امام مہدی کی آفاقی حکومت

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت20%

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت مؤلف:
: عرفان حیدر
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 300

امام مہدی کی آفاقی حکومت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 300 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 180609 / ڈاؤنلوڈ: 4526
سائز سائز سائز
امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت

امام مہدی کی آفاقی حکومت

مؤلف:
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

پہلاباب

عدالت

    عدالت پیغمبروں کا ارمان

    معاشرے میں عدالت یا عادلانہ معاشرہ؟

    عصرِ ظہوراور عدالت

    عدالت کی وسعت

    دنیا کی واحد عادلانہ حکومت

    عدالت کا ایک نمونہ

    ہر طرف عدالت کا بول بالا

    عدالت کا نفاذ اور حیوانات میں بدلاؤ

    حیوانات کا رام ہونا

    حیوانات پر مکمل اختیار

    الیکٹرک پاور سے بڑی قوّت

    ایک اہم سوال اور اس کا جواب

    حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کا تابناک نور

    حیوانات کی زندگی پر تحقیق

۲۱

 عدالت پیغمبروں کا ارمان

عدالت کا مسئلہ اور انسانی معاشرے میں اس کی اہمیت اتنی ضروری ہے کہ خداوند متعال  نے تمام نبیوں  اور آسمانی کتابوں کو امتوں کے درمیان عدل قائم کرنے اور ظلم و ستم کو ختم کرنے کے لئے مبعوث کیا۔  خداوندکریم کا سورہ ٔحدید میں ارشاد ہے:

''لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْط '' (۱)

بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا ہے تا کہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں۔

اس بناء پر پیغمبروں کی رسالت اور آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد معاشرے میں عدل قائم کرنا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہر دور کے قابیل کی سازشوں اور عدل کی راہ میں  کانٹے بچھانے والوں کی وجہ سے ابتداء سے لے کر آج تک اور حضرت  بقیة اللہ الاعظم (عج) کے قیام اور حکومت سے پہلے تک کسی بھی انسانی معاشرے میں عادل حکومت قائم نہیں ہو سکی ۔ کسی بھی معاشرے میں عادلانہ نظام قائم نہ ہوسکا  ۔(۲)

--------------

[۱]۔ سورہ حدید  آیت: ۲۵

[۲]۔  حضرت امیرالمؤمنین علی  کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں بھی دشمنوں نے حکومت  کے خلاف ہر طرح کی سازشیں رچائیں  اور اس دور میں بھی فدک غاصبوں کے قبضہ میں باقی رہا۔

۲۲

  معاشرے میں عدالت یا عادلانہ معاشرہ؟

قرآن کی آیت شریفہ میں پیغمبروں کی رسالت اور آسمانی کتابوں کے نزول کا  ہدف ومقصد عادلانہ نظام اور عادلانہ معاشرہ تشکیل دینا قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح وہ خود بھی عدل پر عمل کریں نہ کہ حکومتِ الٰہی ان کے درمیان عدل کے حکم کو جاری کرے  ۔

لوگوں میں عدالت کو رواج دینا اور امتوں میں عدل قائم کرنا بزرگ پیغمبران الٰہی کا وظیفہ ہے کہ جسے حضرت  بقیة اللہ الاعظم(عج) کی الٰہی حکومت عملی جامہ پہنائے گی۔ان کی عادلانہ حکومت پوری دنیا اور تمام اقوامِ عالم پر قائم ہو گی۔

خدا کے تمام پیغمبروں نے  لوگوں کے درمیان عدل  قائم کرنے اور عدل کی حاکمیت کے لئے جو  زحمتیں ،تکلیفیں اور مصیبتیں برداشت کیں ،ان سب کا نتیجہ امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت ہے۔ اس وقت ظالموں اور ستمگروں کی فائل ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گی اور اس مبارک دن میں کفر و گمراہی  کے پرچم ہمیشہ کے لئے سرنگوں ہو جائیں گے۔اس زمانے میں دنیا کے تمام مظلوم ستمگروں اور ظالموں کے شر سے نجات پا جائیں گے۔تب انسانوں کا نظامِ زندگی بدل جائے گا اور انہیں ایک نئی حیات ملے گی۔    اس طرح خدا کے پیغمبروں اور خاندانِ  نبوت علیہم السلام کا دیرینہ ارمان پوراہو جائے گا اور صدیاں گزرنے کے بعد عدل دنیا میں عملی طور پر نافذ ہو گا۔اسی وجہ سے حضرت  بقیة اللہ الاعظم (عج) سب امتوں کے لئے موعود ہیں۔لہذا امام زمانہعلیہ السلام کی زیارت میں پڑھتے ہیں:

''السلام علی  المهدی الّذی وعد اللّٰه عزّوجل به الامم '' (۱)

حضرت مہدی  علیہ السلام   پر سلام ہو کہ خداوند کریم نے تمام امتوںسے جن کے ظہور و حکومت کا وعدہ کیا ہے۔

--------------

[۱]۔ صحیفہ مہدیہ: ۶۳۶

۲۳

عصرِ ظہوراور عدالت

حضرت ولی عصر  علیہ السلام کی عادلانہ حکومت میں ایسے عظیم اور مہم بدلاؤوجود میں آئیں  گے کہ ستمگروں اور بدعت گزاروں کی دنیا اجڑ جائے گی۔بلکہ ان کے ظلم اور رائج بدعتوں کے آثار بھی ختم ہوجائیں گے۔اس اہم نکتہ کو درک کرنے کے لئے تفکر و تعقل کی  ضرورت ہے کہ اب تک ستمگروں اور بدعت گزاروں نے دنیا میں کیسے پلید اور نقصان دہ نتائج پیش  کئے ہیں؟انہوں نے کس طرح لوگوں کو اقتصادی  مسائل اور فکری و معنوی  فقر میں مبتلا کر رکھا ہے؟

 نجات اور رہائی کے دن ،دنیا اتنی  خوبصورت  ہوگی کہ اس وقت نہ صرف ستمگروں اور ظالموں بلکہ ان کے ظلم و ستم کے نشان بھی مٹ جائیں گے۔

 ہم اس حیات بخش اور کامل زمانے کی تصویر کشی کرنے کے لئے توانا فکر کے نیاز مند ہیں تاکہ عصر ظہور کی نورانیت و درخشندگی کو ذہن میں تصور کرسکیں۔

 یہاں ہم نے جوانتہائی اہم نکتہ اخذکیاہے  وہ یہ ہے کہ حضرت  بقیة اللہ الاعظم (عج)عادلانہ حکومت میں حتی کہ مظالم و بدعتوں کے آثار بھی نہیں ملیں گے یہ

ایسی حقیقت ہے کہ جو ہم نے مکتب اہلبیت علیہم  السلام سے سیکھی۔

۲۴

حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

 ''هذه الآیة ''اَلَّذِینَ اِن مَکَّنَّا هُم (۱) '' نزلت فی المهدی و اصحابه یملکهم مشارق الارض و مغاربها، و یظهر اللّه بهم الدین حتی لا یری اثر من الظلم و البدع '' (۲)

یہ آیہ شریفہ''یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے زمین میں اختیار دیا''حضرت مہدی علیہ السلام  اور ان کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔خدا انہیں زمین پر مشرق و مغرب کا مالک بنائے گا ،ان کے  ذریعے دین کو ظاہر کرے گا ۔یہاں تک کہ ظلم اور بدعت کے آثار بھی د کھائی نہیں دیں گے۔

کیا اس حیات بخش زمانہ کو نہ دیکھیں؟کیا اس زمانہ کو درک کر سکتے ہیں؟

عدالت کی وسعت

آپ کو معلوم ہے کہ عصرِ ظہور ،عدل و عدالت سے سرشار زمانہ ہے۔جیسا کہ ہم نے خاندانِ عصمت و طہارت  کے فرامین سے نقل کیا کہ اس زمانے میں ظلم و ستم کے آثار باقی نہیں رہیں گے۔

اس وقت ستمگروں کی طرف سے لوگوں پر لادے گئے ہر قسم کے مسائل اور فقر و نیاز نہ صرف برطرف ہوجائیں گے بلکہ ان کا جبران بھی ہوگا۔

--------------

[۱]۔ سورہ حج، آیت:۴۱

[۲]۔ احقاق الحق:ج۱۳ص۳۴۱

۲۵

پوری دنیا میں عدل کا بول بالا ہوگا عدل کا پرچم بلند اور ظلم کا پرچم سرنگوں ہوگا۔تمام مظلومان ِ عالم ظالموںکے شر سے نجات پائیں گے ۔حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کی عدلانہ حکومت پوری دنیا کے لوگوں کے سروں پر رحمت و عدالت کا سایہ کرے گی۔

 اس وقت صرف حکومتی اداروں میں ہی نہیں بلکہ بازاروں ،شاہرائوں ،تجارتی مراکز بلکہ گھروں کے اندر بھی عدل و عدالت قائم ہوگی اور ظلم و ستم کا نام و  نشان مٹ جائے گا۔

عدالت ایک قوی انرجی کی طرح ہر جگہ حتی ہر گھر میں سرایت کرجائے گی ۔ جس طرح سردی اور گرمی ہر جگہ کواپنے احصارمیں لے لیتی ہے۔اسی طرح آنحضرت کی عدالت بھی ایک عظیم  طاقت کی طرح ہرجگہ پھیل جائے گی۔اس بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اما واللّه لیدخلن علیهم عد له جوف بیوتهم کما یدخل الحرّ و القرّ  '' (۱)

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عدالت حتمی اور قطعی طور پر گھروں میں داخل ہوجائے گی جس طرح گرمی و سردی داخل ہوتی ہیں۔

اب ممکن ہے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ عدالت ،پوری دنیا کواپنی  آغوش میں لے لے کہ جس طرح انرجی و حرارت ہر جگہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے؟یہ کس طرح ممکن ہے کہ پوری دنیا میں عدالت قائم ہوجائے کہ پھر ظالموں کا زور اور ظلم و ستم صفحہ ہستی سے مٹ  جا ئے؟ اگر اس زمانے  کے لوگ بھی ہمارے زمانے والوں کی طرح ہوں تو کیا ہر جگہ عدالت کا حاکم ہونا ممکن ہے؟کیا ممکن ہے کہ ظالموں اور ستمگروں کا زور اور دہشت دوسروں کو اپنی زنجیروں میں نہ جکڑے؟

--------------

[۱]۔ الغیبة مرحوم نعمانی :۲۹۷

۲۶

اس کے جواب میں یوں کہیں کہ جب تک بشریت اپنی اوّلی اور سالم فطرت کی طرف نہ لوٹے اور اس کی عقل و فکر تکامل کی حدوں تک نہ پہنچے،تب تک یہ ممکن نہیں کہ انسان ایک دوسرے پر ظلم نہ کریں اور دنیا میں ظلم و ستم کی جگہ عدل و انصاف قائم ہونے دیں۔

 اسی وجہ سے حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) حکومتِ عدلِ الٰہی کو استقراردینے کے لئے تمام انسانوں کے وجود میں اساسی تحول ایجاد کریں گے جس سے بشریت تکامل کی طرف گامزن ہوکر عدل و انصاف کا رخ کرے گی اور ظالموں کے وجود اور ان کے مظالم سے متنفر ہوجائے گی۔

یہ اساسی تحوّلات فقط اس صورت میں متحقق ہوسکتے ہیں کہ جب انسانوں کے وجود میں تکامل ایجاد ہو اور تکامل کے ایجاد ہونے سے ان کی روحانی و فکری اور عقلی قدرت میں اضافہ ہوگا۔پھر وہ نفس امّارہ  اور نفسانی خواہشات کی مخالفت سے تکامل کی طرف گامزن ہوں گے۔

