احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)17%

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق) مؤلف:
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 326

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 326 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 211886 / ڈاؤنلوڈ: 4588
سائز سائز سائز
احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

حتى يميز الخبيث من الطيب گذشتہ آيات مثلاً ''ھم الكفر يومئذ اقرب منھم للايمان''كے مطابق خبيثوں سے مراد وہ منافقين ہيں جنہوں نے كفار سے جنگ كرنے ميں پہلوتہى كى ہے_

١٠_ پاك و ناپاك افراد كے باہم ملنے اور پھر ان كے ايك دوسرے سے جدا ہوجانے كا تسلسل_

ما كان الله ليذر المؤمنين علي ما انتم عليہ حتي يميز الخبيث من الطيب

١١_ انسانوں كو پوشيدہ اسرار (غيب) سے آگاہ نہ كرنا سنت الہى ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

يہ مطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''الغيب''كا الف و لام جنس كيلئے ہو_

١٢_ فقط خداوند متعال، غيب اور پنہاں اسرار سے آگاہ ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

١٣_ انسانوں كا ايمان و كفر (پاكى و ناپاكي)، غيبى امور ميں سے ہے_

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب اگر ''الغيب''سے مراد جنس ہو تو كفر و ايمان مورد نظرمصاديق ميں سے ہيں البتہ يہ احتمال بھى ديا جاسكتا ہے كہ ''الغيب''كا الف و لام، عہد كيلئے ہو يعنى مخصوص كفر و ايمان_

١٤_ دلوں كے اسرار اور غيب سے لوگوں كو آگاہ كر كے پاك و ناپاك افراد كى صفوں كو مشخص كرنا، سنت الہى نہيں ہے_و ما كان الله ليذر المؤمنين علي ما انتم عليه حتى يميز الخبيث من الطيب و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

''و ما كان الله ليطلعكم ...''كا مطلب يہ ہے كہ اگرچہ خداوند متعال ناپاك و پاك افراد كو مشخص كرے گا_ ليكن يہ تشخيص و تميز، مشكلات اور جنگوں وغيرہ كے ذريعے ہے نہ كہ لوگوں كو غيب سے مطلع كر كے_

١٥_ بعض انبيائے (ع) الہى كا اپنى امت كے غيبى و خفيہ امور (ايمان و كفر) سے آگاہ ہونا_

و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر ہے كہ جب ''من'' تبعيض كيلئے اور ''يجتبي''كے متعلق ہو چونكہ جملہ''ولكن الله ...'' ،''ماكان الله ...'' سے استدراك كيلئے ہے لہذا آيت كا معنى يوں ہوگا_ خداوندمتعال امتوں اور قوموں كو غيب سے آگاہ نہيں كرتا، ليكن بعض انبياء (ع) كو غيب سے آگاہ كرنے كيلئے منتخب كرليتا ہے_

۲۶۱

١٦_ خداوند بعض انبياء (ع) كو، غيب سے آگاہ كرنے كيلئے منتخب كرليتا ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكنص الله يجتبى من رسله من يشائ

١٧_ انبيائے (ع) الہى كے درجات و مراتب ميں فرق ہونا_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ اگر خداوند متعال فقط اپنے بعض انبياء (ع) كو علم غيب عطا فرماتا ہے (جيساكہ آيت ميں احتمال ديا گيا ہے) تو اس سے پتہ چلتا ہے انبياء (ع) مختلفمراتب اور درجات كے حامل ہيں _

١٨_ تمام انبيائے الہى (ع) كا غيب سے آگاہ ہونا_ *و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ

يہ اس بنا پر كہ جب ''من''، ''مصن يشائ''كيلئے بيان ہو_ يعنى خداوند عالم غيب سے آگاہ كرنے كيلئے جس كو چاہتا ہے منتخب كرليتا ہے لہذا اس نے اس مقصد كيلئے اپنے انبياء (ع) كو منتخب كرليا ہے_

١٩_ پيغمبراكرم(ص) كا علم غيب كے ذريعے، اپنى امت كے پاك و ناپاك (مؤمن و منافق) افراد سے آگاہ ہونا_

و ما كان الله و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ ''من رسلہ''سے مراد خواہ بعض انبياء (ع) ہوں يا سب كے سب، يقيناً پيغمبراسلام(ص) ان ميں سے ايك ہيں _

٢٠_ خداوند متعال اپنے انبياء (ع) كو علم غيب عطا كرنے والا ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ

٢١_ خداوند متعال اور اسكے تمام انبياء (ع) پر ايمان لانا ضرورى ہے_فامنوا بالله و رُسله

٢٢_ خداوند متعال اور انبياء (ع) پر ايمان، انسان كو پاك افراد كے زمرے ميں شامل كرديتا ہے_

حتى يميز الخبيث من الطيب فامنوا بالله و رسله يہ اس بنا پر كہ جب جملہ ''فامنوا ...''جملہ ''و حتى يميز ...''پر متفرع ہو يعنى جب سنت الہى يہ ہے كہ پاك و ناپاك افراد كو مشخص كرديا جائے تو پاك افراد كے زمرے ميں شامل ہونے كيلئے خدا و رسول(ص) پر حقيقى ايمان ركھنے كے علاوہ اور كوئي چارہ نہيں _

٢٣_ انبياء (ع) كا غيب و پنہاں (پاكى و ناپاكى اور انسانوں كے حقيقى منافع و نقصان) سے آگاہ ہونا ان پر ايمان لانے كے ضرورى ہونے كى دليل ہے_

۲۶۲

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشاء فأمنوا بالله و رسله

مندرجہ بالا مفہوم اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب جملہ ''فامنوا ...''جملہ ''و لكن الله يجتبى من رسلہ''پر متفرع ہو_ يعنى چونكہ انبياء (ع) غيب سے آگاہ ہيں لہذا ان پر ايمان لانا ضرورى ہے_ كيونكہ فقط وہى ہستياں ،امور كے حقائق سے آگاہ ہيں اور سعادت و شقاوت كے راستوں كو پہچانتے ہيں _

٢٤_ تقوي اختيار كرنے والے مؤمنين كيلئے اجر عظيم _و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٢٥_ ايمان كے ساتھ ساتھ تقوي كا ضرورى ہونا_و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٢٦_ اجر عظيم كا استحقاق، خدا و رسول(ص) پر ايمان لانے اور ان كى مخالفت نہ كرنے سے مربوط ہے_

و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم چونكہ كلمہ ''اجر'' اس اجر ميں ظہور ركھتا ہے جو استحقاق كى بنياد پر ديا جاتا ہے_ لہذا اس مطلب ميں كلمہ ''استحقاق''استعمال كيا گيا ہے_

٢٧_ ايمان اور تقوي كى طرف تشويق كرنے كيلئے اجر و ثواب كا وعدہ و ضمانت دينا، ايك قرآنى روش ہے_

و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٨ ٢_ بعض مؤمنين كى طرف سے انسانوں كے خفيہ امور اور غيب سے آگاہى حاصل كرنے كا تقاضا كيا جانا تاكہ وہ مؤمن اور غيرمؤمن (طيب و خبيث) افراد ميں تميز كرسكيں _

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب اس آيت كے شان نزول ميں منقول ہے كہ بعض مؤمنين، ايسى علامتوں كا تقاضا كرر ہے تھے كہ جن كے ذريعے وہ مؤمنين اور منافقين ميں تميز كرسكيں ، تب خداوند متعال نے مندرجہ بالا آيت نازل فرمائي_

آنحضرت(ص) : ٢٦ آنحضرت(ص) كا علم غيب ١٩ ; آنحضرت(ص) كو تسلى و تشفى ٩

اجر: ٢٦ اجر كے مراتب ٢٤;اجر كا وعدہ ٢٧

اسلام: صدر اسلام كى تاريخ٨

اطاعت: آنحضرت(ص) كى اطاعت ٢٦;اطاعت كا اجر ٢٦ ; اللہ تعالى كى اطاعت ٢٦

اللہ تعالى: ١٢، ٢٢، ٢٦

۲۶۳

اللہ تعالى كا علم غيب ١٢; اللہ تعالى كا لطف ٧ ; اللہ تعالى كى امداد ٧; اللہ تعالى كى سنت٢، ١١، ١٤; اللہ تعالى كى عطا و بخشش ٢٠

امتحان: امتحان كا ذريعہ ٦;انواع و اقسام كے امتحان ٦; جنگ كے ذريعے امتحان ٦;سختى و مصائب كے ذريعے امتحان ٦;شكست كے ذريعے امتحان ٦;فتح كے ذريعے امتحان ٦;فلسفہ امتحان ٥

انبياء (ع) : ٢١، ٢٢ انبياء (ع) كا برگزيدہ ہونا ١٦;ابنياء (ع) كا علم غيب ١٥، ١٦، ١٨، ٢٠، ٢٣;انبياء (ع) كے فضائل ١٧;انبياء (ع) ميں تفاوت ١٧

انسان: انسان كے اسرار ١٢

ايمان: ١٣، ٢٥ آنحضرت(ص) پر ايمان ٢٦; اللہ تعالى پر ايمان ٢١، ٢ ٢، ٢٦;انبياء (ع) پر ايمان ٢١، ٢٢، ٢٣;ايمان كا اجر ٢٦; ايمان كا پيش خيمہ ٢٧ ;ايمان كى تشويق ٢٧ايمان كے اثرات ٤، ٢٢

