امام مہدی کی آفاقی حکومت

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت13%

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت مؤلف:
: عرفان حیدر
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 300

امام مہدی کی آفاقی حکومت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 300 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 180604 / ڈاؤنلوڈ: 4525
سائز سائز سائز
امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت

امام مہدی کی آفاقی حکومت

مؤلف:
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

عورت نے کہا کہ اس کا نام ''مات الدین'' ہے۔

دائود علیہ السلام نے عورت سے کہا کہ اس کا یہ نام کس نے رکھا ہے؟

عورت نے جواب دیا کہ اس کے باپ نے۔

دائود علیہ السلام نے کہا کہ اس کا یہ نام کیوں رکھا گیا؟

عورت نے کہا! وہ سفر کے لئے گھر سے نکلا اور اس کے ہمراہ کچھ لوگ تھے اور میں حاملہ تھی۔میرے شکم میں یہ بیٹا تھا۔وہ سب لوگ تو سفر سے واپس آگئے لیکن میرا شوہر واپس نہیں آیا۔میں نے ان سے اپنے شوہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ مرگیا ہے۔جب میں نے اس کے مال کے بارے میں پوچھا۔تو انہوں نے کہا کہ اس نے کوئی مال نہیں چھوڑا۔

انہوں نے کہا کہ تمہارا شوہر کہہ رہا تھا کہ تم حاملہ ہو ۔چاہے بیٹا پیدا ہو یا بیٹی،اس کا نام '' مات الدین''  رکھنا ۔پس میں نے اس کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اپنے بیٹے کا نام ''مات الدین ''رکھ دیا۔

دائودعلیہ السلام نے کہاکہ کیا تم ان لوگوں کو جانتی ہو؟

عورت نے کہا ! جی ہاں۔

دائود علیہ السلام نے کہا ،ان کے گھر جائو اور انہیں  یہاں لے آئو۔

وہ دائود علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے تو دائود علیہ السلام نے ایسا فیصلہ کیا کہ جس سے ان پر مرد کا خون ثابت ہوگیا اور ان سے مال لے لیا۔پھر عورت سے فرمایا!اے کنیزِ خدا ،اپنے فرزند کا نام ''عاش الدین''   رکھو  ۔(۱) اس رویات سے یہ استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ شریح کا منکرین کی قسم پر تکیہ کرنا اشتباہ تھا۔ان کی جھوٹی قسم ناحق قضاوت کا سبب بنی۔

--------------

[۱] ۔ بحارالانوار: ج۴۰ص ۲۵۹

۶۱

حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام

عدلِ الہٰی کی حکومت کے زمانے میں قضاوت میں غیبی امداد بھی کارفرما ہوگی تاکہ کوئی جھوٹی قسم اور جھوٹے گواہوں کے ذریعے حقیقت کے چہرے کو مسخ کرکے کسی پر ظلم و ستم نہ کرے۔

اسی وجہ سے حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج)  کو قضاوت میں کسی گواہ  اور قسم  کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ حضرت ولی عصرعلیہ السلام    بھی حضرت دائودعلیہ السلام    کی طرح اپنے علم کے مطابق عمل کریں گے۔

ہم اس بارے میں روایت نقل کرنے سے پہلے،حضرت دائودعلیہ السلام اور حضرت سلیمان  علیہ السلام      کے بارے میں  خدا کے پیغمبروں میں سے بعض ممتاز صفات کے مالک تھے جیسے حضرت دائود  اور حضرت سلیمان  علیہ السلام۔اس حقیقت کو قرآن نے بھی بیان فرمایا ہے۔اس بارے میں قرآن کی سورۂ نمل میں سے ایک نکتہ بیان کرنا چاہیں گے۔

ارشاد خداوندی ہے:

'' وَلَقَدْ آتَیْنَا دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ عِلْماً وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلَی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ '' (۱)

اور ہم نے دائود اور سلیمان کو علم عطا کیا تو دونوں نے کہاکہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں بہت سے بندوں پر فضیلت عطا کی ہے۔

--------------

[۱] ۔ سورہ نمل، آیت:۱۵

۶۲

سورہ انبیاء میں ان دو پیغمبروں کے بارے میں ارشاد ہے:

'' وَکُلّاً آتَیْنَا حُکْماً وَعِلْما '' (۱) اور ہم نے سب کوقوّت فیصلہ اور علم عطا کیاتھا۔

سورۂ ''ص'' میں حضرت دائود علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا ہے:

'' یَا دَاوُودُ اِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَةً فِیْ الْأَرْضِ فَاحْکُم بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ '' (۲)

اے دائود ہم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنادیا ہے،لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو۔

حضرت دائود علیہ السلام  اور سلیمان علیہ السلام خدا کے فضل و عنایت سے ایسے واقعات سے آگاہ ہوتے تھے کہ جن کے بارے میں دوسروں کو علم نہیں ہوتا تھا۔لہٰذا ان کی حکومت و قضاوت میں کچھ خاص خصوصیات تھیں کہ جن کی وجہ سے انہیں قضاوت کرنے کے لئے گواہوں اور قسموں کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔

  بحث روائی

بعض معتقد ہیں کہ حضرت دائودعلیہ السلام کا  بینہ و شاہد کے بغیر قضاوت کرنا ،صرف چندموارد میں واقع ہوا ہے۔ان روایات پرغور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دائود  علیہ السلام کا حقیقت کے مطابق گواہوں  کے بغیر قضاوت کرنا صرف ایک مورد میں منحصر نہیں ہے۔کیونکہ لوگوں میں اختلاف کا باعث بننے والی ایک چیز نہیں تھی کہ جس میں انہوں نے حضرت دائود علیہ السلام کی طرف رجوع کیا۔اس مطلب کی وضاحت کے لئے ان روایات پرغور فرمائیں۔

--------------

[۱]۔ سورہ انبیاء،آیت:۷۹

[۲]۔ سورہ ص، آیت: ۲۶

۶۳

امام صادق  علیہ السلام سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:

حضرت دائو د  علیہ السلام   نے خدا سے عرض کیا ۔خدایا!میرے نزدیک حق کو اس طرح سے نمایاں و آشکار کردے ،جیسے وہ تمہارے سامنے آشکار ہے تاکہ میں اس کے مطابق قضاوت کروں۔

خدا وندِ کریم نے ان پر وحی کی اور فرمایا کہ تم میں اس کام کی طاقت نہیں حضرت دائود علیہ السلام    نے پھر اس بارے میں اصرار کیا۔ایک مرد ان کے پاس مدد مانگنے آیا کہ جو دوسرے شخص کی شکایت کررہا تھا کہ اس شخص نے میرا مال لے لیا ہے۔

خدا وند نے حضرت دائود  علیہ السلام پر وحی کی کہ جو شخص مدد مانگنے آیا ہے ،اس نے دوسرے شخص کے باپ کو قتل کرکے اس کا مال لے لیا ہے۔

حضرت دائود  علیہ السلام نے مدد مانگنے ولاے شخص کو قتل کرنے اور اس کا مال دوسرے شخص کو دینے کا حکم دیا لوگ آپس میں اس حیرت انگیز واقعہ پر چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ حضرت دائود علیہ السلام کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے خدا سے چاہا کہ وہ ان سے امور کے حقائق کا علم  واپس لے لے۔خداوند کریم نے ایسا ہی کیا اور پھر وحی کی!

لوگوں میں بیّنہ اور گواہوں کے ذریعہ حکم کرو اور اس کے علاوہ انہیں میرے نام کی قسم کھانے کو کہو۔(۱)

اس روایت کو علامہ مجلسی  محمد بن یحیٰی سے، اس نے احمدبن محمد سے،اس نے حسین بن سعید سے، اس نے فضالہ ابن ایوب سے ،اس نے ابان بن عثمان سے،اور ابان نے اس سے روایت کی ہے کہ جس نے اسے خبر دی ہے۔

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ابان بن عثمان نے روایت کی سند کو نا مکمل نقل کیا ہے۔علاوہ از این وہ خود بھی بعض بزرگان جیسے علامہ حلی کے نزدیک موردِ قبول نہیں ہے۔

--------------

[۱]۔ بحارالانوار :ج۴ص ۱۰،وسائل الشیعہ: ج۱۸ ص ۱۶۷

۶۴

اس روایت میں موردِ اختلاف مال و ثروت بیان ہو اہے۔دوسری روایت میں جس شخص کے بارے میں شکایت کی جاتی ہے،وہ شکایت کرنے والے کے ادّعا کو قبول کرتا ہے۔شکایت کرنے والا معتقد ہوتا ہے کہ ایک جو ان،اس کی اجازت کے بغیر باغ میں داخل ہوا اور اس نے انگور کے درختوں کو خراب کیا۔جوان نے بھی یہ شکایت قبول کی ۔حضرت دائود  علیہ السلام    نے حکمِ واقع کی بناء پر جوان کے حق میں حکم کیا اور باغ جوان کی تحویل دے دیا۔

ایک دیگر روایت ہے کہ جس میں تصریح ہوئی ہے کہ حضرت دائودعلیہ السلام نے ایک بار بیّنہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقت کی بناء پر قضاوت کی۔ اختلاف ایک گائے کی مالکیت کے بارے میں تھا کہ طرفین میں سے ہر ایک نے اپنے لئے گواہ پیش کئے تھے۔

 قضاوتِ اہلبیت علیہم السلام اور حضرت دائود علیہ السلام

ہم نے کچھ روایات بیان کیں،جن میں حضرت دائود علیہ السلام  کی حکومت کا تذکرہ کیا گیا۔جو اس  بات کی دلیل ہے کہ حضرت دائودعلیہ السلام کی قضاوت میں بعض ایسی خصوصیات تھیں کہ جن میں سے ایک گواہوں سے بے نیازی تھی۔

یہ روایات کس طرح آئمہ اطہارعلیھم السلام   کی قضاوت کو بھی بیان کرتی ہیں۔

اس روایت توجہ کریں:

'' عن الساباطی قال، قلت لابی عبداللّٰه :بما تحکمون اذا حکمتم ؟ فقال: بحکم اللّٰه و حکم داؤد ،فاذا ورد علینا شء لیس عندنا تلقّانا به روح القدس؟ '' (۱)

ساباطی کہتا ہے کہ میں نے امام صادق  علیہ السلام سےعرض کی!  قضاوت کرتے وقت آپ کس چیز سے حکم کرتے ہیں؟

--------------

[۱]- بحارالانوار:  ج۵۲ ص ۵۶

۶۵

حضرت امام صادق علیہ السلام  نے فرمایا!حکم خدا اور حکم دائود سے۔  جب بھی ہم تک کوئی ایسی چیز پہنچے کہ جس کے بارے میں ہمارے پاس کوئی چیز نہ ہو تو روح القدس اسے ہم پر القاء کرتے ہیں۔