   دنیا کی واحد عادلانہ حکومت

جیسا ہم نے کہا تھا کہ حضرت امام مہدی  علیہ السلام کی عادلانہ الٰہی حکومت عالمی ہوگی،جو پوری دنیا پر حکومت کرے گی۔زمین کے کسی خطے حتی کہ بیابانوں ،پہاڑوں میں بھی ان کی قدرت و حکومت کے علاوہ کوئی حکومت نہیں ہوگی ۔پوری دنیا ان کی عادلانہ و شریفانہ حکومت سے سر شار و مستفید ہوگی۔

ہم حضرت  بقیة اللہ الاعظم (عج)  کی زیارت میں یوں پڑھتے ہیں:

۲۷

''و تجمع به الممالک کلّها ،قریبها و بعیدها ،عزیزهاوذلیلها شرقها وغربها،سهلها و جبلها صبا حا و دبورها،شمالها و جنوبها ،برّها و بحرها ،خزونها و وعورها ،یملاها قسطا و عدلاََ کما ملئت ظلماََ وجوراََ '' (۱)

ان کے ذریعہ تمام حکومتوں کو ایک حکومت میں تبدیل کردیا جائے گا۔وہ ان میں سے نزدیک اور دور باعزت و ذلیل، مشرق و مغرب کی حکومتوں کو اور ان کے صحرا ؤں اور پہاڑوں ،چراگاہوںاور بیابانوں کو شمال و جنوب ،خشکی و تری اور ان میں سے ذرخیز و بنجر زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے بھرچکی ہو گی۔

  اس بناء پر  حضرت  بقیة اللہ الاعظم (عج) سب حکومتوں کو ایک عادلانہ حکومت میں تبدیل کر یں گے وہ دنیا کی تمام حکومتوں کو اپنی حکومت کے زیر تسلط  لے آئیں گے۔چاہے وہ حکومت مشرق میں ہو یا مغرب میں ،چاہے وہ قدرت کے لحاظ سے طاقتور ہو یا کمزور ۔وہ پوری دنیا پر فتح و نصرت کے ذریعہ واحد عادلانہ حکومت قائم کریںگے ۔ دنیا کی تمام حکومتیں ان کی حکومت میںمل جائیں گی۔

رسول اکرم(ص)فرماتے ہ یں:

''الآئمة من بعدی اثنا عشر اوّلهم انت یا علی و آخرهم القائم الذی یفتح اللّٰه تعالٰی ذکره علٰی یدیه مشارق الارض و مغاربها '' (۲)

میرے بعد بارہ امام ہوں گے جن میں سے پہلے امام یا علی آپ ہیں اور آخری امام قائم  ہیں کہ  خدا اس کے ہاتھوں سے زمین کے مشرق و مغرب کو فتح کرے گا۔

--------------

[۱]۔ صحیفہ مہدیہ: ۶۱۸

[۲]۔ بحارالانوار:ج۵۲ص۳۷۸

۲۸

ساری دنیا پر فتح پانے سے دنیا کے ہر خطے میںخدا کی عادلانا حکومت حاکم ہو گی۔کہیں بھی ظلم و ستم کا چھوٹا سا نمونہ بھی دکھائی نہیں دے گااسی وجہ سے دنیا کے سب مظلوم حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عادل حکومت کے منتظر ہیں وہ اسی حکومت کے انتظار میں ہیں کہ جب پوری دنیا میں عدل و انصاف حاکم ہوگا۔

 ہم آنحضرت کی زیارت میں  پڑھتے ہیں:

  '' السلام علیک ایّها المومّل لِاحیاء الدّولة الشریفة '' (۱)

سلام ہو تجھ پر کہ جس کی شریف(عادلانہ)حکومت کو زندہ رکھنے کے لئے آرزو کی جاتی ہے۔

حضرت امام باقر علیہ السلام،ان کی درخشاں حکومت اور عصرِ ظہور کے بارے میں میں فرماتے ہیں:

''یظهر کالشهاب ، یتوقد فی اللیلة الظلمائ، فان ادرکت زمانه قرّت عینک'' (۲)

جس طرح رات کی تاریکی میں شہاب شعلہ ور ہوتا ہے،اگر ان کے زمانہ کو دیکھو گے تو تمہاری آنکھیں روشن ہوجائیں گی۔

جس طرح سیاہ رات میں اگر کوئی روشن ستارہ نمودار ہو تو وہ سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلیتا ہے۔حضرت مہدی  علیہ السلام  کے ظہور کا زمانہ بھی ایسا ہی ہو گا۔

جب سب انسان گمراہی ،تاریکی اور فساد میں مبتلا ہوں گے ،تو لوگوں کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کاظہور اس قدر درخشاں و منور ہوگا کہ سب لوگ اسی کی جانب متوجہ ہو جائیں گے تاکہ ضلالت و گمراہی کی تاریکی سے نکل کر ہدایت و نجات کی طرف آسکیں۔

--------------

[۱]۔ صحیفہ  مہدیہ:۶۲۰

[۲]۔ الغیبة مرحوم نعمانی:۱۵۰

۲۹

اس وقت منتظرین اور انتظار کرنے والوںکی آنکھیں روشن ہوجائیں گی ۔ان کی تھکاوٹ و خستگی ختم ہوجائے گی اور ان میں خوشی و مسرّت کی لہر دوڑ جائے گی۔جب لوگوں میں رات کے گھپ اندھیرے کی طرح اختلافات ،جنگ و جدال ،ظلم و ستم، خونریزی و فساد اپنے عروج پر ہوگا تو آنحضرت  کی عادلانہ حکومت ان مظلوم اور بے آسرا لوگوں کو وحشت و اضطراب سے نکالے گی۔ایسے دن کے بارے میں رسول اکرم (ص)نے فرما یا:

''ابشروا با المهدی ،ابشر وا باالمهدی،ابشروا باالمهدی یخرج علی حین  اختلاف  من الناس و زلزال شدید،یملأ الارض قسطا و عدلا،کما ملئت ظلما وجوراً،یملأ قلوب عباده عبادة و یسعهم عدله '' (۱)

 تمہیں مہدی علیہ السلام کے بارے میں بشارت دیتا ہوں  مہدی علیہ السلام کے بارے میں بشارت دیتا ہوں، مہدی  علیہ السلام کے بارے میں بشارت دیتا ہوں،جب لوگوں میں شدید اختلافات ہوں گے تو اس وقت امام زمانہ  علیہ السلام   ظہور کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح پر کریں گے جس طرح سے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔وہ خدا کے بندوں کے قلوب کو حالت عبادت و بندگی سے سرشارکریں گے سب پر ان کی عدالت کا سایہ ہوگا۔

رسول اکرم(ص)نے فرما یا:

 '' یحل بامتی فی آخر الزمان بلاء شدید من سلاطینهم لم یسمع بلاء اشد منه حتی لا یجد لارجل ملجائ، فیبعث اللّٰه رجلا من عترتی اهل بیتی یملأ الارض قسطاً و عدلاً کما ملئت ظلما و جورایحبه ساکن الارض و ساکن السماء ، وترسل السماء قطرهاو تخرج الارض نباتها لاتمسک فیها شیئا……. یتمنی الاحیاء الاموات مما صنع اللّه بأهل الارض من خیره ''   (۲)

--------------

[۱]۔ الغیبة نعمانی: ۱۱۱

[۲]۔ احقاق الحق :ج۱۳ص۱۵۲

۳۰

آخری زمانے میں میری امت کو اپنے بادشاہوں و حکمرانوں کی طرف سے سخت مشکلات کا سامنا ہوگاکہ کسی نے بھی اس سے زیادہ سختی کا نہیں سنا ہوگا۔انسان کو کوئی پناہگاہ اور ان سے فرار کی جگہ میسر نہیں ہو گی۔

 پس خدا وند متعال میری عترت و اہلبیت علیہم السلام سے  ایک شخص کو ان کی طرف بھیجے گا ۔جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی تھی۔

 زمین و آسمان کے مکین اسے دوست رکھتے ہیں ۔آسمان بارش برسائے گا زمین نباتات اُگائے گی اوراس میں سے کوئی چیز بھی اپنے اندر نہیں رکھے گی ،اس وقت زندہ افراد آرزو کریں گے کہ کاش ان کے مردے بھی ان کے ساتھ ہوتے ۔ان کی اس آرزو کی وجہ  اس زمانے میں اہل زمین پر کی جانے والی خوبیاں ہیں۔

ہم حضرت مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت کے جلد آنے کی امید کرتے ہیں اور ہم

ان بزرگوار کی عالمی حکومت کے قائم ہونے کے شاہد ہوں۔

عدالت کا ایک نمونہ

 ابتدائے تاریخ سے آج تک ہمیشہ طاقتوروں اور دولتمندوں نے اپنی طاقت اور دولت کے زور پرفقیر ، مستضعف اور کمزور لوگوں کے حقوق کو پامال کیا۔

اب تک ثروت مند نہ صرف دنیاوی امور بلکہ ایسے عبادی امور میں بھی پیش قدم ہوتے ہیں کہ جن میں دولت و ثروت کا اہم کردار ہوتا ہے اور ضعیف و ناتواں افراد فقط ان کا منہ دیکھتے رہتے۔

امام عصرعلیہ السلام کی عادل حکومت میں دولت و ثروت کایہ حال نہیں ہوگا۔ بعض افراد کی دولت ، دوسرے افراد کی محرومیت کا باعث نہیں ہوگی۔

۳۱

اس زمانے میں ہر انسان کے لئے بغیر کسی امتیاز کے عدالت بہترین طریقے سے نافذ ہوگی۔

 اب ہم جو روایت ذکر کرنے جارہے ہیں،وہ  عالمی عدالت  کے ایک نمونے کو بیان کرتی ہے:

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

اوّل مایظهر القائم من العدل ان ینادی منادیه:

''ان یسلم صاحب النافلة لصاحب الفریضة الحجر الاسود و الطواف''(۱)

حضرت قائم علیہ السلام سب سے پہلے جس عدالت کا قیام  کریں گے وہ یہ ہے کہ آنحضرت  کا منادی  ندادے گا کہ جو افراد مستحب حج انجام دے رہے ہیں وہ محل طواف اور

حجر اسود ان لوگوں کے اختیار میں دے دیں کہ جن پر حج واجب ہے۔

اگر آج کے زمانے میں کچھ ثروتمندمقدس مقامات کی زیارت کی قیمت و اخراجات اتنے بڑھا دیتے ہیں کہ بہت سے لوگ اس سعادت سے محروم ہوجاتے ہیں لیکن اس درخشاں زمانے میں محرومیت کا نام و نشان نہیں ملے گا ۔سب لوگ خانۂ خدا اور مقدس مقامات کی زیارت کرسکیں گے۔اسی لئے عبادی امور میں بھی لوگوں کی شرکت بہت زیادہ ہوگی۔

اسی وجہ سے حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج)  کا پیغام خانۂ خدا کے تمام زائرین تک پہنچے گا کہ جنہوں نے اپنے واجب اعمال انجام دے دیئے ہیں وہ دوسروں کے لئے زحمت و محرومیت کا باعث نہ بنیں۔

یہ اس  عالمی عدالت کا اوّلین کارنامہ ہے کہ جس پر ابتدائے ظہور میں عمل ہوگا۔

--------------

[۱]۔ بحارالانوار :ج۵۲ ص۳۷۴

۳۲

 ہر طرف عدالت کا بول بالا

جیسا کہ روایت میں وارد ہوا ہے کہ ظہور کے زمانے میں دنیا سے ظلم و ستم کا نام و نشان مٹ جائے گا اور پوری دنیا عدل و انصاف سے بھر جائے گی ۔اس دن ظلم و ستم،جنگ و جدال اور خونریزی کا نشان باقی نہیں رہے گا۔حضرت ولی عصرعلیہ السلام کی حکومت کے زیر سایہ انسانیت و بشریت سکون کا سانس لے گی ۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ ہزاروں سال پہلے لوگوں کو اس دن کے آنے کی خبر دی گئیاور آخرکار دنیا خود اس دن کی گواہ ہوگی۔

