امام مہدی کی آفاقی حکومت

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت20%

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت مؤلف:
: عرفان حیدر
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 300

امام مہدی کی آفاقی حکومت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 300 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 180612 / ڈاؤنلوڈ: 4526
سائز سائز سائز
امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت

امام مہدی کی آفاقی حکومت

مؤلف:
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

  شرمساری

اب تک ہم نے زمانِ ظہور کو مختلف عناوین سے یاد کیا۔عصرِ حیات و زندگی،نجات کا دن،فلاح کا دن،ظہور کا درخشاں زمانہ،ظہور کا پُر نور اور پُر مسرّت زمانہ،منوّر زمانہ ،عقلوں کے تکامل کا زمانہ۔  اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ ہم نے اس حیات بخش اور نجات زمانے کے لئے کیا کام انجام دیئے ہیں۔ہم نے عالمی عادلانہ حکومت کے نزدیک ہونے کے لئے کون سا اقدام کیا ہے،اس راہ میں ہم نے اپنی کتنی ثروت و دولت خرچ کی ہے؟

جس طرح ہم اپنے اور اپنے اہل خانہ اور فرزندوں کی زندگی کو پُر آسائش بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے آئندہ کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔کیا ہم نے کبھی آئندہ آنے والی دنیا اور اس کے متعلق اپنے وظیفہ و ذمہ داری کے بارے میں بھی سوچا ہے؟

یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی ظہور کا منتظر ہو لیکن اس راہ میں کوئی قدم نہ اٹھائے ۔کیا دولت کے حصول اور اموال کے جمع کرنے میں  کے لئے تمام کوششیں اور دنیا کی نجات کے لئے اپنے دینی اور انسانی فریضہ کو بھلا دینا انتظار امام زمان سے مناسبت رکھتا ہے؟

کیا یہ صحیح ہے کوئی ظہور کا معتقد بھی ہو اور منتظر بھی،لیکن اس کے باوجود صبح سے شام تک اپنا سارا دن مادّی ترقی کی جستجو میں صرف کرے اور شرعی وظیفہ بالکل فراموش کردے۔

بعض دولتمندوں کو اس وقت انتہائی شرم کا سامنا پڑے گا کہ جب عصرِ ظہور میں امام عصر علیہ السلام  ان کی مذمت کریں گے اور آنحضرت دنیا پرستی اور دنیا کا مال جمع کرنے کی وجہ سے لوگوں کی تنقید کریں گے۔

۱۰۱

ایک روایت میں حضرت باقر العلوم علیہ السلام  فرماتے ہیں:

'' یجمع الیه اموال الدنیا من بطن الارض و ظهرها،فیقول للناس تعالوا الی ماقطعتم فیه الارحام،و سفکتم فیه الدّماء الحرام و رکبتم فیه ما حرّم اللّه عزّوجلّ، فیعطی شیئاً لم یعطه احد کان قبله و یملأ الارض عدلاً و قسطاً و نوراً کما ملئت ظلماً و جوراً و شرّاً ''  (۱)

زیر زمین ثروت اور روئے زمین پر موجودتمام ثروت اوردنیا کا مال و دولت اس کے پاس جمع  ہوگا۔پھر وہ لوگوں سے کہے گا:

آئو اس چیز کی طرف کہ جس کی وجہ سے تم لوگوں نے قطع رحم کیا،ناجائز خون بہایااور خدا کی حرام کردہ چیزوں کے مرتکب ہوگئے۔

پس وہ اس قدر مال و دولت عطا کرے گا کہ جو اس سے پہلے کسی نے دوسرے کو عطا نہیں کی ہوگی۔وہ زمین کو عدل و انصاف اور نور سے بھر دے گا ۔جس طرح وہ ظلم و جور و شر سے پُر ہوچکی تھی۔

جی ہاں!وہ شرمساری اور شرمندگی کا زمانہ بھی ہے۔ایسے لوگوں کے لئے شرمندگی کہ جن کوتمام مادّی وسائل مہیّا تھے،لیکن اس کے باوجود انہوں نے کبھی بھی انسانوں کی نجات اور ان کی مشکلات کو رفع کرنے کی کوشش نہیں کی۔اس سے بھی زیادہ شرمسار وہ ہوں گے کہ جنہوں نے نہ صرف انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اپنا مال خرچ نہیں کیا۔بلکہ امام زمانہ علیہ السلام کے مال پر بھی قبضہ جما کر بیٹھ گئے اور انہوں نے وہ مال ایسے موارد میں بھی صرف نہیں کیا کہ جن میں حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کی رضائیت شامل تھی۔

کیا ایسے افراد کو اپنے گفتار و کردار پر نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت نہیں ہے؟

--------------

[۱] ۔ نوادرالاخبار:۲۷۵،بحارالانوار:ج ۵۱ص  ۲۹،الغیبة مرحوم نعمانی:۲۳۷ باب ۱۳ ح۲۶

۱۰۲

 چوتھا باب

بیماریوں کا خاتمہ

    بیماریوں کاخاتمہ

    قوّت و طاقت کا دوبارہ ملنا

    انسان بیماریوں کا خاتمہ کرنے سے عاجز

۱۰۳

بیماریوں کاخاتمہ

جس روز دنیا خوشیوں کا گہوارہ بن جائے گی اور پوری کائنات بہشتِ بریں کی طرح شادمان ہوگی۔لیکن بیمار،نابینا اور دوسرے امراض میں مبتلا کس طرح ان خوشیوں میں شریک ہوسکتے ہیں؟

یہ کس طرح ممکن ہے کہ ولایت کے نور کی شعائیں ہر جگہ اور ہر شخص کو اپنے احصار میں لے لیںلیکن مشکلات اور بیماری میں گرفتار اس سے محروم اور اسی طرح غمگین اوراداس رہیں؟

پوری دنیا کے تمام افرادان عالمی خوشیوں میں شریک ہوں گے۔ولایت اہلبیت علیھم السلام کی قدرت سے سب مشکلات اور مصائب کا خاتمہ ہوجائے گا اور امراض کسی بھی انسان کونقصان نہیں پہنچائیں گے،کیونکہ ایسی حکومت کہ جس میں فقط خداوندعالم حکومت کرے،اس کا لازمہ یہ ہے تمام اہل دنیا قدرتِ ولایت کی پناہ میں ہوں۔اس وقت شیطان اور ستمگرشیطان پرستوں کا کوئی نشان نہیںرہ جائے گا۔ سب کو پُر آسائش زندگی میسر ہوگی۔

اب ہم ضروری سمجھتے ہیں  کہ یأس و ناامیدی کی زندگی بسر کرنے والوں کے لئے خاندانِ اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے یہ عظیم بشارت نقل کریںتاکہ ناامیدی کے سائے تلے زندگی گزارنے والوں کے لئے امید کی شمع روشن ہوجائے اور ان کے وجود میں ناامیدی ختم ہوجائے اور اس کی جگہ امید اور انتظار لے لے جو  ان کے افکار سے شیطانی وسوسوں کو نکال باہر کرے۔اب اس آسمانی بشارت پر توجہ کریں۔حضرت امام باقر علیہ السلام  فرماتے ہیں:

''من ادرک قائم اهل بیتی من ذی عاهة برأ،و من ذی ضعف قوی ''  (۱)

جو بھی  میرے قائمِ اہلبیت  علیہم السلام کو درک کرے،اگر مریض ہو تو شفا پائے گا اور اگر ضعیف ہو تو قوی ہوجائے گا۔

--------------

[۱] ۔ بحارالانوار :ج۵۲ ص۳۳۵

۱۰۴

اس روایت کی وضاحت ملاحظہ کریں:

ظہور کے پُر نور اور بابرکت زمانے میںنہ صرف جسمانی مرض میں مبتلا افراد شفایاب ہوجائیں گے بلکہ تمام افراد کی روحانی و نفسانی بیماریاں بھی برطرف ہوجائیں گی ۔کیونکہ حضرت باقرالعلوم علیہ السلام نے تمام ضعیف افراد کے توانا ہونے کا وعدہ کیا ہے اور یہ فقط جسمانی بیماریوں سے مخصوص نہیںہے۔

بلکہ ہرقسم کی کمزوری و ناتوانی ختم ہوجائے گی ، جیسے عزم و ارادے میں ضعف ،پست ہمت،تمرکز فکر میں ناتوانی، اسی طرح صرف بیماریاں اور ضعف ہی برطرف نہیں ہوگا بلکہ اس کی جگہ انسان کو قدرت اور سلامتی حاصل ہوگی۔

پس امام باقر علیہ السلام  کے فرمان (و من ذی ضعف قوی  یعنی صاحبِ ضعف قوی ہوجائے گا) سے دو بنیادی و اساسی نکات استفادہ کئے جاتے ہیں۔

۱ ۔ یہ فرمان مطلق ہے جو فقط جسمانی ضعف و ناتوانی سے مخصوص نہیں ہے۔بلکہ اگر کسی میں نفسیاتی لحاظ سے بھی کوئی کمی ہو تو وہ بھی برطرف ہوجائے گی۔

قابل توجہ یہ ہے کہ بہت سے جسمانی امراض،نفسانی مسائل کی وجہ سے جنم لیتے ہیں ۔ لیکن ظہور کے بابرکت زمانے میں ہر قسم کی روحانی و نفسانی کمزوری زائل ہوجائے گی جس کی وجہ سے جسمانی امراض کا خود بخود ہی خاتمہ ہوجائے گا۔

۱۰۵

  قوّت و طاقت کا دوبارہ ملنا

۲ ۔ روا یت سے حاصل ہونے والا دوسرا نکتہ پہلے سے بھی زیادہ اہم اور پسندیدہ ہے۔وجہ یہ ہے کہ اس روایت میں نہ فقط بیماریوں اور کمزوریوں کے برطرف ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔بلکہ ان کی جگہ پر قدرت و صحت کی بھی تصریح ہوئی ہے۔

کیونکہ حضرت  امام باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے:

'' و من ذی ضعف قوی ''

جو بھی ضعف و کمزوری میں مبتلا ہو،وہ قوی ہوجائے گا۔

اس بناء پر روئے زمین پر نہ صرف ضعیف و ناتوان افراد کا وجود نہیں ہوگا بلکہ سب کو صحت، قوّت اور توانائی حاصل ہوگی۔

امام صادق علیہ السلام نے امام باقر علیہ السلام اور انہوں نے امام سجّاد علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے۔ جس میں اس مطلب کی تصریح فرمائی ہے ۔  اورآنحضرت  نے فرمایا:'' اذا قام القائم اذهب اللّه عن کل مؤمن العاهة،وردّ الیه قوّته ''  (۱)

جب قائم قیام کریں گے تو خدا وند متعال ہر مؤمن  کے مرض کا خاتمہ کردے گا اور اسے قوّت و طاقت عطا کرے گا۔

ظہور کے درخشاں زمانے میں دنیا کے تمام افرادصاحب ایمان اور مؤمن ہوں گے، اس حقیقت پر توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس زمانے میں کوئی مریض بھی موجود نہیں ہوگا۔ بلکہ اسے قوّت و طاقت اور توانائی دے دی جائے گی۔

