امام مہدی کی آفاقی حکومت

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت20%

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت مؤلف:
: عرفان حیدر
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 300

امام مہدی کی آفاقی حکومت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 300 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 180614 / ڈاؤنلوڈ: 4527
سائز سائز سائز
امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت

امام مہدی کی آفاقی حکومت

مؤلف:
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

بسم اللہ الرحمن الرحیم

۵- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت

از:زہراءاصغری

امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت یوں تو بہت ہیں اور یہ کہ اس جہان میں کوئی شی اور کام بغیر کسی ہدف اور حکمت و مصلحت کے نہیں ہے حکیم کا کوئی بھی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا غیبت امام مہدی علیہ السلام میں بھی ہدف اور حکمت موجود ہے اصل فلسفہ اور حکمت سے تو صرف خداوندعالم واقف ہے عام لوگ اس حکمت و مصلحت سے واقف نہیں ہے لیکن جس طرح بہت سے واجبات اور احکامات تعبدی محض ہے اور کسی کو اس کی اصل مصلحت اور حکمے کے بارے میں علم نہیں اسی طرح غیبت امام زمانہ علیہ السلام بھی مصلحت و حکمت خداوندی کی بناءپر عمل میں آئی ہے جیسے طواف کعبہ، رمی حمرہ اور تعداد رکعات نماز، تعداد خازنان جہنم وغیرہ جس کی اصل حکمت و فلسفہ سے صرف خدا آگاہ ہے البتہ بعض مصلحتیں حکمتیں اور اہداف قرآنی آیات میں موجود ہے اور پیغمبر اکرم اور آئمہ طاہرین علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے جو خود معلمین و راہنمائے بشریت ہے اور ارشاد خداوندی کے مطابقمن یطلع الرسول فقد اطاع الله (سورہ نباءآیت۰۸) جس نے پیغمبر کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی کیونکہ پیغمبر کوئی قدم خدا کی معثیت کے خلاف نہیں اُٹھاتا اس کی گفتار، کردار اعمال سب کے فرمان کے مطابق ہیں اور اس طرح آیہ تطہیر اور اولی الامر کے مطابق چونکہ اہلبیت علیہ السلام ہر رجس سے پاک ہیں اور ان کی طاعت واجب ہے یہ روایات مدرک قطعی کے مطابق روایات متواترہ میں سے ہیں یہ مسلم ہے کہ زمین حجت خدا اور امام زمانہ علیہ السلام سے خالی نہیں رہ سکتی اور چونکہ حجت خدا اس وقت حضرت مہدی علیہ السلام کے سوا کوئی نہ تھا اور انہیں دشمن قتل کر دینے پر تلے ہوئے تھے اس لیے محفوظ و مستود کر دیا گیا کیونکہ مثیت خداوندی یہی ہے کہ زمین حجت سے خالی نہ ہو حدیث میں وارد ہے کہ حجت خدا کی وجہ سے بارش ہوتی اور انہیں کی وجہ سے اور انہیں کے ذریعے روزی تقسیم کی جاتی ہے(بحار) یہ بھی مسلم ہے کہ حضر مہدی علیہ السلام جملہ انبیاءکے مظہر تھے اس لیے ضرورت تھی کہ انہیں کی طرح ان کی غیبت بھی ہوئی یعنی جس طرح بادشاہ وقت کے مظالم کی وجہ سے حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی اپنے عہد حیات میں مناسب مدت تک غائب رہ چکے تھے اسی طرح یہ بھی غائب رہتے بادشاہ وقت خلیفہ محمد عباسی جو اپنے آباءو اجداد کی طرح ظلم و ستم کا خوگر اور آل محمد کا جانی دشمن تھا اور اس کے کانوں میں مہدی علیہ السلام کی ولادت کی خبر کم و بیش بڑھ چکی تھی اس نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد تکفین و تدفین سے پہلے حضرت کے گھر پر پولیس کا چھاپہ ڈبوایا اور چاہا کہ امام مہدی علیہ السلام کو گرفتار کرا لے اور چونکہ آپ کو اپنی جان کا خوف تھا اور یہ طے شدہ بات ہے کہ جیسے اپنے نفس اور اپنی جان کا خوف ہو وہ پوشیدہ ہونے کو لازمی جانتا ہے سورہ انا انزلناہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نزول ملائکہ شب قدر میں ہوتا رہتا ہے یہ ظاہر ہے کہ نزول ملائکہ انبیاءو اوصیاءہی پر ہوا کرتا ہے لہذا امام مہدی علیہ السلام کو اسی لیے موجود اور باقی رکھا گیا ہے تا کہ نزول ملائکہ کی مرکزی غرض و مقصد پوری ہو سکے اور شب قدر میں انہیں پر نزول ملائکہ ہو سکے حدیث میں ہے کہ شب قدر میں سال بھر کی روزی وغیرہ امام مہدی علیہ السلام تک پہنچا دی جاتی ہے اور وہی اس سے تقسیم کرتے رہتے ہیں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرمان کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کو اس لیے غائب کیا جائے گا تا کہ خداوند عالم اپنی ساری مخلوقات کاامتحان کر کے یہ جانچے کہ نیک بندے کون ہیں اور باطل پرست کون لوگ ہیں زمانہ غیبت میں مصائب و مشکلات کے ذریعے شیعوں سے امتحان لیا جائے گا آپ کی غیبت کے متعلق قرآن مجید میںارشاد خداوندی ہے: الم ذالک الکتاب لاریب فیہ ھدی للمتقین الذین یومنون بالغیب مفسر اعظم حضرت محمد فرماتے ہیں کہ ایمان بالغیب سے امام مہدی علیہ السلام کی غیبت مراد ہے نیک بخت وہ لوگ ہیں جو ان کی غیبت پر صبر اور زمانہ غیبت مراد ہے نیک بخت وہ لوگ ہیں جو ان کی غیبت پر صبر اور زمانہ غیبت میں ان پر ہونے والے مشکلات پر صبر کریں گے اور مبارک باد اور آفرین کے قابل ہیں وہ لوگ جو غیبت میں بھی ان کی محبت پر قائم رہیں گے اور شاید آپ کی غیبت اس لیے واقع ہوئی ہے کہ خداوند عالم ایک وقت معین میں آل محمد پر جو مظالم کیے گئے ہیں ان کا بدلہ امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے سے لے گا عبدالسلام بن صالح ہروی سے مروی ہے کہ اس نے کہا میں نے امام رضا علیہ السلام سے کہا اے فرزند رسول امام جعفر صادق علیہ السلام سے ملنے والی حدیث میں فرمایا گیا کہ جب ہمارا قائم علیہ السلام ظاہر ہو گا تو وہ قاتلان حسین علیہ السلام کی اولاد کو ان کے اجداد کے جرائم کی پاداش میں قتل کرے گا امام رضا علیہ السلام نے فرمایا یہ درست ہے میں نے کہا خدا نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ولا تزر وازرة وزراخریٰ کوئی شخص کسی دوسرے (گناہ) کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا اس کا کیا مفہوم ہے آپ نے فرمایا خدا نے اپنے تمام کلام میں سچ کہا ہے لیکن چوکہ امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کی اولاد اپنے اجداد کے اعمال پہ راضی اور اس پہ فخر کرتے ہیں اس لیے وہ بھی قتل کیے جائیں گے جو شخص کسی کے عمل پر راضی ہو تو گویا وہ اس عمل کے بجا لانے میں اس کا شریک ہے اگر کوئی انسان مشرق میں قتل کیا جائے اور مغرب میں کوئی اس کے قتل پر خوش ہو تو خداوندعالم کے نزدیک وہ بھی اس قتل کا ساتھی ہے حضرت قائم علیہ السلام ے ہاتھوں ان کے قتل ہونے کا یہی سبب ہے اور شاید ایک سبب اور حکمت امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا یہ بھی ہو بقول محقق طوسی کہ وجودہ لطف وتصرفہ لطف اٰخروعدمہ منا امام زمانہ علیہ السلام کا وجود لطف ہے اور ان کا تصرف دوسرا لطف ہے اور ان کی غیبت ہماری طرف سے ہے مقصد یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا سبب اور ان کا امور مسلمین میں تصرف نہ فرمانا یہ سب اس لیے ہے کہ ابھی تمام مسلمان حضرت کی اطاعت پر آمادہ نہیں ہیں اور مستضعفین کو متکبرین اور طاغوت کے شر سے نجات دلانا اور سارے جہاں میں عدل عمومی کی آمادگی شرط اول ہے اور ابھی تک اس تصرف کی شرائط فراہم نہیں ہوئیں بقول شہید مطہری کہ یہ دنیا کا دستور ہے کہ جب کسی اہم مہمان کو دعوت دیتے ہیں تو بہت اہتمام کرتے ہیں اور اپنے گھر کی صفائی کرتے ہیں لذیذ کھانے تیار کرتے ہیں تو کس طرح ممکن ہے کہ ہم اس عظیم شخصیت کو دعوت دیں اور اپنے دل کے گھر کو ہر گناہ اور خلاف ورزی سے صاف نہ کریں کیونکہ امام زمانہ علیہ السلام کا ایک شرعی فرض یہ ہے کہ وہ زمانہ غیبت کے لیے اپنے جانشینوں کا تعین فرمائیں خواہ لوگ انہیں تسلیم کریں یا نہ کریں اس سے آپ کا شرعی فریضہ پورا ہو جائے گا اور آپ نے ان جانشینوں کے بارے میں فرمایا ہے ان کی بات رد کرنے والا ہماری بات کو رد کرنے والا ہے اور جس نے ہماری بات کو رد کیا اس نے خدا کے فرمان کو رد کیا اور خدا کے فرمان کو رد کرنے والا حد شرک میں داخل ہو جاتا ہے ایک اور روایت میں امام زمانہ علیہ السلام سے یہ الفاظ مروی ہےں آپ نے فرمایا امورو احکام ان علمائے الہیٰ کے ہاتھوں جاری ہون گے جو حلال و حرام کے لیے اللہ کے امین ہوں گے اب یہ دیکھنا ہو گا کہ ہم مسلمانوں میں سے کتنے لوگ ان جانشینوں کی اطاعت کرتے ہیں اور ظہور امام زمانہ علیہ السلام کے لیے اپنے دل کے گھر کو آمادہ کرتے ہیں رہبر کی اطاعت مسلمانوں پر فرض ہے کیونکہ اس سے نظام اسلام کی بقاءوابستہ ہے اور مسلمانوںکے اجتماعی امور اور ان کی فلاح و دستگاری کا انحصار اسی پر ہے کہ وہ ایک مرکز سے وابستہ ہوں تا کہ مضبوط مرکز کی وجہ سے طاغوت و استکبار کے تسلط سے محفوظ رہیں ارشاد خداوندی ہے سورہ بقرہولنبلونکم بشیءمن الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات و بشرالصابرین الذین اذا اصابتهم مصیبة قالو انا لله وانا الیه راجعون ۔

اور ہم یقینا تمہیں تھوڑے خوف، تھوڑی بھوک اور اموال، نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر آپ ان صبر کرنے والوں کو شہادت دے دیں جو مصیبت پڑنے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں اس نفسا نفسی اور دہشت گردی کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان دنیا کے کسی بھی خطے میں محفوظ نہیں ہیں نہ مالی لحاظ سے اور نہ جانی لحاظ سے جس ملک میں بھی اسلامی حکومتیں ہیں اس ملک کو اس کے باشندے اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو اس کا الزام مسلمانوں کے اوپر ہے یہ سب امتحان نہیں تو اور کیا ہے خدا کریں کہ ہم ان مصائب پر صبر کر کے اور دشمنان اسلام کے نا پاک عزائم کو نا کام بنا کے اس آیت کے مصداق بن جائیں۔

انا وجدناه صابر انعم العبد انه اواب ۔(سورہ ص)

