امام مہدی کی آفاقی حکومت

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت13%

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت مؤلف:
: عرفان حیدر
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 300

امام مہدی کی آفاقی حکومت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 300 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 180632 / ڈاؤنلوڈ: 4528
سائز سائز سائز
امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت

امام مہدی کی آفاقی حکومت

مؤلف:
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ عصرِ غیبت کی تمام ٹیکن الوجی ناقص ہے۔اس میں جو تکامل ہونا چاہیئے تھا، وہ نہیں ہوا اور یہ تکامل سے عاری ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ ظہور کاباعظمت ،بابرکت اور پُر نور زمانہ ہرلحاظ سے تکامل کی اوج پر ہوگا۔وہ زمانہ ما بعد مادہ سے بڑھ کربہت عظیم قدرت سے سرشار ہوگا ۔ جس کی وجہ سے نہ صرف ٹیکن الوجی اور مادّی صنعت میںترقی ہوگی ۔ بلکہ  برتر قدرت ،طاقت سے بھی مستفیض ہوگا۔

ہم اپنے اس دعوے کو خاندانِ عصمت وطہارت علیھم السلام کے حیات بخش فرامین سے ثابت کرتے ہیں ۔ لہذا ہم ایسی روایت نقل کرتے ہیں کہ جس سے بعض لوگ  ظہور کے زمانے کی پیشرفتہ صنعت کے لئے استدلال کرتے ہیں۔اب اصل روایت پر توجہ کریں۔

ابن مسکان کہتے ہیں کہ میں نے اما م صادق علیہ السلام سے سنا کہ کہ آنحضرت نے فرمایا:

''ان المؤمن فی زمان القائم وهو بالمشرق لیری أخاه الّذی فی المغرب وکذا الّذی فی المغرب یری اخاه الّذی فی المشرق'' (۲)

یقینا قائم علیہ السلام کے زمانے میں مؤمن شخص مشرق میں ہوگا۔ لیکن وہ مغرب میں موجود اپنے بھائی کو دیکھ سکے گا۔اسی طرح جو مغرب میں ہوگا وہ مشرق میں موجود  اپنے بھائی کو دیکھ سکے گا۔

--------------

[۲]۔ بحارالانوار: ۵۲ ص۲۹۱

۲۲۱

  عصر ِ ظہور میں قدرت کے حصول کی تحلیل

روایت سے جو بہترین نکتہ استفادہ کیا جا سکتا ہے،وہ یہ ہے کہ زمانۂ ظہور میں بشریت کے لئے حیرت انگیز تبدیلیاںوجود میں آئیں گی کہ جس کی وجہ سے انسان روئے زمین کے کسی دور دراز   علاقے میں بیٹھے اپنے دوستوں اور عزیزوں کو دیکھ سکے گا۔ہزاروں کلو میٹر کی دوری کے باوجود انہیں  آسانی سے دیکھاجا سکے گا  اور ان کے حالات سے آگاہی حاصل کی جا سکے گی۔

زمانۂ ظہور میں انسان کو حاصل ہونے والی اس قدرت کی چند صورتوں سے تجزیہ و تحلیل کرنا ممکن ہے ۔

۱ ۔جس طرح انسان ک ی قوّت فکر کامل ہوجائے گی اور اس کی قوّت ارادہ بھی قوی ہوگی۔ پھر ارادہ اور فکر کے متمرکز ہونے سے وہ دنیا کے ہر حصے کو ملاحظہ کر سکے گا ۔یعنی اس کی ظاہری نظر میں وسعت آجائے گی،یا یہ کہ رؤیت سے مراد رؤیت باطنی

یا دل کی آنکھوں سے دیکھنا مقصود ہے۔گز شتہ ابحاث میں زمانہ ظہور میں تحوّل فکر اور تقویت ارادہ کے بارے میں بیان کئے گئے مطالب کی رو سے یہ تحلیل ایک فطری امر ہے۔

۲ ۔ ظہور کے درخشاں اور نعمتوں سے سرشار زمانے م یں صنعت اور ٹیکنالوجی میں ایسی ترقی ہو   گی کہ انسان جدید وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کائنات کے مشرق و مغرب میں دیکھ سکے گا۔

البتہ یہ نکتہ بھی مد نظر رکھنا چاہیئے کہ اب ہمارا ذہن کمپیوٹر،انٹر نیٹ اور ٹیلی وژن سے آشنا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ ہم انٹر نیٹ کے ذریعہ ایک دوسرے کی تصویردیکھ سکتے ہیں۔ایسے تصویری وسائل کی وجہ سے ممکن ہے کہ ہم آئندہ کی پیشرفتہ ایجادات کو بھی ایک قسم کا تصویری وسیلہ سمجھیں۔حالانکہ ممکن ہے کہ آئندہ انسان کے اختیار میں آنے والے وسائل نہ صرف تصویری ہوں بلکہ ان کے تجسّم کو بھی دکھائیں۔

۳ ۔ اس کی دیگر تحلیل بھی کی جاسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آئندہ معنوی اور مادّی لحاظ سے انسان کے لئے جو حیرت انگیز اور بے نظیر پیشرفت میسر آئے گی۔انسان ان دونوں سے استفادہ کرسکے گا کہ جنہیں ہم نے بیان کیا۔

۲۲۲

۴۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا،اس کے لئے ایک اور تحلیل کرنا بھی ممکن ہے اور وجہ یہ ہے کہ باطنی قوّت میں اضافہ سے انسان اپنے مثالی وجود کو دنیا کے کسی کونے میں بیٹھے ہوئے اپنے عزیز یا دوست  کے سامنے حاضر کرسکے گا وہ اپنے مثالی وجود کو تجسّم بخشے گا یا تجسّم کے بغیر ہی  اپنے بھائیوں کو دیکھ سکے گا۔

اس رویات کی توضیح میں جس نکتہ کا اضافہ کرنا چاہیئے وہ یہ ہے کہ چاہے ہم گزشتہ تحلیلات میں سے سب یا کچھ یا کسی ایک تحلیل کو قبول کریں  یا روایت کی توضیح میں کوئی اور تحلیل لائیں۔لیکن اس مطلب کوضرورمدنظر رکھیں کہ اس روایت کے ظاہر سے یہ استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ قدرت یعنی دنیا کے کسی خطے میں بیٹھے انسان کو دیکھنا،ایک ایسی حالت ہے کہ جو عام لوگوں کے لئے وجود میںآئے گی۔یعنی روایت سے عمومی حالت استفادہ ہوتی ہے۔

اس بناء پر جس روایت سے بھی رؤیت کی وضاحت کریں،لیکن یہ جان لیں کہ ظہور کے زمانے میں دور افتادہ علاقوں سے رؤیت صرف کسی خاص گروہ کی خصوصیات میں سے نہیں  ہے۔بلکہ عام لوگوں میں یہ قدرت پیدا ہوگی۔

۵ ۔ رؤ یت اور ایک دوسرے کو دوسری طرح دیکھنا بھی ممکن ہے اور وہ طرف مقابل کا انسان کے پاس حاضر ہونا ہے۔مذکورہ بعض صورتوں کے برعکس ۔ روایات میں اسی طرح کی اور روایات بھی وارد ہوئی ہیں کہ جو بھی حضرت خضر علیہ السلام کو سلام کرے ،وہ ان کے نزدیک حاضر ہوتے ہیں۔ اب اس روایت پرتوجہ کریں۔

ایک روایت میں حضرت امام رضا علیہ السلام ، حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں فرماتے ہیں: ''انہ لیحضر حیث ماذکر، فمن ذکرہ فیکم فلیسلّم علیہ ''(۱) انہیں جب یا د کیا جائے وہ حاضر ہوجاتے ہیں۔پس تم میں سے جوبھی انہیں یاد کرے،ان پر سلام بھیجے۔ہم نے جوصورتیں ذکر کی ہیں،ان میں سے بعض کا لازمہ انسان کا دو یا دو سے بیشتر جگہوں پر ہونا ہے۔

--------------

[۱]۔ صحیفہ مہدیہ: ۹۸

۲۲۳

۶ ۔ظہور کے درخشاں اور با عظمت زمانے کی تبدیلیوںمیں سے ایک تبدیلی انسان کی آنکھوں اور بصارت میں رونما ہوگا۔ اس کی قوّت ِ بصارت میں اس قدر اضافہ ہو گا کہ اس میں دور  دراز کے علاقوں کو دیکھنے کی قدرت فراہم ہوجائے گی۔ (۲)

--------------

[۲] ۔ اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہے کہ ظہور کے زمانے میں انسان کے جسم میں جوتحوّلات وجود میں آئیں گے۔ وہ انسان کی آنکھوں اور قوة باصرہ پر بھی اثر انداز ہوں گے، گزشتہ زمانے میں بھی کچھ ایسے افراد تھے کہ جن کے قوت بصارت بہت  قوی تھی۔ان میں سے ایک ابو علی سینا ہیں ۔ ا ن سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں دن کے وقت ستارہ عطارد کو دیکھا کہ مقار ن وقت میں وہ سورج پر ایسے  تھا جیسے چہرے پر تل ہو ۔اگرچہ عطارد دوسرے آسمان اور سورج چوتھے آسمان پر ہے۔ لیکن چونکہ مقارن تھے۔یعنی ایک برج اور ایک دقیقہ میں جمع ہوئے تھے۔لہذا ایسے لگتا تھا جیسے سورج کے چہرے پرتل ہو(گلزار کبریٰ۳۸۳)

قصص العلماء میں ان کی قوت باصرہ کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کی بصارت اس حد تک تھی کہ وہ چار فرسخ کے فاصلے سے مکھی کو دیکھ لیتے تھے۔ایک روز وہ سلطان کی مجلس میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ اس نے دور بین لگائی ہوئی ہے۔

شیخ نے پوچھاکہ یہ دوربین کس لئے لگائی ہے؟سلطان نے کہا:چار فرسخ سے ایک سوارآرہا ہے میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ کون ہے؟

شیخ نے کہا چار فرسخ کے لئے دوربین کی کیا ضرورت ہے پھر شیخ نے اس جانب دیکھ کر کہا کہ فلاں شکل اور لباس میں ملبوس ایک سوار آرہا ہے۔اس کا گھوڑافلاں رنگ کا ہے۔وشیرینی کھارہا ہے۔سلطان نے کہا کہ شیرینی مطعومات میں سے ہے نہ کہ مرئیات میں سے ہے ۔ پس آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ شیرینی کھا رہا  ہے؟

ابو علی سینا نے اس کے جواب میں کہا! کیونکہ اس کے منہ کے ارد گرد کچھ مکھیاں اڑ رہی ہیں ۔ یہ اس چیز کی علامت ہے کہ وہ شیرینی کھارہا ہے۔جب وہ سوار آیا تو اس سے اس بارے میں پوچھا گیاتو اس نے وہی کہا۔جو کچھ شیخ نے کہا تھا ۔ اسی طرح اس کی شکل صورت، لباس اور گھوڑے کا رنگ بھی ویسا ہی تھا، جیسے شیخ نے بتایا تھا۔ایک قول کے مطابق شیخ نے کہا کہ وہ روٹی  کھارہا ہے۔ کیونکہروٹی کے ذرات اس کی داڑھی اور مونچھوںمیں گرے ہوئے ہیں ۔ تفحص کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ جیسا شیخ نے کہا تھا ،وہ درست تھا۔

(گلزار کبریٰ:۳۸۲) ہمارے زمانے میں بھی کچھ ایسے افراد ہیں کہ کاقوّہ باصرہ بہت قوی ہے۔

۲۲۴

 انسان کی بصارت میں ایجاد ہونے والا تحوّل ایسا ہوگا کہ اس میں حیرت انگیز  اضافہ وجود میں آئے گا۔ زمانۂ ظہور میں انسان کی قوّہ باصرہ میں حیران کن اضافہ کے بارے میں اس روایت پر توجہ کریں ۔امام صادق  علیہ السلام  فرماتے ہیں:

''انّ قائمنا اذا قام مدّ اللّٰه لشیعتنا فی أسماعهم و أبصارهم حتی (لا) یکون بینهم و بین القائم برید، یکلّمهم فیسمعون و ینظرون الیه وهو فی مکانه '' (۱)