اب جبکہ پوری دنیا مریض،ضعیف اور ناتواں افراد سے بھری ہوئی ہے،کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ ان تمام بیماریوں کے برطرف ہونے کے لئے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں اور اس دن کے آنے کی دعا کریں۔جب انسان کو تمام مصائب اور مشکلات سے نجات حاصل ہوجائے گی؟

--------------

[۱]۔ الغیبة نعمانی: ۳۱۷

۱۰۶

کیالوگوں کے لئے یہ جاننا ضروری نہیں کہ ایک ایسا پُر مسرّت دن بھی آئے گا کہ جب پوری کائنات میں ایک مریض اور مشکلات میں گرفتار شخص نہیں ملے گا؟

کیا یہ جاننا بھی ضروری نہیں ہے کہ خلقت کائنات کے کروڑوں برسوںاور خلقتِ انسان کے ہزاروں سال گزرنے کے باوجود ابھی تک خدا کا انسان کوپیدا کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوا؟کیا آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ خدا نے دنیا کو اسی موجودہ قابلِ افسوس حالت کے لئے خلق کیا تھا؟کیا خدا کی عظیم قدرت اور علم کو مد نظر رکھتے ہوئے ان تمام ضعیف،ناتوان،معلول،  ناقص الخلقة اور مریض افراد کا ہونا،اس چیز کی دلیل نہیں ہے کہ ابھی تک دنیا کے نظم کو عدل الہٰی کی حکومت کا سایہ نصیب نہیں ہوا؟

کیا آپ نہیں جانتے کہ خدا وند کریم خاندانِ عصمت و طہارت علیھم السلام کی برکت سے مشکلات میں گرفتار تمام  افراد کو غم و اندوہ اور مشکلات و مصائب سے نجات دے دے گا۔

جی ہاں!جس دن پوری کائنات ولایت کے تابناک انوار سے منوّر ہوگی،اس روز خداوند بزرگ و برتر،خاندانِ وحی علیھم السلام کے درخشاں انوار کی برکت سے انسانوں کو ہر قسم کی مصیبت و مشکل سے نجات عطا فرمائے گا۔پھر پوری کائنات میں کہیں بھی کوئی پریشان حال اور بیمار شخص نہیں ملے گا۔اب امام حسین علیہ السلام  کے فرمانِ مبارک پر توجہ کریں:

''.... ولا یبقیٰ علی وجه الارض اعمیٰ ولا مقعد ولا مبتلیٰ الّا کشف اللّه عنه بلاوّه بنا اهل بیت علیهم السلام ''  (۱)

زمانِ ظہور میں روئے زمین پر کوئی نابینا(۲) زمین گیراور مشکلات میں مبتلا شخص باقی نہیں رہے گا ، مگر یہ کہ خدا وند کریم ہم اہلبیت  علیہ السلام کے طفیل  اس کی مصیبت کو برطرف کردے۔

--------------

[۱]۔ بحارالانوار :ج ۵۳ص۲

[۲]۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دور حاضر میں دنیا میں ۴۵ میلیون نابینا افراد زندگی گزاررہے ہیں۔

۱۰۷

اس کلام سے استفادہ کرتے ہیں کہ اس پُر مسرّت اور بابرکت دن اس زمانے کے لوگوں کے لئے کسی قسم کی کوئی مصیبت و مشکل نہیں ہوگی۔ہر کسی سے ہر طرح کی بیماری ، ناراحتی اور بلا برطرف ہوجائے گی ۔ پوری دنیا خوش و خرم ہوگی ۔ یہ اہلبیت اطہار علیہم السلام کی قدرت ِ ولایت کی وجہ سے ہے کہ اس دن وہ پورے عالم میں خدا وند مہربان کی مرضی و خوشنودی کے مطابق حکومت کریں گے۔

قابل توجہ امر یہ ہے کہ بقراط کے زمانے کے معروف یونانی ماہرین طب سے آج تک کے ماہرین طب کی بیماریوں کے بارے میں تحقیق کے مطابق انسان کو چالیس ہزار بیماریاں نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ انہوں نے ان بیماریوں کی علامات بھی مشخص کی ہیں اور اگر ان کی کوئی دواہے تو اسے بھی مشخص و معین کیا ہے۔(۱)

البتہ یاد رکھیں کہ زیادہ گناہوں کی وجہ سے جدید بیماریاں رونما ہوتی ہیں ۔ کیونکہ روایات میںوارد ہوا ہے کہ کثرت ِ گناہ نئی بیماریوں کو جنم دینے کا سبب ہیں۔

  انسان بیماریوں کا خاتمہ کرنے سے عاجز

تمام ترقی یافتہ ممالک علمی ترقی و پیشرفت کے بڑے بڑے دعوے تو کرتے ہیں۔لیکن ابھی تک وہ بیماریوں کا خاتمہ کرنے سے عاجز ہیں۔بلکہ وہ ان میں کمی کرنے سے بھی عاجز ہیں۔ گناہوں کے علاوہ ، علمی ناتوانی،ضعیف انتظام، اقتصادی بحران، حفظانِ صحت کے وسائل کا نہ ہونا،ہواکی آلودگی، ناقص علاج ا ور ناقص ادویات نے پوری دنیا کے انسانوں کو ہزاروں بیماریوں میں مبتلا کردیا ہے۔(۲)

--------------

[۱]۔ مغز متفکر جہانِ شیعہ:۳۸۷

[۲] ۔ صرف ایران میں دورانِ علاج ڈاکٹروں سے سالانہ ۰۰۰،۵۵ غلطیاں سرزد ہوتی ہیں،جن میں سے ۵۰۰،۱۰ موت اور ۲۳۰۰۰ اعضائِ بدن میں نقص کا باعث بنتی ہیں

۱۰۸

اب بھی لاکھوں افراد بیماری کے بستر پر پڑے رنج و الم کی زندگی گزار رہے ہیں اور علمی ترقی اور تمدن کا نعرہ لگانے والے ممالک ان بیماریوں کے جراثیم اور اصلی عوامل کو بھی ختم نہیں کرسکے۔بیمار کو تیمار کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن حفظانِ صحت اور میڈیکل سائنس میں ترقی وکامیابی کے دعوے کرنے والے ابھی تک کیوں ان بیماریوں کا علاج تلاش نہیں کرسکے؟مگر کیا ایسا نہیں ہے کہ ہر درد کا مداوا بھی ہے،بلکہ ہزاروں درمان ہیں،بقول سنایی:

درد در عالم از فراوان است

ہر یکی را ہزار درمان است

دنیا کی رہبری و قیادت کا ادعا کرنے والے ہر مرض کا ایک علاج (نہ ہزار) تو لے آئیں ورنہ صائب کے بقول:

( دکّان بی متاع چرا و اکند کسی )

یہ تمام زمانہ غیبت کی تلخیاں ہیں اور دنیا والوں کا حضرت بقیة اللہ الاعظم  علیہ السلام کی عالمی عادلانہ حکومت سے دوری کا نتیجہ ہے۔

اگر وہ مقتدر اور آگاہ رہبر لوگوں پر حکومت کرتا تو دنیا والوں پر ایسی نادانی و ناتوانی کا سایہ نہ پڑتا۔کیونکہ ظہور کا زمانہ تمام قیمتی،بیش بہا اور مثبت عوامل ظاہر کرنے اور زندگی کے تمام شعبوں کے منفیاور مضر عوامل کو نابود کرنے کا زمانہ ہے۔

جی ہاں!جب خدا کیاحکامات سب پر حاکم ہوںاور دنیا والوں پر حکومت الہٰی قائم ہو تو پھر جہل و ناتوانی و نادانی کا نام و نشان باقی نہیں رہے گا۔کیونکہ تمام فاسد اور منفی عوامل و اسباب کو آشکار کرکے نابود کردیا جائے گا۔

لیکن عصرِ غیبت میں حق اور ناحق آپس میں مل چکے ہیں۔مثبت اور منفی عوامل میں تشخیص امکان پذیر نہیں ہے۔اسی وجہ سے بہت سے امراض کے اصلی عوامل ابھی تک معلوم نہیں ہوسکے۔

۱۰۹

ہم یہاں ان میں سے ایک نمونہ بیان کرتے ہیں:مردوں میں موبائل فون کی وجہ سے اسپرم کی مقدار میں کمی کی بیماری کو ابھی تک ٹھیک طرح سے تشخیص نہیں دیا جاسکا۔مجارستانی دانشوروں کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا استعمال مردوں کی جنسی قوت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے''زگد''یونیورسٹی کے محققین مجارستان میں کہتے ہیں''موبائل فون سے نکلنے والی لہریں مردوں میں۳ / ۱ حد تک اسپرم کو کم کرسکت ی ہیں۔اس مطالعہ سے معلوم ہوا کہ جو مرد سارا دن موبائل کو روشن رکھ کے اپنے پاس رکھیں ،ان میں اسپرم کی مقدار۳ / ۱ حد تک کم ہوجات ی ہے۔حتی کہ بقیہ اسپرم کی حرکت بھی غیر عادی ہوجاتی ہے۔اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ موبائل فون مردوں کی جنسی قوّت اور اسپرم پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔

یورپ میں انجمن تولید انسانی کے سابقہ سربراہ پروفیسر''ہانس ایورس'' نے بیان کیا کہ اس تحقیق میں مردوں کی جنسی قوّت پر اثر انداز ہونے والے دیگر عوامل پر تحقیق نہیں کی گئی ۔اسی وجہ سے موبائل فون کے اسپرم پر مرتب ہونے والے آثار پر دقیق تحقیقات کی جائیں۔(۱)

بعض بیانات و تحقیقات کے مطابق موجودہ صنعتی وسائل بہت سی بیماریوں کے عوامل ہیں:

۱۔ایک بیان میں ذکر ہوا ہے : موبائل فون سے نکلنے والی الیکٹرو مقناطیسی شعاعوں کا انسان کی سلامتی پر اثر انداز ہونے کا خوف موجود ہے۔بالخصوص یہ بدن کے سیلز،مغز اور قوّت مدافعہ پر منفی اثرات چھوڑسکتی ہیں۔جس سے مختلف بیماریوں مثلاً کینسر یا آلزایمر وغیرہ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

--------------

[۱]۔ مجلہ دانشمند مہر ماہ ۱۳۸۳ ،شمارہ۴۹۲،صفحہ۲۵

۱۱۰

یورپ کی لیبارٹریز کی تازہ ترین تحقیقات کے مطابق موبائل فون کی ریڈیو لہریں دائمی طورپر انسان اور حیوان کے DNAمیںداخل ہوکر ان کے سیلز میں تغییر پیدا کرتی ہیں۔یہ تغییرات کینسر کا باعث بن سکتی ہیں۔اس بارے میں اس سے آگے تحقیق نہیں ہوسکی اور یہ کہ کیا سیلز کی تغییر کسی خاص  بیماری تک پہنچتی ہے یا نہیں۔اس بارے میں انہوں نے اپنے نظریے بیان نہیں کئے۔