ہم نے اسے صابر پایا بہترین بندہ جو ہماری طرف بہت ہی رجوع کرنے والا ہے علامہ شیخ قندوزی بلخی حنفی لکھتے ہیں کہ سدیر صیرفی کا بیان ہے کہ ہم اور مفضل بن عمر، ابو بصیر، ابان بن تغلب ایک دن صادق آل محمد کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ زمین پر بیٹھے تھے اور رو رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے کہ اے محمد تمہاری غیبت کی خبر نے میرا دل بے چین کر دیا ہے میں نے عرض کی حضور خدا آپ کی آنکھوں کو کبھی نہ رولائے بات کیا ہے کس لیے حضور گریہ کناں ہیں فرمایا اے سدیر میں نے آج کتاب جفر جامع میں بوقت صبح اما مہدی علیہ السلام کی غیبت کا مطالعہ کیا ہے اے سدیر یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب اس میں لکھا ہوا ہے اے سدیر میں نے اس کتاب میں دیکھا ہے کہ ہماری نسل سے امام مہدی علیہ السلام ہوں گے پھر وہ غائب ہو جائیں گے اور ان کے غیبت نیز طول عمر ہو گی ان کی غیبت کے زمانے میں مومنین مصائب میں مبتلا ہوں گے اور ان کے امتحانات ہوتے رہیں گے اور غیبت میں تاخیر کی وجہ سے ان کے دلوں میں شکوک پیدا ہوں گے غیبت کی طویل ہونے اور ظہور میں تاخیر خود ایک بہت سخت اور دشوار امتحان ہے جس مومنین حقیقی اور غیر حقیقی کی پہنچا ہو جائیں گے اس دور میں جب اسلام دشمن عناصر مسلمانوں کو گمراہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور شب و روز کوششوں میں مصروف ہیں اور ہر قسم کے حربے استعمال کرتے ہیں تا کہ مسلمانوں کو ان کے دین و مذہب سے دور کرکے اور ان کو اسلام سے بدظن کر کے یہ تاثیر دلا دے کہ جو دیندار ہو گا ان کی مال و جان عزت و آبرو خطرے میں ہو گا اسی لیے اب تو بعض نوجوان اس روز کے واقعات و حادثات سے ننگ و آکر یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ آخر امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور کب ہو گا ہم کب تک انتظار کریں اس مذہب کا کیا فائدہ جس کی وجہ سے ہم ہر روز قتل ہو جائیں عزیزان امتحان بہت مشکل ہے اس لیے تو حدیث میں وارد ہے کہ آخرالزمان علیہ السلام میں ایمان کی حفاظت کرنا گرم لو ہے کو پکڑنے سے زیادہ دشوار ہے اسی طرح کمزور ایمان والے غیبت امام مہدی علیہ السلام اور تاخیر ظہور کی وجہ سے فرامین پیغمبر اور آئمہ علیہ السلام کی تکذیب کر رہے یں اور بلا وجہ اعتراضات کر کے اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں اور احادیث میں اپنی طرف سے تاویل و تفسیر کر کے ایک نیا راستہ تلاش کر رہے ہیں جو کہ یقینا ان لوگوں سے قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ سورہ آل عمران آیت ۵۸ میں انہی لوگوں کے بارے ارشاد رب العزت ہے۔ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منه وهو من الاخرة من الخاسرین ۔

اور جو اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین تلاش کرے گا تو وہ دین اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور قیامت کے دن خسارہ والوں میں سے ہو گا جو لوگ توحید اور ایک خدا کی بندگی کی راہ میں ثابت قدم ہوتے ہیں ان کے قدم نہ مال و مقام کے امتحانج سے ڈگمگاتے ہیں اور نہ شہوت و لزت کے سامنے ٹھوکر کھاتے ہیں جو لوگ ایمان و عمل ثابت قدم ہوتے ہیں وہ دنیا کے تمام امتحانات میں ثابت قدم ہوتے ہیں اور دشمن کے کسی حربے اور طاقت سے مرعوب نہیں ہوتے حتیٰ کہ قتل ہو جانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں مگر اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت کے لیے حاضر نہیں ہوتے اس لیے کہ اسلام و مسلمین کے ساتھ خیانت دراصل خدا کے ساتھ خیانت ہے پس حقیقت صرف یہ ہے کہ دنیا کی تمام مشکلات کا حل تمام دکھوں دردوں اور پسماندگیوں کا علاج اور مسلم امر کی ترقی و خوشحالی کا واحد راستہ تمسک بالثقلین ہے یعنی قرآن مجید اور عترت رسول کی پیروی ہے حضرت محمد و ال محمد سے بہتر کوئی پیشوا نہیں اور کوئی ان کے برابر نہیں امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت یہ بھی ہے کہ خداوند متعال چاہتا ہے کہ اپنے بندوں کی تربیت کر کے انہیں ظہور مہدی علیہ السلام کے لیے آمادہ کرین کیونکہ انتظار ظہور مہدی علیہ السلام تربیت کنندہ بھی ہے اور افضل ترین عمل بھی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:افضل اعمال امتی انتظار الفرج من الله عزوجل ۔

یعنی میری امت ترین اعمال میں سے ظہور کا انتظار کرنا ہے۔

کسی نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو ہادیان بر حق کی ولایت رکھتا ہے اور حکومت حق کے ظہور کے انتظار میں رہتا ہے اور اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس رہبر انقلاب کے خیمہ میں اس کی فوج کے سپاہیوں میں ہو پھر آپ نے کچھ توقف کیا پھر فرمایا اسی شخص کی طرح جو پیغمبر اسلام کے ساتھ ان کے معرکوں میں شریک ہو حضرت رسول اور آئمہ علیہ السلام طاہرین علیہ السلام کہ جو شخص قیام مہدی علیہ السلام کا انتظار کرتے ہوئے مر جائے اس کی مثال ایسی ہے گویا وہ امام علیہ السلام کے ساتھ جہاد میں شریک ہے جب کہ اس کا ثواب پچیس شہیدوں کے ثواب کے برابر محی الدین اردبیلی کہتا ہے کہ ایک دن میں بیٹھا اُونگھ رہا ہے ایسی حالت میں یکایک اس کے سر سے عمامہ گر گیا اس کے سر پر زخم کا نشان نمایاں تھا میرے والد نے پوچھا یہ زخم کیسا ہے؟ اس نے جواب دیا یہ جنگ صفین کے زخم کا نشان ہے میرے والد نے اس سے پوچھا تم نے کہاں اور جنگ صفین کہاں؟ یہ کیا معاملہ ہے اس نے جواب دیا میں مصر کی طرف سفر کر رہا تھا غزہ کا رہنے والا شخص بھی ہمراہ ہو گیا اثنائے راہ میں جنگ صفین پر گفتگو چھڑ گئی میرا ساتھی کہنے لگا اگر میں جنگ صفین میں ہوتا تو اپنی تلوار کو علی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے خون سے سیراب کرتا میں نے بھی اس کے جواب میں کہا اگر میں جنگ صفین میں ہوتا تو اپنی تلوار کی پیاش کو معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے خون سے بچھاتا اب میں اور تم علی علیہ السلام اور معاویہ کے ساتھیوں میں سے ہیں کیوں نہ باہم جنگ کر لیں آپس میں اچھی خاصی جنگ ہوئی یکایک میں نے محسوس کیا کہ میرے سر پر زخم لگا اور فوراً ہی میں بیہوش ہو گیا اسی اثنا میںمیں نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے نیزے کے سرے سے مجھے بیدار کر دیا ہے جب میں نے آنکھ کھولی تو وہ سوار گھوڑے سے اتر آیا اور اپنا ہاتھ میرے سر کے زخم پر پھیرا میرا زخم ٹھیک ہو گیا فرمایا اسی مقام پر رک جاو کچھ دیر بعد سوار غائب ہو گیا میں نے دیکھا ان کے ہاتھ مین میرے اس ساتھی کا کٹا ہوا سر ہے جو میرے ساتھ سفر کر رہا تھا اور اس کے مال مویشی بھی ان کے ساتھ ہیں واپس آکر مجھ سے فرمانے لگے یہ تیرے دشمن کا سر ہے تو نے ہماری نصرت میں قیام کیا پس ہم نے بھی تمہاری مدد کی جو بھی خداوند عالم کی مدد کرتا ہے خدا اس کی نصرت کرتا ہے میں نے پوچھا آپ کون ہے؟ تو فرمایا میں ہی صاحب الامر علیہ السلام تمہارے زمانے کا امام علیہ السلام ہوں پھر فرمانے لگے جو بھی اس زخم کے متعلق سوال کرے اسے بتانا کہ یہ جنگ صفین کا زخم ہے حضرت مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت اور عالمی مصلح کے قیام کا انتظار دو عناصر کا مرکب ہے ایک نفی کا عنصر اور دوسرا مثبت کا عنصر، منفی عنصر موجودہ حالت کی ناپسندیدگی ہے اور مثبت عنصر بہتر اور اچھی حالت کی آرزو ہے اب اگرچہ دونوں پہلو روح انسانی میں اتر جائیں تو دو قسم کے وسیع اعمال کا سر چشمہ بن جائیں گے ان دو قسم کے اعمال میں ایک طرف تو ظلم و فساد کے عوامل سے ہر طرح کا تعلق ترک کرنا ہے یہاں تک کہ ان سے مقابلہ اور جنگ کرنا ہے اور دوسری طرف خودسازی ہے اگرہم اچھی طرح غورکریں تو دیکھیں گے کہ اس کے دونوں حصے اصلاح کن، تربیت کنندہ اور تحرک، آگاہی اور بیداری کے عوامل ہیں سچے انتظار کرنے والوں کی ساتھ ساتھ یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فقط اپنی اصلاح نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کے حالات پر بھی نظر رکھیں اور اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی کوشش کریں کیونکہ جس عظیم پروگرام کی تکمیل کے وہ منتظر ہیں انفرادی نہیں بلکہ ایسا پروگرام ہے جس میں تمام عناصر انقلاب کو شرکت کرنا ہو گی ایک اجتماعی اور وسیع جنگ کے میدان میں کوئی شخص دوسرں کے حال سے غافل نہیں رہ سکتا بلکہ اس کی ذمہ داری ہے کہ کمزوری کا کوئی نقطہ اسے جہاں نظر آئے اس کی اصلاح کرے تنہا جو چیز انسان میں امید کی روح پھونک سکتی ہے انہیں مقابلے اور کھڑے رہنے کی دعوت دے سکتی ہے اور انہیں فاسد ماحول میں گھل مل جانے سے رک سکتی ہے وہ ہے مکمل اصلاح کی امید صرف یہی صورت ہے کہ جس میں وہ اپنی پاکیزگی کی حفاظت کر سکتے ہیں اور دوسروں کی اصلاح کی جدوجہد کو جاری رکھ سکتے ہیں خلاصہ یہ کہ جس قدر دنیا فاسد اورخراب ہو گی مصلح کے ظہور کے انتظار میں امید بڑھے گی جو معتقدین پر زیادہ روحانی اثر ڈالے گی برائی اور خرابی کی طاقتور موجوں کے مقابلے میں یہ امید ان کی حفاظت کرے گی اور وہ نہ صرف ماحول کے دامن فساد کی وسعت سے مایوس نہیں ہوں گے بلکہ وعدہ وصل کی نزدیکی سے ان کی آتش عشق تیز ہوں گی بقول شاعر

وعدئہ وصل چون شود نزدیک

آتش عشق تیز نستر گردد

یہ تھی فلسفہ و حکمت غیبت امام زمانہ علیہ السلام خدا سے دعا گو ہوں کہ ہم سب کو اپنے محبوب و معشوق امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے اور ان کے سچے پیروکار اور منظر حقیقی ہونے کی توفیق عطا فرمائیں مضمون کے اختتام میں فرزندان اسلام سے بالعموم اور شیعیان حیدر کرار علیہ السلام سے بالخصوص دردمندانہ اپیل کرتی ہوں ہ خدا را اپنے اعمال پر نظر ڈالیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کریں اور اپنی دو عملی سے اسلام و مسلمین کی بد نامی کا ذریعہ نہ بنیں جناب رسالت مآب اور ہادیان دین نے ہمیشہ اپنے کردار سے اسلام کی تبلیغ کی اور آج دنیا آپ کے عمل کو دیکھ رہی ہے آج کا دور جو کہ الیکٹرانک میڈیا اور پریس کی بے تحاشا قوت کا دور ہے دنیا اپنے ذرائع ابلاغ سے آپ کی بد اعمالیوں کو نمایاں کر رہی ہے اور آپ کی بد عملی اسلام کی نشرواشاعت میں رکاٹ بن رہی ہے آج کے اس دور میں وحدت و اتحاد اور بھائی چارہ کی اشد ضرورت ہے ہمیں چاہتے کہ اپنے آپ کو ظہور مہدی علیہ السلام کے لیے آمادہ کریںخداوند ہم سب کو دیدار مہدی علیہ السلام کا شرف عطا فرمائیں۔

الہیٰ بہ امید شفاعت فاطمہ علیہ السلام

مآخذ: منتہی الآمال، مہدی علیہ السلام موعود، سیرہ آئمہ تفسیر نمونہ کتاب آیت اللہ دستغیب۔

۲۱

بسم اللہ الرحمن الرحیم

۶- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت

از: سید راحت کاظمی

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مبعوث کرنا چاہا تو فرمایا:”انی جاعل فی الارض خلیفه

