريعے امتحان ٦;فتح كے ذريعے امتحان ٦;فلسفہ امتحان ٥

انبياء (ع) : ٢١، ٢٢ انبياء (ع) كا برگزيدہ ہونا ١٦;ابنياء (ع) كا علم غيب ١٥، ١٦، ١٨، ٢٠، ٢٣;انبياء (ع) كے فضائل ١٧;انبياء (ع) ميں تفاوت ١٧

انسان: انسان كے اسرار ١٢

ايمان: ١٣، ٢٥ آنحضرت(ص) پر ايمان ٢٦; اللہ تعالى پر ايمان ٢١، ٢ ٢، ٢٦;انبياء (ع) پر ايمان ٢١، ٢٢، ٢٣;ايمان كا اجر ٢٦; ايمان كا پيش خيمہ ٢٧ ;ايمان كى تشويق ٢٧ايمان كے اثرات ٤، ٢٢

پاك افراد: ١٠، ١٤ پاك افراد كا امتحان ٥ ;پاكى ٣،١٣، ١٩;پاكى كے اسباب ٤، ٢٢

تحريك: تحريك كے اسباب ٢٧

تبليغ : تبليغ كا طريقہ ٢٧

تقوي: ٢٥ تقوي كا اجر ٢٦;تقوي كا پيش خيمہ ٢٧ ;تقوي كى تشويق ٢٧

جنگ: ٦ جنگ سے فرار ٩

خباثت: ٣، ١٠، ١٣، ١٤، ١٩ خباثت كے اسباب ٤

سختي: ٦ شكست: ٦

علم غيب: ١١، ١٢، ١٣، ١٤، ١٥، ١٦، ١٨، ١٩، ٢٠، ٢٣،٨ ٢

غزوہ احد: ٨ قدر و قيمت كا اندازہ لگانا:

قدر و قيمت كا اندازہ لگانے كا طريقہ ٥،٢٨

كاميابي: ٦ كفر: ١٣

متقين: متقين كا اجر ٢٤

۲۶۴

مصيبت: ٦

معاشرہ : اسلامى معاشرہ ١، ٢، ٥;معاشرتى گروہ ٢

منافقين: صدر اسلام كے منافقين ٨ ; منافقين كى خباثت ٣، ١٩

مؤمنين: مؤمنين كا اجر ٢٤;مؤمنين كو تسلى ٩;مؤمنين كى امداد ٧;مؤمنين كى پاكيزگي٣، ١٩;مؤمنين كے تقاضے ٢٨

نفاق: نفاق كے اثرات ٤

آیت(۱۸۰)

( وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ )

اور خبردار جو لوگ خدا كے ديئے ہوئے ميں بخل كرتے ہيں ان كے بارے ميں يہ نہ سوچنا كہ اس بخل ميں كچھ بھلائي ہے _ يہ بہت برا ہے اور عنقريب جس مال ميں بخل كيا ہے وہ روز قيامت ان كى گردن ميں طوق بناديا جائے گا اور الله ہى كے لئے زمين و آسمان كى ملكيت ہے اور وہ تمھارے اعمال سے خوب باخبر ہے _

١_ بخل اختيار كرنے والوں كا انفاق نہ كرنے كو منافع اور ثمر بخش سمجھنا، ايك غلط تصور ہے_و لايحسبن الذين يبخلون هو خيراً لهم

٢_ اضافى اموالميں سے انفاق كرنا ضرورى ہے_

۲۶۵

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

مندرجہ بالا مطلب ميں ''من فضلہ''كى ضمير ''ما اتيھم الله '' كے ''ما''كى طرف پلٹائي گئي ہے_ اس بنا پر ''فضل'' ضرورت سے زائد كے معنى ميں ہوگا_ اسمطلب كى تائيد رسول خدا(ص) كے اس فرمان سے ہوتى ہے : ''ما من ذى رحم ياتى ذارحمہ فيسألہ من فضل ما اعطاہ الله اياہ فيبخل عليہ الا خرج لہ يوم القيامة من جہنم شجاع يتلمظ حتي يطوقہ'' جب كوئي شخص اپنے رشتہ دار سے سوال كرے كہ اللہ تعالى كے عطا كردہ مال ميں سے كچھ عنايت كرے اور وہ عطا كرنے ميں بخل كرے تو روز قيامت جہنم سے ايك سانپ نكلے گا جو اس كے گلے كا طوق بن جائے گا_اسكے بعد آپ(ص) نے مندرجہ بالا آيت كى تلاوت فرمائي ''و لايحسبن ...''(١)

٣_ ضرر و نقصان ،اضافى اموال ميں سے انفاق نہ كرنے كا برا انجام _و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله بل هو شر لهم

٤_ انسانوں كيلئے عنايات الہى (مادى و معنوى وسائل) ان پر خدا وند عالم كا فضل ہے كہ اور يہ اس كى ملكيت ہيں _

