تفسير راہنما جلد ۸

تفسير راہنما 6%

تفسير راہنما مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 971

جلد ۱ جلد ۲ جلد ۳ جلد ۴ جلد ۵ جلد ۶ جلد ۷ جلد ۸ جلد ۹ جلد ۱۰ جلد ۱۱
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 971 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 205883 / ڈاؤنلوڈ: 4272
سائز سائز سائز
تفسير راہنما

تفسير راہنما جلد ۸

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

حتى يميز الخبيث من الطيب گذشتہ آيات مثلاً ''ھم الكفر يومئذ اقرب منھم للايمان''كے مطابق خبيثوں سے مراد وہ منافقين ہيں جنہوں نے كفار سے جنگ كرنے ميں پہلوتہى كى ہے_

١٠_ پاك و ناپاك افراد كے باہم ملنے اور پھر ان كے ايك دوسرے سے جدا ہوجانے كا تسلسل_

ما كان الله ليذر المؤمنين علي ما انتم عليہ حتي يميز الخبيث من الطيب

١١_ انسانوں كو پوشيدہ اسرار (غيب) سے آگاہ نہ كرنا سنت الہى ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

يہ مطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''الغيب''كا الف و لام جنس كيلئے ہو_

١٢_ فقط خداوند متعال، غيب اور پنہاں اسرار سے آگاہ ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

١٣_ انسانوں كا ايمان و كفر (پاكى و ناپاكي)، غيبى امور ميں سے ہے_

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب اگر ''الغيب''سے مراد جنس ہو تو كفر و ايمان مورد نظرمصاديق ميں سے ہيں البتہ يہ احتمال بھى ديا جاسكتا ہے كہ ''الغيب''كا الف و لام، عہد كيلئے ہو يعنى مخصوص كفر و ايمان_

١٤_ دلوں كے اسرار اور غيب سے لوگوں كو آگاہ كر كے پاك و ناپاك افراد كى صفوں كو مشخص كرنا، سنت الہى نہيں ہے_و ما كان الله ليذر المؤمنين علي ما انتم عليه حتى يميز الخبيث من الطيب و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

''و ما كان الله ليطلعكم ...''كا مطلب يہ ہے كہ اگرچہ خداوند متعال ناپاك و پاك افراد كو مشخص كرے گا_ ليكن يہ تشخيص و تميز، مشكلات اور جنگوں وغيرہ كے ذريعے ہے نہ كہ لوگوں كو غيب سے مطلع كر كے_

١٥_ بعض انبيائے (ع) الہى كا اپنى امت كے غيبى و خفيہ امور (ايمان و كفر) سے آگاہ ہونا_

و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر ہے كہ جب ''من'' تبعيض كيلئے اور ''يجتبي''كے متعلق ہو چونكہ جملہ''ولكن الله ...'' ،''ماكان الله ...'' سے استدراك كيلئے ہے لہذا آيت كا معنى يوں ہوگا_ خداوندمتعال امتوں اور قوموں كو غيب سے آگاہ نہيں كرتا، ليكن بعض انبياء (ع) كو غيب سے آگاہ كرنے كيلئے منتخب كرليتا ہے_

۲۶۱

١٦_ خداوند بعض انبياء (ع) كو، غيب سے آگاہ كرنے كيلئے منتخب كرليتا ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكنص الله يجتبى من رسله من يشائ

١٧_ انبيائے (ع) الہى كے درجات و مراتب ميں فرق ہونا_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ اگر خداوند متعال فقط اپنے بعض انبياء (ع) كو علم غيب عطا فرماتا ہے (جيساكہ آيت ميں احتمال ديا گيا ہے) تو اس سے پتہ چلتا ہے انبياء (ع) مختلفمراتب اور درجات كے حامل ہيں _

١٨_ تمام انبيائے الہى (ع) كا غيب سے آگاہ ہونا_ *و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ

يہ اس بنا پر كہ جب ''من''، ''مصن يشائ''كيلئے بيان ہو_ يعنى خداوند عالم غيب سے آگاہ كرنے كيلئے جس كو چاہتا ہے منتخب كرليتا ہے لہذا اس نے اس مقصد كيلئے اپنے انبياء (ع) كو منتخب كرليا ہے_

١٩_ پيغمبراكرم(ص) كا علم غيب كے ذريعے، اپنى امت كے پاك و ناپاك (مؤمن و منافق) افراد سے آگاہ ہونا_

و ما كان الله و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ ''من رسلہ''سے مراد خواہ بعض انبياء (ع) ہوں يا سب كے سب، يقيناً پيغمبراسلام(ص) ان ميں سے ايك ہيں _

٢٠_ خداوند متعال اپنے انبياء (ع) كو علم غيب عطا كرنے والا ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ

٢١_ خداوند متعال اور اسكے تمام انبياء (ع) پر ايمان لانا ضرورى ہے_فامنوا بالله و رُسله

٢٢_ خداوند متعال اور انبياء (ع) پر ايمان، انسان كو پاك افراد كے زمرے ميں شامل كرديتا ہے_

حتى يميز الخبيث من الطيب فامنوا بالله و رسله يہ اس بنا پر كہ جب جملہ ''فامنوا ...''جملہ ''و حتى يميز ...''پر متفرع ہو يعنى جب سنت الہى يہ ہے كہ پاك و ناپاك افراد كو مشخص كرديا جائے تو پاك افراد كے زمرے ميں شامل ہونے كيلئے خدا و رسول(ص) پر حقيقى ايمان ركھنے كے علاوہ اور كوئي چارہ نہيں _

٢٣_ انبياء (ع) كا غيب و پنہاں (پاكى و ناپاكى اور انسانوں كے حقيقى منافع و نقصان) سے آگاہ ہونا ان پر ايمان لانے كے ضرورى ہونے كى دليل ہے_

۲۶۲

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشاء فأمنوا بالله و رسله

مندرجہ بالا مفہوم اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب جملہ ''فامنوا ...''جملہ ''و لكن الله يجتبى من رسلہ''پر متفرع ہو_ يعنى چونكہ انبياء (ع) غيب سے آگاہ ہيں لہذا ان پر ايمان لانا ضرورى ہے_ كيونكہ فقط وہى ہستياں ،امور كے حقائق سے آگاہ ہيں اور سعادت و شقاوت كے راستوں كو پہچانتے ہيں _

٢٤_ تقوي اختيار كرنے والے مؤمنين كيلئے اجر عظيم _و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٢٥_ ايمان كے ساتھ ساتھ تقوي كا ضرورى ہونا_و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٢٦_ اجر عظيم كا استحقاق، خدا و رسول(ص) پر ايمان لانے اور ان كى مخالفت نہ كرنے سے مربوط ہے_

و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم چونكہ كلمہ ''اجر'' اس اجر ميں ظہور ركھتا ہے جو استحقاق كى بنياد پر ديا جاتا ہے_ لہذا اس مطلب ميں كلمہ ''استحقاق''استعمال كيا گيا ہے_

٢٧_ ايمان اور تقوي كى طرف تشويق كرنے كيلئے اجر و ثواب كا وعدہ و ضمانت دينا، ايك قرآنى روش ہے_

و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٨ ٢_ بعض مؤمنين كى طرف سے انسانوں كے خفيہ امور اور غيب سے آگاہى حاصل كرنے كا تقاضا كيا جانا تاكہ وہ مؤمن اور غيرمؤمن (طيب و خبيث) افراد ميں تميز كرسكيں _

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب اس آيت كے شان نزول ميں منقول ہے كہ بعض مؤمنين، ايسى علامتوں كا تقاضا كرر ہے تھے كہ جن كے ذريعے وہ مؤمنين اور منافقين ميں تميز كرسكيں ، تب خداوند متعال نے مندرجہ بالا آيت نازل فرمائي_

آنحضرت(ص) : ٢٦ آنحضرت(ص) كا علم غيب ١٩ ; آنحضرت(ص) كو تسلى و تشفى ٩

اجر: ٢٦ اجر كے مراتب ٢٤;اجر كا وعدہ ٢٧

اسلام: صدر اسلام كى تاريخ٨

اطاعت: آنحضرت(ص) كى اطاعت ٢٦;اطاعت كا اجر ٢٦ ; اللہ تعالى كى اطاعت ٢٦

اللہ تعالى: ١٢، ٢٢، ٢٦

۲۶۳

اللہ تعالى كا علم غيب ١٢; اللہ تعالى كا لطف ٧ ; اللہ تعالى كى امداد ٧; اللہ تعالى كى سنت٢، ١١، ١٤; اللہ تعالى كى عطا و بخشش ٢٠

امتحان: امتحان كا ذريعہ ٦;انواع و اقسام كے امتحان ٦; جنگ كے ذريعے امتحان ٦;سختى و مصائب كے ذريعے امتحان ٦;شكست كے ذريعے امتحان ٦;فتح كے ذريعے امتحان ٦;فلسفہ امتحان ٥

انبياء (ع) : ٢١، ٢٢ انبياء (ع) كا برگزيدہ ہونا ١٦;ابنياء (ع) كا علم غيب ١٥، ١٦، ١٨، ٢٠، ٢٣;انبياء (ع) كے فضائل ١٧;انبياء (ع) ميں تفاوت ١٧

انسان: انسان كے اسرار ١٢

ايمان: ١٣، ٢٥ آنحضرت(ص) پر ايمان ٢٦; اللہ تعالى پر ايمان ٢١، ٢ ٢، ٢٦;انبياء (ع) پر ايمان ٢١، ٢٢، ٢٣;ايمان كا اجر ٢٦; ايمان كا پيش خيمہ ٢٧ ;ايمان كى تشويق ٢٧ايمان كے اثرات ٤، ٢٢

پاك افراد: ١٠، ١٤ پاك افراد كا امتحان ٥ ;پاكى ٣،١٣، ١٩;پاكى كے اسباب ٤، ٢٢

تحريك: تحريك كے اسباب ٢٧

تبليغ : تبليغ كا طريقہ ٢٧

تقوي: ٢٥ تقوي كا اجر ٢٦;تقوي كا پيش خيمہ ٢٧ ;تقوي كى تشويق ٢٧

جنگ: ٦ جنگ سے فرار ٩

خباثت: ٣، ١٠، ١٣، ١٤، ١٩ خباثت كے اسباب ٤

سختي: ٦ شكست: ٦

علم غيب: ١١، ١٢، ١٣، ١٤، ١٥، ١٦، ١٨، ١٩، ٢٠، ٢٣،٨ ٢

غزوہ احد: ٨ قدر و قيمت كا اندازہ لگانا:

قدر و قيمت كا اندازہ لگانے كا طريقہ ٥،٢٨

كاميابي: ٦ كفر: ١٣

متقين: متقين كا اجر ٢٤

۲۶۴

مصيبت: ٦

معاشرہ : اسلامى معاشرہ ١، ٢، ٥;معاشرتى گروہ ٢

منافقين: صدر اسلام كے منافقين ٨ ; منافقين كى خباثت ٣، ١٩

مؤمنين: مؤمنين كا اجر ٢٤;مؤمنين كو تسلى ٩;مؤمنين كى امداد ٧;مؤمنين كى پاكيزگي٣، ١٩;مؤمنين كے تقاضے ٢٨

نفاق: نفاق كے اثرات ٤

آیت(۱۸۰)

( وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ )

اور خبردار جو لوگ خدا كے ديئے ہوئے ميں بخل كرتے ہيں ان كے بارے ميں يہ نہ سوچنا كہ اس بخل ميں كچھ بھلائي ہے _ يہ بہت برا ہے اور عنقريب جس مال ميں بخل كيا ہے وہ روز قيامت ان كى گردن ميں طوق بناديا جائے گا اور الله ہى كے لئے زمين و آسمان كى ملكيت ہے اور وہ تمھارے اعمال سے خوب باخبر ہے _

١_ بخل اختيار كرنے والوں كا انفاق نہ كرنے كو منافع اور ثمر بخش سمجھنا، ايك غلط تصور ہے_و لايحسبن الذين يبخلون هو خيراً لهم