میں زمین پر قائم مقام مقرر کرنے والا ہوں اس سے صاف ظاہر ہے کہ جب تک زمین رہے گی اس کا کوئی نہ کوئی قائم مقام ضرور رہے گا کواہ اس کانسبی و رسول ہو یا خلیفہ و امام اس لےے قرآن مجید نے اعلان فرما دیا ہے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے جو خالص ایمان والے ہیں اور ان کے تمام عمل صالح و نیک ہیں وہ انہیں زمین پر ضرور اس طرح سے خلیفہ بنائے گا اس سے قبل خلیفہ بناتا رہا ہے کس نبی کے خلیفہ کا انتخاب امت کے سپرد نہیں کیا گیا اور نہ کسی کا انتخاب اجماع سے اور نہ شوریٰ اور نہ قیاس وغیرہ سے سب کا انتخاب خدا ہی کرتا رہا ہے اور ہر پہلے آنے والا بعد میں آنے والے کے صفات و کمالات و خصوصیت بلکہ اس کے نام سے قوم کو مطلع و با خبر کرتا رہا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمارے نبی کا اپنی امت کے سامنے ان الفاظ مین اعلان فرمایا ہے۔

یاتی من یعد اسمه احمد

میرے بعد آنے والے نبی کا نام احمد ہو گا ظاہر ہے جو وعدہ کرتا ہے ایفائے عہد کا بھی وہی ذمہ دار ہوتا ہے جب رب العزت نے وعدہ فرمایا ہے پچھلے انبیاءکے خلفاءکی خلق کا انتخاب خدا پر ہے نہ کہ امت پر انتخاب کرنا خدا کا کام نہیں ہے چنانچہ رسول اکرم بار بار فرماتے ہیں کہ میرے بعد بارہ امام ہوں گئے اور سب قریش سے ہوں گئے پھر آپ نے متعدد بارہ اصحاب کے سامنے نام لے کر فرمایا کہ ان بارہ کے اول علی مرتضیٰ علیہ السلام ہیں ان کے بعد فرزند امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام اور ان کے بعد امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں نو ہوں گئے جن کا آخری اس امت کا مہدی علیہ السلام ہو گا ان کا نام میرا نام اور ان کی کنیت میری کنیت ہو گی وہ انقلاب زمانہ کی وجہ سے ایک پردہ غیبت میں رہیں گے امام مہدی علیہ السلام وہ مبارک مولود ہے جو اج سے ایک ہزار ایک سو پینتیس برس پہلے س دنیا میں آچکا ہے آج تک زندہ و پائندہ ہیں روئے ارض پر زندگی گزار رہا ہے نعمات الہیٰ سے مستفید ہو رہا ہے عبادات الہیہ میں مصروف ہے اور ظہور میں امر الہیٰ کا انتظار کر رہے ہیں آنکھوں سے غائب ہیں اور جب آپ علیہ السلام ظاہر ہوں گے تو وہ زمین کو عدل و انصاف سے پر کردےں گے آپ علیہ السلام یہ بھی بار بار فرماتے ہیں ۔

من مات ولم یعرف امام زمانه علیه السلام مات میته الجاهلیه ۔

جو شخص مر جائے اور اپنے زمانے کے امام علیہ السلام کو نہ پہچانے وہ جاہلیت کی موت مرا اس فرمان سے ظاہر ہو گیا ہے کہ ہر زمانہ کا امام الگ ہے جس کی معرفت اس زمانہ والوں پر فرض ہے جو اس کی معرفت سے محروم رہے گا وہ کفر کی موت مرے گا امام مہدی علیہ السلام کی غیبت تویہ خدا کا کام ہے اس کی قدرت میں کون شک کر سکتا ہے جس نے آدم علیہ السلام کی مجرم اولاد سے بچا کر ادریس علیہ السلام کو ساتویں آسمان پر زندہ بلا لیا اور فرمایا:”ورفعا مکانا علیا

ہم نے انہیں بلند مقام پر اُٹھا لیا جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے شر سے نجات دینے کے لےے چوتھے آسمان پر بلا لیا اورفرمایا۔”انی متوفیک ورافعک الی“میں تمہیں یوں پورا لے کر اپنی طرف بلند کرنے والا ہوں جس نے حضرت خضر علیہ السلام و الیاس علیہ السلام کو ہزاروں سال غائب رکھا جس نے اصحاب کہف کو ہزاروں سال غائب رکھا جس نے حضور اکرم کو شب ہجرت محاصرہ کرنے والوں کے بیچ سے غائب کر کے نکال دیا اور وہ محسوس بھی نہ کر سکے تو اس کےا تعجب کی بات ہے اگر اللہ تعالیٰ ایک مقررہ وقت امام مہدی علیہ السلام کو حسب ضرورت غائب رکھے بلکہ متقین کا معیار ہی یہ ہے کہ وہ غیبت پر ایمان رکھیں ہمارا خدا غائب روز حشر غائب جنت غائب دوزخ غائب صراط غائب میزان غائب اعراف غائب حوریں غائب غلمان غائب ملائکہ غائب جن جو اس زمی نپر موجود ہیں مگر نظروں سے غائب تو امام مہدی علیہ السلام کی غیبت پر کیا تعجب ہے حضور اکرم نے فرمایا جب قیامت کا ایک دن باقی رہ جائے گا اس سے قبل بارہویں امام علیہ السلام کا ظہور ضرور ہو گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کی اقتدار میں نماز پڑھیں گے اس طرح اگر اس نے امام علیہ السلام کو غائب رکھ کر یہ فرما دیا۔

الم ذالک الکتاب لا ریب فیه هدی للمتقین الذین یومنون بالغیب ۔

اس کتاب میں کوئی ریب و شک نہیں ہے یہ عین ہدایت ہے متقین کے لیے جو غائب پر ایمان رکھتے ہیں تو اس کے لیے کیا تعجب ہے کہ امام علیہ السلام کو ایک وقت مقررہ تک حسب و ضرورت غائب رکھے بلکہ متقین کا معیار یہ ہے کہ وہ غیبت پر ایمان رکھیں اگر مانع نہ ہونا تو آپ کا ظہور زیادہ مفید و بہتر ہوتا لیکن چونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خداوندعالم نے اس مقدس وجود کو آنکھوں سے پنہاں رکھا ہے اور خدا کے افعال نہایت ہی استحکام اور مصلحت و واقع کے مطابق ہوتے ہیں لہذا امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کی بھی یقینا کوئی وجہ ضرور ہو گی اگرچہ ہمیں اس کی تفصیل معلوم نہیں ہے درج ذیل حدیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ غیبت کا بنیادی سبب لوگوں کو نہیں بتایا گیا صرف آئمہ علیہ السلام کو معلوم ہے عبداللہ بن فضل ہاشمی کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا صاحب الامر علیہ السلام کے لیے غیبت ضروری ہے تا کہ گمراہ لوگ شک میں مبتلا ہو جائیں میں نے عرض کی کیوں آپ علیہ السلام نے فرمایا ہمیں اس کی علت بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے اس کا فلسفہ کیا ہے وہی فلسفہ جو گزشتہ حجت خدا کی غیبت میں تھااس کی حکمت ظہور کے بعد معلم ہو گی بالکل ایسے ہی جیسے جناب خضر علیہ السلام کا کشتی میں سوراخ سرنا بچہ کے قتل اور دیوار کرو تعمیر کرنے کی علت جناب موسیٰ علیہ السلام کو جدا ہوتے وقت معلوم ہوئی تھی اے فضل کے بیٹے غیبت کا موضوع مری ہے یہ خدا کے اسرار اور الہیٰ غیوب میں سے ایک ہے چونکہ ہم خدا کو تسلیم کرتے ہیں اس بات کا اعتراض بھی کرنا چاہےے کہ اس کے امور حکمت کی رو سے انجام پاتے ہیں اگرچہ ہم اس کی تفصیل نہیں جانتے(بحارالانوار ج۲۵ ص۱۹) مذکورہ حدیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ غیبت کی اصلی حقیقت و سبب اس لیے بیان نہیں ہے کہ لوگوں کو بنانے میں فلاح نہیں تھی یا وہ اس کے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے پہلا فائدہ امتحان و آزمائش ہے تا کہ جن لوگوں کا ایمان قوی نہٰں ہے ان کی باطنی حالت ظاہر ہو جائے اور جن لوگوں کے دل کی گہرائیوں میں ایمان کی جڑیں اتر چکی ہیں غیبت پر ایمان انتظار فرج اور مصیبتوں پر صبر کے ذریعہ ان کی قدر و قیمت ظاہر ہو جائے اور ثواب کے مستحق قرار پائیں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں ساتویں امام علیہ السلام کے جب پانچویں بیٹے غائب ہو جائیں اس وقت تم اپنے دین کی حفاظت کرنا ایسا نہ ہو کہ کوئی تمہیں دین سے صاحب الامر علیہ السلام عقیدے سے منحرف ہو جائے گا خدا امام زمانہ کی غیبت کے ذریعے اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے (بحارالانوار ج۲۵ ص۳۱۱) اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ غیبت کے ذریعے ستمگروں کی بیعت سے محفوظ رہیں گے حسن بن فضال کہتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا گویا میں اپنے تیسرے بیٹے امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات پر اپنے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے امام مہدی علیہ السلام کو یہ جگہ تلاش کر رہے ہیں لیکن اس بارے میں نے عرض کی فرزند رسول کیوں آپ نے فرمایا ان کے امام مہدی علیہ السلام غائب ہو جائیں گے عرض کی کیوں غائب ہوں گے فرمایا تا کہ جب تلوار کے ساتھ قیام کریں تو اس وقت آپ کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہو گی (بحارالانوار ج۱۵ص۴۵۱)اس کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ غیبت کی وجہ سے قتل نجات پائی زرارہ کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا قائم علیہ السلام کے لیے غیبت ضروری ہے عرض کی کیوں مول علیہ السلام فرمایا قتل ہو جانے کا خوف ہے اور اپنے شکم مبارک کی طرف اشارہ کر کے فرمایا مذکورہ تینوں حکمتیں اہل بیت علیہ السلام کی احادیث میں منقول ہیں (اثبات الہدیٰ ج۴ص۷۳۴)

غیبت پر ایمان لانا نہایت عظمت رکھتا ہے اور یہ نعمت یقین کامل کے ساتھ ایمان والوں کو ہی حاصل ہے ابن قاسم کا بیان ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سےالم ذالک الکتب لاریب فیه هدی للمتقین الذین ۔

ترجمہ: الم یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے۔

جو غیبت پر ایمان رکھتے ہیں کے بارے میں دریافت کیا آپ علیہ السلام نے فرمایا متقین سے مراد علی علیہ السلام کے شیعہ ہیں اور بالغیب سے مراد حجت غائب ہیں اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے کہ اس (رسول) پر اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نازل نہیں ہوتا۔

اے رسول کہہ دو کہ غائب کا مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے پس تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (سورہ یونس آیت نمبر۰۲)

امام جعفر صادق علیہ السلام اور آپ علیہ السلام نے اپنے آبائے کرام سے روایت نقل کی کہ رسول خدا نے ایک مرتبہ حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا اے علی علیہ السلام تمہیں معلوم کہ لوگوں میں سے سب سے بڑا صاحب یقین ہو گا جو آخرزمانہ میں پیدا ہو گا انہوں نے اپنے نبی کو نہ دیکھا ہو گا اور حجت خدا امام علیہ السلام بھی پردہ غیبت میں ہوں گے مگراس کے باوجود یہ سیاہ و سفید پر ایمان رکھتے ہوں گے۔(اکمال الدین)

