احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)23%

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق) مؤلف:
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 326

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 326 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 211868 / ڈاؤنلوڈ: 4587
سائز سائز سائز
احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

٢۔ اگر امرو نہی کرنے والا جان لے کہ درخواست نصیحت اور موعظہ کے بغیر امرونہی میں اثر نہیں ہے تو واجب ہے امرونہی کو نصیحت، موعظہ اور درخواست کے ساتھ انجام دے اور اگر جانتا ہو کہ صرف درخواست اور موعظہ (امرونہی کے بغیر) مؤثرہے، تو واجب ہے یہی کام انجام دے۔(١)

٣۔امرونہی کرنے والا اگر جانتا ہو یا احتمال دے کہ اس کا امر ونہی تکرار کی صورت میں مؤثرہے، تو تکرار کرنا واجب ہے۔(٢)

٤۔ گناہ پر اصرار کا مقصد انجام کار کو جاری رکھناہی نہیں ہے بلکہ اس عمل کا مرتکب ہونا ہے اگرچہ پھرسے ایک بارہی انجام دے۔ اس طرح اگر کسی نے ایک بار نماز کو ترک کیا اور دوسری بار ترک کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتو امر بالمعروف واجب ہے۔(٣)

٥۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر میں گناہگار کو حاکم شرع کی اجازت کے بغیر زخمی کرنا یا قتل کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر منکر ایسے امور میں سے ہو جس کی اسلام میں بہت اہمیت ہو مثال کے طور پر ایک شخص ایک بے گناہ انسان کو قتل کرنا چاہتاہے اور اسے اس کام سے روکنازخمی کئے بغیر ممکن نہ ہو ۔(٤) *

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے آداب:

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے کے لئے سزاوار ہے:

* ایک رحم دل طبیب اور مہربان باپ کی طرح ہو۔

*اس کی نیت خالص ہو اور صرف خدا کی خوشنودی کے لئے قدم اٹھائے اور اپنے عمل کو ہر قسم کی بالادستی سے پاک کرے۔

* خود کو پاک ومنزہ نہ جانے، ممکن ہے جوشخص اس خطا کا مرتکب ہوا ہے، کچھ پسندیدہ صفات کا

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج١،ص ٤٧٦،م ٣.

(٢)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص٤٦٨ م٥.

(٣)تحریر الوسیلہ ،ج ١،ص٧٠ ٤، م ٤.

(٤)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٤٨١م ١١ و١٢.

۲۴۱

*یہ مسئلہ آیت اللہ گلپائیگانی کے توضیح المسائل میں نہیں آیا ہے.

بھی مالک ہو اور محبت الہٰی کا حقدار قرار پائے اور خود امربالمعروف کرنے والے کا عمل غضب الٰہی کا سبب بنے۔(١)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج ١،ص ٤٨١،م١٤.

۲۴۲

سبق : ٣٧ کا خلاصہ

١۔'' معروف'' وہی واجبات ومستحبات ہیںاور'' منکر'' وہی محرمات ومکروہات ہیں۔

٢۔ امربالمعرو ف ونہی عن المنکر واجب کفائی ہے۔

٣۔ امربالمعروف ونہی عن المنکرکے شرائط حسب ذیل ہیں:

* امرونہی کرنے والاخود معروف ومنکرکو جانتا ہو۔

*تاثیر کا احتمال دے۔

* گناہگار گناہ کی تکرار کا ارادہ رکھتا ہو۔

* امرونہی فسادکا سبب نہ ہو۔

٤۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے مراحل حسب ذیل میں:

* گناہگار کے ساتھ دوستی اور رفت وآمدنہ کی جائے۔

* زبانی امرونہی

*گناہگار کی پٹائی کرنا۔

٥۔ امربالمعروف ونہی عن المنکر کے شرائط ،مراحل اور مواقع کو یاد کرنااور سیکھنا واجب ہے۔

٦۔ اگر گناہ کو روکنے کے لئے امر ونہی کی تکرار ضروری ہوتو، تکرار واجب ہے۔

٧۔ حاکم شرع کی اجازت کے بغیر گناہگار کوزخمی کرنا یا اسے قتل کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ منکر ایسے امور میں سے ہو کہ اسلام میں اس کی بہت زیادہ اہمیت ہو۔

۲۴۳

سوالات:

١۔ معروف ومنکر میں سے ہر ایک کی پانچ مثالیں بیان کیجئے؟

٢۔ کس صورت میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر واجب ہے؟

٣۔ اگر کوئی کسی گانے کو سن رہا ہواور ہم نہیں جانتے وہ غناہے یا نہیں ؟تو کیا اس کو منع کرنا واجب ہے یا نہیں ؟ اور کیوں ؟

٤۔اگر کسی کو نجس لباس کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھا جائے تو کیا واجب ہے کہ اسے کہا جائے؟ کیوں؟

٥۔ کیا ایک ایسی دوکان سے چیزیں خرید ناجائز ہے جس کامالک نمازنہ پڑھتا ہو؟

٦۔ گناہ گارکو کس صورت میں زخمی کرنا جائز ہے، دومثال سے واضح کیجئے؟

۲۴۴

سبق نمبر ٣٨

جہاداور دفاع *

چونکہ خورشید اسلام کے طلوع ہونے کے بعد تمام مکاتب ومذاہب ؛باطل، منسوخ اور ناقابل قبول قرار پائے ہیں لہٰذا تمام انسانوں کو دین اسلام کے پروگرام کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہونا چاہئے، اگر چہ وہ اسے تحقیق اور آگاہی کے ساتھ قبول کرنے میں آزاد ہیں۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے جانشینوں نے ابتداء میںاسلام کے نجات بخش پروگراموں کی لوگوں کے لئے وضاحت فرمائی اور انھیں اس دین کو قبول کرنے کی دعوت دی اور جو اسلام کے پروگراموں اور احکام سے روگردانی کریں، وہ غضب الٰہی اور مسلمانوں کی شمشیر قہرسے دوچار ہوں گے۔ اسلام کی ترقی کے لئے کوشش اور اس کو قبول کرنے سے انکار کرنے والوں سے مقابلہ کو ''جہاد'' کہتے ہیں۔اسلام کی ترقی کے لئے اس قسم کا اقدام ایک خاص ٹیکنیک اور طریقہ کار کا حامل ہے اور یہ صرف پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے جانشینوں۔ (جو ہر قسم کی لغزش اور خطاء سے مبّرا ہیں)کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور معصومین علیہم السلام کے زمانہ سے مخصوص ہے ا ورہمارے زمانہ میں کہ امام معصوم کی غیبت کادورہے، واجب نہیں ہے لیکن دشمنوں سے مقابلہ کی دوسری قسم کانام دفاع'' ہے۔یہ تمام مسلمانوں کا مسلم حق ہے کہ ہر زمان ومکان میں دنیا کی کسی بھی جگہ میں اگر دشمنوں کے حملہ کا نشانہ بنیں یا ان کا مذہب خطرہ میں پڑے تو اپنی جان اور دین کے تحفظ کے لئے دشمنوں سے لڑیں اورانہیں نابود کردیں۔ ہم اس سبق میں اس واجب الٰہی یعنی''دفاع'' کے احکام واقسام سے آشنا ہوںگے۔

____________________

* یہ سبق امام خمینی کے فتاویٰ سے مرتب کیا گیا ہے۔

۲۴۵

دفاع کی قسمیں :

١۔ اسلام اور اسلامی ممالک کا دفاع

٢۔ جان اور ذاتی حقوق کا دفاع(١)

اسلام اور اسلامی ممالک کا دفاع:

* اگر دشمن اسلامی ممالک پر حملہ کرے۔

* یا مسلمانوں کے اقتصادی یا عسکری ذرائع پر تسلط جمانے کی منصوبہ بندی کرے۔

*یا اسلامی ممالک پر سیاسی تسلط جمانے کی منصوبہ بندی کرے ۔

* تو تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ہر ممکن صورت میں ، دشمنوں کے حملہ کے مقابلے میں کھڑے ہوجائیںاور ان کے منصوبوں کی مخالفت کریں۔

جان اور ذاتی حقوق کا دفاع :

١۔ مسلمانوں کی جان اور ان کا مال محترم ہے، اگر کسی نے ایک مسلمان، یا اس سے وابستہ افراد، جیسے، بیٹے، بیٹی، باپ ، ماں اور بھائی پر حملہ کیا تو دفاع کرنا اور اس حملہ کو روکنا واجب ہے،اگرچہ یہ عمل حملہ

آورکوقتل کرنے پر تمام ہوجائے۔(٢)

____________________

(١) تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٤٨٥

(٢)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٤٨٧۔ ٤٨٨

۲۴۶

٢۔ اگر چور کسی کے مال کو چرانے کے لئے حملہ کردے، دفاع کرنا اور اس حملہ کو روکنا واجب ہے۔(١ )

٣۔ اگر کوئی نامحرموں پر نگاہ کرنے کے لئے دوسروں کے گھروں میں جھانکے تو اسے اس کام سے روکنا واجب ہے، اگرچہ اس کی پٹائی بھی کرنا پڑے۔(٢)

عسکری تربیت:

عصر حاضر میں دنیا نے عسکری میدان میں کافی ترقی کی ہے اور اسلام کے دشمن جدید ترین اسلحہ سے لیس ہوچکے ہیں ، اسلام اور اسلامی ممالک کا دفاع،جدیدعسکری طریقوں کی تربیت حاصل کئے بغیر ممکن نہیں ہے ، چونکہ فوجی تربیت حاصل کرنا واجب ہے، جو اس ٹریننگ کی قدرت وصلاحیت رکھتے ہوں اور اسلام اور اسلامی ممالک کے دفاع کے لئے محاذجنگ پر ان کے حضور کا احتمال ہوتو فوجی ٹریننگ ان کے لئے واجب ہے۔(٣)

اسلامی ممالک کا دفاع اور دشمنوںکے حملوں کے مقابلے میں ان کا تحفظ صرف جنگ کے ایام سے ہی مخصوص نہیں ہے، بلکہ ہر حالت میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد دشمن کے احتمالی حملے کو روکنے کے لئے پوری فوجی تیاری کے ساتھ ملک کی سرحدوں پر چوکس رہے اور کچھ لوگ اندرونی دشمنوں اور بدکاروں سے مقابلہ کرنے کے لئے بھی آمادہ ہوں۔ اس لئے ان تمام تواناا فراد پر لازم ہے کہ اپنی زندگی کے ایک حصہ کواس مقدس فوجی خدمات انجام دینے کیلئے وقف کریں۔

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج١، ص ٨٧ ٤۔ ٤٨٨

(٢) تحریر الوسیلہ ،ج ص ٤٩٢، م ٣٠

(٣)استفتائ.