اس روایت پر بھی غور فرمائیں:

'' عن جعید الهمدانی (و کان جعید ممن خرج الحسین  بکربلا قال:فقلت للحسین جعلت فداک: بای شء تحکمون؟ قال :یا جعید نحکم بحکم آل داؤد،فاذا عیینا عن شء تلقّانا به روح القدس؟ ''(۱)

جعید ہمدانی (جو امام حسین  علیہ السلام  کے ساتھ کربلا گیا تھا) کہتا ہے کہ میں نے امام حسین  علیہ السلام سے عرض کیا! میں آپ قربان جائوں ،آپ کس چیز سے حکم کرتے ہیں؟حضرت امام حسین  علیہ السلام نے فرمایا!اے جعید ہم آل دائود کے حکم سے حکم کرتے ہیں،اور جب بھی کسی چیز سے رہ جائیں تو روح القدس اسے ہم پر القاء کردیتے ہیں۔

اس روایت کو مرحوم مجلسی نے جعید اور انہوں نے امام سجادعلیہ السلام سے نقل کیا ہے۔(۲)

اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا لازم ہے کہ ایسے جوابات اہل مجلس کی ذہنی ظرفیت کے مطابق ہوتے ہیںورنہ روح القدس مکتب اہلبیت کا طفل مکتب ہے۔ جیسا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کا فرمان ہے:

روح القدس نے ہاتھ نہ لگے ہو ئے ہمارے باغ سے علم سیکھا۔ (۳)

--------------

[۱] ۔۔ بحارالانوار:  ج۵۲ ص ۵۷

[۲]۔بحارالانوار : ج۲۵ ص ۵۶

[۳]۔بحار الانوار:ج۲۶ص۲۶۵

۶۶

امام صادق علیہ السلام  سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے:

''عن حمران بن اعین قال:قلت لابی عبداللّه علیه السلام انبیاء  انتم؟قال:لا،قلت فقد حدّثنی من لا اتهم انک قلت :انکم انبیائ؟قال من هو ابو الخطاب؟قال :قلت:نعم قال:کنت اذا اهجر؟قال قلت بما تحکمون؟ قال نحکم بحکم آل داؤد؟ '' (۱)

حمران ابن اعین کہتا ہے کہ :میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا:کیا آپ انبیاء ہیں؟ انہوں نے فرمایا !نہیں۔

میں نے کہا!جس کی طرف کوئی جھوٹ کی نسبت نہیں دیتا ،اس نے مجھ سے کہا ہے کہ آپ سب  انبیاء ہیں۔

امام  نے فرمایا!کون ہے،کیا وہ ابوالخطاب ہے؟

میں نے کہا ! جی ہاں۔

آنحضرت  نے فرمایا!اس بناء پر کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟

میں نے کہا !آپ کس چیز سے حکم کرتے ہیں؟

امام نے فرمایا!ہم حکمِ آل دائود سے فیصلہ کرتے ہیں۔

ایک روایت میں امام محمد باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں:

''انه اتهم زوجته بغیره فنقر رأسها و اراد ان یلا عنها عندی،فقال لها:بینی وبینک من یحکم بحکم داؤد و آل داؤد و یعرف منطق الطیر و لا یحتاج الی الشهودفاخبرته ان الذی ظنّ بها لم یکن کما ظنّ،فانصرفا علی صلح'' (۲)

--------------

[۱]۔بحارالانوار:ج۲۵ ص۳۲۰

[۲]۔بحارالانوار :ج ۴۶ص ۲۵۶

۶۷

اس نے اپنی زوجہ پر الزام لگایا  تھا کہ وہ کسی اور کے ساتھ بھی ملوث ہے۔پس وہ اس پرٹوٹ پڑا،وہ اسے میرے سامنے لعان کرنا چاہتا تھا۔اس کی زوجہ نے کہا!میرے اور تمہارے درمیان وہ فیصلہ کرے کہ جو حکم دائود اور آل دائود سے فیصلہ کرتا ہو جو پرندوں کی باتوں کو سمجھتا ہو اور جو کسی شاہد و گواہ کا محتاج نہ ہو۔پس میں نے اس سے کہا!تم اپنی زوجہ کے بارے میں جیسا سوچتے ہو ویسا نہیں ہے۔لہٰذا وہ دونوں صلح کے ساتھ واپس چلے گئے۔

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قضاوت کیلئے آئمہ اطہار  علیہم السلام بھی حضرت دائودعلیہ السلام  کی طرح دلیل و گواہ  کے محتاج نہیں تھے۔اس بناء پر ان تمام روایات سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ حضرت دائود  اپنے علم کی بنیاد پر عمل کرتے اور بینہ کی طرف رجوع نہیں کرتے تھے۔کبھی آئمہ اطہار علیہم السلام  بھی ایسی ہی قضاوت کرتے تھے۔

حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) بھی اپنے علم کی بنیاد پر قضاوت فرمائیں گے اور انہیں بھی گواہوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔

امام مہدی علیہ السلام کے فیصلے

اب ہم امام عصرعلیہ السلام کی قضاوت پر دلالت کرنے والی روایت کو نقل کریں گے کہ قضاوت کے لئے امام عصرعلیہ السلام کودلیل  و گواہوںکی ضرورت نہیں ہوگی۔جس طرح حضرت دائودعلیہ السلام بھی گواہوں  کے محتاج نہیں ہوتے تھے۔اب اس روایت پر توجہ کریں۔

حسن بن ظریف نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو خط لکھا، جس میں اس نے امام عصرعلیہ السلام  کی  کیفیت قضاوت کے بارے میں سوال کیا اور کہتا ہے :

۶۸

'' اختلج فی صدری مسألتان و اردتُ الکتاب بهما الی ابی محمد،کتبت اسأله عن القائم بمَ یقضی؟فجاء الجواب:سألت عن القائم ،اذا قام یقضی بین الناس بعلمه کقضاء داؤد،ولا یسأل البیّنة '' (۱)

میرے سینے میں دو مسئلے پیدا ہوئے تو میں نے ارادہ کیا کہ دونوں مسئلے امام حسن عسکری   علیہ السلام کو لکھوں ، پس میں نے انہیں خط لکھا جس میں ان سے سوال کیا۔

قائم آل محمد  علیہ السلام کس چیز سے قضاوت کریں گے؟

امام  کی طرف سے جواب آیا ! تم نے قائم علیہ السلام   سے سوال کیا ۔جب وہ قیام کریں گے تو وہ لوگوں کے درمیان اپنے علم سے قضاوت کریں گے ۔ جس طرح دائود علیہ السلام   کی قضاوت کہ جو گواہ طلب نہیں کرتے تھے۔

امام صادق علیہ السلام نے ایک روایت میں ابو عبیدہ سے فرمایا:'' یاابا عبیده ؛ انه اذا قام قائم آل محمد ، حکم بحکم داؤد و سلیمان لایسأل الناس بیّنة '' (۲) وسائل الشیعہ میں یہ روایت امام محمد باقرعلیہ السلام  سےنقل ہوئی ہےاے ابا عبیدہ ؛جب بھی قائم آل محمد قیام کریں گے تو وہ حکم دائود و سلیمان سے حکم کریں گے اور لوگوں سے گواہ طلب نہیں کریں گے۔ابان کہتا ہے کہ میں نے امام صادق علیہ السلام   سے سنا کہ انہوں نے فرمایا:'' لا یذهب الدنیا حتی یخرج رجل منّی یحکم بحکومة آل داؤد لا یسأل عن بیّنة،یعطی کل نفس حکمها '' (۳)

--------------

[۱]۔ بحارالانوار :ج ۵ص۲۶۴،ج۵۲ص۳۲۰،ج۹۵ص۳۱،مستدرک الوسائل :ج۱۷ ص۳۶۴ 

[۲] ۔ بحارالانوار :ج۲۳ ص ۸۶،ج۲۶ ص۱۷۷،ج۵۲ص۳۲۰،مستدرک الوسائل :ج۱۷ ص ۳۶۴

[۳]۔ بحارالانوار : ج۵۲ ص ۳۲۰،وسائل الشیعہ :ج۱۸ ص ۱۶۸،مستدرک الوسائل :ج۱۷ ص ۳۶۴  

۶۹

دنیا تب تک تمام نہیں ہوگی،جب تک ہم میں سے ایک مرد حکومت آل دائود کی مانند حکومت  نہ کر ے، وہ گواہ کا سوال نہیں کرے گا بلکہ ہر شخص پر واقعی حکم جاری ہوگا۔

یہ روایت ابان ابن تغلب سے یو ں بھی نقل ہوئی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

''سیأتی فی مسجد کم ثلاث مأة و ثلاثة عشر رجلایعنی مسجد مکة.یعلم اهل مکة انه لم یلد(هم) آبائهم و لا اجدادهم،علیهم السیوف،مکتوب علی کل سیف کلمة تفتح الف کلمة،فیبعث اللّه تبارک و تعالی ریحاً فتنادی بکل وادِِ: هذا المهدی یقضی بقضائِ داؤد و سلیمان، لا یرید علیه بینة '' (۱)

آپ کی مسجد (مسجد مکہ) میں تین سو تیرہ افراد آئیں گے کہ مکہ کے لوگوں کو معلوم ہوگا کہ وہ اہل مکہ کے آباء و اجداد کی نسل سے نہیں ہیں۔ان پر کچھ تلواریں ہوں گی کہ ہر تلوار پر کلمہ لکھا ہوگا،جس سے ہزار کلمہ نکلیں گے۔خدا وند تبارک و تعالی کے حکم سے ایسی ہوا چلے گی کہ جو ہر وادی میں نداء دے گی! یہ مہدی  علیہ السلام ہیں ، جو دائودعلیہ السلام   اور سلیمان  علیہ السلام کی قضاوت سے قضاوت کریں گے اور بیّنہ و گواہوں کوطلب نہیں کریں گے۔

اسی طرح حریز کہتا ہے کہ میں نے امام صادق  علیہ السلام   سے سنا کہ انہوں نے فرمایا:

'' لن تذهب الدنیا حتی یخرج رجل منا اهل البیت یحکم بحکم داؤد و آل داؤد ؛لا یسأل الناس بیّنة ''  (۲)

دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی کہ جب تک ہم اہلبیت  علیہم السلام میں سے ایک مرد خروج نہ کرے گا ،وہ حکم دائود و آل دائود سے حکم کرے گا اور وہ لوگوں سے گواہ طلب نہیں کرے گا۔

