امام مہدی کی آفاقی حکومت

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت20%

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت مؤلف:
: عرفان حیدر
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 300

امام مہدی کی آفاقی حکومت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 300 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 180628 / ڈاؤنلوڈ: 4528
سائز سائز سائز
امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت

امام مہدی کی آفاقی حکومت

مؤلف:
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

اجتماعى خطرات كى شناخت۵،۸;معاشروں كے زوال كے اسباب۵،۸;معاشروں كے منقرض ہونے كے اسباب۵

مشركين مكہ :مشركين مكہ كے رہبروں كا كردارو ۸

نعمت :ائمہعليه‌السلام جيسى نعمت ۱۰

ہلاكت:ہلاكت كے اسباب۷

آیت ۲۹

( جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ )

وہ جہنم جس ميں يہ سب واصل ہوں گے اوروہ بدترين قرارگاہ ہے _

۱_ جہنم ناشكرے رہبروں اور ورغلانے والے بدكار راہنمائوں كا ٹھكانا ہے_

ا لم تر الى الذين ...ا حلّوا قومهم دارالبوار_جهنّم يصلونه

۲_جہنم ، ہلاكت و نابودى كا گھر ہے_دارالبوار_جهنّم يصلونه ''بوار'' كا معنى ہلاكت ہے_

۳_كفر وشرك كے سردارہى اپنى قوم كو دوزخى بنانے كا اصلى سبب ہيں _ا حلّوا قومهم دارالبوار_جهنّم يصلونه

مندرجہ بالا مطلب اس بات پر مبنى ہے كہ جب ''جھنّم يصلونھا'' ،''دارالبوار'' كا بدل ہو _

۴_دوزخ ايك گہرا كنواں ہے_جهنّم يصلونه

''جہنم ''،''جھنام'' كا معرب ہے _جس كامعنى گہرا كنواں ہے (مفردات راغب)

۵_جہنم ،انتہائي برا اور منحوس ٹھكانا ہے_جهنّم يصلونها وبئس القرار

جہنم :جہنم كامنحوس ہونا ۵;جہنم كى صفات۴;جہنم كے موجبات۳;جہنم ميں ہلاكت ۲

جہنمى لوگ:۱

رہبر:ورغلانے والے رہبر جہنم ميں ۱;برے رہبر جہنم ميں ۱;ناشكرے رہبر جہنم ميں ۱;شرك كے رہبروں كا كردارو نقش۳;كفر كے رہبروں كا كردار و نقش۳

۱۰۱

آیت ۳۰

( وَجَعَلُواْ لِلّهِ أَندَاداً لِّيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِهِ قُلْ تَمَتَّعُواْ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ )

اور ان لوگوں نے اللہ كے لئے مثل قرار دئے تا كہ اس كے ذريعہ لوگوں كو بہكا سكيں تو آپ كہہ ديجئے كہ تھوڑے دن اور مزے كرلو پھرتو تمھارا انجام جہنم ہى ہے _

۱_خدا وند متعال كے ساتھ شرك ،اس كى نعمتوں كا كفران اور ناشكرى ہے_

ا لم تر الى الذين بدّلوا نعمت الله كفرًا ...وجعلوالله ا ندادًا

جملہ ''وجعلوالله ا ندادًا''جملہ ''بدّلوا نعمت الله ...''پر عطف ہے اور يہ جملہ نعمت الہى كے تبديل ہونے كى كيفيت كے لئے بيان اور تفسير بن سكتا ہے _

۲_كفر و شرك كے سرداروں كا خدا وند عالم اور توحيد كے راستے سے لوگوں كو بھٹكانے كے لئے خدا كا شريك اور شبيہ بنا كر پيش كرنا_ا حلّوا قومهم دارالبوار ...وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله

اس ايت مجيدہ اور پہلے والى ايات كے سياق سے معلوم ہوتا ہے كہ يہ كفر وشرك كے سرداروں كے بارے ميں ہے _كيونكہ لوگوں كو برے انجام

اور ٹھكانے ميں مبتلا كرنا''ا حلّوا قومهم دارالبوار'' نيز خدا كے لئے شريك بنانااور لوگوں كو راہ خدا سے گمراہ كرنا ''وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيلہ''كفر و شرك كے سرداروں اور رہبروں ہى كا كام ہے_

۳_شرك ايك ايسا من گھڑت مذہب ہے كہ جو خداوند يكتا اور توحيد پر عقيدے كے بعد وجود ميں ايا ہے_

وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله

''جعلوالله ا ندادًا'' يعنى ''خدا كے ساتھ شريك بنانے'' كى تعبيرسے معلوم ہوتا ہے كہ وہ لوگ خداوند متعال كے وجود كے قائل تھے ليكن بعد ميں انہوں نے اس كے ساتھ شريك بنانے شروع كر ديئے_

۴_شرك اور بت پرستى كا مذہب ايجاد كرنے والے خداوند متعال كى توحيد اور بت پرستى كے باطل

۱۰۲

ہونے سے اگاہ تھے_وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله قل تمتّعوا فان مصيركم الى النار

''جعلوالله ا ندادًا'' يعنى ''خدا كے ساتھ شريك بنانے'' كى تعبيرسے اوريہ كہ يہ كام مذہب شرك كے سرداروں اور بنانے والوں سے تعلق ركھتا ہے_ لہذا اس سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ لوگ عمداً اورجان بوجھ كر يہ كام كرتے تھے_

۵_شرك اور بت پرستى كے مذہب كو ايجاد كرنے والوں كا اصلى محرك مادى منافع اور مقام و حكومت حاصل كرنا تھا _

وا حلّوا قومهم ...وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله قل تمتّعوا

جملہ '' فان مصيركم الى النار''سے پہلے جملہ''قل تمتّعوا'' ( كہہ دو فائدہ اٹھا لو)كا لانا ہو سكتا ہے اس بات كى طرف كنايہ ہو كہ اگر چہ تم دنياوى كاميابى اور فائدے كے پيچھے لگے ہوئے ہو ليكن تمہارا راستہ اور انجام دوزخ پر ہى ختم ہوتا ہے_يہ بھى ياد رہے كہ حكومت ومقام تك پہنچنے كا موضوع جملہ ''وا حلّوا قومھم ...''سے اخذ ہوتا ہے_

۶_شرك اور بت پرستى كا مذہب ايجاد كرنے والے حكومت و رياست اور مال و دولت سے بہرہ مند تھے_

وا حلّوا قومهم ...وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله قل تمتّعوا

۷_ دنيا پرست اور مال و دولت كے مالك افراد اپنے مادى مقاصد تك پہنچنے كے لئے بطور ہتھيار دين ميں انحراف پيدا كرنے كا طريقہ اختيار كرتے ہيں _وا حلّوا قومهم ...وجعلوالله ا ندادًا قل تمتّعوا

۸_خدا اور توحيد كے راستے سے لوگوں كو گمراہ كرنے اور مذہب شرك كى ترويج كرنے والوں كى كوشش كا اخرى انجام دوزخ ہے_

وجعلوالله ا ندادًاليضلّوا عن سبيله فان مصيركم الى النار

الله تعالى :الله تعالى كے ساتھ شريك بنانا۲

جہنمى لوگ:۸

دولت مند لوگ:دولت مندوں كا گمراہ كرنا۷

دنيا پرست لوگ:دنيا پرستوں كا گمراہ كرنا۷

دين:دين ميں انحراف۷

رہبر:شرك كے رہبروں كا محرك۵;شرك كے رہبروں

۱۰۳

كا دولت مند ہونا ۶;شرك كے رہبروں كى دنيا پرستى ۵;شرك كے رہبروں كے گمراہ كرنے كى روش ۲;كفر كے رہبروں كے گمراہ كرنے كى روش ۲; شرك كے رہبر اور بت پرستى كا بطلان ۴;شرك اور توحيد كے رہبر ۴;شرك كے رہبروں كى جاہ پرستي۶

شرك:شرك كے اثرات ۱;شرك كا لغو ہونا ۳;شرك كى پيدائش ۳;شرك كى تاريخ ۳;شرك كى ترويج كا انجام ۸;شرك كے مروجين جہنم ميں ۸

ظالمين :ظالمين كا گمراہ كرنا۷

عقيدہ :عقيدے كى تاريخ ۳

كفران نعمت:كفران نعمت كے موارد۱

گمراہ كرنے والے:گمراہ كرنے والے جہنم ميں ۸

گمراہى :گمراہى كا ہتھيار ۷

لوگ:لوگوں كو گمراہ كرنے كا انجام ۸

آیت ۳۱

( قُل لِّعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُواْ يُقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَيُنفِقُواْ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرّاً وَعَلانِيَةً مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لاَّ بَيْعٌ فِيهِ وَلاَ خِلاَلٌ )

اور آپ ميرے ايماندار بندوں سے كہہ ديجئے كہ نمازيں قائم كريں اور ہمارے رزق ميں سے خفيہ اور علانيہ ہمارى راہ ميں انفاق كريں قبل اس كے كہ وہ دن آجائے جب نہ تجارت كام آئے گى اور نہ دوستي_

۱_پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اقامہ نماز اور مؤمنين پر انفاق كے بارے ميں حكم الہى پہنچانے پر مامور تھے_

قل لعبادى الذين ا منوا يقيموا الصلوة وينفقو

۲_خدا وند متعال كے خاص لطف و عنايت سے بہرہ مندسچے بندے اور مؤمنين اس كى بارگاہ ميں خاص مقام و منزلت ركھتے ہيں _قل لعبادي

مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب '' عبادى '' ميں اضافہ ،تشريفيہ ہو_

۱۰۴

۳_مكہ ميں نماز اور انفاق كا حكم ہجرت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے نازل ہوا تھا _قل لعبادى الذين ء امنوا يقيموا الصلوة وينفقوا

مندرجہ بالا مطلب سورئہ ابراہيم كے مكى ہونے كى وجہ سے اخذ كيا گيا ہے_

۴_تمام الہى فرائض اور شرعى ذمہ داريوں ميں سے نماز قائم كرنے اور انفاق (راہ خدا ميں خرچ )كرنے كو خاص اہميت حاصل ہے_قل لعبادى الذين ء امنوا يقيموا الصلوة وينفقوا

حقيقى بندوں كى صفت ايمان كو بيان كرنے كے بعد اقامہ نماز اور انفاق كا تذكرہ او رتمام فرائض ميں سے فقط ان دوفرائض كو انتخاب كرنے سے مندرجہ بالا مطلب اخذ ہوتا ہے_

۵_جلوت و خلوت ميں نماز قائم كرنا اور راہ خدا ميں خرچ كرنا خداوند متعال كے سچے بندوں كى نشانيوں اور خصوصيات ميں سے ہے_قل لعبادى الذين ء امنوا يقيموا الصلوة وينفقواسرًّا و علانية

۶_ راہ خدا ميں خرچ كرنا خواہ پنہان ہويااشكار ، پسنديدہ اور قابل قدر ہے _قل لعبادي ...وينفقوا ممّا رزقنهم سرًّا و علانية

يہ كہ خداوند متعال نے پنہاں اور اشكار دونوں قسم كے انفاق كى باہم مدح كى ہے اس سے مذكورہ بالا مطلب اخذ ہوتا ہے_

۷_مال ودولت اور ثروت كو خدائي سرچشمہ جانتے ہوئے توجہ كرنے سے انسان كو انفاق اور راہ خدا ميں خرچ كرنے كى تشويق ہوتى ہے_قل لعبادي ...وينفقوا ممّا رزقنهم

يہ كہ خداوند متعال نے انسان كے مال ودولت اور وسائل كى نسبت اپنى طرف دى ہے اور اسے خداداد ، رزق كہا ہے تو اس سے مذكورہ بالا مطلب اخذ كى جاسكتا ہے_

