احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)17%

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق) مؤلف:
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 326

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 326 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 211885 / ڈاؤنلوڈ: 4588
سائز سائز سائز
احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

٢۔ اگر امرو نہی کرنے والا جان لے کہ درخواست نصیحت اور موعظہ کے بغیر امرونہی میں اثر نہیں ہے تو واجب ہے امرونہی کو نصیحت، موعظہ اور درخواست کے ساتھ انجام دے اور اگر جانتا ہو کہ صرف درخواست اور موعظہ (امرونہی کے بغیر) مؤثرہے، تو واجب ہے یہی کام انجام دے۔(١)

٣۔امرونہی کرنے والا اگر جانتا ہو یا احتمال دے کہ اس کا امر ونہی تکرار کی صورت میں مؤثرہے، تو تکرار کرنا واجب ہے۔(٢)

٤۔ گناہ پر اصرار کا مقصد انجام کار کو جاری رکھناہی نہیں ہے بلکہ اس عمل کا مرتکب ہونا ہے اگرچہ پھرسے ایک بارہی انجام دے۔ اس طرح اگر کسی نے ایک بار نماز کو ترک کیا اور دوسری بار ترک کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتو امر بالمعروف واجب ہے۔(٣)

٥۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر میں گناہگار کو حاکم شرع کی اجازت کے بغیر زخمی کرنا یا قتل کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر منکر ایسے امور میں سے ہو جس کی اسلام میں بہت اہمیت ہو مثال کے طور پر ایک شخص ایک بے گناہ انسان کو قتل کرنا چاہتاہے اور اسے اس کام سے روکنازخمی کئے بغیر ممکن نہ ہو ۔(٤) *

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے آداب:

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے کے لئے سزاوار ہے:

* ایک رحم دل طبیب اور مہربان باپ کی طرح ہو۔

*اس کی نیت خالص ہو اور صرف خدا کی خوشنودی کے لئے قدم اٹھائے اور اپنے عمل کو ہر قسم کی بالادستی سے پاک کرے۔

* خود کو پاک ومنزہ نہ جانے، ممکن ہے جوشخص اس خطا کا مرتکب ہوا ہے، کچھ پسندیدہ صفات کا

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج١،ص ٤٧٦،م ٣.

(٢)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص٤٦٨ م٥.

(٣)تحریر الوسیلہ ،ج ١،ص٧٠ ٤، م ٤.

(٤)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٤٨١م ١١ و١٢.

۲۴۱

*یہ مسئلہ آیت اللہ گلپائیگانی کے توضیح المسائل میں نہیں آیا ہے.

بھی مالک ہو اور محبت الہٰی کا حقدار قرار پائے اور خود امربالمعروف کرنے والے کا عمل غضب الٰہی کا سبب بنے۔(١)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج ١،ص ٤٨١،م١٤.

۲۴۲

سبق : ٣٧ کا خلاصہ

١۔'' معروف'' وہی واجبات ومستحبات ہیںاور'' منکر'' وہی محرمات ومکروہات ہیں۔

٢۔ امربالمعرو ف ونہی عن المنکر واجب کفائی ہے۔

٣۔ امربالمعروف ونہی عن المنکرکے شرائط حسب ذیل ہیں:

* امرونہی کرنے والاخود معروف ومنکرکو جانتا ہو۔

*تاثیر کا احتمال دے۔

* گناہگار گناہ کی تکرار کا ارادہ رکھتا ہو۔

* امرونہی فسادکا سبب نہ ہو۔

٤۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے مراحل حسب ذیل میں:

* گناہگار کے ساتھ دوستی اور رفت وآمدنہ کی جائے۔

* زبانی امرونہی

*گناہگار کی پٹائی کرنا۔

٥۔ امربالمعروف ونہی عن المنکر کے شرائط ،مراحل اور مواقع کو یاد کرنااور سیکھنا واجب ہے۔

٦۔ اگر گناہ کو روکنے کے لئے امر ونہی کی تکرار ضروری ہوتو، تکرار واجب ہے۔

٧۔ حاکم شرع کی اجازت کے بغیر گناہگار کوزخمی کرنا یا اسے قتل کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ منکر ایسے امور میں سے ہو کہ اسلام میں اس کی بہت زیادہ اہمیت ہو۔

۲۴۳

سوالات:

١۔ معروف ومنکر میں سے ہر ایک کی پانچ مثالیں بیان کیجئے؟

٢۔ کس صورت میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر واجب ہے؟

٣۔ اگر کوئی کسی گانے کو سن رہا ہواور ہم نہیں جانتے وہ غناہے یا نہیں ؟تو کیا اس کو منع کرنا واجب ہے یا نہیں ؟ اور کیوں ؟

٤۔اگر کسی کو نجس لباس کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھا جائے تو کیا واجب ہے کہ اسے کہا جائے؟ کیوں؟

٥۔ کیا ایک ایسی دوکان سے چیزیں خرید ناجائز ہے جس کامالک نمازنہ پڑھتا ہو؟

٦۔ گناہ گارکو کس صورت میں زخمی کرنا جائز ہے، دومثال سے واضح کیجئے؟

۲۴۴

سبق نمبر ٣٨

جہاداور دفاع *

چونکہ خورشید اسلام کے طلوع ہونے کے بعد تمام مکاتب ومذاہب ؛باطل، منسوخ اور ناقابل قبول قرار پائے ہیں لہٰذا تمام انسانوں کو دین اسلام کے پروگرام کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہونا چاہئے، اگر چہ وہ اسے تحقیق اور آگاہی کے ساتھ قبول کرنے میں آزاد ہیں۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے جانشینوں نے ابتداء میںاسلام کے نجات بخش پروگراموں کی لوگوں کے لئے وضاحت فرمائی اور انھیں اس دین کو قبول کرنے کی دعوت دی اور جو اسلام کے پروگراموں اور احکام سے روگردانی کریں، وہ غضب الٰہی اور مسلمانوں کی شمشیر قہرسے دوچار ہوں گے۔ اسلام کی ترقی کے لئے کوشش اور اس کو قبول کرنے سے انکار کرنے والوں سے مقابلہ کو ''جہاد'' کہتے ہیں۔اسلام کی ترقی کے لئے اس قسم کا اقدام ایک خاص ٹیکنیک اور طریقہ کار کا حامل ہے اور یہ صرف پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے جانشینوں۔ (جو ہر قسم کی لغزش اور خطاء سے مبّرا ہیں)کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور معصومین علیہم السلام کے زمانہ سے مخصوص ہے ا ورہمارے زمانہ میں کہ امام معصوم کی غیبت کادورہے، واجب نہیں ہے لیکن دشمنوں سے مقابلہ کی دوسری قسم کانام دفاع'' ہے۔یہ تمام مسلمانوں کا مسلم حق ہے کہ ہر زمان ومکان میں دنیا کی کسی بھی جگہ میں اگر دشمنوں کے حملہ کا نشانہ بنیں یا ان کا مذہب خطرہ میں پڑے تو اپنی جان اور دین کے تحفظ کے لئے دشمنوں سے لڑیں اورانہیں نابود کردیں۔ ہم اس سبق میں اس واجب الٰہی یعنی''دفاع'' کے احکام واقسام سے آشنا ہوںگے۔

____________________

* یہ سبق امام خمینی کے فتاویٰ سے مرتب کیا گیا ہے۔

۲۴۵

دفاع کی قسمیں :

١۔ اسلام اور اسلامی ممالک کا دفاع

٢۔ جان اور ذاتی حقوق کا دفاع(١)

اسلام اور اسلامی ممالک کا دفاع:

* اگر دشمن اسلامی ممالک پر حملہ کرے۔

* یا مسلمانوں کے اقتصادی یا عسکری ذرائع پر تسلط جمانے کی منصوبہ بندی کرے۔

*یا اسلامی ممالک پر سیاسی تسلط جمانے کی منصوبہ بندی کرے ۔

* تو تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ہر ممکن صورت میں ، دشمنوں کے حملہ کے مقابلے میں کھڑے ہوجائیںاور ان کے منصوبوں کی مخالفت کریں۔

جان اور ذاتی حقوق کا دفاع :

١۔ مسلمانوں کی جان اور ان کا مال محترم ہے، اگر کسی نے ایک مسلمان، یا اس سے وابستہ افراد، جیسے، بیٹے، بیٹی، باپ ، ماں اور بھائی پر حملہ کیا تو دفاع کرنا اور اس حملہ کو روکنا واجب ہے،اگرچہ یہ عمل حملہ

آورکوقتل کرنے پر تمام ہوجائے۔(٢)

____________________

(١) تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٤٨٥

(٢)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٤٨٧۔ ٤٨٨

۲۴۶

٢۔ اگر چور کسی کے مال کو چرانے کے لئے حملہ کردے، دفاع کرنا اور اس حملہ کو روکنا واجب ہے۔(١ )

٣۔ اگر کوئی نامحرموں پر نگاہ کرنے کے لئے دوسروں کے گھروں میں جھانکے تو اسے اس کام سے روکنا واجب ہے، اگرچہ اس کی پٹائی بھی کرنا پڑے۔(٢)

عسکری تربیت:

عصر حاضر میں دنیا نے عسکری میدان میں کافی ترقی کی ہے اور اسلام کے دشمن جدید ترین اسلحہ سے لیس ہوچکے ہیں ، اسلام اور اسلامی ممالک کا دفاع،جدیدعسکری طریقوں کی تربیت حاصل کئے بغیر ممکن نہیں ہے ، چونکہ فوجی تربیت حاصل کرنا واجب ہے، جو اس ٹریننگ کی قدرت وصلاحیت رکھتے ہوں اور اسلام اور اسلامی ممالک کے دفاع کے لئے محاذجنگ پر ان کے حضور کا احتمال ہوتو فوجی ٹریننگ ان کے لئے واجب ہے۔(٣)

اسلامی ممالک کا دفاع اور دشمنوںکے حملوں کے مقابلے میں ان کا تحفظ صرف جنگ کے ایام سے ہی مخصوص نہیں ہے، بلکہ ہر حالت میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد دشمن کے احتمالی حملے کو روکنے کے لئے پوری فوجی تیاری کے ساتھ ملک کی سرحدوں پر چوکس رہے اور کچھ لوگ اندرونی دشمنوں اور بدکاروں سے مقابلہ کرنے کے لئے بھی آمادہ ہوں۔ اس لئے ان تمام تواناا فراد پر لازم ہے کہ اپنی زندگی کے ایک حصہ کواس مقدس فوجی خدمات انجام دینے کیلئے وقف کریں۔

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج١، ص ٨٧ ٤۔ ٤٨٨

(٢) تحریر الوسیلہ ،ج ص ٤٩٢، م ٣٠

(٣)استفتائ.