--------------

[۱]۔ بحارالانوار: ج۵۲ ص۲۸۶  اور ۳۶۹

[۲]۔ بحارالانوار:  ج۵۲ ص ۳۱۹

۷۰

عبداللہ ابن عجلان نے روایت کی ہے کہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) جو نہ صرف مقامِ حکومت   میں گواہوں کی ضرورت نہیں ہوگی ،بلکہ وہ دیگر پنہاں و مخفی امور سے آگاہ ہوں گے وہ ہر قوم کو ان کے دل میں پوشیدہ بات کی خبر دیں گے۔

امام صادق  علیہ السلام فرماتے ہیں:

'' اذا قام قائم آل محمد حکم بین الناس بحکم دائود لا یحتاج الی بیّنة یلهمه اللّٰه تعالی فیحکم بعلمه،و یخبر کلّ قوم بما استبطنوه،و یعرف ولیّه من عدوّه باالتّوسم قال اللّه سبحانه'' اِنّ فِیْ ذَلِکَ لآیَةً لِّلْمتَُوَسِّمِیْن،وَِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقیْم''  (۱]،[۲)

جب قائم آل محمدعلیہ السلام قیام کریں گے تو وہ حکم دائود سے لوگوں کے درمیان  حکومت کریں گے  انہیںگواہوں کی ضرورت نہ  ہوگی۔خداوند کریم ان پر الہام کرے گا اور وہ اپنے علم سے فیصلہ کریں گے ۔ہر قوم نے اپنے دل میں جو کچھ چھپایا ہو وہ اسے اس کی خبر دیں گے۔وہ دوست اور دشمن کو دیکھ کر ہی پہچان جائیں گے۔

خدا وند عالم فرماتا ہے:

ان باتوں میں صاحبانِ بصیرت کے لئے بڑی نشانیاں پائی جاتی ہیں اور یہ بستی ایک مستقل چلنے والے راستہ پر ہے۔

ہم جو دوسری روایت نقل کرنے لگے ہیں کہ جس میں صراحت سے بیان ہوا ہے کہ حضرت مہدی  علیہ السلام  قضاوت دائود سے حکومت کریںگے۔لیکن اس میں گواہوں کی ضرورت ہونے یا نہ ہونے  کا  ذکر نہیں ہے۔

--------------

[۱]۔ سورہ حجر: آیت:۷۵، ۷۶

[۲]۔ بحارالانوار :ج۵۲ ص ۳۳۹

۷۱

پیغمبر اکرم  (ص) فرماتے ہ یں:'' و یخرج اللّه من صلب الحسن قائمنا اهل البیت علیهم السلام یملا ها قسطاًوعدلاً کما ملئت جوراً و ظلماًله هیبة موسی و حکم داؤد و بهاء عیسی،ثمّ تلا: '' ذُرِّیَّةً بَعْضُهَا مِن بَعْضٍ وَاللّهُ سَمِیْع عَلِیْم '' (۱)،(۲)

خداوند عالم حسن علیہ السلام    کے صلب سے ہم اہلبیت علیھم السلام کے قائم کو خارج کرے گا ،جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا،جس طرح وہ ظلم وجور سے پر ہوچکی ہوگی۔وہ ہیبت موسیٰ،حکم دائود اور بہاء عیسیٰ کا مالک ہوگا۔پھر رسول اکرم  (ص)نے اس آ یت کی تلاوت فرمائی:یہ ایک نسل ہے جس میں ایک کا سلسلہ ایک سے ہے اور اللہ سب کو سننے اور جاننے والا ہے۔

ہم ایک اور روایت نقل کرتے ہیں۔لیکن اس میں حضرت دائود علیہ السلام   کی کیفیت ِ قضاوت کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔لیکن اس میں تصریح ہوئی ہے کہ امام عصر  علیہ السلام  اپنی قضاوت کے دوران گواہ کے بارے میں سوال نہیں کریں گے۔

امام صادق علیہ السلام  فرماتے ہیں:''دمان فی الاسلام حلال من اللّه عزوجل لا یقضی فیهما احد بحکم اللّه حتی یبعث اللّه عزوجل القائم من اهل البیت علیهم السلام،فیحکم فیهما ، بحکم اللّه عزوجل لا یرید علی ذالک بیّنة  الزانی المحصن یرجمه و مانع الزکاة یضرب رقبته '' (۳) اسلام میں خدا کی طرف سے دو خون مباح ہیں۔ان میں کوئی ایک بھی حکم الہٰی سے فیصلہ نہیں کرتا،یہاں تک کہ خدا وند عالم ہم اہلبیت علیہم السلام میں قائم کو بھیجے گا ۔وہ ان دو خون میں حکم الہٰی سے فیصلہ کرے گا اور وہ اس کام کے لئے گواہ طلب نہیں کرے گا۔

--------------

[۱]۔ سورہ آل عمران،آیت: ۳۴

[۲]۔ بحارالانوار :ج۳۶ ص ۳۱۳

[۳]۔ کمال الدین: ۶۷۱

۷۲

۱ ۔ وہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کرے گا

۲ ۔ جو زکات نہ دے وہ اس ک ی گردن مار دے گا۔

ہم نے جو روایت ذکر کی،وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حضرت  مہدی علیہ السلام قضاوت کے دوران دلیل اور گواہ کے محتاج نہیں ہوںگے اور وہ اپنے علم کے مطابق عمل کریں گے۔جیساکہ حضرت  قضاوت میں گواہ طلب نہیں کرتے تھے۔

مرحوم علامہ مجلسی بھی اسی عقیدہ کو قبول کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

روایت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب حضرت قائم  علیہ السلام    ظہور فرمائیں گے تو وہ واقعیت کے مطابق اپنے علم کے ذریعے فیصلہ کریں گے نہ کہ گواہوں کے ذریعہ۔لیکن دوسرے آئمہ اطہار   علیہم السلام ظاہر سے فیصلہ کرتے تھے اور کبھی وہ اس کے باطن کو کسی وسیلہ کے ذریعے بیان کرتے۔جیسا کہ حضرت امیرالمؤمنین  علیہ السلام     نے بہت سے موارد میں یہ کام انجام دیا ہے۔

شیخ مفید  کتاب ''المسائل''میںفرماتے ہیں کہ امام  اپنے علم سے فیصلہ کرسکتے ہیں۔جس طرح وہ گواہوں کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں۔لیکن جب انہیں معلوم ہو کہ گواہی واقعیت و حقیقت کے خلاف ہے تو وہ گواہ کی گواہی کے باطل ہونے کا حکم کرتے ہیں اور خدا وند ِ متعال کے دیئے ہوئے علم کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں۔(۱)

--------------

[۱]۔ بحارالانوار :ج ۲۶ص۱۷۷

۷۳

  زمانِ ظہور میں امام عصر علیہ السلام کے قاضیوں کے فیصلے

دنیا میں عدالت کا رواج اور ظلم وستم کا خاتمہ صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب ظہور کے پر نور زمانے میں قاضیوں کی قضاوت بھی حقیقت اور واقعیت کی بناء پر ہو نہ کہ ظاہر کی بناء پر ۔یہ اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب حقیقت و واقعیت کو درک کرنے کے لئے قاضیوں کے پاس دلیل و گواہ  کے علاوہ اور راستہ بھی ہو۔

روایات سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج)   کی حکومت میں نہ صرف امام زمانہ علیہ السلام کو گواہوں اور دلائل کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ان کی طرف سے بنائے گئے اور معین قاضیوں کو بھی غیبی امداد حاصل ہوگی۔وہ بھی دلیل و گواہ سے بڑھ کر دوسرے امور سے سرشار ہوںگے۔جو کبھی بھی جھوٹی قسم اور جھوٹے گواہوں  کی چال بازیوں اور مکاریوںمیں گرفتار نہیں ہوں گے۔کیونکہ وہ پوری دنیا میں عدل و انصاف کے قیام  اور ظلم و جور کا قلع قمع کرنے پر مأمور ہوں گے۔

روایات میں اس حقیقت کی تصریح ہوئی ہے کہ ظہور کے درخشاں زمانے میں قاضیوںکی کیفیت قضاوت کیا ہوگی؟اس بارے میں امام صادق  علیہ السلام  فرماتے ہیں:'' اذا قام القائم بعث فی اقالیم الارض فی کل اقلیم رجلاً،یقول:  عهدک فی کفک، فاذا ورد علیک امر لا تفهمه ولا تعرف القضاء فیه فانظر الی کفّک واعمل بما فیهما '''' قال!و یبعث جندا الی القسطنطینیّة، فاذا بلغوا الخلیج کتبوا علی اقدامهم شیئاً ومشوا علی الماء فاذا نظر الیهم الرّوم یمشون علی الماء قال: هؤلاء اصحابه یمشون علی الماء فکیف هو؟فعند ذلک یفتحون لهم ابواب المدینة فیدخلونها، فیحکمون فیها مایشاؤون''  (۱)

جس زمانے میں قائم قیام کریں گے تو زمین کے ہر خطے میں ایک مرد بھیجیں گے اور اس سے فرمائیں گے کہ تمہارا عہد و پیمان  (یعنی جو تمہارا وظیفہ ہے اسے انجام دو)تمہارے ہاتھ کی ہتھیلیوں میں ہے۔

--------------

[۱]۔ الغیبة مرحوم نعمانی : ۳۱۹

۷۴

پس جب بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آئے کہ جسے تم نہ سمجھ سکو کہ اس کے بارے میں کس طرح قضاوت و فیصلہ کرو تو اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو دیکھو اور جو کچھ اس میں موجود ہو،اس کی بناء پر فیصلہ کرو۔

امام صادق  علیہ السلام فرماتے ہیں:

وہ اپنی فوج کے ایک لشکر کو قسطنطینیہ کی طرف بھیجیں گے ۔جب وہ خلیج میں پہنچے گے تو ان کے پائوں پر کچھ لکھا جائے گا ۔جس کی وجہ سے وہ پانی پر چلتے ہوئے دیکھیں گے تو کہیں گے۔یہ پانی پر چلنے والے اس کے یاور و انصار ہیں تو پھر وہ کس طرح ہوگا؟

پھر ان کے لئے شہر کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور شہر میں داخل ہوجائیں گے اور وہاں وہ جس چیز کا چاہیں ،حکم کریں گے۔

اگر چہ بعض مؤلفین اس روایت میں ایک دوسرے معنی کا بھی احتمال دیتے ہیں کہ جو ظاہر روایت کے خلاف ہے۔کیونکہ ظاہر ِ روایت یہ ہے کہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) جس شخص کو دنیا کے کسی خطے میں قضاوت کے لئے بھیجیں گے ،اسے غیبی امداد بھی حاصل ہوگی۔اس کے علاوہ امام زمانہ  علیہ السلام کی فوج میں شامل ہر سپاہی میں  بھی ایسی خصوصیات ہوں گی۔ جیسا کہ روایت کے آخر میں اس کی وضاحت ہوئی ہے کہ وہ کسی ظاہری وسیلہ کے بغیر پائوں پر کچھ لکھنے سے پانی پر چلیں گے۔