پاك افراد: ١٠، ١٤ پاك افراد كا امتحان ٥ ;پاكى ٣،١٣، ١٩;پاكى كے اسباب ٤، ٢٢

تحريك: تحريك كے اسباب ٢٧

تبليغ : تبليغ كا طريقہ ٢٧

تقوي: ٢٥ تقوي كا اجر ٢٦;تقوي كا پيش خيمہ ٢٧ ;تقوي كى تشويق ٢٧

جنگ: ٦ جنگ سے فرار ٩

خباثت: ٣، ١٠، ١٣، ١٤، ١٩ خباثت كے اسباب ٤

سختي: ٦ شكست: ٦

علم غيب: ١١، ١٢، ١٣، ١٤، ١٥، ١٦، ١٨، ١٩، ٢٠، ٢٣،٨ ٢

غزوہ احد: ٨ قدر و قيمت كا اندازہ لگانا:

قدر و قيمت كا اندازہ لگانے كا طريقہ ٥،٢٨

كاميابي: ٦ كفر: ١٣

متقين: متقين كا اجر ٢٤

۲۶۴

مصيبت: ٦

معاشرہ : اسلامى معاشرہ ١، ٢، ٥;معاشرتى گروہ ٢

منافقين: صدر اسلام كے منافقين ٨ ; منافقين كى خباثت ٣، ١٩

مؤمنين: مؤمنين كا اجر ٢٤;مؤمنين كو تسلى ٩;مؤمنين كى امداد ٧;مؤمنين كى پاكيزگي٣، ١٩;مؤمنين كے تقاضے ٢٨

نفاق: نفاق كے اثرات ٤

آیت(۱۸۰)

( وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ )

اور خبردار جو لوگ خدا كے ديئے ہوئے ميں بخل كرتے ہيں ان كے بارے ميں يہ نہ سوچنا كہ اس بخل ميں كچھ بھلائي ہے _ يہ بہت برا ہے اور عنقريب جس مال ميں بخل كيا ہے وہ روز قيامت ان كى گردن ميں طوق بناديا جائے گا اور الله ہى كے لئے زمين و آسمان كى ملكيت ہے اور وہ تمھارے اعمال سے خوب باخبر ہے _

١_ بخل اختيار كرنے والوں كا انفاق نہ كرنے كو منافع اور ثمر بخش سمجھنا، ايك غلط تصور ہے_و لايحسبن الذين يبخلون هو خيراً لهم

٢_ اضافى اموالميں سے انفاق كرنا ضرورى ہے_

۲۶۵

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

مندرجہ بالا مطلب ميں ''من فضلہ''كى ضمير ''ما اتيھم الله '' كے ''ما''كى طرف پلٹائي گئي ہے_ اس بنا پر ''فضل'' ضرورت سے زائد كے معنى ميں ہوگا_ اسمطلب كى تائيد رسول خدا(ص) كے اس فرمان سے ہوتى ہے : ''ما من ذى رحم ياتى ذارحمہ فيسألہ من فضل ما اعطاہ الله اياہ فيبخل عليہ الا خرج لہ يوم القيامة من جہنم شجاع يتلمظ حتي يطوقہ'' جب كوئي شخص اپنے رشتہ دار سے سوال كرے كہ اللہ تعالى كے عطا كردہ مال ميں سے كچھ عنايت كرے اور وہ عطا كرنے ميں بخل كرے تو روز قيامت جہنم سے ايك سانپ نكلے گا جو اس كے گلے كا طوق بن جائے گا_اسكے بعد آپ(ص) نے مندرجہ بالا آيت كى تلاوت فرمائي ''و لايحسبن ...''(١)

٣_ ضرر و نقصان ،اضافى اموال ميں سے انفاق نہ كرنے كا برا انجام _و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله بل هو شر لهم

٤_ انسانوں كيلئے عنايات الہى (مادى و معنوى وسائل) ان پر خدا وند عالم كا فضل ہے كہ اور يہ اس كى ملكيت ہيں _

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

٥_ مال و دولت كے خداوند عالم كى جانب سے ہونے پر توجہ كرنا، انفاق و بخشش كو آسان بناديتا ہے اور بخل و كنجوسى كى برائي كو واضح كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله خداوند متعال كا يہ ياددہانى كرانا كہ تم لوگوں كے اموال خداوندمتعال كى طرف سے فضل ہے (بما اتيھم الله من فضلہ) اس كا مقصد، انسان كيلئے انفاق و بخشش كو آسان بنانا اور بخل كى برائي كو ظاہر كرنا ہے_

٦_ انسان كيلئے خداوند متعال كى عنايات(مادى و معنوى وسائل) كا قابل قدر ہونا_

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله يہ كہ خداوند عالم نے جو وسائل انسانوں كو عطا كئے ہيں ، انہيں اپنا فضل كہا ہے اور ان كى نسبت اپنى جانب دى ہے، اس سے ان كى قدر و منزلت ظاہر ہوتى ہے_ البتہ يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''فضلہ''كى ضمير ''الله ''كى طرف پلٹائي جائے نہ كہ''ما اتيهم الله '' كى طرف _

____________________

١)الدر المنثور ج٢ ص٣٩٥.

۲۶۶

٧_ جہاد كے اخراجات ادا نہ كرنا، بخل كے مصاديق ميں سے ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله چونكہ مذكورہ آيت، آيات جہاد كے بعد آئي ہے، اس سے يہ نكتہ ظاہر ہوتا ہے كہ ''الذين يبخلون ...''كے مطلوبہ مصاديق ميں سے ايك وہ لوگ ہيں جو جہاد كے اخراجات ادا كرنے سے پرہيز اور بخل كرتے ہيں _

٨_ جہاد كے اخراجات پورے كرنے اور ضرورت مندوں كى دستگيرى كرنے كے سلسلے ميں ثروت مند افراد كى بھارى ذمہ داري_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله اگر ''فضل'' كا معني، ضروريات سے زائد ہو تو يہ ثروت مند افراد ہيں كہ جن كى ثروت ان كى ضروريات سے زيادہ ہے_

٩_ انسان اپنے نفع و نقصان كى صحيح پہچان نہ ركھنے كى وجہ سے بخل كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١٠_ انسان كا اپنے نفع و نقصان كو صحيح طور پر درك كرنا، خداوند متعال كى طرف سے ديئے گئے مال و دولت سے بخشش و انفاق كرنے اور بخل سے بچنے كا راستہ ہموار كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١١_ آسمانى تعليمات، خير و شر كى پہچان كا منبع ہيں _و لايحسبن هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١٢_ قيامت كے دن بخيلوں كا مال و منال، طوق كى صورت ميں ان كى گردن ميں لٹكا ہوگا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٣_ قيامت كے دن بخيل افراد كے گلے ميں ان كے مال و دولت كا لٹكايا جانا ، بخل و كنجوسى كى برائي اور ضرر كى علامت ہے_بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة جملہ ''سيطوقون ما بخلوا ...''كلمہ ''شر''كى تفسير ہے_ يعنى قيامت كے دن اپنے مال و دولت كو دوش پر لادے ہوئے (گلے ميں لٹكائے ہوئے) آنا، ايك ايسا شر ہے جو بخيل افراد كے دامن گير ہوگا_ مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى مراد ہو_

١٤_ قيامت كے دن جمادات اور اشياء كا محشور ہونا_

۲۶۷

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٥_ اخروى عذاب و عقوبت كا گناہ و عصيان كے مطابق ہونا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

بخيلوں كے گلے ميں ان كا مال طوق بناكر لٹكا يا جانا، اس مال سے ان كے شديد لگاؤ اور وابستگى كى وجہ سے ہے_ اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ عذاب آخرت اور گناہ ميں مناسبت ہوگي_

١٦_ معاد كا جسمانى ہونا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة مندرجہ بالامطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى ليا جائے_

١٧_ بخل اختيار كرنے كى حرمت اور خداوند متعال كا بخيلوں كى سخت مذمت كرنا_و لايحسبن سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٨_ قيامت كے دن بخيل افراد، اپنے كاندھے پر بخل كے گناہ كا سنگين بوجھ اٹھائے ہوں گے_

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة بعض كے نزديك يہاں ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى مراد نہيں ہے بلكہ وبال اور گناہ جيسا كوئي كلمہ، ''ما بخلوا ...''سے پہلے مقدر ہے_ يعنى وہ لوگ اپنے بخل كے گناہ كے وبال كو اپنے دوش پر اٹھائے ہوئے ہوں گے_

١٩_ قيامت كا دن حقيقى خير و شر كے ظہور كا ميدان ہے_و لايحسبن الذين هو خيراً لهم بل هو شر لهم سيطوقون يوم القيمة

٢٠_ انسان كيلئے، اپنے ذاتى مال ميں حق تصرف كى محدوديت_و لايحسبن الذين سيطوقون ما بخلوا به

٢١_ يہ خداوندمتعال ہے كہ جو آسمان و زمين (پورى كائنات) كا حقيقى و اصلى مالك ہے_ولله ميراث السموات والارض

٢٢_ خداوند عالم كى مطلق مالكيت_ولله ميراث السصموات والارض

٢٣_ انسان كى ثروت اور دولت، خداوند متعال كى ملكيت ہے اور اسى كى جانب پلٹ جائے گي_

بما اتهم الله من فضله ...ولله ميراث السموات والارض

٢٤_ آسمانوں كا متعدد ہونا_

۲۶۸

ولله ميراث السموات

٢٥_ انسان كے ہاتھ سے اسكے تمام مال و دولت كے نكل جانے كى جانب توجہ، بخل اور انفاق نہ كرنے كى برائي كو پہچاننے كا باعث بنتى ہے_و لايحسبن الذين يبخلون ولله ميراث السموات والارض جملہ ''ولله ميراث الصسموات ...''سے يہ نكتہ ظاہر ہوتا ہے كہ تمام مال و دولت تمہارے ہاتھوں سے نكل كر خداوند متعال كى جانب پلٹ جائے گي، پس كيوں نہيں انفاق كرتے؟ اور اپنے آپ كو انفاق كے اجر و ثواب سے محروم كرتے ہو؟

٢٦_ خداوند متعال كا انسان كے تمام اعمال اور كردار سے مكمل اور دقيق طور پر آگاہ ہونا_والله بما تعملون خبير

