تفسير راہنما جلد ۸

تفسير راہنما 6%

تفسير راہنما مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 971

جلد ۱ جلد ۲ جلد ۳ جلد ۴ جلد ۵ جلد ۶ جلد ۷ جلد ۸ جلد ۹ جلد ۱۰ جلد ۱۱
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 971 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 205886 / ڈاؤنلوڈ: 4272
سائز سائز سائز
تفسير راہنما

تفسير راہنما جلد ۸

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

بسم اللہ الرحمن الرحیم

۵- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت

از:زہراءاصغری

امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت یوں تو بہت ہیں اور یہ کہ اس جہان میں کوئی شی اور کام بغیر کسی ہدف اور حکمت و مصلحت کے نہیں ہے حکیم کا کوئی بھی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا غیبت امام مہدی علیہ السلام میں بھی ہدف اور حکمت موجود ہے اصل فلسفہ اور حکمت سے تو صرف خداوندعالم واقف ہے عام لوگ اس حکمت و مصلحت سے واقف نہیں ہے لیکن جس طرح بہت سے واجبات اور احکامات تعبدی محض ہے اور کسی کو اس کی اصل مصلحت اور حکمے کے بارے میں علم نہیں اسی طرح غیبت امام زمانہ علیہ السلام بھی مصلحت و حکمت خداوندی کی بناءپر عمل میں آئی ہے جیسے طواف کعبہ، رمی حمرہ اور تعداد رکعات نماز، تعداد خازنان جہنم وغیرہ جس کی اصل حکمت و فلسفہ سے صرف خدا آگاہ ہے البتہ بعض مصلحتیں حکمتیں اور اہداف قرآنی آیات میں موجود ہے اور پیغمبر اکرم اور آئمہ طاہرین علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے جو خود معلمین و راہنمائے بشریت ہے اور ارشاد خداوندی کے مطابقمن یطلع الرسول فقد اطاع الله (سورہ نباءآیت۰۸) جس نے پیغمبر کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی کیونکہ پیغمبر کوئی قدم خدا کی معثیت کے خلاف نہیں اُٹھاتا اس کی گفتار، کردار اعمال سب کے فرمان کے مطابق ہیں اور اس طرح آیہ تطہیر اور اولی الامر کے مطابق چونکہ اہلبیت علیہ السلام ہر رجس سے پاک ہیں اور ان کی طاعت واجب ہے یہ روایات مدرک قطعی کے مطابق روایات متواترہ میں سے ہیں یہ مسلم ہے کہ زمین حجت خدا اور امام زمانہ علیہ السلام سے خالی نہیں رہ سکتی اور چونکہ حجت خدا اس وقت حضرت مہدی علیہ السلام کے سوا کوئی نہ تھا اور انہیں دشمن قتل کر دینے پر تلے ہوئے تھے اس لیے محفوظ و مستود کر دیا گیا کیونکہ مثیت خداوندی یہی ہے کہ زمین حجت سے خالی نہ ہو حدیث میں وارد ہے کہ حجت خدا کی وجہ سے بارش ہوتی اور انہیں کی وجہ سے اور انہیں کے ذریعے روزی تقسیم کی جاتی ہے(بحار) یہ بھی مسلم ہے کہ حضر مہدی علیہ السلام جملہ انبیاءکے مظہر تھے اس لیے ضرورت تھی کہ انہیں کی طرح ان کی غیبت بھی ہوئی یعنی جس طرح بادشاہ وقت کے مظالم کی وجہ سے حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی اپنے عہد حیات میں مناسب مدت تک غائب رہ چکے تھے اسی طرح یہ بھی غائب رہتے بادشاہ وقت خلیفہ محمد عباسی جو اپنے آباءو اجداد کی طرح ظلم و ستم کا خوگر اور آل محمد کا جانی دشمن تھا اور اس کے کانوں میں مہدی علیہ السلام کی ولادت کی خبر کم و بیش بڑھ چکی تھی اس نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد تکفین و تدفین سے پہلے حضرت کے گھر پر پولیس کا چھاپہ ڈبوایا اور چاہا کہ امام مہدی علیہ السلام کو گرفتار کرا لے اور چونکہ آپ کو اپنی جان کا خوف تھا اور یہ طے شدہ بات ہے کہ جیسے اپنے نفس اور اپنی جان کا خوف ہو وہ پوشیدہ ہونے کو لازمی جانتا ہے سورہ انا انزلناہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نزول ملائکہ شب قدر میں ہوتا رہتا ہے یہ ظاہر ہے کہ نزول ملائکہ انبیاءو اوصیاءہی پر ہوا کرتا ہے لہذا امام مہدی علیہ السلام کو اسی لیے موجود اور باقی رکھا گیا ہے تا کہ نزول ملائکہ کی مرکزی غرض و مقصد پوری ہو سکے اور شب قدر میں انہیں پر نزول ملائکہ ہو سکے حدیث میں ہے کہ شب قدر میں سال بھر کی روزی وغیرہ امام مہدی علیہ السلام تک پہنچا دی جاتی ہے اور وہی اس سے تقسیم کرتے رہتے ہیں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرمان کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کو اس لیے غائب کیا جائے گا تا کہ خداوند عالم اپنی ساری مخلوقات کاامتحان کر کے یہ جانچے کہ نیک بندے کون ہیں اور باطل پرست کون لوگ ہیں زمانہ غیبت میں مصائب و مشکلات کے ذریعے شیعوں سے امتحان لیا جائے گا آپ کی غیبت کے متعلق قرآن مجید میںارشاد خداوندی ہے: الم ذالک الکتاب لاریب فیہ ھدی للمتقین الذین یومنون بالغیب مفسر اعظم حضرت محمد فرماتے ہیں کہ ایمان بالغیب سے امام مہدی علیہ السلام کی غیبت مراد ہے نیک بخت وہ لوگ ہیں جو ان کی غیبت پر صبر اور زمانہ غیبت مراد ہے نیک بخت وہ لوگ ہیں جو ان کی غیبت پر صبر اور زمانہ غیبت میں ان پر ہونے والے مشکلات پر صبر کریں گے اور مبارک باد اور آفرین کے قابل ہیں وہ لوگ جو غیبت میں بھی ان کی محبت پر قائم رہیں گے اور شاید آپ کی غیبت اس لیے واقع ہوئی ہے کہ خداوند عالم ایک وقت معین میں آل محمد پر جو مظالم کیے گئے ہیں ان کا بدلہ امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے سے لے گا عبدالسلام بن صالح ہروی سے مروی ہے کہ اس نے کہا میں نے امام رضا علیہ السلام سے کہا اے فرزند رسول امام جعفر صادق علیہ السلام سے ملنے والی حدیث میں فرمایا گیا کہ جب ہمارا قائم علیہ السلام ظاہر ہو گا تو وہ قاتلان حسین علیہ السلام کی اولاد کو ان کے اجداد کے جرائم کی پاداش میں قتل کرے گا امام رضا علیہ السلام نے فرمایا یہ درست ہے میں نے کہا خدا نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ولا تزر وازرة وزراخریٰ کوئی شخص کسی دوسرے (گناہ) کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا اس کا کیا مفہوم ہے آپ نے فرمایا خدا نے اپنے تمام کلام میں سچ کہا ہے لیکن چوکہ امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کی اولاد اپنے اجداد کے اعمال پہ راضی اور اس پہ فخر کرتے ہیں اس لیے وہ بھی قتل کیے جائیں گے جو شخص کسی کے عمل پر راضی ہو تو گویا وہ اس عمل کے بجا لانے میں اس کا شریک ہے اگر کوئی انسان مشرق میں قتل کیا جائے اور مغرب میں کوئی اس کے قتل پر خوش ہو تو خداوندعالم کے نزدیک وہ بھی اس قتل کا ساتھی ہے حضرت قائم علیہ السلام ے ہاتھوں ان کے قتل ہونے کا یہی سبب ہے اور شاید ایک سبب اور حکمت امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا یہ بھی ہو بقول محقق طوسی کہ وجودہ لطف وتصرفہ لطف اٰخروعدمہ منا امام زمانہ علیہ السلام کا وجود لطف ہے اور ان کا تصرف دوسرا لطف ہے اور ان کی غیبت ہماری طرف سے ہے مقصد یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا سبب اور ان کا امور مسلمین میں تصرف نہ فرمانا یہ سب اس لیے ہے کہ ابھی تمام مسلمان حضرت کی اطاعت پر آمادہ نہیں ہیں اور مستضعفین کو متکبرین اور طاغوت کے شر سے نجات دلانا اور سارے جہاں میں عدل عمومی کی آمادگی شرط اول ہے اور ابھی تک اس تصرف کی شرائط فراہم نہیں ہوئیں بقول شہید مطہری کہ یہ دنیا کا دستور ہے کہ جب کسی اہم مہمان کو دعوت دیتے ہیں تو بہت اہتمام کرتے ہیں اور اپنے گھر کی صفائی کرتے ہیں لذیذ کھانے تیار کرتے ہیں تو کس طرح ممکن ہے کہ ہم اس عظیم شخصیت کو دعوت دیں اور اپنے دل کے گھر کو ہر گناہ اور خلاف ورزی سے صاف نہ کریں کیونکہ امام زمانہ علیہ السلام کا ایک شرعی فرض یہ ہے کہ وہ زمانہ غیبت کے لیے اپنے جانشینوں کا تعین فرمائیں خواہ لوگ انہیں تسلیم کریں یا نہ کریں اس سے آپ کا شرعی فریضہ پورا ہو جائے گا اور آپ نے ان جانشینوں کے بارے میں فرمایا ہے ان کی بات رد کرنے والا ہماری بات کو رد کرنے والا ہے اور جس نے ہماری بات کو رد کیا اس نے خدا کے فرمان کو رد کیا اور خدا کے فرمان کو رد کرنے والا حد شرک میں داخل ہو جاتا ہے ایک اور روایت میں امام زمانہ علیہ السلام سے یہ الفاظ مروی ہےں آپ نے فرمایا امورو احکام ان علمائے الہیٰ کے ہاتھوں جاری ہون گے جو حلال و حرام کے لیے اللہ کے امین ہوں گے اب یہ دیکھنا ہو گا کہ ہم مسلمانوں میں سے کتنے لوگ ان جانشینوں کی اطاعت کرتے ہیں اور ظہور امام زمانہ علیہ السلام کے لیے اپنے دل کے گھر کو آمادہ کرتے ہیں رہبر کی اطاعت مسلمانوں پر فرض ہے کیونکہ اس سے نظام اسلام کی بقاءوابستہ ہے اور مسلمانوںکے اجتماعی امور اور ان کی فلاح و دستگاری کا انحصار اسی پر ہے کہ وہ ایک مرکز سے وابستہ ہوں تا کہ مضبوط مرکز کی وجہ سے طاغوت و استکبار کے تسلط سے محفوظ رہیں ارشاد خداوندی ہے سورہ بقرہولنبلونکم بشیءمن الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات و بشرالصابرین الذین اذا اصابتهم مصیبة قالو انا لله وانا الیه راجعون ۔

اور ہم یقینا تمہیں تھوڑے خوف، تھوڑی بھوک اور اموال، نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر آپ ان صبر کرنے والوں کو شہادت دے دیں جو مصیبت پڑنے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں اس نفسا نفسی اور دہشت گردی کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان دنیا کے کسی بھی خطے میں محفوظ نہیں ہیں نہ مالی لحاظ سے اور نہ جانی لحاظ سے جس ملک میں بھی اسلامی حکومتیں ہیں اس ملک کو اس کے باشندے اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو اس کا الزام مسلمانوں کے اوپر ہے یہ سب امتحان نہیں تو اور کیا ہے خدا کریں کہ ہم ان مصائب پر صبر کر کے اور دشمنان اسلام کے نا پاک عزائم کو نا کام بنا کے اس آیت کے مصداق بن جائیں۔

انا وجدناه صابر انعم العبد انه اواب ۔(سورہ ص)

