امام مہدی کی آفاقی حکومت

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت26%

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت مؤلف:
: عرفان حیدر
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 300

امام مہدی کی آفاقی حکومت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 300 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 180608 / ڈاؤنلوڈ: 4526
سائز سائز سائز
امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت

امام مہدی کی آفاقی حکومت

مؤلف:
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

۵_كوئي بھى انسان كسى دوسرے كے عمل كا بوجھ اپنے كندھوں پر نہيں اٹھائے گا _ولا تزرو وازرة وزر أخرى

''وزر'' سے مراد بھارى چيز ہے اور يہ يہاں گناہ سے كنايہ ہے_

۶_گناہ ،انسان كے كندھوں پر بھارى بوجھ ہے_ولاتزروازرة وزرأخرى

''وزر'' لغت ميں بھارى چيز كو كہتے ہيں (لسان العرب) اور اس لئے گناہ كو ''وزر'' كہا گيا ہے كہ اس كے نتائج بھى بھارى ہوتے ہيں _

۷_اعمال كى جزا كے نظام پرالہى عدل حاكم ہے_ولاتزر وازرة وزر ا خرى

۸_رسولوں كو بھيجنے اور اتمام حجت سے قبل لوگوں كو سزا نہ دينا ايك سنت الہى ہے_وماكنا معذبين حتّى نبعث رسولا

۹_انبياء كى بعثت كے اہداف ميں سے ايك ہدف لوگوں پر حجت تمام كرنا ہے_وما كنا معذبين حتّى نبعث رسولا

۱۰_كسى بھى عمل كى بدى اور ناجائز ہونے كے بيان سے پہلے اس عمل كى وجہ سے عقاب وعذاب دينا قبيح ہے_

وما كنّا معذبين حتّى نبعث رسولا

يہ كہ الله تعالى نے فرمايا ہے كہ '' ہم جب تك حقايق بيان كرنے كے لئے لوگوں كى طرف رسول نہيں بھيجتے انہيں عذاب وعقاب نہيں كرتے''_ يہاں احتمال يہ ہے كہ يہ قانون اس عقلى فيصلے كے مطابق ہو كہ ''بغير بيان كے عقاب قبيح اور ناپسند ہے''_

۱۱_گناہ گار امتوں پر اتمام حجت اور رسول كے بھيجنے كے بعد دنياوى عذاب كا نازل ہونا _

وماكنا معذبين حتّى نبعث رسولا

جملہ''ماكنا معذّبين حتّى نبعث رسولاً'' مطلق ہے كہ جو دنياوى عذاب كو بھى شامل ہے_

الله تعالى :الله تعالى كى جزائيں ۷;اللہ تعالى كى حاكميت وعدالت ۷;اللہ تعالى كى سنتيں ۸; الله تعالى كے عذابوں كى شرائط ۸;۱للہ تعالى كے عذاب ۷ ; الله تعالى كے عذابوں كا قانون كے مطابق ہونا ۱۱; الہى حجت كا اتمام ہونے كا كردار ۸، ۱۱

الله تعالى كى آيات:

۴۱

كائنات ميں الله تعالى كى نشانياں ۴;اللہ تعالى كى آيات واضح كرنے كافلسفہ ۴

الله تعالى كے رسول :الله تعالى كے رسولوں كا كردار ۸

اتمام حجت:اتمام حجت كى اہميت ۹

امتيں :گناہ گار امتوں كا دنياوى عذاب ۱۱

انبياء :انبياء كے ذريعے اتمام حجت ۱۱;انبياء كى بعثت كا فلسفہ ۹;انبياء كا كردار ۱۱

انسان :انسان كا اختيار ۳

جبر واختيار :۳

جزا كا مقام : ۷

خود:خود كو نقصان ۱

عمل :عمل كى ذمہ دارى ۵;ناپسند عمل ۱۰

فقہى قواعد :بلابيان عذاب كاقانون ۱۰

گمراہى :گمراہى اختيار ۳;گمراہى كا نقصان ۱ ، ۲

گناہ:دوسروں كے گناہوں كو تحمل كرنا ۵;گناہ كا بوجھ ۶

نصےحت :اعمال كے آخرت ميں محاسبہ كى نصيحت ۴

ہدايت:ہدايت ميں اختيار ۳;ہدايت كا پيش خيمہ ۴; ہدايت كے فوائد ۱ ، ۲

آیت ۱۶

( وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُواْ فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيراً )

اور ہم نے جب بھى كسى قريہ كو ہلاك كرنا چاہا تو اس كے ثروت مندوں پر احكام نافذ كردئے اور انھوں نے ان كى نافرمانى كى تو ہمارى بات ثابت ہوگئي اور ہم نے اسے مكمل طور پر تباہ كرديا (۱۶)

۱_كسى بھى معاشرہ كے امراء اور ثروت مند طبقہ كافسق وفجور اس معاشرہ كى تباہ بربادى كا سبب بنتا ہے_

وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه

''مترف'' مادہ ''ترفہ'' سے ليا گيا ہے اور ''ترفہ'' سے مراد بہت زيادہ رزق ونعمت ہے (مفردات راغب)

۴۲

۲_تاريخ اور انسانى معاشروں كے حوادث ،الہى ارادہ كے تحت ہيں _

وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيها فدمرّنه

۳_آسائش وثروت سے مالا مال ہونا فسق فجور كى طرف ميلان كى پيش خيمہ ہے _أمرنا مترفيها ففسقوا فيه

معاشرہ كے تمام طبقات ميں سے فاسق و فاجر ہونے كے لئے ثروت مند طبقے كا ذكر ہونا حالانكہ فسق وفجور تمام لوگوں سے ہوسكتا ہے اس كا كسى خاص طبقہ سے تعلق نہيں ہے 'شايد اسى مندرجہ بالا نكتہ كى بنا پر ہے_

۴_ثروت مند اور صاحبان مال ومتاع دوسروں كى نسبت زيادہ نافرمانى خدا اور مخالفت حق كا شكارہيں _

ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه مندرجہ بالا نتيجہ اس بناء پر ليا گيا ہے كہ ''ا مرنا'' كا مفعول ''بالطاعة'' كى مانندكوئي لفظ محذوف ہو تو اس صورت ميں آيت كا معنى يوں ہوگا كہ ہم معاشرہ كے ثروت مند طبقہ كو اطاعت وبندگى كا حكم ديتے ہيں _ ليكن وہ توقع كے بر خلاف فسق وفجور كى راہ كو اختيار كرتے ہيں _

۵_ارادہ الہى اسباب و مسببات كے تحت انجام پاتاہے_وإذا ا ردنا ففسقوا فيها فحقّ عليها القول

۶_كسى معاشرہ ميں فاسق وفاجر مالدار لوگوں كى تعداد كا بڑھنا پروردگار كى سنتوں كے مطابق اس معاشرہ كى تباہى كے اسباب ميں سے ہے_وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه

بعض كا خيال ہے كہ ''ا مرنا'' كثرنا كے معنى پر ہے _ (ہم نے مزيد بڑھايا ) (مفردات راغب) تو اس صورت ميں ''ا مرنا مترفيھا'' سے مراد ثروت مند طبقہ كا بڑھنا ہے _

۷_مالدار طبقہ كا فسق وفجور دوسرے طبقات كى گناہ و بربادى كى طرف رغبت ميں مؤثر اور اہم كردار ادا كرتا ہے_

ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه

تمام طبقات ميں سے بالخصوص ثروت مند طبقے كا ذكر ہونا اس بات كو واضح كرتا ہے كہ دوسرے طبقات كى نسبت اس طبقہ كا گناہ ميں آلودہ ہونا ، معاشرہ كے بگڑنے اور تباہ ہونے ميں زيادہ مؤثر اور اہم كردار اداكرتا ہے_

۸_كوئي بھى معاشرہ اور اس كا تغير وتبدل واضح سنت وقانون كے مطابق ہے _وإذا ا ردنا ا ن نهلك ففسقوا فيها فدمّرنه

''قرية'' لغت ميں انسانوں كے مجموعہ كوكہتے ہيں (مفردات راغب) يہ كہ الله تعالى فرماتا ہے :

۴۳

جب معاشرہ كے مالدار لوگ فاسق ہوجاتے ہيں تو ان كے بارے ميں ہمارى بات يقينى ہوجاتى ہے '' فحقّ عليھا القول '' يہ اس بات كو بيان كررہاہے كہ معاشرہ كے تغيّرات واضح قانون كے حامل ہيں _

۹_انسانوں كے اعمال ان كى تباہى وبربادى ميں واضح كردار ادا كرتے ہيں _

وإذا ا ردنا ان نهلك قرية ففسقوا فيها فحق عليها القول فدمّرنه

۱۰_معاشرتى سطح پر نافرمانى الہى يقينى طور پر عذاب الہى كے نزول كا موجب ہے _فسقوا فيها فحقّ عليها القول

۱۱_نافرمان معاشرہ كا عذاب اس قدر شديد ہے كہ اس كى مكمل تباہى ونابودى كا سبب بنتا ہے_

ففسقوا فيها فحقّ عليها القول فدمّرنها تدميرا

۱۲_''عن أبى جعفر(ع) فى قول الله : ''إذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها '' قال: تفسيرها ا مرنا ا كابرها'' (۱) امام باقر (ع) سے الله تعالى كى اس كلام :''ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها'' كے حوالے سے روايت ہوئي ہے كہ آپ(ع) نے فرمايا : اس آيت كى تفسير يہ ہے كہ ہم اس علاقہ كہ بڑوں كو حكم كرتے ہيں ''_

آسائش پسند لوگ:آسائش پسند لوگوں سے مراد ۱۲; آسائش پسند لوگوں كا حق قبول نہ كرنا ۴;بدكار آسائش پسند طبقے كا كردار ۶/اسباب كا نظام : ۵

الله تعالى :الله تعالى كے احكام ۱۲;اللہ تعالى كى سنتيں ۶;الہى ارادہ كے جارى ہونے كى مقامات ۵; الہى ارادہ كى اہميت۲

تاريخ :تاريخ تبديليوں كا سرچشمہ ۲

حق:حق قبول نہ كرنے كا خطرہ ۴/عذاب:عذاب كے اسباب ۱۰;عذاب كے درجات ۱۱

عمل :عمل كے نتائج ۹/طبيعى اسباب:طبيعى اسباب كے اثرات۵

فساد:فساد كے معاشرتى نتائج ۷;فساد پھيلنے كے نتائج ۱۰

فسق:فسق كا پيش خيمہ۳;فسق كے معاشرتى نتائج ۷

گناہ:گناہ كا پيش خيمہ ۳

____________________

۱) تفيسر عياشي، ج ۲، ص ۲۸۴، ح ۳۵، نورالثقلين ج۳، ص ۱۴۴، ح ۱۰۹_

۴۴

مال :مال كے نتائج ۳

مالدار لوگ:فاسق مالدار لوگوں كا كردار ۶;مالدار لوگوں كا حق سے اعراض كرنا ۴;مالدار لوگوں كے فسق كے نتائج ۱;مالدار لوگوں كے فساد كے نتائج ۷;مالدار لوگوں كے گناہوں كے نتائج ۱

معاشرہ:معاشرہ كى تباہى كے اسباب ۱،۶; معاشرتى مشكلات كى پہچان ۱،۶، ۷; معاشرتى فساد كا پيش

خيمہ ۷;معاشرتى سنتيں ۸; فاسد معاشرہ كا عذاب ۱۱; معاشرتى تبديليوں كا قانون كے مطابق ہونا ۸;معاشرہ كا قانون كے مطابق ہونا ۸; معاشرتى فاسد كے نتائج ۱۱; فساد معاشروں كى ہلاكت ۱۱

ہلاكت :ہلاكت كے اسباب ۹

آیت ۱۷

( وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ وَكَفَى بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرَاً بَصِيراً )

اور ہم نے نوح كے بعد بھى كتنى امتوں كو ہلاك كرديا ہے اور تمھارا پروردگار بندوں كے گناہوں كا بہترين جاننے والا اور ديكھنے والا ہے (۱۷)

۱_زمانہ حضرت نوح(ع) كے بعد بہت سى امتيں اور اقوام اپنے فسق وفجور كى وجہ سے پروردگار كى مرضى ومنشاء كے ساتھ تباہ وبرباد ہوگئيں _ففسقوا وكم ا هلكنا من القرون