اس بیان کے رو سے ہم کیوں غیبی امداد کی موبائل جیسی چیز سے توجیہ کریں۔

قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ روایت میں  بیان ہوا  ہے کہ ظہور کے درخشاں زمانے میں قاضیوں کو غیبی امداد حاصل ہوگی ۔اسی طرح وہ اپنے علم و فہم کے ذریعہ  دوسروں کے فہم و بصیرت سے بھی فائدہ حا صل کریں گے۔

 امام محمد باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں:

۷۵

'' ثم یرجع الی الکوفة فیبعث الثلاث مأئة والبضعة عشر رجلاً الی الآفاق کلها فیمسح بین اکتافهم و علی صدورهم ،فلا یتعایون فی قضاء....'' (۲) پھر کوفہ لوٹ جائیں گے اور تین سو تیرہ افراد کو آفاق کی طرف بھیج دیں گے۔وہ ان کے کندھوں  اور سینوں پر ہاتھ پھیریں گے کہ جس کی وجہ سے وہ فیصلہ کرنے میں غلطیاں نہیں کریں  گے۔اس روایت سے کچھ نکات حاصل ہوتے   ہیں:

۱ ۔امام عصر علیہ السلام کے تین سو تیرہ افراد دنیا کے حاکم ہوں گے اور دنیا کے تمام خطے حضرت امام مہدی  علیہ السلام   کے یا ور و انصار کے ہاتھ میں ہوں گے۔

۲۔ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) (جو ید اللہ ہیں)ان کے سینوں اور کندھوں پر ہاتھ پھیریں گے ۔ جس  کی وجہ سے انہیں غیبی امداد حاصل ہوگی اور وہ کبھی بھی قضاوت اور حق کا حکم صادر کرنے میں عاجز وکمزور نہیں ہوں گے۔

۳۔دنیا کے مختلف خطوں میں بھیجے جانے والے تین سو تیرہ افراد مرد ہوں گے۔جیسا کہ اس روایت میں بھی اس کی وضاحت ہوئی ہے ۔(۳)

--------------

[۲]۔ بحارالانوار:ج۵۲ ص۳۴۵

[۳]۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ اما م  کے اصحاب و انصار میں مرد اور خواتین کی مجموعی تعداد تین سو تیرہ ہوگی۔لیکن یہ نطریہ صحیح نہیں ہے۔کیونکہ اصحاب ِ و یاورانِ امام مہدیمیں چند عورتیں بھی ہوں گی لیکن وہ ان تین سو تیرہ افراد میں سے نہیں ہوںگی کہ جو دنیا میں عدلِ الہٰی کی حکومت کو قائم کرنے کے لئے دنیا کے مختلف حصوں میں بھیجے جائیں گے۔ اس نظریہ کی وجہ یہ ہے کہ تین سو تیرہ افراد کے بارے میں وارد ہونے والی اکثر روایات لفظ''رجلاً'' سے تعبیر نہیں ہوئیں۔لیکن دوسری روایات پر توجہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تین سو تیرہ افراد سب مرد ہوں گے۔اگرچہ معنوی شان و مرتبت کے لحاظ سے کچھ خواتین بھی ان تین سو تیرہ افرادکی طرح ہوں گی۔

۷۶

بحث کے اہم نکات

اب چند نکات پرتوجہ کریں ۔

۱ ۔ متعدد  روایات میں تصریح ہوئی ہے کہ امام عصر  کو قضاوت کرنے کے لئے گواہوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔

۲ ۔ بعض دوسر ی روایات کے ظاہر سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو گواہوں کی ضرورت ہو گی۔

لیکن ان روایات میں دوسری روایات سے تعارض کی توانائی نہیں ہے۔

۳ ۔ اگر فرض کر یں کہ یہ روایات دوسری روایات کے متعارض ہیں تو پھر روایات کے مابین   طریقہ جمع سے استفادہ کرنا ہوگا جس میں  مخالف روایات کو حکومت ِ امام زمانہ  کے ابتدائی دور پر  حمل کرسکتے کہ جب حکومت پوری طرح مستقر نہ ہوئی ہو۔کیونکہ حکومت کے استقرار کے بعد روئے زمین پر امام عصرعلیہ السلام کے یاور و انصار میں تین سو تیرہ افراد کو غیبی امداد حاصل ہوگی۔جس کی وجہ سے وہ جھوٹے گواہوں کی گواہی سے غلطی میں مبتلانہیں ہوں  گے اور دوسری قسم کی روایات کو امام کی مستقر حکومت سے منسلک کر سکتے ہیں۔

۴۔ جن کا یہ کہنا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام  نے فقط ایک بارحقیقت کی بناء پر قضاوت کی،ہم ان سے کہیں گے کہ :کیا یہ معقول ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام  نے فقط ایک بار واقع کی بناء پر قضاوت کی ہو اور ان کی قضاوت اتنی مشہور ہوجائے؟

۵۔اگر فرض کریں کہ حضرت دائود علیہ السلام  نے ایک ہی بار علمِ واقعی کے مطابق عمل کیا اور ان کی قضاوت اس قدر شہرت کی حاملبنگئی،تو اما م مہدی  علیہ السلام  کی قضاوت کو حضرت دائودعلیہ السلام  کی قضاوت سے تشبیہ دینا ،فقط اسی قضاوت کی وجہ سے ہے کہ جو مشہور ہوگئی۔

۷۷

۶ ۔ اگر ہم یہ قبول بھی کرلیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام  نے ایک بار اپنے علم واقعی کے مطابق قضاوت کی تو پھر ان روایات کا کیا جواب دیں گے کہ جن میں یہ کہا گیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام  اور آل دائودگواہ کا سوال کئے بغیر قضاوت کرتے تھے۔

۷۔ جیسا کہ ہم نے رسول اکرم(ص)کے فرمان سے نقل کیا کہ گواہوں  کی بنیاد پر قضاوت کا خلافِ واقع ہونا ممکن ہے کہ جو ایک قسم کا ظلم ہے۔اگر ایسا ہو تو پھر یہ کس طرح حضرت مہدی  علیہ السلام   کی حکومت سے سازگار ہوسکتا ہے؟

۸۔ ان سب کے علاوہ بھی اس روایت کے مطابق کہ جس میں حضرت دائودعلیہ السلام   نے خدا سے گواہی کی بنیاد پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا،اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پیروکار حکم واقعی کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھے۔لیکن ظہور امام زمانہ علیہ السلام کے وقت لوگوں کی عقلی اعتبار سے تکامل کی منزل پر فائز ہوں گی۔لہٰذا اس وقت واقع کے مطابق قضاوت سے دستبردارہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔

۷۸

 تیسراباب

اقتصادی ترقی

    ظہور کے زمانے میں اقتصادی ترقی

    کنٹرول کی قدرت

    دنیا میں ،۸۰۰ مل ین سے زائد بھوکے

    نعمتوں سے سرشار دنیا

    زمانۂ ظہور میں برکت

    دنیا کے روشن مستقبل کے بارے میں رسول اکرم(ص)ک ی بشارت

    دنیا میں خوشیاں ہی خوشیاں

    شرمساری

۷۹

 ظہور کے زمانے میں اقتصادی ترقی

ظہور کے زمانے میں اقتصادی ترقی و پیشرفت کو بیان کرنے سے پہلے غربت اور تنگدستی کے بارے میں ایک اہم نکتہ بیان کرتے ہیں کہ جو اقتصادی نظام کی ناکامی کی دلیل ہے۔ غیبت  کے زمانے میں پوری دنیا میں بہت سے جرائم مالی پریشانی، غربت اور اقتصادی فقر کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں اور آئندہ بھی رونما ہوتے رہیں گے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو قتل و غارت ،خونریزی،چوری اور راہزنی کے بہت سے واقعات کی بنیاد ہے۔

جو اپنے عقیدے کے مطابق قتل،خونریزی،چوری اور دوسرے جرائم کے خلاف مبارزہ آرائی کررہے ہیں اور معاشرے کوان جرائم سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔انہیں ان جرائم کے علل و اسباب (جس میں سے ایک مہم علت غربت اور فقر ہے) کو ختم کرنا چاہیئے تاکہ معاشرے میں کسی حد تک جرائم کو ختم کیا جاسکے۔

جرائم کے وقوع کادوسرا اہم سبب زیادہ مال کی ہوس اور لالچ ہے۔پہلے سبب کی بنسبت یہ دوسرا سبب زیادہ اہم ہے۔کیونکہ اگر کوئی فقیر اور غریب غربت کی وجہ سے کسی گھر میں چوری کرتا ہے یا کسی کو قتل کرتا ہے تو قدرت مند اور حریص مال و دولت میں اضافے کی غرض سے معاشرے کو غارت کرتا ہے اور قوم و ملت کا خون بہاتا ہے۔

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ جس طرح امیر، ثروتمند اور صاحبِ قدرت شخص کے پاس فقیر وضعیف انسان کی بنسبت خدمت کے زیادہ وسائل ہوتے ہیں ۔اسی طرح اس کے پاس خیانت کے وسائل بھی فقیر و محتاج سے زیادہ ہوتے ہیں۔

اس بنا پر غریبوں اور ضرورتمندوں کی غربت اور اس سے بڑھ کر دولت مندوں اور قدرت مندوں کے مال و دولت میں اضافے کی خواہش غیبت  کے زمانے میں جرائم کے رونما ہونے کی دو اہم وجوہات ہیں۔

۸۰

ظہور کے پر نور زمانے میں نہ صرف یہ دو عامل بلکہ جنایت و خیانت اور جرائم کے تمام عوامل نابود ہوجائیں گے اور نجات و سعادت کے عوامل فساد و تباہی کے عوامل کی جگہ لے لیں گے۔

قدرتمندوں اور دولت مندوں کی ایک اہم ذمہ داری فقیر اور ضعیف افراد کی مدد کرنا ہے تاکہ ان کے اقتصادی فقر کا جبران ہوسکے اور خود ان کی سرکشی اور ظلم کے لئے بھی مانع ہو جس کے نتیجہ میں تباہی اور فساد کے دو اہم عوامل برطرف ہوجائیں گے۔لیکن افسوس کہ ہم یہ اہم ترین ذمہ داری بہت سسی دوسری ذمہ داریوں کی طرح بھول چکے ہیں۔لیکن ظہور کے درخشاں زمانے میں اگر کوئی شخص کسی کی دستگیری اور مدد کرنا چاہے تو اسے ڈھونڈنے سے بھی کوئی فقیر نہیں ملے گا۔

ہم نے جو قابل توجہ نکتہ ذکر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ دنیا میں جرائم کے عوامل میں سے فقر سے بڑا عامل ثروتمندوں اور قدرتمندوں کی اپنے مال میں اضافہ کی حرص و طمع ہے۔