ہم نے اسے صابر پایا بہترین بندہ جو ہماری طرف بہت ہی رجوع کرنے والا ہے علامہ شیخ قندوزی بلخی حنفی لکھتے ہیں کہ سدیر صیرفی کا بیان ہے کہ ہم اور مفضل بن عمر، ابو بصیر، ابان بن تغلب ایک دن صادق آل محمد کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ زمین پر بیٹھے تھے اور رو رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے کہ اے محمد تمہاری غیبت کی خبر نے میرا دل بے چین کر دیا ہے میں نے عرض کی حضور خدا آپ کی آنکھوں کو کبھی نہ رولائے بات کیا ہے کس لیے حضور گریہ کناں ہیں فرمایا اے سدیر میں نے آج کتاب جفر جامع میں بوقت صبح اما مہدی علیہ السلام کی غیبت کا مطالعہ کیا ہے اے سدیر یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب اس میں لکھا ہوا ہے اے سدیر میں نے اس کتاب میں دیکھا ہے کہ ہماری نسل سے امام مہدی علیہ السلام ہوں گے پھر وہ غائب ہو جائیں گے اور ان کے غیبت نیز طول عمر ہو گی ان کی غیبت کے زمانے میں مومنین مصائب میں مبتلا ہوں گے اور ان کے امتحانات ہوتے رہیں گے اور غیبت میں تاخیر کی وجہ سے ان کے دلوں میں شکوک پیدا ہوں گے غیبت کی طویل ہونے اور ظہور میں تاخیر خود ایک بہت سخت اور دشوار امتحان ہے جس مومنین حقیقی اور غیر حقیقی کی پہنچا ہو جائیں گے اس دور میں جب اسلام دشمن عناصر مسلمانوں کو گمراہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور شب و روز کوششوں میں مصروف ہیں اور ہر قسم کے حربے استعمال کرتے ہیں تا کہ مسلمانوں کو ان کے دین و مذہب سے دور کرکے اور ان کو اسلام سے بدظن کر کے یہ تاثیر دلا دے کہ جو دیندار ہو گا ان کی مال و جان عزت و آبرو خطرے میں ہو گا اسی لیے اب تو بعض نوجوان اس روز کے واقعات و حادثات سے ننگ و آکر یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ آخر امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور کب ہو گا ہم کب تک انتظار کریں اس مذہب کا کیا فائدہ جس کی وجہ سے ہم ہر روز قتل ہو جائیں عزیزان امتحان بہت مشکل ہے اس لیے تو حدیث میں وارد ہے کہ آخرالزمان علیہ السلام میں ایمان کی حفاظت کرنا گرم لو ہے کو پکڑنے سے زیادہ دشوار ہے اسی طرح کمزور ایمان والے غیبت امام مہدی علیہ السلام اور تاخیر ظہور کی وجہ سے فرامین پیغمبر اور آئمہ علیہ السلام کی تکذیب کر رہے یں اور بلا وجہ اعتراضات کر کے اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں اور احادیث میں اپنی طرف سے تاویل و تفسیر کر کے ایک نیا راستہ تلاش کر رہے ہیں جو کہ یقینا ان لوگوں سے قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ سورہ آل عمران آیت ۵۸ میں انہی لوگوں کے بارے ارشاد رب العزت ہے۔ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منه وهو من الاخرة من الخاسرین ۔

اور جو اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین تلاش کرے گا تو وہ دین اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور قیامت کے دن خسارہ والوں میں سے ہو گا جو لوگ توحید اور ایک خدا کی بندگی کی راہ میں ثابت قدم ہوتے ہیں ان کے قدم نہ مال و مقام کے امتحانج سے ڈگمگاتے ہیں اور نہ شہوت و لزت کے سامنے ٹھوکر کھاتے ہیں جو لوگ ایمان و عمل ثابت قدم ہوتے ہیں وہ دنیا کے تمام امتحانات میں ثابت قدم ہوتے ہیں اور دشمن کے کسی حربے اور طاقت سے مرعوب نہیں ہوتے حتیٰ کہ قتل ہو جانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں مگر اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت کے لیے حاضر نہیں ہوتے اس لیے کہ اسلام و مسلمین کے ساتھ خیانت دراصل خدا کے ساتھ خیانت ہے پس حقیقت صرف یہ ہے کہ دنیا کی تمام مشکلات کا حل تمام دکھوں دردوں اور پسماندگیوں کا علاج اور مسلم امر کی ترقی و خوشحالی کا واحد راستہ تمسک بالثقلین ہے یعنی قرآن مجید اور عترت رسول کی پیروی ہے حضرت محمد و ال محمد سے بہتر کوئی پیشوا نہیں اور کوئی ان کے برابر نہیں امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت یہ بھی ہے کہ خداوند متعال چاہتا ہے کہ اپنے بندوں کی تربیت کر کے انہیں ظہور مہدی علیہ السلام کے لیے آمادہ کرین کیونکہ انتظار ظہور مہدی علیہ السلام تربیت کنندہ بھی ہے اور افضل ترین عمل بھی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:افضل اعمال امتی انتظار الفرج من الله عزوجل ۔

یعنی میری امت ترین اعمال میں سے ظہور کا انتظار کرنا ہے۔

کسی نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو ہادیان بر حق کی ولایت رکھتا ہے اور حکومت حق کے ظہور کے انتظار میں رہتا ہے اور اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس رہبر انقلاب کے خیمہ میں اس کی فوج کے سپاہیوں میں ہو پھر آپ نے کچھ توقف کیا پھر فرمایا اسی شخص کی طرح جو پیغمبر اسلام کے ساتھ ان کے معرکوں میں شریک ہو حضرت رسول اور آئمہ علیہ السلام طاہرین علیہ السلام کہ جو شخص قیام مہدی علیہ السلام کا انتظار کرتے ہوئے مر جائے اس کی مثال ایسی ہے گویا وہ امام علیہ السلام کے ساتھ جہاد میں شریک ہے جب کہ اس کا ثواب پچیس شہیدوں کے ثواب کے برابر محی الدین اردبیلی کہتا ہے کہ ایک دن میں بیٹھا اُونگھ رہا ہے ایسی حالت میں یکایک اس کے سر سے عمامہ گر گیا اس کے سر پر زخم کا نشان نمایاں تھا میرے والد نے پوچھا یہ زخم کیسا ہے؟ اس نے جواب دیا یہ جنگ صفین کے زخم کا نشان ہے میرے والد نے اس سے پوچھا تم نے کہاں اور جنگ صفین کہاں؟ یہ کیا معاملہ ہے اس نے جواب دیا میں مصر کی طرف سفر کر رہا تھا غزہ کا رہنے والا شخص بھی ہمراہ ہو گیا اثنائے راہ میں جنگ صفین پر گفتگو چھڑ گئی میرا ساتھی کہنے لگا اگر میں جنگ صفین میں ہوتا تو اپنی تلوار کو علی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے خون سے سیراب کرتا میں نے بھی اس کے جواب میں کہا اگر میں جنگ صفین میں ہوتا تو اپنی تلوار کی پیاش کو معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے خون سے بچھاتا اب میں اور تم علی علیہ السلام اور معاویہ کے ساتھیوں میں سے ہیں کیوں نہ باہم جنگ کر لیں آپس میں اچھی خاصی جنگ ہوئی یکایک میں نے محسوس کیا کہ میرے سر پر زخم لگا اور فوراً ہی میں بیہوش ہو گیا اسی اثنا میںمیں نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے نیزے کے سرے سے مجھے بیدار کر دیا ہے جب میں نے آنکھ کھولی تو وہ سوار گھوڑے سے اتر آیا اور اپنا ہاتھ میرے سر کے زخم پر پھیرا میرا زخم ٹھیک ہو گیا فرمایا اسی مقام پر رک جاو کچھ دیر بعد سوار غائب ہو گیا میں نے دیکھا ان کے ہاتھ مین میرے اس ساتھی کا کٹا ہوا سر ہے جو میرے ساتھ سفر کر رہا تھا اور اس کے مال مویشی بھی ان کے ساتھ ہیں واپس آکر مجھ سے فرمانے لگے یہ تیرے دشمن کا سر ہے تو نے ہماری نصرت میں قیام کیا پس ہم نے بھی تمہاری مدد کی جو بھی خداوند عالم کی مدد کرتا ہے خدا اس کی نصرت کرتا ہے میں نے پوچھا آپ کون ہے؟ تو فرمایا میں ہی صاحب الامر علیہ السلام تمہارے زمانے کا امام علیہ السلام ہوں پھر فرمانے لگے جو بھی اس زخم کے متعلق سوال کرے اسے بتانا کہ یہ جنگ صفین کا زخم ہے حضرت مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت اور عالمی مصلح کے قیام کا انتظار دو عناصر کا مرکب ہے ایک نفی کا عنصر اور دوسرا مثبت کا عنصر، منفی عنصر موجودہ حالت کی ناپسندیدگی ہے اور مثبت عنصر بہتر اور اچھی حالت کی آرزو ہے اب اگرچہ دونوں پہلو روح انسانی میں اتر جائیں تو دو قسم کے وسیع اعمال کا سر چشمہ بن جائیں گے ان دو قسم کے اعمال میں ایک طرف تو ظلم و فساد کے عوامل سے ہر طرح کا تعلق ترک کرنا ہے یہاں تک کہ ان سے مقابلہ اور جنگ کرنا ہے اور دوسری طرف خودسازی ہے اگرہم اچھی طرح غورکریں تو دیکھیں گے کہ اس کے دونوں حصے اصلاح کن، تربیت کنندہ اور تحرک، آگاہی اور بیداری کے عوامل ہیں سچے انتظار کرنے والوں کی ساتھ ساتھ یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فقط اپنی اصلاح نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کے حالات پر بھی نظر رکھیں اور اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی کوشش کریں کیونکہ جس عظیم پروگرام کی تکمیل کے وہ منتظر ہیں انفرادی نہیں بلکہ ایسا پروگرام ہے جس میں تمام عناصر انقلاب کو شرکت کرنا ہو گی ایک اجتماعی اور وسیع جنگ کے میدان میں کوئی شخص دوسرں کے حال سے غافل نہیں رہ سکتا بلکہ اس کی ذمہ داری ہے کہ کمزوری کا کوئی نقطہ اسے جہاں نظر آئے اس کی اصلاح کرے تنہا جو چیز انسان میں امید کی روح پھونک سکتی ہے انہیں مقابلے اور کھڑے رہنے کی دعوت دے سکتی ہے اور انہیں فاسد ماحول میں گھل مل جانے سے رک سکتی ہے وہ ہے مکمل اصلاح کی امید صرف یہی صورت ہے کہ جس میں وہ اپنی پاکیزگی کی حفاظت کر سکتے ہیں اور دوسروں کی اصلاح کی جدوجہد کو جاری رکھ سکتے ہیں خلاصہ یہ کہ جس قدر دنیا فاسد اورخراب ہو گی مصلح کے ظہور کے انتظار میں امید بڑھے گی جو معتقدین پر زیادہ روحانی اثر ڈالے گی برائی اور خرابی کی طاقتور موجوں کے مقابلے میں یہ امید ان کی حفاظت کرے گی اور وہ نہ صرف ماحول کے دامن فساد کی وسعت سے مایوس نہیں ہوں گے بلکہ وعدہ وصل کی نزدیکی سے ان کی آتش عشق تیز ہوں گی بقول شاعر

وعدئہ وصل چون شود نزدیک

آتش عشق تیز نستر گردد

یہ تھی فلسفہ و حکمت غیبت امام زمانہ علیہ السلام خدا سے دعا گو ہوں کہ ہم سب کو اپنے محبوب و معشوق امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے اور ان کے سچے پیروکار اور منظر حقیقی ہونے کی توفیق عطا فرمائیں مضمون کے اختتام میں فرزندان اسلام سے بالعموم اور شیعیان حیدر کرار علیہ السلام سے بالخصوص دردمندانہ اپیل کرتی ہوں ہ خدا را اپنے اعمال پر نظر ڈالیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کریں اور اپنی دو عملی سے اسلام و مسلمین کی بد نامی کا ذریعہ نہ بنیں جناب رسالت مآب اور ہادیان دین نے ہمیشہ اپنے کردار سے اسلام کی تبلیغ کی اور آج دنیا آپ کے عمل کو دیکھ رہی ہے آج کا دور جو کہ الیکٹرانک میڈیا اور پریس کی بے تحاشا قوت کا دور ہے دنیا اپنے ذرائع ابلاغ سے آپ کی بد اعمالیوں کو نمایاں کر رہی ہے اور آپ کی بد عملی اسلام کی نشرواشاعت میں رکاٹ بن رہی ہے آج کے اس دور میں وحدت و اتحاد اور بھائی چارہ کی اشد ضرورت ہے ہمیں چاہتے کہ اپنے آپ کو ظہور مہدی علیہ السلام کے لیے آمادہ کریںخداوند ہم سب کو دیدار مہدی علیہ السلام کا شرف عطا فرمائیں۔

الہیٰ بہ امید شفاعت فاطمہ علیہ السلام

مآخذ: منتہی الآمال، مہدی علیہ السلام موعود، سیرہ آئمہ تفسیر نمونہ کتاب آیت اللہ دستغیب۔

۲۱

بسم اللہ الرحمن الرحیم

۶- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت

از: سید راحت کاظمی

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مبعوث کرنا چاہا تو فرمایا:”انی جاعل فی الارض خلیفه

میں زمین پر قائم مقام مقرر کرنے والا ہوں اس سے صاف ظاہر ہے کہ جب تک زمین رہے گی اس کا کوئی نہ کوئی قائم مقام ضرور رہے گا کواہ اس کانسبی و رسول ہو یا خلیفہ و امام اس لےے قرآن مجید نے اعلان فرما دیا ہے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے جو خالص ایمان والے ہیں اور ان کے تمام عمل صالح و نیک ہیں وہ انہیں زمین پر ضرور اس طرح سے خلیفہ بنائے گا اس سے قبل خلیفہ بناتا رہا ہے کس نبی کے خلیفہ کا انتخاب امت کے سپرد نہیں کیا گیا اور نہ کسی کا انتخاب اجماع سے اور نہ شوریٰ اور نہ قیاس وغیرہ سے سب کا انتخاب خدا ہی کرتا رہا ہے اور ہر پہلے آنے والا بعد میں آنے والے کے صفات و کمالات و خصوصیت بلکہ اس کے نام سے قوم کو مطلع و با خبر کرتا رہا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمارے نبی کا اپنی امت کے سامنے ان الفاظ مین اعلان فرمایا ہے۔