اس مسئلہ میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے۔کیونکہ عقلوں کے تکامل کا لازمہ اصلی انسانی فطرت  کی طرف لوٹنا اور طبیعتوں کا پاک ہونا ہے اور یہ فقط ظہور کے درخشاںزمانے میں  ہی متحقق ہوگا۔

  عدالت کا نفاذ اور حیوانات میں  بدلاؤ

یہاں ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس دن حیوانات کی کیا کیفیت و حالت ہوگی ؟

کیا درندے اس وقت کے مظلوم انسانوں کی زندگی کا اپنی درندگی سے اختتام کریں گے؟

اگر ایسا ہو تو پھر کس طرح سے کہہ سکتے ہیں کہ اس زمانے میں انسانی معاشرے میں ظلم نہیں ہوگا اور خونریزی و غارت گیری کا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا؟اس حقیقت پر توجہ کریں کہ ظہور کا زمانہ ،یوم اللہ ہے۔اس دن زمین پر حکومت الٰہی ہوگی تو پھر یہ کس طرح سے ممکن ہے کہ حیوانات میں کسی قسم کا تحول نہ آئے اور درندے اپنی درندگی کو جاری رکھیں؟

جی ہاں! حضرت بقیة اللہ الاعظم علیہ السلام کی عادلانہ ،اور عالمی حکومت کا لازمہ یہ ہے کہ دنیا میں امن و امان ہو اور اہل دنیا ہر قسم کے شر و طغیان اور ظلم و بربریت سے محفوظ رہیں۔

۳۳

اس دن دنیا میں امن اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب درندوں سے ان کی درندگی ختم ہو جائے۔ موذی اور درندہ صفت حیوانات کی زندگی بدل جائے اور ان میں اساسیتبدیلیاں ایجادہوںگی۔ورنہ درندہ صفت حیوانات میں پائی جانے والی درندگی کے ہوتے ہوئے انسان اور کمزور حیوانات کس طرح سے ان کے شر سے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

  حیوانات کا رام ہونا

اب ہم اس بارے میں وارد ہونے والی بعض روایات پر توجہ کریں ۔

 رسول  اکرم(ص)نے امام عصرعلیہ السلام کی بشارت دی ہے اور عصر ظہوراور ان کی حکومت کی خصوصیات کو متعدد مرتبہ ارشاد فرمایا ہے اور اس وقت دنیا اور اہل دنیا حتی کہ حیوانات میں ہونے والے مہم تحوّلات و تغیّرات کی خبر دی ہے۔رسول اکرم  (ص) اپنے ایک خطبے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں:''و تنزع حُمة کلّ دابّة حتی یدخل الولید یده  ف فم الحنش فلایضره،وتلقی الولیدة الاسد فلا یضرها،و یکون ف الابل کأنّه کلبها و یکون الذئب فالغنم کانّه کلبها وتملأ الارض من الاسلام و یسلب الکفّار ملکهم ولا یکون الملک الاّ للّه و للاسلام وتکون الارض کفاثورالفضة تنبت نباتها کما کانت علی عهد آدم؛یجتمع النفر علی القثاء فتشبعهم و یجتمع النفر علی الرّمّانة فتشبعهم ویکون الفرس بدُرَیهمات '' (۱) ہر حیوان سے گزند و ضرر سلب کر لیا جائے گا ۔حتی کہ چھوٹا بچہ زہریلے سانپ کے منہ میں اپنا ہاتھ ڈال دے تو وہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ۔اگر بچہ شیر کے آمنے سامنے ہو تو شیر اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ اونٹوں کے درمیان شیر ایسے ہوگا جیسے ان کا کتا ہو۔بھیڑوں کے درمیان بھیڑیابھی ان کے کتے کی طرح ہوگا۔پوری روئے زمین پر اسلام کا چرچا ہوگا۔کفّار سے ان کی  ثروت و جائیداد  سلب ہو جائے گی۔کوئی حکومت نہیں ہوگی

--------------

[۱]۔ التشریف باالمنن: ۲۹۹

۳۴

مگر خدا اور اسلام کی حکومت۔  زمین چاندی کے دسترخوان کی طرح ہے ،جو اپنے نباتات اسی طرح اگائے گی جس طرح وہ آدم   کے زمانے میں اگاتی تھی۔

 کچھ لوگ مل کر ایک خیار( کھیرا) کھائیں تو وہ سب سیر ہوجائیں گے۔ اگر کچھ مل کر ایک انار کھائیں تو وہ ان سب کو سیر کردے گا۔ایک گھوڑے کی قیمت چند درہم ہوگی۔

اس روایت میں ظہور کے منوّر و درخشاں زمانے میں دنیا میں ہونے والی اہم تبدیلیوں پر توجہ کریں:

۱ ۔درندہ ح یوانات سے ان کی درندگی لے لی جائے گی۔

 ۲۔شیر اور بھیڑیئے  جیسے وحشی اور درندہ حیوانات پالتو جانوروں کی طرح ہوجائیں گے اور وہ اونٹ اور بھیڑوں کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔

 ۳ ۔جو کفار اپنے کفر پر باق ی رہیں گے ان سے ان کاتمام مال و دولت لے لیا جائے گا ۔

 ۴۔اس زمانے میں دنیا پر فقط اسلام کی حکمرانی ہوگی ۔خدا اور رسول(ص) ک ی حکومت ہوگی اور اس کے علاوہ کسی حکومت کا وجود نہیں ہوگا۔

 ۵ ۔اس زمانے م یں خیر و برکت اس قدر زیادہ ہوجائے گی کہ آج کی بہ نسبت پھلوں کی مقدار بہت زیادہ ہوجائے گی کہ کھیرا اور انار جیسا ایک پھل چند لوگوں کو سیر کرے گا۔

 ۶ ۔اش یاء بہت سستی وکم قیمت ہوجائیں گی کہ ایک گھوڑا چند درہم میں خریدا اور فروخت کیا جا ئے گا۔

 اس بناء پر اسلام عالمی حکومت،آسمانی برکات ،اقتصادی ترقی،زراعت میں اضافہ اوردرندوں سے وحشت و درندگی کا خاتمہ  اس زمانے کی اہم تبدیلیوں میں سے چند ہیں

 یہ تمام عصرِ ظہور کی خصوصیات میں سے ہیں کہ روایت میں پیغمبر اکرم (ص) نے اہل زم ین کو اس کی نوید سنائی ہے۔

۳۵

 وحشی حیوانات کا تابعہوجانا اور درندوں سے امان اس زمانے کی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ حیوانات میں تحوّل و تبدّل اور بدلاؤ ،حضرت بقیة اللہ الاعظم  (عج) کی قدرتِ ولایت اور اس زمانے کی موجودات پر ان کے  اختیار کی دلیلہے۔

 اس زمانے میں نہ صرف درندے حیوانات سے درندگی ختم ہوجائے گی ،بلکہ اس زمانے میں لوگوںپر زمینی و آسمانی برکات نازل ہوں گی۔اسی طرح مختلف اشیاء میں ہر قسم کا تکامل،تحوّل،تبدّل اور ترقی بھی امامِ عصرکے ظہور اور ان کی قدرت ِ ولایت کی وجہ سے ہوگا۔ کیونکہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں  کہ مسئلہ ظہور فقط حضرت حجة بن الحسن العسکری (عج)کامادی و جسمانی ظہور نہیں ہے،بلکہ آنحضرت کے ظہور کا مقصد دنیا میں قدرت ِ ولایت و تصرّف سے استفادہ کرنا ہے اسی وجہ سے حضرت بقیة اللہ الاعظم(عج) کے ظہور سے عالمِ تکوین میں آنحضرت کے تصرفات ظاہر ہوں گے اور سب لوگ پوری دنیا میں ان عجیب  تبدیلیوں کے گواہ ہوں گے۔

 حضرت امام جعفر صادق  علیہ السلام  فرماتے ہیں:

 '' ینتج اللّه تعالی فی هذه الامة رجلا منی و انا منه یسوق اللّه تعالٰی به برکات  السمٰوات و الارض، فینزل السماء قطرها و یخرج الارض بذرها و تأمن وحوشها و سبأها و یملأ الارض قسطا و عدلا کما ملئت ظلما و جورا،و یقتل حتی یقول الجاهل لو کان هذا من ذریة محمدلرحم '' (۱)

 خدا وند متعال اس امت میں سے ایک مرد کو بھیجے گا کہ جو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، خداوند اس کے ذریعہ آسمان و زمین کی برکات جاری کرے گا ۔پس آسمان بارش برسائے گا اور زمین زراعت و نباتات پیدا کرے گی ۔وحشی اور درندے حیوانات پر امن ہوجائیں گے۔وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی وہ خاندانِ اہلبیت علیھم السلام کے دشمنوں کو قتل کرے گا ،یہاں تک کہ جاہل کہیں گے اگر یہ محمد(ص) کی ذریت سے ہوتا تو یقینا رحم کرتا۔

--------------

[۱]۔ الغیبة شیخ طوسی: ۱۱۵

۳۶

 ہم  نے جو روایتذکرکی ،اس میں امام جعفر صادقعلیہ السلام سے امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں بہترین تعبیر نقل ہوئی ہے۔اس روایت میں امام جعفر صادق  علیہ السلام  نے فرمایا: رجلا منی و انا منہ ایسا مرد کہ جو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔

 یہ ایک ایسی تعبیر ہے کہ جو امام جعفر صادقعلیہ السلام سے امام عصر کی تجلیل و تعریف کو بیان کرتی ہے۔یہ وہی تعبیر ہے کہ جو  رسول اکرم (ص)نے امام حسن  عل یہ السلام اور امام حسین  علیہ السلام کے بارے میں فرمائی۔

 اس روایت میں موجود دیگر نکات یہ ہیں:

۱۔ زمینی و آسمانی برکات کا نازل ہونا۔

۲ ۔ بارانِ رحمت کا برسنا۔

۳ ۔ زراعت و نباتات ک ی پیداوار میں اضافہ کہ جو زراعت اور اقتصاد کی ترقی کا باعث ہے۔

۴۔ وحشی حیوانات سے درندگی کا ختم ہوجانا۔

۵ ۔ دنیا کا عدل و انصاف سے سرشار ہونا۔

۶۔ روایت کے آخر میں  امام صادق علیہ السلام  کا یہ ارشاد ،و یقتل حتی یقول الجاهل ،یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مخالفین میں سے اعتراض کرنے والے موجود ہوں گے۔کیونکہ وہ کہیں گے کہ اگر یہ محمد (ص) کی نسل و ذریّت سے ہوتے تو حتماً رحم کرتے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت رسول خدا(ص) اور ان کے رحیم ہونے کے معتقد ہوں گے۔لیکن امام زمانہعلیہ السلام کی امامت کے قائل نہیں ہوںگے۔اسی وجہ سے وہ امام  زمانہعلیہ السلام پر اعتراض کریں گے۔یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ ان میں قتل و غارترونما ہوگا۔

۳۷

اب اصل مطلب کی طرف آتے ہیں اور حیوانات کے رام ہونے کی بحث کوجاری رکھتے  ہیں کہ جس کے بارے میں خاندانِ عصمت و طہارت علیھم السلام کی روایات میں تصریح ہوئی ہے۔

 روایات کی بناء پر درندے حیوانات میں ایسی تبدیلی آئے گی کہ وہ گوشت خوری کو چھوڑ کر چارہ کھانے و الے جانور بن جائیں گے۔