کیونکہ مال دار افراد مال کو بڑھانے اور قدرت مند اپنی قوّت و طاقت کو بڑھانے کے لئے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔

حقیقت میں دوسرا سبب ،پہلے سے زیادہ وسیع ہے اور یہ پہلے سبب کے ساتھ شریک بھی ہے۔کیونکہ معاشرے میں فقر کے اہم اسباب میں ایک سبب ایسے صاحبِ ثروت افراد ہیں کہ جو اپنے سرمائے کو زیادہ کرنے کے لئے انتہائی پست قسم کے حربے آزماتے ہیں۔ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں بے تہاشا اضافہ فقر و تنگدستی کا باعث بنتے ہیں۔خاندانِ وحی و عصمت و طہارت علیھم السلام کے کلمات میں بھی اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔

اس امر پر بھی توجہ کریں کہ زمین کا کاروبار کرنے والے خود تو بنگلوں اور محلوں میں زندگی گزارتے ہیں  اور ہزاروں ایکڑاراضی پر قبضہ کرکے زمین کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں۔جس کے نتیجے میں ضرورتمند زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا خریدنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔

۸۱

اس بناپر بہت سے دولت مند اموال کو ذخیرہ کرکے نہ صرف فقر ایجاد کرتے ہیں بلکہ فقر میں اضافہ کا باعث بھی بنتے ہیں،جو بعض ضرورت مند افراد کے لئے جرم و فساد کے ارتکاب کا مقدمہ بنتا ہے۔اسی طرح مال میں اضافے کی خواہش ،اور ہوس ان کے ارتکاب جرم اور شرعی و عقلی اخلاقیات کو ترک کرنے کا بھی باعث ہے۔اب اس واقعہ پر توجہ کریں:

''خان مرد''تہران کے امیر ترین افراد میں سے تھا۔جس نے شہر میں مسجد و مدرسہ بھی تعمیر کروایا۔جو اب تک اسی کے نام سے مشہور ہے۔کہتے ہیں کہ خان مرد کے پرانے دوستوں میں  سے ایک ہر روز اس کے گھر کے سامنے لگے ہوئے چنا رکے درخت کے ساتھ کھڑا خان کے گھر سے نکلنے کا انتظار کرتا کہ شاید گھر سے نکلتے وقت وہ اس کی طرف دیکھے اور اس پر کچھ لطف و مہربانی کرے۔لیکن خان نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔جب خان اپنے منصب سے معزول ہوکر خانہ نشین ہوگیا تو اس کا یہ دوست اس سے ملاقات کرنے گیا۔

خان نے اس سے گلہ و شکوہ کیا کہ تم نے مجھے اتنی مدت تک یاد ہی نہیں کیا اور تم مجھ سے ملنے نہیں آئے۔اس شخص نے ہردن اس کے گھر کے سامنے آنے کا واقعہ بیان کیا تو خان نے کہا!میں اس وقت اپنے گھر کے سامنے لگے ہوئے چنار کے درخت کو نہیں دیکھتا تھا تو پھر تمہیں کیسے دیکھتا کہ جو اس درخت کے نیچے کھڑے ہوتے تھے۔(1)

جی ہاں ! امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ایسے بہت سے ثروتمند ہیں کہ جو دائرہ انسانیت سے ہی نکل چکے ہیں۔جو شرعی و عقلی اخلاقیات  کے ذریعہ بھی اپنے سرکشی و گمراہی کو کنٹرول نہیں کرسکے۔

--------------

[1] ۔ دوازدہ ہزار مثل فارسی : 432

۸۲

اس نکتے کو مد نظر رکھتے ہوئے اب یہ سوال پید اہوتا ہے کہ ظہور کے زمانے میں بے تحاشا دولت کس طرح سے ان کی سرکشی و گمراہی کا باعث نہیں بنے گی ۔ حالانکہ اس وقت دنیا بھر کے تمام افراد بے نیاز اور صاحبِ ثروت ہوں  گے؟

یعنی اگر یہ تمام منحوس اور برے آثار زیادہ دولت کی وجہ سے ہیں تو پھر ظہور کے زمانے میں لوگ کیوں اتنے سرمائے اور دولت کے مالک ہوں گے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ حلال طریقے سے حاصل ہونے والی ثروت میں کبھی بھی نحوست اور منفی اثرات نہیں ہوتے۔بلکہ ممکن ہے کہ وہ خیرات کا وسیلہ ہو۔لیکن یہ دولتمند اپنی دولت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ اگردولت خود بری ہوتی تو پھر سب دولتمند وں کو ایسا ہونا چاہیئے تھا ۔حالانکہ ایسا نہیں ہے۔بلکہ بعض ثروتمند افراد نے معاشرے کی قابل قدر خدمت کی ہے۔ جنہوں نے بہت سے مستضعف اور غریب افراد کی مدد کی ہے۔خاندانِ عصمت و طہارت علیھم السلام کے فرامین میں ایسے افراد کی مدح کی گئی ہے(اگرچہ دورِ حاضر میں ایسے افراد بہت کم ہیں)اور یہ ایسے ثروتمندوں کی کم عقلی کی دلیل ہے کہ جو ہمیشہ اپنی دولت میں اضافہ اور اپنے ورثاء کے لئے مال و دولت چھوڑ جانے کی فکر میں رہتے  ہیں۔ورنہ خود مال و دولت ایسا  ذریعہ ہے کہ جس سے انسان دشمن کو بھی اپنے قریب لاسکتا ہے اور بے گناہ افراد کا خون بھی بہا سکتا ہے۔

علاوہ ازاین !ظہور کے پر نور زمانے میں انسان معنوی تکامل اور فکری و عقلی رشد اور سعادت کی وجہ سے ہلاکت و گمراہی سے محفوظ رہیں گے۔

اس مبارک اور پر نور زمانے میں مال و دولت کی کثرت ہوگی۔لیکن اسے ذخیرہ کرنے اور اس میں اضافے کی خواہش نہیں ہوگی ۔اس وقت مال و دولت،سرمایہ اور کثیر نعمتیں ہوں گی۔لیکن ہلاکت اور گمراہی اور دین کی حدود کی پامالی نہیں ہوگی۔

۸۳

اس زمانے میں دنیا میں موجود تمام دولت (چاہے وہ زمین کے اندر چھپی ہوئی ہویا روئے زمین  پر) آنحضرت کے پاس جمع ہوگی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین کے سینے میں قیمتی پتھر،سونے چاندی اور دوسری بہت سی قیمتی اشیاء کے خزانے پوشیدہ ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین نے اپنے اندر سونے کے پہاڑ چھپا رکھے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ قدیم بادشاہ اور دولت مند حضرات اپنا بیش بہا سرمایہ زمین میں چھپاتے تھے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ زلزلوں کی وجہ سے بہت بڑا سرمایہ زمین کیسینہ میں پنہاں ہے؟

ظہور کا زمانہ ، مخفی و پنہاں امور کے آشکار ہونے اور آگاہی کا زمانہ ہے۔ اس وقت زمین میں مخفی ثروت و سرمایہ آشکار ہوجائے گا ،جس سے ظہور  کے زمانے کے افراد استفادہ کریں گے۔

  کنٹرول کی قدرت

ہم نے جو کچھ ذکر کیا ،خاندانِ عصمت و طہارت علیھم السلام   میں اس کی تصریح ہوئی ہے۔ ہماری اس بات کی شاہد حضرت باقرالعلوم  علیہ السلام  کی یہ روایت ہے:

'' یقاتلون واللّه حتی یوحّد اللّه ولا یشرک به شء و حتی یخرج العجوز الضعیفة من المشرق تریدالمغرب ولا ینهاها احد و یخرج اللّه من الارض بذرها،  وینزل من السّماء قطرها،و یخرج الناس خراجهم علی رقابهم الی المهدی ویوسع اللّه  علی شیعتنا و لو لا ما یدرکهم من السعادة لبغوا ''  (1)

--------------

[1]۔ بحارالانوار :ج 25ص345

۸۴

خد اکی قسم وہ جنگ کریں گے حتی کہ سب خدا کو یک و یکتا سمجھیں، اورکسی چیز کو اس کا شریک نہ جانیں ۔ حتی کہ ایک کمزور بوڑھی عورت مشرق سے مغرب کے قصد سے نکلے اور کوئی اسے اس کام سے نہ روکے۔

خدا وند زمین سے بیج کو خارج کرے گا اور آسمان سے بارش برسائے گا۔لوگ اپنے مال سے خراج نکال کر حضرت مہدی  علیہ السلام طرف لے کر جائیں گے ۔خدا ہمارے شیعوں میں اضافہ کرے گا ۔ اگر انہیں یہ سعادت حاصل نہ ہوتی تو وہ یقیناگمراہی و ہلاکت میں مبتلا ہوجاتے۔

جس طرح ثروت و فقر انسان کی سعادت کا سبب واقع ہوسکتے ہیں اسی طرح یہ ظلم و خیانت کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔یعنی فقر اور مال دونوں جرائم کی زیادتی میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔جیسا کہ یہ دونوں انسان کی سعادت کا وسیلہ بھی بن سکتے ہیں۔

مال میں اضافہ کی طمع و حرص سے بھی جرائم وجود میں آتے ہیںاور اس کی اہم وجہ غیبت  کے زمانے میں طمع و حرص کو کنٹرول کرنے کی قدرت کا نہ ہونا ہے۔

معاشرے کا مقام ِ ولایت سے آشنانہ ہونا اور انسان کا خاندانِ وحی علیہم السلام کے عظیم مرتبہ کی طرف توجہ نہ کرنا،اس سے سعادت کے چھن جانے کا باعث بنتا ہے۔ جو اسے مقامِ ولایت سے دور کردیتا ہے جو کہ قدرت و طاقت کو کنٹرول کرنے والا ہے۔

لیکن ظہور کے پر نور اورمبارک زمانے میں بشریت ولایت کی پناہ میں ہوگی اور پوری دنیا کے لوگوں کے سروں پر رحمت الہٰی کا سایہ ہوگا ۔جو انہیں حضرت مہدی  علیہ السلام کی الوہی ولایت کی قدرت سے محفوظ وکنٹرول کرے گا ۔اسی عظیم سعادت کی وجہ سے ظہور کے پر مسرّت زمانہ میں لوگوں کے مال میں چاہے کتنا بھی اضافہ ہوجائے، مگر وہ ان کی گمراہی و سرکشی کا باعث نہیں بنے گا۔