۲۴۷

سبق ٣٨ :کا خلاصہ

١۔ اسلام کی ترقی اور اسلامی ممالک کو وسعت بخشنے کے لئے جہاد معصوم علیہ السلام کے دور سے مخصوص ہے۔

٢۔ ہر زمانے میں دفاع واجب ہے اور یہ عصرِ معصوم سے مخصوص نہیں ہے۔

٣۔ دفاع کی دوقسمیں ہیں:

*اسلام اور اسلامی ممالک کا دفاع۔

*جان اورذاتی حقوق کا دفاع۔

٤۔ اگر دشمن اسلامی ملک پر حملہ کرے یا اس پر حملہ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہو، تو تمام مسلمانوں پر دفاع کرنا واجب ہے۔

٥۔اگر کوئی کسی انسان یا اس کے اعزہ پر حملہ آور ہوجائے تو، دفاع کرنا واجب ہے۔

٦۔ مال کا دفاع بھی واجب ہے۔

٧۔ اگر کوئی شخص نامحرم کو دیکھنے کے لئے کسی کے گھر میں جھانکے تو اسے اس کام سے روکنا واجب ہے۔

٨۔جو افراد فوجی ٹریننگ کی توانائی رکھتے ہوں اور محاذ جنگ پر ان کے وجود کا احتمال بھی ہوتو ایسے افراد کے لئے اسلامی ممالک کے دفاع کیلئے فوجی ٹرنینگ لازم ہے۔

۲۴۸

سوالات:

١۔''جہاد'' اور'' دفاع'' میں کیا فرق ہے۔؟

٢۔ دفاع کی قسمیں بیان کیجئے اور ہر ایک کے لئے ایک مثال بیان کیجئے؟

٣۔ کس صورت میں چور کے ساتھ مقابلہ واجب ہے؟

٤۔ فوجی ٹریننگ کن لوگوں پر واجب ہے؟

۲۴۹

سبق نمبر ٣٩

خرید و فروخت

خرید وفروخت کی قسمیں:

١۔ واجب

٢۔حرام

٣۔مستحب

٤۔مکروہ

٥۔مباح

واجب خرید وفروخت:

چونکہ اسلام میں بے کاری اور کاہلی کی مذمت ہوئی ہے،لہٰذا زندگی کے اخراجات کو حاصل کرنے کے لئے تلاش وکوشش کرنا واجب ہے۔جو لوگ خرید وفروخت کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے اپنے اخراجات پورے نہ کرسکیں، یعنی ان کی آمدنی اسی ایک طریقہ پر منحصرہو اور کوئی دوسرا طریقہ ان کے لئے ممکن نہ ہو، تو ان پر واجب ہے خریدوفروخت سے ہی اپنی زندگی کے اخراجات پورا کریں تاکہ کسی کے محتاج نہ رہیں۔(١)

____________________

(١) توضیح المسائل، مسئلہ ٢٠٥٣

۲۵۰

مستحب خریدوفروخت:

اپنے اہل وعیال کے اخراجات کو وسعت بخشنے اور دیگر مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے خرید وفروخت کرنا مستحب ہے۔ مثلاً جو کسان کھیتی باڑی کرکے اپنا خرچہ پورا کرتا ہے، اگر فراغت اور فرصت کے وقت خریدوفروخت کا کام بھی انجام دے تاکہ اس طریقے سے محتاجوں کی مدد کرسکے،تو ثواب ہے۔(١)

حرام خرید و فروخت:

١۔ نجاسات کی خریدوفروخت،جیسے مردار۔

٢۔ ایسی چیزوں کی خرید وفروخت، جن کے معمولی منافع حرام ہیں، جیسے قمار بازی کے آلات ۔

٣۔ قماربازی یا چوری سے حاصل شدہ چیزوں کی خریدوفروخت۔

٤۔ گمراہ کنندہ کتابوں کی خریدو فروخت

٥۔کھوٹے سکوں کی خریدوفروخت۔

٦۔ اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ ایسی چیزیں فروخت کرنا جو مسلمانوں کے خلاف دشمنوں کی تقویت کا سبب بنیں۔

٧۔ اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ اسلحہ بیچناجو دشمنوں کے لئے مسلمانوں کے خلاف تقویت کا سبب بنیں*۔(٢)

حرام ۔خریدوفروخت کے اور بھی موارد ہیں لیکن مبتلابہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بیان سے چشم پوشی کرتے ہیں۔

____________________

(١) توصیح المسائل، مسئلہ ٢٠٥٣

(٢) تحریر الوسیلہ، ج١ ص ٤٩٢ تا٤٩٨ توضیح المسائل، م٥٥ ٢٠

*نمبر٤ سے ٧ تک تمام مراجع کے رسالوں میں موجود نہیں ہے۔

۲۵۱

مکروہ خریدوفروخت:

١۔ذلیل لوگوں سے لین دین کرنا ۔

٢۔ صبح کی اذان اور سورج چڑھنے کے درمیان لین دین کرنا۔

٣۔ ایک ایسی چیزخریدنے کے لئے اقدام کرنا جسے کوئی دوسرا شخص خریدنا چاہتا تھا۔(١)

خرید و فروختکے آداب

مستحبات : *خریداروں کے درمیان قیمت میں فرق نہ کیا جائے۔

*اجناس کی قیمت میں سختی نہ کی جائے۔

*جب لین دین کرنے والوں میں سے ایک طرف پشیمان ہوکر معاملہ کو توڑنا چاہئے تو اس کی درخواست منظور کی جائے۔(٢)

مکروہات:

*مال کی تعریف کرنا۔

*خریدار کو برا بھلا کہنا۔

*لین دین میں سچی قسم کھانا (جھوٹی قسم کھانا حرام ہے)

*لین دین کے لئے سب سے پہلے بازار میں داخل ہونا اور سب سے آخرمیں بازار سے باہر نکلنا۔

* تولنے اورنا پنے سے بخوبی آگاہ نہ ہونے کے باوجود مال کو تولنایاناپنا۔

____________________

(١) توضیح المسائل، مسئلہ ٢٠٥٤

(٢) توضیح المسائل، مسئلہ ٥١ ٢٠

۲۵۲

*معاملہ طے پانے کے بعد قیمت میں کمی کی درخواست کرنا۔(١)

خریدوفروخت کے احکام :

١۔ گھر یا کسی اور چیز کو حرام کاموں کے استعمال کے لئے بیچنا یا کرایہ پر دینا حرام ہے۔(٢)

٢۔ گمراہ کرنے والی کتابوں کالین دین،تحفظ، لکھنا، اور پڑھانا حرام ہے۔ زلیکن اگریہ کام ایک صحیح مقصد کے پیش نظر، جیسے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے انجام پائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔(٣)

٣۔بیچنے والی چیز کو کسی گھٹیایا کم قیمت والی چیزکے ساتھ ملانا، حرام ہے۔جیسے عمدہ میوے ڈبہ کی اوپروالی تہہ میں رکھنا اوراس کی نچلی تہہ میں گھٹیا میوے رکھنا اسے اچھے میووں کے عنوان سے بیچنایا دودھ میں پانی ملاکر بیچنا۔(٤)

٤۔ وقف کیا گیا مال نہیں بیچاجاسکتاہے، مگریہ کہ یہ مال خراب ہو رہا ہو اور استعمال کے قابل نہ رہاہو، جیسے مسجد کا فرش مسجد میں استعمال کے قابل نہ رہاہو۔(٥) ٭٭

٥۔کرایہ پر دئے گئے مکان یا کسی اور چیز کو بیچنے میں کوئی مشکل نہیں ہے لیکن کرایہ پر دی گئی مدت

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٥٠١

(٢) تحریر الوسیلہ، ج١،ص ٩٦ ٠٤م ١٠۔ توضیح المسائل ٢٠٦٩.

(٣)تحریر الوسیلہ، ج١،ص ٣٩٨ م ١٥

(٤) تحریر الوسیلہ، ج١،ص٤٩٩، توضیح المسائل،٢٠٥٥.

(٥) تحریر الوسیلہ، ج١، ص٥١٦، الرابع، توضیح المسائل،م ٩٤ ٢٠

*(گلپائیگانی )اگرگمراہ کرنے کا سبب بنے تو حرام ہے (حاشیہ وسیلہ نجات)تمام مراجع کے رسالوں میںیہ مسئلہ موجود نہیں ہے.

٭٭ (اراکی) متولی اور حاکم کی اجازت سے اسے بیچنے میںکوئی حرج نہیںہے۔(مسئلہ ٢١٢٠)

۲۵۳

کے دوران اس سے استفادہ کرنا اسی کا حق ہے جس نے اسے کرایہ پرلیا ہے۔(١)

٦۔ لین دین میں خریدوفروخت ہونے والے مال کی خصوصیات معلوم ہونی چاہئے، لیکن ان خصوصیات کا جاننا ضروری نہیں ہے جن کے کہنے یا نہ کہنے سے اس مال کے بارے میں لوگوں کی رغبت پر کوئی اثر نہ پڑے۔(٢)

٧۔ دوہم جنس چیزوں کی خریدوفروخت جو وزن کرکے یا پیمانے سے بیچی جاتی ہوں، اس سے زیادہ لینا''سود'' اور حرام ہے۔

مثلاً ایک ٹن گندم دیکر ایک ٹن اور ٢٠٠ کیلو گرام واپس لے لیا جائے۔ اسی طرح کوئی چیز یا پیسے کسی کو قرض دیئے جائیں اور ایک مدت کے بعد اس سے زیادہ لے لیں، مثلاً دس ہزار روپیہ بعنوان قرض دیدیں اور ایک سال کے بعد اس سے بارہ ہزار روپیہ لے لیں۔(٣)

معاملہ کو توڑنا:

بعض مواقع پر بیچنے والایاخریدار معاملہ کو ختم کرسکتاہے، ان میں سے بعض موارد حسب ذیل ہیں:

*خریدار یا بیچنے والے میں سے کسی ایک نے دھوکہ کھایا ہو۔

*معاملہ طے کرتے وقت آپس میں توافق کیا ہوکہ طرفین میں سے ہر کسی کو حق ہوگا کہ ایک خاص مدت تک معاملہ کو توڑ دیں ،مثلا یہ طے کیا ہو کہ طرفین میں سے جو بھی اس معاملہ پر پشیمان ہوجائے تین دن تک معاملہ کو توڑسکتا ہے ۔

*خریدا ہوا مال عیب دار ہو اور معاملہ کے بعد عیب کے بارے میں پتہ چلے۔

*بیچنے والے نے مال بیچتے وقت اس کی کچھ خصوصیات بیان کی ہوں لیکن بعد میںاس کے

____________________

(١)توضیح المسائل، م ٠٩٦ ٤.