''قرن'' (قرون كا واحد) سے مراد وہ قوم ہے جو تقريباً ايك ہى زمانہ زندگى بسر كرے (مفردات راغب)

۲_حضرت نوح(ع) سے پہلے انسان وسيع اور عمومى تباہى كے عذاب سے دوچار نہيں ہوئے تھے_

وكم أهلكنا من القرون من بعد نوح

پروردگار نے پچھلى آيت ميں كافر اور بد كار اقوام كو ہلاك كرنے كے حوالے سے اپنى سنت كا ذكر فرمايا پھر اس حقيقت كو ثابت كرنے كے لئے قوم نوح(ع) اور اس كے بعد دوسرى اقوام كى ہلاكت كا ذكر كيا تو حضرت نوح (ع) كى داستان اور ان كے بعد كى اقوام كے واقعات سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت نوح(ع) سے پہلے كسى قوم كو مجموعى طور پر عذاب الہى سے دوچار نہيں ہونا پڑا_

۳_حضرت نوح (ع) سے پہلے لوگوں ميں وسيع اور عمومى فسق وفجور نہ تھا _وماكنا معذبين حتّى نبعث رسولاً_ وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا وكم ا هلكنا من القرون من بعد نوح

۴۵

۴_انسانى تاريخ ميں عمومى فسق وفجور اور بڑے بڑے انحراف زمانہ نوح _ كے بعد واقع ہوئے_وكم أهلكنا من بعد نوح

۵_حضرت نوح(ع) كے بعد بہت سے معاشرے اور اقوام اپنے درميان موجود فاسق و فاسد آسائش پسند طبقہ كى بناء پر تباہى وبربادى سے دوچار ہوئيں _وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيها وكم أهلكنا من القرون من بعد نوح

۶_حضرت نوح(ع) كے بعد انسان كى گروہى اور اجتماعى زندگى كے نئے دور كا آغاز_من القرون من بعد نوح

پروردگار نے پچھلى آيت ميں فرمايا'' بہت سے انسانى معاشروں كو آسائش پسند طبقہ كى بدكاريوں كے باعث ہم نے تباہ كيا'' اور اس آيت ميں حضرت نوح _ كے بعد والى اقوام كى ہلاكت كا تذكرہ ہوا ہے تو ان دونوں آيات سے معلوم ہوا كہ حضرت نوح (ع) سے پہلے معاشرتى زندگى ايسى نہ تھى كہ آسائش پسند مالدار لوگ موجود ہوں يا معاشرہ پر تسلط ركھتے ہوں ورنہ وہ اقوام بھى عذاب الہى سے دوچار ہوتيں _ پس حضرت نوح(ع) كے بعد اقوام كا عذاب سے دوچار ہونا بتلاتا ہے كہ ان كى اجتماعى زندگى ايسى تھى كہ عذاب سے دوچار ہونے كے بعد معاشرتى زندگى كا ايك نيادور شروع ہوچكا تھا_

۷_اللہ تعالى ،اپنے بندوں كے تمام گناہوں سے باخبر اور ان پر نگاہ ركھے ہوئے ہے_

وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصيرا

۸_بندوں كو عذاب سے دوچار كرنے كے ليے الله تعالى كا بندوں كے ظاہرى اور باطنى گناہوں سے باخبر ہونا ہى كافى ہے اس كومزيد كسى گواہ كى ضرورت نہيں ہے_وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصيرا

مندرجہ بالا نكتہ كلمہ ''خبير'' اور''بصير'' كے درميان فرق سے پيدا ہوا ہے چونكہ كلمہ ''خبير'' سے مراد افكار اور چيزوں كے باطن سے آگاہى ہے (مفردات راغب) اور ''بصير'' كردار واعمال سے مطلع ہونا ہے_

۹_گناہ گار لوگوں كو الله تعالى كى دھمكي_وكفى بربّك بذنو ب عباده خبيراً بصيرا

''كفى بربّك بذنوب عبادہ'' كے بعد خبير وبصير كا ذكر گناہ گاروں كے لئے دھمكى ہے _

۱۰_انسانى معاشروں كى بربادى كا حقيقى سبب گناہ ہے _كم أهلكنا من القرون وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصير

۱۱_سركش معاشروں كى نابودي، پروردگار كے ذريعہ از روئے علم و بصيرت ہے _وكم أهلكنا وكفى بربّك خبيراً بصير

۴۶

۱۲_فاسد اور سركش معاشروں كى از روئے علم وبصيرت تباہى الله تعالى كى ربوبيت كا تقاضا ہے_

وكم ا هلكنا وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصير

اسماء وصفات:بصير ۷ ; خبير ۷

الله تعالى :الله تعالى كا ارادہ ۱;اللہ تعالى كے افعال ۱۱;اللہ تعالى كى بصيرت ۱۱;اللہ تعالى كا ڈرانا ۹;اللہ تعالى كا علم ۱۲;اللہ تعالى كا علم غيب ۷، ۸; الله تعالى كے عذابوں كا قانون كے مطابق ہونا۱۱;اللہ تعالى كى ربوبيت كے نتائج ۱۲;اللہ تعالى كا نگاہ ركھنا ۷

امتيں :حضرت نوح(ع) كے بعد كى امتيں ۱; حضرت نوح (ع) سے پہلے كى امتيں ۲; حضرت نوح (ع) سے پہلے كى امتيں اور فساد ۳; حضرت نوح (ع) سے پہلے كى امتيں اور فسق ۳; حضرت نوح (ع) كے بعد كى امتوں كا فساد ۴;حضرت نوح (ع) كے بعد كى امتوں كا فسق ۴

انسان:انسانوں كے گناہ ۷;انسان كى معاشرتى زندگى ۶

پہلى امتيں :پہلى امتوں كے آسائش پسند ۵;پہلى امتوں كى تاريخ ۱، ۲، ۳، ۴، ۵; پہلى امتوں كے عذاب ۲;پہلى امتوں كے فاسق وفاجر ۵;پہلى امتوں كے فسق كے نتائج ۱;پہلى امتوں كے گناہ كے نتائج ۱;پہلى امتوں كى تباہى ۱، ۲، ۵

عذاب:عمومى عذاب ۲

گناہ :پوشيدہ گناہ ۸ ;گناہ كے نتائج ۱;گناہ كے معاشرتى نتائج ۱۰;واضح گناہ ۸

گناہ گار:گناہ گاروں كو ڈرانا ۹

معاشرہ:معاشروں كى ہلاكت كے اسباب ۱،۵; معاشرتى مشكلات كى پہچان ۵، ۱۰;سركش معاشروں كے عذاب كاپيش خيمہ ۱۲; فاسد معاشروں كے عذاب كا پيش خيمہ ۱۲;سركش معاشروں كى تباہى ۱۱

نوح (ع) :نوح (ع) كے بعد كا زمانہ ۶

۴۷

آیت ۱۸

( مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاء لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلاهَا مَذْمُوماً مَّدْحُوراً )

جو شخص بھى دنيا كا طلب گار ہے اور اس كے لئے جلدى جو چاہتے ہيں دے ديتے ہيں پھر اس كے بعد اس كے لئے جہنّم ہے جس ميں وہ ذلّت و رسوائي كے سا تھ داخل ہوگا (۱۸)

۱_دنيا كى طلب، انسان كے جہنم كى آگ ميں جانے كا سبب ہے _من كان يريد العاجلة جعلنا له جهنم

۲_نقد مانگنا، جلد بازى كرنا اور دور انديشى سے بے بہرہ ہونا ' دنيا طلبى اور آخرت سے غفلت كى بنياد ہے_

من كان يريد العاجلة

كلمہ ''عاجلہ'' جو كہ مادہ عجلہ (كسى چيز كو جلد بازى سے چاہنا) سے ہے كا ''الدنيا '' كى جگہ استعمال ہونا بتاتا ہے كہ مال دنيا كا نقد ہونا اور اس كا سريع حصول دنيا كے طلبگاروں كے ليے اس كے حصول ميں بہترين كردار ادا كرتا ہے_

۳_طبيعى اسباب الله تعالى كى مشيت وارادہ كے تحت ہيں _من كان يريد العاجلة عجلّنا له فيها ما نشائ

دنيا كے طالب اپنى خواہشات كو طبيعى اسباب كے ذريعے حاصل كرتے ہيں اور الله تعالى نے ان كے لئے دنياوى فائدوں كے حصول كو اپنى طرف نسبت دى ہے يہ نسبت بتاتى ہے كہ طبيعى اسباب الله تعالى كے تحت ہيں _

۴_الله تعالى دنيا كے طالب لوگوں كى بعض خواہشات كودنيا ميں پورا كرتا ہے اور انہيں ان سے فائدہ اٹھانے كى اجازت ديتا ہے _من كان يريد العاجلة عجلّنا له فيه

۵_دنيا كے طالب صرف اپنى بعض دنياوى خواہشات كو پاتے ہيں نہ كہ تمام خواہشات كو_

من كان يريد العاجلة عجلّنا فيها ما نشاء

الله تعالى نے دنيا كے طالب لوگوں كا اپنى آرزؤں كے پانا كو اپنى مشيت سے نسبت دى ہے'' مانشائ'' يہ بتا تا ہے كہ وہ لوگ اپنى تمام تر خواہشات كو نہيں پورا كرسكتے مگر اس قدر پورا كرسكتے ہيں كہ جتنا پروردگار چاہتا ہے_

۶_تمام دنيا كے طالب لوگ دنياوى فائدوں كو حاصل نہيں كرسكتے _من كان يريد العاجلة عجلّنا له لمن نريد

۷_بعض دنيا كے طالب لوگ دنيا وآخرت دونوں سے محروم ہيں _من كان يريد العاجله عجلّنا لمن نريد ثم جعلنا له جهنّم

۴۸

''جعلنا لہ جھنم'' ميں ''لہ'' كى ضمير ''من كان ...'' ميں ''من'' كى طرف لوٹ رہى ہے يعنى جو بھى دنيا كے پيچھے بھاگتاہے_ ان كا ٹھكانہ دوزخ ہے اگر چہ بعض دنياوى آرزؤں كو مشيت خدا سے پاليسى يا ان ميں ناكام رہيں _لہذا جو بھى اگر چہ اپنى دنياوى خواہشات كو پورا نہ كرسكيں آخرت ميں جہنمى وہ ہيں اور دنيا و آخرت دونوں سے محروم ہيں _

۸_دنيا كے طالب لوگ آخرت ميں جسمانى عذاب كے علاوہ روحى عذاب ميں بھى مبتلاء ہونگے_

ثم جعلنا له جهنم يصلها مذموماً مدحورا

''يصلاھا'' (جہنم كى آگ ميں جلے گا) يہ عذاب جسمانى كى طرف اشارہ كر رہا ہے_ ''مذموماً مدحوراً'' (مذمت شدہ اور راندہ ہوئے) يہ عذاب روحى كى طرف اشارہ ہے_

۹_دنيا كے طالب، آخرت ميں قابل مذمت ہونگے اور رحمت خدا سے محروم اور دھتكارے ہوئے ہونگے_

من كان يريد العاجلة ثم جعلنا له جهنم يصلها مذموماً مدحوراً_

۱۰_''عن إبن عباس ا ن النبي(ص) قال: معنى الا ية من كان يريد ثواب الدنيا بعمله الذى افترضه الله عليه لا يريد به وجه الله والدار الا خر عجّل له فيها ما يشاء الله من عرض الدنيا وليس له ثواب فى الا خرة وذالك ان اللّه سبحانه وتعالى يؤتيه ذلك ليستعين به على الطاعة فيستعمله فى معصية اللّه فيعا قبه اللّه عليه (۱) ابن عباس سے راويت ہوئي ہے كہ رسول الله (ص) نے فرمايا كہ آيت''من كان يريد العاجلة عجّلنا له فيها ما يشائ'' كا معنى يہ ہے كہ جو ان اعمال كے انجام دينے سے كہ جنہيں الله تعالى نے اس پرواجب كيا ہے الله كا تقرب اور آخرت نہ چاہے بلكہ دنياوى فائدے مانگے تو دنيا ميں جو الله تعالى چاہے گا اسے دنياوى نعمتيں دے گا اور آخرت ميں اس كا كوئي حصہ نہيں ہے كيونكہ الله تعالى نے جو كچھ اسے ديا تھا اس لئے كہ اطاعت الہى ميں اس كى مدد ہو ليكن اس نے اسے الله كى معصيت ميں استعمال كيا اس لئے الله تعالى اسے عذاب دے گا_