۲۴۷

سبق ٣٨ :کا خلاصہ

١۔ اسلام کی ترقی اور اسلامی ممالک کو وسعت بخشنے کے لئے جہاد معصوم علیہ السلام کے دور سے مخصوص ہے۔

٢۔ ہر زمانے میں دفاع واجب ہے اور یہ عصرِ معصوم سے مخصوص نہیں ہے۔

٣۔ دفاع کی دوقسمیں ہیں:

*اسلام اور اسلامی ممالک کا دفاع۔

*جان اورذاتی حقوق کا دفاع۔

٤۔ اگر دشمن اسلامی ملک پر حملہ کرے یا اس پر حملہ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہو، تو تمام مسلمانوں پر دفاع کرنا واجب ہے۔

٥۔اگر کوئی کسی انسان یا اس کے اعزہ پر حملہ آور ہوجائے تو، دفاع کرنا واجب ہے۔

٦۔ مال کا دفاع بھی واجب ہے۔

٧۔ اگر کوئی شخص نامحرم کو دیکھنے کے لئے کسی کے گھر میں جھانکے تو اسے اس کام سے روکنا واجب ہے۔

٨۔جو افراد فوجی ٹریننگ کی توانائی رکھتے ہوں اور محاذ جنگ پر ان کے وجود کا احتمال بھی ہوتو ایسے افراد کے لئے اسلامی ممالک کے دفاع کیلئے فوجی ٹرنینگ لازم ہے۔

۲۴۸

سوالات:

١۔''جہاد'' اور'' دفاع'' میں کیا فرق ہے۔؟

٢۔ دفاع کی قسمیں بیان کیجئے اور ہر ایک کے لئے ایک مثال بیان کیجئے؟

٣۔ کس صورت میں چور کے ساتھ مقابلہ واجب ہے؟

٤۔ فوجی ٹریننگ کن لوگوں پر واجب ہے؟

۲۴۹

سبق نمبر ٣٩

خرید و فروخت

خرید وفروخت کی قسمیں:

١۔ واجب

٢۔حرام

٣۔مستحب

٤۔مکروہ

٥۔مباح

واجب خرید وفروخت:

چونکہ اسلام میں بے کاری اور کاہلی کی مذمت ہوئی ہے،لہٰذا زندگی کے اخراجات کو حاصل کرنے کے لئے تلاش وکوشش کرنا واجب ہے۔جو لوگ خرید وفروخت کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے اپنے اخراجات پورے نہ کرسکیں، یعنی ان کی آمدنی اسی ایک طریقہ پر منحصرہو اور کوئی دوسرا طریقہ ان کے لئے ممکن نہ ہو، تو ان پر واجب ہے خریدوفروخت سے ہی اپنی زندگی کے اخراجات پورا کریں تاکہ کسی کے محتاج نہ رہیں۔(١)

____________________

(١) توضیح المسائل، مسئلہ ٢٠٥٣

۲۵۰

مستحب خریدوفروخت:

اپنے اہل وعیال کے اخراجات کو وسعت بخشنے اور دیگر مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے خرید وفروخت کرنا مستحب ہے۔ مثلاً جو کسان کھیتی باڑی کرکے اپنا خرچہ پورا کرتا ہے، اگر فراغت اور فرصت کے وقت خریدوفروخت کا کام بھی انجام دے تاکہ اس طریقے سے محتاجوں کی مدد کرسکے،تو ثواب ہے۔(١)

حرام خرید و فروخت:

١۔ نجاسات کی خریدوفروخت،جیسے مردار۔

٢۔ ایسی چیزوں کی خرید وفروخت، جن کے معمولی منافع حرام ہیں، جیسے قمار بازی کے آلات ۔

٣۔ قماربازی یا چوری سے حاصل شدہ چیزوں کی خریدوفروخت۔

٤۔ گمراہ کنندہ کتابوں کی خریدو فروخت

٥۔کھوٹے سکوں کی خریدوفروخت۔

٦۔ اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ ایسی چیزیں فروخت کرنا جو مسلمانوں کے خلاف دشمنوں کی تقویت کا سبب بنیں۔

٧۔ اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ اسلحہ بیچناجو دشمنوں کے لئے مسلمانوں کے خلاف تقویت کا سبب بنیں*۔(٢)

حرام ۔خریدوفروخت کے اور بھی موارد ہیں لیکن مبتلابہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بیان سے چشم پوشی کرتے ہیں۔

____________________

(١) توصیح المسائل، مسئلہ ٢٠٥٣

(٢) تحریر الوسیلہ، ج١ ص ٤٩٢ تا٤٩٨ توضیح المسائل، م٥٥ ٢٠

*نمبر٤ سے ٧ تک تمام مراجع کے رسالوں میں موجود نہیں ہے۔

۲۵۱

مکروہ خریدوفروخت:

١۔ذلیل لوگوں سے لین دین کرنا ۔

٢۔ صبح کی اذان اور سورج چڑھنے کے درمیان لین دین کرنا۔

٣۔ ایک ایسی چیزخریدنے کے لئے اقدام کرنا جسے کوئی دوسرا شخص خریدنا چاہتا تھا۔(١)

خرید و فروختکے آداب

مستحبات : *خریداروں کے درمیان قیمت میں فرق نہ کیا جائے۔

*اجناس کی قیمت میں سختی نہ کی جائے۔

*جب لین دین کرنے والوں میں سے ایک طرف پشیمان ہوکر معاملہ کو توڑنا چاہئے تو اس کی درخواست منظور کی جائے۔(٢)

مکروہات:

*مال کی تعریف کرنا۔

*خریدار کو برا بھلا کہنا۔

*لین دین میں سچی قسم کھانا (جھوٹی قسم کھانا حرام ہے)

*لین دین کے لئے سب سے پہلے بازار میں داخل ہونا اور سب سے آخرمیں بازار سے باہر نکلنا۔

* تولنے اورنا پنے سے بخوبی آگاہ نہ ہونے کے باوجود مال کو تولنایاناپنا۔

____________________

(١) توضیح المسائل، مسئلہ ٢٠٥٤

(٢) توضیح المسائل، مسئلہ ٥١ ٢٠

۲۵۲

*معاملہ طے پانے کے بعد قیمت میں کمی کی درخواست کرنا۔(١)

خریدوفروخت کے احکام :

١۔ گھر یا کسی اور چیز کو حرام کاموں کے استعمال کے لئے بیچنا یا کرایہ پر دینا حرام ہے۔(٢)

٢۔ گمراہ کرنے والی کتابوں کالین دین،تحفظ، لکھنا، اور پڑھانا حرام ہے۔ زلیکن اگریہ کام ایک صحیح مقصد کے پیش نظر، جیسے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے انجام پائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔(٣)

٣۔بیچنے والی چیز کو کسی گھٹیایا کم قیمت والی چیزکے ساتھ ملانا، حرام ہے۔جیسے عمدہ میوے ڈبہ کی اوپروالی تہہ میں رکھنا اوراس کی نچلی تہہ میں گھٹیا میوے رکھنا اسے اچھے میووں کے عنوان سے بیچنایا دودھ میں پانی ملاکر بیچنا۔(٤)

٤۔ وقف کیا گیا مال نہیں بیچاجاسکتاہے، مگریہ کہ یہ مال خراب ہو رہا ہو اور استعمال کے قابل نہ رہاہو، جیسے مسجد کا فرش مسجد میں استعمال کے قابل نہ رہاہو۔(٥) ٭٭

٥۔کرایہ پر دئے گئے مکان یا کسی اور چیز کو بیچنے میں کوئی مشکل نہیں ہے لیکن کرایہ پر دی گئی مدت

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٥٠١

(٢) تحریر الوسیلہ، ج١،ص ٩٦ ٠٤م ١٠۔ توضیح المسائل ٢٠٦٩.

(٣)تحریر الوسیلہ، ج١،ص ٣٩٨ م ١٥

(٤) تحریر الوسیلہ، ج١،ص٤٩٩، توضیح المسائل،٢٠٥٥.

(٥) تحریر الوسیلہ، ج١، ص٥١٦، الرابع، توضیح المسائل،م ٩٤ ٢٠

*(گلپائیگانی )اگرگمراہ کرنے کا سبب بنے تو حرام ہے (حاشیہ وسیلہ نجات)تمام مراجع کے رسالوں میںیہ مسئلہ موجود نہیں ہے.