۸_پنہانى طور پر انفاق كرنا ،اشكار انفاق كرنے سے كہيں زيادہ پسنديدہ اور قدر ومنزلت كا حامل ہے_*

وينفقوا ممّا رزقنهم سرًّا و علانية

مذكورہ بالا ايت مجيدہ ميں اشكار انفاق پر مخفى انفاق كا مقدم ہونا ممكن اس حقيقت كو بيان كررہا ہو كہ مخفى انفاق چونكہ دكھاوے اور نفاق سے خالى ہوتا ہے لہذا زيادہ پسنديدہ اور قدر و منزلت كا حامل ہے_

۹_انسان كے تمام مادى اور معنوى وسائل ،خدائي رزق وروزى شمار ہوتے ہيں اور اسى كى جانب سے ہيں _

ينفقوا ممّا رزقنهم

۱۰۵

جملہ '' مّا رزقنھم''عام ہے او ر انسان كے تمام وسائل كو شامل ہے خواہ وہ مال ودولت جيسے مادى وسائل ہوں يا علم وغير جيسے معنوى وسائل_

۱۰_انسان قرب و منزلت الہى كے جس مر حلے پر بھى پہنچ جائے اسے عبادت ( نماز وغيرہ ) اور خدمت خلق (انفاق) كى ضروت ہوتى ہے_قل لعبادى الذين ء امنوا يقيموا الصلوة وينفقوا ممّا رزقنهم

''يائے '' متكلم كى طرف ''عباد'' كا اضافہ ،تشريفيہ ہے اور بارگاہ خدا وندى ميں بندوں كے قرب اور منزلت كو بيان كر رہا ہے _بنا بريں ان كو خداوند كى جانب سے نماز قائم كرنے اور انفاق كرنے كے فرمان سے ظاہر ہوتا ہے كہ بندہ قرب الہى كے مقام تك پہنچ جانے كے باوجود ان دو فرائض ،(نماز اور انفاق) كو انجام دينے كا محتاج ہے_

۱۱_فقط وہى وسائل اور ما ل و دولت ،رزق وروزى خدا شمار ہوتا ہے اور انفاق كے قابل ہے كہ جو فرمان الہى كے مطابق حاصل كيا گيا ہو_ينفقوا ممّا رزقنهم

جملہ '' ممّا رزقنھم''انفاق كے لئے قيد كى حيثيت ركھتا ہے _يعنى اس مال سے انفاق كرو كہ جوہم نے چاہا ہے اور تمہيں عطا كيا ہے نہ كسى اور مال سے_

۱۲_انسان كے نيك اعمال(نماز و انفاق وغيرہ ) خداوند متعال كے ساتھ لين دين اور دوستى كى حيثيت ركھتے ہيں _

يقيموا الصلوة وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۳_خداو ند متعال ، اپنے خالص بندوں اورمؤمنين كو موت اجانے سے پہلے اپنے اموال سے انفاق كرنے كى دعوت ديتا ہے_قل لعبادى الذين ء امنوا ...وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۴_موت كے انے سے پہلے دنيوى وسائل اور فرصتوں سے استفادہ كرنا ضرورى ہے _

يقيموا الصلوة وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۵_فقط دنيا كى زندگى ہى عمل كا ميدان اور اخروى سعادت حاصل كرنے كا مقام ہے _

يقيموا الصلوة وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۶_عالم اخرت ،كسى قسم كى كوشش ،معاملے اور دوستانہ رابطے كى جگہ نہيں اور وہ انسان كے لئے كار امد نہ ہوگي_

يقيموا الصلوة وينفقوا من قبل ا ن يا تى يوم لابيع فيه ولاخلل

۱۰۶

۱۷_''عن ا بى عبدالله عليه‌السلام قال: ...ولكنّ الله عزّوجلّ فرض فى ا موال الا غنياء حقوقاً غير الزكاة و قد قال الله عزّوجلّ: ''ينفقوا ممّا رزقنهم سرًّا و علانية '' ...;(۱) امام صادقعليه‌السلام سے منقول ہے كہ اپعليه‌السلام نے فرمايا: ليكن خداوند عزوجل نے دولت مندوں كے اموال ميں زكوة كے علاوہ بھى كچھ حقوق واجب كيئے ہيں : ...اور خدا وند متعال نے فرمايا ہے:''ينفقوا ممّا رزقنهم سرًّا و علانية ''_

اخرت :اخرت ميں دوستي۱۶;اخرت ميں تعلقات توڑنا ۱۶ ; اخرت ميں معاملہ۱۶;اخرت كى خصوصيات ۱۶

انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :انحضر تصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رسالت ۱

احكام:۱۷

الله تعالى :الله تعالى كى دعوتيں ۱۳;الله تعالى كے ساتھ دوستى ۱۲;الله تعالى كى رزاقيت ۹;الله تعالى كى روزى ۱۱;الله تعالى كى خاص عنايت۲;الله تعالى كے ساتھ معاملہ ۱۲

الله تعالى كا لطف:الله تعالى كا لطف جن كے شامل حال ہے ۲

الله تعالى كے بندے:الله تعالى كے بندوں كا تقرب ۲;الله تعالى كے بندوں كو دعوت ۱۳;الله تعالى كے بندوں كى نشانياں ۵

انسان:انسانوں كى خدمت ۱۰; انسان كى معنوى ضروريات ۱۰

انفاق:اشكارا نفاق كى قدرومنزلت۶،۸;مخفى انفاق كى قدرو منزلت۶،۸،حلال سے انفاق ۱۱;موت سے پہلے انفاق۱۳;واجب ا نفاق۱۷;انفاق كى اہميت ۱،۴،۱۲;اشكار انفاق كى اہميت ۵;پنہان انفاق كى اہميت ۵;تشريع انفاق كى تاريخ ۳;مكہ ميں انفاق كى تشريع ۳;انفاق كى دعوت ۱۳;انفاق كا پيش خيمہ ۷;انفاق كى شرائط ۱۱

تحريك:تحريك كرنے كے عوامل ۷

ذكر:سر چشمہ ثروت كو ذكركرنے كے اثرات ۷

روايت:۱۷

____________________

۱)كافى ،ج۳،ص۴۹۸،ح۸;تفسير برہان ،ج۲، ص۷ ۳۱، ح۱_

۱۰۷

روزي:روزى كا سر چشمہ ۹

سعادت:دنيوى سعادت كا پيش خيمہ ۱۵

شرعى فريضہ:اہم ترين شرعى فريضہ ۴

ضروريات:انفاق كى ضرورت ۱۰;عبادت كى ضرورت ۱۰;نماز كى ضرورت ۱۰

عمل:پسنديدہ عمل كى اہميت ۱۲;پسنديدہ عمل ۶;عمل كى فرصت ۱۵

فرصت:فرصت سے استفادے كى اہميت ۱۴

فقرا:فقرا كے حقوق ۱۷

مادى وسائل:مادى وسائل سے استفادہ۱۴;مادى وسائل كا سر چشمہ ۹

مالك:حقيقى مالك ۷

معنوى وسائل:معنوى وسائل كا سر چشمہ ۹

مؤمنين :مؤمنين كا تقرب ۲;مؤمنين كو دعوت ۱۳;مؤمنين كا مقام و مرتبہ ۲;مؤمنين كى نشانياں ۵

مقربين :۲

مقربين كى ضروريات ۱۰

نماز:نماز قائم كرنے كى اہميت ۱،۴،۵;نمازكى اہميت ۱۲;نماز كى تشريع كى تاريخ ۳;نماز كى مكہ ميں تشريع ۳

واجبات:مالى واجبات۱۷

۱۰۸

آیت ۳۲

( اللّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّكُمْ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الأَنْهَارَ )

اللہ ہى وہ ہے جس نے آسمان و زمين كو پيدا كياہے اور آسمان سے پانى برسا كر اس كے ذريعہ تمھارى روزى كے لئے پھل پيدا كئے ہيں اور كشتيوں كو مسخر كرديا ہے كہ سمندر ميں اس كے حكم سے چليں اور تمھارے لئے نہروں كو بھى مسخر كرديا ہے _

۱_فقط خدا وند عالم ہى اسمانوں اور زمين كا خالق اور اسمان سے بارش برسانے والا ہے _

لله الذى خلق السموت والا رض وا نزل من السّماء ماء

مسند اليہ اور مسند يعنى ''الله '' اور'' الذي'' كا معرفہ ہونا حصر پر دلالت كرتا ہے_

۲_اسمانوں اور زمين كى خلقت خداوند متعال كى توحيد كى دليل اور علامت ہے_الله الذى خلق السموت والا رض

۳_عالم خلقت ميں متعدد اسمانوں كا موجود ہونا _السموت

۴_پانى مايہ حيات اورپودوں ، پھلوں اور نباتات كے اگنے كا سبب ہے_وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات

۵_پانى كا اصلى منبع ،اسمان ہے_وا نزل من السّماء ماء

۶_انسان كے رزق اور روزى كا پودوں ،نباتات اور پھلوں كے اگنے سے پورا ہونا_فا خرج به من الثمرات رزقًالكم

۷_بارش كا برسنا اور پودوں اور پھلوں كا اگنا خداوند متعال كى توحيد كى دليل اور علامت ہے_

الله الذى خلق السموت والا رض وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات

۸_پھل، پودے اور انسان كى روزى ورزق كا پورا ہونا ،بندوں پرنعمت و لطف الہى كا ايك مظہرہے جو شكر وسپاس كے لائق ہے_الله الذى خلق السموت والا رض وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات رزقًالكم

ايت مجيدہ نعمات الہى كو شمار كر كے مقام احسا ن مندى اور شكر گذارى كو بيان كر رہى ہے اور ايت كا لب ولہجہ بندوں كو نعمات الہى كے سامنے شكر و سپاس كرنے كى تشويق كر رہاہے_ يا درہے كہ دو ايات كے بعد (ايت ۳۴) بھى اس مطلب كى تائيد كرتى ہيں _

۱۰۹

۹_عالم طبيعت پر نظام ''علت ومعلول '' كا حاكم ہونا_وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات رزقًالكم

۱۰_طبيعى عوامل كے ذريعے ہى فعل خدا انجام پاتا ہے_وا نزل من السّماء ماء فا خرج به من الثمرات

يہ كہ كائنات كى تمام موجودات فرمان خداوند متعال كے تحت اور اسى كے ارادے سے وجود حاصل كرتى ہيں ،اس كے باوجود خد اوند متعال نے پانى كو پودوں اور نباتات كا سر چشمہ قرار ديا ہے _يہى حقيقت مندرجہ بالا مطلب كو بيان كر رہى ہے_

۱۱_خداوند متعال كى جانب سے انسان كے فائدے اور بہر ہ مند ہونے كے لئے كشتيوں كا مسخر اور مطيع ہونا_

وسخّرلكم الفلك

۱۲_حكم خدا وند كى وجہ سے كشيتوں كا حركت كرنا اور انسانوں كے سامنے ان كا مسخر ہونا _

وسخّرلكم الفلك لتجرى فى البحر با مره

۱۳_انسان كے لئے سمندر اور كشتى رانى كانہايت اہم كردار ادا كرنا_وسخّرلكم الفلك لتجرى فى البحر با مره

۱۴_انسان كے فائدے كے لئے خدا وند متعال كا نہروں اور دريائوں كو مسخر كرنا_وسخّرلكم الا نهار

۱۵_خدا وند متعال ،انسان كو كشتى رانى اورجہاز رانى كى تربيت حاصل كرنے اور سمندروں ودريائوں سے بہتر استفادہ كرنے كى تشويق كرتا ہے_وسخّرلكم الفلك لتجرى فى البحر با مره وسخّرلكم الا نهار

انسان كے لئے سمندر اور كشتى كے مسخر ہونے سے مراد، ان سے بہرہ مند ہونے كى استعداد اور ضرورى وسائل كا فراہم ہونا ہے _اس استعداد اور اسباب سے انسا ن كو اپنى علمى كوشش اور محنت سے استفادہ كرنا چاہيے_