آخرت:

____________________

۱)مجمع ابيان ج ۶ ص ۶۲۷نورالثقلين ج۳ ص ۱۴۵ح ۱۱۴

۴۹

آخرت سے محروم لوگ ۷

الله تعالى :الله تعالى كے ارادہ كى حاكميت ۳ ;اللہ تعالى كى مشيت كى حاكميت ۳

الله تعالى كى درگاہ سے راندے ہوئے : ۹

جزا:اخروى جزا سے محروميت ۱۰

جہنم:جہنم جانے كے اسباب ۱

جلد بازي:جلد بازى كے نتائج ۲

دنيا:دنيا سے محروم لوگ ۷

دنيا كے طالب لوگ:دنيا كے طالب لوگوں كى آخرت سے محروميت ۹;دنيا كے طالب لوگوں كى اخروى مذمت ۹;دنيا كے طالب لوگوں كا آخرت ميں عذاب ۸;دنيا كے طالب لوگوں كى آرزؤں كاپورا ہونا ۴_۵; دنيا كے طالب لوگوں كى دنياوى سہولتيں ۶;دنياكے طالب لوگوں كا روحى عذاب ۸; دنيا كے طالب لوگوں كى محروميت ۷; دنيا كے طالب لوگوں كے فائدے ۶

دنيا كى طلب:دنياوى طلب كى بنياد ۲;دنيا كى طلب كے نتائج ۱

رحمت:رحمت سے محروم لوگ ۹

روايت : ۱۰

طبيعى اسباب:طبيعى اسباب كا مسخرہونا ۳

عذاب:عذاب كے اہل لوگ ۸

عمل :عمل كى دنياوى جزا ۱۰

غفلت :آخرت سے غفلت كى بنياد

نافرماني:نافرمانى كا عذاب ۱۰

۵۰

آیت ۱۹

( وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُوراً )

اور جو شخص آخرت كا چاہنے والا ہے اور اس كے لئے ويسى ہى سعى بھى كرتا ہے اور صاحب ايمان بھى ہے تو اس كى سعى يقينا مقبول قرار دى جائے گى (۱۹)

۱_آخرت كاطالب وہ مؤمنين جو اپنے اخروى مقاصد كے لئے سنجيدگى سے كوشش كرے تو وہ اپنى اس كوشش كے قيمتى نتائج پاليں گے_و من ا راد الا خرة كان سعيهم مشكورا

۲_اخروى فائدوں اور نعمتوں كا حصول اس راہ ميں انسان كى وافر جد و جہد وكوشش سے مشروط ہے_

ومن ا راد الا خرة وسعى لها سعيها وهو مؤمن فا ولئك كان سعيهم مشكوراً _

يہ عبارت ''وسعى لھا سعيھا'' جملہ ''من ا راد الا خرة''كے لئے شرط كى مانند ہے يعنى اگر كوئي طالب آخرت ہے بشرطيكہ اس كے لئے كافى زحمت كى ہو تو وہ آخرت سے بہرہ مند ہوگا_

۳_آخرت كے لئے كوشش ايمان كى صورت ميں فائدہ مند ہے_

ومن ا راد الا خرة وسعى لها سعيها وهو مؤمن فا ولئك كان سعيهم مشكورا

و جملہ ''وہو مؤمن'' سعى كى ضميركے لئے حال ہے جو درحقيقت آخرت كى طلب اور اسكے لئے كوشش كى شرط بيان كر رہا ہے_

۴_انسان كى اپنى چاہت اور كوشش اس كى اخروى سعادت اور بدبختى ميں فيصلہ كن كردار ادا كرتى ہے_

من كان يريد العاجلة جعلنا له جهنّم ومن ا راد الأخرة وسعى لها سعيها فا ولئك كان سعيهم مشكور

۵_دنيا كے طالب لوگوں كى ممكنہ شكست اور ناكامى كے برخلاف آخرت كے طالب لوگوں كے اخروى فائدے يقينى اور ضمانت شدہ ہيں _ومن يريد العاجلة مانشاء لمن نريد ومن أراد الأخرة كان سعيهم مشكورا

۶_آخرت كى زندگى دنيا سے برتر زندگى ہے اور اس كا حصول تمام مؤمنين كا مقصد ہونا چاہئے_

من كان يريد العاجلة ومن أراد الأخرة كان سعيهم مشكورا

دنيا كے طالب لوگوں كے مدمقابل آخرت كے طالب لوگوں كى كوشش اور زحمت كا الله تعالى كى طرف سے قدردانى

۵۱

مندرجہ بالا حقيقت كى وضاحت كر رہى ہے_

۷_نيك كام كا شكريہ اور قدردانى پروردگار كا شيوہ ہے_ومن أراد الا خرة فا ولئك كان سعيهم مشكورا

۸_فقط وہ زحمت وكوشش ہى اہميت كى حامل اور قابل تعريف ہے جو آخرت كى طلب اور عظےم زندگى كے حصول كى راہ ميں كى جائے_من كان يريد العاجلة ومن ا راد الأخرة كان سعيهم مشكورا

يہ كہ الله تعالى نے انسانوں ميں دنيا كى طلب اور آخرت كى طلب كا ذكر كرنے كے بعد آخرت كے طالب لوگوں كى زحمت وكوشش كا شكريہ اور تعريف كى ہے اس سے معلوم ہواكہ صرف وہ زحمت وكوشش ہى قدردانى اور تعريف كے قابل ہے كہ جو عظيم اخروى زندگى كے حصول كى راہ ميں ہو نہ كہ ہر قسم كى كوشش اور زحمت _

آخرت:آخرت كے لئے كوشش ۳

آخرت كے طالب لوگ:آخرت كے طالب لوگوں كى جزا ۱; آخرت كے طالب لوگوں كى جزا كا يقينى ہونا ۵

آخرت كى چاہت :آخرت كى چاہت كى اہميت ۶، ۸

ارادہ :ارادہ كے نتائج ۴

اہمتيں :اہميتوں كامعيار ۸

ايمان :ايمان كے نتائج ۲

دنيا كے طالب لوگ:دنيا كے طالب لوگوں كى شكست ۵

زندگي:اخروى زندگى كى اہميت ۸;اخروى زندگى كى قدروقيمت۶;دنياوى زندگى كى قدرو قيمت ۶

سعادت :اخروى سعادت كے اسباب ۴

شقاوت :اخروى شقاوت كے اسباب ۴

شكريہ :شكريہ كى اہميت ۷

عمل:پسنديدہ عمل ۷

۵۲

كوشش:كوشش كى اہميت ۸; كوشش كى جزاء ۳; كوشش كے نتائج ۱،۲، ۴

مؤمنين :مؤمنين كى جزاء ۱;مؤمنين كا مقصد ۶

نعمت:نعمت كے حصول كى شرائط ۲;اخروى نعمات كے حصول كى شرائط ۲

آیت ۲۰

( كُلاًّ نُّمِدُّ هَـؤُلاء وَهَـؤُلاء مِنْ عَطَاء رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاء رَبِّكَ مَحْظُوراً )

ہم آپ كے پروردگار كى عطا و بخشش سے ان كى اور ان كى سب كى مدد كرتے ہيں اور آپ كے پروردگار كى عطا كسى پر بند نہيں ہے (۲۰)

۱_تمام انسانوں (خواہ دنيا كے طالب ہوں ياآخرت كے طالب ) كا دنياوى نعمتوں اور فائدوں سے مسلسل بہرہ مند ہونا سنت الہى ہے_كلاً نمدّ و هؤلاء من عطاء ربّك

''امداد'' (نمدّ كا مصدر) كا معنى مددكرنا ہے اور فعل مضارع نمدّ استمرار زمان پر دلالت كرتا ہے_

۲_دنيا ميں الله تعالى كے الطاف اور بخشش كے احاطہ ميں تمام انسانوں ، مؤمن ،كافر ،نيك اور بدكار كا شامل ہونا _

كلاً نمدّ و هؤلاء من عطاء ربّك

۳_دنياوى نعمتوں كا ميّسر ہونا ايمان اور آخرت كي چاہت كے ساتھ منافات نہيں ركھتا_

ومن أراد الأخرة كلاً نمد و هؤلاء و هؤلاء من عطاء ربّك

يہ جو الله تعالى نے فرمايا : ''آخرت كى طلب ركھنے والوں كو اپنى بخشش (دنياوى نعمتوں ) سے بہرہ مند كرتے ہيں '' سے معلوم ہوتا ہے كہ آخرت كى طلب اور اخروى زندگى كى خاطر كوشش كرنا دنياوى نعمتوں كے ميّسر ہونے سے منافات نہيں ركھتا_

۴_نعمتيں اور مادى سہولتيں الله تعالى كے الطاف اور بخشش ہيں اور يہ سب كچھ انسانوں كى مدد كرنے كے لئے ہيں _

كلاً نمدّ من عطاء ربّك

۵_انسانوں پر مسلسل بخشش اور فيض ،اللہ كے مقام

۵۳

ربوبيت كا تقاضا ہے _كلاً نمدّ هو لائ وهو لائ من عطاء ربك

۶_الله تعالى انسانوں كى طرف بخشش كے حوالے سے كوئي محدوديت ركھتاہے اور نہ كوئي ركاوٹ_

وماكان عطاء ربّك محظورا

۷_تمام انسان خواہ وہ نيك ہوں يا بدكار خواہ مؤمن ہوں يا كافر سب كو الله تعالى كى طرف سے بخشش اور دنياوى سہولتيں ميّسر ہونا اس كے ابدى و ازلى فيض كى بنياد پر ہے_كلاً نمدّ هؤلائ وهؤلائ من عطائ ربك وماكان عطاء ربك محظورا

جملہ ''وماكان عطاء ربك محظوراً'' اس آيت ميں گذشتہ جملے كى علت بيان كر رہا ہے _ يعنى چونكہ الله تعالى اپنى بخشش سے كسى كو منع نہيں كرتا _ لہذا نيك و بداور مؤمن و كافر سب اس سے بہرہ مند ہوتے ہيں _

آخرت كے طالب لوگ:آخرت كے طالب لوگوں كى نعمتيں ۱

آخرت كى طلب :آخرت كى طلب اور دنياوى نعمتيں ۳

الله تعالى :الله تعالى كى سنتيں ۱;اللہ تعالى كے لطف كا عام ہونا ۲;الله تعالى كى بخشش كا مسلسل ہونا ۵;اللہ تعالى كا لطف ۴;اللہ تعالى كا مدد كرنا ۴; الله تعالى كى ربوبيت كے نتائج ۵;اللہ تعالى كے فيض كے نتائج ۷;اللہ تعالى كى بخشش كا وسيع ہونا ۶

الله تعالى كا لطف:الله تعالى كے لطف كے شامل حال لوگ ۴

ايمان:ايمان اور دنياوى نعمتيں ۳

دنيا كے طالب لوگ:دنيا كے طالب لوگوں كى نعمتيں ۱

نعمت :نعمت كے شامل حال لوگ ۱، ۲،۳;نعمت كى بنياد ۷

آیت ۲۱

( انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَلَلآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلاً )

آپ ديكھئے كہ ہم نے كس طرح بعض كو بعض پر فضيلت دى ہے اور پھر آخرت كے درجات اور وہاں كى فضيلتيں تو اور زيادہ بزرگ و برتر ہيں (۲۱)

۱_الله تعالى كى طرف سے انسانوں كے دنياوي

درجوں ميں فرق كى طرف غوروفكر كرنے اور درس عبرت لينے كى دعوت _انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض

۵۴

۲_بعض انسانوں كى بعض پر مرتبہ ميں برترى اور ان كے مادى درجوں ميں فرق الله تعالى كے ارادہ كے تحت ہے_

فضّلنا بعضهم على بعض

۳_تمام انسانوں كو الله تعالى كا فيض اور عطا ايك جيسى نہيں ہے _

كلاً نمدّ هؤلائ وهؤلائ من عطاء ربّك انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض

۴_اخروى مراتب و فضائل دنياوى درجات سے كہيں زيادہ برتر اور بلند ہيں _وللا خرة ا كبر درجات وأكبر تفضيلا

۵_انسانوں ميں دنياوى نعمتوں اور سہولتوں كے حوالے سے فرق ان كے اخروى درجات كے تفاوت كى عكاسى كررہاہے_انظر كيف فضّلنا بعضهم وللا خرة أكبر درجات