اس بیان سے واضح ہوجاتا ہے کہ درندوں سے درندگی اور خونریزی کی صفت سلب  ہوجائے گی اور وہ چارہ کھاکر اپنی غذائی ضروریات کو پورا کریں گے۔

  حضرت امام حسن مجتبی  علیہ السلام فرماتے ہیں:

 '' تصلح فی ملکه السباح '' (۱)

حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت میں درندے ایک دوسرے کے ساتھ صلح و امن سے رہیں گے۔

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

 ''اصطلحت السباع و البهائم '' (۲)

درندے اور چارپائے آرام اور صلح سے رہیں گے۔

--------------

[۱]۔ بحارالاانوار:ج۵۲ص۲۸۰

[۲]۔ بحارالاانوار:ج۵۲ص۳۱۶

۳۸

یہ چیزیں ایسے افراد کے لئے دیکھنا مشکل ہوگا کہ جنہوں نے اپنے دلوں پر مہر لگا دی ہو اور وہ  موجود ہ اشیاء سے بڑھ کر کسی چیز کو دیکھ نہیں سکتے ۔لیکن جو آنے والی دنیا اور دنیا کے آئندہ  حالات اور مسائل کے بارے میں گہری نظر رکھتے ہوں،ان کے لئے یہ مسائل دیکھنا آسان ہے ۔کیونکہ وہ جانتے ہیں  کہ زمین و زمان میں رونما ہونے والے عجیب واقعات و تبدیلی ،کرہ زمین کے موجودات پر اچھے اثرات چھوڑیں  گے اور تمام  موجودات کوکامیابی و کامرانی کی طرف لے جائیں گے۔

اس حقیقت پر توجہ کرنے کے بعد اب یہ کہنے میں کیا حرج ہے کہ انسان تقویت ِ ارادہ  اور یقین ِ محکم کے ذریعہ حتی حیوانات کو بھی  اپنا مطیع و فرمانبردار بنا لے؟

جس طرح شیخ بہائی اور ان جیسے افراد کی با قدرت نگاہ تانبے کو سونے میں تبدیل کردیتی تھی ، عقلوں کے تکامل کے دن انسان اپنے ارادے کو حیوانات پر القاء کرسکتاہے کہ جو عقلاً مشکل ہے۔

اگر ہم اس دن کو موجودہ دور کے لوگوں کی طرح مانیں تو پھر اس حقیقت و واقعیت کو قبول کرنا مشکل ہوگا۔لیکن جیسا کہ ہم نے کہا کہ وہ دن ،عقلوں کے تکامل، اور انسانی قدرت کے قوی ہونے کا دن ہے۔اس بیان پر توجہ کرنے سے ایسے واقعات کو قبول کرنا بہت سہل و آسان ہوجائے گا۔

۳۹

  حیوانات پر مکمل اختیار

اب اس مطلب کے بیان  کے لئے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ جو حیوانات میں تصرف و تحوّل کے امکان کی واضح دلیل ہے تاکہ یہ واضح ہے ہوجائے کہ ہر طرف اور ہر جگہ عدالت کے نفاذ کے لئے حیوانات کے وجود میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔حیوانات کے دماغ و اعصاب میں تصرّف سے یہ کام بڑی آسانی سے انجام پاسکتاہے۔

البتہ یہ بات مد نظر رہے کہ ہم عصرِ ظہور کی حیرت انگیز تبدیلیوں کو بیان کرنے کے لئے کسی ایسے واقعہ کو نقل کرنے کے لئے مجبور نہیں ہیں کہ جو غیبت کے دوران پیش آیا ہو۔ہم یہ واقعہ صرف اس کے  لئے بطور ایک دلیل  ذکر کر رہے ہیں۔بلکہ یہ مطلب بعض افرادکے ذہن کے نزدیک کرنے کے لئے ہے شاید غیبت کے دوران حکومتِ الہٰی کے غاصبوں کی زرق و برق اور نمائشی زندگی ان پر اثر انداز ہوئی ہو۔

مذکورہ نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس واقعہ پر توجہ کریں۔

 ''ڈل گاڈو''نامی ایک شخص بُل فائٹر تھا۔ہم اس کے بُل فائٹنگ کے ایک مقابلہ کا خلاصہ پیش کرتے ہیں:

بُل فائٹنگ کے ایک مقابلے میں لوہے کا دروازہ کھلا اور ایک انتہائی طاقتور بیل وہاں سے نکل کر میدان کی طرف بھاگا وہ بھاگتا ہوا سیدھا ''ڈل گاڈو''کی طرف آرہا تھا۔وہ ''ڈل گاڈو'' کے بدن کے حساس ترین حصے کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ہزاروں تماشائی،فوٹو گرافر اور اخباری نمائندے اس منظر کو دیکھ رہے تھے اور ان کے دل بہت تیزی سے دھڑک رہے تھے۔سب اس خوفناک منظر کو دیکھ رہے تھے۔کوئی بھی انہیں اس خوفناک منظر سے نکالنے والا نہیں تھا۔

 میدان میں صرف ایک غضبناک بیل کے دوڑنے کی آواز گونج رہی تھی۔ہر کوئی اس لمحے کا منتظر تھا کہ کب بیل اپنے سینگوں سے ''ڈل گاڈو''کو اٹھا کر آسمان کی طرف پھنیکے یا اپنے تیز اور نوکیلے سینگوں سے اس کے سینہ کو پھاڑ دے!

۴۰

۵_كوئي بھى انسان كسى دوسرے كے عمل كا بوجھ اپنے كندھوں پر نہيں اٹھائے گا _ولا تزرو وازرة وزر أخرى

''وزر'' سے مراد بھارى چيز ہے اور يہ يہاں گناہ سے كنايہ ہے_

۶_گناہ ،انسان كے كندھوں پر بھارى بوجھ ہے_ولاتزروازرة وزرأخرى

''وزر'' لغت ميں بھارى چيز كو كہتے ہيں (لسان العرب) اور اس لئے گناہ كو ''وزر'' كہا گيا ہے كہ اس كے نتائج بھى بھارى ہوتے ہيں _

۷_اعمال كى جزا كے نظام پرالہى عدل حاكم ہے_ولاتزر وازرة وزر ا خرى

۸_رسولوں كو بھيجنے اور اتمام حجت سے قبل لوگوں كو سزا نہ دينا ايك سنت الہى ہے_وماكنا معذبين حتّى نبعث رسولا

۹_انبياء كى بعثت كے اہداف ميں سے ايك ہدف لوگوں پر حجت تمام كرنا ہے_وما كنا معذبين حتّى نبعث رسولا

۱۰_كسى بھى عمل كى بدى اور ناجائز ہونے كے بيان سے پہلے اس عمل كى وجہ سے عقاب وعذاب دينا قبيح ہے_

وما كنّا معذبين حتّى نبعث رسولا

يہ كہ الله تعالى نے فرمايا ہے كہ '' ہم جب تك حقايق بيان كرنے كے لئے لوگوں كى طرف رسول نہيں بھيجتے انہيں عذاب وعقاب نہيں كرتے''_ يہاں احتمال يہ ہے كہ يہ قانون اس عقلى فيصلے كے مطابق ہو كہ ''بغير بيان كے عقاب قبيح اور ناپسند ہے''_

۱۱_گناہ گار امتوں پر اتمام حجت اور رسول كے بھيجنے كے بعد دنياوى عذاب كا نازل ہونا _

وماكنا معذبين حتّى نبعث رسولا

جملہ''ماكنا معذّبين حتّى نبعث رسولاً'' مطلق ہے كہ جو دنياوى عذاب كو بھى شامل ہے_

الله تعالى :الله تعالى كى جزائيں ۷;اللہ تعالى كى حاكميت وعدالت ۷;اللہ تعالى كى سنتيں ۸; الله تعالى كے عذابوں كى شرائط ۸;۱للہ تعالى كے عذاب ۷ ; الله تعالى كے عذابوں كا قانون كے مطابق ہونا ۱۱; الہى حجت كا اتمام ہونے كا كردار ۸، ۱۱

الله تعالى كى آيات:

۴۱

كائنات ميں الله تعالى كى نشانياں ۴;اللہ تعالى كى آيات واضح كرنے كافلسفہ ۴

الله تعالى كے رسول :الله تعالى كے رسولوں كا كردار ۸

اتمام حجت:اتمام حجت كى اہميت ۹

امتيں :گناہ گار امتوں كا دنياوى عذاب ۱۱

انبياء :انبياء كے ذريعے اتمام حجت ۱۱;انبياء كى بعثت كا فلسفہ ۹;انبياء كا كردار ۱۱

انسان :انسان كا اختيار ۳

جبر واختيار :۳

جزا كا مقام : ۷

خود:خود كو نقصان ۱

عمل :عمل كى ذمہ دارى ۵;ناپسند عمل ۱۰

فقہى قواعد :بلابيان عذاب كاقانون ۱۰

گمراہى :گمراہى اختيار ۳;گمراہى كا نقصان ۱ ، ۲

گناہ:دوسروں كے گناہوں كو تحمل كرنا ۵;گناہ كا بوجھ ۶

نصےحت :اعمال كے آخرت ميں محاسبہ كى نصيحت ۴

ہدايت:ہدايت ميں اختيار ۳;ہدايت كا پيش خيمہ ۴; ہدايت كے فوائد ۱ ، ۲

آیت ۱۶

( وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُواْ فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيراً )

اور ہم نے جب بھى كسى قريہ كو ہلاك كرنا چاہا تو اس كے ثروت مندوں پر احكام نافذ كردئے اور انھوں نے ان كى نافرمانى كى تو ہمارى بات ثابت ہوگئي اور ہم نے اسے مكمل طور پر تباہ كرديا (۱۶)

۱_كسى بھى معاشرہ كے امراء اور ثروت مند طبقہ كافسق وفجور اس معاشرہ كى تباہ بربادى كا سبب بنتا ہے_

وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه

''مترف'' مادہ ''ترفہ'' سے ليا گيا ہے اور ''ترفہ'' سے مراد بہت زيادہ رزق ونعمت ہے (مفردات راغب)

۴۲

۲_تاريخ اور انسانى معاشروں كے حوادث ،الہى ارادہ كے تحت ہيں _

وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيها فدمرّنه

۳_آسائش وثروت سے مالا مال ہونا فسق فجور كى طرف ميلان كى پيش خيمہ ہے _أمرنا مترفيها ففسقوا فيه

معاشرہ كے تمام طبقات ميں سے فاسق و فاجر ہونے كے لئے ثروت مند طبقے كا ذكر ہونا حالانكہ فسق وفجور تمام لوگوں سے ہوسكتا ہے اس كا كسى خاص طبقہ سے تعلق نہيں ہے 'شايد اسى مندرجہ بالا نكتہ كى بنا پر ہے_

۴_ثروت مند اور صاحبان مال ومتاع دوسروں كى نسبت زيادہ نافرمانى خدا اور مخالفت حق كا شكارہيں _

ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه مندرجہ بالا نتيجہ اس بناء پر ليا گيا ہے كہ ''ا مرنا'' كا مفعول ''بالطاعة'' كى مانندكوئي لفظ محذوف ہو تو اس صورت ميں آيت كا معنى يوں ہوگا كہ ہم معاشرہ كے ثروت مند طبقہ كو اطاعت وبندگى كا حكم ديتے ہيں _ ليكن وہ توقع كے بر خلاف فسق وفجور كى راہ كو اختيار كرتے ہيں _

۵_ارادہ الہى اسباب و مسببات كے تحت انجام پاتاہے_وإذا ا ردنا ففسقوا فيها فحقّ عليها القول