٢٧_ خداوند عالم كى على الاطلاق مالكيت اور انسانى اعمال و كردار سے اسكى آگاہى كى جانب توجہ، انفاق اور بخل سے بچنے كو آسان بناديتى ہے_و لايحسبن الذين يبخلون ولله ميراث السموات والارض والله بما تعملون خبير

٢٨_ بخيل افراد كے بارے ميں خداوند متعال كى جانب سے تہديد اور تنبيہ _والله بما تعملون خبير

٢٩_ زكات نہ دينے والوں كے اموال كا قيامت كے دن ان كے گلے ميں ادہا كى شكل ميں لٹكايا جانا_

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة امام صادق (ع) سے ''سيطوقون ما بخلوا بہ ...''كے بارے ميں پوچھا گيا تو آپ(ع) نے فرمايا: ما من احد يمنع من زكاة مالہ شيئاً الا جعل الله عزوجل ذلك يوم القيمة ثعباناً من نار مطوقاً فى عنقہ جو شخص بھى زكاة كے مال سے ذرہ برابر بھى ركھ لے يقينا خداوند متعال روز قيامت اسے آگ كا ادہا بناكر اس كے گلے ميں لٹكادے گا(١) _

٣٠_ ضرورت سے زيادہ مال و دولت ميں سے انفاق اور خرچ نہ كرنے اور بخل اختيار كرنے كا نتيجہ، قيامت كے دن سخت عذاب الہى كى صورت ميں ظاہر ہوگا_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

رسول خدا (ص) فرماتے ہيں :ما من ذى رحم يأتى ذا رحمه فيسأله من فضل ما اعطاه الله اياه فيبخل عليه الا خرج له يوم القيامة من جهنم شجاع يتلمظ حتي يطوقه_ ثم قرأ ''ولايحسبن ...'' _(٢) اس حديث كا ترجمہ اسى آيت كے مطلب ٢ ميں گزرچكا ہے_

____________________

١)كافى ج٣ ص٥٠٢ ح١، نورالثقلين ج١ ص٤١٤ ح٤٤٩، ٤٥٢.

٢)الدر المنثور ج٢ ص٣٩٥.

۲۶۹

آسمان: آسمان كا مالك٢١; آسمان كا متعدد ہونا٢٤

اللہ تعالى: اللہ تعالى كا خبردار كرنا ٢٨;اللہ تعالى كا علم ٢٦، ٢٧; اللہ تعالى كا فضل ٤; اللہ تعالى كى عطاء ٤، ٦;اللہ تعالى كى مالكيت ٤، ٢١، ٢٣، ٢٧

انسان: انسان كا سرمايہ٤، ٥، ٢٣، ٢٥ ; انسان كا علم ١٠; انسان كا عمل ٢٦

انفاق: انفاق كا پيش خيمہ ٥، ١٠، ٢٧;انفاق كى اہميت ٢; انفاق كى حدود ٢;انفاق كے آداب ٢٧;انفاق كے موانع ١;ترك انفاق پر مذمت ٢٥; ترك انفاق كى سزا ٣٠; ترك انفاق كے اثرات ٣، ٢٩

بُخل: بخل كا گناہ ١٨;بخل كا نقصان ١٣; بخل كى حرمت ١٧; بخل كى سزا ٣٠ ; بخل كى مذمت ٥، ١٧، ٢٥ ; بخل كے اثرات ١٢، ١٣، ١٨; بخل كے اسباب ٩ ; بخل كے علاج كا طريقہ ١٠، ٢٧;بخل كے موارد ٧

بخيل: بخيل قيامت ميں ١٢، ١٣;بخيل كا انجام ٣٠;بخيل كا سرمايہ ١٢، ١٣; بخيل كا عقيدہ ١; بخيل كو تہديد ٢٨; بخيل كى مذمت ١٧

ثروت مند افراد: ثروت مند افراد كى ذمہ دارى ٨

جزا و سزا كا نظام: ١٥

جہاد: مالى جہاد ٧، ٨

جہالت: جہالت كے اثرات ٩

دنيا: دنيوى وسائل كى قدر و منزلت ٥ دين: تعليمات دين كے فوائد١١

روايت: ٢٩، ٣٠

زمين: زمين كا مالك ٢١

سزا:٣٠ اخروى سزا، ١٥

شناخت: شناخت كے منابع ١١

عذاب: عذاب كے درجے ٣٠; عذاب كے موجبات ١٥

عصيان: عصيان كى سزا ١٥

۲۷۰

عقيدہ: باطل عقيدہ ١

علم: ١٠ علم كے اثرات ٥، ٢٧

عمل:٢٦ عمل كا مجسم ہونا١٢، ١٣، ٢٩; نيك عمل كا پيش خيمہ ٥

فقير: فقير كى ضرورت پورى كرنا ٨

قدر و قيمت: معنوى قدر و قيمت ٦

قيامت: ١٢، ١٣، ١٨

قيامت كے دن حقائق كا ظاہر ہونا ١٩، ٢٩

گناہ: ١٨

مالكيت: ذاتى مالكيت ٢٠

محرمات: ١٧

محشور ہونا: جمادات كا محشور ہونا ١٤;موجودات كا محشور ہونا١٤

معاد: جسمانى معاد ١٦

ہبہ: ٥، ١٠

آیت (۱۸۱)

( لَقَدْ سَمِعَ اللّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاء سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتْلَهُمُ الأَنبِيَاء بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِيقِ )

الله نے ان كى بات كو بھى سن ليا ہے جن كاكہنا ہے كہ خدا فقير ہے اورہم مالدار ہيں _ ہم ان كى اس مہمل بات كو اور ان كے انبياء كے ناحق قتل كرنے كو لكھ ر ہے ہيں اور انجام كار ان سے كہيں گے كہ اب جہنّم كامزہ چكھو _

١_ خداوند متعال كے فقير و محتاج ہونے اور اپنے غنى و بےنياز ہونے كے بارے ميں يہود كے بے بنياد خيالات_

۲۷۱

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

بہت سے مفسرين كا كہنا ہے كہ ''الذين قالوا'' سے مراد يہود ہيں _

٢_ انفاق اور بخشش كے بارے ميں فرامين الہى كا يہود كى جانب سے مذاق و تمسخر اڑايا جانا_

الذين يبخلون لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير انفاق كى ترغيب دلانے اور اہل بخل كو تہديد كرنے كے بعد يہوديوں كے كلام''ان الله فقير ''كو نقل كرنا اس نكتہ كى جانب اشارہ ہے كہ يہوديوں نے انفاق كے بارے ميں فرمان خداوندى كا مذاق اڑاتے ہوئے يہ ا فواہ پھيلا ركھى تھى كہ آنحضرت (ص) كا خدا، فقير ہے_

٣_ خداوند متعال كے مقابلے ميں غنا اور بے نيازى كا احساس اور اظہار كرنا ايك ناروا و ناپسنديدہ عمل ہے_

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٤_ غنا اور بے نيازى كا احساس، فرامين الہى كى حكم عدولى اور ان كا مذاق اڑانے كى راہ ہموار كرتا ہے_*

الذين يبخلون بما اتيهم الله لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن أغنيائ

٥_ الہى معارف اور صفات خداوندى كے بارے ميں يہود كى كوتاہ انديشي_لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٦_ يہود كا مغرور اور خود پسند ہونا_قالوا ان الله فقير و نحن أغنيائ

٧_ خداوند متعال باتوں كا سننے والا ہے_لقد سمع الله قول

٨_ يہود كا ،اسلامى احكام و قوانين (انفاق) كے خلاف ناروا پروپيگنڈا كرنا_و لايحسبن الذين لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٩_ خداوند متعال بندوں كے انفاق سے غنى اور بے نياز ہے_ان الذين ان الله فقير و نحن اغنيآء سنكتب ما قالوا

١٠_ بخيل اور كنجوس زراندوز لوگ (ہميشہ) انبيائے الہى (ع) اور احكام خداوندى كے ساتھ ٹكرانے اور ان كے

۲۷۲

مقابلہ ميں آنے كے خطرے سے دوچار ہوتے ہيں _و لايحسبن الذين يبخلون لقد سمع الله قول الذين قالوا و نحن اغنيائ ترك انفاق اور بخل كى برائي بيان كرنے كے بعد يہوديوں كے كلام و باطل خيالات كو نقل كرنا، گويا بخيل افراد كيلئے ايك قسم كى تنبيہ ہے كہ بخل اور ترك انفاق انسان كو ايسے خطرناك مقام تك لے جاسكتا ہے كہ جہاں تك اس نے يہوديوں كو پہنچاديا (قالوا ان الله فقير )_

١١_ انسان كے كردار و گفتار كا ثبت ہونا اور ان كے مقابلے ميں انسان كى ذمہ داري_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٢_ يہود كا (جان بوجھ كر) انبيائے الہى (ع) كو ناحق قتل كرنا_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

انبياء (ع) كے قتل كا بالكل ناحقہونا دلالت كرتا ہے كہ يہود انبياء (ع) كى نبوت كا علم ركھنے كے باوجود، بغيرخطا اور فراموشى كے، انبيائے كرام (ع) كو قتل كرڈالتے تھے_ چونكہ اگر وہ انہيں پيغمبرنہ سمجھتے يا خطا و نسيان كے طور پر انہيں قتل كرتے تو ''بغير حق'' كى تعبيران پر صادق نہ آتي_