بے شک جب ہمارا قائم  علیہ السلام  قیام کرے گا تو خداوند متعال ہمارے شیعوں کے کانوں اور آنکھوںمیں کشش پیدا فرمائے  گا۔(ان کی قدرت میں اضافہ فرمائے  گا) یہاں تک کہ ان کے اور حضرت قائم علیہ السلام کے درمیان کسی واسطہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔وہ ان کے ساتھ بات کرے گا اور وہ سنیں گے اور وہ  ان کی طرف دیکھیں گے۔حالانکہ وہ اپنی جگہ پر ہوں گے۔

یہ روایت واضح طور پر دلالت کرتی  ہے کہ زمانۂ ظہور میں خدا وند متعال انسان کے دیکھنے اور سننے کی قدرت میں اضافہ فرمائے گا۔سب حضرت بقیةاللہ الاعظم (عج) کو دیکھ سکیں گے۔ چاہے وہ کسی بھی جگہ پر ہوں،اسی طرح وہ آنحضرت  کی آواز بھی سن سکیں گے۔

 روایت میں تفکر

قابل ذکر بات یہ ہے کہ بعض مصنفین ایسی روایا ت کا مصداق ٹیلیویژن کو قرار دیتے ہیں ۔ حالانکہ روایت میں موجود تعبیر کو دیکھ کر کسی بھی صورت میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ روایت میں امام صادق کی مراد و مقصود ٹیلیویژن ہے۔

--------------

[۱] ۔ بحارالانوار: ج ۵۲ص۳۳۶

۲۲۵

کیونکہ:

۱ ۔امام صادق عل یہ السلام  فرماتے ہیں:مؤمن اپنے بھائی کو دیکھے گا ۔اگر آنحضرت  کی مراد ٹیلیویژن ہوتی تو پھر دنیا کے سب لوگ ٹیلیویژن پر دکھائی دینے چاہیئں  تاکہ ان کے بھائی انہیں کرۂ زمین  کے دوسری طرف سے بھی دیکھ سکیں۔کیونکہ''المؤمن'' میں الف و لام جنس کے لئے آیاہے ۔جو کہ مطلق ہے۔جس میں تمام مؤمنین شامل ہیں ۔حالانکہ ٹیلیویژن سے ایسا استفادہ نہیں کیا جاسکتا کہ ہر کوئی اس میں اپنے بھائی کو دیکھ سکے ۔بلکہ صرف انہی کو ہی ٹیلیویژن پردیکھا جاسکتا ہے کہ جو ریکارڈنگ یافلم میں موجود ہوں۔

اب تک دنیا کی کروڑوں اربوں افرادکی آبادی میں سے کتنے افراد نے اپنے بھائیوں کوٹیلی ویژن پر دیکھا ہے۔

روایت میں کچھ دیگر قابل توجہ نکات بھی موجود ہیں کہ جو اس مطلب کی تائید کرتے ہیں۔یعنی جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اپنے برادرِ مؤمن کو کرۂ زمین کے دوسری طرف دیکھنا یقینی  ہے۔

کیونکہ :

۱ ۔ یہ روایت جملہ اسمیہ سے شروع ہوئی ہے۔

۲۔ اس کی ابتداء میں کلمہ'' اِنَّ '' ہے۔

۳ ۔ ''ل یری اخاہ'' میں  لام لایا گیا ہے ۔یہ سب اصل مطلب کی تاکیدپر دلالت کرتے ہیں ۔

ان نکات پر توجہ کرنے سے معلوم ہوگا کہ ظہور کے بابرکت زمانے میں ہر مؤمن شخص اپنے بھائی کو بہت دور دراز کے علاقوں سے دیکھ سکے گا۔یہ ایسا مطلب ہے کہ جسے امام صادق علیہ السلام نے روایت میں کئی تاکیدات کے ساتھ بیان کیا ہے۔

۲ ۔ ظاہر روایت یہ ہے کہ مشاہدہ میں بھائی کوئی خصوصیت نہیں رکھتا بلکہ امام  نے اسے مثال کے طور پر بیان کیا ہے۔ورنہ اس زمانے میں مؤمن نہ صرف اپنے بھائی بلکہ ماں،باپ،بہن،بیٹی،بیوی اور تمام دیگر رشتہ داروں کو بھی دیکھ سکے گا۔

۲۲۶

لیکن اگراس سے مراد ٹیلیویژن ہو تو پھر کوئی ایسا پروگرام ہونا چاہیئے تاکہ مؤمن انہیں دیکھ سکے۔

۳ ۔ ظاہر روا یت یہ ہے کہ اس روایت میں دیکھنے سے مراد طرفینی ہے۔یعنی جس طرح مشرق  میں بیٹھا ہوا شخص ،مغرب میں بیٹھے ہوئے اپنے بھائی کو دیکھ سکے گا۔اسی طرح جو مغرب میں ہوگا وہ مشرق میں بیٹھے ہوئے اپنے بھائی کوبھی دیکھ سکے گا۔یعنی دونوں ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے۔لیکن ٹیلیویژن میں ایسا نہیں ہے۔کیونکہ ٹیلیوژن دیکھنے والا پروگرام میں حاضر افراد کو تو دیکھ سکتا ہے۔ لیکن وہ اسے نہیں دیکھ سکتے۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے قوّہ سامعہ  اور قوہ باصرہ کو حضرت  مہدی علیہ السلام  کے  قیام کے زمانے سے مقید کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو......

اس سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ آنحضرت  کے قیام سے پہلے قوہ باصرہ اور سامعہ اس قدر قوی نہیں ہوں گے۔

اس بناء پر  یہ نہیں کہ سکتے کہ آنحضرت کی مراد ٹیلیویژن نہیں تھی ،جیسا کہ چند مصنفین نے اس روایت میں امام صادق علیہ السلام کے فرمان کا مصداق ٹیلیویژن کو قرار دیا ہے کہ جو پہلے ایجاد ہوا ہے ۔ کیونکہ  روایت  کا ظاہریہ ہے کہ آنحضرت زمانہ ظہور کی خصوصیات کو بیان کررہے ہیں۔

۴۔ اگر اس کلام سے امام  کی مراد ٹیلیوژن ہوتی تو یہ  امام  کے زمانۂ ظہورکے لئے کوئی امتیازنہیں ہے۔کیونکہ ٹیلیوژن آنحضرت  کے قیام سے پہلے ایجاد ہوا ہے۔جس نے غیبت کے زمانے میں بہت سے لوگوں کو مزید تاریکی میں دھکیل دیا ہے۔

۵ ۔ اگر ٹیلیوژن دیکھنے سے انسان مختلف افراد کو دنیا کے دور دراز علاقوں سے دیکھ سکتا ہے۔لیکن صنعتی وسائل کے ذریعے دیکھنے سے قوّہ باصرہ اور سامعہ میں اضافہ کا کوئی معنی نہیں بنتا۔

۶۔ اس روایت میں ذکر شدہ خصوصیت شیعوں سے مختص ہے ۔کیونکہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں''مدّ اللّٰہ لشیعتنا''حالانکہ ٹیلیوژن سے استفادہ کرنا فقط شیعوں سے مخصوص نہیں ہے۔

۲۲۷

۷ ۔ ٹیلیویژن دیکھنے سے نہ صرف قوّت باصرہ قوی نہیں  ہوتی ہے بلکہ دانشوروں کے مطابق ٹیلیویژن دیکھنا آنکھوں کے لئے مضر ہے۔پس معلوم ہوا کہ ٹیلیوژن دیکھنا قوت باصرہ میں اضافہ  کاباعث نہیں ہے۔

۸۔ اگر روایت سے مراد ظاہرسے مراد ظاہر ی وسائل ہوں تو ہمارے پاس کیا دلیل ہے کہ وہ وسیلہ ٹیلیویژن ہی ہے۔شایدٹیلیوژن کے علاوہ کوئی اور جدید ترین وسیلہ و ذریعہ ہو۔پس اگر یہ احتمال بھی دیا جائے تو آنحضرت  کی مقصود ٹیلیوژن کے علاوہ کوئی چیز ہے توآپ کس دلیل کی بناء پر امام  کے کلام کو ٹیلیوژن پر حمل کرسکتے ہیں؟

۹ ۔ بہت س ی روایات میں یہ بہترین نکتہ موجود ہے کہ جو اس مطلب کی تصریح کرتا ہے کہ دیکھنے اور سننے کی حس میں جو تبدیلیاں رونما ہوںگی  ،وہ زمانہ ظہور اور آنحضرت کے قیام کے بعد واقع ہوں گی۔

اس بناء پر پر ٹیلیوژن ،کمپیوٹر،انٹرنیٹ اور ایسے ہی دوسرے وسائل و آلات کہ جو آنحضرت کے ظہور سے پہلے ہوں،اس سے ان سب کی نفی ہوتی ہے اور اس روایت میں یہ سب شامل نہیں  ہیں۔

امام صادق علیہ السلام نے انسان کے جسم میں رونما ہونے والے تحوّلات کوحضرت مہدی  علیہ السلام کے ظہور اور قیام کے بعد سے مقیّد کیا ہے اور فرمایا ہے (انّ قائمنا اذا قام۔۔) جس میں اس بارے میں تصریح ہوئی ہے کہ انسا ن میں واقع ہونے والی عظیم تبدیلیاں امام  کے قیام کے بعد واقع ہوںگی۔

۱۰ ۔ دوسرا بہترین نکتہ یہ ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام  فرماتے ہیں(مد اللّٰہ لشیعتنا فی أسماعھم و أبصارھم ۔۔۔)خداوند کریم ہمارے شیعوں کی آنکھوں اور کانوں میںکشش ایجاد کرے گا۔جس سے ان کے دیکھنے اور سننے کی قدرت میں اضافہ ہوگا۔اگرآنحضرت کی اس تبدیلی سے مراد ٹیلیوژن و کمپیوٹر جیسا ظاہری وسیلہ ہو تو یہ واضح سی بات ہے کہ ان سے افراد کی بصارت اور سماعت میں کسی قسم کی تبدیلی پیدا نہیں ہوا اور ان کی قدرت میں بھی کسی قسم کا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

۲۲۸

۱۱ ۔ ایک اور  قابل غور نکتہ یہ ہے کہ امام صادق  علیہ السلام فرماتے ہیں(مد اللّٰہ۔۔۔)یعنی وہ اس تبدیلی کو خدا سے نسبت دیتے ہیں اور اسے خدا کا کام سمجھتے ہیں۔یعنی امام مہدی  علیہ السلام کے  قیام کے بعد خدا  لوگوں میں تبدیلی ایجاد فرمائے گا۔جو ایک غیر طبیعی وغیر فطری تبدیلی کی دلیل ہے۔عبارت سے واضح ہے کہ ٹیلیویژن یا دیگر وسائل کی ایجاد کو خدا وند کریم سے نسبت نہیں دیتے۔

۱۲ ۔ حضرت ول ی عصر (عج) اپنی حکومت اور نظام حکومت میں غیر معمولی معنوی قوّت و قدرت سے استفادہ کریں گے ۔اسی طرح وہ دنیا اور دنیا والوں کے تکامل کے لئے لوگوں میں تبدیلی ایجاد کریں گے۔

اس بیان کی رو سے بعض لوگوں کی یہ خام خیالی بھی واضح ہوجاتی ہے۔لہذا انہیں اپنے افکار کی اصلاح کرنی چاہیئے۔یہ چھوٹی سوچ رکھنے والے گمان کرتے ہیں کہ وہ اپنی اس سوچ کے ذریعہ دنیا کا نظام چلا سکتے ہیں۔

۱۳ ۔ زمانہ ظہور ک ی خصوصیات میں سے ایک زمان و مکان کی محدودیت کا ختم ہوجانا ہے۔لیکن افسوس کہ اب تک ایسے ابحاث کے بارے میں تحقیق و جستجو نہیں کی گئی کہ جو ہمارے معاشرے کے لئے انتہائی مفید اور  برکت کاباعث ہیں۔ ظہور کے زمانے کی برکتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے برکتوں کا زمانہ کہہ سکتے ہیں۔

ممکن ہے کہ ظہور  کے زمانے میں زمان و مکان کے مسئلہ میں تبدیلی کے بارے میں بحث ہمارے لئے نئی ہو،لیکن روایات اور خاندانِ عصمت و طہارت  علیہم السلام کے فرامین میں جستجو کرنے سے معلوم ہوگا کہ ان کے بارے میں ابحاث موجود ہیں۔لیکن معاشرے کاایسے مہم مطالب سے آشنانہ ہونا اس چیزکی دلیل نہیں ہے کہ یہ ابحاث اہلبیت علیھم السلام کی روایات میں بیان نہیں ہوئی ہیں۔