کہتا ہے کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ غیبت امام علیہ السلام کا فائدہ کیا ہے یوں تو بکثرت ایسی احادیث موجود ہیں جن میں امام غائب کا شمار کیا گیا ہے جابر جعفی نے جابر بن عبداللہ انصاری سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا میں نے پیغمبر خدا سے سوال کیا کہ کیا شیعہ غیبت کے زمانہ میں حضرت قائم علیہ السلام کے وجود سے فائدہ اُٹھائیں گے یا نہیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے پیغمبری پر مبعوث کیا ہے آپ علیہ السلام کی غیبت میں شیعہ اس کے نور ولایت سے اس طرح مستفید ہوں گے جس طرح بادل کے باوجود سورج کی روشنی سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے (صواعق محرقہ) میں حضرت علی علیہ السلام نے رسول خدا سے روایت بیان کی ہے ستارے اہل آسمان کے لیے آمان ہیں جب یہ ستارے ختم ہوئے تو اہل آسمان ختم ہو جائیں گے اور میرے اہل بیت علیہ السلام اہل ارض کے لیے امان ہیں جب اہل بیت علیہ السلام نہ رہے تو اہل ارض نہ رہیں گے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں ہم مسلمانوں کے امام علیہ السلام دنیا پر حجت مومنین کے سردار نیکوکاروں کے رہبر اور مسلمانوں کے رہبر اور مسلمانوں کے مولا ہیں ہم زمین والوں کے لیے امان ہیں جیسا کہ آسمان والوں کے لیے ستارے امان ہیں ہماری وجہ سے آسمان اپنی جگہ ٹھہرا ہوا ہے جب خدا چاہتا ہے ہمارے لیے باران رحمت نازل کرتا ہے اور زمین سے برکتیں ظاہر کرتا ہے کہ اگر ہم روئے زمین پر نہ ہوتے تو اہل زمین دھنس گئے ہوتے پھر حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہین جس دن سے خدا نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ہے اس دن سے آج تک زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہی ہے قیامت تک زمین حجت خدا سے خالی نہ ہو گی حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ رب ذوالجلال کی قسم کہ وہ ذات جلیل جدوجہد کے ذریعے اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور امتحان میں مبتلا کرتا ہے تا کہ ان کے دلوں سے تکبر نکلے اور ان میں عاجزی و انکساری پیدا ہو اس طرح اس کو اپنے فضل و کرم اور ان کی بخشش کا ذریعہ بنائے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔

ترجمہ: کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ صرف یہ کہنے پر ان کو چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کاامتحان نہیں لیا جائے گا خداوند عالم نے مسلمانوں کا کبھی ہجرت کے ذریعے امتحان لیا جائے گا خداوندعالم نے کبھی جنگوں اور جہاد کے ذریعے کبھی فتح و نصرت دے کر اور کبھی شکست میں مبتلا کر کے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو مسلمانوں کو ساری جنگوں میں فتح و نصرت سے ہم کنار کرتا مگر یہ سب امتحان اور آزمائش کے ذریعے ہی تھے صدر اسلام رسول اعظم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تابعین اور نبع تابعین کا امتحان اس طرح لیا کہ وہ ایسے زمانے میں زندگی گزاریں جب بلا وجہ ان کے امام مظلومیت میں گرفتار ہوں اور قید و بند در بدری جلا وطنی اور آخر کار ارشادات کی منزلوں سے گزر رہے ہوں یہ ان کا کیسا امتحان تھا کہ موسیٰ بن جعفر کو تو قید و بند میںمبتلا دیکھیں اور ان پر عورتیں اور خادم حکومت کر رہے ہوں آج ہم خدائے عزوجل نے ہمارے امام علیہ السلام کی غیبت اور ہمارے رہبر بر حق فائدہ امام مہدی علیہ السلام کے عیاں نہ ہونے کے ذریعے آزماتا ہے اور امتحان لیا ہے تا کہ اس امتحان کے ذریعے یہ دونوں باتیں واضح ہو جائیں مبداءاور خدا کے اعتقاد پر ہم قائم ہیں اور اسلام سے ہمارا تمسک ہے زندگی کی بہت سی سختیاں شدائد اور مصائب اور تکالیف ہمارے نفوس کی تکمیل کا ذریعہ بنتی ہیں اور ہماری اچھی صفات ان سے اُجا گر ہوتی ہیں یہ مشکلیں اور تکالیف اس بات کا باعث بنتی ہین کہ ہم اس دنیا سے رشتہ کم سے کم کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی توجہ کا رخ موڑ دیں ہمارے امام علیہ السلام کی غیبت بھی ان مصیبتوں میں سے ایک ہے جو ان سے زیادہ بڑی نہ ہو تو کم بھی نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی جانب توجہ کے لیے حق کی نصرت معاشرے کی اصلاح اور فرج میں تعجیل کی تمنا اور خدا کی طرف رخ موڑنے کے لیے ہے اس امتحان میں کتنے ہی نفوس کی تکمیل صفات کی درستگی اور طائع کی اصلاح مضمر ہے دور غیبت میں آئمہ اہل بیت علیہ السلام کی محبت میں شیعوں کی سخت آزمائش ہو گی اور شیعوں کے سر کی قیمت رکھی جائے گی احوال و اولاد بلا اور آفات کے ذریعے ان کو آزمایا جائے گا۔

قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

ترجمہ: ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں کلمہ باقیہ قرار دے دیا ہے نسل ابراہیم علیہ السلام دو فرزندوں سے چلی ہے ایک اسحاق اور دوسرے اسماعیل اسحاق کی نسل سے خداوندعالم نے جناب عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ و باقی قرار دے کر آسمان پر محفوظ کر چکا تھا انصاف کی بھی ضرورت تھی کہ نسل اسماعیل علیہ السلام سے بھی کسی ایک کو باقی رکھے اور وہ بھی زمین پر کیونکہ آسمان پر ایک باقی موجود تھا لہذا امام مہدی علیہ السلام جو نسل اسماعیل سے ہیں زمین پر زندہ اور باقی رکھا اور انہیں بھی اسی طرح دشمنوں کے شر سے محفوظ کر دیا جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محفوظ کیا تھا یہ مسلمات اسلامی سے ہے کہ زمین حجت خدا اورامام زمانہ علیہ السلام سے خالی نہیں رہ سکتی اُصول کافی ج۳۰۱ طبع نولکشور چونکہ حجت خدا اس وقت امام مہدی علیہ السلام کے سوا کوئی نہ تھا اور انہیں دشمن قتل کر دینے پر تلے ہوئے تھے اس لیے انہیں محفوظ و مستور کر دیا گیا حدیث میں ہے کہ حجت خد علیہ السلام کی وجہ سے بارش ہوتی اور انہیں کے ذریعہ سے روزی تقسیم کی جاتی ہے(بحار) یہ مسلم ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام جملہ انبیاءکے مظہر تھے اس لیے ضرورت تھی کہ انہیں کی طرح ان کی غیبت بھی ہوتی یعنی جس طرح بادشاہ وقت کے مظالم کی وجہ سے حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد اپنے عہد حیات میں مناسب مدت تک غائب رہ چکے ہیں اسی طرح امام مہدی علیہ السلام بھی غائب ہیں ۔

امام عصر علیہ السلام سے یوں منسلک ہوتی ہے حیات

حیات خلق ہوئی جیسے ہی کے لیے

دلیل عظمت آدم علیہ السلام آب اور کیا ہو گی

رکی ہے قیامت ایک آدمی کے لیے

عجب حسن ہے شمع امام آخر ولی

چھپا ہوا ہے زمانے میں روشنی کے لیے

امام علیہ السلام کی غیبت ہمارے لیے مقرر کی گئی ہے در حقیقت آنجناب دیگر جہانوں کی نسبت اور اولیاءاللہ کے لیے غائب نہیں ہیں ۔

۲۲

فہرست

۱-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۴

از: حب علی مہرانی ۴

محزون و رنجیدہ رہنما: ۴

انتظار حکومت و سکون آل محمد: ۵

امام علیہ السلام کے وجود مبارک کی حفاظت کے لیے پروردگار احدیت میں دست بدعا رہنا: ۶

امام علیہ السلام کی سلامتی کے لےے صدقہ دینا: ۶

امام عصرعلیہ السلام کی طرف سے حج کرنا یا دوسروں کو حج نیابت کے لیے بھیجنا: ۷

امام عصرعلیہ السلام کا اسم گرامی آنے پر قیام کرنا: ۷

دور غیبت میں حفاظت دین و ایمان کے لےے دعا کرتے رہنا: ۷

اما زمانہ علیہ السلام سے مصائب و بلیات کے موقع پر استغاثہ کرنا: ۸

۲-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۹

از:علی عباس ۹

۳-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۱۲

از:سید ریاض حسین اختر ولد سید سلیم اختر حسین شاہ ۱۲

۴-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۲۴

از:سید عمران عباس نقوی ولد سید عابد حسین نقوی ۲۴

حضرت سلمان فارسی کا وارد کوفہ ہونا۔ ۲۶

امام قائم علیہ السلام کا انتظار کرنے والوں کے فضائل: ۲۸

معرفت امام علیہ السلام زمانہ کیوں ضروری ہے: ۳۰

۲۳

دور غیبت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے: ۳۲

۵-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۳۴

از:سید احمد علی شاہ رضوی ۳۴

پہلی ذمہ داری: ۳۴

دوسری ذمہ داری: ۳۶

تیسری ذمہ داری: ۳۷

چوتھی ذمہ داری: ۳۷

پانچویں ذمہ داری: ۳۸

چھٹی ذمہ داری: ۳۹

ساتویں ذمہ داری: ۳۹

آٹھویں ذمہ داری: ۳۹

۶-امام زمانہ علیہ السلام کے زمانہ غیبت کبریٰ میں ہماری ذمہ داریاں ۴۱

از: ملک غلام حسنین مونڈ پپلاں ۴۱

۷-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۴۵

از:سید محمد عباس نقوی ۴۵

زمانہ غیبت میں ہماری چند ذمہ داریاں: ۴۵

۸-زمانہ غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۴۸

از:رضیہ صفدر ۴۸

غیبت صغریٰ غیبت کبریٰ ۴۸

مخزون و رنجیدہ رہنا: ۴۸

۲۴

انتظار حکومت آل محمد ۵۰

امام عصرعلیہ السلام کا اسم گرامی آنے پر قیام کرنا: ۵۱

دور غیبت میں ایمان کی حفاظت کیلئے دعا کرتے رہنا: ۵۴

حضرت کی سلامتی کی نیت سے صدقہ نکالنا: ۵۵

امام زمانہ علیہ السلام سے مصائب کے موقع پر فریاد کرنا: ۵۵

امام زمانہ علیہ السلام کے وجود مبارک کی حفاظت کے لیے بارگاہ احدیت میں دست بدعا رہنا: ۵۶

امام زمانہ علیہ السلام پر زیادہ سے زیادہ سلام و درود پڑھا جائے: ۵۷

آپ علیہ السلام کے ظہور اور فرج و فتح کا انتظار کرنا افضل ترین اعمال ہے: ۵۸

تمام محافل و مجالس میں ذاکرین امام زمانہ علیہ السلام کا ذکر ضرور کریں: ۶۱

۹-زمانہ غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۶۳

از:تسنیم جہان ۶۳

پہلی ذمہ داری: ۶۳

مخزون و رنجیدہ رہنا: ۶۳

دوسری ذمہ داری: ۶۵

تیسری ذمہ داری: ۶۶

چوتھی ذمہ داری: ۶۷

پانچویں ذمہ داری: ۶۸

چھٹی ذمہ داری: ۶۸

ساتویں ذمہ داری: ۶۹

آٹھویں ذمہ داری: ۶۹

۲۵

استغاثہ برای امام زمانہ علیہ السلام: ۷۰

۱۰-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۷۲

از:سیماب بتول ولد حاجی شاہد اقبال ۷۲

۱۱-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۷۸

از:سیدہ فہمیدہ زیدی ۷۸

معرفت: ۷۸

اطاعت: ۷۸

تعجیل ظہور کی دعا: ۷۹

انتظار: ۷۹

اشتیاق زیارت: ۷۹

دعا برائے سلامتی امام زمانہ علیہ السلام: ۷۹

صدقہ برائے سلامتی امام زمانہ علیہ السلام: ۸۰

اتباع نائبین امام علیہ السلام: ۸۰

امام علیہ السلام کا نام لینے کی ممانعت: ۸۰

احتراماً کھڑے ہونا: ۸۱

مشکلات میں امام زمانہ علیہ السلام کو وسیلہ بنانا: ۸۱

امام علیہ السلام پر کثرت سے درود بھیجنا: ۸۱

غیبت میں کثرت سے امام مہدی علیہ السلام کا ذکر کرنا: ۸۱

دشمنوں سے مقابلے کے لیے مسلح رہنا: ۸۲

امام علیہ السلام کی نیابت میں مستحبات کی انجام دہی: ۸۲

۲۶

حضرت مہدی علیہ السلام کی زیارت پڑھنا: ۸۲

تجدید بیعت: ۸۳

توبہ کے پروگرام: ۸۳

علماءاپنے علم کو ظاہر کریں: ۸۳

جھوٹے دعویداروں کو جھٹلانا: ۸۴

ظہور کا وقت معین نہ کرنا: ۸۴

مال امام علیہ السلام کی ادائیگی: ۸۴

امام العصر علیہ السلام سے محبت کا اظہار کرنا: ۸۴

آپ علیہ السلام کے فراق میں غمگین رہنا: ۸۴

آپ علیہ السلام کی غیبت پر اظہار رضایت: ۸۵

امام علیہ السلام کی مظلومیت پر افسردہ ہونا: ۸۵

ایمان پر ثابت قدم رہنا: ۸۵

مصائب کو برداشت کرنا: ۸۶

۱۲-امام زمانہ کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۸۸

از: سیدہ تعزین فاطمہ موسوی ۸۸

صدقہ: ۹۰

حج کرنا: ۹۱

دعا مانگنا: ۹۱

عریضہ: ۹۱

انتظار امام علیہ السلام: ۹۲

۲۷

دعائے ظہور امام زمانہ علیہ السلام: ۹۲

۱۳-امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں ۹۴

از:بی بی آسیہ حیدری ۹۴

۱- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ ۱۱۶

از: رخسانہ بتول ۱۱۶

غیبت صغریٰ، غیبت کبریٰ ۱۱۶

غیبت بارہویں امام علیہ السلام ہی کے ساتھ کیوں مخصوص ہوتی اور امام بارگاہ ہی کیوں ہوتے؟ ۱۱۷