۱۶_انسان كے لئے دريائوں اور نہروں كا نہايت اہم

۱۱۰

كردار ادا كرنا_وسخّرلكم الا نهار

۱۷_دريائوں اور نہروں كا مسخر اور مطيع ہونا بندوں پر خداوند عالم كى نعمت اور عنايت كا قابل شكر و سپاس مظہر ہے _

وسخّرلكم الا نهار

۱۸_انسان كے لئے كشتيوں ،نہروں اور دريائوں كو مسخر و مطيع بنانا ،توحيد خداوند كى دليل اور نشانى ہے_

الله الذى خلق وسخّرلكم الفلك لتجرى فى البحر با مره وسخّرلكم الا نهار

اسمان:اسمانوں كا متعدد ہونا۳;اسمانوں كا خالق۱; اسمانوں كى خلقت۲;اسمانوں كے فوائد۵

الہى نشانياں :افاقى نشانياں ۲،۷،۱۸

الله تعالى :الله تعالى سے مختص چيزيں ۱;الله تعالى كے افعال ۱۱ ،۱۴;الله تعالى كے اوامر ۱۲;الله تعالى كى تشويق ۱۵ ;الله تعالى كى خالقيت ۱;الله تعالى كے افعال كے مجارى ۱۰;الله تعالى كے لطف كى نشانياں ۸، ۱۷; الله تعالى كى نعمتيں ۸،۱۷

انسان:انسان كے فضائل۱۱،۱۴

بارش:بارش كا سر چشمہ ۱;بارش كا كردار۷

پاني:پانى كے فوائد ۴;پانى كے منابع۵

پودے:پودے اگنے كے اسباب ۴;پودوں كے اگنے كا فلسفہ۶;پودوں كے اگنے كے اثرات۷

پھل:پھلوں كے اگنے كے اسباب ۴;پھلوں كے اگنے كا فلسفہ۶;پھلوں كے اگنے كے اثرات۷

توحيد:توحيد كے دلائل ۲،۷،۱۸

جہاز راني:جہاز رانى كى تشويق۱۵

حيات:حيات كے عوامل۴

خلقت:خلقت كا باضابطہ ہون

دريا:دريائوں كى تسخير۱۸

۱۱۱

روزي:روزى كے اسباب ۶

زمين :زمين كا خالق ۱;زمين كى خلقت ۲

سمندر:سمندر سے استفادہ ۱۵;سمندر كے فوائد ۱۳

شكر :شكر نعمت كى اہميت ۸،۱۷

طبيعى عوامل:طبيعى عوامل كا كردار۱۰

كشتي:كشتيوں سے استفادہ ۱۱;كشتيوں كى تسخير ۱۸; كشتيوں كى تسخير كا فلسفہ ۱۱;كشتيوں كى تسخير كا سر چشمہ۱۲;كشتيوں كى حركت كا سرچشمہ۱۲

كشتى راني:كشتى رانى كى اہميت ۱۳;كشتى رانى كى تعليم۱۵

نظام عليت:۹

نعمت:نہروں كى تسخير كى نعمت ۱۷;پودوں كى نعمت ۸; پھلوں كى نعمت۸

نہر:نہروں سے استفادہ ۱۵;نہروں كى اہميت ۱۶ ; نہروں كى تسخير ۱۴،۱۸;نہروں كے فوائد ۱۶

آیت ۳۳

( وَسَخَّر لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَينَ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ )

اور تمھارے لئے حركت كرنے والے آفتاب و ماہتاب كو بھى مسخر كردياہے اور تمھارے لئے رات اور دن كو بھى مسخر كرديا ہے _

۱_خدا وند متعال(ہي) انسان كے فائدے كے لئے سورج اور چاند كو مطيع كرنے والا ہے _

وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين

۲_سورج اور چاند ايك معين اور دائمى حالت ميں حركت كر رہے ہيں _وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين

۱۱۲

'' دائبين ''،مادہ '' دائب '' سے ''دا،ب ''كا تثنيہ ہے جس كا معنى ايك دائمى عادت اور حالت ہے_(مفردات راغب)_

۳_خداوند متعال (ہي) انسان كى بہرہ مندى كے لئے دن اور رات كو مسخر كرنے والا ہے_وسخّرلكم الّيل والنهار

۴_انسان كے لئے دن ، رات اور چاند اور سورج كو مطيع كرنا ،توحيد خدا وند كى دليل ہے_

الله الذى خلق ...وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

۵_ سورج ،چاند اور دن اور رات كا انسان كے لئے مطيع ہونا ،بندوں پرنعمت و لطف الہى كا ايك مظہرہے جو شكر وسپاس كے لائق ہے_الله الذى خلق ...وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

آيت مجيدہ نعمات الہى كو شمار كر كے مقام احسا ن مندى اور شكر گذارى كو بيان كر رہى ہے اور آيت كا لب ولہجہ بندوں كو پرورد گار كى نعمات كے سامنے شكر و سپاس كرنے كى تشويق كر رہاہے_ ياد رہے كہ بعدوالى آيت ميں جملہ(انّ الانسن لظلوم كفّار ) بھى اس مطلب كى تائيد كررہا ہے_

۶_تمام ( مؤمن و كافر ) انسان ،عالم طبيعت سے بہرہ مند ہونے كا حق ركھتے ہيں _

الله الذى خلق ...رزقًالكم ...وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

۷_نظام خلقت كا با ضابطہ ،با مقصد اور منظم ہونا _

الله الذى خلق السموت والا رض رزقًالكم وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

۸_ مادى دنيا(اسمان،زمين ،چاند،سورج اوربارش وغيرہ )كے نظام خلقت كا انسان كى خدمت ميں اور اس كى ضروريات ،خواہشات اور مصلحتوں كے مطابق ہونا_

الله الذى خلق السموت والا رض رزقًالكم وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

يہ جو خداوند متعال نے فرمايا ہے كہ ميں نے اسمان،زمين ،چاند،سورج وغيرہ كوانسان كے لئے مسخر و مطيع كر ديا ہے _اس سے معلوم ہو تا ہے كہ يہ سب چيزيں انسان كى خلقت اور اس كى ضروريات كے ساتھ ہم اہنگ ہيں _

۹_انسان، نظام خلقت اور مادى دنيا كى انتہائي با شرافت اور بلند مر تبہ مخلوق ہے_

الله الذى خلق السموت والا رض رزقًالكم وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

يہ كہ اسمان،زمين ،چاند،سورج وغيرہ اپنى تمام تر عظمت كے ساتھ انسان كے لئے مطيع بنا ديئے

۱۱۳

گئے ہيں اس سے معلوم ہوتا ہے كہ انسان ان سب سے زيادہ باعظمت اور قابل قدر مخلوق ہے يا كم از كم ايك خاص شرافت اور مرتبے كا حامل ہے_

۱۰_سمندر ،دريا ،سورج ،چاند اور دن ،رات ميں سے ہر ايك معرفت خدا كى الگ نشانى اور انسان كى ضروريات ميں سے كسى ايك ضرورت كو پورا كرنے والى چيز ہے_

وسخّرلكم الفلك ...وسخّرلكم الا نهار_وسخّر لكم الشمس والقمر دائبين وسخّرلكم الّيل والنهار

خلقت:خلقتاور انسانى مصلحتيں ۸; خلقتاور انسانى ضروريات ۸ ;خلقت كا باضابطہ ہونا ۷ ; موجودات خلقت۹;نظم خلقت ۷; خلقتكا بامقصد ہونا ۷; خلقتكى ہم اہنگي۸

الله كى نشانياں :افاقى نشانياں ۴،۱۰

الله تعالى :الله تعالى كے افعال ۱،۳;الله تعالى كى معرفت كے دلائل ۱۰;الله تعالى كے لطف كى نشانياں ۵;الله تعالى كى نعمتيں ۵

انسان:انسان كے حقوق ۶;انسان كى عظمت ۹;انسان كے فضائل۱،۳،۸،۹;انسانى ضروريات پورى ہونے كے منابع۱۰;انسانى ضروريات۳

توحيد:توحيد كے دلائل ۴

چاند:چاند كى گردش كا دوام ۲;چاند كى تسخير ۱،۴،۵ ; چاندكا كردار ۱۰

حقوق :حق تمتع ۶

دن:دنوں كى تسخير ۳،۵;دنوں كى تسخير كا كردار ۴ دنوں كا كردار ۱۰

رات:رات كى تسخير ۳،۴،۵;رات كا كردار۱۰

سمندر:سمندروں كا كردار ۱۰

سورج:سورج كى گردش كا داوم ۲;سورج كى تسخير ۱،۴، ۵; سورج كا كردار۱۰

شكر:شكر نعمت كى اہميت ۵

۱۱۴

ضروريات:ضروريات پورى ہونے كے منابع ۱۰

طبيعت:طبيعت سے استفادہ۶

نہر:نہروں كے فوائد ۱۰;نہروں كا كردار۱۰

آیت ۳۴

( وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَتَ اللّهِ لاَ تُحْصُوهَا إِنَّ الإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ )

اور جو كچھ تم نے مانگا اس ميں سے كچھ نہ كچھ ضرور ديا اور اگر تم اس كى نعمتوں كو شمار كرنا چاہو گے تو ہر گز شمار نہيں كرسكتے بيشك انسان بڑا ظالم اور انكار كرنے والاہے _

۱_خداوند متعال نے انسان كے وجود كے لئے تمام ضرورى چيزيں ،اسے عطا كر دى ہيں _

وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

جملہ ''ما سا لتموہ'' ميں سوال كے بارے ميں دو احتمال ہيں :ايك زبانى دعا اور درخواست كے معنى ميں سوال كرنا،دوسرا انسانى وجود اور طبع كا سوال اور درخواست كرنا ;يعنى بشر كو اپنى طبيعت اور وجود ميں ايك مستقل موجود كى حيثيت سے جس چيز كى ضرورت ہے وہ خدا نے اسے عطا كر دى ہے_مندرجہ بالا مطلب اسى دوسرے احتمال پر مبنى ہے_

۲_انسان اپنى تمام ضروريات كو پورا كرنے ميں خداوند متعال كا محتاج ہے_وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

يہ جو خدا وند عالم نے فرمايا ہے كہ ميں نے تمہارى تمام ضروريات اور تقاضوں كو پورا كر ديا ہے ،انسان كے اپنى تمام ضروريات كو برطرف كرنے ميں محتاج ہونے كى دليل ہے_

۳_خداو ند متعال ،انسان كى ضروريات اور خواہشات سے اگاہ اور انہيں پورا كرنے پر قادر ہے_

وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

چونكہ خدا وند عالم نے انسان كى تمام ضروريات كو پورا كر ديا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ ان ضروريات سے اگاہ اور انہيں عطا كرنے پر قادر (بھى ) ہے_

۱۱۵

۴_خدا وند تعالى نے انسان كى درخواستوں اور تقاضوں ميں سے بعض اسے عطا كر دى ہيں _وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

مندرجہ بالا مطلب اس بات پر مبنى ہے كہ جب ''من كل'' ميں ''من''تبعيض كے لئے ہو اور جملہ '' سا لتموہ'' ميں سوال سے مراد زبانى سوال اور تقاضا ہونہ وجودى تقاضے اور درخواستيں _

۵_بشر كى تمام مادى ضرورتيں اور تقاضے عالم طبيعت ميں موجود ہيں _وء اتكم من كلّ ما سا لتموه

۶_انسان بے شمار الہى نعمتوں اور احساسات سے بہرہ مند ہے_وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

۷_انسان كو عطا شدہ الہى نعمتيں ہرگز شمار نہيں كى جا سكتيں _وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

۸_انسان كا تمام الہى نعمتوں كى شناخت سے عاجز ہونا_وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