یاتی من یعد اسمه احمد

میرے بعد آنے والے نبی کا نام احمد ہو گا ظاہر ہے جو وعدہ کرتا ہے ایفائے عہد کا بھی وہی ذمہ دار ہوتا ہے جب رب العزت نے وعدہ فرمایا ہے پچھلے انبیاءکے خلفاءکی خلق کا انتخاب خدا پر ہے نہ کہ امت پر انتخاب کرنا خدا کا کام نہیں ہے چنانچہ رسول اکرم بار بار فرماتے ہیں کہ میرے بعد بارہ امام ہوں گئے اور سب قریش سے ہوں گئے پھر آپ نے متعدد بارہ اصحاب کے سامنے نام لے کر فرمایا کہ ان بارہ کے اول علی مرتضیٰ علیہ السلام ہیں ان کے بعد فرزند امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام اور ان کے بعد امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں نو ہوں گئے جن کا آخری اس امت کا مہدی علیہ السلام ہو گا ان کا نام میرا نام اور ان کی کنیت میری کنیت ہو گی وہ انقلاب زمانہ کی وجہ سے ایک پردہ غیبت میں رہیں گے امام مہدی علیہ السلام وہ مبارک مولود ہے جو اج سے ایک ہزار ایک سو پینتیس برس پہلے س دنیا میں آچکا ہے آج تک زندہ و پائندہ ہیں روئے ارض پر زندگی گزار رہا ہے نعمات الہیٰ سے مستفید ہو رہا ہے عبادات الہیہ میں مصروف ہے اور ظہور میں امر الہیٰ کا انتظار کر رہے ہیں آنکھوں سے غائب ہیں اور جب آپ علیہ السلام ظاہر ہوں گے تو وہ زمین کو عدل و انصاف سے پر کردےں گے آپ علیہ السلام یہ بھی بار بار فرماتے ہیں ۔

من مات ولم یعرف امام زمانه علیه السلام مات میته الجاهلیه ۔

جو شخص مر جائے اور اپنے زمانے کے امام علیہ السلام کو نہ پہچانے وہ جاہلیت کی موت مرا اس فرمان سے ظاہر ہو گیا ہے کہ ہر زمانہ کا امام الگ ہے جس کی معرفت اس زمانہ والوں پر فرض ہے جو اس کی معرفت سے محروم رہے گا وہ کفر کی موت مرے گا امام مہدی علیہ السلام کی غیبت تویہ خدا کا کام ہے اس کی قدرت میں کون شک کر سکتا ہے جس نے آدم علیہ السلام کی مجرم اولاد سے بچا کر ادریس علیہ السلام کو ساتویں آسمان پر زندہ بلا لیا اور فرمایا:”ورفعا مکانا علیا

ہم نے انہیں بلند مقام پر اُٹھا لیا جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے شر سے نجات دینے کے لےے چوتھے آسمان پر بلا لیا اورفرمایا۔”انی متوفیک ورافعک الی“میں تمہیں یوں پورا لے کر اپنی طرف بلند کرنے والا ہوں جس نے حضرت خضر علیہ السلام و الیاس علیہ السلام کو ہزاروں سال غائب رکھا جس نے اصحاب کہف کو ہزاروں سال غائب رکھا جس نے حضور اکرم کو شب ہجرت محاصرہ کرنے والوں کے بیچ سے غائب کر کے نکال دیا اور وہ محسوس بھی نہ کر سکے تو اس کےا تعجب کی بات ہے اگر اللہ تعالیٰ ایک مقررہ وقت امام مہدی علیہ السلام کو حسب ضرورت غائب رکھے بلکہ متقین کا معیار ہی یہ ہے کہ وہ غیبت پر ایمان رکھیں ہمارا خدا غائب روز حشر غائب جنت غائب دوزخ غائب صراط غائب میزان غائب اعراف غائب حوریں غائب غلمان غائب ملائکہ غائب جن جو اس زمی نپر موجود ہیں مگر نظروں سے غائب تو امام مہدی علیہ السلام کی غیبت پر کیا تعجب ہے حضور اکرم نے فرمایا جب قیامت کا ایک دن باقی رہ جائے گا اس سے قبل بارہویں امام علیہ السلام کا ظہور ضرور ہو گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کی اقتدار میں نماز پڑھیں گے اس طرح اگر اس نے امام علیہ السلام کو غائب رکھ کر یہ فرما دیا۔

الم ذالک الکتاب لا ریب فیه هدی للمتقین الذین یومنون بالغیب ۔

اس کتاب میں کوئی ریب و شک نہیں ہے یہ عین ہدایت ہے متقین کے لیے جو غائب پر ایمان رکھتے ہیں تو اس کے لیے کیا تعجب ہے کہ امام علیہ السلام کو ایک وقت مقررہ تک حسب و ضرورت غائب رکھے بلکہ متقین کا معیار یہ ہے کہ وہ غیبت پر ایمان رکھیں اگر مانع نہ ہونا تو آپ کا ظہور زیادہ مفید و بہتر ہوتا لیکن چونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خداوندعالم نے اس مقدس وجود کو آنکھوں سے پنہاں رکھا ہے اور خدا کے افعال نہایت ہی استحکام اور مصلحت و واقع کے مطابق ہوتے ہیں لہذا امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کی بھی یقینا کوئی وجہ ضرور ہو گی اگرچہ ہمیں اس کی تفصیل معلوم نہیں ہے درج ذیل حدیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ غیبت کا بنیادی سبب لوگوں کو نہیں بتایا گیا صرف آئمہ علیہ السلام کو معلوم ہے عبداللہ بن فضل ہاشمی کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا صاحب الامر علیہ السلام کے لیے غیبت ضروری ہے تا کہ گمراہ لوگ شک میں مبتلا ہو جائیں میں نے عرض کی کیوں آپ علیہ السلام نے فرمایا ہمیں اس کی علت بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے اس کا فلسفہ کیا ہے وہی فلسفہ جو گزشتہ حجت خدا کی غیبت میں تھااس کی حکمت ظہور کے بعد معلم ہو گی بالکل ایسے ہی جیسے جناب خضر علیہ السلام کا کشتی میں سوراخ سرنا بچہ کے قتل اور دیوار کرو تعمیر کرنے کی علت جناب موسیٰ علیہ السلام کو جدا ہوتے وقت معلوم ہوئی تھی اے فضل کے بیٹے غیبت کا موضوع مری ہے یہ خدا کے اسرار اور الہیٰ غیوب میں سے ایک ہے چونکہ ہم خدا کو تسلیم کرتے ہیں اس بات کا اعتراض بھی کرنا چاہےے کہ اس کے امور حکمت کی رو سے انجام پاتے ہیں اگرچہ ہم اس کی تفصیل نہیں جانتے(بحارالانوار ج۲۵ ص۱۹) مذکورہ حدیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ غیبت کی اصلی حقیقت و سبب اس لیے بیان نہیں ہے کہ لوگوں کو بنانے میں فلاح نہیں تھی یا وہ اس کے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے پہلا فائدہ امتحان و آزمائش ہے تا کہ جن لوگوں کا ایمان قوی نہٰں ہے ان کی باطنی حالت ظاہر ہو جائے اور جن لوگوں کے دل کی گہرائیوں میں ایمان کی جڑیں اتر چکی ہیں غیبت پر ایمان انتظار فرج اور مصیبتوں پر صبر کے ذریعہ ان کی قدر و قیمت ظاہر ہو جائے اور ثواب کے مستحق قرار پائیں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں ساتویں امام علیہ السلام کے جب پانچویں بیٹے غائب ہو جائیں اس وقت تم اپنے دین کی حفاظت کرنا ایسا نہ ہو کہ کوئی تمہیں دین سے صاحب الامر علیہ السلام عقیدے سے منحرف ہو جائے گا خدا امام زمانہ کی غیبت کے ذریعے اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے (بحارالانوار ج۲۵ ص۳۱۱) اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ غیبت کے ذریعے ستمگروں کی بیعت سے محفوظ رہیں گے حسن بن فضال کہتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا گویا میں اپنے تیسرے بیٹے امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات پر اپنے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے امام مہدی علیہ السلام کو یہ جگہ تلاش کر رہے ہیں لیکن اس بارے میں نے عرض کی فرزند رسول کیوں آپ نے فرمایا ان کے امام مہدی علیہ السلام غائب ہو جائیں گے عرض کی کیوں غائب ہوں گے فرمایا تا کہ جب تلوار کے ساتھ قیام کریں تو اس وقت آپ کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہو گی (بحارالانوار ج۱۵ص۴۵۱)اس کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ غیبت کی وجہ سے قتل نجات پائی زرارہ کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا قائم علیہ السلام کے لیے غیبت ضروری ہے عرض کی کیوں مول علیہ السلام فرمایا قتل ہو جانے کا خوف ہے اور اپنے شکم مبارک کی طرف اشارہ کر کے فرمایا مذکورہ تینوں حکمتیں اہل بیت علیہ السلام کی احادیث میں منقول ہیں (اثبات الہدیٰ ج۴ص۷۳۴)

غیبت پر ایمان لانا نہایت عظمت رکھتا ہے اور یہ نعمت یقین کامل کے ساتھ ایمان والوں کو ہی حاصل ہے ابن قاسم کا بیان ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سےالم ذالک الکتب لاریب فیه هدی للمتقین الذین ۔

ترجمہ: الم یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے۔

جو غیبت پر ایمان رکھتے ہیں کے بارے میں دریافت کیا آپ علیہ السلام نے فرمایا متقین سے مراد علی علیہ السلام کے شیعہ ہیں اور بالغیب سے مراد حجت غائب ہیں اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے کہ اس (رسول) پر اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نازل نہیں ہوتا۔

اے رسول کہہ دو کہ غائب کا مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے پس تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (سورہ یونس آیت نمبر۰۲)

امام جعفر صادق علیہ السلام اور آپ علیہ السلام نے اپنے آبائے کرام سے روایت نقل کی کہ رسول خدا نے ایک مرتبہ حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا اے علی علیہ السلام تمہیں معلوم کہ لوگوں میں سے سب سے بڑا صاحب یقین ہو گا جو آخرزمانہ میں پیدا ہو گا انہوں نے اپنے نبی کو نہ دیکھا ہو گا اور حجت خدا امام علیہ السلام بھی پردہ غیبت میں ہوں گے مگراس کے باوجود یہ سیاہ و سفید پر ایمان رکھتے ہوں گے۔(اکمال الدین)

کہتا ہے کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ غیبت امام علیہ السلام کا فائدہ کیا ہے یوں تو بکثرت ایسی احادیث موجود ہیں جن میں امام غائب کا شمار کیا گیا ہے جابر جعفی نے جابر بن عبداللہ انصاری سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا میں نے پیغمبر خدا سے سوال کیا کہ کیا شیعہ غیبت کے زمانہ میں حضرت قائم علیہ السلام کے وجود سے فائدہ اُٹھائیں گے یا نہیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے پیغمبری پر مبعوث کیا ہے آپ علیہ السلام کی غیبت میں شیعہ اس کے نور ولایت سے اس طرح مستفید ہوں گے جس طرح بادل کے باوجود سورج کی روشنی سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے (صواعق محرقہ) میں حضرت علی علیہ السلام نے رسول خدا سے روایت بیان کی ہے ستارے اہل آسمان کے لیے آمان ہیں جب یہ ستارے ختم ہوئے تو اہل آسمان ختم ہو جائیں گے اور میرے اہل بیت علیہ السلام اہل ارض کے لیے امان ہیں جب اہل بیت علیہ السلام نہ رہے تو اہل ارض نہ رہیں گے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں ہم مسلمانوں کے امام علیہ السلام دنیا پر حجت مومنین کے سردار نیکوکاروں کے رہبر اور مسلمانوں کے رہبر اور مسلمانوں کے مولا ہیں ہم زمین والوں کے لیے امان ہیں جیسا کہ آسمان والوں کے لیے ستارے امان ہیں ہماری وجہ سے آسمان اپنی جگہ ٹھہرا ہوا ہے جب خدا چاہتا ہے ہمارے لیے باران رحمت نازل کرتا ہے اور زمین سے برکتیں ظاہر کرتا ہے کہ اگر ہم روئے زمین پر نہ ہوتے تو اہل زمین دھنس گئے ہوتے پھر حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہین جس دن سے خدا نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ہے اس دن سے آج تک زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہی ہے قیامت تک زمین حجت خدا سے خالی نہ ہو گی حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ رب ذوالجلال کی قسم کہ وہ ذات جلیل جدوجہد کے ذریعے اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور امتحان میں مبتلا کرتا ہے تا کہ ان کے دلوں سے تکبر نکلے اور ان میں عاجزی و انکساری پیدا ہو اس طرح اس کو اپنے فضل و کرم اور ان کی بخشش کا ذریعہ بنائے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔

ترجمہ: کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ صرف یہ کہنے پر ان کو چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کاامتحان نہیں لیا جائے گا خداوند عالم نے مسلمانوں کا کبھی ہجرت کے ذریعے امتحان لیا جائے گا خداوندعالم نے کبھی جنگوں اور جہاد کے ذریعے کبھی فتح و نصرت دے کر اور کبھی شکست میں مبتلا کر کے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو مسلمانوں کو ساری جنگوں میں فتح و نصرت سے ہم کنار کرتا مگر یہ سب امتحان اور آزمائش کے ذریعے ہی تھے صدر اسلام رسول اعظم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تابعین اور نبع تابعین کا امتحان اس طرح لیا کہ وہ ایسے زمانے میں زندگی گزاریں جب بلا وجہ ان کے امام مظلومیت میں گرفتار ہوں اور قید و بند در بدری جلا وطنی اور آخر کار ارشادات کی منزلوں سے گزر رہے ہوں یہ ان کا کیسا امتحان تھا کہ موسیٰ بن جعفر کو تو قید و بند میںمبتلا دیکھیں اور ان پر عورتیں اور خادم حکومت کر رہے ہوں آج ہم خدائے عزوجل نے ہمارے امام علیہ السلام کی غیبت اور ہمارے رہبر بر حق فائدہ امام مہدی علیہ السلام کے عیاں نہ ہونے کے ذریعے آزماتا ہے اور امتحان لیا ہے تا کہ اس امتحان کے ذریعے یہ دونوں باتیں واضح ہو جائیں مبداءاور خدا کے اعتقاد پر ہم قائم ہیں اور اسلام سے ہمارا تمسک ہے زندگی کی بہت سی سختیاں شدائد اور مصائب اور تکالیف ہمارے نفوس کی تکمیل کا ذریعہ بنتی ہیں اور ہماری اچھی صفات ان سے اُجا گر ہوتی ہیں یہ مشکلیں اور تکالیف اس بات کا باعث بنتی ہین کہ ہم اس دنیا سے رشتہ کم سے کم کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی توجہ کا رخ موڑ دیں ہمارے امام علیہ السلام کی غیبت بھی ان مصیبتوں میں سے ایک ہے جو ان سے زیادہ بڑی نہ ہو تو کم بھی نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی جانب توجہ کے لیے حق کی نصرت معاشرے کی اصلاح اور فرج میں تعجیل کی تمنا اور خدا کی طرف رخ موڑنے کے لیے ہے اس امتحان میں کتنے ہی نفوس کی تکمیل صفات کی درستگی اور طائع کی اصلاح مضمر ہے دور غیبت میں آئمہ اہل بیت علیہ السلام کی محبت میں شیعوں کی سخت آزمائش ہو گی اور شیعوں کے سر کی قیمت رکھی جائے گی احوال و اولاد بلا اور آفات کے ذریعے ان کو آزمایا جائے گا۔

قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

ترجمہ: ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں کلمہ باقیہ قرار دے دیا ہے نسل ابراہیم علیہ السلام دو فرزندوں سے چلی ہے ایک اسحاق اور دوسرے اسماعیل اسحاق کی نسل سے خداوندعالم نے جناب عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ و باقی قرار دے کر آسمان پر محفوظ کر چکا تھا انصاف کی بھی ضرورت تھی کہ نسل اسماعیل علیہ السلام سے بھی کسی ایک کو باقی رکھے اور وہ بھی زمین پر کیونکہ آسمان پر ایک باقی موجود تھا لہذا امام مہدی علیہ السلام جو نسل اسماعیل سے ہیں زمین پر زندہ اور باقی رکھا اور انہیں بھی اسی طرح دشمنوں کے شر سے محفوظ کر دیا جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محفوظ کیا تھا یہ مسلمات اسلامی سے ہے کہ زمین حجت خدا اورامام زمانہ علیہ السلام سے خالی نہیں رہ سکتی اُصول کافی ج۳۰۱ طبع نولکشور چونکہ حجت خدا اس وقت امام مہدی علیہ السلام کے سوا کوئی نہ تھا اور انہیں دشمن قتل کر دینے پر تلے ہوئے تھے اس لیے انہیں محفوظ و مستور کر دیا گیا حدیث میں ہے کہ حجت خد علیہ السلام کی وجہ سے بارش ہوتی اور انہیں کے ذریعہ سے روزی تقسیم کی جاتی ہے(بحار) یہ مسلم ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام جملہ انبیاءکے مظہر تھے اس لیے ضرورت تھی کہ انہیں کی طرح ان کی غیبت بھی ہوتی یعنی جس طرح بادشاہ وقت کے مظالم کی وجہ سے حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد اپنے عہد حیات میں مناسب مدت تک غائب رہ چکے ہیں اسی طرح امام مہدی علیہ السلام بھی غائب ہیں ۔

امام عصر علیہ السلام سے یوں منسلک ہوتی ہے حیات

حیات خلق ہوئی جیسے ہی کے لیے

دلیل عظمت آدم علیہ السلام آب اور کیا ہو گی

رکی ہے قیامت ایک آدمی کے لیے

عجب حسن ہے شمع امام آخر ولی

چھپا ہوا ہے زمانے میں روشنی کے لیے

امام علیہ السلام کی غیبت ہمارے لیے مقرر کی گئی ہے در حقیقت آنجناب دیگر جہانوں کی نسبت اور اولیاءاللہ کے لیے غائب نہیں ہیں ۔

۲۲

فہرست

۱-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۴

از: حب علی مہرانی ۴

محزون و رنجیدہ رہنما: ۴

انتظار حکومت و سکون آل محمد: ۵

امام علیہ السلام کے وجود مبارک کی حفاظت کے لیے پروردگار احدیت میں دست بدعا رہنا: ۶

امام علیہ السلام کی سلامتی کے لےے صدقہ دینا: ۶

امام عصرعلیہ السلام کی طرف سے حج کرنا یا دوسروں کو حج نیابت کے لیے بھیجنا: ۷

امام عصرعلیہ السلام کا اسم گرامی آنے پر قیام کرنا: ۷

دور غیبت میں حفاظت دین و ایمان کے لےے دعا کرتے رہنا: ۷

اما زمانہ علیہ السلام سے مصائب و بلیات کے موقع پر استغاثہ کرنا: ۸

۲-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۹

از:علی عباس ۹

۳-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۱۲

از:سید ریاض حسین اختر ولد سید سلیم اختر حسین شاہ ۱۲

۴-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۲۴

از:سید عمران عباس نقوی ولد سید عابد حسین نقوی ۲۴

حضرت سلمان فارسی کا وارد کوفہ ہونا۔ ۲۶

امام قائم علیہ السلام کا انتظار کرنے والوں کے فضائل: ۲۸

معرفت امام علیہ السلام زمانہ کیوں ضروری ہے: ۳۰

۲۳

دور غیبت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے: ۳۲

۵-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۳۴

از:سید احمد علی شاہ رضوی ۳۴

پہلی ذمہ داری: ۳۴

دوسری ذمہ داری: ۳۶

تیسری ذمہ داری: ۳۷

چوتھی ذمہ داری: ۳۷

پانچویں ذمہ داری: ۳۸

چھٹی ذمہ داری: ۳۹

ساتویں ذمہ داری: ۳۹

آٹھویں ذمہ داری: ۳۹

۶-امام زمانہ علیہ السلام کے زمانہ غیبت کبریٰ میں ہماری ذمہ داریاں ۴۱

از: ملک غلام حسنین مونڈ پپلاں ۴۱

۷-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۴۵

از:سید محمد عباس نقوی ۴۵

زمانہ غیبت میں ہماری چند ذمہ داریاں: ۴۵

۸-زمانہ غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۴۸

از:رضیہ صفدر ۴۸

غیبت صغریٰ غیبت کبریٰ ۴۸

مخزون و رنجیدہ رہنا: ۴۸

۲۴

انتظار حکومت آل محمد ۵۰

امام عصرعلیہ السلام کا اسم گرامی آنے پر قیام کرنا: ۵۱

دور غیبت میں ایمان کی حفاظت کیلئے دعا کرتے رہنا: ۵۴

حضرت کی سلامتی کی نیت سے صدقہ نکالنا: ۵۵

امام زمانہ علیہ السلام سے مصائب کے موقع پر فریاد کرنا: ۵۵

امام زمانہ علیہ السلام کے وجود مبارک کی حفاظت کے لیے بارگاہ احدیت میں دست بدعا رہنا: ۵۶

امام زمانہ علیہ السلام پر زیادہ سے زیادہ سلام و درود پڑھا جائے: ۵۷

آپ علیہ السلام کے ظہور اور فرج و فتح کا انتظار کرنا افضل ترین اعمال ہے: ۵۸

تمام محافل و مجالس میں ذاکرین امام زمانہ علیہ السلام کا ذکر ضرور کریں: ۶۱

۹-زمانہ غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۶۳

از:تسنیم جہان ۶۳

پہلی ذمہ داری: ۶۳

مخزون و رنجیدہ رہنا: ۶۳

دوسری ذمہ داری: ۶۵

تیسری ذمہ داری: ۶۶

چوتھی ذمہ داری: ۶۷

پانچویں ذمہ داری: ۶۸

چھٹی ذمہ داری: ۶۸

ساتویں ذمہ داری: ۶۹

آٹھویں ذمہ داری: ۶۹

۲۵

استغاثہ برای امام زمانہ علیہ السلام: ۷۰

۱۰-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۷۲

از:سیماب بتول ولد حاجی شاہد اقبال ۷۲

۱۱-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۷۸

از:سیدہ فہمیدہ زیدی ۷۸

معرفت: ۷۸

اطاعت: ۷۸

تعجیل ظہور کی دعا: ۷۹

انتظار: ۷۹

اشتیاق زیارت: ۷۹

دعا برائے سلامتی امام زمانہ علیہ السلام: ۷۹

صدقہ برائے سلامتی امام زمانہ علیہ السلام: ۸۰

اتباع نائبین امام علیہ السلام: ۸۰

امام علیہ السلام کا نام لینے کی ممانعت: ۸۰

احتراماً کھڑے ہونا: ۸۱

مشکلات میں امام زمانہ علیہ السلام کو وسیلہ بنانا: ۸۱

امام علیہ السلام پر کثرت سے درود بھیجنا: ۸۱

غیبت میں کثرت سے امام مہدی علیہ السلام کا ذکر کرنا: ۸۱

دشمنوں سے مقابلے کے لیے مسلح رہنا: ۸۲

امام علیہ السلام کی نیابت میں مستحبات کی انجام دہی: ۸۲

۲۶

حضرت مہدی علیہ السلام کی زیارت پڑھنا: ۸۲

تجدید بیعت: ۸۳

توبہ کے پروگرام: ۸۳

علماءاپنے علم کو ظاہر کریں: ۸۳

جھوٹے دعویداروں کو جھٹلانا: ۸۴

ظہور کا وقت معین نہ کرنا: ۸۴

مال امام علیہ السلام کی ادائیگی: ۸۴

امام العصر علیہ السلام سے محبت کا اظہار کرنا: ۸۴

آپ علیہ السلام کے فراق میں غمگین رہنا: ۸۴

آپ علیہ السلام کی غیبت پر اظہار رضایت: ۸۵

امام علیہ السلام کی مظلومیت پر افسردہ ہونا: ۸۵

ایمان پر ثابت قدم رہنا: ۸۵

مصائب کو برداشت کرنا: ۸۶

۱۲-امام زمانہ کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۸۸

از: سیدہ تعزین فاطمہ موسوی ۸۸

صدقہ: ۹۰

حج کرنا: ۹۱

دعا مانگنا: ۹۱

عریضہ: ۹۱

انتظار امام علیہ السلام: ۹۲

۲۷

دعائے ظہور امام زمانہ علیہ السلام: ۹۲

۱۳-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۹۴

از:بی بی آسیہ حیدری ۹۴

۱- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ ۱۱۶

از: رخسانہ بتول ۱۱۶

غیبت صغریٰ، غیبت کبریٰ ۱۱۶

غیبت بارہویں امام علیہ السلام ہی کے ساتھ کیوں مخصوص ہوتی اور امام بارگاہ ہی کیوں ہوتے؟ ۱۱۷