٭٭ (اراکی) متولی اور حاکم کی اجازت سے اسے بیچنے میںکوئی حرج نہیںہے۔(مسئلہ ٢١٢٠)

۲۵۳

کے دوران اس سے استفادہ کرنا اسی کا حق ہے جس نے اسے کرایہ پرلیا ہے۔(١)

٦۔ لین دین میں خریدوفروخت ہونے والے مال کی خصوصیات معلوم ہونی چاہئے، لیکن ان خصوصیات کا جاننا ضروری نہیں ہے جن کے کہنے یا نہ کہنے سے اس مال کے بارے میں لوگوں کی رغبت پر کوئی اثر نہ پڑے۔(٢)

٧۔ دوہم جنس چیزوں کی خریدوفروخت جو وزن کرکے یا پیمانے سے بیچی جاتی ہوں، اس سے زیادہ لینا''سود'' اور حرام ہے۔

مثلاً ایک ٹن گندم دیکر ایک ٹن اور ٢٠٠ کیلو گرام واپس لے لیا جائے۔ اسی طرح کوئی چیز یا پیسے کسی کو قرض دیئے جائیں اور ایک مدت کے بعد اس سے زیادہ لے لیں، مثلاً دس ہزار روپیہ بعنوان قرض دیدیں اور ایک سال کے بعد اس سے بارہ ہزار روپیہ لے لیں۔(٣)

معاملہ کو توڑنا:

بعض مواقع پر بیچنے والایاخریدار معاملہ کو ختم کرسکتاہے، ان میں سے بعض موارد حسب ذیل ہیں:

*خریدار یا بیچنے والے میں سے کسی ایک نے دھوکہ کھایا ہو۔

*معاملہ طے کرتے وقت آپس میں توافق کیا ہوکہ طرفین میں سے ہر کسی کو حق ہوگا کہ ایک خاص مدت تک معاملہ کو توڑ دیں ،مثلا یہ طے کیا ہو کہ طرفین میں سے جو بھی اس معاملہ پر پشیمان ہوجائے تین دن تک معاملہ کو توڑسکتا ہے ۔

*خریدا ہوا مال عیب دار ہو اور معاملہ کے بعد عیب کے بارے میں پتہ چلے۔

*بیچنے والے نے مال بیچتے وقت اس کی کچھ خصوصیات بیان کی ہوں لیکن بعد میںاس کے

____________________

(١)توضیح المسائل، م ٠٩٦ ٤.

(٢)توضیح المسائل، م ٢٠٩٠

(٣) توضیح المسائل، م ٢٠٧٢ و٢٢٨٣ وتحریر الوسیلہ،ج ١، ص ٥٣٦

۲۵۴

برعکس ثابت ہوجائے ،مثلا کہے کہ یہ کاپی ٢٠٠ صفحات کی ہے بعد میں معلوم ہو جائے کہ اس سے کم تھی(١)

اگر معاملہ طے ہونے کے بعد مال کا عیب معلوم ہوجائے تو فوراً معاملہ توڑنا چاہئے اگر ایسا نہ کرے تو بعد میں معاملہ کو توڑنے کا حق نہیں رکھتا(٢) *

____________________

(١)توضیح المسائل م ٢١٢٤

(٢)توضیح المسائل م ٢١٣٢

۲۵۵

سبق ٣٩ کا خلاصہ

١۔اگر زندگی کے اخراجات حاصل کرنے کے لئے خرید وفرخت کے علاوہ کوئی اور امکان نہ ہو تو خرید فروخت واجب ہے۔

٢۔بعض مواقع پر خرید و فروخت حرام ہے،ایسے چند مواقع حسب ذیل ہیں:

نجاسات کا لین دین ،جیسے مردار ۔

گمراہ کنندہ کتابوں کا لین دین ۔

دشمنان اسلام کو ایسی چیز بیچنا جو ان کی تقویت کا سبب بنے ۔

دشمنان اسلام کے ہاتھ اسلحہ بیچنا ۔

٣۔ بعض مواقع پر خرید وفروخت مستحب ہے اور بعض مواقع پر مکرو ہ ہے ۔

٤۔مستحب ہے کہ بیچنے والا قیمت کے بارے میں گاہکوں کے درمیان فرق نہ کرے ،مال کی قیمت پر سختی نہ کرے اور معاملہ توڑنے کی درخواست کو قبول کرے ۔

٥۔مال کی تعریفیں کرنا ،معاملہ میں سچی قسم کھانا اور اسی طرح معاملہ کے بعد قیمت کم کرنے کی درخواست کرنا مکروہ ہے ۔

*(گلپائیگانی)اگر مسئلہ کو نہیں جانتا ، تو جب بھی آگاہ ہوجائے معاملہ کو توڑسکتا ہے ۔(خوئی)ضروری نہیں ہے کہ معاملہ کو فورا توڑدے بلکہ بعد میں بھی معاملہ کو توڑنے کا حق رکھتا ہے ۔

٦۔حرام کام کے استفادہ کے لئے گھر کو بیچنا یا کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے ۔

٧۔گمراہ کن کتابوں کی خرید وفروخت ،تالیف ،تحفظ ،تدریس اور مطالعہ حرام ہے ،مگریہ کہ مقصد صحیح ہو۔

٨۔موقوفہ مال کو بیچنا جائز نہیں ہے۔

٩۔بیچنے والی چیز کو کم قیمت یا گھٹیا چیز سے ملانا جائز نہیں ہے ۔

١٠۔معاملہ میں مال کی خصوصیات معلوم ہونی چا ہئے ۔

١١۔معاملہ اور قرض کے لین دین میں سود حرام ہے ۔

١٢۔اگر بیچنے والے یا خریدار نے معاملہ میں دھوکہ کھایا ہو تو وہ معاملہ کو توڑسکتے ہیں ۔

١٣۔اگر بیچا ہوا مال عیب دار ہو اور خریدار معاملہ انجام پانے کے بعد متوجہ ہوجائے تو معاملہ کو توڑسکتا ہے ۔

۲۵۶

سوالات:

١۔ خرید و خروخت کس حالت میں مستحب ہے۔؟

٢۔شطرنج،تاش اور سنتور کی خریدو فروخت کا کیا حکم ہے؟

٣۔ حرام خریدوفروخت کے پانچ موارد بیان کیجئے.

٤۔ معاملہ میں قسم کھانے کا کیا حکم ہے؟

٥۔ مکان کو ایسے انقلاب مخالفین کے ہاتھ کرایہ پر دینے کا کیا حکم ہے جو اسلامی جمہوری کے خلاف سرگرم عمل رہتے ہیں ؟

٦۔سود کی وضاحت کرکے اس کی تین مثالیں بیان کیجئے؟

۲۵۷

سبق نمبر ٤٠

کرایہ، قرض اور امانتداری

کرایہ:

اگر اجارہ پر دینے والا، مستأجر سے کہے : '' میں نے اپنی ملکیت تجھے کرایہ پر دیدی'' اور وہ جواب میں کہے:''میں نے قبول کیا'' تو اجارہ صحیح ہے، حتی اگر کچھ نہ کہے اور صاحب مال اجارہ پر دینے کی نیت سے مال کومستاجر کے حوالے کردے اور وہ بھی اجارہ کے قصد سے اسے لے لے، تو اجارہ صحیح ہے، مثلا ًگھر کی چابی اسے دیدے اور وہ اسے لے لے ۔(١)

اجارہ پر دئیے جانے والے مال کے شرائط:

اجارہ پر دی جانیوالی چیزکے کچھ شرائط ہونے چاہئے، ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:

*وہ مال معین اور مشخص ہو، لہٰذا اگر کوئی شخص (مشخص کرنے کے بغیر) کہے :'' اس گھر کے کمروں میں سے ایک کمرہ کو تجھے اجارہ پر دیتا ہوں ''تو اجارہ صحیح نہیں ہے۔

*مستاجر کو مال دیکھنا چاہئے یا اس مال کی خصوصیات کو اس کے لئے ایسے بیان کیا جائے کہ پوری طرح معلوم ہوجائے۔

____________________

(١)توضیح المسائل، م ٢١٧٧

۲۵۸

*مال ان چیزوں میں سے نہ ہوکہ استعمال کرنے سے اصل مال نابود ہوجائے، لہٰذا روٹی، میوہ اور دیگر کھانے پینے کی چیزوں کو اجارہ پر دینا صحیح نہیں ہے۔(١)

کرایہ کے احکام:

١۔ اجارہ میں مال کے استفادہ کی مدت معین ہونی چاہئے،مثلاًکہا جائے:''ایک سال'' یا '' ایک ماہ''(٢)

٢۔ اگر مال کا مالک، اجارہ پر دی جانیوالی چیز کو مستاجر کے حوالے کرے، اگر چہ مستاجر اسے اپنے قبضے میں نہ لے یا قبضے میں لے لے مگر اجارہ کی مدت تمام ہونے تک اس سے استفادہ نہ کرے تو بھی اسے اجارہ کی رقم ادا کرنی ہوگی۔(٣)

٣۔ اگر کوئی شخص کسی مزدور کو ایک خاص دن کے لئے کام پرمعین کرے،مثال کے طور پر اس مزدور کی ذمہ داری یہ ہوکہ انیٹوں یا چونے وغیرہ کو باہر سے اٹھا کر بلڈنگ کے اندر لے جائے، اور یہ مزدور کام پر حاضر ہوجائے، اگر اس کے بعد اس کو کوئی کام نہ دیا جائے، مثلاً بلڈنگ کے اندرلے جانے کیلئے اینٹیںنہ ہوں، تو بھی اس کی مزدوری اسے دینی چاہئے۔(٤)

٤۔ اگر کوئی صنعت گر کسی چیز کو لینے کے بعد اسے ضائع کردے ،تو اسے اس نقصان کی تلافی کرنی چاہیئے، مثال کے طور پر ایک مکینک گاڑی کو کوئی نقصان پہنچائے۔(٥) *

٥۔ اگر کوئی شخص کسی گھر، دکان یا کمرہ کو اجارہ پر لے اور اس کا مالک یہ شرط لگائے کہ صرف وہ

____________________

(١)توضیح المسائل، م ٢١٨٤

(٢) توضیح المسائل ، م ٢١٨٧

(٣)توضیح المسائل،م ٢١٩٦

(٤)توضیح المسائل،م ٢١٩٧

(٥)توضیح المسائل،م ٢٢٠٠

*یہ مسئلہ حضرت آیت ١اللہ اراکی کے رسالہ میں نہیں ہے۔

۲۵۹

خود اس سے استفادہ کرسکتا ہے تو مستاجر کو حق نہیں ہے کسی اور کو اسے اجارہ پر دیدے۔(١)