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

٥_ مال و دولت كے خداوند عالم كى جانب سے ہونے پر توجہ كرنا، انفاق و بخشش كو آسان بناديتا ہے اور بخل و كنجوسى كى برائي كو واضح كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله خداوند متعال كا يہ ياددہانى كرانا كہ تم لوگوں كے اموال خداوندمتعال كى طرف سے فضل ہے (بما اتيھم الله من فضلہ) اس كا مقصد، انسان كيلئے انفاق و بخشش كو آسان بنانا اور بخل كى برائي كو ظاہر كرنا ہے_

٦_ انسان كيلئے خداوند متعال كى عنايات(مادى و معنوى وسائل) كا قابل قدر ہونا_

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله يہ كہ خداوند عالم نے جو وسائل انسانوں كو عطا كئے ہيں ، انہيں اپنا فضل كہا ہے اور ان كى نسبت اپنى جانب دى ہے، اس سے ان كى قدر و منزلت ظاہر ہوتى ہے_ البتہ يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''فضلہ''كى ضمير ''الله ''كى طرف پلٹائي جائے نہ كہ''ما اتيهم الله '' كى طرف _

____________________

١)الدر المنثور ج٢ ص٣٩٥.

۲۶۶

٧_ جہاد كے اخراجات ادا نہ كرنا، بخل كے مصاديق ميں سے ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله چونكہ مذكورہ آيت، آيات جہاد كے بعد آئي ہے، اس سے يہ نكتہ ظاہر ہوتا ہے كہ ''الذين يبخلون ...''كے مطلوبہ مصاديق ميں سے ايك وہ لوگ ہيں جو جہاد كے اخراجات ادا كرنے سے پرہيز اور بخل كرتے ہيں _

٨_ جہاد كے اخراجات پورے كرنے اور ضرورت مندوں كى دستگيرى كرنے كے سلسلے ميں ثروت مند افراد كى بھارى ذمہ داري_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله اگر ''فضل'' كا معني، ضروريات سے زائد ہو تو يہ ثروت مند افراد ہيں كہ جن كى ثروت ان كى ضروريات سے زيادہ ہے_

٩_ انسان اپنے نفع و نقصان كى صحيح پہچان نہ ركھنے كى وجہ سے بخل كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١٠_ انسان كا اپنے نفع و نقصان كو صحيح طور پر درك كرنا، خداوند متعال كى طرف سے ديئے گئے مال و دولت سے بخشش و انفاق كرنے اور بخل سے بچنے كا راستہ ہموار كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١١_ آسمانى تعليمات، خير و شر كى پہچان كا منبع ہيں _و لايحسبن هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١٢_ قيامت كے دن بخيلوں كا مال و منال، طوق كى صورت ميں ان كى گردن ميں لٹكا ہوگا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٣_ قيامت كے دن بخيل افراد كے گلے ميں ان كے مال و دولت كا لٹكايا جانا ، بخل و كنجوسى كى برائي اور ضرر كى علامت ہے_بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة جملہ ''سيطوقون ما بخلوا ...''كلمہ ''شر''كى تفسير ہے_ يعنى قيامت كے دن اپنے مال و دولت كو دوش پر لادے ہوئے (گلے ميں لٹكائے ہوئے) آنا، ايك ايسا شر ہے جو بخيل افراد كے دامن گير ہوگا_ مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى مراد ہو_

١٤_ قيامت كے دن جمادات اور اشياء كا محشور ہونا_

۲۶۷

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٥_ اخروى عذاب و عقوبت كا گناہ و عصيان كے مطابق ہونا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

بخيلوں كے گلے ميں ان كا مال طوق بناكر لٹكا يا جانا، اس مال سے ان كے شديد لگاؤ اور وابستگى كى وجہ سے ہے_ اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ عذاب آخرت اور گناہ ميں مناسبت ہوگي_

١٦_ معاد كا جسمانى ہونا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة مندرجہ بالامطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى ليا جائے_

١٧_ بخل اختيار كرنے كى حرمت اور خداوند متعال كا بخيلوں كى سخت مذمت كرنا_و لايحسبن سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٨_ قيامت كے دن بخيل افراد، اپنے كاندھے پر بخل كے گناہ كا سنگين بوجھ اٹھائے ہوں گے_

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة بعض كے نزديك يہاں ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى مراد نہيں ہے بلكہ وبال اور گناہ جيسا كوئي كلمہ، ''ما بخلوا ...''سے پہلے مقدر ہے_ يعنى وہ لوگ اپنے بخل كے گناہ كے وبال كو اپنے دوش پر اٹھائے ہوئے ہوں گے_

١٩_ قيامت كا دن حقيقى خير و شر كے ظہور كا ميدان ہے_و لايحسبن الذين هو خيراً لهم بل هو شر لهم سيطوقون يوم القيمة

٢٠_ انسان كيلئے، اپنے ذاتى مال ميں حق تصرف كى محدوديت_و لايحسبن الذين سيطوقون ما بخلوا به