۸۵

جی ہاں!دنیا کے تمام لوگوں پر قدرت ِ ولایت کا سایہ ہونے کی وجہ سے وہ تمام قوّت وطاقت،قدرت و توان اور تمام امکانات و وسائل کواس کے زیر سایہ قرار دے کر خود کو کنٹرول کریں گے اور ظلم و زیادتی اورگمراہی و ضلالت سے دوررہیں گے۔

یہ وہی سعادت و خوش بختی ہے جس کی امام  باقر علیہ السلام نے روایت کے آخر میں  تصریح فرمائی ہے:

''و لو لا ما یدرکهم من السعادة لبغوا ''

زمانۂ ظہورکی خصوصیات میں سے ایک سب کے لئے کنٹرول کا ہونا ہے ۔ عصرِ ظہور میں مال و ثروت، قدرت  وطاقت جتنی بھی زیادہ ہوجائے پھر بھی سب کو ظہورِ ولایت کی وجہ سے سعادت و نیک بختی حاصل ہوگی ۔ سب میں حرص وطمع کو کنٹرول کرنے کی قدرت ہوگی ۔کیونکہ نعمتوں سے سرشار زندگی کے ساتھساتھ عقلی تکامل بھی ہوگا۔

اب امام صادق علیہ السلام  کی اس بہترین روایت پر توجہ کرتے ہیں۔

''  تواصلوا تبارّوا و تراحموا، فوالذی فلق الحبّة و برأ النسمة لیاتینّ علیکم وقت لا یجد احدکم لدیناره و درهمه موضعاً، یعنی لا یجد عند ظهورالقائم موضعاً یصرفه فیه لاستغناء الناس جمیعاً بفضل اللّه و فضل ولیه ''

فقلت:و انّی یکون ذالک؟

'' فقال:عند فقدکم امامکم فلا تزالون کذالک حتی یطلع علیکم کما تطلع الشمس،آیس ما تکونون،فایّاکم والشک والارتیاب،وانفوا عن انفسکم الشکوک و قد حذّرتکم فاحذروا، اسأل اللّه و ارشادکم ''(2)

--------------

[2]۔ الغیبةمرحوم نعمانی : 150

۸۶

ایک دوسرے کے ساتھ مرتبط رہو اور آپس میں نیکی اور مہربانی کرو، اس کی قسم کہ جو دانے کو اگاتا ہے اور اس میں روح ڈالتا ہے۔یقینا تم لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ تم میں سے کسی کو دینار یا درہم کے  مصرف کرنے کی جگہ نہیں ملے گی یعنی حضرت قائم علیہ السلام کے ظہور کے زمانے میں کوئی ایسی جگہ نہیں ملے گی کہ جہاں اپنا پیسہ خرچ کیا جائے۔کیونکہ خداوند اور اس کے ولی کے فضل سے سب لوگ بے نیاز ہوجائیں گے۔

میں نے عرض کیا یہ کون سا زمانہ ہے؟

امام  نے فرمایا!جب تمہیں تمہارے امام نہیں ملیں گے تو ایسا ہوگا کہ تم پر ایسا زمانہ ظاہر ہوگا کہ جس طرح سورج طلوع کرتا ہے،یہ اس زمانے میں ہوگا کہ جس میں آنحضرت  کے ظہور کے زمانے سے زیادہ نا امیدی ہوگی۔

پس شک کرنے یا خود کو شک میں مبتلا کرنے سے پرہیز کرو،خود سے شک کو دور کرو ۔یقینا میں  نے تمہیں ڈرایا،پس تم اس سے ڈرو اور آگاہ ہوجائو۔ میں خدا سے تمہارے لئے توفیق وہدایت کی دعا کرتا ہوں۔

اس روایت میں دلوں کو یأس و نا امیدی اور شک سے دور رہنے کے بارے میں بہترین نکتہ بیان ہوا ہے کہ جس کی تشریح کیلئے مفصل بحث کی ضرورت ہے۔

اس روایت کا موردِ استدلال حصہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے  ظہور کا وہ نورانی اور مبارک زمانہ ہے کہ جس کے بارے میں امام صادقعلیہ السلام   نے فرمایا:

اس زمانے میں سب لوگوں کے بے نیاز ہونے کی وجہ سے کوئی ایسا نیاز مند نہیں ملے گا کہ ثروت مند اپنے مال سے جس کی مدد کرسکیں۔

۸۷

  دنیا میں ، 800  ملین سے زائد بھوکے

اگر ہم اپنے زمانے کو ظہور کے درخشاں و منوّر زمانے سے مقائسہ کریں (کہ جب چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی کوئی نیازمند اور ضرورتمند نہیں ملے گا)تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ہمارے موجودہ دور میں  پوری دنیا میں کروڑوں بھوکے افراد موجود ہیں جن کی فلاح و نجات کے لئے کوئی بھی مؤثر اقدام نہیں کیا گیااس بارے میں آپ اس رپورٹ پر توجہ کریں۔

عالمی بینک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دنیا کے ایک ارب افراد دنیا کے اقتصاد کو چلا رہے ہیں ۔ دنیا کی %80 آمدن ی ان سے مختص ہے۔حالانکہ دنیا کی بقیہ آبادی پانچ ارب ہے۔جو دنیا کی %20    آمدن ی پر زندگی گزار رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے خوراک و زراعت کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں بھوکے افراد کی تعداد18   مل ین سے بڑھ کر ،842   مل ین تک پہنچ چکی ہے۔

اب پیرس کے ایک اخبار ''ونت مینوت''16 اکتوبر  2002 ء بروز بدھ ک ی رپورٹ ملاحظہ کریں:

دنیا میں  ہر چار سیکنڈ میں بھوک کی وجہ سے ایک انسان  ہلاک ہوتا ہے۔دنیا میں840   مل ین افراد غذا کی وجہ سے پریشان حال ہیںاور ان میں سے799 مل ین افراد ترقی پذیرممالک میں زندگی گزار رہے ہیں۔

دنیا کے30 ممالک م یں  اضطراری حالت کا اعلان ہو چکاہے اور صرف افریقا میں67 مل ین افراد کو فوری اور اضطراری مدد کی ضرورت ہے۔ایشیا میں %20 ( 496 مل ین)آبادی بھوک کی وجہ سے پریشان ہے۔

اقوام متحدہ کے  ذیلی ادارہ  برائے خوراک و زراعت کے مطابق روزانہ24 ہزار افراد بھوک ک ی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔بھوک کی وجہ سے ہرسال پانچ سال سے کم عمرکے ساٹھ لاکھ بچے ہلاک ہوجاتے ہیں۔

یہ تمام پریشانیاں ،بھوک،تنگدستی،بے روزگاری دنیا کے ممالک کی ناقص مدیریّت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

۸۸

اگر دنیا کی سیاسی شخصیات ان نقائص کے اسباب کو جان کر مخلصانہ طریقے سے انہیں ختم کرنے کی کوشش کریں تو دنیا میں اتنی زیادہ تعداد میں بھوکے افراد نہ ہوں۔

بھوک کی ایک بنیادی وجہ کمر توڑ مہنگائی اور قیمتوں میں بے تحاشااضافہ ہے۔بھوک کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لئے نرخوں میں اضافے کی روک تھام کے لئے مناسب اور فوری اقدام کرنا انتہائی ضروری ہے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب تک اس بارے میں کوئی قابل ذکر پیشرفت نہیں ہوئی۔

اب ذرا ایران میں مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی یہ رپورٹ ملاحظہ کریں۔

سال

۵۷

۸۲

ملکی  آبادی

۳۵۰۰۰۰۰۰

۴۰۰۰۰۰۰۰

۴6 ۰۰۰۰۰۰

۸6 ۰۰۰۰۰۰

۸۹

نرخوں  میں  اضافہ

سال

یونجہ

جو

جوکھر

کھلی/کھل

دودھ

بچھڑازندہ

گائےزندہ

۵۷

۸۲

شرح  اضافہ

۸۳

۸

۱۲۰۰

۱۵۰گنا

۱6 ۰۰

۷

۱۲۰۰

۱۷۲گنا

۱۵۰۰

۳

6 ۲۰

۲۰6 گنا

۹

۲۰6

۱۸۰گنا

۲۷

۲۰۰۰

۷۲گنا

۲۱۰

۱۴۰۰۰

6 ۷گنا

۱۵۰

۱۰۰۰۰

6 ۷گنا

یہ دنیا کے ایک حصے میں اجناس کی قیمتوں کا چھوٹا سا نمونہ ہے۔ جیسا کہ آپ نے مشاہدہ کیاکہ25 سال م یں ایران کی آبادی میں تقریباً دو گنا اضافہ ہوا ہے اور بعض اجناس کی قیمتوں میں تقریباً دو سو گنا اضافہ ہوا ہے۔اب اس تفاوت سے کم از کم یہ تو معلوم ہوگیا کہ آبادی نرخوں میں اضافے کا باعث نہیں ہے۔

قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ صرف ایران یا کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ مالک جیسے امریکہ،جاپان،کوریا بھی اس مسئلہ سے پریشان ہیں۔دنیا کے ہر ملک میں مہنگائی نے  غریب عوام کی کمر توڑ رکھی ہے۔

اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اس چیز کی دلیل ہے کہ ان کی اقتصادی سیاست نرخوں کو کنٹرول کرنے اور انہیں معتدل  رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے۔دنیا کے اقتصاد پر قابض ثروت مند افراد کو اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرنے سے نہ تو کسی قسم کا دکھ ہوتا ہے اور نہ ہی غریب عوام پر رحم آتا ہے۔بلکہ وہ جان بوجھ کر اشیاء کے نرخوں میں اضافہ کرکے اپنے سرمائے میں کئی گنا اضافہ کرتے ہیں۔اب اس رپورٹ پر غور کریں۔

۹۰

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق تینارب سے زائد افراد دن بھر میںایک ڈالر سے بھی کم پر زندگی گزار رہے ہیںاور ایک ارب افراد کی روزانہ کی آمدنی ایک ڈالر سے بھی کم ہے۔دنیا کی نصف آبادی غربت سے بھی نچلی سطح پرزندگی گزار رہی ہے۔اور تین ارب انسانوں کی روزانہ کی آمدنی تین ڈالر سے بھی کم ہے۔

اقوام ِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دھائی میں دنیا کے 45 ممالک اور ز یادہ غریب ہوگئے۔6 / 4 ارب انسان یعنی تقریباً800 مل ین افراد کو زندگی گزارنے کے لئے مکمل خوراک میسر نہیں ہے۔

یہ دنیا کے پریشان حال افراد کی وضع زندگی کا چھوٹا سا نمونہ تھا۔جسے ہم نے زمانِ غیبت کے مسائل سے آشنائی کے لئے ذکر کیااب ہم اس ذکر کو یہیں ترک کرکے اور ان پریشانیو ں اور غموں کو بھلا کر اس درخشاں زمانے کی توصیف کرتے ہیں کہ جس میں نہ تو کوئی ضرورت ہو گی اور نہ ضرورتمند ۔