قرض

قرض دینا مستحب ہے جس کے بارے میں قرآن واحادیث میں بہت تاکید کی گئی ہے اور قرض دینے والے کو قیامت کے دن اس کا بہت زیادہ صلہ ملے گا۔

قرض کی قسمیں :

١۔ مدت دار: یعنی قرض دیتے وقت معین ہو کہ قرض لینے والا کس وقت قرض کو ادا کرے گا۔

٢۔ بغیر مدت: وہ ہے جس میں قرض ادا کرنے کی تاریخ معین نہ ہو۔

قرض کے احکام :

١۔ اگر قرض معین مدت والاہو توقرض خواہ مدت تمام ہونے سے پہلے طلب نہیں کرسکتا ہے *(٢)

٢۔ اگر قرض معین مدت والا نہ ہو تو قرض خواہ کسی بھی وقت طلب کرسکتا ہے۔(٣)

٣۔قرض خواہ کے طلب کرنے پر اگر قرض دار اسے اداکرنے کی طاقت رکھتاہوتو۔فوراً ادا کرنا چاہئے، تاخیر کی صورت میں گناہ گارہے۔(٤)

٤۔ اگر کوئی شخص کسی کو کچھ پیسے دے اور شرط کرے کہ ایک مدت کے بعد، مثلاً ایک سال کے بعد اس سے بیشتر پیسے وصول کرے گا تو وہ سود اور حرام ہے، مثلاً ایک لاکھ روپیہ دے کر یہ شرط کرے کہ ایک سال کے بعد اس سے ایک لاکھ بیس ہزار وپیہ وصول کرے گا۔(٥)

____________________

(١)توضیح المسائل،م ٢١٨٠ (٢)توضیح المسائل، م٢٢٧٥ (٣) توضیح المسائل،م ٢٢٧٥ (٤)توضیح المسائل م٢٢٧٦(٥)توضیح المسائل م٢٢٨٨

* (تمام مراجع)احتیاط واجب کے طور پر مسئلہ ٢٢٨٩)

۲۶۰

حتى يميز الخبيث من الطيب گذشتہ آيات مثلاً ''ھم الكفر يومئذ اقرب منھم للايمان''كے مطابق خبيثوں سے مراد وہ منافقين ہيں جنہوں نے كفار سے جنگ كرنے ميں پہلوتہى كى ہے_

١٠_ پاك و ناپاك افراد كے باہم ملنے اور پھر ان كے ايك دوسرے سے جدا ہوجانے كا تسلسل_

ما كان الله ليذر المؤمنين علي ما انتم عليہ حتي يميز الخبيث من الطيب

١١_ انسانوں كو پوشيدہ اسرار (غيب) سے آگاہ نہ كرنا سنت الہى ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

يہ مطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''الغيب''كا الف و لام جنس كيلئے ہو_

١٢_ فقط خداوند متعال، غيب اور پنہاں اسرار سے آگاہ ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

١٣_ انسانوں كا ايمان و كفر (پاكى و ناپاكي)، غيبى امور ميں سے ہے_

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب اگر ''الغيب''سے مراد جنس ہو تو كفر و ايمان مورد نظرمصاديق ميں سے ہيں البتہ يہ احتمال بھى ديا جاسكتا ہے كہ ''الغيب''كا الف و لام، عہد كيلئے ہو يعنى مخصوص كفر و ايمان_

١٤_ دلوں كے اسرار اور غيب سے لوگوں كو آگاہ كر كے پاك و ناپاك افراد كى صفوں كو مشخص كرنا، سنت الہى نہيں ہے_و ما كان الله ليذر المؤمنين علي ما انتم عليه حتى يميز الخبيث من الطيب و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

''و ما كان الله ليطلعكم ...''كا مطلب يہ ہے كہ اگرچہ خداوند متعال ناپاك و پاك افراد كو مشخص كرے گا_ ليكن يہ تشخيص و تميز، مشكلات اور جنگوں وغيرہ كے ذريعے ہے نہ كہ لوگوں كو غيب سے مطلع كر كے_

١٥_ بعض انبيائے (ع) الہى كا اپنى امت كے غيبى و خفيہ امور (ايمان و كفر) سے آگاہ ہونا_

و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر ہے كہ جب ''من'' تبعيض كيلئے اور ''يجتبي''كے متعلق ہو چونكہ جملہ''ولكن الله ...'' ،''ماكان الله ...'' سے استدراك كيلئے ہے لہذا آيت كا معنى يوں ہوگا_ خداوندمتعال امتوں اور قوموں كو غيب سے آگاہ نہيں كرتا، ليكن بعض انبياء (ع) كو غيب سے آگاہ كرنے كيلئے منتخب كرليتا ہے_

۲۶۱

١٦_ خداوند بعض انبياء (ع) كو، غيب سے آگاہ كرنے كيلئے منتخب كرليتا ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكنص الله يجتبى من رسله من يشائ

١٧_ انبيائے (ع) الہى كے درجات و مراتب ميں فرق ہونا_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ اگر خداوند متعال فقط اپنے بعض انبياء (ع) كو علم غيب عطا فرماتا ہے (جيساكہ آيت ميں احتمال ديا گيا ہے) تو اس سے پتہ چلتا ہے انبياء (ع) مختلفمراتب اور درجات كے حامل ہيں _

١٨_ تمام انبيائے الہى (ع) كا غيب سے آگاہ ہونا_ *و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ

يہ اس بنا پر كہ جب ''من''، ''مصن يشائ''كيلئے بيان ہو_ يعنى خداوند عالم غيب سے آگاہ كرنے كيلئے جس كو چاہتا ہے منتخب كرليتا ہے لہذا اس نے اس مقصد كيلئے اپنے انبياء (ع) كو منتخب كرليا ہے_

١٩_ پيغمبراكرم(ص) كا علم غيب كے ذريعے، اپنى امت كے پاك و ناپاك (مؤمن و منافق) افراد سے آگاہ ہونا_

و ما كان الله و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ ''من رسلہ''سے مراد خواہ بعض انبياء (ع) ہوں يا سب كے سب، يقيناً پيغمبراسلام(ص) ان ميں سے ايك ہيں _

٢٠_ خداوند متعال اپنے انبياء (ع) كو علم غيب عطا كرنے والا ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ

٢١_ خداوند متعال اور اسكے تمام انبياء (ع) پر ايمان لانا ضرورى ہے_فامنوا بالله و رُسله

٢٢_ خداوند متعال اور انبياء (ع) پر ايمان، انسان كو پاك افراد كے زمرے ميں شامل كرديتا ہے_

حتى يميز الخبيث من الطيب فامنوا بالله و رسله يہ اس بنا پر كہ جب جملہ ''فامنوا ...''جملہ ''و حتى يميز ...''پر متفرع ہو يعنى جب سنت الہى يہ ہے كہ پاك و ناپاك افراد كو مشخص كرديا جائے تو پاك افراد كے زمرے ميں شامل ہونے كيلئے خدا و رسول(ص) پر حقيقى ايمان ركھنے كے علاوہ اور كوئي چارہ نہيں _

٢٣_ انبياء (ع) كا غيب و پنہاں (پاكى و ناپاكى اور انسانوں كے حقيقى منافع و نقصان) سے آگاہ ہونا ان پر ايمان لانے كے ضرورى ہونے كى دليل ہے_

۲۶۲

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشاء فأمنوا بالله و رسله

مندرجہ بالا مفہوم اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب جملہ ''فامنوا ...''جملہ ''و لكن الله يجتبى من رسلہ''پر متفرع ہو_ يعنى چونكہ انبياء (ع) غيب سے آگاہ ہيں لہذا ان پر ايمان لانا ضرورى ہے_ كيونكہ فقط وہى ہستياں ،امور كے حقائق سے آگاہ ہيں اور سعادت و شقاوت كے راستوں كو پہچانتے ہيں _

٢٤_ تقوي اختيار كرنے والے مؤمنين كيلئے اجر عظيم _و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٢٥_ ايمان كے ساتھ ساتھ تقوي كا ضرورى ہونا_و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٢٦_ اجر عظيم كا استحقاق، خدا و رسول(ص) پر ايمان لانے اور ان كى مخالفت نہ كرنے سے مربوط ہے_

و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم چونكہ كلمہ ''اجر'' اس اجر ميں ظہور ركھتا ہے جو استحقاق كى بنياد پر ديا جاتا ہے_ لہذا اس مطلب ميں كلمہ ''استحقاق''استعمال كيا گيا ہے_

٢٧_ ايمان اور تقوي كى طرف تشويق كرنے كيلئے اجر و ثواب كا وعدہ و ضمانت دينا، ايك قرآنى روش ہے_

و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٨ ٢_ بعض مؤمنين كى طرف سے انسانوں كے خفيہ امور اور غيب سے آگاہى حاصل كرنے كا تقاضا كيا جانا تاكہ وہ مؤمن اور غيرمؤمن (طيب و خبيث) افراد ميں تميز كرسكيں _

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب اس آيت كے شان نزول ميں منقول ہے كہ بعض مؤمنين، ايسى علامتوں كا تقاضا كرر ہے تھے كہ جن كے ذريعے وہ مؤمنين اور منافقين ميں تميز كرسكيں ، تب خداوند متعال نے مندرجہ بالا آيت نازل فرمائي_