٢١_ يہ خداوندمتعال ہے كہ جو آسمان و زمين (پورى كائنات) كا حقيقى و اصلى مالك ہے_ولله ميراث السموات والارض

٢٢_ خداوند عالم كى مطلق مالكيت_ولله ميراث السصموات والارض

٢٣_ انسان كى ثروت اور دولت، خداوند متعال كى ملكيت ہے اور اسى كى جانب پلٹ جائے گي_

بما اتهم الله من فضله ...ولله ميراث السموات والارض

٢٤_ آسمانوں كا متعدد ہونا_

۲۶۸

ولله ميراث السموات

٢٥_ انسان كے ہاتھ سے اسكے تمام مال و دولت كے نكل جانے كى جانب توجہ، بخل اور انفاق نہ كرنے كى برائي كو پہچاننے كا باعث بنتى ہے_و لايحسبن الذين يبخلون ولله ميراث السموات والارض جملہ ''ولله ميراث الصسموات ...''سے يہ نكتہ ظاہر ہوتا ہے كہ تمام مال و دولت تمہارے ہاتھوں سے نكل كر خداوند متعال كى جانب پلٹ جائے گي، پس كيوں نہيں انفاق كرتے؟ اور اپنے آپ كو انفاق كے اجر و ثواب سے محروم كرتے ہو؟

٢٦_ خداوند متعال كا انسان كے تمام اعمال اور كردار سے مكمل اور دقيق طور پر آگاہ ہونا_والله بما تعملون خبير

٢٧_ خداوند عالم كى على الاطلاق مالكيت اور انسانى اعمال و كردار سے اسكى آگاہى كى جانب توجہ، انفاق اور بخل سے بچنے كو آسان بناديتى ہے_و لايحسبن الذين يبخلون ولله ميراث السموات والارض والله بما تعملون خبير

٢٨_ بخيل افراد كے بارے ميں خداوند متعال كى جانب سے تہديد اور تنبيہ _والله بما تعملون خبير

٢٩_ زكات نہ دينے والوں كے اموال كا قيامت كے دن ان كے گلے ميں ادہا كى شكل ميں لٹكايا جانا_

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة امام صادق (ع) سے ''سيطوقون ما بخلوا بہ ...''كے بارے ميں پوچھا گيا تو آپ(ع) نے فرمايا: ما من احد يمنع من زكاة مالہ شيئاً الا جعل الله عزوجل ذلك يوم القيمة ثعباناً من نار مطوقاً فى عنقہ جو شخص بھى زكاة كے مال سے ذرہ برابر بھى ركھ لے يقينا خداوند متعال روز قيامت اسے آگ كا ادہا بناكر اس كے گلے ميں لٹكادے گا(١) _

٣٠_ ضرورت سے زيادہ مال و دولت ميں سے انفاق اور خرچ نہ كرنے اور بخل اختيار كرنے كا نتيجہ، قيامت كے دن سخت عذاب الہى كى صورت ميں ظاہر ہوگا_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

رسول خدا (ص) فرماتے ہيں :ما من ذى رحم يأتى ذا رحمه فيسأله من فضل ما اعطاه الله اياه فيبخل عليه الا خرج له يوم القيامة من جهنم شجاع يتلمظ حتي يطوقه_ ثم قرأ ''ولايحسبن ...'' _(٢) اس حديث كا ترجمہ اسى آيت كے مطلب ٢ ميں گزرچكا ہے_

____________________

١)كافى ج٣ ص٥٠٢ ح١، نورالثقلين ج١ ص٤١٤ ح٤٤٩، ٤٥٢.

٢)الدر المنثور ج٢ ص٣٩٥.

۲۶۹

آسمان: آسمان كا مالك٢١; آسمان كا متعدد ہونا٢٤

اللہ تعالى: اللہ تعالى كا خبردار كرنا ٢٨;اللہ تعالى كا علم ٢٦، ٢٧; اللہ تعالى كا فضل ٤; اللہ تعالى كى عطاء ٤، ٦;اللہ تعالى كى مالكيت ٤، ٢١، ٢٣، ٢٧

انسان: انسان كا سرمايہ٤، ٥، ٢٣، ٢٥ ; انسان كا علم ١٠; انسان كا عمل ٢٦

انفاق: انفاق كا پيش خيمہ ٥، ١٠، ٢٧;انفاق كى اہميت ٢; انفاق كى حدود ٢;انفاق كے آداب ٢٧;انفاق كے موانع ١;ترك انفاق پر مذمت ٢٥; ترك انفاق كى سزا ٣٠; ترك انفاق كے اثرات ٣، ٢٩

بُخل: بخل كا گناہ ١٨;بخل كا نقصان ١٣; بخل كى حرمت ١٧; بخل كى سزا ٣٠ ; بخل كى مذمت ٥، ١٧، ٢٥ ; بخل كے اثرات ١٢، ١٣، ١٨; بخل كے اسباب ٩ ; بخل كے علاج كا طريقہ ١٠، ٢٧;بخل كے موارد ٧