۶_اخروى درجات اور امتيازات كے فرق كے حوالے سے انسان كى كوشش ايك واضح كردار اداكرتى ہے_

من كان يريد العاجلة ومن ا راد الا خرة و سعى لها فضّلنا بعضهم على بعض وللا خرة أكبر درجات وا كبرتفضيلا

يہ كہ الله تعالى نے پچھلى آيات ميں فرمايا : ''آخرت كے طالب لوگوں كو ان كى آخرت كى چاہت كے حوالے سے كوشش كے مطابق جزا دى جائے گى '' اور اس آيت ميں فرما رہا ہے كہ آخرت كے درجات دنيا كى نسبت وسيع اور عظيم ہيں _ اس سے معلوم ہوتا ہے كہ آخرت كے بلند وبالا درجات كے حصول كے لئے ا سكے مطابق كوشش ضرورى ہے _

۷_آخرت كے مراتب كى عظمت پر توجہ اس كى بلند و بالا قدروقيمت كى طرف ميلان كى بناء پر ہے _

انظر وللا خرة اكبر درجات واكبر تفضيلا

الله تعالى كى انسانوں كو بلند ترين اخروى درجات ميں غوروفكر كى دعوت اس حوالے سے بھى ہوسكتى ہے كہ انسانوں ميں آخرت كى طلب اور اس كے عالى ترين درجات كے حصول كا انگيزہ پيدا ہو_

۸_قيامت كے دن آخرت كے طالب مؤمنين بہت عظےم مقام پر فائز اور عالى ترين درجات كے حامل ہونگے_

ومن ا راد الا خرة وسعى لها سعيها وهو مؤمن وللا خره ا كبر درجات وأكبرتفضيلا

۹_''عن النبى (ص) قال:''مامن عبد يريد ا ن يرتفع فى الدنيا درجة فارتفع إلّاوضعه اللّه فى الا خرة درجة ا كبر منها وا طول ثم قرء : وللا خرة ا كبر درجات وا كبر تفضيلاً _(۱)

____________________

۱) الدرالمنشور ج ۵ ص ۲۵۷_

۵۵

پيغمبر اسلام (ص) سے روات ہوئي ہے كہ آپ (ص) نے فرمايا :'' كوئي شخص ايسا نہيں ہے كہ جو چاہے كہ دنيا ميں كسى درجہ كے اعتبار سے ترقى كرے اور اسے حاصل بھى كرے مگر يہ كہ الله تعالى نے جو ا س كے لئے آخرت ميں دنياوى درجہ سے بڑھ كر اور وسيع درجہ قرار دياہے اس سے محروم كرے گا_ پھر آپ (ص) نے اس آيت كى تلاوت فرمائي :''وللا خرة أكبر درجات وا كبر تفضيلاً''

۱۰_''عن ا بوعمرو الزبيرى عن أبى عبدالله (ع) قال: قلت له : ''إن للايمان درجات و منازل ...؟ قال نعم، قلت له: صفه لي قال: ثم ذكر ما فضّل اللّه عزّوجلّ به أوليائه بعضهم على بعض فقال عزّوجلّ ''انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض وللأخرة أكبر درجات و أكبر تفضيلاً'' فهذا ذكر درجات الايمان ومنازله عنداللّه عزّوجلّ _(۱)

ابو عمر زبيرى كہتے ہيں كہ ميں نے امام صادق (ع) كى خدمت ميں عرض كيا: كيا ايمان كے بھى مراتب اور منزليں ہيں ؟ حضرت (ع) نے فرمايا : ہاں تو ميں نے عرض كيا مجھے بتائيں تو فرمايا : پس (قرآن نے) وہ چيز كہ جس كے ذريعے الله تعالى نے اپنے بعض اولياء كو بعض پربرترى دى ہے اسے بيان كيا اور فرمايا :'' انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض وللا خرة أكبر درجات وأكبر تفضيلاً '' پس يہ الله تعالى كے نزديك ايمان كے مراتب ومنازل ہيں _

آخرت كے طالب لوگ:آخرت كے طالب لوگوں كے اخروى مقامات ۸

الله تعالى :الله تعالى كا ارادہ ۲;اللہ تعالى كى دعوتيں ۱

الله تعالى كا لطف:الله تعالى كے لطف كے شامل حال لوگوں ميں فرق ۳

انسان:انسانوں ميں اقتصادى فرق ۲، ۵; انسانوں ميں اخروى مراتب ۷;انسانوں ميں فرق كى بنياد ۲;انسانوں ميں فرق سے عبرت ۱; انسانوں كے فرق ميں مطالعہ ۱; انسانوں كے اخروى اختلافات كى نشانياں ۵

اہميتيں :اخروى مقامات كى اہميت ۴;دنياوى مقامات كى اہميت ۴

ايمان :ايمان كے مراتب ۱۰

تدبّر:تدبّر كى اہميت ۱//ذكر:آخرت كے ذكر كے نتائج ۷

روايت:۹ ،۱۰//عبرت:عبرت كے اسباب ۱;عبرت كى اہميت ۱

____________________

۱) كافى ج ۲، ص ۴۱، ح۱، بحارالانوار ج ۲۲، ص ۳۰۹، ح ۹_

۵۶

كوشش:كوشش كى اہميت ۶; كوشش كے نتائج ۶

مقامات:اخروى مقامات۹;اخروى مقامات ميں مؤثر اسباب ۶;دنياوى مقامات كے نتائج ۹

مؤمنين :مؤمنين كے اخروى مقامات ۸;مؤمنين كے مقامات كے درجات ۱۰

ميلانات :اہميتوں كى طرف ميلان كا سرچشمہ ۷

نعمت:نعمت كے شامل حال لوگوں ميں فرق ۳

آیت ۲۲

( لاَّ تَجْعَل مَعَ اللّهِ إِلَـهاً آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوماً مَّخْذُولاً )

خبردار اپنے پروردگار كے ساتھ كوئي دوسرا خدا قرار نہ دينا كہ اس طرح قابل مذمّت اور لاوارث بيٹھے رہ جاؤ گے اور كوئي خدا كام نہ آئے گا (۲۲)

۱_الله تعالى كا انسانوں كو الله كے سوا كسى اورمعبود پر عقيدہ ركھنے اور اسے الله تعالى كے ساتھ شريك ومؤثر ماننے پر خبردار كرنا_لا تجعل مع اللّه إلهاً ء اخر

۲_انسانوں كى تخليق ، جزا، سزا اور نعمتوں كے عطا كرنے ميں الله تعالى كى وحدانيت كا تقاضا ہے كہ عقيدہ وعمل ميں ہر قسم كے شرك سے پرہيز كياجائے_وجعلنا الّيل والنهار وكلّ انسان ا لزمناه طائره لاتجعل مع اللّه إلهاً ء اخر

مندرجہ بالا مطلب دو نكات كى طرف توجہ سے حاصل ہوا :_

۱_ جملہ''لاتجعل مع اللّه إلهاً ...'' پچھلى آيات كے لئے نتيجہ كى مانند ہے اور ان آيات كے اصلى پيغام جو تين مرحلوں ميں آيا ہے مندرجہ بالا نتيجہ سے اخذ كيا جاسكتاہے اور ان كے ساتھ مربوط ہے_

۲_ ''لاتجعل'' كا كلمہ مطلق ہے جو ہر قسم كے شرك سے نہى كررہاہے _

۳_اللہ تعالى كے وجود اور افعال ميں وحدانيت كے عقيدہ كا ضرورى ہونا _لاتجعل مع اللّه إلهاً ء اخر

۴_قابل مذمت اور بے يارومددگار ہونا شرك كا يقينى انجام ہے_

۵۷

لاتجعل مع اللّه فتقعد مذموماً مخذولا

۵_تمام لوگوں كے لئے شرك كا خطرہ ہے_لاتجعل مع اللّه الهاً ء اخر

مندرجہ بالا مطلب كى بنياد يہ ہے كہ ''لاتجعل'' پيغمبر اسلام (ص) كى طرف بھى خطاب ہے چونكہ پيغمبر اسلام (ص) كوبھى اس خطرے سے خبردار كيا گيا ہے _ اس سے معلوم ہوتا ہے كہ شرك ميں مبتلا ہونے كا خطرہ سب كے لئے موجود ہے_

الله تعالى :الله تعالى كى جزائيں ۲;اللہ تعالى كے عذاب ۲;اللہ تعالى كے ممنوعات ۱

خالقيت :خالقيت ميں توحيد ۲

شرك:شرك كا پيش خيمہ ۵;شرك سے اجتناب كا پيش خيمہ ۲;شرك كا خطرہ ۵;شرك سے نہى ۱

عقيدہ :توحيد افعالى كا عقيدہ ۳;توحيد ذاتى كا عقيدہ ۳

مشركين :مشركين كا برا انجام ۴;مشركين كابے يارومددگار ہونا ۴;مشركين كو سرزنش ۴

نظريہ كائنات :نظريہ كائنات توحيدى ۳

آیت ۲۳

( وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيماً )

اور آپ كے پروردگار كا فيصلہ ہے كہ تم سب اس كے علاوہ كسى كى عبادت نہ كرنا اور ماں باپ كے ساتھ اچھا برتاؤ كرنا اور اگر تمھارے سامنے ان دونوں ميں سے كوئي ايك يا دونوں بوڑھے ہوجائيں تو خبردار ان سے اف بھى نہ كہنا اور انھيں جھڑكنا بھى نہيں اور ان سے ہميشہ شريفانہ گفتگو كرتے رہنا (۲۳)

۱_الله تعالى كا اپنى وحدہ لا شريك ذات كے سوا كسي موجود كى پرستش سے خبردار كرنا_

وقضى ربك ا لا تعبدوا إلّا إيّاه

۲_عبادت ميں شرك سے اجتناب كا حكم قطعى ہے اور تجديد نظر كى قابليت نہيں ركھتا _وقضى ربك ا لاّ تعبدوا إلّا إيّاه

كلمہ''قضى '' سے مراد ايسا حكم اور فرمان ہے كہ جو قطعى ہو اور تجديد نظر كے بھى قابل بھى نہ ہو

۵۸

۳_عبادت ميں توحید كا حكم الہى درحقيقت انسانوں كى ترقى اور كمال كے حوالے سے حكم ہے_

وقضى ربّك ا لّا تعبدوا إلّا إيّاه

''ربّ'' كا در حقيقت معنى تربيت ہے (مفردات راغب) پروردگار كى دوسرى صفات كى بجائے يہ صفت كا آنا ممكن ہے_ مندرجہ بالا مطلب كى طرف اشارہ كر رہا ہے_

۴_ہر ايك پر واجب ہے كہ اپنے ماں باپ كے ساتھ نيكى كرے_وقضى ربّك بالولدين إحسان

''إحسانا'' ميں تنوين تعظيم كے لئے ہے اور ''والدين ''ميں الف لام افراد ميں استغراق (عموميت) بيان كررہاہے_ لہذا يہ حكم ہر مكلف كے والدين كے لئے ہے_

۵_الله تعالى كى پرستش كے بعد ماں باپ كے ساتھ نيكى بہت اہميت كى حامل ہے_

وقضى ربّك إلّا تعبدوا إلّا إيّاه وبالوالدين إحسانا

يہ كہ الله تعالى نے اپنى خالصانہ عبادت كے بعد ماں باپ كے ساتھ نيكى كا حكم قرار ديا ہے_ مندرجہ بالا مطلب اس سے حاصل ہوتا ہے_

۶_انسانوں كے ايك دوسرے پر تمام حقوق ميں سب سے بڑا اور اہم ترين حق والدين كا حق ہے_

وقضى ربّك الاّ تعبدوا إلّا إيّا وبالوالدين إحسانا

۸_انسان كى پرورش اور تربيت كرنے والے اس كى گردن پر حق ركھتے ہيں _

وقضى ربّك إلّا تعبدوا إلّا إيّاه وبالوالدين إحسانا

ذات واحد كى ربوبيت كے بعد والدين كے ساتھ نيكى كا ذكر كرنا (وقضى ربّك ...) ہوسكتا ہے اس لئے ہو كہ وہ انسان كى پرورش اور تربيت ميں تا ثير ركھتے ہيں _

۹_ماں باپ سے نيكى كا بہر صورت شائبہ شرك سے خالى ہونا_وقضى ربّك الاّ تعبدوا إلّا إيّاه وبالوالدين إحسانا