٢_ اضافى اموالميں سے انفاق كرنا ضرورى ہے_

۲۶۵

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

مندرجہ بالا مطلب ميں ''من فضلہ''كى ضمير ''ما اتيھم الله '' كے ''ما''كى طرف پلٹائي گئي ہے_ اس بنا پر ''فضل'' ضرورت سے زائد كے معنى ميں ہوگا_ اسمطلب كى تائيد رسول خدا(ص) كے اس فرمان سے ہوتى ہے : ''ما من ذى رحم ياتى ذارحمہ فيسألہ من فضل ما اعطاہ الله اياہ فيبخل عليہ الا خرج لہ يوم القيامة من جہنم شجاع يتلمظ حتي يطوقہ'' جب كوئي شخص اپنے رشتہ دار سے سوال كرے كہ اللہ تعالى كے عطا كردہ مال ميں سے كچھ عنايت كرے اور وہ عطا كرنے ميں بخل كرے تو روز قيامت جہنم سے ايك سانپ نكلے گا جو اس كے گلے كا طوق بن جائے گا_اسكے بعد آپ(ص) نے مندرجہ بالا آيت كى تلاوت فرمائي ''و لايحسبن ...''(١)

٣_ ضرر و نقصان ،اضافى اموال ميں سے انفاق نہ كرنے كا برا انجام _و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله بل هو شر لهم

٤_ انسانوں كيلئے عنايات الہى (مادى و معنوى وسائل) ان پر خدا وند عالم كا فضل ہے كہ اور يہ اس كى ملكيت ہيں _

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

٥_ مال و دولت كے خداوند عالم كى جانب سے ہونے پر توجہ كرنا، انفاق و بخشش كو آسان بناديتا ہے اور بخل و كنجوسى كى برائي كو واضح كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله خداوند متعال كا يہ ياددہانى كرانا كہ تم لوگوں كے اموال خداوندمتعال كى طرف سے فضل ہے (بما اتيھم الله من فضلہ) اس كا مقصد، انسان كيلئے انفاق و بخشش كو آسان بنانا اور بخل كى برائي كو ظاہر كرنا ہے_

٦_ انسان كيلئے خداوند متعال كى عنايات(مادى و معنوى وسائل) كا قابل قدر ہونا_

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله يہ كہ خداوند عالم نے جو وسائل انسانوں كو عطا كئے ہيں ، انہيں اپنا فضل كہا ہے اور ان كى نسبت اپنى جانب دى ہے، اس سے ان كى قدر و منزلت ظاہر ہوتى ہے_ البتہ يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''فضلہ''كى ضمير ''الله ''كى طرف پلٹائي جائے نہ كہ''ما اتيهم الله '' كى طرف _

____________________

١)الدر المنثور ج٢ ص٣٩٥.

۲۶۶

٧_ جہاد كے اخراجات ادا نہ كرنا، بخل كے مصاديق ميں سے ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله چونكہ مذكورہ آيت، آيات جہاد كے بعد آئي ہے، اس سے يہ نكتہ ظاہر ہوتا ہے كہ ''الذين يبخلون ...''كے مطلوبہ مصاديق ميں سے ايك وہ لوگ ہيں جو جہاد كے اخراجات ادا كرنے سے پرہيز اور بخل كرتے ہيں _

٨_ جہاد كے اخراجات پورے كرنے اور ضرورت مندوں كى دستگيرى كرنے كے سلسلے ميں ثروت مند افراد كى بھارى ذمہ داري_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله اگر ''فضل'' كا معني، ضروريات سے زائد ہو تو يہ ثروت مند افراد ہيں كہ جن كى ثروت ان كى ضروريات سے زيادہ ہے_

٩_ انسان اپنے نفع و نقصان كى صحيح پہچان نہ ركھنے كى وجہ سے بخل كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١٠_ انسان كا اپنے نفع و نقصان كو صحيح طور پر درك كرنا، خداوند متعال كى طرف سے ديئے گئے مال و دولت سے بخشش و انفاق كرنے اور بخل سے بچنے كا راستہ ہموار كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١١_ آسمانى تعليمات، خير و شر كى پہچان كا منبع ہيں _و لايحسبن هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١٢_ قيامت كے دن بخيلوں كا مال و منال، طوق كى صورت ميں ان كى گردن ميں لٹكا ہوگا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٣_ قيامت كے دن بخيل افراد كے گلے ميں ان كے مال و دولت كا لٹكايا جانا ، بخل و كنجوسى كى برائي اور ضرر كى علامت ہے_بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة جملہ ''سيطوقون ما بخلوا ...''كلمہ ''شر''كى تفسير ہے_ يعنى قيامت كے دن اپنے مال و دولت كو دوش پر لادے ہوئے (گلے ميں لٹكائے ہوئے) آنا، ايك ايسا شر ہے جو بخيل افراد كے دامن گير ہوگا_ مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى مراد ہو_

١٤_ قيامت كے دن جمادات اور اشياء كا محشور ہونا_

۲۶۷

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٥_ اخروى عذاب و عقوبت كا گناہ و عصيان كے مطابق ہونا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

بخيلوں كے گلے ميں ان كا مال طوق بناكر لٹكا يا جانا، اس مال سے ان كے شديد لگاؤ اور وابستگى كى وجہ سے ہے_ اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ عذاب آخرت اور گناہ ميں مناسبت ہوگي_

١٦_ معاد كا جسمانى ہونا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة مندرجہ بالامطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى ليا جائے_

١٧_ بخل اختيار كرنے كى حرمت اور خداوند متعال كا بخيلوں كى سخت مذمت كرنا_و لايحسبن سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٨_ قيامت كے دن بخيل افراد، اپنے كاندھے پر بخل كے گناہ كا سنگين بوجھ اٹھائے ہوں گے_

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة بعض كے نزديك يہاں ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى مراد نہيں ہے بلكہ وبال اور گناہ جيسا كوئي كلمہ، ''ما بخلوا ...''سے پہلے مقدر ہے_ يعنى وہ لوگ اپنے بخل كے گناہ كے وبال كو اپنے دوش پر اٹھائے ہوئے ہوں گے_

١٩_ قيامت كا دن حقيقى خير و شر كے ظہور كا ميدان ہے_و لايحسبن الذين هو خيراً لهم بل هو شر لهم سيطوقون يوم القيمة

٢٠_ انسان كيلئے، اپنے ذاتى مال ميں حق تصرف كى محدوديت_و لايحسبن الذين سيطوقون ما بخلوا به

٢١_ يہ خداوندمتعال ہے كہ جو آسمان و زمين (پورى كائنات) كا حقيقى و اصلى مالك ہے_ولله ميراث السموات والارض

٢٢_ خداوند عالم كى مطلق مالكيت_ولله ميراث السصموات والارض

٢٣_ انسان كى ثروت اور دولت، خداوند متعال كى ملكيت ہے اور اسى كى جانب پلٹ جائے گي_

بما اتهم الله من فضله ...ولله ميراث السموات والارض

٢٤_ آسمانوں كا متعدد ہونا_

۲۶۸

ولله ميراث السموات

٢٥_ انسان كے ہاتھ سے اسكے تمام مال و دولت كے نكل جانے كى جانب توجہ، بخل اور انفاق نہ كرنے كى برائي كو پہچاننے كا باعث بنتى ہے_و لايحسبن الذين يبخلون ولله ميراث السموات والارض جملہ ''ولله ميراث الصسموات ...''سے يہ نكتہ ظاہر ہوتا ہے كہ تمام مال و دولت تمہارے ہاتھوں سے نكل كر خداوند متعال كى جانب پلٹ جائے گي، پس كيوں نہيں انفاق كرتے؟ اور اپنے آپ كو انفاق كے اجر و ثواب سے محروم كرتے ہو؟

٢٦_ خداوند متعال كا انسان كے تمام اعمال اور كردار سے مكمل اور دقيق طور پر آگاہ ہونا_والله بما تعملون خبير

٢٧_ خداوند عالم كى على الاطلاق مالكيت اور انسانى اعمال و كردار سے اسكى آگاہى كى جانب توجہ، انفاق اور بخل سے بچنے كو آسان بناديتى ہے_و لايحسبن الذين يبخلون ولله ميراث السموات والارض والله بما تعملون خبير

٢٨_ بخيل افراد كے بارے ميں خداوند متعال كى جانب سے تہديد اور تنبيہ _والله بما تعملون خبير

٢٩_ زكات نہ دينے والوں كے اموال كا قيامت كے دن ان كے گلے ميں ادہا كى شكل ميں لٹكايا جانا_

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة امام صادق (ع) سے ''سيطوقون ما بخلوا بہ ...''كے بارے ميں پوچھا گيا تو آپ(ع) نے فرمايا: ما من احد يمنع من زكاة مالہ شيئاً الا جعل الله عزوجل ذلك يوم القيمة ثعباناً من نار مطوقاً فى عنقہ جو شخص بھى زكاة كے مال سے ذرہ برابر بھى ركھ لے يقينا خداوند متعال روز قيامت اسے آگ كا ادہا بناكر اس كے گلے ميں لٹكادے گا(١) _

٣٠_ ضرورت سے زيادہ مال و دولت ميں سے انفاق اور خرچ نہ كرنے اور بخل اختيار كرنے كا نتيجہ، قيامت كے دن سخت عذاب الہى كى صورت ميں ظاہر ہوگا_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

رسول خدا (ص) فرماتے ہيں :ما من ذى رحم يأتى ذا رحمه فيسأله من فضل ما اعطاه الله اياه فيبخل عليه الا خرج له يوم القيامة من جهنم شجاع يتلمظ حتي يطوقه_ ثم قرأ ''ولايحسبن ...'' _(٢) اس حديث كا ترجمہ اسى آيت كے مطلب ٢ ميں گزرچكا ہے_

____________________

١)كافى ج٣ ص٥٠٢ ح١، نورالثقلين ج١ ص٤١٤ ح٤٤٩، ٤٥٢.

٢)الدر المنثور ج٢ ص٣٩٥.

۲۶۹

آسمان: آسمان كا مالك٢١; آسمان كا متعدد ہونا٢٤

اللہ تعالى: اللہ تعالى كا خبردار كرنا ٢٨;اللہ تعالى كا علم ٢٦، ٢٧; اللہ تعالى كا فضل ٤; اللہ تعالى كى عطاء ٤، ٦;اللہ تعالى كى مالكيت ٤، ٢١، ٢٣، ٢٧

انسان: انسان كا سرمايہ٤، ٥، ٢٣، ٢٥ ; انسان كا علم ١٠; انسان كا عمل ٢٦

انفاق: انفاق كا پيش خيمہ ٥، ١٠، ٢٧;انفاق كى اہميت ٢; انفاق كى حدود ٢;انفاق كے آداب ٢٧;انفاق كے موانع ١;ترك انفاق پر مذمت ٢٥; ترك انفاق كى سزا ٣٠; ترك انفاق كے اثرات ٣، ٢٩

بُخل: بخل كا گناہ ١٨;بخل كا نقصان ١٣; بخل كى حرمت ١٧; بخل كى سزا ٣٠ ; بخل كى مذمت ٥، ١٧، ٢٥ ; بخل كے اثرات ١٢، ١٣، ١٨; بخل كے اسباب ٩ ; بخل كے علاج كا طريقہ ١٠، ٢٧;بخل كے موارد ٧

بخيل: بخيل قيامت ميں ١٢، ١٣;بخيل كا انجام ٣٠;بخيل كا سرمايہ ١٢، ١٣; بخيل كا عقيدہ ١; بخيل كو تہديد ٢٨; بخيل كى مذمت ١٧

ثروت مند افراد: ثروت مند افراد كى ذمہ دارى ٨

جزا و سزا كا نظام: ١٥

جہاد: مالى جہاد ٧، ٨

جہالت: جہالت كے اثرات ٩

دنيا: دنيوى وسائل كى قدر و منزلت ٥ دين: تعليمات دين كے فوائد١١

روايت: ٢٩، ٣٠

زمين: زمين كا مالك ٢١

سزا:٣٠ اخروى سزا، ١٥

شناخت: شناخت كے منابع ١١

عذاب: عذاب كے درجے ٣٠; عذاب كے موجبات ١٥

عصيان: عصيان كى سزا ١٥

۲۷۰

عقيدہ: باطل عقيدہ ١

علم: ١٠ علم كے اثرات ٥، ٢٧

عمل:٢٦ عمل كا مجسم ہونا١٢، ١٣، ٢٩; نيك عمل كا پيش خيمہ ٥

فقير: فقير كى ضرورت پورى كرنا ٨

قدر و قيمت: معنوى قدر و قيمت ٦

قيامت: ١٢، ١٣، ١٨

قيامت كے دن حقائق كا ظاہر ہونا ١٩، ٢٩

گناہ: ١٨

مالكيت: ذاتى مالكيت ٢٠

محرمات: ١٧

محشور ہونا: جمادات كا محشور ہونا ١٤;موجودات كا محشور ہونا١٤

معاد: جسمانى معاد ١٦

ہبہ: ٥، ١٠

آیت (۱۸۱)