ہم نے جو یہاں روایت نقل کی،وہ اس کا چھوٹا سا نمونہ تھا کہ جس میں امام صادق علیہ السلام نے ظہور  کے زمانے میں مکان کی محدودیت کے ختم ہونے سے پردہ اٹھایا اور اسے ایک قطعی و حتمی مطلب کے طور پر بیان کیا۔

۲۲۹

اس بناء پر جیسا کہ روایت کے متن سے واضح ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام کے اس فرمان ''مد اللّٰہ لشیعتنا''سے مرادانسان کے وجود میں  تبدیلی ہے نہ کہ ان کے وجود سے باہر کوئی تبدیلی کہ جو ظاہری اسباب و وسائل کے ذریعے ہو۔

طولِ تاریخ میں  اب تک انسان کا زمان و مکان کی قید سے مقید ہونا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جس کے لئے توضیح اور بحث کی ضرور ت ہو۔ بلکہ یہ سب کے لئے واضح ہے کہ انسان زمان و مکان کی قیدمیں اسیر تھا اور اسیر ہے۔اب تک انسان نے اس قید سے نکلنے کی بہت سی کوششیں کیں ۔ لیکن یہ محدودیت فقط ظہور کے زمانے ہی میں ختم ہوگی۔

امام صادق علیہ السلام نے یہ جو جملہ ارشاد فرمایا:(لیریٰ اخاه الذی فی المغرب...) یہ محدودیت مکانی کے برطرف ہونے کی دلیل ہے ۔کیونکہ اس روایت میں حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے ظہورکے زمانے کو یوں توصیف کیا گیا ا ہے کہ اس زمانے میں یقینا مؤمن دنیا کے مشرق سے مغرب میں بیٹھے ہوئے بھائی کو دیکھے سکے گا۔

یہ نکتہ اس چیز کی دلیل ہے کہ ان دونوں افراد کے درمیان ہزاروں کلومیٹرکا طولانی فاصلہ اور دونوں کا ایک دوسرے سے دور ہونا،اس چیزکی دلیل نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے۔ بلکہ کہ ان کے درمیان اتنے زیادہ فاصلے کے باوجود وہ  ایک دوسرے کودیکھ سکیں گے۔

یہ خود مکان کے مسئلہ کے برطرف ہونے کی دلیل ہے ۔ کیونکہ اتنی مسافت و دوری کے باوجود بھی وہ گویا یا ایک ہی جگہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے۔کیا یہ تمام پیشرفت اس تبدیلی کی وجہ سے ہے کہ جوایک وسیلہ و آلہ کی ایجاد سے انسان کی بصارت میں اضافہ کرے گی؟

علم و دانش کسب کرنے کے لئے عقلی تکامل (سمع و بصر کی قدرت کے علاوہ) اور مادّہ سے بڑھ کر دیگر قدرت کو کسب کرنے کا بہت مہم ذریعہ ہے۔

۲۳۰

مذکورہ تمام احتمالات کے با وجود ممکن ہے کہ زمانہ ظہور میں مشرق و مغرب سے ایک دوسرے کو دیکھنا کسی اور طرح سے ہی ہوگا کہ جہاں تک ہماری فکرنہیں پہنچ سکتی۔

  موجودہ صنعت پر ایک نظر

ہم نے ظہور کے بابرکت اور درخشاں زمانے میں علم و دانش کی حیرت انگیز پیشرفت اور امام زمانہ علیہ السلام کی عالمی حکومت میں عقلی تکامل کے بارے میں جو مطالب ذکر کئے،ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دور حاضر میں صنعتی ٹیکنالوجی کے بہت سے وسائل اس وقت بے کار اور ناکارہ ہوجائیں گے ۔ اگرچہ آج انسان ان سے استفادہ کرتا ہے۔اس کی دلیل اس وقت عملی و علمی ترقی اور عقلی تکامل ہے ۔ جیسا کہ آج کل انسان نے جدید اور تیز ترین گاڑیوں کے آنے سے بگھی ،تانگہ وغیرہ کو چھوڑ دیا ہے ۔ اس زمانے میں بھی انسان علم و دانش میں ترقی کی وجہ سے موجودہ دور کے جدید وسائل کو چھوڑ کر علمی وعقلی تکامل کے زمانے کے وسائل سے استفادہ کرے گا۔

کیا یہ صحیح ہے کہ بشریت علم اور زندگی کے ہر شعبے میں بے مثال ترقی کرنے کے باوجود گزشتہ زمانے کے وسائل سے استفادہ کرے؟

کیاجدید وسائل کے ہوتے ہوئے پرانے زمانے کے وسائل سے استفادہ کرنا پسماندگی اور گزشتہ زمانے کی طرف لوٹنا شمار نہیں ہوگا؟

کسی شک و تردید کے بغیرقطعی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح انسان سوئی اور دھاگے کو چھوڑ کر جدید سلائی مشینوں سے استفادہ کرتا ہے۔جس طرح تانگہ اور بگھی کو چھوڑ کر جدیدترین اور آرام دہ گاڑیوں پر سفر کر تا ہے۔اسی طرح انسان آج کی علمی و صنعتی ترقی سے دورِ حاضر کے جدیدوسائل سے استفادہ کررہا ہے

۲۳۱

لیکن جب یہ علمی و صنعتی ترقی تکامل کی حد تک پہنچ جائے تو پھر انسان موجودہ دور کے وسائل کو چھوڑ کر اس دور کے جدید ترین وسائل سے استعمال کرے گاکہ آج کے دور کے وسائل کی ان کے سامنے کوئی اہمیت  نہیں ہو گی۔

اس مطلب کی وضاحت کے لئے ایک مثال ذکر کرتے ہیں:

اگر کوئی سورج سے توانائی حاصل کرکے گاڑی چلاسکے تو کیا پیٹرول یا ڈیزل استعمال کرکے  فضاکو آلودہ کرنا صحیح ہے؟

جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ اس زمانے میں نہ صرف انسان علم و صنعت میں موجودہ مادی وسائل کی بہترین اور کاملترین انواع سے میں استفادہ کرے گا۔بلکہ معنوی امور میں پیشرفت اور  ملکوت تک رسائی سے بہت سی ناشناختہ  قوتیں حاصل کرے گا کہ جن سے استفادہ کرکے انسان بہت ہی پیشرفتہ اور جدید  وسائل تک رسائی حاصل کرکے ان سے استفادہ کرسکتا ہے۔

اس بناء پر ہم یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے جدید وسائل (سب کے سب یا ان میں سے اکثر)علم و دانش کے اس درخشاں زمانے میں ترک کردیئے جائیں گے۔

یہ واضح ہے کہ اس کام سے گزشتہ زمانے کی طرف لوٹنا لازم نہیں آتا ہے ۔ بلکہ عقل و علم کے تکامل سے انسان زمانۂ ظہور اور امام زمانہعلیہ السلام کی الہٰی حکومت میں علم و صنعت کے تکامل سے جدیدترین وسائل کو استعمال کرے گا۔اگر انسان اس زمانے میں بھی موجودہ دور کے آلات و وسائل سے استفادہ کرے تو یہ ایسے ہی ہوگا جیسے آج ہم برق رفتار اور جدید ماڈل کی آرام دہ گاڑیوں کے باوجود تانگہ اور بگھی سے استفادہ کریں۔

ظہور کے پر نور زمانے کی تبدیلیوں اور اس زمانے کے علمی و عقلی تکامل سے آگاہ افراد کے لئے یہ ایک واضح حقیقت ہے۔

کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جس طرح گزشتہ زمانے کی بہ نسبت علمی ترقی نے آخری ایک صدی  کے دوران صنعت و ٹیکنالوجی میں بہت سی تبدیلیاں وجود میں لائی ہیں ۔اسی طرح امام مہدی علیہ السلام کی الہٰی حکومت کے دوران غیر معمولی  علمی ترقی سے بہت سی حیران کن تبدیلیاںوجود میں آئیں گی کہ موجودہ ترقی جن کا مقابلہ کرنے کی تاب نہیں رکھتی۔

۲۳۲

سورج نور ، روشنی اور انرجی کا بہترین منبع ہے۔انسان علمی ترقی کے بڑے بڑے دعوں کے باوجود بھی ابھی تک سورج کی انرجی سے مکمل طور پر استفادہ نہیں کرسکا۔جس طرح انسان پانی کو مختلف  طریقوںسے ذخیرہ کرکے اسے ضائع ہونے سے بچاتا ہے۔اسی طرح سورج سے انرجی ذخیرہ کرکے اسے بہت سے کاموں کے لئے استعمال میں لاسکتے ہیں۔

اب تک انسان اپنے علم کے ذریعہ یہاں تک آگاہی حاصل کرسکا ہے کہ سورج حیات کے لئے  مہم منبع اور توانائی کاسب سے بڑا ذریعہ ہے۔

لیکن یہ کہ اس سے کس طرح استفادہ کرسکتے ہیں؟کس طرح اس تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں؟کس طریقے سے تیل ،پیٹرول اور ڈیزل کی بجائے سورج کی انرجی اور توانائی سے استفادہ کرسکتے ہیں؟

یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس پر اب بھی ابہام کا  پردہ پڑا ہوا ہے۔ اب تک اس سے بہت کم موارد میں فائدہ لیا گیا ہے۔سورج اور اس کی توانائی کے علاوہ چاند بھی توانائی کامنبع ہے کہ جس کی توانائی زمین پر بہت سی اشیاء پر اثر انداز ہوتی ہے۔

لیکن انسان اپنی علمی ترقی کے تمام تردعوؤں کے باوجود چاندکی توانائی کو ذخیرہ نہیں کرسکا کہ جسے وہ اپنے اختیار میں قرار دے کراس سے استفادہ کرسکے۔

چاند کی روشنی کا زمین کے پانی اور دریاؤںکے مدّ و جزر انسان کے جسم اور نفسیات پر اثرات اور اسی طرح اس کا دوسری اشیاء پر اثرانداز ہونا ایسے مطالب ہیں کہ جن تک انسان کی تحقیق پہنچ سکی ہے۔ لیکن چاند کی روشنی کو ذخیرہ کرکے اس سے ضروری موارد میں استفادہ کرنے کے بارے میں کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔(۱)

--------------

[۱] ۔ چاند کے نور اور روشنی کے بارے میں جاننے کے لئے قدیم کتب میں سے مرحوم آیت اللہ شیخ علی اکبر نہاوندی کی کتاب گلزار اکبری اور جدید کتب میں سے لیال واٹسن کی فارسی میں ترجمہ شدہ کتا ب فوق طبیعت کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۲۳۳

چاند اور سورج تو درکنارستاروں کی روشنی اور کہکشاؤں میں بھی بہت زیادہ  توانائی ہے۔اب تک   دنیا کی علمی ترقی کے دعویدار اس راز سے بھی پردہ نہیں اٹھا سکے۔وہ انہیں ذخیرہ کر کے انہیں بروئے کار لانے سے عاجز ہیں ۔خداوند کریم نے اہل زمین کے لئے سورج اوربعض ستاروں کے طلوع کرنے میں ایسی حیران کن تأثیر قرار دی ہے کہ بہت سے افراد کو اس کا یقین نہیں ہوتا ۔کیونکہ یہ ان کی سطح فکری اور یقین  کی منزل سے بلند ہے۔

ہم نے اپنا راستہ بہت طولانی کر دیا۔زمین سے چانداور سورج پر چلے  گئے اور وہاں سے کہکشاؤں کے سفر پر نکل گئے ۔ اب ہم اپنے وطن یعنی زمین پر واپس آتے ہیں ۔ کیونکہ ابھی تک اس کے بہت سے اسرار باقی ہیں کہ جنہیں درک کرنے سے ہمارا علم عاجز ہے۔ابھی تک تو خلقتِ زمین کے اسرار سے پردہ اٹھنا بھی باقی ہے۔

جس دن تمام دنیا پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی مطلق حکومت ہو گی اور جب زمین و آسمان اور چاند سورج کی خلقت کے شاہد ظاہر ہو کر ان پر حکومت کریں گے تو وہ کائنات کو اپنے علم سے منوّر فرمائیں گے اور معاشرے سے جہالت کی تاریکی دور کریں گے پھر انسان پر خلقتِ کائنات کے اسرار کھل جائیں گے۔

جی ہاں جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ اس دن ہر چیز کا علم ہو گا جہالت کے بادل چھٹ جائیں گے اور کوئی پنہان راز باقی نہیں رہے گا۔(۱)

اب ہم اس دن کی یاد سے اپنے دل کو شاد کرتے ہیں کہ جب اسرار ِ کائنات سے پردہ اٹھ جائے گا اور کوئی راز مخفی نہیں رہے گا۔اس بابرکت، باعظمت، منوّر اور درخشاں دن کی آمد کے لئے درد بھرے دل اور سرد آہوں کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ شاید ہمارے شکستہ دلوں کی آہوں میں کوئی اثر ہو۔

--------------

[۱]۔ یہ حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی اس روایت کی طرف اشارہ ہے: مامن علم الّا و انا افتحہ والقائم یختمہ۔

۲۳۴

  زمانۂ ظہور اور موجودہ ایجادات کا انجام

ہم دو اہم اور بنیادی اسباب ذکر کرتے ہیں۔

۱ ۔ حضرت صاحب العصر والزمان (عج) کا دن یا کو ہ دایت کرنا ۔

۲ ۔زمانۂ ظہور کے لوگوں کا فکر ی و عقلی رشد او رتکامل ۔

ان دواسباب کی وجہ سے انسان تیزی سے علم حاصل کر سکے گا ۔ جس سے عظیم تمدّن نصیب ہو گا۔اب ہم ایک اور سوال مطرح کرتے ہیں کہ ظہور کے زمانے کی عجیب علمی ترقی اور تمدن کے بعد موجودہ دور کی ایجادات کا کیا ہوگا؟کیا وہ نابود ہوجائیں گی؟

کیا اس زمانے کے لوگ ان سے استفادہ کریں گے؟اور کیا........