آنحضرت(ص) : ٢٦ آنحضرت(ص) كا علم غيب ١٩ ; آنحضرت(ص) كو تسلى و تشفى ٩

اجر: ٢٦ اجر كے مراتب ٢٤;اجر كا وعدہ ٢٧

اسلام: صدر اسلام كى تاريخ٨

اطاعت: آنحضرت(ص) كى اطاعت ٢٦;اطاعت كا اجر ٢٦ ; اللہ تعالى كى اطاعت ٢٦

اللہ تعالى: ١٢، ٢٢، ٢٦

۲۶۳

اللہ تعالى كا علم غيب ١٢; اللہ تعالى كا لطف ٧ ; اللہ تعالى كى امداد ٧; اللہ تعالى كى سنت٢، ١١، ١٤; اللہ تعالى كى عطا و بخشش ٢٠

امتحان: امتحان كا ذريعہ ٦;انواع و اقسام كے امتحان ٦; جنگ كے ذريعے امتحان ٦;سختى و مصائب كے ذريعے امتحان ٦;شكست كے ذريعے امتحان ٦;فتح كے ذريعے امتحان ٦;فلسفہ امتحان ٥

انبياء (ع) : ٢١، ٢٢ انبياء (ع) كا برگزيدہ ہونا ١٦;ابنياء (ع) كا علم غيب ١٥، ١٦، ١٨، ٢٠، ٢٣;انبياء (ع) كے فضائل ١٧;انبياء (ع) ميں تفاوت ١٧

انسان: انسان كے اسرار ١٢

ايمان: ١٣، ٢٥ آنحضرت(ص) پر ايمان ٢٦; اللہ تعالى پر ايمان ٢١، ٢ ٢، ٢٦;انبياء (ع) پر ايمان ٢١، ٢٢، ٢٣;ايمان كا اجر ٢٦; ايمان كا پيش خيمہ ٢٧ ;ايمان كى تشويق ٢٧ايمان كے اثرات ٤، ٢٢

پاك افراد: ١٠، ١٤ پاك افراد كا امتحان ٥ ;پاكى ٣،١٣، ١٩;پاكى كے اسباب ٤، ٢٢

تحريك: تحريك كے اسباب ٢٧

تبليغ : تبليغ كا طريقہ ٢٧

تقوي: ٢٥ تقوي كا اجر ٢٦;تقوي كا پيش خيمہ ٢٧ ;تقوي كى تشويق ٢٧

جنگ: ٦ جنگ سے فرار ٩

خباثت: ٣، ١٠، ١٣، ١٤، ١٩ خباثت كے اسباب ٤

سختي: ٦ شكست: ٦

علم غيب: ١١، ١٢، ١٣، ١٤، ١٥، ١٦، ١٨، ١٩، ٢٠، ٢٣،٨ ٢

غزوہ احد: ٨ قدر و قيمت كا اندازہ لگانا:

قدر و قيمت كا اندازہ لگانے كا طريقہ ٥،٢٨

كاميابي: ٦ كفر: ١٣

متقين: متقين كا اجر ٢٤

۲۶۴

مصيبت: ٦

معاشرہ : اسلامى معاشرہ ١، ٢، ٥;معاشرتى گروہ ٢

منافقين: صدر اسلام كے منافقين ٨ ; منافقين كى خباثت ٣، ١٩

مؤمنين: مؤمنين كا اجر ٢٤;مؤمنين كو تسلى ٩;مؤمنين كى امداد ٧;مؤمنين كى پاكيزگي٣، ١٩;مؤمنين كے تقاضے ٢٨

نفاق: نفاق كے اثرات ٤

آیت(۱۸۰)

( وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ )

اور خبردار جو لوگ خدا كے ديئے ہوئے ميں بخل كرتے ہيں ان كے بارے ميں يہ نہ سوچنا كہ اس بخل ميں كچھ بھلائي ہے _ يہ بہت برا ہے اور عنقريب جس مال ميں بخل كيا ہے وہ روز قيامت ان كى گردن ميں طوق بناديا جائے گا اور الله ہى كے لئے زمين و آسمان كى ملكيت ہے اور وہ تمھارے اعمال سے خوب باخبر ہے _

١_ بخل اختيار كرنے والوں كا انفاق نہ كرنے كو منافع اور ثمر بخش سمجھنا، ايك غلط تصور ہے_و لايحسبن الذين يبخلون هو خيراً لهم

٢_ اضافى اموالميں سے انفاق كرنا ضرورى ہے_

۲۶۵

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

مندرجہ بالا مطلب ميں ''من فضلہ''كى ضمير ''ما اتيھم الله '' كے ''ما''كى طرف پلٹائي گئي ہے_ اس بنا پر ''فضل'' ضرورت سے زائد كے معنى ميں ہوگا_ اسمطلب كى تائيد رسول خدا(ص) كے اس فرمان سے ہوتى ہے : ''ما من ذى رحم ياتى ذارحمہ فيسألہ من فضل ما اعطاہ الله اياہ فيبخل عليہ الا خرج لہ يوم القيامة من جہنم شجاع يتلمظ حتي يطوقہ'' جب كوئي شخص اپنے رشتہ دار سے سوال كرے كہ اللہ تعالى كے عطا كردہ مال ميں سے كچھ عنايت كرے اور وہ عطا كرنے ميں بخل كرے تو روز قيامت جہنم سے ايك سانپ نكلے گا جو اس كے گلے كا طوق بن جائے گا_اسكے بعد آپ(ص) نے مندرجہ بالا آيت كى تلاوت فرمائي ''و لايحسبن ...''(١)

٣_ ضرر و نقصان ،اضافى اموال ميں سے انفاق نہ كرنے كا برا انجام _و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله بل هو شر لهم

٤_ انسانوں كيلئے عنايات الہى (مادى و معنوى وسائل) ان پر خدا وند عالم كا فضل ہے كہ اور يہ اس كى ملكيت ہيں _

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

٥_ مال و دولت كے خداوند عالم كى جانب سے ہونے پر توجہ كرنا، انفاق و بخشش كو آسان بناديتا ہے اور بخل و كنجوسى كى برائي كو واضح كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله خداوند متعال كا يہ ياددہانى كرانا كہ تم لوگوں كے اموال خداوندمتعال كى طرف سے فضل ہے (بما اتيھم الله من فضلہ) اس كا مقصد، انسان كيلئے انفاق و بخشش كو آسان بنانا اور بخل كى برائي كو ظاہر كرنا ہے_

٦_ انسان كيلئے خداوند متعال كى عنايات(مادى و معنوى وسائل) كا قابل قدر ہونا_

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله يہ كہ خداوند عالم نے جو وسائل انسانوں كو عطا كئے ہيں ، انہيں اپنا فضل كہا ہے اور ان كى نسبت اپنى جانب دى ہے، اس سے ان كى قدر و منزلت ظاہر ہوتى ہے_ البتہ يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''فضلہ''كى ضمير ''الله ''كى طرف پلٹائي جائے نہ كہ''ما اتيهم الله '' كى طرف _

____________________

١)الدر المنثور ج٢ ص٣٩٥.

۲۶۶

٧_ جہاد كے اخراجات ادا نہ كرنا، بخل كے مصاديق ميں سے ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله چونكہ مذكورہ آيت، آيات جہاد كے بعد آئي ہے، اس سے يہ نكتہ ظاہر ہوتا ہے كہ ''الذين يبخلون ...''كے مطلوبہ مصاديق ميں سے ايك وہ لوگ ہيں جو جہاد كے اخراجات ادا كرنے سے پرہيز اور بخل كرتے ہيں _

٨_ جہاد كے اخراجات پورے كرنے اور ضرورت مندوں كى دستگيرى كرنے كے سلسلے ميں ثروت مند افراد كى بھارى ذمہ داري_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله اگر ''فضل'' كا معني، ضروريات سے زائد ہو تو يہ ثروت مند افراد ہيں كہ جن كى ثروت ان كى ضروريات سے زيادہ ہے_

٩_ انسان اپنے نفع و نقصان كى صحيح پہچان نہ ركھنے كى وجہ سے بخل كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١٠_ انسان كا اپنے نفع و نقصان كو صحيح طور پر درك كرنا، خداوند متعال كى طرف سے ديئے گئے مال و دولت سے بخشش و انفاق كرنے اور بخل سے بچنے كا راستہ ہموار كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١١_ آسمانى تعليمات، خير و شر كى پہچان كا منبع ہيں _و لايحسبن هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١٢_ قيامت كے دن بخيلوں كا مال و منال، طوق كى صورت ميں ان كى گردن ميں لٹكا ہوگا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٣_ قيامت كے دن بخيل افراد كے گلے ميں ان كے مال و دولت كا لٹكايا جانا ، بخل و كنجوسى كى برائي اور ضرر كى علامت ہے_بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة جملہ ''سيطوقون ما بخلوا ...''كلمہ ''شر''كى تفسير ہے_ يعنى قيامت كے دن اپنے مال و دولت كو دوش پر لادے ہوئے (گلے ميں لٹكائے ہوئے) آنا، ايك ايسا شر ہے جو بخيل افراد كے دامن گير ہوگا_ مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى مراد ہو_

١٤_ قيامت كے دن جمادات اور اشياء كا محشور ہونا_

۲۶۷

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٥_ اخروى عذاب و عقوبت كا گناہ و عصيان كے مطابق ہونا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

بخيلوں كے گلے ميں ان كا مال طوق بناكر لٹكا يا جانا، اس مال سے ان كے شديد لگاؤ اور وابستگى كى وجہ سے ہے_ اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ عذاب آخرت اور گناہ ميں مناسبت ہوگي_

١٦_ معاد كا جسمانى ہونا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة مندرجہ بالامطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى ليا جائے_

١٧_ بخل اختيار كرنے كى حرمت اور خداوند متعال كا بخيلوں كى سخت مذمت كرنا_و لايحسبن سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٨_ قيامت كے دن بخيل افراد، اپنے كاندھے پر بخل كے گناہ كا سنگين بوجھ اٹھائے ہوں گے_

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة بعض كے نزديك يہاں ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى مراد نہيں ہے بلكہ وبال اور گناہ جيسا كوئي كلمہ، ''ما بخلوا ...''سے پہلے مقدر ہے_ يعنى وہ لوگ اپنے بخل كے گناہ كے وبال كو اپنے دوش پر اٹھائے ہوئے ہوں گے_