( لَقَدْ سَمِعَ اللّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاء سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتْلَهُمُ الأَنبِيَاء بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِيقِ )

الله نے ان كى بات كو بھى سن ليا ہے جن كاكہنا ہے كہ خدا فقير ہے اورہم مالدار ہيں _ ہم ان كى اس مہمل بات كو اور ان كے انبياء كے ناحق قتل كرنے كو لكھ ر ہے ہيں اور انجام كار ان سے كہيں گے كہ اب جہنّم كامزہ چكھو _

١_ خداوند متعال كے فقير و محتاج ہونے اور اپنے غنى و بےنياز ہونے كے بارے ميں يہود كے بے بنياد خيالات_

۲۷۱

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

بہت سے مفسرين كا كہنا ہے كہ ''الذين قالوا'' سے مراد يہود ہيں _

٢_ انفاق اور بخشش كے بارے ميں فرامين الہى كا يہود كى جانب سے مذاق و تمسخر اڑايا جانا_

الذين يبخلون لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير انفاق كى ترغيب دلانے اور اہل بخل كو تہديد كرنے كے بعد يہوديوں كے كلام''ان الله فقير ''كو نقل كرنا اس نكتہ كى جانب اشارہ ہے كہ يہوديوں نے انفاق كے بارے ميں فرمان خداوندى كا مذاق اڑاتے ہوئے يہ ا فواہ پھيلا ركھى تھى كہ آنحضرت (ص) كا خدا، فقير ہے_

٣_ خداوند متعال كے مقابلے ميں غنا اور بے نيازى كا احساس اور اظہار كرنا ايك ناروا و ناپسنديدہ عمل ہے_

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٤_ غنا اور بے نيازى كا احساس، فرامين الہى كى حكم عدولى اور ان كا مذاق اڑانے كى راہ ہموار كرتا ہے_*

الذين يبخلون بما اتيهم الله لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن أغنيائ

٥_ الہى معارف اور صفات خداوندى كے بارے ميں يہود كى كوتاہ انديشي_لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٦_ يہود كا مغرور اور خود پسند ہونا_قالوا ان الله فقير و نحن أغنيائ

٧_ خداوند متعال باتوں كا سننے والا ہے_لقد سمع الله قول

٨_ يہود كا ،اسلامى احكام و قوانين (انفاق) كے خلاف ناروا پروپيگنڈا كرنا_و لايحسبن الذين لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٩_ خداوند متعال بندوں كے انفاق سے غنى اور بے نياز ہے_ان الذين ان الله فقير و نحن اغنيآء سنكتب ما قالوا

١٠_ بخيل اور كنجوس زراندوز لوگ (ہميشہ) انبيائے الہى (ع) اور احكام خداوندى كے ساتھ ٹكرانے اور ان كے

۲۷۲

مقابلہ ميں آنے كے خطرے سے دوچار ہوتے ہيں _و لايحسبن الذين يبخلون لقد سمع الله قول الذين قالوا و نحن اغنيائ ترك انفاق اور بخل كى برائي بيان كرنے كے بعد يہوديوں كے كلام و باطل خيالات كو نقل كرنا، گويا بخيل افراد كيلئے ايك قسم كى تنبيہ ہے كہ بخل اور ترك انفاق انسان كو ايسے خطرناك مقام تك لے جاسكتا ہے كہ جہاں تك اس نے يہوديوں كو پہنچاديا (قالوا ان الله فقير )_

١١_ انسان كے كردار و گفتار كا ثبت ہونا اور ان كے مقابلے ميں انسان كى ذمہ داري_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٢_ يہود كا (جان بوجھ كر) انبيائے الہى (ع) كو ناحق قتل كرنا_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

انبياء (ع) كے قتل كا بالكل ناحقہونا دلالت كرتا ہے كہ يہود انبياء (ع) كى نبوت كا علم ركھنے كے باوجود، بغيرخطا اور فراموشى كے، انبيائے كرام (ع) كو قتل كرڈالتے تھے_ چونكہ اگر وہ انہيں پيغمبرنہ سمجھتے يا خطا و نسيان كے طور پر انہيں قتل كرتے تو ''بغير حق'' كى تعبيران پر صادق نہ آتي_

١٣_ انبيائے الہى (ع) ميں ، شہيد ہونے والے انبياء (ع) كى كثرت_و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٤_ يہود، پيغمبراسلام(ص) كو قتل كرنے كے در پے تھے_*و قتلهم الانبياء بغيرحق مندرجہ بالا مطلب، زمانہ پيغمبر(ص) كے يہوديوں كى طرف قتل انبياء (ع) كى نسبت دينے كى ايك توجيہ ہے، يعنى يہوديوں كى طرف قتل انبياء (ع) كى نسبت دى گئي ہے_ اس سے پتہ چلتا ہے كہ وہ پيغمبر اكرم(ص) كو قتل كرنے كى سعى كرر ہے تھے اور آنحضرت(ص) تمام انبياء (ع) كے مقام پر ہيں _

١٥_ خداوند متعال كو فقير و محتاج سمجھنے اور اسكى جانب ناروا نسبت دينے كى برائي كا انبياء (ع) كو قتل كرنے جيسے گناہ كے مساوى ہونا_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٦_ خداوند متعال كى جانب ناروا نسبت دينا اور انبيائے (ع) الہى كو قتل كرنا، ايسے عظيم گناہ ہيں جو دوزخ كے جلانے والے عذاب كا باعث بنتے_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق و نقول ذوقوا عذاب الحريق

''حريق'' محرق (جلانے والا) كے معنى ميں ہے يہ قابل غور ہے كہ انبياء (ع) كو قتل كرنے اور خداوند متعال كى طرف ناروا نسبت دينے كى سزا جلانے

۲۷۳

والا عذاب ہے_ جو اس قسم كے گناہ كى سنگينى كو ظاہر كرتا ہے_

١٧_ خداوند متعال كى طرف فقر كى نسبت دينے والوں اور انبياء (ع) كو قتل كرنے والوں كيلئے خود خداوند متعال كى جانب سے جلانے والے عذاب كا بلاواسطہ فرمان _نقول ذوقوا عذاب الحريق

١٨_ امام(ع) كو جو مال ديا جاتا ہے، اس مال كا امام(ع) كو محتاج سمجھنا گويا خداوند متعال كو فقير جاننا ہے_

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير امام باقر(ع) نے اس آيت كے بارے ميں فرمايا :هم الذين يزعمون ان الامام يحتاج منهم الى ما يحملون اليه _(١) يہ وہ لوگ ہيں جو گمان كرتے ہيں كہ امام ان كے اس مال كا نيازمند ہے جو وہ امام كو ديتے ہيں _

آنحضرت(ص) : آنحضرت (ص) كو قتل كرنے كى سازش ١٤

احكام: احكام كا استہزا ٢، ٤

استغنا: استغنا كے اثرات ٤;استغنا كى مذمت ٣

اسلام: تاريخ صدر اسلام ٨، ١٤

اسماء و صفات: سميع ٧;صفات جلال ١، ٩، ١٥

افترا: افترا كا گناہ١٥، ١٦; خداوند متعال پر افترا ١٥، ١٦، ١٧، ١٨

اللہ تعالى: ١٥، ١٦، ١٧، ١٨ اللہ تعالى كے اوامر ٢، ٤;اللہ تعالى كى بے نيازى ٩

انبياء (ع) : انبياء (ع) كا قتل١٢، ١٣، ١٥، ١٦، ١٧

انسان: انسان كى ذمہ دارى ١١

انفاق: ٨، ٩ انفاق كا حكم ٢; انفاق كى قدروقيمت ٨

بخيل: ١٠ ثروت مند: بخيل ثروت مند ١٠

روايت: ١٨

____________________

١)نورالثقلين ج١ ص٤١٦ ح٤٥٦_ بحارالانوار ج٢٤، ص٢٧٨ ح٤.

۲۷۴

زر اندوز : بخيل زر اندوز ١٠

سزا : ١٦

شہدائ: ١٣

عذاب: عذاب كے اسباب ١٦، ١٧; عذاب كے مراتب ١٦، ١٧

عصيان: عصيان كا پيش خيمہ ٤

عقيدہ: ٥ باطل عقيدہ ١، ٣، ١٨

عمل: عمل كا باقى رہنا ١١;عمل كا ثبت ہونا ١١

قتل: ١٢، ١٣، ١٦، ١٧ قتل كا گناہ ١٥

گناہ: ١٥ گناہ كبيرہ ١٦، ١٧;گناہ كى سزا ١٦

ہبہ: ہبہ كرنے كا حكم ٢

يہود: ١٢ يہود كا استہزا ٢;يہود كا عقيدہ ١، ٥;يہود كا غرور ٦; يہود كا ماحول بنانا ٨;يہود كى جہالت ٥;يہود كى سازش ١٤

آیت(۱۸۲)

( ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللّهَ لَيْسَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِيدِ )

اس لئے كہ تم نے پہلے ہى اس كے اسباب فراہم كر لئے ہيں اور خدا اپنے بندوں پرظلم نہيں كرتا ہے_

١_ آخرت ميں يہود پر سخت عذاب، ان كے ناروا اعمال (خداوند متعال كى جانب فقر كى نسبت دينے اور انبياء (ع) كو قتل كرنے) كا نتيجہ ہے_ذوقوا عذاب الحريق_ ذلك بما قدمت ايديكم

٢_ انسانوں كيلئے اخروى عذاب اور سزا، خود ان كے اعمال كا نتيجہ ہے_ذلك بما قدمت ايديكم

٣_ زمانہ پيغمبراكرم(ص) كے يہود كا اپنے آباء و اجداد كے

۲۷۵

گناہ (قتل انبياء (ع) ) ميں شريك ہونا_و قتلهم الانبياء بغيرحق ذلك بما قدمت ايديكم

يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''ايديكم''كے مخاطب عصر پيغمبراكرم(ص) كے يہود ہوں ، جملہ ''ذلك بما قدمت ...''سے پتہ چلتا ہے كہ وہ انبياء (ع) كو قتل كرنے كے گناہ ميں شريك تھے كہ جو ان كے آبا ء و اجداد كے ہاتھوں انجام پايا تھا_

٤_ زمانہ پيغمبراكرم(ص) كے يہود كا اپنے آبا و اجداد اور ہم مذہب لوگوں كے ہاتھوں گذشتہ انبياء (ع) كے قتل پر راضى ہونا_و قتلهم الانبياء ذلك بما قدمت ايديكم بظاہر عصر پيغمبراكرم(ص) كے يہوديوں كى طرف انبياء (ع) كے قتل كى نسبت جو ''ايديكم''كى ضمير خطاب سے اخذ ہوتى ہے_ ان كے اپنے آبا و اجداد كے اعمال پر راضى ہونے كى بنا پر ہے_ چونكہ خود وہ لوگ انبياء (ع) كے قتل كے مرتكب نہيں ہوئے تھے_

٥_ دوسروں كے اعمال و كردار پر راضى ہونا، انہى كے اعمال و كردار كو انجام دينے كے مترادف ہے_و قتلهم الانبياء ذلك بما قدمت ايديكم

٦_ بندوں كى نسبت، خداوند متعال كى جانب سے ہر قسم كے ظلم كى نفي_و ان الله ليس بظلام للعبيد

٧_ عدل خداوند متعال اور ا س كى ذات اقدس كا ظلم و ستم سے دور ہونے كا تقاضا ہے كہ بخيلوں اور انبياء (ع) كے قاتلوں كو سزا دى جائے_و لايحسبن الذين يبخلون ذوقوا عذاب الحريق و ان الله ليس بظلام للعبيد

جملہ ''و اص نص الله ...'' كا ''ما قدمت''پر عطف ہے_ بنابرايں يہ بخيلوں اور انبياء (ع) كے قاتلوں كے دوزخ ميں گرفتار ہونے كى ايك دوسرى وجہ ہے_ يعنى عدل الہى كا تقاضا ہے كہ وہ ظالموں كو سزا دے، اگر انہيں سزا نہيں ملتى تو يہ مظلوموں پر ظلم ہوگا_

٨_ اہل دوزخ كا عذاب، خداوند متعال كى طرف سے ان پر ہرگز ظلم نہيں _ذوقوا عذاب الحريق و ان الله ليس بظلام للعبيد يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''ان الله ...''ايك محذوف مبتدا كى خبر ہو (الامرو الشأن ان الله ليس ...) يوں ''قدمت ايديكم''كے قرينہ سے خداوند متعال كے ظلم نہ كرنے سے مراد يہ ہے كہ خداوند متعال سزا دينے ميں ظلم نہيں كرتا_