۲- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۲۰

از: شرافت حسین شمسی ۱۲۰

۳- حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۲۵

از: حماد رضا شاہ ۱۲۵

تعارف امام زمانہ علیہ السلام: ۱۲۵

ادوار غیبت: ۱۲۵

غیبت صغریٰ: ۱۲۵

غیبت کبریٰ: ۱۲۵

غیبت اسلام کے مفادات کے عین مطابق: ۱۲۶

خداوند متعال حقیقی رازدان: ۱۲۶

مصلحت خداوندی: ۱۲۶

مختلف اور متضاد نظریات کا جائزہ اور حقیقت: ۱۲۷

غلط استدلال کا ثبوت: ۱۲۷

۲۸

گزشتہ حکمتیں اور غیبت امام علیہ السلام: ۱۲۸

غیبت کبریٰ سے پہلے غیبت صغریٰ کیوں؟ ۱۲۸

امتحان و آزمائش مومنین: ۱۲۹

ظالم حکمرانوں کی بیعت اور ظلم سے محفوط: ۱۲۹

حیات امام علیہ السلام کی محافظت: ۱۳۰

کذاب مدعی نبوت، حقیقی امام علیہ السلام کی حفاطت: ۱۳۱

جواب: ۱۳۲

غلبہ دین اور وعدہ الہیٰ: ۱۳۳

زمین حجت خدا کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی: ۱۳۳

تقاضا عدل خدا (کلمہ یافتہ): ۱۳۳

نزول ملائکہ: ۱۳۴

مظلوموں کا حقیقی سہارا: ۱۳۴

امام علیہ السلام کے غائب کا فائدہ: ۱۳۴

سورج سے تشبیہہ ایک پاکیزہ پہلو: ۱۳۵

۴- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۳۷

از: مولانا محمد آصف رضا ۱۳۷

۵- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۴۰

از:زہراءاصغری ۱۴۰

۶- امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت ۱۴۶

از: سید راحت کاظمی ۱۴۶

۲۹

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

ہم کہتے ہیں: حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کا علم دنیاکے تمام لوگوں کے علم سے برترہے۔ آنحضرت  تمام علوم کے مالک گے۔ آنحضرت کی زیارت میں وارد ہوا ہے:

'' انک حائز کلّ علم '' (۱)

آپ ہر علم کے مالک ہیں۔

زیارت ندبہ میں پڑھتے ہیں:

'' قد أتاکم اللّه یا آل یاسین خلافته، وعلم مجاری أمره فیما قضاه،و دبّره ورتّبه و اراده فی ملکوته '' (۲)

اے آل یٰسین!خدا وند نے اپنی جانشینی کا مقام آپ کو دیا ہے۔عالم ملکوت میں اپنے حکم اور اس کے جاری ہونے کی جگہ اور تدبیر و تنظیم کا علم آپ کو دے دیا ہے۔اس زیارت شریف میں آنے والے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اہلبیت علیھم السلام کے علممیںنہ صرف عالم ملک بلکہ عالم ملکوت بھی شامل ہیں۔عصرِ ظہور کی برکتوں کے بارے میںوارد ہونے والی روایات سے استفادہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) عالم ملکوت کی بھی تکمیل فرمائیں گے۔اس بناء پر آنحضرت  کے قیام کا صرف ملکی و مادی پہلو نہیں ہے۔بلکہ وہ عالم ظاہر کے علاوہ باطن و نامرئی عالم کی تکمیل فرمائیںگے۔جس میں غیر مرئی عالم کی موجودات بھی آپ  کے پرچم تلے آجائیں گے۔علمِ امام کا مسئلہ معارفِ اہلبیت علیہم السلام کے باب میں بہت اہم مسئلہ ہے۔اس کی حدود و کیفیت کے بارے میں بہت سے ابحاث مطرح ہوئے ہیں کہ جن کا تجزیہ و تحلیل اس کتاب کے موضوع سے خارج ہے ۔ اس بناء پر ہر دور کا اما م  اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے اعلم ہوتا ہے۔

--------------

[۱]۔ مصباح الزائر:۴۳۷، صحیفہ مہدیہ:۶۳۰

[۲]۔ بحارالانوار: ج۹۴ص۳۷، صحیفہ مہدیہ: ۵۷۱

۲۰۱

اس زمانے کے تمام دانشوروں کو چاہیئے کہ وہ علوم وصنایع کے ہر شعبے میں اپنی مشکلات ائمہ اطہار علیھم السلام کے توسط سے برطرف کریں۔کیونکہ مقامِ امامت اور رہبری الہٰی کا لازمہ یہ ہے کہ وہ ہر علم میں سب لوگوں سے زیادہ اعلم ہوں۔یہ خود امام  علیہ السلام کے فضائل میں سے ایک ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس مفضول کو فاضل پر مقدم کرنا لازم آتا ہے۔

اس بیان سے واضح  ہوجاتا ہے کہ ظہور سے پہلے تک جتنی بھی علمی ترقی و پیشرفت ہوجائے،پھر بھی امام  کا علم اس سے زیادہ ہوگا۔اب ہم جو روایت ذکر کررہے  ہیں۔اس میں یہ مطلب صراحت سے بیان ہوا ہے۔حضرت امام رضا  علیہ السلام فرماتے ہیں:'' انّ الانبیاء والائمّة علیھم السلام یوفّقھم اللّٰہ و یؤتیھم من مخزون علمہ و حکمتہ مالایؤتیہ غیرھم، فیکون علمھم فوق علم اھل زمانھم فی قولہ عزّوجلّ:

''أَفَمَن یَهْدِیْ ِلَی الْحَقِّ أَحَقُّ أَن یُتَّبَعَ أَمَّنْ لاَّ یَهِدِّیْ ِلاّٰ أَنْ یُهْدٰی فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ'' (۱)

یقینا خدا وند انبیاء و آئمہ کوتوفیق عنایت کرتا ہے اور اپنے علم و حکمت کے خزانے سے انہیں علم عطا کرتا ہے کہ جو اس نے ان کے علاو ہ کسی کو عنایت نہیں کیا۔اسی وجہ سے ان کا علم ہر دور کے لوگوں کے علم سے زیادہ ہوگا۔

یہ آیت اس حقیقت پردلالت کرتی ہے:

کیا جو شخص لوگوں کو راہ راست کی طرف ہدایت کرتا ہے وہ ہدایت کازیادہ حقدار ہے یا وہ جو سیدھے راستے پر نہیں آتا ہے ،مگر یہ کہ کوئی اس کی راہنمائی کرے؟اس بناء پرکسی بھی شعبے میں علوم جتنی بھی ترقی کرلیں،وہ سب امام کے وسیع علم کے دامن میں شامل ہوں گے۔جس طرح دریابارش کے قطروں کو اپنے اندر جگہ سمو لیتا ہے اور خود قطرے کا وجود مٹ جاتا ہے۔اسی طرح تمام علوم و فنون بھی امام کے بحر علم میں فناہوجائیں  گے۔

--------------

[۱]۔ سورہ یونس آیت:۳۵، کمال الدین ۶۸۹، اصول کافی:ج۱ص۲۰۲

۲۰۲

جیسا کہ روایات میں وارد ہوا ہے کہ ظہور کے پُر نور زمانے میں پوری دنیا میں برہان و استدلال عام ہوگا۔پوری کائنات میں سب انسان منطق و استدلال سے صحیح علم و دانش سے سرشار ہوں گے ۔ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے یاور اپنے بیان و گفتار سے اپنے مخالفین کو راہ راست پر لائیں گے اور حقیقت کی طرف ان کی راہنمائی کریں گے۔

آنحضرت  بھی اپنی گفتار سے لوگوں کی مکتب اہلبیت  علیہم السلام کی طرف ہدایت فرماکردنیا کو جدید علم ودانش سے سرشار فرمائیں گے۔یوں وہ حق کو ظاہر اور باطل کونابود کریں گے اور انسانوں کے دلوں کو ہر قسم کے شک  و شبہ سے پاک کریں گے۔یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس کی امام نے تصریح فرمائی  ہے اور اسے اپنی توقیعات میں بیان فرمایا ہے:

حضرت بقیة اللہ الاعظم  (عج) نے اپنی ولادت کے پہلے گھنٹے میں فرمایا:

''زعمت الظلمة انّ حجّة اللّه داحضة ولو اُذن لنا فی الکلام لزال الشکّ '' (۱)

ظالم گمان کرتے ہیں کہ حجت خدا باطل ہوگئی ہے۔اگر ہمیں بولنے کی اجازت دی جائے تو شکوک  برطرف ہوجائیں گے۔

یہ واضح ہے کہ شک کے برطرف ہونے سے دل ایمان و یقین سے سرشار ہوجائے گا۔قلب کے یقین سے سرشار ہونے سے اہم حیاتی اکسیر تمام لوگوں کے اختیار میں ہوگی، جو انسان کی شخصیت کو تکامل بخشے گی۔

  علوم کے حصول میں امام مہدی علیہ السلام کی راہنمائی

ظہور کے پُر نور ، درخشاں، بابرکت، عقلوں کے تکامل،دلوں کی پاکیزگی تلاش وکوشش،علم و دانش اور تمام خوبیوںسے سرشار زمانے کی آشنائی اور اس زمانے میں رونما ہونے والے عظیم تحوّلات و تغیّرات کی آگاہی کے لئے ان سوالوں پر توجہ کریں۔

--------------

[۱]۔ الغیبة شیخ طوسی:۱۴۷

۲۰۳

دنیا کے سر بہ فلک چوٹیوں اور بلند وبالا پہاڑوں ،وسیع و عریض صحرائوں ،دریائوں کی طغیانیوں اور سمندر کی گہرائیوں میں کون کون سی اور کیسی کیسی عجیب مخلوقات زندگی گزاررہی ہیں؟

ان میں کیسے حیرت انگیز اور عجیب حیوانات موجود ہیں؟

کیا عالم خلقت کے رموز کی شناخت ممکن ہے؟

ان تمام موجودات کے اسرار خلقت سے کس طرح آگاہ ہوسکتے ہیں؟

کیا جن کے سامنے خلقت ہوئی ہے ان کے علاوہ کوئی ان سب سے آگاہ ہوسکتا ہے؟

کیا اس زمانے میں حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے علاوہ کو ئی ان تمام سوالوں کے جواب دینے کی قدرت رکھتا ہے؟

جی ہاں!ظہور کے بابرکت زمانے میں امام زمانہ  علیہ السلام دنیا کو برہان و استدلال کے ذریعہ علم و آگاہی سے سرشار کردیں گے۔پوری کائنات میں دنیا کے لوگوں کو دلیل و برہان کے ساتھ علم وآگاہی اور دانش و فہم سے آرستہ فرمائیں گے۔

حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ، حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے اس اہم مطلب کے بارے میں فرماتے ہیں:

'' یملأ الارض عدلاً وقسطاً و برهاناً '' (۱)

آنحضرت  دنیا کو عدل و انصاف اور برہان سے بھردیں گے۔

اس زمانے میں دنیا کے لوگ ایک رات میں سو سال کا سفر طے کریں گے اور جو نکات پوری زندگی میں نہیں سیکھ سکتے، چند کلمات کے ذریعہ ان نکات سے باخبر ہوجائیں گے۔

علم و آگاہی کے زمانے میں علم و فہم کی ترقی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہم ایک سوال مطرح کرتے ہیں:

--------------

[۱]۔ بحارالانوار:ج۴۴ص۲۱، ج۵۲ ص۲۸۰

۲۰۴

اگر کوئی شخص کسی وسیع موضوع کے بارے میں تحقیق اور اس کے تمام اہم نکات سے آگاہ ہونا چاہے لیکن اگر وہ ا س موضوع  کے ماہر، شفیق استاد جیسی نعمت سے محروم ہو اور مددگار کتب بھی دستیاب نہ ہوں تو اسے کتنی طولانی تحقیق و جستجو کرنا ہو گی اور کس قدر ناکام تجربات سے گزرنا ہو گا۔تب شاید کہیں وہ کسی حد تک اپنے مقصد کے نزدیک  پہنچ سکے؟