۲- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۲۰

از: شرافت حسین شمسی ۱۲۰

۳- حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۲۵

از: حماد رضا شاہ ۱۲۵

تعارف امام زمانہ علیہ السلام: ۱۲۵

ادوار غیبت: ۱۲۵

غیبت صغریٰ: ۱۲۵

غیبت کبریٰ: ۱۲۵

غیبت اسلام کے مفادات کے عین مطابق: ۱۲۶

خداوند متعال حقیقی رازدان: ۱۲۶

مصلحت خداوندی: ۱۲۶

مختلف اور متضاد نظریات کا جائزہ اور حقیقت: ۱۲۷

غلط استدلال کا ثبوت: ۱۲۷

۲۸

گزشتہ حکمتیں اور غیبت امام علیہ السلام: ۱۲۸

غیبت کبریٰ سے پہلے غیبت صغریٰ کیوں؟ ۱۲۸

امتحان و آزمائش مومنین: ۱۲۹

ظالم حکمرانوں کی بیعت اور ظلم سے محفوط: ۱۲۹

حیات امام علیہ السلام کی محافظت: ۱۳۰

کذاب مدعی نبوت، حقیقی امام علیہ السلام کی حفاطت: ۱۳۱

جواب: ۱۳۲

غلبہ دین اور وعدہ الہیٰ: ۱۳۳

زمین حجت خدا کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی: ۱۳۳

تقاضا عدل خدا (کلمہ یافتہ): ۱۳۳

نزول ملائکہ: ۱۳۴

مظلوموں کا حقیقی سہارا: ۱۳۴

امام علیہ السلام کے غائب کا فائدہ: ۱۳۴

سورج سے تشبیہہ ایک پاکیزہ پہلو: ۱۳۵

۴- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۳۷

از: مولانا محمد آصف رضا ۱۳۷

۵- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۴۰

از:زہراءاصغری ۱۴۰

۶- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۴۶

از: سید راحت کاظمی ۱۴۶

۲۹

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

۴_ قرآن كے ليے علم الہى كا سرچشمہ ہونا دليل ہے كہ غير خدا اس كے مثل لانے سے عاجز ہے_

فان لم يستجيبوا لكم فاعلموا انما انزل بعلم الله

(فالم يستجيوا لكم فاعلموا ) كا جملہ جہاں علت اثباتى يعنى (قرآن كا خدا كى طرف سے ہونے پر دليل قائم كرنا) كو بيان كررہاہے وہاں علت ثبوتى (يعنى بشر،قرں كى مثل لانے سے عاجزى كے راز و سبب) كى بھى حقانيت كررہاہے_

۵ _ خداوند متعال كے سواء كوئي معبود يكتا نہيں ہے _فاعلموا ا ن لا اله الا هو

۶_ قرآن كى مثل لانے پر عاجز ہونا يہ دليل ہے كہ خدائے لايزا ل يكتاہے _ اور كوئي معبود سوائے اس كے لائق عبادت نہيں ہے _فالم يستجيبوا لكم فاعلموا ا ن لا اله الا هو

(ان لا اله الا هو ) كا جملہ خداوند ذو الجلال كى وحدانيت كو بتانے كے ساتھ ساتھ توحيد عبادى كى ضرورت كو بتاتاہے_ اور ''انما انزل ...'' پر عطف ہے لہذا يہ ''فان لم يستجيبوا'' كے ليے جزائے شرط ہوگا اور يہ اس بات كى طرف اشارہ كرتاہے كہ قرآن كى مثل لانے پر بشر عاجز ہے _ يہ دليل ہے كہ خداوند متعال وحدہ لا شريك ہے _

۷_ قرآن معجزہ اور رسآلت مابصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى حقانيت پر دليل ہے _ام يقولون افترىه فالم يستجيبوا لكم فاعلموا انّما انزل بعلم الله

۸_خداوند متعال كے سامنے سر تسليم خم ہونا اسلام و توحيد الہى اور قرآن كا خداوند كى طرف سے ہونااس پر اعتقاد ركھنا ضرورى ہے_فالّم يستجيبوا لكم فهل ا نتم مسلمون

جملہ ''فھل ا نتم ...'' ميں استفہام امر اور رغبت دلانے كے ليے بيان كيا گيا ہے يعنى فاسلموا ..._يعنى فاسلموا

۹_تمام مخلوق كا قرآن كى مثل لانے پر عاجز ہونا يہ دليل ہے _ كہ اسلام كو قبول كريں اور خداوند متعال كے سامنے سر تسليم خم ہوجائيں _فالّم يستجيبوا لكم فهل ا نتم مسلمون

مذكورہ معنى اس حرف (فائ) سے ليا گيا ہے _ جس نے جملہ '' ہل انتم ...'' كو جملہ'' فالّم يستجيبوا'' پر تفريع كيا ہے_

۱۰_ خداوند متعال نے مشركين كو قرآن كے خدا كى طرف سے نازل ہونے پر توجہ دلاكر اسلام اور قرآن مجيد پر ايمان لانے كى دعوت دى _فالّم يستجيبوا لكم فاعلموا فهل ا نتم مسلمون

۴۱

اسلام :اسلام كے قبول كرنے كى اہميت ۸; اسلام كى دعوت ۱۰ ; قبول اسلام كے دلائل ۹

اعداد:دس كا عدد ۱

انسان :انسانوں كا عاجز ہونا ۱ ، ۶ ، ۹

ايمان :اسلام پر ايمان ۱۰ ; قرآن پر ايمان ۱۰

تسليم :خداوند متعال كو تسليم كرنے كى اہميت ۸ ; خداوند متعال كو تسليم كرنے كے دلائل ۹

توحيد :توحيد كو قبول كرنے كى اہميت ۸ ; توحيد عبادى ۵ ; توحيد عبادى كى علامتيں ۶

جھوٹے خدا:جھوٹے خداؤں كا عاجز ہونا۱

خدا:خداوند متعال كى خصوصيات ۵ ; خداوند متعال كا متوجہ كرنا۱۰ ; علم الہى كى نشانياں ۲ ، ۳ ، ۴

قرآن مجيد :قرآن مجيد كے بے مثل و مثال ہونے كے آثار ۶ ، ۹ قرآن مجيد كے وحى خدا ہونے كے آثار ۱۰ ، قرآن كا اعجاز ۱ ; قرآن مجيد كا بے مثل ہونا۱، ۳ ، قرآن مجيد كے بے مثال ہونے پر دلائل ۴ ; قرآن مجيد كا وحى ہونے پر دلائل ۳ ; ۴ قرآن مجيد كا معجزہ ہونا ۷ ; قرآن مجيد كا سرچشمہ ۳ ،۴ ; قرآن مجيد كا وحى ہونا ۲ ، ۸; قرآن مجيد كى خصوصيات ۲ ; قرآن مجيد كے ليے ہم مثل بنانا ۱

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :محمد مصطفىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى حقانيت پر دلائل ۷ ; حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا معجزہ ۷

مشركين:مشركين كو دعوت دينا ۱۰ ; مشركين اور قرآن مجيد ۱۰

نظريہ كائنات:كائنات كے بارے ميں توحيدى نظريہ

۴۲

آیت ۱۵

( مَن كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لاَ يُبْخَسُونَ )

جو شخص زندگانى دنيا اور اس كى زينت ہى چاہتا ہے ہم اسكے اعمال كا پورا پورا حساب يہيں كرديتے ہيں اور كسى طرح كى كمى نہيں كرتے ہيں (۱۵)

۱ _ دنيا كى نعمتيں اور اس كى زينت كو حاصل كرنے كيلئے كوشش كرنا اسى دنيا ميں نتيجہ بخش ہے اور اس كا فائدہ بغير كسى كمى كے انسان كو پہنچتاہے_من كان يريد الحياة الدنيا و زينتها نؤف اليهم اعمالهم فيها و هم فيها لا يبخسون

توفية ( نوف) كا مصدر ہے _جو مكمل طور سے ادا كرنے كے معنى ميں ہے _ (اعمال ) سے مراد اعمال كا نتيجہ اور اسكا ثمرہ ہے_(بخس ) نقص كے معنى ميں ہے -(لا يبخسون) كا معنى يہ ہے كہ اس كے حق كى ادائيگى ميں كوئي كمى واقع نہ ہوگي_

۲_ دنياوى نعمتوں كے حصول كے ليے ضرورى نہيں ہے_ كہ انسان خداوند متعال كى نسبت صحيح عقيدہ ركھتا ہو اور دين حق كو صحيح طريقے پر قبول كرتاہو_من يريد الحىوة الدنيا و زينتها نوف اليهم اعمالهم

گذشتہ آيت اور بعد كى آيت سے يہى معلوم ہوتاہے كہ ( من كان ...) كا مصداق كفار اور مشركين ہيں _

۳_ دنياوى نعمتوں كا حصول انسان كى اپنى كوششوں پرمنحصر ہے_ نہ وہ اميديں جو وہ اميديں تہ زن اميدوں پر جو وہ اپنے دل ميں ليے ہوئے ہيں _من كان يريد نوفّ اليهم ا عمالهم

قرآن نے يہ نہيں كہا ( كہ ہر كوئي جو دنيا كى تمنا ركھتاہے _ اسكو ہم عطا كريں گے ) بلكہ لفظ (اعمالہم) صراحت سے يہ بتاتاہے كہ خداوند دنيا كے طالب كو اسكى اپنى كوشش كا ثمرہ عطا كرتاہے_ اس سے معلوم ہوتاہے كہ دنيا كے حصول كے ليے جو چيز كار ساز ہے وہ اس كى اپنى كوشش ہے_

۴ _ كائنات پر خداوند متعال كى حاكميت اور اسكے عوامل

۴۳

اور اسباب _نوفّ اليهم اعمالهم فيه

يہ واضح بات ہے كہ دنيا كے مادى اسباب انسان كى كوشش كو ثمر آور كرنے ميں مؤثر ہوتے ہيں _ ليكن خداوند متعال اس آيت (نوف اليہم اعمالہم ) كہ ان كى كوشش كا ثمرہ ان كو دوں گا_ اور ثمرہ دينے كى نسبت اپنى طرف دينا يہ دليل ہے كہ كائنات پراسكى حاكميت ہے_

۵ _ حق داروں كو ان كا حق عدل الہى كے مطابق ديا جائيگا_نوف اليهم اعمالهم و هم فيها لايبخسون

۶_ كوششوں كا نتيجہ اور ثمرہ انسان كے اعمال كا پرتو ہے_نوف اليهم ا عمالهم

( اعمال) كے لفظ كا ذكر كرنا اور اس سے نتيجے اور ثمرہ كا ارادہ كرنا_ يہ در حقيقت وہى عمل و كوشش ہے _ جو خود انسان بجالاتاہے_

۷_ انسانوں كى كوشش كو ثمر آور كرنا _ يہ سنت الہى ميں سے ہے _نوفّ اليهم اعمالهم فيها و هم فيها لا يبخسون

۸_ بعثت كے زمانے كے مشركين اپنى دنيا پرستى اور اسكى ظاہرى رونق كے سبب قرآن پر ايمان نہيں لائے اور اسكو پيغمبر اسلام كى طرف سے گھڑا ہوا كلام سمجھا_ام يقولون افترىه _ من كا ن پديد الحياة الدنيا و زينته

مشركين كو توحيد كى دعوت دينے اور واضح دليليں قائم كرنے كے بعد ان كى دنيا پرستى اور ظاہرى چمك دھمك كى طرف انكے ميلان كو بيان كرنا ان اسباب كى طرف اشارہ ہے جن كى وجہ سے مشركين كفر اختيار كرنے پر مصر تھے يعنى قرآن كى حقانيت پر واضح و روشن دليلوں كے موجود ہونے كے باوجود بھى قرآنى حقائق كو مشركين كا قبول نہ كرنا ان كى دنياپرستى پر دليل ہے _

۹_دنياپرستى اور اس كے تجملات توحيد اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رسالت اور قرآن پر ايمان لانے سے مانع ہيں _

فاعلموا انما انزل بعلم الله و ا ن لا اله الا هو فهل ا نتم مسلمون ، من كان يريد الحى وة الدنيا و زينته

۱۰_ لوگوں كے كام كى اجرت بغير كسى كمى كے دينا ضرورى ہے_نوف اليهم اعمالهم و هم فيها لا يبخسون

( و ہم فيہا لا يبخسون ...) جملہحاليہ اس علت كو بيان كررہا ہے كہ خداوند عالم نے اپنے ليے ضرورى قرار ديا ہے كہ وہ محنت و كوشش كا مكمل اجر عطا كرےگا يعنى كيونكہ يہ مناسب نہيں ہے كہ كسى كے حق كى ادائيگى ميں كمى كى جائے لہذا خداوند عالم انسان كے اعمال كا پورا پورا بدلہ دے گا _

۴۴

۱۱ _ دنيا ميں نيك اور پسنديدہ اعمال كا ثمر آور ہونا يہ سنت الہى ہے_نوفّ اليهم اعمالهم و هم فيها لا يبخسون

جملہ (نوف اليہم اعمالہم ...) ميں اعمال سے مراد ممكن ہے كہ نيك اعمال ہوں _ مثلاً غربيوں كى سرپرستى كرنا ، مظلوموں كى مدد كرنا ، اور يہ بھى احتمال ہے كہ روزمرہ زندگى كى روزى كى تلاش مراد ہو_ مثلاً تجارت ، صنعت و يہ بھى ممكن ہے _ كہ تمام كام مراد ہوں خورہ وہ نيك اعمال ہوں _ يا متعارف اور رائج اعمال ہوں _ قابل دكر ہے كہ آنے والى آيت (حبط ما ضعوا فيہا و باطل ما كانوا يعملون) تيسرے معنى كى تاييد كرتى ہے _