توحيد اور شرك سے پرہيز كے حكم كے بعد والدين سے نيكى كا حكم ہوسكتا ہے كہ اس بات كو بيان كر رہاہو كہ والدين سے حد سے زيادہ محبت واحسان ممكن ہے انسان كو شرك كى طرف لے جائے اس لئے ضرورى ہے كہ يہ محبت واحسان شائبہ شرك سے خالى ہو_

۱۰_والدين كا بڑھاپا اولاد پر انكے حوالے سے ذمہ

۵۹

داريوں كو بڑھانے كا سبب بنتا ہے_إما يبلغّن عندك الكبر ا حدهما ا و كلاهما فلا تقل لهما ا ف ولا تنهر هما وقل لهما قولاً كريم

۱۱_بوڑھے والدين كا خيال ركھنا اولاد كى ذمہ دارى ہے_وبالوالدين إحساناً إما يبلغنّ عندك الكبر فلا تقل لهمإ فّ مندرجہ بالا نكتہ اس لئے ہے كہ اس آيت كى مخاطب''اولاد''ہے اسى طرح ''عندك'' (تمہارے پاس) ظرف واضح كررہاہے كہ اولاد اس طرح اپنے والدين كا خيال ركھے كہ گويا ان كے ہاں رہ رہے ہيں اور قريب سے ان كا خےال ركھے ہوئے ہيں _

۱۲_والدين كا اولاد كے پاس ہونا اولاد كى ذمہ دارى بڑھاتاہے_إمّا يبلغنّ عندك الكبر

''عندك الكبر'' سے ممكن ہے يہ حقيقت بيان ہو رہى ہو كہ اگر والدين بچوں كے پاس رہ رہے ہوں تو ان كے خيال كى ذمہ دارى بڑھ جاتى ہے اور اس وقت ان كى ہر قسم كى بے احترامى حتّى كہ كلمہ ''اف''كہنے سے بھى پرہيز كيا جائے_

۱۳_ماں باپ بڑھاپے كى حالت ميں بچوں كى طرف سے بے احترامى كے خطرے ميں ہيں _

إمّا يبلغنّ عندك الكبر فلا تقل لهما ا فّ ولا تنهرهما وقل لهما قولاً كريما

والدين كے ساتھ نيكى كا حكم مطلق ہے_ تمام والدين خواہ كسى سن وسال ميں ہوں ان كو شامل ہے_ جملہ ''إمّا يبلغنّ عندك الكبر'' ممكن ہے اسى مندرجہ بالانكتہ كى طرف اشارہ كر رہا ہو _

۱۴_والدين كے ساتھ ہر قسم كا جھگڑا اور اہانت حتّى كہ ''أف'' كہنے كى حد تك ممنوع ہے_فلا تقل لهما ا ُفّ

۱۵_اولاد كى ذمہ دارى ہے كہ اپنے بوڑھے ماں باپ كى ضرورتوں كا مثبت جواب ديں اور ان كى ضرورتوں كو پورا كرنے سے كبھى بھى دريغ نہ كريں _ولا تنهر هم

''نہر'' سے مراد منع كرنا ہے اور روكنا ہے (لسان العرب)

۱۶_اولاد كى ذمہ دارى ہے كہ والدين كے ساتھ ملائمت اور مودبانہ انداز ميں برتائو كريں اور ان سے بات كرتے وقت ان كے احترام كا خيال ركھيں _ولا تقل لهما ا فّ وقل لهما قولاً كريما

۱۷_بوڑھے والدين ميں سے كسى ايك يا دونوں كا اولاد كے پاس ہونا ان كے احترام كى مقدار ميں كوئي تا ثير نہيں ركھتا بلكہ دونوں برابر حقوق كے مالك ہيں _وبالولدين احساناً إمّا يبلغنّ عندك الكبر ا حدهما ا وكلاهم

۱۸_''عن إبن عباس قال: لمّا انصرف أميرالمؤمنين من صفين قام إليه شيخ فقال: يا أميرالمؤمنين ا خبرنا عن مسيرن هذا ا بقضاء من اللّه وقدر؟

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

اس روایت میں ستّر عالی و برجستہ صفات کو ''عقل کی فوج'' کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔اس کے مقابل جہل کے لئے ستر رذیلہ صفات بھی بیان  ہوئی ہیں۔(۱)

غیبت کے تاریک زمانے میں نفس کا بہت بڑا لشکر ہے۔اکثر افراد سپاہ نفس کے ہاتھوں گرفتار ہیں۔نفس ان سے جو کہے وہ وہی کرتے ہیں۔لیکن ظہور کے پر مسرت اور با برکت زمانے میں عقل کے تکامل کی وجہ سے انسانوں کا نفس بھی پاک و پاکیزہ ہوجائے گا ،پھر وہ عقل و خرد کے حکم کا مطیع ہوگا۔

انسانوں میں عقلی تکامل سے مراد انسان میں سپاہ عقل کی قدرت کا کامل ہونا ہے۔اس بناء پرانسانوں میں علم ،قدرت۔فہم اور ارادہ کامل ہوجائے گا ۔پھر نفس کے لشکر جیسے ضعف، جہل اور عجز کو شکست ہوگی۔

سالم فطرت کی طرف لوٹنا

یہ بات بالکل واضح ہے کہ نفس کے لشکر کی شکست اور عقل کی ستر قوتوں کے تکامل سے انسانوں کو ایک نئی زندگی ملے گی ۔پھر ہر انسان اپنی اصل فطرت کی طرف لوٹ آئے گا ۔ فطرت اوّلیہ کے حصول کے معنی یہ ہیں کہ انسان کو ایسی قدرت حاصل ہوجائے کہ جیسے وہ پہلے جہل اور نفس و شیطان کی پیروی کی وجہ سے بروئے کار نہیں لاسکا ۔ لیکن اب فطرت اولیہ کی وجہ سے ان سے فائدہ اٹھائے ۔

--------------

[۱]۔ اصول کافی : ۱  ۲۰

۱۴۱

اگر ہم اصول کافی کی عقل و جہل کے سپاہیوں کے بارے میں روایت ذکر کرتے اور پھر اس کا ترجمہ و تشریح بھی کرتے تو بحث بہت طولانی ہوجاتی ۔لہٰذا ہم نے اس روایت کو ذکر کرنے سے گریز کیا اور انہی مطالب کو بیان کرنے پر اکتفا کیا۔

مذکورہ روایت اور عقل و جہل (نفس) کے لشکر کے ستر ستر سپاہیوں پر دقت کرنے سے اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ انسانی معاشرہ  ہوا و ہوس کے گرداب میں غرق  اور نفس کے تابع ہے۔بہت کم لوگوں  کے علاوہ کسی کا عقل  سے کوئی تعلق و واسطہ نہیں تھا۔اس روایت کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ کامل عقل کا مالک وہ ہے کہ جو مکمل طور پر لشکرِ عقل سے منسلک ہو اور جس نے لشکرِ جہل کو شکست دے کر نابود کر دیا ہو۔

حضرت امام مہدی علیہ السلا م کاقیام بشریت اور عقل  کے سپاہیوں کو حیات بخشنے اور انہیں تکامل عطا کرنے کے لئے ہو گا۔سپاہِ عقل کے تکامل سے سپاہِ جہل کی نابودی لازمی ہے کہ پھر جہل کا کوئی اثر بھی باقی نہیں رہے گا ۔ لشکرِ جہل و نفس کی نابودی اور سپاہِ عقل کے تکامل سے بشریت میں حیرت انگیز تبدیلیاں ایجاد ہوں گی۔ان تبدیلیوںسے کائنات کا نقشہ بدل جائے گا۔برائیو ںکی جگہ نیکیاں لے لیں گی۔انسانیت و بشریت کے تکامل اور برائیوں کی جگہ نیکیوں کے آنے سے حیرت انگیزتبدیلیوں کا وجود میں آنا یقینی ہے۔ روایات کی رو سے اس وقت دوسری اشیاء بھی تکامل کی طرف گامزن ہوں گی۔

  کیا ظہور سے پہلے عقلی تکامل کا حصول ممکن ہے؟

بعض لوگ  معتقد ہیں کہ اہل دنیا عقلی رشد اور فکری تکامل پیدا کریں تا کہ حضرت  بقیة اللہ الاعظم  عجل اللہ فرجہ  کا ظہور متحقق ہو اور جب تک ایسا تکامل حاصل نہ ہو تب تک ظہور بھی متحقق نہیں ہو گا۔

۱۴۲

  کیا یہ عقیدہ صحیح ہے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ اہل دنیا کے عقلی و فکری رشد  و تکامل سے حضرت امام مہدی  علیہ السلام کے ظہور اور حکومت کے لئے زمینہ فراہم ہو گا۔لیکن یہ  بات یاد رہے کہ حضرت ولی عصر (عج) کا ظہور تمام دنیا والوں کے عقلی رشدو تکامل سے وابستہ نہیں ہے۔ حضرت بقیة اللہ الاعظم علیہ السلام کے ظہور کے متعلق کثیر روایات کی روشنی میں مذکورہ عقیدے کا بطلان واضح ہے۔

اگر حضرت ولی عصر (عج) کا ظہور تمام دنیا والوں کے عقلی رشدو تکامل کے بعد واقع ہو تو پھر ایسی بہت سی روایات کو نکال باہر پھینکنا ہو گا کہ جن میں امام زمانہ علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی جنگوں کا تذکرہ ہے۔ مخالفین کا موجود ہونا اور ان کا حضرت امام مہدی علیہ السلام سے جنگ کرنا فکری رشد اور عقلی تکامل کے نہ ہونے کی واضح دلیل ہے۔پس کس طرح یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ ظہور سے پہلے سب لوگ عقلی تکامل کی منزل تک پہنچ چکے ہوں گے تا کہ ان میں امام زمانہ علیہ السلام  کی حکومت کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے۔

علاوہ ازیں اس مطلب پر بہت سی روایات دلالت کرتی ہیں کہ ظہور سے پہلے لوگوں کو عقلی و فکری تکامل حاصل نہیں ہو گا۔روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح علم و دانش کے مراحل کی تکمیل امام عصر علیہ السلام کی ظہور سے وابستہ ہے اسی طرح معاشرے کا فکری رشد  اور عقلی تکامل بھی  حضرت ولی عصر (عج) کے ظہورسے وابستہ ہے۔

۱۴۳

  دماغ کی قوّت و طاقت

اب ہم دماغ کی عظیم قوّ ت و طاقت کے بارے میں بحث کرتے ہیں ۔ لہذا ہم کہتے ہیں کہ ابھی تک انسان اپنے دماغ سے مکمل طور پر فائدہ حاصل نہیں کر سکا۔

 بہت سے مصنفین نے دماغ کی قدرت سے فائدہ نہ اٹھانے  اور اپنے عجزوناتوانی کا اعتراف کیا ہے یہاں ہم ایسے ہی اقوال کے کچھ نمونے پیش کرتے ہیں۔عام طور پرہمارے دماغ کی قدرت کے بہت کم حصے سے کام لیا جاتا ہے۔حلانکہ اس کی قدرت ہر شخص کے اختیار میں قرار دی گئی ہے۔لیکن افسوس کہ ہم کبھی کبھار ہی اس قدرت سے کسی حدتک استفادہ کرتے ہیں۔(۱)

یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ انسان اپنی تمام تر استعداد اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے باوجود بھی اپنے دماغ کے کروڑویں حصہ سے بھی  کم کوکام میں نہیں لاتا۔(۲)

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم ابھی تک نہیں جان سکے کہ خلاقیت  و تفکر کے وقت ہمارا دماغ کیا کام کرتا ہے۔حالانکہ تحقیق میں تجرباتی روش  سے استفادہ کرتے ہوئے بہت سے تجربات  کے ذریعہ دماغ کی ساخت اور تفکّر کے عمل کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کی گئی ہیں۔(۳)

یہ مطلب انسان کے وجود میں فکر کی قدرت اور اس سے مکمل طور پر استفادہ نہ کئے جانے کو بیان کر رہا ہے ۔ لیکن جس روز دستِ الٰہی کا لوگوں کے سروں پر سایہ ہو گا اس روز انسان کے دماغ میں پوشیدہ قوّتیں  ظاہر ہو جائیں گی اور انسان کی عقل کامل ہو جائے گی۔