٩_ اہل دوزخ كا عذاب، ہرگز ان كے اعمال سے زيادہ نہيں ہوگا_ذوقوا عذاب الحريق_ ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد

۲۷۶

١٠_ خداوند متعال، ہرگز اپنے بندوں كو ارتكاب گناہ كے بغيرسزا نہيں ديتا_ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد

١١_ اپنے اعمال و كردار كے سلسلے ميں انسان خودمختار ہے_ذلك بما قدمت ايديكم و ان ا لله ليس بظلام للعبيد

١٢_ ظالموں كو سزا نہ دينا، مظلوموں پر ظلم ہے_ذوقوا عذاب الحريق ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد مندرجہ بالا مطلب پہلے احتمال (''ان الله ...''كا ''ما قدمت''پر عطف ہونا)پر مبنى ہے_

١٣_ بے گناہوں كو سزا دينا، ايك عظيم ظلم ہے_و ان الله ليس بظلام للعبيد

مندرجہ بالامطلب دوسرے احتمال (''ان الله ...''كيلئے مبتدا كا مقدر ہونا) پر مبنى ہے_

١٤_ گناہ سے زيادہ سزا دينا، ايك عظيم ظلم ہے_و ان الله ليس بظلام للعبيد

اسماء و صفات: صفات جلال ٦

افترا: خدا پر افترا ١;افترا كى سزا ١

اللہ تعالى: ١، ٦، ٨، ١٠ اللہ تعالى كاعدل ٧

انبياء (ع) : انبياء (ع) كا قتل ٤;انبياء (ع) كے قتل كى سزا ١، ٣، ٧

انسان: انسان كااختيار ١١; انسان كا عمل ١١

اہل جہنم: اہل جہنم كى سزا ٨، ٩

بخيل: بخيل كى سزا ٧

جزا و سزا كا نظام : ٥،٩

جہنم: جہنم كا عذاب ٨، ٩

سزا: ٢، ٣، ٧، ٨، ٩، ١٢، ١٤ اخروى سزا ١; سزا كا فلسفہ ١٢

ظالمين: ظالموں كى سزا ١٢

۲۷۷

ظلم: ٦، ٧، ٨، ١٠ ظلم كے اسباب ١٢، ١٣، ١٤;ظلم كے مراتب ١٣، ١٤ ; مظلوم پر ظلم ١٢

عذاب: ٨، ٩ عذاب كے اسباب ١; عذاب كے درجات ١; عذاب كے موجبات ٢، ٧

عمل١١: عمل كى اخروى سزا ٢; عمل كى سزا ٩;ناپسنديدہ عمل ١، ٢

گناہ: گناہ پر راضى ہونا ٤، ٥ ;گناہ كى سزا ١٤

يہود: صدر اسلام كے يہود ٣، ٤; يہود كى سزا ١، ٣ ;يہود كے آبا و اجداد كى سزا ٣; يہود كے آبا و اجداد ٤

آیت(۱۸۳)

( الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّیَ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ قُلْ قَدْ جَاءكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ) جو لوگ يہ كہتے ہيں كہ الله نے ہم سے عہد ليا ہے كہ ہم اس وقت تك كسى رسول پر ايمان نہ لائيں جب تك وہ ايسى قربانى پيش نہ كرے جسے آسمانى آگ كھا جائے تو ان سے كہہ ديجئے كہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول معجزات اور تمھارى فرمائش كے مطابق صداقت كى نشانى لے آئے پھر تم نے انھيں كيوں قتل كرديا اگر تم اپنى بات ميں سچّے ہو _

١_ يہوديوں كے خيال ميں انبياء (ع) پر ايمان لانے كيلئے خداوند متعال نے يہ عہد ليا ہے كہ انبياء (ع) ايسى قربانى پيش كريں جسے غيبى آتش آكر جلادے_الذين قالوا ان الله عهد الينا الانؤمن لرسول حتى يأتينا بقربان تأكله النار

٢_ آنحضرت(ص) پر ايمان لانے كيلئے يہود نے يہ شرط ركھى

۲۷۸

ہوئي تھى كہ پيغمبراكرم(ص) كى قربانى آگ ميں جل جائے_

الذين قالوا ان الله حتى يأتينا بقربان تاكله النار ''قربان''كا معنى ہر وہ چيز ہے جس كے وسيلے سے انسان خداوند متعال كا قرب حاصل كرتا ہے اور گذشتہ امتوں كى قربانى گائے، بھيڑ اور اونٹ وغيرہ تھے جو خداوند متعال سے تقرب حاصل كرنے كيلئے ذبح كئے جاتے تھے_(تاج العروس)

٣_ حضرت موسي (ع) كى بعثت كے بعد، رسالت و نبوت كے ختم نہ ہونے كے بارے ميں يہود كا اعتقاد و اعتراف_

الانؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان اگر يہود حضرت موسي (ع) كى نبوت كى خاتميت كے مدعى ہوتے تو انہيں پيغمبراسلام(ص) سے يہ كہنا چاہيے تھا كہ ہم سے عہد ليا گيا ہے كہ ہم كسى بھى مدعي رسالت پر ايمان نہ لائيں نہ يہ كہ وہ سچے نبى و رسول كى نشانى بيان كرنے لگتے_

٤_ يہودي، الہى عہد و پيمان كے ساتھ اپنى وفادارى كے مدعى تھے_ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول

٥_ يہوديوں كا دين اور ديندارى كے نام پر اسلام اور پيغمبراكرم (ص) كے خلاف معركہ آرائي _

ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان چونكہ يہود كا دعوي تھا كہ وہ فرامين خداوندى كى پيروى كرتے ہوئے اور عہد الہى سے وفا كرتے ہوئے، پيغمبر اكرم(ص) پر ايمان نہيں لار ہے_

٦_ يہود كى نظر ميں مدعى رسالت كى سچائي كى علامت، قربانى كا غيبى آتش سے جلنا ہے_الانؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان تاكله النار

٧_ اديان الہى ميں ، قربانى كے حكم كا موجود ہونا_حتي ياتينا بقربان تاكله النار

٨_ بنى اسرائيل كيلئے روشن دلائل (معجزات و براہين) كے ساتھ متعدد انبيا ء (ع) كا مبعوث ہونا_قد جائكم رسل من قبلى بالبينات

٩_ بنى اسرائيل كے بعض انبياء (ع) اور رسولوں (ع) كے معجزہ كے طور پر قربانى كا غيبى آگ سے جلنا_

قال ان الله عهد الينا قد جائكم رسل و بالذى قلتم

١٠_ خداوند متعال كى تعليم كے مطابق، پيغمبر اكرم (ص) كا يہود كے خلاف استدلال كرنا_

قل قد جائكم رسل من قبلى بالبينات وبالذى قلتم فلم قتلتموهم

۲۷۹

١١_ اثبات نبوت كے طريقوں ميں سے ايك معجزہ ہے_قد جائكم رسل من قبلى بالبينات و بالذى قلتم

١٢_ انبياء (ع) كى حقانيت كا علم ركھنے اور ان كے معجزات ديكھنے كے باوجود، يہود كے ہاتھوں بہت سے انبيائے الہى (ع) كا شہيد ہونا _قل قد جائكم رسل من قبلى بالبينات و بالذى قلتم فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

دليل كو اس وقت ''بينة''كہا جاتا ہے كہ جب وہ مدمقابل كيلئے حق كو روشن كرے اور اسے اسكى حقانيت سے آگاہ كرے_ لہذا يہود جانتے تھے اور ان كيلئے روشن تھا كہ وہ حقيقى انبياء (ع) كو قتل كرر ہے ہيں _

١٣_ يہودي، انبياء (ع) سے اپنا طلب كردہ معجزہ (قربانى كا غيبى آگ سے جلنا) ديكھنے كے باوجود بھي، نہ فقط ان پر ايمان نہيں لائے بلكہ انہيں قتل كرڈالا_قل قد جائكم رسل من قبلى و بالذى قلتم فلم قتلتموهم

١٤_ پيغمبراكرم (ص) كا يہوديوں كى گذشتہ تاريخ كى بنياد پران كے خلاف استدلال كرنا_قل قد جائكم رسل من قبلى فلم قتلتموهم

١٥_ ہر امت كى تاريخ; اسكى نفسيات، خصائل اور اسكے آئندہ كے لائحہ عمل كى تشخيص و پہچان كا منبع ہے_

قد جائكم فلم قتلتموهم خداوند متعال يہود كى عادات و خصائل اور تاريخى اثرات كے ذريعے، زمانہ پيغمبر(ص) كے يہوديوں كے خلاف استدلال كرتے ہوئے ان كے آئندہ كے لائحہ عمل كو آشكار كر رہا ہے_ يہ استدلال اس بنياد پر قائم ہے كہ ہر امت و قوم كى تاريخ اورگذشتہ اعمال اسكے مستقبل كى نشاندہى كرتے ہيں اور اس پر حاكم عادات و نفسيات كى معرفت كا بہترين وسيلہ و منبع ہيں _

١٦_ يہود كا پيغمبراكرم(ص) كے ساتھ منافقانہ رويہ_الذين قالوا ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين جملہ''فلما قتلتموهم ان كنتم صادقين'' يہ بيان كر رہا ہے كہ يہود، معجزہ ديكھنے كى صورت ميں ايمان لانے كا دعوي كرنے كے باوجود، ايمان لانے كا قصد نہيں ركھتے تھے_

١٧_ يہوديوں كى خرافات پسندي، جمود اور ہٹ دھرمي_*الذين قالوا ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان: تأكله النار

١_ جملہ ''الا نؤمن لرسول''كا ظاہرى معنى يہ ہے كہ خداوند متعال نے ہميں حكم ديا ہے كہ جو شخص

۲۸۰

رسالت كے دعوے ميں جھوٹے ہونے كى تہمت لگائي _سوف تعلمون من هو كاذب

۶_ حضرت شعيب(ع) ، لوگوں پر اتمام حجت كرنے كے بعد، ان كے لجوج ہوے كى وجہ سے انكے برے انجام كا انتظار كرنے لگے_و ارتقبوا انّى معكم رقيب

آيت شريفہ ميں (رقيب) كا منى منتظر ہونا ہے_

اہل مدائن :اہل مدائن پر اتمام حجت ۶; اہل مدائن كا براانجام ۶; اہل مدائن كو ڈرانا ۱، ۴; اہل مدائن كى تاريخ ۲; اہل مدائن كى تہمتيں ۵;اہل مدائن كى لجاجت ۶; اہل مدائن كے ايمان لانے سے نااُميدى ۲

شعيبعليه‌السلام :حضرت شعيبعليه‌السلام اور اہل مدائن ۱; حضرت شعيب(ع) پر جھوٹ بولنے كى تہمت ۵; حضرت شعيبعليه‌السلام كا ڈرانا ۱، ۴;حضرت شعيبعليه‌السلام كا شرك كے خلاف جہاد ۳;حضرت شعيبعليه‌السلام كا قصہ ۱، ۲، ۴، ۵، ۶;حضرت شعيبعليه‌السلام كى اتمام حجت ۶; حضرت شعيبعليه‌السلام كى استقامت ۳; حضرت شعيبعليه‌السلام كى اميديں ۱;حضرت شعيبعليه‌السلام كى ذمہ دارى ۳; حضرت شعيبعليه‌السلام كى نااُميدى ۲;حضرت شعيبعليه‌السلام كے انتظار ۶

عذاب :خوار و ذليل كرنے والاعذاب ۴;عذاب سے ڈرانا ۴; عذاب كے مراتب ۴

آیت ۹۴

( وَلَمَّا جَاء أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْباً وَالَّذِينَ آمَنُواْ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مَّنَّا وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُواْ فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ )

اور جب ہمارا حك (عذاب ) آگيا تو ہم نے شعيب اور ان كے ساتھ ايمان لانے والوں كو اپنى رحمت سے بچاليا اور ظلم كرنے والوں كو ايك چنگھاڑنے پكڑليا تو وہ اپنے ديار ہى ميں الٹ پلٹ ہوگئے (۹۴)

۱_ الله تعالى نے مدائن كے لوگوں كو كفر و شرك پر اصرار اور حضرت شعيبعليه‌السلام كى تعليمات كو قبول نہ كرنے پر سخت

عذاب ميں گرفتار كيا _و لما جاء أمرن

(امر ) سے مراد قوم شعيبعليه‌السلام پر نازل شدہ عذاب مراد ہے_ اور ( نا) جو ضمير متكلم ہے_ اسكى طرف اضافہ كرنا بزرگى عذاب كو بتاتا ہے _