نعمات الہى كو شمار كرنے سے انسان شايد اس وجہ سے عاجز ہو_ چونكہ وہ خدا كى بہت سى نعمتوں كى شناخت نہيں كر سكتاچہ جائيكہ وہ ان سب كو گن لے_

۹_ہر وہ چيز كہ جو خدا وند متعال نے بشر كى ضروريات اور تقاضوں كو پورا كرنے كے لئے اسے عطا كى ہے وہ اس كى نعمت اور مہربانى ہے _وء اتكم من كلّ ما سا لتموه وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

يہ كہ خدا وند متعال نے انسان كو اپنى عطا كردہ چيزوں كو (وء اتكم من كلّ ما سا لتموه ) نعمت كہا ہے (وان تعدّوا نعمت الله )اس سے مندرجہ بالا مطلب اخذ ہو تا ہے_

۱۰_انسان كوخداو ند عالم كا خاص لطف اور كرم شامل ہے اور وہ اس كى بار گاہ ميں خصوصى مقام و مرتبہ ركھتا ہے_

وء اتكم من كلّ ما سا لتموه وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

۱۱_انسان كے وجود كے لئے ضرورى تمام تقاضوں كو پورا كرنا اور اسے بے شمار نعمتوں سے بہرہ مند كرنا ،خداوند كى توحيد ربوبى كى دليل ہے_الله الذى خلق السموت والا رض ...وء اتكم من كلّ ما سا لتموه وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها

۱۲_خدا وند متعال كى جانب سے انسان كے تمام تقاضوں اور درخواستوں كے قبول نہ ہونے كا (ايك ) سبب انسان كا ظلم اور ناشكراہونا ہے_وء اتكم من كلّ ما سا لتموه ...انّ الانسن لظلوم كفّار

۱۱۶

مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر ہے كہ جب '' من كلّ'' ميں '' من '' تبعيض كے لئے ہو اور سوال سے مراد زبانى درخواست ہو نيز جملہ ''انّ الانسن لظلوم كفّار ''پہلے جملوں كى علت بيان كر رہا ہو_

۱۳_انسان خدا كى بے انتہا نعمتوں كے مقابلے ميں بہت ظلم كرنے والا اور نا شكرا ہے_

وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

''ظلوم '' اور ''كفار'' مبالغے كے صيغے ہيں اوراپنے معنى كى كثر ت اور فروانى پر دلالت كرتے ہيں _

۱۴_انسان اپنے اوپر ظلم كرنے والا اور نعمت و نيكى كے مقابلے ميں انتہائي ناشكرا ہے_

وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

انسان كو عطا شدہ الہى نعمتوں اور عطائوں كے بيان كے قرينے سے ''ظلوم ''سے مراد انسان كا اپنے اوپر ظلم كرنا ہے_

۱۵_الہى نعمتوں كے مقابلے ميں شكر و سپاس ضرورى ہے_

وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

جملہ '' انّ الانسن لظلوم كفّار '' نعمات الہى كا شكر بجا نہ لانے اور ظلم كرنے كى برائي كو بيان كر رہا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ الہى نعمات كے مقابلے ميں شكر و سپاس ،ايك ضرورى امر ہے چونكہ يہ اگر ضرورى نہ ہوتا تو اس كا ترك كرنا بھى ناپسنديد ہ اور برا نہ ہوتا_

۱۶_نيكى اور نعمت كے مقابلے ميں ناشكرى كرنا، ايك انتہائي ناپسنديدہ اور قابل مذمت كام ہے_

وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

۱۷_الہى نعمتوں كا كفرا ن كرنا اورشكربجا نہ لانا،اپنے اوپر ظلم ہے_وان تعدّوا نعمت الله لا تحصوها انّ الانسن لظلوم كفّار

۱۸_اپنے ساتھ ظلم كرنا اور ناشكرا ہونا، ايك طرح سے انسان كى طينت بن چكا ہے_انّ الانسن لظلوم كفّار

اپنے اپ:اپنے اپ پر ظلم ۴۱،۱۷،۱۸

الله تعالى :الله تعالى كى نعمتوں كى شناخت ۸;الله تعالى كے عطايا ۱،۴;الله تعالى كا علم غيب۳;الله تعالى كى قدرت ۳;الله تعالى كى نيكى كے موارد ۹;الله تعالى كى نعمتوں كے موارد ۹;الله تعالى كى نعمتوں كى فراواني۷،۱۳

۱۱۷

الله تعالى كا لطف:الله تعالى كا لطف جن كے شامل حال ہے ۱۰

انسان:انسان كى بعض ضروريات كا پورا ہونا ۴;انسان كى ضروريات كا پورا ہونا۹،۱۱;انسان كى صفات ۱۳،۱۴;انسان كى طبيعت۱۸;انسان كا ظلم ۳۱، ۱۴ ، ۱۸ ; انسان كا عجز ۸;انسان كے فضائل ۶،۱۰ ; انسان كا كفران نعمت كرنا ۱۳،۱۴;انسان كى ضروريات كے پورا ہونے كا سر چشمہ ۱،۲، ۳; انسان كى نعمتيں ۶;انسان كى مادى ضروريات۵

توحيد:توحيد ربوبى كے دلائل ۱۱

دعا:قبوليت دعا كے موانع ۱۲

شكر:شكر نعمت كى اہميت ۱۵

ضروريات:ضروريات پورى ہونے كے منابع ۵;ضروريات پورى ہونے كا سرچشمہ۱،۲،۳،خدا كى ضرورت۲

ظلم :ظلم كے اثرات ۱۲

كفران نعمت:كفران نعمت كے اثرات ۱۲،۱۷;كفران نعمت پر سر زنش ۱۶;كفران نعمت۱۸;كفران نعمت كا ناپسنديدہ ہونا ۱۶

نعمت:نعمت جن كے شامل حال ہے ۶

آیت ۳۵

( وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَـذَا الْبَلَدَ آمِناً وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الأَصْنَامَ )

اور اس وقت كو ياد كرو جب ابراہيم نے كہا كہ پروردگار اس شہر كو محفوظ بنادے اور مجھے اور ميرى اولاد كو بت پرستى سے بچائے ركھنا_

۱_ حضرت ابراہيمعليه‌السلام كى زندگى اور دعا كرنے كا انداز اور كيفيت ،سبق اموزاور قابل ذكر ہے_

واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

'' واذ قال'' ،'' اذكر '' سے متعلق ہے يا ''اذكروا '' تقدير ميں ہے_واضح ہے كہ حضرت ابراہيمعليه‌السلام كے قصے كى ياد دلانااس كے بااہميت اور سبق اموز ہونے كو ظاہر كرتا ہے_

۱۱۸

۲_حضرت ابراہيمعليه‌السلام نے خدا وند متعال سے سر زمين مكہ كى امنيت كے لئے دعا كى _

واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

۳_حضرت ابراہيمعليه‌السلام نے خداوند متعال سے حرمت مكہ كى حفاظت اور امنيت كے لئے قوانين وضع كرنے كى درخواست كى _واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

مندرجہ بالا مطلب اس بات پر مبنى ہے كہ جب ''اجعل'' سے تشريعى جعل مرادہو جيسا كہ اسلام ميں اسى سلسلے ميں متعدد قوانين وضع ہوئے ہيں _

۴_مكہ ،امن الہى كا حرم ہے_ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

تمجيد كى زبان ميں حضرت ابراہيمعليه‌السلام كى دعا نقل كرنا ،خداوند كى جانب سے اس دعا كے قبول ہونے كو ظاہر كرتا ہے_

۵_حضرت ابراہيمعليه‌السلام نے خداوند متعال سے مكہ كے امن و امان اور مذہب شرك اور بت پرستى كے نفوذ سے محفوظ رہنے كى دعا كى _*واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

حضرت ابراہيمعليه‌السلام كا اپنے اور اپنے خاندان كے بارے ميں شرك كى طرف ميلان سے محفوظ رہنے كى دعا كرنا ،اس بات كا قرينہ ہو سكتا ہے كہ مكہ كى امنيت سے مراداس كا مذہب شرك اور بت پرستى كے شر سے محفوظ ہونا ہے_

۶_خداوند متعال كو ''رب'' كے نام سے پكارنا،دعا كے اداب ميں سے ہے_ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

۷_حضرت ابراہيمعليه‌السلام كے زمانے ميں مكہ شہرى ابادى پر مشتمل تھا _واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

۸_ حضرت ابراہيمعليه‌السلام كا مكہ كى امنيت اور حرمت كى طرف خاص توجہ دينا _

واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

يہ كہ حضرت ابراہيمعليه‌السلام نے اپنى دعا ميں پہلے مكہ شہر كى امنيت كا مسئلہ پيش كيا ہے اور اسے اپنى اولاد كى ہدايت پر مقدم ركھا ہے ،ان كے نزديك مكہ كے امن وامان كى اہميت اور اس مسئلے كى طرف ان كى خاص توجہ كو ظاہر كرتا ہے_

۹_ پر امن اور مطمئن جگہ پرزندگى گذارنا اہميت اور قدر ومنزلت ركھتا ہے_ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا

۱۰_حضرت ابراہيمعليه‌السلام كاخداوند متعال سے اپنے اور اپنى اولاد كے بت پرستى كى طرف رجحان سے محفوظ

۱۱۹

رہنے كى دعا كرنا_واذقال ابراهيم رب ...اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

۱۱_الہى حقائق تك پہنچنے اور ہدايت پانے كے اسباب فراہم ہونے كے لئے زندگى گذارنے كى جگہ كے پر امن اور قابل اطمينان ہونے كا موثر ہونا_واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا و اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

حضرت ابراہيمعليه‌السلام كے اپنى اولاد كے لئے ھدايت كى دعا مانگنے سے پہلے ان كے محل سكونت (مكہ شہر) كى امنيت كى دعا كرنے سے مذكورہ بالا مطلب حاصل ہوتا ہے_

۱۲_اپنى اولاد كے لئے دعا اور ان كى اخروى عاقبت اور ديانت وسعادت كى طرف توجہ ايك اہم اور قابل قدر مسئلہ ہے_

واذقال ابراهيم رب اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

۱۳_اہل مكہ كے لئے دعا كے وقت حضرت ابراہيمعليه‌السلام كى ايك سے زيادہ اولاد تھي_

واذقال ابراهيم ربّ اجعل هذاالبلد ء امنًا و اجنبنى وبنّي

۱۴_حضرت ابراہيمعليه‌السلام كے زمانے كے لوگ ،بت پرست تھے اور وہ چند بتوں كى پوجا كرتے تھے_

واذقال ابراهيم ربّ اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

۱۵_موحد ہونے اور شرك سے مكمل طور پر محفوظ رہنے كے لئے توفيق خدا اور اسكى مدد كى ضرورت ہے_

و اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام

مندرجہ بالا مطلب اس دليل پر مبنى ہے كہ حضرت ابراہيمعليه‌السلام خدا كے عظيم (اولواالعزم) نبى ہونے كے باوجود خداوند متعال سے اپنے اور اپنى اولاد كے شرك سے محفوظ رہنے كى دعا كر تے ہيں _

۱۶_''عن ا بى عبدالله عليه‌السلام ...قال: ...ان الله ا مر ابراهيم عليه‌السلام ا ن ينزل اسماعيل بمكة ففعل فقال ابراهيم: ''ربّ اجعل هذا البلد ء امنًا و اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام'' فلم يعبد ا حد من ولد اسماعيل صنماًقطّ ...، (۱) امام صادقعليه‌السلام فرماتے ہيں : بہ تحقيق خدا وند متعال نے ابراہيمعليه‌السلام كو حكم ديا كہ وہ اسماعيلعليه‌السلام كو مكہ ميں اباد كريں _پس ابراہيمعليه‌السلام نے اس حكم كو انجام دينے كے بعد كہا: ''ربّ اجعل ھذاالبلد ء امنًا و اجنبنى وبنّى ا ن نعبد الا صنام'' _ لہذااسماعيلعليه‌السلام كى كسى بھى اولاد نے كبھى كسى بت كى پرستش نہيں كي ...''