--------------

[۱]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:۱۴

[۲]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:۳۲

[۳]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:۱۷

۱۴۴

انسان کے تمام افکار کی فعالیت اور تمام مرام و قیود کی پناہ گاہ دماغ کے پردے ہیں۔جو چھوٹے چھوٹے خلیوںسے تشکیل پاتے ہیں۔جس کی تعداد دس سے تیرہ ارب سے بھی زیادہ ہے۔ان میں  سے ہر ایک درخت کے پتوں کی رگوں کی مانند ہوتی ہیںاور ایک دوسرے تک الیکٹرک پیغام منتقل کرتی ہیں ۔

 عملی تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسانوں میں سے ذہین ترین فرد بھی ان ذخائر کے تھوڑے سے حصہ کو مصرف میں لاتا ہے۔(۱)

انسان کا دماغ چودہ ارب عصبی خلیوں سے تشکیل پاتا ہے اور ہر خلیہ کے دوسرے خلیوں سے پانچ ہزار ارتباط ہیں۔اسی طرح ان میں دیگر مختلف قسم کے ارتباط بھی پائے جاتے ہیں ۔ دماغ میں خلیوں اور مختلف حالتوں کی بالقوة تعداد انسان کے تصور سے بھی زیادہ ہے۔

ایک عام اور اسی طرح ذہین انسان بھی اپنی تمام زندگی میں ایک ارب میں سے ایک حصے کو بھی استعمال میں نہیں لاتا۔اگر دماغ کی ظرفیت ،توانائی اور ارب میں سے ایک حصہ ہی استعمال میں لایا جائے تو ان کے درمیان دکھائی دینے والا  تفاوت کیفی ہو گا نہ کہ کمّی۔(۲)

اب جب کہ آپ نے یہ جان لیا کہ تمام افراد اپنے دماغ کی تھوڑی سی مقدار کو استعمال میں لاتے ہیں تو ا ب اس بیان پر غور کریں۔

--------------

[۱]۔ نسخہ عطار:۱۳۴

[۲]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:۳۴۷

۱۴۵

آج کی دنیا میں ایک کمپیوٹر کا حافظہ ایک لاکھ اطلاعاتی ذرائع سے کام کرتا ہے کہ جسے کمپیوٹر کی زبان میں بائٹ کا نام دیا  جاتا ہے۔انسان کا دماغ بھی اسی طرح کام کرتا ہے مالیکیول حافظہ اور عصبی اطلاعات کے بٹن کو ذخیرہ سازی کے لئے آمادہ کرتے  ہیں۔گہوارے میں پڑا بچہ بھی یہی عمل انجام دیتا ہے۔ اگرچہ یہ انجان طور پر یہ کام انجام دیتا ہے ۔ ہم پوری زندگی اطلاعات و معلومات کوجمع کرتے ہیں تاکہ جس دن ہمیں ان کی ضرورت ہو ،ہم ان سے استفادہ کر سکیں ۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارا دماغ علم ودانش کو ذخیرہ کرنے کے لئے قابلِ اطمینان نہیں ہے۔کیونکہ انسانی دماغ پندرہ ارب بٹنوں سے کام کرتا ہے اور  جدید ترین کمپیوٹر میں اس کی تعداد صرف ایک کروڑ ہے۔پس ایک کمپیوٹر پر  انسان سے زیادہ اعتماد کیوں کیا جاتا ہے؟حالانکہ دماغ کے نو حصوں سے کام نہیں لیا جاتا ۔ لیکن کمپیوٹر کے تمام سسٹم فعّال ہوتے ہیں۔(۱)

آپ شاید اس بات کا یقین نہ کریں کہ دماغ کے پندرہ ارب بٹن ہیں اور شاید اس بات کا بھی یقین نہ کریں کہ انسانی دماغ زندگی کے آغاز سے موت تک ہونے والے تمام تر واقعات و سانحات  اور حادثات کو اپنے اندر محفوظ کر لیتا ہے۔انسان کا دماغ ہر اس چیز کو ذخیرہ کر لیتا ہے کہ جو اس نے دیکھی،سنی یاانجام دی ہو۔(۲)

انسان اپنی زندگی میں جو کچھ انجام دیتا ہے وہ اس کی زندگی کے آخری لمحات میں اس کے سامنے جلوہ گر ہوتا ہے۔یہ حقیقت ہمیں خاندانِ وحی علیہم السلام نے سکھائی ہے کہ جو ہماری خلقت کے شاہد ہیں۔

اسی لئے ہمیں ظہور کے پر نور اور بابرکت زمانے میں دماغ کی ناشناختہ قوّتوں اور طاقتوں کے ظاہر ہونے میں ذرّہ برابر بھی شک نہیں ہے اور ہم معصومین علیہم السلام کے ہر فرمان کو کمی و بیشی کے بغیر قبول کرتے ہیں۔

--------------

[۱]۔ بازگشت بہ ستارگان:۷۶

[۲]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:۱۲۱

۱۴۶

  غیر معمولی حافظہ دماغ کی عظیم قدرت کی دلیل

ہمارے پاس اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے فرامین ور اعتقادی مسائل کا ایسا ذخیرہ موجود ہے کہ ہمیں دوسروں کے واقعات اور ان کی باتوں کو نقل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔لیکن اپنی بات سب پرثابت کرنے کے لئے ایسے افراد کے واقعات کو ذکر کرنا بھی لازمی ہے کہ جو غیر معمولی حافظہ کے مالک تھے کہ جس سے یہ معلوم ہو جاتاہے کہ انسانی دماغ میں بہت سی مخفی طاقتیں  موجود ہیں اگائون نامی شخص نے اپنی زندگی میں۲۵۰۰ کتب کا مطالعہ ک یا اور اسے یہ تمام کتابیں حفظ تھیں۔اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز یہ ہے کہ وہ ایک لمحہ سوچے بغیر ان کتابو ں  کے کسی بھی حصے کو پڑھ سکتا تھا۔(۱)

حال ہی میں دنیا بھر کے خبر رساں ادارے حسین قدری کے استثنائی حافظہ کے بارے میں خبریں نشر کر رہے تھے کہ جو تاریخ،واقعات،تاریخی شخصیات اور ان کی زندگی کے واقعات کے بارے میں بغیر سوچے ہر سوال کا جواب دے سکتا تھا۔حسین قدری کے حافظہ میں بہت سے بزرگوں کے یومِ تولّداور یوم وفات کی تاریخیںمحفوظ تھیں۔اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ اس نے ہجری برسوںکی ایک جنتری بنائی تھی کہ جو دو حصوں پر مشتمل تھی۔ایک حصے کو سو سالہ دور کی صورت میں مرتّب کیا گیا تھا۔جس میں ہفتے کے ایّام اور۱۹۰۱ ءسے ۲۰۰۰ ء تک تمام دنوں کو بیان کیا گیا تھا اور جس میں ہر ماہ کے اہم واقعات کو بھی جمع کیا گیا تھا ۔ دوسرے حصے میں ۱۵۰۱ ء سے ۲۰۷۰ء سال تک کے ایّام کو بیان کیا گیا تھا۔اس حصے میں ہر دن ،ایّام ہفتہ و ماہ اور بزرگ شخصیات کے یومِ تولّداور یوم وفات کی تاریخوں کو بھی مرتب کیا گیا تھا۔اس میں مذکورہ دو حصوں کے علاوہ ایک اضافی حصہ بھی تھا  کہ جس میں دورِ مسیحیت کے آغاز  سے ۳۰۰۰ء  تک کے ایّام کو بیان کیا گیا تھا۔ (۲)

--------------

[۱]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:۴۵

[۲]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:۴۶

۱۴۷

موجودہ رائج مسائل میں سے ایک تقویمی محاسبات کی بناء پر مطرح ہونے والا مسئلہ ہے۔ریاضی کے بعض عجوبے اپنے ذہن میں ایک ہی لمحہ میں صدیوں اور ہزاروں سال طے کرلیتے ہیں۔مثلاََ وہ ریاضی کی بنیاد پر حساب کرتے ہیں کہ ایک ہفتہ میںسات دن،ایک دن میں چوبیس گھنٹے،ہر گھنٹے میں ساٹھ منٹ اور ہر منٹ میں ساٹھ سیکنڈ ہوتے ہیں۔اسی ترتیب سے وہ چند سیکنڈ میں کئی صدیوں کے عملیات اپنے ذہن میں انجام دیتے ہیں اور آخر میں یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ  مثلاًیکم جنوری۱۸۸۰ ء کو جمعہ کا دن تھا۔اس طرح وہ بہت س ی ذہنی پیچیدگیاں حل کرتے ہیں ۔مثلاَ وہ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ روم کے شہنشاہ نرون کی موت سے سقوط قسطنطنیہ تک کتنے سیکنڈ گزر چکے ہیں؟ایک بار ایسے ہی دو حساب کرنے والے'' ایناودی  اور داگیر ''سے ایک پروگرام میں ایسے ہی کچھ سوالات کئے جا رہے تھے کہ۱۳ ،اکتوبر ۲۸۴۴۴۴ ء کو ک یا دن ہو گا؟(۳)

انسان کے دماغ کی قدرت کو ثابت کرنے کے لئے  دیگر ممالک میں بھی ایسے افراد کا وجود اس کی واضح دلیل ہے۔اسی طرح یہ غیبت کے تاریک زمانے میںانسان کے عقلی تکامل کو بھی بیان کر رہا ہے ۔ ریاضی کے یہ ماہر ترین افرد چند سیکنڈ میں بعض ایسے مسائل حل کر دیتے ہیں کہ جنہیں ماہر ریاضی دان چند ماہ کی کوششوں کے بعد انجام دے سکتے ہیں اور پھر اس کے نتائج کی تائید کے لئے بھی طولانی مدّت درکار ہوتی ہے کہ جس کے لئے کمپیوٹر سے بھی مدد لی جاتی ہے۔

--------------

[۳]۔ تونائی ھای خود را بشناسید۵۳

۱۴۸

  دماغ کا ما فوق فطرت، قدرت سے رابطہ

ریاضی کے یہ عجوبہ کس چیز سے مدد لیتے ہیں ؟

کیا ان کو بچپن سے یہ خاص استعداد حاصل ہوتی ہے یا نوجوانی کے عالم میں  انہیں ایک عرصہ تک مشق کرنے اور تکامل کے  ذریعہ یہ استعداد وصلاحیت حاصل ہوتی ہے؟

محصول حافظہ کے عنوان سے اس توانائی کو بیان کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ماہرینِ نفسیات اسے ''حدّت حافظہ'' کا نام دیتے ہیں۔اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہے کہ اس خاص مقام میں یقیناََ ہمارے سامنے ایک قوی حافظہ ہے لیکن ہم اس کی ماہیت کو بھی بیان نہیں کر سکتے۔(۱)

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ریاضی کے ایسے عجوبہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کس طرح سے اپنے ذہن  میں یہ محاسبات انجام دیتے ہیں ۔  ان کا کہنا ہے کہ ہم صرف گنتے اور شمار کرتے ہیں اور پھر یہ سب کس طرح ہو جاتا ہے ،یہ خدا ہی جانتا ہے۔

اس جواب پر بالکل حیران نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ ان افراد میں سے بعض افراد کاملاََ ان پڑھ تھے۔ ایسے بااستعداد افراد ہمیشہ سے ماہرین نفسیات اور ریاضی دانوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے ہیں تاکہ وہ ان میں پائی جانے والی پوشیدہ طاقت و قوت اور صلاحیت کو کشف کر سکیں۔ اس سے بھی بڑھ کر بعض ایسے افراد میں موجود قدرت کے اسرار معلوم کرنے کی کوشش کر نے کے علاوہ عقلی تکامل تک رسائی کے لئے بھی کوشاں ہیں۔

--------------

[۱]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:۵۴

۱۴۹

  جدید علم کی نظر میں عقلی تکامل

عقل کے تکامل اور اس کے لزوم و کیفیت کی بحث نے بہت سے مغربی دانشوروں کو اپنی جانب مائل کیا ہے۔ وہ اپنی علمی ترقی کا ادعا کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ معتقد ہیں کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب آج کی بنسبت انسان کی عقل کھربوں گنا زیادہ ہو گی۔

مغربی دانشوروں میں سے ایک'' کرزویل'' ہے۔جس کا کہنا ہے کہ آپ دماغ میں فقط سو  کھرب اتصالات برقرار کر سکتے ہیں۔ممکن ہے کہ آپ کی نظر میں یہ بہت بڑا  عددہو۔ لیکن دماغ میں اطلاعات ذخیرہ کرنے کی روش اب بھی غیر فعّال ہے۔ کیونکہ آئندہ زمانے میں انسان کا دماغ موجودہ دور سے کھربو ں گنا زیادہ ہو گا۔