بخيل: بخيل قيامت ميں ١٢، ١٣;بخيل كا انجام ٣٠;بخيل كا سرمايہ ١٢، ١٣; بخيل كا عقيدہ ١; بخيل كو تہديد ٢٨; بخيل كى مذمت ١٧

ثروت مند افراد: ثروت مند افراد كى ذمہ دارى ٨

جزا و سزا كا نظام: ١٥

جہاد: مالى جہاد ٧، ٨

جہالت: جہالت كے اثرات ٩

دنيا: دنيوى وسائل كى قدر و منزلت ٥ دين: تعليمات دين كے فوائد١١

روايت: ٢٩، ٣٠

زمين: زمين كا مالك ٢١

سزا:٣٠ اخروى سزا، ١٥

شناخت: شناخت كے منابع ١١

عذاب: عذاب كے درجے ٣٠; عذاب كے موجبات ١٥

عصيان: عصيان كى سزا ١٥

۲۷۰

عقيدہ: باطل عقيدہ ١

علم: ١٠ علم كے اثرات ٥، ٢٧

عمل:٢٦ عمل كا مجسم ہونا١٢، ١٣، ٢٩; نيك عمل كا پيش خيمہ ٥

فقير: فقير كى ضرورت پورى كرنا ٨

قدر و قيمت: معنوى قدر و قيمت ٦

قيامت: ١٢، ١٣، ١٨

قيامت كے دن حقائق كا ظاہر ہونا ١٩، ٢٩

گناہ: ١٨

مالكيت: ذاتى مالكيت ٢٠

محرمات: ١٧

محشور ہونا: جمادات كا محشور ہونا ١٤;موجودات كا محشور ہونا١٤

معاد: جسمانى معاد ١٦

ہبہ: ٥، ١٠

آیت (۱۸۱)

( لَقَدْ سَمِعَ اللّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاء سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتْلَهُمُ الأَنبِيَاء بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِيقِ )

الله نے ان كى بات كو بھى سن ليا ہے جن كاكہنا ہے كہ خدا فقير ہے اورہم مالدار ہيں _ ہم ان كى اس مہمل بات كو اور ان كے انبياء كے ناحق قتل كرنے كو لكھ ر ہے ہيں اور انجام كار ان سے كہيں گے كہ اب جہنّم كامزہ چكھو _

١_ خداوند متعال كے فقير و محتاج ہونے اور اپنے غنى و بےنياز ہونے كے بارے ميں يہود كے بے بنياد خيالات_

۲۷۱

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

بہت سے مفسرين كا كہنا ہے كہ ''الذين قالوا'' سے مراد يہود ہيں _

٢_ انفاق اور بخشش كے بارے ميں فرامين الہى كا يہود كى جانب سے مذاق و تمسخر اڑايا جانا_

الذين يبخلون لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير انفاق كى ترغيب دلانے اور اہل بخل كو تہديد كرنے كے بعد يہوديوں كے كلام''ان الله فقير ''كو نقل كرنا اس نكتہ كى جانب اشارہ ہے كہ يہوديوں نے انفاق كے بارے ميں فرمان خداوندى كا مذاق اڑاتے ہوئے يہ ا فواہ پھيلا ركھى تھى كہ آنحضرت (ص) كا خدا، فقير ہے_

٣_ خداوند متعال كے مقابلے ميں غنا اور بے نيازى كا احساس اور اظہار كرنا ايك ناروا و ناپسنديدہ عمل ہے_

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٤_ غنا اور بے نيازى كا احساس، فرامين الہى كى حكم عدولى اور ان كا مذاق اڑانے كى راہ ہموار كرتا ہے_*

الذين يبخلون بما اتيهم الله لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن أغنيائ

٥_ الہى معارف اور صفات خداوندى كے بارے ميں يہود كى كوتاہ انديشي_لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٦_ يہود كا مغرور اور خود پسند ہونا_قالوا ان الله فقير و نحن أغنيائ

٧_ خداوند متعال باتوں كا سننے والا ہے_لقد سمع الله قول

٨_ يہود كا ،اسلامى احكام و قوانين (انفاق) كے خلاف ناروا پروپيگنڈا كرنا_و لايحسبن الذين لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٩_ خداوند متعال بندوں كے انفاق سے غنى اور بے نياز ہے_ان الذين ان الله فقير و نحن اغنيآء سنكتب ما قالوا

١٠_ بخيل اور كنجوس زراندوز لوگ (ہميشہ) انبيائے الہى (ع) اور احكام خداوندى كے ساتھ ٹكرانے اور ان كے