لیکن اگر یہی شخص کسی دانا اور ماہر استاد سے استفادہ کرتا تو وہ بہت کم مدت میں اس موضوع کے بارے میں سیر حاصل مطالب سے آگاہ ہوسکتا تھا۔

بالفاظ دیگر انسان دو طرح سے علم و دانش سیکھ سکتا ہے۔

۱ ۔ اس علم کے ماہر اور متخصص استاد سے علم حاصل کرسکتا ہے۔

۲ ۔اگر اسے اس علم کے بارے م یں استاد یا کتب مہیا نہ ہوں تو پھر جستجو اور تجزیہ و تحلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔پھر تلاش و کوشش کے ذریعہ تحقیق کرنی چاہیئے تاکہ اگر ممکن ہو تو انسان اپنے ہدف  اور نتیجہ تک پہنچ سکے۔

حصول علم کی راہ میں تجزیہ و تحلیل اور تعلیم (استاد کے ذریعہ علم حاصل کرنا) کا فرق واضح ہے۔ہم یہاں ان کے دو اہم ترین فرق بیان کرتے ہیں:

۱ ۔آگاہ اور ماہر استاد سے استفادہ کرنے کی صورت میں طولانی اور زیادہ وقت صرف کرنے والی تحقیق کے بغیر سرعت سے علوم کو حاصل کریا جا سکتا ہے۔

۲۔ وقت تلف کرنے والی بے نتیجہ تحقیق کے بغیر ماہر استاد سے علم و دانش کا قطعی نتیجہ حاصل کرنا۔

۲۰۵

  حصولِ علم میں حضورِ امام مہدی علیہ السلام کے اثرات

ظہور کے زمانے کے انسانوں کو بے نتیجہ اور وقت ضائع کرنے والی تحقیق کی ضرورت نہیں ہوگی۔کیونکہ امام حسن مجتبیٰ  علیہ السلام  کے فرمان کے مطابق ،اس روز دنیا دلیل کے ساتھ علم و دانش اور معارف سے سرشار ہوگی۔

جی ہاں! اگر لوگ معاشرے میں ظہور و حضور امام  کی نعمت سے بہرہ مند ہوں تو وہ بہت جلد عظیم علمی منابع تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔وہ علم لدنّی کے ذریعہ علم برہانی حاصل کریں گے اور یوں وہ قطعی نتائج تک پہنچ جائیں گے۔

اب اس مطلب کو کاملاً واضح کرنے کے لئے حیوانات کی مختلف انواع کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔پھر ایک روایت نقل کرنے کے بعد بحث سے نتیجہ اخذ کریں گے۔

جیساکہ ہم نے کہا کہ دریائوں کی گہرائی پہاڑوں کی بلندی اور صحرائوں کی وسعت میں  بہت سی  عجیب مخلوقات موجود ہیں ۔ یہ مخلوقات اتنی کثیر تعداد میں موجود ہیں کہ ہمارے لئے ان کی زندگی گزارنے کی راہ و روش ، خصوصیات اور ان کی تولید نسل کی شناخت کرنا ممکن نہیں ہے۔اب تک کی تحقیق کے مطابق ہماری دنیا میں۸۶۰۰۰ پرندے زندگ ی گزار رہے ہیں۔(۱)

حشرات الارض میں سے اب تک چار لاکھ کی شناخت ہوچکی ہے کہ جن میں سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ اقسام ایران میں بھی موجود ہیں۔حیوانات کی اتنی کثیر انواع و اقسام ہیں کہ اگرکوئی حیوان شناسی کے علم میں دنیا میں موجود لاکھوں اقسام کے حیوانات میں افزائشِ نسل کے عمل کو جاننا چاہے کہ ان میں افزائشِ نسل کا عمل کیسے ہوتا ہے؟

--------------

[۱] ۔ ان پرندوں میں سب سے بڑا پرندہ افریقی شتر مرغ ہے۔ لیکن یہ پرواز نہیں کرسکتا۔کیونکہ متوسط لحاظ سے اس کا وزن ۱۳۵ کلو اس کا قد ۴۰/۲ہے دقیق اطلاعات کے مطابق زمین پر سب سے زیادہ عمر گزارنے والا پرندہ کوّا ہے اور اس کے بعد دریائی کوّا ہے۔ دائرة المعارف ۱۰۰۱ جذاب نکات:۲۶۳

۲۰۶

ان میں سے کون سے حیوانات انڈے دیتے ہیں اور کون سے بچے۔

تو اس کے لئے  لاکھوںبرس کی تحقیق و جستجو کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ دریائوں، صحرائوں، سمندروں اور پہاڑوں میں زندگی گزارنے والے لاکھوں حیوانات کی کس طرح آشنائی حاصل کرسکتے ہیں؟

لیکن اگر یہ ہی شخص یہ مطالب تحقیق و جستجو اور تجربہ سے نہیں بلکہ کسی ایسے سے سیکھے کہ جو اسرارِ خلقت سے آگاہ اور مخلوقات کی خلقت کاشاہد ہو تو یہ چند لاکھ سالوں کی نا ممکن تحقیق سے حاصل ہونے والے مطالب دو منٹ میں جان سکتا ہے؟اس حقیقت کی مزیدوضاحت کے لئے اس روایت کو نقل کرتے ہیں:

مرحوم حاجی معتمد الدولہ فرہاد میرزا اپنے مجموعہ میں امیر کمال الدین حسین فنائی کی مجالس سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے ام جابر سے پوچھا کس چیز کے بارے میں جاننا چاہتے ہو؟

اس نے عرض کی میں چرندوں اور پرندوں کے بارے میں تحقیق کرنا چاہتا ہوں کہ ان میں سے کون انڈے دیتے ہیں اور کون بچے؟امام  نے فرمایا: اس کے بارے میں اتنا سوچنے کی ضرورت نہیں۔

لکھو! جن حیوانات کے کان باہر کی طرف ہوں، وہ بچے دیتے ہیں اور جن کے کان اندر کی طرف ہوں اورسر سے چپکے ہوں ،وہ انڈے دیتے ہیں۔''ذلک تقدیر العزیز العلیم ''

باز اگرچہ پرندہ ہے اور اس کے کان اندر کی طرف ہیں ۔ لہٰذا وہ انڈے دیتا ہے۔ کچھواچرندہ ہے ۔ چونکہ وہ بھی اسی طرح ہے لہٰذا وہ بھی انڈے دیتا  ہے۔ چمگادڑکے کان باہر کی طرف ہیں اور سر سے بھی چپکے ہوئے نہیں ہیں ۔ لہٰذا وہ بچہ دیتی ہے۔(۲)

--------------

[۲]۔ گلزار اکبری:۶۲۶

۲۰۷

اس عمومی قانون کی رو سے حیوان کا پرندہ ہونا، اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ،چونکہ وہ پرندہ ہے ۔ لہٰذا وہ انڈے دے گا۔اسی طرح حیوان کا چرندہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ بچے دے گا۔کیونکہ ممکن ہے کہ اگرچہ اس کے پستان ہوں۔

لیکن اس کی افزائش نسل انڈے دینے کے ذریعے ہوتی ہو نہ کہ بچے دینے سے۔

حیوانات میں سے ایک بہت عجیب قسم کا حیوان ہے۔ اس کی مرغابی کی طرح چونچ ہے ۔  لہٰذا وہ ''اردکی'' کے نام سے معروف ہے۔اگرچہ اس حیوان کے پستان ہیں لیکن اس کے باوجود وہ پرندوں کی مانند انڈے دیتا ہے۔ اب اس بیان پر توجہ کریں۔

ممکن ہے کہ ''اردکی ''حیوانات میں  سب سے زیادہ عجیب نہ ہو لیکن عجیب ضرور ہے یہ ایک پستان دار جانور ہے اور تمام پستان والے حیوانات کی طرح اس کی کھال  ہے اور اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔لیکن اس کی مرغابی کی طرح چونچ  اور اس کاپرہ دار پنجہ بھی ہے۔اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز یہ ہے کہ یہ حیوان تمام پرندوں کی مانند انڈے دیتا ہے۔یہ حیوان آسٹریلیا میں پایا جاتا ہے۔جس کی لمبائیتقریباً۵۰ سینٹی میٹر ہے۔ اس کی چونچ بہت نوکیلی اور تیز ہے ۔ نہاتے وقت یہ اپنی چونچ پانی سے باہر رکھتا ہے اور اسی کے ذریعہ سانس لیتا ہے۔یہ نہروں میں رہتا ہے۔اس کی مادہ وہاں انڈے دیتی ہے اور اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔ (۱) ہم نے گزشتہ ابحاث میں ظہور کے زمانے کی ایک اہم خصوصیات بیان کی ۔ جو اس زمانے کے تمام معاشروں میں علم کا عام ہونا ہے اور ہم نے جو مطالب یہاںذکر کئے ہیں، ان سے عصر ظہور کی دو دیگر خصوصیات پر روشنی ڈالی ہے ۔

۱ ۔ زیادہ وقت لینے والی تحقیق و جستجوکے بغیر سرعت سے علوم کا حصول۔

۲ ۔ بے حاصل اور بے نت یجہ تحقیق اور تجزیہ و تحلیل کے بغیرتعلیم کا قطعی نتیجہ حاصل کرنا۔

یہ واضح سی بات  ہے کہ زمانۂ ظہور کی ان دو خصوصیات سے انسان کو کس قدر علمی ترقی اور معاشرہ کو بلندی حاصل ہو گی۔

--------------

[۱]۔ شگفتی ہای آفرینش:۲۰

۲۰۸

  زمانۂ ظہور کی ایجادات

ہم نے عرض کیا کہ ظہور کے زمانے کی خصوصیات میں سے ایک سرعت سے علم و دانش کا حصول ہے ۔ اس بابرکت زمانے میں لوگ آسانی سے دقیق علمی مطالب تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔

اس زمانے میں حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کی ہدایت و راہنمائی حصولِ علم کی سرعت کا اصلی عامل ہوگا ۔ اس کے علاوہ رشد اور علمی ترقی ایک اور اہم سبب بھی ہوگا اور وہ بھی حضرت امام مہدی علیہ السلام  کے بابرکت وجود مبارک کے طفیل سے ہوگا جو کہ تکامل عقل اور فکری رشد ہے۔

حضرت ولی عصر کی کریمانہ وعادلانہ حکومت میں لوگ عقلی اور فکری رشد کے مالک ہوں گے۔

عقلی تکامل کی بحث میں ہم نے اس نکتہ کی تصریح کی ہے کہ زمانہ ظہور و تکامل میں انسان کو حاصل ہونے والی مہم آزادی میں سے ایک عقلی آزادی ہے کہ اس زمانہ میں عقل اسارت کی زنجیر سے نجات حاصل کرلے گی۔

اس منور زمانے میں سپاہِ نفس،قوہ عقل کی زنجیروں میں قید ہوجائے گی ۔ اس وقت عقل،نفس پر حاکم ہوگی۔ عقلی آزادی سے انسان بزرگ افکار تک رسائی اور بچگانہ افکار سے رہائی حاصل کرلے گا۔

اسی وجہ سے ہم معتقد ہیں کہ اور تفکر معاشرے کے افراد کے لئے زمانہ ظہور کی اہم خصوصیات اور   خصلتوں میں سے گہری نظر اور بزرگ افکار ہیں۔

یہ بھی  واضحات میں سے ہے کہ جب معاشرے کے افراد میں بزرگ افکار اور دقیق سوچ و فکر کی صلاحیت پیدا ہوجائے تو پھر نہ صرف دینی معارف بلکہ ٹیکنالوجی ، صنعت اور دیگر علوم و فنون میں کیسے حیرت انگیزبدلاؤ ایجاد ہوں گے۔

غیبت کے زمانے کے دوران لاکھوں افرادنئے نکات اور نئی ایجادات تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر کچھ محدود افراد ہی اپنے ارادے اور کوشش میں کامیاب ہوتے ہیں۔

۲۰۹

لیکن عقلی  تکامل کے زمانے میں انسان کمال کے اعلی ٰ ترین درجات پر فائز ہوگا۔ زمانۂ ظہور کے لوگوں کی فکر مؤثر ثابت ہوگی اور وہ جس چیز کے لئے کوشش کریں، جلد ہی اس تک رسائی حاصل کرلیں گے ۔