١٣_ انبيائے الہى (ع) ميں ، شہيد ہونے والے انبياء (ع) كى كثرت_و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٤_ يہود، پيغمبراسلام(ص) كو قتل كرنے كے در پے تھے_*و قتلهم الانبياء بغيرحق مندرجہ بالا مطلب، زمانہ پيغمبر(ص) كے يہوديوں كى طرف قتل انبياء (ع) كى نسبت دينے كى ايك توجيہ ہے، يعنى يہوديوں كى طرف قتل انبياء (ع) كى نسبت دى گئي ہے_ اس سے پتہ چلتا ہے كہ وہ پيغمبر اكرم(ص) كو قتل كرنے كى سعى كرر ہے تھے اور آنحضرت(ص) تمام انبياء (ع) كے مقام پر ہيں _

١٥_ خداوند متعال كو فقير و محتاج سمجھنے اور اسكى جانب ناروا نسبت دينے كى برائي كا انبياء (ع) كو قتل كرنے جيسے گناہ كے مساوى ہونا_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٦_ خداوند متعال كى جانب ناروا نسبت دينا اور انبيائے (ع) الہى كو قتل كرنا، ايسے عظيم گناہ ہيں جو دوزخ كے جلانے والے عذاب كا باعث بنتے_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق و نقول ذوقوا عذاب الحريق

''حريق'' محرق (جلانے والا) كے معنى ميں ہے يہ قابل غور ہے كہ انبياء (ع) كو قتل كرنے اور خداوند متعال كى طرف ناروا نسبت دينے كى سزا جلانے

۲۷۳

والا عذاب ہے_ جو اس قسم كے گناہ كى سنگينى كو ظاہر كرتا ہے_

١٧_ خداوند متعال كى طرف فقر كى نسبت دينے والوں اور انبياء (ع) كو قتل كرنے والوں كيلئے خود خداوند متعال كى جانب سے جلانے والے عذاب كا بلاواسطہ فرمان _نقول ذوقوا عذاب الحريق

١٨_ امام(ع) كو جو مال ديا جاتا ہے، اس مال كا امام(ع) كو محتاج سمجھنا گويا خداوند متعال كو فقير جاننا ہے_

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير امام باقر(ع) نے اس آيت كے بارے ميں فرمايا :هم الذين يزعمون ان الامام يحتاج منهم الى ما يحملون اليه _(١) يہ وہ لوگ ہيں جو گمان كرتے ہيں كہ امام ان كے اس مال كا نيازمند ہے جو وہ امام كو ديتے ہيں _

آنحضرت(ص) : آنحضرت (ص) كو قتل كرنے كى سازش ١٤

احكام: احكام كا استہزا ٢، ٤

استغنا: استغنا كے اثرات ٤;استغنا كى مذمت ٣

اسلام: تاريخ صدر اسلام ٨، ١٤

اسماء و صفات: سميع ٧;صفات جلال ١، ٩، ١٥

افترا: افترا كا گناہ١٥، ١٦; خداوند متعال پر افترا ١٥، ١٦، ١٧، ١٨

اللہ تعالى: ١٥، ١٦، ١٧، ١٨ اللہ تعالى كے اوامر ٢، ٤;اللہ تعالى كى بے نيازى ٩

انبياء (ع) : انبياء (ع) كا قتل١٢، ١٣، ١٥، ١٦، ١٧

انسان: انسان كى ذمہ دارى ١١

انفاق: ٨، ٩ انفاق كا حكم ٢; انفاق كى قدروقيمت ٨

بخيل: ١٠ ثروت مند: بخيل ثروت مند ١٠

روايت: ١٨

____________________

١)نورالثقلين ج١ ص٤١٦ ح٤٥٦_ بحارالانوار ج٢٤، ص٢٧٨ ح٤.

۲۷۴

زر اندوز : بخيل زر اندوز ١٠

سزا : ١٦

شہدائ: ١٣

عذاب: عذاب كے اسباب ١٦، ١٧; عذاب كے مراتب ١٦، ١٧

عصيان: عصيان كا پيش خيمہ ٤

عقيدہ: ٥ باطل عقيدہ ١، ٣، ١٨

عمل: عمل كا باقى رہنا ١١;عمل كا ثبت ہونا ١١

قتل: ١٢، ١٣، ١٦، ١٧ قتل كا گناہ ١٥

گناہ: ١٥ گناہ كبيرہ ١٦، ١٧;گناہ كى سزا ١٦

ہبہ: ہبہ كرنے كا حكم ٢

يہود: ١٢ يہود كا استہزا ٢;يہود كا عقيدہ ١، ٥;يہود كا غرور ٦; يہود كا ماحول بنانا ٨;يہود كى جہالت ٥;يہود كى سازش ١٤

آیت(۱۸۲)

( ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللّهَ لَيْسَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِيدِ )

اس لئے كہ تم نے پہلے ہى اس كے اسباب فراہم كر لئے ہيں اور خدا اپنے بندوں پرظلم نہيں كرتا ہے_

١_ آخرت ميں يہود پر سخت عذاب، ان كے ناروا اعمال (خداوند متعال كى جانب فقر كى نسبت دينے اور انبياء (ع) كو قتل كرنے) كا نتيجہ ہے_ذوقوا عذاب الحريق_ ذلك بما قدمت ايديكم

٢_ انسانوں كيلئے اخروى عذاب اور سزا، خود ان كے اعمال كا نتيجہ ہے_ذلك بما قدمت ايديكم

٣_ زمانہ پيغمبراكرم(ص) كے يہود كا اپنے آباء و اجداد كے

۲۷۵

گناہ (قتل انبياء (ع) ) ميں شريك ہونا_و قتلهم الانبياء بغيرحق ذلك بما قدمت ايديكم

يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''ايديكم''كے مخاطب عصر پيغمبراكرم(ص) كے يہود ہوں ، جملہ ''ذلك بما قدمت ...''سے پتہ چلتا ہے كہ وہ انبياء (ع) كو قتل كرنے كے گناہ ميں شريك تھے كہ جو ان كے آبا ء و اجداد كے ہاتھوں انجام پايا تھا_

٤_ زمانہ پيغمبراكرم(ص) كے يہود كا اپنے آبا و اجداد اور ہم مذہب لوگوں كے ہاتھوں گذشتہ انبياء (ع) كے قتل پر راضى ہونا_و قتلهم الانبياء ذلك بما قدمت ايديكم بظاہر عصر پيغمبراكرم(ص) كے يہوديوں كى طرف انبياء (ع) كے قتل كى نسبت جو ''ايديكم''كى ضمير خطاب سے اخذ ہوتى ہے_ ان كے اپنے آبا و اجداد كے اعمال پر راضى ہونے كى بنا پر ہے_ چونكہ خود وہ لوگ انبياء (ع) كے قتل كے مرتكب نہيں ہوئے تھے_

٥_ دوسروں كے اعمال و كردار پر راضى ہونا، انہى كے اعمال و كردار كو انجام دينے كے مترادف ہے_و قتلهم الانبياء ذلك بما قدمت ايديكم

٦_ بندوں كى نسبت، خداوند متعال كى جانب سے ہر قسم كے ظلم كى نفي_و ان الله ليس بظلام للعبيد

٧_ عدل خداوند متعال اور ا س كى ذات اقدس كا ظلم و ستم سے دور ہونے كا تقاضا ہے كہ بخيلوں اور انبياء (ع) كے قاتلوں كو سزا دى جائے_و لايحسبن الذين يبخلون ذوقوا عذاب الحريق و ان الله ليس بظلام للعبيد

جملہ ''و اص نص الله ...'' كا ''ما قدمت''پر عطف ہے_ بنابرايں يہ بخيلوں اور انبياء (ع) كے قاتلوں كے دوزخ ميں گرفتار ہونے كى ايك دوسرى وجہ ہے_ يعنى عدل الہى كا تقاضا ہے كہ وہ ظالموں كو سزا دے، اگر انہيں سزا نہيں ملتى تو يہ مظلوموں پر ظلم ہوگا_

٨_ اہل دوزخ كا عذاب، خداوند متعال كى طرف سے ان پر ہرگز ظلم نہيں _ذوقوا عذاب الحريق و ان الله ليس بظلام للعبيد يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''ان الله ...''ايك محذوف مبتدا كى خبر ہو (الامرو الشأن ان الله ليس ...) يوں ''قدمت ايديكم''كے قرينہ سے خداوند متعال كے ظلم نہ كرنے سے مراد يہ ہے كہ خداوند متعال سزا دينے ميں ظلم نہيں كرتا_

٩_ اہل دوزخ كا عذاب، ہرگز ان كے اعمال سے زيادہ نہيں ہوگا_ذوقوا عذاب الحريق_ ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد

۲۷۶

١٠_ خداوند متعال، ہرگز اپنے بندوں كو ارتكاب گناہ كے بغيرسزا نہيں ديتا_ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد

١١_ اپنے اعمال و كردار كے سلسلے ميں انسان خودمختار ہے_ذلك بما قدمت ايديكم و ان ا لله ليس بظلام للعبيد

١٢_ ظالموں كو سزا نہ دينا، مظلوموں پر ظلم ہے_ذوقوا عذاب الحريق ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد مندرجہ بالا مطلب پہلے احتمال (''ان الله ...''كا ''ما قدمت''پر عطف ہونا)پر مبنى ہے_

١٣_ بے گناہوں كو سزا دينا، ايك عظيم ظلم ہے_و ان الله ليس بظلام للعبيد

مندرجہ بالامطلب دوسرے احتمال (''ان الله ...''كيلئے مبتدا كا مقدر ہونا) پر مبنى ہے_