۱۲ _ نيك اعمال كا اگر مقصد يہ ہو كہ اسكا پھل دنيا ميں ملے _ تو اسكا نتيجہ بھى فقط دنيا ہى ميں پائے گا _

من كان يريد الحياة الدنيا و زينتها نوف اليهم اعمالهم فيه

آرزو:آرزو كا اثر ۳

افتراء:حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بہتان ۸

امكانات مادي:دنياوى آسائشوں كا حصول ۲; دنيا كى آسائشوں كے حصول كش كوشش ; امكانات ہادى كے حصول كے اسباب

ايمان :قرآن مجيد پر ايمان لانے كے موانع ۹ : رسالت مآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ايمان لانے كے موانع ۹پيدائش مخلوقات كا حاكم :۴

توحيد:توحيد كو قبول كرنے ميں موانع ۹

تجمل پسندى :تجمل پسندى كے آثار ۸ ، ۹

حقوق :حقوق دينے ميں عدالت ۵

خدا:خداوند متعال كى حاكميت ۴ : خدامتعال كى سنتيں ۷، ۱۱; خداوند متعال كى عدالت ۵

دنيا كا حصول :دنيا كے حصول كے آثار ۸ ، ۹

دين :دين ميں نقصان كى پہچان ۹

زينت:دنياوى زينتيں ۱

۴۵

عقيدہ :عقيدہ كے آثار ۲

عمل :عملكے آثار ۱ ، ۳ ، ۶ ، ۷ ; پسنديدہ عمل كے آثار۱۱ ; پسنديدہ عمل كا دنياميں پھل ۱۲ ;عمل كامجسم ہونا ۶

قرآن :قرآن مجيد كو جھٹلانے كے اسباب ۸

كام :كام كى اجرت كى اہميت ۱۰

مادى اسباب :مادى اسباب كا حاكم۴

مزدور:مزدور كى مزدورى كا ادا كرنا ۱۰

مزدورى :مزدورى دينے ميں عدالت ۱۰

مشركين :صدر اسلام كے مشركين كى بہتان تراشى ۸ ; صدر اسلام كے مشركين كى تجمل پسنديدى ۸ ; صدر اسلام كے مشركين كا دنياوى حصول۸ ; صدر اسلام كے مشركين اور قرآن ۸ ; صدر اسلام كے مشركين اور رسالت مآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۸

آیت ۱۶

( أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ إِلاَّ النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُواْ فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ )

اور يہى وہ ہيں جن كے لئے آخرت ميں جہنم كے علاوہ كچھ نہيں ہے اور ان كے سارے كاروبار برباد ہوگئي ہيں اور سارے اعمال باطل و بے اثر ہوگئے ہيں (۱۶)

۱ _ دنيا كے طالب كافر جو دنيا كى رونق سے دل لگائے ہوئے ہيں _ آخرت ميں ان كو جہنم كى آگ كے سوا كچھ نہيں ملے گا_

من كان يريد الحياة الدنيا و زينتها اولئك الذين ليس لهم فى الآخرة الا النار

۲ _ آخرت ميں سعادت ، دنيا پرستى اور اسكى رونق سے منہ موڑنے ميں ہے_

من كان يريد الحياة الدنيا اولئك الذين ليس لهم فى الآخرة الا النار

۳ _ دنيا پسند اور اسكى ظاہرى رونق سے دل لگائے ہوئے

۴۶

لوگوں كے اعمال آخرت ميں ضبط ہوجائيں گے اور خداوند متعال كے نزديك انكى كوئي قيمت نہيں ہے_

اولئك ...و حبط ما صنعوا فيه

(فيہا ) كى ضمير (الحياة الدنيا ) كى طرف لوٹتى ہے _ لفظ ( حبط) كا ظرف ( فى الآخرة) ہے _ جو اس سے پہلے ذكر ہوا ہے _ اصل ميں عبارت يوں ہے _(و حبط فى الآخرة ما ضعوا فى الدنيا ) كيونكہ لفظ (ضيعة) كا معنى نيك عمل ہے _اس وجہ سے (ما ضعوا) كا معنى بھى نيك اعمال ہوں گے_ يعنى محتاجوں كا ہاتھ پكرنا و غيرہ اور (ماكانوا) سے مراد وہ كام ہيں جو روزمرہ كى زندگى كے ليے انسان انجام ديتاہے _ مثلاً تجارت و غيرہ كرنا _

۴ _ اگر دنيا ميں انسان كے اعمال ميں الہى پہلو نہ پايا جاتا ہيں تو آخرت ميں اسكى كوئي قيمت ہوگى اور نہ ثمر آور ہوگا_

اولئك باطل ما كانوا يعملون

۵ _عن امير المؤمنين عليه‌السلام انه قرا '' اولئك الذين ليس لهم فى الآخرة الا النار ثم قال: كيف ا ستطيع الصبر على نار لو قذفت بشررة الى الارض لاحرقت نبتها؟ (۱)

مولا ئے كائنات امير المؤمنين على ابن ابى طالب سے روايت ہے كہ جب حضرتعليه‌السلام نے اس آيت (اولئك الذين ليس لهم فى الآخرة الاالنار ...) كى تلاوت فرمائي تو حضرت نے يہ جملہ فرمايا كہ ميں كس طرح اس آگ كو برداشت كرسكتاہوں جسكى ايك چنگارى اگر زمين پر گر جائے _ تو جو بھى روئے زمين پر اگنے والى چيزيں ہيں ان سب كو جلا دے گي

اہميتيں :اہميت كا معيار ۴

جہنم:آتش جہنم كا ہولناك ہونا۵

دنيا كے طالب :دنيا كے طالب كے پسنديدہ عمل كا بے قيمتى ہونا ۳

دنيا كى طلب:دنيا كى طلب كے آثار ۱ ، ۳

روايت: ۵زہد:زہد كے آثار۲

سعادت:اخروى سعادت كا پيش خيمہ ۲

عمل :آخرت كے ليے عمل كى قيمت ۴ ; عمل كے ضبط ہونے كے اسباب ۳

____________________

۱) امالى صدوق ص ۴۹۶ ح ۷ ، مجلس ۹۰ ، بحار الانوار ج/۴۰ ص ۳۴۶ ح ۲۹_

۴۷

قيامت :قيامت ميں اعمال كا ضبط ہونا ۳

كفار :كافروں كے ليے جہنم ۱ ; كافر دنيا كے طالب ۱

نيت:نيت كے آثار ۴

آیت ۱۷

( أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إَمَاماً وَرَحْمَةً أُوْلَـئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ فَلاَ تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يُؤْمِنُونَ )

كيا جو شخص اپنے رب كى طرف سے كھلے دليل ركھتا ہے اور اس كے پيچھے اس كا گواہ بھى ہے اور اس كے پہلے موسى كى كتاب گواہى دے رہى ہے جو قوم كے لئے پيشوا اور رحمت تھى _ وہ افترا كرے گا بيشك صاحبان ايمان اسى پر ايمان ركھتے ہيں اور جو لوگ اس كا انكار كرتے ہيں ان كا ٹھكانا جہنم ہے تو خبردار تم اس قرآن كى طرف سے شك ميں مبتلا نہ ہونا_ يہ خدا كى طرف سے برحق ہے اگر چہ اكثر لوگ اس پر ايمان نہيں لاتے ہيں (-۱۷)

۱_ انسانوں كے بعض گروہ كا بصيرت الہى سے سرفراز ہونا قرآن مجيد كى حقانيت اور خدا كى طرف سے نازل ہونے كى واضع اور روشن دليل ہے_افمن كان على بينة من ربه

(بينہّ) كا معنى روشن دليل ہے _ اس پر دليل وہ مربوط آيات ہيں جو پہلے ذكر ہوئي ہيں اور جو جملات بعد ميں ذكر ہوئے ہيں _ مثلاً(انه الحق من ربك ) يہ قرآن مجيد كے برحق اور خدا كى طرف سے ہونے كو ثابت كرتے ہيں _ لفظ (من) جملہ (أفمن كان ) ميں مبتداء ہے اور اسكى خبر (كمن ليس كذلك ...) كى مانند شبہ جملہ ہے _ تو معنى يوں ہوگا ( فمن كان ...) تو كيا جو شخص بصيرت الہى سے مالامال ہے وہ قرآن كى حقانيت پر واضح دليل ركھتاہے كيا يہ

۴۸

اس كى مانند ہے جو اس طرح نہيں ہے_

۲ _ خود قرآن مجيد، اپنے صحيح اور سچے ہونے پر دليل ہے_و يتلوه شاهد منه

(شاہد) سے مراد كيا ہے_ اسميں چند نظريے ہيں ممكن ہے_ جملہ ( و من قبلہ كتاب موسى ) اسكى تائيدكرے كہ شاہد سے مراد خو د قرآن مجيد ہو كيونكہ قرآن مجيد حق اور الہى ہے _ اس آيت كى روشنى ميں كہ (انہ الحق من ربك) (تُلُوّا) مصدر يتلو ہے _ جو پيچھے آنے كے معنى ميں ہے يعنى شاہد كا پيچھے پيچھے آنا _ يہ كناية ہے كہ شاہد تائيد اور مدد كرنے والا ہے _ اور (يتلوہ) كى ضمير '' من '' كى طرف لوٹتى ہے اور '' منہ'' كى ضمير ''ربّ'' كى طرف لوٹتى ہے _ اسى بناپر جملہ (أفمن يتلوہ شاہد منہ) يعنى وہ جو (بيّنہ) كے علاوہ قرآن كى گواہى سے بہرہ مند ہے كيا وہ اس كے مانند ہے جو ايسا نہيں رہے _

۳ _ خداوند متعال كى طرف بصيرت حاصل كرنے والے ، قرآن كى حقانيت اور اسكى راہنمائي اور اس كے گواہ ہونے كو درك كرتے ہيں اور وہ اس بات آگاہ بھى ہيں _أفمن كان على بيّنة من ربه و يتلوه شاهد منه

يہ بات واضح ہے كہ ايمان والے اور بے ايمان مساوى نہيں ہيں _ قرآن مجيد كى روشنى ميں كہ ارشاد ہوتاہے _ (أفمن يتلوہ شاہد منہ) كَمَنْ ليس كذلك تنہا وجود قرآن گواہ نہيں بلكہ قرآن كو سمجھنا اور نہ سمجھنا بھى ان دو گروہ ميں تفريق كا سبب ہے _

۴_ انسان كا بابصيرت اور روشن دل ہونا_ خدا كى ربوبيت كا پرتو ہے _أفمن كان على بينة من ربه

۵_ توريت، قرآن مجيد كى حقانيت پر دليل ہے_و يتلوه من قبله كتاب موسى

(كتاب ) كا لفظ ( شاہد) كے لفظ پر عطف ہے_ اور (قبلہ ) كى ضمير شاہد كى طرف لوٹتى ہے _

۶_ توريت نزول قرآن كى بشارت ديتى ہے_و من قبله كتاب موسى

۷_خداوند متعال كى طرف سے جن كو بصيرت عطا كى گئي ہے وہ توريت كا حقانيت قرآن پر دليل ہونے كو بآسانى سمجھ ليتے ہيں _أفمن كان على بينه من ربه و من قبله كتاب موسى

۸_ توريت وہ كتاب ہے_ جو حضرت موسى عليہ السلام پر نازل ہوئي _و من قبله كتاب موسى

۹_ توريت پيشوا ، لوگوں كى راہنمائي كرنے والى اور لوگوں پر رحمت ك

۴۹

سبب ہے _و من قبله كتاب موسى اماماً و رحمةً

۱۰_ انسانوں كو چاہيئے كہ آسمانى كتابوں كو اپنا رہبر و راہنما قرار ديں _و من قبله كتاب موسى اماماً و رحمةً

۱۱ _ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حقانيت قرآن پر خدا كى طرف سے بصيرت ركھتے تھے_ اور خدا كى طرف سے كتاب الہى ہونے پر گواہ اور توريت كے حقائق سے بھى باخبرتھے_أفمن كان على بينة من ربه و من قبله كتاب موسي

بعض مفسرين نے( من كان على بينة) كا واضح مصداق رسالت مآب كو قرا ر ديا ہے اور اسكى تائيد كے ليے جملہ ( فلا تك ...) كولاتے ہيں _

۱۲ _ وہ لوگ جو خدا كى طرف سے بصيرت ركھتے ہيں _ وہ قرآن پر ايمان لاتے ہيں _

أفمن كان على بينة اولئك يؤمنون به

(بہ ) ضمير كا مرجع گذشتہ آيت كى روشنى سے(ا م يقولون افترائ) اور بعد والى آيات سے قرآن مجيد ہے_

۱۳ _ قرآن كے منكر خواہ كسى بھى فرقے - (يہود ، نصارى ، مشركين ) سے ہوں جہنم كى آگ ميں ڈالے جائيں گے_

و من يكفر به من الاحزاب فالنار موعده

اگر (الا حزاب) ميں الف لام كو عہدى مانيں تو يہ مشركين ، يہود ، اور نصارى كى طرف اشارہ ہوگا_ اور اگر (الف لام) كو استغراقى بھى مانيں تو مذكورہ فرقے اسكا واضع مصداق ہوں گے _