۲۷۲

مقابلہ ميں آنے كے خطرے سے دوچار ہوتے ہيں _و لايحسبن الذين يبخلون لقد سمع الله قول الذين قالوا و نحن اغنيائ ترك انفاق اور بخل كى برائي بيان كرنے كے بعد يہوديوں كے كلام و باطل خيالات كو نقل كرنا، گويا بخيل افراد كيلئے ايك قسم كى تنبيہ ہے كہ بخل اور ترك انفاق انسان كو ايسے خطرناك مقام تك لے جاسكتا ہے كہ جہاں تك اس نے يہوديوں كو پہنچاديا (قالوا ان الله فقير )_

١١_ انسان كے كردار و گفتار كا ثبت ہونا اور ان كے مقابلے ميں انسان كى ذمہ داري_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٢_ يہود كا (جان بوجھ كر) انبيائے الہى (ع) كو ناحق قتل كرنا_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

انبياء (ع) كے قتل كا بالكل ناحقہونا دلالت كرتا ہے كہ يہود انبياء (ع) كى نبوت كا علم ركھنے كے باوجود، بغيرخطا اور فراموشى كے، انبيائے كرام (ع) كو قتل كرڈالتے تھے_ چونكہ اگر وہ انہيں پيغمبرنہ سمجھتے يا خطا و نسيان كے طور پر انہيں قتل كرتے تو ''بغير حق'' كى تعبيران پر صادق نہ آتي_

١٣_ انبيائے الہى (ع) ميں ، شہيد ہونے والے انبياء (ع) كى كثرت_و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٤_ يہود، پيغمبراسلام(ص) كو قتل كرنے كے در پے تھے_*و قتلهم الانبياء بغيرحق مندرجہ بالا مطلب، زمانہ پيغمبر(ص) كے يہوديوں كى طرف قتل انبياء (ع) كى نسبت دينے كى ايك توجيہ ہے، يعنى يہوديوں كى طرف قتل انبياء (ع) كى نسبت دى گئي ہے_ اس سے پتہ چلتا ہے كہ وہ پيغمبر اكرم(ص) كو قتل كرنے كى سعى كرر ہے تھے اور آنحضرت(ص) تمام انبياء (ع) كے مقام پر ہيں _

١٥_ خداوند متعال كو فقير و محتاج سمجھنے اور اسكى جانب ناروا نسبت دينے كى برائي كا انبياء (ع) كو قتل كرنے جيسے گناہ كے مساوى ہونا_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٦_ خداوند متعال كى جانب ناروا نسبت دينا اور انبيائے (ع) الہى كو قتل كرنا، ايسے عظيم گناہ ہيں جو دوزخ كے جلانے والے عذاب كا باعث بنتے_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق و نقول ذوقوا عذاب الحريق

''حريق'' محرق (جلانے والا) كے معنى ميں ہے يہ قابل غور ہے كہ انبياء (ع) كو قتل كرنے اور خداوند متعال كى طرف ناروا نسبت دينے كى سزا جلانے

۲۷۳

والا عذاب ہے_ جو اس قسم كے گناہ كى سنگينى كو ظاہر كرتا ہے_

١٧_ خداوند متعال كى طرف فقر كى نسبت دينے والوں اور انبياء (ع) كو قتل كرنے والوں كيلئے خود خداوند متعال كى جانب سے جلانے والے عذاب كا بلاواسطہ فرمان _نقول ذوقوا عذاب الحريق

١٨_ امام(ع) كو جو مال ديا جاتا ہے، اس مال كا امام(ع) كو محتاج سمجھنا گويا خداوند متعال كو فقير جاننا ہے_

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير امام باقر(ع) نے اس آيت كے بارے ميں فرمايا :هم الذين يزعمون ان الامام يحتاج منهم الى ما يحملون اليه _(١) يہ وہ لوگ ہيں جو گمان كرتے ہيں كہ امام ان كے اس مال كا نيازمند ہے جو وہ امام كو ديتے ہيں _

آنحضرت(ص) : آنحضرت (ص) كو قتل كرنے كى سازش ١٤

احكام: احكام كا استہزا ٢، ٤

استغنا: استغنا كے اثرات ٤;استغنا كى مذمت ٣

اسلام: تاريخ صدر اسلام ٨، ١٤

اسماء و صفات: سميع ٧;صفات جلال ١، ٩، ١٥

افترا: افترا كا گناہ١٥، ١٦; خداوند متعال پر افترا ١٥، ١٦، ١٧، ١٨

اللہ تعالى: ١٥، ١٦، ١٧، ١٨ اللہ تعالى كے اوامر ٢، ٤;اللہ تعالى كى بے نيازى ٩

انبياء (ع) : انبياء (ع) كا قتل١٢، ١٣، ١٥، ١٦، ١٧

انسان: انسان كى ذمہ دارى ١١

انفاق: ٨، ٩ انفاق كا حكم ٢; انفاق كى قدروقيمت ٨

بخيل: ١٠ ثروت مند: بخيل ثروت مند ١٠

روايت: ١٨

____________________

١)نورالثقلين ج١ ص٤١٦ ح٤٥٦_ بحارالانوار ج٢٤، ص٢٧٨ ح٤.