۶_كسى معاشرہ ميں فاسق وفاجر مالدار لوگوں كى تعداد كا بڑھنا پروردگار كى سنتوں كے مطابق اس معاشرہ كى تباہى كے اسباب ميں سے ہے_وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه

بعض كا خيال ہے كہ ''ا مرنا'' كثرنا كے معنى پر ہے _ (ہم نے مزيد بڑھايا ) (مفردات راغب) تو اس صورت ميں ''ا مرنا مترفيھا'' سے مراد ثروت مند طبقہ كا بڑھنا ہے _

۷_مالدار طبقہ كا فسق وفجور دوسرے طبقات كى گناہ و بربادى كى طرف رغبت ميں مؤثر اور اہم كردار ادا كرتا ہے_

ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه

تمام طبقات ميں سے بالخصوص ثروت مند طبقے كا ذكر ہونا اس بات كو واضح كرتا ہے كہ دوسرے طبقات كى نسبت اس طبقہ كا گناہ ميں آلودہ ہونا ، معاشرہ كے بگڑنے اور تباہ ہونے ميں زيادہ مؤثر اور اہم كردار اداكرتا ہے_

۸_كوئي بھى معاشرہ اور اس كا تغير وتبدل واضح سنت وقانون كے مطابق ہے _وإذا ا ردنا ا ن نهلك ففسقوا فيها فدمّرنه

''قرية'' لغت ميں انسانوں كے مجموعہ كوكہتے ہيں (مفردات راغب) يہ كہ الله تعالى فرماتا ہے :

۴۳

جب معاشرہ كے مالدار لوگ فاسق ہوجاتے ہيں تو ان كے بارے ميں ہمارى بات يقينى ہوجاتى ہے '' فحقّ عليھا القول '' يہ اس بات كو بيان كررہاہے كہ معاشرہ كے تغيّرات واضح قانون كے حامل ہيں _

۹_انسانوں كے اعمال ان كى تباہى وبربادى ميں واضح كردار ادا كرتے ہيں _

وإذا ا ردنا ان نهلك قرية ففسقوا فيها فحق عليها القول فدمّرنه

۱۰_معاشرتى سطح پر نافرمانى الہى يقينى طور پر عذاب الہى كے نزول كا موجب ہے _فسقوا فيها فحقّ عليها القول

۱۱_نافرمان معاشرہ كا عذاب اس قدر شديد ہے كہ اس كى مكمل تباہى ونابودى كا سبب بنتا ہے_

ففسقوا فيها فحقّ عليها القول فدمّرنها تدميرا

۱۲_''عن أبى جعفر(ع) فى قول الله : ''إذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها '' قال: تفسيرها ا مرنا ا كابرها'' (۱) امام باقر (ع) سے الله تعالى كى اس كلام :''ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها'' كے حوالے سے روايت ہوئي ہے كہ آپ(ع) نے فرمايا : اس آيت كى تفسير يہ ہے كہ ہم اس علاقہ كہ بڑوں كو حكم كرتے ہيں ''_

آسائش پسند لوگ:آسائش پسند لوگوں سے مراد ۱۲; آسائش پسند لوگوں كا حق قبول نہ كرنا ۴;بدكار آسائش پسند طبقے كا كردار ۶/اسباب كا نظام : ۵

الله تعالى :الله تعالى كے احكام ۱۲;اللہ تعالى كى سنتيں ۶;الہى ارادہ كے جارى ہونے كى مقامات ۵; الہى ارادہ كى اہميت۲

تاريخ :تاريخ تبديليوں كا سرچشمہ ۲

حق:حق قبول نہ كرنے كا خطرہ ۴/عذاب:عذاب كے اسباب ۱۰;عذاب كے درجات ۱۱

عمل :عمل كے نتائج ۹/طبيعى اسباب:طبيعى اسباب كے اثرات۵

فساد:فساد كے معاشرتى نتائج ۷;فساد پھيلنے كے نتائج ۱۰

فسق:فسق كا پيش خيمہ۳;فسق كے معاشرتى نتائج ۷

گناہ:گناہ كا پيش خيمہ ۳

____________________

۱) تفيسر عياشي، ج ۲، ص ۲۸۴، ح ۳۵، نورالثقلين ج۳، ص ۱۴۴، ح ۱۰۹_

۴۴

مال :مال كے نتائج ۳

مالدار لوگ:فاسق مالدار لوگوں كا كردار ۶;مالدار لوگوں كا حق سے اعراض كرنا ۴;مالدار لوگوں كے فسق كے نتائج ۱;مالدار لوگوں كے فساد كے نتائج ۷;مالدار لوگوں كے گناہوں كے نتائج ۱

معاشرہ:معاشرہ كى تباہى كے اسباب ۱،۶; معاشرتى مشكلات كى پہچان ۱،۶، ۷; معاشرتى فساد كا پيش

خيمہ ۷;معاشرتى سنتيں ۸; فاسد معاشرہ كا عذاب ۱۱; معاشرتى تبديليوں كا قانون كے مطابق ہونا ۸;معاشرہ كا قانون كے مطابق ہونا ۸; معاشرتى فاسد كے نتائج ۱۱; فساد معاشروں كى ہلاكت ۱۱

ہلاكت :ہلاكت كے اسباب ۹

آیت ۱۷

( وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ وَكَفَى بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرَاً بَصِيراً )

اور ہم نے نوح كے بعد بھى كتنى امتوں كو ہلاك كرديا ہے اور تمھارا پروردگار بندوں كے گناہوں كا بہترين جاننے والا اور ديكھنے والا ہے (۱۷)

۱_زمانہ حضرت نوح(ع) كے بعد بہت سى امتيں اور اقوام اپنے فسق وفجور كى وجہ سے پروردگار كى مرضى ومنشاء كے ساتھ تباہ وبرباد ہوگئيں _ففسقوا وكم ا هلكنا من القرون

''قرن'' (قرون كا واحد) سے مراد وہ قوم ہے جو تقريباً ايك ہى زمانہ زندگى بسر كرے (مفردات راغب)

۲_حضرت نوح(ع) سے پہلے انسان وسيع اور عمومى تباہى كے عذاب سے دوچار نہيں ہوئے تھے_

وكم أهلكنا من القرون من بعد نوح

پروردگار نے پچھلى آيت ميں كافر اور بد كار اقوام كو ہلاك كرنے كے حوالے سے اپنى سنت كا ذكر فرمايا پھر اس حقيقت كو ثابت كرنے كے لئے قوم نوح(ع) اور اس كے بعد دوسرى اقوام كى ہلاكت كا ذكر كيا تو حضرت نوح (ع) كى داستان اور ان كے بعد كى اقوام كے واقعات سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت نوح(ع) سے پہلے كسى قوم كو مجموعى طور پر عذاب الہى سے دوچار نہيں ہونا پڑا_

۳_حضرت نوح (ع) سے پہلے لوگوں ميں وسيع اور عمومى فسق وفجور نہ تھا _وماكنا معذبين حتّى نبعث رسولاً_ وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا وكم ا هلكنا من القرون من بعد نوح

۴۵

۴_انسانى تاريخ ميں عمومى فسق وفجور اور بڑے بڑے انحراف زمانہ نوح _ كے بعد واقع ہوئے_وكم أهلكنا من بعد نوح

۵_حضرت نوح(ع) كے بعد بہت سے معاشرے اور اقوام اپنے درميان موجود فاسق و فاسد آسائش پسند طبقہ كى بناء پر تباہى وبربادى سے دوچار ہوئيں _وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيها وكم أهلكنا من القرون من بعد نوح

۶_حضرت نوح(ع) كے بعد انسان كى گروہى اور اجتماعى زندگى كے نئے دور كا آغاز_من القرون من بعد نوح

پروردگار نے پچھلى آيت ميں فرمايا'' بہت سے انسانى معاشروں كو آسائش پسند طبقہ كى بدكاريوں كے باعث ہم نے تباہ كيا'' اور اس آيت ميں حضرت نوح _ كے بعد والى اقوام كى ہلاكت كا تذكرہ ہوا ہے تو ان دونوں آيات سے معلوم ہوا كہ حضرت نوح (ع) سے پہلے معاشرتى زندگى ايسى نہ تھى كہ آسائش پسند مالدار لوگ موجود ہوں يا معاشرہ پر تسلط ركھتے ہوں ورنہ وہ اقوام بھى عذاب الہى سے دوچار ہوتيں _ پس حضرت نوح(ع) كے بعد اقوام كا عذاب سے دوچار ہونا بتلاتا ہے كہ ان كى اجتماعى زندگى ايسى تھى كہ عذاب سے دوچار ہونے كے بعد معاشرتى زندگى كا ايك نيادور شروع ہوچكا تھا_

۷_اللہ تعالى ،اپنے بندوں كے تمام گناہوں سے باخبر اور ان پر نگاہ ركھے ہوئے ہے_

وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصيرا

۸_بندوں كو عذاب سے دوچار كرنے كے ليے الله تعالى كا بندوں كے ظاہرى اور باطنى گناہوں سے باخبر ہونا ہى كافى ہے اس كومزيد كسى گواہ كى ضرورت نہيں ہے_وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصيرا

مندرجہ بالا نكتہ كلمہ ''خبير'' اور''بصير'' كے درميان فرق سے پيدا ہوا ہے چونكہ كلمہ ''خبير'' سے مراد افكار اور چيزوں كے باطن سے آگاہى ہے (مفردات راغب) اور ''بصير'' كردار واعمال سے مطلع ہونا ہے_

۹_گناہ گار لوگوں كو الله تعالى كى دھمكي_وكفى بربّك بذنو ب عباده خبيراً بصيرا

''كفى بربّك بذنوب عبادہ'' كے بعد خبير وبصير كا ذكر گناہ گاروں كے لئے دھمكى ہے _

۱۰_انسانى معاشروں كى بربادى كا حقيقى سبب گناہ ہے _كم أهلكنا من القرون وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصير

۱۱_سركش معاشروں كى نابودي، پروردگار كے ذريعہ از روئے علم و بصيرت ہے _وكم أهلكنا وكفى بربّك خبيراً بصير

۴۶

۱۲_فاسد اور سركش معاشروں كى از روئے علم وبصيرت تباہى الله تعالى كى ربوبيت كا تقاضا ہے_

وكم ا هلكنا وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصير

اسماء وصفات:بصير ۷ ; خبير ۷

الله تعالى :الله تعالى كا ارادہ ۱;اللہ تعالى كے افعال ۱۱;اللہ تعالى كى بصيرت ۱۱;اللہ تعالى كا ڈرانا ۹;اللہ تعالى كا علم ۱۲;اللہ تعالى كا علم غيب ۷، ۸; الله تعالى كے عذابوں كا قانون كے مطابق ہونا۱۱;اللہ تعالى كى ربوبيت كے نتائج ۱۲;اللہ تعالى كا نگاہ ركھنا ۷

امتيں :حضرت نوح(ع) كے بعد كى امتيں ۱; حضرت نوح (ع) سے پہلے كى امتيں ۲; حضرت نوح (ع) سے پہلے كى امتيں اور فساد ۳; حضرت نوح (ع) سے پہلے كى امتيں اور فسق ۳; حضرت نوح (ع) كے بعد كى امتوں كا فساد ۴;حضرت نوح (ع) كے بعد كى امتوں كا فسق ۴

انسان:انسانوں كے گناہ ۷;انسان كى معاشرتى زندگى ۶

پہلى امتيں :پہلى امتوں كے آسائش پسند ۵;پہلى امتوں كى تاريخ ۱، ۲، ۳، ۴، ۵; پہلى امتوں كے عذاب ۲;پہلى امتوں كے فاسق وفاجر ۵;پہلى امتوں كے فسق كے نتائج ۱;پہلى امتوں كے گناہ كے نتائج ۱;پہلى امتوں كى تباہى ۱، ۲، ۵