١٩_ قيامت كا دن حقيقى خير و شر كے ظہور كا ميدان ہے_و لايحسبن الذين هو خيراً لهم بل هو شر لهم سيطوقون يوم القيمة

٢٠_ انسان كيلئے، اپنے ذاتى مال ميں حق تصرف كى محدوديت_و لايحسبن الذين سيطوقون ما بخلوا به

٢١_ يہ خداوندمتعال ہے كہ جو آسمان و زمين (پورى كائنات) كا حقيقى و اصلى مالك ہے_ولله ميراث السموات والارض

٢٢_ خداوند عالم كى مطلق مالكيت_ولله ميراث السصموات والارض

٢٣_ انسان كى ثروت اور دولت، خداوند متعال كى ملكيت ہے اور اسى كى جانب پلٹ جائے گي_

بما اتهم الله من فضله ...ولله ميراث السموات والارض

٢٤_ آسمانوں كا متعدد ہونا_

۲۶۸

ولله ميراث السموات

٢٥_ انسان كے ہاتھ سے اسكے تمام مال و دولت كے نكل جانے كى جانب توجہ، بخل اور انفاق نہ كرنے كى برائي كو پہچاننے كا باعث بنتى ہے_و لايحسبن الذين يبخلون ولله ميراث السموات والارض جملہ ''ولله ميراث الصسموات ...''سے يہ نكتہ ظاہر ہوتا ہے كہ تمام مال و دولت تمہارے ہاتھوں سے نكل كر خداوند متعال كى جانب پلٹ جائے گي، پس كيوں نہيں انفاق كرتے؟ اور اپنے آپ كو انفاق كے اجر و ثواب سے محروم كرتے ہو؟

٢٦_ خداوند متعال كا انسان كے تمام اعمال اور كردار سے مكمل اور دقيق طور پر آگاہ ہونا_والله بما تعملون خبير

٢٧_ خداوند عالم كى على الاطلاق مالكيت اور انسانى اعمال و كردار سے اسكى آگاہى كى جانب توجہ، انفاق اور بخل سے بچنے كو آسان بناديتى ہے_و لايحسبن الذين يبخلون ولله ميراث السموات والارض والله بما تعملون خبير

٢٨_ بخيل افراد كے بارے ميں خداوند متعال كى جانب سے تہديد اور تنبيہ _والله بما تعملون خبير

٢٩_ زكات نہ دينے والوں كے اموال كا قيامت كے دن ان كے گلے ميں ادہا كى شكل ميں لٹكايا جانا_

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة امام صادق (ع) سے ''سيطوقون ما بخلوا بہ ...''كے بارے ميں پوچھا گيا تو آپ(ع) نے فرمايا: ما من احد يمنع من زكاة مالہ شيئاً الا جعل الله عزوجل ذلك يوم القيمة ثعباناً من نار مطوقاً فى عنقہ جو شخص بھى زكاة كے مال سے ذرہ برابر بھى ركھ لے يقينا خداوند متعال روز قيامت اسے آگ كا ادہا بناكر اس كے گلے ميں لٹكادے گا(١) _

٣٠_ ضرورت سے زيادہ مال و دولت ميں سے انفاق اور خرچ نہ كرنے اور بخل اختيار كرنے كا نتيجہ، قيامت كے دن سخت عذاب الہى كى صورت ميں ظاہر ہوگا_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

رسول خدا (ص) فرماتے ہيں :ما من ذى رحم يأتى ذا رحمه فيسأله من فضل ما اعطاه الله اياه فيبخل عليه الا خرج له يوم القيامة من جهنم شجاع يتلمظ حتي يطوقه_ ثم قرأ ''ولايحسبن ...'' _(٢) اس حديث كا ترجمہ اسى آيت كے مطلب ٢ ميں گزرچكا ہے_

____________________

١)كافى ج٣ ص٥٠٢ ح١، نورالثقلين ج١ ص٤١٤ ح٤٤٩، ٤٥٢.

٢)الدر المنثور ج٢ ص٣٩٥.

۲۶۹

آسمان: آسمان كا مالك٢١; آسمان كا متعدد ہونا٢٤

اللہ تعالى: اللہ تعالى كا خبردار كرنا ٢٨;اللہ تعالى كا علم ٢٦، ٢٧; اللہ تعالى كا فضل ٤; اللہ تعالى كى عطاء ٤، ٦;اللہ تعالى كى مالكيت ٤، ٢١، ٢٣، ٢٧

انسان: انسان كا سرمايہ٤، ٥، ٢٣، ٢٥ ; انسان كا علم ١٠; انسان كا عمل ٢٦

انفاق: انفاق كا پيش خيمہ ٥، ١٠، ٢٧;انفاق كى اہميت ٢; انفاق كى حدود ٢;انفاق كے آداب ٢٧;انفاق كے موانع ١;ترك انفاق پر مذمت ٢٥; ترك انفاق كى سزا ٣٠; ترك انفاق كے اثرات ٣، ٢٩

بُخل: بخل كا گناہ ١٨;بخل كا نقصان ١٣; بخل كى حرمت ١٧; بخل كى سزا ٣٠ ; بخل كى مذمت ٥، ١٧، ٢٥ ; بخل كے اثرات ١٢، ١٣، ١٨; بخل كے اسباب ٩ ; بخل كے علاج كا طريقہ ١٠، ٢٧;بخل كے موارد ٧

بخيل: بخيل قيامت ميں ١٢، ١٣;بخيل كا انجام ٣٠;بخيل كا سرمايہ ١٢، ١٣; بخيل كا عقيدہ ١; بخيل كو تہديد ٢٨; بخيل كى مذمت ١٧

ثروت مند افراد: ثروت مند افراد كى ذمہ دارى ٨

جزا و سزا كا نظام: ١٥

جہاد: مالى جہاد ٧، ٨

جہالت: جہالت كے اثرات ٩

دنيا: دنيوى وسائل كى قدر و منزلت ٥ دين: تعليمات دين كے فوائد١١

روايت: ٢٩، ٣٠

زمين: زمين كا مالك ٢١

سزا:٣٠ اخروى سزا، ١٥

شناخت: شناخت كے منابع ١١

عذاب: عذاب كے درجے ٣٠; عذاب كے موجبات ١٥

عصيان: عصيان كى سزا ١٥

۲۷۰

عقيدہ: باطل عقيدہ ١

علم: ١٠ علم كے اثرات ٥، ٢٧

عمل:٢٦ عمل كا مجسم ہونا١٢، ١٣، ٢٩; نيك عمل كا پيش خيمہ ٥

فقير: فقير كى ضرورت پورى كرنا ٨

قدر و قيمت: معنوى قدر و قيمت ٦

قيامت: ١٢، ١٣، ١٨

قيامت كے دن حقائق كا ظاہر ہونا ١٩، ٢٩

گناہ: ١٨

مالكيت: ذاتى مالكيت ٢٠

محرمات: ١٧

محشور ہونا: جمادات كا محشور ہونا ١٤;موجودات كا محشور ہونا١٤

معاد: جسمانى معاد ١٦

ہبہ: ٥، ١٠

آیت (۱۸۱)

( لَقَدْ سَمِعَ اللّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاء سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتْلَهُمُ الأَنبِيَاء بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِيقِ )

الله نے ان كى بات كو بھى سن ليا ہے جن كاكہنا ہے كہ خدا فقير ہے اورہم مالدار ہيں _ ہم ان كى اس مہمل بات كو اور ان كے انبياء كے ناحق قتل كرنے كو لكھ ر ہے ہيں اور انجام كار ان سے كہيں گے كہ اب جہنّم كامزہ چكھو _

١_ خداوند متعال كے فقير و محتاج ہونے اور اپنے غنى و بےنياز ہونے كے بارے ميں يہود كے بے بنياد خيالات_

۲۷۱

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

بہت سے مفسرين كا كہنا ہے كہ ''الذين قالوا'' سے مراد يہود ہيں _

٢_ انفاق اور بخشش كے بارے ميں فرامين الہى كا يہود كى جانب سے مذاق و تمسخر اڑايا جانا_

الذين يبخلون لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير انفاق كى ترغيب دلانے اور اہل بخل كو تہديد كرنے كے بعد يہوديوں كے كلام''ان الله فقير ''كو نقل كرنا اس نكتہ كى جانب اشارہ ہے كہ يہوديوں نے انفاق كے بارے ميں فرمان خداوندى كا مذاق اڑاتے ہوئے يہ ا فواہ پھيلا ركھى تھى كہ آنحضرت (ص) كا خدا، فقير ہے_

٣_ خداوند متعال كے مقابلے ميں غنا اور بے نيازى كا احساس اور اظہار كرنا ايك ناروا و ناپسنديدہ عمل ہے_

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٤_ غنا اور بے نيازى كا احساس، فرامين الہى كى حكم عدولى اور ان كا مذاق اڑانے كى راہ ہموار كرتا ہے_*

الذين يبخلون بما اتيهم الله لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن أغنيائ

٥_ الہى معارف اور صفات خداوندى كے بارے ميں يہود كى كوتاہ انديشي_لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٦_ يہود كا مغرور اور خود پسند ہونا_قالوا ان الله فقير و نحن أغنيائ

٧_ خداوند متعال باتوں كا سننے والا ہے_لقد سمع الله قول

٨_ يہود كا ،اسلامى احكام و قوانين (انفاق) كے خلاف ناروا پروپيگنڈا كرنا_و لايحسبن الذين لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٩_ خداوند متعال بندوں كے انفاق سے غنى اور بے نياز ہے_ان الذين ان الله فقير و نحن اغنيآء سنكتب ما قالوا

١٠_ بخيل اور كنجوس زراندوز لوگ (ہميشہ) انبيائے الہى (ع) اور احكام خداوندى كے ساتھ ٹكرانے اور ان كے