  اس بارے میں زیارت آل یٰس کے بعد دعا سے درس

حضرت امام  مہدی علیہ السلام کی بہت اہم زیارات میں سے ایک زیارت آل یٰس اور اسی طرح اس کے بعد پڑھی جانے والی دعا ہے جس میں معارف اور اعتقادی مسائل کا بہت بڑا خزانہ مخفی ہے۔اس کے علاوہ اس میں تکامل یافتہ انسانوں کی قدرت کے بارے میں بہت اہم نکات موجود ہیں۔

جو بھی اس زیارت اور اس کے بعد والی دعا پڑھے،وہ خدا وند متعال سے چاہتا ہے کہ اسے بلند مراحل و مقام پرپہنچا دے ۔ اگرچہ ممکن ہے کہ دعا پڑھنے والا کچھ پڑھ رہا ہو وہ اس کی اہمیت و عظمت کی طرف متوجہ نہ ہو۔

یہاں ہم اپنی بحث سے مربوط اس کا ایک نمونہ بیان کرتے ہیں؛

زیارت آل یٰس کے بعد پڑھی جانے والی دعا میں ہم خدا کے حضور عرض کرتے ہیں:

'' و فکری نور النیّات، وعزمی نور العلم '' (۱)

میری فکر کو تصمیم و ارادوں کا نور اور میرے عزم و ارادے کو علم کا نور عنایت فرما۔

ممکن ہے کہ اب تک سیکڑوں یا ہزاروں بار یہ دعا پڑھی ہو۔لیکن ابھی تک ہم نے اپنی درخواست اور اس کی عظمت پر غور نہیں کیا ہے ۔

--------------

[۱] ۔ صحیفہ مہدیہ:۵۶۷

۲۱۰

اس دعا سے لیا جانے والا درس یہ ہے :

روشن فکر وہ ہے کہ جو تاریک سوچ و فکر سے نجات پاکرقوّتِ ارادہ کامالک ہواور اس کانفس ارادے کی شکست کا باعث نہ ہو۔اور صاحبانِ عزم و ارادہ وہ  ہیں کہ جن میں علم و دانش کانور روشن ہو اور اس کا وجود علم و آگاہی کے نور سے منوّر ہوا ہو۔

زمانہ ظہور انسان کی بزرگ و درینہ خواہشات کی تکمیل اور بشر کے اعلٰی مقام تک رسائی کا زمانہ ہے۔انسانوں میں روشن افکار اور نورانی ارادوں کی پرورش تکامل کا سبب ہے۔

اس بابرکت زمانے میں افکار میں ارادے کی قدرت و نورانیت ایجاد ہوگی اور لوگوں کے عزم وارادے میں نور اور علم و دانش کے حصول کی توانائی ایجاد ہوگی۔

اس زمانے میں انسانی تفکر کی طاقت کے نہ ہونے اور عزم و ارادے میں سستی سے نجات پاکر علم و آگاہی کی طرف گامزن ہوگا۔

اب یہ واضح سی بات ہے کہ فکری حیات اور ارادوں کی آزادی سے معاشرے میں کیسی علمی ترقی  وجود میں آئے گی۔

  واحد عالمی حکومت

یہاںہم ایک ایسا مطلب بیان کرتے ہیں کہ جو ظہور کے زمانے کے منتظرین کے لئے بہت دلچسپ ہے ۔ وہ یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے عالمی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس وقت پوری کائنات میں حضرت حجت بن الحسن العسکری علیہ السلام کی حکومت کے علاوہ کوئی حکومت نہیں ہوگی ۔ ساری دنیا کی واحد حکومت آنحضرت کی حکومت ہوگی۔

یہ کہنا ضروری ہے کہ حضرت ولی عصر (عج) کی حکومت کے مقابل میںکوئی اور قدرت نہیں ہوگی پوری دنیا پر امام عصرعلیہ السلام کی واحد حکومت حاکم ہوگی۔

۲۱۱

اس کے علاوہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کی حکومت دنیا والوں کے لئے ایسی نعمتیں فراہم کرے گی ۔ مادّی و معنوی لحاظ سے حیرت انگیز ترقی اور اس کے علاوہ پوری دنیا میں علم و دانش کی نعمت فراوان ہوگی۔دنیا کے بڑے بڑے شہروں سے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں تک ہر کوئی ان نعمتوں سے مستفیض ہوگا۔پوری دنیا میں علم و دانش عام ہوگا۔زمین کے ہر خطے میں علمی فقدان ختم ہوجائے گا۔

سب کو آرام ، سکون، راحت اورتمام سہولتیں فراہم ہوں گی ۔ سب لوگوں میں ثروت مساوی طور پر تقسیم ہوگی۔

ان سہولتوں کا عام ہونا اور معاشرے کے تمام افراد کا ان نعمتوں اور سہولیات سے استفادہ کرنا ظہور کے زمانے کی خصوصیات میں سے ہے۔اس مہم مسئلہ کے روشن ہونے کے لئے ہم اس کی مزید وضاحت کئے دیتے ہیں۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ غیبت کے زمانے میں دنیا کے تمام ممالک کے تمام لوگوں کو مال ودولت ، علم و دانش ،قدرت اور ظاہری سہولیات میسر نہیں ہیں ۔ بلکہ دنیا کے ہر ملک کے بعض لوگوں  کے پاس مال و دولت تھا اور اب بھی ہے۔اکثر لوگ مال کے نہ ہونے یا اس کی کمی کی وجہ سے پریشان حال ہیں۔

پوری دنیا میں طبقاتی نظام موجود ہے ۔ خاص طبقہ سہولیات سے استفادہ کر رہا ہے۔ لیکن معاشرے کے اکثر افراد بنیادی حقوق اور سہولیات سے بھی محروم ہیں ۔ لیکن ظہور کے پُر نور زمانے میں ایسا نہیں ہوگا۔

اس زمانے میں طبقاتی نظام اور قومی تبعیضات ختم ہوجائیںگی ۔ علم وحکمت عام ہوگی ۔ طبیعی  دولت معاشرے کے تمام افراد کے درمیان مساوی طور پر تقسیم ہوگی ۔ دنیا کے تمام خطوں میں عدالت اور تقویٰ کا بول بالا ہوگا۔دنیا کے سب لوگ عادل اور تقوی ٰ دار ہوں گے۔

ہم نے جو کچھ عرض کیا ۔ اب اس کا نتیجہ اخذ کرتے ہیں ۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں پوری دنیا کے لوگ علم و دانش و حکمت، اچھائیوں اور نیکیوں کے مالک ہوں گے۔ہر کوئی ان سے مستفیض ہوگا۔

۲۱۲

اس دن غیبت کے زمانے کی طرح نہیں ہوگا کہ ایک طبقہ زندگی کی ہر سہولت اور ہر جدید صنعتی وسائل سے مستفید ہورہاہولیکن دوسرے افراد زندگی کی بنیادی سہولیات کو بھی ترستے ہوں۔

اس بناء پر ظہور کے زمانے کی علمی ترقی لوگوں کو ہرجدید اور اہم وسیلہ فراہم کرے گی ۔ جوظہور سے پہلے والے وسائل کی جگہ لے لیں گے۔پوری دنیا میں سابقہ وسائل ناکارہ ہوجائیں گے اور لوگ ظہور  کے زمانے کی جدید ایجادات سے استفادہ کریں گے۔

اگر فرض کریں کہ اس بابرکت اور نعمتوں سے بھرپور زمانے  میں کچھ صنائع اپنی خصوصیات برقرار رکھ سکیں تو ان سے استفادہ کرناواضح ہے۔کیونکہ وہ زمانہ دنیا کی تمام اقوام کے لئے خوبیوں کا زمانہ ہوگا۔ اس بناء پر ہم جدید صنعت کو کلی طور پر محکوم نہیں سمجھتے۔لیکن موجودہ صنعت غیبت کے زمانے سے مناسب ہے نہ کہ یہ ظہور کے پیشرفتہ زمانے کے مطابق  ہے۔

اب تک جو کچھ کہا وہ ان کا نظریہ ہے کہ جو  ظہور کے بارے میں خاندانِ اہلبیت علیہم السلام کے فرامین سے آگاہ ہوکر عقلی تکامل اور روشن زمانے کے اسرار و رموز کو جانتے ہیں۔

ممکن ہے کہ ان کے مقابل میں محدودسوچ کے مالک افراد بھی ہوں کہ جو گمان کرتے ہوں کہ وہ دنیا کی تمام ایجادات سے واقف ہیں ۔ ایسے افراد نہ صرف آج بلکہ گزشتہ زمانے میں بھی موجود تھے۔ڈیڑھ صدی پہلے کچھ افراد کا گمان تھا کہ جن چیزوں کو ایجاد کرنا ممکن تھا، انسان نے  وہ سب ایجاد کر لی ہیں ۔ یہاں ہم ایسے ہی کچھ افکار سے آشنا ئی کرواتے ہیں۔

۱۸۶۵ء میں امریکہ میں  نئی ایجادات کرنے والوں کا نام اندراج کرنے والے دفتر کے سربراہ نے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ اب یہاں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ اب ایجاد کرنے کے لئے کوئی چیز باقی نہیں رہی۔

۲۱۳

امریکہ کے ماہر فلکیات نے ریاضی کی بنیاد پر یہ ثابت کیا کہ جو چیز ہوا سے وزنی ہو وہ پرواز نہیں کرسکتی ۔ لیکن جہاز کی پہلی پرواز کے باوجود بھی وہ اپنی غلطی ماننے کو  تیار نہیں تھا۔بلکہ اپنی غلطی کی غلط توجیہات کرنے لگا کہ جہاز سے کوئی مفید کام نہیں لیا جا سکتا۔

۱۸۸۷ ء م یں ''مارسلن برتولو'' نے اپنے خیالات کا یوں اظہار کیا:

''اب کے بعد دنیا کا کوئی راز باقی نہیں رہا''

جو زمانۂ ظہور کو غیر معمولی ترقی کا زمانہ نہیں سمجھتے ہیں ۔ وہ ایسے افراد کی طرح ہی سوچتے ہیں۔

ہم نے یہ جو ذکر کیا ہے وہ ایسے لوگوں کا ایک نمونہ تھا۔جو یہ سمجھتے ہیں کہ علم و صنعت کے لحاظ سے دنیا اپنے عروج پر ہے۔یعنی دنیا ترقی کی آخری سیڑھی پر قدم رکھے ہوئے ہے۔

جی ہاں! یہ توہمات گزشتہ صدیوں میں موجود تھے اور اب بھی بعض گروہ انہی میں مبتلا ہیں ۔ ان باطل نظریات میں مزید اضافہ ہو نا بھی ممکن ہے۔

  ظہور یا نقطہ آغاز

اگر ہم کہیں کہ ابتداء ظہور تکامل کا آغاز ہے تو ایسے افراد کے لئے اس کا یقین کرنا مشکل ہو گا ۔ کیونکہ وہ یہ قبول نہیں کرسکتے کہ ظہور کا آغاز ترقی کی ابتداء ہے؟

اس سوال کا جواب بیان کرنے کے لئے اس مطلب کی تشریح کرنا ضروری ہے۔لہٰذا ہم ایسے غلط نظریات کی پیدائش کے علل و اسباب بیان کرتے ہیںتاکہ قارئین محترم جان لیں کہ بعض لوگ یہ نہیں جانتے کہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے ظہور کے ہمراہ ترقی و پیشرفت اور تکامل کی ابتدا ہوجائے گی؟

۲۱۴

کیونکہ وہ موجودہ دور کو اس قدر ترقی یافتہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس سے بھی ترقی یافتہ دنیا کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں؟

ہم یہاں دو مختصر نکات بیان کرنے کے بعد اس بارے میں تفصیلاً گفتگو کریں گے۔

۱ ۔ ایسے افرادموجودہ دنیاکو قدیم دنیا اور گزشتہ زمانے سے مقائسہ کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے وہ موجودہ دور کو ہی پیشرفتہ ترین  دورسمجھتے ہیں۔

۲ ۔ ا یسے افراد آئندہ کی دنیا کے بارے میں کسی قسم کی اطلاع و آگاہی نہیں رکھتے ۔ اسی لئے ان کا کہنا ہے کہ اب ایجاد کرنے کے لئے کوئی اور چیز موجود نہیں ہے۔

 دین یعنی حیات اور صحیح ترقی یافتہ تمدّن

دنیا کے  بہت سے لوگ دین کے حیات بخش اور زندگی ساز منشور سے آگاہ نہیں ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ مکتب اہلبیت علیہم السلام نے معاشرے کے تمام پہلوئوں کو مد نظر رکھا ہے اور وہ لوگوں کی تمام ضروریات سے آگاہ ہے ۔ لہٰذا وہ دین کو صرف چند احکامات کا مجموعہ سمجھتے ہیں کہ جس کا تمدّن  اور صنعت کے ساتھ کوئی سروکار نہیں ہے۔