عذاب:عمومى عذاب ۲

گناہ :پوشيدہ گناہ ۸ ;گناہ كے نتائج ۱;گناہ كے معاشرتى نتائج ۱۰;واضح گناہ ۸

گناہ گار:گناہ گاروں كو ڈرانا ۹

معاشرہ:معاشروں كى ہلاكت كے اسباب ۱،۵; معاشرتى مشكلات كى پہچان ۵، ۱۰;سركش معاشروں كے عذاب كاپيش خيمہ ۱۲; فاسد معاشروں كے عذاب كا پيش خيمہ ۱۲;سركش معاشروں كى تباہى ۱۱

نوح (ع) :نوح (ع) كے بعد كا زمانہ ۶

۴۷

آیت ۱۸

( مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاء لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلاهَا مَذْمُوماً مَّدْحُوراً )

جو شخص بھى دنيا كا طلب گار ہے اور اس كے لئے جلدى جو چاہتے ہيں دے ديتے ہيں پھر اس كے بعد اس كے لئے جہنّم ہے جس ميں وہ ذلّت و رسوائي كے سا تھ داخل ہوگا (۱۸)

۱_دنيا كى طلب، انسان كے جہنم كى آگ ميں جانے كا سبب ہے _من كان يريد العاجلة جعلنا له جهنم

۲_نقد مانگنا، جلد بازى كرنا اور دور انديشى سے بے بہرہ ہونا ' دنيا طلبى اور آخرت سے غفلت كى بنياد ہے_

من كان يريد العاجلة

كلمہ ''عاجلہ'' جو كہ مادہ عجلہ (كسى چيز كو جلد بازى سے چاہنا) سے ہے كا ''الدنيا '' كى جگہ استعمال ہونا بتاتا ہے كہ مال دنيا كا نقد ہونا اور اس كا سريع حصول دنيا كے طلبگاروں كے ليے اس كے حصول ميں بہترين كردار ادا كرتا ہے_

۳_طبيعى اسباب الله تعالى كى مشيت وارادہ كے تحت ہيں _من كان يريد العاجلة عجلّنا له فيها ما نشائ

دنيا كے طالب اپنى خواہشات كو طبيعى اسباب كے ذريعے حاصل كرتے ہيں اور الله تعالى نے ان كے لئے دنياوى فائدوں كے حصول كو اپنى طرف نسبت دى ہے يہ نسبت بتاتى ہے كہ طبيعى اسباب الله تعالى كے تحت ہيں _

۴_الله تعالى دنيا كے طالب لوگوں كى بعض خواہشات كودنيا ميں پورا كرتا ہے اور انہيں ان سے فائدہ اٹھانے كى اجازت ديتا ہے _من كان يريد العاجلة عجلّنا له فيه

۵_دنيا كے طالب صرف اپنى بعض دنياوى خواہشات كو پاتے ہيں نہ كہ تمام خواہشات كو_

من كان يريد العاجلة عجلّنا فيها ما نشاء

الله تعالى نے دنيا كے طالب لوگوں كا اپنى آرزؤں كے پانا كو اپنى مشيت سے نسبت دى ہے'' مانشائ'' يہ بتا تا ہے كہ وہ لوگ اپنى تمام تر خواہشات كو نہيں پورا كرسكتے مگر اس قدر پورا كرسكتے ہيں كہ جتنا پروردگار چاہتا ہے_

۶_تمام دنيا كے طالب لوگ دنياوى فائدوں كو حاصل نہيں كرسكتے _من كان يريد العاجلة عجلّنا له لمن نريد

۷_بعض دنيا كے طالب لوگ دنيا وآخرت دونوں سے محروم ہيں _من كان يريد العاجله عجلّنا لمن نريد ثم جعلنا له جهنّم

۴۸

''جعلنا لہ جھنم'' ميں ''لہ'' كى ضمير ''من كان ...'' ميں ''من'' كى طرف لوٹ رہى ہے يعنى جو بھى دنيا كے پيچھے بھاگتاہے_ ان كا ٹھكانہ دوزخ ہے اگر چہ بعض دنياوى آرزؤں كو مشيت خدا سے پاليسى يا ان ميں ناكام رہيں _لہذا جو بھى اگر چہ اپنى دنياوى خواہشات كو پورا نہ كرسكيں آخرت ميں جہنمى وہ ہيں اور دنيا و آخرت دونوں سے محروم ہيں _

۸_دنيا كے طالب لوگ آخرت ميں جسمانى عذاب كے علاوہ روحى عذاب ميں بھى مبتلاء ہونگے_

ثم جعلنا له جهنم يصلها مذموماً مدحورا

''يصلاھا'' (جہنم كى آگ ميں جلے گا) يہ عذاب جسمانى كى طرف اشارہ كر رہا ہے_ ''مذموماً مدحوراً'' (مذمت شدہ اور راندہ ہوئے) يہ عذاب روحى كى طرف اشارہ ہے_

۹_دنيا كے طالب، آخرت ميں قابل مذمت ہونگے اور رحمت خدا سے محروم اور دھتكارے ہوئے ہونگے_

من كان يريد العاجلة ثم جعلنا له جهنم يصلها مذموماً مدحوراً_

۱۰_''عن إبن عباس ا ن النبي(ص) قال: معنى الا ية من كان يريد ثواب الدنيا بعمله الذى افترضه الله عليه لا يريد به وجه الله والدار الا خر عجّل له فيها ما يشاء الله من عرض الدنيا وليس له ثواب فى الا خرة وذالك ان اللّه سبحانه وتعالى يؤتيه ذلك ليستعين به على الطاعة فيستعمله فى معصية اللّه فيعا قبه اللّه عليه (۱) ابن عباس سے راويت ہوئي ہے كہ رسول الله (ص) نے فرمايا كہ آيت''من كان يريد العاجلة عجّلنا له فيها ما يشائ'' كا معنى يہ ہے كہ جو ان اعمال كے انجام دينے سے كہ جنہيں الله تعالى نے اس پرواجب كيا ہے الله كا تقرب اور آخرت نہ چاہے بلكہ دنياوى فائدے مانگے تو دنيا ميں جو الله تعالى چاہے گا اسے دنياوى نعمتيں دے گا اور آخرت ميں اس كا كوئي حصہ نہيں ہے كيونكہ الله تعالى نے جو كچھ اسے ديا تھا اس لئے كہ اطاعت الہى ميں اس كى مدد ہو ليكن اس نے اسے الله كى معصيت ميں استعمال كيا اس لئے الله تعالى اسے عذاب دے گا_

آخرت:

____________________

۱)مجمع ابيان ج ۶ ص ۶۲۷نورالثقلين ج۳ ص ۱۴۵ح ۱۱۴

۴۹

آخرت سے محروم لوگ ۷

الله تعالى :الله تعالى كے ارادہ كى حاكميت ۳ ;اللہ تعالى كى مشيت كى حاكميت ۳

الله تعالى كى درگاہ سے راندے ہوئے : ۹

جزا:اخروى جزا سے محروميت ۱۰

جہنم:جہنم جانے كے اسباب ۱

جلد بازي:جلد بازى كے نتائج ۲

دنيا:دنيا سے محروم لوگ ۷

دنيا كے طالب لوگ:دنيا كے طالب لوگوں كى آخرت سے محروميت ۹;دنيا كے طالب لوگوں كى اخروى مذمت ۹;دنيا كے طالب لوگوں كا آخرت ميں عذاب ۸;دنيا كے طالب لوگوں كى آرزؤں كاپورا ہونا ۴_۵; دنيا كے طالب لوگوں كى دنياوى سہولتيں ۶;دنياكے طالب لوگوں كا روحى عذاب ۸; دنيا كے طالب لوگوں كى محروميت ۷; دنيا كے طالب لوگوں كے فائدے ۶

دنيا كى طلب:دنياوى طلب كى بنياد ۲;دنيا كى طلب كے نتائج ۱

رحمت:رحمت سے محروم لوگ ۹

روايت : ۱۰

طبيعى اسباب:طبيعى اسباب كا مسخرہونا ۳

عذاب:عذاب كے اہل لوگ ۸

عمل :عمل كى دنياوى جزا ۱۰

غفلت :آخرت سے غفلت كى بنياد

نافرماني:نافرمانى كا عذاب ۱۰

۵۰

آیت ۱۹

( وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُوراً )

اور جو شخص آخرت كا چاہنے والا ہے اور اس كے لئے ويسى ہى سعى بھى كرتا ہے اور صاحب ايمان بھى ہے تو اس كى سعى يقينا مقبول قرار دى جائے گى (۱۹)

۱_آخرت كاطالب وہ مؤمنين جو اپنے اخروى مقاصد كے لئے سنجيدگى سے كوشش كرے تو وہ اپنى اس كوشش كے قيمتى نتائج پاليں گے_و من ا راد الا خرة كان سعيهم مشكورا

۲_اخروى فائدوں اور نعمتوں كا حصول اس راہ ميں انسان كى وافر جد و جہد وكوشش سے مشروط ہے_

ومن ا راد الا خرة وسعى لها سعيها وهو مؤمن فا ولئك كان سعيهم مشكوراً _

يہ عبارت ''وسعى لھا سعيھا'' جملہ ''من ا راد الا خرة''كے لئے شرط كى مانند ہے يعنى اگر كوئي طالب آخرت ہے بشرطيكہ اس كے لئے كافى زحمت كى ہو تو وہ آخرت سے بہرہ مند ہوگا_

۳_آخرت كے لئے كوشش ايمان كى صورت ميں فائدہ مند ہے_

ومن ا راد الا خرة وسعى لها سعيها وهو مؤمن فا ولئك كان سعيهم مشكورا

و جملہ ''وہو مؤمن'' سعى كى ضميركے لئے حال ہے جو درحقيقت آخرت كى طلب اور اسكے لئے كوشش كى شرط بيان كر رہا ہے_

۴_انسان كى اپنى چاہت اور كوشش اس كى اخروى سعادت اور بدبختى ميں فيصلہ كن كردار ادا كرتى ہے_

من كان يريد العاجلة جعلنا له جهنّم ومن ا راد الأخرة وسعى لها سعيها فا ولئك كان سعيهم مشكور

۵_دنيا كے طالب لوگوں كى ممكنہ شكست اور ناكامى كے برخلاف آخرت كے طالب لوگوں كے اخروى فائدے يقينى اور ضمانت شدہ ہيں _ومن يريد العاجلة مانشاء لمن نريد ومن أراد الأخرة كان سعيهم مشكورا

۶_آخرت كى زندگى دنيا سے برتر زندگى ہے اور اس كا حصول تمام مؤمنين كا مقصد ہونا چاہئے_

من كان يريد العاجلة ومن أراد الأخرة كان سعيهم مشكورا

دنيا كے طالب لوگوں كے مدمقابل آخرت كے طالب لوگوں كى كوشش اور زحمت كا الله تعالى كى طرف سے قدردانى

۵۱

مندرجہ بالا حقيقت كى وضاحت كر رہى ہے_

۷_نيك كام كا شكريہ اور قدردانى پروردگار كا شيوہ ہے_ومن أراد الا خرة فا ولئك كان سعيهم مشكورا

۸_فقط وہ زحمت وكوشش ہى اہميت كى حامل اور قابل تعريف ہے جو آخرت كى طلب اور عظےم زندگى كے حصول كى راہ ميں كى جائے_من كان يريد العاجلة ومن ا راد الأخرة كان سعيهم مشكورا

يہ كہ الله تعالى نے انسانوں ميں دنيا كى طلب اور آخرت كى طلب كا ذكر كرنے كے بعد آخرت كے طالب لوگوں كى زحمت وكوشش كا شكريہ اور تعريف كى ہے اس سے معلوم ہواكہ صرف وہ زحمت وكوشش ہى قدردانى اور تعريف كے قابل ہے كہ جو عظيم اخروى زندگى كے حصول كى راہ ميں ہو نہ كہ ہر قسم كى كوشش اور زحمت _