ممکن ہے کہ یہ اور ایسے کئی سوال بعض افراد کے ذہنوں میں پیدا ہوں۔لہذا اس کا تسلّی بخش جواب دینا ضروری ہے۔ہم اس سوال کا مفصل جواب دینے کے لئے موجودہ دور کی ایجادات کو کچھ قسموں میں تقسیم کرتے ہیں تا کہ قارئین محترم کے لئے بہترین جواب فراہم کیا جا سکے۔

  مضر ایجادات کی نابودی

موجودہ ایجادات میں سے ایسے وسائل بھی ہیں کہ جو نسان کی تباہی و بربادی کا باعث ہیں ۔ جنہیں جنگوں اور قتل و غارت میں ہی بروئے کار لایا جاتا ہے ۔ مثلاََ ایٹم بم......

۲۳۵

یہ واضح ہے کہ ایسی ایجادات نے معاشرے کو تباہی و بربادی ااور خونریزی کے سوا ء کچھ نہیں دیا۔ظلم و ستم اور فسادات کے علاوہ ان کا کوئی اور ثمر نہیں ہے اور ایسی ایجادا ت امام مہدی  علیہ السلام کی عادلانہ و کریمانہ اور آفاقی حکومت سے سازگار نہیں ہیں۔ایسے وسائل کی نابودی ہی میں معاشرے کی بھلائی ہے ۔ انسانوں اور دوسری مخلوقات کی نجات کے لئے ایسے مخرّب وسائل کی نابودی ضروری ہے ۔ یہ فقط حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت میں ہی نہیں بلکہ تاریخ میں بعض اوقات انسانیت سے محبت کرنے والے بادشاہوں نے بھی ایسے وسائل بنانے کی سختی سے ممانعت و مخالفت کی ۔ حلانکہ ان کی حکومت کو ان کی اشد ضرورت تھی ۔ جنہوں نے بربادی کے ایسے ذرائع بنانے کی مخالفت کی ان میں سے ایک''لوئی پانزدہم'' ہے ۔ یہ ایسے بادشاہوں میں سے تھا کہ جس کا علم و حکمت سے قریبی ناطہ تھا۔وہ محققین کو ہر ممکن سہولت مہیا کرتا اور دانشوروں کے لئے غیر معمولی احترام کا قائل تھا۔اس کی حکومت میں ایک ماہر کیمیا دان تھا کہ جس کانام'' دوبرہ'' تھا اس نے ایک ایسا آتش گیر مادہ ایجاد کیا تھا کہ جس کا کوئی توڑ نہ تھا اور نہ ہی اس سے بچنا ممکن تھا۔حتی کہ اس سے لگائی جانے والی آگ کو پانی سے بھی بجھانا ممکن نہیں تھا۔

''دوبرہ ''نے بادشاہ کے سامنے اپنی ایجاد پیش کی اور اس کا تجربہ کیا گیا ۔ بادشاہ بہت حیران ہوا جب اس نے دیکھا کہ یہ مادہ کئی شہروں کو قبرستان بناسکتا ہے ، بڑی بڑی افواج کو ابدی نیند سلا سکتا ہے تو اس نے حکم دیا کہ اس ایجاد کو فوراََ نابود کر دیا جائے اور اسے بنانے کا فارمولا ہمیشہ پوشیدہ رکھا جائے۔ حلانکہ اس زمانے میں وہ برطانیہ کے ساتھ جنگ کر رہا تھا جسے دشمن کی بحری فوج کو ختم کرنے کے لئے ایسے ہی کسی اسلحہ کی ضرورت تھی لیکن اس نے انسانیت کو نجات دلانے کے اسی میں مصلحت جانی کہ اس اسلحہ کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے۔(۱)

--------------

[۱] ۔ تاریخ ناشناختہ بشر:۱۰۵

۲۳۶

 علم دنیا کی رہبری نہیں کر سکتا

اگرچہ سترہویں اور اٹھارویں صدی میں حاصل ہونے والی علمی ترقی کی بدولت بہت سے دانشوریہ گمان کر رہے تھے کہ ایک ایسا دن بھی آئے گا کہ جب علم دنیا کہ رہبری و قیارت کرے گا اور علم سے استفادہ کرکے وضع کئے گئے قوانین کے سائے میں یہ دنیا کو غم والم سے نجات دے گا۔لیکن زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ثابت ہو گیا کہ انہوں نے جو کچھ سوچا تھا حقیقت اس کے برعکس ہے ۔

کیونکہ علمی ترقی نہ صرف دنیا کو بے عدالتی اور مصائب سے نجات نہیں دے سکتی بلکہ اس نے معاشرے کی مشکلات و تکالیف اور مصائب میں مزید اضافہ کر دیاہے۔

تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اب تک کی علمی ترقی سے لاکھوں افرد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ لاکھوں افرد بے سروسامانی کے عالم میں پڑے ہیں۔یہ سب صرف اس وجہ سے ہے کہ علم نے ترقی کی ہے۔ اس سیانسان کی انسانیت میں تقویت نہیں آئی۔حلانکہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ترقی ہونی چاہئے نہ کہ کسی ایک شعبہ میں۔علم اس صورت میں معاشرے کو تکامل کی طرف لے جا سکتا ہے کہ جب وہ عقل و انسانیت کے ہمراہ  ترقی کرے۔لیکن اگر علم ان کے بغیر ترقی کرے تو تو وہ بشریت کی تباہی و بربادی کا باعث بنتا ہے۔

چودزدی با چراغ آید     گزید ہ تر برد کالا

نظام خلقت صحیح تکامل کی بناء پر قرار دیا گیا ہے۔یعنی جس روز تمام مخلوقات نباتات، حیوانات اور انسان خلق ہوئے، اسی دن سے ان کے تکامل کے سفر کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اگر وہ اپنی اسی حالت پر باقی رہیں کہ جو خلقت کے پہلے دن تھی تو پھر دنیا کا کیا حال ہو گا؟

۲۳۷

اس بناء پر اس معنی میں تکامل زندگی کی حتمی شرائط میں سے ہے ۔ اس میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ جسمانی تکامل ،روحانی و فکری تکامل کے ساتھ ہونا چاہیئے

یعنی جس طرح بچہ جسمانی اعتبار سے رشد پاتاہے اسی طرح انہیں فکری و روحانی اعتبار سے بھی رشد پانا چاہیئے ۔ اگربچہ جسمانی طور پر تو رشد پائے لیکن جسمانی و روحانی طور پر رشد نہ پائے بلکہ اس کے بچپن کے افکار میں کوئی تبدیلی  پیدا  نہ ہوتو معاشرہ کس حال تک پہنچ جائے گا؟

پس انسان کا جسمی تکامل ان کے فکری تکامل اور عقلی رشد کے ساتھ ہونا چاہیئے اور یہ ہمراہی زندگی کے تمام شعبوں میں برقراررہنی چاہیئے ورنہ اگر انسان ایک اعتبار سے تکامل کی منزل تک پہنچ چکا ہو اور دوسری جہت سے تنزلی کی طرف جا رہا ہو یا اسی طرح ہی متوقف رہے تو اس معاشرے سے  تعادل منتفی ہو جائے گاکہ جو معاشرے کی تباہی کا سبب بنے گا۔

اس بناء پر جس طرح معاشرہ علم و صنعت کی راہ میں کوشش کررہا ہے اور علم وصنعت کے تکامل اور مادی امور کی پیشرفت میں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے ۔ وہا ں اسے معنوی و روحانی مسائل میں بھی تکامل کی طرف گامزن رہنا چاہیئے ورنہ روحانی و معنوی مسائل میں توجہ کئے بغیر علمی و صنعتی ترقی خطرناک اور تاریک مستقبل کے علاوہ کچھ نہیں دیتی۔

اگر انسانی معاشرہ اور دنیا کی ترقی کے خواہاں جہاں دنیا کو ترقی و تکامل کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں انہیں فکری و معنوی اور روحانی تکامل کی بھی کوشش کرنی چاہیئے نہ کہ فقط کچھ مادی  آلات و وسائل بنانے ہی میں مگن رہیں ۔ سب سے پہلے انسان کے وجود میں شخصیت، افکار اور نظریات کے اعتبار سے بدلاؤ اور تکامل ایجاد ہونا چاہیئے تاکہ صنعت و تمدن میں واقعی پیشرفت وجود میں آئے ورنہ کسی ایک شعبہ میں ترقی دنیا کو نابودی کے سواء کچھ نہیں دے سکتی۔

۲۳۸

 دنیا کا مستقبل اور عالمی جنگ

ماضی اور حال میں دنیا کی معروف ترین شخصیات دنیا کی نابودی اور تباہی  وبربادی سے خوفزہ تھیں اور اب بھی ہیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہوں ہی نے دنیا کو اس موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ایسے ہی افرد میں سے ایک'' آئن اسٹائن'' بھی ہے۔

'' رسل '' کہتا ہے کہ ایٹم بم اور اس سے بھی بڑھ کر ہائیڈروجن بم سے انسانی معاشرے کی تباہی کے خوف وہراس میں اور زیادہ اضافہ ہوا ہے  اکثر علمی ترقی انسان کوموت کے منہ میں دھکیلنے کا سبب بنی ہے حتی کہ اس میں بعض جید شخصیات اور صاحب نظر حضرات کہ جن میں سے ایک آئن اسٹائن ہے۔(۱)

'' دکنت دونوئی '' کہتا ہے :آج دنیا ایٹمی توانائی کے نتیجہ میں مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑی  ہے۔دنیا اب متوجہ ہوئی ہے کہ ان کی نجات کا واحد راستہ انسان کا اخلاق حسنہ ہے۔انسانی تاریح میں پہلی بار انسان اپنے ہوش وحواس سے کئے گئے کام پر بھی شرمندہ ہے۔(۲) جی ہاں!اب بہت سے یورپی سیاست دان انسان اور دنیا کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں ۔ انہیں نہیں معلوم کہ ان اسلحوں سے استفادہ کرنے سے کیا دنیا پوری طرح تباہ ہوجائے گی یانہیں؟دنیا کے مستقبل کے لئے خطرے اور عالمی جنگ کا بہانہ بننے والے اسباب میں سے ایک بعض ممالک کا دوسرے ممالک کو جدید جنگی آلات فروخت کرنا ہے۔سیاست دان زیادہ دولت کمانے اور دوسرے مملک میں نفوذکرنے کے لئے ایسے کام انجام دیتے ہیں ۔ دوسرے ممالک کو جنگی سامان کی فروخت بڑے ممالک کی آمدنی کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔اسی لئے ہر روز بازار میں جدید ترین اسلحہ دکھائی دیتا ہے۔ ہر دن ایک سے بڑھ کر ایک ہتھیار بنایا جاتا ہے۔ اب آپ  یہ رپورٹ ملاحظہ کریں۔