دیگر تحقیقات میں بھی بیالوجیکلتبدیلیوں  کو بیان کیا گیا ہے۔جس میں چوہوں پر تجربات سے معلوم ہوا کہ موبائل فون سے نکلنے والی لہریں ان چوہوں کی سلامتی کے  لئے نقصان دہ ہیں۔لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کیا یہ تحقیقات مستقیم طور پر انسانوں سے بھی مربوط ہیں یا نہیں۔

فن لینڈ کے دانشوروں کی تحقیقات سے۲۰۰۲ ء م یں معلوم ہوا کہ یہ لہریں انسان کے ذہن و دماغ کی طاقت پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔لیکن انہوں نے کہا کہ اس بارے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کیا یہ لہریں زندہ انسانوں پر بھی اسی طرح اثر انداز ہوتی ہیں یا نہیں؟

بعض سوئیس دانشوروں نے بھی۲۰۰۲ ء م یں دعوی کیا کہ موبائل فونز کے درمیان رابطہ پیدا کرنے والی لہریں دماغ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔تحقیقات کے مطابق سب سے پہلے بننے والے موبائل فون استعمال کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کے درمیان مقائسہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موبائل فون استعمال کرنے والوں میں سے تیس فیصد ذہنی امراض کے شکار ہیں۔

اسی طرح بعض تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض افراد موبائل فون استعمال کرنے کے بعد سردرد یا تھکاوٹ کا احساس کرتے ہیں یا وہ کسی چیز پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتے۔

۱۱۱

۲ ۔موبائل فون سے خارج ہونے وال ی لہریں بدن کے سیل اور انسان کے DNA کو نقصان پہنچاتی ہیں لمبے عرصے تک الیکٹرک مقناطیسی لہروں کا خارج ہونا DNA سیلز کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے کہ جو پھر قابلِ ترمیم نہیں ہے۔

موبائل کو دریافت ہوئے برسوں گزرگئے لیکن ابھی تک انسانوں کے ذہن اور اعصاب پر اس کے منفی اثرات سے بہت سے محققین نا آشنا ہیں۔

لیکن جس دن سب لوگ مکتبِ اہلبیت علیھم السلام کی تعلیمات کے آب شیریں سے سیراب ہوں گے تو اس وقت کوئی مبہم اور نا شناختہ نکتہ باقی نہیں رہے گا۔اس زمانے میں نہ صرف مختلف بیماریوں  کے اسباب و علل سے آگاہی حاصل ہوجائے گی بلکہ بیماریوں کے تمام عوامل بھی برطرف ہوجائیں گے۔

کیا ہم سب کو ایسے بابرکت  اور پر مسرت دن کی آمد کے لئے خدا کی بارگاہ میں دعا  کے لئے ہاتھ نہیں اٹھانے چاہئیں کہ جب سب لوگ سلامتی ، تندرستی اور قدرت و طاقت سے سرشار ہوں گے؟

۱۱۲

پانچواں  باب

عقلی  تکامل

    عقلی تکامل               وجود انسان میں بدلاؤ ضروری ہے

    امام مہدی علیہ السلام اور عقلی تکامل            اتحاد و یگانگت سے سرشار دنیا

    عصر ظہور میں تکامل عقل کی وجہ سے ناپسندیدہ صفات پر غلبہ        عالم غیب سے ارتباط        غیب کا مظہر کامل

    مرحوم سید بحر العلوم کی زندگی کے کچھ اہم واقعات      علامات و نشانیاں       ایک عام انسان اور حیرت انگیز دماغ

    اسے یہ قدرت کیسے حاصل ہوئی؟         کسی انجان چیز کا اس کے دماغ میں بدلاؤ ایجاد کرنا

    دوسری زبان میں کلام        کسی انجان قوّت کا اس کے دماغ کو مطلع کرنا

    بے زبانوں سے گفتگو        ریڈار کے نام سے پروگرام          عقل کی آزادی

    سالم فطرت کی طرف لوٹنا

    کیا ظہور سے پہلے عقلی تکامل کا حصول ممکن ہے؟

    کیا یہ عقیدہ صحیح ہے ؟

    دماغ کی قوّت و طاقت

    غیر معمولی حافظہ دماغ کی عظیم قدرت کی دلیل

    دماغ کا ما فوق فطرت، قدرت سے رابطہ

    جدید علم کی نظر میں عقلی تکامل

    عقلی تکامل اور ارادہ

۱۱۳

عقلی تکامل

انسان کے وجود کی تخلیق بہت حیرت انگیز اور مہم ہے۔ یعنی اگر انسان خود پہچان لے تو وہ بہت سے غیر معمولی اور اہم کام انجام دے سکتا ہے۔لیکن اگر وہ اپنے اندر پوشیدہ قوّتوں سے آگاہ نہ ہو تو وہ صرف اپنی زندگی بسر کرکے بہت بڑے عظیم سرمائے کو ضائع کردیتا ہے۔

حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام  نے اپنے  ارشادات میں بارہا انسانوں کو اس حقیقت سے آگاہ فرمایا ہے اور انہیںہوشیارکیا ہے کہ وہ کہیں یہ گمان نہ کریں کہ وہ ایک چھوٹی سی مخلوق اور کم قیمت جزء ہے۔ بلکہ جان لو کہ انسان کے وجود میں اسرار کی ایک دنیا موجود ہے۔

افسوس کہ اس وقت کے معاشرے میں ایسے عظیم رہبر کی قیادت کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں تھی۔انہوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام  سے اس بارے میں کوئی سوال نہ کیا۔جب مولائے کائنات امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے سب کو بتایا کہ میں زمین سے زیادہ آسمان کے اسرار و رموز سے آگاہ ہوں، مجھ سے سوال کرو تاکہ تمہیں اس کا جواب دوں، تو اتنے بڑے مجمع میں سے صرف ایک شخص اٹھا اور اس نے سوال پوچھا کہ مولا میرے سر پر بالوں کی تعداد کتنی ہے؟تاریخ میں یہ ثبت نہیں ہوا کہ وہاں موجود لوگوں کی اتنی بڑی  تعدادمیں سے کسی نے اس احمقانہ سوال پر اس کی سرزنش کی ہو۔

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے انسانوں کو دماغ کی حیرت انگیز قدرت سے آگاہ فرمایا اور انہیں ایسی پوشیدہ قوّتوں کے بارے میں خبر دی کہ جنہیں انسان بیدار کرکے بروئے کار لائے۔ لیکن آنحضرت کے چند خاص اصحاب کے علاوہ کسی نے دماغ کی ناشناختہ قدرت کے بارے میں کچھ نہ سیکھا۔

اس دن سے آج تک صدیاں گزرگئیں۔لیکن ابھی تک بہت سے لوگوں کو دماغ کی عجیب اور حیرت انگیز قدرت سے آگاہی حاصل نہیں ہے اور جنہوں نے اسے درک کرلیا،ان کے لئے بھی ابھی دماغ کی بہت سی مخفی قدرتوں کو پہچاننا باقی ہے۔

۱۱۴

وجود انسان میں بدلاؤ ضروری ہے

حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) حکومت کے دوران دنیا اور دنیا والوں کو نظم اور پُر آسائش زندگی دینے کے لئے غیر معمولی معنوی قدرت یعنی اپنی ولایت کے عظیم مقام سے استفادہ کرتے ہوئے دنیا میں تغییر اور دنیا والوں میں عقلی تکامل ایجاد کریں گے۔

انسان کس طرح سے خلقت کے عظیم اسرار اور ولایت کے اعلی مقام سے واقفیت حاصل کرسکتا ہے،حالانکہ انسان کے دماغ کے وسیع پہلو ابھی تک فعّال نہیں ہوئے اور اب بھی سوچ و فکر اور آلودہ دلوںپر دھند لکا چھایا ہوا ہے؟

اسی وجہ سے حضرت ولی عصر (عج) لوگوں کو حقائق معارف ِ الہٰی کی تعلیم دینے سے پہلے ،انسان کے وجود میںبدلاؤ اور ذہنِ بشر میں تبدیلی ایجاد کریں گے۔

علم و دانش اور دین کے مسائل میں عجیب پیشرفت اور انسان کانیک و بزرگ افکار کوقبول کرنے کی آمادگی کے لئے انسان کے وجودمیں یہ تبدیلی ایک لازمی ضرورت ہے۔

اہلبیت اطہار علیہ السلام   کے عالی علوم و معارف کو درک کرنے اور انسان کی استعداد و صلاحیت میں اضافہ کے لئے یہ بدلاؤ ایک واقعی ضرورت ہے۔لہٰذا دنیا والوں میں یہ بدلاؤ ایجاد ہونا چاہیئے۔اہل دنیا میں تبدیلی پیدا ہونے سے خود دنیا میں بھی بہت سی مثبتتبدیلیاں جنم لیں گی۔

زمین کے طبیعی نظام میں تبدیلی دنیا اور اہل دنیا میں اساسی تغیر آئندہ دنیا میں تکامل کی شرط ہے۔

جس طرح کام،روزگار اور اجتماعی امور کے لئے بچوں کا سنِ جوانی تک پہچنا ضروری ہے،جیسا کہ انسان میں جب تک بعض غرائز پیدا نہ ہوں ،وہ بعض امور کو درک نہیں کرتا۔

۱۱۵

اسی طرح جب تک انسان کے دل و دماغ میں پوشیدہ عظیم قدرت فعال نہ ہوجائے ،تب تک اس کے لئے ترقی یافتہ امور اور عالی معارف کی معرفت ممکن نہیں اس دلیل کے رو سے انہیں درک کرنے کے لئے دنیا اور اہل دنیا میں تحوّل و تغیّر اوربدلاؤ ایجاد ہونا ضروری ہے۔

کیا بچپن میں (جب ابھی تک چلنا نہیں سیکھا تھا اسے چاہ چالہ (فارسی محاورہ) کے خطرے کی خبر نہ تھی ) انسان سیاہ چالہ (BLACK HOLE) کی عظمت و سختی کے بارے میں بات کرسکتا تھا ۔(۱)

کیا انسان بچپن میں دنیا کی وسعت کو بیان کرسکتا تھا کہ جب وہ چاہ و راہ کے درمیان فرق پیدا نہیں کرسکتا تھا؟

بچپن کے عالم میں انسان کو اپنی انگلیوں کی تعداد کا علم نہیں تھا تو وہ  فضا کی وسعت اور بادلوں  کی تعداد کو کس طرح سے بیان کرسکتا تھا؟

یہ بالکل واضح ہے کہ ان مطالب کو درک کرنے کے لئے بچے کو رشدو تکامل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان علمی مطالب کو درک کرنے کی آمادگی کے بعد اسے ان کی تعلیم دی جائے۔

اسی لئے انسانوں میں انتہائی مہم اور عظیم مسائل کو قبول کرنے کے لئے حیاتِ قلبی اور دماغی سیلز کے فعّال ہونے کی ضرورت ہے تاکہ انسان میں عقلی تکامل اور حیاتِ قلب سے مہم امور کو درک کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے اور انہیں دل و جان سے قبول کرے۔