۱۴ _ ہر فرقے كے لوگوں (يہود، نصارى ، مشركين) پر واجب ہے _كہ قرآن پر ايمان لائيں

و من يكفر به من الا حزاب فالنار موعده

۱۵_ قرآن كے صحيح اور سچے ہونے كے بارے ميں كوئي بھى شك و شبہہ ہو تو اسے دل سے نكالنا ضرورى ہے _

فلا تك فى مرية منه

(منہ) كى ضمير سے مراد (قرآن مجيد) ہے _ اور (فلا تك ...) جو فعل مخاطب كا جملہ ہے اس سے ہو ايك انسان مراد ہے_

۱۶_جو بھى قرآن كى صداقت ميں شك و شبھہ كرے گا جہنم كى آگ ميں گرفتار ہوگا _

فالنار موعده فلا تك فى مرية منه

۱۷_خداوند عالم سے بصيرت كى دعاّ قرآن مجيد اور اسميں بيان كيے گئے حقائق پر توجہ اور توريت كا مطالعہ قرآن كى حقانيت كے بارے ميں شك و شبہ است دور كرتے كے اسباب ہيں _يہ مسلم بات ہے كہ شك و شبہہ ،يقين اور علم كى

۵۰

طرح اسكا تعلق دل سے ہے _ يہ كسى كے امر يا نہى كرنے سے وجود ميں آتے ہيں اور نہ ہى معدوم ہوتے ہيں _پس جملہ ( فلا تك فى مرية منہ ) يعنى قرآن كى حقانيت ميں شك نہ كرو يہ جملہ ارشادى ہے _ يعنى ان چيزوں كو بيان كرتا ہے كہ جس سے شك و شبہہ دور ہوجاتاہے اور وہ وہى حقائق ہيں جو صدر آيات ميں بيان كيے گئے ہيں _

۱۸_ قرآن مكمل طور سے حق ہے اور باطل كےليے اسميں كوئي راستہ نہيں ہے_انه الحق- الف لام جو ( الحق ) ميں ہے تمام صفات كو اپنے اندر ليے ہوئے ہے_ يعنى استغراقى ہے يہ قرآن كے كمال پر دلالت كرتاہے_

۱۹_جب قرآن مجيد خدا كى طرف سے ہے اور باطل كى اس ميں جگہ كوئي نہيں ہے تو اس كے صحيح اور سچا ہونے كے بارے ميں شك و شبھہ كرنا مناسب نہيں ہے_فلا تك فى مرية عندإنه الحق من ربك

جملہ (إنہ الحق من ربك ) يہ -(فلا تك) كے ليے دليل كى مثل ہے _

۲۰_ قرآن مجيد خداوند متعال كى طرف سے كتاب اور اسكى ربوبيت كا ايك جلوہ ہے _إنّه الحق من ربك

۲۱ _ اكثر لوگ قرآن پر ايمان نہيں لائيں گے_و لكن أكثر الناس لا يؤمنون

مذكورہ معنى اسوقت ليا جاسكتاہے كہ لفظ (الناس) كے الف لام كو استغراق فرض كريں _

۲۲_ اكثر لوگ اس بصيرت سے جو حقانيت قرآن كے بارے ميں راہنمائي كرتى ہے بے بہرہ ہيں _

أفمن كان على بيّنة من ربه و لكن اكثرالناس لايؤمنون

۲۳ _ بعثت كے زمانے ميں اكثر لوگوں نے قرآن پر ايمان لانے سے انكار كيا _و لكن اكثر الناس لا يؤمنون

مذكورہ معنى اس صورت ميں ليا جاسكتاہے _ جب (النّاس) كے الف لام كو عہد حضورى مانيں _ تو اس سے ان لوگوں كى طرف اشارہ ہوگا جو سورہ ہود كى آيات كے نزول كے وقت زندگى بسر كررہے تھے_

۲۴_سئل ابوالحسن الرضا عليه‌السلام عن قول الله عزوجل: (أفمن كان على بيّنة من ربّه و يتلوه شاهد منه'' فقال امير المؤمنين صلوات الله عليه الشاهد على رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم على بيّنة من ربّه (۱)

امام رضا عليہ السلام سے اس قول خدا عزوجل كے بارے ميں سوال ہوا(أفمن كان على بيّنة من ربة ...) توحضرت نے فرمايا امير المؤمنين على

____________________

۱) كافى ج۸ ; ص ۲۶ ح ۴ ; نورالثقلين ج/ ۲ ص ۳۴۷ ; ح ۴۷_

۵۱

ابن ابى طالبعليه‌السلام خدا كادرود و سلام ان پر ہو _ يہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر شاہد ہيں اور خود رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى طرف سے روشن دليل ہيں _

۲۵_عن الحسين بن على عليه‌السلام فى قوله : ( و يتلوه شاهد منه ) قال : الشاهد هو محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (۲)

امام حسين عليہ السلام سے جب اس آيت ( و يتلوہ شاہد منہ ) كے بارے ميں سوال ہوا _ تو فرمايا شاہد سے مراد محمد رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہيں _

۲۶_''عن ا مير المومنين عليه‌السلام فى قوله تعالى : و من يكفر به من الا حزاب فالنّار موعده'' يعنى الحجود به والعصيان له'' (۱) حضرت امير المؤمنينعليه‌السلام سے روايت ہے _ آيت شريفہ ميں كفر سے مراد انكار اور نافرمانى ہے_

آسمانى كتابيں :آسمانى كتابوں كى اہميت ۱۰ ; آسمانى كتابوں كى راہنمائي ۱۰

اكثريت :جہلا كى اكثريت ۲۲; صدر اسلام ميں لوگوں كى اكثريت كا كفر ۲۳

امام علىعليه‌السلام :امام علىعليه‌السلام كا مقام و منزلت ۲۴

اہل جہنم: ۱۳

ايمان :حقانيت قرآن پر ايمان ۱۵ ; قرن پر ايمان ۱۴ ; قرآن پر ايمان كے اسباب ۱۷

بشارت :نزول قرآن كى بشارت ۶

بصيرت:بصيرت كے آثار ۱۲ ; اہل بصيرت كا ادراك ۷ ; اہل بصيرت ۱۱ ; اہل بصيرت اور توريت ۷ ; اہل بصيرت اور قرآن ۱،۳ ، ۱۲ ; بصيرت كى طرف توجہ كى اہميت ۱۷ ; اہل بصيرت اور ايمان ۱۲ ; بصيرت سے بے بہرہ لوگوں كى اكثريت ۲۲ ; بصيرت كا سبب ۴

توريت:تورات كے مطالعہ كے آثار ۱۷ ; توريت كى بشارتيں ۶; توريت اور قرآن ۵ ، ۶ ; تو ريت كا رحمت ہونا ۹ ; رہبرى اور توريت ۹ ; توريت كى گواہى كو سمجھنا ۷; توريت كى گواہى ۵ ; نزول تورات ۸ ; توريت كى خصوصيات ۸ ، ۹ توريت كى ہدايت كرنا ۹

____________________

۱) كافى ج۸ ; ص ۲۶ ح ۴ ; نورالثقلين ج/ ۲ ص ۳۴۷ ; ح ۴۷_

۵۲

جھنم :جہنم كے اسباب ۱۶

خدا:ربوبيت خدا كى نشانياں ۴ ، ۲۰

دعا :دعا كے آثار ۱۷

ذكر :ذكر قرآن كے آثار ۱۷; قرآن ميں ذكر كى اہميت۱۷

رحمت:رحمت كے اسباب ۹

قرآن:حقانيت قرآن پر گواہى ۷ ;حقانيت قرآن كى شناخت ; حقانيت قرآن كے گواہ ۲ ، ۵ ، ۱۱ ; حقانيت قرآن ميں شبھہ كو دو ر كرنا ۱۵ ، ۱۷، ۲۲ ; قرآن پر ايمان لانے والے ۱۲ ; قرآن كا (باطل سے ) مبرا و پاك ہونا ۱۸ ; قرآن كا سبب ۲۰ ;قرآن كا كردار ۲ ،۳;قرآن كا وحى ہونا ۲۰ ; قرآن كى اہميت ۱۴ ، ۱۶ ; قرآن كى حقانيت ۱۸ ; قرآن كى حقانيت كے آثار۱۹ ; قرآن كى خصوصيات ۱۸ ; قرآن كى گواہى ۲ ، ۳ ;قرآن كے منكر ۱۳ ، ۲۳ ; قرآن ميں شك كرنے والوں كا انجام ۱۶ ;قرآن ميں شك كے بطلان پر دلائل ۱۹; قرآن ميں وحى كے آثار ۱۹

كفار:كفار كا جہنم ميں جان۱۳

كفر :قرآن كا انكار ۲۱ ;قرآن كے منكر كى سزا ۱۳ ; قرآن كے انكارسے مراد ۲۶

لوگ:لوگ اورقرآن ۲۱ ، ۲۲

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :رسالت مآب كى بصيرت ۱۱ ; رسالت مآب كے فضائل ۱۱ ; حقانيت رسول خدا پر گواہ ۲۴ ; رسول خدا كى گواہى ۱۱ ،۲۵; رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور توريت ۱۱ ; رسول خدا اور قرآن كى حقانيت ۱۱

مسيح :مسيحوں كے وظائف۱۴; عيسائي جہنم ميں ۱۳

مشكرين :مشركين كے وظائف ۱۴ ; مشركين جہنم ميں ۱۳

موسىعليه‌السلام :كتاب موسى ۸

يہود:يہوديوں كى ذمہ دارياں ۱۴ ; يہودى جہنم ميں ۱۳

۵۳

آیت ۱۸

( وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِباً أُوْلَـئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الأَشْهَادُ هَـؤُلاء الَّذِينَ كَذَبُواْ عَلَى رَبِّهِمْ أَلاَ لَعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ )

اور اس سے بڑا ظالم كون ہے جو اللہ پر جھوٹا الزام لگاتاہے _ يہى وہ لوگ ہيں جو خدا كے سامنے پيش كئے جائيں گے تو سارے گواہ گواہى ديں گے كہ ان لوگوں نے خدا كے بارے ميں غلط بيانى سے كام ليا ہے تو آگاہ ہوجائو كہ ظالمين پر خدا كى لعنت ہے (۱۸)

۱ _ خداوند عالم پر جھوٹ باندھا بہت بڑا ظلم ہے_و من اظلم من افترى على الله كذبا

۲ _ دين ميں بدعت ايجاد كرنا، اپنے خود ساختہ كام كو خدا كے ساتھ نسبت دينا اور اس پر جھوٹ باندھنا، حرام ہے _

و من اظلم ممن اظلم على الله كذبا

۳ _ ظلم و ستم كے مراتب ہيں _و من أظلم ممن افترى على الله كذبا

۴_خداوند عالم كى طرف جھوٹى نسبت دينے والوں كو قيامت كے دن بارگاہ الہى ميں پيش كيا جائے گا_

اولئك يعرضون على ربهم

۵_ خداوند متعال، مخلوقات كا پالنے والا اور ان كے امور كو نظم دينے والا ہے_... على ربّهم

۶_ظالم افراد كو كيفر كردار تك پہنچانا خداوند عالم كى ربوبيت كا ايك جلوہ ہے_اولئك يعرضون على ربهم

۵۴

۷_ قيامت كے دن ظالموں كى ستمگرى اور افتراء باندھنے والوں كے جھوٹ پر متعدد گواہ شہادت ديں گے_

و يقول الاشهاد هؤلاء الذين كذبوا على ربهم

(اُشہاد) شاہد كى جمع ہے جسكا معنى گواہى ميں دينے والے ہيں _

۸_دنيا ميں انسانوں كے اعمال، خداوند متعال كى طرف سے مقرر كيئے گئے گواہوں كى زير نگرانى ہيں _

يقول الا شهاد هؤلاء الذين كذبوا على ربهم

۹_ اعمال كے گواہ، خدا كے حضور پروردگار عالم پر جھوٹ باندھنے والوں ، كے خلاف گواہى ديں گے _

اولئك يعرضون على ربّهم و يقول الا شهاد هؤلاء الذين كذبوا على ربّهم

۱۰_ قيامت كے دن، ظالم لوگ رحمت الہى سے دور اور لعنت الہى ميں گرفتارہوں گے_الا لعنة على الظالمين

۱۱ _ خدا پر بہتان باندھنے والے افراد، رحمت الہى سے محروم اور لعنت خداميں گرفتار ہوں گے_

هؤلاء الذين كذبوا على ربهم الا لعنة الله على الظالمين

۱۲ _ اعمال كے گواہ، قيامت كے دن ظالموں كى رحمت الہى سے دورى كا اعلان كريں گے_ا لا لعنة الله على الظالمين

۱۳ _ اعمال كے گواہ، قيامت كے دن امور پر مامور ہوں گے _و يقول الاشاهد ...ا لا لعنة الله على الظالمين

۱۴_عن رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : ...و ا ما الكافر فيقراء ذنوبه على رؤوس الا شهاد ، ''هؤلاء الذين كذبوا على ربهم الا لعنة الله على الظالمين'' (۱)