۹۱

ایسا دن کہ جوبے تحاشا نعمتوں اور بے انتہا دولت سے سرشار ہو۔جس سے دنیا کے تمام نیازمند،بے نیاز ہوجائیں گے۔اس وقت دنیا میں800 مل ین بھوکے افراد نہیں ہوں گے۔اس وقت کو اقتصادی بُحران نہیں ہوگا۔

عصرِ ظہور میں غربت اور تنگدستی کا نام و نشاں نہیں ہوگا۔حضرت بقیة اللہ الاعظم علیہ السلام  کی حکومت دنیا کوجنت بنادے گی ۔پوری روئے زمین پر مسرت و شادمانی اور خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی۔

  نعمتوں سے سرشار دنیا

اب جب کہ نعمتوں سے بھرپور اور سرشار اس بے مثال زمانے کا تذکرہ ہوا ہے تو بہتر ہے کہ ہم اس بارے میں رسول اکرم(ص)   ک ی روایت کو نقل کریں:

'' تنعّم امتی فی زمن المهدی نعمة لم ینعموا مثلها قطّ،ترسل السماء علیهم مدراراً، و لا تدع الارض شیئا من النّبات الّا اخرجته،والمال کدوس،یقوم الرجل یقول:یامهدی اعطنی فیقول: خُذ ''  (1)

میری امت کو مہدی  علیہ السلام  کے زمانے میں اتنی نعمتیں میسر آئیں گی کہ جو اسے پہلے کبھی نہیں ملی ہوں گی۔آسمان سے ان کے لئے مفید بارش برسے گی،زمین اپنے اندر چھپی ہر نباتات کو خارج کرے گی اس زمانے میں مال و دولت فروان ہوگی۔ایک شخص کھڑا ہوگا اور مہدی  علیہ السلام  سے کہے گا : مجھے عطا کرو۔تو کہیں گے :لے لو۔

یہ واضح ہے کہ روزِ نجات ،دنیا کے تمام مکاتب گمراہی سے نجات پا لیں گے۔پوری دنیا میں اسلام کا پرچم لہرائے گا۔جس کی وجہ سے اس زمانے کے تمام افراد رسول اکرم(ص)کی امت شمار ہوںگی۔اسی لئے رسول اکرم (ص)نے اس زمانے کے لوگوں کو ''امتی''یعنی میری امت سے تعبیر کیا ہے۔

--------------

[1]۔ التشریف باالمنن:149

۹۲

رسول اکرم(ص)ک ی امت یعنی ہماری دنیا کے لوگ اس روز خوشحال ہوں گے اور ان میں دوعمومی خصوصیات ہوں گی ۔تقوی و ایمان کہ جو اس زمانے سے پہلے کبھی موجود نہیں تھی۔سب ان دوخصوصیات کے مالک ہوں گے۔جس سے آسمان کے دروازے کھل جائیں گے اور لوگوں پر رحمتِ الہٰی کی بارش برسے گی۔

اس زمانے میں یہ دوعظیم معنوی خصلتیں کسی خاص گروہ سے مخصوص نہیں ہوں گی بلکہ سب ان سے بہرہ مند ہوںگے۔ان دو خصلتوں کے عام ہونے کی وجہ سے دنیا سے غضبِ الہٰی اٹھا لیا جائے گا اور لوگوں پر نعمتوں اور برکات کا نزول ہوگا۔

اس مطلب کے اثبات کے لئے ہم قرآن و سنت کا رخ کرتے ہیں۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

'' و لینزلنّ البرکة من السماء الی الارض حتی ان الشجرة لتقصف بما یرید اللّٰه فیها مناالثمرة،ولتأکلن ثمرة الشتاء فی الصیف و ثمرة الصیف فی الشتاء ، وذلک قوله تعالی ''وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَی آمَنُواْ وَاتَّقَواْ لَفَتَحْنَا عَلَیْهِم بَرَکَاتٍ مِّنَ السَّمَاء ِ وَالأَرْضِ وَلَکِن کَذَّبُواْ فَأَخَذْنَاهُم بِمَا کَانُواْ یَکْسِبُون ''  (1)

یقیناًآسمان سے زمین کی طرف برکت نازل ہوگی ۔حتی کہ خدا درخت سے جو پھل چاہے،پیدا کرے گا۔گرمیوں کا پھل سردیوں اور سردیوں کا پھل گرمیوں میں کھائیں گے۔اسی لئے ارشاد پروردگار ہے:

اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرلیتے تو ہم ان کے لئے زمین و آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے ،لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کی گرفت میں لے لیا۔

اس آیت ا و رروایت میں بہترین نکات موجود ہیں کہ جن میں سے ہم بعض کو بیان کرتے ہیں:

--------------

[1]۔ سورہ اعراف،آیت:96۔بحاراانوار :ج 53ص 63

۹۳

1 ۔آ یت کے اس جملے'' فَأَخَذْنَاه ُم بِمَا کَانُواْ یَکْسِبُون'' میں فاء تفریعہ دلالت کرتا ہے کہ حقائق الہٰی کی تکذیب ،رسول ِ اکرم(ص)کے احکام پرعمل نہ کرنا اور انہ یں ردّ کرنا ،لوگوں کے لئے مؤاخذہ کا سبب بنا۔ان کے عمل کی وجہ سے لوگوں پر آسمانی برکات کا نزول بند ہوجاتا ہے اور بد بختی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

اس بناء پر ہمیں یہ جان لینا چاہیئے کہ تمام جنایت و جرائم ،قتل وغارت،فساد اور بد امنی رسول ِ خدا کے فرامین سے روگردانی ان پر ایمان نہ لانے اور تقویٰ نہ ہونے کا نتیجہ ہیں۔

اگر لوگ ابتدا ء ہی سے خدا کے پیغمبروں کی تکذیب نہ کرتے،ان پر ایمان لے آتے اور ایمان کی بنیاد پر تقویٰ اختیار کرلیتے تو وہ کبھی بھی مصیبتوں،غموں اور بلائوں کے گرداب میں مبتلا نہ ہوتے۔

  زمانۂ ظہور میں برکت

2 ۔ ظہور  کے زم انے میں ایمان و تقویٰ کی وجہ سے ان پر زمین و آسمان سے خدا کی برکات برسیں گی۔خدا کسی بھی درخت سے جس پھل کا بھی ارادہ کرے وہ اسی درخت سے پیدا ہوگا۔اسی طرح کوئی بھی پھل کسی خاص موسم سے مختص نہیں ہوگا۔گرمیوں میں درخت سردیوں کے پھلوں اور سردیوں میں گرمیوں کے پھلوں سے لدے ہوں گے۔

برکت کا مسئلہ ایک ایسی بڑی حقیقت ہے کہ جس کی وجہ سے ظہور کے بابرکت زمانے میں دنیا کا چہرہ ہی بدل جائے گا اور زمانِ ظہور میں برکتوں کے نزول کی وجہ سے لوگ غیبت کے زمانے کے سخت مصائب بھول جائیں گے۔

جیساکہ ہم نے کہا کہ اس وقت دنیا کا نیا روپ سامنے آئے گا۔پوری روئے زمین قدرت،طاقت،ثروت اور نعمتوں سے بھری ہوگی۔فقر و تنگدستی کا نام و نشان باقی نہیں رہے گا۔اس منوّر زمانے میں ضعف،ناتوانی اور شکستگی کو شکست ہوجائے گی ان کی جگہ قدرت،توانائی اور خوشیاں آجائیں گی۔

۹۴

اس پُر مسرّت زمانے میں لبوں پر مسکراہٹیں اور دل شادی اور شادمانی سے  لبریز ہوں گے۔

ملائکہ کے توسط سے برکت وجود میں آئے گی ۔مادّی لحاط سے گندم کی پیداوار کے لئے اسے زمین میں بونے اور پھر اسے ہوا و پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن جو غیر محسوس امور سے آشنائی رکھتے  ہوں،ان کے لئے اشیاء کو ایجاد کرنا فقط عادی و طبیعی وسائل میں منحصر نہیں ہے۔بلکہ وہ غیر طبیعی طریقوں سے بھی طبیعی محصول کو ایجاد کر سکتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ خدا وند متعال نے مختلف کاموں کو وسائل و اسباب کی بنا پر قرار دیا ہے ۔لیکن اس وجہ سے ہمیں وسائل و اسباب میں اتنا مشغول نہیں ہونا چاہیئے کہ ہم مسبب الاسباب کو ہی فراموش کردیںاور یہ گمان کریں کہ خدا وند کریم نے ایجاد  امورکے لئے جو اسباب قرار دیئے ہیں،وہ صرف مادّی یا ایسے امور میں منحصر ہیں کہ جن سے ہم آگاہ ہیں۔

3 ۔ ظہور کے زمانہ م یں لوگ گمراہی و ضلالت سے نکل کر ہدایت پالیں گے۔یہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج)کی عالمی حکومت اور اسلام کے عالمی دین ہونے کی دلیل ہے۔

دورِ حاضر کے برخلاف عصرِ ظہور میں دنیا کے سب لوگ رسولِ اکرم(ص) کے دستورات اور اسلام کے آئ ین پر ایمان لائیں گے اور تقویٰ اختیار کریں گے۔

یہ بدیہی و واضح ہے کہ رسول اکرم(ص) کے دستورات،مکتبِ اہلب یت علیہم السلام اور قرآن کی پیروی کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے اور آنحضرت(ص) کا اجرِ رسالت فقط مودّت ذو ی القربیٰ ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے۔

۹۵

'' قُلْ لَّا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبیٰ'' (1)

آپ کہہ دیجیئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا ،علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو۔

دنیا کے تمام لوگوں کے عقلی تکامل کی وجہ سے زمانِ نجات میں سب لوگ رسولِ اکرم(ص)کے فرام ین کو قبول کریں گے اور خاندانِ وحی علیھم السلام     کی مودّت کو ادا کریں گے۔ مودّت اہلبیت علیہم السلام  سے ایسی محبت مراد ہے کہ جو ان کے نزدیک انسان کے تقرّب کا باعث بنے۔

''المودة ، قرابة مستفادة '' (2)

مودّت سے قرب و نزدیکی حاصل ہوتی ہے۔

اس روایت کی بناء پر معاشرے میں ایمان و تقویٰ آسمانی دروازوں کے کھلنے اور برکاتِ الہٰی کے نزول کا سبب ہے۔پس اگر آغاز بعثت سے لوگ پیغمبراکرم(ص)کے احکامات کو قبول کرے اور خاندانِ عصمت و طہارت  عل یھم السلام کی ولایت سے ہاتھ نہ اٹھاتے تو آج دنیا گرانی و ضلالت اور تباہی و بربادی کا منظر پیش نہ کررہی ہوتی اور خداوند کریم آسمانی برکات اور عطائے نعمت سے دریغ نہ کرتا۔