آخرت:آخرت كے لئے كوشش ۳

آخرت كے طالب لوگ:آخرت كے طالب لوگوں كى جزا ۱; آخرت كے طالب لوگوں كى جزا كا يقينى ہونا ۵

آخرت كى چاہت :آخرت كى چاہت كى اہميت ۶، ۸

ارادہ :ارادہ كے نتائج ۴

اہمتيں :اہميتوں كامعيار ۸

ايمان :ايمان كے نتائج ۲

دنيا كے طالب لوگ:دنيا كے طالب لوگوں كى شكست ۵

زندگي:اخروى زندگى كى اہميت ۸;اخروى زندگى كى قدروقيمت۶;دنياوى زندگى كى قدرو قيمت ۶

سعادت :اخروى سعادت كے اسباب ۴

شقاوت :اخروى شقاوت كے اسباب ۴

شكريہ :شكريہ كى اہميت ۷

عمل:پسنديدہ عمل ۷

۵۲

كوشش:كوشش كى اہميت ۸; كوشش كى جزاء ۳; كوشش كے نتائج ۱،۲، ۴

مؤمنين :مؤمنين كى جزاء ۱;مؤمنين كا مقصد ۶

نعمت:نعمت كے حصول كى شرائط ۲;اخروى نعمات كے حصول كى شرائط ۲

آیت ۲۰

( كُلاًّ نُّمِدُّ هَـؤُلاء وَهَـؤُلاء مِنْ عَطَاء رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاء رَبِّكَ مَحْظُوراً )

ہم آپ كے پروردگار كى عطا و بخشش سے ان كى اور ان كى سب كى مدد كرتے ہيں اور آپ كے پروردگار كى عطا كسى پر بند نہيں ہے (۲۰)

۱_تمام انسانوں (خواہ دنيا كے طالب ہوں ياآخرت كے طالب ) كا دنياوى نعمتوں اور فائدوں سے مسلسل بہرہ مند ہونا سنت الہى ہے_كلاً نمدّ و هؤلاء من عطاء ربّك

''امداد'' (نمدّ كا مصدر) كا معنى مددكرنا ہے اور فعل مضارع نمدّ استمرار زمان پر دلالت كرتا ہے_

۲_دنيا ميں الله تعالى كے الطاف اور بخشش كے احاطہ ميں تمام انسانوں ، مؤمن ،كافر ،نيك اور بدكار كا شامل ہونا _

كلاً نمدّ و هؤلاء من عطاء ربّك

۳_دنياوى نعمتوں كا ميّسر ہونا ايمان اور آخرت كي چاہت كے ساتھ منافات نہيں ركھتا_

ومن أراد الأخرة كلاً نمد و هؤلاء و هؤلاء من عطاء ربّك

يہ جو الله تعالى نے فرمايا : ''آخرت كى طلب ركھنے والوں كو اپنى بخشش (دنياوى نعمتوں ) سے بہرہ مند كرتے ہيں '' سے معلوم ہوتا ہے كہ آخرت كى طلب اور اخروى زندگى كى خاطر كوشش كرنا دنياوى نعمتوں كے ميّسر ہونے سے منافات نہيں ركھتا_

۴_نعمتيں اور مادى سہولتيں الله تعالى كے الطاف اور بخشش ہيں اور يہ سب كچھ انسانوں كى مدد كرنے كے لئے ہيں _

كلاً نمدّ من عطاء ربّك

۵_انسانوں پر مسلسل بخشش اور فيض ،اللہ كے مقام

۵۳

ربوبيت كا تقاضا ہے _كلاً نمدّ هو لائ وهو لائ من عطاء ربك

۶_الله تعالى انسانوں كى طرف بخشش كے حوالے سے كوئي محدوديت ركھتاہے اور نہ كوئي ركاوٹ_

وماكان عطاء ربّك محظورا

۷_تمام انسان خواہ وہ نيك ہوں يا بدكار خواہ مؤمن ہوں يا كافر سب كو الله تعالى كى طرف سے بخشش اور دنياوى سہولتيں ميّسر ہونا اس كے ابدى و ازلى فيض كى بنياد پر ہے_كلاً نمدّ هؤلائ وهؤلائ من عطائ ربك وماكان عطاء ربك محظورا

جملہ ''وماكان عطاء ربك محظوراً'' اس آيت ميں گذشتہ جملے كى علت بيان كر رہا ہے _ يعنى چونكہ الله تعالى اپنى بخشش سے كسى كو منع نہيں كرتا _ لہذا نيك و بداور مؤمن و كافر سب اس سے بہرہ مند ہوتے ہيں _

آخرت كے طالب لوگ:آخرت كے طالب لوگوں كى نعمتيں ۱

آخرت كى طلب :آخرت كى طلب اور دنياوى نعمتيں ۳

الله تعالى :الله تعالى كى سنتيں ۱;اللہ تعالى كے لطف كا عام ہونا ۲;الله تعالى كى بخشش كا مسلسل ہونا ۵;اللہ تعالى كا لطف ۴;اللہ تعالى كا مدد كرنا ۴; الله تعالى كى ربوبيت كے نتائج ۵;اللہ تعالى كے فيض كے نتائج ۷;اللہ تعالى كى بخشش كا وسيع ہونا ۶

الله تعالى كا لطف:الله تعالى كے لطف كے شامل حال لوگ ۴

ايمان:ايمان اور دنياوى نعمتيں ۳

دنيا كے طالب لوگ:دنيا كے طالب لوگوں كى نعمتيں ۱

نعمت :نعمت كے شامل حال لوگ ۱، ۲،۳;نعمت كى بنياد ۷

آیت ۲۱

( انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَلَلآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلاً )

آپ ديكھئے كہ ہم نے كس طرح بعض كو بعض پر فضيلت دى ہے اور پھر آخرت كے درجات اور وہاں كى فضيلتيں تو اور زيادہ بزرگ و برتر ہيں (۲۱)

۱_الله تعالى كى طرف سے انسانوں كے دنياوي

درجوں ميں فرق كى طرف غوروفكر كرنے اور درس عبرت لينے كى دعوت _انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض

۵۴

۲_بعض انسانوں كى بعض پر مرتبہ ميں برترى اور ان كے مادى درجوں ميں فرق الله تعالى كے ارادہ كے تحت ہے_

فضّلنا بعضهم على بعض

۳_تمام انسانوں كو الله تعالى كا فيض اور عطا ايك جيسى نہيں ہے _

كلاً نمدّ هؤلائ وهؤلائ من عطاء ربّك انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض

۴_اخروى مراتب و فضائل دنياوى درجات سے كہيں زيادہ برتر اور بلند ہيں _وللا خرة ا كبر درجات وأكبر تفضيلا

۵_انسانوں ميں دنياوى نعمتوں اور سہولتوں كے حوالے سے فرق ان كے اخروى درجات كے تفاوت كى عكاسى كررہاہے_انظر كيف فضّلنا بعضهم وللا خرة أكبر درجات

۶_اخروى درجات اور امتيازات كے فرق كے حوالے سے انسان كى كوشش ايك واضح كردار اداكرتى ہے_

من كان يريد العاجلة ومن ا راد الا خرة و سعى لها فضّلنا بعضهم على بعض وللا خرة أكبر درجات وا كبرتفضيلا

يہ كہ الله تعالى نے پچھلى آيات ميں فرمايا : ''آخرت كے طالب لوگوں كو ان كى آخرت كى چاہت كے حوالے سے كوشش كے مطابق جزا دى جائے گى '' اور اس آيت ميں فرما رہا ہے كہ آخرت كے درجات دنيا كى نسبت وسيع اور عظيم ہيں _ اس سے معلوم ہوتا ہے كہ آخرت كے بلند وبالا درجات كے حصول كے لئے ا سكے مطابق كوشش ضرورى ہے _

۷_آخرت كے مراتب كى عظمت پر توجہ اس كى بلند و بالا قدروقيمت كى طرف ميلان كى بناء پر ہے _

انظر وللا خرة اكبر درجات واكبر تفضيلا

الله تعالى كى انسانوں كو بلند ترين اخروى درجات ميں غوروفكر كى دعوت اس حوالے سے بھى ہوسكتى ہے كہ انسانوں ميں آخرت كى طلب اور اس كے عالى ترين درجات كے حصول كا انگيزہ پيدا ہو_

۸_قيامت كے دن آخرت كے طالب مؤمنين بہت عظےم مقام پر فائز اور عالى ترين درجات كے حامل ہونگے_

ومن ا راد الا خرة وسعى لها سعيها وهو مؤمن وللا خره ا كبر درجات وأكبرتفضيلا

۹_''عن النبى (ص) قال:''مامن عبد يريد ا ن يرتفع فى الدنيا درجة فارتفع إلّاوضعه اللّه فى الا خرة درجة ا كبر منها وا طول ثم قرء : وللا خرة ا كبر درجات وا كبر تفضيلاً _(۱)

____________________

۱) الدرالمنشور ج ۵ ص ۲۵۷_

۵۵

پيغمبر اسلام (ص) سے روات ہوئي ہے كہ آپ (ص) نے فرمايا :'' كوئي شخص ايسا نہيں ہے كہ جو چاہے كہ دنيا ميں كسى درجہ كے اعتبار سے ترقى كرے اور اسے حاصل بھى كرے مگر يہ كہ الله تعالى نے جو ا س كے لئے آخرت ميں دنياوى درجہ سے بڑھ كر اور وسيع درجہ قرار دياہے اس سے محروم كرے گا_ پھر آپ (ص) نے اس آيت كى تلاوت فرمائي :''وللا خرة أكبر درجات وا كبر تفضيلاً''

۱۰_''عن ا بوعمرو الزبيرى عن أبى عبدالله (ع) قال: قلت له : ''إن للايمان درجات و منازل ...؟ قال نعم، قلت له: صفه لي قال: ثم ذكر ما فضّل اللّه عزّوجلّ به أوليائه بعضهم على بعض فقال عزّوجلّ ''انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض وللأخرة أكبر درجات و أكبر تفضيلاً'' فهذا ذكر درجات الايمان ومنازله عنداللّه عزّوجلّ _(۱)

ابو عمر زبيرى كہتے ہيں كہ ميں نے امام صادق (ع) كى خدمت ميں عرض كيا: كيا ايمان كے بھى مراتب اور منزليں ہيں ؟ حضرت (ع) نے فرمايا : ہاں تو ميں نے عرض كيا مجھے بتائيں تو فرمايا : پس (قرآن نے) وہ چيز كہ جس كے ذريعے الله تعالى نے اپنے بعض اولياء كو بعض پربرترى دى ہے اسے بيان كيا اور فرمايا :'' انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض وللا خرة أكبر درجات وأكبر تفضيلاً '' پس يہ الله تعالى كے نزديك ايمان كے مراتب ومنازل ہيں _

آخرت كے طالب لوگ:آخرت كے طالب لوگوں كے اخروى مقامات ۸

الله تعالى :الله تعالى كا ارادہ ۲;اللہ تعالى كى دعوتيں ۱

الله تعالى كا لطف:الله تعالى كے لطف كے شامل حال لوگوں ميں فرق ۳

انسان:انسانوں ميں اقتصادى فرق ۲، ۵; انسانوں ميں اخروى مراتب ۷;انسانوں ميں فرق كى بنياد ۲;انسانوں ميں فرق سے عبرت ۱; انسانوں كے فرق ميں مطالعہ ۱; انسانوں كے اخروى اختلافات كى نشانياں ۵