--------------

[۱]۔ آیت الکرسی پیام آسمانی توحید:۲۱۳

[۲]۔ آیت الکرسی پیام آسمانی توحید:۲۱۳

۲۳۹

دوسری عالمی جنگ کے دوران میں جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساقی پر گرائے گئے ایٹم بموں نے بہت زیادہ تباہی پھیلائی۔حلانکہ نائیٹروجن بم ،ایٹم بم کی بہ نسبت سوئی کی نوک کے برابر بھی تباہی نہیں پھیلاتا۔اس کے پھٹنے کی قوّت بھی بہت کم ہوتی ہے۔کیونکہ اس کی اسّی فیصد توانائی نائٹروجن کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔یہ شعاعیںجس جنگی میدان یا علاقہ پر پڑیںتو یہ وہاں کی تمام موجودات حتی کہ خوردبین سے دکھائی دینے والے موجودات و مخلوقات کو نابود کردیتی ہیں۔

''ساموئل کوین'' اپنی ایجاد کی خوبیاں اور خامیاں یوں بیان کرتا ہے۔

نائٹروجن بم میں دو بڑی خامیاں ہیں۔ایک یہ کہ وہ شہروں اور عمارتوںکی نقصان نہیں پہنچاتا ، ممکن ہے کہ دشمن ان پر قبضہ کر لیں یا یہ کہ انہیں تباہ کرنے کے لئے ایٹم بم کا استعمال کریں۔اس بم کی دوسری خامی یہ ہے کہ یہ بم اپنے تھوڑے سے عمل سے تمام موجودات حتی کہ خوردبین سے دکھائی دینےوالے موجودات   و مخلوقات کو نابود کردیتا ہے اور بہت بڑے شہر کو ایک سیکنڈ کے کروڑویں حصہ سے پہلے خاموش قبرستان میں تبدیل کردیتا ہے۔اس سے تمام مخلوقات فناہو جاتی ہیں ۔ لیکن میرے خیال میں نائٹروجن بم، ایٹم بم کی بہ نسبت قدرے بااخلاق ہے۔ کیونکہ ایٹم بم ایٹم سے بنایا جاتا ہے اور یہ بم ہزاروں لاکھوں اموات کے علاوہ بہت سے لوگوں  کو اندھا،بہرا اور معزور کردیتا ہے۔ حلانکہ نائٹروجن بم اپنی اتنی طاقت کے باوجود کسی کو معزورباقی نہیں چھوڑتا۔(۱) نائٹروجن بم بہت سی چیزوں کی حکایت کرتا ہے جیسے کہ آدم کشی ارزشوں میں شمار ہو گی۔اگر کوئی ایسا بم بنایا جائے کہ جس سے دنیا میں کوئی انسان بھی باقی نہ رہے تو یہ بہت زیادہ بااخلاق بم ہوگا۔جی ہاں!جو انسان خداسے دور ہوچکا ہو اور جس نے اخلاقی اقدار کو چھور دیا ہو ۔اس کاانجام ایسا ہی ہو گا۔(۲)

--------------

[۱]۔ روزنامہ کیہان:۵ شھریور:۱۳۶۰ صفحہ ۵

[۲]۔ سیمای انسان کامل از دیدگاہ مکاتب:۴۶۵

۲۴۰

''برتراند راسل'' علم کے بارے میں یہ سخت تلخ اور مایوس بیان دیتے ہوئے کہا:

شاید ہم ایسے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیںکہ جوبنی نوع انسان کے فناہونے کا زمانہ ہے۔اگر ایسا ہوا تو اس کا گناہ علم پر ہوگا۔(1)

1960 ء  ک ی دھائی میں نوجوانوں اور بالخصوص پڑھے لکھے اور یونیورسٹییوں کے نوجوانوں  میں علم دشمنی رواج پائی کیونکہ انسان کے یہ تمام مصائب و مسائل علم وفنون کی ترقی سے وجود میں آئیں ہیں ۔(1)

مغربی تمدن نے جس طرح علم کو غیر انسانی اور حقیرانہ منافع سے آلودہ کیااسی طرح انہوں نے ڈیموکریسی کو بھی اپنے اہداف کے حصول کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ جب اس تمدن کی تقدیر اس کی پیدائش اور اس کے مصرف کے بارے میں سوچیں اور انسان کی بے بسی، درماندگی ،بے اعتدالی اور خود بیگانگی کے موجبات کو پہچانیں اور ان کا راہ حل تلاش کرنے کی کوشش کریں ۔ البتہ علم کو چھوڑ کر، توہمات کی بناء پر نہیں بلکہ عقل مندی سے ان کے لئے چارہ جائی کریں اور ایک دوسری دنیا اور نیا انسان بنائیں۔(3)

1945ء کے بعد سے دنیا تباہی،بربادی اور موت کے منہ میں کھڑی ہے۔کئی بار اس تو اس کے انجام تک بات جا پہنچی ۔ایٹمی اسلحوں کی وجہ سے ہمیشہ سب جاندار وں کے سروں پر موت کا سایہ منڈلاتا رہتا ہے۔فوج اور اسلحہ کی دوڑ میں ہر کوئی دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگا ہے۔

--------------

[1]۔ علم،قدرت،خشونت:87

[2]۔ روان شناسی ضمیر ناخود آگاہ:73

[3]۔ روان شناسی ضمیر ناخود آگاہ:89

۲۴۱

اس مقابلہ سے زمین اور اس کی فرہنگ و ثقافت کی بربادی کا سامان مہیا کیا جا رہا ہے۔جو فوج اور سیاست دانوں کی قدرت سے کچھ سال پہلے تک طرف مقابل کو ایٹم بم سے ڈراتے اور دھمکاتے تھے ان میں سے دانشوروں نے ایٹمی اسلحہ کے خلاف آواز اٹھائی۔حلانکہ اسے بنانے اور ایجاد کرنے میں البرٹ آئن اسٹائن اور   لئو اسزیلارد  کا اہم کردار تھا۔

1962 ء  م یں ایٹمی ماہرین طبعیات نے ایٹمی تجربات کے بارے میں خبردار کیا اور باقاعدہ اعلان کیا کہ ایٹمی تجربات کی وجہ سے ایک سال میں دولاکھ معذور اور ناقص الخلقت بچے پیدا ہوئے ہیں۔ ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے وجود میں آنے والا'' سزیوم137 ''مستق یم حمل پر اثر انداز ہوتا ہے،جس سے بچے معذور پیدا ہوتے ہیں۔جن کی چھ انگلیاں ہوتی ہیں یا وہ بدشکل  اور لنگڑے پیداہوتے ہیں۔

ژان روستان ،ڈاکٹر دلونی اور زیست شناسی میں انعام پانے والے امریکی پروفیسر مولر نے رسمی طور پر اپنی پریشانی کا اعلان کرتے ہوئے خبردا رکیا کہ ایٹمی دھماکوں کو بارہا تکرار کرنے سے زندگی کو اور بہت سنگین مشکلات لاحق ہو سکتی ہیں۔اس کے بعد دنیا کے بے شمار دانشور  ان کے ہمراہ ہوگئے۔

1962 ء  م یں دنیا میں زیست شناسی کے سینکڑوں مشہور ماہرین نے ایک اجلاس کا انعقاد کیا جس کا  عنوان تھا''ہم سب ایٹمی تجربات سے مر جائیں گے اگر.....''اس اجلاس میں فرانس کے مشہور ماہر طبیعات'' ژان روستان'' نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یوں خبردار کیا :رادیو آکٹیو کے مواد سے جانداروں کے سرو ںپر ہمیشہ موت کی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے۔جو نابودی کا پیغام ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آئندہ نسل اندھی، بہری، گونگی، معذور اور پاگل پیدا ہو گی۔(1)

دنیا میں ایٹمی دھماکوں اور ایٹمی جنگ کے بعد وجود میں آنے والی نسل ہاتھ کی ہتھیلی سے زیادہ بڑی نہیں ہوگی۔

--------------

[1]۔ تاریخ ناشناختہ بشر:169

۲۴۲

  ایٹم کے علاوہ دوسری منفی اور مضر ایجادات

دوسرا درپیش مسئلہ یہ ہے کہ نہ صرف ایٹمی صنایع بلکہ کیمیائی صنایع بھی موت کے اس مقابلے میں برابر شریک ہیں۔جیسا کہ امریکی دانشوروں نے اس بات کی تائید کی ہے کہ صرف ایکس نامی شعاعیں ایٹم کی شعاعوں سے بیس گنا زیادہ نقصان دہ ہیں۔  اسی طرح کیمیائی صنعت سے وجود میں آنے والی ادویات کہ جنہیں ہم بڑی آسانی سے میڈیکل اسٹور سے خریدتے ہیں،وہ ہمیں کن خطرات میں مبتلا نہیں کرتیں؟ان شعاعوں میں جو بھی میزان ہو البتہ یہ بات مسلّم ہے کہ وہ نسل اور نطفہ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔آسان الفاظ میں یوں کہوں کہ اگر کسی نے ایک بار ہی ریڈیو گرافی کروائی تو اس کو یہ جان لینا چاہیئے کہ یہ اس کی افزائش نسل اور جنسی قوّت پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے۔ٹیلیویژن اور ریڈیالوجی کی مشین میں یہ شعاعیں ہوتی ہیں۔اگرچہ مختصر مدت میں اس کے اثرات ظاہر نہ ہوںلیکن  کچھ سالوں یا آئندہ صدیوں میں ان کے مضر اثرات کوظاہرہو جائیں گے۔

''ڈاکٹر رابرٹ ویلسن ''امریکہ کی ایٹمی انرجی کمیشن کے ممبران میں سے ایک ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ٹی وی اسکرین سے نکلنے والی اکثر مضر شعاعیں ایٹمی تجربات کی وجہ سے زیادہ منتشر ہوتی ہیں۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ ایٹمی کارخانوں کے زائد اور فاضل مواد کو کسی طرح بھی ختم نہیں کیا جا سکتا، حتی کہ اسے زمین کی گہرائی میں دفن کرنے سے بھی ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔(1)

اب ہم اپنے جواب کی مزید وضاحت کے لئے موجودہ ایجادات کو تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔

1 ۔ مضر، منفی اور تباہی وبربادی کا باعث بننے والی ایجادات

2۔ منفی اثرات نہ رکھنے والی ایجادات ۔ لیکن انہیں استعمال کرنے کا وقت گزر چکا ہو۔

3۔ جو ایجادات منفی اور مضراثرات نہیں رکھتی، لیکن معاشرہ اب بھی ان سے استفادہ کر رہا ہے۔

--------------

[1]۔ تاریخ ناشناختہ بشر:171

۲۴۳

  پہلی قسم کی ایجادات

یہ واضح ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام  کی آفاقی حکومت اور عادلانہ نظام میں نہ صرف مضر ، منفی اور تمام جنگی آلات بلکہ فساد، تباہی اور انسان کے جسم و جان کی بربادی کا باعث بننے والے ہر طرح کے وسائل بھی نیست و نابود ہو جائیں گے۔اس بناء پر گزشتہ مطالب سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت میں صرف تباہی کا باعث بننے والے جنگی آلات کو ہی نہیں بلکہ معاشرے کے لئے مضر، منفی، شوم اور انسان کو نابود کرنے والے تمام تر آلات کو ختم کر دیا جائے گا۔

آنحضرت ان آلات و وسائل کو نابود کرکے انسانیت کو ان کے منفی اثرات سے نجات دلائیں گے ۔  پس حضرت ولی عصر (عج) کی حکومت میں بربادی کا باعث بننے والی ہر ایجاد کو نیست ونابود کر دیا جائے گا۔

  آئن اسٹائن کا ایک اور واقعہ

کلمبیا کی یونیورسٹی کے فزکس کے دو پروفیسروں نے روز ولٹ کو خط لکھا جس کا خلاصہ یوں تھا:

ایک ایسی چیز موجود ہے کہ جس کا نام ایٹمی توانائی ہے جرمن سائنسدان بھی اس پر کام کر رہے ہیں یہ ایک طاقتور اسلحہ ہے ۔صدر کو اس بارے میں سوچنا چاہیئے کہ اس بارے میںکیا کیا جائے؟