____________________

۱) تفسير عياشى ،ج۲،ص۲۳۰،ح۳۱;نور الثقلين ،ج۲ ،ص ۶ ۵۴،ح۹۶_

۱۲۰

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

''برتراند راسل'' علم کے بارے میں یہ سخت تلخ اور مایوس بیان دیتے ہوئے کہا:

شاید ہم ایسے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیںکہ جوبنی نوع انسان کے فناہونے کا زمانہ ہے۔اگر ایسا ہوا تو اس کا گناہ علم پر ہوگا۔(۱)

۱۹۶۰ ء  ک ی دھائی میں نوجوانوں اور بالخصوص پڑھے لکھے اور یونیورسٹییوں کے نوجوانوں  میں علم دشمنی رواج پائی کیونکہ انسان کے یہ تمام مصائب و مسائل علم وفنون کی ترقی سے وجود میں آئیں ہیں ۔(۱)

مغربی تمدن نے جس طرح علم کو غیر انسانی اور حقیرانہ منافع سے آلودہ کیااسی طرح انہوں نے ڈیموکریسی کو بھی اپنے اہداف کے حصول کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ جب اس تمدن کی تقدیر اس کی پیدائش اور اس کے مصرف کے بارے میں سوچیں اور انسان کی بے بسی، درماندگی ،بے اعتدالی اور خود بیگانگی کے موجبات کو پہچانیں اور ان کا راہ حل تلاش کرنے کی کوشش کریں ۔ البتہ علم کو چھوڑ کر، توہمات کی بناء پر نہیں بلکہ عقل مندی سے ان کے لئے چارہ جائی کریں اور ایک دوسری دنیا اور نیا انسان بنائیں۔(۳)

۱۹۴۵ء کے بعد سے دنیا تباہی،بربادی اور موت کے منہ میں کھڑی ہے۔کئی بار اس تو اس کے انجام تک بات جا پہنچی ۔ایٹمی اسلحوں کی وجہ سے ہمیشہ سب جاندار وں کے سروں پر موت کا سایہ منڈلاتا رہتا ہے۔فوج اور اسلحہ کی دوڑ میں ہر کوئی دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگا ہے۔

--------------

[۱]۔ علم،قدرت،خشونت:۸۷

[۲]۔ روان شناسی ضمیر ناخود آگاہ:۷۳

[۳]۔ روان شناسی ضمیر ناخود آگاہ:۸۹

۲۴۱

اس مقابلہ سے زمین اور اس کی فرہنگ و ثقافت کی بربادی کا سامان مہیا کیا جا رہا ہے۔جو فوج اور سیاست دانوں کی قدرت سے کچھ سال پہلے تک طرف مقابل کو ایٹم بم سے ڈراتے اور دھمکاتے تھے ان میں سے دانشوروں نے ایٹمی اسلحہ کے خلاف آواز اٹھائی۔حلانکہ اسے بنانے اور ایجاد کرنے میں البرٹ آئن اسٹائن اور   لئو اسزیلارد  کا اہم کردار تھا۔

۱۹۶۲ ء  م یں ایٹمی ماہرین طبعیات نے ایٹمی تجربات کے بارے میں خبردار کیا اور باقاعدہ اعلان کیا کہ ایٹمی تجربات کی وجہ سے ایک سال میں دولاکھ معذور اور ناقص الخلقت بچے پیدا ہوئے ہیں۔ ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے وجود میں آنے والا'' سزیوم۱۳۷ ''مستق یم حمل پر اثر انداز ہوتا ہے،جس سے بچے معذور پیدا ہوتے ہیں۔جن کی چھ انگلیاں ہوتی ہیں یا وہ بدشکل  اور لنگڑے پیداہوتے ہیں۔

ژان روستان ،ڈاکٹر دلونی اور زیست شناسی میں انعام پانے والے امریکی پروفیسر مولر نے رسمی طور پر اپنی پریشانی کا اعلان کرتے ہوئے خبردا رکیا کہ ایٹمی دھماکوں کو بارہا تکرار کرنے سے زندگی کو اور بہت سنگین مشکلات لاحق ہو سکتی ہیں۔اس کے بعد دنیا کے بے شمار دانشور  ان کے ہمراہ ہوگئے۔

۱۹۶۲ ء  م یں دنیا میں زیست شناسی کے سینکڑوں مشہور ماہرین نے ایک اجلاس کا انعقاد کیا جس کا  عنوان تھا''ہم سب ایٹمی تجربات سے مر جائیں گے اگر.....''اس اجلاس میں فرانس کے مشہور ماہر طبیعات'' ژان روستان'' نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یوں خبردار کیا :رادیو آکٹیو کے مواد سے جانداروں کے سرو ںپر ہمیشہ موت کی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے۔جو نابودی کا پیغام ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آئندہ نسل اندھی، بہری، گونگی، معذور اور پاگل پیدا ہو گی۔(۱)

دنیا میں ایٹمی دھماکوں اور ایٹمی جنگ کے بعد وجود میں آنے والی نسل ہاتھ کی ہتھیلی سے زیادہ بڑی نہیں ہوگی۔

--------------

[۱]۔ تاریخ ناشناختہ بشر:۱۶۹

۲۴۲

  ایٹم کے علاوہ دوسری منفی اور مضر ایجادات

دوسرا درپیش مسئلہ یہ ہے کہ نہ صرف ایٹمی صنایع بلکہ کیمیائی صنایع بھی موت کے اس مقابلے میں برابر شریک ہیں۔جیسا کہ امریکی دانشوروں نے اس بات کی تائید کی ہے کہ صرف ایکس نامی شعاعیں ایٹم کی شعاعوں سے بیس گنا زیادہ نقصان دہ ہیں۔  اسی طرح کیمیائی صنعت سے وجود میں آنے والی ادویات کہ جنہیں ہم بڑی آسانی سے میڈیکل اسٹور سے خریدتے ہیں،وہ ہمیں کن خطرات میں مبتلا نہیں کرتیں؟ان شعاعوں میں جو بھی میزان ہو البتہ یہ بات مسلّم ہے کہ وہ نسل اور نطفہ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔آسان الفاظ میں یوں کہوں کہ اگر کسی نے ایک بار ہی ریڈیو گرافی کروائی تو اس کو یہ جان لینا چاہیئے کہ یہ اس کی افزائش نسل اور جنسی قوّت پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے۔ٹیلیویژن اور ریڈیالوجی کی مشین میں یہ شعاعیں ہوتی ہیں۔اگرچہ مختصر مدت میں اس کے اثرات ظاہر نہ ہوںلیکن  کچھ سالوں یا آئندہ صدیوں میں ان کے مضر اثرات کوظاہرہو جائیں گے۔

''ڈاکٹر رابرٹ ویلسن ''امریکہ کی ایٹمی انرجی کمیشن کے ممبران میں سے ایک ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ٹی وی اسکرین سے نکلنے والی اکثر مضر شعاعیں ایٹمی تجربات کی وجہ سے زیادہ منتشر ہوتی ہیں۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ ایٹمی کارخانوں کے زائد اور فاضل مواد کو کسی طرح بھی ختم نہیں کیا جا سکتا، حتی کہ اسے زمین کی گہرائی میں دفن کرنے سے بھی ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔(۱)

اب ہم اپنے جواب کی مزید وضاحت کے لئے موجودہ ایجادات کو تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔

۱ ۔ مضر، منفی اور تباہی وبربادی کا باعث بننے والی ایجادات

۲۔ منفی اثرات نہ رکھنے والی ایجادات ۔ لیکن انہیں استعمال کرنے کا وقت گزر چکا ہو۔

۳۔ جو ایجادات منفی اور مضراثرات نہیں رکھتی، لیکن معاشرہ اب بھی ان سے استفادہ کر رہا ہے۔

--------------

[۱]۔ تاریخ ناشناختہ بشر:۱۷۱

۲۴۳

  پہلی قسم کی ایجادات

یہ واضح ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام  کی آفاقی حکومت اور عادلانہ نظام میں نہ صرف مضر ، منفی اور تمام جنگی آلات بلکہ فساد، تباہی اور انسان کے جسم و جان کی بربادی کا باعث بننے والے ہر طرح کے وسائل بھی نیست و نابود ہو جائیں گے۔اس بناء پر گزشتہ مطالب سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت میں صرف تباہی کا باعث بننے والے جنگی آلات کو ہی نہیں بلکہ معاشرے کے لئے مضر، منفی، شوم اور انسان کو نابود کرنے والے تمام تر آلات کو ختم کر دیا جائے گا۔

آنحضرت ان آلات و وسائل کو نابود کرکے انسانیت کو ان کے منفی اثرات سے نجات دلائیں گے ۔  پس حضرت ولی عصر (عج) کی حکومت میں بربادی کا باعث بننے والی ہر ایجاد کو نیست ونابود کر دیا جائے گا۔

  آئن اسٹائن کا ایک اور واقعہ

کلمبیا کی یونیورسٹی کے فزکس کے دو پروفیسروں نے روز ولٹ کو خط لکھا جس کا خلاصہ یوں تھا:

ایک ایسی چیز موجود ہے کہ جس کا نام ایٹمی توانائی ہے جرمن سائنسدان بھی اس پر کام کر رہے ہیں یہ ایک طاقتور اسلحہ ہے ۔صدر کو اس بارے میں سوچنا چاہیئے کہ اس بارے میںکیا کیا جائے؟

فزکس کے ان دونوںپروفیسروں کو معلوم تھا کہ صدر مملکت ایٹمی توانائی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا لیکن وہاں کوئی ایسا بھی موجود تھا کہ جو ایٹمی توانائی سے بخوبی واقف تھا اورصدر بھی اس کی بات مانتا تھا ۔

۲۴۴

 روزولٹ پہلے اس کی تلاش میں گئے ۔ آئن اسٹائن کے لئے یہ بہت دکھ کی بات تھی کہ ایک مدّت تک صلح کا طرفدار ہونے کے باوجود ایسا کام کرنے کے لئے دستخط کرے لیکن اس نے یہ کام کیا اور جب تک زندہ رہا اسی بات پر پشیمان رہاکہ اس نے صرف ایک بٹن دبا دیا۔(۱)

آئن اسٹائن کے اعتراف اور اس کا اپنے ماضی پر پشیمان ہونے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگرچہ دنیا کاایک بہترین اور نامور دانشور تھا ، لیکن وہ علم کی راہ میں اپنی ملت سے کی گئی خیانت سے بھی آگاہ تھا۔

آئن اسٹائن کا دوسرااشتباہ

آئن اسٹائن کانظریہ تھا کہ دنیا اس قدر وسیع ہے کہ اس کی چوڑائی تین ارب نوری سالوں میں بھی طے نہیں کر سکتے۔ حلانکہ ۱۹۶۳ ء میں ''کوآزر''کشف ہوا کہ جسے دیکھ کر ماہرین فلکیات متزلزل ہو گئے ۔جب ٹیلی اسکوپ کے ذریعہ ایک ''کوآزر'' کو دیکھا  تو انہوں نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر پکڑ لئے کہ کہیں ان کا بھیجا ان کے سر سے نہ گر پڑے اور وہ پاگل نہ ہوجائیں ۔ اس''کوآزر ''کا زمین سے فاصلہ نو ارب نوری سال تھا ۔ حلانکہ آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ دنیا کی وسعت اور اس کی چوڑائی تینارب نوری سال  سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔خلاء کی وسعت کا حساب لگانے کے لئے (جسے طے کرنے کے لئے نور کو نو ہزار ملین سال درکا ہوں)یہ فکر کرنا کافی ہے کہ نور ہرسال  ۹۵۰۰  ارب  کلومیٹر طے کرتا ہے اور ۹۵۰۰ کلومیٹر کونو  ارب سال سے ضرب دیں تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ کوآزر اور زمین کے درمیان کتنافاصلہ تھا۔