۲۷۴

زر اندوز : بخيل زر اندوز ١٠

سزا : ١٦

شہدائ: ١٣

عذاب: عذاب كے اسباب ١٦، ١٧; عذاب كے مراتب ١٦، ١٧

عصيان: عصيان كا پيش خيمہ ٤

عقيدہ: ٥ باطل عقيدہ ١، ٣، ١٨

عمل: عمل كا باقى رہنا ١١;عمل كا ثبت ہونا ١١

قتل: ١٢، ١٣، ١٦، ١٧ قتل كا گناہ ١٥

گناہ: ١٥ گناہ كبيرہ ١٦، ١٧;گناہ كى سزا ١٦

ہبہ: ہبہ كرنے كا حكم ٢

يہود: ١٢ يہود كا استہزا ٢;يہود كا عقيدہ ١، ٥;يہود كا غرور ٦; يہود كا ماحول بنانا ٨;يہود كى جہالت ٥;يہود كى سازش ١٤

آیت(۱۸۲)

( ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللّهَ لَيْسَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِيدِ )

اس لئے كہ تم نے پہلے ہى اس كے اسباب فراہم كر لئے ہيں اور خدا اپنے بندوں پرظلم نہيں كرتا ہے_

١_ آخرت ميں يہود پر سخت عذاب، ان كے ناروا اعمال (خداوند متعال كى جانب فقر كى نسبت دينے اور انبياء (ع) كو قتل كرنے) كا نتيجہ ہے_ذوقوا عذاب الحريق_ ذلك بما قدمت ايديكم

٢_ انسانوں كيلئے اخروى عذاب اور سزا، خود ان كے اعمال كا نتيجہ ہے_ذلك بما قدمت ايديكم

٣_ زمانہ پيغمبراكرم(ص) كے يہود كا اپنے آباء و اجداد كے

۲۷۵

گناہ (قتل انبياء (ع) ) ميں شريك ہونا_و قتلهم الانبياء بغيرحق ذلك بما قدمت ايديكم

يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''ايديكم''كے مخاطب عصر پيغمبراكرم(ص) كے يہود ہوں ، جملہ ''ذلك بما قدمت ...''سے پتہ چلتا ہے كہ وہ انبياء (ع) كو قتل كرنے كے گناہ ميں شريك تھے كہ جو ان كے آبا ء و اجداد كے ہاتھوں انجام پايا تھا_

٤_ زمانہ پيغمبراكرم(ص) كے يہود كا اپنے آبا و اجداد اور ہم مذہب لوگوں كے ہاتھوں گذشتہ انبياء (ع) كے قتل پر راضى ہونا_و قتلهم الانبياء ذلك بما قدمت ايديكم بظاہر عصر پيغمبراكرم(ص) كے يہوديوں كى طرف انبياء (ع) كے قتل كى نسبت جو ''ايديكم''كى ضمير خطاب سے اخذ ہوتى ہے_ ان كے اپنے آبا و اجداد كے اعمال پر راضى ہونے كى بنا پر ہے_ چونكہ خود وہ لوگ انبياء (ع) كے قتل كے مرتكب نہيں ہوئے تھے_

٥_ دوسروں كے اعمال و كردار پر راضى ہونا، انہى كے اعمال و كردار كو انجام دينے كے مترادف ہے_و قتلهم الانبياء ذلك بما قدمت ايديكم

٦_ بندوں كى نسبت، خداوند متعال كى جانب سے ہر قسم كے ظلم كى نفي_و ان الله ليس بظلام للعبيد

٧_ عدل خداوند متعال اور ا س كى ذات اقدس كا ظلم و ستم سے دور ہونے كا تقاضا ہے كہ بخيلوں اور انبياء (ع) كے قاتلوں كو سزا دى جائے_و لايحسبن الذين يبخلون ذوقوا عذاب الحريق و ان الله ليس بظلام للعبيد

جملہ ''و اص نص الله ...'' كا ''ما قدمت''پر عطف ہے_ بنابرايں يہ بخيلوں اور انبياء (ع) كے قاتلوں كے دوزخ ميں گرفتار ہونے كى ايك دوسرى وجہ ہے_ يعنى عدل الہى كا تقاضا ہے كہ وہ ظالموں كو سزا دے، اگر انہيں سزا نہيں ملتى تو يہ مظلوموں پر ظلم ہوگا_

٨_ اہل دوزخ كا عذاب، خداوند متعال كى طرف سے ان پر ہرگز ظلم نہيں _ذوقوا عذاب الحريق و ان الله ليس بظلام للعبيد يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''ان الله ...''ايك محذوف مبتدا كى خبر ہو (الامرو الشأن ان الله ليس ...) يوں ''قدمت ايديكم''كے قرينہ سے خداوند متعال كے ظلم نہ كرنے سے مراد يہ ہے كہ خداوند متعال سزا دينے ميں ظلم نہيں كرتا_