فزکس کے ان دونوںپروفیسروں کو معلوم تھا کہ صدر مملکت ایٹمی توانائی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا لیکن وہاں کوئی ایسا بھی موجود تھا کہ جو ایٹمی توانائی سے بخوبی واقف تھا اورصدر بھی اس کی بات مانتا تھا ۔

۲۴۴

 روزولٹ پہلے اس کی تلاش میں گئے ۔ آئن اسٹائن کے لئے یہ بہت دکھ کی بات تھی کہ ایک مدّت تک صلح کا طرفدار ہونے کے باوجود ایسا کام کرنے کے لئے دستخط کرے لیکن اس نے یہ کام کیا اور جب تک زندہ رہا اسی بات پر پشیمان رہاکہ اس نے صرف ایک بٹن دبا دیا۔(1)

آئن اسٹائن کے اعتراف اور اس کا اپنے ماضی پر پشیمان ہونے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگرچہ دنیا کاایک بہترین اور نامور دانشور تھا ، لیکن وہ علم کی راہ میں اپنی ملت سے کی گئی خیانت سے بھی آگاہ تھا۔

آئن اسٹائن کا دوسرااشتباہ

آئن اسٹائن کانظریہ تھا کہ دنیا اس قدر وسیع ہے کہ اس کی چوڑائی تین ارب نوری سالوں میں بھی طے نہیں کر سکتے۔ حلانکہ 1963 ء میں ''کوآزر''کشف ہوا کہ جسے دیکھ کر ماہرین فلکیات متزلزل ہو گئے ۔جب ٹیلی اسکوپ کے ذریعہ ایک ''کوآزر'' کو دیکھا  تو انہوں نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر پکڑ لئے کہ کہیں ان کا بھیجا ان کے سر سے نہ گر پڑے اور وہ پاگل نہ ہوجائیں ۔ اس''کوآزر ''کا زمین سے فاصلہ نو ارب نوری سال تھا ۔ حلانکہ آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ دنیا کی وسعت اور اس کی چوڑائی تینارب نوری سال  سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔خلاء کی وسعت کا حساب لگانے کے لئے (جسے طے کرنے کے لئے نور کو نو ہزار ملین سال درکا ہوں)یہ فکر کرنا کافی ہے کہ نور ہرسال  9500  ارب  کلومیٹر طے کرتا ہے اور 9500 کلومیٹر کونو  ارب سال سے ضرب دیں تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ کوآزر اور زمین کے درمیان کتنافاصلہ تھا۔

--------------

[1] ۔ آئن اسٹائن:25

۲۴۵

اس فاصلہ کو تو چھوڑیں کہ جس کے تجسّم پر عقل قادر نہیں ہے۔جس نے علماء نجوم اور ماہرین فلکیات کی عقل کو ہلا کر رکھ دیا۔وہ یہ نہیں سمجھ سکے کہ کوآزر میں کس قسم کی انرجی موجود ہے کہ جس سے ایسا نور وجود میں آتاہے ۔(1)

ان مطالب پر توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ زمین کی چوڑائی کے بارے میں آئن اسٹائن کا نظریہ غلط تھا۔اب جب کہ آئن اسٹائن کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ لہذا یہ کہنا مناسب ہے کہ وہ ایک جرمن یہودی تھا کہ جس نے اپنی ملّت کے ساتھ ایسی خیانت کی کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اس نے امریکہ کو پیشکش کی کہ وہ ایٹم بم بنانے میں جرمنی سے پہل کرے۔

1932 ء  م یں ہٹلر کو اقتدار و قدرت ملی اس وقت آئن اسٹائن امریکہ میں تھا اور اس نے اعلان کیا کہ وہ جرمنی واپس نہیں جانا چاہتا ۔لہذا جرمن فوجیوں نے اس کے گھر کو توڑ دیا اور اس کے بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیئے۔برلین کے ایک اخبار میں یہ مقا لہ لکھا گیا جس کاعنوان تھا :

'' ایک اچھی خبر! آئن اسٹائن  واپس نہیں آئے گا''

آئن اسٹائن نے اس خوف سے کہ کہیں جرمن سائنس دان ایٹم بم نہ بنا لیں۔ لہذا اس نے  امریکہ کو پیشکش کی کہ وہ ایٹم بم بنانے میں جرمنی سے سبقت لے حلانکہ پہلے بم دھماکے سے پہلے وہ لوگوں کو اس بم کے خطرات سے آگاہ کرتا تھا۔اس نے اقوام متحدہ سے درخواست کی تھی کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں پر قابو پانے کی کوشش کرے۔(2)

شاید وہ اپنے ملک اور ملّت سے کی گئی خیانت کی وجہ سے اپنی زندگی پر پشیمان تھا ۔اپنھائمر، آئن اسٹائن کے قریبی دوستوں میں سے تھا۔یونیسکو کی جانب سے آئن اسٹائن کی دسویں  برسی کی  مناسبت سے منعقدہ اجلاس میں'' اپنھائمر'' نے کہا:

--------------

[1]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:362

[2]۔ ماہنامہ اطلاعات علمی سال19 شمارہ 3 دی ماہ 1383

۲۴۶

آئن اسٹائن اپنی زندگی کے آخری ایّام میں مأیوس اور جنگوں سے پریشان تھا اور اس نے کہا تھا کہ اگر مجھے دوبارہ زندگی ملے تو میں ایک معمولی الیکٹرک میکینک بننے کو ترجیح دوں گا  ۔(1)

دوسرے قول کے مطابق وہ ایک موچی ہونے کو ترجیح دیتا۔لوگ جاپان کے شہر ہیروشیما میں ہونے والے جاپانیوں کے قتل کو فراموش نہیں کر سکتے وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس واقعہ میں ایک ماہر فزکس دان کا فارمولا کارفرما تھا۔ان کے لئے یہ مہم نہیں تھا کہ یہ خبر سننے کے بعد اس فزکس دان نے آٹھ دن تک خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا اور گریہ کرتا تھا اور یہ سوچتا تھا کہ اگر وہ دوبارہ جنم لے تو یہ تھیوری اور فارمولا نہیں بناؤں گا اور ایک موچی بننے کو ترجیح دوںگا۔

  آئن اسٹائن کی خطا

اس کا نظریہ تھا کہ دنیا میں کسی چیزکی سرعت نور سے زیادہ نہیں ہو سکتی یعنی کائنات میں سب سے تیز چیز نور ہے۔اب یہ ثابت ہوا ہے کہ ایک ایسی چیز بھی موجود ہے کہ جس کا نام'' تاخنون'' ہے اور جس کی سرعت نور سے بھی زیادہ ہے ۔اگر آئن اسٹائن کا نظریہ صحیح ہوتا تو انسان کو آئندہ زمانے میں بہت سے خلائی سفر سے ناامید ہو ناپڑے گا۔

علاوہ ازیں: روایات اور خاندان نبوت علیہم السلام کے فرمودات کے مطابق ملائکہ جیسے جبرئیل عرش اور کہکشاؤں سے آگے زمین تک ایک لمحہ سے بھی کم مدّت میں سیر کرتے ہیں۔آئن اسٹائن اور اس جیسے دوسرے افرادخاندان نبوت علیھم السلام کے علمی معارف سے دوری کی وجہ سے ان حقائق سے آگاہ نہیں ہیں ۔

--------------

[1]۔ مقدمہ روانشناسی ضمیر ناخود آگاہ:78،علم و ترکیب سے نقل:29

۲۴۷

''زومر فلد''نے تھیوری بنائی کہ ایسے ذرات بھی موجود ہیں کہ جن کی سرعت نور سے بھی زیادہ ہے کہ جس میں یہ خصوصیت ہے کہ ان کی انرجی جتنی کم ہوتی چلی جائے ،اس کی سرعت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔آئن اسٹائن کی تھیوری زومز فلڈ کے اس حیران کن مفروضہ کے برخلاف تھی ۔ حیرت انگیز اوراثبات نہ ہونے والی تھیوری اگر ایک بار علمی میدان میں آ جائے تو وہ اپنی کشش نہیں  کھوتی بلکہ مدّتوں مورد توجہ رہتی ہے ۔ موجودہ صدی کے آغاز میں زومر فلد نے جس دن سے اپنی تھیوری پیش کی ،اسی دن سے اب تک فزکس کے متعدد دانشوروں نے نور سے بھی زیادی تیز ذرّات کے بارے میں مطالعہ و تحقیق شروع کی۔لیکن1967 ء م یں بالآخر امریکہ کی کلمبیا یونیورسٹی  کے فزکس کے پروفیسر''جرالڈ فینبرگ'' نے ایک رسالہ کے ذریعہ نور سے بھی زیادہ تیز حرکت کرنے والے ذرّات کے بارے میں بحث کا نیا باب کھولا۔جرالڈ فینبرگ نے ان ذرّات کے لئے ایک نام کا بھی انتخاب کیا اور اسے'' تاخنون'' ( Tachionen)کا نام دیا۔

یہ یونانی زبان کے لفظ تاخیس  ( TACHYS) سے مأخوذ ہے کہ جس کے معنی تیز اور سریع کے ہیں ۔ ایک بار پھر فزکس کے ماہرین نے آواز اٹھائی کہ آئن اسٹائن کی تھیوری کی بنیاد پر کوئی چیز نور سے زیادہ تیز حرکت نہیں کرسکتی ۔ لیکن فزکس میں ایٹم کے بارے میں تحقیق کرنے والے بعض ماہرین اب اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ نور سے بھی زیادہ تیز ذرّات موجود ہیں ۔ لیکن آئن اسٹائن کے بعض طرفداروں نے ان کی توجیہات پر اعتراض کئے ہیں۔

  ادینگتون کی غلطی

یہ برطانیہ کا مشہور ماہرطبعیات تھا ۔جو 1944ء میں فوت ہوا ۔ اس نے گزشتہ صدی کے آغاز اور اپنے جوانی کے عالم میں کہا تھا کہ اسّی بار اسی عدد کو خود اس سے ضرب دینے سے دنیا میں موجود ایٹم کی تعداد حاصل ہو جائے گی۔

۲۴۸

جس دن اس نے ریاضی کے اس فارمولا کی مدد سے دنیا میں موجودایٹم کی تعداد کا حساب لگایا ،اس وقت منجّمین کا عقیدہ تھا کہ کہکشاؤں کی تعداد تقریباََ ایک ملین کے قریب ہے۔(1)

ارسطو، کپرنیک اور بطلمیوس کی خطائیں

اب ہم علم میں وارد ہونے والے اشتباہات کانمونہ پیش کرتے ہیں۔

ارسطو کا نظریہ تھا کہ سورج مکمل دائرے کی صورت میں زمین کے گرد گھومتا ہے۔کپرنیک کا خیال تھا کہ زمین ایک مکمل مدار کی صورت میں سورج کے گرد گھومتی ہے۔ان دونوں میں تضاد ہے لہذا یہ نہیں ہو سکتاکہ دونوں کے نظریات ٹھیک ہوں ۔بعد میں معلوم ہوا کہ دونوں کے نظریات غلط تھے کیونکہ زمین کا مدار گول نہیں بیضوی ہے۔(2)

اب یہ حقیقت جاننا ضروری ہے کہ'' ارسطو ''مشہور مشّائی حکیم اور اس کے پانچ صدیوں بعد آنے والے بطلمیوس نے تین سو سال قبل مسیح پندرہ صدیاں بعد تک مجموعاَ اٹھارہ سوسال علم نجوم کوپیچھے دھکیل ڈالا۔ارسطو نے بشریت کو اٹھارہ صدیاںجہالت کے اندھرے میں رکھا انسان خود کو تو اس ظلمت کدہ سے نجات نہ دے سکا لہذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ بشر کی علمی ترقی ارسطو کی وجہ سے اٹھارہ صدیاں رکی رہی۔