--------------

[۱] ۔ آئن اسٹائن:۲۵

۲۴۵

اس فاصلہ کو تو چھوڑیں کہ جس کے تجسّم پر عقل قادر نہیں ہے۔جس نے علماء نجوم اور ماہرین فلکیات کی عقل کو ہلا کر رکھ دیا۔وہ یہ نہیں سمجھ سکے کہ کوآزر میں کس قسم کی انرجی موجود ہے کہ جس سے ایسا نور وجود میں آتاہے ۔(۱)

ان مطالب پر توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ زمین کی چوڑائی کے بارے میں آئن اسٹائن کا نظریہ غلط تھا۔اب جب کہ آئن اسٹائن کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ لہذا یہ کہنا مناسب ہے کہ وہ ایک جرمن یہودی تھا کہ جس نے اپنی ملّت کے ساتھ ایسی خیانت کی کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اس نے امریکہ کو پیشکش کی کہ وہ ایٹم بم بنانے میں جرمنی سے پہل کرے۔

۱۹۳۲ ء  م یں ہٹلر کو اقتدار و قدرت ملی اس وقت آئن اسٹائن امریکہ میں تھا اور اس نے اعلان کیا کہ وہ جرمنی واپس نہیں جانا چاہتا ۔لہذا جرمن فوجیوں نے اس کے گھر کو توڑ دیا اور اس کے بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیئے۔برلین کے ایک اخبار میں یہ مقا لہ لکھا گیا جس کاعنوان تھا :

'' ایک اچھی خبر! آئن اسٹائن  واپس نہیں آئے گا''

آئن اسٹائن نے اس خوف سے کہ کہیں جرمن سائنس دان ایٹم بم نہ بنا لیں۔ لہذا اس نے  امریکہ کو پیشکش کی کہ وہ ایٹم بم بنانے میں جرمنی سے سبقت لے حلانکہ پہلے بم دھماکے سے پہلے وہ لوگوں کو اس بم کے خطرات سے آگاہ کرتا تھا۔اس نے اقوام متحدہ سے درخواست کی تھی کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں پر قابو پانے کی کوشش کرے۔(۲)

شاید وہ اپنے ملک اور ملّت سے کی گئی خیانت کی وجہ سے اپنی زندگی پر پشیمان تھا ۔اپنھائمر، آئن اسٹائن کے قریبی دوستوں میں سے تھا۔یونیسکو کی جانب سے آئن اسٹائن کی دسویں  برسی کی  مناسبت سے منعقدہ اجلاس میں'' اپنھائمر'' نے کہا:

--------------

[۱]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:۳۶۲

[۲]۔ ماہنامہ اطلاعات علمی سال۱۹ شمارہ ۳ دی ماہ ۱۳۸۳

۲۴۶

آئن اسٹائن اپنی زندگی کے آخری ایّام میں مأیوس اور جنگوں سے پریشان تھا اور اس نے کہا تھا کہ اگر مجھے دوبارہ زندگی ملے تو میں ایک معمولی الیکٹرک میکینک بننے کو ترجیح دوں گا  ۔(۱)

دوسرے قول کے مطابق وہ ایک موچی ہونے کو ترجیح دیتا۔لوگ جاپان کے شہر ہیروشیما میں ہونے والے جاپانیوں کے قتل کو فراموش نہیں کر سکتے وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس واقعہ میں ایک ماہر فزکس دان کا فارمولا کارفرما تھا۔ان کے لئے یہ مہم نہیں تھا کہ یہ خبر سننے کے بعد اس فزکس دان نے آٹھ دن تک خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا اور گریہ کرتا تھا اور یہ سوچتا تھا کہ اگر وہ دوبارہ جنم لے تو یہ تھیوری اور فارمولا نہیں بناؤں گا اور ایک موچی بننے کو ترجیح دوںگا۔

  آئن اسٹائن کی خطا

اس کا نظریہ تھا کہ دنیا میں کسی چیزکی سرعت نور سے زیادہ نہیں ہو سکتی یعنی کائنات میں سب سے تیز چیز نور ہے۔اب یہ ثابت ہوا ہے کہ ایک ایسی چیز بھی موجود ہے کہ جس کا نام'' تاخنون'' ہے اور جس کی سرعت نور سے بھی زیادہ ہے ۔اگر آئن اسٹائن کا نظریہ صحیح ہوتا تو انسان کو آئندہ زمانے میں بہت سے خلائی سفر سے ناامید ہو ناپڑے گا۔

علاوہ ازیں: روایات اور خاندان نبوت علیہم السلام کے فرمودات کے مطابق ملائکہ جیسے جبرئیل عرش اور کہکشاؤں سے آگے زمین تک ایک لمحہ سے بھی کم مدّت میں سیر کرتے ہیں۔آئن اسٹائن اور اس جیسے دوسرے افرادخاندان نبوت علیھم السلام کے علمی معارف سے دوری کی وجہ سے ان حقائق سے آگاہ نہیں ہیں ۔

--------------

[۱]۔ مقدمہ روانشناسی ضمیر ناخود آگاہ:۷۸،علم و ترکیب سے نقل:۲۹

۲۴۷

''زومر فلد''نے تھیوری بنائی کہ ایسے ذرات بھی موجود ہیں کہ جن کی سرعت نور سے بھی زیادہ ہے کہ جس میں یہ خصوصیت ہے کہ ان کی انرجی جتنی کم ہوتی چلی جائے ،اس کی سرعت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔آئن اسٹائن کی تھیوری زومز فلڈ کے اس حیران کن مفروضہ کے برخلاف تھی ۔ حیرت انگیز اوراثبات نہ ہونے والی تھیوری اگر ایک بار علمی میدان میں آ جائے تو وہ اپنی کشش نہیں  کھوتی بلکہ مدّتوں مورد توجہ رہتی ہے ۔ موجودہ صدی کے آغاز میں زومر فلد نے جس دن سے اپنی تھیوری پیش کی ،اسی دن سے اب تک فزکس کے متعدد دانشوروں نے نور سے بھی زیادی تیز ذرّات کے بارے میں مطالعہ و تحقیق شروع کی۔لیکن۱۹۶۷ ء م یں بالآخر امریکہ کی کلمبیا یونیورسٹی  کے فزکس کے پروفیسر''جرالڈ فینبرگ'' نے ایک رسالہ کے ذریعہ نور سے بھی زیادہ تیز حرکت کرنے والے ذرّات کے بارے میں بحث کا نیا باب کھولا۔جرالڈ فینبرگ نے ان ذرّات کے لئے ایک نام کا بھی انتخاب کیا اور اسے'' تاخنون'' ( Tachionen)کا نام دیا۔

یہ یونانی زبان کے لفظ تاخیس  ( TACHYS) سے مأخوذ ہے کہ جس کے معنی تیز اور سریع کے ہیں ۔ ایک بار پھر فزکس کے ماہرین نے آواز اٹھائی کہ آئن اسٹائن کی تھیوری کی بنیاد پر کوئی چیز نور سے زیادہ تیز حرکت نہیں کرسکتی ۔ لیکن فزکس میں ایٹم کے بارے میں تحقیق کرنے والے بعض ماہرین اب اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ نور سے بھی زیادہ تیز ذرّات موجود ہیں ۔ لیکن آئن اسٹائن کے بعض طرفداروں نے ان کی توجیہات پر اعتراض کئے ہیں۔

  ادینگتون کی غلطی

یہ برطانیہ کا مشہور ماہرطبعیات تھا ۔جو ۱۹۴۴ء میں فوت ہوا ۔ اس نے گزشتہ صدی کے آغاز اور اپنے جوانی کے عالم میں کہا تھا کہ اسّی بار اسی عدد کو خود اس سے ضرب دینے سے دنیا میں موجود ایٹم کی تعداد حاصل ہو جائے گی۔

۲۴۸

جس دن اس نے ریاضی کے اس فارمولا کی مدد سے دنیا میں موجودایٹم کی تعداد کا حساب لگایا ،اس وقت منجّمین کا عقیدہ تھا کہ کہکشاؤں کی تعداد تقریباََ ایک ملین کے قریب ہے۔(۱)

ارسطو، کپرنیک اور بطلمیوس کی خطائیں

اب ہم علم میں وارد ہونے والے اشتباہات کانمونہ پیش کرتے ہیں۔

ارسطو کا نظریہ تھا کہ سورج مکمل دائرے کی صورت میں زمین کے گرد گھومتا ہے۔کپرنیک کا خیال تھا کہ زمین ایک مکمل مدار کی صورت میں سورج کے گرد گھومتی ہے۔ان دونوں میں تضاد ہے لہذا یہ نہیں ہو سکتاکہ دونوں کے نظریات ٹھیک ہوں ۔بعد میں معلوم ہوا کہ دونوں کے نظریات غلط تھے کیونکہ زمین کا مدار گول نہیں بیضوی ہے۔(۲)

اب یہ حقیقت جاننا ضروری ہے کہ'' ارسطو ''مشہور مشّائی حکیم اور اس کے پانچ صدیوں بعد آنے والے بطلمیوس نے تین سو سال قبل مسیح پندرہ صدیاں بعد تک مجموعاَ اٹھارہ سوسال علم نجوم کوپیچھے دھکیل ڈالا۔ارسطو نے بشریت کو اٹھارہ صدیاںجہالت کے اندھرے میں رکھا انسان خود کو تو اس ظلمت کدہ سے نجات نہ دے سکا لہذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ بشر کی علمی ترقی ارسطو کی وجہ سے اٹھارہ صدیاں رکی رہی۔

--------------

[۱] ۔ مغز متفکر جھان شیعہ:۳۶۷

[۲]۔ علم نابخردی:۱۰۳

۲۴۹

علوم زنجیر کی کڑیوں کی طرح ہیں  جن کی ایک کڑی دوسرے سے ملی ہوتی  ہے۔ ایک علم دوسرے علم کی پیدائش کا سبب ہوتا ہے۔زمین اور دوسرے سیاروں کا سورج کے گرد گردش کرنے میںانسان کے جہل کی وجہ سے اٹھارہ صدیوں تک علم کے دروازے بند ہو گئے جس کا سبب ارسطو تھا اس وقت ارسطو لوگوں میں  اس حد تک مقبول ہو چکا تھا کہ کوئی اس کے نظرئے کو رد نہیں کرتا تھا۔کوئی اس کے بطلان کو ثابت نہیں کرتا تھا۔اقوام عالم کے ذہن میں دو چیزوں نے ارسطو کے نظرئے کو تقویت دی ۔ ایک یہ کہ ارسطو کے پانچ صدیاں بعد آنے والے مصر کے مشہور جغرافیہ دان بطلمیوس نے بھی اس کے  نظریہ کی تائید کی اور ستاروں کی حرکت کے لئے ایک رائے قائم کی کہ سیارے کچھ چیزوں کے گرد گردش کرتے ہیں کہ جو خود بھی متحرک ہیں اور وہ چیزیں زمین کے گرد گردش کرتی ہیں۔لیکن زمین متحرک نہیں بلکہ ساکن ہے۔یعنی بطلمیوس نے سیاروں کی گردش کو زمین کے گرد دو طرح سے ثابت کیا اور کہا کہ وہ کچھ چیزوں کے گرد گھومتے ہیں کہ جو زمین کے اطراف میں ہیں۔ارسطو کے نظرئے کو تقویت دینے کا دوسرا سبب یہ تھا کہ یورپ کے مسیحی کلیسا، ارسطو کے نظریات کو صحیح تسلیم کرتے تھے اور انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ زمین کی حرکت کے بارے میں ارسطو نے جو کچھ کہا وہ سب صحیح ہے۔کیونکہ اگر کائنات کا مرکز یعنی زمین ساکن نہ ہوتی تو خدا کا بیٹا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) اس میں ہر گز ظہور نہ کرتا ۔(۱)