۲_ كائنات ميں حكم الہى بغير كسى كمى و زيادتى كے متحقق ہوتا ہے_و لما جاء ا مرن

۲۸۱

عذاب كو ( امر) سے تعبير كرنا جو ( فرمان) كے معنى ميں ہے اس نكتہ كى طرف اشارہ كرتا ہے كہ جس كے تحقق كے بارے ميں الله تعالى حكم ديتا ہے وہ بغير كسى كمى و زيادتى كے انجام پذير ہوتا ہے _ يعنى جو فعل انجام پاياہے وہى فرمان ہے_

۳_ مدائن كے كچھ لوگوں نے الله تعالى كى توحيد كو قبول كيا اور حضرت شعيبعليه‌السلام كى رسالت پر ايمان لائے_

نجّينا شعيباً و الذين ء امنوا معه

۴_ الله تعالى نے حضرت شعيبعليه‌السلام اور ان كے ماننے والوں كو اہل مدائن پر نازل شدہ عذاب سے بچاليا_

و لما جاء أمرنا نجينا شعيباً و الذين ء امنوا معه

۵_حضرت شعيبعليه‌السلام اور ان كے پيروكاروں كو نازل شدہ دنياوى عذاب سے بچالينا، يہ رحمت الہى كا ان پر جلوہ تھا_

نجينا شعيباً و الذين ء امنوا معه برحمة منّ

۶_ رحمت الہى كے لائق، اہل ايمان ہيں _نجينا شعيباً و الذين ء امنوا معه برحمة منّ

۷_ قوم شعيبعليه‌السلام كے كفار،ايك خوفناك آواز سے ہلاك ہوئے_و أخذت الذين ظلموا الصيحة

۸_ قوم شعيب كے لوگ ،ظلم و ستم كرنے والے تھے_و اخذت الذين ظلموا الصيحة

(الذين ظلموا) سے مراد قوم شعيب كے لوگ ہيں جنہوں نے شرك پرستى اور حضرت شعيبعليه‌السلام كى رسالت سے انكار كيا اور كم تولانيز لين دين ميں بے عدالتى سے كام لينے پر اصرار كيا_مذكورہ بالا معنى ميں ستم كرنے والوں سے ان كو ياد كيا گيا ہے جو مذكورہ وجوہات كى بناء پر تھا_

۹_ شرك، انبياءعليه‌السلام كى رسالت سے انكار ، اور لين دين ميں عدل و انصاف كا لحاظ نہ كرنا، ظلم و ستمگرى ہے_

و أخذت الذين ظلموا الصيحة

۱۰_ظالم، مشركين اور وہ جو لين دين ميں كم تولتے اور عدل و انصاف نہيں كرتے، دنيا كے عذاب (عذاب استيصال) ميں گرفتار ہونے والے ہيں _و أخذت الذين ظلموا الصيحة

۱۱_ قوم شعيب كے كفار، عذاب الہى كى وجہ سے زمين پر

۲۸۲

گرپڑے اور ہلاك ہوگئے_فأصبحوا فى ديارهم جاثمين

(جثوم) (جاثمين) كا مصدر ہے جسكا معنى زمين سے چپك جانا اور حركت نہ كرنا ہے_ بعض نے سينہ كے بل زمين پر گرنے كا معنى ليا ہے(لسان العرب )

۱۲_ اس چنج اور خوفناك آواز كہ جس نے مدائن كے لوگوں كو گھيراتھا اس نے ان سے گھر سے باہر آنے كى طاقت كو سلب كرليا_و ا خذت الذين ظلموا الصيحة فأصبحوا فى دى ارهم جاثمين

(فى ديارہم)( جاثمين ) كے متعلق ہے اور اس پر دلالت كرتا ہے كہ قوم شعيب اپنے گھروں ميں ہلاك ہوگئے _ يہ اس بات كو بتاتا ہے كہ وہ خطرناك آواز اتنى سخت تھى كى مدائن كے لوگ اس كے سننے كے بعد گھر سے نہ نكل سكے _ كيونكہ ايسے موارد ميں انسان گھر سے باہر نكل جاتا ہے_

۱۳_ قوم شعيب كے كفار، رات كو عذاب ميں گرفتار ہوئے اور صبح ہوتے ہى ہلاك ہوگئے_

فأصبحوا فى ديارهم جاثمين

(اصبحوا) كا معنى ممكن ہے (دخلوا فى الصباح ) يعنى صبح ميں داخل ہونا ہواور ممكن ہے (صاروا)وہ ہوگئے كے معنى ميں ہو_ پہلے معنى كى صورت ميں ''فاصبحوا'' كا معنى يہ ہوگا كہ قوم شعيب كى ہلاكت صبح كے وقت ہوئي ، او ( فأصبحوا) كے فأ كے قرينہ سےمعلوم ہوتا ہے كہ عذاب (يعنى مہيب آواز) رات كو واقع ہوا_

اقتصاد:اقتصادى خلاف ورزيوں كأظلم ۹; اقتصادى خلاف ورزى كرنے والوں كا عذاب ۱۰

انبياءعليه‌السلام :انبياءعليه‌السلام كو جھٹلانے كأظلم ۹

اہل مدائن :اہل مدائن كاشرك پر اصرار ۱; اہل مدائن كأظلم ۸; اہل مدائن كا عذاب ۱، ۷; اہل مدائن كى تاريخ ۷، ۱۱، ۱۲، ۱۳;اہل مدائن كى لجاجت ۱; اہل مدائن كى معاشرتى گروہ بندى ۳;اہل مدائن كى ہلاكت كا وقت ۱۳;اہل مدائن كے عذاب كا وقت ۱۳; اہل مدائن كے عذاب كى خصوصيات ۱۱، ۱۲;اہل مدائن كے موحدين ۳;اہل مدائن كے ہلاك ہونے كى كيفيت ۱۱، ۱۲

الله تعالى :اوامر الہى كا حتمى ہونا۲; الله تعالى كا نجات دينا ۴; الله تعالى كى رحمت كى نشانياں ۵; الله تعالى كے عذاب ۱

رحمت :رحمت كے حق دار ۶/شرك :شرك كأظلم ۹; شرك كى سزا ۱

۲۸۳

شعيبعليه‌السلام :حضرت شعيبعليه‌السلام كا قصہ ۴;حضرت شعيبعليه‌السلام كى نجات ۴، ۵;حضرت شعيبعليه‌السلام كے پيروكاروں كى نجات ۴،۵; حضرت شعيبعليه‌السلام كے مومنين ۳

ظالمين :ظالموں پر دنيا ميں عذاب ۱۰;ظالموں پر عذاب استيصال ۱۰

ظلم :ظلم كے موارد ۹

عذاب :آسمانى صيحہ سے عذاب ۷، ۱۲;اہل عذاب ۱۰;رات ميں عذاب ۱۳;عذاب استيصال سے نجات ۵;عذاب سے نجات ۴; عذاب كاذريعہ ۷;عذاب كے اسباب ۱; عذاب كے مراتب ۱

مومنين :مؤمنين كے فضائل ۶

مشركين :مشركين پر دنياوى عذاب ۱۰;مشركين پر عذاب استيصال ۱۰

ناپ تول ميں كمى كرنا :ناپ تول ميں كمى كرنے كا عذاب ۱۰

ہلاكت :صبح كے وقت ميں ہلاك ہونا ۱۳

آیت ۹۵

( كَأَن لَّمْ يَغْنَوْاْ فِيهَا أَلاَ بُعْداً لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ )

جيسے كبھى يہاں بسے ہى نہيں تھے اور آگاہ ہوجائو كہ قوم مدين كے لئے ويسے ہى ہلاكت ہے جيسے قوم ثمود ہلاك ہوگئي تھى (۹۵)

۱_ مدائن كے لوگوں پر نازل ہونے والے عذاب نے ان كى نابود ى كے ساتھ ساتھ ان كے ديار ميں ان كى زندگى كے آثار بھى مٹا ديئے _كأن لم يغنوا فيه

( غنى ) ( لم يغنوا ) كا مصدر ہے جسكا معني رہنا اور سكونت اختيار كرنا ہے _ ( فيہ ) كى ضمير پہلى والى آيت ميں لفظ ديار كى طرف پلٹ رہى ہے _اور جملہ ( كأن لم يغنوا فيہا ) كا معنى يہ ہوگا _ كہ گويا قوم شعيب نے اپنے ديار ميں سكونت اختيارنہيں كى تھى _ يہ كنايہ ہے كہ ان كا ديار نابود اور ان كى زندگى كے آثار مٹ گئے _

۲۸۴

۲_ مدائن كے لوگ، ہلاكت اور رحمت الہى سے دورى كے مستحق تھے _ألا بُعداً لمدين

مذكورہ معنى كى وضاحت كے ليے اسى سورہ كى آيت ۶۰ ميں شمارہ ۵ كى طرف رجوع كيا جائے _

۳_ شرك ، ظلم ، ناپ توميں كمى اور لين دين ميں بے عدالتى و نا انصاف كرنا ، رحمت الہى سے دورى اور ہلاكت كے اسباب ہيں _و إلى مدين ا خاهم شعيباً ألا بُعداً لمدين

۴_ قوم ثمود، رحمت الہى سے محروم ہوئے اور الله تعالى كے عذابوں سے ہلاك ہوئے _كما بعدت ثمود

۵_ اہل مدائن ( قوم شعيب ) كى عاقبت كا انجام ثموديان ( قوم صالح ) كى طرح ہوا _ألا بُعداً لمدين كما بعدت ثمود

(اَلَا بُعداً ) كے جملے ميں جو تشبيہ ہے وہ مدائن كے لوگوں كى قوم ثمود كى طرح ہلاكت بيان كرنے كے علاوہ آيت شريفہ ۸۹ ميں بيان شدہ حضرت شعيب(ع) كى كلام پر بھى ناظر ہے كہ انہوں نے اپنے لوگوں كو گذشتہ اقوام كى عاقبت ميں گرفتار ہونے سے خبردار كيا تھا وہ يہى قوم صالح (ثموديان ) تھي_

اقتصاد :اقتصادى خلاف ورزيوں كے آثار ۳

اہل مدائن :اہل مدائن كى تاريخ ۱; اہل مدائن كى عاقبت ۵; اہل مدائن كى محروميت ۲; اہل مدائن كى ہلاكت ۱،۲;اہل مدائن كے عذاب كى خصوصيات ۱

رحمت :رحمت سے محروم ہونے والے ۲، ۴;رحمت سے محروم ہونے كے اسباب ۳

شرك :شرك كے آثار ۳

قوم ثمود :قوم ثمود كا انجام ۵;قوم ثمود كا عذاب ۴; قوم ثمود كى تاريخ ۴;قوم ثمود كى محروميت ۴; قوم ثمود كى ہلاكت ۴

ناپ تول ميں كمى :ناپ تول ميں كمى كے آثار ۳

ہلاكت :ہلاكت كا سبب ۳

۲۸۵

آیت ۹۶

( وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ )

اور ہم نے موسى كو اپنى نشانيوں اور روشن دليل كے ساتھ بھيجا(۹۶)

۱_ حضرت موسىعليه‌السلام ،انبياء الہى ميں سے تھے_و لقد أرسلنا موسى

۲_ حضرت موسي(ع) اپنى الہى رسالت پر عظيم اورفراواں معجزات ركھتے تھے _و لقد أرسلنا موسى با ياتن

مذكورہ آيت شريفہ ميں آيات ( نشانياں ) سے مراد، معجزات ہيں اور جمع كے صيغے سے ذكر كرنے كا مقصد يہ ہے كہ معجزات فراواں اور كثرت كے ساتھ تھے اور متكلم كى ضمير ( نا )كى طرف اضافہ كا مقصد ان معجزات كى بزرگى و عظمت كو بيان كرنا ہے _

۳_ حضرت موسىعليه‌السلام ، اپنى الہى رسالت پر حجت اورر وشن و واضح دليل ركھتے تھے _

و لقد أرسلنا موسى بايتنا و سلطان مبين

( سلطان ) حجت اور برہان كے معنى ميں ہے_ (مبين ) روشن اور روشن كرنے والے كے معنى ميں ہے _ لازم اور متعدى دونوں ميں استعمال ہوتا ہے _

۴_ فرعونيوں پر موسىعليه‌السلام كا غلبہ اور ان كو مغلوب بنانا، الله كى طرف سے مقرر شدہ امر تھا _