لیکن افسوس کہ جہالت و گمراہی کی آستین سے ستمگروں کے ہاتھ باہر نکلے اور سقیفہ میں خلافت کا ایسا بیج بویا کہ جو بعد میں تن آور درخت کی صورت اختیار کرگیا۔جس کے نتیجہ میں ظلم و ستم اور اختلافات کی آگ بھڑک اٹھی کہ جس کے شعلے آج بھی بلند ہورہے ہیںاور جب تک آستینِ عدالت سے امام عصر کا ظہور نہ ہوجائے،تب تک یہ آگ روشن رہے گی۔اماممہدی علیہ السلام اپنے عدل اور رحمت سے اس آگ کو بجھائیں گے۔

--------------

[1]۔ سورہ شوریٰ،آیت: 23

[2] ۔ بحارالانوار :ج74ص165

  دنیا کے روشن مستقبل کے بارے میں رسول اکرم (ص)ک ی بشارت

پیغمبر اکرم (ص)اس زمانے م یں آئندہ کے واقعات سے آگاہ تھے اور انہوں نے لوگوں کو فتنہ و فساد اور تباہی و بربادی سے آگاہ کیا تھا اورحضرت مہدی  علیہ السلام  کے ظہور تک اس کے تداوم کی خبر دی تھی۔جیسا کہ انہوں نے اس زمانے میں نعمتوں کی فراوانی اور دنیا کے بہتر اقتصاد کو بھی بیان کیا تھا۔ہم یہاں ظہور قائم آل محمد علیہ السلام  اور اس زمانے کے مستحکم اقتصاد کے بارے میں رسول اکرم(ص) ک ی بشارتوں کے کچھ نمونے پیش کرتے ہیں۔

پیغمبر مقبول اسلا م(ص)نے فرما یا:

'' ابشّرکم بالمهدی یبعث فی امّتی علٰی اختلاف من الناس وزلازل فیملأ الارض قسطاََ و عدلاََ کما ملئت ظلماََ و جوراََ یرضٰٰی به ساکن السماء یقسّم المال صحاحاََ ''

قلنا:وما الصحاح؟

'' قال بالسویّة بین الناس ،فیملأ اللّه قلوب اُمّة محمد غنیٰ و یسعهم عدله حتّیٰ یأمر منادیاً فینادی:من له فی مال حاجة؟ ''

'' قال:فلا یقوم من الناس الا رجل،فیقول :انا ،فیقول له،انت السادنیعنی الخازنفقل له ،ان المهدی یأمرک ان یعطینی مالاً ''

'' فیقول له:احثیعنی خذ.حتّی اذا جعله فی حجره و ابرزه (ندم) فیقول:کنت اجشع امّة محمد نفساً او عجز عنّی ما وسعهم ؟ ''

'' قال فیردّه فلا یقبل منه،فیقال له،انا لا نأخذ شیئاً اعطیناه ''

میں تمہیں مہدی علیہ السلام   کے بارے میں بشارت دیتا ہوں ،جو میری امت میں بھیجا جائے گا کہ جب لوگوں میں اختلاف ہوگا اور زلزلے رونما ہورہے ہوں۔

پس وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے پُر ہوچکی ہوگی اس کام سے آسمان میں رہنے والے راضی ہوں گے۔

۹۶

مال کو صحیح طور پر تقسیم کرے گا۔

ہم نے کہا صحاح سے کیا مراد ہے؟

فرمایا:لوگوں کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کرے گا ۔پس خدا وند متعال رسول اکرم (ص) ک ی امت کے دلوں کو بے نیازی سے سرشار فرمائے گا۔اس کی عدالت سب کو احاطہ کرے گی۔یہاں تک کہ وہ منادی کو ندا کا حکم دے گا اور منادی ندا دے گا کہ ہے کوئی جسے مال کی احتیاج و ضرورت ہو؟

پس لوگوں میں  سے کوئی کھڑا نہیں ہوگا مگر ایک شخص اور وہ کہے گا !مجھے ضرورت ہے۔وہ اسے کہے گا کہ خزانہ دار کے پاس جائو اور اسے کہو کہ مہدی علیہ السلام نے حکم دیاہے کہ مجھے مال دو،خزانہ دا ر اسے کہے گا کہ لے لو۔ جب وہ اپنے لباس میں مال ڈالے گا تو وہ پشیمان ہوکر کہے گا۔میرا نفس امت رسول میں حریص ترین ہے اورکیا جس نے ان کو عطا کیا وہ مجھ کو عطا کرنے سے عاجز تھا۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ شخص خزانہ دار کو مال واپس دے دے گا ۔لیکن وہ اس سے مال واپس نہیں لے گا اور کہے گا !ہم جو چیز دے دیں وہ واپس نہیں لیتے۔

اس روایت میں اختلاف ، زلزلے ،پوری دنیا میں ظلم و ستم ،فقر،  تنگدستی اور ضرورت مندی کو امام عصر علیہ السلام  کے ظہور کی نشانیوں کے طور پر شمار کیا گیا ہے۔ حضرت ولی عصر علیہ السلام  کے ظہور کے  بعد ان سب کا خاتمہ ہوجائے گا اور روئے زمین پر عدل کا بول بالا ہوگا۔سب لوگ بے نیاز ہوںگے۔

۹۷

دوسری روایت میں رسول اکرم  (ص)فرماتے ہ یں:

''یحثی المال حثیاً لایعده عداً یملأ الارض عدلا کما ملئت جوراً و ظلماً ''  (1)

وہ لوگوں کے سامنے مال ڈال دے گا اور اسے شمار نہیںکرے گا۔زمین کو عدالت سے بھر دے گا ۔ جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔

  دنیا میں خوشیاں ہی خوشیاں

اسی طرح رسول اکرم (ص)ا س ح یات بخش زمانے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب دنیا میں ہر طرف خوشیاں ہوں گی۔

''یرضی عنه ساکن السماء و ساکن الارض ،ولا ندع السّماء من قطرها شیئاً الّا صبّته،ولا الارض من نباتها شیئاً الّا اخرجته حتیٰ یتمنّی الاحیاء الاموات''  (2)

زمین وآسمان کے رہنے والے اس راضی ہوں گے۔آسمان بارش کے آخری قطرے تک کو برسا دے گااور زمین آخری دانہ تک کو باہرکر دے گی یہاں تک کہ اس وقت زندہ افراد آرزو کریں گے کہ کاش ان کے مردے بھی زندہ ہوتے۔

--------------

[1] ۔ التشریف بالمنن:147

[2]۔ التشریف بالمنن: 164

۹۸

اس بناء پر مسرت و خوشحالی صرف کرہ زمین پر بسنے ولاوں سے مخصوص نہیں ہے۔بلکہ ساکنینِ آسمان بھی آنحضرتسے راضی و خوشنود ہوں گے یہ اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت ولی عصر  علیہ السلام کی حکومت ایک عالمی حکومت ہوگی کہ جو آسمان و زمین پر بسنے والے تمام افراد کی رضائیت کو جلب کرے گی۔

قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ رسول اکرم(ص)ا یک دوسری روایت میںزمانِ ظہور کے بارے میں شادمانی و خوشحالی فقط انسانوں سے مخصوص نہیں سمجھتے ۔بلکہ فرماتے ہیں :

فرحت و مسرّت میں اس وقت کے حیوانات بھی شامل ہوں گے۔

رسول مقبول اسلام (ص)فرماتے ہ یں:

'' هو رجل من ولد الحسین کانه من رجال شنسوة،علیه عباء تان قطوا نیّتان اسمه اسمی،فعند ذلک تفرح الطیور فی اوکارها،والحیتان فی بحارها،و تمد الانهار،و تفیض العیون و تنبت الارض ضعف اکلها،تم یسیر مقدمته جبرئیل وساقته اسرافیل فیملأ الارض عدلاً و قسطاً کما ملئت جورا و ظلماَ '' (1)

وہ حسین  علیہ السلام کے فرزندوں میں سے ایک مرد ہے۔گویا وہ شنسوة مردان میں سے ہے۔اس پر روئی سے بنی ہوئی دو عبائیں ہوں گی۔اس کا اسم میرا اسم ہے۔اس وقت پرندے اپنے آشیانوں میں اور مچھلیاںدریائوںمیںخوش ہوجائیں گی۔ نہریںبڑھ جائیںگئی اور چشمے جاری ہوجائیں گے۔زمین سے بہت زیادہ پھل اور نباتات پیدا ہوں گی۔پھرجبرئیل ان کے لشکر کی ابتداء اور اسرافیل درمیان میں سیر کرے گا۔وہ زمین کو عدل و انصاف سے پُر کردے گا کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے پُر ہوچکی ہوگی۔

--------------

[1]۔ بحارالانوار:ج 52ص 304

۹۹

جی ہاں!جس لشکر میں جبرئیل و اسرافیل جیسے حاملین عرش شامل ہوں،وہ اہل زمین کی نجات کا ذریعہ ہوگا۔دوسری مخلوقات و موجودات کے لئے بھی خوشیوں کا باعث ہوگا۔وہ غاصبوں سے لوگوں کے حقوق لے گا اور مقروضین کے قرض ادا کرے گا۔چاہے وہ کوہ کی مانند بہت زیادہ ہو یا پھر کاہ یعنی تنکے کی مانند بہت کم ہے۔

مفضل نے اما م صادق  علیہ السلام  سے عرض کی:

'' یا مولای، من مات من شیعتکم و علیه دین لاخوانه ولاضداده کیف یکون؟

قال الصادق:اوّل ما یبتدی المهدی ان ینادی فیجمیع العالم ؛الا من له عند احد من شیعتنا دین فلیذکره،حتی یردّ التومة والخردلة فضلاً عن القناطیر المقنطرة من الذّهب والفضة والاملاک فیوفّیه ایّاه '' (1)

اے میرے آقاو مولی!اگر آپ کے شیعوں میں سے کوئی مرجائے گا کہ جس پر بردرانِ مؤمن اور مخالفین کا قرض ہو تو کیا ہوگا؟

امام صادق  علیہ السلام نے فرمایا:مہدی علیہ السلام  سب سے پہلے جو کام شروع کریں گے،وہ یہ ہوگا کہ پوری دنیا میں منادی ند ادے گا:

آگاہ ہوجائو کہ جس نے بھی میرے شیعوں میں کسی کو قرض دیا ہو تو بتائے تاکہ سونا چاندی کے قناطیر مقنطرہ سے بھی زیادہ اس کے مالک کو دے دیا جائے۔

--------------

[1] ۔ بحار الانوار:ج۵۳ص۳۴

۱۰۰

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300