--------------

[۱]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:۳۰۳

۲۵۰

  ارشمیدس کا اشتباہ

ارشمیدس کہتا تھا کہ دس کے عدد کوتریسٹھ بارخود اس سے ضرب دیں تو اس سے دنیامیں موجود ذرّات کی تعداد حاصل ہو جائے گی ۔ذرّات کے بارے میں ارشمیدد س کا نظریہ تھا کہ ذرّہ، مادہ کا سب سے چھوٹا جزء ہے کہ جو دو حصوں میں تقسیم کے قابل نہیں ہے ۔ اس لئے وہ اسے جزء لایتجزّی کہتا تھا ۔(۱)

  تیسری قسم کی ایجادات

ایجادات کی یہ  قسم غیبت کے زمانے میں لوگوں کے زیر استعمال ہیں ۔  جن کا کوئی منفی پہلو نہیں ہے ۔ اب ایسے آلات کا مستقبل کیا ہو گا؟

ایسی ایجادات کثیر تعداد میں موجود ہیں ۔ لہذا ان کے بارے میں کہیں گے :

علم ودانش کی ترقی،عقلی تکامل ، عقل کی قدرت میں اضافہ اور فکری قوّت کے تکامل سے اہم پیشرفتہ اور جدید وسائل کا ایجاد ہونا واضح سی بات  ہے۔ جن کے ہوتے ہوئے عقب ماندہ اور قدیم وسائل کی ضرورت ختم ہوجائے گی ۔ اس مطلب کی وضاحت کئے دیتے ہیں  کہ موجودہ زمانے میں جن وسائل سے استفادہ کیاجاتا ہے اگر انہیںایک صدی قبل کے وسائل اور ا لات سے مقائسہ کریں کہ جن سے اُس زمانے میں استفادہ کیا جاتاتھا مثلاَ کیارسّی اور ڈول کا پانی کے پمپ سے موازنہ کرسکتے ہیں؟

--------------

[۱]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:۳۶۷

۲۵۱

کیا کنویں اور نہر سے پانی نکالنے والی جدید موٹرکے ہوتے ہوئے رسی اور ڈول سے استفادہ کرنے کی کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟

البتہ اب بھی دنیا کے محروم مستضعف اورغربت کی چکی میں پسے ہوئے بہت سے علاقوں کے لوگ رسی اور ڈول ہی سے استفادہ کرتے ہیں۔یہ متمدن ممالک کی کمزوری ہے کہ جس کی وجہ سے یہ صنعت دنیا کے ہر خطہ کو فراہم نہیں کی جا سکی۔لیکن ظہور کے بابرکت اور نعمتوں سے سرشار زمانے میں ایسا نہیں ہو گا۔

ہم نے  امام زمانہ علیہ السلام کی آفاقی حکومت کی خصوصیات میںبیان کیا کہ ان کی حکومت کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ آنحضرت کی حکومت، عادل حکومت ہو گی۔اس کا  یہ معنی ہے کہ اس دن دنیا کے تمام لوگوں کو  ہر سہولت میسر ہو گی۔

  جنگی آلات سے بے نیازی

ہمیشہ سے جنگ اور خونریزی کے مختلف اسباب ہوتے ہیں۔جن کی وجہ سے ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرکے ایک دوسرے کا خون بہاتی ہے ۔ قتل و غارت کے دو بنیادی اسباب ہوتے ہیں کہ جن کی وجہ سے طول تاریخ میں زمین کو لوگوں کے خون سے رنگین کیا گیا۔

۱ ۔ ضعف اور کمبودی

۲ ۔ حرص

تاریخ کے صفحات پر دقیق نگاہ کرنے سے معلوم ہو گا کہ تاریخ کی اہم جنگوں کے اسباب مذکورہ دونوں موارد ہیں۔کیونکہ ذرخیز زمین،پانی سے لبریز نہریں، تیل اور گیس کے ذخائر اور اسی طرح سونے اور دوسری معدنیات کے ذخائرتک رسائی کے لئے ظالم حکومتیں دوسرے ممالک پر حملہ کر دیتی ہیں تا کہ وہ ان نعمتوں پر قبضہ کر سکیں۔

۲۵۲

تاریخ میں بہت سی جنگوں کا دوسراسبب ظالم حکومتوں کا اپنے وسائل میں اضافہ کرنے کی  خواہش ہے یعنی جنگ کی آگ بھڑکانے اور دوقوموں اور ملتوں کو آپس میں لڑانے والے ممالک  کے پاس نہ تو کسی چیز کی کمی ہوتی ہے اور نہ ہی انہیں کوئی اقتصادی مسئلہ درپیش ہوتاہے۔بلکہ تمام وسائل اور سہولتیں ہونے کے باوجود وہ ان میں اضافہ کے لالچ میں دوسروں کے مال پر نظریں جمائے ہوتے ہیں۔لہذایہ اپنے ملک کو مزید ترقی دینے اور اس کی سرحدوں کو وسیع کرنے کے لئے دوسرے ممالک پر حملہ کر دیتے ہیں۔

اگر تاریخ کی طولانی جنگوں اور لشکر کشی پر نگاہ ڈالیں تو واضح ہو جائے گا کہ اکثر جنگوں کا سبب مال ودولت اور زیادہ مال کا لالچ تھا۔جیسی کہ ہم نے ذکر کیا کہ مذکورہ دونوں موارد کے علاوہ تاریخ میں ہونے والی جنگوں، قتل و غارت اور خونریزی کے دوسرے عامل بھی ہیں کہ جن کی وجہ سے جنگ کے شعلے بھڑکائے گئے اور زمین پر بے گناہ لوگوں کا خون بہایا گیا ۔ مذکورہ دونوں موارد پر غور کریں ۔ ضعف و کمبودی اور اسی طرح حرص ۔ یہ دونوں بیرونی اسباب تھے ۔ بہت سی جنگوں کی بنیاد بیرونی اسباب نہیں بلکہ حکّام کے اندرونی عوامل ہوتے ہیں۔اندرونی اسباب میں سے ایک اہم سبب  نفسیاتی گرہیں  ہیں ۔ جس کی وجہ سے بہت بار مختلف علاقوں میں جنگ چھڑ گئی اور تاریخ کے اوراق کو معصوم لوگوں کے خون سے رنگین کیا گیا۔

انسان کے عقلی تکامل سے ایسے مسائل سے رہائی یقینی ہے ۔ جنگ کے اندرونی و بیرونی اسباب نابود ہوجائیں گے ۔ پھر ساری دنیا میں  امن، صلح اور پیار و محبت کی فضا حاکم ہو گی ۔ لہذا اس وقت ایٹمی و غیر ایٹمی بم دھماکوں کی کیا ضرورت ہو گی؟

۲۵۳

  دوسری قسم کی ایجادات

موجودہ ایجادات میں سے دوسری قسم کی ایجادات ایسی ہیں کہ جو منفی اثرات تو نہیں رکھتیں لیکن زمانہ ظہور میں ان سے استفادہ کرنے کا وقت گزر چکا ہوگا ۔ جیسے طبّی آلات اور بعض جنگی سامان کہ جن سے عادلانہ جہاد میں استفادہ کیا جاتا ہے ۔ ایسے وسائل بھی ختم ہو جائیں گے کیونکہ معاشرے کو ان کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ کیونکہ جب معاشرے کے سب افراد صحت مند اور جسمانی و روحانی لحاظ سے سالم ہوں تو پھر تباہ و برباد کرنے والے کسی جنگی سامان اور اسی طرح کسی طبی آلات کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ کیونکہ یہ استفادہ کرنے کے قابل نہیں ہوں گے ۔ پس جب کوئی بیماری ہی موجود نہ ہو تو تو پھر طبی آلات کی بھی ضرورت نہیں ہو گی ۔ لہذا  انہیں بھی ختم کر دیا جائے گا۔

علم دنیا مشکلات حل نہیں کر سکتا

۲ ۔ مختلف قوانین کوحاصل کرنے کے لئے عالم مادّہ میں حاکم مقیاس اور پیمانے (جیسے سیکنڈ، سینٹی میٹر، گرام وغیرہ) حقیقت روح ، جاذبہ، نفس، روح، عقل اور ان جیسے دوسرے اسباب کو درک کرنے کے لئے استعمال نہیں کئے جا سکتے ۔ اس بناء پر ماہرین طبعیات کے نزدیک قوّت جاذبہ کی حقیقت مجہول ہے۔ اسی طرح الیکٹریسٹی ، مقناطیس یا توانائی (چاہے وہ ایٹمی ہو یا حرکتی یا الیکٹرک) کی حقیقت بھی مجہول ہے۔فزکس کے ماہرین اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ہر غیر عادی امر کی حقیقت کو سمجھنے  سے عاجز ہیں حتی کہ وہ حقیقت مادہ کو نہ سمجھنے کا بھی اعتراف کرتے ہیں۔کیونکہ مادہ کی اصل ایٹم کی طرف ہے اور ایٹم پروٹان ،نیو ٹران اور ایک دوسری قوّت کے مجموعہ کا نام ہے کہ جدید علم ہمیشہ اس کی شناخت سے عاجز رہا ہے۔ (۱)

--------------

[۱]۔ راہ تکامل:۸۹۵

۲۵۴

۳۔علم طبعیات اب تک اس سوال کا جواب نہیں دے سکا کہ ہمارے چراغ کا نور جو کہ انرجی ہے ،وہ کس طرح مادّہ میں تبدیل ہو جاتی ہے؟اگر فزکس کے علم کو اس سوال کا جواب مل جائے تو ایک ہی لمحہ میں کئی سال کا علمی سفر طے ہو جائے۔ چونکہ فزکس میں سر الاسرار یہی چیز ہے ۔ خلقت کا عظیم راز بھی اس سوال کے جواب میں مخفی ہے کہ توانائی کس طرح مادّہ میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔ مادّہ کا توانائی  میں تبدیل ہونا ہماری نظر میں عادی ہے ۔ ہم روز وشب کارخانوں ،جہازوں، کشتیوں،  گاڑیوں، گھروں حتی کہ اپنے بدن میں بھی مادہ کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیںلیکن آج تک کوئی مادہ کو انرجی میں تبدیل نہیں کر سکا ۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دنیا میں توانائی کس طرح مادہ میں تبدیل ہوتی ہے۔(۱)

۴۔ہم چھبیس صدیوں کے بعد ''علم  طبعیات  اورما بعد طبعیات'' کی تمام ترقی کے باوجود فزیکل اور جسمانی لحاظ سے مبداء ِ دنیا کے بارے میں چھ سو سال قبل مسیح میں یونان کے فلسفی کے نظرئے کی حدود سے باہر نہیں نکل سکے ۔ہائیڈروجن ایٹم کے عناصر میں سب سے ہلکا عنصر ہے۔ جس میںایک الیکٹران اور دوسرا  پروٹان ہے۔الیکٹران ، پروٹان کے گرد گردش کرتے ہیں لیکن اب تک فزکس کے کسی بھی نظرئے نے اس کے علمی قانون کو کشف نہیں کیا۔یہ بھی معلوم نہیں کہ کیا پہلے پروٹان وجود میں آیا تھا یا الیکٹران ،یا یہ دونوں ایک ساتھ وجود میں آئے تھے کہ جن میں سے ایک بجلی کی مثبت اور دوسرا منفی توانائی رکھتا تھا؟