١٤_ گناہ سے زيادہ سزا دينا، ايك عظيم ظلم ہے_و ان الله ليس بظلام للعبيد

اسماء و صفات: صفات جلال ٦

افترا: خدا پر افترا ١;افترا كى سزا ١

اللہ تعالى: ١، ٦، ٨، ١٠ اللہ تعالى كاعدل ٧

انبياء (ع) : انبياء (ع) كا قتل ٤;انبياء (ع) كے قتل كى سزا ١، ٣، ٧

انسان: انسان كااختيار ١١; انسان كا عمل ١١

اہل جہنم: اہل جہنم كى سزا ٨، ٩

بخيل: بخيل كى سزا ٧

جزا و سزا كا نظام : ٥،٩

جہنم: جہنم كا عذاب ٨، ٩

سزا: ٢، ٣، ٧، ٨، ٩، ١٢، ١٤ اخروى سزا ١; سزا كا فلسفہ ١٢

ظالمين: ظالموں كى سزا ١٢

۲۷۷

ظلم: ٦، ٧، ٨، ١٠ ظلم كے اسباب ١٢، ١٣، ١٤;ظلم كے مراتب ١٣، ١٤ ; مظلوم پر ظلم ١٢

عذاب: ٨، ٩ عذاب كے اسباب ١; عذاب كے درجات ١; عذاب كے موجبات ٢، ٧

عمل١١: عمل كى اخروى سزا ٢; عمل كى سزا ٩;ناپسنديدہ عمل ١، ٢

گناہ: گناہ پر راضى ہونا ٤، ٥ ;گناہ كى سزا ١٤

يہود: صدر اسلام كے يہود ٣، ٤; يہود كى سزا ١، ٣ ;يہود كے آبا و اجداد كى سزا ٣; يہود كے آبا و اجداد ٤

آیت(۱۸۳)

( الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّیَ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ قُلْ قَدْ جَاءكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ) جو لوگ يہ كہتے ہيں كہ الله نے ہم سے عہد ليا ہے كہ ہم اس وقت تك كسى رسول پر ايمان نہ لائيں جب تك وہ ايسى قربانى پيش نہ كرے جسے آسمانى آگ كھا جائے تو ان سے كہہ ديجئے كہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول معجزات اور تمھارى فرمائش كے مطابق صداقت كى نشانى لے آئے پھر تم نے انھيں كيوں قتل كرديا اگر تم اپنى بات ميں سچّے ہو _

١_ يہوديوں كے خيال ميں انبياء (ع) پر ايمان لانے كيلئے خداوند متعال نے يہ عہد ليا ہے كہ انبياء (ع) ايسى قربانى پيش كريں جسے غيبى آتش آكر جلادے_الذين قالوا ان الله عهد الينا الانؤمن لرسول حتى يأتينا بقربان تأكله النار

٢_ آنحضرت(ص) پر ايمان لانے كيلئے يہود نے يہ شرط ركھى

۲۷۸

ہوئي تھى كہ پيغمبراكرم(ص) كى قربانى آگ ميں جل جائے_

الذين قالوا ان الله حتى يأتينا بقربان تاكله النار ''قربان''كا معنى ہر وہ چيز ہے جس كے وسيلے سے انسان خداوند متعال كا قرب حاصل كرتا ہے اور گذشتہ امتوں كى قربانى گائے، بھيڑ اور اونٹ وغيرہ تھے جو خداوند متعال سے تقرب حاصل كرنے كيلئے ذبح كئے جاتے تھے_(تاج العروس)

٣_ حضرت موسي (ع) كى بعثت كے بعد، رسالت و نبوت كے ختم نہ ہونے كے بارے ميں يہود كا اعتقاد و اعتراف_

الانؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان اگر يہود حضرت موسي (ع) كى نبوت كى خاتميت كے مدعى ہوتے تو انہيں پيغمبراسلام(ص) سے يہ كہنا چاہيے تھا كہ ہم سے عہد ليا گيا ہے كہ ہم كسى بھى مدعي رسالت پر ايمان نہ لائيں نہ يہ كہ وہ سچے نبى و رسول كى نشانى بيان كرنے لگتے_

٤_ يہودي، الہى عہد و پيمان كے ساتھ اپنى وفادارى كے مدعى تھے_ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول

٥_ يہوديوں كا دين اور ديندارى كے نام پر اسلام اور پيغمبراكرم (ص) كے خلاف معركہ آرائي _

ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان چونكہ يہود كا دعوي تھا كہ وہ فرامين خداوندى كى پيروى كرتے ہوئے اور عہد الہى سے وفا كرتے ہوئے، پيغمبر اكرم(ص) پر ايمان نہيں لار ہے_

٦_ يہود كى نظر ميں مدعى رسالت كى سچائي كى علامت، قربانى كا غيبى آتش سے جلنا ہے_الانؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان تاكله النار

٧_ اديان الہى ميں ، قربانى كے حكم كا موجود ہونا_حتي ياتينا بقربان تاكله النار

٨_ بنى اسرائيل كيلئے روشن دلائل (معجزات و براہين) كے ساتھ متعدد انبيا ء (ع) كا مبعوث ہونا_قد جائكم رسل من قبلى بالبينات

٩_ بنى اسرائيل كے بعض انبياء (ع) اور رسولوں (ع) كے معجزہ كے طور پر قربانى كا غيبى آگ سے جلنا_

قال ان الله عهد الينا قد جائكم رسل و بالذى قلتم

١٠_ خداوند متعال كى تعليم كے مطابق، پيغمبر اكرم (ص) كا يہود كے خلاف استدلال كرنا_

قل قد جائكم رسل من قبلى بالبينات وبالذى قلتم فلم قتلتموهم

۲۷۹

١١_ اثبات نبوت كے طريقوں ميں سے ايك معجزہ ہے_قد جائكم رسل من قبلى بالبينات و بالذى قلتم

١٢_ انبياء (ع) كى حقانيت كا علم ركھنے اور ان كے معجزات ديكھنے كے باوجود، يہود كے ہاتھوں بہت سے انبيائے الہى (ع) كا شہيد ہونا _قل قد جائكم رسل من قبلى بالبينات و بالذى قلتم فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

دليل كو اس وقت ''بينة''كہا جاتا ہے كہ جب وہ مدمقابل كيلئے حق كو روشن كرے اور اسے اسكى حقانيت سے آگاہ كرے_ لہذا يہود جانتے تھے اور ان كيلئے روشن تھا كہ وہ حقيقى انبياء (ع) كو قتل كرر ہے ہيں _

١٣_ يہودي، انبياء (ع) سے اپنا طلب كردہ معجزہ (قربانى كا غيبى آگ سے جلنا) ديكھنے كے باوجود بھي، نہ فقط ان پر ايمان نہيں لائے بلكہ انہيں قتل كرڈالا_قل قد جائكم رسل من قبلى و بالذى قلتم فلم قتلتموهم

١٤_ پيغمبراكرم (ص) كا يہوديوں كى گذشتہ تاريخ كى بنياد پران كے خلاف استدلال كرنا_قل قد جائكم رسل من قبلى فلم قتلتموهم

١٥_ ہر امت كى تاريخ; اسكى نفسيات، خصائل اور اسكے آئندہ كے لائحہ عمل كى تشخيص و پہچان كا منبع ہے_

قد جائكم فلم قتلتموهم خداوند متعال يہود كى عادات و خصائل اور تاريخى اثرات كے ذريعے، زمانہ پيغمبر(ص) كے يہوديوں كے خلاف استدلال كرتے ہوئے ان كے آئندہ كے لائحہ عمل كو آشكار كر رہا ہے_ يہ استدلال اس بنياد پر قائم ہے كہ ہر امت و قوم كى تاريخ اورگذشتہ اعمال اسكے مستقبل كى نشاندہى كرتے ہيں اور اس پر حاكم عادات و نفسيات كى معرفت كا بہترين وسيلہ و منبع ہيں _

١٦_ يہود كا پيغمبراكرم(ص) كے ساتھ منافقانہ رويہ_الذين قالوا ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين جملہ''فلما قتلتموهم ان كنتم صادقين'' يہ بيان كر رہا ہے كہ يہود، معجزہ ديكھنے كى صورت ميں ايمان لانے كا دعوي كرنے كے باوجود، ايمان لانے كا قصد نہيں ركھتے تھے_

١٧_ يہوديوں كى خرافات پسندي، جمود اور ہٹ دھرمي_*الذين قالوا ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان: تأكله النار

١_ جملہ ''الا نؤمن لرسول''كا ظاہرى معنى يہ ہے كہ خداوند متعال نے ہميں حكم ديا ہے كہ جو شخص

۲۸۰

٧۔ خالہ (اپنی خالہ اور ماں اور باپ کی خالہ)۔(١)

مذکورہ افراد نسبی قرابت کی وجہ سے آپس میںمحرم ہیں اور ایک اور گروہ ازدواج کی وجہ سے لڑکوں اور مردوںپر محرم ہوتے ہیں جو حسب ذیل ہیں:

١۔ ساس اور اس کی ماں ۔

٢۔بیوی کی بیٹی، اگرچہ دوسرے شوہر سے ہو۔

٣۔ باپ کی بیوی (سوتیلی ماں)

٤۔ بہو(بیٹے کی بیوی)(٢)

مذکورہ عورتوں کے علاوہ تمام عورتیں نامحرم ہیں، حتی بھائی کی بیوی اور بیوی کی بہن بھی نامحرم ہیں، اگرچہ بیوی کی بہن کے ساتھ اس وقت تک ازدواج کرنا حرام ہے جب تک اس کی بہن عقد میں ہو، یعنی دوبہنوں کے ساتھ دونوں کی زندگی میں ازدواج کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر پہلی بہن مرجائے یا اسے طلاق دیدی جائے تو دوسری بہن کے ساتھ ازدواج کرسکتا ہے۔(٣)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج٢، ص ٢٦٣۔ ٢٦٤

(٢)تحریر الوسیلہ، ج٢، ص ٢٧٧، م١

(٣)تحریر الوسیلہ، ج٢، ص ٢٨٠، م١٥

۲۸۱

دوسروں پر نظر ڈالنا:

١۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے بدن کے تمام اعضاء کو دیکھ سکتے ہیں اگرچہ لذت کے لئے بھی ہو۔(١)