(٢)توضیح المسائل، م ٢٠٩٠

(٣) توضیح المسائل، م ٢٠٧٢ و٢٢٨٣ وتحریر الوسیلہ،ج ١، ص ٥٣٦

۲۵۴

برعکس ثابت ہوجائے ،مثلا کہے کہ یہ کاپی ٢٠٠ صفحات کی ہے بعد میں معلوم ہو جائے کہ اس سے کم تھی(١)

اگر معاملہ طے ہونے کے بعد مال کا عیب معلوم ہوجائے تو فوراً معاملہ توڑنا چاہئے اگر ایسا نہ کرے تو بعد میں معاملہ کو توڑنے کا حق نہیں رکھتا(٢) *

____________________

(١)توضیح المسائل م ٢١٢٤

(٢)توضیح المسائل م ٢١٣٢

۲۵۵

سبق ٣٩ کا خلاصہ

١۔اگر زندگی کے اخراجات حاصل کرنے کے لئے خرید وفرخت کے علاوہ کوئی اور امکان نہ ہو تو خرید فروخت واجب ہے۔

٢۔بعض مواقع پر خرید و فروخت حرام ہے،ایسے چند مواقع حسب ذیل ہیں:

نجاسات کا لین دین ،جیسے مردار ۔

گمراہ کنندہ کتابوں کا لین دین ۔

دشمنان اسلام کو ایسی چیز بیچنا جو ان کی تقویت کا سبب بنے ۔

دشمنان اسلام کے ہاتھ اسلحہ بیچنا ۔

٣۔ بعض مواقع پر خرید وفروخت مستحب ہے اور بعض مواقع پر مکرو ہ ہے ۔

٤۔مستحب ہے کہ بیچنے والا قیمت کے بارے میں گاہکوں کے درمیان فرق نہ کرے ،مال کی قیمت پر سختی نہ کرے اور معاملہ توڑنے کی درخواست کو قبول کرے ۔

٥۔مال کی تعریفیں کرنا ،معاملہ میں سچی قسم کھانا اور اسی طرح معاملہ کے بعد قیمت کم کرنے کی درخواست کرنا مکروہ ہے ۔

*(گلپائیگانی)اگر مسئلہ کو نہیں جانتا ، تو جب بھی آگاہ ہوجائے معاملہ کو توڑسکتا ہے ۔(خوئی)ضروری نہیں ہے کہ معاملہ کو فورا توڑدے بلکہ بعد میں بھی معاملہ کو توڑنے کا حق رکھتا ہے ۔

٦۔حرام کام کے استفادہ کے لئے گھر کو بیچنا یا کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے ۔

٧۔گمراہ کن کتابوں کی خرید وفروخت ،تالیف ،تحفظ ،تدریس اور مطالعہ حرام ہے ،مگریہ کہ مقصد صحیح ہو۔

٨۔موقوفہ مال کو بیچنا جائز نہیں ہے۔

٩۔بیچنے والی چیز کو کم قیمت یا گھٹیا چیز سے ملانا جائز نہیں ہے ۔

١٠۔معاملہ میں مال کی خصوصیات معلوم ہونی چا ہئے ۔

١١۔معاملہ اور قرض کے لین دین میں سود حرام ہے ۔

١٢۔اگر بیچنے والے یا خریدار نے معاملہ میں دھوکہ کھایا ہو تو وہ معاملہ کو توڑسکتے ہیں ۔

١٣۔اگر بیچا ہوا مال عیب دار ہو اور خریدار معاملہ انجام پانے کے بعد متوجہ ہوجائے تو معاملہ کو توڑسکتا ہے ۔

۲۵۶

سوالات:

١۔ خرید و خروخت کس حالت میں مستحب ہے۔؟

٢۔شطرنج،تاش اور سنتور کی خریدو فروخت کا کیا حکم ہے؟

٣۔ حرام خریدوفروخت کے پانچ موارد بیان کیجئے.

٤۔ معاملہ میں قسم کھانے کا کیا حکم ہے؟

٥۔ مکان کو ایسے انقلاب مخالفین کے ہاتھ کرایہ پر دینے کا کیا حکم ہے جو اسلامی جمہوری کے خلاف سرگرم عمل رہتے ہیں ؟

٦۔سود کی وضاحت کرکے اس کی تین مثالیں بیان کیجئے؟

۲۵۷

سبق نمبر ٤٠

کرایہ، قرض اور امانتداری

کرایہ:

اگر اجارہ پر دینے والا، مستأجر سے کہے : '' میں نے اپنی ملکیت تجھے کرایہ پر دیدی'' اور وہ جواب میں کہے:''میں نے قبول کیا'' تو اجارہ صحیح ہے، حتی اگر کچھ نہ کہے اور صاحب مال اجارہ پر دینے کی نیت سے مال کومستاجر کے حوالے کردے اور وہ بھی اجارہ کے قصد سے اسے لے لے، تو اجارہ صحیح ہے، مثلا ًگھر کی چابی اسے دیدے اور وہ اسے لے لے ۔(١)

اجارہ پر دئیے جانے والے مال کے شرائط:

اجارہ پر دی جانیوالی چیزکے کچھ شرائط ہونے چاہئے، ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:

*وہ مال معین اور مشخص ہو، لہٰذا اگر کوئی شخص (مشخص کرنے کے بغیر) کہے :'' اس گھر کے کمروں میں سے ایک کمرہ کو تجھے اجارہ پر دیتا ہوں ''تو اجارہ صحیح نہیں ہے۔

*مستاجر کو مال دیکھنا چاہئے یا اس مال کی خصوصیات کو اس کے لئے ایسے بیان کیا جائے کہ پوری طرح معلوم ہوجائے۔

____________________

(١)توضیح المسائل، م ٢١٧٧

۲۵۸

*مال ان چیزوں میں سے نہ ہوکہ استعمال کرنے سے اصل مال نابود ہوجائے، لہٰذا روٹی، میوہ اور دیگر کھانے پینے کی چیزوں کو اجارہ پر دینا صحیح نہیں ہے۔(١)

کرایہ کے احکام:

١۔ اجارہ میں مال کے استفادہ کی مدت معین ہونی چاہئے،مثلاًکہا جائے:''ایک سال'' یا '' ایک ماہ''(٢)

٢۔ اگر مال کا مالک، اجارہ پر دی جانیوالی چیز کو مستاجر کے حوالے کرے، اگر چہ مستاجر اسے اپنے قبضے میں نہ لے یا قبضے میں لے لے مگر اجارہ کی مدت تمام ہونے تک اس سے استفادہ نہ کرے تو بھی اسے اجارہ کی رقم ادا کرنی ہوگی۔(٣)

٣۔ اگر کوئی شخص کسی مزدور کو ایک خاص دن کے لئے کام پرمعین کرے،مثال کے طور پر اس مزدور کی ذمہ داری یہ ہوکہ انیٹوں یا چونے وغیرہ کو باہر سے اٹھا کر بلڈنگ کے اندر لے جائے، اور یہ مزدور کام پر حاضر ہوجائے، اگر اس کے بعد اس کو کوئی کام نہ دیا جائے، مثلاً بلڈنگ کے اندرلے جانے کیلئے اینٹیںنہ ہوں، تو بھی اس کی مزدوری اسے دینی چاہئے۔(٤)

٤۔ اگر کوئی صنعت گر کسی چیز کو لینے کے بعد اسے ضائع کردے ،تو اسے اس نقصان کی تلافی کرنی چاہیئے، مثال کے طور پر ایک مکینک گاڑی کو کوئی نقصان پہنچائے۔(٥) *

٥۔ اگر کوئی شخص کسی گھر، دکان یا کمرہ کو اجارہ پر لے اور اس کا مالک یہ شرط لگائے کہ صرف وہ

____________________

(١)توضیح المسائل، م ٢١٨٤

(٢) توضیح المسائل ، م ٢١٨٧

(٣)توضیح المسائل،م ٢١٩٦

(٤)توضیح المسائل،م ٢١٩٧

(٥)توضیح المسائل،م ٢٢٠٠

*یہ مسئلہ حضرت آیت ١اللہ اراکی کے رسالہ میں نہیں ہے۔

۲۵۹

خود اس سے استفادہ کرسکتا ہے تو مستاجر کو حق نہیں ہے کسی اور کو اسے اجارہ پر دیدے۔(١)

قرض

قرض دینا مستحب ہے جس کے بارے میں قرآن واحادیث میں بہت تاکید کی گئی ہے اور قرض دینے والے کو قیامت کے دن اس کا بہت زیادہ صلہ ملے گا۔

قرض کی قسمیں :

١۔ مدت دار: یعنی قرض دیتے وقت معین ہو کہ قرض لینے والا کس وقت قرض کو ادا کرے گا۔

٢۔ بغیر مدت: وہ ہے جس میں قرض ادا کرنے کی تاریخ معین نہ ہو۔

قرض کے احکام :

١۔ اگر قرض معین مدت والاہو توقرض خواہ مدت تمام ہونے سے پہلے طلب نہیں کرسکتا ہے *(٢)