ایسے بعض افراد خود ساختہ اور استعماری مکتب کے پیروکار ہوتے ہیں اور وہ تحریف شدہ ادیان کے تابع ہوتے ہیں۔لہذاوہ جس چیز کو قبول کریں ،اسے ہی دین سمجھتے ہیں۔

اگر مکتب اہلبیت علیہم السلام کے پیروکاروں میں سے کسی گروہ کے ایسے اعتقادات ہوں تو یہ دین کے آئین اور اصولوں  کے بارے میںمکمل آگاہی نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔

۲۱۵

کیونکہ دین کا یہ معنی نہیں ہے کہ انسان ترقی اور صحیح تمدن اور صنعت سے دور ہو۔بلکہ تمدّن اور صنعتی ترقی دین کے زیرِ سایہ وجود میں آتی ہے ۔ پس دین اور دینداری صنعت و تمدّن کی نفی کا نام نہیں ہے۔بلکہ دین کا آئین ہی صنعتی ترقی اور تمدنی ترقی کا ذریعہ ہے۔

تاریخ میں نہ صرف آئندہ بلکہ ماضی میں بھی ایسے دور گزرے ہیں کہ جب بزرگ دینی تمدن نے لوگوں کو اپنے دامن میں جگہ دی۔اس وقت کے لوگ علم و صنعتی ترقی کے مالک تھے کہ ہمارا آج کا متمدّن دور جسے لانے سے عاجز ہے۔

یہ نہ صرف تاریخ کے صفحات میں بلکہ بعض امکانات میں ایسے ترقی یافتہ تمدن کے آثار موجود ہیں کہ اب بھی انسان جن کی عظمت کو درک کرنے سے قاصر ہے۔

ہم آپ کے لئے اس کا ایک نمونہ ذکر کرتے ہیں تاکہ یہ بخوبی واضح ہوسکے کہ دین کبھی بھی ترقی اور تمدن کا مخالف نہیں تھا۔بلکہ مذہبی حکومت خود صحیح تمدّن لانے کا عامل ہے۔

آپ حضرت سلیمان علیہ السلام  کی دینی حکومت کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

کیا حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو معبد بنایا تھا اور اب بھی اس کے ایسے آثار موجود ہیں کہ جنہیں اب تک پہچانا گیا۔کیا آپ اس سے آگاہ ہیں؟

اب اس بارے میں مزید جاننے کے لئے یہ واقعہ ملاحظہ کریں۔

تقریباً دو صدیاں پہلے ''بنیامین فرینکلن ''نے برق گیر ایجاد کیا۔یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔

یہ امر بھی مسلم ہے کہ تقریباًتین ہزار سال پہلے حضرت سلیمان علیہ السلام کا معبد چوبیس بر ق گیر سے تیار کیا گیا تھا۔معبد کوہرگز شارٹ سرکٹ کاخطرہ نہیں تھا۔ ''فرانسوا آراگو ''نے اٹھارویں صدی میں اس بارے میں یوں وضاحت کی۔

۲۱۶

معبد کی چھت کو انتہائی ظرافت سے تعمیر کیا گیا تھا،جسے ضخیم ورق سے ڈھانپا گیا تھا اور پوری چھت کو فولاد سے تیار کیا گیا تھا۔لوگ کہتے ہیںکہ چھت کی تیاری میں ان سب چیزوں کا استعمال صرف اس وجہ سے تھا کہ اس پر پرندے نہ بیٹھیں۔

معبد کے سامنے ایک حوض تھا کہ جو ہمیشہ پانی سے لبریز ہوتا۔اب ہمارے پاس ایسے شواہد و قرائن موجود ہیں کہ جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ برق گیر کسی ہدایت کرنے والی کی ہدایت کا نتیجہ ہیں ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ہم اب تک ایسے مسائل سے بہرہ مند نہیں ہوسکتے۔

اسی طرح معبد بیت المقدس کو بھی گزشتہ صدیوں کا کامل نمونہ قرار دے سکتے ہیں کہ ہزاروں سال پہلے تھا اور اب بھی اسی طرح باقی ہے۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام  اور ان کی آرٹیٹکٹ برق گیر کے راز سے آگاہ تھے۔ لیکن انہوں نے یہ راز دوسروں کو کیوں نہیں بتایا؟کسی سے اس بارے میں بات کیوں نہیں کی؟

اب تحقیق و جستجو کرنے والے دانشور کہ جنہوں نے وادی علم میں قدم رکھے ہیں ۔ جو بہت سے مجہولات کو معلومات میں تبدیل کرتے ہیں، اب ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ اس مسئلہ کو سلجھائیں اور اس کا صحیح جواب معلوم کریں۔(۱)

جیسا کہ آپ نے غور کیا کہ انہوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ ہم اب تک ایسے امکانات اور وسائل میں سے کسی ایک سے مستفیض نہیں  ہو سکے۔

یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں علمی اور صنعتی ترقی کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا۔یہ اس بات کی  دلیل ہے کہ دین اورالہٰی حکومت صنعت اور ٹیکنالوجی کی نفی نہیں کرتے۔بلکہ وہ خود انہیں وجود میں لاتے ہیں۔

--------------

[۱]۔ تاریخ نا شناختہ بشر:۱۱

۲۱۷

اس کی اور بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت میں ایسی سہولتوں سے استفادہ ہوتا تھا ۔ لیکن آج کا متمدن معاشرہ اور ترقی یافتہ انسان ان سے مستفید ہونے سے عاجز ہے۔ قرآن کریم کی آیات اور اہلبیت علیھم السلام کی روایات میں ان کی تصریح ہوئی ہے۔

آج کی دنیا ترقی و پیشرفت اور علم و تمدن کے دعوں کے با وجود فزیکل وسائل کے بغیر ایک قلم کو دنیا کے ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک منتقل کرنے سے عاجز ہے۔لیکن حضرت سلیمان  علیہ السلام    کا شاگر ایک بار آنکھ جھپکنے کے ذریعہ بلقیس کے تخت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی قدرت رکھتا تھا ۔ اس نے یہ کام عملی طور پربھی انجام دیا۔

یہ واضح دلیل ہے کہ انسان کو عظیم قوت و طاقت کے حصول کے لئے مابعد مادّہ قدرت کی ضرورت ہے۔ جب تک اسے یہ قدرت حاصل نہ ہو تب تک وہ مادہ کی قید ہی میں رہے گا یعنی زمان ومکان کے تابع رہے گا ۔ مابعد مادہ قدرت کا حصول دین کے علاوہ ممکن نہیں ہے۔

اس بناء پردین نہ صرف علم و دانش کی ترقی کے لئے  مانع نہیں ہے بلکہ دین خود ترقی و پیشرفت اور جدید ٹیکنالوجی اور صحیح صنعت وجود میں لانے کا اصلی سبب ہے۔

دنیا حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کی الہٰی حکومت میں ایسی اہم ترقی کی شاہد ہوگی۔اس وقت انسان نہ صرف معنوی مسائل کی اوج پر ہوگا بلکہ جدیدترین ٹیکنالوجی و صنعت کا بھی مالک ہوگا۔

ہمیں  چاہیئے کہ ہم اپنے پورے وجود اور خلوص سے خداوند متعال سے اس بابرکت دن کی جلد آمد کی دعا کریں اور خود کو اس با عظمت زمانے  کے لئے تیار کریں۔ یہ بھی جان لیں  کہ انسان کی خلقت کا مقصد قتل غارت،ظلم و ستم، فساد اور ظالم و جابر حکومت  تشکیل دینا نہیں تھا ۔ بلکہ الہٰی حکومت کی تشکیل اور اسے استقرار و دوام دینے کے لئے کوشش کرنا  ہے۔لیکن اب تک ظالم اس راہ میں مانع  ہیں۔

۲۱۸

ہم خداوند متعال سے دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ظہور کے تمام موانع برطرف کرکے جلد از جلد حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کی حکومت قائم فرمائے اور ہمیں حضرت ولی عصرعلیہ السلام کے خادموں میں شمار فرمائے۔

 صحیح اور جدید ٹیکنالوجی فقط دین کے زیر سایہ ممکن ہے

اب ایک اہم حیاتی نکتہ کی تشریح کرتے ہیں۔یہ نکتہ پڑھنے کے بعد قارئین محترم کا دین کے پیشرفتہ آئین کے بارے میں نظریہ تبدیل ہوجائے گا۔

اس نکتہ کو بیان کرنے سے پہلے ایک مختصر مقدمہ بیان کرتے ہیں ۔ وہ یہ ہے کہ انسان فقط ایک مادّی موجود و مخلوق نہیں ہے۔ کیونکہ انسان روح بھی رکھتا ہے۔ لیکن کیا انسان صرف جسم اور روح سے مرکب ہوا ہے؟ یا نفس اور جسم سے مرکب ہوا ہے؟ یا انسان روح ،عقل، نفس اور جسم کے مجموعہ کا نام ہے؟

یہ بہت اہم سوال ہیں کہ انسان کا وجود کن چیزوں سے تشکیل پایا ہے؟ گزشتہ زمانے سے ادیان کے پیروکاروں نے اس بارے میں بحث کی اور انہوں نے اپنی فہم کے مطابق جو چیزیں درک کیں، انہیں ہی بیان کیا۔ ان تمام نظریات کے کچھ طرفدار ہیں اور ہر کوئی اپنا نظریہ ثابت کرنے کے لئے کچھ دلائل پیش کرتے  ہیں۔

ہمیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ انسان روح اور جسم سے مرکب ہے اور وہ مستقلاً عقل و نفس کا مالک ہے، یا یہ دونوں روح اور جسم کے تابع ہیںیا یہ ان دونوں سے ایجاد ہوئے ہیں؟

کیونکہ ان عقائد و نظریات میں سے ہر ایک میں روح مستقل وجود رکھتی ہے نہ کہ یہ انسان کے جسم کے تابع ہے۔

ہم نے مکتبِ اہلبیت علیہم السلام کی پیروی سے یہ مطلب سیکھا کہ روح مستقل وجود رکھتی ہے۔ لیکن بعض مادّی مکاتب اس کے بر خلاف روح کو جسم کے تابع سمجھتے ہیں۔

۲۱۹

  موجود ایجادات میں نقص

روح کے آثار اور روحانی قوّت کے نتیجہ کی بحث میں اس اہم نکتہ کا اضافہ کرتے ہیں کہ دنیا نے اب تک صنعت اور ٹیکنالوجی کے عنوان سے لوگوں کو جوکچھ عطا کیا ہے ۔ وہ ایسی ایجادات تھیں کہ جنہوں نے انسان کی روح کو جسم کا اسیربنا کر رکھ دیاتھا اور اسے جسم کا محتاج بنادیاتھا۔ان میں کوئی ایسی روحانی قوّت موجود نہیں ہے کہ جو انسان کے جسم کو روح کے تابع قرار دے۔

یہ موجودہ ٹیکن الوجی کابہت بڑا نقص ہے ۔ افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ غیبت  کے زمانے کے دانشور اس بارے میں کوئی صحیح پروگرام حاصل نہیںکرسکے۔

البتہ یاد رکھیں کہ ہمارا یہ کہنا کہ زمانۂ غیبت کی ٹیکنالوجی میں نقص و عیب پایا جاتاہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ ہم اس زمانے کے برق رفتار وسائل کا بگھی اور تانگہ وغیرہ سے مقائسہ نہیں کررہے۔ لیکن خدا نے انسان کے وجود میںبے شمار قوّتیں قرار دی ہیں ۔ انہیں کی تخلیق کی وجہ سے وہ خود کو''احسن الخالقین'' قرار دیتے ہوئے فرماتاہے:

'' فَتَبَارَکَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْن '' (۱)

اس عظیم مخلوق پر توجہ کریں تومعلوم ہوگا کہ انسان نے اپنے وجود کے ایک پہلو سے ا ستفادہ کیا ہے۔ لیکن دوسرے پہلوؤں کو فراموش کردیا ہے۔

ہمارا یہ کہنا ہے کہ انسان میں روح بھی ہے۔ لہذاہ میشہ روح کو جسم کے تابع قرار نہ دیں۔انسان کو یہ سوچنا چاہیئے کہ انسان اپنے وجود کے دوسرے پہلوؤںسے استفادہ کرکے جسم کو روح کے تابع قرار دے۔ یوں وہ خود کو مادّہ اور زمانہ کی قید سے آزادکرے۔ لیکن زمانۂ غیبت کی تمام ایجادات مادّی  تقیّدات سے مقید ہیں۔

--------------

[۱]۔ سورہ مؤمنون، آیت: ۱۴

۲۲۰

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300