--------------

[۱]۔ سیا ہ چالہ Black hole فضا میں ایک ایساجسم ہے کہ جس میں شدید جاذبہ ہے ،جس سے کوئی چیز حتی کہ نور بھی گزر کر فضا میں داخل نہیں ہوسکتا۔

۱۱۶

  امام مہدی علیہ السلام اور عقلی تکامل

کون انسان کے وجود میں بدلاؤ پیدا کرسکتا ہے؟

کس قدرت میں یہ توانائی ہے کہ وہ انسان کے دماغ میں مخفی عظیم قوّتوں کو فعّال کرکے بروئے کار لائے تاکہ سب آسانی سے اخلاقی فضیلتوں کے مالک اوراحکامات الہٰی پر عمل کرنے والے بن جائیں؟

کیا اس دنیا کی اصلاح کرنے والے مصلح عالم کے سوا کوئی اور تمام انسانوں میں ایسیقوت و انرجی پیدا کرسکتا ہے کہ جو سب کو جود انسان میں مخفی قدرت  و قوّت و اسرار سے آشنا کرے؟

اس سلسلہ میں حضرت باقر العلوم علیہ السلام کی روایت میں دنیا کے تکامل کے راز سے پردہ اٹھایا گیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ تکامل حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے دستِ مبارک سے انجام پائے گا۔ آنحضرت  فرماتے ہیں:

''اذا قام قائمنا وضع یده علی رؤوس العباد ،فجمع به عقولهم و اکمل به اخلاقهم ''  (۱)

جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو وہ بندگانِ خدا کے سروں پر اپنا دستِ مبارک رکھے گا اس طرح  سے ان کی عقلوں کو متمرکز اور ان کے اخلاق کی تکمیل کرے گا۔

اس روایت میں کچھ شفاف، پاک اور مہم نکات موجود ہیں،کیونکہ یہ واضح ہے کہ کوئی بھی خاندانِ اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام کے فرامین و کلمات میں موجود اسرار و رموز سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوسکتا۔

--------------

[۱]۔ بحارالانوار : ج۵۲ص  ۳۳۶

۱۱۷

حضرت امام صادق علیہ السلام سے زید ذرّاد ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ جس میں معارف اہلبیت علیہ السلام کے مہم نکات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

''قلت لابی عبداللّٰه  :نخشی ان لا یکون مؤمنین ''

''قال:و لم ذلک؟فقلت وذلک أنّالا نجد فینا من یکون أخوه عنده آثر من درهمه و دیناره،و نجد الدینار والدرهم آثر عندنامن أخ قد جمع بیننا و بینه موالاة امیرالمؤمنین''

'' قال کلاّ! أنّکم مؤمنون ، ولکن لاتکلمون ایمانکم حتی یخرج قائمنا،فعندنا یجمع اللّه احلامکم،فتکونون مؤمنین کاملین ولو لم یکن فی الارض مؤمنون کاملون،اذا لرفعنا اللّه الیه و انکرتم الارض و انکرتم السّمائ'' (۱)

میں نے امام صادق علیہ السلام سے کہا:ہم ڈرتے ہیں کہ کہی ایسا تو نہیں ہے کہ ہم مؤمن نہیں ہیں؟

امام  نے فرمایا:کس لئے ڈرتے ہو۔

میں نے عرض کیا: کیونکہ ہم میںایسا کوئی نہیں ہے کہ جس کے نزدیک اس کا بھائی درہم و دینار سے زیادہ عزیز و پیاراہو۔ہم درہم و دینار کو ایسے بھائی سے زیادہ عزیز و پیارا سمجھتے ہیں کہ جو ہمارے اور اس کے درمیان امیرالمؤمنین  علیہ السلام کی دوستی کو جمع کرتا ہے۔

حضرت  نے فرمایا: تم لوگ یقینا مؤمن ہو۔لیکن تم اپنے ایمان کو کامل نہیں کرتے کہ جب تک ہمارا قائم علیہ السلام  قیام کرے گا تواس وقت خدا وند کریم تمہاری عقلوں کو جمع و متمرکزفرمائے گا۔پس مؤمنین کامل ہوجائیں گے اور اگر زمین میں کامل مؤمن افراد نہ ہوئے تو خدا وند کریم ہمیں تم میں سے اٹھالے گا اور تم زمین و آسمان کے منکر ہوجائوگے۔

--------------

[۱]۔ بحارالانوار :ج۶۷ص ۳۵۰

۱۱۸

اس روایت سے بہت سے نکات حاصل ہوتے ہیں ۔ہم ان میں سے بعض نکات بیان کرتے ہیں:

۱ ۔ جب تک حضرت بقیة اللہ الاعظم علیہ السلام قیام نہ فرمائیں تب تک لوگ کامل ایمان نہیں رکھتے ہیں۔

۲۔اپنے دینی بھائیوں سے زیادہ مال و دولت کی اہمیت کے قائل ہیں۔

۳۔ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانے میں لوگوں کی عقلیں کامل و متمرکز ہو جائیں گی۔

۴۔ عقل کامل ہونے کے نتیجے میں لوگوں کا ایمان بھی کامل ہوجائے گا۔

۵۔ ظہور سے پہلے کامل ایمان رکھنے والے افراد بہت کم ہوں گے۔

۶۔ زمین پر ان کا وجود ، اہلبیت علیھم السلام کے مقدس وجود کا باعث ہوگا۔

۷۔ اگر اہلبیت عصمت و طہارت  علیھم السلام زمین پر نہ ہوں تو لوگوں میں اس قدر بھی ایمان نہ ہو۔

۸۔ روایت سے ایک دوسرا نکتہ بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ ظہور کے مقدس زمانے میں عقلوں کے تکامل کی وجہ سے لوگوں میں ایسا خلوص اور جذبہ ایجاد ہوگا کہ وہ ایمان کو مال وثروت پر مقدم سمجھیں گے اور ایک دوسرے سے ایسا برتائو کریں گے جیسے وہ مال میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوں ۔

۱۱۹

  اتحاد و یگانگت سے سرشار دنیا

مرحوم علامہ مجلسی ''بحارالانوار '' میں روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام محمد باقر  علیہ السلام سے کہا گیا:

''انّ اصحابنا بالکوفة جماعة کثیرة فلو أمرتهم لأطاعوک واتّبعوک فقال:یجیٔ احدهم الی کیس اخیه فیأخذ منه حاجتة؟''فقال:لا .

قال: فهم بدمائهم أبخل

ثم قال: انّ النّاس فی هدنة نناکحهم و نوراثهم و نقیم علیهم الحدود ونؤدّی اماناتهم حتی اذا قام القائم جائت المزاملة و یأتی الرجل الی کیس اخیه فیاخذ حاجته لا یمنعه "(۱)

کوفہ میں ہمارے بہت سے اصحاب ہیں۔اگر انہیں حکم کریں تو وہ آپ کی اطاعت کریں گے  اور آپ کی پیروی کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔

امام باقر  علیہ السلام نے فرمایا:کیا ان میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کی جیب سے ضرورت کے مطابق لیتا ہے؟

میں نے کہا!نہیں۔

امام  نے فرمایا:(جب وہ اپنے مال کے لئے اتنے بخیل ہیں) وہ اپنوں کی بہ نسبت بہت زیادہ بخیل ہوں گے۔

پھر امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:اب لوگ میل و ملاپ اور امن و امان میں ہیں ان سے نکاح کرتے ہیں ، ارث لیتے ہیں،ان پر حد جاری کرتے ہیں اور ان کی امانتیں انہیں لوٹا دیتے ہیں کہ جب قائم  علیہ السلام قیا م کریں گے تولوگوں کے مابین مخلصانہ و صادقانہ رفاقت پیدا ہوگی اور مرد اپنے بھائی کی جیب کی طرف بڑھے گا اور اس میں سے ضرورت کے مطابق لے لے گا اور صاحبِ مال بھی اسے اس کام سے نہیں روکے گا۔

--------------

[۱]۔ بحارالانوار:ج ۵۲ص ۳۷۲

۱۲۰

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

حتى يميز الخبيث من الطيب گذشتہ آيات مثلاً ''ھم الكفر يومئذ اقرب منھم للايمان''كے مطابق خبيثوں سے مراد وہ منافقين ہيں جنہوں نے كفار سے جنگ كرنے ميں پہلوتہى كى ہے_

١٠_ پاك و ناپاك افراد كے باہم ملنے اور پھر ان كے ايك دوسرے سے جدا ہوجانے كا تسلسل_

ما كان الله ليذر المؤمنين علي ما انتم عليہ حتي يميز الخبيث من الطيب

١١_ انسانوں كو پوشيدہ اسرار (غيب) سے آگاہ نہ كرنا سنت الہى ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

يہ مطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''الغيب''كا الف و لام جنس كيلئے ہو_

١٢_ فقط خداوند متعال، غيب اور پنہاں اسرار سے آگاہ ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

١٣_ انسانوں كا ايمان و كفر (پاكى و ناپاكي)، غيبى امور ميں سے ہے_

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب اگر ''الغيب''سے مراد جنس ہو تو كفر و ايمان مورد نظرمصاديق ميں سے ہيں البتہ يہ احتمال بھى ديا جاسكتا ہے كہ ''الغيب''كا الف و لام، عہد كيلئے ہو يعنى مخصوص كفر و ايمان_

١٤_ دلوں كے اسرار اور غيب سے لوگوں كو آگاہ كر كے پاك و ناپاك افراد كى صفوں كو مشخص كرنا، سنت الہى نہيں ہے_و ما كان الله ليذر المؤمنين علي ما انتم عليه حتى يميز الخبيث من الطيب و ما كان الله ليطلعكم على الغيب

''و ما كان الله ليطلعكم ...''كا مطلب يہ ہے كہ اگرچہ خداوند متعال ناپاك و پاك افراد كو مشخص كرے گا_ ليكن يہ تشخيص و تميز، مشكلات اور جنگوں وغيرہ كے ذريعے ہے نہ كہ لوگوں كو غيب سے مطلع كر كے_

١٥_ بعض انبيائے (ع) الہى كا اپنى امت كے غيبى و خفيہ امور (ايمان و كفر) سے آگاہ ہونا_

و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر ہے كہ جب ''من'' تبعيض كيلئے اور ''يجتبي''كے متعلق ہو چونكہ جملہ''ولكن الله ...'' ،''ماكان الله ...'' سے استدراك كيلئے ہے لہذا آيت كا معنى يوں ہوگا_ خداوندمتعال امتوں اور قوموں كو غيب سے آگاہ نہيں كرتا، ليكن بعض انبياء (ع) كو غيب سے آگاہ كرنے كيلئے منتخب كرليتا ہے_

۲۶۱

١٦_ خداوند بعض انبياء (ع) كو، غيب سے آگاہ كرنے كيلئے منتخب كرليتا ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكنص الله يجتبى من رسله من يشائ

١٧_ انبيائے (ع) الہى كے درجات و مراتب ميں فرق ہونا_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ اگر خداوند متعال فقط اپنے بعض انبياء (ع) كو علم غيب عطا فرماتا ہے (جيساكہ آيت ميں احتمال ديا گيا ہے) تو اس سے پتہ چلتا ہے انبياء (ع) مختلفمراتب اور درجات كے حامل ہيں _