٢۔ اگر قرض معین مدت والا نہ ہو تو قرض خواہ کسی بھی وقت طلب کرسکتا ہے۔(٣)

٣۔قرض خواہ کے طلب کرنے پر اگر قرض دار اسے اداکرنے کی طاقت رکھتاہوتو۔فوراً ادا کرنا چاہئے، تاخیر کی صورت میں گناہ گارہے۔(٤)

٤۔ اگر کوئی شخص کسی کو کچھ پیسے دے اور شرط کرے کہ ایک مدت کے بعد، مثلاً ایک سال کے بعد اس سے بیشتر پیسے وصول کرے گا تو وہ سود اور حرام ہے، مثلاً ایک لاکھ روپیہ دے کر یہ شرط کرے کہ ایک سال کے بعد اس سے ایک لاکھ بیس ہزار وپیہ وصول کرے گا۔(٥)

____________________

(١)توضیح المسائل،م ٢١٨٠ (٢)توضیح المسائل، م٢٢٧٥ (٣) توضیح المسائل،م ٢٢٧٥ (٤)توضیح المسائل م٢٢٧٦(٥)توضیح المسائل م٢٢٨٨

* (تمام مراجع)احتیاط واجب کے طور پر مسئلہ ٢٢٨٩)

۲۶۰

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

فلاں خاص معجزہ نہيں ركھتا اس پر ايمان نہ لائيں خواہ وہ پيغمبرہى كيوں نہ ہو، چونكہ انہوں نے يہ نہيں كہا كہ''الا نؤمن لمدعى الرسالة'' اور يہ كہ اگر نبى ہو تب بھى ايمان نہ لانا جب تك فلاں خاص معجزہ نہ دكھائے_ سوائے خرافات كے اور كچھ نہيں _

٢_ بالفرض اس قسم كا عہد ليا بھى گيا ہو تو انہيں سوچنا چاہيئے كہ اس قسم كى قربانى سچے اور جھوٹے كى پہچان كيلئے ايك معجزہ ہے نہ كہ يہ خود مقصود ہے اور اس پر اصرار كرنا جمود ہٹ دھرمى و كى علامت ہے_

١٨_ دوسروں كے اعمال پر راضى ہونا، ان كى انجام دہى ميں شريك ہونے كے برابر ہے_ *فلم قتلتموهم

عصر پيغمبراكرم(ص) كے يہوديوں كى طرف انبياء (ع) كے قتل كى نسبت يقيناً حقيقى نہيں ہے_ چونكہ انہوں نے گذشتہ انبياء (ع) كو قتل نہيں كيا تھا_ لہذا بعض كا خيال ہے كہ يہ نسبت اس لحاظ سے ہے كہ وہ اپنے آبا و اجداد كے اعمال پر راضى تھے_

١٩_ زمانہ پيغمبر(ص) كے يہود، اپنے آبا و اجداد كے ذريعے انبياء (ع) كے قتل پر راضى ہونے كے سبب، انبياء (ع) كے قاتلوں كے حكم ميں تھے_فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

٢٠_ يہود كا ہٹ دھرم اور معاند ہونا_قل قد جائكم رسل من قبلى بالبينات و بالذى قلتم فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

٢١_ پيغمبراسلام(ص) پر ايمان لانے سے فرار كرنے كى خاطر يہوديوں كى بہانہ تراشي_الذين قالوا فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين جملہ''فلم قتلتموهم ...''سے ظاہر ہوتا ہے كہ ايمان لانے كيلئے ان كا مطالبہ و شرط فقط ايك بہانہ تھا_

٢٢_ اپنا مطلوبہ معجزہ (قربانى كا غيبى آگ سے جلنا) ديكھنے كى صورت ميں پيغمبراكرم(ص) پر ايمان لانے كے بارے ميں يہود كے ادعا كا جھوٹ پر مبنى ہونا_قل قد جائكم فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

٢٣_ يہود كے ساتھ خداوند متعال كے اس عہد كى تكذيب كہ جس كے مطابق وہ پيغمبراكرم(ص) پر اس وقت تك ايمان نہيں لائيں گے جب تك آپ(ص) ايسى قربانى پيش نہ كريں جسے غيبى آگ جلا دے_

ان الله عهد الينا الانؤمن فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين اگر يہود كا ادعا صحيح ہوتا تو پيغمبر اكرم(ص) كو چاہيئے تھا كہ ان كا مطالبہ پورا كرتے، نيز عہد كو ''الذى قلتم'' (جو تم نے كہا) سے تعبير نہ فرماتے بلكہ يہ

۲۸۱

فرماتے''بالعهد الذى عهد الله عليكم'' كيونكہ اگر ان كا ادعا حقيقى ہوتا تو يہ ايك الہى عہد ہوتا نہ كہ يہود كا قول_

٢٤_ فضول ادعا كرنے اور بہانے بنانے كى وجہ سے خداوند متعال كى جانب سے يہوديوں كى سرزنش_

الذين قالوا ان الله فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

٢٥_ اہل كتاب (يہود) كے مقابلے ميں قرآن كا استدلالى و منطقى رويہ_قل قدجائكم رسل من قبلى فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

٢٦_ يہود كا اپنے قومي، ثقافتى اور تاريخى آثار و رسوم سے محكم ارتباط و لگاؤ ركھنا_الذين قالوا ان الله عهد الينا الا نؤمن فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

٢٧_ پيغمبراكرم(ص) كے ہم عصر يہوديوں كا بعثت سے پانچ سو سال پہلے اپنے آبا و اجداد كے ہاتھوں انبياء (ع) كے قتل ہونے پر راضى ہونا ان كى طرف خداوند متعال كى جانب سے قتل انبياء (ع) كى نسبت دينے كا باعث بنا ہے_

قل قدجائكم رسل من قبلى بالبينات وبالذى قلتم فلم قتلتموهم امام صادق نے مذكورہ آيت كى تلاوت كے بعد فرمايا:''كان بين القاتلين و القائلين خمس ما ة عام ، فالزمهم الله القتل برضاهم ما فعلوا'' (١) يعنى اس بات كے كہنے والوں اور قاتلين كے درميان پانچ سو سال كا فاصلہ تھا مگر الله تعالى نے ان كى طرف قتل كى نسبت اسلئے دى كہ وہ قاتلوں كے اس فعل پر راضى تھے_

٢٨_ بنى اسرائيل كى قربانى كا جل جانا، اسكے بارگاہ خداوند متعال ميں قبول ہونے كى علامت تھي_

حتى ياتينا بقربان تأكله النار امام صادق(ع) فرماتے ہيں : كانت بنو اسرائيل اذا قربت القربان تخرج نار تاكل قربان من قبل منہ(٢) جب بنى اسرائيل قربانى كرتے تو قبول ہونے والى قربانى كو آگ جلا ديتي_

٢٩_ كسى كے ناحق قتل پر راضى ہونا، خود اسے قتل كرنے كے مترادف ہے_فلم قتلتموهم

امام صادق(ع) مذكورہ آيت سے تنقيح مناط كى بناپرفرماتے ہيں :لعن الله المرجئة ان هؤلاء يقولون : ان قتلتنا مؤمنون

____________________

١)كافى ج٢ ص٤٠٩ ح١، تفسير برھان ج١ ص٣٢٨ ح٢/، ٤، ٦.

٢)كافى ج٤ ص٣٣٥ ح١٦، نورالثقلين ج١ ص٤١٧ ح٤٦٢.

۲۸۲

فدمائنا متلطخه بثيابهم الي يوم القيمة ان الله حكى عن قوم فى كتابه : الا نؤمن لرسول فلم قتلتموهم ...'' قال : كان بين القاتلين و القائلين خمسمأة عام فالزمهم الله القتل برضاهم ما فعلوا _(١) خدا كى لعنت ہو مرجئہ پر ، يہ كہتے ہيں ہمارے ( اہل بيت (ع) ) قاتل بھى مؤمن ہيں _ پس ان (مرجئہ) كے د امن قيامت تك ہمارے خون سے آلودہ ہيں كيونكہ خداوند متعال اپنى كتاب ميں اس قوم كے بارے ميں فرمارہا ہے ''الا نؤمن لرسول فلم قتلتموهم ...'' امام (ع) نے فرمايا قاتلين اور قائلين كے درميان پانچ سو سال كا فاصلہ ہے ليكن پھر بھى اللہ تعالى نے كہنے والوں كى طرف قتل كى نسبت دى كيونكہ وہ اس فعل قتل پر راضى تھے_

آتش: آتش غيبى ١، ٦، ٩، ١٣، ٢٢، ٢٣

آنحضرت(ص) : ٢، ٥، ١٦، ٢١، ٢٢، ٢٣ آنحضرت (ص) كا معجزہ٢٢ ; آنحضرت (ص) كا استدلال ١٠، ١٤

اسلام: ٥ اللہ تعالى: اللہ تعالى كا عہد ٤، ٢٣

انبياء (ع) : ١، ٣ انبياء (ع) كا قتل١٢، ١٣، ١٩، ٢٧; انبياء (ع) كا معجزہ٨، ٩، ١٢، ١٣; انبياء (ع) كى بعثت٨; انبياء (ع) كى حقانيت١٢ اہل كتاب: ٢٥

ايمان: آنحضرت(ص) پر ايمان ٢،٢١، ٢٢، ٢٣ ; انبياء (ع) پر ايمان ١، ٣

بنى اسرائيل: انبيائے بنى اسرائيل ٨، ٩;بنى اسرائيل كى قربانى ٢٨

تاريخ: تاريخ سے عبرت ١٥

تبليغ: تبليغ كا طريقہ ٢٥

حضرت موسى (ع) : حضرت موسي (ع) كى بعثت ٣

حق كا چھپانا: ١٢،١٣

دين: دين سے سوء استفادہ ٥

روايت: ٢٧، ٢٨، ٢٩

سزا:١٩

____________________

١)كافى ج٢ ص٤٠٩ ح١، تفسير عياشى ج١ ص٢٠٨ ح١٦٣.