٢۔ میاں بیوی کے علاوہ ہر انسان کا دوسرے انسان پر لذت کی غرض سے نگاہ کرنا حرام ہے، خواہ یہ ہم جنس ہوں مرد کا مرد پر نگاہ یا غیر ہم جنس، جیسے مرد کا عورت پر نگاہ کرنا، اور خواہ محرم ہوں یا نامحرم۔ بدن کے ہر عضوپر اس طرح کی نگاہ کرنا حرام ہے۔(٢)

٣۔ عورت کے بدن پر مرد کی نظر *اگر لذت کی غرض سے نہ ہوتو اس کے حسب ذیل کچھ خاص احکام ہیں:

مرد کا عورت پر نگاہ کرنا

١۔محرم

١۔شرم گاہ ۔۔۔حرام

٢۔شرم گاہ کے علاوہ۔۔۔ جائز

٢۔نامحرم:

١۔ چہرہ اور ہاتھوں کوکلائی تک۔۔ جائز**

٢۔ بدن کے دیگر اعضائ۔۔ حرام۔(٣)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج٢، ص ٢٤٣، م ١٥۔١٩

(٢)تحریر الوسیلہ، ج٢، ص ٢٤٣، م١٥۔١٩

(٣)تحریر الوسیلہ ج٢، ص ٢٤٣ م ١٥۔ ١٩۔۔ استفتائ۔ توضیح المسائل،م ٢٤٣٣

* جو احکام مردوں کے لئے بیان کئے جاتے ہیں ان میں لڑکے شامل ہیں اور جو احکام عورتوں کے لئے بیان کئے جاتے ہیں ان میں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

٭٭ (گلپائیگانی) چہرہ اور ہاتھوںپر نگاہ کرنا حرام ہے، (خوئی) احتیاط واجب ہے کہ چہرہ اور ہاتھوں پر بھی نگاہ نہ کی جائے۔(م٢٤٤٢)

۲۸۲

ازدواج

جو بیوی کے نہ ہونے کی وجہ سے حرام کا مرتکب ہوجائے، مثلا ًنامحرم پر نگاہ کرے،تو اس پر از دواج کرنا واجب ہے۔(١)

شائستہ شریک حیات :

انسان کے لئے سزاوار ہے کہ شریک حیات کے انتخاب میں ا س کی صفات کا خیال رکھے اور صرف خوبصورتی اور مال پر اکتفانہ کرے۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر مبارک کے مطابق ایک شائستہ شریک حیات کی بعض خصوصیات حسب ذیل میں:

*محبت والی ہو۔

* پاک دامن اور پارسا ہو۔

*اپنے خاندان میں عزیز ہو۔

* اپنے شوہر کے تئیں متواضع ہو۔

*صرف اپنے شوہر کے لئے زینت اور سجاوٹ کرے۔

* اپنے شوہر کی اطاعت کرے۔(٢)

ناشائستہ شریک حیات:

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی روایات میں ناشائستہ شریک حیات کی بعض صفات حسب ذیل بیان ہوئی ہیں:

* اپنے خاندان میں ذلیل ہو۔

____________________

(١)توضیح المسائل،م ٢٤٤٣

(٢)تحریر الوسیلہ،ج ٢، ص ٢٣٧

۲۸۳

* حاسد اور کینہ ورہو۔

*بے تقویٰ ہو۔

* دوسروں کے لئے سجاوٹ کرے۔

*اپنے شوہر کی فرماں بردار نہ ہو۔(١)

عقدازدواج:

١۔ ازدواج میں ایک خاص صیغہ پڑھنا ضروری ہے اور صرف لڑکی اور لڑکے کی رضا مندی کافی نہیں ہے. اس لحاظ سے صیغۂ ازدواج پڑھے جانے تک صرف منگنی محرم ہونے کا سبب نہیں بن سکتا اور صیغۂ ازدواج پڑھنے تک نامحرم ہونے میں تمام عورتوں کے ساتھ کوئی فرق نہیں ہے۔(٢)

٢۔ اگر عقدازدواج میں ایک حرف اس طرح غلط پڑھاجائے کہ اس کا معنی بدل جائے تو عقد باطل ہے۔(٣)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج٢، ص ٢٣٧.

(٢)توضیح المسائل،م ٢٦٦٣

(٣)توضج المسائل، م٢٣٧١

۲۸۴

سبق ٤٣ کا خلاصہ

١۔ مندرجہ ذیل افراد رشتے کی وجہ سے مرد کے لئے محرم ہیں:

ماں، بیٹی، بہن، بہن کی بیٹی ، بھائی کی بیٹی، پھوپھی اور خالہ۔

٢۔ مندرجہ ذیل افراد ازدواج کی وجہ سے مرد پر محرم ہوتے ہیں:

بیوی، ساس، بیوی کی بیٹی، باپ کی بیوی، بہو۔

٣۔ بیوی کی بہن نامحرم ہے، اگرچہ جب تک اس کی بہن عقد میں ہے اس وقت تک اس کے ساتھ ازدواج کرنا جائز نہیں ہے ۔

٤۔میاں بیوی کے علاوہ ہر انسان کاایک دوسرے انسان کے بدن کے کسی بھی عضوپر لذت کی غرض سے نگاہ کرناحرام ہے۔

٥۔ مرد، محرم عورتوں کی شرم گاہ کے علاوہ ان کے بدن کے کسی بھی عضوپر بدون قصد لذت نگاہ کرسکتاہے۔

٦۔ مرد، نامحر م عورتوں کے چہرہ اور ہاتھوں پر بدون لذت نگاہ کرسکتا ہے۔

٧۔نامحرم عورت کے تمام اعضاء پر نگاہ کرنا حرام ہے۔

٨۔اگر انسان ازدواج نہ کرنے کے سبب گناہ کا مرتکب ہورہا ہو تو اس پر ازدواج کرنا واجب ہے۔

٩۔ ازدواج میں ایک خاص صیغہ پڑھنا ضروری ہے صرف دوطرفہ رضا مندی کافی نہیںہے۔

۲۸۵

سوالات:

١۔ ازدواج کے ذریعہ کون سے لوگ ایک دوسرے کے محرم ہوجاتے ہیں؟

٢۔ کون کو ن سی عورتیں مردوں کے لئے محرم ہیں؟

٣۔ پھوپھی اور خالہ کے بال دیکھنے کا کیا حکم ہے؟

٤۔ چچی ،ممانی کے بدن پر نگاہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

٥۔ کیا ازدواج کرنا واجب؟

۲۸۶

سبق نمبر ٤٤

مسجد، قرآن مجید اور سلام کرنے کے احکام

مسجد کے احکام:

مسجد کے سلسلے میں،درج ذیل امور حرام ہیں:

* مسجد کو سونے سے سجانا۔*

* مسجد کو بیچنا، اگرچہ خراب ہی کیوں نہ ہو۔

* مسجد کو نجس کرنااور اگر مسجد نجس ہوجائے اسے فوراً پاک کرنا چاہئے۔

* مسجد سے مٹی اور ریت اٹھالے جانا، مگریہ کہ اضافی ہو۔

*مسجد کے سلسلے میں درج ذیل امور مستحب ہیں:

*سب سے پہلے مسجدجانا اور آخر میں مسجد سے باہر آنا۔

*مسجد کے چراغ روشن کرنا۔

*مسجد کی صفائی کرنا۔

____________________

*.۔(گلپائیگانی) احتیاط واجب ہے کہ سجاوٹ نہ کرے (خوئی) احتیاط مستحب ہے(حاشیہ عروة الوثقی)

۲۸۷

*مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دائیں پائوں کو مسجد میں رکھنا۔

* مسجد سے باہر آتے وقت پہلے، بائیں پائوں کو مسجد سے باہر رکھنا۔

*تحیت مسجد کی دورکعت مستجی نماز پڑھنا۔

*خوشبو لگانا اور مسجد میں جاتے وقت بہترین لباس پہننا۔

(*)مسجد کے سلسلے میں درج ذیل امور مکروہ ہیں:

* مینار کو چھت سے بلند تر بنانا۔

* نماز پڑھے بغیر مسجد کو محل عبور قرار دینا۔

*لعاب دہن اور ناک چھڑکنا۔

* اضطرار کے بغیر مسجد میں سونا.

* اذان کے علاوہ کسی اور وجہ سے مسجد میں آواز یا فریاد بلند کرنا۔

* مسجد میں خرید وفروخت کرنا۔

* دنیوی امور پر باتیں کرنا۔

*لہسن یاپیاز کھاکر مسجد میں جاناکہ اس کی دہن کی بدبو لوگوں کی اذیت کا باعث ہو۔(١)

قرآن مجید کے احکام

١۔ قرآن مجید ہمیشہ پاک وصاف ہونا چاہئے۔ قرآن مجید کے اوراق اور اسکی تحریر کو نجس کرنا حرام ہے اور اگر نجس ہوجائے تو اسے فوراً پانی سے دھولینا چاہئے۔(٢)

____________________

(١) العروة الوثقیِ، ج١، ص ٤٥٥ و٤٥٦

(٢) توضیح المسائل، م ١٣٥

۲۸۸

٢۔ اگر قرآن مجیدکی جلد کا نجس ہونا قرآن کی بے احترامی کا سبب بنے تو اسے پانی سے دھونا چاہئے۔(١)

قرآن مجید کی تحریر کو چھونا:

١۔ بے وضو انسان کے بدن کے کسی حصے کو قرآن مجید کی تحریر سے مس کرنا حرام ہے۔(٢)

٢۔ درج ذیل موارد میں وضو کے بغیر قرآن مجید کی تحریر کو مس کرنا حرام ہے:

* قرآن مجید کی تحریر میں آیات وکلمات بلکہ حروف حتیّٰ ان کی حرکات میں کوئی فرق نہیں ہے، یعنی یہ سب تحریر میں شمار ہوتے ہیں.