اہميتيں :اخروى مقامات كى اہميت ۴;دنياوى مقامات كى اہميت ۴

ايمان :ايمان كے مراتب ۱۰

تدبّر:تدبّر كى اہميت ۱//ذكر:آخرت كے ذكر كے نتائج ۷

روايت:۹ ،۱۰//عبرت:عبرت كے اسباب ۱;عبرت كى اہميت ۱

____________________

۱) كافى ج ۲، ص ۴۱، ح۱، بحارالانوار ج ۲۲، ص ۳۰۹، ح ۹_

۵۶

كوشش:كوشش كى اہميت ۶; كوشش كے نتائج ۶

مقامات:اخروى مقامات۹;اخروى مقامات ميں مؤثر اسباب ۶;دنياوى مقامات كے نتائج ۹

مؤمنين :مؤمنين كے اخروى مقامات ۸;مؤمنين كے مقامات كے درجات ۱۰

ميلانات :اہميتوں كى طرف ميلان كا سرچشمہ ۷

نعمت:نعمت كے شامل حال لوگوں ميں فرق ۳

آیت ۲۲

( لاَّ تَجْعَل مَعَ اللّهِ إِلَـهاً آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوماً مَّخْذُولاً )

خبردار اپنے پروردگار كے ساتھ كوئي دوسرا خدا قرار نہ دينا كہ اس طرح قابل مذمّت اور لاوارث بيٹھے رہ جاؤ گے اور كوئي خدا كام نہ آئے گا (۲۲)

۱_الله تعالى كا انسانوں كو الله كے سوا كسى اورمعبود پر عقيدہ ركھنے اور اسے الله تعالى كے ساتھ شريك ومؤثر ماننے پر خبردار كرنا_لا تجعل مع اللّه إلهاً ء اخر

۲_انسانوں كى تخليق ، جزا، سزا اور نعمتوں كے عطا كرنے ميں الله تعالى كى وحدانيت كا تقاضا ہے كہ عقيدہ وعمل ميں ہر قسم كے شرك سے پرہيز كياجائے_وجعلنا الّيل والنهار وكلّ انسان ا لزمناه طائره لاتجعل مع اللّه إلهاً ء اخر

مندرجہ بالا مطلب دو نكات كى طرف توجہ سے حاصل ہوا :_

۱_ جملہ''لاتجعل مع اللّه إلهاً ...'' پچھلى آيات كے لئے نتيجہ كى مانند ہے اور ان آيات كے اصلى پيغام جو تين مرحلوں ميں آيا ہے مندرجہ بالا نتيجہ سے اخذ كيا جاسكتاہے اور ان كے ساتھ مربوط ہے_

۲_ ''لاتجعل'' كا كلمہ مطلق ہے جو ہر قسم كے شرك سے نہى كررہاہے _

۳_اللہ تعالى كے وجود اور افعال ميں وحدانيت كے عقيدہ كا ضرورى ہونا _لاتجعل مع اللّه إلهاً ء اخر

۴_قابل مذمت اور بے يارومددگار ہونا شرك كا يقينى انجام ہے_

۵۷

لاتجعل مع اللّه فتقعد مذموماً مخذولا

۵_تمام لوگوں كے لئے شرك كا خطرہ ہے_لاتجعل مع اللّه الهاً ء اخر

مندرجہ بالا مطلب كى بنياد يہ ہے كہ ''لاتجعل'' پيغمبر اسلام (ص) كى طرف بھى خطاب ہے چونكہ پيغمبر اسلام (ص) كوبھى اس خطرے سے خبردار كيا گيا ہے _ اس سے معلوم ہوتا ہے كہ شرك ميں مبتلا ہونے كا خطرہ سب كے لئے موجود ہے_

الله تعالى :الله تعالى كى جزائيں ۲;اللہ تعالى كے عذاب ۲;اللہ تعالى كے ممنوعات ۱

خالقيت :خالقيت ميں توحيد ۲

شرك:شرك كا پيش خيمہ ۵;شرك سے اجتناب كا پيش خيمہ ۲;شرك كا خطرہ ۵;شرك سے نہى ۱

عقيدہ :توحيد افعالى كا عقيدہ ۳;توحيد ذاتى كا عقيدہ ۳

مشركين :مشركين كا برا انجام ۴;مشركين كابے يارومددگار ہونا ۴;مشركين كو سرزنش ۴

نظريہ كائنات :نظريہ كائنات توحيدى ۳

آیت ۲۳

( وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيماً )

اور آپ كے پروردگار كا فيصلہ ہے كہ تم سب اس كے علاوہ كسى كى عبادت نہ كرنا اور ماں باپ كے ساتھ اچھا برتاؤ كرنا اور اگر تمھارے سامنے ان دونوں ميں سے كوئي ايك يا دونوں بوڑھے ہوجائيں تو خبردار ان سے اف بھى نہ كہنا اور انھيں جھڑكنا بھى نہيں اور ان سے ہميشہ شريفانہ گفتگو كرتے رہنا (۲۳)

۱_الله تعالى كا اپنى وحدہ لا شريك ذات كے سوا كسي موجود كى پرستش سے خبردار كرنا_

وقضى ربك ا لا تعبدوا إلّا إيّاه

۲_عبادت ميں شرك سے اجتناب كا حكم قطعى ہے اور تجديد نظر كى قابليت نہيں ركھتا _وقضى ربك ا لاّ تعبدوا إلّا إيّاه

كلمہ''قضى '' سے مراد ايسا حكم اور فرمان ہے كہ جو قطعى ہو اور تجديد نظر كے بھى قابل بھى نہ ہو

۵۸

۳_عبادت ميں توحید كا حكم الہى درحقيقت انسانوں كى ترقى اور كمال كے حوالے سے حكم ہے_

وقضى ربّك ا لّا تعبدوا إلّا إيّاه

''ربّ'' كا در حقيقت معنى تربيت ہے (مفردات راغب) پروردگار كى دوسرى صفات كى بجائے يہ صفت كا آنا ممكن ہے_ مندرجہ بالا مطلب كى طرف اشارہ كر رہا ہے_

۴_ہر ايك پر واجب ہے كہ اپنے ماں باپ كے ساتھ نيكى كرے_وقضى ربّك بالولدين إحسان

''إحسانا'' ميں تنوين تعظيم كے لئے ہے اور ''والدين ''ميں الف لام افراد ميں استغراق (عموميت) بيان كررہاہے_ لہذا يہ حكم ہر مكلف كے والدين كے لئے ہے_

۵_الله تعالى كى پرستش كے بعد ماں باپ كے ساتھ نيكى بہت اہميت كى حامل ہے_

وقضى ربّك إلّا تعبدوا إلّا إيّاه وبالوالدين إحسانا

يہ كہ الله تعالى نے اپنى خالصانہ عبادت كے بعد ماں باپ كے ساتھ نيكى كا حكم قرار ديا ہے_ مندرجہ بالا مطلب اس سے حاصل ہوتا ہے_

۶_انسانوں كے ايك دوسرے پر تمام حقوق ميں سب سے بڑا اور اہم ترين حق والدين كا حق ہے_

وقضى ربّك الاّ تعبدوا إلّا إيّا وبالوالدين إحسانا

۸_انسان كى پرورش اور تربيت كرنے والے اس كى گردن پر حق ركھتے ہيں _

وقضى ربّك إلّا تعبدوا إلّا إيّاه وبالوالدين إحسانا

ذات واحد كى ربوبيت كے بعد والدين كے ساتھ نيكى كا ذكر كرنا (وقضى ربّك ...) ہوسكتا ہے اس لئے ہو كہ وہ انسان كى پرورش اور تربيت ميں تا ثير ركھتے ہيں _

۹_ماں باپ سے نيكى كا بہر صورت شائبہ شرك سے خالى ہونا_وقضى ربّك الاّ تعبدوا إلّا إيّاه وبالوالدين إحسانا

توحيد اور شرك سے پرہيز كے حكم كے بعد والدين سے نيكى كا حكم ہوسكتا ہے كہ اس بات كو بيان كر رہاہو كہ والدين سے حد سے زيادہ محبت واحسان ممكن ہے انسان كو شرك كى طرف لے جائے اس لئے ضرورى ہے كہ يہ محبت واحسان شائبہ شرك سے خالى ہو_

۱۰_والدين كا بڑھاپا اولاد پر انكے حوالے سے ذمہ

۵۹

داريوں كو بڑھانے كا سبب بنتا ہے_إما يبلغّن عندك الكبر ا حدهما ا و كلاهما فلا تقل لهما ا ف ولا تنهر هما وقل لهما قولاً كريم

۱۱_بوڑھے والدين كا خيال ركھنا اولاد كى ذمہ دارى ہے_وبالوالدين إحساناً إما يبلغنّ عندك الكبر فلا تقل لهمإ فّ مندرجہ بالا نكتہ اس لئے ہے كہ اس آيت كى مخاطب''اولاد''ہے اسى طرح ''عندك'' (تمہارے پاس) ظرف واضح كررہاہے كہ اولاد اس طرح اپنے والدين كا خيال ركھے كہ گويا ان كے ہاں رہ رہے ہيں اور قريب سے ان كا خےال ركھے ہوئے ہيں _

۱۲_والدين كا اولاد كے پاس ہونا اولاد كى ذمہ دارى بڑھاتاہے_إمّا يبلغنّ عندك الكبر

''عندك الكبر'' سے ممكن ہے يہ حقيقت بيان ہو رہى ہو كہ اگر والدين بچوں كے پاس رہ رہے ہوں تو ان كے خيال كى ذمہ دارى بڑھ جاتى ہے اور اس وقت ان كى ہر قسم كى بے احترامى حتّى كہ كلمہ ''اف''كہنے سے بھى پرہيز كيا جائے_

۱۳_ماں باپ بڑھاپے كى حالت ميں بچوں كى طرف سے بے احترامى كے خطرے ميں ہيں _

إمّا يبلغنّ عندك الكبر فلا تقل لهما ا فّ ولا تنهرهما وقل لهما قولاً كريما

والدين كے ساتھ نيكى كا حكم مطلق ہے_ تمام والدين خواہ كسى سن وسال ميں ہوں ان كو شامل ہے_ جملہ ''إمّا يبلغنّ عندك الكبر'' ممكن ہے اسى مندرجہ بالانكتہ كى طرف اشارہ كر رہا ہو _

۱۴_والدين كے ساتھ ہر قسم كا جھگڑا اور اہانت حتّى كہ ''أف'' كہنے كى حد تك ممنوع ہے_فلا تقل لهما ا ُفّ

۱۵_اولاد كى ذمہ دارى ہے كہ اپنے بوڑھے ماں باپ كى ضرورتوں كا مثبت جواب ديں اور ان كى ضرورتوں كو پورا كرنے سے كبھى بھى دريغ نہ كريں _ولا تنهر هم

''نہر'' سے مراد منع كرنا ہے اور روكنا ہے (لسان العرب)

۱۶_اولاد كى ذمہ دارى ہے كہ والدين كے ساتھ ملائمت اور مودبانہ انداز ميں برتائو كريں اور ان سے بات كرتے وقت ان كے احترام كا خيال ركھيں _ولا تقل لهما ا فّ وقل لهما قولاً كريما

۱۷_بوڑھے والدين ميں سے كسى ايك يا دونوں كا اولاد كے پاس ہونا ان كے احترام كى مقدار ميں كوئي تا ثير نہيں ركھتا بلكہ دونوں برابر حقوق كے مالك ہيں _وبالولدين احساناً إمّا يبلغنّ عندك الكبر ا حدهما ا وكلاهم

۱۸_''عن إبن عباس قال: لمّا انصرف أميرالمؤمنين من صفين قام إليه شيخ فقال: يا أميرالمؤمنين ا خبرنا عن مسيرن هذا ا بقضاء من اللّه وقدر؟

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300