۲۸۳

شناخت: شناخت كے منابع ١٥

عقيدہ: ١، ٣، ٤، ٦، ١٧ عمل : عمل كى قبوليت ٢٨ عہد: عہد كى وفا ٤

قتل: ١٢، ١٣، ١٩، ٢٢، ٢٣، ٢٧، ٢٩

قرباني: ١، ٢، ٦، ٩، ١٣، ٢٢، ٢٣، ٢٨ اديان الہى ميں قربانى ٧

كفر: ١٣، ٢١

گناہ: گناہ پر راضى ہونا ١٨، ١٩، ٢٧، ٢٩

مبارزت: اسلام كے خلاف مبارزت ٥

معجزہ: ٨، ٩، ١٢، ١٣، ٢٢ معجزہ كى اہميت ١١

نبوت: نبوت كے دلائل ١١

نفاق: ١٦

يہود: ٥، ١٠،١٢، ٢٣، ٢٥ صدر اسلام كے يہود ١٩، ٢٧ ;يہود كا انبياء (ع) كو قتل كرنا ١٢، ١٣، ١٩، ٢٧; يہود كا جمود ١٧; يہود كا جھوٹ بولنا ٢٢;يہود كا عقيدہ ١، ٣، ٤، ٦، ٧;يہود كا كفر ١٣، ٢١; يہود كا نفاق ١٦;يہود كى بہانہ تراشى ٢١، ٢٤; يہود كى تاريخ ١٤; يہود كى خواہشات ٢;يہود كى دشمنى ، ٢٠;يہود كى سرزنش ٢٤; يہود كى سزا ١٩;يہود كى صفات ٢٠; يہود كى ضد و ہٹ دھرمى ٢٠;يہود كى نسل پرستى ٢٦;يہود كے آبا و اجداد ١٩، ٢٧; يہود ميں خرافات ١٧

آیت(۱۸۴)

( فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ جَآؤُوا بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَابِ الْمُنِيرِ )

اس كے بعد بھى آپ كى تكذيب كريں تو آپ سے پہلے بھى رسولوں كى تكذيب ہوچكى ہے جو معجزات ، مواعظ اور روشن كتاب سب كچھ لے كر آئے تھے _

١_ يہود كا پيغمبراسلام(ص) كو جھٹلانا_فان كذبوك

٢_ يہود كى طرف سے آنحضرت (ص) كو جھٹلائے جانے پر آپ (ص) كا غمگين ہونا_*

۲۸۴

فان كذبوك فقد كذب رسل من قبلك

آيت كا لب ولہجہ بتا رہا ہے كہ پيغمبراكرم(ص) اپنى تكذيب پر غمگين تھے بعض نے جواب شرط كو محذوف قرار ديتے ہوئے يوں كہا ہے:''ان كذبوك فلا تحزن'' اس لحاظ سے جملہ ''فقد كذب'' كو '' لا تحزن''كى علت قرار ديا گيا ہے_

٣_ يہود كى طرف سے پيغمبر اكرم(ص) كو جھٹلائے جانے پر خداوند متعال كا آنحضرت(ص) كو تسلى و تشفى دينا_

فان كذبوك فقد كذب رسل من قبلك

٤_ لوگوں كى مخالفت اور تكذيب كے باوجود خداوند متعال كى طرف سے پيغمبراكرم(ص) كو انجام رسالت ميں استقامت و پائيدارى دكھانے كى ترغيب_فان كذبوك فقد كذب رسل من قبلك

٥_ يہوديوں كا رسالت پيغمبراكرم(ص) كے دائرے ميں ہونا_فان كذبوك يہوديوں كے پيغمبراكرم(ص) كو جھٹلانے سے ظاہر ہوتا ہے كہ آپ(ص) نے انہيں بھى اسلام قبول كرنے كى دعوت دى تھي_

٦_ رسالت انبياء (ع) كو جھٹلانا، ان كى مخالفت كرنے كے رائج طريقوں ميں سے ايك طريقہ ہے_فان كذبوك فقد كذب رسل من قبلك

٧_ بہت سے انبياء (ع) كا روشن دلائل (برہان و معجزہ) كا حامل ہونے كے باوجود،جھٹلايا جانا_فقد كذب رسل من قبلك جاؤ بالبينات والزبر والكتاب المنير

٨_ انبياء (ع) كو جھٹلانے والے، خداوند متعال كى طرف سے سرزنش و ملامت كا نشانہ بنتے ہيں _

فان كذبوك جاؤ بالبينات والزبرو الكتاب المنير جملہ ''جاؤ بالبينات''، ''رسل''كيلئے حال يا صفت ہے_ يعنى انبياء (ع) كو اپنى رسالت كيلئے روشن دلائل ركھنے كے باوجود، بعض لوگوں كى مخالفت كا سامنا كرنا پڑا_ يہ تعبير ان كى شديد مذمت كو ظاہرى كررہى ہے_

٩_ انبيائے الہى (ع) روشن دلائل (برہان و معجزہ) سے بہرہ مند ہونے اور ''زُبُر''(حكمت و موعظہ پر مشتمل كتب) كے حامل ہونے كے علاوہ روشن اور واضح كتاب لانے والے تھے_رسل من قبلك جاؤ بالبينات والزُبر والكتاب المنير

''منير''كا معنى روشنى پھيلانے والا اور روشن دونوں ہيں _

١٠_ آسمانى كتب كا ضرورت كے ہر پہلو كو روشن كرنا_جاؤ والكتاب المنير

يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''منير'' كا معنى روشنى

۲۸۵

پھيلانے والا ہو_ يہاں اس كا متعلق حذف ہوگيا ہے تاكہ عموم و شمول پر دلالت كرے _ يعنى ہر وہ چيز جس كى لوگوں كو ضرورت ہے اور جس كى توقع وہ اس كتاب سے ركھتے ہيں وہ اس ميں بيان ہوئي ہے_

١١_ آسمانى كتابوں كا قابل فہم اور ان كے ظواہر كا حجت ہونا_جاؤ بالبينات والزبر و الكتاب المنير

اگر آسمانى كتب قابل فہم نہ ہوں تو نہ تو روشن ہوں گى اور نہ ہى روشنى پھيلانے والي_ اور جب قابل فہم ہيں تو ان كے ظواہر، مكلفين كيلئے حجت ہيں _

١٢_ بہت سے انبياء (ع) كا روشن دلائل، آسمانى كتب اور حرام وحلال كے احكام كے حامل ہونے كے باوجود جھٹلايا جانا_فان كذ بوك جاؤ بالبينات والزبر والكتاب المنير اما م باقر(ع) نے مذكورہ آيت كے بارے ميں فرمايا:''فان كذبوك فقد جاؤ بالبينات هى الايات ''والزبر''و هى كتب الانبياء بالنبوة '' والكتاب المنير '' الحلال والحرام_ (١) '' البينات'' سے مراد نشانياں '' الزبر''سے مراد انبياء (ع) كى كتب نبوت اور ''الكتاب المنير'' سے مراد حلال و حرام ہيں _

آسمانى كتب: ١٢ آسمانى كتب كا فہم ١١; آسمانى كتب كى تعليمات ٩، ١٠;آسمانى كتب كى حجيت ١١

آنحضرت(ص) : آنحضرت(ص) كا غمگين ہونا ٢; آنحضرت(ص) كو تسلى و تشفى ٣; آنحضرت(ص) كى تشويق ٤;آنحضرت (ص) كى تكذيب ١، ٢، ٣، ٤ ; آنحضرت(ص) كى ذمہ دارى كى حدود ٥

احكام: احكام كے منابع١٢

استقامت: استقامت كى تشويق ٤

اسلام: صدر اسلام كى تاريخ ١، ٢، ٣، ٤

انبياء (ع) : انبياء (ع) كا استدلال ٧، ٩، ١٢; انبياء (ع) كا معجزہ٧، ٩; انبياء (ع) كى تكذيب ٦ ، ٧ ، ٨، ١٢ ;انبياء (ع) كى مخالفت ٦

روايت: ١٢

مكذبين: مكذبين كى مذمت ٨ يہود: ١، ٢، ٣، ٥

____________________

١)تفسير قمى ج١ ص١٢٧، تفسير برھان ج١ ص٣٢٨ ح١.

۲۸۶

آیت(۱۸۵)

( كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَما الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ ) ہر نفس موت كا مزہ چكھنے والا ہے او رتمھارا مكمل بدلہ تو صرف قيامت كے دن ملے گا_ اس وقت جسے جہنم سے بچا لياگيا اورجنت ميں داخل كرديا گيا وہ كامياب ہے او رزندگانى دنياتو صرف دھو كہ كاسرمايہ ہے _

١_ موت، سب لوگوں كا حتمى انجام ہے_كل نفس ذائقة الموت

٢_ قيامت كے دن اعمال كى پورى پورى سزا پانے كے بارے ميں خداوند متعال كا وعدہ_و انما توفون اجوركم يوم القيمة ''توفون''كا مصدر ''توفية'' ہے جس كا معنى پورا اور مكمل دريافت كرنا ہے_

٣_ فقط قيامت كے دن ہى اعمال كى پورى پورى سزا دى جائے گي_و انما توفون اجوركم يوم القيمة

٤_ قيامت كے دن انسان كے ا عمال كى عادلانہ جزا اور ان كا دقيق محاسبہ_و انما توفون اجوركم يوم القيمة ''توفون''(عمل كے مقابلے ميں پورى پورى جزا عطا ہونا) اعمال كے دقيق محاسبے كى حكايت كر رہا ہے، نيز جزا دينے ميں عدل و انصاف كے لحاظ ركھنے كى بھى علامت ہے_

٥_ قيامت كے علاوہ (دنيا و عالم برزخ ميں ) بعض اعمال كى جزا و سزا حاصل ہونا_ *و انما توفون اجوركم يوم القيمة

كلمہ ''انما'' ، '' پورى پورى جزا يا سزا كے

۲۸۷

دريافت كرنے كو، روزقيامت ميں منحصر كررہا ہے_ لہذا اس كا مفہوم يہ ہے كہ بعض سزا و جزا قيامت كے علاوہ كسى اور وقت بھى دى جاتى ہيں اور اس غير قيامت سے مراد ہوسكتا ہے دنيا ہو يا عالم برزخ يا دونوں _