١٨_ تمام انبيائے الہى (ع) كا غيب سے آگاہ ہونا_ *و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ

يہ اس بنا پر كہ جب ''من''، ''مصن يشائ''كيلئے بيان ہو_ يعنى خداوند عالم غيب سے آگاہ كرنے كيلئے جس كو چاہتا ہے منتخب كرليتا ہے لہذا اس نے اس مقصد كيلئے اپنے انبياء (ع) كو منتخب كرليا ہے_

١٩_ پيغمبراكرم(ص) كا علم غيب كے ذريعے، اپنى امت كے پاك و ناپاك (مؤمن و منافق) افراد سے آگاہ ہونا_

و ما كان الله و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ ''من رسلہ''سے مراد خواہ بعض انبياء (ع) ہوں يا سب كے سب، يقيناً پيغمبراسلام(ص) ان ميں سے ايك ہيں _

٢٠_ خداوند متعال اپنے انبياء (ع) كو علم غيب عطا كرنے والا ہے_و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشائ

٢١_ خداوند متعال اور اسكے تمام انبياء (ع) پر ايمان لانا ضرورى ہے_فامنوا بالله و رُسله

٢٢_ خداوند متعال اور انبياء (ع) پر ايمان، انسان كو پاك افراد كے زمرے ميں شامل كرديتا ہے_

حتى يميز الخبيث من الطيب فامنوا بالله و رسله يہ اس بنا پر كہ جب جملہ ''فامنوا ...''جملہ ''و حتى يميز ...''پر متفرع ہو يعنى جب سنت الہى يہ ہے كہ پاك و ناپاك افراد كو مشخص كرديا جائے تو پاك افراد كے زمرے ميں شامل ہونے كيلئے خدا و رسول(ص) پر حقيقى ايمان ركھنے كے علاوہ اور كوئي چارہ نہيں _

٢٣_ انبياء (ع) كا غيب و پنہاں (پاكى و ناپاكى اور انسانوں كے حقيقى منافع و نقصان) سے آگاہ ہونا ان پر ايمان لانے كے ضرورى ہونے كى دليل ہے_

۲۶۲

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب و لكن الله يجتبى من رسله من يشاء فأمنوا بالله و رسله

مندرجہ بالا مفہوم اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب جملہ ''فامنوا ...''جملہ ''و لكن الله يجتبى من رسلہ''پر متفرع ہو_ يعنى چونكہ انبياء (ع) غيب سے آگاہ ہيں لہذا ان پر ايمان لانا ضرورى ہے_ كيونكہ فقط وہى ہستياں ،امور كے حقائق سے آگاہ ہيں اور سعادت و شقاوت كے راستوں كو پہچانتے ہيں _

٢٤_ تقوي اختيار كرنے والے مؤمنين كيلئے اجر عظيم _و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٢٥_ ايمان كے ساتھ ساتھ تقوي كا ضرورى ہونا_و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٢٦_ اجر عظيم كا استحقاق، خدا و رسول(ص) پر ايمان لانے اور ان كى مخالفت نہ كرنے سے مربوط ہے_

و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم چونكہ كلمہ ''اجر'' اس اجر ميں ظہور ركھتا ہے جو استحقاق كى بنياد پر ديا جاتا ہے_ لہذا اس مطلب ميں كلمہ ''استحقاق''استعمال كيا گيا ہے_

٢٧_ ايمان اور تقوي كى طرف تشويق كرنے كيلئے اجر و ثواب كا وعدہ و ضمانت دينا، ايك قرآنى روش ہے_

و ان تؤمنوا و تتقوا فلكم اجر عظيم

٨ ٢_ بعض مؤمنين كى طرف سے انسانوں كے خفيہ امور اور غيب سے آگاہى حاصل كرنے كا تقاضا كيا جانا تاكہ وہ مؤمن اور غيرمؤمن (طيب و خبيث) افراد ميں تميز كرسكيں _

و ما كان الله ليطلعكم على الغيب اس آيت كے شان نزول ميں منقول ہے كہ بعض مؤمنين، ايسى علامتوں كا تقاضا كرر ہے تھے كہ جن كے ذريعے وہ مؤمنين اور منافقين ميں تميز كرسكيں ، تب خداوند متعال نے مندرجہ بالا آيت نازل فرمائي_

آنحضرت(ص) : ٢٦ آنحضرت(ص) كا علم غيب ١٩ ; آنحضرت(ص) كو تسلى و تشفى ٩

اجر: ٢٦ اجر كے مراتب ٢٤;اجر كا وعدہ ٢٧

اسلام: صدر اسلام كى تاريخ٨

اطاعت: آنحضرت(ص) كى اطاعت ٢٦;اطاعت كا اجر ٢٦ ; اللہ تعالى كى اطاعت ٢٦

اللہ تعالى: ١٢، ٢٢، ٢٦

۲۶۳

اللہ تعالى كا علم غيب ١٢; اللہ تعالى كا لطف ٧ ; اللہ تعالى كى امداد ٧; اللہ تعالى كى سنت٢، ١١، ١٤; اللہ تعالى كى عطا و بخشش ٢٠

امتحان: امتحان كا ذريعہ ٦;انواع و اقسام كے امتحان ٦; جنگ كے ذريعے امتحان ٦;سختى و مصائب كے ذريعے امتحان ٦;شكست كے ذريعے امتحان ٦;فتح كے ذريعے امتحان ٦;فلسفہ امتحان ٥

انبياء (ع) : ٢١، ٢٢ انبياء (ع) كا برگزيدہ ہونا ١٦;ابنياء (ع) كا علم غيب ١٥، ١٦، ١٨، ٢٠، ٢٣;انبياء (ع) كے فضائل ١٧;انبياء (ع) ميں تفاوت ١٧

انسان: انسان كے اسرار ١٢

ايمان: ١٣، ٢٥ آنحضرت(ص) پر ايمان ٢٦; اللہ تعالى پر ايمان ٢١، ٢ ٢، ٢٦;انبياء (ع) پر ايمان ٢١، ٢٢، ٢٣;ايمان كا اجر ٢٦; ايمان كا پيش خيمہ ٢٧ ;ايمان كى تشويق ٢٧ايمان كے اثرات ٤، ٢٢

پاك افراد: ١٠، ١٤ پاك افراد كا امتحان ٥ ;پاكى ٣،١٣، ١٩;پاكى كے اسباب ٤، ٢٢

تحريك: تحريك كے اسباب ٢٧

تبليغ : تبليغ كا طريقہ ٢٧

تقوي: ٢٥ تقوي كا اجر ٢٦;تقوي كا پيش خيمہ ٢٧ ;تقوي كى تشويق ٢٧

جنگ: ٦ جنگ سے فرار ٩

خباثت: ٣، ١٠، ١٣، ١٤، ١٩ خباثت كے اسباب ٤

سختي: ٦ شكست: ٦

علم غيب: ١١، ١٢، ١٣، ١٤، ١٥، ١٦، ١٨، ١٩، ٢٠، ٢٣،٨ ٢

غزوہ احد: ٨ قدر و قيمت كا اندازہ لگانا:

قدر و قيمت كا اندازہ لگانے كا طريقہ ٥،٢٨

كاميابي: ٦ كفر: ١٣

متقين: متقين كا اجر ٢٤

۲۶۴

مصيبت: ٦

معاشرہ : اسلامى معاشرہ ١، ٢، ٥;معاشرتى گروہ ٢

منافقين: صدر اسلام كے منافقين ٨ ; منافقين كى خباثت ٣، ١٩

مؤمنين: مؤمنين كا اجر ٢٤;مؤمنين كو تسلى ٩;مؤمنين كى امداد ٧;مؤمنين كى پاكيزگي٣، ١٩;مؤمنين كے تقاضے ٢٨

نفاق: نفاق كے اثرات ٤

آیت(۱۸۰)

( وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ )

اور خبردار جو لوگ خدا كے ديئے ہوئے ميں بخل كرتے ہيں ان كے بارے ميں يہ نہ سوچنا كہ اس بخل ميں كچھ بھلائي ہے _ يہ بہت برا ہے اور عنقريب جس مال ميں بخل كيا ہے وہ روز قيامت ان كى گردن ميں طوق بناديا جائے گا اور الله ہى كے لئے زمين و آسمان كى ملكيت ہے اور وہ تمھارے اعمال سے خوب باخبر ہے _

١_ بخل اختيار كرنے والوں كا انفاق نہ كرنے كو منافع اور ثمر بخش سمجھنا، ايك غلط تصور ہے_و لايحسبن الذين يبخلون هو خيراً لهم

٢_ اضافى اموالميں سے انفاق كرنا ضرورى ہے_

۲۶۵

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

مندرجہ بالا مطلب ميں ''من فضلہ''كى ضمير ''ما اتيھم الله '' كے ''ما''كى طرف پلٹائي گئي ہے_ اس بنا پر ''فضل'' ضرورت سے زائد كے معنى ميں ہوگا_ اسمطلب كى تائيد رسول خدا(ص) كے اس فرمان سے ہوتى ہے : ''ما من ذى رحم ياتى ذارحمہ فيسألہ من فضل ما اعطاہ الله اياہ فيبخل عليہ الا خرج لہ يوم القيامة من جہنم شجاع يتلمظ حتي يطوقہ'' جب كوئي شخص اپنے رشتہ دار سے سوال كرے كہ اللہ تعالى كے عطا كردہ مال ميں سے كچھ عنايت كرے اور وہ عطا كرنے ميں بخل كرے تو روز قيامت جہنم سے ايك سانپ نكلے گا جو اس كے گلے كا طوق بن جائے گا_اسكے بعد آپ(ص) نے مندرجہ بالا آيت كى تلاوت فرمائي ''و لايحسبن ...''(١)

٣_ ضرر و نقصان ،اضافى اموال ميں سے انفاق نہ كرنے كا برا انجام _و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله بل هو شر لهم

٤_ انسانوں كيلئے عنايات الہى (مادى و معنوى وسائل) ان پر خدا وند عالم كا فضل ہے كہ اور يہ اس كى ملكيت ہيں _

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

٥_ مال و دولت كے خداوند عالم كى جانب سے ہونے پر توجہ كرنا، انفاق و بخشش كو آسان بناديتا ہے اور بخل و كنجوسى كى برائي كو واضح كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله خداوند متعال كا يہ ياددہانى كرانا كہ تم لوگوں كے اموال خداوندمتعال كى طرف سے فضل ہے (بما اتيھم الله من فضلہ) اس كا مقصد، انسان كيلئے انفاق و بخشش كو آسان بنانا اور بخل كى برائي كو ظاہر كرنا ہے_

٦_ انسان كيلئے خداوند متعال كى عنايات(مادى و معنوى وسائل) كا قابل قدر ہونا_

و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله يہ كہ خداوند عالم نے جو وسائل انسانوں كو عطا كئے ہيں ، انہيں اپنا فضل كہا ہے اور ان كى نسبت اپنى جانب دى ہے، اس سے ان كى قدر و منزلت ظاہر ہوتى ہے_ البتہ يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''فضلہ''كى ضمير ''الله ''كى طرف پلٹائي جائے نہ كہ''ما اتيهم الله '' كى طرف _

____________________

١)الدر المنثور ج٢ ص٣٩٥.