اس میں اہم اور مورد توجہ نکتہ یہ ہے کہ وہ حقائق عالم سے ناآشنا ہونے اور مکتب اہلبیت علیہم السلام سے دور ہونے کے باوجود اگرچہ عقلی تکامل کو تسلیم کرتے ہیں لیکن انہیں اس کی کیفیت اور اس کے حصول کی آگاہی نہیں ہے۔ اسی لئے وہ اپنی توجیہات میں غلطیاں کرتے  ہیں۔

خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کے جاودانی اور حیات بخش مکتب سے دوری کے باعث یہ   لوگ ہر چیز حتی کہ عقلی تکامل جیسے اہم ترین مسئلہ کو بھی مادّی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ الیکٹرک سسٹم کے ذریعہ اپنے خیالات و افکار کو تکامل دیا جا سکتا ہے۔

۱۵۰

  عقلی تکامل اور ارادہ

یہاں تک ہم دماغ کی قدرت و توانائی سے آگاہ ہوئے اور ہم نے یہ درک کیا کہ انسان اب تک اپنے وجود کی عظیم قدرت  سے بے خبر تھا ۔ اب ہم قوّت ارادہ اور تکاملِ عقل کے بارے میں بحث کا آغاز کرتے ہیں ۔ انسان کی عقل کے تکامل کالازمہ اس کے ارادہ کا قوی ہونا ہے ۔ کیونکہ جس طرح حدیث جنودِ عقل میں نقل ہوا ہے کہ عقل کی سپاہ میں سے ایک ارادہ بھی ہے۔ عقل کے تکامل سے ارادے کی قدرت میں اضافہ ہوتا ہے، ارادے کے حرکت میں آنے اور فعّال ہونے سے انسان میں اساسی و حیاتی تحوّل کا ایجاد ہونا بالکل واضح ہے۔

اگر قوّت ارادی کامل ہو تو انسان غیر معمولی اور حیرت انگیز کام انجام دے سکتا ہے ۔ کیونکہ جب قوّت اردی اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو انسان کسی فرد یا کسی چیز میں کوئی حالت یا خصوصیت ایجاد کر سکتا ہے۔اسی طرح یہ اسے نابود یا اس میں اضافہ بھی کر سکتا ہے۔اعمالِ ارادہ سے انسان کسی ایسی چیز سے بھی آگاہ ہو سکتا ہے کہ جس کے بارے میں اسے کوئی اطلاع نہیں ہوتی۔جیسا کہ ہم نے عرض کیاہے کہ ارادہ عقل کی قدرت کا ایک حصہ  ہے۔عقلی تکامل سے قوّت ارادی اور عقلی قدرت بھی تکامل تک پہنچ کر فعّال ہو جاتی ہیں۔اس بناء پر ظہور کے زمانے میں انسانوں کی عقل کے تکامل کے نتیجہ میں ان کی قوّت ارادہ میں بھی اضافہ ہو گا او وہ مزید قدرت مند ہو جائے گا۔ ظہور  کے زمانے میں انسان کی عقل شیطان کی قید اور نفس کی غلامی سے آزادہو جائے گی ۔ سپاہ عقل بھی ضعف و ناتوانی سے نجات پائے گی اور ان میں پوشیدہ اور مخفی طاقتیں ظاہر ہو کر فعّال ہو جائیں گی۔

غیبت کے تاریک اور سیاہ زمانے میں بہت سے انسان اپنی خواہشات اور آرزؤں کوحاصل  نہیں کر سکے ۔ لیکن ظہور کے بابرکت زمانے میں ایسا نہیں ہو گا۔اس وقت اگر کوئی کسی نامعلوم چیز سے آگاہ ہونا چاہے تو اس  سے پردے اٹھا لئے جائیں گے اوراس وقت  وہ جس چیز کے بارے میں چاہے آگاہ ہوسکتا ہے۔ ہم نے یہ حقائق خاندان نبوت علیہم  السلام سے سیکھیں ہیں ۔

۱۵۱

ہم دل و جان سے ان معصوم ہستیوں کے ارشادات و فرمودات قبول کرتے ہیں تا کہ ظہور کے پُر نور زمانے میں ہم پورے وجود سے اس حقیقت کو محسوس کر سکیں ۔اس بناء پر عصرِ تکامل میں پہلے ارادہ انجام پائے گا اور اس کے بعد آگاہی متحقق ہو گی۔اس کی دلیل کے طور پر ہم خاندانِ وحی علیہم السلام کے فرامین میں سے سید الشہداء حضرت امام حسین  علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں۔'' اِن اللّه لیهب لشیعتنا ترامة لا یخفی علیهم شیء فی الارض وما کان فیها حتّی اَنّ الرجل منهم یرید ان یعلم علم اهل بیتیه فیخبرهم بعلم ما یعلمون '' (۱) خدا وند متعال یقیناََ ہمارے شیعوں (زمانہ ظہور میںد نیا کے تمام لوگ خاندان نبوت علیہم السلام کے پیرو ہوں گے)کو ایسی کرامات بخشے گا کہ ان سے زمین اور اس میں موجود کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں رہے گی۔ حتی کہ اگر کوئی مرد اپنے اہل خانہ کے حال سے آگاہ ہونا چاہے تو پس وہ آگاہ ہو جائے گا کہ وہ جو کام بھی انجام دے رہے ہوں یہ ان سے باخبر ہو گا۔اگر  انشاء اللہ ہم اس بابرکت زمانے کو درک کریں تو ان تمام حقائق کو دیکھ سکیں گے۔کیونکہ ہم نے یہ مطالب مکتب اہلبیت  علیہم السلام  کی تعلیمات سیکھے ہیں اور ہم انہیں شک و تردید کے بغیر قبول کرتے  ہیں۔ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان معصوم ہستیوں کے لئے ماضی حا ل اور مستقبل میں کوئی فرق نہیں ہوتا وہ تمام واقعات سے ایسے ہی آگاہ ہوتے ہیں کہ جیسے کسی نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ہم نے یہ چیزیں خاندان عصمت  علیہم السلام   سے قبول کی ہیں اور عالم ذر سے ان کے ساتھ یہ عہد وپیمان کیاہے کہ جس طرح ہم اب ان پر پابند ہیں آئندہ بھی ایسے ہی ان کے پابند رہیں گے۔البتہ یہ بات ضرور جان لیں کہ زمانہ غیبت میں  کچھ ایسے استثنائی افراد بھی تھے کہ اگر وہ کسی چیز سے آگاہ ہونا چاہتے تو وہ اپنی قوّت ارادی سے اس سے آگاہ ہو جاتے۔ایسے افراد وہ تھے کہ جو غیبت کی تاریکی میں بھی نور تک پہنچ گئے۔ہم نے اس بحث میں نمونہ کے طور پر مرحوم سید بحر العلوم  کی زندگی کے واقعات نقل کئے تا کہ بعض افراد ظہور کے زمانے کے بعض واقعات کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جائیں۔

--------------

[۱]۔ بحار الانوار :ج۵۳ص۶۳

۱۵۲

چھٹا باب

معنوی تکامل

    معنوی تکامل          انسان کا معنوی و مادّی پہلو

    ہماری ذمہ داریاں

    تکامل کی دعوتِ عام

    امر عظیم

    امر عظیم کیا ہے؟

    معارف الٰہی

    زبان رسول اکرم(ص)سے زمانہ ظہور کے لوگ

    محسوس اور غیر محسوس دنیا میں حکومت

    عالم ملک و عالم ملکوت

    وہ کس طرح عالم ملکوت سے غافل تھے؟

    عالم ملکوت تک رسائی یا زمانہ ملکوت کی خصوصیات

    اہم نکتہ یا احساس ظہور

    غیرت مندوں سے خطاب

    زمانہ ٔ ظہور اطمینان کا زمانہ

    عصر ظہور،عصر حضور

۱۵۳

معنوی تکامل

مادّی مسائل میں غرق اور طبیعی علوم کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے انسان معنوی امور ،غیبی امداد اور عالمِ غیب کے حقائق پر توجہ کرنے سے دور ہو چکا ہے۔

انسان مادّی امور کے جال میں پھنس چکا ہے جسے معنوی امور پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔ بہت سے افراد مادّی دنیا کے پوجا ریوں کی صحبت میں رہ کر انہیں کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں اور ان کے غلط افکار و عقائد سے متأثر ہو جاتے ہیں۔ کائنات کے حقائق سے دوری کی وجہ سے انہیں معنوی امور  اور خاندان عصمت علیھم السلام کی غیبی امداد کا علم نہیں ہے۔

ان حقائق کے روشن ہونے ، معنوی امور پر ایمان و اعتقاد پیدا کرنے اور غیبی امدد کے لئے عالمِ مادہ پر فریفتہ ہونے سے ہاتھ اٹھانا ہو گا۔کیونکہ جس نے اپنی آنکھوں پر مادّیت کی پٹی باندھی ہواور جس پرمادیت کے حصول کا بھوت سوار ہو وہ کس طرح مادّی دنیا سے بھی زیادہ خوبصورت دنیا کو دیکھ سکتا ہے؟

اگر کوئی کسی رنگین عینک کے ذریعہ اطراف کی اشیاء کو دیکھے توکیا وہ اشیاء کا حقیقی و واقعی رنگ  دیکھ سکتا ہے؟ جس نے اپنے ارد گرد مادّیت کی دیوار کھڑی کر رکھی ہو وہ کس طرح اس حصار سے باہر کی د نیا کا مشاہدہ کر سکتا ہے؟

جس نے خود کو کسی بند مکان میں قید کر رکھا ہو کیا وہ ہاہر کی خوشیوں، مسرتوں اور شادابیوں کا نظارہ کر سکتا ہے؟

غیبت  کے زمانہ میں جنم لینے والا انسان زندان میں قید کسی ایسے شخص کی طرح ہے کہ جسے وہاں سے رہائی کاکوئی راستہ بھی میسر نہ ہو۔بلکہ غیبت کے زمانے میں زندگی بسر کرنے والے لوگوں کا حال تو ایسے قیدی سے بھی زیادہ بدتر ہے۔کیونکہ قیدی کم از کم یہ تو جانتے ہیں کہ وہ قید میں ہیں اور وہ قید سے نجات پانے کی آرزو میں زندگی گزاررہے ہوتیہیں اور ہمیشہ قید خانے سے رہائی پانے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔لیکن افسوس کہ غیبت کے زمانے میں جنم لینے والے اور اس میں پرورش پانے والے اس زمانے کے علاوہ کسی اور زمانے سے آگاہ نہیں ہیں۔ان کی مثال کنویں کے مینڈک جیسی ہے جو کنویں کو ہی پوری کائنات سمجھتاہے۔

۱۵۴

 انہوں نے ظہور  کے زمانے کا مزہ ہی نہیں چکھا اور نہ ہی کسی نے انہیں ظہور کے زمانے کی حلاوت  و شیرینی سے آگاہ کیا ہے۔اسی وجہ سے وہ زمانۂ غیبت کے زندان، ظلمتوں اور سختیوں میں ہی گھرے ہوئے ہیں۔وہ نہ تو پہلے اس وحشتناک زمانے سے نجات اور اس طولانی قید سے رہائی پانے کی فکر میں  تھے اور نہ ہی اب اس کی فکر میں ہیں۔

ہم اور زندانِ غیبت کے تمام قیدی ظہور کے درخشاں زمانے سے غافل ہونے کی وجہ سے اپنی قید میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ہم غیبت کے زندان میں گرفتار ہیں۔ لیکن پھر بھی ہم خوابِ غفلت سے بیدار نہیں ہو رہے ہیں۔ غیبت کے زمانے کی موجودہ اسیری معاشرے کی غفلت اور معنوی قدروں کو فراموش کرنے کا نتیجہ ہے۔