٦_ پيغمبراكرم(ص) كے ساتھ ابلاغ رسالت اور اسكى مشكلات اور مصائب برداشت كرنے كے عوض، آخرت ميں پورى جزا كا وعدہ_فان كذبوك و انما توفون اجوركم يوم القيامة گذشتہ آيت كے قرينے سے جو پيغمبر اكرم(ص) كى تسلى و تشفى كيلئے نازل ہوئي تھى ، ''انما توفون اجوركم ''كے مطلوبہ مصاديق ميں سے ايك، ابلاغ رسالت كے عوض پيغمبر اكرم(ص) كا مكمل اور پورا پورا اجر ہے جو آپ(ص) كو قيامت كے دن عطا ہوگا_

٧_ اُخروى منافع سے بہرہ مندي، انسان كے دنيوى اعمال كا نتيجہ ہے_و انما توفون اجوركم يوم القيمة

٨_ موت،ا نسان كى نابودى نہيں بلكہ قيامت ميں وارد ہونے كا ايك مرحلہ ہے_كل نفس ذائقة الموت و انما توفون اجوركم يوم القيمة

٩_ ''يوم القيمة''، روز جزا كے ناموں ميں سے ايك نام ہے_و انما توفون اجوركم يوم القيمة

١٠_ دوزخ، انسانوں كے ناپسنديدہ اعمال كى پورى پورى جزا ہوگي_و انما توفون فمن زحزح عن النار

١١_ بہشت، انسانوں كے نيك اعمال كى پورى پورى جزا ہوگي_و انما توفون اجوركم يوم القيمة فمن زحزح عن النار و ادخل الجنة فقد فاز

١٢_ آگ سے نجات پانے والوں اور بہشت ميں داخل كئے جانے والوں كى سعادت مندى و كاميابي_

فمن زحزح عن النار و ادخل الجنة فقد فاز ''زحزح'' مصدر ''زحزحة'' سےيعنى دور ہونا اور يہاں نجات و رہائي پانے سے كنا يہ ہے_

١٣_ بہشت، سعادت مندوں كا مقام ہے_فمن زحزح و ادخل الجنة فقد فاز

١٤_ دوزخ كے باسيوں كى بدبختى اور شقاوت_فمن زحزح عن النار و ادخل الجنة فقد فاز

١٥_ خدا كا خبردار كرنا كہ دنيوى زندگى سوائے فريب كے

۲۸۸

اور كچھ نہيں _و ما الحيوة الدنيا الا متاع الغرور ''الغرور''يا تو مصدر ہے يعنى فريب اور دھوكہ دينا يا اسم فاعل ہے اور ''غار'' كى جمع ہے جس كا معنى فريب دينے والا ہے_

١٦_ انسانوں كى ہدايت كيلئے قرآن كا طريقہ ہے كہ وہ انہيں موت و قيامت كے دن، اعمال كى جزا و سزا اور دنيا كے فريب دہندہ ہونے كى طرف متوجہ كراتا ہے_كل نفس ذائقة الموت و ما الحيوة الدنيا الا متاع الغرور

١٧_ دنيوى منافع سے فريب كھانا، اخروى سعادت و نجات سے محروميت كا باعث بنتا ہے_

فمن زحزح عن النار و ادخل الجنة فقد فاز و ما الحيوة الدنيا الا متاع الغرور

١٨_ دنيوى زندگى كے سلسلے ميں ہوشيار رہنا ضرورى ہے_و ما الحيوة الدنيا الا متاع الغرور

خداوند متعال نے دنيوى زندگى كو فريب دہندہكہا ہے تاكہ انسانوں كو سمجھائے كہ مبادا تم لوگ دنيوى زندگى كے ظاہرى فريب و دھوكے ميں آجاؤ اور وہ تمہيں بہشت سے غافل كردے جو كہ كاميابى و سعادت ہے_

١٩_ دنيوى زندگى اور اسكى لذتيں ، انسان كو موت اور ان لذتوں و خوشيوں كے فانى ہونے سے غافل كرديتى ہيں _

كل نفس ذائقة الموت و ماالحيوة الدنيا الا متاع الغرور موت كے آنے سے سب لوگوں كى آگاہى كے باوجود، موت كى ياددہانى اور پھر دنيوى زندگى كو فريب دہندہ كہنے سے پتہ چلتا ہے كہ دنيا كے فريب كا واضح ترين مصداق، اس كا انسانوں كو موت اوراپنى لذتوں كے فانى ہونے سے غافل كرنا ہے_

٢٠_ حقيقى سعادت پر فائز ہونا دنيا ميں ميسر نہيں ہوسكتا_فمن زحزح و ادخل الجنة فقد فاز و ما الحيوة الدنيا الا متاع الغرور جملہ ''فمن ادخل الجنة فقد فاز''(پس جسےجنت ميں داخل كرديا گيا وہ كامياب ہوگيا) سے اور دنيوى زندگى كو فريب و فريب دينے سے توصيف كرنا، ظاہر كرتا ہے كہ انسان كى حقيقى سعادت، دنيا ميں ميسر نہيں ہوسكتي_

٢١_ اعمال كى مكمل اخروى جزا كے مقابلے ميں دنيوى منافع، ايك فريب سے زيادہ اور كچھ نہيں _

و انما توفون اجوركم يوم القيمة و ما الحيوة الدنيا الا متاع الغرور

۲۸۹

٢٢_ ہر صاحب روح حتي ملائكہ مقربين اور حاملين عرش تك كا موت سے ہمكنار ہونا_كل نفس ذائقة الموت امام صادق(ع) مذكورہ آيت كى تفسير ميں فرماتے ہيں :انه يموت اهل الارض حتى لايبقي احد ثم يموت اهل السماء حتي لايبقي احد الا ملك الموت و حملة العرش و جبرئيل و ميكائيل فيجي ملك الموت حتي يقوم بين يدى الله عزوجل فيقول (الله ): انى قد قضيت على كل نفس فيها الروح الموت ..(١) اس زمين كے سب باشندے موت كا شكار ہوجائيں گے يہاں تك كہ كوئي نہ ر ہے گا پھر آسمان والے موت كا مزہ چكھيں گے يہاں تك كہ كوئي نہ ر ہے گا سوائے ملك الموت، حاملان عرش اور جبرئيل و ميكائيل ...كے، پھر ملك الموت خداوند متعال كے حضور آئے گا ...خداوند متعال اس سے فرمائے گا: يہ امر ميں طے كرچكاہوں كہ جس نفس ميں روح ہے وہ موت كو ضرور چكھے گا_

آنحضرت (ص) : آنحضرت (ص) كى اخروى جزا ٦

اللہ تعالى: اللہ تعالى كا خبردار كرنا ١٥; اللہ تعالى كا وعدہ ٢، ٦

انسان: انسان كا انجام ١

اہل جہنم: اہل جہنم كى شقاوت ١٤

بہشت: ١١، ١٢، ١٣

تبليغ: تبليغ كا طريقہ ١٦

جزاوسزا : ٣، ٤، ٥، ٧، ٢١ اخروى جزا و سزا ٢، ٩، ١٦ ;جزا و سزا كے اسباب ٦، ١١

جہنم: ١٠

دنيا: ٥ دنيا كا فريب دينا ١٦، ١٧، ٢١;دنيوى زندگى ١٥، ١٨;دنيوى وسائل ١٢

دنيا پرستي: دنيا پرستى كے اثرات ١٧، ١٩

ذكر: ١٦

رسالت: رسالت كى سختى و مشكل ٦

____________________

١)كافى ج٣ ص٢٥٦ ح٢٥ نورالثقلين ج١ ص٤١٩ ح٤٧٠.

۲۹۰

روايت: ٢٢

روز قيامت:٩

سزا: ٥، ١٠ اخروى سزا ٩

سعادت : دنيوى سعادت ٢٠; سعادت سے محرومى ١٧; سعادت كے اثرات ١٢

سعادت مند: سعادت مندوں كابہشت ميں جانا١٢، ١٣; سعادت مندوں كے فضائل ١٢، ١٣

شقاوت: ١٤

عالم برزخ: ٥

عدل: قيامت كے دن عدل ٤

عذاب: عذاب سے نجات كے عوامل ١٢; عذاب كے اسباب ١٠

عرش: حاملان عرش ٢٢

عمل: عمل صالح كى جزا ١١; عمل كا اخروى اجر ٣، ٧، ٢١; عمل كا دنيوى اجر ٥; عمل كى جزا و سزا ٢، ٤;عمل كى دنيوى سزا ٥;عمل كى سزا ١٠; عمل كے اثرات ٧; ناپسنديدہ عمل كى سزا ١٠

غفلت: غفلت كا پيش خيمہ ١٩;موت سے غفلت ١٩

قيامت: قيامت كے دن كا حساب كتاب ٤ ;قيامت كے نام ٩

ملائكہ: ملائكہ كى موت ٢٢

موت: ١٩ موت كو ياد كرنے كے اثرات ١٦;موت كا حتمى ہونا ١، ٢٢;موت كى حقيقت ٨

ہدايت: ہدايت كے اسباب ١٦;ہدايت كے موانع ١٧

ہوشياري: ہوشيارى كى اہميت ١٨

۲۹۱

آیت(۱۸۶)

( لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ أَذًی كَثِيرًا وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الأُمُورِ ) يقينا تم اپنے اموال اور نفوس كے ذريعہ آزمائے جاؤ گے او رجن كو تم سے پہلے كتاب دى گئي ہے اور جو مشرك ہوگئے ہيں سب كى طرف سے بہت اذيت ناك باتيں سنوگے _ اب اگر تم صبر كروگے اور تقوي اختيار كرو گے تو يہى امور ميں استحكام كا سبب ہے _

١_ مؤمنين كى دائمى و مسلسل آزمائش، خداوند متعال كى ايك سنت ہے_

لتبلون فى اموالكم و انفسكم ''لتبلون''ميں ''لام''تاكيد كيلئے اور آزمائش كے وقوع پر خداوند متعال كى قسم كى حكايت كر رہا ہے اور نون تاكيد بھى اسكے حتمى ہونے كى تاكيد كر رہا ہے_ اسى طرح فعل مضارع '' لتبلون'' آزمائش كے استمرار پر دلالت كرتا ہے_