رسالت مآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روايت سے كہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا : قيامت كے دن كافروں كے گناہوں كو گواہوں كے سامنے مجمع عام ميں بيان كيا جائے گا_يہى وہ لوگ ہيں جو پروردگارپر جھوٹ باندھتے ہيں خبردار ظالموں پر خدا كى لعنت ہے _

انسان:انسانوں كا مدبر۵

احكام : ۲

بہتان:بہتان باندھنا خدا پر ظلم ہے ۱ ; بہتان كے احكام ۲ ; خدا پر بہتان باندھنے كى حرمت ۲

____________________

۱) الدرالمنثور ج۴ ص ۴۱۳_

۵۵

بدعت:بدعت حرام ہے ۲; بدعت كے احكام ۲

خدا:پالنے والے كى نشانياں ۶ ; خداوند متعال كى ربوبيت ۵

خدا پربہتان باندھنے والے: ۱۴

بہتان باندھنے والوں پر لعنت ۱۱;بہتان باندھنے والوں كى محروميت۱۱; بہتان باندھنے والوں كے خلاف گواہى ۷،۹ ; قيامت ميں بہتان باندھنے والے ۴

دين :دينى آفات كى پہچان ۲

رحمت :رحمت سے محروم لوگ ۱۰ ، ۱۱ ، ۱۲

روايت :۱۴

ظالمين :ظالموں پر آخرت ميں لعنت ۱۰ ;ظالموں پر لعنت ۱۴ ;ظالموں كا آخرت ميں محروم ہونا ۱۰ ، ۱۲;

ظالموں كى سزا ۶ ; ظالموں كے خلاف گواہى ۷

ظلم :سب سے بڑأظلم ۱ ; ظلم كے درجات ۱ ، ۳

عمل:عمل كے گواہ ۸،۹،۱۲ ، ۱۳ ; عمل كے گواہ اور ظالم لوگ ۱۲ ; گواہوں كا آخرت ميں كردار ۱۳

قيامت :قيامت ميں كام كرنے والے ۱۳ ; قيامت ميں گواہ ۷ ، ۱۲ ، ۱۳

كفار:كفار كا افشا ہونا ۱۴ ; كفار پر لعنت ۱۴

گواہي:خدا كے حضور گواہى ۹

لعنت :لعنت كے مستحقين ۱۰ ، ۱۱ ،۱۴

محرمات : ۲

۵۶

آیت ۱۹

( الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجاً وَهُم بِالآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ )

جو راہ خدا سے روكتے ہيں اور اس ميں كجى پيدا كرنا چاہتے ہيں اور آخرت كے بارے ميں كفر اور انكار كرنے والے ہيں (۱۹)

۱_ جو لوگوں كو خدا كے راستے( دين اور معارف الہى ) سے روكتے ہيں ، وہ ظالموں ميں سے ہيں _

ألا لعنة الله على الظالمين ، الذين يصدون عن سبيل الله

فعل ( يصدّون) روكنے كے معنى ميں ہے_ اور منہ پھيرنے كے معنى ميں بھى آتاہے_ مذكورہ مطلب پہلے معنى كى بناء پر ہے_

۲ _ خدا كے راستے سے منہ پھيرنے والے ستمگر ہيں _ألا لعنة الله على الظالمين ، الذين يصدون عن سبيل الله

۳ _ جو لوگ دين اور معارف الہى كو قبول نہيں كرتے اور دوسروں كو بھى انہيں قبول كرنے سے روكتے ہيں _ وہ آخرت ميں رحمت الہى سے محروم اور لعنت خدا ميں گرفتار ہوں گے _ألا لعنة الله على الظالمين الذين يصدون عن سبيل الله

۴ _ وہ لوگ جو خدا كے راستے كو ''كجراہ''پيش كرنے كى كوشش كرتے ہيں وہ ظالم ہيں _

ألا لعنة الله على الظالمين، الذين يبغونها عوجا

''يبغونہا عوجا'' يعنى خدا كے راستہ ميں انحراف كى جستجو ميں ہيں _ راہ خدا ميں انحراف كى جستجو كبھى خود اس راستہ ميں انحراف ايجاد كركے اور كبھى اس راستہ كو منحرف ظاہر كرنے كے ذريعہ ہوتى ہے _

مذكورہ مطلب انحراف كى دوسرى قسم پر ناظر ہے_

۵_ خداوند عزوجل كا راستہ (احكام و معارف الہى )ہر قسم كے انحراف اور كجروى سے پاك ہے_و يبغونها عوجا

۵۷

۶_ وہ لوگ جو دين كو منحرف اور معارف الہى كو غلط بيان كرنے كے در پے ہيں '' وہ ظالم ہيں اور آخرت ميں لعنت الہى ميں گرفتار ہوں گے _ألا لعنة الله على الظالمين ، الذين يبغونها عوجا

۷_ آخرت كے منكر ستم گر، روزقيامت رحمت خداوندى سے محروم ہوں گے_

ألا لعنة الله على الظالمين الذين يصدون عن سبيل الله و هم بالاخرة هم كافرون

۸_ آخرت ميں رحمت الہى سے بہرہ مند ہونا، راہ خدا اور اس كے دين پر گامزن ہونے اور اسكے دين كى پيروى نيز آخرت پر ايمان لانے پر موقوف ہے_ألا لعنة الله على الظالمين الّذين يصدون عن سبيل الله و هم بالاخرة هم الكفرون

۹_ خداوند عالم پر جھوٹ باندھنا، لوگوں كو راہ خدا سے روكنے اور دين الہى ميں كجروى پيدا كرنے كا سبب اور آخرت كے انكار كى علامت ہے_و هم بالا خرة هم كافرون

۱۰ _ دين و معارف الہى كا انكار ، لوگوں كو دين الہى سے روكنا اور اسے كجراہ ظاہر كرنا، آخرت كے انكار كى وجہ سے ہے_

الذين يصدون عن سبيل الله و يبغونها عوجاً و هم بالآخرة هم كافرون

'' وہم بالآخرة ...'' كو جملہ حاليہ اور ماقبل جملات ميں امور كى علت بيان كرنے والا قرار ديا جاسكتاہے_

آخرت:آخرت كے جھٹلانے كے آثار ۷ ،۱۰; آخرت كے منكرين كأظلم ۷ ; آخرت كے منكرين كى محروميت ۷

احكام :احكام كا ( انحرافات ) سے منزہ ہونا ۵

افتراء :خداوند متعال پر بہتان كے آثار ۹

ايمان :آخرت پر ايمان كے آثار ۸

دين :دين سے انحراف كے اسباب ۹ ;دين سے روكنے والوں پر آخرت ميں لعنت ۳ ; دين سے منحرف كرنے والوں كأظلم ۶ ;دين سے منع كرنے والوں كا آخرت ميں محروم ہونا ۳ ;دين سے منع كرنے والوں كأظلم ۱ ;دين سے منع كرنے والے ۱ ;دين سے ممانعت كے آثار ۳ ; دين كا منزہ ہونا ۵ ; دين كو بدنما پيش كرنے كے عوامل ۱۰ ; دين كو جھٹلانے كے اسباب ۱۰ ;دين كو جھٹلانے كے آثار ۳ ; دين كى پيروى كے آثار۸;دين قبول كرنے ميں موانع ۱۰; دينى آفات كى پہچان۹

۵۸

رحمت :آخرت كى رحمت سے محروم لوگ ۳ ، ۷: اخروى رحمت كے اسباب ۸ ; رحمت سے محروميت كے اسباب ۳

سبيل الله :الله سے اعراض كرنے والوں كأظلم۲; الله كے راستے سے روكنے والوں كأظلم ۱ ;الله كے راستے كا انحراف سے پاك ہونا ۵ ; الله كے راستے كا بدنما جلوہ دكھانے كأظلم ۴; سبيل الله كے موانع ۹

ظالمين : ۱ ، ۲ ، ۴ ، ۶ ،۷

كفار:كافروں پر آخرت ميں لعنت ۳ ; كافروں كا آخرت ميں محروم ہونا ۳

كفر :اخروى علامات كا كفر ۹

لعنت:لعنت اخروى كے مستحقين ۳،۶

آیت ۲۰

( أُولَـئِكَ لَمْ يَكُونُواْ مُعْجِزِينَ فِي الأَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُم مِّن دُونِ اللّهِ مِنْ أَوْلِيَاء يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُواْ يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُواْ يُبْصِرُونَ )

يہ لوگ نہ روئے زمين ميں خدا كو عاجز كرسكتے ہيں اور نہ خدا كے علاوہ ان كا كوئي ناصر و مددگار ہے ان كا عذاب دگنا كرديا جائے گا كہ يہ نہ حق بات سن سكتے تھے اور نہ اس كے منظر عام كو ديكھ سكتے تھے (۲۰)

۱_اہل كفر، كرہ ارض كے كى بھى مقام پر اپنے آپ كو خداوند عالم كى حاكميت سے خارج نہيں كرسكتے ہيں

اولئك لم يكونوا معجزين فى الارض

اعجاز ( معجزين كا مصدر ہے ) اسكا معنى قدرت سے خارج ہوناہے اور اسوجہ سے كہ معجزين كا مفعول لفظ (الله ) ہے، اسكو مدنظر ركھتے ہوئے ، جملہ (اولئك لم يكونوا ...) كا معنى يہ ہوگا _ وہ لوگ (منكرين ) كبھى بھى خداوند متعال كى حاكميت اور دسترس سے خارج نہيں ہوئے_

۵۹

۲ _ كفار كا كفر اختيار كرنا اور ان كے كرتوت (خداوند متعال پر بہتان باندھنا اور اس كے راستے سے منحرف كرناو غيرہ )يہ سب خداوند عالم كى حاكميت سے خارج نہيں ہيں _و من أظلم ممن افترى على الله كذباً اولئك لم يكونوا معجزين

(اولئك لم يكونوا )كا جملہ ماضى كے معنى ميں ہونا)كہ وہ كبھى بھى حاكميت خدا سے خارج نہيں تھے) اس مطلب كو بيان كر رہا ہے كہ كافروں كا كفر كى طرف رجحان بھى حاكميت خدا كے تحت تھا_

۳_ تمام كائنات پر خداوند عالم حاكميت مطلق ركھتاہے_اولئك لم يكونوا معجزين فى الارض

۴ _ جولوگ قيامت كے منكر ہيں اور وہ جو راہ خداكو انحرافى پيش كرنے كى كوشش كرتے ہيں ان كا دنياوى عذاب ميں گرفتار ہونے كا خطرہ ہے _الذين يبغونها عوجاً و هم بالاخرة هم كافرون اولئك لم يكونوا معجزين فى الارض

۵ _ راہ خدا پر چلنے سے منع كرنے اور خدا پر جھوٹ باندھنے والوں كے ليے عذاب دنياوى ميں گرفتار ہونے كا خطرہ ہے_

و من أظلم ممّن افترى على الله كذباً اولئك لم يكونوا معجزين فى الارض

(اولئك لم يكونوا ...) كا جملہ، عذاب كى تہديد كے ليے كنايہ ہے اور(فى الارض) كا جملہ عذاب كے دنياوى ہونے پر دليل بن سكتاہے_

۶_ فقط الله تعالى ہى انسانوں كا ولى اور سرپرست ہے_و ما كان لهم من دون الله من ا ولياء

۷_ اہل شرك كے كسى خدا ميں بھى يہ طاقت نہيں كہ وہ عذاب الہى ميں گرفتار ہونے والوں كى مدد كرسكے_

و ما كان لهم من دون الله من ا ولياء

۸_ جو لوگ خدا كو ولى نہيں مانتے وہ اپنے آپ كو بے بنياد اور متعدد اولياء كى ولايت ميں گرفتار كرليں گے_

و ماكان لهم من دون الله من اولياء

مذكورہ آيت ميں لفظ ''ولي'' كا ذكر ممكن ہونے كے باوجود ''اوليائ'' جمع كا صيغہ لانا، اس نكتہ كى طرف اشارہ ہے كہ اگر انسان الله كى ولايت كو قبول نہيں كرے گا تو متعدد اولياء كى ولايت ميں گرفتار ہوكر اسے ان اولياء كے سامنے سر تسليم خم كرنا پڑيگا_

۹_ انسانوں كا كفر و شرك كى طرف ميلان نہ تو اس بات پردلالت كررہاہے كہ وہ خداوند عالم كى حاكميت سے مستغنى ہےں اور نہ ہى ان كے ليے غير خدا كى ولايت كو ثابت كررہاہے_اولئك لم يكونوا معجزين فى الارض

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863

864

865

866

867

868

869

870

871

872

873

874

875

876

877

878

879

880

881

882

883

884

885

886

887

888

889

890

891

892

893

894

895

896

897

898

899

900

901

902

903

904

905

906

907

908

909

910

911

912

913

914

915

916

917

918

919

920

921

922

923

924

925

926

927

928

929

930

931

932

933

934

935

936

937

938

939

940

941

942

943

944

945

946

947

948

949

950

951

952

953

954

955

956

957

958

959

960

961

962

963

964

965

966

967

968

969

970

971