* جس چیز پر قرآن مجید لکھا گیا ہو، جیسے کاغذ، زمین ، دیوار، کپڑا وغیرہ، میں کوئی فرق نہیں ہے۔

* قرآن مجید کی تحریر میں فرق نہیں ہے کہ یہ قلم سے یا چھپائی، چاک یاکسی اور چیزسے لکھی گئی ہو۔(٣)

* قرآن مجید کی تحریر اگر قرآن مجید کے علاوہ کسی اور جگہ پر بھی لکھی گئی ہو، اس کووضو کے بغیر چھونا حرام ہے، بلکہ اس کا ایک کلمہ کسی کاغذ پر ہو یا نصف کلمہ قرآن مجید کے ورق یا کسی کتاب سے جدا ہوا ہو، پھر بھی وضو کے بغیر اسے چھونا حرام ہے.

٣۔ درج ذیل صورت میں چھونا، قرآن مجید کو چھونے میں شمار نہیں ہوتا ہے:

* شیشہ یا پلاسٹک کے اوپر سے چھونا۔

*قرآن مجید کے اوراق، جلد اور تحریر کے اطراف کو چھونا۔(اگر چہ مکروہ ہے)

* قرآن مجید کے ترجمہ کو چھونا جس زبان میں بھی ہو، لیکن خدا کے نام کو جس زبان میں بھی

____________________

(١) توضیح المسائل، م ١٣٦

(٢) توضیح المسائل، م ٣١٧

(٣) العروة الوثقی ج ١، ص ١٩٠۔ ١٩١

۲۸۹

ہو،حرام ہے، جیسے ''خدا'' ۔(١)

٤۔ وہ کلمات جو قرآن اور غیر قرآن میں مشترک ہیں،جیسے ''مؤمن''''الذین''کو اگر لکھنے والے نے قرآن کے قصد سے لکھا ہوتو بغیر وضو چھونا حرام ہے۔(٢)

٥۔ جنابت کی حالت میں قرآن کی تحریر کو چھونا حرام ہے۔

٦۔ جنابت کی حالت میںقرآن مجید کے اُن سوروں کو نہیں پڑھنا چاہئے جن میں سجدے کی آیات ہیں(اس مسئلہ کی تفصیل سبق ١٠ میں بیان ہوئی ہے)(٣)

٧۔ انسان مجنب کے لئے قرآن مجید کے سلسلے میں درج ذیل کام مکروہ ہیں:

*ان سوروں میں سے سات آیات سے زیادہ تلاوت کرنا جن میں آیہ سجدہ نہ ہو۔

*اپنے بدن کے کسی حصہ سے قرآن مجید کے جلد، حاشیہ اور خطوط کے درمیانی جگہوں کو چھونا۔

قرآن مجید کو اپنے ساتھ رکھنا۔

٨۔ قرآن مجید کو اپنے ساتھ رکھنے، پڑھنے ،لکھنے اور اس کے حاشیہ کو لمس کرنے کے لئے وضو کرنا مستحب ہے۔(٤)

سلام کرنے کے احکام

١۔ دوسروں کو سلام کرنا مستحب ہے، لیکن اس کا جواب دینا واجب ہے۔(٥)

٢۔ حالت نماز میں کسی کو سلام کرنا مکروہ ہے۔(٦)

____________________

(١) العروة الوثقی ج ١، ص ١٨٩۔ ١٩٠

(٢) العروة الوثقی ج ١، ص ١٩٠

(٣)توضیح المسائل،م ٣٥٥.

(٤)توضیح المسائل،م ٣٢٢.

(٥)العروة الوثقی، ج١، ص٧١٥،م٣٠

(٦) العروة الوثقی،ج١، ص١٥ ٧،م٢٩

۲۹۰

٣۔ اگر کوئی نماز گزار کو سلام کرے، تو اسے جواب دینا چاہئے،لیکن جواب میں''سلام''کو مقدم قرار دینا چاہئے، مثلا کہے: سلام علیک یا سلام علیکم۔(١) *

٤۔ نماز کی حالت میں کسی کو سلام کرنا جائز نہیں ہے۔(٢)

٥۔ سلام کا جواب فورا ًدینا چاہئے،اگر اس میں تأخیرکرے تو گناہ کا مرتکب ہوجائے گا۔(٣)

٦۔ اگر دو آدمی ایک ساتھ ایک دوسرے کو سلام کریںتو ہر ایک پر واجب ہے جواب سلام دیدے۔(٤)

٧۔ کافرکو سلام کرنا مکروہ ہے۔ اگراس نے مسلمان کو سلام کیا تو احتیاط واجب ہے کہ اس کے جواب میں کہے'' علیک''یاصرف کہے:'' سلام''٧(٥)

سلام کے آداب:

١۔مستحب ہے:

*سوار پیادہ کو سلام کرے۔

*کھڑا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے۔

* چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے۔

____________________

(١) العروة الوثقی،ج١، ص١١ ٧،م١٧

(٢) العروة الوثقی،ج١، ص١٥ ٧،م١٥

(٣) العروة الوثقی،ج١، ص٥٥٧،م٢٥

(٤) العروة الوثقی،ج١، ص١٦ ٧،م٣٦.

(٥) العروة الوثقی،ج١، ص٥١٦ ،م٣٣

*(تمام مراجع) جس طرح سلام کرے اسی طرح جواب دیا جائے یعنی اگر کہے:'' سلام علیک'' تو وہ بھی جواب میں کہے ''سلام علیک'' (حاشیہ عروة الوثقیٰ)

۲۹۱

* چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔(١)

٢۔ مستحب ہے نمازکی حالت کے علاوہ سلام کا بہتر جواب دیا جائے لہٰذا اگر کوئی کہے:'' سلام علیکم''مستحب ہے جواب میں کہاجائے: ''سلام علیکم ورحمة اللہ''(٢)

٣۔ مرد کا عورت کو سلام کرنا مکروہ ہے خاص کرجوان عورت کو۔(٣)

____________________

(١) العروة الوثقی،ج١، ص١٦ ٧،م٣٣

(٢) العروة الوثقی،ج٢، ص٨٠٤،م٤١

(٣) العروة الوثقی،ج١، ص١٧ ٧،م٣٨

۲۹۲

درس: ٤٤ کاخلاصہ

١۔ مسجد کوبیچنا اور سونے سے اس کی سجاوٹ کرنا حرام ہے۔

٢۔ مسجد کو نجس کرنا حرام ہے اوراس کی تطہیر کرنا واجب ہے۔

٣۔ مسجد سے مٹی اور ریت لے جاناجائزنہیں ہے مگریہ کہ اضافی ہوں۔

٤۔ قرآن مجید کی لکھائی اوراوراق کو نجس کرناحرام ہے اور اسے پانی سے دھونا واجب ہے۔

٥۔بے وضوانسان کے لئے اپنے بدن کے کسی حصے کو قرآن مجید کی لکھائی سے مس کرناحرام ہے۔

٦۔ قرآن مجید کی لکھائی کے درج ذیل موارد میں کوئی فرق نہیں ہے:

* قرآن میں ہو یا غیر قرآن میں ۔

* پوری آیت ہویا ایک کلمہ حتی ایک حرف۔

* قلم سے لکھا گیا ہو یا کسی اور چیزسے۔

٧۔شیشہ یالاستیک کے اوپرسے قرآن کو لمس کرنے میں حرج نہیں ہے۔

٨۔ قرآن مجید کے ترجمہ کو بجز ترجمہ اللہ لمس کرنا حرج نہیں ہے۔

٩۔ دوسروں کو سلام کرنا مستحب ہے لیکن جواب دینا واجب ہے۔

١٠۔ نماز گزار اور سلام: * نماز کی حالت میں کسی کو سلام نہیں کرنا چاہئے۔

* اگر نماز گزار کو کوئی سلام کرے تو اس کا جواب واجب ہے لیکن جواب میں لفظ'' سلام''کو مقدم قرار دینا چاہئے۔

* نماز گزار کو نماز کی حالت میں سلام کرنا مکروہ ہے۔

١١ ۔اگر کسی نے سلام کیا تو فوراً اس کا جواب دینا چاہئے۔

١٢۔کافر کو سلام کرنا مکروہ ہے۔

۲۹۳

سوالات:

١۔ گھر میں نماز پڑھنے کے لئے مسجد سے سجدہ گاہ اٹھالے جانے کا کیا حکم ہے؟

٢۔ مسجد کی صفائی کے سلسلے میں کون سے امور واجب، مستحب اور مکروہ ہیں؟

٣۔ مسجد میں سونا اور مسجد سے عبور کرنے کا کیا حکم ہے؟

٤۔قرآن مجید کی آیات کو بدن پر لکھنے(گودنے)کا کیا حکم ہے؟

٥۔قبر کے پتھر پر لکھی ہوئی قرآنی آیات وضو کے بغیر مس کرنے کا کیا حکم ہے؟

٦۔قرآن مجید کے سلسلے میں کون سے امور حرام ہیں؟

٧۔نماز کی حالت میں سلام کے جواب کا کیا حکم ہے؟

٨۔کیا آپ جانتے ہیںکہ نماز کی حالت میںدوسروں کو کیوں سلام نہیں کرنا چاہئے لیکن دوسروں کے سلام کا جواب دینا چاہئے؟

۲۹۴

سبق نمبر ٤٥

غصب، قسم، جھوٹ، غیبت

غصب کی تعریف:*

غصب سے مراد یہ ہے کہ انسان، ناحق اور ظلم وستم کے ذریعہ دوسروں کے اموال یا حقوق پر قابض ہو جائے.