٢_ مؤمنين كے جان و مال اور جسم، ان كى آزمائش كا وسيلہ ہيں _لتبلون فى اموالكم و انفسكم

٣_ جسم و جان كے ذريعے آزمائش كا مرحلہ، مال كے ذريعے آزمائش كے بعد ہے_*

لتبلون فى اموالكم و انفسكم اموال كے ذكر كا انفس پر مقدم ہونا آزمائش كے مرحلوں كى ترتيب كى جانب اشارہ ہوسكتا ہے_

٤_ مؤمنين كى مالى آزمائش كا ميدان، انفاق اور جانى آزمائش كا ميدان ،جہاد ہے_لتبلون فى اموالكم و انفسكم گذشتہ آيات كہ جو جہاد و انفاق كے بارے ميں تھيں كے پيش نظر ہوسكتا ہے كہ مالى امتحان انفاق كى طرف اور جانى امتحان جہاد كى طرف اشارہ ہو

۲۹۲

چونكہ يہ دونوں بالترتيب انفاق و جہاد كى طرف ناظر ہيں _

٥_ مؤمنين كى آزمائش و ابتلاء پاك و ناپاك افراد كى صفوں ميں تشخيص كا وسيلہ ہے_*

حتي يميز الخبيث من الطيب لتبلون فى اموالكم و انفسكم خداوند متعال نے آيت ١٧٩ ( حتي يميز الخبيث ) ميں پاك و ناپاك افراد كے مشخص كرنے كا وعدہ ديا ہے_ اس آيت ميں اس تشخيص كا طريقہ (كہ جو مالى و جانى امتحان ہے) بيان كيا جا رہا ہے_

٦_ مؤمنين كيلئے ضرورى ہے كہ وہ ا لہى آزمائش و امتحان كيلئے تيار رہيں _لتبلون فى اموالكم و انفسكم

خداوند متعال اس بات كى ياددہانى كراتے ہوئے كہ مؤمنين اپنى جان و مال كے سلسلے ميں آزمائے جائيں گے_ درحقيقت انہيں سمجھا رہا ہے كہ انہيں اس امر كيلئے تيار رہنا چاہيئے_

٧_ موت، اخروى اجر و ثواب اور دنيا كے پرفريب ہونے كى طرف توجہ سے انسان كى آزمائش الہى ميں كاميابى كا راستہ ہموار ہوتا ہے_كل نفس ذائقة الموت لتبلون فى اموالكم و انفسكم

بظاہر گذشتہ آيت (كل نفس ...) مؤمنين كے جانى و مالى امتحان ميں كامياب ہونے كى طرف ايك راہنمائي ہے_ چونكہ جہاد و فداكارى كا بہترين راستہ يہ ہے كہ انسان جانتا ہو كہ خواہ وہ جہاد كرے يا نہ كرے موت كا مزہ ضرور چكھے گا_ اور مال و دولت سے چشم پوشى كا عاقلانہ راستہ يہ ہے كہ انسان جان لے كہ دنيا اور اسكى زينتيں ، پرفريب و فضول ہيں _

٨_ مسلمانوں كو اہل كتاب و مشركين كى طرف سے بہت زيادہ ايذا و رنج پہنچنے كى پيشگوئي _

و لتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و من الذين اشركوا اذيً كثيراً

٩_ آئندہ كى مشكلات سے آگاہي، ان مشكلات كے تحمل كرنے كو آسان بنا ديتى ہے_

ولتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و من ا لذين اشركوا اذى كثيراً

مخالفين كى طرف سے آزار و اذيت ديئے جانے سے پہلے مسلمانوں كو اس سے آگاہ كرنے كا مقصد، انہيں تيار كرنا ہے تاكہ وہ ناگہانى مشكلات كا سامنا كرتے وقت صبر و تحمل كا دامن ہاتھ سے چھوڑ نہ ديں _

١٠_ صدر اسلام كے مسلمانوں كو، اہل كتاب و مشركين كى طرف سے بہت زيادہ اذيت و آزار كا سامنا تھا_

و لتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و

۲۹۳

من الذين اشركوا اذى كثيراً

١١_ مسلمانوں كے خلاف مشركين اور اہل كتاب كا ايك طريقہ زبانى آزار و اذيت (غلط پروپيگنڈا) كرنا تھا_

و لتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و من الذين اشركوا اذيً كثيراً

١٢_ اہل كتاب اور مشركين كا مسلمانوں سے مسلسل دشمنى كرنا_و لتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و من الذين اشركوا اذيً كثيراً

١٣_ حق و باطل كے درميان دائمى مقابلہ اور تصادم_و لتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و من الذين اشركوا اذيً كثيراً

١٤_ مسلمانوں كے ساتھ دشمنى كرنے ميں اہل كتاب كى مشركين كے ساتھ ہمراہى كا زشت و برا ہونا_

لتسمعن من الذين اوتو ا الكتاب من قبلكم و من الذين اشركوا اذيً كثيراً يہود و نصاري كو اہل كتاب كے عنوان سے ياد كرنا، مشركين كے ساتھ ان كے تعاون كى برائي كى طرف اشارہ ہے، كيونكہ اہل كتاب كے آسمانى ہونے كا تقاضا ہے كہ وہ توحيد كے مخالف اور الہى منصوبوں كے دشمن مشركين كے خلاف جنگ كريں نہ كہ وہ ان مسلمانوں كے خلاف لڑيں جو توحيد اور الہى كا موں كے مروج ہيں _

١٥_ مؤمنين كے اہم ترين امتحانات و آزمائشات ميں سے ايك، مسلمانوں كو مشركين و اہل كتاب كى طرف سے آزار و اذيت كا پہنچنا ہے_لتبلون فى اموالكم و أنفسكم و لتسمعن الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و من الذين اشركوا اذى كثيراً ہوسكتا ہے جملہ ''و لتسمعن '' مالى و جانى امتحان ميں سے كسى ايك كى وضاحت ہو چونكہ تہمتيں اور ناروا باتيں دلوں كو زخمى كرتى ہيں جبكہ انفاق كے خلاف غلط پروپيگنڈا،ہوسكتا ہے بخل و كنجوسى كے رائج ہونے كا باعث بنے_

١٦_ انسا ن كے دل و روح كو اذيت و آزار پہنچانے ميں زخم زبان كا گہرا اثر _لتبلون و لتسمعن من الذين اذيً كثيراً يہ اس بنا پر ہےجب''لتسمعن'' ، ''لتبلون فى أنفسكم'' كا مصداق بيان كر رہاہو_

١٧_ دشمنوں كى اذيت و آزار اور آزمائش الہى كے مقابلے ميں صبر و تقوي اختيار كرنا ضرورى ہے_

لتبلون و لتسمعن و ان تصبروا و تتقوا فان ذلك من عزم الامور

۲۹۴

١٨_ صبر و استقامت خواہ دشمن كے مقابلے ميں ہى كيوں نہ ہو، اس ميں حدود الہى اور تقوي كا لحاظ ركھنا ضرورى ہے_

و لتسمعن اذيً كثيراً و ان تصبروا و تتقوا صبر كے بعد تقوي كے ذكر سے ظاہر ہوتا ہے كہ دشمن كے اذيت و آزار كے مقابلے ميں فرامين الہى كونظرانداز نہيں كرنا چاہيئے_

١٩_ لوگوں كو ايمان كے راستے سے روكنے ميں غلط پروپيگنڈے كا مؤثر كردار_

و لتسمعن من الذين اوتوا الكتاب و ان تصبروا و تتقوا دشمن كے پروپيگنڈے كے مقابلے ميں استقامت و پائيدارى كا حكم، مسلمانوں كے حوصلوں پر اس (غلط پروپيگنڈے) كے گہرے اثرات كے خطرے كو ظاہر كرتا ہے_

٢٠_ الہى آزمائش ميں كاميابى ، اس صبر سے مشروط ہے جو تقوي كے ہمراہ ہو_لتبلون و ان تصبروا و تتقوا فان ذلك من عزم الامور

٢١_ تقوي كے ہمراہ صبر كرنے كى قدر و منزلت_و ان تصبروا و تتقوا فان ذلك من عزم الامور

كلمہ ''عزم'' مصدر اور مفعول كے معنى ميں ہے_ اور ''عزم الامور'' ميں صفت موصوف كى طرف مضاف ہے يعنى ''الامور المعزومة''اور معزوم، بلند و نيك ہدف و مقصد كو كہتے ہيں كہ جس كى طرف حركت كرنا لازم ہے_ لہذا آيت كا معنى يہ ہوگا، صبر و تقوي ايك ايسا امر ہے جس كے كمال وشرف كى خاطر اسكى طرف حركت كرنا ضرورى ہے_ اور يہ كہ مفرد اسم اشارہ ''ذلك''صبر و تقوي كى طرف اشارے كيلئے استعمال ہوا ہے، اس سے ان ( صبر و تقوي) كے ايك ساتھ ہونے كا پتہ چلتا ہے_

٢٢_ صبر و تقوي كى ہمراہي، دشمنوں كى اذيت و آزار كے مقابلہ ميں مؤمنين كا مضبوط قلعہ ہے_

و لتسمعن و ان تصبروا و تتقوا فان ذلك من عزم الامور مذكورہمطلب ميں ''عزم'' كا معنى محكم ليا گيا ہے جيساكہ مجمع البيان ميں نقل ہوا ہے كہ ''قيل من محكم الامور'_

٢٣_ زكات ادا كرنا، ''اموال'' ميں آزمائش كا مصداق اور اپنے آپ كو صبر پر آمادہ كرنا، ''انفس'' ميں امتحان كا مصداق ہے_لتبلون فى اموالكم و أنفسكم امام رضا (ص) نے مذكورہ آيت كى تلاوت كے بعد فرمايا:''لتبلون فى اموالكم''باخراج الزكاة و ''فى أنفسكم''بتوطين الانفس

۲۹۵

على الصبر _(١) يقيناً تمہارى آزمائش كى جائے گى اموال كے سلسلہ ميں زكاة نكالنے كے ساتھ اور انفس كے سلسلہ ميں انہيں صبر پر آمادہ كرنے كے ساتھ_