٩_ اہل دوزخ كا عذاب، ہرگز ان كے اعمال سے زيادہ نہيں ہوگا_ذوقوا عذاب الحريق_ ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد

۲۷۶

١٠_ خداوند متعال، ہرگز اپنے بندوں كو ارتكاب گناہ كے بغيرسزا نہيں ديتا_ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد

١١_ اپنے اعمال و كردار كے سلسلے ميں انسان خودمختار ہے_ذلك بما قدمت ايديكم و ان ا لله ليس بظلام للعبيد

١٢_ ظالموں كو سزا نہ دينا، مظلوموں پر ظلم ہے_ذوقوا عذاب الحريق ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد مندرجہ بالا مطلب پہلے احتمال (''ان الله ...''كا ''ما قدمت''پر عطف ہونا)پر مبنى ہے_

١٣_ بے گناہوں كو سزا دينا، ايك عظيم ظلم ہے_و ان الله ليس بظلام للعبيد

مندرجہ بالامطلب دوسرے احتمال (''ان الله ...''كيلئے مبتدا كا مقدر ہونا) پر مبنى ہے_

١٤_ گناہ سے زيادہ سزا دينا، ايك عظيم ظلم ہے_و ان الله ليس بظلام للعبيد

اسماء و صفات: صفات جلال ٦

افترا: خدا پر افترا ١;افترا كى سزا ١

اللہ تعالى: ١، ٦، ٨، ١٠ اللہ تعالى كاعدل ٧

انبياء (ع) : انبياء (ع) كا قتل ٤;انبياء (ع) كے قتل كى سزا ١، ٣، ٧

انسان: انسان كااختيار ١١; انسان كا عمل ١١

اہل جہنم: اہل جہنم كى سزا ٨، ٩

بخيل: بخيل كى سزا ٧

جزا و سزا كا نظام : ٥،٩

جہنم: جہنم كا عذاب ٨، ٩

سزا: ٢، ٣، ٧، ٨، ٩، ١٢، ١٤ اخروى سزا ١; سزا كا فلسفہ ١٢

ظالمين: ظالموں كى سزا ١٢

۲۷۷

ظلم: ٦، ٧، ٨، ١٠ ظلم كے اسباب ١٢، ١٣، ١٤;ظلم كے مراتب ١٣، ١٤ ; مظلوم پر ظلم ١٢

عذاب: ٨، ٩ عذاب كے اسباب ١; عذاب كے درجات ١; عذاب كے موجبات ٢، ٧

عمل١١: عمل كى اخروى سزا ٢; عمل كى سزا ٩;ناپسنديدہ عمل ١، ٢

گناہ: گناہ پر راضى ہونا ٤، ٥ ;گناہ كى سزا ١٤

يہود: صدر اسلام كے يہود ٣، ٤; يہود كى سزا ١، ٣ ;يہود كے آبا و اجداد كى سزا ٣; يہود كے آبا و اجداد ٤

آیت(۱۸۳)

( الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّیَ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ قُلْ قَدْ جَاءكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ) جو لوگ يہ كہتے ہيں كہ الله نے ہم سے عہد ليا ہے كہ ہم اس وقت تك كسى رسول پر ايمان نہ لائيں جب تك وہ ايسى قربانى پيش نہ كرے جسے آسمانى آگ كھا جائے تو ان سے كہہ ديجئے كہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول معجزات اور تمھارى فرمائش كے مطابق صداقت كى نشانى لے آئے پھر تم نے انھيں كيوں قتل كرديا اگر تم اپنى بات ميں سچّے ہو _

١_ يہوديوں كے خيال ميں انبياء (ع) پر ايمان لانے كيلئے خداوند متعال نے يہ عہد ليا ہے كہ انبياء (ع) ايسى قربانى پيش كريں جسے غيبى آتش آكر جلادے_الذين قالوا ان الله عهد الينا الانؤمن لرسول حتى يأتينا بقربان تأكله النار

٢_ آنحضرت(ص) پر ايمان لانے كيلئے يہود نے يہ شرط ركھى

۲۷۸

ہوئي تھى كہ پيغمبراكرم(ص) كى قربانى آگ ميں جل جائے_

الذين قالوا ان الله حتى يأتينا بقربان تاكله النار ''قربان''كا معنى ہر وہ چيز ہے جس كے وسيلے سے انسان خداوند متعال كا قرب حاصل كرتا ہے اور گذشتہ امتوں كى قربانى گائے، بھيڑ اور اونٹ وغيرہ تھے جو خداوند متعال سے تقرب حاصل كرنے كيلئے ذبح كئے جاتے تھے_(تاج العروس)

٣_ حضرت موسي (ع) كى بعثت كے بعد، رسالت و نبوت كے ختم نہ ہونے كے بارے ميں يہود كا اعتقاد و اعتراف_

الانؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان اگر يہود حضرت موسي (ع) كى نبوت كى خاتميت كے مدعى ہوتے تو انہيں پيغمبراسلام(ص) سے يہ كہنا چاہيے تھا كہ ہم سے عہد ليا گيا ہے كہ ہم كسى بھى مدعي رسالت پر ايمان نہ لائيں نہ يہ كہ وہ سچے نبى و رسول كى نشانى بيان كرنے لگتے_

٤_ يہودي، الہى عہد و پيمان كے ساتھ اپنى وفادارى كے مدعى تھے_ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول

٥_ يہوديوں كا دين اور ديندارى كے نام پر اسلام اور پيغمبراكرم (ص) كے خلاف معركہ آرائي _

ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان چونكہ يہود كا دعوي تھا كہ وہ فرامين خداوندى كى پيروى كرتے ہوئے اور عہد الہى سے وفا كرتے ہوئے، پيغمبر اكرم(ص) پر ايمان نہيں لار ہے_

٦_ يہود كى نظر ميں مدعى رسالت كى سچائي كى علامت، قربانى كا غيبى آتش سے جلنا ہے_الانؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان تاكله النار

٧_ اديان الہى ميں ، قربانى كے حكم كا موجود ہونا_حتي ياتينا بقربان تاكله النار

٨_ بنى اسرائيل كيلئے روشن دلائل (معجزات و براہين) كے ساتھ متعدد انبيا ء (ع) كا مبعوث ہونا_قد جائكم رسل من قبلى بالبينات

٩_ بنى اسرائيل كے بعض انبياء (ع) اور رسولوں (ع) كے معجزہ كے طور پر قربانى كا غيبى آگ سے جلنا_

قال ان الله عهد الينا قد جائكم رسل و بالذى قلتم

١٠_ خداوند متعال كى تعليم كے مطابق، پيغمبر اكرم (ص) كا يہود كے خلاف استدلال كرنا_

قل قد جائكم رسل من قبلى بالبينات وبالذى قلتم فلم قتلتموهم

۲۷۹

١١_ اثبات نبوت كے طريقوں ميں سے ايك معجزہ ہے_قد جائكم رسل من قبلى بالبينات و بالذى قلتم

١٢_ انبياء (ع) كى حقانيت كا علم ركھنے اور ان كے معجزات ديكھنے كے باوجود، يہود كے ہاتھوں بہت سے انبيائے الہى (ع) كا شہيد ہونا _قل قد جائكم رسل من قبلى بالبينات و بالذى قلتم فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

دليل كو اس وقت ''بينة''كہا جاتا ہے كہ جب وہ مدمقابل كيلئے حق كو روشن كرے اور اسے اسكى حقانيت سے آگاہ كرے_ لہذا يہود جانتے تھے اور ان كيلئے روشن تھا كہ وہ حقيقى انبياء (ع) كو قتل كرر ہے ہيں _

١٣_ يہودي، انبياء (ع) سے اپنا طلب كردہ معجزہ (قربانى كا غيبى آگ سے جلنا) ديكھنے كے باوجود بھي، نہ فقط ان پر ايمان نہيں لائے بلكہ انہيں قتل كرڈالا_قل قد جائكم رسل من قبلى و بالذى قلتم فلم قتلتموهم

١٤_ پيغمبراكرم (ص) كا يہوديوں كى گذشتہ تاريخ كى بنياد پران كے خلاف استدلال كرنا_قل قد جائكم رسل من قبلى فلم قتلتموهم

١٥_ ہر امت كى تاريخ; اسكى نفسيات، خصائل اور اسكے آئندہ كے لائحہ عمل كى تشخيص و پہچان كا منبع ہے_

قد جائكم فلم قتلتموهم خداوند متعال يہود كى عادات و خصائل اور تاريخى اثرات كے ذريعے، زمانہ پيغمبر(ص) كے يہوديوں كے خلاف استدلال كرتے ہوئے ان كے آئندہ كے لائحہ عمل كو آشكار كر رہا ہے_ يہ استدلال اس بنياد پر قائم ہے كہ ہر امت و قوم كى تاريخ اورگذشتہ اعمال اسكے مستقبل كى نشاندہى كرتے ہيں اور اس پر حاكم عادات و نفسيات كى معرفت كا بہترين وسيلہ و منبع ہيں _

١٦_ يہود كا پيغمبراكرم(ص) كے ساتھ منافقانہ رويہ_الذين قالوا ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين جملہ''فلما قتلتموهم ان كنتم صادقين'' يہ بيان كر رہا ہے كہ يہود، معجزہ ديكھنے كى صورت ميں ايمان لانے كا دعوي كرنے كے باوجود، ايمان لانے كا قصد نہيں ركھتے تھے_

١٧_ يہوديوں كى خرافات پسندي، جمود اور ہٹ دھرمي_*الذين قالوا ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان: تأكله النار

١_ جملہ ''الا نؤمن لرسول''كا ظاہرى معنى يہ ہے كہ خداوند متعال نے ہميں حكم ديا ہے كہ جو شخص

۲۸۰

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326