۲۷۲

مقابلہ ميں آنے كے خطرے سے دوچار ہوتے ہيں _و لايحسبن الذين يبخلون لقد سمع الله قول الذين قالوا و نحن اغنيائ ترك انفاق اور بخل كى برائي بيان كرنے كے بعد يہوديوں كے كلام و باطل خيالات كو نقل كرنا، گويا بخيل افراد كيلئے ايك قسم كى تنبيہ ہے كہ بخل اور ترك انفاق انسان كو ايسے خطرناك مقام تك لے جاسكتا ہے كہ جہاں تك اس نے يہوديوں كو پہنچاديا (قالوا ان الله فقير )_

١١_ انسان كے كردار و گفتار كا ثبت ہونا اور ان كے مقابلے ميں انسان كى ذمہ داري_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٢_ يہود كا (جان بوجھ كر) انبيائے الہى (ع) كو ناحق قتل كرنا_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

انبياء (ع) كے قتل كا بالكل ناحقہونا دلالت كرتا ہے كہ يہود انبياء (ع) كى نبوت كا علم ركھنے كے باوجود، بغيرخطا اور فراموشى كے، انبيائے كرام (ع) كو قتل كرڈالتے تھے_ چونكہ اگر وہ انہيں پيغمبرنہ سمجھتے يا خطا و نسيان كے طور پر انہيں قتل كرتے تو ''بغير حق'' كى تعبيران پر صادق نہ آتي_

١٣_ انبيائے الہى (ع) ميں ، شہيد ہونے والے انبياء (ع) كى كثرت_و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٤_ يہود، پيغمبراسلام(ص) كو قتل كرنے كے در پے تھے_*و قتلهم الانبياء بغيرحق مندرجہ بالا مطلب، زمانہ پيغمبر(ص) كے يہوديوں كى طرف قتل انبياء (ع) كى نسبت دينے كى ايك توجيہ ہے، يعنى يہوديوں كى طرف قتل انبياء (ع) كى نسبت دى گئي ہے_ اس سے پتہ چلتا ہے كہ وہ پيغمبر اكرم(ص) كو قتل كرنے كى سعى كرر ہے تھے اور آنحضرت(ص) تمام انبياء (ع) كے مقام پر ہيں _

١٥_ خداوند متعال كو فقير و محتاج سمجھنے اور اسكى جانب ناروا نسبت دينے كى برائي كا انبياء (ع) كو قتل كرنے جيسے گناہ كے مساوى ہونا_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٦_ خداوند متعال كى جانب ناروا نسبت دينا اور انبيائے (ع) الہى كو قتل كرنا، ايسے عظيم گناہ ہيں جو دوزخ كے جلانے والے عذاب كا باعث بنتے_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق و نقول ذوقوا عذاب الحريق

''حريق'' محرق (جلانے والا) كے معنى ميں ہے يہ قابل غور ہے كہ انبياء (ع) كو قتل كرنے اور خداوند متعال كى طرف ناروا نسبت دينے كى سزا جلانے

۲۷۳

والا عذاب ہے_ جو اس قسم كے گناہ كى سنگينى كو ظاہر كرتا ہے_

١٧_ خداوند متعال كى طرف فقر كى نسبت دينے والوں اور انبياء (ع) كو قتل كرنے والوں كيلئے خود خداوند متعال كى جانب سے جلانے والے عذاب كا بلاواسطہ فرمان _نقول ذوقوا عذاب الحريق

١٨_ امام(ع) كو جو مال ديا جاتا ہے، اس مال كا امام(ع) كو محتاج سمجھنا گويا خداوند متعال كو فقير جاننا ہے_

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير امام باقر(ع) نے اس آيت كے بارے ميں فرمايا :هم الذين يزعمون ان الامام يحتاج منهم الى ما يحملون اليه _(١) يہ وہ لوگ ہيں جو گمان كرتے ہيں كہ امام ان كے اس مال كا نيازمند ہے جو وہ امام كو ديتے ہيں _

آنحضرت(ص) : آنحضرت (ص) كو قتل كرنے كى سازش ١٤

احكام: احكام كا استہزا ٢، ٤

استغنا: استغنا كے اثرات ٤;استغنا كى مذمت ٣

اسلام: تاريخ صدر اسلام ٨، ١٤

اسماء و صفات: سميع ٧;صفات جلال ١، ٩، ١٥

افترا: افترا كا گناہ١٥، ١٦; خداوند متعال پر افترا ١٥، ١٦، ١٧، ١٨

اللہ تعالى: ١٥، ١٦، ١٧، ١٨ اللہ تعالى كے اوامر ٢، ٤;اللہ تعالى كى بے نيازى ٩

انبياء (ع) : انبياء (ع) كا قتل١٢، ١٣، ١٥، ١٦، ١٧

انسان: انسان كى ذمہ دارى ١١

انفاق: ٨، ٩ انفاق كا حكم ٢; انفاق كى قدروقيمت ٨

بخيل: ١٠ ثروت مند: بخيل ثروت مند ١٠

روايت: ١٨

____________________

١)نورالثقلين ج١ ص٤١٦ ح٤٥٦_ بحارالانوار ج٢٤، ص٢٧٨ ح٤.

۲۷۴

زر اندوز : بخيل زر اندوز ١٠

سزا : ١٦

شہدائ: ١٣

عذاب: عذاب كے اسباب ١٦، ١٧; عذاب كے مراتب ١٦، ١٧

عصيان: عصيان كا پيش خيمہ ٤

عقيدہ: ٥ باطل عقيدہ ١، ٣، ١٨

عمل: عمل كا باقى رہنا ١١;عمل كا ثبت ہونا ١١

قتل: ١٢، ١٣، ١٦، ١٧ قتل كا گناہ ١٥

گناہ: ١٥ گناہ كبيرہ ١٦، ١٧;گناہ كى سزا ١٦

ہبہ: ہبہ كرنے كا حكم ٢

يہود: ١٢ يہود كا استہزا ٢;يہود كا عقيدہ ١، ٥;يہود كا غرور ٦; يہود كا ماحول بنانا ٨;يہود كى جہالت ٥;يہود كى سازش ١٤

آیت(۱۸۲)

( ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللّهَ لَيْسَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِيدِ )

اس لئے كہ تم نے پہلے ہى اس كے اسباب فراہم كر لئے ہيں اور خدا اپنے بندوں پرظلم نہيں كرتا ہے_

١_ آخرت ميں يہود پر سخت عذاب، ان كے ناروا اعمال (خداوند متعال كى جانب فقر كى نسبت دينے اور انبياء (ع) كو قتل كرنے) كا نتيجہ ہے_ذوقوا عذاب الحريق_ ذلك بما قدمت ايديكم

٢_ انسانوں كيلئے اخروى عذاب اور سزا، خود ان كے اعمال كا نتيجہ ہے_ذلك بما قدمت ايديكم

٣_ زمانہ پيغمبراكرم(ص) كے يہود كا اپنے آباء و اجداد كے

۲۷۵

گناہ (قتل انبياء (ع) ) ميں شريك ہونا_و قتلهم الانبياء بغيرحق ذلك بما قدمت ايديكم

يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''ايديكم''كے مخاطب عصر پيغمبراكرم(ص) كے يہود ہوں ، جملہ ''ذلك بما قدمت ...''سے پتہ چلتا ہے كہ وہ انبياء (ع) كو قتل كرنے كے گناہ ميں شريك تھے كہ جو ان كے آبا ء و اجداد كے ہاتھوں انجام پايا تھا_

٤_ زمانہ پيغمبراكرم(ص) كے يہود كا اپنے آبا و اجداد اور ہم مذہب لوگوں كے ہاتھوں گذشتہ انبياء (ع) كے قتل پر راضى ہونا_و قتلهم الانبياء ذلك بما قدمت ايديكم بظاہر عصر پيغمبراكرم(ص) كے يہوديوں كى طرف انبياء (ع) كے قتل كى نسبت جو ''ايديكم''كى ضمير خطاب سے اخذ ہوتى ہے_ ان كے اپنے آبا و اجداد كے اعمال پر راضى ہونے كى بنا پر ہے_ چونكہ خود وہ لوگ انبياء (ع) كے قتل كے مرتكب نہيں ہوئے تھے_

٥_ دوسروں كے اعمال و كردار پر راضى ہونا، انہى كے اعمال و كردار كو انجام دينے كے مترادف ہے_و قتلهم الانبياء ذلك بما قدمت ايديكم

٦_ بندوں كى نسبت، خداوند متعال كى جانب سے ہر قسم كے ظلم كى نفي_و ان الله ليس بظلام للعبيد

٧_ عدل خداوند متعال اور ا س كى ذات اقدس كا ظلم و ستم سے دور ہونے كا تقاضا ہے كہ بخيلوں اور انبياء (ع) كے قاتلوں كو سزا دى جائے_و لايحسبن الذين يبخلون ذوقوا عذاب الحريق و ان الله ليس بظلام للعبيد

جملہ ''و اص نص الله ...'' كا ''ما قدمت''پر عطف ہے_ بنابرايں يہ بخيلوں اور انبياء (ع) كے قاتلوں كے دوزخ ميں گرفتار ہونے كى ايك دوسرى وجہ ہے_ يعنى عدل الہى كا تقاضا ہے كہ وہ ظالموں كو سزا دے، اگر انہيں سزا نہيں ملتى تو يہ مظلوموں پر ظلم ہوگا_

٨_ اہل دوزخ كا عذاب، خداوند متعال كى طرف سے ان پر ہرگز ظلم نہيں _ذوقوا عذاب الحريق و ان الله ليس بظلام للعبيد يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''ان الله ...''ايك محذوف مبتدا كى خبر ہو (الامرو الشأن ان الله ليس ...) يوں ''قدمت ايديكم''كے قرينہ سے خداوند متعال كے ظلم نہ كرنے سے مراد يہ ہے كہ خداوند متعال سزا دينے ميں ظلم نہيں كرتا_