۲۶۶

٧_ جہاد كے اخراجات ادا نہ كرنا، بخل كے مصاديق ميں سے ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله چونكہ مذكورہ آيت، آيات جہاد كے بعد آئي ہے، اس سے يہ نكتہ ظاہر ہوتا ہے كہ ''الذين يبخلون ...''كے مطلوبہ مصاديق ميں سے ايك وہ لوگ ہيں جو جہاد كے اخراجات ادا كرنے سے پرہيز اور بخل كرتے ہيں _

٨_ جہاد كے اخراجات پورے كرنے اور ضرورت مندوں كى دستگيرى كرنے كے سلسلے ميں ثروت مند افراد كى بھارى ذمہ داري_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله اگر ''فضل'' كا معني، ضروريات سے زائد ہو تو يہ ثروت مند افراد ہيں كہ جن كى ثروت ان كى ضروريات سے زيادہ ہے_

٩_ انسان اپنے نفع و نقصان كى صحيح پہچان نہ ركھنے كى وجہ سے بخل كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١٠_ انسان كا اپنے نفع و نقصان كو صحيح طور پر درك كرنا، خداوند متعال كى طرف سے ديئے گئے مال و دولت سے بخشش و انفاق كرنے اور بخل سے بچنے كا راستہ ہموار كرتا ہے_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١١_ آسمانى تعليمات، خير و شر كى پہچان كا منبع ہيں _و لايحسبن هو خيراً لهم بل هو شر لهم

١٢_ قيامت كے دن بخيلوں كا مال و منال، طوق كى صورت ميں ان كى گردن ميں لٹكا ہوگا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٣_ قيامت كے دن بخيل افراد كے گلے ميں ان كے مال و دولت كا لٹكايا جانا ، بخل و كنجوسى كى برائي اور ضرر كى علامت ہے_بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة جملہ ''سيطوقون ما بخلوا ...''كلمہ ''شر''كى تفسير ہے_ يعنى قيامت كے دن اپنے مال و دولت كو دوش پر لادے ہوئے (گلے ميں لٹكائے ہوئے) آنا، ايك ايسا شر ہے جو بخيل افراد كے دامن گير ہوگا_ مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى مراد ہو_

١٤_ قيامت كے دن جمادات اور اشياء كا محشور ہونا_

۲۶۷

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٥_ اخروى عذاب و عقوبت كا گناہ و عصيان كے مطابق ہونا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

بخيلوں كے گلے ميں ان كا مال طوق بناكر لٹكا يا جانا، اس مال سے ان كے شديد لگاؤ اور وابستگى كى وجہ سے ہے_ اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ عذاب آخرت اور گناہ ميں مناسبت ہوگي_

١٦_ معاد كا جسمانى ہونا_سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة مندرجہ بالامطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى ليا جائے_

١٧_ بخل اختيار كرنے كى حرمت اور خداوند متعال كا بخيلوں كى سخت مذمت كرنا_و لايحسبن سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة

١٨_ قيامت كے دن بخيل افراد، اپنے كاندھے پر بخل كے گناہ كا سنگين بوجھ اٹھائے ہوں گے_

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة بعض كے نزديك يہاں ''سيطوقون ...''كا ظاہرى معنى مراد نہيں ہے بلكہ وبال اور گناہ جيسا كوئي كلمہ، ''ما بخلوا ...''سے پہلے مقدر ہے_ يعنى وہ لوگ اپنے بخل كے گناہ كے وبال كو اپنے دوش پر اٹھائے ہوئے ہوں گے_

١٩_ قيامت كا دن حقيقى خير و شر كے ظہور كا ميدان ہے_و لايحسبن الذين هو خيراً لهم بل هو شر لهم سيطوقون يوم القيمة

٢٠_ انسان كيلئے، اپنے ذاتى مال ميں حق تصرف كى محدوديت_و لايحسبن الذين سيطوقون ما بخلوا به

٢١_ يہ خداوندمتعال ہے كہ جو آسمان و زمين (پورى كائنات) كا حقيقى و اصلى مالك ہے_ولله ميراث السموات والارض

٢٢_ خداوند عالم كى مطلق مالكيت_ولله ميراث السصموات والارض

٢٣_ انسان كى ثروت اور دولت، خداوند متعال كى ملكيت ہے اور اسى كى جانب پلٹ جائے گي_

بما اتهم الله من فضله ...ولله ميراث السموات والارض

٢٤_ آسمانوں كا متعدد ہونا_

۲۶۸

ولله ميراث السموات

٢٥_ انسان كے ہاتھ سے اسكے تمام مال و دولت كے نكل جانے كى جانب توجہ، بخل اور انفاق نہ كرنے كى برائي كو پہچاننے كا باعث بنتى ہے_و لايحسبن الذين يبخلون ولله ميراث السموات والارض جملہ ''ولله ميراث الصسموات ...''سے يہ نكتہ ظاہر ہوتا ہے كہ تمام مال و دولت تمہارے ہاتھوں سے نكل كر خداوند متعال كى جانب پلٹ جائے گي، پس كيوں نہيں انفاق كرتے؟ اور اپنے آپ كو انفاق كے اجر و ثواب سے محروم كرتے ہو؟

٢٦_ خداوند متعال كا انسان كے تمام اعمال اور كردار سے مكمل اور دقيق طور پر آگاہ ہونا_والله بما تعملون خبير

٢٧_ خداوند عالم كى على الاطلاق مالكيت اور انسانى اعمال و كردار سے اسكى آگاہى كى جانب توجہ، انفاق اور بخل سے بچنے كو آسان بناديتى ہے_و لايحسبن الذين يبخلون ولله ميراث السموات والارض والله بما تعملون خبير

٢٨_ بخيل افراد كے بارے ميں خداوند متعال كى جانب سے تہديد اور تنبيہ _والله بما تعملون خبير

٢٩_ زكات نہ دينے والوں كے اموال كا قيامت كے دن ان كے گلے ميں ادہا كى شكل ميں لٹكايا جانا_

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيمة امام صادق (ع) سے ''سيطوقون ما بخلوا بہ ...''كے بارے ميں پوچھا گيا تو آپ(ع) نے فرمايا: ما من احد يمنع من زكاة مالہ شيئاً الا جعل الله عزوجل ذلك يوم القيمة ثعباناً من نار مطوقاً فى عنقہ جو شخص بھى زكاة كے مال سے ذرہ برابر بھى ركھ لے يقينا خداوند متعال روز قيامت اسے آگ كا ادہا بناكر اس كے گلے ميں لٹكادے گا(١) _

٣٠_ ضرورت سے زيادہ مال و دولت ميں سے انفاق اور خرچ نہ كرنے اور بخل اختيار كرنے كا نتيجہ، قيامت كے دن سخت عذاب الہى كى صورت ميں ظاہر ہوگا_و لايحسبن الذين يبخلون بما اتيهم الله من فضله

رسول خدا (ص) فرماتے ہيں :ما من ذى رحم يأتى ذا رحمه فيسأله من فضل ما اعطاه الله اياه فيبخل عليه الا خرج له يوم القيامة من جهنم شجاع يتلمظ حتي يطوقه_ ثم قرأ ''ولايحسبن ...'' _(٢) اس حديث كا ترجمہ اسى آيت كے مطلب ٢ ميں گزرچكا ہے_

____________________

١)كافى ج٣ ص٥٠٢ ح١، نورالثقلين ج١ ص٤١٤ ح٤٤٩، ٤٥٢.

٢)الدر المنثور ج٢ ص٣٩٥.

۲۶۹

آسمان: آسمان كا مالك٢١; آسمان كا متعدد ہونا٢٤

اللہ تعالى: اللہ تعالى كا خبردار كرنا ٢٨;اللہ تعالى كا علم ٢٦، ٢٧; اللہ تعالى كا فضل ٤; اللہ تعالى كى عطاء ٤، ٦;اللہ تعالى كى مالكيت ٤، ٢١، ٢٣، ٢٧

انسان: انسان كا سرمايہ٤، ٥، ٢٣، ٢٥ ; انسان كا علم ١٠; انسان كا عمل ٢٦

انفاق: انفاق كا پيش خيمہ ٥، ١٠، ٢٧;انفاق كى اہميت ٢; انفاق كى حدود ٢;انفاق كے آداب ٢٧;انفاق كے موانع ١;ترك انفاق پر مذمت ٢٥; ترك انفاق كى سزا ٣٠; ترك انفاق كے اثرات ٣، ٢٩

بُخل: بخل كا گناہ ١٨;بخل كا نقصان ١٣; بخل كى حرمت ١٧; بخل كى سزا ٣٠ ; بخل كى مذمت ٥، ١٧، ٢٥ ; بخل كے اثرات ١٢، ١٣، ١٨; بخل كے اسباب ٩ ; بخل كے علاج كا طريقہ ١٠، ٢٧;بخل كے موارد ٧

بخيل: بخيل قيامت ميں ١٢، ١٣;بخيل كا انجام ٣٠;بخيل كا سرمايہ ١٢، ١٣; بخيل كا عقيدہ ١; بخيل كو تہديد ٢٨; بخيل كى مذمت ١٧

ثروت مند افراد: ثروت مند افراد كى ذمہ دارى ٨

جزا و سزا كا نظام: ١٥

جہاد: مالى جہاد ٧، ٨

جہالت: جہالت كے اثرات ٩

دنيا: دنيوى وسائل كى قدر و منزلت ٥ دين: تعليمات دين كے فوائد١١

روايت: ٢٩، ٣٠

زمين: زمين كا مالك ٢١

سزا:٣٠ اخروى سزا، ١٥

شناخت: شناخت كے منابع ١١

عذاب: عذاب كے درجے ٣٠; عذاب كے موجبات ١٥

عصيان: عصيان كى سزا ١٥

۲۷۰

عقيدہ: باطل عقيدہ ١

علم: ١٠ علم كے اثرات ٥، ٢٧

عمل:٢٦ عمل كا مجسم ہونا١٢، ١٣، ٢٩; نيك عمل كا پيش خيمہ ٥

فقير: فقير كى ضرورت پورى كرنا ٨

قدر و قيمت: معنوى قدر و قيمت ٦

قيامت: ١٢، ١٣، ١٨

قيامت كے دن حقائق كا ظاہر ہونا ١٩، ٢٩

گناہ: ١٨

مالكيت: ذاتى مالكيت ٢٠

محرمات: ١٧

محشور ہونا: جمادات كا محشور ہونا ١٤;موجودات كا محشور ہونا١٤

معاد: جسمانى معاد ١٦

ہبہ: ٥، ١٠

آیت (۱۸۱)

( لَقَدْ سَمِعَ اللّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاء سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتْلَهُمُ الأَنبِيَاء بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِيقِ )

الله نے ان كى بات كو بھى سن ليا ہے جن كاكہنا ہے كہ خدا فقير ہے اورہم مالدار ہيں _ ہم ان كى اس مہمل بات كو اور ان كے انبياء كے ناحق قتل كرنے كو لكھ ر ہے ہيں اور انجام كار ان سے كہيں گے كہ اب جہنّم كامزہ چكھو _