اکیسویں صدی سے آج تک اس بارے میں جو کچھ کہا گیا ، وہ صرف ایک تھیوری ہے۔ہم مبدأ دنیا کی شناسائی کے لحاظ سے ''آناگزیمانسر''کے دور کے یونانی لوگوں سے زیادہ نہیں جانتے۔(۲)

--------------

[۱]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:۳۴۴

[۲]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:۱۱۲

۲۵۵

گز شتہ مطالب پر توجہ کرنے کے بعد اب ہم چند اہم نکات بیان کرتے ہیں۔

۱۔ مختلف علوم ایک دوسرے سے بے ربط نہیں ہیں۔علم کے کسی ایک شعبہ میں  غلطی  نہ صرف علمی ترقی میں ٹھراؤکا سبب بنتی ہے بلکہ علوم کے دیگر شعبوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے کہ جو اس علم سے مربوط ہیں۔

۲ ۔ غیبت کے زمانے میں بعض دانشور اور اسی طرح اس زمانے سے قبل بھی بعض دانشور اپنے شاگردوں اور عوام کے درمیان نفوز کر چکے تھے ان کے شاگرد  ان کی عظمت اور شخصیت کی وجہ سے ان کے نظریات کودل و جان سے قبول کرتے تھے۔نسل در نسل ایسا ہی ہوتا رہا ۔شخصیت کا لحاظ کرتے ہوئے شاگرد پہلے شخص کے نظریات کو قبول کرتے اور اسی کو ادامہ دیتے۔کبھی استاد کی شخصیت کا لحاظ اس قدر زیادہ ہوتا کہ اگر کسی کو استاد کی غلطی کا علم بھی ہوتا تو اس میں اظہار کی جرأت نہ ہوتی کہ کہیں دوسرے اس کی مخالفت و سرزنش نہ کریں اور کہیں بے جا جنجال کھڑا نہ ہو جائے کہ جس سے اس کی آبرو ریزی ہو ۔ یوں وہ اپنے صحیح افکار کا اظہار کرنے سے ڈرتے اور اس کا اظہار نہ کرتے ۔ طول تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں۔

۳ ۔ کبھ ی بعض تحریف شدہ مذاہب بے بنیاد نظریات اور علوم کی طرفداری اور پشتبانی کرتے اور لوگوں میں اپنے نفوذکی وجہ سے دوسروں سے غلط عقائد کی مخالفت کرنے کی جرأت سلب کر لیتے۔  جیسے کلیسا کی ارسطو کے نظریہ کی حمایت کرنا۔ایسے موارد میں تحریف شدہ  دین اور دانش خیالی نسل در نسل چلتی رہتی ہے جو معاشرے کو ترقی و حقیقت سے دور کرنے کا سبب بنتی ہے۔

۴۔ دانشوروں کی غلطیاں، اشتباہات اور ظالموں کا علم سے سوء استفادہ کرنا اورعلم کی محدودیت جیسے موانع کی وجہ سے علم دنیا کو آئیڈیل معاشرہ اور مدینہ فاضلہ نہیں بنا سکا۔

۲۵۶

۵ ۔ ظہور کے بابرکت زمانے م یں کہ جب تمام دنیا میں علم وحکمت اور دانش کا چرچاہو گا۔سب صحیح علم کے چشمہ سے سیراب ہوں گے تب نہ صرف دانش خیالی کے اظہار کی کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی بلکہ دنیا کے واحد دین اور حکومت سے دنیا کے تمام لوگ حقیقی، سچے مکتب اور تشیع کی تعلیمات کے زیر سایہ زندگی گزاریں گے ۔پھر باطل اور تحریف شدہ مکتب کا نام ونشان مٹ جائے گا۔اس وقت سب لوگ گزشتہ لوگوں کی غلطیوںسے آگاہ ہوجائیں گے۔ اس بابرکت اور مبارک دن کی آمد پر صحیح علم و دانش کے تابناک انوار کی وجہ سے نور سے فرار کرنے والے چمگادڑوں کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں بچے گی۔

  علم ودانش سوداگروں کا آلہ کار

شک وشبہ کے بغیر علم و دانش ایک ایسا چراغ ہے کہ جس کا نور انسانوں پر پڑنا چاہیئے تاکہ یہ ان کے لئے راہ روشن کر سکے نہ کہ یہ دنیا کے ظالموں اور ستمگروں  کے لئے آلہ کار بنے اور کوئی گروہ اس کے ذریعہ خیانت کرے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تاریخ اس چیز کی گواہ ہے کہ مختلف شعبوں میں علم و حکمت سے سوء استفادہ کیا گیا  اور ا سے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

دانشور اور دانشوروں کی مانند لگنے والے افرد نے دانستہ اور نادانستہ طور پرعلم سے غلط استفادہ کیا یا جہل کی تاریکی کو لوگوں کے سامنے علم کے نور سے متعارف کروایا۔اس کام سے لوگوں کا علم ودانش سے ناامید ہونا واضح تھا ۔ انہوں نے یہ یقین کرلیا کہ دانشور دنیا میں آئیڈیل حکومت قائم نہیں کر سکتے اور اسی طرح دنیا کو مدینہ فاضلہ میں تبدیل نہیں کر سکتے ۔

۲۵۷

  علم کی محدویت

لوگوں کا علم سے ناامید ہونے کا دوسرا سبب علم کی محدودیت ہے۔

اس بارے میں ارشاد خدا وندی ہے:

''  وَمَا ُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ ِلاقَلِیلاََ'' (۱)

جب تک انسان کا دماغ مکمل طور پر فعال نہ ہواور ذہین ترین فرد بھی دماغ کے کچھ حصہ سے  استفادہ کرے تو انسان کس طرح دنیا کے اسرار و رموز کو سمجھ سکتا ہے؟خاندان نبو ت علیھم السلام  کے فرمودات  میں اس حقیقت کی تصریح ہوئی ہے ۔لیکن مغرب اب کہیں جا کر اس سے آگاہ ہوا ہے۔ جب تک زمانۂ غیبت جاری رہے اور بشر عقلی تکامل تک نہ پہنچے اور دماغ مکمل طور پر فعّال نہ ہو ، تب تک علم کی محدودیت بھی باقی رہے گی۔اس بیان کی روشنی میں محدود علم کس طرح مجہول مطالب اور مشکلات کا جواب دے سکتا ہے ؟ وہ کس طرح تاریک دنیا کو مدینہ فاضلہ میں تبدیل کر سکتا ہے؟

اگر علم مشکلات اور مجہول مطالب کا جواب دینے ہی سے قاصر ہو تو پھر معاشرے میں بہت سے سوال بغیر جواب کے باقی رہ جائیں گے۔لیکن لوگ اس امر کو جان گئے ہیں کہ علم مشکلات کا حل نہیں ہے ۔ بہت سے دانشوروں نے اس حقیقت کا

اعتراف کیا ہے ۔ہم یہاں ان میں سے چند ایک کے اقوال نقل کرتے ہیں۔

۱۔ علم کی حدودمشخص ہیں ۔ یہ ہمیں اشیاء کی کیفیت کے بارے میں نہیں بتا سکتا ۔علم ہم سے کہتا ہے کہ زمین کس طرح سورج کے گرد گردش کرتی ہے انسان کس طرح پیدا ہوتے اور مرتے ہیں ۔ لیکن یہ کیوں کا جواب نہیں دے سکتا۔(۲)

--------------

[۱]۔ سورۂ اسراء، آیت:۸۵

[۲]۔ علم شبہ علم و علم دروغین: ۴۵

۲۵۸

  مغرب کی تبلیغات

مغرب خود نمائی اور دنیا کے لوگوں کواپنا فریفتہ بنانے کے لئے مختلف علوم کے بارے میں تبلیغات کر رہا ہے ان کا ایک نمونہ نفسیات ہے۔دنیا کے بڑے ممالک میں نفسیاتی مسائل کو اس حد تک بیان کیا جاتاہے کہ جس سے  وہ  خیال کرتے ہیں کہ انہیں نے اتنی ترقی کی ہے اور اس قدر جدید نکات  حاصل کئے ہیں کہ وہ نفسیات شناسی سے بڑھ کر فرارواں شناسی تک پہنچ گئے ہیں ۔ جو لوگ اب تک اپنے نفس اور وجوس کے اعتبار سے انسان کو نہیں پہچان سکے وہ کس طرح اپنی نفسیات اور اس سے بڑھ کر فراروان شناسی کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟

جی ہاں!موجودہ دنیا ایسی ہی ہے کہ جو مقام ولایت اور نظام کائنات کے سرپرست سے منہ موڑ کر اپنی ایجادات اور حاصل شدہ معلومات کی بناہ پر یہ گمان کرتی ہے کہ انہیں حقیقی راہ مل گئی ہے۔

دنیا کے طاقتور لوگ نہ صرف اب بلکہ قدیم زمانے سے اپنی قوم اور ملت کو جھوٹی تبلیغات کے ذریعہ فریب دیتے رہے ہیں۔انہوں نے چال بازی اور دھوکے سے لوگوں کو سرگرم کیا اور اپنے گندے افکار سے پاک فکر لوگوں کو گمراہ کیا۔انہوں نے انسانوں کو اپنی پاک فطرت کے ذریعہ نجات حاصل کرنے کے لئے بھی نہ چھوڑا۔انہوں نے بہت زیادہ تبلیغات سے دنیا کے لوگوں کے افکار تبدیل کئے ۔حلانکہ وہ اپنی غلطییوں سے آگاہ تھے ۔ ماضی سے حال تک تاریخ ایسے بہت سے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ زمانۂ غیبت کے بزرگترین دانشور بہت سی علمی غلطییوںمیں مبتلا تھے ۔ ارسطواور ارسطو سے پہلے اور بعد میں آج تک بہت سے دانشوروں نے  تاریخ کے صفحات میںنہ بھولنے والی غلطیاں رقم کی ہیں۔

۲۵۹

  پوزیدونیوس کا اشتباہ

پوزیدونیوس ایک فلسفی تھا جو سو سال قبل مسیح میں مغربی اسپین میں ایک گروہ کی قیادت کرتا تھا ۔ وہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ غروب کے وقت جب بھی سورج بحر اوقیانوس میں غروب ہوتا ہے تو کیا اس میں ''فیش'' کی آواز پیدا ہوتی ہے۔(۱)

  کس کی پیروی کریں؟

کیا انسان ایسے دانشوروں کی پیروی کرسکتا ہے کہ جو خیانت کار ہوں اور  جودنیا کے ستمگروں اور ظالموں کے خدمتگار ہوں؟

کیا مغرب کی تبلیغات سے دھوکا کھا کر ان کی مشینی زندگی پر فریفتہ ہونا صحیح ہے؟

قدیم الایّام سے دنیا کے جابروں، ظالموں اور ستمگروں نے خدا کے پیغمبروں کی مخالفت کی اور لوگوںکو ان کی پیروی سے منع کیا۔رسول اکرم کے زمانۂ رسالت اور خاندان اہلبیت  علیہم السلام کے زمانہ  امامت میں کائنات اور تاریخ کے شریر ترین گروہ خاندان نبوت علیہم السلام کی مخالفت کے لئے اٹھا ۔ جس نے لوگوں کو خاندان عصمت علیہم السلام  سے دور کیا اور لوگوں کو رسول اکرم(ص)کے فرمودات لکھنے سے منع کرکے باب علم کو بند کرنے سے جاہلیت کے زمانے کو تداوم دیا۔

انہوں نے لوگوں کو علم نبوت کے چشمہ سے سیراب نہ ہونے دیا ااور اس چیز کی بھی اجازت نہ دی کہ دنیا میں علم ودانش فروغ پائے لیکن پھر بھی ان بزرگوںہستیوں نے علم ودانش کے اسرار اپنے خاص اصحاب کوتعلیم فرمائے۔

--------------

[۱] ۔ جھان در  ۵۰۰سال آیندہ:۲۴۰

۲۶۰

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300