  انسان کا معنوی و مادّی پہلو

انسان روح اور جسم سے مل کر خلق ہوا ہے ۔لہذا اسے فقط مادّی ، دنیوی اور جسمانی پہلو پر ہی توجہ نہیں دینی چاہیئے۔ بلکہ اسے چاہیئے کہ وہ معنوی پہلو پر بھی غور کرے ورنہ اگر ایک ہی پہلو کو مدنظر رکھیں اور دوسرے پہلو کو نظر انداز کر دیں تو یہ اپنے وجوداور اپنی زندگی کے اہم ترین پہلو کو فراموش  کرنے کے مترادف ہو گا۔زمانہ ٔ غیبت میں اکثر انسان معنوی پہلو سے اس طرح مستفیدنہیں ہو سکے جس طرح اس سے بہرہ مندہونے کا حق تھا۔لیکن ظہور کے زمانے میں کہ جوانسانوں کی شخصیت کے تکامل کا دن ہے، تمام انسانی معاشرہ مادّی اور معنوی دونوں پہلوؤں میں تکامل تک پہنچ جائے گا۔اس روز انسان کے عملی و نظری افکارپلیدگی سے پاک ہو کر مکتبِ اہلبیت علیہم السلام کے افکار و رفتار کاپیرو ہو گا اور انسان کا وجود علم ودانش اور نورانیّت سے سرشار ہو گا۔اسی لئے اس دن انسان کے احساسات وادراکات ناپاکی اور غلاظت سے پاک ہو جائیں گے اور انسان شیطان کی چال بازیوں سے غلطیوں میں گرفتار نہیں ہو گا۔

۱۵۵

پس اس زمانے کودرک کرنے والے خوش نصیب ہوں گے اور جس طرح وہ ظہور کے زمانے میں امام زمانہ علیہ السلام  کے فرمانبردار ہوں گے اسی طرح وہ غیبت کے زمانے میں بھی آنحضرت  کی پیروی کرتے ہوں گے۔ اہلبیت  علیہم السلام نے اس حقیقت کی  وضاحت فرمائی ہے۔اس حقیقت کو بیان کرنے والی روایات میں ظہور کے نورانی زمانے کے اہم نکات بیان ہوئے ہیں ۔ جن میں  غیت کے زمانے میں انسانوں کے وظائف اور عملی برنامہ بیان ہوا ہے۔اسی طرح ان روایات میں مکتبِ اہلبیت علیہم السلام کے پیروکاروں کی شادمانی و سرور کی حالت کا بھی بیان ہے۔

امام صادق علیہ السلام ،رسولِ اکرم (ص)سے نقل فرما تے ہیں۔

'' طوبٰی لمن ادرک قائم اهل بیتوهو مقتدبه قبل قیامه یتولّٰی ولیّه و یتبرّأ من عدوّه و یتولّٰی الآئمة الهادیة من قبله اؤلئک رفقاء و ذوو ودّ ومودّتواکرم امٰتی علیّ ''  (۱)

خوش نصیب ہے وہ شخص جو میرے اہلبیت  علیہم السلام کے قائم  کو درک کرے وہ ان کے قیام سے پہلے ان کی پیروی کرتا ہو ان کے دوست کو دوست رکھتا ہو اور ان کے دشمن سے بیزار ہو اور ان سے پہلے آئمہ ھدیٰ   علیہم السلام کی ولایت پر یقین رکھتا ہو۔وہ میرے رفقاء اور میری محبت و مودّت کے ہمراہ ہوگاور وہ میرے لئے میری امت کے معزز ترین افرادمیں سے ہوگا۔اس بناء پر انسان کے فہم و ادراک کی شناحت کا معیار و میزان اس حد تک ہو کہ وہ آنحضرت کی دوستی کا ادّعا کرنے والوں میں سے ان کے دوستوں کو پہچان سکے اور قاطعانِ طریق کو امام زمانہ (عج) کے دوستوں اور غلاموں کے عنوان سے نہ پہچانے۔

اگرچہ مذکورہ روایت ظہور کے مبارک زمانے سے متعلق ہے لیکن اس میں غیبت کے زمانے کے دوران ہماری ذمہ داریوں اور بہت سے وظائف کو بھی بیان کیا گیا ہے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نہ تو ہم انہیں زمانۂ غیبت کی ذمہ داریاں شمار کرتے ہیں اور نہ ہی صحیح طرح سے ان پر توجہ کرتے ہیں۔

--------------

[۱] ۔ الغیبة شیخ طوسی:۲۷۵

۱۵۶

  ہماری ذمہ داریاں

ظہور کے زمانے میں وہی سرفراز ہو گا کہ جس نے غیبت  کے زمانے میں اپنے وظائف پر عمل کیا ہواور اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہوں ۔ ہم یہاں چند ذمہ داریوں کو بیان کرتے ہیں۔

۱۔زمانۂ غیبت میں ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کے دستورات و احکامات سے آگاہ ہو کر انہیں انجام دیناچاہیئے۔ امام عصر سے محبت و دوستی ،ان کے ظہور کا انتظار اور ان کے ظہور کو درک کرنا اسی صورت میں مکمل ہو گا کہ جب انسان زمانۂ غیبت میں امام زمانہ  علیہ السلام کاتابع و مطیع ہو۔

۲ ۔غیبت کے زمانے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم حضرت امام مہدی علیہ السلام سے محبت کرنے والوں کو دوست رکھیں اور ان سے محبت کریں۔

۳ ۔انہ یں دوست رکھنا ان کی شناخت پرمنحصرہے ۔ کیونکہ جب تک انسان کو یہی معلوم نہ ہو کہ آنحضرت کے چاہنے والے کون ہیں، تو کس طرح انہیں دوست رکھا جا سکتا ہے۔

۴۔ ہمیں امام زمانہ (عج) کے دشمنوں سے متنفر ہونا چاہئے اور ان سے بیزاری کا اظہار کرنا چاہیئے۔

۵ ۔ حضرت امام مہد ی علیہ السلام کے دشمنوں سے اظہار نفرت بھی ان کی شناخت پر موقوف ہے۔

لہذا امام زمانہ علیہ السلام کے دشمنوں سے متنفر ہونے کے لئے بھی امام کے دشمنوں کو پہچاننا ضروری ہے۔

ان ذمہ  داریوں کے علاوہ اور بھی ذمہ داریاں ہیں۔امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کو درک کرنے کی صورت میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مکمل طور پر آنحضرت کے اطاعت گزار اور ان کے دستورات کے مطیع ہوں ۔

۱۵۷

امام صادق علیہ السلام یہ حقیقت ابو بصیر کو یوں بیان فرماتے ہیں:

'' یا ابا بصیر: طوبی لمحّب قائمنا المنتظرین لظهوره ف غیبة والمطیعین له ف ظهوره اولیاء اللّه لاخوف علیهم ولاهم یحزنون '' (۱)

اے ابو بصیر:ہمارے قائم  کے چاہنے والے خوش نصیب ہیں کہ جو زمانہ غیبت میں ان کے ظہور کے منتظر ہوں اور ظہور کے زمانے میں ان کے فرمانبردار ہوں، ان کے اولیائ، خدا کے اولیاء ہیں ۔ انہیں نہ تو کوئی رنج و غم  ہے اور نہ ہی مغموم ہوں گے۔

اس روایت کی بناء پر خدا اور امام زمانہ (عج) کے اولیاء وہ ہیں کی جو آنحضرت  کے انتظار اور دوستی کے علاوہ ظہور کو درک کرنے کی صورت میں ان کے مطیع  و فرمانبردار ہوں اور ایسے گروہ میں سے نہ ہوں کہ جوظہور کی ابتداء ہی میں آنحضرت کے لشکر سے جدا ہوکر دشمنوںکی صف میں جا کھڑے ہوں۔

ایسے افراد حقیقت میں آنحضرت کے ظہور کے منتظر نہیں تھے ۔ بلکہ وہ خود کسی مقام و مرتبہ تک پہنچنے کے منتظر تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے مقاصدپانی پر بنائے گئے قدموں کے نشانات کی مانند ہیں اورجب انہیں کسی مقام کے ملنے کی کوئی امیدنہ ہو تو وہ امام زمانہ (عج) کے لشکر سے جدا ہوجائیں گے۔

--------------

[۱]، احقاق الحق:ج۱۳ص۳۴۹، ینابیع المودّة:۴۲۲

۱۵۸

  تکامل کی دعوتِ عام

حضرت امام مہدی  علیہ السلام کے اہم پروگراموں میں سے ایک تمام لوگوں کو آئینِ اسلام کی طرف   عام دعوت دینا ہے۔اس وقت دنیا کے ہر مذہب و مکتب سے تعلق رکھنے والوں کو اسلام کی دعوت دی جائے گی اور سب سے کہا جائے گا کہ وہ باطل سے دست بردار ہو جائیں  اور خدا کے پسندیدہ و حقیقی دین یعنی اسلام  اور حقیقی اسلام یعنی تشیع کو اختیار کریں۔ اس عمومی دعوت کے ساتھ کچھ ایسے  واقعات بھی ہوں گے کہ جس سے پوری دنیا والوں کے دلوں کو سکوں ملے گا۔اس دوران ایسے واقعات رونما ہوں گے کہ جس سے یہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لے گا اور لوگ جوق درجوق اسلام قبول کریں گے۔

اس بارے میں قرآن میں ارشادِ قدرت ہے:

''ا ِذَا جَاء نَصْرُ اﷲِ وَالْفَتْحُ وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُونَ فِی دِینِ اﷲِ افْوَاجًا '' (۱)

جب خدا کی مدد اور فتح کی منزل آئے گی اور آپ دیکھیں گے کہ لوگ دین خدا میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔

اس بناء پر اس زمانے میں لوگ گروہ کی صورت میں اسلام پر ایمان لائیں گے اور گروہ در گروہ اسلام قبول کریں گے۔

دنیا کے لوگوں کا اسلام کی طرف مائل ہونا حضرت امام مہدی  علیہ السلام کی لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت کے بعد ہو گا۔یہ کچھ حیرت انگیز واقعات کی وجہ سے ہو گا کہ جسے وہ ابتدائے ظہور میں آنحضرت اور ان کے اصحاب میں دیکھیں گے۔جس سے لوگوں پر ان کی حقّانیت ثابت ہو گی اور یوں گروہ کی صورت میں خدا کے دین کا رخ کریں گے۔

--------------

[۱]۔ سورہ نصر،آیت: ۱،۲

۱۵۹

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اذا قام القائم دعا النّاس الی الاسلام جدیداََ و هداهم الی امر قد دثر و ضل عنه الجمهور اِنّما سمّ القائم مهدیاََ،لانّه یهد الیٰ امر مضلول عنه و سمّ القائم لقیامه بالحقّ'' (۱)

جب قائم  علیہ السلام  قیام کریں گے تو وہ لوگوں کو دوبارہ اسلام کی طرف دعوت دیں گے اور ان کی ایسے امر کی طرف ہدایت و راہنمائی کریں گے کہ جو پرانا ہے اور جسے چھوڑ کر اکثر لوگ گمراہ ہو چکے ہیں۔ اسی لئے قائم  علیہ السلام  کا نام مہدی   علیہ السلام  ہو گا ۔کیونکہ وہ گمشدہ امر کی طرف ہدایت کرے گا اور اسے قائم کا نام دیا گیا کیونکہ وہ حق کے لئے قیام کرے گا۔

اس روایت سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ حضرت ولی العصر(عج) قیام کے بعد لوگوں کو اسلام کی طرف ایک جدید دعوت دیں گے اور انہیں گمشدہ امر کی ہدایت کریں گے کہ جس سے وہ لوگ گمراہ ہوئے ہیں ۔ اس روایت میں قتل و غارت کاتذکرہ نہیں ہے۔ بلکہ قیام کے بعد اسلام کی طرف دعوت دی جائے گی اور ہدایت و راہنمائی کا عمل شروع ہوگا۔ انسانوں کو اسلام کی طرف دعوت اور راہ حق کی طرف راہنمائی کے لئے دلیل و برہان کی ضرورت ہے۔ روایات کے مطابق یہ وہی پروگرام ہے کہ جسے حضرت بقیة اللہ الاعظم  علیہ السلام انجام دیں گے۔

دلیل و برہان اور اعجاز کے ہمراہ اس دعوت کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لوگ اسلام پر ایمان لائیں گے اور ہدایت کی طرف گامزن ہوں گے۔اس وقت قرآن کی طراوت و شادابی بحال ہو جائے گی ۔ فرسودگی کے بعد اسلام کو نئی حیات ملے گی۔

--------------

[۱]۔ بحارالانوار :۳۰۵۱،الارشاد: ۳۴۴، نوادرالاخبار:۲۷۲

۱۶۰

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300