--------------

[1] ۔ مغز متفکر جھان شیعہ:367

[2]۔ علم نابخردی:103

۲۴۹

علوم زنجیر کی کڑیوں کی طرح ہیں  جن کی ایک کڑی دوسرے سے ملی ہوتی  ہے۔ ایک علم دوسرے علم کی پیدائش کا سبب ہوتا ہے۔زمین اور دوسرے سیاروں کا سورج کے گرد گردش کرنے میںانسان کے جہل کی وجہ سے اٹھارہ صدیوں تک علم کے دروازے بند ہو گئے جس کا سبب ارسطو تھا اس وقت ارسطو لوگوں میں  اس حد تک مقبول ہو چکا تھا کہ کوئی اس کے نظرئے کو رد نہیں کرتا تھا۔کوئی اس کے بطلان کو ثابت نہیں کرتا تھا۔اقوام عالم کے ذہن میں دو چیزوں نے ارسطو کے نظرئے کو تقویت دی ۔ ایک یہ کہ ارسطو کے پانچ صدیاں بعد آنے والے مصر کے مشہور جغرافیہ دان بطلمیوس نے بھی اس کے  نظریہ کی تائید کی اور ستاروں کی حرکت کے لئے ایک رائے قائم کی کہ سیارے کچھ چیزوں کے گرد گردش کرتے ہیں کہ جو خود بھی متحرک ہیں اور وہ چیزیں زمین کے گرد گردش کرتی ہیں۔لیکن زمین متحرک نہیں بلکہ ساکن ہے۔یعنی بطلمیوس نے سیاروں کی گردش کو زمین کے گرد دو طرح سے ثابت کیا اور کہا کہ وہ کچھ چیزوں کے گرد گھومتے ہیں کہ جو زمین کے اطراف میں ہیں۔ارسطو کے نظرئے کو تقویت دینے کا دوسرا سبب یہ تھا کہ یورپ کے مسیحی کلیسا، ارسطو کے نظریات کو صحیح تسلیم کرتے تھے اور انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ زمین کی حرکت کے بارے میں ارسطو نے جو کچھ کہا وہ سب صحیح ہے۔کیونکہ اگر کائنات کا مرکز یعنی زمین ساکن نہ ہوتی تو خدا کا بیٹا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) اس میں ہر گز ظہور نہ کرتا ۔(1)

--------------

[1]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:303

۲۵۰

  ارشمیدس کا اشتباہ

ارشمیدس کہتا تھا کہ دس کے عدد کوتریسٹھ بارخود اس سے ضرب دیں تو اس سے دنیامیں موجود ذرّات کی تعداد حاصل ہو جائے گی ۔ذرّات کے بارے میں ارشمیدد س کا نظریہ تھا کہ ذرّہ، مادہ کا سب سے چھوٹا جزء ہے کہ جو دو حصوں میں تقسیم کے قابل نہیں ہے ۔ اس لئے وہ اسے جزء لایتجزّی کہتا تھا ۔(1)

  تیسری قسم کی ایجادات

ایجادات کی یہ  قسم غیبت کے زمانے میں لوگوں کے زیر استعمال ہیں ۔  جن کا کوئی منفی پہلو نہیں ہے ۔ اب ایسے آلات کا مستقبل کیا ہو گا؟

ایسی ایجادات کثیر تعداد میں موجود ہیں ۔ لہذا ان کے بارے میں کہیں گے :

علم ودانش کی ترقی،عقلی تکامل ، عقل کی قدرت میں اضافہ اور فکری قوّت کے تکامل سے اہم پیشرفتہ اور جدید وسائل کا ایجاد ہونا واضح سی بات  ہے۔ جن کے ہوتے ہوئے عقب ماندہ اور قدیم وسائل کی ضرورت ختم ہوجائے گی ۔ اس مطلب کی وضاحت کئے دیتے ہیں  کہ موجودہ زمانے میں جن وسائل سے استفادہ کیاجاتا ہے اگر انہیںایک صدی قبل کے وسائل اور ا لات سے مقائسہ کریں کہ جن سے اُس زمانے میں استفادہ کیا جاتاتھا مثلاَ کیارسّی اور ڈول کا پانی کے پمپ سے موازنہ کرسکتے ہیں؟

--------------

[1]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:367

۲۵۱

کیا کنویں اور نہر سے پانی نکالنے والی جدید موٹرکے ہوتے ہوئے رسی اور ڈول سے استفادہ کرنے کی کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟

البتہ اب بھی دنیا کے محروم مستضعف اورغربت کی چکی میں پسے ہوئے بہت سے علاقوں کے لوگ رسی اور ڈول ہی سے استفادہ کرتے ہیں۔یہ متمدن ممالک کی کمزوری ہے کہ جس کی وجہ سے یہ صنعت دنیا کے ہر خطہ کو فراہم نہیں کی جا سکی۔لیکن ظہور کے بابرکت اور نعمتوں سے سرشار زمانے میں ایسا نہیں ہو گا۔

ہم نے  امام زمانہ علیہ السلام کی آفاقی حکومت کی خصوصیات میںبیان کیا کہ ان کی حکومت کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ آنحضرت کی حکومت، عادل حکومت ہو گی۔اس کا  یہ معنی ہے کہ اس دن دنیا کے تمام لوگوں کو  ہر سہولت میسر ہو گی۔

  جنگی آلات سے بے نیازی

ہمیشہ سے جنگ اور خونریزی کے مختلف اسباب ہوتے ہیں۔جن کی وجہ سے ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرکے ایک دوسرے کا خون بہاتی ہے ۔ قتل و غارت کے دو بنیادی اسباب ہوتے ہیں کہ جن کی وجہ سے طول تاریخ میں زمین کو لوگوں کے خون سے رنگین کیا گیا۔

1 ۔ ضعف اور کمبودی

2 ۔ حرص

تاریخ کے صفحات پر دقیق نگاہ کرنے سے معلوم ہو گا کہ تاریخ کی اہم جنگوں کے اسباب مذکورہ دونوں موارد ہیں۔کیونکہ ذرخیز زمین،پانی سے لبریز نہریں، تیل اور گیس کے ذخائر اور اسی طرح سونے اور دوسری معدنیات کے ذخائرتک رسائی کے لئے ظالم حکومتیں دوسرے ممالک پر حملہ کر دیتی ہیں تا کہ وہ ان نعمتوں پر قبضہ کر سکیں۔

۲۵۲

تاریخ میں بہت سی جنگوں کا دوسراسبب ظالم حکومتوں کا اپنے وسائل میں اضافہ کرنے کی  خواہش ہے یعنی جنگ کی آگ بھڑکانے اور دوقوموں اور ملتوں کو آپس میں لڑانے والے ممالک  کے پاس نہ تو کسی چیز کی کمی ہوتی ہے اور نہ ہی انہیں کوئی اقتصادی مسئلہ درپیش ہوتاہے۔بلکہ تمام وسائل اور سہولتیں ہونے کے باوجود وہ ان میں اضافہ کے لالچ میں دوسروں کے مال پر نظریں جمائے ہوتے ہیں۔لہذایہ اپنے ملک کو مزید ترقی دینے اور اس کی سرحدوں کو وسیع کرنے کے لئے دوسرے ممالک پر حملہ کر دیتے ہیں۔

اگر تاریخ کی طولانی جنگوں اور لشکر کشی پر نگاہ ڈالیں تو واضح ہو جائے گا کہ اکثر جنگوں کا سبب مال ودولت اور زیادہ مال کا لالچ تھا۔جیسی کہ ہم نے ذکر کیا کہ مذکورہ دونوں موارد کے علاوہ تاریخ میں ہونے والی جنگوں، قتل و غارت اور خونریزی کے دوسرے عامل بھی ہیں کہ جن کی وجہ سے جنگ کے شعلے بھڑکائے گئے اور زمین پر بے گناہ لوگوں کا خون بہایا گیا ۔ مذکورہ دونوں موارد پر غور کریں ۔ ضعف و کمبودی اور اسی طرح حرص ۔ یہ دونوں بیرونی اسباب تھے ۔ بہت سی جنگوں کی بنیاد بیرونی اسباب نہیں بلکہ حکّام کے اندرونی عوامل ہوتے ہیں۔اندرونی اسباب میں سے ایک اہم سبب  نفسیاتی گرہیں  ہیں ۔ جس کی وجہ سے بہت بار مختلف علاقوں میں جنگ چھڑ گئی اور تاریخ کے اوراق کو معصوم لوگوں کے خون سے رنگین کیا گیا۔

انسان کے عقلی تکامل سے ایسے مسائل سے رہائی یقینی ہے ۔ جنگ کے اندرونی و بیرونی اسباب نابود ہوجائیں گے ۔ پھر ساری دنیا میں  امن، صلح اور پیار و محبت کی فضا حاکم ہو گی ۔ لہذا اس وقت ایٹمی و غیر ایٹمی بم دھماکوں کی کیا ضرورت ہو گی؟

۲۵۳

  دوسری قسم کی ایجادات

موجودہ ایجادات میں سے دوسری قسم کی ایجادات ایسی ہیں کہ جو منفی اثرات تو نہیں رکھتیں لیکن زمانہ ظہور میں ان سے استفادہ کرنے کا وقت گزر چکا ہوگا ۔ جیسے طبّی آلات اور بعض جنگی سامان کہ جن سے عادلانہ جہاد میں استفادہ کیا جاتا ہے ۔ ایسے وسائل بھی ختم ہو جائیں گے کیونکہ معاشرے کو ان کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ کیونکہ جب معاشرے کے سب افراد صحت مند اور جسمانی و روحانی لحاظ سے سالم ہوں تو پھر تباہ و برباد کرنے والے کسی جنگی سامان اور اسی طرح کسی طبی آلات کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ کیونکہ یہ استفادہ کرنے کے قابل نہیں ہوں گے ۔ پس جب کوئی بیماری ہی موجود نہ ہو تو تو پھر طبی آلات کی بھی ضرورت نہیں ہو گی ۔ لہذا  انہیں بھی ختم کر دیا جائے گا۔

علم دنیا مشکلات حل نہیں کر سکتا

2 ۔ مختلف قوانین کوحاصل کرنے کے لئے عالم مادّہ میں حاکم مقیاس اور پیمانے (جیسے سیکنڈ، سینٹی میٹر، گرام وغیرہ) حقیقت روح ، جاذبہ، نفس، روح، عقل اور ان جیسے دوسرے اسباب کو درک کرنے کے لئے استعمال نہیں کئے جا سکتے ۔ اس بناء پر ماہرین طبعیات کے نزدیک قوّت جاذبہ کی حقیقت مجہول ہے۔ اسی طرح الیکٹریسٹی ، مقناطیس یا توانائی (چاہے وہ ایٹمی ہو یا حرکتی یا الیکٹرک) کی حقیقت بھی مجہول ہے۔فزکس کے ماہرین اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ہر غیر عادی امر کی حقیقت کو سمجھنے  سے عاجز ہیں حتی کہ وہ حقیقت مادہ کو نہ سمجھنے کا بھی اعتراف کرتے ہیں۔کیونکہ مادہ کی اصل ایٹم کی طرف ہے اور ایٹم پروٹان ،نیو ٹران اور ایک دوسری قوّت کے مجموعہ کا نام ہے کہ جدید علم ہمیشہ اس کی شناخت سے عاجز رہا ہے۔ (1)

--------------

[1]۔ راہ تکامل:895

۲۵۴

۳۔علم طبعیات اب تک اس سوال کا جواب نہیں دے سکا کہ ہمارے چراغ کا نور جو کہ انرجی ہے ،وہ کس طرح مادّہ میں تبدیل ہو جاتی ہے؟اگر فزکس کے علم کو اس سوال کا جواب مل جائے تو ایک ہی لمحہ میں کئی سال کا علمی سفر طے ہو جائے۔ چونکہ فزکس میں سر الاسرار یہی چیز ہے ۔ خلقت کا عظیم راز بھی اس سوال کے جواب میں مخفی ہے کہ توانائی کس طرح مادّہ میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔ مادّہ کا توانائی  میں تبدیل ہونا ہماری نظر میں عادی ہے ۔ ہم روز وشب کارخانوں ،جہازوں، کشتیوں،  گاڑیوں، گھروں حتی کہ اپنے بدن میں بھی مادہ کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیںلیکن آج تک کوئی مادہ کو انرجی میں تبدیل نہیں کر سکا ۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دنیا میں توانائی کس طرح مادہ میں تبدیل ہوتی ہے۔(1)