١_ خداوند متعال كے فقير و محتاج ہونے اور اپنے غنى و بےنياز ہونے كے بارے ميں يہود كے بے بنياد خيالات_

۲۷۱

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

بہت سے مفسرين كا كہنا ہے كہ ''الذين قالوا'' سے مراد يہود ہيں _

٢_ انفاق اور بخشش كے بارے ميں فرامين الہى كا يہود كى جانب سے مذاق و تمسخر اڑايا جانا_

الذين يبخلون لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير انفاق كى ترغيب دلانے اور اہل بخل كو تہديد كرنے كے بعد يہوديوں كے كلام''ان الله فقير ''كو نقل كرنا اس نكتہ كى جانب اشارہ ہے كہ يہوديوں نے انفاق كے بارے ميں فرمان خداوندى كا مذاق اڑاتے ہوئے يہ ا فواہ پھيلا ركھى تھى كہ آنحضرت (ص) كا خدا، فقير ہے_

٣_ خداوند متعال كے مقابلے ميں غنا اور بے نيازى كا احساس اور اظہار كرنا ايك ناروا و ناپسنديدہ عمل ہے_

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٤_ غنا اور بے نيازى كا احساس، فرامين الہى كى حكم عدولى اور ان كا مذاق اڑانے كى راہ ہموار كرتا ہے_*

الذين يبخلون بما اتيهم الله لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن أغنيائ

٥_ الہى معارف اور صفات خداوندى كے بارے ميں يہود كى كوتاہ انديشي_لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٦_ يہود كا مغرور اور خود پسند ہونا_قالوا ان الله فقير و نحن أغنيائ

٧_ خداوند متعال باتوں كا سننے والا ہے_لقد سمع الله قول

٨_ يہود كا ،اسلامى احكام و قوانين (انفاق) كے خلاف ناروا پروپيگنڈا كرنا_و لايحسبن الذين لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير و نحن اغنيائ

٩_ خداوند متعال بندوں كے انفاق سے غنى اور بے نياز ہے_ان الذين ان الله فقير و نحن اغنيآء سنكتب ما قالوا

١٠_ بخيل اور كنجوس زراندوز لوگ (ہميشہ) انبيائے الہى (ع) اور احكام خداوندى كے ساتھ ٹكرانے اور ان كے

۲۷۲

مقابلہ ميں آنے كے خطرے سے دوچار ہوتے ہيں _و لايحسبن الذين يبخلون لقد سمع الله قول الذين قالوا و نحن اغنيائ ترك انفاق اور بخل كى برائي بيان كرنے كے بعد يہوديوں كے كلام و باطل خيالات كو نقل كرنا، گويا بخيل افراد كيلئے ايك قسم كى تنبيہ ہے كہ بخل اور ترك انفاق انسان كو ايسے خطرناك مقام تك لے جاسكتا ہے كہ جہاں تك اس نے يہوديوں كو پہنچاديا (قالوا ان الله فقير )_

١١_ انسان كے كردار و گفتار كا ثبت ہونا اور ان كے مقابلے ميں انسان كى ذمہ داري_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٢_ يہود كا (جان بوجھ كر) انبيائے الہى (ع) كو ناحق قتل كرنا_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

انبياء (ع) كے قتل كا بالكل ناحقہونا دلالت كرتا ہے كہ يہود انبياء (ع) كى نبوت كا علم ركھنے كے باوجود، بغيرخطا اور فراموشى كے، انبيائے كرام (ع) كو قتل كرڈالتے تھے_ چونكہ اگر وہ انہيں پيغمبرنہ سمجھتے يا خطا و نسيان كے طور پر انہيں قتل كرتے تو ''بغير حق'' كى تعبيران پر صادق نہ آتي_

١٣_ انبيائے الہى (ع) ميں ، شہيد ہونے والے انبياء (ع) كى كثرت_و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٤_ يہود، پيغمبراسلام(ص) كو قتل كرنے كے در پے تھے_*و قتلهم الانبياء بغيرحق مندرجہ بالا مطلب، زمانہ پيغمبر(ص) كے يہوديوں كى طرف قتل انبياء (ع) كى نسبت دينے كى ايك توجيہ ہے، يعنى يہوديوں كى طرف قتل انبياء (ع) كى نسبت دى گئي ہے_ اس سے پتہ چلتا ہے كہ وہ پيغمبر اكرم(ص) كو قتل كرنے كى سعى كرر ہے تھے اور آنحضرت(ص) تمام انبياء (ع) كے مقام پر ہيں _

١٥_ خداوند متعال كو فقير و محتاج سمجھنے اور اسكى جانب ناروا نسبت دينے كى برائي كا انبياء (ع) كو قتل كرنے جيسے گناہ كے مساوى ہونا_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق

١٦_ خداوند متعال كى جانب ناروا نسبت دينا اور انبيائے (ع) الہى كو قتل كرنا، ايسے عظيم گناہ ہيں جو دوزخ كے جلانے والے عذاب كا باعث بنتے_سنكتب ما قالوا و قتلهم الانبياء بغيرحق و نقول ذوقوا عذاب الحريق

''حريق'' محرق (جلانے والا) كے معنى ميں ہے يہ قابل غور ہے كہ انبياء (ع) كو قتل كرنے اور خداوند متعال كى طرف ناروا نسبت دينے كى سزا جلانے

۲۷۳

والا عذاب ہے_ جو اس قسم كے گناہ كى سنگينى كو ظاہر كرتا ہے_

١٧_ خداوند متعال كى طرف فقر كى نسبت دينے والوں اور انبياء (ع) كو قتل كرنے والوں كيلئے خود خداوند متعال كى جانب سے جلانے والے عذاب كا بلاواسطہ فرمان _نقول ذوقوا عذاب الحريق

١٨_ امام(ع) كو جو مال ديا جاتا ہے، اس مال كا امام(ع) كو محتاج سمجھنا گويا خداوند متعال كو فقير جاننا ہے_

لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير امام باقر(ع) نے اس آيت كے بارے ميں فرمايا :هم الذين يزعمون ان الامام يحتاج منهم الى ما يحملون اليه _(١) يہ وہ لوگ ہيں جو گمان كرتے ہيں كہ امام ان كے اس مال كا نيازمند ہے جو وہ امام كو ديتے ہيں _

آنحضرت(ص) : آنحضرت (ص) كو قتل كرنے كى سازش ١٤

احكام: احكام كا استہزا ٢، ٤

استغنا: استغنا كے اثرات ٤;استغنا كى مذمت ٣

اسلام: تاريخ صدر اسلام ٨، ١٤

اسماء و صفات: سميع ٧;صفات جلال ١، ٩، ١٥

افترا: افترا كا گناہ١٥، ١٦; خداوند متعال پر افترا ١٥، ١٦، ١٧، ١٨

اللہ تعالى: ١٥، ١٦، ١٧، ١٨ اللہ تعالى كے اوامر ٢، ٤;اللہ تعالى كى بے نيازى ٩

انبياء (ع) : انبياء (ع) كا قتل١٢، ١٣، ١٥، ١٦، ١٧

انسان: انسان كى ذمہ دارى ١١

انفاق: ٨، ٩ انفاق كا حكم ٢; انفاق كى قدروقيمت ٨

بخيل: ١٠ ثروت مند: بخيل ثروت مند ١٠

روايت: ١٨

____________________

١)نورالثقلين ج١ ص٤١٦ ح٤٥٦_ بحارالانوار ج٢٤، ص٢٧٨ ح٤.

۲۷۴

زر اندوز : بخيل زر اندوز ١٠

سزا : ١٦

شہدائ: ١٣

عذاب: عذاب كے اسباب ١٦، ١٧; عذاب كے مراتب ١٦، ١٧

عصيان: عصيان كا پيش خيمہ ٤

عقيدہ: ٥ باطل عقيدہ ١، ٣، ١٨

عمل: عمل كا باقى رہنا ١١;عمل كا ثبت ہونا ١١

قتل: ١٢، ١٣، ١٦، ١٧ قتل كا گناہ ١٥

گناہ: ١٥ گناہ كبيرہ ١٦، ١٧;گناہ كى سزا ١٦

ہبہ: ہبہ كرنے كا حكم ٢

يہود: ١٢ يہود كا استہزا ٢;يہود كا عقيدہ ١، ٥;يہود كا غرور ٦; يہود كا ماحول بنانا ٨;يہود كى جہالت ٥;يہود كى سازش ١٤

آیت(۱۸۲)

( ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللّهَ لَيْسَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِيدِ )

اس لئے كہ تم نے پہلے ہى اس كے اسباب فراہم كر لئے ہيں اور خدا اپنے بندوں پرظلم نہيں كرتا ہے_

١_ آخرت ميں يہود پر سخت عذاب، ان كے ناروا اعمال (خداوند متعال كى جانب فقر كى نسبت دينے اور انبياء (ع) كو قتل كرنے) كا نتيجہ ہے_ذوقوا عذاب الحريق_ ذلك بما قدمت ايديكم

٢_ انسانوں كيلئے اخروى عذاب اور سزا، خود ان كے اعمال كا نتيجہ ہے_ذلك بما قدمت ايديكم

٣_ زمانہ پيغمبراكرم(ص) كے يہود كا اپنے آباء و اجداد كے

۲۷۵

گناہ (قتل انبياء (ع) ) ميں شريك ہونا_و قتلهم الانبياء بغيرحق ذلك بما قدمت ايديكم

يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''ايديكم''كے مخاطب عصر پيغمبراكرم(ص) كے يہود ہوں ، جملہ ''ذلك بما قدمت ...''سے پتہ چلتا ہے كہ وہ انبياء (ع) كو قتل كرنے كے گناہ ميں شريك تھے كہ جو ان كے آبا ء و اجداد كے ہاتھوں انجام پايا تھا_

٤_ زمانہ پيغمبراكرم(ص) كے يہود كا اپنے آبا و اجداد اور ہم مذہب لوگوں كے ہاتھوں گذشتہ انبياء (ع) كے قتل پر راضى ہونا_و قتلهم الانبياء ذلك بما قدمت ايديكم بظاہر عصر پيغمبراكرم(ص) كے يہوديوں كى طرف انبياء (ع) كے قتل كى نسبت جو ''ايديكم''كى ضمير خطاب سے اخذ ہوتى ہے_ ان كے اپنے آبا و اجداد كے اعمال پر راضى ہونے كى بنا پر ہے_ چونكہ خود وہ لوگ انبياء (ع) كے قتل كے مرتكب نہيں ہوئے تھے_

٥_ دوسروں كے اعمال و كردار پر راضى ہونا، انہى كے اعمال و كردار كو انجام دينے كے مترادف ہے_و قتلهم الانبياء ذلك بما قدمت ايديكم

٦_ بندوں كى نسبت، خداوند متعال كى جانب سے ہر قسم كے ظلم كى نفي_و ان الله ليس بظلام للعبيد