اجر: اخروى اجر ٧

اذيت: ٨، ١٠، ١٥، ١٧،٢٢ اذيت كى اقسام ١٦ ; زبان سے اذيت ١ ١، ١٦

استقامت: جہاد ميں استقامت ١٨

اللہ تعالى: اللہ تعالى كى حدود ١٨; اللہ تعالى كى سنت ا ١

امتحان: ١، ٦، ٧، ١٧، ٢٠ امتحان كا فلسفہ٥ ;امتحان كى اقسام ٢، ٣، ٤، ١٥، ٢٣;انفاق كے ذريعے امتحان ٤;جان كے ذريعے امتحان ٢، ٣، ٢٣;جہاد كے ذريعے امتحان ٤; سختى كے ذريعے امتحان ١٥ ;مال كے ذريعے امتحان ٢، ٣، ٤، ٢٣

انفاق: ٤

اہل كتاب: اہل كتاب كى دشمنى ١٢، ١٤

ايمان: ايمان كے موانع ١٩

پاك افراد:٥

تاريخ: تاريخ سے عبرت ١٩

تبليغ: تبليغ كے اثرات١٩

تقوي: امتحان ميں تقوي ١٧، ٢٠; تقوي كى اہميت ١٧، ١٨ ;تقوي كى قدر ومنزلت ٢١; تقوي كے اثرات ٢٠، ٢٢

جہاد: ٤، ١٨

حق و باطل: حق و باطل كى جنگ ١٣

دشمن: ١٢، ١٤ دشمن كا سلوك٢٢

دشمني: ١٢، ١٤

____________________

١)عيون اخبار الرضا (ع) ج٢ص ٨٩ ح١، نورالثقلين ج١ ص٤٢١ ح٤٧٤.

۲۹۶

دنيا: دنيا كى فريبكارى ٧

دورانديشي: دور انديشى كے اثرات ٩

ذكر: ٧

رشد و تكامل: رشد و تكامل كے موانع ١٩

روايت: ٢٣

زكات: زكات كى ادائيگى ٢٣

سختي: ١٥ سختى كے سہل كرنے كا طريقہ ٩

صبر: امتحان ميں صبر ١٧، ٢٠; ٢٣صبر كى اہميت ١٧، ١٨ ; صبر كى قدر و منزلت ٢١; صبر كے اثرات ٢٠، ٢٢

كاميابى : امتحان ميں كاميابي٧، ٢٠ ; كاميابى كے اسباب ٧

مال: ٢، ٣، ٤، ٢٣

مسلمان: صدر اسلام كے مسلمان ١٠ ; مسلمانوں كو اذيت پہنچانا ٨، ١٠، ١١، ١٥ ;مسلمانوں كے دشمن ١٢، ١٤

مشركين: ٨، ١٠، ١١، ١٥ مشركين كى دشمنى ١٢، ١٤

مقابلہ: اذيت كا مقابلہ ١٧، ٢٢

موت: موت كو يا د ركھنے كے اثرات ٧

مؤمنين: مؤمنين كا امتحان ١، ٤، ٥، ٦، ١٥

۲۹۷

آیت(۱۸۷)

( وَإِذَ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاء ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ ) اس موقع كو ياد كرو جب خدا نے جن كو كتاب دى ان سے عہد ليا كہ اسے لوگوں كے لئے بيان كريں گے او راسے چھپائيں گے نہيں _ ليكن انھوں نے اس عہد كو پس پشت ڈال ديااور تھوڑى قيمت پر بيچ ديا تو يہ بہت برا سود اكيا ہے _

١_ پيغمبر اكرم(ص) اہل كتاب كے علماء كو خداوند متعال كے ساتھ ان كے عہد و ميثاق كى طرف متوجہ كرانے پر مامور تھے_و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب

٢_ خداوند متعال كا اہل كتاب كے علماء سے، آسمانى كتب كے مطالب كھول كر بيان كرنے اور انہيں كتمان نہ كرنے كے بارے ميں ايك سنگين عہد و ميثاق لينا_و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس و لاتكتمونه

''لتبيننہ''كى ضمير مفعول، كتاب كى طرف پلٹتى ہے_

٣_ آسمانى كتابوں كے علماء كى بھارى ذمہ دارى ہے كہ وہ لوگوں كيلئے ان كے حقائق بيان كريں _و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس

٤_ اہل كتاب كے علماء كى جانب سے گذشتہ آسمانى كتب (تورات و انجيل) كے حقائق كا چھپايا جانا_

و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس و لاتكتمونه

٥_ عصر پيغمبر اكرم (ص) كے بعض لوگوں كے ايمان نہ لانے اور گمراہى اختيار كرنے كا باعث، اہل كتاب كے علماء كا حقائق كو چھپانا تھا_

۲۹۸

و اذ اخذ الله و لاتكتمونه

٦_ سابقہ آسمانى كتب ميں اسلام اور پيغمبراكرم(ص) كے بارے ميں حقائق كا پايا جانا_*

و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس و لاتكتمونه ايك اہم ترين مورد جو اہل كتاب كے علماء كے منافع كى ضمانت ديتا ہے_ (واشتروا بہ ثمناً ...) پيغمبراسلام(ص) اور اسلام كى حقانيت كا كتمان ہے چونكہ وہ اپنى بقاء اسكے كتمان ميں ديكھ ر ہے تھے_

٧_ معاشرے ميں آسمانى كتابوں كى وضاحت كرنے والے مبلغين كى ضرورت_

و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس علماء سے عہد و ميثاق لينا اور لوگوں كيلئے اسكى تبيين كى ضرورت پر خداوند متعال كى تاكيد سے، مندرجہ بالا مفہوم اخذ ہوتا ہے_

٨_ آسمانى كتب كے حقائق كو چھپانے كى حرمت اور دينى معارف كو بيان كرنے كا وجوب_و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس و لاتكتمونه

٩_علمائے اہل كتاب كى جانب سے ميثاق الہى ( كتب آسمانى كا بيان اور انكا نہ چھپانا) كو توڑنا _فنبذوه ورآء ظهورهم

١٠_ اہل كتاب كے علماء كا آسمانى كتابوں كو چھوڑ دينا اور ميثاق الہى كو پس پشت ڈال دينا_

و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب فنبذوه ورآء ظهورهم ''فنبذوہ''كى ضمير مفعول كتاب كى طرف پلٹتى ہے، اور چونكہ كتاب كا بيان ميثاق و عہد الہي، ہے لہذا اس ضمير سے مراد عہد الہى بھى ہے_ يعنى كتاب اور اسكے بيان كو ترك كرديا گيا_

١١_ دين فروشى كرنے اور عہد الہى كو نظرانداز كرنے كى وجہ سے خداوند متعال كا اہل كتاب كے علماء كى سرزنش كرنا_

فنبذوه ورآء ظهورهم و اشتروا به ثمناً قليلاً

١٢_ آسمانى كتب كے حقائق كا كتمان كر كے، علمائے اہل كتاب كا ا سلام كے خلاف مبارزت كرنا اور اپنا عہد و پيمان توڑ ڈالنا_و اذ اخذ الله و لاتكتمونه فنبذوه و رآء ظهورهم مندرجہ بالامطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب كتمان شدہ حقيقت، تورات و انجيل كى وہ بشارت ہو جو بعثت پيغمبراكرم (ص) اور اسلام و قرآن

۲۹۹

كے بارے ميں تھي_

١٣_ علمائے اہل كتاب كى دين فروشى اور دنيا پرستي_و اشتروا به ثمناً قليلاً

١٤_ علمائے اہل كتاب كا معمولى سے منافع كيلئے، آسمانى كتب اور عہد الہى كے ساتھ تجارت و سوداگرى كرنا_

و اشتروا به ثمناً قليلاً

١٥_ فرائض كى انجام دہى اور ميثاق الہى پر عمل كرنے ميں ايك ركاوٹ دنيا پرستى ہے_

لتبيننه للناس فنبذوه و اشتروا به ثمناً قليلاً بظاہر جملہ (واشتروا بہ ...) آسمانى كتب كے چھوڑ دينے اور عہد الہى كى وفا نہ كرنے كى علت بيان كر رہا ہے_

١٦_ علمائے اہل كتاب، آسمانى كتب كے مطالب كے بيان كو اپنے دنيوى خسارے كا سبب سمجھتے تھے_

و اذ اخذ الله ميثاق لتبيننه للناس و اشتروا به ثمناً قليلاً

١٧_ (دين فروش) علمائے اہل كتاب كا ،دين اور الہى عہد و پيمان كى بلند قدر و منزلت سے آگاہ نہ ہونا_

فنبذوه و اشتروا به ثمناً قليلاً

١٨_ دين كو ہاتھ سے كھودينے، آسمانى كتاب كو چھوڑ دينے اور الہى عہد و پيمان سے وفا نہ كرنے كے عوض ہر شے (دنيوى لذتوں ، زينتوں اور )كا ناچيز اور بے قيمت ہونا_واشتروا به ثمناً قليلاً علمائے اہل كتاب، دين فروشى كے مقابلے ميں جو كچھ حاصل كرتے تھے، خود ان كے خيال ميں ، كم نہيں تھا_ چونكہ وہ حقانيت پيغمبراكرم(ص) كے كتمان كے ذريعے اپنى دنيوى آرزوؤں اور لوگوں پر حكمرانى وغيرہ تك پہنچ جاتے تھے_ ليكن اسكے باوجود خداوند متعال ان سب چيزوں كو بے اہميت اور ناچيز قرار ديتا ہے_

١٩_ دين فروشى كے ذريعے كمائے ہوئے مال و دولت كا بُرا اور قبيح ہونا_و اشتروا به ثمناً قليلاً فبئس ما يشترون

٢٠_ خداوند متعال نے اہل كتاب سے عہد و پيمان ليا تھا كہ وہ بعثت پيغمبر(ص) كے بعد آنحضرت(ص) كى نبوت كا اظہار كريں گے اور اسے دوسروں كے سامنے بيان كريں گے_و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس و لاتكتمونه امام باقر(ع) مذكورہ آيت كے بارے ميں فرماتے ہيں :و ذلك ان الله اخذ ميثاق الذين اوتو الكتاب فى محمد(ص) ''لتبيننه للناس''اذا

۳۰۰

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326