و لقد ارسلنا موسى باياتنا وسلطان مبين

مذكورہ معنى ميں ( سلطان ) سے مراد ظاہرى تسلط اور غلبہ ليا گيا ہے _

۵_ الله تعالى نے حضرت موسىعليه‌السلام كى رسالت كے آغازميں ہى اپنى نشانى اور معجزہ سے نوازا، نہ كہ لوگوں كے تقاضا اور درخواست كرنے كے بعد عطا كيا _و لقد أرسلنا موسى با ياتنا و سلطان مبين

(بأياتنا) ميں بامصاحبت اور ہمراہى كے معنى ميں ہے _ لہذا (لقد ارسلنا ...) جملہ كا معنى يہ ہے كہ حضرت موسىعليه‌السلام مبعوث ہونے كے وقت سے آيات و معجزات ركھتے تھے برخلاف گذشتہ انبياء كہ ان كو معجزات لوگوں كے تقاضے پر عطا كيے جاتے تھے _

۲۸۶

الله تعالى : الله تعالى كى بخشش ۵; الله تعالى كے مقدّرات ۴

الله ے رسول : ۱

فرعوني:فرعونيوں كى شكست ۴

موسىعليه‌السلام :حضرت موسىعليه‌السلام كا معجزہ ۵; حضرت موسىعليه‌السلام كى كاميابى ۴;حضرت موسىعليه‌السلام كى نبوت ۱;حضرت موسىعليه‌السلام كى نبوت كے دلائل ۲،۳; حضرت موسىعليه‌السلام كى نشانياں ۳;حضرت موسىعليه‌السلام كے غلبے كا سبب ۴;حضرت موسىعليه‌السلام كے فضائل ۵;حضرت موسىعليه‌السلام كے معجزات كى كثرت ۲

آیت ۹۷

( إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَاتَّبَعُواْ أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ )

فرعون اور اس كى قوم كى طرف تو لوگوں نے فرعون كے حكم كا اتباع كرليا جب كہ فرعون كا حكم عقل و ہوش والا نہيں تھا (۹۷)

۱_ الله تعالى نے حضرت موسىعليه‌السلام كو فرعون اور اس كے دربار كے بزرگوں كى ہدايت كے ليے انكى طرف بھيجا _

و لقد أرسلنا موسى الى فرعون و ملايه _

۲_ فرعون اور اسكى قوم، حضرت موسىعليه‌السلام كى رسالت كے دائرہ كار ميں تھى _و لقد ارسلنا موسى الى فرعون و ملايه

( ملايہ ) كا معنى گروہ ، جمعيت اور اشراف و بزرگان قوم كے معنى ميں بھى آتا ہے _ پس جملہ (ارسلنا موسى الى فرعون و ملايہ ) كا معنى يہ ہوا كہ فرعون كى قوم اور جو اس سے وابستہ لوگ تھے حضرت موسىعليه‌السلام كى رسالت كى حدود ميں تھے _ جب فرعون اور اسكى قوم اور اس كے دربارى رسالت موسىعليه‌السلام كى حدود ميں تھے يعنى ان كى قوم شمار ہوتے تھے _

۳_ فرعون، اسكى قوم اور اس كے دربارى امراء نے حضرت موسىعليه‌السلام كى رسالت كو قبول نہيں كيا _

فاتبعوا أمر فرعون

(فاتبعوا امر فرعون )حضرت موسىعليه‌السلام كے رسول ہونے بعد فرعون كے حكم كى پيروى كرنے، ( ارسلنا موسى )كا مطلب يہ ہےكہ فرعون كى قوم اور اسكے دربار كے اشراف نے حضرت موسىعليه‌السلام كى رسالت كى مخالفت كى _

۲۸۷

۴_ فرعون كى قوم اور اس كے دربارى اس كے حكم پر حضرت موسىعليه‌السلام كى رسالت كى مخالفت پر اتر آئے ، ''فاتبعوا امر فرعون'' (انہوں نے فرعون كے حكم كى پيروى كى )يہ جملہ قوم فرعون كى مخالفت كو بيان كرتاہے_كہ رسالت حضرت موسىعليه‌السلام كى مخالفت فرعون كے حكم سے ہوئي تھى _

۵_ فرعون كے احكامات، لوگوں كے ليے ہرگز ہدايت كرنے اور ان كو صحيح راستہ دكھانے والے نہيں تھے_

و ما امر فرعون برشيد

( رشيد) كا معنى درست اور صحيح ہونے كا ہے _ كبھى ( مرشد ) صحيح راہنمائي كے معنى ميں بھى آتا ہے _

۶_ حضرت موسىعليه‌السلام كے پيغامات اور رسالت، لوگوں كو صحيح راستہ دكھانے اور ہدايت كى راہ بتانے والى تھي_

أرسلنا موسى الى فرعون و ملايه فاتبعوا امر فرعون و ما امر فرعون برشيد

۷_ گمراہ اور فساد رہبر، اپنى امت كى گمراہى اورضلالت كا موجب ہوتے ہيں _

فاتبعوا امر فرعون و ما امر فرعون برشيد

اشراف فرعون:اشراف فرعون اور موسىعليه‌السلام ۳; اشراف فرعون كى ہدايت۱

اطاعت :فرعون كى اطاعت ۴

رہبر:رہبروں كى ضلالت ۷; گمراہ رہبروں كا كردار ۷

فرعون :فرعون اور موسىعليه‌السلام ۳; فرعون كا گمراہ كرنا۵; فرعون كى ہدايت ۱;فرعون كے اوامر ۴، ۵

فرعوني:فرعونى اور حضرت موسىعليه‌السلام ۳

گمراہى :گمراہى كے عوامل ۷

معاشرہ :معاشرہ كے مضرات كى شناخت ۵

موسىعليه‌السلام :حضرت موسىعليه‌السلام اور فرعون ۲; حضرت موسىعليه‌السلام اور فرعوني۲;حضرت موسىعليه‌السلام كا قصہ ۳;حضرت موسي(ع) كو جھٹلانے والے ۳، ۴;حضرت موسىعليه‌السلام كى تعليمات كى خصوصيات ۶; حضرت موسىعليه‌السلام كى رسالت ۱; حضرت موسىعليه‌السلام كى رسالت كى حدود ۲; حضرت موسىعليه‌السلام كى ہدايت كرنا ۱،۶

۲۸۸

آیت ۹۸

( يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ )

وہ روز قيامت اپنى قوم كے آگے آگے چلے گا اور انھيں جہنم ميں وارد كردے گا جو بدترين وارد ہونے كى جگہ ہے (۹۸)

۱_ فرعون، قيامت كے دن اپنے پيروكاروں كے آگے آگے جہنم ميں داخل ہوگا _

يقدم قومه يوم القيامة فأوردهم النار

(قدوم ) يقدم كا مصدر ہے _ اسكا معنى آگے آگے چلنا اور سبقت كرنے كا ہے_

۲_ فرعون، قيامت كے دن اپنے پيروكاروں كو جہنم كى آگ ميں لے جائے گا _فأوردهم النار

(اورد ) كا فعل ماضى لانا جبكہ آئندہ كے بارے ميں خبردى جارہى ہے يہ بتاتا ہے كہ جہنم كى آگ ميں ان كا داخل ہونا حتمى ہے _

۳_ فرعونيوں كا فرعون كى قيادت ميں جہنم كى طرف جانا، دنيا ميں اس كے غلط كاموں كا نتيجہ ہے _

و ما أمر فرعون برشيد ، يقدم قومه يوم القيامة فأوردهم النّار

(يقدم قومہ ...) كا جملہ (و ما امر فرعون برشيد) كے جملے كى تفسير ہے _ يہ فرعون كى پيروي كرنے والوں كے برے انجام كو بتارہا ہے_

۴_ قيامت ميں لوگوں كے وہى رہبر ہوں گے جو دنيا ميں ان كے رہبر تھے _فاتبعوا أمر فوعون يقدم قومه يو القيامة

( يقدم قومہ ) كا جملہ يہ بتاتا ہے كہ دنيا ميں جس نے جس كسى كى اتباع كى ہے ( فاتبعوا امر فرعون) آخرت ميں بھى اسى كى قيادت ميں رہے گا_

۵_بشرى معاشرے كے رہبر، ان كى اْخروى سعادت و شقاوت ميں كافى مؤثر ہيں _

فاتبعوا أمر فرعون يقدم قومه يوم القيامة فأوردهم النار

۶_ وہ قوانين اور اصول جو ہدايت كرنے اور بزرگى عطا كرنے والے ہيں وہى انسان كے ليے اخروى سعادت كا ذخيرہ اور دوزخ كى آگ سے نجات كا

۲۸۹

ذريعہ ہيں _و ما أمر فرعون برشيد يقدم قومه يو م القيامة فأوردهم النار

۷_ رسل الہى كى پيروى نہ كرنے كا انجام، دوزخ كى آگ ہے _

و لقد أرسلنا موسى الى فرعون و ملايه فاتبعوا امر فرعون و بئس الورد المورود

۸_ دوزخ كى آگ بدقسمتى كا نتيجہ اور برى جگہ ہے _و بئس الورد المورود

( الورد )كا معنى نصيب اور قسمت ہے _ اور يہ بئس كا فاعل ہے _ ( ال) جو اس پر ہے جنس كا ہے (المورد ) وہ شے جسميں داخل ہوتے ہيں يہ مذمت كے ساتھ مخصوص ہے _ اس پر (ال) عہد ذكرى ہے _ جو دوزخ كى آگ كى طرف اشارہ ہے تو اس صورت ميں ( بئس الورد المورود) كا معنى يوں ہوگا _ وہ بد نصيب اور بدقسمت لوگ ہيں جو جہنم كى آگ ميں جائيں گے _

اطاعت :فرعون كى اطاعت كرنے كا انجام ۳

جہنم :جہنم سے نجات كى اہميت ۶;جہنم كى آگ ۷،۸; جہنم كى بدبختى ۸;جہنم ميں پہلے جانے والے ۱; جہنم ميں جانے كے اسباب ۷

جہنمى افراد : ۱،۲،۳

رہبر:دنيا كے رہبر ۴; قيامت ميں رہبر ۴

رہبري:رہبرى كے كردار كى اہميت ۵

سعادت :سعادت اخروى كى اہميت ۵;سعادت اخروى كے اسباب ۵

شقاوت :شقاوت اخروى كے اسباب۵

فرعون:فرعون اور فرعونى لوگ ۲;فرعون كا آگے آگے ہونا ۱،۳ ; فرعون كا جہنم ميں جانا ۱; فرعون كا مؤثر ہونا ۲ فرعون قيامت كے دن ۱;فرعون كى گمراہى كى علامات ۳

فرعونى افراد:جہنم ميں فرعونيوں كا ہوناا ۱، ۲، ۳; فرعونى قيامت كے دن ۱۰

قانون:خوشبختى كے قانون كا ملاك ۶

نافرمانى :انبياءعليه‌السلام كى نافرمانى كا انجام ۷

۲۹۰

آیت ۹۹

( وَأُتْبِعُواْ فِي هَـذِهِ لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ )

ان لوگوں كے پيچھے اس دنيا ميں بھى لعنت لگادى گئي ہے اور روز قيامت بھى يہ بدترين عطيہ ہے جو انھيں ديا جائے گا (۹۹)

۱_ فرعون اور اسكے پيروكار، دنيا اور آخرت ميں لعنت الہى ميں گرفتار اور رحمت الہى سے دور ہيں _

و اُتبعوا فى هذه لعنة و يوم القيامة

(اتبعوا) كى ضمير فرعون اور اسكى قوم كى طرف پلٹتى ہے _ (اتباع) (اتبعوا ) كا مصدر ہے جو ساتھ ملانے يا پيچھے بھيجنا كے معنى ميں آتا ہے _لہذا ( و اتبعوا ...) كا معنى يوں ہوگا _ يعنى فرعون اور اسكى قوم دنيا اور آخرت ميں لعنت الہى كو اپنے ساتھ ساتھ پائيں گے _

۲_ انبياءعليه‌السلام كى رسالت كو قبول نہ كرنا، دنيا و آخرت ميں لعنت الہى ميں گرفتار ہونے اور دنيا و آخرت ميں رحمت الہى سے دور ہونے كا سبب ہے _و لقد أرسلنا موسى و أتبعوا فى هذه لعنة و يوم القيامة

۳_ لعنت الہى اور رحمت الہى سے دور ہونا برا انعام اور بدترين سزا ہے _بئس الرفد المرفود