٧_ عدل خداوند متعال اور ا س كى ذات اقدس كا ظلم و ستم سے دور ہونے كا تقاضا ہے كہ بخيلوں اور انبياء (ع) كے قاتلوں كو سزا دى جائے_و لايحسبن الذين يبخلون ذوقوا عذاب الحريق و ان الله ليس بظلام للعبيد

جملہ ''و اص نص الله ...'' كا ''ما قدمت''پر عطف ہے_ بنابرايں يہ بخيلوں اور انبياء (ع) كے قاتلوں كے دوزخ ميں گرفتار ہونے كى ايك دوسرى وجہ ہے_ يعنى عدل الہى كا تقاضا ہے كہ وہ ظالموں كو سزا دے، اگر انہيں سزا نہيں ملتى تو يہ مظلوموں پر ظلم ہوگا_

٨_ اہل دوزخ كا عذاب، خداوند متعال كى طرف سے ان پر ہرگز ظلم نہيں _ذوقوا عذاب الحريق و ان الله ليس بظلام للعبيد يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''ان الله ...''ايك محذوف مبتدا كى خبر ہو (الامرو الشأن ان الله ليس ...) يوں ''قدمت ايديكم''كے قرينہ سے خداوند متعال كے ظلم نہ كرنے سے مراد يہ ہے كہ خداوند متعال سزا دينے ميں ظلم نہيں كرتا_

٩_ اہل دوزخ كا عذاب، ہرگز ان كے اعمال سے زيادہ نہيں ہوگا_ذوقوا عذاب الحريق_ ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد

۲۷۶

١٠_ خداوند متعال، ہرگز اپنے بندوں كو ارتكاب گناہ كے بغيرسزا نہيں ديتا_ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد

١١_ اپنے اعمال و كردار كے سلسلے ميں انسان خودمختار ہے_ذلك بما قدمت ايديكم و ان ا لله ليس بظلام للعبيد

١٢_ ظالموں كو سزا نہ دينا، مظلوموں پر ظلم ہے_ذوقوا عذاب الحريق ذلك بما قدمت ايديكم و ان الله ليس بظلام للعبيد مندرجہ بالا مطلب پہلے احتمال (''ان الله ...''كا ''ما قدمت''پر عطف ہونا)پر مبنى ہے_

١٣_ بے گناہوں كو سزا دينا، ايك عظيم ظلم ہے_و ان الله ليس بظلام للعبيد

مندرجہ بالامطلب دوسرے احتمال (''ان الله ...''كيلئے مبتدا كا مقدر ہونا) پر مبنى ہے_

١٤_ گناہ سے زيادہ سزا دينا، ايك عظيم ظلم ہے_و ان الله ليس بظلام للعبيد

اسماء و صفات: صفات جلال ٦

افترا: خدا پر افترا ١;افترا كى سزا ١

اللہ تعالى: ١، ٦، ٨، ١٠ اللہ تعالى كاعدل ٧

انبياء (ع) : انبياء (ع) كا قتل ٤;انبياء (ع) كے قتل كى سزا ١، ٣، ٧

انسان: انسان كااختيار ١١; انسان كا عمل ١١

اہل جہنم: اہل جہنم كى سزا ٨، ٩

بخيل: بخيل كى سزا ٧

جزا و سزا كا نظام : ٥،٩

جہنم: جہنم كا عذاب ٨، ٩

سزا: ٢، ٣، ٧، ٨، ٩، ١٢، ١٤ اخروى سزا ١; سزا كا فلسفہ ١٢

ظالمين: ظالموں كى سزا ١٢

۲۷۷

ظلم: ٦، ٧، ٨، ١٠ ظلم كے اسباب ١٢، ١٣، ١٤;ظلم كے مراتب ١٣، ١٤ ; مظلوم پر ظلم ١٢

عذاب: ٨، ٩ عذاب كے اسباب ١; عذاب كے درجات ١; عذاب كے موجبات ٢، ٧

عمل١١: عمل كى اخروى سزا ٢; عمل كى سزا ٩;ناپسنديدہ عمل ١، ٢

گناہ: گناہ پر راضى ہونا ٤، ٥ ;گناہ كى سزا ١٤

يہود: صدر اسلام كے يہود ٣، ٤; يہود كى سزا ١، ٣ ;يہود كے آبا و اجداد كى سزا ٣; يہود كے آبا و اجداد ٤

آیت(۱۸۳)

( الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّیَ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ قُلْ قَدْ جَاءكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ) جو لوگ يہ كہتے ہيں كہ الله نے ہم سے عہد ليا ہے كہ ہم اس وقت تك كسى رسول پر ايمان نہ لائيں جب تك وہ ايسى قربانى پيش نہ كرے جسے آسمانى آگ كھا جائے تو ان سے كہہ ديجئے كہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول معجزات اور تمھارى فرمائش كے مطابق صداقت كى نشانى لے آئے پھر تم نے انھيں كيوں قتل كرديا اگر تم اپنى بات ميں سچّے ہو _

١_ يہوديوں كے خيال ميں انبياء (ع) پر ايمان لانے كيلئے خداوند متعال نے يہ عہد ليا ہے كہ انبياء (ع) ايسى قربانى پيش كريں جسے غيبى آتش آكر جلادے_الذين قالوا ان الله عهد الينا الانؤمن لرسول حتى يأتينا بقربان تأكله النار

٢_ آنحضرت(ص) پر ايمان لانے كيلئے يہود نے يہ شرط ركھى

۲۷۸

ہوئي تھى كہ پيغمبراكرم(ص) كى قربانى آگ ميں جل جائے_

الذين قالوا ان الله حتى يأتينا بقربان تاكله النار ''قربان''كا معنى ہر وہ چيز ہے جس كے وسيلے سے انسان خداوند متعال كا قرب حاصل كرتا ہے اور گذشتہ امتوں كى قربانى گائے، بھيڑ اور اونٹ وغيرہ تھے جو خداوند متعال سے تقرب حاصل كرنے كيلئے ذبح كئے جاتے تھے_(تاج العروس)

٣_ حضرت موسي (ع) كى بعثت كے بعد، رسالت و نبوت كے ختم نہ ہونے كے بارے ميں يہود كا اعتقاد و اعتراف_

الانؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان اگر يہود حضرت موسي (ع) كى نبوت كى خاتميت كے مدعى ہوتے تو انہيں پيغمبراسلام(ص) سے يہ كہنا چاہيے تھا كہ ہم سے عہد ليا گيا ہے كہ ہم كسى بھى مدعي رسالت پر ايمان نہ لائيں نہ يہ كہ وہ سچے نبى و رسول كى نشانى بيان كرنے لگتے_

٤_ يہودي، الہى عہد و پيمان كے ساتھ اپنى وفادارى كے مدعى تھے_ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول

٥_ يہوديوں كا دين اور ديندارى كے نام پر اسلام اور پيغمبراكرم (ص) كے خلاف معركہ آرائي _

ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان چونكہ يہود كا دعوي تھا كہ وہ فرامين خداوندى كى پيروى كرتے ہوئے اور عہد الہى سے وفا كرتے ہوئے، پيغمبر اكرم(ص) پر ايمان نہيں لار ہے_

٦_ يہود كى نظر ميں مدعى رسالت كى سچائي كى علامت، قربانى كا غيبى آتش سے جلنا ہے_الانؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان تاكله النار

٧_ اديان الہى ميں ، قربانى كے حكم كا موجود ہونا_حتي ياتينا بقربان تاكله النار

٨_ بنى اسرائيل كيلئے روشن دلائل (معجزات و براہين) كے ساتھ متعدد انبيا ء (ع) كا مبعوث ہونا_قد جائكم رسل من قبلى بالبينات

٩_ بنى اسرائيل كے بعض انبياء (ع) اور رسولوں (ع) كے معجزہ كے طور پر قربانى كا غيبى آگ سے جلنا_

قال ان الله عهد الينا قد جائكم رسل و بالذى قلتم

١٠_ خداوند متعال كى تعليم كے مطابق، پيغمبر اكرم (ص) كا يہود كے خلاف استدلال كرنا_

قل قد جائكم رسل من قبلى بالبينات وبالذى قلتم فلم قتلتموهم

۲۷۹

١١_ اثبات نبوت كے طريقوں ميں سے ايك معجزہ ہے_قد جائكم رسل من قبلى بالبينات و بالذى قلتم

١٢_ انبياء (ع) كى حقانيت كا علم ركھنے اور ان كے معجزات ديكھنے كے باوجود، يہود كے ہاتھوں بہت سے انبيائے الہى (ع) كا شہيد ہونا _قل قد جائكم رسل من قبلى بالبينات و بالذى قلتم فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

دليل كو اس وقت ''بينة''كہا جاتا ہے كہ جب وہ مدمقابل كيلئے حق كو روشن كرے اور اسے اسكى حقانيت سے آگاہ كرے_ لہذا يہود جانتے تھے اور ان كيلئے روشن تھا كہ وہ حقيقى انبياء (ع) كو قتل كرر ہے ہيں _

١٣_ يہودي، انبياء (ع) سے اپنا طلب كردہ معجزہ (قربانى كا غيبى آگ سے جلنا) ديكھنے كے باوجود بھي، نہ فقط ان پر ايمان نہيں لائے بلكہ انہيں قتل كرڈالا_قل قد جائكم رسل من قبلى و بالذى قلتم فلم قتلتموهم

١٤_ پيغمبراكرم (ص) كا يہوديوں كى گذشتہ تاريخ كى بنياد پران كے خلاف استدلال كرنا_قل قد جائكم رسل من قبلى فلم قتلتموهم

١٥_ ہر امت كى تاريخ; اسكى نفسيات، خصائل اور اسكے آئندہ كے لائحہ عمل كى تشخيص و پہچان كا منبع ہے_

قد جائكم فلم قتلتموهم خداوند متعال يہود كى عادات و خصائل اور تاريخى اثرات كے ذريعے، زمانہ پيغمبر(ص) كے يہوديوں كے خلاف استدلال كرتے ہوئے ان كے آئندہ كے لائحہ عمل كو آشكار كر رہا ہے_ يہ استدلال اس بنياد پر قائم ہے كہ ہر امت و قوم كى تاريخ اورگذشتہ اعمال اسكے مستقبل كى نشاندہى كرتے ہيں اور اس پر حاكم عادات و نفسيات كى معرفت كا بہترين وسيلہ و منبع ہيں _

١٦_ يہود كا پيغمبراكرم(ص) كے ساتھ منافقانہ رويہ_الذين قالوا ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين جملہ''فلما قتلتموهم ان كنتم صادقين'' يہ بيان كر رہا ہے كہ يہود، معجزہ ديكھنے كى صورت ميں ايمان لانے كا دعوي كرنے كے باوجود، ايمان لانے كا قصد نہيں ركھتے تھے_

١٧_ يہوديوں كى خرافات پسندي، جمود اور ہٹ دھرمي_*الذين قالوا ان الله عهد الينا الا نؤمن لرسول حتى ياتينا بقربان: تأكله النار

١_ جملہ ''الا نؤمن لرسول''كا ظاہرى معنى يہ ہے كہ خداوند متعال نے ہميں حكم ديا ہے كہ جو شخص

۲۸۰

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300