٩_ اہل دوزخ كا عذاب، ہرگز ان كے اعمال سے زيادہ نہيں ہوگا_ذوقوا عذاب الحريق_ ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد

۲۷۶

١٠_ خداوند متعال، ہرگز اپنے بندوں كو ارتكاب گناہ كے بغيرسزا نہيں ديتا_ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد

١١_ اپنے اعمال و كردار كے سلسلے ميں انسان خودمختار ہے_ذلك بما قدمت ايديكم و ان ا لله ليس بظلام للعبيد

١٢_ ظالموں كو سزا نہ دينا، مظلوموں پر ظلم ہے_ذوقوا عذاب الحريق ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد مندرجہ بالا مطلب پہلے احتمال (''ان الله ...''كا ''ما قدمت''پر عطف ہونا)پر مبنى ہے_

١٣_ بے گناہوں كو سزا دينا، ايك عظيم ظلم ہے_و ان الله ليس بظلام للعبيد

مندرجہ بالامطلب دوسرے احتمال (''ان الله ...''كيلئے مبتدا كا مقدر ہونا) پر مبنى ہے_

١٤_ گناہ سے زيادہ سزا دينا، ايك عظيم ظلم ہے_و ان الله ليس بظلام للعبيد

اسماء و صفات: صفات جلال ٦

افترا: خدا پر افترا ١;افترا كى سزا ١

اللہ تعالى: ١، ٦، ٨، ١٠ اللہ تعالى كاعدل ٧

انبياء (ع) : انبياء (ع) كا قتل ٤;انبياء (ع) كے قتل كى سزا ١، ٣، ٧

انسان: انسان كااختيار ١١; انسان كا عمل ١١

اہل جہنم: اہل جہنم كى سزا ٨، ٩

بخيل: بخيل كى سزا ٧

جزا و سزا كا نظام : ٥،٩

جہنم: جہنم كا عذاب ٨، ٩

سزا: ٢، ٣، ٧، ٨، ٩، ١٢، ١٤ اخروى سزا ١; سزا كا فلسفہ ١٢

ظالمين: ظالموں كى سزا ١٢

۲۷۷

ظلم: ٦، ٧، ٨، ١٠ ظلم كے اسباب ١٢، ١٣، ١٤;ظلم كے مراتب ١٣، ١٤ ; مظلوم پر ظلم ١٢

عذاب: ٨، ٩ عذاب كے اسباب ١; عذاب كے درجات ١; عذاب كے موجبات ٢، ٧

عمل١١: عمل كى اخروى سزا ٢; عمل كى سزا ٩;ناپسنديدہ عمل ١، ٢

گناہ: گناہ پر راضى ہونا ٤، ٥ ;گناہ كى سزا ١٤

يہود: صدر اسلام كے يہود ٣، ٤; يہود كى سزا ١، ٣ ;يہود كے آبا و اجداد كى سزا ٣; يہود كے آبا و اجداد ٤

آیت(۱۸۳)

( الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّیَ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ قُلْ قَدْ جَاءكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ) جو لوگ يہ كہتے ہيں كہ الله نے ہم سے عہد ليا ہے كہ ہم اس وقت تك كسى رسول پر ايمان نہ لائيں جب تك وہ ايسى قربانى پيش نہ كرے جسے آسمانى آگ كھا جائے تو ان سے كہہ ديجئے كہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول معجزات اور تمھارى فرمائش كے مطابق صداقت كى نشانى لے آئے پھر تم نے انھيں كيوں قتل كرديا اگر تم اپنى بات ميں سچّے ہو _

١_ يہوديوں كے خيال ميں انبياء (ع) پر ايمان لانے كيلئے خداوند متعال نے يہ عہد ليا ہے كہ انبياء (ع) ايسى قربانى پيش كريں جسے غيبى آتش آكر جلادے_الذين قالوا ان الله عهد الينا الانؤمن لرسول حتى يأتينا بقربان تأكله النار

٢_ آنحضرت(ص) پر ايمان لانے كيلئے يہود نے يہ شرط ركھى

۲۷۸

ہوئي تھى كہ پيغمبراكرم(ص) كى قربانى آگ ميں جل جائے_

الذين قالوا ان الله حتى يأتينا بقربان تاكله النار ''قربان''كا معنى ہر وہ چيز ہے جس كے وسيلے سے انسان خداوند متعال كا قرب حاصل كرتا ہے اور گذشتہ امتوں كى قربانى گائے، بھيڑ اور اونٹ وغيرہ تھے جو خداوند متعال سے تقرب حاصل كرنے كيلئے ذبح كئے جاتے تھے_(تاج العروس)

٣_ حضرت موسي (ع) كى بعثت كے بعد، رسالت و نبوت كے ختم نہ ہونے كے بارے ميں يہود كا اعتقاد و اعتراف_

الانؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان اگر يہود حضرت موسي (ع) كى نبوت كى خاتميت كے مدعى ہوتے تو انہيں پيغمبراسلام(ص) سے يہ كہنا چاہيے تھا كہ ہم سے عہد ليا گيا ہے كہ ہم كسى بھى مدعي رسالت پر ايمان نہ لائيں نہ يہ كہ وہ سچے نبى و رسول كى نشانى بيان كرنے لگتے_

٤_ يہودي، الہى عہد و پيمان كے ساتھ اپنى وفادارى كے مدعى تھے_ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول

٥_ يہوديوں كا دين اور ديندارى كے نام پر اسلام اور پيغمبراكرم (ص) كے خلاف معركہ آرائي _

ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان چونكہ يہود كا دعوي تھا كہ وہ فرامين خداوندى كى پيروى كرتے ہوئے اور عہد الہى سے وفا كرتے ہوئے، پيغمبر اكرم(ص) پر ايمان نہيں لار ہے_

٦_ يہود كى نظر ميں مدعى رسالت كى سچائي كى علامت، قربانى كا غيبى آتش سے جلنا ہے_الانؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان تاكله النار

٧_ اديان الہى ميں ، قربانى كے حكم كا موجود ہونا_حتي ياتينا بقربان تاكله النار

٨_ بنى اسرائيل كيلئے روشن دلائل (معجزات و براہين) كے ساتھ متعدد انبيا ء (ع) كا مبعوث ہونا_قد جائكم رسل من قبلى بالبينات

٩_ بنى اسرائيل كے بعض انبياء (ع) اور رسولوں (ع) كے معجزہ كے طور پر قربانى كا غيبى آگ سے جلنا_

قال ان الله عهد الينا قد جائكم رسل و بالذى قلتم

١٠_ خداوند متعال كى تعليم كے مطابق، پيغمبر اكرم (ص) كا يہود كے خلاف استدلال كرنا_

قل قد جائكم رسل من قبلى بالبينات وبالذى قلتم فلم قتلتموهم

۲۷۹

١١_ اثبات نبوت كے طريقوں ميں سے ايك معجزہ ہے_قد جائكم رسل من قبلى بالبينات و بالذى قلتم

١٢_ انبياء (ع) كى حقانيت كا علم ركھنے اور ان كے معجزات ديكھنے كے باوجود، يہود كے ہاتھوں بہت سے انبيائے الہى (ع) كا شہيد ہونا _قل قد جائكم رسل من قبلى بالبينات و بالذى قلتم فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

دليل كو اس وقت ''بينة''كہا جاتا ہے كہ جب وہ مدمقابل كيلئے حق كو روشن كرے اور اسے اسكى حقانيت سے آگاہ كرے_ لہذا يہود جانتے تھے اور ان كيلئے روشن تھا كہ وہ حقيقى انبياء (ع) كو قتل كرر ہے ہيں _

١٣_ يہودي، انبياء (ع) سے اپنا طلب كردہ معجزہ (قربانى كا غيبى آگ سے جلنا) ديكھنے كے باوجود بھي، نہ فقط ان پر ايمان نہيں لائے بلكہ انہيں قتل كرڈالا_قل قد جائكم رسل من قبلى و بالذى قلتم فلم قتلتموهم

١٤_ پيغمبراكرم (ص) كا يہوديوں كى گذشتہ تاريخ كى بنياد پران كے خلاف استدلال كرنا_قل قد جائكم رسل من قبلى فلم قتلتموهم

١٥_ ہر امت كى تاريخ; اسكى نفسيات، خصائل اور اسكے آئندہ كے لائحہ عمل كى تشخيص و پہچان كا منبع ہے_

قد جائكم فلم قتلتموهم خداوند متعال يہود كى عادات و خصائل اور تاريخى اثرات كے ذريعے، زمانہ پيغمبر(ص) كے يہوديوں كے خلاف استدلال كرتے ہوئے ان كے آئندہ كے لائحہ عمل كو آشكار كر رہا ہے_ يہ استدلال اس بنياد پر قائم ہے كہ ہر امت و قوم كى تاريخ اورگذشتہ اعمال اسكے مستقبل كى نشاندہى كرتے ہيں اور اس پر حاكم عادات و نفسيات كى معرفت كا بہترين وسيلہ و منبع ہيں _

١٦_ يہود كا پيغمبراكرم(ص) كے ساتھ منافقانہ رويہ_الذين قالوا ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين جملہ''فلما قتلتموهم ان كنتم صادقين'' يہ بيان كر رہا ہے كہ يہود، معجزہ ديكھنے كى صورت ميں ايمان لانے كا دعوي كرنے كے باوجود، ايمان لانے كا قصد نہيں ركھتے تھے_

١٧_ يہوديوں كى خرافات پسندي، جمود اور ہٹ دھرمي_*الذين قالوا ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان: تأكله النار

١_ جملہ ''الا نؤمن لرسول''كا ظاہرى معنى يہ ہے كہ خداوند متعال نے ہميں حكم ديا ہے كہ جو شخص

۲۸۰

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326