(الرفد ) كا معنى عطيہ و انعام ہے اور (بئس) كا فاعل ہے _ اور اس پر الف و لام جنس كا ہے _ (المرفود) سے مراد برا انعام و عطيہ ہے _ اس ميں (ال) عہد ذكرى ہے اور لعنت اور رحمت خدا سے دورى كى طرف اشارہ ہے_لہذا (بئس الرفد المرفود ) كا معنى يوں ہوگا _ يہ انعام (جو لعنت الہى ہے ) يہ برا انعام و عطيہ ہے _

۴_ دنيا ميں فرعونيوں كو جو انعام ملا وہ برا انعام اور آخرت ميں جو سزا ملے گى وہ بدترين سزا ہوگى _

و أتبعوا فى هذه لعنة و يوم القيامة الرفد المرفود

آيت شريفہ ميں سزا و برے انجام كو تمسخر كے طور پر (رفد ) ( يعنى انعام و عطيہ ) سے ياد كيا گيا ہے_

۲۹۱

الله تعالى :الله تعالى كى لعنت ۳; الله تعالى كيلعنت كے اسباب ۲

انبياءعليه‌السلام :انبياء كى تكذيب كے آثار ۲

رحمت :آخرت ميں رحمت الہى سے محروم ہونا ۲; رحمت الہى سے دنيا ميں محروم ہونا ۲;رحمت الہى سے محروم لوگ ۱; رحمت الہى سے محروم ہونا ۳

عطايا:برے انعامات ۳،۴

فرعون :فرعون پر لعنت ۱; فرعون كا محروم ہونا ۱

فرعونى لوگ:فرعونيوں كى آخرت كى سزا ۴;فرعونيوں پر لعنت ۱; فرعونيوں كى دنيا ميں سزا ۴; فرعونيوں كى محروميت ۱

لعنت:لعنت كے مستحق ۱

آیت ۱۰۰

( ذَلِكَ مِنْ أَنبَاء الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَحَصِيدٌ )

يہ چند بستيوں كى خبريں ہيں جو ہم آپ سے بيان كررہے ہيں _ ان ميں سے بعض باقى رہ گئي ہيں اور بعض كٹ پٹ كر برابر ہوگئي ہيں (۱۰۰)

۱_ قوم فرعون ، نوح(ع) ، ہود(ع) ، صالح(ع) ، لوط(ع) ، اور شعيبعليه‌السلام كے واقعات، تاريخ بشرى كے اہم واقعات ہيں _ذلك من أنباء القرى

(انباء)جمع نبأ ہے اور نبأ جيسے مفردات راغب ميں ذكر ہوا ہے كہ اس خبر كو كہتے ہيں جسكا بہت بڑا فائدہ ہو'' قرى '' ( قريہ ) كى جمع ہے بستيوں كو كہا جاتا ہے _

۲_ الله تعالى آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو ہلاك ہونے والى اقوام كے واقعات اور عذاب سے تباہ شدہ بستيوں كے بعض حالات سے آگاہ فرماتا تھا _ذلك من انباء القرى ...نقصه عليك

۳_ كچھ بستياں جن پر عذاب آيا تھا نابود و مٹ چكى تھيں ، ليكن كچھ بستيوں كے آثار آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زمانے ميں باقى تھے _ذلك من أنباء القرى منها قائم و حصيد

(قائم) كا معنى كھڑا اور استوار ہونااور( حصيد) كاٹى ہوئي جو و گندم ) ہے آيت شريفہ ميں ويران نہ ہونے والى بستيوں كو اس

۲۹۲

زراعت كےمشابہہ قرار ديا گيا ہے جو اپنے تنے پر قائم ہواور بتاہ شدہ بستيوں كو كائي ہوئي كھيتى كے ساتھ تشبہيہ دى گئي ہے _

۴_ بعض گذشتہ اقوام پر عذاب كا نزول سب افراد كو شامل نہيں تھابلكہ ان كى كچھ نسل باقى رہ گئي تھى _

مذكورہ معنى اس صورت ميں ہے كہ ( منہا ) سے مرادمن اہلہا ہولہذا( منہا قائم ) سے مراد يہہے كہ بعض اقوام جو عذاب الہى ميں گرفتار ہوئي تھيں ان ( آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) كے زمانہ ميں ابھى موجودہيں _اور باقى اقوام كلى طور پر نابود ہوچكى تھيں ان ميں سے كچھ بھى باقى نہيں رہا_

۵_ بعض گذشتہ اقوام، عذاب الہى كے نازل ہونے كى وجہ سے بالكل مٹ گئيں اور ان كى كوئي نسل باقى نہيں رہى _

منها ...حصيد

۶_ قرآن مجيد، تاريخ بشر اور گذشتہ اقوام كے انجام سے آگاہى كا مركز ہے _

ذلك من اؤنباء القرى نقصه عليك منها قائم و حصيد

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور گذرى ہوئي اقوام كا انجام ۲; آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور گذرى ہوئي اقوام كى ہلاكت ۲

الله تعالى :الله تعالى كى خبريں ۲

اہل مدائن :اہل مدائن كى تاريخ ۱

تاريخ :تاريخ كے اہم ترين واقعات ۱;تاريخ كے منابع ۶

شناخت :منابع كى شناخت ۶

عذاب:اہل عذاب كا مٹ جانا ۵;اہل عذاب كى نسل ۵ اہل عذاب كى نسل كى بقاء ۴;عذاب شدہ شہروں كا باقى رہنا ۳; عذاب شدہ شہروں كى نابودى ۳

فرعونى لوگ:فرعونيوں كى تاريخ۱

قرآن :قرآن مجيد كا كردار ۶

قوم ثمود :قوم ثمود كى تاريخ ۱

قوم لوط:قوم لوط كى تاريخ ۱

۲۹۳

قوم نوح :قوم نوح كى تاريخ ۱

قوم عاد :قوم عاد كى تاريخ ۱

آیت ۱۰۱

( وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَـكِن ظَلَمُواْ أَنفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ مِن شَيْءٍ لِّمَّا جَاء أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ )

اور ہم نے ان پر كوئي ظلم نہيں كيا ہے بلكہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم كيا ہے تو عذاب كے آجانے كے بعد ان كے وہ خدا بھى كام نہ آئے جنھيں وہ خدا كو چھوڑ كر پكاررہے تھے اور ان خدائوں نے مزيد ہلاكت كے علاوہ انھيں كچھ نہيں ديا(۱۰۱)

۱_ الله تعالى ، اپنے بندوں پر ظلم نہيں كرتا ہے _و ما ظلمناهم

۲_ الله تعالى انسانوں كو گناہوں ( شرك پرستى ، انبياء كے انكار و غيرہ ) كى طرف رغبت نہيں دلاتا ہے_و ما ظلمناهم

الله تعالى كا اپنى مخلوق پر ظلم نہ كرنے سے مراد يہ ہے كہ وہ ان كو ہلاكت اور عذاب كے اسباب (شرك و غيرہ ...) كى طرف رغبت نہيں دلاتا پس جو عذاب ان پرنازل ہوئے ہيں وہ ان كے اعمال كى وجہ سے ہيں _

۳_ شرك ، انبياءعليه‌السلام كا انكار اور گناہوں كا مرتكب ہونا يہ ايسے ظلم ہيں جو مشركين،كفاراور گہنگار اپنے حق ميں انجام ديتے ہيں _ولكن ظلموا انفسهم

(ظلموا انفسهم ) انہوں نے اپنى جانوں پر ظلم كيا اس سے مراد گناہ اور اس كے آثار اور جو چيزيں ان كے ساتھ ہوتيں ہيں وہ ہے_ مذكورہ معنى پہلے لحاظ كو مدّ نظر ركھتے ہوئے بيان كيا گيا ہے _

۴_ مشركين ، كفار اور گنہگاروں كا عذاب الہى ميں گرفتار ہونا، ايسأظلم و سزا ہے كہ جس كا خود انہوں نے اپنے ليئے زمينہ فراہم كيا ہے_ولكن ظلموا انفسهم

يہ بات بيان ہوچكى ہے كہ ( نفس پر ظلم كرنا ) گناہ اوراس كے آثارنيز وہ افعال جو گناہوں كے ساتھ ساتھ ہوتے ہيں مراد ليے گئے ہيں مذكورہ معنى دوسرے احتمال كو مد نظر ركھتے ہوئے كيا گيا ہے _ لہذا ( ظلموا انفسہم ) يعنى كافروں پر عذاب كا نزول، ان كے گناہوں كے آثاراور نتيجہ ہے _ يہ ايسأظلم ہے جوخود انہوں نے اپنے اوپر روا ركھا _

۲۹۴

۵_ گذشتہ ہلاك شدہ قوموں ، قوم نوح(ع) ، عاد(ع) ، ثمود(ع) ، قوم شعيب(ع) و لوط(ع) اورفرعون نے شرك اور انبياء كى رسالت كے انكار كى وجہ سے اپنے اوپر ظلم كيا _و ما ظلمنا هم ولكن ظلموا ا نفسهم

ضمير ( ہم ) اور اس كى مانند دوسرى ضمائر جو آيت شريفہ ميں مورد بحث واقع ہوئي ہيں ان سے مراد ايسى اقوام ہيں جن كے حالات سورہ ہود ميں بيان ہوئے ہيں يعنى قوم نوح ، عاد و غيرہ

۶_ گذشتہ اقوام ( قوم فرعون و عاد ...) پر جو عذاب نازل ہوا وہ ان كى اپنى خلاف ورزيوں كى وجہ سے تھا_

و ما ظلمنا هم ولكن ظلموا انفسهم

۷_ مشركين، عذاب الہى كے نزول كے وقت پربتوں اور اپنے جھوٹے معبودوں سے مدد طلب كرتے ہيں اور اس كو ٹالنے كے ليے ان سے امداد چاہتے ہيں _فما أغنت عنهم ء الهتهم التى يدعون من دون الله من شيء لما جاء أمر ربك

(أمرربك ) سے مراد، عذاب الہى ہے _ اور لفظ اغناء ( أغنت) كا مصدر ہے _ جو كفايت كرنے اور دور كرنے كے معنى ميں آتا ہے_ (من شيئ) ( ما ا غنت ) كے ليے مفعول ہے _ اور اس سے مراد عذاب الہى ہے _ تو اس صورت ميں (فما أغنت عنہم آلہتہم من شيء) سے مراد يہ ہے كہ، ان كے معبود،ان كے ليے كافى نہ ہوئے _ حتى كہ تھوڑے سے عذاب كو بھى ان سے دور نہيں كرسكے_

۸_ بت اور خيالى معبود، اپنى پرستش كرنے والوں كى كبھى بھى فرياد رسى نہيں كرتے اور ان سے تھوڑے سے بھى عذاب الہى كو دور نہيں كرسكتے_فما أغنت عنهم ء الهتهم التى يدعون من دون اللّه من شيء لما جاء أمر ربك

۹_ فقط الله تعالى ہى عذاب اور مصيبتوں سے نجات دينے والا ہے_فما ا غنت من دون اللّه

(ألہتہم ) كى صفت ( التى يدعون من دون اللّہ ) كو لانا گويا يہ بتاتا ہے كہ غير الله كو مدد كے ليے نہيں بلانا چاہيے كيونكہ الله تعالى وحدہ لا شريك كے علاوہ كوئي بھى عذاب كوٹال نہيں سكتا _

۱۰_ مشركين پر جو عذاب نازل ہوا وہ حكم الہى سے تھا_لما جاء أمر ربك

۱۱_ مشركين اور گناہ ميں آلودہ افراد پر عذاب الہى كا نازل ہونا، ربوبيت الہى كا جلوہ اور انسانوں كے امور كو منظم و مرتب كرنے كى وجہ سے ہوتا ہے_لما جاء امر ربك

مذكورہ بالا معني، كا كلمہ ( ربّ) ( مدبر و مربي)كو ملحوظ خاطر ركھتے ہوئے استفادہ كيا گيا ہے_

۲۹۵

۱۲_ الله تعالى كے احكام كسى كمى و زيادتى كے بغير انجام پاتے ہيں _لما جاء أمر ربك

(امر ) سے عذاب كو تعبير كرنے سے مراد، فرمان الہى ہے يہ اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ جس چيز كے انجام كے بارے ميں الله تعالى كا فرمان ہوتا ہے وہ بغير كسى كمى و زيادتى كے انجام پاتا ہے ، اس طرح كہ وہ انجام پانے والا كام، وہى امر و فرمان الہى ہے_