4۔ہم چھبیس صدیوں کے بعد ''علم  طبعیات  اورما بعد طبعیات'' کی تمام ترقی کے باوجود فزیکل اور جسمانی لحاظ سے مبداء ِ دنیا کے بارے میں چھ سو سال قبل مسیح میں یونان کے فلسفی کے نظرئے کی حدود سے باہر نہیں نکل سکے ۔ہائیڈروجن ایٹم کے عناصر میں سب سے ہلکا عنصر ہے۔ جس میںایک الیکٹران اور دوسرا  پروٹان ہے۔الیکٹران ، پروٹان کے گرد گردش کرتے ہیں لیکن اب تک فزکس کے کسی بھی نظرئے نے اس کے علمی قانون کو کشف نہیں کیا۔یہ بھی معلوم نہیں کہ کیا پہلے پروٹان وجود میں آیا تھا یا الیکٹران ،یا یہ دونوں ایک ساتھ وجود میں آئے تھے کہ جن میں سے ایک بجلی کی مثبت اور دوسرا منفی توانائی رکھتا تھا؟

اکیسویں صدی سے آج تک اس بارے میں جو کچھ کہا گیا ، وہ صرف ایک تھیوری ہے۔ہم مبدأ دنیا کی شناسائی کے لحاظ سے ''آناگزیمانسر''کے دور کے یونانی لوگوں سے زیادہ نہیں جانتے۔(2)

--------------

[1]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:344

[2]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:112

۲۵۵

گز شتہ مطالب پر توجہ کرنے کے بعد اب ہم چند اہم نکات بیان کرتے ہیں۔

۱۔ مختلف علوم ایک دوسرے سے بے ربط نہیں ہیں۔علم کے کسی ایک شعبہ میں  غلطی  نہ صرف علمی ترقی میں ٹھراؤکا سبب بنتی ہے بلکہ علوم کے دیگر شعبوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے کہ جو اس علم سے مربوط ہیں۔

2 ۔ غیبت کے زمانے میں بعض دانشور اور اسی طرح اس زمانے سے قبل بھی بعض دانشور اپنے شاگردوں اور عوام کے درمیان نفوز کر چکے تھے ان کے شاگرد  ان کی عظمت اور شخصیت کی وجہ سے ان کے نظریات کودل و جان سے قبول کرتے تھے۔نسل در نسل ایسا ہی ہوتا رہا ۔شخصیت کا لحاظ کرتے ہوئے شاگرد پہلے شخص کے نظریات کو قبول کرتے اور اسی کو ادامہ دیتے۔کبھی استاد کی شخصیت کا لحاظ اس قدر زیادہ ہوتا کہ اگر کسی کو استاد کی غلطی کا علم بھی ہوتا تو اس میں اظہار کی جرأت نہ ہوتی کہ کہیں دوسرے اس کی مخالفت و سرزنش نہ کریں اور کہیں بے جا جنجال کھڑا نہ ہو جائے کہ جس سے اس کی آبرو ریزی ہو ۔ یوں وہ اپنے صحیح افکار کا اظہار کرنے سے ڈرتے اور اس کا اظہار نہ کرتے ۔ طول تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں۔

3 ۔ کبھ ی بعض تحریف شدہ مذاہب بے بنیاد نظریات اور علوم کی طرفداری اور پشتبانی کرتے اور لوگوں میں اپنے نفوذکی وجہ سے دوسروں سے غلط عقائد کی مخالفت کرنے کی جرأت سلب کر لیتے۔  جیسے کلیسا کی ارسطو کے نظریہ کی حمایت کرنا۔ایسے موارد میں تحریف شدہ  دین اور دانش خیالی نسل در نسل چلتی رہتی ہے جو معاشرے کو ترقی و حقیقت سے دور کرنے کا سبب بنتی ہے۔

4۔ دانشوروں کی غلطیاں، اشتباہات اور ظالموں کا علم سے سوء استفادہ کرنا اورعلم کی محدودیت جیسے موانع کی وجہ سے علم دنیا کو آئیڈیل معاشرہ اور مدینہ فاضلہ نہیں بنا سکا۔

۲۵۶

5 ۔ ظہور کے بابرکت زمانے م یں کہ جب تمام دنیا میں علم وحکمت اور دانش کا چرچاہو گا۔سب صحیح علم کے چشمہ سے سیراب ہوں گے تب نہ صرف دانش خیالی کے اظہار کی کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی بلکہ دنیا کے واحد دین اور حکومت سے دنیا کے تمام لوگ حقیقی، سچے مکتب اور تشیع کی تعلیمات کے زیر سایہ زندگی گزاریں گے ۔پھر باطل اور تحریف شدہ مکتب کا نام ونشان مٹ جائے گا۔اس وقت سب لوگ گزشتہ لوگوں کی غلطیوںسے آگاہ ہوجائیں گے۔ اس بابرکت اور مبارک دن کی آمد پر صحیح علم و دانش کے تابناک انوار کی وجہ سے نور سے فرار کرنے والے چمگادڑوں کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں بچے گی۔

  علم ودانش سوداگروں کا آلہ کار

شک وشبہ کے بغیر علم و دانش ایک ایسا چراغ ہے کہ جس کا نور انسانوں پر پڑنا چاہیئے تاکہ یہ ان کے لئے راہ روشن کر سکے نہ کہ یہ دنیا کے ظالموں اور ستمگروں  کے لئے آلہ کار بنے اور کوئی گروہ اس کے ذریعہ خیانت کرے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تاریخ اس چیز کی گواہ ہے کہ مختلف شعبوں میں علم و حکمت سے سوء استفادہ کیا گیا  اور ا سے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

دانشور اور دانشوروں کی مانند لگنے والے افرد نے دانستہ اور نادانستہ طور پرعلم سے غلط استفادہ کیا یا جہل کی تاریکی کو لوگوں کے سامنے علم کے نور سے متعارف کروایا۔اس کام سے لوگوں کا علم ودانش سے ناامید ہونا واضح تھا ۔ انہوں نے یہ یقین کرلیا کہ دانشور دنیا میں آئیڈیل حکومت قائم نہیں کر سکتے اور اسی طرح دنیا کو مدینہ فاضلہ میں تبدیل نہیں کر سکتے ۔

۲۵۷

  علم کی محدویت

لوگوں کا علم سے ناامید ہونے کا دوسرا سبب علم کی محدودیت ہے۔

اس بارے میں ارشاد خدا وندی ہے:

''  وَمَا ُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ ِلاقَلِیلاََ'' (1)

جب تک انسان کا دماغ مکمل طور پر فعال نہ ہواور ذہین ترین فرد بھی دماغ کے کچھ حصہ سے  استفادہ کرے تو انسان کس طرح دنیا کے اسرار و رموز کو سمجھ سکتا ہے؟خاندان نبو ت علیھم السلام  کے فرمودات  میں اس حقیقت کی تصریح ہوئی ہے ۔لیکن مغرب اب کہیں جا کر اس سے آگاہ ہوا ہے۔ جب تک زمانۂ غیبت جاری رہے اور بشر عقلی تکامل تک نہ پہنچے اور دماغ مکمل طور پر فعّال نہ ہو ، تب تک علم کی محدودیت بھی باقی رہے گی۔اس بیان کی روشنی میں محدود علم کس طرح مجہول مطالب اور مشکلات کا جواب دے سکتا ہے ؟ وہ کس طرح تاریک دنیا کو مدینہ فاضلہ میں تبدیل کر سکتا ہے؟

اگر علم مشکلات اور مجہول مطالب کا جواب دینے ہی سے قاصر ہو تو پھر معاشرے میں بہت سے سوال بغیر جواب کے باقی رہ جائیں گے۔لیکن لوگ اس امر کو جان گئے ہیں کہ علم مشکلات کا حل نہیں ہے ۔ بہت سے دانشوروں نے اس حقیقت کا

اعتراف کیا ہے ۔ہم یہاں ان میں سے چند ایک کے اقوال نقل کرتے ہیں۔

۱۔ علم کی حدودمشخص ہیں ۔ یہ ہمیں اشیاء کی کیفیت کے بارے میں نہیں بتا سکتا ۔علم ہم سے کہتا ہے کہ زمین کس طرح سورج کے گرد گردش کرتی ہے انسان کس طرح پیدا ہوتے اور مرتے ہیں ۔ لیکن یہ کیوں کا جواب نہیں دے سکتا۔(2)

--------------

[1]۔ سورۂ اسراء، آیت:85

[2]۔ علم شبہ علم و علم دروغین: 45

۲۵۸

  مغرب کی تبلیغات

مغرب خود نمائی اور دنیا کے لوگوں کواپنا فریفتہ بنانے کے لئے مختلف علوم کے بارے میں تبلیغات کر رہا ہے ان کا ایک نمونہ نفسیات ہے۔دنیا کے بڑے ممالک میں نفسیاتی مسائل کو اس حد تک بیان کیا جاتاہے کہ جس سے  وہ  خیال کرتے ہیں کہ انہیں نے اتنی ترقی کی ہے اور اس قدر جدید نکات  حاصل کئے ہیں کہ وہ نفسیات شناسی سے بڑھ کر فرارواں شناسی تک پہنچ گئے ہیں ۔ جو لوگ اب تک اپنے نفس اور وجوس کے اعتبار سے انسان کو نہیں پہچان سکے وہ کس طرح اپنی نفسیات اور اس سے بڑھ کر فراروان شناسی کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟

جی ہاں!موجودہ دنیا ایسی ہی ہے کہ جو مقام ولایت اور نظام کائنات کے سرپرست سے منہ موڑ کر اپنی ایجادات اور حاصل شدہ معلومات کی بناہ پر یہ گمان کرتی ہے کہ انہیں حقیقی راہ مل گئی ہے۔

دنیا کے طاقتور لوگ نہ صرف اب بلکہ قدیم زمانے سے اپنی قوم اور ملت کو جھوٹی تبلیغات کے ذریعہ فریب دیتے رہے ہیں۔انہوں نے چال بازی اور دھوکے سے لوگوں کو سرگرم کیا اور اپنے گندے افکار سے پاک فکر لوگوں کو گمراہ کیا۔انہوں نے انسانوں کو اپنی پاک فطرت کے ذریعہ نجات حاصل کرنے کے لئے بھی نہ چھوڑا۔انہوں نے بہت زیادہ تبلیغات سے دنیا کے لوگوں کے افکار تبدیل کئے ۔حلانکہ وہ اپنی غلطییوں سے آگاہ تھے ۔ ماضی سے حال تک تاریخ ایسے بہت سے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ زمانۂ غیبت کے بزرگترین دانشور بہت سی علمی غلطییوںمیں مبتلا تھے ۔ ارسطواور ارسطو سے پہلے اور بعد میں آج تک بہت سے دانشوروں نے  تاریخ کے صفحات میںنہ بھولنے والی غلطیاں رقم کی ہیں۔

۲۵۹

  پوزیدونیوس کا اشتباہ

پوزیدونیوس ایک فلسفی تھا جو سو سال قبل مسیح میں مغربی اسپین میں ایک گروہ کی قیادت کرتا تھا ۔ وہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ غروب کے وقت جب بھی سورج بحر اوقیانوس میں غروب ہوتا ہے تو کیا اس میں ''فیش'' کی آواز پیدا ہوتی ہے۔(1)

  کس کی پیروی کریں؟

کیا انسان ایسے دانشوروں کی پیروی کرسکتا ہے کہ جو خیانت کار ہوں اور  جودنیا کے ستمگروں اور ظالموں کے خدمتگار ہوں؟

کیا مغرب کی تبلیغات سے دھوکا کھا کر ان کی مشینی زندگی پر فریفتہ ہونا صحیح ہے؟

قدیم الایّام سے دنیا کے جابروں، ظالموں اور ستمگروں نے خدا کے پیغمبروں کی مخالفت کی اور لوگوںکو ان کی پیروی سے منع کیا۔رسول اکرم کے زمانۂ رسالت اور خاندان اہلبیت  علیہم السلام کے زمانہ  امامت میں کائنات اور تاریخ کے شریر ترین گروہ خاندان نبوت علیہم السلام کی مخالفت کے لئے اٹھا ۔ جس نے لوگوں کو خاندان عصمت علیہم السلام  سے دور کیا اور لوگوں کو رسول اکرم(ص)کے فرمودات لکھنے سے منع کرکے باب علم کو بند کرنے سے جاہلیت کے زمانے کو تداوم دیا۔

انہوں نے لوگوں کو علم نبوت کے چشمہ سے سیراب نہ ہونے دیا ااور اس چیز کی بھی اجازت نہ دی کہ دنیا میں علم ودانش فروغ پائے لیکن پھر بھی ان بزرگوںہستیوں نے علم ودانش کے اسرار اپنے خاص اصحاب کوتعلیم فرمائے۔

--------------

[1] ۔ جھان در  500سال آیندہ:240

۲۶۰

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300