غصب گناہان کبیرہ میں سے ہے اور اس کامرتکب شخص قیامت کے دن سخت عذاب میں مبتلا ہوگا۔

غصب کی قسمیں:

اموا ل :

شخصی:

جیسے دوسروں کا قلم یا کاپی اٹھالینا یا کسی کے گھر کے شیشے توڑنا۔

عمومی:

جیسے کسی مدرسہ کے اشیاء کو نابود کرنا، گلیوں کے بلب توڑنا یا خمس وزکات ادانہ کرنا۔

حقوق:

شخصی:

جیسے، مدرسہ میں دوسروں کی کرسی پر بیٹھنا یا مسجد میں ایسی جگہ پر نماز پڑھنا جسے کسی اور نے اپنے لئے معین کی ہو ۔

عمومی:

مسجد، یا پل ، سڑک یا پکڈنڈی کے استعمال میں رکاوٹ پیدا کرنا۔(١)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ ،ج٢، ص١٧٣،م

* جو مسائل تحریر الوسیلہ اور استفتاآت سے لئے گئے ہیں حضرت امام خمینیکے فتوی کے مطابق ہیں۔

۲۹۵

غصب کے احکام:

١۔ غصب کی تمام قسمیں حرام ہیں اور گناہان کبیرہ میں شمار ہوتی ہیں۔(١)

٢۔ اگر انسان نے کوئی چیز غصب کی ہو، تو علاوہ اس کے کہ اس نے فعل حرام انجام دیا ہے اسے وہ چیز مالک کو واپس کرنی چاہئے اور اگر وہ چیز نابود ہوگئی ہو تو اس کا بدلہ مالک کو دینا چاہئے۔(٢)

٣۔ اگر غصب کی گئی چیز کو خراب کردے تو اس کی مرمت کی قیمت کے ساتھ، اصل چیزمالک کو واپس کرنا چاہئے اور اگر مرمت کے بعد اس چیز کی قیمت گھٹ جائے تو قیمت کا تفاوت بھی ادا کرنا چاہئے۔(٣)

٤۔ اگر غصبی چیز میں ایسی تبدیلی کر دی جائے کہ اس کی قیمت پہلے سے بڑھ جائے جیسے سائیکل کی تعمیر کی گئی ہو اگر مال کا مالک اسی صورت میں اسے واپس کرنے کو کہے تو اسے اسی صورت میں واپس کرنا چاہئے، اور وہ اس کی تعمیر کی اجرت کا تقاضا نہیں کرسکتا ہے اور یہ بھی حق نہیں رکھتا کہ اسے بدل کر مثل سابق بنادے۔(٤)

قسم کھانا

١۔ اگر کوئی شخص خدا کے ناموں میں سے ایک جیسے''خدا'' یا ''اللہ'' کی قسم کھائے کہ کسی کام کو انجام دے گا یا کسی کام کو ترک کرے گا، مثلاً قسم کھائے روزہ رکھے یا سگریٹ پینا ترک کردے گا، تو اس پر عمل کرنا واجب ہے۔(٥)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ ج٢ص ١٧٣م،١.

(٢)تحریر الوسیلہ ج٢ص ١٧٣،م٣

(٣)توضیح المسائل،م ٢٥٥٣

(٤)توضیح المسائل،م ٢٥٥٤

(٥)توضیح المسائل، م٢٦٧٠و٢٦٧١

۲۹۶

٢۔ اگر کوئی کھائی گئی قسم پر عمداً عمل نہ کرے، اس کے لئے کفارہ دینا چاہئے اور اس کا کفارہ درج ذیل چیزوں میں سے ایک ہے:

* ایک غلام کو آزاد کرنا۔

* دس فقیروں کو پیٹ بھرکے کھانا کھلانا۔

* دس فقیروں کولباس پہنانا۔

اگر ان میں سے کوئی بھی چیز انجام نہ دے سکے تو تین دن روزہ رکھے۔(١) *

٣۔ قسم کھانے والے کی بات اگر صحیح ہوتو،قسم کھانا مکروہ ہے اوراگر جھوٹ ہو تو حرام ہے اور گناہان کبیرہ میں سے ہے۔(٢)

جھوٹ بولنا

١۔جھوٹ بولنا حرام اور گناہان کبیرہ میں سے ہے۔(٣)

٢۔ اگر کوئی مسئلہ انتہائی اہم ہو، جیسے کسی کا قتل ہونا یا خاندان کے نظام کا درہم برہم ہونا تو اس

صورت میں ان چیزوں کو روکنے کے لئے جھوٹ بولنے میں اشکال نہیں ہے۔(٤)

غیبت

غیبت کی تعریف:

اگر کسی شخص میں کوئی نامناسب صفت پائی جاتی ہو،یا کوئی برا کام انجام دیا ہو اور دوسرے لوگ اس

____________________

(١)توضیح المسائل، م٢٦٧٠و٢٦٧١

(٢)توضیح المسائل، م،٢٦٧٥

(٣)استقاآت،ج ٢، ص ٦١٦،س٤

(٤)استفتاآت ج٢،ص٦١٦،س١

* گلپائیگانی :تین دن تک مسلسل روزے رکھنا چاہئے.

۲۹۷

سے بے خبرہوں اور یہ شخص راضی نہ ہوکہ کوئی اس سے آگاہ ہوجائے، تو اس کو اس کی عدم موجود گی میں دوسروں کے سامنے بیان کرنا غیبت ہے۔(١)

غیبت کے احکام :

غیبت ، کرنے اور سننے والے دونوں کے لئے حرام ہے۔(٢)

٢۔ اگر کسی نے کسی شخص کی غیبت کی ہوتو اسے اپنے گناہوں کی توبہ کرناچاہئے اور ضروری نہیںہے اسے کہے۔(٣)

٣۔اگر کوئی شخص نماز نہیں پڑھتا لیکن اپنے گناہ کو آشکار نہیں کرتاہے تو اس کی غیبت کرنا جائز نہیں ہے، (اگرچہ اسے امربالمعروف کرنا چاہئے)(٤)

داڑھی منڈوانا

١۔ بلیڈ یا مشین سے داڑھی منڈوانا، احتیاط واجب کی بنا پر حرام ہے۔(٥)

سوال: کیا ایک جوان جس کی عمر ١٨ یا ١٩ سال ہو داڑھی اُگنے یابہتر داڑھی اُگنے کے لئے دو تین بار داڑھی منڈوا سکتا ہے یا نہیں؟

جواب: احتیاط واجب کی بناپر داڑھی کو نہیں منڈوانا چاہئے لیکن جب تک داڑھی نہ نکلنے، چہرہ پر بلیڈ چلانا ممنوع نہیں ہے۔(٦)

____________________

(١) استفاآت، ج ٢،ص ٦١٨س٩.

(٢) استفاآت، ج٢ص ٦١٨،س٩.

(٣) استفاآت، ج٢ص ٦٢٠،س١٥،١٦

(٤) استفاآت، ج٢ص ٦٢٠، س١٨

(٥) استفاآت، ج٢ص ٣٠،س٧٩

(٦) استفاآت، ج٢ص ٣٠،س٨٠

۲۹۸

سبق ٤٥ کا خلاصہ

١۔ غصب گناہان کبیرہ میں شمار ہوتا ہے اور اس کا مرتکب قیامت کے دن سخت عذاب میں مبتلا ہوگا۔

٢۔ شخصی اور عمومی اموال وحقوق کو غصب کرنا حرام ہے۔

٣۔ جس نے کوئی چیز غصب کی ہو، اسے مالک کو واپس کرنا چاہئے۔

٤۔ اگر غصب کی گئی چیز کو خراب کرے تو اس سے دوبارہ مرمت کرنے کی اجرت کے ساتھ مالک کو واپس کرنا چاہئے۔

٥۔ اگر کوئی شخص کسی کام کو انجام دینے یا ترک کرنے کے لئے خدا کے ناموں میں سے کسی ایک نام کے ساتھ قسم کھائے تو اس پر عمل کرنا واجب ہے۔

٦۔ اگر قسم کھانے والا اپنی قسم پر عمل نہ کرے ، تو اسے ایک غلام آزاد کرنا یا دس فقیروں کو کھانا کھلانا یا ان کو لباس پہنانا چاہئے اور اگر ان میں سے کسی ایک کو انجام دینے کی قدرت نہ رکھتا ہوتو تین دن روزہ رکھے۔

٧۔ سچی قسم کھانا مکروہ ہے اور جھوٹی قسم کھانا حرام ہے۔

٨۔ جھوٹ بولنا حرام اور گناہان کبیرہ میں سے ہے۔

٩۔غیبت کرنا کہنے اور سننے والے دونوں کے لئے گناہ ہے۔

١٠۔ گناہگار اگر گناہ کو آشکار انجام نہ دیتا ہوتو اس کی غیبت کرنا جائز نہیںہے۔

١١۔ احتیاط واجب کی بناپر داڑھی منڈوانا حرام ہے۔

۲۹۹

سوالات:

١۔ غصب کی وضاحت کرکے حقوق کے غصب کی دومثالیں بیان کیجئے۔

٢۔جزئی کام کے لئے کسی کی کوئی چیز اٹھانے، جیسے کسی کا قلم ایک ٹیلفون نمبر لکھنے کے لئے اٹھانے کا کیا حکم ہے؟

٣۔ چاک اور مدرسہ کے تختہ سیاہ کو خطاطی کی مشق کے لئے استعمال کرنا غصب کی کونسی قسم ہے؟

٤۔ غیبت کی تعریف کیجئے۔

٥۔ کیا کسی کے امتحانات کے نمبر کسی اور کو بتانا غیبت شمارہوتا ہے؟

٦۔غیبت کرنے والے کی ذمہ داری کیا ہے؟

٧۔ کیا ایک جوان کے چہرے پر تھوڑی سی داڑھی نکلی ہوتو شرم کی وجہ سے اسے منڈواسکتا ہے یا نہیں ؟

تمت بالخیر

۳۰۰

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326