۱۳_ الله تعالى ، نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زمانے كے مشركين اور ان كى رسالت سے انكار كرنے والوں كو عذاب الہى اور سزا سے ڈرايا_فما أغنت عنهم ء الهتهم لما جاء أمر ربك

گذشتہ اقوام كى عاقبت كے بارے ميں نتيجہ لينے كے بيان كے سلسلہ ميں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو اس طرح خطاب كرنا ( لما جاء امر ربك ) اور (ذلك من انباء القرى نقصہ عليك ) اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ عصر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مشركين بھى ان مختلف قسم كے عذاب ميں گرفتار ہونے كے خطرہ سے دو چار تھے_

۱۴_ جھوٹے معبودوں كى عبادت كرنے والے وہ لوگ ہيں جو تباہ وبرباد اور گھاٹے ميں ہيں _و ما زاوهم غيرتتبيب

(تتبيب) كا لغوى معنى نقصان اٹھانا ،نقصان دينا ، ہلاكت ميں ڈالنا ، نفرين اور ہلاك ہونے اور خسارت كى درخواست كرنے كے معنى ميں آيا ہے_

۱۵_ جھوٹے معبودوں سے مدد طلب كرنا، نہصرف ان مدد طلب كرنے والوں كوكوئي فائدہ نہيں ديتابلكہ ان كے ليے تباہى اور گھاٹے ميں اضافہ كا موجب ہے_و ما زاوهم غير تتبيب

(وما زادوہم ...) كے جملے ميں يہ بتايا گياہے كہ بت، گھاٹے و نقصان كو زيادہ كرنے والے ہيں جبكہ بت نقصان دينے پرقدرت نہيں ركھتے ہيں (مازادوہم ...) سے مرادجملہ (التى يدعون ...) كے قرينہ كى بنيادپر يہ ہے كہ بتوں پر اعتقاد ركھنا، نقصان كا موجب بنتا ہے اور نزول عذاب كے وقت ان سے مدد طلب كرنا، ان مدد طلب كرنے والوں كے ليے نقصان ميں اضافہ كا موجب ہے_

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :آنحضرت كے جھٹلانے والوں كو ڈرانا ۱۳

اسماء و صفات :صفات جلالہ ۱، ۲

الله تعالى :

۲۹۶

اوامر الہى كا حتمى ہونا ۱۲; لله تعالى اور ظلم ۱; االله تعالى كا پاك و پاكيز ہونا ۱، ۲; الله تعالى كا ڈرانا ۱۳;الله تعالى كا نجات دينا ۹;الله تعالى كى خصوصيات ۹;الله تعالى كى ہدايت كرنا ۲;ربوبيت الہى كى نشانياں ۱۱; الله تعالى كے اوامر ۱۰

انبياءعليه‌السلام :انبياءعليه‌السلام كو جھٹلانے كأظلم ۳;انبياءعليه‌السلام كو جھٹلانے كے آثار ۵

انسان :انسانوں كا مدبر ۱۱

اہل مدائن :اہل مدائن كأظلم ۵; اہل مدائن كا عذاب ۶; اہل مدائن كى سزا ۶

بت :بت اور عذاب سے نجات ۸; بتوں كا عاجز ہونا ۸

جھوٹے معبود :جھوٹے معبود اور عذاب سے نجات ۸;جھوٹے معبودوں كا عاجز ہونا ۸

خود :خود پر ظلم كرنا ۳، ۴، ۵

سزا :سزا سے ڈرانا ۱۳

شرك :شرك كأظلم ۳;شرك كے آثار ۵

ظالمين :۳، ۵

ظلم :ظلم كے موارد ۳

عذاب :عذاب سے ڈرانا ۱۳; عذاب سے نجات ۹

قوم ثمود :قوم ثمود كأظلم ۵; قوم ثمود كا عذاب ۶; قوم ثمود كى سزا ۶

قوم عاد:قوم عاد كأظلم ۵; قوم عاد كا عذاب ۶; قوم عاد كى سزا ۶

قوم فرعون :قوم فرعون كأظلم ۵; قوم فرعون كا عذاب ۶; قوم فرعون كى سزا ۶

قوم لوط :قوم لوط كأظلم ۵; قوم لوط كا عذاب ۶; قوم لوط كى سزا ۶

قوم نوح:قوم نوح كأظلم ۵; قوم نوح كا عذاب ۶; قوم نوح كى سزا ۶

۲۹۷

كفار :كفار پر عذاب كے عوامل ۴

گناہ :گناہ كرنے كأظلم ۳

گناہگار :گناہگاروں كا عذاب ۱۱; گنہگاروں كے عذاب كے اسباب ۴

مدد طلب كرنا :بتوں سے مدد طلب كرنا ۷; بے ثمر مدد طلب كرنا ۱۵;جھوٹے معبودوں سے مدد طلب كرنا۷; جھوٹے معبودوں سے مدد طلب كرنے كا نقصان ۴

مشركين :صدر اسلام كے مشركين كو ڈرانا ۱۳; مشركين، عذاب كے وقت ۷; مشركين كا عذاب ۱۱; مشركين كا مدد طلب كرنا ۷;مشركين كا نقصان اٹھانا ۱۴; مشركين كى ہلاكت كا سبب ۱۴; مشركين كے عذاب كا سبب ۱۰;مشركين كے عذاب كے اسباب ۴

آیت ۱۰۲

( وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ )

اور اسى طرح تمھارے پروردگار كى گرفت ہوتى ہے جب وہ ظلم كرنے والى بستيوں كو اپنى گرفت ميں ليتا ہے كہ اس كى گرفت بہت ہى سخت اور دردناك ہوتى ہے (۱۰۲)

۱_ سيلاب جيسے پانى كام جوش مارنا ، طوفانى بارشوں كابرسنا بستيوں كا اوپر نيچے ہوجانا ، عذاب والے پتھروں گا گرنا، نابود كرنے والى صحيہ اور دردناك آواز يں الله تعالى كى عقوبيتيں اور عذاب استيصال كا نمونہ ہيں _و كذلك أخذ ربك

(ذلك ) كا اشارہ، ان عذابوں كى طرف ہے جو اس سورہ ميں بيان ہوتے ہيں جيسے طوفان نوح ، قوم لوط كى آبادى كا زير و بالا ہوجانا و غيرہ_

۲_ ظلم كرنے والى قوميں (كفر و شرك اختيار كرنے والے معاشرے) الہى عقوبتوں اور عذاب استيصال ميں گرفتار ہونےكے خطرہ سے دچار ہيں _كذلك أخذ ربك اذا أخذ القرى و هى ظالمة

۳_ الہى عذاب ،ان شہروں ا ور بستيوں پر نازل ہوتا ہے جن ميں عام طور پر كفر و شرك كے آثار اور ظالم لوگ موجودہوں _و كذلك أخذ ربك اذا أخذ القرى و هى ظالمة

۲۹۸

بستيوں كى طرف ظلم كى نسبت دينا ( و ہى ظالمة) نسبت مجازى ہے _ يہ اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ ان بستيوں كے اكثر بلكہ تقريباً تمام لوگ ظالم تھے گويأظلم و ستم ان شہروں كے گلى كوچے ميں نماياں تھا_

۴_ ظلم و ستم كرنے والے ( كافر و مشرك) افراد پر عذاب الہى كا نازل ہونا،انسانوں كے امور كى تدبير كے سلسلہ ميں ربوبيت الہى كا جلوہ ہے_و كذلك أخذ ربك اذا أخذ القرى و هى ظالمة

۵_ الله تعالى نے عصر بعثت كے مشركين اور كفار كو دنيا ميں سخت عذاب سے ڈرايا _

و كذلك أخذ ربك اذا أخذ القرى و هى ظالمة ان اخذ اليم شديد

(كذلك اخذ ربك) ميں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو مخاطب قرار دينے سے مذكورہ بالا معنى حاصل ہوتا ہے_

۶_ الله تعالى كا عذاب ،دردناك اور سخت عذاب ہے_ان أخذه اليم شديد

اكثريت:ظلم كى اكثريت ۳

الله تعالى :الله تعالى كا ڈرانا ۵; الله تعالى كا عذاب ۱، ۳;الله تعالى كى ربوبيت كى نشانياں ۴;الله تعالى كى سزائيں ۱، ۲; الله تعالى كے عذاب كى خصوصيات ۶

انسان :انسانوں كا مدبر ہونا ۴

شرك:شرك كے آثار ۳

ظالمين :ظالموں پر عذاب ۲،۴; ظالموں كى سزا ۲

ظلم :ظلم كے آثار

عذاب :عذاب كا ذرئيعہ ۱; اہل عذاب ۲; بارش كے ذرئيہ عذاب۱;دردناكى عذاب۶;دنياوى عذاب سے ڈرانا ۵; صيحہ آسمانى كے ذريئعہ عذاب ۱; عذاب استيصال ۱، ۲; عذاب سجّيل (كھرنجے دار پتھر) ۱; عذاب شہروں كى ويرانى سے ۱; عذاب طوفان سے ۱;شديدعذاب۵;عذاب كے اسباب ۳ ; مرتب عذاب ۵

كفار :صدر اسلام كے كفار كودھمكى دينا ۵; كافروں كا عذاب ۲، ۴; كفار كى سزا ۲

كفر:كفر كے آثار ۳

مشركين :صدر اسلام كے مشركين كى تہديد ۵; مشركين كا عذاب ۲، ۴; مشركين كى سزا ۲

۲۹۹

آیت ۱۰۳

( إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ )

اس بات ميں ان لوگوں كے لئے نشانى پائي جاتى ہے جو عذاب آخرت سے ڈرنے والے ہيں _ وہ دن جس دن تمام لوگ جمع كئے جائيں گے اور وہ سب كى حاضرى كا دن ہوگا (۱۰۳)

۱_ كفار و مشرك قوموں پر عذابوں كا نازل ہونا، قيامت كے وجود اور آخرت كے عذاب كى بہت بڑى نشانى ہے_

ان فى ذلك لأية

(آية) كا يہاں معنى نشانى ہے_ اور (لمن خاف عذاب الأخرة) كے قرينے سے اس كا متعلق قيامت كى حقانيت اور اس دن كے عذاب كى طرف اشارہ ہے _ لفظ ( آية ) كو نكرہ لانا، يہ اس دن كى بزرگى و عظمت كو بتاتا ہے_لہذا ( ان فى ذلك لأية) كا معنى يہ ہوگا كہ ان دنياوى عذابوں ميں قيامت كى حقانيت اور اس كے عذابوں پر بہت بڑى نشانى ہے_

۲_ آخرت كا عذاب ، بہت سخت عذاب اور سزاوار ہے كہ اس سے ڈراجائے_لمن خاف عذاب الأخرة

۳_ روز آخرت كے وجود كے احتمال سے استيصال عذاب سے عبرتليتا ہے اوران عذابوں سے اس بات كو قبول كرتا ہے كہ يہ دليل ہے كہ آخرت كا ميدان لگايا جائے گا_ان فى ذلك لأية لمن خاف عذاب الأخرة

كلمہ (خاف) جو آيت مذكورہ ميں ہے اس سے احتمال دينے كا معنى استفادہ ہوتا ہے_لہذا مذكورہ تفسير اسى بناء پر ہے _

۴_ جو قيامت پر يقين نہيں ركھتے وہ دنيا كے عذابوں كو قيامت اور اخروى عذابوں پر اسكى دليل ہونے كو درك نہيں كرسكتے_

ان فى ذلك لأية لمن خاف عذاب الأخرة

يہ بات واضح ہے كہ دنيا كے عذابوں كو قيامت كى حقانيت پر دليل قرار دينا، كسى خاص گروہ كے ساتھ مخصوص نہيں ہے _ اور لام ( لمن خاف ...) ميں لام انتفاع ہے _ يہ اس بات كى طرف اشارہ ہے _ اگر چہ يہ عذابوں كينشانى كسى خاص گروہ كے ساتھ مخصوص نہيں ہے ليكن قيامت پر ايمان نہ ركھنےوالے اس كو سمجھنے سے محروم ہيں _

۳۰۰

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863

864

865

866

867

868

869

870

871

872

873

874

875

876

877

878

879

880

881

882

883

884

885

886

887

888

889

890

891

892

893

894

895

896

897

898

899

900

901

902

903

904

905

906

907

908

909

910

911

912

913

914

915

916

917

918

919

920

921

922

923

924

925

926

927

928

929

930

931

932

933

934

935

936

937

938

939

940

941

942

943

944

945

946

947

948

949

950

951

952

953

954

955

956

957

958

959

960

961

962

963

964

965

966

967

968

969

970

971